Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • آرمی چیف سے ہاورڈ یونیورسٹی کے طلبہ کے وفد کی ملاقات

    آرمی چیف سے ہاورڈ یونیورسٹی کے طلبہ کے وفد کی ملاقات

    راولپنڈی:آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ہاورڈ یونیورسٹی یو ایس اے کے طلبہ کے وفد نے جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں ملاقات کی۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ایک انٹرایکٹو سیشن کے دوران سپہ سالار نے موجودہ علاقائی مسائل اور امن و استحکام کو فروغ دینے کے لیے پاک فوج کی کوششوں کے بارے میں آگاہ کیا۔

    بیان کے مطابق ملاقات کے دوران طلبہ نے جنرل قمر جاوید باجوہ کا شکریہ ادا کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق طلبہ اپنے دورے کے ایک حصے کے طور پر پاکستان کے مختلف علاقوں کا دورہ بھی کریں گے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے ہاورڈ یونیورسٹی یو ایس اے کے طلبہ کے وفد نےوزیراعظم شہبازشریف سے ملاقات کی تھی ، اس ملاقات میں شہبازشریف نے ہاورڈ یونیورسٹی یو ایس اے کے طلبہ کے وفد کے ساتھ اہم معاملات پر گفتگو بھی کی تھی

  • مدینہ کی ریاست کے دعویدار عمران خان شاتم رسول کی حمایت میں بول پڑے

    مدینہ کی ریاست کے دعویدار عمران خان شاتم رسول کی حمایت میں بول پڑے

    عمران خان نے برطانوی جریدے گارڈین کو انٹرویو دیا جس میں انہوں نے سلمان رشدی پر حملہ افسوسناک قرار دے دیا، شاتم رسول سلمان رشدی نیویارک میں ایک تقریب کے دوران چاقو کے حملے میں بری طرح زخمی ہوا ، گارڈین نے عمران خان سے سوال کیا کہ سلمان رشدی پر نیویارک میں حملہ ہوا، اس کو کیسے دیکھتے ہیں؟ جس کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ "میرے خیال میں یہ خوفناک اور افسوسناک ہے،””رشدی (مسلمانوں کی نبی کریم سے محبت) سمجھ گئے، رشدی ایک مسلمان گھرانے سے آئے تھے، عرشدی ہمارے دلوں میں بسنے والے نبی کی محبت، احترام، تعظیم کو جانتا ہے، "یہ غصہ میں عمل تو سمجھ گیا لیکن جو ہوا اس کا جواز آپ نہیں بتا سکتے،”

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے سلمان رشدی پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے "خوفناک” اور "افسوسناک” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جہاں سلمان رشدی کی کتاب The Satanic Verses پر عالم اسلام کا غصہ قابل فہم تھا، بالکل ویسا ہی اس طرح کے حملے کا جواز بھی نہیں بن سکتا ہے کہ ان پر حملہ کیا جائے.

    معروف اخبار دی گارڈین کو انٹرویو دیتے ہوئے عمران خان یہ بھی کہا کہ: طالبان کی پابندیوں کے باوجود افغان خواتین سے "اپنے حقوق کا دعویٰ” کرنے کی توقع رکھتے ہیں جس میں انہوں نے ایک فائر برانڈ کے طور پر اپنی ساکھ کو معتدل کرنے کی کوشش کی۔ عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے ساتھیوں اور پیروکاروں کو ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے جبکہ ایک آٹھ سال پرانے غیر ملکی فنڈنگ کے الزامات کا مقابلہ کر رہے ہیں اور اس کی وجہ سے ان پر سیاست میں پابندی بھی لگ سکتی ہے۔

    عمران خان نے رشدی کے حوالے سے دی گارڈین کو مزید کہا کہ: "رشدی سمجھ گئے، کیونکہ وہ ایک مسلمان گھرانے سے آئے تھے۔ وہ ہمارے دلوں میں بسنے والے نبی کی محبت، احترام، تعظیم کو جانتا ہے۔ وہ یہ جانتا تھا،” خان نے کہا۔ "تو غصہ تو میں سمجھ گیا لیکن جو ہوا اس کا جواز آپ نہیں بتا سکتے۔”

    یاد رہے کہ ماضی میں تقریبا 2012 میں تحریک انصاف نے کہا تھا کہ وہ سلمان رشدی کے ساتھ کبھی بھی، کہیں بھی نہیں بیٹھیں گے، چاہے پاکستان کے لوگ انہیں ووٹ دیں یا نہ دیں۔ یہ بات اس وقت کی تحریک انصاف پاکستان کی بانی رکن اور شعبہ خواتین کی صدر فوزیہ قصوری نے نیویارک میں اپنی ایک پریس کانفرنس کے دوران کی تھی.

  • عمران خان کے سیکریٹری اعظم خان کی بطورایگزیکٹو ڈائریکٹر ورلڈ بینک تقرری کا نوٹیفکیشن منسوخ

    عمران خان کے سیکریٹری اعظم خان کی بطورایگزیکٹو ڈائریکٹر ورلڈ بینک تقرری کا نوٹیفکیشن منسوخ

    حکومت نے موجودہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ورلڈ بینک نوید کامران بلوچ کی مدت میں ایک سال توسیع کر دی گئی ہے۔

    حکومت نے سابق وزیراعظم عمران خان کے پرسنل سیکرٹری اعظم خان کی بطور ایگزیکٹو ڈائریکٹر ورلڈ بینک تقرری کا نوٹیفکیشن منسوخ کردیا۔ وفاقی حکومت نے موجودہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ورلڈ بینک نوید کامران بلوچ کی مدت میں ایک سال توسیع کر دی، جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔
    اعظم خان نے 31 اکتوبر 2022 کو ورلڈ بینک میں جوائننگ دینا تھی، جس کا 21 فروری 2022 کو اعظم خان نے چار سال کیلئے ورلڈ بینک میں اپنی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کروایا تھا۔

    اعظم خان سی ایس ایس کے 17ویں کامن بیچ سے تعلق رکھتے ہیں اور خیبر پختونخوا کے معروف برن ہال کالج ایبٹ آباد اور قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد جیسے ملک کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم رہے۔ اعظم خان ستمبر 2017 سے جون 2018 تک چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کے طور پر خدمات سرانجام دیتے رہے اور اس دوران صوبے کی ساری بیوروکریسی کو اس بات کا علم تھا کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک سے عملی طور پر زیادہ خودمختار اور بااختیار اعظم خان تھے جن کے معاملات میں وزیرِ اعلیٰ کو بھی مداخلت کی اجازت نہیں تھی۔ یہ سب صرف اور صرف عمران خان کی سرپرستی کی وجہ سے ہی ممکن ہوا۔

    ایسا نہیں کہ اتنی اہم تعیناتیوں کے دوران اعظم خان تنازعات کا شکار نہیں رہے۔ سیکریٹری سیاحت کے طور پر مالم جبہ سکینڈل میں ان کا نام شہ سرخیوں میں رہا، جس پر نیب کی تحقیقات عرصہ دراز سے جاری رہی.

