Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • آرمی چیف سے چینی سفیر کی ملاقات، باہمی دلچسپی اور دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال

    آرمی چیف سے چینی سفیر کی ملاقات، باہمی دلچسپی اور دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال

    راولپنڈی:آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے چینی سفیر کی ملاقات ہوئی، باہمی دلچسپی اور دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سپہ سالار اور چینی سفیر کی ملاقات میں سی پیک پر ترقیاتی کاموں اور علاقائی سلامتی پر بھی بات چیت ہوئی۔

    اس موقع پر جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان عالمی اور علاقائی معاملات میں چین کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، پاکستان اپنی تزویراتی شراکت داری کو بڑھانے کا منتظر ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنے عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کے لیے پرعزم ہے۔

  • چیف جسٹس کا جوڈیشل کمیشن کی آڈیو ریکارڈنگ سپریم کورٹ کی آفیشل ویب سائٹ پر جاری کرنے کا حکم

    چیف جسٹس کا جوڈیشل کمیشن کی آڈیو ریکارڈنگ سپریم کورٹ کی آفیشل ویب سائٹ پر جاری کرنے کا حکم

    اسلام آباد:چیف جسٹس کا جوڈیشل کمیشن کی آڈیو ریکارڈنگ سپریم کورٹ کی آفیشل ویب سائٹ پر جاری کرنے کا حکم،اطلاعات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان کی طرف سے یہ حکم دیا گیاہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس کی تمام آیڈیو ریکارڈنگ ویب سائٹ پر پبلک کی جائے تاکہ پاکستانیوں کو ساری صورت حال کا معلوم ہوسکے

     

    ترجمان سپریم کورٹ کے مطابق چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ اجلاس کی آڈیو ریکارڈنگ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری کی جائے۔

    ترجمان کے مطابق جسٹس فائز عیسیٰ اور جسٹس سردار طارق نے جوڈیشل کمیشن اجلاس کے اعلامیے سے اختلاف کیا جس کے باعث چیف جسٹس نے آڈیو ریکارڈنگ جاری کرنے کی ہدایت کی۔

    اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ آڈیو ریکارڈنگ کے ایک گھنٹہ 29 منٹ سے ایک گھنٹہ 38 منٹ تک اٹارنی جنرل کی گفتگو ہے جس میں انہوں نے رولز بننے تک ججز تعیناتی کا معاملہ مؤخر کرنے کی بات کی۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل نے میرٹ پر کسی نامزدگی کی حمایت یا مخالفت نہیں کی بلکہ کمیشن کے 5 ارکان نے کل ہونے والا اجلاس مؤخر کرنے کی حمایت کی تھی۔

     

    https://www.supremecourt.gov.pk/

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی طرف سے قوم کے نام بڑی مودبانہ گزارش کی گئی ہےکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس طارق مسعود کے خطوط کی وجہ سے ابہام پیدا ہوا اس لیے اجلاس کی آڈیو جاری کی جاتی ہے

     

     

    یاد رہے کہ اس سے پہلے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس پاکستان اور جوڈیشل کمیشن کے دیگر اراکین کو خط لکھ کریہ تاثر دیا تھا کہ کس طرح انہوں نے اور دیگر 4 اراکین نے سندھ ہائیکورٹ کے 3 اور لاہور ہائیکورٹ کے ایک جونیئر جج کے نام سپریم کورٹ میں تعیناتی کے لیے رد کیے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خط میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال اچانک اجلاس چھوڑ کر چلے گئے، جس کے بعد جسٹس اعجازالاحسن بھی چلے گئے۔

    خط میں لکھا گیا ہے کہ آئین متوقع تقرریوں کی اجازت نہیں دیتا، چیئرمین جوڈیشل کمیشن نے اجلاس میں لیے گئے فیصلے ڈکٹیٹ نہیں کرائے، لہذا اب یہ قائم مقام سیکریٹری کی ذمہ داری تھی کہ وہ جوڈیشل کمیشن پاکستان کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کے منٹس تیار کریں۔

    جوڈیشل کمیشن کی گزشتہ روز کے اجلاس پر ایک اور سپریم کورٹ کے جج کا خط سامنے آگیا، جسٹس سردار طارق مسعود نے چیف جسٹس اور جوڈیشل کمیشن کے ارکان کو خط لکھا۔

    جسٹس طارق مسعود کے خط کے مطابق جوڈیشل کمیشن کے اجلاس شروع ہوا تو چیف جسٹس نے اپنے نامزد ججز کے کوائف بارے بتایا، پھر جسٹس ریٹائرڈ سرمد جلال عثمانی نے چار ججز کی تقرری کے حق میں جب کہ ایک جج کی تقرری کے خلاف رائے دی، میں نے بھی اپنی باری پر رائے دی اور جسٹس اطہر من اللہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کی سپریم کورٹ میں تقرری کا کہا، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سجاد علی شاہ نے چیف جسٹس کے ناموں کی منظوری دی۔

