Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پاکستان جرمنی سے اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہےآرمی چیف

    پاکستان جرمنی سے اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہےآرمی چیف

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان جرمنی سے اپنے تعلقات کو نہایت اہمیت دیتا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر ) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے سبکدوش ہونے والے جرمن سفیر نے الوداعی ملاقات کی جس میں خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال اور دو طرفہ تعاون سے متعلق امور پر بات چیت کی گئی۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ملاقات میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان جرمنی سے اپنے تعلقات کو نہایت اہمیت دیتا ہے۔پاک فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سبکدوش ہونے والے جرمن سفیر مسٹر برنارڈ سٹیفن کی خدمات کو سراہا۔

  • قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال کا بجٹ اور مالیاتی بل منظور کرلیا

    قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال کا بجٹ اور مالیاتی بل منظور کرلیا

    قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ اور مالیاتی بل کی کثرت رائے سے منظوری دے دی۔اسپیکر راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں وفاقی بجٹ کی کثرت رائے سے منظوری دی گئی۔

    قومی اسمبلی نے مالیاتی بل 23-2022 بھی ترامیم کے ساتھ مرحلہ وار منظورکیا جبکہ پیٹرولیم لیوی میں مرحلہ وار 50 روپے اضافےکی منظوری،قومی اسمبلی نے پیٹرولیم لیوی میں مرحلہ وار 50 روپے اضافےکی منظوری دے دی۔

    وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا کا کہنا تھا کہ ہم ایسے ٹیکس لائے ہیں جو صاحب ثروت لوگوں پر لگیں گے، ہم نے یہ اس لیےکیا کہ عام آدمی پر بوجھ نہ پڑے، ہم نےجوتبدیلیاں کیں وہ پچھلی حکومت نےآئی ایم ایف سےطےکی تھیں، ہم صرف اپنے وعدوں کی پاسداری کر رہے ہیں۔

    تنخواہ دار طبقے کیلئے نئی ٹیکس شرح کی ترامیم بھی منظورکر لی گئی. آئندہ مالی سال 23-2022 کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر ریلیف ختم کردیا گیا۔نئی ترامیم کے تحت ماہانہ 50 ہزار روپے تک تنخواہ لینے والوں پر کوئی ٹیکس عائد نہیں کیا جائےگا، ماہانہ 50 ہزار روپے سے ایک لاکھ تک تنخواہ لینے والوں سے 2.5 فیصدکی شرح سے ٹیکس عائد ہوگا۔ ماہانہ ایک سے 2 لاکھ روپے تنخواہ والوں پر 15 ہزار روپےفکس ٹیکس سالانہ جبکہ ایک لاکھ روپے سے اضافی رقم پر 12.5 فیصدکی شرح سے ماہانہ ٹیکس عائد ہوگا۔

    ماہانہ 2 سے 3لاکھ روپے تنخواہ والوں پر ایک لاکھ 65 ہزار سالانہ جب کہ 2 لاکھ روپے سےاضافی رقم پر 20 فیصد ماہانہ ٹیکس عائد ہوگا، ماہانہ 3 سے 5 لاکھ روپے تنخواہ لینے والوں پر 4 لاکھ 5 ہزار روپے سالانہ جب کہ 3 لاکھ روپے سے اضافی رقم پر 25 فیصد ماہانہ ٹیکس عائد ہوگا۔ ماہانہ 5 سے 10لاکھ روپے تنخواہ والوں پر10 لاکھ روپے سالانہ اور 5 لاکھ روپے سے اضافی رقم پر 32.5 فیصد کی شرح سے ٹیکس عائد ہوگا، ماہانہ 10 لاکھ روپے سے زائد کی ماہانہ تنخواہ لینے والوں پر 29 لاکھ روپےسالانہ جب کہ 10 لاکھ روپے سے اضافی رقم پر 35 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔

    آئندہ مالی سال کے فنانس بل میں درآمدی موبائل فونز مزید مہنگےکردیےگئے۔ آئندہ مالی سال کے فنانس بل میں موبائل فونز کی درآمد پر 100 روپے سے 16 ہزار روپے تک لیوی عائد کی گئی ہے۔ فنانس بل کےمطابق بجٹ میں 30 ڈالر کے موبائل فونز پر 100 روپے اور 100 ڈالر تک مالیت کے موبائل فونز پر 200 روپے لیوی عائد کی گئی ہے۔

    فنانس بل کے مطابق 200 ڈالر کے درآمدی موبائل فونز پر 600 روپے، 350 ڈالر مالیت کے موبائل فونز پر 1800 روپے، 500 ڈالر کے موبائل فونز پر 4 ہزار روپے، 700 ڈالر مالیت کے موبائل فونز پر 8 ہزار روپے اور 701 ڈالر مالیت کے موبائل فونز پر 16 ہزار روپے لیوی عائد کی گئی ہے۔

    قومی اسمبلی کےاجلاس میں ملک بھر میں 13 شعبہ جات کی 30 کروڑ سے زائد آمدن پر 10 سپر ٹیکس عائد کرنے کی منظوری دی گئی۔ائیرلائنز، آٹوموبائل سیکٹر، مشروبات اورسیمنٹ سیکٹر، کیمیکل اور سگریٹ سیکٹر، فرٹیلائزر اور اسٹیل سیکٹر، ایل این جی ٹرمینل اور آئل مارکیٹنگ سیکٹر، آئل ریفائننگ اور فارماسوٹیکل سیکٹر کی 30 کروڑ سے زائد آمدن پر 10 فیصد سپر ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ شوگر اور ٹیکسٹائل پر 10فیصد سپر ٹیکس جب کہ بینکنگ سیکٹر پر مالی سال 2023 میں 10 فیصد سپر ٹیکس عائد کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

    ملک میں تمام اداروں اور افراد جن کی آمدن 15 کروڑ روپے سے زائد ہے اس پر بھی سپر ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ سالانہ 15 کروڑ روپے سے زائد آمدن پر ایک فیصد، 20 کروڑ سے زائد آمدن پر 2 فیصد، 25 کروڑ سے زائد آمدن پر 3 فیصد اور سالانہ 30 کروڑ روپے سے زائد آمدن پر 4 فیصد سپرٹیکس عائد کیا گیا ہے۔

    قبل ازیں قومی اسمبلی نے پیٹرولیم لیوی کی قیمت میں مرحلہ وار 50 روپے اضافےکی منظوری دے دی۔ اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں فنانس بل 2022- 23 کی منظوری کی تحریک پیش کی گئی، جسے ایوان نے منظورکرلیا۔

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف قرارداد اسمبلی میں جمع

    وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے ایوان سے آئندہ مالی سال میں مرحلہ وار پیٹرولیم لیوی ٹیکس میں 50 روپے اضافے کی منظوری مانگی جس پر ایوان نے پیٹرولیم مصنوعات پر 50 روپے فی لیٹر لیوی عائدکرنےکی ترمیم منظورکرلی۔

    عائشہ غوث پاشا کا کہنا تھا کہ ہم ایسے ٹیکس لائے ہیں جو صاحب ثروت لوگوں پر لگیں گے، حکومت کے اس اقدام کا مقصد عام آدمی پرٹیکس کا بوجھ نہ ڈالنا ہے، وزیر مملکت برائے خزانہ نے یوان کو بتایا کہ حکومت نےجوتبدیلیاں کیں وہ سابق عمران حکومت نےآئی ایم ایف سےطےکی تھیں، ہم صرف اپنے وعدوں کی پاسداری کر رہے ہیں۔

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ اس وقت پیٹرولیم مصنوعات پرلیوی صفر ہے، پچاس روپے فی لیٹر لیوی یکمشت عائد نہیں کی جائےگی، پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی لگانےکا اختیار قومی اسمبلی نے حکومت کو دے رکھا ہے۔

    علاوہ ازیں عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے دباؤ کے باعث یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں مزید 10 روپے اضافے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کا ایم ای ایف پی، معاشی نظم و ضبط ضروری ہے، یکم جولائی سے مزید معاشی مشکلات ہوسکتی ہیں، یکم جولائی سے مزید سخت فیصلے کرنا ہوں گے، میمورینڈم آف اکنامکس اینڈ فنانشنل پالیسیز معاشی نظم و ضبط لازم قرار دیا گیا ہے۔

     

     

    دنیا کے تین چوتھائی سے زیادہ ممالک میں پیٹرول کی قیمت پاکستان کی نسبت زیادہ

     

     

    ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ایم ای ایف پی پر بات چیت جاری ہے، یکم جولائی سے پٹرول پر5 فیصد سیلز ٹیکس جبکہ 10 روپے لیوی عائد ہو سکتی ہے۔