    سنہ 2018 کے عام انتخابات سے قبل بیوروکریسی کی اکھاڑ پچھاڑ کی گئی تو چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا اعظم خان کو مرکز میں سیفران ڈویژن کا سیکریٹری تعینات کر دیا گیا۔ انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی کے بعد 18 اگست کو عمران خان نے وزیرِ اعظم کی حیثیت سے اپنا عہدہ سنبھالا تو اعظم خان ان کے پہلے سیکریٹری تعینات ہوئے تھے.

    سرکاری حکام نے ایک عالمی ادارے کو بتایا تھا کہ اعظم خان جلد ہی اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کے سیکریٹری کا عہدہ چھوڑ کر امریکہ میں ورلڈ بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے طور پر خدمات سرانجام دے سکتے ہیں۔
    اس عہدے پر تعیناتی کے لیے گزشتہ حکومت پاکستان کی طرف سے ورلڈ بینک کو بھیجی گئی سمری میں چار ناموں میں سے ایک نام اعظم خان کا بھی تھا.

  • شہبازگل کو پمزاسپتال منتقل کرنے کا حکم

    شہبازگل کو پمزاسپتال منتقل کرنے کا حکم

    سیشن کورٹ اسلام آباد نے شہبازگل کو پمز اسپتال منتقل کرنے کا حکم دے دیا

    جوڈیشل مجسٹریٹ نے شہبازگل کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر محفوظ فیصلہ سنا دیا عدالت نے شہباز گل کا دوبارہ میڈیکل کرانے کا حکم دے دیا سیشن کو رٹ اسلام آباد نے شہبازگل کو پیر تک پمز اسپتال منتقل کرنے کا حکم دے دیا،جج نے ہدایت کی کہ شہباز گل کی سانس کی تکلیف کا ایک بار پھر جائزہ لیا جائے شہبازگل کی صحت ٹھیک نہیں ،ان کو اسپتال منتقل کیا جائے اگرشہبازگل کی حالت درست ہوتی تو انہیں ایمبولینس میں کیوں لایا جاتا،

    قبل ازیں ڈسٹرکٹ سیشن عدالت اسلام آباد میں شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر سماعت ہوئی
    ملزم شہباز گل کو ڈسٹرکٹ کورٹ اسلام آباد کے بخشی خانہ پہنچایا گیا ، جج ڈسٹرکٹ سیشن جج نے کہا کہ آج جمعہ ہے کوشش کریں جلدی ہو جائے، وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ وکیل شعیب شاہین کا بیٹا آیا ہوا وہ ائیرپورٹ گئے ہیں،جج نے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا شعیب شاہین آدھے گھنٹے تک پہنچ جائینگے؟ وکیل نے کہا کہ شعیب شاہین 9 بجکر 15 منٹ تک پہنچ جائینگے، جج نے نائب کورٹ کو ہدایت کی کہ پولیس کو آگاہ کر دیں ملزم کو سوا 9 بجے پیش کیا جائیگا

    بعد ازاں دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو شہباز گل کو کمرہ دالت پہنچا دیا گیا ، وکیل نے کہا کہ شہبازگل سے مل کر آیا ہوں ان کو آنے میں مشکل ہورہی ہے پولیس ضد کررہی ہے کہ سیڑھیاں چڑھ کر خود آئے ،جس پر عدالت نے کہا کہ ملزم کو تو اوپر لانا پڑے گا،عدالت نے پولیس کو ملزم کو اٹھا کرلانے کی ہدایت کر دی،پولیس نے شہبازگل کے 8 روزہ مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی

    عدالت نے شہباز گل سے استفسار کیا کہ آپ عدالت میں رہنا چاہتے ہیں؟ جس پر شہباز گل نے کہا کہ مجھے ماسک دے دیں میں رک جاوں گا،عدالت نے پولیس سے سوال کیا کہ آپ 8روزہ جسمانی ریمانڈ کیوں مانگ رہے ہیں؟ پہلے 2 روزہ جسمانی ریمانڈ ہوا تھا آپ 8دن کی درخواست کیوں لائے ہیں؟کیا پولیس 2 روز میں تفتیش کرسکی یا نہیں ؟کیا پولیس نیا ریمانڈ مانگ رہی ہے یا پہلے کی توسیع چاہتی ہے ؟ کیا تکنیکی طور پر پہلا 2روزہ جسمانی ریمانڈ شروع ہی نہیں ہوا ؟شہبازگل کی بیماری کے باعث 2 روزہ جسمانی ریمانڈ شروع ہوا ہی نہیں ،وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ شہبازگل کی بیماری آپ نے دیکھ لی اس کا جینون ایشو ہے ،میڈیکل رپورٹ سے لگ رہاہے شہبا زگل پر تشدد کیا گیا ڈاکٹر زکا کہنا ہے کوئی درد کی شکایت کرے تو وہ انگلیاں دیکھ کر اندازہ لگاتے ہیں،جو پرچہ ریمانڈ دیاگیا اس کے مطابق بھی پولیس ما ن رہی ہے کہ ریمانڈ مکمل ہوچکا،

