Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • چین اور پاکستان ہر قسم کے حالات کے سٹریٹجک شراکت دار ہیں،ترجمان چینی وزارت خارجہ

    چین اور پاکستان ہر قسم کے حالات کے سٹریٹجک شراکت دار ہیں،ترجمان چینی وزارت خارجہ

    چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لی جیان نے کہا ہے کہ چین اور پاکستان ہر قسم کے حالات کے سٹریٹجک شراکت دار ہیں، پاکستان “فرینڈز آف دی گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو” گروپ کا ایک اہم رکن ہے، چین عالمی ترقی کو فروغ دینے، اقوام متحدہ کے 2030 کے پائیدار ترقی اور علاقائی تعاون کے ایجنڈے پر عمل درآمد کو فروغ دینے میں پاکستان کے اہم کردار کو بہت اہمیت دیتا ہے اور وہ پاکستان کے ساتھ قریبی رابطے اور ہم آہنگی کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔

    چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ان خیالات کا اظہار پریس کانفرنس میں کیا جس میں چین کی میزبانی میں برکس سربراہی اجلاس میں پاکستان کی عدم شرکت پر ذرائع ابلاغ کے ایک حصے کی طرف سے سوال اٹھایا گیا تھا۔

    ژاؤ لی جیان نے کہا کہ برکس ممالک نے مشاورت کی بنیاد پر عالمی ترقی پر ایک اعلیٰ سطحی مذاکرات کا فیصلہ کیا۔انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان نے ترقیاتی امور پر آپس میں بہت زیادہ تعاون کیا ہے جس سے دونوں ممالک اور خطے کے عوام کو ٹھوس فوائد حاصل ہوئے ہیں ۔

    ترجمان نے کہا کہ چین ہمیشہ کی طرح عالمی ترقیاتی اقدام کو نافذ کرنے میں پاکستان کو ایک ترجیحی شراکت دار کے طور پر دیکھے گا اور وہ عالمی ترقی کو فروغ دینے کے لئے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے تیار ہے۔

  • حکومتیں انتخابات پر ڈاکےڈال رہی ہیں اورالیکشن کمیشن تماشائی بنا ہے،عمران خان

    حکومتیں انتخابات پر ڈاکےڈال رہی ہیں اورالیکشن کمیشن تماشائی بنا ہے،عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف کی اعلیٰ سطحی سیاسی کمیٹی کی اہم ترین بیٹھک ہوئی.مرکزی سیکرٹری جنرل اسد عمر سمیت مرکزی و ریجنل قائدین شریک ہوئے.اجلاس میں ملکی مجموعی سیاسی صورتحال اور آئندہ کے لائحہ عمل کا مفصل جائزہ لیا گیا.اجلاس میں سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے دوران دکھائی دینے والی بدترین لاقانونیت اور حکمران جماعت کی فتنہ گری کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی گئی.اجلاس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے صاف، شفاف اور ساکھ کے حامل انتخابات کے انعقاد میں ایک مرتبہ پھر ناکامی پر گہری تشویش کا اظہاربھی کیا گیا.

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

    پنجاب کے 20 حلقوں میں ضمنی انتخابات کے دوران حکمران اتحاد کی جانب سے قبل از انتخابات دھاندلی کی شکایات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا جبکہ ضمنی انتخابات کے حوالے سے عوام میں پائے جانے والا جوش و خروش امپورٹڈ سرکار کے پیدا کردہ فسطائیت زدہ ماحول میں امید کی کرن قراردیا گیا،اجلاس میں 2 جولائی کو اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں عظیم الشان احتجاجی جلسے کے انعقاد کی تیاریوں پر بھی بریفنگ دی گئی.

    ا

    عمران خان کی سیاست کے فیصلہ کن لمحات،پی ٹی آئی امیدوار تذبذب کا شکار

     

     

    جلاس میں راولپنڈی و اسلام آباد کی تنظیموں کو بھرپور عوامی رابطے اور تیاریوں کی خصوصی ہدایات کی گئیں ،اذیت ناک مہنگائی اور امپورٹڈ سرکار کی جانب سے بجٹ کی خلاف آئین منظوری کی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا گیا جبکہ پی کے 7 سوات میں تحریک انصاف کی فیصلہ کن کامیابی پر مسرت و اطمینان کا اظہارکیا گیا.

    چیئرمین تحریک انصاف کا 2 جولائی کے اسلام راولپنڈی- اسلام آباد احتجاجی جلسے کی خود قیادت کا اعلان کیا، اس موقع پر چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ نااہل، نالائق اور بدنامِ زمانہ امپورٹڈ مجرموں کی فسطائی حکومت کیخلاف بھرپور تحریک ملک و قوم کے مستقبل کیلئے نہایت اہمیت کی حامل ہے.