    اپنے خط میں جسٹس طارق مسعود نے لکھا کہ میں نے بھی سندھ ہائی کورٹ کے تین اور لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج کی نامزدگی کو نامنظور کیا، چیف جسٹسز ہائی کورٹس میں جسٹس اطہر من اللہ سینئر ترین جج ہیں، اٹارنی جنرل، وزیر قانون اور بار کونسل کے نمایندوں نے مجھ سے اتفاق کرتے ہوئے چار نامزد ججز کی تقرری کو نامنظور کیا، جسٹس قاضی فائز عیسیـ چیف جسٹس کی جانب سے نامزدگیوں کو نامنظور کرنے کی وجوہات بتا رہے تھے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی رائے کے دوران ہی چیف جسٹس غیر معمولی اور غیر جمہوری عمل کرتے ہوئے کمیشن کا فیصلہ لکھوائے بغیر اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے۔

  • سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری

    سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری

    ملک میں سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان میں اوتھل کے 4 دیہات کے 2300 سے زیادہ نفوس کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا متاثرہ آبادی والے علاقوں میں خیمے، راشن اور خوراک فراہم کی جارہی ہے،4 مقامات سے بند ہونے والی این 25 قومی شاہراہ کو ٹریفک کے لئے کھول دیا گیا پی ٹی اے کے اشتراک سے بالخصوص لسبیلہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مواصلاتی نظام بحال کر دیا گیا بلوچستان کے مختلف اضلاع میں یکم جولائی سے اب تک 467 فیصد غیر معمولی بارشیں ہو چکی ہیں بارشوں کے باعث لسبیلہ، کیچ،کوئٹہ، سبی،خضدار اور کوہلو سب سے زیادہ متاثر ہوئے،بلوچستان میں بارشوں سے 3953 مکانات کو نقصان پہنچا، حب،گڈانی،بیلہ،دودار اور جھل مگسی کے متاثرہ علاقوں میں 5 میڈیکل کیمپس قائم کئے گئے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق صرف کراچی میں پانی نکالنے کے لیے 58 ڈی واٹرنگ ٹیمیں لگائی گئی ہیں ،ٹھٹھہ میں گھارو گرڈ اسٹیشن سے آرمی ڈی واٹرنگ ٹیموں نے پانی نکال دیا جامشورو میں 300 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا پاک فوج نے جامشورو میں ریلیف کیمپ قائم کر دیا،لٹھ ڈیم کے بھرنے سے ایم نائن شاہراہ مختلف مقامات پر زیر آب آگئی ٹیمیں سڑک کو صاف کرنے کے لیے بھاری مشینری کے ساتھ کام کررہی ہیں ،دادو اور خیرپور میں مقامی لوگوں کو راشن اور ادویات فراہم کی جا رہی ہیں

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق گلگت بلتستان میں بھی پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں،شاہراہ قراقرم اور جگلوٹ اسکردو روڈ کو ایف ڈبلیو او نے کھول دیا گیا ،سیلابی ریلے کی وجہ سے ضلع غذر کا رابطہ منقطع ہوگیا، مواصلاتی نظام بحال کر دیا گیا مقامی لوگوں کو خوراک اور ادویات فراہم کی گئی ہیں بارش سے خیبرپختونخوا کے اضلاع ٹانک، چترال اور صوابی بری طرح متاثر ہوئے ،چترال ،مستوج اور ٹانک گومل زام ڈیم روڈ کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا،

    سیلاب سے ہونے والے نقصان کے سرکاری اعداد وشمارجاری

    حکومت بارش سے متاثرہ افراد کو معاوضہ دینے کا اعلان کرے،سربراہ پاکستان سنی تحریک

    بارش کے بعد کی صورتحال ، میئر کراچی نے گورنر سندھ سے ملاقات میں وفاق سے مدد مانگ لی

    اکثر ارکان اسمبلی ڈیفنس اور کلفٹن کے رہائشی ہیں انہیں پتا ہی نہیں کہ کراچی کے عوام کے مسائل کیا ہیں،حافظ نعیم الرحمان

  • کرنل لئیق کی شہادت، لاپتہ افراد کے حوالہ سے پروپیگنڈہ بے نقاب،ظہیرزندہ نکلا

    کرنل لئیق کی شہادت، لاپتہ افراد کے حوالہ سے پروپیگنڈہ بے نقاب،ظہیرزندہ نکلا

    کرنل لئیق کی شہادت، لاپتہ افراد کے حوالہ سے پروپیگنڈہ بے نقاب،ظہیرزندہ نکلا
    اداروں کے خلاف پروپیگنڈہ ایک بار پھر بے نقاب ہو گیا،زیارت آپریشن میں مبینہ طور پرجانبحق انجینئر ظہیراحمد زندہ نکلا

    وطن عزیز پاکستان میں جب بھی دہشت گردی کی کوئی کاروائی ہوتی ہے تو اسکے بعد اداروں کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کیا جاتا ہے،ملک دشمن عناصر سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ کرتے ہیں جبکہ حقیقت کچھ اور ہوتی ہے، بلوچستان مین افسوسناک واقعہ پیش آیا، کرنل لئیق اور انکے کزن کوشہید کیا گیا بعد ازاں آپریشن میں جو دہشت گرد جہنم واصل ہوئے انکو لاپتہ افراد کے طور پر دکھایا جانے لگا کہ لاپتہ افراد کو مار دیا گیا حالانکہ ایسا نہیں ہے مارے جانے والے دہشت گرد ہی تھے