    ذرائع کے مطابق یکم جولائی سے بجلی مزید مہنگی ہوسکتی ہے، توانائی کے نقصانات کم کرنے کا سخت ہدف ملا ہے، سرکاری اداروں میں نقصانات کم کرنے کا سخت ہدف بھی ملا ہے، ٹیکس مراعات اور چھوٹ مزید کم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ دوسری طرف عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی جانب سے پاکستان کیلئے دو ارب ڈالر کی دو قسطیں جاری کرنے کی توقع ہے۔آئی ایم ایف کے رواں ہفتے پاکستان کے ساتھ اسٹاف سطح کا معاہدہ طے پانے کی توقع ہے۔

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ٹویٹ میں بتایا کہ ساتویں اور آٹھویں اقتصادی جائزہ کے لیے پاکستان کو آئی ایم ایف سے میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فسکل پالیسی فریم پروگرام کی کاپی موصول ہوگئی ہے۔

  • سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا ہم اس فیصلے کو کیسے نظر انداز کردیں،لاہور ہائیکورٹ

    سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا ہم اس فیصلے کو کیسے نظر انداز کردیں،لاہور ہائیکورٹ

    لاہور ہائی کورٹ میں وزیراعلی حمزہ شہباز کے الیکشن اور حلف کے خلاف تحریک انصاف اور پرویز الٰہی کی اپیلوں پر سماعت ہوئی

    لاہور ہائیکورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی، جسٹس صداقت علی خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ
    صدر پاکستان کے وکیل احمد اویس صاحب آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں ۔کیا آپ صدر سے متعلق آبزرویشنز بارے کچھ کہنا چاہتے ہیں ۔ احمد اویس وکیل صدر پاکستان نے کہاکہ ان ریمارکس کو کالعدم قرار دینا چاہیے ، عدالت نے احمد اویس ایڈوکیٹ سے استفسار کیا کہ کیا گورنر اور صدر کے متعلق فیصلے میں ریمارکس پر کچھ کہنا چاہیں گے؟ جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فرض کریں حلف کا نوٹیفکیشن بھی اڑا دیتے ہیں؟ پھر ریمارکس کی حد تک معاملہ باقی رہ جائے گا؟ احمد اویس ایڈوکیٹ نے کہا کہ میری گزارش یہی ہے کہ گورنر اور صدر سے متعلق ریمارکس کو کالعدم کرنا پڑے گا، جسٹس صداقت علی خان نے استفسار کیا کہ کیا وجوہات ہیں جن کی بناء پر ان ریمارکس کو کالعدم کیا جائے؟ جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہنا یہ چاہ رہے ہیں کہ گورنر اور صدر مملکت کو سنا ہی نہیں گیا اس لئے ان ریمارکس کو کالعدم کیا جائے؟ فاضل بنچ کے ریمارکس پر کمرہ عدالت میں قہقہے گونج اٹھے

    جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ احمد اویس صاحب! آپ نے عدالت کی معاونت کرنی ہے عدالت نے آپ کی معاونت نہیں کرنی، جسٹس صداقت علی خان نے کہا کہ احمد اویس ایڈووکیٹ صاحب! آپ کو دوبارہ 5 منٹ میں سنتے ہیں، وکیل تحریک انصاف علی ظفر نے کہا کہ عدالت کے سامنے تین طرح کی پٹیشنز ہیں ۔ ایک الیکشن سے متعلق ، ایک حلف سے متعلق اور غیر قانونی اقدامات سے متعلق کیس ہے۔ عدالت نے کہا کہ حمزہ شہباز کے وکیل ہمارے چند سوالوں کے جواب دیں ۔اب تو پورے پاکستان کو پتا چل گیا ہے کہ ہم یہ سوچ کر بیٹھے ہیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا ماضی سے اطلاق ہو گا ہم حمزہ کے وکیل سے یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ اسکا اطلاق ماضی سے کیسے نہیں ہوتا.

    جسٹس شاہد جمیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈی سیٹ ہونے والے اراکین کا ریفرنس بھیج دیا گیا سپریم کورٹ میں معاملہ زیر سماعت تھا وزیر اعلیٰ کا الیکشن ہوا سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا ہم اس فیصلے کو کیسے نظر انداز کردیں ،یہ فیصلہ ماضی پر اطلاق کرتا ہے آپ اس پوائنٹ پر معاونت کریں. وکیل حمزہ شہباز نے کہا کہ میں نے اپنے تحریری دلائل میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کے حوالے دیے ہیں سپریم کورٹ کے فیصلے مستقبل کے کیسز پرلاگو ہوئے ، جسٹس شاہد جمیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ سپریم کورٹ میں جاکر اس فیصلے پر نظر ثانی کروائیں سپریم کورٹ کی تشریح موجودہ حالات میں لاگو ہو گی ۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ فیصلے کا اطلاق ماضی سے ہو گا تو ہم فوری احکامات جاری کریں گے ۔ مخصوص نشستوں کا نوٹیفیکیشن جاری ہوتا ہے یا نہیں یہ معاملہ ہمارے سامنے نہیں ۔ہم الیکشن کو دیکھ رہے ہیں اور سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کو دیکھ رہے ہیں۔ وکیل حمزہ شہباز نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ حمزہ شہباز کا بطور وزیراعلیٰ انتخاب چیلنج ہی نہیں ہوا ،حمزہ شہباز کے وکیل نے دلائل مکمل کرلیے

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    حمزہ شہباز شریف نے بطور وزیراعلی پنجاب اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا

    آئین شکنوں کو گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے ڈال دینا چاہئے،مریم نواز

    حلف اٹھانے کے بعد حمزہ شہباز کا عمران خان کے سابق قریبی دوست سے رابطہ

    تحریک انصاف کے وکیل بیرسٹر علی ظفر روسٹرم پر آگئے، عدالت نے علی ظفرسے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ بھی اس پر اپنی رائے دیں علی ظفر نے کہا کہ 63اے کی تشریح آئی کہ پارٹی کے خلاف ووٹ دینے والے کا ووٹ شمار نہیں ہو گا،عدالت نے کہا کہ ق لیگ نے بھی اس کا جواب دینا ہے کہ انتخاب کو تاخیر سے کیوں چیلنج کیا گیا ہم نے اس کو آرٹیکل 187 کی روشنی میں دیکھنا ہے،

    وزیراعلیٰ پنجاب حلف برداری کے فیصلے اور گورنر اختیارات سے متعلق کیس کی سماعت مکمل ہو گئی،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم فیصلہ دیں کہ وزیر اعلیٰ کا انتخاب کالعدم اور نیا انتخاب کروائیں، اگر ہم ایسا کریں گے تو سپریم کورٹ فیصلے کو کالعدم کریں گے، سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ نہیں دیا کہ منحرف اراکین ووٹ ڈالنے پر انتخاب کالعدم قرار دیا جائے آپ سپریم کورٹ کی تشریح کو پڑھ سکتے ہیں، حکم یہ ہے کہ منحرف اراکین کے ووٹ شمار نہ کیے جائیں،

  • توشہ خانہ: عمران کی طرف سے 154 ملین  مالیت کی گھڑیاں فروخت کرنے کا انکشاف

    توشہ خانہ: عمران کی طرف سے 154 ملین مالیت کی گھڑیاں فروخت کرنے کا انکشاف

    سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اسلام آباد کے ایک مقامی گھڑی ڈیلر کوتوشہ خانہ سے تین گھڑیاں فروخت کیں تھی جن کی مجموعی مالیت 154 ملین روپے سے زائد بنتی ہے۔

    معروف صحافی انصار عباسی کے بیٹے اور دی نیوز کے صحافی قاسم عباسی نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ: ایک سرکاری انکوائری کے مطابق عمران خان نے تین نایاب کلاس گھڑیوں کو بیچ کر ان سے لاکھوں کمائے جو انہیں غیر ملکی معززین نے تحفے میں دی تھیں۔

    دی نیوز اور جنگ میں شائع خبر میں وضاحت کی گئی ہے کہ: یہ تینوں گھڑیاں ان کے علاوہ ہیں جو پہلے میڈیا میں رپورٹ ہوئی تھیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مہنگی ترین گھڑی، جس کی مالیت 101 ملین روپے سے زائد ہے، اس وقت کے وزیر اعظم نے اس کی قیمت کے 20 فیصد پر برقرار رکھی جب ان کی حکومت نے توشہ خانہ کے قوانین میں ترمیم کی تھی اور توشہ خانہ تحفہ برقرار رکھنے کی قیمت کو اس کی اصل قیمت کے 50 فیصد پر طے کیا تھا۔

    دستیاب دستاویزات اور فروخت کی رسیدیں ظاہر کرتی ہیں کہ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ توشہ خانہ سے تحفے میں دی گئی نایاب گھڑیاں اپنے وسائل سے خریدنے کے بجائے خان نے پہلے وہ تین گھڑیاں فروخت کیں اور پھر ہر ایک کا 20 فیصد سرکاری خزانے میں جمع کرایا۔ بظاہر یہ تحائف توشہ خانہ میں کبھی جمع نہیں ہوئے جیساکہ کسی بھی سرکاری عہدیدار کو ملنے والے تحائف کی فوری اطلاع دی جانی چاہئے تاکہ اس کی قیمت کا اندازہ لگایا جائے جس کے بعد وصول کنندہ مخصوص رقم جمع کراتا ہے اگر وہ اسے رکھنا چاہتا ہے۔