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا تھا کہ معاشرے کا ہر طبقہ خصوصاً نوجوان اور خواتین میں سیاسی شعور متاثر کن سطح تک پہنچ چکا ہے، باشعور عوام کا پرجوش ردعمل امپورٹڈ کٹھ پتلیوں کیلئے خوف کی علامت بن چکا ہے، مقامی میرجعفروں کی خوفزدہ سرکار آئین و قانون اور جمہوری اقدار کی دھجیاں یوں اڑا رہی ہے جیسے کسی آمر نے بھی نہیں اڑائیں،سندھ اور پنجاب میں چوروں کی حکومتیں انتخابات پر ڈاکے ڈالنے میں مصروف، الیکشن کمیشن خاموش تماشائی ہے.

    عمران خان نے کہا کہ غلاموں کو قوم پر مسلط رکھنے کیلئے پورا جمہوری نظام داؤ پر لگایا جارہا ہے، عوام کو مہنگائی کی اذیت سے دوچار کرکے چوروں کیلئے این آر او دوم کا اہتمام قوم نے مسترد کیا ہے، حقیقی آزادی کی پرامن جمہوری تحریک ہی قوم کو اس تباہی سے نکالے گی جس میں غلاموں نے اسے ڈالا ہے، 2 جولائی کو پریڈ گراؤنڈ میں تاریخی احتجاجی جلسے کی قیادت کروں گا.

  • عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے پاس کچھ نہیں بچا، تحریک انصاف اندر کے مسائل کو چھپانے کے لئے لڑائیاں لڑ رہی ہے،اسکی پارٹی کے لوگ ٹوٹ رہے ہیں، میں نے جب بھی انکو باتیں بتائیں وہ مائینڈ کر جاتے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ بس ہم انکی تعریفیں کرتے رہیں، ایسا نہیں ہو سکتا، ملک میں قانون، آئین ہے، ذاتی خواہشات پر کچھ نہیں بدلا جا سکتا، آنے والے دنوں میں تحریک انصاف کے لئے کوئی اچھی خبر نہیں ہے میں پی ٹی آئی کا سپورٹر رہا ہوں،

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دو بڑی باتیں ہیں ایک خوفناک بات ہے اور دوسری نان سیریس بات ہے، شہباز گل کو نان سیریس لیتا ہوں، یہ ڈیوائس تیس چالیس ڈالرکی ہے، جب آپ ینگ ہوتے ہیں توبڑا شوق ہوتا ہے کہ میرے پاس ریکارڈنگ ڈیوائس آ گئی، وہ تو 24 گھنٹے یا 48 گھنٹے چلے گی، اسکو پھر چارج کرنا پڑے گا، یہ کونسی ارینجمنٹ ہے کہ ڈیوائس کمرے میں لگ جائے وہ نکل بھی آئے چارج ہو اور پھر دوبارہ لگ جائے،یہ کوئی گھر والا ہی کر سکتا ہے، شہباز گل کو جواب دینا چاہئے کہ یہ انہوں نے تو نہیں کروایا، یا کوئی اور تو گھر میں سے نہیں کہ جو دیکھنا چاہتا ہو کہ کون کون انکے پاس آ رہا، ورنہ عمران خان کی کونسی بات ڈھکی چھپی ہے، انکی ہر بات سامنے آ رہی ہے، جلسے میں ہر بات کر رہے ہیں اور انکے منصوبے بھی سب کو پتہ ہیں، یہ اسی طرح کی سازش ہے جس طرح انکی قتل کی سازش تھی،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سرکاری ہیلی کاپٹر عمران خان استعمال کر رہا ہے،کس حیثیت میں ؟ علی زیدی کو میں نے کہا لیکن اسکا جواب نہیں آیا، شہباز گل سے میں رابطہ کرتا ہوں اگلی فلم کی سٹوری کے لئے ، اگلا الیکشن ملک میں آرام سے نہیں ہو گا، ہر طرف ورکر اشتعال میں ہیں ، سب جماعتوں کے، کس کس کو کنٹرول کریں گے، دو چار لوگوں کے سر پھٹنے ہیں ،اللہ کرے کسی کی جان نہ جائے، بلدیاتی الیکشن میں ایک بے گناہ آدمی مارا گیا، اسکے بچوں کے سر پر کون ہاتھ رکھے گا،شیخ رشید اور کچھ لوگوں کی خواہشات ہیں کہ ملک میں انارکی ہو اور ایمرجنسی لگے، پھر مارشل لا ہو،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یاسمین راشد کو یہ بتانا چاہئے کہ انہوں نے کیا لیا تھا جسکے عوض انوہں نے نواز شریف کو باہر جانے کا سرٹفکیٹ دے دیا تھا، پاکستان کی تارٰیخ میں ایسا نہیں ہوا کہ جیل میں قیدی ہو اور اسکو علا ج کے لئے باہر جانے دیا جائے، میڈیکل بورڈ بنا تھا، کون اسکو دیکھ رہا تھا،یاسمین راشد اور عثمان بزدار تھے، یاسمین راشد دوسروں پر الزام نہ لگائیں پہلے خود بتائیں، کیوں جانے دیا گیا، کیا کرپشن کا حصہ بنے؟ کیا اس نے کوئی مال لگایا؟ ہمیں بھی پتہ چلے، نواز شریف باہر گئے اس میں پی ٹی آئی کی ٹاپ لیڈر شپ انوالو ہے،این آر او خود دیا ہے انہوں نے، باہر کیسے گئے، اور این آر او کیا ہے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ آرمی ایک فیملی ہوتی ہے، فیملی کا بڑا ایک بڑا ہوتا ہے، پرویز مشرف بہت سینئر ہیں، سینئر سینئر ہوتا ہے فوج میں انہوں نے ایک سینئر ،جاننے والے کی عیادت کی، اس میں کونسی غلط بات ہے، میں دبئی جانا چاہ رہا ہوں ابھی کچھ عرصے میں جنرل پرویز مشرف کی عیادت کو،میرا ایک تعلق ہے انکے ساتھ،میں دعا کرتا ہوں انکی صحت کے لئے،