    لاپتہ افراد کے لواحقین کیجانب سے زیارت میں بے گناہوں کو مارنے کے الزام کی حقیقت سامنے آ گئی، الزام لگایا گیا تھا کہ ظہیر کو مار دیا گیا تا ہم ظہیر نہ تو لاپتہ تھا اور نہ ہی اسے مار دیا گیا تھا بلکہ ظہیر زندہ تھا اور ظہیر احمد ایران میں قید تھا،گذشتہ دنوں کوئٹہ آیا ظہیر احمد اور اسکے اہلخانہ نے پیپلزپارٹی کے رہنما نور احمد بنگلزئی کے ہمراہ پریس کانفرنس کی ہے،

    نور احمد بنگلزئی کا کہنا تھا کہ زیارت میں لیفٹیننٹ کرنل لئیق کو انکی فیملی کے سامنے کزن کے ساتھ اغوا کیا گیا، کرنل لئیق اور انکے کزن کی مسخ شدہ لاشیں ملیں ، زیارت واقعے کے بعد آپریشن ہوا، دہشتگردوں کے خلاف آپریشن ہوا کئی دہشت گرد مارے گئے، کچھ لوگوں نے بعد میں لاشوں پر سیاست کی اور کہا کہ لاپتہ افراد کو قتل کیا گیا، کہا گیا واقعے میں ظہیر بلوچ نامی لڑکے کو بھی قتل کیا گیا،ظہیر احمد بنگلزئی ہیں میرے ساتھ بیٹھے ہیں میرے قبیلے سے ہیں

    ظہیر احمد کا کہنا تھا کہ میرا تعلق کسی تنظیم سے نہیں ، کسی ادارے کے خلاف نہیں ہوں میں کاروباری آدمی ہوں ، ملک سے باہر جانا چاہتا تھا،کچھ لوگوں نے کہا کہ وہ باہر بھجوا دیں گے،میں ان کے ساتھ چلا گیا وہ براستہ نوشکی ایران لے گئے، ایرانی فورسز نے ہمیں گرفتار کرلیا، 10 ماہ وہاں قید رہا،دس ماہ بعد انہوں نے ہمیں رہا کیا تو ایرانی بارڈر سے لفٹ لیکر واپس پہنچا

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    کرنل لئیق کے قاتلوں کو لاپتہ افراد میں شامل کرنے کی مذموم کوشش ناکام

  • احتساب گورننس اور حکومت چلانے کیلئے بہت ضروری ہے، چیف جسٹس

    احتساب گورننس اور حکومت چلانے کیلئے بہت ضروری ہے، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں نیب قانون میں ترمیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی،دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ رات سے نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی پٹیشن پڑھ رہا ہوں اپنی معروضات تفصیل سے پیش کریں کہ ترامیم آئین سے کیسے متصادم ہیں؟ عوام کے کونسے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں انکی نشاندہی کریں؟ یہ بھی بتائیں کونسی ترامیم ایسی ہیں جن سے نیب قانون اور کیسز متاثر ہو رہے ہیں؟

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی نیب ترامیم کیخلاف درخواست زیر سماعت ہے، کیا مناسب نہیں ہوگا پہلے ہائیکورٹ کو فیصلہ کرنے دیا جائے؟ وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ نیب ترامیم کا اطلاق ایک ہائیکورٹ نہیں پورے ملک پر ہوگا، نیب ترامیم کے بعد عوامی عہدیدار احتساب سے بالاتر ہوگئے ہیں،درخواستیں شاید مختلف ہائیکورٹس میں بھی آ جائیں، ابھی تک کسی اور ہائیکورٹ میں درخواست نہیں آئی، احتساب کے بغیر گورننس اور جمہوریت نہیں چل سکتے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بے نامی دار ایشو پر بھی وضاحت کریں،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ نیب ترامیم کے بعد عوامی عہدیدار احتساب سے بالاتر ہوگئے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے خواجہ حارث کو تجویز دی اور کہا کہ اگر آپ اپنی گزارشات کا مختصر چارٹ بنالیں تو بہتر رہے گا،

    جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ اگر حکومت نیب قانون ختم کر دیتی تو آپکی درخواست کی بنیاد کیا ہوتی؟ وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ اسلام اور آئین دونوں میں احتساب پر زور دیا گیا ہے، عدلیہ کی آزادی اور عوامی عہدیداروں کا احتساب آئین کی بنیادی جزو ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا عدالت ختم کیا گیا نیب قانون بحال کر سکتی ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ آئین کی اسلامی دفعات کا حوالہ دے رہے ہیں، چیک اینڈ بیلنس ہونا جمہوریت کیلئے بہت ضروری ہے، کرپشن یہ ہے کہ آپ غیر قانونی کام کریں اور اس کا کسی کو فائدہ پہنچائیں، کرپشن بنیادی طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال اور خزانے کو نقصان پہنچانا ہے، اگر کہیں ڈیم بن رہا ہو اور کوئی لابی اسکی مخالفت کرے وہ قومی اثاثے کی مخالفت ہوگی، سابق جج مظہر عالم کہتے رہے ڈی آئی خان کو ڈیم کی ضرورت ہے،احتساب گورننس اور حکومت چلانے کیلئے بہت ضروری ہے،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی ترمیم اگر مخصوص ملزمان کو فائدہ پہنچانے کیلئے ہے تو وہ بتائیں،کیا آپ چاہتے ہیں عدالت پارلیمنٹ کو قانون میں بہتری کا کہے، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ جو ترامیم آئین سے متصادم ہیں انہیں کالعدم قرار دیا جائے، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے لکھا ہے ترامیم پارلیمانی جمہوریت کے منافی ہے،کئی ترامیم آئین کے بنیادی ڈھانچہ کے برعکس کے ہیں، پارلیمان کا اختیار ہے کہ مکمل آئین بھی تبدیل کر سکتی ہے،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ سپریم کورٹ آئینی ترامیم کیس میں بنیادی ڈھانچے کو تسلیم کر چکی،نئی نیب ترامیم کا بھی 1985 سے نفاز کردیا گیا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں ترمیم سے تمام زیر التوا مقدمات انکوائریز پر فرق پڑتا ہے،جن کو سزا ہو چکی ہے ان پر ترمیم کا کیا فرق پڑے گا ؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ترمیم کی ذریعے ملزم کو اثاثے ٹرانسفر کرنے کا اختیار دیدیا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے تو نیب ملزم کے اثاثے عدالت سے منجمد کرا دیتا تھا،خواجہ حارث نے کہا کہ اب قانونی اجازت کو ترامیم سے نیب قانون سے حذف کردیا گیا ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل میں ایک ثبوت آ گیا تو یہ نہیں کہا جا سکتا باہر سے دوبارہ ثبوت لائے،خواجہ حارث نے کہا کہ اگر ایسا ہوجائے تو مجھے کیا اعتراض ہے،

    خواجہ حارث نے کہاکہ نیب قانون میں ترامیم کا سلسلہ اب بھی جاری ہے،یہ ترمیم بھی شامل ہے جو پلی بارگین کریں وہ وعدہ معاف گواہ نہیں بن سکتا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ پلی بارگین کرنے والے کا وعدہ معاف گواہ بنایا جائے،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کئی نیب ترامیم سے جرم کو ثابت کرنا مشکل بنادیا گیا، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کے معاملہ پر عدالتی اختیار تب شروع ہوگا جب وہ غیر آئینی ہو،وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ ترامیم کے تحت ریلیف کو درخواست پر فیصلے سے مشروط کیا جائے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ریلیف کے حوالے سے کوئی بہت ایمرجنسی ہے اس حوالے سے بتائیں، یہ بھی بتائیں کیا بہت زیادہ زیر التوا مقدمات ترامیم سے متاثر ہونگے؟ خواجہ حارث نے کہا کہ حکم امتناعہ نہیں مانگ رہا لیکن ترامیم کے تحت ملنے والا ریلیف مشروط کیا جائے،عدالت نے ترامیم کے تحت ریلیف کو مشروط کرنے کی درخواست پر حکومت کو نوٹس جاری کر دیا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے تحت عدالت نے اپنا کام کرنا ہے،اپنے حلف کے تحت شفاف انداز میں کام جاری رکھیں گے،جمعہ پرامن ہوتا ہے اس لیے آئندہ جمعہ کو دوبارہ سماعت کرینگے،عام دنوں میں تو شام کو بھی کچھ نہ کچھ ہوتا رہتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم رات 9 بجے تک بیٹھتے ہیں کبھی آپکو بھی زحمت دینگے، عدالت اسٹے کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہیں،

    سپریم کورٹ میں نیب قانون میں ترمیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت آئندہ جمعہ تک ملتوی کر دی گئی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل سے کہا کہ آئندہ ہفتے مزید تفصیلات سے عدالت کو آگاہ کریں ،ہمیں خوشی ہے کہ آپ تیاری کرکے آئے ہیں، عدالت اسٹے کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے ایک دن پہلے عدالت کی معاونت کی تھی جب کچھ لوگ چلے گئے تھے،

     فل کورٹ مستر کیا جاتا ہے تو ہم بھی عدلیہ کےاس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں.حکمران اتحاد 

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    مریم نواز کی حکومتی اتحاد کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس

    پرویز الہٰی کے وکیل نے نظرثانی درخواست کی سماعت کے لیے لارجر بینچ بنانے کی استدعا کردی

  • فارن فنڈنگ کیس: ناصرف تحریک انصاف کی رجسٹریشن ختم ہوگی بلکہ عمران خان نااہل بھی ہوسکتے؟

    فارن فنڈنگ کیس: ناصرف تحریک انصاف کی رجسٹریشن ختم ہوگی بلکہ عمران خان نااہل بھی ہوسکتے؟

    سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے غریدہ فاروقی کے پروگرام میں کہا کہ "فارن فنڈنگ کیس میں اتنا بڑا فیصلہ آ رہا ہے کہ جس سے ناصرف تحریک انصاف پاکستان کی رجسٹریشن منسوخ ہوگی بلکہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نااہل بھی ہوسکتے ہیں۔

    ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ : یہ اتنا مضبوط فیصلہ ہوگا کہ سپریم کورٹ کا فُل بنچ اس کا ایک (‘) Comma بھی تبدیل نہیں کر سکے گا.

    انہوں نے مزید کہا کہ: اس کیس میں الیکشن کمیشن تحریک انصاف کی رجسٹریشن ختم کر کرکے ان سے نشان بھی واپس لے سکتا ہے.