    دی نیوز کے مطابق انکے پاس دستیاب توشہ خانہ دستاویزات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان تینوں مہنگے تحائف کی فروخت سے مجموعی طور پر خان نے 36 ملین روپے کمائے۔

    مشرق وسطیٰ کے اعلیٰ معزز کی جانب سے تحفے میں دی گئی گھڑی کی فروخت سے حقیقی منافع کمایا گیا۔ یہ ایک انتہائی مہنگی گھڑی تھی جس کی سرکاری طور پر قیمت 101 ملین روپے بتائی گئی۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ سابق وزیراعظم نے اسے تقریباً آدھی قیمت پر 51 ملین روپے میں فروخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔
    خان نے قیمت کے 20 فیصد کے طور پر 20 ملین روپے سرکاری خزانے میں جمع کرائے، اس طرح صرف اس ایک گھڑی کی فروخت سے مجموعی طور پر 31 ملین کا منافع ہوا۔

    اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ گھڑی اس کی اصل قیمت سے آدھی قیمت پر فروخت ہوئی۔
    یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ گھڑی 22 جنوری 2019 کو فروخت ہوئی تھی جس کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی اس وقت کی حکومت نے توشہ خانہ کے قوانین میں ترمیم کی اور کسی بھی تحفے کی قیمت کو اس کی تخمینہ شدہ قیمت کے 20 فیصد سے 50 فیصد پر برقرار رکھا۔

    خلیجی جزیرے کے شاہی خاندان کے فرد کی جانب سے تحفے میں دی گئی رولیکس پلاٹینم گھڑی عمران خان نے 52 لاکھ روپے میں فروخت کی۔

    توشہ خانہ کے قواعد کے مطابق اس مہنگے تحفے کا تخمینہ سرکاری جائزہ کاروں نے 38 لاکھ روپے میں لگایا۔ عمران خان نے 7 لاکھ 54 ہزار روپے مالیت کا 20 فیصد سرکاری خزانے میں جمع کرایا، اس طرح اس گھڑی کو بیچ کر تقریباً 45 لاکھ روپے کا منافع کمایا۔

    یہ گھڑی انہیں تحفے میں دیے جانے کے دو ماہ بعد نومبر 2018 میں فروخت ہوئی تھی۔

    اسی خلیجی جزیرے کے ایک معزز شخص کی جانب سے تحفے میں دی گئی ایک اور رولیکس واچ سابق وزیراعظم نے 18 لاکھ روپے میں فروخت کی۔ اس گھڑی کی سرکاری قیمت 15 لاکھ روپے بتائی گئی۔ سابق وزیراعظم نے 2 لاکھ 94 ہزار روپے ادا کیے، اس طرح اس ڈیل سے مزید 15 لاکھ روپے کا فائدہ ہوا۔

    یہ تمام تحائف جناح مارکیٹ F-7 اسلام آباد میں ایک مہنگی گھڑی کے ڈیلر کو فروخت کیے گئے۔ ریکارڈ میں ان لگژری تین گھڑیوں کی تصاویر کے ساتھ فروخت کی رسیدیں بھی موجود ہیں۔

    یاد رہے کہ خبرنگار کی جانب سے فواد چوہدری اور شہباز گل سے اس معاملے پر ان کا موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا تھالیکن کالز اور میسجز کے باوجود کسی نے کوئی جواب نہیں دیا۔

    تاہم توشہ خانہ تنازع پر ردعمل دیتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ یہ ان کے تحفے ہیں، اس لیے یہ ان کی مرضی ہے کہ انہیں رکھنا ہے یا نہیں۔

    چیئرمین پی ٹی آئی نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران کہا کہ میرا تحفہ، میری مرضی۔

    یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان نے اپنے دور حکومت میں دبئی میں 140 ملین روپے کے توشہ خانہ کے تحفے فروخت کئے۔

  • نیا پاکستان،پرانی کرپشن۔۔|| بشریٰ بی بی اور خاور مانیکا نےملک کیسے لوٹا۔خوفناک حقائق

    نیا پاکستان،پرانی کرپشن۔۔|| بشریٰ بی بی اور خاور مانیکا نےملک کیسے لوٹا۔خوفناک حقائق

    لاہور:سابق خاتون اول بشرہ بی بی، ان کے سابق خاوند خاور مانیکا، اس کے بچے، اس کے بھائی اس کے رشتہ دارکیسے ریاست کو لوٹتے رہے۔ اس حوالے سے سنیئرصحافی مبشرلقمان نے اپنے یوٹیوب چینل پرانکشافات کرکے بہت سی چیزیں صارفین کے سامنےرکھ دی ہیں‌، وہ کہتے ہیں کس سے کتنی رقم لی، کس کی کتنی زمین پر قبضہ کیا، کس سے کتنے تحائف لیے، کہاں کہاں زمین خریدی اور کہاں کہاں انویسٹمنٹ کی۔ ایک ایک چیز آپ کے سامنے رکھوں گا اور یہ کہانی کروڑوں کے نہیں بلکے اربوں کے ہیں، پانچ قیراط کی انگوٹی صرف والدہ نے نہیں لی بلکہ سوا ارب روپے کی کک بیکس صرف بیٹے نے اسی پارٹی سے وصول کی۔

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ میاں خاور مانیکا ولد میاں غلام فرید مانیکا کا تعلق ضلع پاکپتن کے معروف مانیکا وٹو خاندان سے ہے۔ ان کے دادا خان بہادر نور خان ایک زمیندار تھے اور تقریباً 3700 ایکڑ زرعی زمین کے مالک تھے۔خاور مانیکا کے والد میاں غلام فرید مانیکا بھی ضلع پاکپتن کے معروف زمیندار تھے۔ خاور مانیکا کو تقریباً400 ایکڑ زرعی زمین اپنے والد سے وراثت میں ملی۔ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انھوں نے سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا اور پاکستان کسٹم کو 1983میں جوائن کیا اور 2018 میں ریٹائر ہوئے۔

     

    سنیئرصحافی نے اس حوالے سے مزید انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی طور پر اس کی شادی اپنے چچا مظہر فرید مانیکا کی بیٹی محترمہ روبینہ سے ہوئی جو دیپالپور ،ضلع اوکاڑہ کی رہائشی تھی۔ یہ شادی زیادہ عرصہ نہ چل سکی اورپھربشریٰ بی بی سے دوسری شادی کر لی جس سے ان کے دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔ آخر میں بشریٰ بی بی کو طلاق دینے کے بعد، اس نے دس اگست 2018 کو اپنی بیٹی کی دوست سمیرا جاوید، آغا جاوید اختر کی بیٹی کے ساتھ تیسری شادی کی، جس سے خاورمانیکا کی صرف ایک بیٹی ہے۔ نکاح کا سرٹیفکیٹ آپ سکرین پر دیکھ سکتے ہیں۔خاور مانیکا پر الزام ہے کہ وہ ایک روائیتی بدعنوان بیو روکریٹ کی عظیم مثال ہیں جو فرنٹ مین کے ایک باضابطہ نیٹ ورک کے ذریعے منظم بدعنوانی میں ماسٹر بن گئے۔ اس کے کچھ فرنٹ مینوں اور سماجی روابط کی تفصیلات میں آگے چل کر بتاوں گا جسے سن کر اپ کے اوسان خطا ہو جائین گے۔۔ بدعنوانی کی کچھ جھلکیاں میں آپ کو دیکھا دیتا ہون۔۔ خاور مانیکا نے اپنے ایک فرنٹ مین کے ذریعے چک بیدی،ڈسٹرکٹ عارف والا میں مرحوم چوہدری عبدالغفور جن کی وفات 2017 میں ہوئی کی چھوڑی ہوئی تقریباً چار سو ایکڑ زرعی زمین پر قبضہ کر لیا۔ خاور مانیکا نے روبینہ نامی خاتون جو خاور مانیکا کے فرنٹ مین محمد رفیق کی بہن ہےکا جعلی شناختی کارڈ تیار کرکے اور اس کا نام عائشہ رکھ کر مذکورہ زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کی اور تو اور جعلی شادی کا سرٹیفکیٹ بھی تیار کیا گیا جس میں اسے مرنے والے کی بیوی ظاہر کیا گیا ۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ جعلی نکاہ نامہ اور شناختی کارڈ کی کاپی آپ اپنی سکرین پر دیکھ سکتے ہیں۔تاہم، جانچ پڑتال کے بعد مذکورہ گاؤں میں شادی کا کوئی ریکارڈ نہ ملا۔خاور مانیکا اور اس کے بیٹے ابراہیم مانیکانے اپنے مقامی فرنٹ مین محمد رفیق کے ساتھ مل کر موضع میر خان میں 45 ایکڑ اراضی دھوکہ دہی سے مقتول کی جعلی بیوہ پیش کر کے ہتھیا لی۔کیونکہ مقتول مقبول کا کوئی قانونی وارث نہیں تھا۔ اور یہ کارنامہ سر انجام دینے کے عوض خاور ما نیکا نے اپنے فرنٹ مین رفیق عرفPhikki کو 12 ایکڑ زمین تحفے میں دی۔خاور مانیکا اور ابراہیم مانیکا جوبشریٰ بی بی کا بیٹاہے، نے خاتون اول کی صورت میں حاصل ہونے والی شہرت کا استعمال کرتے ہوئے اور خاتون اول کی مبینہ حمایت کا استعمال کرتے ہوئے تقریباً دس لاکھ روپے روزانہ کی بنیاد پروزیر اعلی، آئی جی، اور چیف سیکرٹری آفس کے ذریعے سرکاری افسران کے تبادلوں، پوسٹنگ کا انتظام کر کے کماتے رہے ، یعنی تین کروڑ روپے ماہانہ۔ لیکن یہ تو مونگ پھلی کا ایک دانہ ہے ، آپ آگے تفصیل سنیں گے تو آپ کے ہوش اڑ جائیں گے کہ یہ تو ڈرائی فروٹ کے پورے پورے ٹوکرے ہضم کر گئے اور ڈکار بھی نہیں ماری۔ آپ سنتے جائیں اور شرماتے جائیں۔

