Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پاک فوج کے سربراہ اہم دورے پرقطرپہنچ گئے:قطری قیادت سےملاقاتیں

    پاک فوج کے سربراہ اہم دورے پرقطرپہنچ گئے:قطری قیادت سےملاقاتیں

    راولپنڈی:پاک فوج کے سربراہ اہم دورے پرقطرپہنچ گئے:قطری قیادت سےملاقاتیں ،اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے سربراہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اس وقت قطر کے دورے پرہیں اور اپنے قطر کے سرکاری دورے پر قطر کے امیر عزت مآب شیخ تمیم بن حمد الثانی اور نائب وزیراعظم و وزیر اعلیٰ ڈاکٹر خالد بن محمد العطیہ سے ملاقات کی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے امور، دفاعی اور سیکیورٹی تعاون اور علاقائی ماحول پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کےدوران آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے کہا کہ دونوں ممالک دوستانہ تعلقات اور بھائی چارے کے گہرے جذبے کی عظیم تاریخ رکھتے ہیں، جو ایک پائیدار شراکت داری میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ دونوں اطراف نے تمام شعبوں میں تعاون کو مزید بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔

    پاک فوج کے سربراہ اور قطری عمائدین ومعززین نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں کو بھی سراہا اور دونوں برادر ممالک کے درمیان بہتر تعلقات کے لیے کام جاری رکھنے کا عہد کیا۔

  • کراچی کی مستند آواز، اب صرف باغی ٹی وی پر.شہر کے مسائل پر ہو گی بے لاگ گفتگو،رضا ہارون کے ساتھ

    کراچی کی مستند آواز، اب صرف باغی ٹی وی پر.شہر کے مسائل پر ہو گی بے لاگ گفتگو،رضا ہارون کے ساتھ

    کراچی کی مستند آواز، اب صرف باغی ٹی وی پر.شہر کے مسائل پر ہو گی بے لاگ گفتگو،رضا ہارون کے ساتھ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر سیاستدان، تجزیہ کار رضا ہارون نے کہا ہے کہ باغی ٹی وی کی ٹیم، ناظرین، انتظامیہ کو سلام، میرا نام رضا ہارون ہے، پاکستان کے بڑے معاشی حب، شہر کراچی سے تعلق ہے، کراچی میں ہی سیاست کی ،وہیں سے سیاست کا آغاز کیا، ایم کیو ایم سے تعلق رہا پاک سرزمین پارٹی کا میں سیکرٹری جنرل رہا، اپنے تجربات کی روشنی میں اپنے مشاہدات کی روشنی میں کراچی کے مختلف ایشوز پر گفتگو کرتا رہا، سیمینارز ہوں یا ٹی وی ٹاک شوز ہوں، کوشش کی ہے کہ اپنی معلومات سے، تجربات سے کراچی کے مسائل کو سندھ کے شہری علاقوں کے مسائل کو ،پاکستان کے ان مسائل کو جن کا تعلق ایک عام آدمی سے ہوتا ہے، سیاسی استحکام سے ہوتا ہے ، انکو اجاگر کرتا رہتا ہوں

    باغی ٹی وی کے یوٹیوب چینل پر پروگرام بے لاگ تبصرے میں گفتگو کرتے ہوئے رضا ہارون کا کہنا تھا کہ شکر گزار ہوں مبشر لقمان کا ، باغی ٹی وی کا ،انہوں نے مجھے موقع دیا کہ میں انکے پلیٹ فارم سے مختلف ایشوز پر آپ سے اپنے تبصرے، تجاویز، مشکلات،ایشوز ہیں جن سے ہم سب گزرتے ہیں، انکو شیئر کر سکوں،بنیادی طور پر جب ہم کراچی کی بات کریں گے تو ملٹی پل ایشوز ہیں یہ کراچی کے صرف ایشو نہیں بلکہ پاکستان میں جو گلا سڑا نظام جس کو ہم برائے نام جمہوریت کہتے ہیں، اس پر گفتگو کریں گے، ایکسپرٹ کو بھی لیں گے، انکی تجاویز بھی لیں گے، مختلف اداروں، محکموں سے بھی ،لوکل حکومت کے ایکسپرٹ سے بھی رائے لیں گے اور معلومات لے کر آپ کے ساتھ شیئر کریں گے،

    رضا ہارون کا کہنا تھا کہ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا میٹرو پولیٹن شہر، سیاسی طور پر لاوارث شہر ہے، اس شہر میں سیاسی، انتظامی، بلدیاتی مسائل ہیں، اونر شپ، ترقیاتی سکیموں کے مسائل ہیں، اس شہر میں مختلف ایجنسیز کام کرتی ہیں،یونٹی آف کمانڈ کا تصور اس شہر میں نہیں ملتا، اس شہر میں سنسرز کے مسائل ہیں، اس شہر کی پارٹی سپیشن پورے ملک کے لیے ٹیکس کی مد میں ہو، یا کسی بھی طریقے سے، اس شہر کے لوگوں کو شکایت ہے کہ نمائندگی، تعداد کے حساب سے، علاقائی اہمیت کے حوالہ سے ریاست نے، ریاست کے اداروں نے، وفاقی حکومت، صوبائی حکومت، پارلیمٹ، وہ تمام ادارے جو اتھارٹیز ہیں، جن کا کام ہے انفراسٹرکچر ڈیولپ کرنا، سوشل سیکٹر ایجوکیشن، ٹرانسپورٹ، صحت، بلدیاتی نظام ان تمام چیزوں کی محرومیاں، شکایت ہیں، یہ صرف کراچی نہیں بلکہ ملک کے کئی اور شہروں میں بھی مسائل ہوں گے،عام آدمی کے مسائل ملک بھر میں ایک ہی ہوتے ہیں، آئین پر بھی ہم بات کریں گے جس کو وفاقی حکومت فالو نہیں کرتی،ایجوکیشن کی بات کہ پرائمری ایجوکیشن ،کوالٹی کی ایجوکیشن فری پہنچانی ہے، آئین میں لکھا ہے لیکن کیا ہم پہنچا رہے ہیں؟ کیا ہمارے ہاں بنیادی جمہوریت ہے

    رضا ہارون کا مزید کہنا تھا کہ کراچی کا ذکر بار بار ہو گا، اسلئے کہ کراچی صرف سندھ کا شہر نہیں بلکہ یہاں مختلف قومیتوں، مسالک، زبان کے افراد اس شہر میں رہتے ہیں، انٹرنیشنل لوگ بھی یہاں ہیں‌، کراچی کا پھیلاؤ اتنا زیادہ ہے کہ اسکو منی پاکستان بھی کہتے ہیں، منی پاکستان میں ہمارے پاکستانی بھائی جو رہتے ہیں وہاں حقوق کے حوالہ سے، حکومتی ذمہ داریوں کے حوالہ سے کیا ہو رہا ہے، کیا نہیں ہو رہا، کیا ہونا چاہئے تھا، اس سب پر بات کریں گے، کراچی کی آبادی کو صحیح نہیں گنا گیا، شہر تین کروڑ کی آبادی کراس کر گیا لیکن ایک کروڑ ساٹھ لاکھ کی آبادی کے حوالہ سے سہولیات دینے کا دعویٰ کیا جاتا ہے، کراچی مین سی پورٹ، انٹرنیشنل ایئر پورٹ ہے، یہ گیٹ وے ہے، پانی کا راستہ یہاں سے جاتا ہے، ہم جس پھلدار شاخ پر بیٹھے ہیں، جس کا پھل ہم سب کھا رہے ہیں، کیا اسکو پانی، کھاد دے رہے ہیں،کیا اس شہر کی پرورش ،نشوونما کر رہے ہیں، کیا انصاف کر رہے ہیں، اگر نہیں کر رہے تو کیا ہم اس شہر کی جڑوں کو کاٹ نہیں رہے، کراچی کی اونر شپ کا مسئلہ ہے،پاکستان ریلوے کی زمینیں بھی یہاں ہیں،اس شہر کا میئر جس کے پاس کراچی کا سارا علاقہ نہیں بلکہ کچھ علاقہ مختلف اتھارٹیز کے پاس ہے، اتنے بڑے شہر کو کیسے کمانڈ کیا جا رہا ہے، ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ آئین کی روح کو نہ سمجھیں جو ہمیں مکمل سہولیات، تحفظ دیتا ہے، یہاں تعلیم کے مسئلے ہیں، میئر تمام مسائل کو دیکھے، پانی کی ترسیل کا نظام درست ہے؟ ریلوے، پبلک ٹرانسپورٹ ہو، یا لوکل ٹرین، ماسٹر پلان کیا ہے؟ سٹی گورنمنٹ نے 2005 سے 2010 میں ماسٹر پلان بنایا تھا، اسکو سائیڈ پر کر دینا اور بغیر ماسٹر پلان کے شہر کو چلانا، کیا ایسا ہو سکتا ہے، کوشش کریں گے کہ ہفتہ وار آپ سے مسائل پر گفتگو کریں،ہم اپنے شہروں کو بہتر کرنے کے لئے باغی ٹی وی پر گفتگو کریں گے، آنیوالے پروگرام میں مختلف ایشوز، ٹاپک پر گفتگو کریں گے، کوشش کریں گے کہ کچھ پروگراموں میں ایکسپرٹ کو بھی لیں،