    وکیل فیصل چودھری نے ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس گزشتہ روز کا آرڈر عدالت میں پڑھ کرسنایا ،وکیل نے کہا کہ پراسیکیوشن نے پیر تک شورٹی دی تھی کہ شہباز گل کو سپتال میں رکھیں گے،جج نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جو ایڈیشنل سیشن جج کا آرڈر تھا میں نے اس کو دیکھنا ہے ، شہباز گل نے عدالت میں کہا کہ میری اصل رپورٹ وہ نہیں جو انہوں نے پیش کی ہیں، عدالت اصل منگوائے شہباز گل کے وکیل نے پولیس کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی مخالفت کردی پولیس پراسیکیوٹر کی جانب سے شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر دلائل دیئے گئے، پولیس پراسیکیوٹر نے کہا کہ قانون میں نہیں لکھا کہ بیمار شخص کا ریمانڈ نہیں لیا جاسکتا،کسی بھی ملزم کی جان قیمتی ہوتی ہے، تفتیشی افسر مکمل خیال رکھتا ہے وکیل نے کہا کہ پراسیکیوشن نے پیر تک شورٹی دی تھی کہ شہباز گل کو اسپتال میں رکھیں گے ،رضوان عباسی نے کہا کہ جیل ڈاکٹر نے کہا کہ ملزم ہمارے پاس آیا تو اس کو کوئی مسئلہ نہیں تھا اور رپورٹ نارمل تھی، وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ جیل ڈاکٹر نے ایسی کوئی بات نہیں کی ، پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے وکیل فیصل چودھری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بات کر لینے دیں، ایسا نہ کریں،جس پر جج نے کہا کہ آپ بات جاری رکھیں، آپ جواب بعد میں دیں،رضوان عباسی نے عدالت میں کہا کہ جیل ڈاکٹر نے بتایا کہ شہباز گل کو مسئلہ اس وقت ہوا جب جسمانی ریمانڈ پر دینے کا فیصلہ کیا ،وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ شہباز گل کے پھیپھڑوں سے متعلق میڈیکل رپورٹ پیش نہیں کی گئی اگر آپ اجازت دیں تو شہباز گل کی میڈیکل ہسٹری بھی عدالت کے سامنے پیش کر سکتے ہیں ،اس میں مقدمہ اخراج کے نوٹس ہوئے ہوئے ہیں اس صورت حال میں بھی ریمانڈ نہیں دیا جا سکتا ،

    قبل ازیں تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کو انتہائی سخت سکیورٹی میں پمز اسپتال سے کچہری منتقل کر دیا گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق اسلام آباد پولیس شہباز گل کو انتہائی سخت سیکیورٹی کے ساتھ پمز اسپتال کے پچھلے دروازے سے روانہ ہوئی ذرائع کے مطابق پمز اسپتال سے عدالت جاتے وقت شہباز گل نے منہ پر آکسیجن ماسک لگایا ہوا تھا اور انہیں وہیل چیئر پر اسلام آباد کچہری منتقل کیا گیا۔

    اسلام آباد پولیس کی جانب سے شہباز گل کو ڈیوٹی جج جوڈیشل مجسٹریٹ راجہ فرخ علی خان کی عدالت میں پیش کیا جائے گا، پولیس عدالت سے شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرے گیاسلام آباد کچہری میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے جبکہ کمرہ عدالت کے باہر ایف سی کی نفری بھی پہنچ گئی ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز میڈیکل بورڈ نے شہباز گل کو بالکل فٹ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان پر کسی قسم کا تشدد نہیں کیا گیا رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پی ٹی آئی رہنما تندرست،صحت مند اور مکمل فٹ ہیں۔شہباز گل کسی بھی وقت اسپتال سے ڈسچارج ہوسکتے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق شہباز گل کے 10مختلف ٹیسٹ کیے گئے جس میں کورونا ٹیسٹ بھی شامل تھا،ان کے تمام ٹیسٹ کلیئر آئے ہیں اس کے علاوہ پی ٹی آئی رہنماکے 6 مختلف ایکسرے بھی کیے گئے، رپورٹ میں کسی قسم کے تشدد کے شواہد بھی نہیں ملے۔

    ذرائع کے مطابق فٹ قرار دیئے جانے کے بعد بھی اسلام آباد پولیس شہباز گل کو اسپتال سے تھانے منتقل کرنے کا فیصلہ نہیں کر سکی تھی میڈیکل بورڈ کے ڈاکٹرز نے پولیس حکام کو اسپتال میں شہبازگل سے سوال وجواب کرنے سے روکا رکھا تھا ڈاکٹرز کا مؤقف ہے کہ شہباز گل مکمل فٹ ہیں لیکن اسپتال میں ان سے تفتیش نہیں کر سکتے۔

    شہباز گل کی لیگل ٹیم بھی پمز اسپتال پہنچی تھی البتہ لیگل ٹیم کے ساتھ ان کے وکیل فیصل چودھری نہیں تھے مز اسپتال پہنچنے والی شہباز گل کی لیگل ٹیم نے کورٹ کا تحریری حکمنامہ بھی وہاں متعین پولیس حکام کے حوالے کردیا تھا شہباز گل کی لیگل ٹیم کے ہمراہ پی ٹی آئی رہنما اور سابق وفاقی وزیر مراد سعید بھی ہیں لیکن انہیں دروازے پر روک لیا گیا تھا-

    دوسری جانب اسلام آباد پولیس نے شہباز گل پر مقدمہ اور مبینہ تشدد سے متعلق بیان قلمبند کرانےکے لیے اشتہار جاری کیا تھا اشتہار میں کہا گیا تھا کہ شہبازگل پر تشدد سے متعلق کسی کے پاس کوئی شہادت ہے تو اپنا بیان ریکارڈ کرادے اس حوالے سے کوئی بھی شہری آئی جی اسلام آبادکے دفتر میں بیان قلم بندکراسکتا تھا-

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے شہباز گِل پر ریمانڈ کے دوران تشدد کے الزامات پر آئی جی اسلام آباد سے پیر تک رپورٹ طلب کر لی ہے قائم مقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق نے دوران سماعت کہاتھا کہ آہ و بکا مچی ہوئی ہے کہ تشدد ہوگیا، کیا یہ میڈیا ہائپ ہے یا واقعی ایسا ہوا ہے؟ ہم نے یہ دیکھنا ہے۔