  • عمران خان کی سیاست کے فیصلہ کن لمحات،پی ٹی آئی امیدوار تذبذب کا شکار

    عمران خان کی سیاست کے فیصلہ کن لمحات،پی ٹی آئی امیدوار تذبذب کا شکار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ بڑی سیاسی ڈیولپمنٹ ہو رہی ہیں پاکستان میں، دکھ کے ساتھ ایک بات کہنی پڑ رہی ہے، دکھ ہوتا ہے جب کسی کے لئے محنت کی ہو ،ہاتھ بٹایا ہو اور پھر اسکا نقصان ہو، آج عمران خان کو دیکھتا ہوں، انکی اپنی پارٹی کے لوگ انکے خلاف کیمپئن کر رہے ہیں، تین چار لوگ بار بار جا رہے ہیں کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح عمران خان کی جی ایچ کیو میں ملاقاتیں ہو جائیں، انکا خیال ہے کہ ایک بھی ملاقات ہو جائے تو حالات بدل جائیں گے، عمران خان جوہر ٹاؤن آئے، وہاں انتہائی کمزور شو تھا، انکے مخالف اسد کھوکھر پی ٹی آئی امیدوار کی ضمانت ضبط کروائیں گے، اسکی کوئی دو رائے نہیں،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بیس حلقے جن میں الیکشن ہو رہے ہیں، ان میں کئی جگہوں پر پی ٹی آئی نے بڑے کمزور امیدوار کھڑے کئے، جہاں برادری کے نام پر ووٹ پڑتا ہے وہاں اسی کو ٹکٹ ملتا ہے ،جہاں اعوان ہوں وہاں کشمیری، راجپوت امیدوار نہیں جیت سکتا، ہمارے لوگ برادریوں کے حساب سے ووٹ دیتے ہیں، چار حلقوں میں پی ٹی آئی مضبوط ہے، 14 حلقوں میں ن لیگ مضبوط، دو حلقوں میں سخت مقابلہ ہے، ہو سکتا ہے وہ ٹی ایل پی ، ن لیگ، یا پی ٹی آئی کسی کو بھی مل جائے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی میں ایک نئے سرے سے نئی پرابلم ہو رہی ہے، لوگ الگ ہونا چاہتے ہیں، ان لوگوں کا تعلق پنجاب سے نہیں کے پی کے سے ہے، محمود خان کے پی کے بزدار بن رہے ہیں، عمران خان 25 مئی کو ڈی چوک نہیں پہنچے تھے، اس سے پہلے جو دھرنا اور لانگ مارچ ہوا تھا اس میں طاہر القادری کی سپورٹ حاصل تھی،لیکن اس بار کوئی سپورٹ نہیں تھی، فارن فنڈنگ کیس پر الیکشن کمیشن نے اپنا فیصلہ محفوظ کیا،اور لگتا یہ ہے کہ الیکشن کمیشن میں اسکے دو فیصلے ہو سکتے ہیں،اگر عمران خان کا نام آتا ہے اور فیصلہ خلاف آتا ہے تو تحریک انصاف کو کسی اور نام سے رجسٹر ہونا پڑے گا، یہی مسئلہ پیپلز پارٹی کے ساتھ بھی ہوا تھا، پیپلز پارٹی کا پہلے انتخابی نشان تلوار ہوتا تھا پھر تیر ملا، پی ٹی آئی کے اندر تین لوگ کوشش کر رہے ہیں کہ انکے نام پر پارٹی ہو، ایک قریشی، اسد عمر اور پرویز خٹک ہیں ، میں جتنا عمران خان کو جانتا ہوں وہ ان میں سے کسی کے نام پر نہیں کروائیں گے بلکہ وہ ایک سیاسی بزدار ڈھونڈیں گے،