    واضح رہے کہ ایم کیو ایم کے سابق رہنما رضا ہارون نے باغی ٹی وی کو بطور اینکر پرسن جوائن کیا ہے، باغی ٹی وی کراچی کے سینئر سیاستدان کا خیر مقدم کرتا ہے رضا ہارون 2009 میں سندھ کے صوبائی وزیر برائے اطلاعات و ٹیکنالوجی رہ چکے ہیں۔

  • نیب کے بعد اینٹی کرپشن میں بھی فرح کیخلاف تحقیقات کا آغاز

    نیب کے بعد اینٹی کرپشن میں بھی فرح کیخلاف تحقیقات کا آغاز

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی اہلیہ کی کرپشن میں فرنٹ مین فرح خان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے

    نجی ٹی وی کے مطابق فرح خان کے خلاف اینٹی کرپشن نے تحقیقات کا آغاز کیا ہے، اس ضمن میں اینٹی کرپشن پنجاب نے
    گوجرانوالہ میں ہاؤسنگ سوسائٹی کی ڈیولپمنٹ کے حوالے سے تحقیقات شروع کر دی ہیں، فرح خان کی کنسٹرکشن کمپنی غوثیہ بلڈرز نے گوجرانوالہ میں جی ۔ مگنولیا کے نام سے ہاؤسنگ سوسائٹی شروع کی تھی جس میں پلاٹوں کی فائلیں فروخت کی گئی تھی حالانکہ پلاٹ موجود ہی نہیں

    اینٹی کرپشن پنجاب نے گوجرانوالہ ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے فرح خان کی ہاؤسنگ سوسائٹی کے حوالہ سے متعلقہ ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ہاؤسنگ سوسائٹی میں پلاٹ لینے والے شہریوں کی درخواست پر محکمہ اینٹی کرپشن نے تحقیقات کا آغاز کیا ہے، فرح خان کنسٹرکشن کمپنی غوثیہ بلڈرز کی ڈائریکٹر ہیں

    گوجرانوالہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور ایکسائز فرح خان عرف گوگی کی ہائوسنگ سوسائٹی جی مگنولیا کا دفتر سیل کر چکی ہے،

    فرح خان کے خلاف نیب میں بھی تحقیقات جاری ہیں، فرح کے ملازمین کو نیب لاہور نے طلب کیا تھا لیکن وہ پیش نہ ہوئے

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے سے قبل ہی اپوزیشن جماعتوں نے فرح پر الزام لگانے شروع کر دیئے تھے، ن لیگ کی رہنما مریم نواز نے دو تین بار فرح کی کرپشن کا ذکر کیا، عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو علیم خان بھی کھل کر فرح کے خلاف بولے، فرح دبئی جا چکی ہے

  • لاہور ہائیکورٹ  نےوزیر اعلیٰ پنجاب  الیکشن کیخلاف درخواست پر فیصلہ سنا دیا

    لاہور ہائیکورٹ نےوزیر اعلیٰ پنجاب الیکشن کیخلاف درخواست پر فیصلہ سنا دیا

    لاہور ہائیکورٹ نےوزیر اعلیٰ پنجاب الیکشن کیخلاف درخواست پر فیصلہ سنا دیا

    لاہور ہائیکورٹ وزیر اعلیٰ پنجاب الیکشن کیخلاف درخواست پر 8 صفحات کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا ہے لاہور ہائیکورٹ نے پریذائیڈنگ افسر کو 25 ووٹ نکال کر دوبارہ گنتی کا حکم دے دیا عدالت نے کہا کہ وزیراعلی ٰ الیکشن کے لیے مطلوبہ نمبر حاصل نہ ہونے کی صورت میں دوبارہ انتخاب کروایا جائے کل 4 بجے پنجاب اسمبلی کا اجلاس طلب کیا جائے، منحرف اراکین کے ووٹ نکال کر حمزہ شہبازکی اکثریت نہیں رہتی تو وہ وزیراعلیٰ نہیں رہیں گے عدالت کے احکامات تمام اداروں پرلاگو ہوں گے، پنجاب اسمبلی کا اجلاس اس وقت تک ختم نہیں کیاجائے گا جب تک نتائج جاری نہیں کیے جاتے، صوبے کا گورنر اپنے فرائض آئین کے مطابق ادا کرے گا پنجاب اسمبلی کے نتائج آنے کے بعد گورنردوسرے دن 11 بجے وزیراعلیٰ کا حلف لیں گے عدالت پنجاب اسمبلی کے مختلف سیشنز کے دوران بدنظمی کو نظر اندازنہیں کرسکتی ،کسی بھی فریق کی طرف سے بدنظمی کی گئی توتوہین عدالت تصور ہوگی درخواست گزاروں کی تمام درخواستیں منظور کی جاتی ہیں درخواست گزاروں کی پٹیشن دوبارہ گنتی کی حد تک منظور کی جاتی ہے،پٹیشنز میں باقی کی گئیاستدعا رد کی جاتی ہے، اسپیکر کی جانب سے وزیراعلیٰ کی حلف برداری سےمتعلق اپیلیں نمٹا ئی جاتی ہیں،تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا

    عدالتی کاروائی کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرنیوالے وی لاگرزکیخلاف کاروائی کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ نے تحریری فیصلے میں کہا کہ کیس کی سماعت کی رپورٹنگ پر میڈیا کے کردار کو سراہتے ہیں،چند وی لاگرز نےعدالتی کارروائی کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی ،ایف آئی اے اور پیمرا ایسے وی لاگرز کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں اگرکوئی بھی درخواست دے گا توکارروائی کے بعد ایسے وی لاگرزکے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہوگی،

    ،جسٹس ساجد سیٹھی کا فیصلے میں اختلافی نوٹ سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لیے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی ضرورت نہیں ،ڈپٹی اسپیکرکو وزیراعلیٰ کا انتخاب دوبارہ کرانا چاہیے،دوبارہ انتخاب ان امیدواروں کے درمیان ہونا چاہیے جنہوں نے زیادہ ووٹ لیے پنجاب اسمبلی کا اجلاس 2 جولائی شام 4 بجے بلایا جائے ،اجلاس 2 جولائی کو بلانے کا مقصد دورسے آنے والے اراکین کو سہولت دینا ہے،پنجاب اسمبلی اجلاس بلانے کے لیے ضروری ہے کہ اراکین کو وقت دیا جائے،وزیراعلیٰ کا دوبارہ انتخاب کا حکم دینا سپریم کورٹ کے احکامات کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہوگا ،ہائیکورٹ کا ڈویژنل بینچ صاف ،شفاف اورغیر جانبدارالیکشن کرانے کا حکم دینے کا مجاز ہے، 25 منحرف اراکین کے ووٹ نکالنے کے بعد حمزہ شہباز کے حق میں 172 ووٹ رہ جاتے ہیں،حمزہ شہبا زوزیراعلیٰ کے آفس میں ایک اجنبی ہیں حمزہ شہبا زعہدے پر فائز رہے تو مخالف فریق پر سیاسی برتری ہوگی حمزہ شہبا ز کا بطور وزیراعلیٰ نوٹیفکیشن منتخب ہونے کے دن سے کالعدم قرار دیا جائے،عثمان بزدار کی جگہ حمزہ شہبا زکا بطور وزیراعلیٰ انتخاب بھی کالعدم قراردیا جاتا ہے،ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے انتخاب کے لیے بلایا جانے والا اجلاس بھی غیر قانونی ہے، عثمان بزدارکو بطوروزیراعلیٰ کام سے روکنے کا نوٹیفکیشن بھی غیر قانونی ہے ،حمزہ شہبا ز کی طرف سے 30 اپریل سے آج تک کے احکامات برقراررہیں گے

    لاہورہائیکورٹ نے تحریک انصاف کی درخواستوں کو نمٹا دیا ، وزیر اعلیٰ پنجاب کے الیکشن کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواستیں منظورکر لی گئی ہیں،وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے انتخاب کالعدم قراردے دیا، فیصلہ چار ایک کے تناسب سے سنایا گیا جسٹس ساجد محمودسیٹھی نے فیصلے سے مشروط اختلاف کیا