    آئی جی اسلام آباد نے ریمانڈ کے دوران شہباز گِل پر تشدد کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ میڈیکل رپورٹ کے مطابق کوئی تشدد نہیں ہوا، سانس کی تکلیف کا بتایا گیا ہے اس موقع پر اسپیشل پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے عدالتی استفسار پر بتایا تھا کہ شہباز گل کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے تشدد کا نہیں بتایا

    شہبازگل کے ڈرائیور کے بھائی کی عبوری ضمانت منظور

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    شہباز گل کی گرفتاری، پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکن بنی گالہ پہنچ گئے

    شہباز گل کی گرفتاری پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا

    نعرے ریاست مدینہ کےاورغلامی امریکہ کی واہ شہبازگل باجوہ

  • بھارتی بحریہ لاوارث کشتی سے خوفزدہ، سائرن بج گئے

    بھارتی بحریہ لاوارث کشتی سے خوفزدہ، سائرن بج گئے

    بھارتی ریاست مہاراشٹر میں ممبئی کے قریب رائے گڑھ کوسٹل ایریا کی حدود میں ایک لاوارث کشتی کی موجودگی سے بھارتی بحریہ میں خوف و ہراس پھیل گیا اورمتوقع دہشت گردی سے بچاو کے لئے ہنگامی سائرن بجنے شروع ہوگئے۔ کشتی میں تین اے کے 47 رائفلز اور گولیوں کی بڑی مقدار بھی موجود تھی جس کی وجہ سے ممبئی میں ریڈ الرٹ جاری کردیا گیا اور انسداد دہشت گردی سمیت تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ کر دیا گیا۔

    ابتدائی طور پر بھارتی میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی نے بوکھلاہٹ میں کشتی پاکستانی سمندری حدود کی طرف سے بھارتی سمندری حدود میں آنے کے امکانات ظاہر کئے تاہم بعد میں بھارتی حکام نے اس امکان پر زیادہ زور نہیں دیا۔

    ابتدائی تحقیقات کے بعد مہاراشٹر کے نائب وزیراعلی دیوندرا فرنانڈس نےبتایا کہ16 میٹر لمبی یہ لاوارث کشتی ایک آسٹریلین خاتون کی ملکیت ہے جس کا شوہر نیوی کپتان ہے۔ یہ کشتی دبئی کی ایک سیکیورٹی ایجنسی میں رجسٹرڈ ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ ابھی تک اس بات کا ثبوت نہیں ملا کہ کشتی دہشت گردی کرنے کے لئے استعمال کی جانی تھی تاہم ابھی تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کشتی میں سوار میاں بیوی اور دو دیگر مسافر جون میں مسقط سے یورپ جارہے تھے کہ راستے میں خراب موسم کے باعث انہوں نے کشتی کو وہیں بے یارومددگار چھوڑ دیاجب کہ چاروں افراد کو اومان کے بحری حکام نے محفوظ مقام پر منتقل کیا۔جس کے بعد یہ لاوارث کشتی سمندری لہروں میں بہتی ہوئی ممبئی سے دوسو کلومیٹر دور رائے گڑھ کے ساحل پر پہنچ گئی۔ انہوں نے بتایا کہ کہ کشتی میں جدید اسلحہ کہاں سے آیااس کی تحقیقات جاری ہیں۔ 

  • امریکی کمانڈرسینٹ کام کاجی ایچ کیوکادورہ،آرمی چیف سےملاقات،سیکیورٹی صورتحال سمیت دیگرامورپرتبادلہ خیال

    امریکی کمانڈرسینٹ کام کاجی ایچ کیوکادورہ،آرمی چیف سےملاقات،سیکیورٹی صورتحال سمیت دیگرامورپرتبادلہ خیال

    راولپنڈی:امریکی کمانڈر سینٹ کام کا جی ایچ کیو کا دورہ، آرمی چیف سے ملاقات،اطلاعات کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے وفد نے جی ایچ کیو کا دورہ کیا جس میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق پاک امریکا عسکری حکام کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے جس میں پاک فوج کی انسداد دہشتگردی کی کوششوں اورعلاقائی امن واستحکام کے کردار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ترجمان پاک فوج کے مطابق مذاکرات میں پاکستان امریکا فوجی تربیتی تبادلہ پروگرام بھی زیر بحث آیا۔

    ترجمان کے مطابق سربراہ امریکی سنٹرل کمانڈ نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاک فوج کے کردار کو سراہا جبکہ انسداد دہشتگردی کے تجربات اور علاقائی امن و استحکام کیلئے کاوشوں کا بھی اعتراف کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ اور سربراہ امریکی سنٹرل کمانڈ کے درمیان ون آن ون ملاقات بھی ہوئی جس میں علاقائی سلامتی صورتحال اور دفاعی وسیکیورٹی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ترجمان کے مطابق بعد ازاں معزز مہمان نے آرمی میوزیم کا بھی دورہ کیا اور مختلف تاریخی دیواروں میں گہری دلچسپی لی۔

  • ایف آئی اے کو عمران خان کو گرفتار کرنا چاہیئے،مریم اورنگزیب

    ایف آئی اے کو عمران خان کو گرفتار کرنا چاہیئے،مریم اورنگزیب

    وفاقی وزیرا اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران خان جھوٹ بولنےسےبازنہیں آرہے،عمران خان قوم کوگمراہ کررہاہے،عمران خان کاکام فتنہ پھیلانااورالزام تراشی کرناہے،عمران خان کہتےہیں مجھےآزادمیڈیاسےخوف نہیں،جب میڈیا کی آزادی کا قتل کیا جا رہا تھا اس وقت عمران خان کہاں تھے؟عمران خان کےدورمیں صحافیوں پرحملےہوئے،پابندیاں لگیں،جب راناثنااللہ پر20کلوہیروئین کاکیس ڈال کرگرفتارکیااس وقت آپ وزیراعظم تھے.