    سینئر صحافی حامد میر کہتے ہیں کہ: عارف نقوی نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے جھوٹ بولا اور دعویٰ کیا کہ اس نے تحریک انصاف کو جو رقم بھیجی وہ پاکستانیوں سے جمع کی گئی تھی لیکن عارف نقوی کا بیان حلفی فناشیل ٹائمز کی دستاویزات سے متصادم ہے.


    حامد میر نے مزید کہا کہ: فنانشیل ٹائمز کی اسٹوری پر چھلانگیں نہ لگائیں بلکہ پہلے مکمل اسٹوری پڑھیں کیونکہ اس میں یہ بھی درج ہے کہ عارف نقوی نے ناصرف سابق وزیر اعظم نواز شریف کو فنڈز بھیجے تھے بلکہ ان کے لیئے ڈیوس میں ایک ڈنر کی میزبانی بھی کی تھی جب وہ 2017 میں وزیر اعظم تھے.


    برطانوی اخبار میں شائع سیمن کلارک کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ: "ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی نے پی ٹی آئی کے لیے خیرات کے نام پر رقم اکٹھاکی، برطانیہ میں ٹی ٹوئنٹی میچ کروائے گئے، اس کے علاوہ مختلف ذرائع سے حاصل کی جانے والی رقم پی ٹی آئی کو منتقل کی گئی۔”


    فنانشنل ٹائمز کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عارف نقوی نے کیمن آئی لینڈ میں شامل کمپنی ووٹن کرکٹ لمیٹڈ کو پاکستان تحریک انصاف کے بینک رول کے لیے استعمال کیا۔”

    برطانوی اخبار کے مطابق: "عارف نقوی 2012 سے2014 تک ووٹن ٹی ٹوئنٹی کے صدر رہے، ووٹن پیلس پرکھیلاجانے والا میچ اس ٹورنامنٹ کا اہم حصہ تھا، اس ایونٹ میں مہمانوں کو 2 سے ڈھائی ہزار پاؤنڈ کے درمیان ادائیگی کا کہا گیا، بتایا گیا کہ یہ رقم فلاحی مقاصد کے لیے طلب کی گئی ہے،اس قسم کی چیریٹی فنڈ ریزر برطانیہ میں ہرسال موسم گرما میں دہرائی گئی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ: اس کا فائدہ پاکستان میں سیاسی جماعت اٹھارہی تھی، یہ غیرمعمولی بات تھی، فیس ووٹن کرکٹ لمیٹڈ کو دی گئی جودراصل کیمن آئی لینڈز میں رجسٹرڈکمپنی تھی، کیمن آئی لینڈز میں رجسٹرڈکمپنی عارف نقوی کی ملکیت تھی، یہ رقم پی ٹی آئی کوفنڈ دینے کے لیے استعمال کی گئی۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہےکہ: ووٹن کرکٹ کوکئی کمپنیوں اور افراد نےلاکھوں ڈالرکےفنڈز دیے، ابوظبی کےشاہی خاندان کے ایک وزیرنے بھی 20لاکھ پاونڈز دیے۔”

    فنانشل ٹائمزکی طرف سے ابراج کی ای میلز اور اندرونی دستاویزات کا جائزہ لیاگیا جس میں کہا گیا کہ ووٹن کرکٹ کو 14مارچ 2013 کو ابراج انویسٹمنٹ سے 13 لاکھ ڈالرموصول ہوئے، ووٹن کرکٹ کےاکاؤنٹ سے 13 لاکھ ڈالربراہ راست پی ٹی آئی کےاکاؤنٹ میں ڈالے گئے، اس حوالے سے بینک اسٹیٹمنٹ اور سوئفٹ کی تفصیلات کی کاپی موجود ہے، اپریل 2013 میں شیخ نہیان مبارک نے ووٹن کرکٹ کے اکاؤنٹ میں 20 لاکھ ڈالرمنتقل کیے، 20 لاکھ ڈالر آنےکے 6 دن بعد12 لاکھ ڈالر 2 قسطوں میں پاکستان منتقل کردیے گئے، شیخ نہیان ابو ظبی کے شاہی خاندان کے رکن وزیر اور بینک الفلاح کے چیئرمین ہیں، کیش فلو کے ذمہ دار ابراج ایگزیکٹو نے نقوی کو ای میل میں بتایا کہ شیخ کے پیسے آگئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق "رقم ووٹن کرکٹ اکاؤنٹ میں آنےکے بعد رفیق لاکھانی کو نقوی نے ای میل کی، لاکھانی نے رقم 2 قسطوں میں پاکستان منتقل کرنےکی تجویز دی۔”
    اس رپورٹ میں سیمن کلارک کا کہنا ہے کہ: "کراچی میں طارق شفیع کے ذاتی اکاؤنٹ میں رقم بھیجنےکی تجویزدی گئی، لاہور میں انصاف ٹرسٹ کے اکاؤنٹ میں رقم بھیجنےکی تجویزدی گئی، نقوی نےجواب دیا کہ پی ٹی آئی کو 12 لاکھ ڈالر بھیجیں، نقوی نےکہا کسی کونہ بتائیں کہ فنڈزکہاں سے آرہے ہیں اورکون حصہ ڈال رہاہے، رفیق لاکھانی نے جواب دیا ’ضرور سر.”