    وکیل پی ٹی آئی علی ظفر کا کہنا ہے کہ عدالت نے وزیراعلیٰ حمزہ شہبازکا حلف کالعدم قراردیا ہے،ہماری درخواستیں منظورہوئی ہیں ہم نے آئین ،قانون اور انصاف کی بات کی ہے، لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد حمز ہ شہباز وزیراعلیٰ پنجاب نہیں رہے ،فیصلے میں کہا گیا جو وز یراعلیٰ ڈیفکٹو کے ووٹ سے منتخب ہواوہ ٹھیک نہیں ،

    گزشتہ روز وزیراعلیٰ پنجاب کے وکیل نےلاہورہائیکورٹ میں دلائل مکمل کر لیے تھے لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس صداقت علی خان کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے سماعت کی تھی اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی سبطین خان ،محمود الرشیدم راجہ بشارت لاہور ہائیکورٹ میں موجود تھے پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر اور اظہر صدیق بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے،

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی جانب سے وکیل منصور اعوان جبکہ تحریک انصاف کے علی ظفر اور ق لیگ کے وکیل عامر سعید نے عدالت میں پیش ہو کر دلائل دیئے تھے۔ صدر مملکت کی نمائندگی احمد اویس، اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہی کی بیرسٹر علی ظفر اور امتیاز صدیقی نے کی تھی

    لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد پنجاب کے سابق صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ دو ماہ سے ہم پر جو عذاب مسلط تھا وہ اب نہیں رہا،فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے کی روشنی میں اب عثمان بزدار نگران وزیر اعلی ٰہیں

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    حمزہ شہباز شریف نے بطور وزیراعلی پنجاب اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا

    آئین شکنوں کو گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے ڈال دینا چاہئے،مریم نواز

    حلف اٹھانے کے بعد حمزہ شہباز کا عمران خان کے سابق قریبی دوست سے رابطہ

    وزیراعلیٰ پنجاب بارے ہائیکورٹ کا فیصلہ، ن لیگ کا خیر مقدم،تحریک انصاف کا چیلنج کرنے کا اعلان

    تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان کا کہنا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر پوری قیادت کو مبارکباد دیتا ہوں ،عمران خان کا موقف درست ثابت ہوا، ہم پچھلی صورتحال میں واپس چلے گئے ہیں حمزہ شہبا ز نے جو بھی فیصلے کیے وہ تمام کالعدم ہوگئے،فواد چودھری کا کہنا تھا کہ لاہورہائیکورٹ کے فیصلے نے پنجاب کے سیاسی بحران میں مزید اضافہ کر دیا ،حمزہ کی حکومت برقرار نہیں رہی لیکن جو حل دیا گیا ا س سے بحران ختم نہیں ہو گا،فیصلے میں کئی خامیاں ہیں لیگل کمیٹی کی میٹنگ بلا لی ہے ہائیکورٹ کے فیصلے میں خامیوں کو لے کر سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے،

    لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد حمزہ شہباز نے مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماوں کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا، پنجاب کے صوبائی وزیر عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ ہم کورٹ کے ہر فیصلے کا احترام کر تے ہیں، پچھلے انتخاب کا تسلسل رہے گا، ہماری تعداد 177 ہے، ہم 9 ووٹوں سے آگے ہیں، کلیئر فیصلہ ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ کے فیصلے برقرار رہیں گے،ابھی تک ہمارے پاس اکثریت ہے، ہم پھر جیت جائیں گے خوش آئند فیصلہ ہے، تسلیم بھی کرتے ہیں اور عمل بھی کریں گے، تحریک انصاف کہہ رہی ہے وہ اپیل میں جائیں گے، ضرور جائیں،رانا مشہود کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی جو دھوکہ عوام سے کرتی رہی آج بھی انہیں سمجھ نہیں آرہی،الیکشن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی تو کارروائی عدالت کرے گی،کلیئر فیصلہ ہے کہ وزیر اعلیٰ کے فیصلے برقرار رہیں گے،

    وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کا معاملہ ، ن لیگ نے حکمت عملی طے کر لی ارکان پنجاب اسمبلی کو آج ہوٹل ٹھہرایا جائے گا حمزہ شہباز کےہمراہ کل تمام ارکان اکھٹے پنجاب اسمبلی اجلاس میں جائیں گے، مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کا کہنا ہے کہ پنجاب کے خلاف عمران خان کے جرائم کی فہرست طویل ہے،منی گالہ گینگ کے ذریعے پنجاب کے پیسہ کے وسائل پر ڈاکہ ڈالا گیا، پنجاب کے عوام کو ان کے حق سے محروم کر کے مشکلات پیدا کیں،م

    اسپیکر پنجاب اسمبلی نے قانونی اور سیاسی ٹیم کے ساتھ مشاورت کی علی ظفر ایڈووکیٹ ، مونس الہٰی ، راجہ بشارت مشاورت میں شریک تھے حسین جہانیاں گردیزی ، حافظ عمار یاسر بھی مشاورت میں شریک تھے علی ظفر ایڈووکیٹ نے عدالتی فیصلے پر شرکا کو بریفنگ دی ہائیکورٹ کے فیصلے میں بعض ابہام کی طرف بھی بریفنگ میں نشاندہی کی گئی چودھری پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ ہمارے11 آدمی حج پر چلے گئے ہیں،پہلے ہاوس مکمل کریں پھر گنتی کرائی جائے،پسمجھ نہیں آرہا کہ12گھنٹے دیئے گئے ہیں،لاہورہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جارہے ہیں،پ

    عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد آئی تھی تو عثمان بزدار نے استعفیٰ دے دیا تھا جس کے بعد پی ٹی آئی نے چودھری پرویز الہیٰ کو امیدوار نامزد کیا تھا، ن لیگ نے حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ کا امیدوار نامزد کیا تھا، پنجا ب اسمبلی کے اجلاس اسمبلی ہال اور ایوان اقبال میں الگ الگ ہوتے رہے، حمزہ شہباز وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے کیونکہ پی ٹی آئی کے اراکین ن لیگ کے ساتھ مل گئے تھے، بعد ازاں پی ٹی آئی کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے ن لیگ کے ساتھ ملنے والے اراکین کو ڈی سیٹ کر دیا تھا ، 20 صوبائی نشستوں پر الیکشن اب 17 جولائی کو ہو رہے ہیں

  • یہ لوثبوت:کرپشن کےارسطو::ہوش رباانکشافات:عثمان بزدارکی بےنامی جائیداد کی تفصیلات:15 ارب کی کرپشن کیسےکی؟

    یہ لوثبوت:کرپشن کےارسطو::ہوش رباانکشافات:عثمان بزدارکی بےنامی جائیداد کی تفصیلات:15 ارب کی کرپشن کیسےکی؟

    لاہور:عثمان بزدارکی بےنامی جائیداد کی تفصیلات:15 ارب کی کرپشن کیسےکی؟اس حوالے سے انکشافات کرتے ہوئے سنیئرصحافی مبشرلقمان نے کہا ہے کہ عمران خان کے پونے چار سالہ دور اقتدار میں جس چیز پر سب سے زیادہ تنقید ہوئی وہ عثمان بزدار عرف وسیم اکرم پلس تھے۔ عمران خان نے عثمان بزدار کو ہر جگہ ڈِیفینڈ کیا، اور ہم ایک عرصہ تک یہ سنتے رہے کہ عثمان بزدار کام سیکھ رہے ہیں۔ لیکن اب حیران کن انکشاف ہوئے ہیں کہ عثمان بزدار نے اپنے پہلے سال کی نسبت چودہ گنا کام سیکھا اور کارکردگی بھی دیکھائی لیکن یہ کارکردگی ملک اور قوم کی عوام کے لیے نہیں بلکے اپنے اثاثے بنانے کے لیے دیکھائی گئی۔ عثمان بزادر پر اقتدار کے پہلے سال ایک ارب روپے کی کرپشن کا الزام ہے جبکہ اگلے دو سالوں میں انہوں نے مبینہ طور پر چودہ ارب روپے کی کرپشن کی۔ کرپشن کرنے کے نئی سائنسی اور پرانے روائیتی طریقوں پر انحصار کیا گیا۔ کہاں کیسے کس طرح اور کس چیز میں انہوں نے کیسے پیسے بنائے، کہاں کہاں انویسٹمنٹ کی ۔۔آج میں تمام تہلکہ خیز انکشافات آپ کے سامنے رکھوں گا جو آپ نے نہ تو پہلے سنے ہوں گے اور نہ ہی کہیں دیکھے ہوں گے۔

     