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ جب کلثوم نواز انتقال کرگئیں تو عمران خان نےنمازجنازہ میں رکاوٹیں ڈالیں،کلثوم نواز لندن کے اسپتال میں داخل تھیں تو کہا گیا وہ ہوٹل میں ہیں، عمران خان نےطیبہ گل کی ویڈیوز چیئرمین نیب کو دکھا کر انہیں بلیک میل کیا، جب توشہ خانہ لوٹا جا رہا تھا اس وقت وزیراعظم عمران خان تھے،اگرشہبازشریف یاسلیمان شہبازنےچوری کی توآپ اپنےدورمیں ثابت کرتے،جب ہیرےلوٹےجارہےتھےتواس وقت وزیراعظم آپ تھے.

    انہوں نے کہا کہ یہ جوآج پمزاسپتال میں لیٹاہواہے، یہ مکافات عمل ہے،وقت بدلنےمیں دیرنہیں لگتی،جنہوں نےبھارت ،اسرائیل اورامریکاسےپیسہ لیاوہ ملک کوآزادی دلائےگا؟میڈیاسمیت پوراملک آزادہوچکاہےاب آپ کےاندرجانےکاوقت ہے،پنجاب کو4سال تک لوٹاگیا،ایف سی اوررینجرز والےاڈیالہ گئے تو طبیعت صاف ہو گئی.

    انہوں نے مزید کہا کہ توشہ خان اور فارن فنڈنگ میں ان کا کوئی بندہ پیش نہیں ہورہا ہے، بہتری اسی میں ہے ریکارڈ دے دیں ورنہ ریکارڈ لینا آتا ہے، اگر خان صاحب پیش نہیں ہوئے تو سن لیں، وزیرداخلہ راناثناء اللہ ہیں۔

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ بہت بڑا اکاؤنٹ پکڑا گیا ہے کل پریس کانفرنس میں بتاؤں گی، جو ایف آئی اے میں پیش نہیں ہوتا اس کو گرفتار کرناچاہیے۔

  • شہبازگل  پر بالکل تشدد نہیں ہوا. آئی جی اسلام آباد کا عدالت میں بیان

    شہبازگل پر بالکل تشدد نہیں ہوا. آئی جی اسلام آباد کا عدالت میں بیان

    کیا دوران حراست شہباز گل پر تشدد کیا گیا، آئی جی سے عدالت کا استفساراس پر انہوں نے جواب دیا سابق معاون خصوصی شہبازگل پر بالکل تشدد نہیں ہوا ہے آئی جی اسلام آباد کا عدالت میں بیان

    آئی جی صاحب، شہباز گل کو ٹارچر کیا گیا ہے؟ جسٹس عامر فاروق کا استفسار آئی جی اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ میڈیکل رپورٹ کے مطابق شہباز گل پر کوئی تشدد نہیں ہوا ہے،

    عدالت نے آئی جی اسلام آباد، ایس ایس پی انوسٹی گیشن اورایس ایچ او تھانہ کوہسار کو بھی طلب کیا تھا ۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو بھی معاونت کے لیے نوٹسز جاری کر دیے تھے.

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق نے بغاوت کے مقدمے میں شہباز گل کے دوبارہ جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواست پر آج بروز جمعرات 18 اگست کو سماعت کی۔ اس موقع پر شہباز گل کے وکیل فیصل چوہدری اور شعیب شاہین عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔
    اسلام آباد ہائی کورٹ نے بغاوت کے مقدمہ میں شہباز گل کے مزید جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواست پر اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ اور میڈیکل افسر کو متعلقہ ریکارڈ کے ساتھ آج ہی دن تین بجے طلب کر لیا ہے۔

    سماعت کے آغاز پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے فزیکل ریمانڈ آرڈر چیلنج کیا ہے ؟ جس پر وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ایڈیشنل سیشن جج نے قانون کے اندر دی گئی ہدایات کو فالو نہیں کیا۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے پولیس کو نوٹس جاری کرکے تین بجے تک جواب طلب کر لیا، جب کہ ایڈووکیٹ جنرل اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو بھی معاونت کیلئے طلب کرلیا گیا ہے۔
    یاد رہے کہ شہباز گل نے سیشن کورٹ کے 48 گھنٹے کا جسمانی ریمانڈ دینے کے فیصلے کو چیلنج کر رکھا ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر شہباز گل کے وکیل فیصل چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے جیل سپرٹنڈنٹ، آئی جی اسلام اور میڈیکل افسر کو پیش ہونے کی ہدایت کی ہے، شہباز گل کی میڈیکل رپورٹ بھی ابھی تک جمع نہیں کرائی گئی، اس سے لگتا وہ ٹھیک نہیں ہیں لیکن ان کی صحت مند کی رپوٹ بنانے کا دباؤ ہے۔
    انہوں نے کہا کہ شہباز گل پر تشدد ہوا ہے یہ سب کو معلوم ہے، ہمیں ملنے بھی نہیں دیا جا رہا۔

    دوسری جانب شہباز گل کو مزید ٹیسٹوں کے لیے امراض قلب کے شعبے سے دوسرے وارڈ میں منتقل کر دیا گیا۔ میڈیکل بورڈ میں بھی دو ڈاکٹرز کا اضافہ کیا گیا ہے۔

    رہنما پی ٹی آئی شہباز گل کو پمز میں امراض قلب کے شعبے سے ٹیسٹوں کےلیے دوسرے وارڈ منتقل کیا گیا، جہاں ان کے سی ٹی سکین کے بعد انہیں واپس کارڈیولوجی وارڈ شفٹ کر دیا گیا۔۔شہباز گل کے گزشتہ رات ہونے والے ٹیسٹ آج دوبار ہ کیے جا رہے ہیں۔
    شہباز گل کے لیے بنائے گئے میڈیکل بورڈ میں مزید دو ڈاکٹرز کو شامل کر لیا گیا۔میڈیکل بورڈ نیورو آرتھو سرجری ،کارڈیالوجی، پمونالوجی سمیت 6 ڈاکٹر ز پر مشتمل ہے۔

    باغی ٹی وی کو موصول میڈیکل رپورٹ کے مطابق چار سینئر ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم نے شہبازگل کا طبی معائنہ کیاجس میں کہا گیا ہےکہ شہباز گل کو بچپن سے سانس کا مسئلہ ہے اور ضرورت پڑنے پر وہ برونکڈیلٹر استعمال کرتے ہیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ شہبازگل کو سانس لینے میں مسئلہ ہے اور وہ جسم میں درد محسوس کررہے ہیں، وہ کندھے،گردن اورچھاتی کے بائیں جانب درد محسوس کررہے ہیں، ان کا فوری ای سی جی کیا گیا تھا۔