  • لاہور ہائیکورٹ کا الیکشن کمیشن کو مخصوص نشستوں کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ کا الیکشن کمیشن کو مخصوص نشستوں کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ کاالیکشن کمیشن کو مخصوص نشستوں کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا حکم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب اسمبلی کی مخصوص نشستوں کا نوٹفکیشن نہ کرنے کے حوالہ سے دائر درخواست پر لاہور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی،

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد وحید نے تحریک انصاف کی درخواست پر سماعت کی ،لاہور ہائیکورٹ نے درخواستوں کو منظور کر لیا،پی ٹی آئی کی نشستوں کا نوٹیفکیشن کرنے کا حکم دے دیا پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفرکی جانب سے لاہور ہائی کورٹ میں دلائل دیئے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے درخواستوں کی مخالفت کی،عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن پانچ مخصوص نشستوں کا نوٹیفکیشن جاری کرے

    بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے عدالت میں کہا کہ الیکشن کمیشن مخصوص نشستوں پرنوٹیفکیشن جاری نہیں کررہا، منحرف ارکان کوڈی سیٹ کرنے کے بعد الیکشن کمیشن نوٹیفکیشن جاری کرنے کا پابند ہے جنرل سیٹ کے تناسب سے فہرست کے مطابق نوٹیفکیشن کیا جاتا ہے لہٰذا الیکشن کمیشن سیاسی جماعتوں کی دی گئی فہرست بدل نہیں سکتا ہم نے الیکشن کمیشن کوکہا کہ اس پرنوٹیفکیشن جاری کریں الیکشن کمیشن نے کہا کہ 20 سیٹیں خالی ہوئی ہیں اس لیے پارٹیوں کی کل نشستیں بھی بدلی ہیں الیکشن کمیشن کا یہ مؤقف قانون کے مطابق نہیں

    ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ مخصوص نشستوں پرنوٹیفکیشن جنرل الیکشن کے بعد ہوتا ہے اب 20 نشستوں کی وجہ سے سیاسی جماعتوں کی پوزیشن بدل گئی ہے میرا تو خیال تھا کہ یہ لارجر بینچ کا معاملہ ہے عدالت نے پنجاب اسمبلی کی مخصوص نشستوں کا نوٹیفکیشن نہ کرنے کے خلاف درخواست منظور کرلی اور الیکشن کمیشن کو مخصوص نشستوں پرنوٹیفکیشن جاری کرنےکی ہدایت کردی

    عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد تحریک انصاف کے رہنما فیاض الحسن چوہان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے غیر آئینی اور غیر قانونی اسٹینڈ لیا ہو ا تھا،لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ پی ٹی آئی کےلیے تازہ ہوا کا پہلا جھونکا ہے،ہمارا مطالبہ ہے کہ اس ناجائز حکومت کے خلاف جو بھی کیسز ہیں، ہماری شنوائی کریں،ہم بھی شہری ہیں، آئین اور قانون کے مطابق ہمارا حق دیا جائے سندھ میں بھی آئین اور قانون کی دھجیاں اڑائی گئیں،

    عدلیہ اورججز پرانگلیاں اٹھانا، ججز پر الزامات لگانا بند کریں،جس پراعتراض ہے اس کا نام لیں،چیف جسٹس

    یہ معاملہ عدلیہ کی آزادی سے متعلق ہے،عدالت کا اٹارنی جنرل کو حکم

    عدلیہ کی غیر متعلقہ حدود میں مداخلت شرمندگی کا باعث بنتی ہے،سپریم کورٹ

    عدلیہ کے خلاف نازیبا اور توہین امیز ریمارکس،سینئر اینکر پرسن بارے عدالت کا بڑا حکم

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے اراکین نے وزیراعلیٰ کے انتخاب میں حمزہ شہباز کو ووٹ دیئے تھے جس کے بعد الیکشن کمیش نے منحرف اراکین کو ڈی سیٹ کر دیا تھا، اب خالی سیٹوں پر الیکشن کا اعلان ہو چکا ہے، مخصوص نشستوں کے حوالہ سے پی ٹی آئی نے درخؤاست دی ہے کہ نئی سیٹیں الاٹ کی جائیں

    پنجاب اسمبلی کی کی مخصوص نشستوں کے حوالے سے اور ان کا نوٹیفکیشن الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخابات تک روک دیا تھا، الیکشن کمیشن نے فریقین کے دلایل سننے کے بعد پی ٹی آئی کے 25 منحرف قانون سازی کی ڈی سیٹ ہونے کے بعد خالی ہونے والی خواتین اور اقلیتوں کی 5 مخصوص نشستوں پر نئے اراکین پنجاب اسمبلی کے نوٹی فکیشن سے متعلق فیصلہ سنایا تھا اور پی ٹی آئی کی درخؤاست کو مسترد کر دیا تھا جس کے بعد پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا

  • فیس بک پڑھ کر لڑنا شروع کردیں تو یہاں نظام ہی نہیں چل سکتا،عدالت

    فیس بک پڑھ کر لڑنا شروع کردیں تو یہاں نظام ہی نہیں چل سکتا،عدالت

    فیس بک پڑھ کر لڑنا شروع کردیں تو یہاں نظام ہی نہیں چل سکتا،عدالت

    عمران خان کی بریت کی حمایت کے الزام میں برطرف 2 پراسیکیوٹرز کی درخواست پر سماعت ہوئی
    اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا ، وکیل نے کہا کہ ہم سے کچھ ہائی پروفائل کیسز میں حمایت مانگی گئی، نہیں دی تو ہٹا دیا گیا،عدالت نے کہا کہ ایڈووکیٹ اور اٹارنی جنرل آفس کی تعیناتیاں اس طرح ہی ہوتی ہیں، یہ پولیٹکل آفس ہیں،جسٹس محسن اختر کیانی نے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ زبردستی کام کرنا چاہتے ہیں ؟ وکیل نے کہا کہ مس کنڈکٹ کا الزام لگا کر ہمیں ہٹا دیا گیا اس طرح تو ہمارا کیرئیر اسٹیک پر ہے،

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت چاہتی ہے کہ یہاں کوئی پراسیکیوشن برانچ نہ ہو تو کیا کہہ سکتے ہیں،کسی لیگل کونسل کا کوئی رائٹ نہیں ، تعیناتی اشتہار کے بغیر ہوئی، بغیر اشتہار تعیناتی ہوئی، اسی لیے تو بیڑا غرق ہوا ہے ، اے ٹی سی کی دو عدالتیں ہیں، 38 کیسز ہیں پچھلے دو سال میں انہوں نے کونسے فیصلے دیئے؟ نیب کیسز میں تو سمجھ آتی ہے اے ٹی سی میں کیسز کا فیصلہ کیوں نہیں ہو رہا؟

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں شرم آنی چاہیے، 2014 میں 14 وکلا شہید ہوئے آج تک کیس کا فیصلہ نہیں ہو سکا، ہائیکورٹ ، پراسیکیوٹر، اے ٹی سی ججز سب ان کیسز کے فیصلے نہ ہونے کے ذمہ دار ہیں ،ججز کو ڈر لگے تو ان کو گھر چلے جانا چاہیے،

    ناروال اسپورٹس کمپلیکس کیس،ریفرنس دائر ہونے کے بعد احسن اقبال نے کیا مطالبہ کر دیا؟

    احتساب عدالت نے احسن اقبال کی بریت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا

    وکیل نے کہا کہ بہت سے مقدمات میں ان کی دلچسپی ہے اس لیے ایڈووکیٹ جنرل اپنے بندے لا رہے ہیں ،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو ہٹانے کے لیٹر میں مس کنڈکٹ لکھا ہوتا تو آپ کا کیس اچھا بن سکتا تھا ،وکیل نے کہا کہ بار کی جانب سے ان کیسز کی بنیاد پر ہی ہمیں ٹارگٹ کیا گیا فیس بک پر کمپین چلائی جارہی ہے،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فیس بک، ٹویٹر ان سب کو پڑھیں تو کس کی عزت محفوظ ہے؟ فیس بک پڑھ کر لڑنا شروع کردیں تو یہاں نظام ہی نہیں چل سکتا،

  • جنرل قمرجاوید باجوہ سےملاقات کرکےخوشی ہوئی:شہزادہ خالدبن سلمان

    جنرل قمرجاوید باجوہ سےملاقات کرکےخوشی ہوئی:شہزادہ خالدبن سلمان

    ریاض :سعودی نائب وزیر دفاع شہزادہ خالدبن سلمان نے کہا ہے کہ پاکستانی فوج کےکمانڈر جنرل قمر جاوید باجوہ سےملاقات کر کے خوشی ہوئی۔

    ٹوئٹر پر جاری بیان میں شہزادہ خالدبن سلمان نے کہا کہ ملاقات میں دفاعی، عسکری شعبےمیں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔انہوں نے لکھا کہ ملاقات میں مملکت اور پاکستان کےتاریخی تعلقات باہمی دلچسپی کے امور پر بھی بات چیت کی گئی۔

     

    عرب نیوز کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور سعودی نائب وزیر دفاع شہزادہ خالدبن سلمان کی اتوار کو جدہ میں ملاقات ہوئی۔اس موقع پر سعودی نائب وزیر دفاع کے دفتر کے ڈائریکٹر ہشام بن عبدالعزیز السیف اور پاکستان میں تعینات سعودی آرمی اتاشی میجر جنرل عوض بن عبداللہ الزھرانی بھی موجود تھے۔