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ 2018 میں وزیر اعلیٰ پنجاب کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے، جناب عثمان بزدار منظم مالی بدعنوانی کے ذریعے اختیارات کے ناجائز استعمال اور پبلک سیکٹر کے فنڈز میں غبن میں ملوث رہے۔ بدعنوانوں بیوروکریٹس کی ایک ٹیم کی مدد سے عثمان بزدار نے کرپشن میں مہارت حاصل کی۔ وقت گزرنے کے ساتھ، اس کے طریقے اور غبن کا حجم بدعنوانی کے ایک نفیس اور باضابطہ نیٹ ورک میں تبدیل ہو گیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے طور پر اپنے پہلے سال کے دوران، عثمان بزدار نےگیارہ مبینہ کیسوں میں ایک ارب سولہ کروڑ روپے بنائے۔وہ گیارہ کیس کون سے ہیں ان کی تفصیل میں آگے جا کر آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔لیکن اگلے تین سالوں میں عثمان بزدار نے بدعنوانی اور کرپشن کی نئی بلندیوں کو چھولیا۔ انہوں نے منظم کرپشن کے لیے ایک باضابطہ نیٹ ورک تیار کیا ہے جس میں بدمعاش بیوروکریٹس اور بدنام زمانہ فرنٹ مین شامل تھے۔ دوسرے اور تیسرے سالوں کے دوران عثمان بزدار کی مبینہ کرپشن کم از کم 15.3 بلین روپے تھی اور ہر آنے والے سال اپنے ہی ریکارڈ کو مات دی ۔آج کے پروگرام میں ۔۔ میں آپ کو یہ بھی بتاوں گا کہ عثمان بزدار اور اس کے اعلان کردہ اور بے نامی اثاثون کی ثابت شدہ ٹریل کیا ہے۔لیکن اس سے پہلے آپ کو پہلے سال میں سوا ارب کی مبینہ کرپشن کی تفصیل بنا دوں۔

    ان کا کہناتھا کہ عثمان بزدار نے اپنے ساتھی مختیار احمد جتوئی کوTMO Tounsa مقرر کیا اور 50 ملین روپے کی منظوری دی۔ ایم سی تونسہ میں ترقیاتی کاموں کے لیے زمین پر کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوا اور پانچ کروڑ کا چونا لگا دیا گیا۔لاہور میں Unicorn Prestige Hotelکے لیے الکوحل کا لائسنس۔ ستر لاکھ روپے لینے کا الزام۔عثمان بزدار نے سمیع اللہ چوہدری (ایم پی اے بہاولپور) کے ساتھ چینی پر سبسڈی دینے کے لیے 50 ملین روپے کی کابینہ کی منظوری کا انتظام کیا۔Hubb Gull Khanعثمان بزدار کے فرنٹ مین تھے ،نے بغیر کسی نیلامی کے ٹول ٹیکس وصول کرنا شروع کر دیا۔ اور تقریبا سوا کروڑ روپے سالانہ بنائے

    سینئرصحافی کھراسچ پروگرام کے میزبان مبشرلقمان کہتےہیں کہ ڈی ایس پی عامر تیمور (چچا) کو ڈی پی او بہاولپور تعینات کر دیا گیا۔ اسے پولیس اہلکاروں کی ہر مطلوبہ پوسٹنگ پر پانچ لاکھ سے پچیس لاکھ روپے ملنا شروع ہو گئے۔کیپٹن (ر) اعجاز جعفر (کزن) Ex-ACS Punjab نے دس لاکھ سے پچاس لاکھ روپے لے کر افسران کی متواتر پوسٹنگ شروع کر دی۔ ان کی مدت کے دوران، ہر افسر کی اوسط مدت تقریبا دو ماہ تھی۔عمر خان بزدار (بھائی) نے تونسہ میں ناجائز تجاوزات کے خلاف آپریشن بند کروانے کے لیے دوکاندارون سے تیس لاکھ روپے وصول کیئے۔مسلم لیگ ن کے ایم پی اے عطا الرحمان پر اکیس سالہ لڑکی سدرہ سلیم کے ساتھ گیارہ ماہ تک زیادتی کے کیس میں مدد فراہم کرنے کے لیے عثمان بزدار کے قریبی دوست طاہر چیمہ نے مبینہ طور پر پانچ کروڑ روپے وصول کیئے۔ اس کیس میں میڈیکل رپورٹ میں زیادتی ثابت ہو گئی تھی۔عثمان بزدار کے بھائی عمر بزدار نے ڈی جی خان میں براہ راست زمینوں پر قبضہ کی سرپرستی بھی کی۔ جبکہ دوسرا بھائی طور خان بزدار اپنے فرنٹ مینوں کے لیے سڑکوں کے ٹھیکوں کا انتظام کرتا رہا۔یہ تو وہ معمولی سی مبینہ کرپشن ہے جو اناڑی عثمان بزدار نے کی، لیکن کھلاڑی عثمان بزدار نے کام سیکھ کر جو گل کھلائے ۔ آپ کو ابھی بتاتا ہوں۔

    سینئرصحافی کھراسچ پروگرام کے میزبان مبشرلقمان کہتےہیں کہ اگر عثمان بزدار کے مبینہ Un declared اثاثوں اور کاروبار کی بات کی جائے تو اس میں199کنال ایگری لینڈ Tuman khosa میں، بتیس کنال جگہ میاں چنوں میں، 35 کنال جگہ ملتان میں اور اکتیس مرلے رہائشی پلاٹ کی صورت میں ملتان میں ہی ہیں۔اگر کاروبار کی بات کی جائے تو ۔۔ تونسہ میں ایک پٹرول پمپ، سخی سرور روڈ ڈی جی خان میں ایک ٹیکسٹائل مل، انصاف فلور مل ۔۔کوٹ موڑ تونسہ شریف۔بحثیت انویسٹر ایک Toyota show room D G khan.Syed crush plant basti Buzdar یہ سب چیزیں وزیر اعلی کی نامزدگی کے بعد سامنے آئی ہیں جبکہ جو جائیداد وزیر اعلی بننے کے بعد بنائی ہے اس میں،4 acre Spanish villah multan.Tuff tile factory tounsaدوست محمد بزدار جو Brother in law ہے نے سوزوکی چوک ڈی جی خان میں چار کنال کمرشل جگہ کی ایک ڈیل فائنل کی جس کی مالیت ایک ارب کے قریب ہے۔عثمان بزدار کا دوست جاوید قریشی بحرین میں انویسٹمنٹ کرتا رہا۔اپنی آبائی زمینیوں پر سرکاری خرچے سے انفراسٹرکچر بنا کر ڈھائی ارب روپے کا فائدہ اٹھایا گیا۔ جبکہ درجنوں پراپرٹیز ایسی ہیں جو کبھی بھائی تو کبھی فرنٹ مین اقبال عرف دالی اور دیگر لوگوں نے مختصر عرصے میں خریدی ہیں۔

    اب بات کرتے ہیں جب عثمان بزدار کرپشن کے کھلاڑی بن گئے تو پھر کیا ہوا۔۔؟عثمان بزادر کے مرحوم والد جناب فتح محمد بزدار کے پاس پونے چار ارب روپے کی آٹھ پراپرٹیاں تھی جس کے آٹھ وارث ہیں۔ عثمان بزدار نے اپنے نام پر تقریبا بیس کروڑ روپے کی پراپرٹی ڈکلیئر کی ہیں۔ لیکن عثمان بزدار کے نام کے ساتھ بے تحاشا، غیر اعلانیہ اثاثے، کاروبار اور جائیدادیں جڑی ہوئی ہیں تقریبا بیس کروڑ روپے کے غیر اعلانیہ اثاثے۔۔ ستائیس کروڑ روپے کے کاروبار اور دس ارب روپے کی جائیدادیں اور اثاثے جو مبینہ طور پر حال ہی میں حاصل کیئے گئے ہیں۔ایک ایک کی تفصیل میں آپ کے سامنے رکھوں گا۔یہاں یہ بات قابل غور ہے کہسابق وزیر اعلی عثمان بزدار کا پنجاب میں کرپشن کا نیٹ ورک پاکستان کے دوسرے صوبوں میں پہلے سے بنے ہوئے کرپشن نیٹ ورک سے کسی بھی صورت کم نہ تھا۔اور ان کے تمام معیاروں پر پورا اترتا تھا۔

    سینئرصحافی کھراسچ پروگرام کے میزبان مبشرلقمان کہتےہیں کہ اگرچہ پبلک سیکٹر کے فنڈز کی آمد محدود رہی ،لیکن عثمان بزدار حکومت کے دوران کرپشن نے نئی بلندیوں کو چھو لیا ۔ سالانہ ترقیاتی منصوبے کی مد میں آخری سال بڑے پیمانے پر فنڈز آنے کے بعد، بزدار اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے غیر معمولی بدعنوانی کی کوشش کی گئی جس کے گورننس اور صوبے کی مالیاتی صحت پر سنگین اثرات مرتب ہوئے۔شروع میں بدعنوانی انفرادی سطح پر کی گئی پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ منظم کرپشن میں تبدیل ہو گئی۔ سابق پرنسپل سکریٹری مسٹر طاہر خورشید جسے عثمان بزدار کی مکمل حمایت اور منظوری حاصل تھی نے بدعنوانی کے مشترکہ ایجنڈے کے تحت کلیدی اداروں اور محکموں کے سربراہان کی تقرریاں کی ۔ اس عمل سے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنے کے لیے اور کرپشن کے نظام کو رواں دواں رکھنے کے لیے بار بار پوسٹنگ، ٹرانسفر کا طریقہ کار اپنا یا گیا۔ پیسے بنانے کے دیگر طریقوں میں ٹھیکے دینے کے دوران رشوت اور کک بیکس کی وصولیاں بھی شامل تھیں۔