     

    https://youtu.be/3FLEnsydJ_4

    ٹرانسفر پوسٹنگ کی رقم کی دھوکہ دہی مسٹر سرفراز کے ذریعے کی جاتی تھی جو لاہور میں خاور مانیکا کے اہم فرنٹ مین ہیں اور اہم کام انجام دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ، خاور مانیکا کے لاہور میں کئی ججوں کے ساتھ بھی خوشگوار تعلقات اور قریبی روابط ہیں۔سروس کے دوران، خاور مانیکا نے گاؤں موضع 22/K میں 135 ایکڑ زرعی زمین خریدی اور اسے بشریٰ بی بی خاتون اول کے نام کر دیا۔ ان کی طلاق کے بعد، مسٹر مانیکا اب بھی اپنے فرنٹ مین عامر نامی شخص کے ذریعے زمین کا سالانہ ٹھیکہ وصول کر رہے ہیں۔ یہ حقیقت محترمہ بشریٰ بی بی کے ساتھ ان کے مسلسل مالی روابط کی تصدیق کرتی ہے۔ اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عمران خان نے اپنی بیوی کے اثاثے اپنے گوشوارون میں ظاہر کیئے ہیں اور اگر نہیں کیئے تو یہ کتنا بڑا جرم ہے۔ کیونکہ اس ملک میں اکاموں پر نا اہل کرنے کی روائیت تو پہلے ہی پڑ چکی ہے۔

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ بھائی احمد مجتبی کے کارناموں پر ایک نظر :احمد مجتبیٰ ولد سردار ریاض خان (مرحوم) کا تعلق ضلع اوکاڑہ کے معروف وٹو خاندان سے ہے۔ وہ خاتون اول بشریٰ بی بی کے بھائی ہیں۔ ان کے والد، سردار ریاض خان ضلع اوکاڑہ کے معروف زمیندار تھے۔احمد مجتبیٰ کو تقریباً 60 ایکڑ زرعی زمین اپنے والد سے وراثت میں ملی تھی۔ ان کا مستقل پتہ Koaky Bahawalتحصیل دیپالپور ضلع اوکاڑہ ہے۔ ان کی شادی سردار لطف اللہ خان کی بیٹی محترمہ مہرالنساء سے ہوئی جس سے ان کے 2 بیٹے اور 1 بیٹی ہے۔ وہ مستقل طور پر لاہور میں آباد ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ اپنی بہن کی شادی کے بعد
    احمد مجتبی علاقے کی ایک بااثر شخصیت بن گئے ہیں۔ اپنے ساتھیوں، فرنٹ مینو اور دیگر لوگوں کی مد د سے ایک منظم گروپ بنایا جس میں
    وسیم رسول مانیکا ، حماد احمد مانیکا اور دیگر شامل ہیں،احمد مجتبی تحصیل دیپالپور میں زمینوں پر قبضے سمیت ہر طرح کی منفی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔جب عمران خان کی حکومت آئی تو خاتون اول کے بھائی احمد اپنے بھانجے ابراہیم مانیکا کے ساتھ سرکاری افسران کی تقرریوں،تبادلوں کا انتظام کر تے رہے ۔ کئی فرنٹ مینوں کے ذریعے روزانہ ضرورت مندوں سے پانچ لاکھ سے دس لاکھ روپے تک کی رقم چھین لی جاتی۔احمد مجتبی کے فرنٹ مین وسیم رسول نے ان کے کہنے پر 2017 میں موضع بونگہ صالح رفیع آباد، کھمبیا والی، تحصیل دیپالپور، ضلع اوکاڑہ میں561 کنال اراضی ایک کروڑ چودہ لاکھ روپے کے ٹھیکے پر ہتھیا لی۔ یہ زمین دراصل دوبہنوں کی ہے جن کا نام بشریٰ بیگم اور عارفہ فخر حیات مانیکا ہے جو میاں فخر محمد مانیکا کی بیٹیاں ہیں۔ مقامی حکومت کے دباؤ سے کیس ابھی بھی زیر التوا ہے۔ملک حسین ولد برکت علی نے حماد احمد مانیکا اور وسیم رسول جو بشرہ بی بی کے بھائی احمد کا فرنٹ میں ہے کے ساتھ مل کر طاہر خورد، بصیر پور، تحصیل دیپالپور، ضلع اوکاڑہ میں مسٹر دین محمد کی 70 ایکڑ اراضی پر قبضہ کر لیا ،زمین کی قیمت تقریباً 21 کروڑ روپے ہے۔ایف آئی آر نمبر 17/22 مورخہ گیارہ جنوری 2022 مسٹر ملک حسین اور حماد احمد کے خلاف تھانہ بصیر پور، ضلع اوکاڑہ میں درج کی گئی ہے۔

    سینئرصحافی کا کہنا ہے کہ حماد احمد مانیکا جو بشرہ بی بی کے بھائی احمد مجتبی کا فرنٹ مین ہے نے احمد کے کہنے پر بونگہ صالح، بصیر پور، تحصیل دیپالپور، ضلع اوکاڑہ میں 17 ایکڑ اراضی پر ناجائز قبضہ کیا۔ یہ زمین دراصل بریگیڈیئر (ر) شاہد جمیل کی تھی ،زمین کی قیمت تقریباً پانچ کروڑ روپے ہے۔حماد احمد مانیکا نےجعلی دستاویزات کے ذریعے 2.5 ایکڑ اراضی بھی ہتھیا لی جسے اس کے قانونی ورثاء نے ہاؤسنگ سوسائٹی کی تعمیر کے لیے کسی دوسری پارٹی کو فروخت کیا تھا۔ گفت و شنید کے بعد انہوں نے بڑا حصہ واپس کر دیا لیکن پھر بھی سوسائٹی میں 72 مرلہ کمرشل اراضی پر قابض ہیں۔ احمد مجتبی کے فرنٹ مین حماد احمد مانیکا نے پٹواری ٹھوکر نیاز بیگ کی تقرری کے لیے اسی لاکھ روپے لیے، اور پھر اگلے ہی دن نوٹیفکیشن میں ترمیم کر دی گئی اورحکام کی جانب سےایک اور شخص کو تعینات کر دیا گیا جس کی وجہ سے پٹواری اپنے پیسے واپس مانگتا رہ گیا۔ایک تخمینہ کے مطابق خاور مانیکا اور اس کے بیٹو ں نے ایک ارب 34کروڑ کی گاڑیاں، کاریں اور کیش کی صورت میں بنایا جبکہ زمین اور گھروں کی صورت میں تقریباایک ارب تین کروڑ روپے کے اثاثے ہیں۔احمد مجتبی کے پاس زمین اور کیش کی صورت میں تقریبا 520 millionروپے ہیں۔