     

    عرب دنیا کی معیشت میں سعودی عرب کی پہلی اورمضبوط پوزیشن برقرار

    یاد رہے کہ آج سعودی عرب میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو "کنگ عبدالعزیزمیڈل آف ایکسیلینٹ کلاس” سے نواز دیا گیا۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سعودی عرب کے دورے کیلئے جدہ پہنچے جہاں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ان کا استقبال کیا۔

    سعودی ولی عہد شہزادہ نے آرمی چیف سے ملاقات کی جس کے دوران دو طرفہ تعلقات، خاص طور پر عسکری شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز، نائب

     

    https://twitter.com/Saudi_Gazette/status/1540885307507150848?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1540885307507150848%7Ctwgr%5E%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Furdu.dunyanews.tv%2Findex.php%2Fur%2FPakistan%2F657507 وزیر دفاع سمیت سعودی چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل فیاض الرویلی اور دونوں جانب کے کئی سینئر حکام نے شرکت کی۔

    ترکی اورسعودی عرب نے پُرانی تلخیوں کوبھلاتے ہوئےنئے دورکا آغازکردیا

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا اس موقع پر کہنا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کیساتھ تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ ملاقات میں دونوں ملکوں کے مابین مشترکہ مشقوں میں دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا جبکہ برادرانہ تعلقات کو مزید وسعت دینے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    پاکستان کومعاشی بحران سے نکالنےکےلیےسعودی عرب ایک بارپھرمیدان میں آگیا

  • سندھ میں  بلدیاتی الیکشن ،پیپلزپارٹی نے واضح برتری کے ساتھ میدان مار لیا

    سندھ میں بلدیاتی الیکشن ،پیپلزپارٹی نے واضح برتری کے ساتھ میدان مار لیا

    سندھ میں بلدیاتی الیکشن کا پہلا مرحلہ مین پولنگ کے بعد نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ 946 امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوگئے۔سندھ کے 14 اضلاع میں پہلے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات کے اب تک کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج میں پاکستان پیپلزپارٹی نے واضح برتری کے ساتھ میدان مار لیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پولنگ کا وقت صبح 8 بجے سے شام پانچ بجے تک جاری رہا تاہم کچھ حلقوں میں ووٹنگ کا عمل معطل ہونے کی وجہ سے الیکشن کمیشن نے پولنگ کا وقت 7 بجے تک بڑھا دیا تھا۔سندھ کے 14 اضلاع میں پہلے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات کے لیے پولنگ ہوئی، 5331 نشستوں پر 21298 امیدوار مدمقابل آئے جب کہ 946 نشستوں پر امیدوار پہلے ہی بلامقابلہ کامیاب ہوچکے ہیں۔

    اب تک کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق 14 ڈسٹرکٹ کونسلز کی نشستوں میں 7اضلاع میں پیپلزپارٹی واضح اکثریت کے ساتھ آگے ہے، پی پی مجموعی 2189 نشستوں کےساتھ پہلے نمبر پر جبکہ جمیعت علما اسلام 64 اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) نے 43 سیٹیں حاصل کیں جبکہ پی ٹی آئی 13 امیدوار کامیاب ہوئے۔

     

    سندھ میں بلدیاتی انتخابات :ہمارے امیدواروں کو ووٹ دیں:عمران خان، بلاول کی اپیل

     

    کشمورمین ٹاؤن کمیٹی گڈو کی وارڈ نمبر 7 کے مکمل غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ کے مطابق آزاد امیدوار محراب علی مزاری 37 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے، جماعت اسلامی کے امیدوار عبید اللہ 18 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔ٹاؤن کمیٹی گڈو کی وارڈ 8 کے مکمل غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ کے مطابق ایس یو پی کے امیدوار 50 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے، پیپلزپارٹی امیدوار زبیر احمد 49 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔کشمور ٹاؤن کے 11وارڈز میں سے 7 امیدوار پر پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار بنا مقابلہ کامیاب ہوگئے تھے۔۔