    پنجاب میں تمام مالیاتی متعلقہ تقرریاں جن میں صوبائی سیکرٹریوں سے لے کر ہائی ویز میں ایس ای ، ایکس ای اینز ، ایس ڈی اوز، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ اور منافع بخش حلقوں کے پٹواریوں تک کو عثمان بزدار اور ان کے ساتھیوں نے فروخت کیا۔ ایسا مایوس کن معاملہ انتہائی آمرانہ حکومتوں میں بھی نہیں ہوا۔پنجاب میں بدعنوانی اور حکمرانی کا فقدان بھی بیوروکریسی کے صفوں اور فائلوں میں مایوسی اور ناراضگی کو جنم دے رہا تھا، جہاں ایماندار بیوروکریٹس کو کسی نہ کسی بہانے اہم بلوں سے انکار کیا جاتا رہا۔ عثمان بزدار کی غلط حکمرانی اور بدعنوانی کا ایسا بے لگام جادو پنجاب میں پی ٹی آئی کے ووٹ بینک کے لیے انتہائی نقصان دہ تھا۔ کرپشن کے دوسرے مرحلے میں طاہر خورشید، سابق سیکرٹری وزیراعلیٰ سارے کھیل کے مرکزی کردار تھے،

    سینئرصحافی کھراسچ پروگرام کے میزبان مبشرلقمان کہتےہیں کہ جب وہ ڈی جی خان قبائلی علاقے میں خدمات انجام دے رہے تھے تو وہ عثمان بزدار سے واقف تھے۔بزدار نے انہیں اپنے ابتدائی مرحلے میں کمشنر ڈی جی خان تعینات کر دیا۔ طاہر خورشید نے بزدار خاندان کے معاملات اس قدر اچھے طریقے سے چلائے کہ وزیراعلیٰ کے اعتماد میں اضافہ ہوا۔ بعد ازاں عثمان بزدار نے انہیں سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو مقرر کیا جہاں انہوں نے اربوں کمائے۔ اس کیس پر ان کے خلاف نیب انکوائری بھی جاری ہے۔پنجاب حکومت نے جب لوکل گورنمنٹ اور LG &CDکے لیے پچاسی ارب روپے کی منظوری دی تو عثمان بزدار نے طاہر خورشید کو ان فنڈز کی ترسیلات کے لیے سیکرٹری LG & CD لگا دیا۔ جب عثمان بزدار نے انہیں سیکرٹری سی ایم سیکرٹریٹ تعینات کیا تو طاہر خورشید نے ہم خیال بیوروکریٹس کی پوسٹنگ کا انتظام شروع کر دیا۔ جس سے ماہانہ ایک سے پانچ کروڑ روپے رشوت کا راستہ صاف کیا گیا۔ جبکہ دیگر بیوروکریسی کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرنے کے لیے خوف اور غلط الزامات کا سہارا لیا گیا۔وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں طاہر خورشید کی تعیناتی نے منظم طریقے سے عوامی فنڈز کے غلط استعمال کے سائنسی طریقہ کار کی راہ ہموار کی۔ایک ہاوسنگ سوسائٹی جولاہور میں ہے ۔۔ کو ٹیکنیکل Approvalکے بغیر پندرہ دن میںNOC دے دیا گیا، اور پچیس کروڑ روپے کی مبینہ کرپشن کی گئی۔نظام کو ٹھیک کرنے کے دعوے داروں نے123پٹواریوں کو ایک دن میں پندرہ لاکھ فی پٹواری حاصل کر کے تعینات کر دیا۔ اور ایک ہی دن میں اٹھارہ کروڑ چالیس لاکھ روپے بنا لیے گئے۔طاہر خورشید نے کمشنر ساہیوال پر ہڑپہ ٹیکسٹائل ملز کی 800 کنال زمین کو صنعتی سے رہائشی میں تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔ حثیت کی تبدیلی سے زمین کی قیمت میں چالیس ارب روپے کا اضافہ ہوا اور آٹھ ارب روپے کی مبینہ کرپشن کی ڈیل کی گئی۔عثمان بزدار کے بھائی عمر بزدار کو ملتان میں سٹی ہاؤسنگ کی توسیع کی منظوری دی گئی ۔ پچاس کروڑ کی مبینہ کرپشن۔

    ان کا کہنا تھا کہ عمر بزدار کے فرنٹ مینوں نے ادویات کی مقامی خریداری اور ڈی جی خان میں ٹرانسپورٹ سے ٹول ٹیکس کی وصولی میں ملوث ہو کر ماہانہ ایک کروڑروپے کمائے، ہاؤسنگ اسکیموں کی منظوریاں دے کر سالانہ پچاس کروڑ روپے کمائے گئے۔جعفر بزدار (بھائی) نے سرکاری پوسٹنگز کروا کر دو کروڑ روپے ماہانہ کہ بنیاد پر کمائے۔ CEO LWMCنے مشینری کی خریداری کے لیے چھ ارب روپے کے معاہدوں کو حتمی شکل دی جس میں دو ارب روپے کی مبینہ کرپشن کی گئی۔ محکمہ صحت میں لاہور کے پانچ بڑے ہسپتالوں میںLocal purchase کی مقدار ڈیڑھ ارب ہے، سپیشلائزڈ ہیلتھ کے ذریعے سابق وزیر اعلی کو بڑا حصہ دیا جاتا ۔ فارما کمپنیوں اور ہیلتھ انسپکٹرز کا ایک منظم گروپ تھا جو اس وصولی کا انتظام کرتا تھا۔صرف ایک ارب روپے توسرکاری افسران کی پوسٹنگ،تبادلوں پر کما لیئے گئے۔طور خان بزدار کو ڈی جی خان میں سڑک کی تعمیر کا ٹھیکہ چوبیس کروڑ روپے میں دیا گیا۔اورنگزیب چوہدری جو طاہر خورشید کا فرنٹ مین ہے نے ایم ایم عالم روڈ پر چار کنال کا بنگلہ خریدا۔زمین کی خریداری کے بعد، اسی گلی کو نئی سڑک کی تعمیر کے ساتھ ماڈل روڈ کا نام دیا گیا۔ اور ان سارے کاموں میں مبینہ طور پر پندرہ ارب روپے کے گھپلے کیئے گئےعمران خان کی بشری بی بی سے شادی ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ عوام کو تو یہ بتایا جاتا ہےکہ بشری عمران خان کی تیسری اہلیہ ہیں مگر سرکاری کاغذات کچھ اور ہی کہانی بتاتے ہیں ۔ کیونکہ بشری بی بی کا پاسپورٹ دیکھیں ۔ ایف بی آر کے ڈاکیومنٹ دیکھیں تو اس میں ان کا نام بشری خاور فرید ہے ۔ جبکہ شوہر کانام مانیکا خاور فرید ہے ۔ پاسپورٹ آپ سکرین پر دیکھ سکتے ہیں ۔ اسی طرح ایف بی آر کے ڈاکیومنٹس دیکھیں تو بشری بی بی کی جانب سے 2021کا ٹیکس ریٹرن جمع کروایا گیا اس میں بھی انکا نام بشری خاور فرید مانیکا ہے ۔ اسی طرح جب عمران خان اوربشری بی بی سعودی عرب گئے تو جو ویزے کا اجراء کیا گیا اس کے مطابق بھی ان کا نام بشری خاور فرید مانیکا ہی ہے ۔