    برطانوی اخبار کے مطابق "رفیق لاکھانی نے کہا کہ ووٹن کرکٹ سے 12لاکھ ڈالر پی ٹی آئی کے اکاؤنٹ میں منتقل کریں گے، ووٹن کرکٹ نے 6 مئی 2013 کو شفیق اورانصاف ٹرسٹ کو 12 لاکھ ڈالرمنتقل کیے، اس کے بعدنقوی نے ایک ساتھی سے مزید12 لاکھ ڈالرپی ٹی آئی کومنتقل کرنے پرای میلز کا تبادلہ کیا، ابراج کے سینئر ایگزیکٹو رفیق لاکھانی نے نقوی کو ای میل کی کہ ٹرانسفرکا مقصد پی ٹی آئی کے لیے تھا۔”

    برطانوی اخبار کے مطابق "شیخ نہیان نے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا البتہ عمران خان نےتصدیق کی کہ شفیع نے پی ٹی آئی کوچندہ دیا۔”

    برطانوی اخبار کے مطابق :”عمران خان نے کہا کہ یہ طارق شفیع کوجواب دینا ہےکہ اس نے یہ رقم کہاں سےحاصل کی، ابراج کی جانب سے ووٹن کرکٹ کے ذریعے 1.3 ملین ڈالردینےکا علم نہیں تھا، پی ٹی آئی کو شیخ نہیان سےملنے والے فنڈز کے بارے میں علم نہیں۔”

    جنوری میں الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کی جانے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ تحریک انصاف کو ووٹن کرکٹ کلب سے 1.12 ملین ڈالر منتقل کیے گئے لیکن پی ٹی آئی نے پیسے کے ذرائع نہیں بتائے۔

    عارف نقوی نے ووٹن کرکٹ کلب کا مالک ہونا تسلیم کیا لیکن کسی غلط کام کرنے کی تردید کی۔

    الیکشن کمیشن کو جمع کروائے گئے ایک بیان میں عارف نقوی نے کہا کہ انہوں نے کسی غیر پاکستانی شخص یا کمپنی کی کسی ممنوعہ ذریعے سے رقم حاصل نہیں کی۔

    2013 میں عارف نقوی نے تین حصے میں تحریک انصاف کو 2.12 ملین ڈالر منتقل کیے، ابراج گروپ کی طرف سے منتقل کی گئی سب سے بڑی رقم 1.3 ملین ڈالر تھی۔

    کمپنی کی دستاویز کے مطابق یہ رقم ووٹن کرکٹ کو کے الیکٹرک سے منتقل کی گئی۔

    دوسری جانب عمران خان کے ساتھی اکبر ایس بابر نے کہا کہ عمران خان نے الیکشن کمیشن میں جھوٹے دستاویزات جمع کرکے ان کو گمراہ کیا.

  • نواز شریف خاموش کیوں؟ اسمبلیاں تحلیل،اکتوبر میں انتخابات، افواہیں اور حقیقت

    نواز شریف خاموش کیوں؟ اسمبلیاں تحلیل،اکتوبر میں انتخابات، افواہیں اور حقیقت

    نواز شریف خاموش کیوں؟ اسمبلیاں تحلیل،اکتوبر میں انتخابات، افواہیں اور حقیقت

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ جب تک نواز شریف واپس نہیں آتے ن لیگ کا بیانیہ بیک فٹ پر ہی رہے گا، تحریک انصاف لانگ مارچ کر سکتی ہے لیکن دھرنا نہیں دیں گے، آرمی چیف کی تقرری کے حوالہ سے قیاس آرائیاں ملک کے لئے نقصان دہ ہیں

    مبشر لقمان آفییشل یوٹیوب چینل پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جہاں تک آرمی چیف کی تقرری کا تعلق ہے میں اسوقت یقین کروں گا جب آئی ایس پی آر کوئی پریس ریلیز دے گا کیونکہ افواج پاکستان کے حوالہ سے آئی ایس پی آر ہی ہے جو ہمیں بتاتا ہے، ہمیں قیاس آرائی نہیں کرنی چاہئے، قیاس آرائی ملک کو نقصان دیتی ہے، جب آئی ایس پی آر کی جانب سے کوئی بات کہی جائے گی تو پھر ہم اس پر کمنٹ کر لیں گے

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کرونا اتنی بری خبر نہیں ہے، کافی لوگوں کو ہو رہا ہے اور ہوا ہے، فلائٹ میں کرونا زیادہ کیچ کرتا ہے، کلوز کیبن ہوتا ہے،جہاں تک نواز شریف کا تعلق ہے جب تک آئیں گے نہیں ن لیگ کی سیاست گومگو ہی رہے گی، میاں صاحب آئیں ،جیل جائیں اسکے بعد سیاست ہو گی انکی، اخلاقی طور پر وہ کافی بیک فٹ پر ہیں، جس طرح کی رپورٹس یہاں بنیں اور پھر وہ باہر گئے، اب وہ جو مرضی کہیں کرونا ختم ہو گیا، پرائیویٹ علاج ہو سکتا ہے، اور اسکے بعد وہ آ بھی سکتے ہیں، نہ علاج کی خبریں نہ آنے کی خبریں پھر چہ میگوئیاں ہوں گی، وفاق میں انکے بھائی کی حکومت ہے پھر اتنی مشکل نہیں ہونی چاہئے جب تک وہ نہیں آئیں گے انکا بیانیہ زور نہیں پکڑے گا