    وہ کہتے ہیں کہ بشریٰ بی بی کے بیٹے مسٹر ابراہیم کو حال ہی میں لاہور میں چار کروڑ روپے کی ایک لینڈ کروزرگاڑی تحفہ میں ملی ہے جو تحفہ فراہم کرنے والے کے ایک مخصوص کام کو پورا کرنے اور اسے سنبھالنے کی صورت میں ملی ہے۔ اس الزام کے ثبوت۔ اس بندے کا نام اور کس کام کے عوض یہ دی گئی بہت جلد ایک اور پروگرام میں آپ کے سامنے لاوں گا۔مبینہ طور پر، بشرہ بی بی کے بیٹے ابراہیم مانیکا نے پنجاب حکومت کے ذریعے لاہور میں شاہقام چوک اوور ہیڈ برج کی تعمیر میں سہولت فراہم کرنے کے لیے بحریہ ٹاؤن کے سی ای او ملک ریاض سے کک بیک کی صورت میں 80 کروڑ روپے بھی وصول کیے ۔ جبکہ ایک اور ڈیل میں پچیس کروڑ روپے الگ سے لیے۔خاور مانیکا کے چچا نے عرصہ دراز پہلے آٹھ کنال قیمتی جگہ جو287 Ferozpur lahore کے نام سے تھی کو تیس لاکھ روپے میں فروخت کیا تھا۔ خاور مانیکا نے ہیرا پھیری کر کے ، حال ہی میں اپنے دادا کے نام کروانے میں کامیاب ہو گئے ۔اب اس جگہ کی مالیت اربوں میں ہے، خاور مانیکا نے محکمہ لینڈ ریکارڈ کو خصوصی طور پر زمین کا ریکارڈ شیئر نہ کرنے کی ہدایت کی ۔اب یہ پاکپتن میں کس قسم کی بدمعاشی کرتے ہیں زرا یہ بھی سن لیں۔۔بھروان بی بی جو7-SPضلع پاکپتن کی رہائشی ہے نے SP صدر کو درخواست دی ، کہ اس کے بیٹے سہیل منظور ولد منظور جس کی عمردس سال تھی سے ذاکر حسین نامی شخص نے شدید جسمانی زیادتی کی ہے۔ جب وہ دوکان پر سودا لینے جا رہا تھا۔اور اس پر ایک ایف آئی آر بھی درج کی گئی۔اور بعد میں پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا۔ ملزم خاور مانیکا کے منیجر جاوید کا قریبی رشتہ دار نکلا۔

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ خاور مانیکا کے مینجر جاوید نے بھروان بی بی پر اپنی ایف آئی آر واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا، لیکن اس کے باوجود، نابالغ سہیل منظور نے صلح کرنے سے انکار کردیا۔ جس کے بعد موسیٰ مانیکا سرگرم ہو گئے ۔موسی بشریٰ بی بی کا چھوٹا بیٹا ہے ، اس نے اپنے ڈیرہ میں پنچایت بلائی۔ متاثرہ کے رشتہ داروں کو بے جا دباؤ کا نشانہ بنایا گیا اور پولیس نے جھوٹے مقدمات بنا کرانہیں غیر قانونی حراست میں رکھا۔ ابھی تک، مصالحت زیر التواء ہے اور متاثرین کو اب بھی مسٹر خاور مانیکا مقامی پولیس کے ذریعے مجبور کر رہے ہیں۔ان لوگوں کے کام دیکھیں اور ان کے عزائم دیکھیں۔۔ اب ان کی نظر
    دربار بابا فرید پاکپتن کی گدی پرہے۔خاور مانیکا دربار حضرت بابا فرید، پاکپتن کی گدی لینے کے خواہشمند ہیں کیونکہ وہ دربار حضرت بابا فرید کے معاملات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں خاص طور پر دربار کے سالانہ عرس کے موقع پرحال ہی میں دیوان مودود جودربار کے موجودہ نگران ہیں اور ان کے دو بھائیوں کے درمیان تنازعہ ہوا تھا۔ دیوان فیملی کے ممبر ہونے کے ناطے خاور مانیکا نے ‏محکمہ اوقاف کے ذریعہ ساز باز کر کے اس صورٹھال سے فائدہ اٹھایا اور عرس کے پہلے دو دن کا نظام سنبھال لیا۔ دس دسمبر دوہزار اکیس کو جاری کیا گیا چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف کا یہ نوٹیفیکیشن آپ اپنی سکرین پر دیکھ سکتے ہیں جس میں ڈپٹی کمشنر پاکپتن کے بعد خاور مانیکا کا نام درج ہے۔جس نے دربار کی رسومات ادا کرنے میں ہیرا پھیری کرکے مزید اختلافات پیدا کیے ۔

    بشریٰ بی بی، خاور مانیکا، ان کے بیٹے ابراہیم اور بھائی احمد مجتبیٰ نے روابط کا استعمال کرتے ہوئے اپنے آپ کو اس مقام پر پہنچا دیا جہاں وہ خاتون اول کی ملی بھگت سے ریاست کے کسی بھی فرد یا ادارے کو متاثر کرسکتے تھے۔ انہوں نےبیوروکریسی پولیس میں اثر و رسوخ کا اپنا کلب سرکل بنا لیا تھا۔

     

    https://youtu.be/3FLEnsydJ_4

    فرح شہزادی اور احسن جمیل گجرکےساتھ خاور مانیکا پنجاب بھر میں خاص طور پر ساہیوال ڈویژن کی مقامی انتظامیہ میں منافع بخش تقرریوں پر اپنے قریبی ساتھیوں اور دوستوں کو تعینات کرنے میں کامیاب رہی ۔خاتون اول نے اپنے کلب کے ساتھ Graana.com میں سرمایہ کاری کی ہے، جو کہ فرنٹ مین کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ گالف فلورس گارڈن سٹی اسلام آباد (عمران گروپ آف کمپنیز)۔عمارات رہائش گاہیں (ایکسپریس وے اسلام آباد)۔ایمیزون آؤٹ لیٹ (جی ٹی روڈ اسلام آباد)۔امارت مال (جی ٹی روڈ اسلام آباد)۔مال آف عربیہ (ایکسپریس وے اسلام آباد)۔فلورنس گیلیریا (ڈی ایچ اے فیز 2 اسلام آباد)۔Taj Residensia i-14
    اسلام آبادپارک ویو سٹی (ملت روڈ اسلام آباد)۔خاور مانیکا اور احمد مجتبیٰ بشریٰ بی بی کے ساتھ مل کر لاہور,اوکاڑہ اور پاکپتن میں متعدد منصوبے شروع کیئے ۔ مزید یہ کہ انہیں مختلف منصوبوں کی منظوری میں سہولت کے لیے نقد رقم اور مہنگے تحائف کی مد میں بھاری کک بیکس بھی ملے۔

    سینئرصحافی کا کہنا ہے کہ خاتون اول کے حمایت یافتہ کلب نے راولپنڈی کے مجوزہ رنگ روڈ منصوبے سے متعلقہ نووا ہاؤسنگ اور دیگر ہاؤسنگ سکیموں میں بھی نمایاں سرمایہ کاری کی ہے۔چکری انٹرچینج M2 کے قریب کنگڈم ویلی اسلام آباد کنگڈم گروپ کا ایک فلاپ/ڈیڈ پروجیکٹ تھا۔ بشریٰ بی بی کے بیٹے ابراہیم مانیکا نے، جسے اس کی والدہ کی حمایت حاصل ہے اوراثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئےنیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کے ساتھ تعاون کرکے اس منصوبے کو تبدیل کیا ۔
    دو سو کنال زمین کا ایک پورا بلاک بلیو ورلڈ سٹی میں خریدا گیا۔ اس کی ڈویلپمنٹ ابراہیم مانیکا کی طرف سے منتخب کنسٹرکشن کمپنی نے کرنا تھی۔
    ان لوگوں کی ہوس کی انتہا دیکھیں کہ ابراہیم مانیکا کسٹم ڈیپارٹمنٹ میں اپنےوالد خاورمانیکا کے تعلقات استعمال کرتے ہوئے ہیوی بائیکس درآمد کرتے رہے اور کسٹم میں اچھی خاصی چھوٹ اور ٹیکس چوری تک کرتے رہے۔

  • برطانوی سکھ سپاہیوں کے 12 رکنی وفد کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات

    برطانوی سکھ سپاہیوں کے 12 رکنی وفد کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات

    راولپنڈی : برطانوی سکھ سپاہیوں کے 12 رکنی وفد کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات،اطلاعات کے مطابق برطانوی سکھ سپاہیوں کے 12 رکنی وفد نے جی ایچ کیوکا دورے کے دوران آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے ملاقات کی

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے برطانوی وفدکی ملاقات کے دوران آرمی چیف نے کہا ہے کہ پاکستان تمام مذاہب کا احترام کرتا ہےاس ملاقات میں برطانوی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں مذہبی سیاحت کےفروغ کی ضرورت کوتسلیم کرتےہیں

    میجر جنرل سیلیا جے ہاروی کی سربراہی میں ڈپٹی کمانڈر فیلڈ سے گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ کرتار پور راہداری پاکستان کی مذہبی آزادی اور ہم آہنگی کے لیے غیر متزلزل عزم کا عملی مظہر ہے۔ وفد نے لاہور کا دورہ کیا جہاں معززین نے واہگہ بارڈر پر پرچم اتارنے کی تقریب دیکھی۔ وفد نے شاہی قلعہ لاہور، علامہ اقبال کے مزار اور بادشاہی مسجد کا دورہ کیا۔

    اطلاعات کے مطابق کے دوران برطانوی سکھ فوجیوں نے ملک میں کئی مذہبی مقامات کا دورہ کیا جن میں دربار حضرت میاں میر، حویلی نونہال سنگھ، گوردوارہ جنم استھان گرو رام داس، سمادی رنجیت سنگھ، گودوارہ ڈیرہ صاحب، کرتار پور کوریڈور، ننکانہ صاحب اور ڈیرہ پنجہ صاحب شامل تھے۔اا