    وہ کہتے ہیں کہ سوال یہ ہے کہ پاسپورٹ سمیت ویزہ اور جو 2021 میں بشری بی بی نے اپنی پہلی ریڑن جمع کروائی اس میں ان کا پرانا نام کیوں ہے کیونکہ قوم کو تو بتایا گیا تھا کہ 2018میں عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح ہوا تھا ۔ اس سے پہلے یقیناً طلاق ہوئی ہوگی ۔ سرکاری طریقہ کار یہ ہے کہ طلاق نامہ پہلے ثالثی کونسل کے پاس جاتا ہے ۔ تو اس کا نوے دن کا procedureہوتا ہے ۔ پھر نوے دن کے بعد وہ Divorce certificateدیتی ہے ۔ وہ بڑے بڑے کھڑپینچ رپورٹرز نے کوشش کی کہ نکل آئے پاکپتن ، دیپالپور کسی جگہ سے نہیں ملا ۔ اچھا نکاح کی بات کی جائے تو اس حوالے سے دو رائے ہیں کہ بنی گالہ میں نکاح ہوا ۔ دوسرا فرح گجر کے گھر لاہور میں ہوا ۔ مگر ان دونوں جگہوں سے بھی کوئی ریکارڈ نہیں ملا ۔ یہاں سے اب میں آپکو پھر پیچھے لے کر جاوں گا کہ بار بار سوال اٹھایا جاتا ہے کہ بشری بی بی کا پاسپورٹ ، ایف بی آر اور ویزا اجراء میں نام کیوں تبدیل نہیں ہوا ۔ پرانا نام کیوں چلا آرہا ہے ۔ کیونکہ ملکی قانون اور اسلام کے مطابق بیٹی کے ساتھ والد کا نام لگتا ہے اور شادی کے بعد یہ عورت کی چوائس ہے کہ وہ والد کانام لگائے یا شوہر کا ۔۔۔اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے ۔ اب اس حوالے سے جب طلاق ہوجاتی ہے تو Divorce certificateملنے کے بعد نادرا کے ریکارڈ میں عورت کے نام کے ساتھ شوہر کا نام ہٹ جاتا ہے اور والد کا نام آجا تا ہے ۔ پھر جب وہ عورت شادی کرتی ہے تو نئے شوہر کا نام لگوانا چاہے تو آئی ڈی کارڈ اس حوالے سے اپڈیٹ ہوجاتا ہے ۔

    سینئرصحافی کھراسچ پروگرام کے میزبان مبشرلقمان کہتےہیں کہ یہ کہانی بڑی ہوش ربا اور انکشافات سے بھرپور ہے ۔اس حوالے سے بہت سے رپورٹ تجزیے اور خبریں ہم نے سن رکھی ہیں کہ بشری بی بی ایک روحانی خاتون ہیں اور عمران خان ان کو بہت مانتے تھے بلکہ کچھ نے تو یہاں تک کہا کہ بظاہر عمران خان کو وزیراعظم کی کرسی تک پہنچنے میں بشری بی بی کا بڑا اہم کردار ہے ۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں بشریٰ بی بی پر پاکستان کی خاتون اول بننے کے بعد سے جادو ٹونے کا الزام لگاتی رہی ہیں ۔ اگرچہ بشریٰ بی بی کے بارے میں زیادہ معلومات عوام کے علم میں نہیں ہیں لیکن جب دونوں کی شادی ہوئی تو پاکستانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عمران خان 2015 سے بشریٰ بی بی سے روحانی رہنمائی کے لیے آ رہے تھے اور ان کی بہت سی سیاسی پیش گوئیاں سچ ثابت ہوئیں۔۔ پھر جب عمران خان اور بشری بی بی کی شادی منظر عام پر آئی تھی تو اس وقت سینئر صحافی و کالم نگار جاوید چوہدری نے اپنے کالم میں بہت سے انکشافات کیے تھے ۔ چوہدری صاحب کا لکھنا تھا کہ عائشہ گلا لئی نے یکم اگست2017ءکو عمران خان پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا۔ عمران خان الزام کے فوراً بعد تین اگست کو بشریٰ بی بی کے ساتھ پاک پتن گئے اور مزار شریف پر سلام کیا۔ بشریٰ بی بی نے خان صاحب کو تسلی بھی دی اور یہ یقین بھی دلایا ۔۔۔ آپ اس بحران سے صاف نکل جائیں گے ۔۔۔۔ بشری بی بی کی یہ بات بالکل درست ثابت ہوئی اور یہ ایشو آہستہ آہستہ دب گیا۔

    سینئرصحافی کھراسچ پروگرام کے میزبان مبشرلقمان کہتےہیں کہ چوہدری صاحب کے مطابق یہ دونوں میاں بیوی (بشری اور خاور مانیکا) عمران خان کےلئے رشتہ بھی تلاش کرتے رہے۔ یہ کوئی ایسی خاتون تلاش کر رہے تھے جس کی عمر چالیس اور پچاس سال کے درمیان ہو‘ جو مذہبی ہو‘ گھریلو ہو اور جو عمران خان کےلئے خوش نصیب ثابت ہو‘ یہ دو سال تک رشتہ تلاش کرتے رہے لیکن رشتہ نہ مل سکا لیکن آخر میں بشارت ہو ئی ۔ روحانی رہنمائی ملی اور رشتہ قرب و جوار میں ہی مل گیا۔

  • چین کے ساتھ اسٹریٹجک پارٹنرشپ بڑھانے کے خواہاں ہیں :آرمی چیف

    چین کے ساتھ اسٹریٹجک پارٹنرشپ بڑھانے کے خواہاں ہیں :آرمی چیف

    راولپنڈی:آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اسٹریٹجک پارٹنرشپ بڑھانے کے خواہاں ہیں۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے چین کی سینٹرل کمیٹی برائے خارجہ امور کے ڈائریکٹر نے ملاقات کی جس میں دفاعی تعاون، سی پیک کی پیش رفت اور خطے کی سیکیورٹی سے متعلق امور پر بات چیت کی گئی۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ملاقات میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان چین کے علاقائی و عالمی امور میں کردار کی قدر کرتا ہے، چین کے ساتھ اسٹریٹجک پارٹنرشپ بڑھانے کے خواہاں ہیں۔

    پاک فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان خطے کے امن و استحکام کے لیے عالمی پارٹنرز کے ساتھ تعاون کے لیے پرعزم ہے۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ مسٹر یانگ چیچی نے پاکستان میں مختلف منصوبوں پر تعینات چینی عملے کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے اقدامات پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا شکریہ ادا کیا۔

  • مودی سرکار نے باغی ٹی وی کا ٹویٹر اکاؤنٹ بھارت میں بلاک کروا دیا

    مودی سرکار نے باغی ٹی وی کا ٹویٹر اکاؤنٹ بھارت میں بلاک کروا دیا

    مودی سرکار نے باغی ٹی وی کا ٹویٹر اکاؤنٹ بھارت میں بلاک کروا دیا

    باغی ٹْی وی کی رپورٹ کے مطابق ٹویٹر کا دوہرا معیار، بھارت سرکار باغی ٹی وی کی کوریج سے خوفزدہ، بھارت میں باغی ٹی وی کا ٹویٹر اکاؤنٹ بلاک کروا دیا گیا

    مودی سرکار بھارت میں ایک طرف کسانوں کو کچلنے، اقلیتوں پر مظالم روا رکھے ہوئے ہے تو دوسری جانب انکے حق میں اٹھنے والی آواز کو بھی دبانے کی کوششوں میں مگن ہے، کسان تحریک کے دوران کئی کسان رہنماؤں کے ٹویٹر اکاؤنٹس معطل کروائے گئے  اب مودی سرکار نے پاکستان کے ٹویٹر اکاونٹس پر نظر رکھ لی ہے

    باغی ٹی وی نے کشمیر میں ہونے والے بھارتی فوج کے مظالم، بھارت میں مسلمانوں پر بہیمانہ تشدد، فسادات کے حوالہ سے لمحہ بہ لمحہ کوریج دی، باغی ٹی وی نے کسان تحریک، لداخ تنازعہ کو بھی مکمل کوریج دی، مودی سرکار نے ایک بار قبل بھی ٹویٹر انتظامیہ کو باغی ٹی وی کا ٹویٹر اکاؤنٹ بند کرنے کی سفارش کی تھی تا ہم ٹویٹر نے باغی ٹی وی کا اکاؤنٹ بلاک نہیں کیا گیا تھا، اب حالیہ دنوں میں ٹویٹر نے پاکستان کے متعدد ٹویٹر اکاؤنٹس بلاک کئے ہیں جس میں باغی ٹی وی کا اکاؤنٹ بھی بھارت میں بلاک کر دیا گیا ہے، ٹویٹر کی جانب سے اس ضمن میں باغی ٹی وی کو کسی قسم کی کوئی اطلاع نہیں دی گئی،بھارتی حکومت کی جانب سے میڈیا اداروں کے ٹویٹر اکاؤنٹ کو بلاک کروانا آزادی اظہار رائے کے خلاف ہے،

    بھارت میں اقلیتوں پر مظالم کرنیوالی مودی سرکار پاکستان کے خلاف تو پروپیگنڈہ کرتی ہی رہتی ہے اور کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی، اب باغی ٹی وی نے مودی سرکار کو آئینہ دکھایا تو باغی ٹی وی کا اکاؤنٹ بھارت میں بلاک کر دیا گیا باغی ٹی وی بھارت میں مسلمانوں پر روا مظالم کو بیان کرتا رہے گا باغی ٹی وی کا کھرا سچ دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد قاتل ،جنونی، انتہا پسند موذی کو ہضم نہ ہو سکا، تا ہم باغی ٹی وی کی انتظامیہ اس امر کا اعلان کرتی ہے کہ ہم دنیا کو حقائق بتلاتے رہیں گے، بھارت میں اقلیتوں پر ہونیوالے مظالم کو دنیا کے سامنے اجاگر کرتے رہیں گے،مودی سرکار اور ٹویٹر کے دباؤ میں نہیں آئیں گے

