Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • گورنر راج کی سمری پر میں نے کام شروع کر دیا،وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ

    گورنر راج کی سمری پر میں نے کام شروع کر دیا،وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ

    پنجاب میں گورنر راج بارے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا بھی موقف آ گیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ گورنر راج کی سمری وزارت داخلہ نے شائع کرنی ہے،پنجاب میں میرے داخلے پر پابندی گورنر راج کے لیے جواز ہو گا۔ پنجاب میں گورنر راج کی سمری پر کام شروع کر دیا ہے

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ فرض کی ادائیگی میں جام شہادت نوش کرنے والوں کی پوری قوم مقروض ہے سپریم کورٹ کے فیصلے پر میڈیا اور سوشل میڈیا پر جو گفتگو ہو رہی ہے اس پر افسردہ ہوں،امید کرتا ہوں کہ کانفرنس اور تقریب میں فرق رکھیں گے، بدقسمتی سے کچھ معاملات ایسے ہیں جو ایسی گفتگو میں وزن اور جواز پیدا کرتے ہیں،کیا یہ حقیقت نہیں کہ حمزہ شہباز 197 ووٹوں سے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے تھے،فیصلہ آیا منحرف کا ووٹ نہ گنا جائے گا اور وہ ڈی سیٹ بھی ہوگا،قومی اسمبلی میں ووٹ گنے جانے کا فیصلہ اسی سپریم کورٹ نے آبزرو کیا تھا کبھی ایسا نہیں ہوتا، پر فیصلہ دیا گیا، 25 ووٹ مائنس کر دیے گئے اس فیصلے کی روح سے وہ 25 لوگ بحال ہوگئے ہیں،

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا مزید کہنا تھا کہ ڈالر کا ریٹ کیوں بڑھ رہا ہے؟ ایسا کرینگے تو سیاسی عدم استحکام تو آئے گا، ہم اپنے الفاظ محدود رکھتے ہیں، عدلیہ کا احترام ہر معاشرے کے لیے ضروری ہے،ایک غیر جانبدار عدلیہ ہر ملک اور معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے،یہ مسلم لیگ ن یاسیاستدانوں کا مسئلہ ہے، ہمیں اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے،عدلیہ کے اختیارات کی کمی کی کوئی بات نہیں کر رہا،پنجاب یا کے پی کے سے چڑھائی کرنے کی کوشش کی گئی تو ہم انہیں وہیں پر روکیں گے وفاقی حکومت ایک اتحادی حکومت ہے

    دوسری جانب پنجاب میں گورنر راج بارے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا بھی موقف آ گیا ہے، اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ پنجاب میں گورنر راج نہیں لگا رہے،رانا ثنا اللہ نے کہا ہے پنجاب میں وفاقی وزرا کے داخلے روکیں تے تو گورنر راج کا جواز پیدا کرینگے،پارلیمان اپنی آئینی حدود کا دفاع کریگی،عدلیہ کے اختیارات جو آئین میں ہیں وہی رہیں گے، عدلیہ کی طرف سے پارلیمان کے معاملات میں مسلسل مداخلت کی جارہی ہے،

    علاوہ ازیں حکمران اتحاد نے پنجاب میں پی ٹی آئی اور ق لیگ کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کیا ہے ،حکمران اتحاد کی قانونی و آئینی ماہرین سے مشاورت جاری ہے پنجاب میں دیگر آپشنز کے ساتھ گورنر راج کا بھی آپشن زیر غور ہے ،اتحادی جماعتوں کی مشاورت کے بعد پنجاب میں گورنر راج لگانے کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا .قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 234 کے تحت قومی اسمبلی اور سینیٹ سے قرار داد منظور کرائی جائے قرارداد کی منظوری کے بعد پنجاب میں گورنر راج کی راہ ہموار ہوجائے گی دو ماہ بعد گورنر راج میں مزید2 ماہ کی توسیع ہوسکتی ہے،وفاقی حکومت پنجاب میں آئین کے تحت 6 ماہ تک گورنر راج نافذ کر سکتی ہے 6 ماہ تک گورنر کے پاس وزیراعلی ٰکے تمام اختیارات حاصل ہوں گے،

     فل کورٹ مستر کیا جاتا ہے تو ہم بھی عدلیہ کےاس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں.حکمران اتحاد 

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    مریم نواز کی حکومتی اتحاد کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس

    پرویز الہٰی کے وکیل نے نظرثانی درخواست کی سماعت کے لیے لارجر بینچ بنانے کی استدعا کردی

  • پرویزالہیٰ کا وزیراعلیٰ بننے کے بعد تبادلے شروع

    پرویزالہیٰ کا وزیراعلیٰ بننے کے بعد تبادلے شروع

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کا وزیراعلیٰ پرویز الہیٰ بننے کے بعد تبادلوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے

    پنجاب میں حکومت کی تبدیلی کے بعد افسران کے تقرر و تبادلے کا سلسلہ جاری ہے ،سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ اور ڈی جی اینٹی کرپشن رانا عبدالجبار کو پنجاب سے ریلیو کردیا گیا ہے دونوں پولیس افسران کو آئی بی رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، ڈی پی او جھنگ سردار غیاث گل کو بھی پنجاب سے ریلیو کر دیا گیا ، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا

    بلال صدیق کمیانہ اور ڈی پی او جھنگ پر پی ٹی آئی نے الیکشن میں تحفظات کا اظہار کیا تھا، ڈی جی اینٹی کرپشن کو بھی عثمان بزدار کے خلاف کارروائی پر تبدیل کیا گیا ہے

    دوسری جانب سیکریٹری اسمبلی محمد خان بھٹی پرنسپل سیکریٹری ٹو سی ایم پنجاب تعینات کر دیئے گئے ہیں اس کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے، وزیراعلیٰ پنجاب کے پرنسپل سیکریٹری نبیل اعوان گورنر پنجاب کے پرنسپل سیکریٹری تعینات کر دیئے گئے ہیں

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد رات چودھری پرویز الہیٰ نے وزارت اعلیٰ کا حلف اٹھا لیا ہے، پی ٹی آئی قیادت اسپیکر اور ڈپٹی ا سپیکر پنجاب اسمبلی کیلئے مختلف ناموں پر مشاورت کر رہی ہے ،نجی ٹی وی کے مطابق اسپیکر پنجاب اسمبلی کے لیے سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا نام زیر غور ہے اسپیکر پنجاب اسمبلی کیلئے محمود الرشید اور زین قریشی کے نام بھی زیر غور ہیں زین قریشی کا نام ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کیلئے زیرغورہے، پنجاب کابینہ کیلئے بھی پی ٹی آئی قیادت کی مشاورت جاری ہے عثمان بزدار کی کابینہ میں شامل رہنماؤں کو دوبارہ شامل کرنے کا امکان ہے عثمان بزدار کی کابینہ میں شامل وزرا اپنے اپنے محکموں کو ہی دیکھیں گے وزیرداخلہ پنجاب کیلئے بھی مختلف نام زیر غورہیں شہباز گل کو اسپیشل اسسٹنٹ داخلہ ٹو وزیراعلیٰ لگائے جانے پر غورکیا جا رہا ہے محکمہ داخلہ پنجاب کیلئے راجہ یاسر ہمایوں ،فیاض الحسن چوہان، اسلم اقبال کے نام پر غور کیا جا رہا ہے وزیر صحت کے لیے یاسمین راشد ،سبطین خان سینئر وزیر کے مضبوط امیدوار ہیں پنجاب کابینہ میں ق لیگ کے حافظ عمار یاسر اورمحمد رضوان شامل ہوگے مشاورت کے بعد چیئرمین عمران خان سے منظوری لی جائے گی

     حکومتی اتحاد کی فوری فل کورٹ بینچ بنانے کی درخواست مسترد

     فل کورٹ مستر کیا جاتا ہے تو ہم بھی عدلیہ کےاس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں.حکمران اتحاد 

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    مریم نواز کی حکومتی اتحاد کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس

    پرویز الہٰی کے وکیل نے نظرثانی درخواست کی سماعت کے لیے لارجر بینچ بنانے کی استدعا کردی

  • ایوان صدرمیں تقریب حلف برداری:چوہدری پرویزالٰہی وزیراعلیٰ پنجاب:صدرنے حلف لیا

    ایوان صدرمیں تقریب حلف برداری:چوہدری پرویزالٰہی وزیراعلیٰ پنجاب:صدرنے حلف لیا

    لاہور: سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پرچوہدری پرویزالٰہی نے حلف اٹھا لیا ہے ،حلف برداری کی یہ تقریب ایوان صدر اسلام آباد میں ہوئی ، اس سے پہلے سپریم کورٹ کے حکم پر چیف سیکرٹری پنجاب نے چوہدری پرویز الٰہی کا بطور وزیراعلیٰ پنجاب نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق چیف سیکریٹری پنجاب نے چوہدری پرویزالٰہی کا بطور وزیراعلیٰ پنجاب نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے، نوٹیفیکیشن کے مطابق چوہدری پرویز الہیٰ اب پنجاب کے وزیراعلیٰ ہیں

     

    خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو کالعدم قرار دے کر چوہدری پرویز الہٰی کو وزیراعلیٰ پنجاب قرار دیا ہے اور گورنر پنجاب کو آج رات ساڑھے گیارہ بجے ان سے حلف لینے کا حکم دیا ہے۔

    گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے چوہدری پرویز الہی سے حلف لینے سے انکار کردیاتھا، جس کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب کی حلف برداری تقریب اسلام آباد میں کرنے کا فیصلہ کیا گیا، صدر مملکت عارف علوی ایوان صدر میں ان سے حلف لیا،حلف برداری کی تقریب میں  چوہدری مونس الٰہی ، چوہدری وجاہت حسین،مراد راس سمیت ق لیگ اورپی ٹی آئی کی کئی اہم شخصیات موجود تھیں

     

     

    یاد رہے کہ گورنرپنجاب بلیغ الرحمن کی طرف سے حلف لینے کے انکار کے بعد پہلے ویڈیو لنک کےذریعے حلف لینے کا فیصلہ کیاگیا لیکن بعد میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ چوہدری پرویز الٰہی ذاتی حیثیت میں ایوان صدر اسلام آباد پہنچیں گے اورحلف لیں گے

    یہ بھی یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے حوالے سے ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کی جانب سے مسلم لیگ(ق) کے 10 ووٹ مسترد کرنے کی رولنگ رد کرتے ہوئے تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار چودھری پرویز الہٰی کو نیا وزیراعلیٰ قرار دے دیا جبکہ حمزہ شہباز کی کابینہ تحلیل کر دی۔

    فل کورٹ بنچ کے لیے اتحادی حکومت کی درخواست مسترد کرنے کے بعد سپریم کورٹ میں وزیراعلیٰ پنجاب کے دوبارہ انتخاب سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل 3 رکنی بنچ نے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کے فیصلے پر دلائل سنے۔

    سپریم کورٹ نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے حوالے سے ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کی رولنگ کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا۔

    سپریم کورٹ نے گیارہ صفحات پر مشتمل مختصر حکم نامہ جاری کیا جس میں پرویز الہیٰ کی درخواست منظور کرتے ہوئے ق لیگ کے مسترد شدہ دس ووٹ درست قرار دے دئیے گئے ۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہاکہ پرویز الہی کو منتخب وزیر اعلی قرار دیا جاتا ہے، حمزہ شہباز منتخب وزیر اعلیٰ نہیں اور ان کا بطور وزیر اعلیٰ اٹھایا گیا حلف غیر آئینی ہے، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ پنجاب میں آئین کے مطابق گورننس کی نفی اور عوام کے بنیادی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی کی گئی۔ ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی نے سپریم کورٹ کے حکم کو غلط سمجھا اور رولنگ دیتے ہوئے ق لیگ کے درست ووٹوں کو مسترد کیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں حمزہ شہباز نے 179 ووٹ جبکہ پرویز الہیٰ نے 186 ووٹ حاصل کیے، اس اعتبار سے پرویز الہی ٰ ہی وزیراعلیٰ پنجاب ہیں۔

    سپریم کورٹ نے پرویز الہیٰ کو رات ہی حلف اٹھانے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ اگر گورنر پنجاب دستیاب نہ ہوں تو صدر عارف علوی پرویز الہیٰ سے حلف لیں۔ عدالت نے حکم کی کاپی فریقین کو فوری فراہم کرنے کی ہدایت کی اور حمزہ شہباز سمیت پوری کابینہ کو فوری دفاتر خالی کرنے کا حکم دیا۔

  • سپریم کورٹ کا فیصلہ،حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کے سربراہان کا اجلاس طلب

    سپریم کورٹ کا فیصلہ،حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کے سربراہان کا اجلاس طلب

    سپریم کورٹ کے ممکنہ فیصلے کے پیش نظر حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کے سربراہان کا اجلاس طلب کرلیا گیا ۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اتحادی جماعتوں کے سربراہان کااجلاس وزیراعظم ہاؤس میں ہوگا ،اجلاس میں سپریم کورٹ کے فیصلے اور سیاسی صورتحال پر غور کیا جائے گا۔اجلاس میں پنجاب کی سیاسی صورتحال پر بھی غور کیا جائیگا۔

    واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ پنجا ب کے حوالے سے سپریم کورٹ بھی اپنا فیصلہ کچھ دیر میں سنائے گی ۔ پی ڈی ایم جماعتوں کے سربراہان پہلے ہی عدالتی پراسیس کا حصہ بننے سے انکار کرچکے ہیں

    مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے ڈپٹی سپیکر رولنگ کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ سنائے جانے سے کچھ وقت قبل سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے حکومت کو ڈٹ جانے کا مشورہ دیا ہے۔


    انہوں نے لکھا کہ حکومت مشکل صورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرے یا سٹیٹس کو کا شکار بنے۔ حکومت کو چاہیے سخت موقف اختیار کرے اور ڈٹ جائے۔لیڈر تب بنتا ہے جب وہ مشکل حالات کا سامنا کرتا ہے۔