    میڈیکل بورڈ کی رپورٹ میں مشورہ دیا گیا ہے کہ شہبازگل کا ایکسرے، یورک، خون اور دل کا ٹیسٹ کرنا ضروری ہے، ان کاکارڈیالوجسٹ اور پلمانولوجسٹ کی جانب سے طبی معائنہ درکارہے جب کہ شہبازگل کے مزید طبی معائنے کی ضرورت پڑسکتی ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ رات اڈیالہ جیل کی انتظامیہ نے عدالتی حکم پر پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کو اسلام آباد پولیس کے حوالے کر دیا تھا جس کے بعد طبیعت ناساز ہونے پر انہیں پمز اسپتال منتقل کیا گیا۔

    قبل ازیں بغاوت پر اکسانے کے کیس میں گرفتار پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے رہنما شہباز گل کو پمز اسپتال کے کارڈیک سینٹر میں داخل کرلیا گیا، جہاں ان کے طبی معائنے کیلئے 3 رکنی میڈیکل بورڈ قائم کیا گیا۔ پروفیسر ڈاکٹر شجیع صدیقی 3رکنی میڈیکل میڈیکل بورڈ کے سربراہ تھے، جب کہ نیورو سرجن ڈاکٹر لال رحمان اور آرتھوپیڈیک سرجن ڈاکٹر رضوان بھی بورڈ کے اراکین میں شامل تھے۔ بورڈ کی جانب سے شہباز گل کا طبی معائنہ کیا گیا۔

    اسپتال ذرائع کے مطابق ڈاکٹر شہباز گل کو دمہ کی بیماری کی بنیاد پر پمز اسپتال میں داخل کیا گیا، جہاں شہباز گل کا سانس کی تکلیف کا ابتدائی علاج شروع کیا گیا، پمز میڈیکل بورڈ کی ہدایت پر آج صبح 18 اگست بروز جمعرات پلمونالوجی کی ٹیم ان کا طبی معائنہ کرے گی، پلمونالوجسٹ ڈاکٹر ضیاء طبی معائنہ اور علاج تجویز کریں گے۔ شہباز گل نے ڈاکٹروں کو کمر اور جسم میں درد کی شکایت کی تھی۔

    پمز میڈیکل بورڈ نے شہباز گل کے سینے اور کمر کے ایکسریز کروائے کا فیصلہ کیا ہے۔ جب کہ شہباز گل کے سینے کے ایکسریز رات کو ہوئے، تاہم کمر کے ایکسریز دن کے وقت کرائے جائیں گے۔ پمز کے کارڈلوجسٹ ڈاکٹر شفیق نے بھی طبی معائنہ مکمل کرکے رپورٹ میڈیکل بورڈ کو دیدی ہے۔ ابتدائی میڈیکل بورڈ کی رپورٹ میں شہباز گل کو صحت مند قرار دیا گیا۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد پولیس نے ملزم شہباز گل کو اچھی جسمانی صحت کے ساتھ جیل حکام کے حوالے کیا تھا، تجس کی گزشتہ روز وزیر داخلہ پنجاب نے بھی تصدیق کی تھی کہ وہ صحت مند ہیں، تاہم بعد ازاں انہیں 1122 کی ایمبولینس میں پمز لایا گیا۔

    شہباز گل کو اسپتال میں رکھا جائے یا پولیس کے حوالے کیا جائے، اس سلسلے میں میڈیکل بورڈ اور پولیس افسران نے میٹنگ بھی کی۔ ذرائع کے مطابق شہباز گل کے تمام ٹیسٹ رپورٹس موصول ہونے کے بعد اگلا لائحہ عمل تشکیل دیا جائے گا۔ جس کے بعد میڈیکل بورڈ پولیس افسران کو آگاہ کرے گا۔ پمز کے ڈاکٹروں نے ڈاکٹر شہباز گل کے ضروری بلڈ ٹیسٹ بھی تجویز کیے تھے۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کی جج زیبا چوہدری نے شہباز گل کی جسمانی ریمانڈ کی نظرثانی اپیل پر 17 اگست بروز بدھ کو فیصلہ سناتے ہوئے مزید 48 گھنٹے کیلئے انہیں پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا۔

    جج زیبا چوہدری نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ میں نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد تفصیلی جائزہ لیا ہے، پولیس کی نامکمل تفتیش کی دلیل سے متفق ہوں، جس پر عدالت نے پولیس کی استدعا منظور کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما کو مزید 48 گھنٹے کیلئے پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔
    دوسری جانب تحریک انصاف نے شہباز گل کو تفتیش سے بچانے کیلئے ہرحربہ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جب کہ قانون کی پاسداری کرنے والے وزیراعلیٰ پنجاب بھی صورتحال میں بے بس دکھائے دے رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے نجی ٹی وی چینل کو اپنے شو میں رہنما تحریک انصاف شہباز گل کا تبصرہ نشر کرنے پر شوکاز نوٹس جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ان کا بیان مسلح افواج کی صفوں میں بغاوت کے جذبات اکسانے کے مترادف تھا۔ مذکورہ گفتگو میں ڈاکٹر شہباز گل نے الزام عائد کیا تھا کہ حکومت، فوج کے نچلے اور درمیانے درجے کے لوگوں کو تحریک انصاف کے خلاف اکسانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج میں ان عہدوں پر تعینات اہلکاروں کے اہل خانہ عمران خان اور ان کی پارٹی کی حمایت کرتے ہیں جس سے حکومت کا غصہ بڑھتا ہے۔

    انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) کا اسٹریٹجک میڈیا سیل پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان اور مسلح افواج کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کے لیے غلط معلومات اور جعلی خبریں پھیلا رہا ہے۔ پی ٹی آئی کے چیف آف اسٹاف اور جارحانہ رہنما شہباز گل کو رواں ماہ 9 اگست کو بنی گالہ چوک سے گرفتار کیا گیا تھا ، جب وہ سفید رنگ کی گاڑی میں ڈرائیور کے ہمراہ دفتر سے روانہ ہو رہے تھے۔ اسلام آباد پولیس کے مطابق پی ٹی آئی رہنما کو گرفتار کرکے تھانہ بنی گالہ منتقل کیا گیا ہے۔ شہباز گل پر بغاوت پر اکسانے کے الزام کے تحت مقدمہ درج ہوا ہے۔

  • لگژری سمیت تمام اشیاء کی درآمد پر پابندی ختم کررہے. مفتاح اسماعیل

    لگژری سمیت تمام اشیاء کی درآمد پر پابندی ختم کررہے. مفتاح اسماعیل

    وفاقی حکومت نے لگژری سمیت تمام اشیاء کی درآمد پر پابندی ختم کرنے کا اعلان کر دیا جبکہ تاجروں پر لگایا گیا فکس سیلز ٹیکس بھی واپس لے لیا۔

    اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اعلان کیا کہ بین الاقوامی تقاضے پورے کرنے کے لیے امپورٹ سے پابندی ہٹانا ضروری ہے اور آئی ایم ایف بھی چاہتا ہے کہ ہم امپورٹ پر جلدی پابندی ہٹا لیں، ہم نے امپورٹ پر پابندی عائد کی تھی لیکن اب امپورٹ بھی ہمارے کنٹرول میں ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ آئی ایم ایف کی جتنی کنڈیشنز تھیں ہم نے پوری کر دی ہیں جبکہ چین اور دیگر دوست ممالک نے بہت تعاون کیا۔
    وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگی گاڑیوں کی درآمد پر بھاری ڈیوٹی لگا رہے ہیں اور بڑی گاڑیوں پر ڈیوٹیز لگائیں گے، پہلے آٹے چینی دال کو ترجیح دیں گے جبکہ بہت ساری اشیاء پر ٹیکس موخر کر دیا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ اگست میں برآمدات میں 8 فیصد اضافہ ہوا جبکہ اگست میں درآمدات میں 19 فیصد تک کمی آئی ہے۔ اگست میں تجارتی خسارے میں 30 فیصد کمی ہوئی جب کہ روپے پردباؤ میں کمی آرہی ہے۔ بینکنگ سسٹم میں بھی 650 ملین ڈالر زیادہ آئے ہیں۔

    آئی ایم ایف سے متعلق مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ عالمی مالیاتی ادارے(آئی ایم ایف) کی تمام پیشگی شرائط پوری کردی ہیں اورہماری معاشی پالیسیوں کے ثمرات سامنے آرہے ہیں۔ آئی ایم ایف نے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس 29 اگست کوطلب کرلیا ہے۔
    وزیرخزانہ نے بتایا کہ 4 ارب ڈالر کا فنڈنگ گیپ تھا اور آئی ایم ایف چاہتا تھا کہ 4 ارب ڈالر آجائیں،3 دوست ممالک سے4 ارب ڈالر کی فنڈنگ حاصل ہوئی ہےاور چین بھی 2 ارب ڈالر کے قرضے رول اوور کردے گا۔

    تجارت سے متعلق مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ 2 ماہ سے درآمدات کنٹرول میں ہیں، آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ ہم درآمدات پر سے پابندی ہٹادیں۔ انھوں نے بتایا کہ پاکستان 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرچکا ہے اور خوردنی تیل، گھی سمیت دیگر اجناس بھی ہم درآمد کرتے ہیں۔ پاکستان کی اولین ترجیح 23 کروڑ لوگوں کو روٹی دینا ہے۔
    وزیرخزانہ نے بتایا کہ ہماری چوائس ہے کہ ہم گاڑیاں اور موبائل درآمد کریں یا خوراک،اس لئے ہم تمام چیزوں کی درآمد پر پابندی ہٹا رہے ہیں تاہم درآمد پر 3 گنا یا 400 سے 600 فیصد تک ڈیوٹی لگائیں گے۔

    انھوں نے مزید واضح کیا کہ مرسڈیزسمیت بڑی گاڑیوں پرزیادہ ڈیوٹی لگائیں گے اور کسٹمزڈیوٹی،ریگولیٹری ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس عائد کریں گے۔
    انھوں نے کہا کہ مکمل تیار اور درآمدی گاڑیوں،موبائل فونز پر اضافی ڈیوٹی عائد کی جائے گی جب کہ پرس، جوتوں سمیت دیگرلگژری اشیاء کی درآمد پر بھی اضافی ڈیوٹی عائد کی جائے گی۔
    بجلی کے نرخ سے متعلق مفتاح اسماعیل نے کہا کہ بجلی کے نرخوں کے مسائل بھی حل کرلیئے ہیں،153 ارب روپے کے پرائمری بجٹ سرپلس پر قائم ہیں اور بجلی پر نان فنڈیڈ سبسڈی نہیں دی جائے گی۔

    ٹیکس سے متعلق انھوں نے یہ بھی کہا کہ تاجروں پرفکسڈ ٹیکس واپس لے لیا ہے اور 42 ارب روپے کے بجائے اب 27 ارب روپے کا ہدف ہے،آرڈیننس کے زریعے ٹیکس کا بتادیا جائے گا اور اس کی جگہ ٹیکس میں بتدریج اضافہ کیا جائے گا۔
    تمباکو پر ٹیکس کے حوالے سے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ 15 ارب روپے کا گیپ پورا کرنے کیلئے تمباکو اور سگریٹ پر 36 ارب روپے ٹیکس لگا رہے ہیں، تمباکو پر ٹیکس 10 روپے سے بڑھا کر 380 روپے فی کلو کررہے ہیں۔

    اس کےعلاوہ ٹیئرون کے 1000 سگریٹس پر ٹیکس 5900 روپے سے بڑھا کر6500 روپے کررہےہیں۔
    ٹیئرٹو کے 1000 سگریٹس پر ٹیکس 1850 روپے سے بڑھا کر 2050 روپے کر رہے ہیں۔

  • عمران خان کس منہ سے میڈیا سیمینار کروا رہا؟ مریم اورنگزیب

    عمران خان کس منہ سے میڈیا سیمینار کروا رہا؟ مریم اورنگزیب

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے صحافیوں کی پسلیاں توڑیں، انہیں اغوا کیا، میڈیا کی آزادی کو کچلا، اور پارلیمان کو تالے لگوائے ہیں.