    کشمور ٹاؤن کے بقیہ 4 وارڈ ز پر بھی پی پی پی نے مکمل طور پر سوئیپ کرلیا۔۔گڈو ٹاؤن کے ایک وارڈ پر سندھ یونائیٹڈ پارٹی، جبکہ ایک وارڈ پر جماعت اسلامی، 2وارڈز پر آزاد امیدوار غیر حتمی غیر سرکاری نتائج پر کامیاب قرار پائے۔کشمورمیں بخشاپور ٹاؤن کے 3وارڈز پر تحریک انصاف کےرهنما میر غالب حسین ڈومکی کے بیٹے سالار خان ڈومکی ر غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے پرکامیاب قرار پائے۔ پاکستان تحریک انصاف کشمور کے ضلعی صدر حنیف خان ڈومکی بھی وارڈ نمبر3سے غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجے پر کامیاب قرار پائے.
    ٹنڈو جان محمد کے 8 وارڈ میں پپلزپارٹی کے امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہوچکے ہیں.وارڈ نمبر 7: پی پی پی امیدوار شہزاد احمد 297 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے،وارڈ نمبر 12 : پی پی پی پی کے امیدوار شہزاد حسین 505 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ آزاد امیدوار راجیش کمار 185 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پرہیں، وارڈ نمبر 10 سے پی پی پی امیدوار محمد اسماعیل 325 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ آزاد امیدوار اللھ رکھیو 87 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر۔وارڈ نمبر 3 سے آزاد امیدوار صداقت ذوالفقار علی آرائیں 575ووٹ لے کر کامیاب جبکہ پی پی پی امیدوار 551 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پرہیں.

    الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی زیدی

    خیرپورٹاؤن کمیٹی کوٹ ڈیجی کے وارڈ نمبر 8 کے مکمل غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ کے مطابق جی ڈی اے امیدوار میر ڈنل تالپور 954 وقار لیکر کامیاب ہوئے، پیپلز پارٹی کے امیدوار سید انوار علی شاہ 348 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔ میونسپل کمیٹی خیرپور کی وارڈ نمبر 15 کے مکمل غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ کے مطابق پیپلز پارٹی کے غلام حسین مغل 1304 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، آزاد امیدوار منصور اقبال شیخ 408 لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ میونسپل کمیٹی وارڈ 17 کے مکمل غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ کے مطابق پیپلزپارٹی کے امیدوار اصغر شیخ 1149 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے، آزاد امیدوار مجید شیخ 356 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

    شہداد کوٹ میونسپل کمیٹی کے وارڈ نمبر 3 کے مکمل غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ کے مطابق پیپلز پارٹی کے امیدوار طارق حسین بروہی 272 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے، آزاد امیدوار دلاور خان کھوسو 147 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

    پولنگ کے دوران مختلف علاقوں میں دنگے فساد کے واقعات بھی پیش آئے، نوشہرو فیروز کے علاقے بھریاسٹی میں ووٹرز کے درمیان تصادم ہوا، پولنگ کچھ دیر کیلئے روکی گئی جبکہ پولیس کی اضافی نفری کو طلب کیا گیا۔

    کندھ کوٹ میں جے یو آئی (ف) اور پیپلزپارٹی کے کارکنوں کے مابین لاٹھیاں چل گئیں، تصادم کا واقعہ میونسپل کمیٹی وارڈنمبر 10 میں پیش آیا جہاں لاٹھیاں لگنے سے 30 کارکن زخمی ہو گئے جبکہ متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچا، جھگڑے کی اطلاع پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور حالات پر قابو پا لیا، ٹھل کی یوسی 28 پر پیپلزپارٹی اور جے یو آئی ف کے کارکنان میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا، سات افراد زخمی اور تین گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔

  • لوٹوں کو اپنے حلقوں میں شکست دینا ہوگی، عمران خان

    لوٹوں کو اپنے حلقوں میں شکست دینا ہوگی، عمران خان

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ لاہور میں پولیس سے لوگوں کو ڈرایا جارہاہے ،غنڈہ گردی کی جارہی ہے،لوٹے ضمیر بیچ کر حلقے کے عوام کی توہین کرتے ہیں،تحریک انصاف کے مارچ کے دوران ہمارے کارکنوں پر تشدد کیاگیا،لوٹے اپنے حلقوں میں کامیاب نہیں ہوں گے.

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے پی پی168 میں ورکرزکنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں کو لوٹوں کو اپنے حلقوں میں شکست دینا ہوگی. یہ اپنے حلقوں میں کامیاب نہیں ہوں گے.ایک آواز میں جواب دیں لوٹے کو ہرانے کے لئے تیار ہیں،عوام کسی صورت لوٹوں کو کامیاب نہ ہونے دے، لوٹے ضمیر بیچ کر حلقے کے عوام کی توہین کرتے ہیں، اب عوام نے بدلا لینا ہے اور ان لوٹوں کو شکست دینی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ حمزہ شریف مجرم اس کا باپ مجرم ہے، غنڈہ گردی کی جارہی ہے، ملک نواز اعوان میں آپ کے ساتھ کھڑا ہوں، ملزم حمزہ اور اس کے والد چیری بلاسم شہباز شریف کو شکست دینی ہے۔،یہ بیرونی سازش کے ذریعے آئے ہیں،عمران خان نے کارکنوں سے کہا کہ آپ نے ہر گھر میں پیغام پہنچانا ہے.