    دوسری جانب ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف سپریم کورٹ فیصلے سے قبل سابق وزیراعظم نواز شریف نے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلیفونک رابطہ کیا،پنجاب کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ نواز شریف نے وزیراعظم شہباز شریف کو پنجاب میں پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کو متحرک رکھنے اور پی ڈی ایم کے رہنماؤں سے بھی مشاورت جاری رکھنے کی ہدایت کی ٹیلیفونک رابطہ میں نواز شریف نے وزیراعظم شہباز شریف کو پی ڈی ایم کا اتحاد پنجاب میں مزید منظم کرنے کی بھی ہدایت کی۔

  • آرمی چیف کی زیرصدارت پروموش بورڈکااجلاس    :32بریگیڈیئرزکی میجرجنرل کےعہدے پر ترقی

    آرمی چیف کی زیرصدارت پروموش بورڈکااجلاس :32بریگیڈیئرزکی میجرجنرل کےعہدے پر ترقی

    راولپنڈی :آرمی چیف کی زیرصدارت پروموش بورڈ کا اجلاس:32 بریگیڈیئرزکی میجرجنرل کےعہدے پر ترقی ،پاک فوج کے ترجمان ادارے کے مطابق بریگیڈیئر سے میجر جنرل تک پروموشن بورڈ کا اجلاس آج جنرل ہیڈ کوارٹرز میں ہوا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے صدارت کی۔

    پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق میجر جنرل کے عہدے میں ترقی پانے والوں میں بریگیڈیئر عمر نسیم بریگیڈیئر محمد عباس، بریگیڈیئر محمد شاہد ابڑو، بریگیڈیئر لقمان حفیظ، بریگیڈیئر یاسر الٰہی، بریگیڈیئر عدیل حیدر منہاس، بریگیڈیئر سید علی رضا، بریگیڈیئر شاہد پرویز، بریگیڈیئر شاہد پرویز شامل ہیں۔

    دیگر ترقی پانے والوں میں بریگیڈیئر احسن وقاص کیانی، بریگیڈیئر اظہر یاسین، بریگیڈیئر قیصر سلیمان، بریگیڈیئر ہارون اسحاق راجہ، بریگیڈیئر عامر امین، بریگیڈیئر ہارون حمید چودھری، بریگیڈیئر وسیم افتخار چیمہ، بریگیڈیئر محمد حسین، بریگیڈیئر شعیب بن اکرم، بریگیڈیئر کاشف خلیل، بریگیڈیئر کاشف عبداللہ، بریگیڈیئر امجد حنیف، بریگیڈیئر فیصل نصیر، بریگیڈیئر احمد کمال، بریگیڈیئر سعید الرحمان سرور شامل ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی میڈیکل کور سے بریگیڈیئر طفیل احمد، بریگیڈیئر رضوان صادق، بریگیڈیئر اعجاز احمد، بریگیڈیئر ندیم فضل، بریگیڈیئر شعیب احمد، بریگیڈیئر طاہر مسعود احمد، بریگیڈیئر وسیم احمد خان اور بریگیڈیئر سہیل صابر ترقی پانے والوں میں شامل ہیں۔

  • پرویز الہٰی وزیراعلیٰ پنجاب، گورنر حلف لیں، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    پرویز الہٰی وزیراعلیٰ پنجاب، گورنر حلف لیں، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    سپریم کورٹ ،ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ سے متعلق کیس ،فیصلہ سنا دیا گیا

    فیصلہ لیٹ ہونے پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ معذرت چاہتا ہوں، چودھری پرویز الہیٰ کی ڈپٹی سپیکر کے خلاف درخواست منظور کر لی گئی ہے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ درست نہیں اسکا کوئی قانونی جواز نہیں، پرویز الہیٰ پنجاب کے وزیراعلیٰ ہیں،

    فیصلے کی تفصیل بعد میں جاری کی جائے گی، حمزہ شہباز کے ووٹ 179 تھے، جبکہ پرویز الہیٰ کو 186 ووٹ ملے جسکی بنیاد پر پرویز الہیٰ وزیراعلیٰ قرار پائے، حمزہ شہباز کی کابینہ کا نوٹفکیشن کالعدم قرار دے دیا گیا ہے،حمزہ شہباز نے جو حلف اٹھایا وہ بھی غیر آئینی ہے چیف سیکریٹری پرویز الہٰی کابطور وزیراعلیٰ نوٹیفکیشن جاری کریں،گورنر پنجاب پرویز الہیٰ سے حلف لیں ، آج رات ساڑھے گیارہ بجے تک حلف لیا جائے،اگر گورنر دستیاب نہ ہوں تو صدر مملکت حلف لیں، حکم پر عمل یقینی بنایا جائے، حمزہ شہباز نے جو بھی قانونی کام کئے وہ برقرار رہیں گے اس آرڈر کی کاپی گورنر، ڈپٹی اسپیکر اور چیف سیکریٹری کو ارسال کریں،