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے میڈیا کا معاشی قتل کیا اور عمران خان نے وزیر اعظم کی کرسی پر بیٹھ کر میڈیا دشمنی کی۔

    انہوں نے کہا کہ عمران خان کا دور میڈیا کے لیے سیاہ دور تھا جبکہ عمران خان کرپٹ، غیر ملکی ایجنٹ، میڈیا دشمن اور دہرہ معیار رکھتے ہیں۔ میڈیا فیصلہ کرے کہ ان کے خلاف نیب کو استعمال کرنے والے کے سیمینار میں جانا ہے یا نہیں۔
    مریم اورنگزیب نے کہا کہ میڈیا کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ اُن کی آزادی اور نوکری چھیننے والے کے سیمینار کے تماشے کو ماننا ہے کہ نہیں۔ انٹرنیشنل میڈیا واچ نے عمران خان کو فاشسٹ قرار دیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ عمران خان نے صحافیوں کی پسلیاں توڑیں اور انہیں اغوا کیا۔ میڈیا کی آزادی کو کچلا، پارلیمان کو تالے لگوائے۔

    دوسری جانب مسلم لیگ ن کے رہنما جاوید لطیف نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ چار پانچ دن سے ایک شو لگا ہوا ہے۔ کیا یہ صرف ایک شخص پر تشدد ہوا وہ ایشو ہے یا کوئی اور مسئلہ ہے؟ اگر کسی پر تشدد ہوا ہے تو حمایت نہیں کرسکتے، مگر بات کچھ اور ہے۔
    ان کا کہنا ہے کہ عمران خان شہباز گل کی طرف بار بار کیوں دیکھتے ہیں؟ اس طوطے میں نہ صرف عمران خان بلکہ کچھ اور لوگوں کی بھی جان ہے۔ اب جو رونا دھونا ہوا وہ طوطے کےلیے نہیں ہے۔

    انہوں نے کہا ہے کہ ثابت ہوا کہ بھارت اور اسرائیل کی فنڈنگ ہوئی۔ بات یہاں تک نہیں رہی طوطے نے بہت کچھ بتایا ہے۔ سہولت کار اس کو تحفظ دے رہے تاکہ ڈوریں ہلانے والے کا نام نہ لے لیں۔ اصل وجہ طوطے کی زبان بند رکھنا ہے۔
    ان کا کہنا ہے کہ چار سال وزیر اعظم ہاؤس اور بنی گالہ میں اخلاقیات سے لیکر پیسہ بنانے اور قومی راز اگلنے تک اس طوطے کو سب پتا ہے۔ اس طوطے کی زبان بندی عمران خان کی مجبوری ہے، وعدہ معاف گواہ بنانے کا تو سوال نہیں۔ طوطے سے یہ باتیں اگلوانی چاہییں کہ چار سال میں وزیر اعظم ہاؤس سے بنی گالہ تک عوام کے متعلق کیا منصوبہ بندی ہوئی۔

    انہوں نے کہا ہے کہ رات قومی ادارے انوالومنٹ نہ کرتے تو پنجاب اور وفاق کے ادارے ٹکراتے۔ کس حیثیت میں پنجاب انتظامیہ کو حکم دیتے ہو؟ آپ اخلاقی قدروں سے بالکل نا آشنا ہو، آپ مدینہ کی ریاست کی بات کرتے تھے، آپ نے بھارتی ریاست کے مسلمانوں سے بھی زیادہ برا حشر کیا۔
    ان کا کہنا ہے کہ فواد چودھری نے یہ بات نہیں کہی تھی کی بند کمروں میں فیصلے جج اور جنرل کرتے ہیں۔ اگر ان باتوں کا نوٹس نہ لیا گیا، بات تو پھر بڑی ہے، جو طوطے کو کور دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ فوج کے خلاف پی ٹی آئی قیادت کی مرضی کے بغیر سٹیج سے نعرے کیسے لگ گئے؟ اب سابق آفیسر سے مدد مانگنا اور باسٹھ لاکھ ماہانہ ادا کرنا کہاں سے آتا ہے؟ اپنی لابنگ کیلئے پیسہ لگانا چندے سے تو نہیں آتا ہے اس کے پیچھے تو کوئی ہوگا۔

    انہوں نے کہا ہے کہ میرے لواحقین نے ہائی کورٹ میں درخواست دی ہمارا بیٹا کدھر ہے کوئی معلوم نہیں۔ جب میں چھ بائے چار کے کمرے میں بند تھا اس میں ہزار واٹ کے چالیس بلب لگے تھے۔میں تو باہر آکر نہیں رویا۔
    ان کا کہنا ہے کہ اگر میرا چودہ دن کا ریمانڈ ہوسکتا ہے اس کا بارہ دن تو کرلیں،میں تشدد کی حمایت نہیں کرسکتا کیونکہ میں خود متاثرہ ہوں۔ ہمیں چھوڑ دیں، ہم کیسے پکڑے جاتے تھے، کیسے سزائیں ہوتی تھی، کوئی سروکار نہیں طوطے سے پوچھا جائے اس کے پیچھے کون ہے، اسکا نام پبلک ہونا چاہیے، تاکہ یہ سازش رک جائے، پاکستانی قوم مزید تقسیم نہ کی جائے۔

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا دور میڈیا کے حوالے سے کافی متنازع رہا تھا۔ کبھی سوشل میڈیا پر نا پسندیدہ صحافیوں کی فہرستیں سامنے آئیں تھی، تو کبھی صحافیوں کے خلاف آن لائن ٹرولنگ کے الزامات لگے تھے آزادی اظہار رائے پر پابندی کی کوششوں سمیت تحریک انصاف دور میں ایسے قوانین متعارف کروانے کی بھی کوشش کی گئی جن پر مقامی اور بین الاقوامی سطح پر صحافتی تنظیموں نے احتجاج کیا تھا اور اس کے علاوہ عمران خان کے دور میں سینئر صحافیوں کے انٹرویو بھی آف ائیر کیئے گئے تھے.