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ن لیگ کے اور پی ٹی آئی کے بیانئے میں بہت فرق ہے، کل عمران خان تقریر کر رہے تھے جب تک عمران خان کی تقریر ختم نہیں ہوئی تھی انکی ہر چیز ہر کسی کو پتہ چل رہی تھی کیونکہ اسکا سوشل میڈیا بہت ایکٹو ہے، میاں صاحب کی ٹیم پریس کانفرنسوں پر زور دے رہی ہے، پی ٹی آئی والے پریس کانفرنس بھی کرتے ہیں اور سوشل میڈیا پر بھی وائرل کرتے ہیں، ن لیگ نے سوشل میڈیا کو منظم نہ کیا تو انکا بیانیہ دفن ہوتا چلا جائے گا

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مرکز میں اب ن لیگ اور اتحادی حکومت نہیں چھوڑ سکتے اگر چھوڑی تو سیاسی قیمہ بن جائے گا انکا، اگلے پانچ چھ ماہ میں استحکام لائیں گے تو پھر انکو ہی کچھ فائدہ ملے گا، ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ، بہت سیریس ایشو ہیں، اگر یہ جاتے ہیں تو انکا کیا بچے گا؟ کل عمران خان نے کہہ دیا کہ ہمارے ساڑھے تین سال میں پچاس روپے ڈالر اوپر گیا اور انکے تین ماہ میں 75 روپے گیا، اگر اس طرح اتحادی حکومت چھوڑتے ہیں تو الیکشن میں کیا منہ دکھائیں گے

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میثاق معیشت ہونا چاہئے اور ایک بزنس پلان بنے کہ حکومت جو بھی بنے اسی بزنس پلان کو فالوکرے گی، جب کوئی دوسرا آتا ہے تو پچھلی سکیموں کو بند کر کے نئی سکیمیں لے آتا ہے یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے، میں میثاق معیشت کو سپورٹ کرتا ہوں،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے پاس پنجاب اور کے پی میں حکومت ہے، اب لگتا ہے لانگ مارچ کریں گے، اور ٹف ٹائم دے سکتے ہیں یہ اور دیں گے بھی سہی،دھرنا مشکل ہے لیکن لانگ مارچ ضرور ہو سکتی ہے، دھرنے کے لئے لمبی پلاننگ چاہئے، پنجاب انکے پاس آ گیا تو صورتحال بدل گئی

    آپ اتنا مت گھبرائیں،فارن فنڈنگ کیس میں عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

  • پاکستان اور چین بہترین دوست اور آئرن برادرز ہیں ،وزیراعظم

    پاکستان اور چین بہترین دوست اور آئرن برادرز ہیں ،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہبازشریف سے پاکستان میں عوامی جمہوریہ چین کے سفیرجناب نونگ رونگ نے آج اسلام آباد میں ملاقات کی.

    پاکستان اور چین کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں اور تعاون کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم نے 16 مئی 2022 کو چینی ہم منصب عزت ماب Li Keqiang کے ساتھ ٹیلی فون کال میں اپنی جامع بات چیت کا حوالہ دیا اور پاکستان -چائنہ آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کو مزید گہرا اور مضبوط بنانےکے عزم کا اظہار کیا .

    وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور چین بہترین دوست، مضبوط ترین شراکت دار اور آئرن برادرز ہیں۔ دونوں ممالک ہر چیلنج میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے اور بنیادی دلچسپی کے اہم امور پر تعاون کو فروغ دیا ۔ انہوں نے پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور ترقی کے لیے چین کی حمایت کو سراہا، جس میں ابھرتے ہوئے اقتصادی چیلنجوں اور عالمی سپلائی چینز اور اشیاء میں اتار چڑھاؤ سے پیدا ہونے والے مسائل نمٹنے کے لیے تعاون شامل ہے۔

    وزیر اعظم نے اس عزم کا اظھار کیا کہ انکی حکومت سی پیک منصوبوں کی تیز رفتار اور اعلیٰ معیار تکمیل کے لیے بھرپور کوشش کرے گی ۔ انہوں نے پاکستان کے ترقیاتی منصوبوں میں ML-1 اور کراچی سرکلر ریلوے جیسے اہم منصوبوں کی اہمیت پر زور دیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ سی پیک جوائنٹ کوآپریشن کمیٹی کے آئندہ 11ویں اجلاس میں ان منصوبوں کو حتمی شکل دے دی جائے گی ۔ خصوصی اقتصادی زونز کی جلد تکمیل کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے ملک کی صنعتی ترقی میں چینی اداروں کی بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کیا۔

    وزیر اعظم نے 2021 میں پاکستان کی 3.6 بلین امریکی ڈالر کی ریکارڈ برآمدات کا حوالہ دیا . مزید براں وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ چین کو پاکستانی برآمدات کے لیے مارکیٹ تک رسائی میں اضافہ سے پاک چین آزاد تجارتی معاہدے کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لانے میں مدد ملے گی۔ملاقات میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل، وزیر مملکت خارجہ امور حنا ربانی کھر، وزیر اعظم کے معاونین خصوصی طارق فاطمی، ظفر اللہ محمود اورجہانزیب خان نے بھی شرکت کی .