    کیس کی سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی تھی، بینچ میں جسٹس منیب اختر اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل تھے ،

    سپریم کورٹ میں مونس الہیٰ اور حسین الہیٰ سپریم کورٹ میں موجود ہیں. ق لیگ کے 9 ارکان بھی چوہدری مونس کے ہمراہ سپریم کورٹ میں موجود تھے، ڈاکٹر بابر اعوان بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے شبلی فراز بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے سپریم کورٹ کی سیکورٹی سخت کی گئی تھی ، پولیس کی بھاری نفری عدالت کے باہر موجود تھی ،خواتین پولیس اہلکاروں کو بھی سپریم کورٹ کے باہر تعینات کیا گیا تھا، عدالت کے باہر قیدیوں کی گاڑی بھی موجود تھی ،سپریم کورٹ کے باہر مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان بھی موجود تھے


    قبل ازیں کیس کی سماعت شروع ہوئی تو پی ٹی آئی کے وکیل احمد اویس عدالت میں پیش ہوئے ،احمد اویس نے کہا کہ وزیر اعلی کے انتخاب کا معاملہ ہے دو اپریل سے چل رہا تھا،یہ معاملہ پہلے کیوں سب کو یاد نہ آیا،سوال یہ ہے کہ ڈپٹی اسپیکر نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے کس پیرا کی بنیاد پرہمارے ووٹ شمار نہیں کئے،اس میں کوئی شک نہیں 63 اے کے مطابق پارٹی ہیڈ کا اہم کردار ہوتا ہے تین ماہ سے وزیر اعلی پنجاب کا معاملہ زیر بحث تھا

    علی ظفر نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں 63 اے کے مطابق پارٹی ہیڈ کا اہم کردار ہوتا ہے ،وکیل تحریک انصاف نے کہا کہ ق لیگ کے تمام ارکان کو علم تھا کہ کس کو ووٹ دینا ہے،علی ظفر نے کہا کہ پارٹی ہیڈ پارٹی کی کئی کمیٹیوں کا سربراہ بھی ہوتا ہے،عائشہ گلالئی کیس میں عدالت پارٹی سربراہ کے کردار کا جائزہ لیا گیا، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جو بیس منحرف ارکان تھے ان میں سے کتنے ارکان نے ضمنی انتخابات میں حصہ لیا؟ علی ظفر ابھی جو آپ دلائل دے رہے ہیں وہ کولیٹرل دلائل ہیں، وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ جو ممبران منحرف ہوئے انہوں نے دوبارہ دوسری پارٹی کی ٹیکٹ پر انتخابات میں حصہ لیا ،علی ظفر نے کہا ہک عائشہ گلالئی کیس کا فیصلہ میرے موکل کے خلاف ہے لیکن آئین کے مطابق ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ یکم جولائی کے سپریم کورٹ کا حکم نامہ کیا اتفاق رائے پر مبنی تھا ؟ جس پر علی ظفر نے کہا کہ جی وہ اتفاق رائے پر مبنی فیصلہ تھا ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ کے فیصلے پر کوئی اعتراض کیا جاسکتا ہے ؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ دونوں فریقین اس بات پر متفق ہوئے تھے کہ انتخابات کے بعد جو نتیجہ آیا تھا اس پر رن آف الیکشن ہوگا، علی ظفر نے کہا کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں وزیر اعلی کے انتخاب تک حمزہ شہباز کو وزیر اعلی رہنے کی ہدایت کی تھی، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پل کے نیچے بہت زیادہ پانی گزر چکا ہے اب اس معاملے کو کیسے سن سکتے ہیں؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم ایڈووکیٹ جنرلز کے جواب کا انتظار کررہے ہیں،علی ظفر نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے مطابق نہیں دی، ڈپٹی اسپیکر الیکشن کمیشن کے فیصلے کا پابند بھی نہیں ہے،

    ،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو رضا مندی دی گئی ضمنی الیکشن ہونے دیا جائے یہ یقین دہانی بھی دی گئی کہ ضمنی الیکشن کے نتائج پر رن آف الیکشن کرایا جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یکم جولائی کو وزیراعلی کا الیکشن ضمنی انتخابات کے بعد ہونے کا حکم فریقین کے اتفاق رائے سے تھا،کیا ضمنی انتخابات کے بعد منحرف ارکان کی اپیل تک سماعت روکنے کا اعتراض ہو سکتا ہے؟ علی ظفر نے کہا کہ اصولی طور پر منحرف ارکان کی اپیلوں کو پہلے سننے کا اعتراض نہیں بنتا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاہور میں عدالت نے نوٹسز جاری کرکے کہا تھا قانونی نکات پر دلائل دیئے جائیں، اس عدالت کے 8 ججز نے اپنے گزشتہ فیصلے میں کیا کہا تھا وہ دیکھ لیا ہے،آرٹیکل 63 اے پر تشریح ہوچکی ہے اس پر اب مزید ضرورت نہیں، یہاں پر کوئی اور ہے جو دلائل دے؟ اس صورتحال میں ہم ایک وقفہ کرتے ہیں ،

    وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ یہ لوگ نظر ثانی کی بنیاد پر تمام کارروائی روکنا چاہتے ہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ اظہر صدیق اپ کس کی نمائندگی کررہے ہیں؟ وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ 20میں سے 16 منحرف ارکان نے ن لیگ،2 نے آزاد الیکشن لڑا،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اٹارنی جنرل نہیں ہیں تو مجھے دلائل دینے کی اجازت دی جائے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ اٹارنی جنرل بیمار ہیں اور بیرون ملک علاج کرا رہے ہیں ،اٹارنی جنرل یکم کو آئیں گے اس وقت تک انتظار نہیں کرسکتے، آپ دلائل دیں،ہم نے سماعت کے پہلے حصے میں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے معاملے پر دلائل سنے،دوسرے حصے میں ہم نے پارٹی ہیڈ کے متعلق دلائل سنے، عامر رحمان نے کہا کہ آرٹیکل 63 والے کیس میں پارٹی ہیڈ اور پارلیمانی پارٹی کے کردار پر کوئی بات نہیں ہوئی تھی، ایک فل کورٹ نے 2015میں پارٹی ہیڈ کے بارے میں فیصلہ دیا تھا،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ہم آپ کا نکتہ سمجھ گئے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ جس فیصلے کا آپ حوالہ دے رہے ہیں وہ ایک رائے تھی یا فیصلہ تھا ؟ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کے مطابق پارلیمانی پارٹی کو اختیار دینا ضروری ہے،پارلیمانی پارٹی کو مضبوط کرنا پارلیمانی جمہوریت کو مضبوط کرنے کے مترادف ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ 2015 کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق پارٹی سربراہ ہدایت دے سکتا ہے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل آپ ایسے دلائل دیں جو ہمیں مطمئن کریں،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب اسمبلی کی کاروائی کا جو مسودہ ہمیں دیا گیا ہے اس میں ہے کہ ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ دی اور کہا کہ اس کو چیلنج کرسکتے ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ ڈپٹی اسپیکر پڑھے لکھے ہیں ، آرٹیکل 63 کی جو زبان ہے وہ ایک عام ادمی بھی سمجھ سکتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین پر عمل کرنا ہماری ذمہ داری ہے تمام وکلا نے عدالت کی معاونت کی ہے۔ گزشتہ دن دوسرے فریقین نے اپنے جواب جمع کرائے ،سماعت میں وقفہ کرتے ہیں ، پونے 6 بجے فیصلہ سنائیں گے،

    منگل وقفے سے قبل کی سماعت پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

    سپریم کورٹ میں بڑی سماعت ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ سے متعلق متوقع فیصلے کے پیش نظر سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے،سپریم کورٹ کے اطراف آنیوالے راستوں کو بند کر دیا گیا ہے، ڈی چوک، نادرا چوک سمیت دیگر شاہراہوں کو بند کر دیا گیا خار دار تاریں، بلاکس لگا کر بند کیا گیا ہے

    قبل ازیں سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کے الیکشن سے متعلق گزشتہ روز کی سماعت کا حکمنامہ جاری کردیا۔حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ فل کورٹ کی استدعا مسترد کی جاتی ہے، فل کورٹ تشکیل نہ دینے کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی،حمزہ شہباز ،ڈپٹی اسپیکر اور دیگر وکلاء کی طرف سے مزید وقت مانگا گیا ہے فریق دفاع کے وکلاء کی مزید وقت کی استدعا منظور کی جاتی ہے تمام وکلاء 26 جولائی کو مقدمے کی تیاری کرکے آئیں،

     حکومتی اتحاد کی فوری فل کورٹ بینچ بنانے کی درخواست مسترد

     فل کورٹ مستر کیا جاتا ہے تو ہم بھی عدلیہ کےاس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں.حکمران اتحاد 

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    مریم نواز کی حکومتی اتحاد کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس

    پرویز الہٰی کے وکیل نے نظرثانی درخواست کی سماعت کے لیے لارجر بینچ بنانے کی استدعا کردی

  • اگر کوئی ٹھوس وجہ ہو تو مجھ سمیت کوئی بھی جج اپنا فیصلہ تبدیل کرسکتا ہے، چیف جسٹس