    آئی ایس پی آر کے مطابق برطانوی فوج کے سکھ وفد نے ضلع اورکزئی کا بھی دورہ کیا اور سمانہ قلعہ، لاک ہارٹ فورٹ اور سارہ گڑھی یادگار کا مشاہدہ کیا۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں 1897 میں برطانوی مہم کے ایک حصے کے طور پر 21 سکھ سپاہیوں نے اپنی جانیں دی تھیں اور سکھوں کے لیے اس کی تاریخی اہمیت ہے۔
    وفد نے سارہ گڑھی یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔ وفد نے قبائلی اضلاع میں امن اور معمول پر لانے کے لیے پاکستان کی مسلح افواج کی کوششوں کو سراہا۔

  • خود انحصاری ہی قوم کی سیاسی، معاشی آزدی کی ضمانت ہے. وزیر اعظم شہباز

    خود انحصاری ہی قوم کی سیاسی، معاشی آزدی کی ضمانت ہے. وزیر اعظم شہباز

    وزیر اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں منعقدہ ٹرن آراؤنڈ پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا پاکستان میں وسائل اور ہنرمند لوگوں کی کمی نہیں ہے، خود انحصاری ہی قوم کی سیاسی اور معاشی آزدی کی ضمانت ہے.

    ٹرن اراؤنڈ پاکستان کانفرنس کنونشن سنٹر اسلام آباد میں ہورہی ہے جس میں وزارت منصوبہ بندی کے زیر انتظام کانفرنس میں معاشی ماہرین شریک ہیں.

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری اصل منزل خودانحصاری ہے، پوری دنیا اس وقت معاشی بحران کا شکار ہےلہذا درست سمت میں نہ گئے تو تاریخ میں ہمارا ذکر بھی نہیں ملے گا، کسی سے گلہ نہیں کریں گے ، ہمیں ملک کی مستقل ترقی کے لیے کام کرنا ہوگا.

    وزیراعظم کے مطابق گزشتہ حکومت نے کئی منصوبوں کو زیر التوا رکھا، اور گیس کے سستے، لانگ ٹرم معاہدے نہیں کئے گئے، گیس نہ ہونے کی وجہ سے 3 بجلی گھر اپنی استطاعت کے مطابق بجلی نہیں بنا سکتے۔ ایک وقت میں گیس 4 یا ساڑھے 4 ڈالر پر گیس مل سکتی تھی لیکن کسی نے اس توجہ ہی نہیں دی۔
    انہوں نے دعوی کیا کہ د پیش چیلنجز پر قابو پانے کیلئے دن رات کوشاں ہیں اور انشاءاللہ اس معاشی مشکلات سے نجات حاصل کرلیں گے.

    وزیر اعطم کا کہنا تھا کہ ہم کوئلہ لائیں گے اور اسے سی پیک میں استعمال کریں گے لیکن یہاں پر انہوں نے واضح کیا کہ دنیا بھر میں کوئلہ پہلے ہی مہنگا ہوچکا تھا. لیکن ہم افغانستان سے جلد کوئلہ امپورٹ کریں گے، یہ خریداری پاکستانی روپےمیں ہوگی، اس سے 2 ارب ڈالر کی بچت ہوگی۔

    تاہم واضح رہے گزشتہ روز وزیر اعظم شہباز شریف نے افغانستان سے اچھی کوالٹی کا کوئلے کی برآمد ڈالر کے بجائے روپیہ میں کرنے پر زور دیا تھا.

    وزیر اعظم نے کہا کہ بنگلادیش میں 6 ارب ڈالرکی لاگت سے بڑا انفرا اسٹرکچر بنایاگیا، وہاں کی حکومت یہ دعویٰ کررہی ہے کہ اس نے غیر ملکی امداد کے بغیر اسے مکمل کیا ہے۔ انہوں نے جادو سے اسے نہیں بنایا بلکہ محنت کی اور نتیجہ سامنے آیا۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں کسی چیز کی کوئی کمی نہیں،ریکوڈک میں اربوں روپے کا خزانہ دفن ہے، پولان تک ایران کی حکومت نے بجلی کی ٹرانسمیشن لائن مکمل کرلی، 5 سال میں ہم گوادر کے لیے 26 کلو میٹر کی لائن نہیں بچھا سکے۔ گوادر میں اسپتال اور ایئرپورٹ بننا تھا اب تک نہیں بن سکا۔

    وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان میں کسی چیز کی کوئی کمی نہیں، ہم پچھلی حکومت پر آسانی سے ملبہ ڈال دیتے اور کام کرتے نہیں، ہمیں ذاتی پسند ناپسند سے بالاتر ہوکر ہمیں مشکل فیصلے کرنے ہوں گے، ہمیں ایسے فیصلےکرنے پڑیں گے جو بھی حکومت آئے وہ تبدیل نہ ہوں۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ ہم زراعت پر توجہ دینا چاہتے ہیں کیونکہ یہ شعبہ چند مہینوں میں ہی نتیجہ سامنے لے آتا ہے۔ ہمیں برآمدات کو زیادہ سے زیادہ بڑھانا ہے۔ 14 ماہ میں کوشش کریں گے کہ معاشی استحکام لائیں لیکن یہ سیاسی استحکام کے ساتھ منسلک ہے۔

  • ٹیکسی ڈرائیور کی تاریخ

    ٹیکسی ڈرائیور کی تاریخ

    آج میں ایک سابق پاکستانی کی دلچسپ زندگی کی کہانی شیئر کروں گا جو اپنے ماضی سے بچ کر ٹیکسی ڈرائیونگ کی مہارت کا استعمال کرکے ایک کامیاب سیاسی مبصر بن گیا

    آپ کو حیرت ہوگی!!! یہ کیسے ممکن ہے ؟

    تو بتاتا چلوں کہ اس نے روزانہ کی بنیاد پر 18 گھنٹے تک عام مسافروں کے لئے ٹیکسی چلائی، یہاں تک کہ منفی 30 ڈگری موسم میں میں کینیڈا میں دو سالوں کے لئے ( 2015 اور 2016 ) میں ٹیکسی چلائی. اس کی جستجو کرنے والی فطرت نے اسے اپنے مسافروں کے ساتھ گہرائی سے گفتگو کے ذریعے عقل کے عروج کو حاصل کرنے میں مدد فراہم کی. بدقسمتی سے ، اس کے دعوے نے کہ "اگر میں خدمت جاری رکھتا تو میں پاکستان آرمی میں جنرل ہوتا” بالآخر اس کی ملازمت سے محروم کر دیا اسکے بعد وہ سوشل میڈیا پر سیاسی مبصراور بلاگر بن گئے.

    اس کی مقبولیت میں اضافہ قیاس آرائیوں اور حیرت انگیز یو ٹرنز سے منسوب ہے ، وہ تخلیقی جادو کا استعمال کرتے ہوئے اپنے قدیم دشمن "پاکستان” اور "آرمی” کے خلاف نفرت کے بیج بوتا ہے۔ بدقسمتی سے ، وہ اتنا مقبول نہیں ہے کہ لوگ اسے فوری طور پر پہچانیں گے لہذا سب کو بتانا ہو گا وہ ہے .سید حیدر رضا مہدی

    فوج کے لئے حیدر مہدی کے دل و دماغ میں نفرت کا سلسلہ انکے خاندان سے چلا آ رہا ہے جو اسکو ورثے میں‌ ملا، اس نے اپنے والد ایس جی مہدی سے جینیاتی طور پر فوج سے نفرت حاصل کی جو بزدلی کی وجہ سے 1965 کی جنگ کے دوران انفنٹری ڈویژن کے کرنل اسٹاف کے عہدے سے نکال دیئے گئے تھے، حیدر مہدی اسکے باوجود فوج کی اساس کو استعمال کر رہے ہیں،اور فوج کے ساتھ اپنی وابستگی اور دیگر حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی افسران کے ساتھ ملاقاتوں کو اپنی اندرونی معلومات کا ذریعہ قرار دیتا ہے۔ دھوکہ دہی کا ایک کلاسک کیس جو فوج کے افسران کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کو ظاہر کر کے اپنی قیاس آرائیاں بتاتا ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ جو لوگ حیدر (فراڈ) مہدی سے کسی بھی وجہ سے ملے وہ توبہ کر رہے ہوں گے۔ مجھے یہ بھی یقین ہے کہ مستقبل میں کوئی بھی اس سے ملنا یا اس کے ساتھ ایک ہی کمرے میں رہنا پسند نہیں کرے گا، کیوں کہ حیدر مہدی یقینی طور پر اس ملاقات کو اپنے من گھڑت جھوٹ بولنے کے لیے استعمال کرے گا