    کراچی دھماکا، خاتون خود کش بمبار نے کیا، کالعدم تنظیم نے ذمہ داری قبول کر لی

    چینی باشندوں کی جان لینے والوں کو پھانسی کے پھندے پر لٹکائیں گے،

    کراچی یونیورسٹی میں ایک خاتون کا خودکش حملہ:کئی سوالات چھوڑگیا،

    پاکستان میں تعینات چینی ناظم الامور مس پینگ چَن شِیؤکی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ سے ملاقات ہ

    کراچی کی مچھر کالونی کی سن لی گئی،سی پیک سے متعلق سست روی کا تاثر غلط ہے،خالد منصور

  • پی ڈی ایم اجلاس، مفاہمت کی پالیسی ترک کرنے کی تجویزآ گئی

    پی ڈی ایم اجلاس، مفاہمت کی پالیسی ترک کرنے کی تجویزآ گئی

    پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت ہوا

    اجلاس میں مریم نواز، شاہد خاقان عباسی اورمریم اورنگزیب شریک تھے اجلاس میں آفتاب شیر پاو،اویس نورانی ،طاہر بزنجو ،غفور حیدری و دیگر کی بھی شرکت ہوئی ہے اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال، پنجاب میں تبدیلی اور عدالتی فیصلے پر گفتگوکی گئی نواز شریف اور وزیر اعظم شہباز شریف ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک تھے

    مریم نواز نے اجلاس میں کہا کہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے کیلئے فل کورٹ کا جائز مطالبہ نہیں مانا گیا،اب ہمیں نظرثانی میں جانا ہے یا خاموش رہنا ہے، فیصلہ کرنا ہو گا،اجلاس میں عدالتی اصلاحات کے حوالے سے قومی اسمبلی سے منظور قرارداد کا خیر مقدم کیا گیا مریم نواز نے پی ڈی ایم اجلاس میں مفاہمت کی پالیسی ترک کرنے کی تجویز دی،مریم نواز نے کہا کہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے فوری آئندہ انتخابات کیلئے لائحہ عمل طے کیا جائے،مریم نواز نے پی ٹی آئی کے استعفے فوری منظور کرنے کا مشورہ دیا، مولانا فضل الرحمان نے عدالتی فیصلے کے خلاف یوم سیاہ منانے کی تجویزدے دی

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اب ہمیں واضح سمت کا تعین کرنا ہو گا،کھیل کے سارے کرداروں سے متعلق بھی جاننا ہو گا ،شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ مفاہمتی پالیسی نے شروع دن سے ہی ہمیں نقصان پہنچایا، نواز شریف کا کہنا تھا کہ لاڈلے کا 4 سالہ گند ہم پر ڈال دیا گیا،صرف ملک بچانے کیلئے حکومت میں آنا قبول کیا، ورنہ تو پہلے دن سے ہی حکومت میں آنے کا مخالف تھا،

    مولانا فضل الرحمان نے پیپلز پارٹی اور اے این پی کو باقاعدہ پی ڈی ایم میں واپسی کی دعوت دی پی ڈی ایم نے الیکشن کمیشن سے پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ جلد سنانے کا مطالبہ کیا

    مولانا فضل الرحمان وزیراعظم شہباز شریف کی نرم پالیسی کے خلاف پھٹ پڑے،مولانا فضل الرحمان نے عمران خان کی ضمانت منسوخ کرانے کیلئے وفاقی حکومت سے فوری کردار ادا کرنے کا مطالبہ کردیا

    ایف بی آر نوٹس کی مہلت ختم،عمران ریاض خان پیش نہ ہوئے

    آپ اتنا مت گھبرائیں،فارن فنڈنگ کیس میں عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ فارن فنڈنگ کیس بہترین مثال ہے کہ کیسے لاڈلے کوتحفظ دیا جا رہا ہے، نوازشریف کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینےکےالزام پر نااہل کر دیا گیا ،لاڈلے کوکھلی چھوٹ دی گئی ،فارن فنڈنگ کا8سال سے فیصلہ نہیں آیا، فارن فنڈنگ کیس رکوانے کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں9رٹ پٹیشنز دائر کی گئیں،فارن فنڈنگ کیس کو 50 بار التوا دیا گیا

  • مشترکہ مفادات پر تعلقات کو بڑھانے کیلئے پر امید ہیں:آرمی چیف

    مشترکہ مفادات پر تعلقات کو بڑھانے کیلئے پر امید ہیں:آرمی چیف

    راولپنڈی :آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ پولینڈ کے ساتھ مشترکہ مفادات پر تعلقات کو بڑھانے کے لیے پر امید ہیں۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے پاکستان میں جمہوریہ پولینڈ کے سفیر ہز ایکسیلینسی مسٹر میکیج پسارسکی نے آج جی ایچ کیو میں ملاقات کی۔

    ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی اور دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ اور دفاعی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان پولینڈ کے ساتھ اپنے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ہم مشترکہ مفادات کی بنیاد پر باہمی فائدہ مند کثیر ڈومین تعلقات کو بڑھانے کے لیے پر امید ہیں۔آرمی چیف اور پولش سفیر نے دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کی خواہش کا اعادہ کیا۔

    معزز مہمان نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا اور پاکستان کے ساتھ ہر سطح پر سفارتی تعاون میں مزید بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا عہد کیا۔