    اگر کوئی ٹھوس وجہ ہو تو مجھ سمیت کوئی بھی جج اپنا فیصلہ تبدیل کرسکتا ہے، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ ،حمزہ شہبازکے انتخاب سے متعلق کیس کی سماعت شروع ہو گئی ہے

    عرفان قادر نے کہا کہ میرے موکل نے ہدایات کی ہیں کہ اس کیس میں مزید پیش نہیں ہونگے۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میرے موکل کی جانب سے بھی یہی ہدایات ہیں کہ پیش نہ ہوں۔ہم نظر ثانی درخواست دائر کرینگے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو ابھی تک ہم نے فریق نہیں بنایا، عدالت نے بیرسٹرعلی ظفر کو روسٹرم پر بلا لیا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ اس کیس کو جلدی سے مکمل کریں ، ہم فل کورٹ ستمبرکے دوسرے ہفتے تک نہیں بنا سکتے، عدالت اس کیس کے میرٹس پر دلائل سنے گی،پیپلزپارٹی تو کیس کی فریق ہی نہیں، ہمارے سامنے فل کورٹ بنانے کا کوئی قانونی جواز پیش نہیں کیا گیا،عدالت میں صرف پارٹی سربراہ کی ہدایات پر عمل کرنے کے حوالے سے دلائل دیئے گئے، ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ موجودہ کیس میں فل کورٹ بنانے کی ضرورت نہیں ہے،اصل سوال تھا کہ ارکان کو ہدایات کون دے سکتا ہے، آئین پڑھنے سے واضح ہے کہ ہدایات پارلیمانی پارٹی نے دینی ہیں،اس سوال کے جواب کیلئے کسی مزید قانونی دلیل کی ضرورت نہیں،

    عرفان قادر نے کہا کہ فل کورٹ کے مسترد کیے جانیکے فیصلے پر نظر ثانی فائل کرینگے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فل کورٹ کی تشکیل کا مطالبہ تاخیری حربے جیسا ہے 1988میں صدر نے کابینہ کو ہٹایا،63 والے کیس میں آج جو سوال ہے وہ اس وقت نہیں تھا، 21 ویں ترمیم کے فصلے کے مطابق پارلیمانی پارٹی کا سربراہ ہدایات دے سکتا ہے، آئین کہتا ہے کہ ووٹ دینے کی ہدایت پارلیمانی پارٹی دے سکتی ہے ،کیا 17 میں س8ججز کی رائے کی سپریم کورٹ پابند ہو سکتی ہے؟ فل کورٹ بینچ کی اکثریت نے پارٹی سربراہ کے ہدایت دینے سے اتفاق نہیں کیا تھا،دلائل کے دوران21ویں ترمیم کیس کا حوالہ دیا گیا ، 21ویں ترمیم والے فیصلے میں آبزرویشن ہے کہ پارٹی سربراہ ووٹ دینے کی ہدایت کر سکتا ہے، آرٹیکل 63 اے کی تشریح میں کون ہدایت دے گا یہ سوال نہیں تھا، تشریح کے وقت سوال صرف منحرف ہونے کے نتائج کا تھا، 18 ویں اور 21 ویں ترمیم والے کیس میں یہ معاملہ ہمارے سامنے نہیں آیا،63 اے والے کیس میں بھی ایسا کوئی ایشو سامنے نہیں آیا، علی ظفر آپ درخواست کے میرٹس پر دلائل دے کر عدالت کی معاونت کریں،جو دلائل میں باتیں کی گئیں اس کے مطابق فل کورٹ تشکیل نہیں دی جاسکتی تھی، اس عدالت کا موقف تھا کہ وزیر اعظم جو چیف ایگزیکٹو ہوتا ہے اس کے بغیر حکومت نہیں چل سکتی ،علی ظفر نے کہا کہ اس وقت 63 اے سے متعلق سوال تھا کہ کیا یہ شق درست ہے یا نہیں ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس عظمت نے اپنے فیصلے میں پارٹی سربراہ کی بات کی،عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کرنے والے اعلیٰ وقار کا مظاہرہ کریں، بائیکاٹ کردیا ہے عدالتی کارروائی کو سنیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل علی ظفر کو ہدایت کی کہ قانونی سوالات پر عدالت کی معاونت کریں یا پھر ہم اس بینچ سے الگ ہو جائیں، جو دوست مجھے جانتے ہیں انہیں معلوم ہے کہ اپنے کام کو عبادت کا درجہ دیتا ہوں، علی ظفر نے فیصلے سے حوالہ دیا اور کہا کہ آرٹیکل63 اے آئین کی ایس شق ہے جو پارٹیوں میں نظم پیدا کرتی ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ پارٹی لائن پارلیمانی پارٹی دے سکتی ہے؟ علی ظفر نے کہا کہ اکیسویں ترمیم سے متعلق درخواستیں 13/4 کی نسبت سے خارج ہوئی تھیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے علی ظفر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آئینی نکات پر معاونت کریں یا پھر ہم بینچ سے الگ ہوجائیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شکر ہے کہ کچھ وکلا عدالتی کارروائی دیکھنے کے لیے موجود ہیں،علی ظفر نے کہا کہ اکیسویں ترمیم والے کیس میں کچھ ججز نے اپنے الگ سے وجوہات لکھیں تھیں،