    باغی ٹی وی ” جس کا آغاز تقریبا دس برس قبل لاہورشہرسے ہوا تھا، ڈیجیٹل میڈیا کے اس نئے ٹی وی چینل کے قیام کا مقصد کرپشن ، جہالت ، ظلم اور زیادتی کے خلاف جدوجہد کرنا اوران برائیوں کے خاتمے کے لیے معاشرے کی آوازکو بلند کرنا اوراسے مناسب فورم پر پیش کرنا تھا اورہے بھی اور رہے گا بھی ،اس چینل نے جہاں ان برائیوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھی وہاں حق ، سچ ، مظلوم کی مدد اوردنیا سے جہالت ختم کرنےکے لیے اپنا بھرپورکردار ادا کیا جسے دنیا تسلیم بھی کرتی ہے

    ٹویٹر کی جانب سے ریڈیو پاکستان سمیت پاکستان کے دنیا بھر میں مختلف سفارتخانوں کے ٹویٹر اکاؤنٹس کو بھی بھارت میں بلاک کیا گیا ہے، مودی سرکار کی جانب سے باغی ٹی وی سمیت دیگر پاکستانی ٹویٹر اکاؤنٹس بلاک کروانے پر کہا گیا ہے کہ متعلقہ اکاؤنٹس بھارت کی قومی سلامتی، خارجہ تعلقات اور امن عامہ سے متعلق غلط معلومات پھیلا رہے تھے

    مودی سرکار نے اسلام آباد سے تجزیہ کار راجہ فیصل کا ٹویٹر اکاؤنٹ بھی بھارت کے لئے بلاک کروا دیا ہے

    ریڈیو پاکستان سمیت دیگر حکومت پاکستان کے آفیشیل ٹویٹر اکاونٹ بلاک ہونے پر پی ٹی اے حرکت میں آئی ہے اور ٹویٹر انتظامیہ سے ریکارڈ کروایا ہے، تا ہم کیا صرف احتجاج ریکارڈ کروا لینا کافی ہے؟ دفتر خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار نے بھارت کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت پاکستانی مشنز کے اکاؤنٹس تک رسائی فوری طور پر بحال کرے اور اظہار رائے کی جمہوری آزادیوں کی پاسداری کو یقینی بنائےبھارت میں بلاک کیے گئے اکاؤنٹس ایران، ترکی اور مصر سمیت دیگر ممالک میں پاکستان کے مشنز کے ذریعے چلائے جانے والے سرکاری ہینڈل ہیں اور بھارت کا یہ عمل تشویشناک ہے

    مودی سرکار نے ٹویٹر سے نہ صرف ٹویٹر اکاؤنٹس کو بلاک کروایا ہے بلکہ کئی ٹویٹ جو بھارتی حکومت کے خلاف تھیں انکو بھی ڈیلیٹ کروایا گیا ہے ،

    واضح رہے کہ ماضی میں بھی ٹویٹر کی جانب سے پاکستانی صارفین کے اکاؤنٹس بند کیے جاتے رہے ہیں، خصوصی طور پرٹویٹر پر کشمیر کے حق میں کچھ لکھنے پر نہ صرف پاکستان کے حکومتی عہدیداران کے اکاؤنٹس بند کئے گئے بلکہ عام شہریوں کے بھی اکاؤنٹس بند کئے گئے.

    کشمیریوں کے حق میں ٹویٹ کرنے پر ٹویٹر انتظامیہ نے صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کو بھی نوٹس بھجوا دیا تھا ،اگر حکومت پاکستان ٹویٹر کو کسی کا اکاؤنٹ بند کرنے کا کہتی ہے تو ٹویٹر انتظامیہ مانتی نہیں، قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی میں انکشاف ہوا تھا کہ ٹویٹر نے اعتزاز احسن کا جعلی اکاؤنٹ کئی بار درخواست کے باوجود بند نہیں کیا، جس پر کمیٹی نے ایف آئی اے سائبر کرائمزونگ اورٹوئٹرکے ساتھ معاہدے کی کاپی مانگ لی تھی، اراکین کمیٹی نے کہا کہ اعترازاحسن کاجعلی ٹوئٹراکاوَنٹ آج تک بندکیوں نہیں ہوا؟روبینہ خالد نے کہا کہ کِیا سارے اکاوَنٹ پاکستان سے باہر آپریٹ ہو رہےہیں ؟کچھ اکاوَنٹس گھنٹوں میں بند کیوں ہو جاتے ہیں ؟

    ٹویٹر پاکستانی حکومت کی جانب سے دی گئی ہدایات کو نہیں مان رہا البتہ انڈیا کی جانب سے کسی بھی قسم کی درخواست کو فوری قبول کر لیا جاتا ہے، اس پر پاکستان کی حکومت اور وزارت آئی ٹی کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے.

    ٹویٹربھارتی اشاروں پرناچنے لگا”باغی ٹی وی”کودھمکیاں:وزیراعظم نوٹس لیں‌

    بھارتی مسلمانوں کی آواز”باغی ٹی وی”کے ٹویٹراکاونٹ کوبلاک کرنے کے لیے بھارتی حکومت کی ٹویٹرکودرخواست، 

    :وزیرخارجہ ٹویٹرکی طرف سے بھارتی ایما پردھمکیوں کا نوٹس لیں:باغی ٹی وی کا شاہ محمود قریشی کوخط 

    ٹویٹر کے غیر منصفانہ اقدام پر باغی کے ساتھ ہمدردیاں جاری رہیں گی ، عمار علی جان

    باغی ٹی وی کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ بند کئے جانے کی درخواست دینے پر پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور و دیگر عہدیداران کا رد عمل

    حکومت پاکستان ٹویٹرکی بھارتی نوازی کا معاملہ عالمی سطح پراٹھائے”باغی ٹی وی”کےاکاونٹ کوبلاک کرنےکا نوٹس لے

    ”باغی ٹی وی”کاٹویٹراکاونٹ بلاک کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیاں ناقابل قبول:بھارت نوازی بند کی جائے:طاہراشرفی 

    بھارت کی ایما پر”باغی ٹی وی”کا ٹویٹراکاونٹ بند کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیوں ‌کی مذمت کرتےہیں‌:وزرائےگلگت بلتستان اسمبلی

  • ہمارے دورمیں مہنگائی کا شور مچانے والوں نے آتے ہی مہنگائی کردی. عمران خان

    ہمارے دورمیں مہنگائی کا شور مچانے والوں نے آتے ہی مہنگائی کردی. عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران نے اسلام آباد میں ورکر کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ ہمارے دور میں مہنگائی کا شور کررہے تھے خود اقتدار میں آتے ہی مہنگائی کردی ہے.

    عمران خان نے دعوی کیا کہ دو جولائی کو اسلام آباد کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ کرنے جارہے ہیں، اور ساتھ ہی کارکنان کو کہا کہ آپ نے ڈور ٹو ڈور جانا ہے اور جلسہ میں شرکت کیلئے عوام سے درخواست کرنی ہے انہوں حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو ملزم ہے وہ کبھی قاضی نہیں بن سکتا کیونکہ چور کبھی بھی اپنا احتساب نہیں کرسکتا ہے اور امریکہ نے یہ جو لوگ ہم پر سازش کے ذریعے نازل کیئے یہ مانے ہوئے کرپٹ لوگ ہیں اور ان غداروں نے امریکہ کے ساتھ مل کر ایک متخب حکومت کوختم کیا تاکہ یہ لوگ جو مسلسل تیس سال سے چوری کررہے ہیں اس کو جاری رکھ سکیں.

    انہوں نے ورکز کو بتایا کہ امریکہ کے غلاموں کی اس حکومت نے آتے ہی ناصرف مہنگائی کی بلکہ نیب کو ختم کیا، ایف آئی اے کو اپنے ماتحت کیا اور اپنے اوپر بنائے گئے سارے کیسز ختم کروائے، گیارہ سو ارب کے کرپشن کے کیسز انہوں نے ختم کیئے نیب ترامیم کرکے تاکہ یہ اپنی کرپشن کا تحفظ کرسکیں.

    عمران خان نے کہا کہ: پاکستان کی تاریخ میں کبھی محض دو ماہ میں اتنی مہنگائی نہیں ہوئی جتنی ان کے دور میں ہوئی ہے. اور اس سے عام آدمی کے اوپر شدید ترین بوجھ پڑا کیونکہ پٹرول، ڈیزل، بجلی اور گیس سب مہنگا کردیا، اور پھر ضروری اشیاء خوردونوش آٹا، گھی، حتکہ چاول کو بھی دگنا مہنگا کردیا.

    ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی آسمان پر اور معیشت زمین پر آگئی، اور ہمارا روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے تیس روپے اور گر گیا ہے، لیکن بات صرف اتنی نہیں بلکہ اور مہنگائی آنی ابھی باقی ہے.