    ہم سب مشہور محاورہ جانتے ہیں "جو کچھ انسان بوتا ہے وہی کاٹتا ہے ۔ اب حیدر مہدی شکایت کر رہے ہیں کہ کسی نے مبینہ طور پر اس کے خلاف ایک جعلی خط پھیلایا ہے ،اپریل 2022 کے بعد سے ، حیدر مہدی کینیڈا میں اپنی آرام دہ ٹیکسی میں بیٹھے ہوئے ، فوج کے ادارے اور اس کی قیادت کے خلاف بے شرمی سے بے بنیاد الزامات عائد کررہے ہیں, لیکن جیسے ہی ان کے سافٹ ویئر بیچنے کے مشکوک معاملات کی خبریں آئیں تو میاں منشا چیئرمین ایم سی بی اور سونیری بینک سامنے آئے جس کے بعد، کینیڈین ٹیکسی ڈرائیورکی حالت دیکھنے والی تھی

    جو کچھ بھیجو گے لوٹ کے اپنی طرف آئے گا ،حیدر مہدی اور جھوٹ بولو

    حیدر مہدی عمران خان کا زبردست حامی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ پر بہت زیادہ تنقید کر رہے ہیں ،ایسا کرنے سے یوٹیوب پر پی ٹی آئی میں اسکے فالور بڑھ رہے ہیں اور وہ اپنے مفادات کا کھیل پاکستان میں نفرت پھیلانا اور انتشار پھیلانے کا آگے بڑھا رہاہے،

    ذرا حیدر مہدی کی اپنی پرانی پوسٹوں کو دیکھیے

    2017 کے بعد سے ( ٹیکسی ڈرائیور سے سیاسی مبصر میں تبدیل ہونے کے بعد ) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے بارے میں حیدر مہدی کے اس طرح کے جذبات تھے

    26 ستمبر ، 2017 کو حیدر مہدی نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی غیر سیاسی ہونے کی تعریف کی اور کہا کہ”مجھے معلوم ہے کہ جنرل باجوہ غیر سیاسی ہیں اور وہ سیاسی اور حکومتی عمل میں فوجی مداخلت پر یقین نہیں رکھتے

    28 اکتوبر 2017 کو, حیدر مہدی نے نواز شریف اور زرداری کو "کتے: کہا اور یہ دعوی کیا کہ فوج انہیں سیاسی کھیل سے باہر کرے ورنہ پاکستان کے لوگ پرتشدد بغاوت اور قتل و غارت کریں گے۔

    جولائی 2018 میں ، حیدر مہدی نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے میونخ سیکیورٹی کانفرنس کے خطاب کی تعریف کی اور کہا کہ ” دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے نقطہ نظر اور پوزیشن کا ایک بہترین بیان” قرار دیا گیا تھا.

    22 اگست ، 2019 کو ، حیدر مہدی نے ایک بار پھر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ "جنرل. باجوہ کی صاف ، مستند اور شفاف ہونے کی ایک عمدہ ساکھ ہے.وزیراعظم عمران جنرل باجوہ کو اپنے سب سے موثر اور قریبی مشیروں میں سے ایک کے طور پر اہمیت دیتے ہیں، جنرل باجوہ کی بین الاقوامی شہرت بھی پی ٹی آئی حکومت کے لیے ایک پلس ہے

    اسی سال کے آخر میں حیدر مہدی یہ کہہ کر جنرل باجوہ کو چیف آف ڈیفنس سٹاف کے عہدے پر فائز کرنے کے لیے کوششیں کر رہے تھے کہ ’’میرے خیال میں حکومت کے لیے یہ بہترین موقع ہے کہ وہ فائیو سٹار چیف آف ڈیفنس سٹاف کے عہدے پر فائز ہو اور جنرل باجوہ کو اس عہدے پر فائز کیا جائے ۔ جب ان کی موجودہ میعاد نومبر 2019 میں ختم ہو جائے گی، فوج سمیت تینوں سروس پر مکمل آپریشنل اختیار کے ساتھ آپریشنل کنٹرول برقرار رکھے۔

    حیدر مہدی ، ایسے نہیں ہوتا اپنے ذاتی سیاسی فائدے کے لئے آپ آرمی چیف جنرل باجوہ پر پھول پھینک دیتے ہیں اور جب آپ دیکھتے ہیں کہ آپ کی ذاتی سیاسی ترجیحات کی حمایت نہیں کی جارہی ہے تو آپ تنقید کرنا شروع کر دیتے ہیں،

    ایف اے ٹی ایف، بھارت کی پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کی سازش پاک فوج نے بنائی ناکام

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    آپ کو اپنے آپ سے پوچھنے کی ضرورت ہے. کیا آرمی قیادت پر ہر چیز کا الزام لگانا مناسب ہے کیا جمہوریت کو پٹڑی سے اتارنا اور آئین کو منسوخ کرنا جائز ہے ؟ نفرت کی سیاست ، کیا یہ پاکستان کو فائدہ پہنچا رہی ہے یا یہ ہمارے معاشرے کو مزید پولرائز کررہی ہے؟

    آپ لوگوں پر الزام لگاتے ہیں کہ آپ کے خلاف کسی خاص فرقے سے تعلق رکھنے والے لوگ پوسٹ کرتے ہیں ٹھیک ہے میں اس فرقے سے نہیں ہوں تاکہ اس مسئلے کو بھی حل کیا جا سکے اب متعدد فرقوں کے لوگ آپ کے خلاف پوسٹ کر رہے ہیں.

    بھارتی حکام کی جانب سے توہین آمیز بیانات انتہائی تکلیف دہ ہیں، ترجمان پاک فوج

    اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی کے پیچھے کرپشن اور فارن فنڈنگ کیس کا خوف ہے،آصف زرداری

    عمران خان اگلے سال الیکشن کا انتظار کریں،وفاقی وزیر اطلاعات

    موجودہ سیاسی صورتحال میں فوج پر بلا وجہ الزامات،بلاوجہ منفی پروپیگنڈہ

    اگر کوئی آپ کے بلاگز اور پوسٹس کو سکرول کرتا تو کسی خاص فرقے کی طرف سخت جھکاؤ بنانا بہت آسان ہوگا آپ کی امریکہ مخالف بیان بازی بھی سمجھ میں آئے گی میں آپ کو فرقہ وارانہ جھکاؤ کا الزام نہیں دوں گا یہ آپ کی ترجیح اور انتخاب ہے. لیکن جس چیز پر میں اعتراض کروں گا وہ یہ ہے کہ کینڈا میں آپ کے پاس اچانک اطلاع آئی کہ پاکستان میں تمام برائیوں کا ذریعہ آرمی چیف کا دفتر ہے.آپ کی بے ہودگی کی بھی کوئی حد نہیں، آپ کو لگتا ہے کہ توہین آمیز تبصرہ دراصل فوج اور بالعموم پاکستان کی بہت بڑی خدمت ہے۔ آپ کی ثقافت جھکاؤ ، فوج کے خلاف تعصب اور پاکستان سے دوری شاید آپ کے فیصلے اور آپ کی فریب سوچ کے پیچھے سب سے اہم وجہ کو مبہم کر رہا ہے.

    آرمی چیف کے دفتر کے پاس کوئی اور اختیارات نہیں ہیں، اس کے علاوہ جن کی آئین اجازت دیتا ہے۔ طاقت کا غلط استعمال جس کا آپ دعویٰ کرتے ہیں وہ ماضی کی کہانی ہے (جب آپ پاکستان میں رہتے تھے) جب مارشل لا لگا ہوا تھا۔ پاکستان میں مارشل لاء نہیں ہے!!! کسی سیاسی رہنما کو بندوق کی نوک پر گرفتار نہیں کیا گیا کسی پر کچھ بھی زبردستی نہیں کی گئی، چاہے کوئی بھی سیاسی جماعت ہو، 2008 کے بعد سے پالیسی سازی پاکستان میں سماجی و اقتصادی زوال کے تباہ کن راستے کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔ اقتدار سے باہر ہونے والے، اداروں اور مخالفین پر الزام لگاتے ہیں (لیکن خود کو نہیں) اور اقتدار حاصل کرنے والے پچھلی حکومتوں پر کرپشن کا الزام لگاتے ہیں، مزید قرضے مانگتے ہیں، غیر مستحکم معاشی اور ترقیاتی پالیسیاں اپناتے ہیں اور جب ان کی تقدیر ان کے ساتھ چلی جاتی ہے تو وہ اس کا الزام اداروں پر ڈالتے ہیں.