    عمران خان نے کہا کہ یہ لوگ ہمارے آئین کو توڑ کر بیرونی سازش کر کے آئے ہیں یہ امپوٹیڈ حکومت ہے جو ہمیں نا منظور ہے،.ہم نے تحریک انصاف کے امیدواروں کو جتوانا ہے اور ان لوٹوں کو شکست دینے ہے.یہ الیکشن ضمنی الیکشن نہیں پنجاب کا الیکشن اور پاکستان کا الیکشن ہے، ساری عوام آج ان لوگوں کے خلاف ہے،آئی جی راو سردار میں نے آپ کو لگوایا تھا کیونکہ آپ ایماندار ہین مجھے پتا ہے کہ آپ پر دباو ہے لوگ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں آپ نے قانون کے مطابق چلنا ہے ،الیکشن کمیشن آج سارا پاکستان ضمنی الیکشن دیکھ رہا ہے یہ ضمنی الیکشن فیصلہ کریگا کہ آپ پر اعتماد کیا جاسکتا ہے یا نہیں.

    چیئرمین تحریک انصاف نی کہا کہ اپمائر ان کے ساتھ ہے ہمیں پتا ہے کون کون ان کے ساتھ ہے یہ پیسہ بھی چلارہے ہین مگر آپ نے انہیں شکست دینی ہے،نوجوانون نے ہر پولنگ استیشن کو سنبھالنا ہے،امپائروں کے باوجود ہم نے ڈاکووں کو ہرانا ہے.آٹا مہنگا کر دیا ہر چیز کی قیمت بڑھ گئی ہے جو بھی آیی ایم ایف کہے گی یہ مانیں گے.ان کو شکست دیں گے اور ہمیشہ کیلئے ان کو ملک سے فارغ کریں گے.

    سابق وزیراعظم عمران خان کے خطاب کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ورکرز کنونشن میں بد نظمی کا مظاہرہ کیا گیا.اہور میں ہونے والے تحریک انصاف کے پی پی 168 کے ورکرز کنونشن میں بد نظمی کا واقعہ پیش آیا، جہاں رش کے باعث ہال کے دروازے کا شیشہ ٹوٹ گیا جبکہ عمران خان کی روانگی کے وقت بھی کارکنان کا رش نظر آیا جبکہ اس دوران دھکم پیل بھی ہوتی رہی۔

    ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن پر کسی کو اعتبار نہیں رہا، الیکشن فیصلہ کرے گا کہ قوم الیکشن کمیشن پر اعتبار کر سکتی ہے یا نہیں، امپائر ان کے ساتھ ہیں، ہمیں پتہ ہے ان کے ساتھ کون کون ہے، پیسا بھی چل رہا ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ 2 ماہ میں اس حکومت نے اتنی مہنگائی کردی جتنی 3 سال میں نہیں ہوئی، حکومت نے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس بڑھا دیا ہے، ہمیں پتہ ہے جو آئی ایم ایف کہے گا یہ حکومت کرے گی۔

  • پاکستان کی سلامتی اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے،شہباز شریف

    پاکستان کی سلامتی اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے،شہباز شریف

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت امن وامان سے متعلق لاہور میں اہم اجلاس منعقد ہوا.
    وزیراعظم کو ملک میں امن و امان کی تازہ ترین صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا گیا،اجلاس میں صوبہ پنجاب میں امن و امان کی صورتحال بھی زیر غور آئی.

    ماڈل ٹاون لاہور میں اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے ملک بھر میں عوام کے جان ومال کا تحفظ یقینی بنانے کی ہدایت کی جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے سٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا.

    وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کا تحفظ یقینی بنائیں، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بارے میں عوام کی رائے صرف کارکردگی دکھانے سے ہی بدل سکتی ہے. وزیراعظم کو اجلاس کے دوران دہشتگردی کے خاتمے اور اس ضمن میں لاحق خطرات کے حوالے سے بریفنگ دی گئی.

    دہشت گردوں کی مالی معاونت کے سدباب کے اقدامات اور قوانین پر عمل درآمد کا بھی جائزہ لیا گیا. وزیراعظم شہباز شریف نے فاٹف شرائط کی تکمیل کے حوالے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو سراہا

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پوری قوم ایک بیانیے پر متفق ہے اور اپنی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ ہے، دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی، پاکستان کی سلامتی اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے.

    وزیراعظم نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان میں صوبوں کے کردار کو پھر سے بحال کیاجائے گا جو گزشتہ چار سال میں موجود نہیں تھا ، گزشتہ چار سال میں نیشنل ایکشن پلان میں صوبوں کا کردار نظر انداز کرنے سے دہشت گردی میں اضافہ ہوا انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کی بحالی اور ترقی کے لئے امن وامان کا یقینی ہونا ایک بنیادی تقاضا ہے.