    سابق وزیر اعظم نے دعوی کیا کہ پاکستان کی معاشی سروے کہتی ہے کہ سترہ سال میں جو بہترین پرفامنس تھی وہ ہمارے آخری دو سالوں میں تھی.

    چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ہم پر بھی آئی ایم ایف کاپریشر تھالیکن ڈھائی سال مہنگائی روکے رکھی، امپورٹڈ حکومت نے ایک طرف مہنگائی مسلط کردی،وہ بوجھ ڈالا،بجلی ،گیس،پیٹرول ،ڈیزل سب مہنگا ہوگیا، ڈالر30روپےاور مہنگا ہوگیا،ڈیزل، پیٹرول،گیس اور مہنگی ہونگی۔

    جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ کو مخاطب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ جب مشکل وقت آتاہے توڈیزل عمرہ کرنےچلا جاتا ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ ہر دور میں یزید آتا ہے اور لوگوں کے دلوں میں خوف پیدا کرتا ہے، کوفے والوں کو پتہ تھا کہ امام حسین ؑ حق پر تھے مگر یزیدی خوف کے باعث انہوں نے مدد نہ کی ہمارے ملک کےساتھ جو ظلم ہورہاہےاس کےخلاف سارےپاکستانی آواز بلند کریں۔

  • عمران خان مہم چلا رہے کہ ادارے نیوٹرل نہیں بلکہ ٹائگرفورس بن جائیں۔ بلاول بھٹو زرداری

    عمران خان مہم چلا رہے کہ ادارے نیوٹرل نہیں بلکہ ٹائگرفورس بن جائیں۔ بلاول بھٹو زرداری

    آج اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا جس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زارداری نے اسپیکر پرویز اشرف کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپ جس انداز سے یہ اجلاس چلا رہے ہیں، مجھے اس کا اندازہ ہی نہ تھا کہ اجلاس اس طرح بھی چل سکتا ہے کیوں کہ آپ ناصرف حکومتی ارکان بلکہ حزب اختلاف کو بھی بھرپور موقع فراہم کررہے ہیں. انہوں نے یاد دلایا کہ ابھی ہی بات ہے پچھلے چار سالوں میں ہمیں بڑی مشکل سے مائیک ملتا تھا.

    ان کا کہنا تھا کہ: جب بھی ادارے نیوٹرل رہے ہیں تو پیپلزپارٹی جیتی ہے اور اب بھی ادارے اسی طرح غیرجانبدار رہتے ہیں تو آئیندہ بھی پیپلزپارٹی جیتے گی، اور پاکستان پیپلزپارٹی اس ملک میں جمہوریت کیلئے، صاف و شفاف الیکشن کیلئے اور اس ملک کے باشندوں کے معاشی حقوق کیلئے جو جدوجہد کی ہے وہ ہم آج سے نہیں بلکہ تین نسلوں سے کرتے چلے آرہے ہیں.

    انہوں نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ: ہم ہر فرعون اور ہر آمر اور ظالم کا مقابلہ کرتے ہوئے آرہے ہیں پھر وہ چاہے جنرل ضیاء الحق کی آمریت ہو جسکے سامنے پیپلزپارٹی کے جیالے ڈٹ کر کھڑے رہے حتکہ کہ ان کو پھانسی کے پھندہ پر لٹکا دیا گیا اور بے شمار تشدد ہوا جس میں ہم نے ضیاء کا دور دیکھا ہے، اور ان سے مقابلہ کرکے ظلم سے پاکستان کو نجات دلوائی ہے.

    ان کہنا تھا کہ اس ملک میں جب کبھی بھی دھاندلی ہوئی ہے وہ صرف اور صرف پیلزپارٹی کیخلاف ہوئی ہے، تاکہ وہ اس جماعت کو روک سکیں، شہید ذولفقار علی بھٹو اور شہید بے نظیر بھٹو کا راستہ روکنے کیلئے دھاندلی جیسے ہتھکنڈے اپنائے گئے، اور یہ دھاندلی کرنے والا نظام انہی کے خلاف کھڑا کیا گیا تھا، جو اس ملک شفاف انتخابات کی تحریک ہمیشہ ہماری جماعت نے لیڈ کی ہے اور آج تک کرتی چلی آرہی ہے،

    بلاول نے پی ٹی آئی طرف اشارہ کیا کہ یہ دھاندلی پیداوار کبھی جیت نہیں سکتے ہیں، عمران خان کو اب شکایت ہے کہ ہمارے ادارے نیوٹرل کیسے ہیں؟ عمران خان مہم چلا رہے ہیں کہ ادارے نیوٹرل کیوں ہیں ؟ کیونکہ یہ لوگ 2018 کے الیکشن میں دھاندلی سے جیت کر اقتدار میں آئے تھے۔ اداروں کوغیرجانبدار ہونا چاہئے کیونکہ اگر ادارے نیوٹرل رہتے ہیں تو غیر جمہوری جماعتیں جیسے عمران خان کی جماعت ہے کبھی بھی نہیں جیت سکتے ہیں، اور ان کو یہ معلوم ہے لہذا یہی وجہ ہے کہ آج وہ مہم چلا رہے ہیں کہ ہمارے ادارے نیوٹرل نہیں، آئینی نہیں، بلکہ متنازع کردار ادا کریں، اور خان صاحب کی ٹائگر فورس بن کر کام کریں.

    ان کا مزید کہنا تھا کہ: خان کی طرح سندھ میں بھی کچھ ایسی جماعتیں، سیاستدان، اورکٹھ پتلیاں ہیں کہ جب بھی ہیں کہ جب بھی آمرانہ دور آتا ہے تو ان کوکھڑا کردیا جاتا ہے، اور اب ان کی امید انہی کی طرح اس بات پر تھی کہ ہمارے ادارے غیرجانبدار کیوں ہیں، کیونکہ ایسے لوگ چاہتے ہیں کہ ہمارے ادارے غیر سیاسی نہیں بلکہ فریق بن کر سیاست میں پسند نہ پسند کا کردار ادا کریں، اور جب یہ ادارے غیرجانبدار ہونا شروع ہوئے چاہے الیکشن کمیشن ہو، عدالت ہو، یا پھر دوسرے ادارے جو انتخابات میں دلچسپی لیتے تھے، اور اس لوکل باڈی الیکشن میں ان کا دلچسپی نہ تھا. تو ان لوگوں کو پریشانی لاحق ہوگئی کیونکہ یہ جانتے ہیں کہ ادارے غیرمتنازع رہے تو ان کی ضمانتیں ضبط ہوجائیں گی، اور وہی ہوا ہے.

    وزیرخزانہ نے دعوی کیا کہ: ان کو 2018 کے الیکشن میں دھاندلی کرکے یہاں لایا گیا، اور الیکشن کے دور میں انہوں نے ہمارے عابد کے بھائی کو قید میں رکھا تھا تاکہ ان کا بندہ الیکشن لڑسکے، لیکن جب صاف الیکشن ہوں گے ان کو بھاگنے کی جگہ نہیں ملے ہی نہیں ملے گی۔

  • عثمان بزدار کاجنوبی پنجاب سے مبینہ فرنٹ مین اینٹی کرپشن کے ہتھے چڑھ گیا

    عثمان بزدار کاجنوبی پنجاب سے مبینہ فرنٹ مین اینٹی کرپشن کے ہتھے چڑھ گیا

    عثمان بزدار کاجنوبی پنجاب سے مبینہ فرنٹ مین اینٹی کرپشن کے ہتھے چڑھ گیا
    مظفرگڑھ۔ سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان احمدخان بزدار کے مبینہ فرنٹ مین کو اینٹی کرپشن مظفرگڑھ نے گرفتار کرلیاہے۔
    باغی ٹی وی۔تفصیلات کے مطابق اینٹی کرپشن مظفرگڑھ نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان احمدخان بزدار کے جنوبی پنجاب سے مبینہ فرنٹ مین ایس ای لوکل گورنمنٹ خرم عباس کو اینٹی کرپشن مظفرگڑھ نے گرفتار کرلیاہے۔ایس ای لوکل گورنمنٹ خرم عباس ڈیرہ غازیخان میں تعیناتی کے دوران بڑے پیمانے پر کرپشن میں ملوث رہا ہے جہاں پراس نے اس حد تک کرپشن کی کہ کاغذات میں کروڑوں روپے کی سکیمں مکمل ہیں لیکن فزیکلی طورپران سکیموں کا زمین پر کہیں بھی وجود نہیں ہے اور اِدھر مظفرگڑھ میں 134 ترقیاتی اسکیموں کی جانچ پڑتال کے دوران بے ضابطگیاں ثابت ہونے پر مقدمات درج کیے گئے ،جسے آج اینٹی کرپشن مظفرگڑھ نے گرفتارکیا ہے۔