    آپ جس ادارے کو تمام برائیوں کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں وہ پاکستان کی سلامتی اور دفاع کا ادارہہے جب گھر کے مکین چوروں کے ساتھ گٹھ جوڑ کر رہے ہوں تو گھر کا مالک چوکیدار پر الزام نہیں لگا سکتا۔ گھر کے مالک کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے گھر کو ترتیب سے رکھے۔ اپنے ہی گھر کو الگ کرنا اور پولرائز کرنا بند کرو مہدی ، آپ جیسے لوگ جو اپنے جنون میں اندھے ہو گئے ہیں اصل خطرہ ہیں!!! جب تک آپ "ہمارے ساتھ یا ہمارے خلاف بیان بازی”کو ختم نہیں کرتے تب تک آپ قوم کی کوئی خدمت نہیں کر رہے

    دوسری برائی جو آپ دیکھتے ہیں وہ آپ کا پڑوسی امریکہ ہے. میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں آپ نے امریکی سازش کے بارے میں کیا کیا ہے آپ وائٹ ہاؤس کے باہر جاکر احتجاج کیوں نہیں کرتے ہی یا ہوسکتا ہے کہ آپ کو ڈر ہو کہ آپ کو پاکستان واپس بھیج دیا جائے گا

    آپ اس کے بارے میں بڑے پیمانے پر کیوں نہیں لکھتے ؟ حیدرمہدی .میں آپ کا قاری ہوں،آپ کو پتہ چل گیا ہو گا، مجھے مزید اختلافات سامنے رکھنے دیں

    عمران خان کی حکومت جانے کے بعد آپ کا ضمیر جاگ جاتا ہے پاکستان کی سیاست پر آپ کا تجزیہ تحقیقی نہیں، بلکہ سیاسی الزام تراشی ہے متعدد مواقع پر آپ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو آئین کی خلاف ورزی اور جمہوری سیاست کو پٹڑی سے اتارنے کا مطالبہ کیا، کیونکہ آپ کو ایسا لگتا ہے کہ فرقہ پرست لیڈر کو واپس لانا ہوگا ،آپ کو لگتا ہے کہ اگر فوج آپ کی بات پر عمل کرتی ہے تو ٹھیک ہے لیکن اگر وہ عمل نہیں کرتی ہے، تو یہ کرپٹ ہے یہ ملی بھگت ہے؟

    حیدر مہدی، کیا آپ کو نہیں لگتا کہ یہ بیان بازی کی باتیں پرانی ہو چکیں، آپ ایک ہی بات بار بار دہرا رہے ہو، کتنا لوگوں کو اس طرح بے وقوف بناؤ گے . وہی پرانا چورن کب تک بیچو گے!!

    اپنی جان بیچنا بند کرو پاکستان کا سوچو، اگر حیدر مہدی تم پاکستان آنا چاہتے ہو تو ہم آپکا نفسیاتی علاج کروانے کے لئے چندہ جمع کرنے کو تیار ہیں،

  • کون کتنی نشستیں لے گا مبشر لقمان کی چڑیل نے کھرا سچ میں سب بتادیا

    کون کتنی نشستیں لے گا مبشر لقمان کی چڑیل نے کھرا سچ میں سب بتادیا

    17 جولائی کو پنجاب میں کانٹے دار ضمنی انتخابات ہونے جارہے ہیں اس حوالے سے نجی چینل پی این این ٹاک شو کھرا سچ کے میزبان اور پاکستان کے نامور اینکر پرسن مبشر لقمان نے اپنی چڑیل کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ: ان انتخابات میں کونسی جماعت کتنی نشستیں جیتنے والی ہیں۔ 

    مبشر لقمان کے مطابق: پنجاب کے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ ن، تحریک انصاف اور تحریک لبیک ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گی لیکن پیپلزپارٹی نے یہاں پر ایک کامیاب سیاسی چال کھیل دی ہے۔

    مبشر لقمان نے اپنے پروگرام کھرا سچ میں بتایا کہ: پنجاب ضمنی انتخابات میں بیس نشستوں میں سے تقریبا تیرہ سے چودہ نشستیں مسلم لیگ نواز جیت جائے گی جبکہ چار نشستیں تحریک انصاف جیتے گی اور باقی دو پر دونوں جماعتوں کا کانٹے دار مقابلہ ہوگا۔

    مبشر لقمان نے واضح کیا کہ: کچھ نشستیں تو بالکل واضح ہیں جس میں پی پی 168 ہے جس پر مسلم لیگ ن کا کوئی مقابلہ ہی ممکن نہیں ہے۔
    https://youtu.be/n-SuZ0Kfy6g
    اینکرپرسن نے دعوی کیا کہ: اس ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف سے ٹکٹوں کی تقسیم میں کافی "بلنڈرز” ہوئے ہیں وہی مسلم لیگ ن سے بھی کچھ غلطیاں ہوئی ہیں لیکن راوی کہتا ہے کچھ غلطیاں ہر سیاسی جماعت کی مجبوریاں ہوتی ہیں۔

    مبشر لقمان کا تحریک انصاف کے بلنڈرز بارے کہنا تھا کہ تحریک انصاف اپنے بیانیہ کے حوالے سے کافی حد تک مبہم اور کافی الجھن کا شکار نظر آرہی ہے۔ کیونکہ تحریک انصاف میں اس وقت دو بڑے دھڑے وجود اختیار کرچکے ہیں جس میں ایک وہ ہے جو مار دھاڑ کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں اور دوسرا دھڑے کی مثال انہوں نے ڈاکٹر یاسمین راشد کے ایک بیان حوالہ دیتے ہوئے کہ ان کا یہ یقین ہے کہ ہمارے راستے میں جو کوئی بھی آئے اسے اڑا کر رکھ دینا چاہئے۔

    مبشر لقمان نے مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا: ایسا نہیں ہے کہ تحریک انصاف میں سارے کے سارے پہلے اور دوسرے دھڑے کی سوچ سے متفق ہوں اور لڑنے والے ہوں لہذا کچھ لوگ صلح صفائی پر بھی یقین رکھتے ہیں۔ اور یہ لوگ محاز آرائی بالکل نہیں چاہتے کیونکہ انہیں پتہ ہے ضمنی الیکشن میں اگر دو سیٹیں بھی مل جائیں تو کسی نعمت سے کم نہیں البتہ ان کی نظر آئندہ انتخابات میں جائزہ حصہ ملنے پر ہے۔ 

    مبشر لقمان نے انکشاف کیا کہ: مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف نے کوشش کی کہ سب سے زیادہ ٹکٹ الیکٹبلز کو دیئے جائیں اور اس وقت مسلم لیگ نواز کے پاس سب سے زیادہ الیکٹبلز ہیں۔ جبکہ تحریک انصاف نے ابھی تک اٹھارہ ٹکٹ جاری کئے ہیں جس میں رشتہ داروں، سیاسی خاندان اور الیکٹبلز کو آٹھ ٹکٹ جاری کئے ہیں۔ اور حال ہی مسلم لیگ نواز سے آنے والوں کو بھی تحریک انصاف کا ٹکٹ دیا گیا۔

  • سابق حکومت نے پاکستان تباہی کے دہانے پہنچایا،ہم نے بچا لیا،شہباز شریف

    سابق حکومت نے پاکستان تباہی کے دہانے پہنچایا،ہم نے بچا لیا،شہباز شریف

    وزیراعظم شہبازشریف نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جولائی میں لوڈشیڈنگ بڑھے گی، تاہمعالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے معاہدہ جلد طے پا جائے گا .وزیراعظم نے کہا کہ صاحب ثروت افراد سے 200ارب سے زائد جمع ہونے کی توقع ہے، عوام مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں، شمسی پروگرام کے حوالے سے پروگرام جلد لے کر آئیں گے،براہ راست ٹیکس انقلابی قدم ہے،پاکستان دیوالیہ پن ہونے سے نکل چکا ہے،آئی ایم ایف سے معاہدہ جلد ہونے والا ہے،آئی ایم ایف نے کڑی شرائط رکھی ہیں،مختلف شعبوں میں مالکان کی آمدن پر براہ راست ٹیکس لگایا گیا.

    وزیراعطم شہباز شریف نے اتحادی جماعتوں کے ارکان قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح پاکستان کو رفاعی ریاست دیکھنا چاہتے تھے، تبدیلی اور نئے پاکستان کی بات کرنے والی سابقہ حکومت یہ اقدامات نہیں کر سکی،ملک میں خوردنی تیل کی کوئی کمی نہیں ہے،پاکستان دیوالیہ ہونے سے بچ گیا ہے،پچھلی حکومت کو 3ڈالر میں گیس مل رہی تھی لآئی ایم ایف نے کڑی شرائط رکھیں.

    وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے پاکستان کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا تھا،دنیا میں کوئلہ بہت مہنگا ہوچکا ہے،کوئلے کی امپورٹ پر اربوں ڈہم ان مشکلات سے ضرور نکل جائیں گے،الر خرچ ہو رہے ہیں،کاروباری لوگوں کواللہ تعالیٰ نے بے پناہ وسائل سے نوازاہے،گزشتہ دور حکومت میں پاکستان دیوالیہ ہونےکےقریب تھا،خوردنی تیل کا بحران آنے والا تھا اس سےبھی پاکستان بچ گیا،گزشتہ حکومت نے آئی ایم ایف معاہدے کی خلاف ورزی کی،جولائی سے کوئلہ افغانستان سے درآمد کرنا شروع کریں گے.