    سپریم کورٹ میں علی ظفر نے مختلف عدالتی فیصلوں کے نظائر پیش کیے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے علی ظفر کے دلائل پر استفسارکیا کہ اٹھارویں ترمیم نے 63 شق کو موڈیفائی کیا ، آپ یہ کہنا چاہتے ہیں،پارلیمانی پارٹی اور پارٹی ہیڈ کیا الگ لگ ہوتے ہیں ؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پارٹی ہیڈ پارلیمانی پارٹی کی ہدایات پر عمل کرتا ہے ؟پارٹی ہیڈ منحرف ارکان کے خلاف ریفرنس بھیجتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی پارٹی اکیلے میں کوئی فیصلہ نہیں کرسکتی ، کوئی اصول ہوگا،میں یہ سمجھ رہا ہوں کہ پارلیمانی پارٹی میں کوئی پروسیس ہوگا ، علی ظفر نے کہا کہ دنیا بھی میں آخری فیصلہ پارلیمانی پارٹی کرتی ہے پارٹی ہیڈ کا آئینی اختیار فیصلے پر عمل کرانا ہے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین کہتا ہے کہ پارلیمنٹ پارٹی فیصلہ کرتی ہے اور اس پر کوئی رکن خلاف جاتا ہے تو سربراہ ایکشن لیتا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ پارٹی ہیڈ کچھ بھی شروع نہیں کر سکتا ،علی ظفر نے کہا کہ آئین میں کہیں بھی پارلیمانی پارٹی کے ساتھ پارٹی ہیڈ نہیں لکھا جسٹس جواد خواجہ نے اکیسویں ترمیم والے کیس مل یں 63کو آئین سے متصادم قرار دیا تھا،جسٹس جواد خواجہ نے اپنے فیصلے میں وجوہات بیان نہیں کی تھیں،میں جسٹس جواد ایس خواجہ کی رائے سے اتفاق نہیں کرتا،آئین کے مطابق ووٹ کی ہدایت پارلیمانی پارٹی کرتی ہے ،آرٹیکل 63 میں پہلے 1998 میں پارلیمانی پارٹی لکھا تھا جو 2002 میں تبدیل ہو کر پارلیمانی ہیڈ لکھا گیا،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی سے انحراف کرنے والے کے خلاف ایکشن لینا یا اس کی شروعات کرنے کا اختیار آئین کے مطابق پارٹی ہیڈ کے پاس ہے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سابق جج میاں ثاقب نثار نے وہ درخواستیں خارج کرکے ایک الگ سے نوٹ لکھا تھا، ثاقب نثار نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ آئین کا آرٹیکل 63 ایک دہائی سے فلور کراسنگ کا سبب رہا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جج کا بار بار اپنی رائے تبدیل کرنا اچھی مثال نہیں ہوتی،جج کی رائے میں یکسانیت ہونی چاہیے، علی ظفر نے کہا کہ میری نظر میں جسٹس عظمت سعید کی آبزرویشن آئین کے خلاف ہے، اکیسویں ترمیم میں آرٹیکل 63 اے ایشو نہیں تھا،جسٹس عظمت سعید کی آبزرویشن کی سپریم کورٹ پابند نہیں ،جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ پارلیمانی لیڈر والا لفظ کہاں استعمال ہوا ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے علی ظفر سے سوال کیا کہ آئین کیا کہتا ہے کہ کس کی ہدایات پر ووٹ دیا جائے، علی ظفر کا کہنا تھا کہ
    آئین کے مطابق ووٹ کی ہدایات پارلیمنٹری پارٹی دیتی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا پارلیمنٹری پارٹی، پارٹی سربراہ سے الگ ہے؟ علی ظفر نے کہا کہ پارلیمانی جماعت اور پارٹی لیڈر دو الگ الگ چیزیں ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین کے تحت پارٹی سربراہ پارلیمانی پارٹی کے فیصلے پر عملدرآمد کراتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی جماعت اپنے طور پر تو کوئی فیصلہ نہیں کرتی،سیاسی جماعت کا فیصلہ پارلیمانی جماعت کو آگاہ کیا جاتا ہے جس کی روشنی میں وہ فیصلہ کرتی ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان عدالت میں پیش کہا میں بھی عدالت کی معاونت کرنا چاہتا ہوں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آرٹیکل 63 میں پارٹی ہیڈ کا معاملہ پہلے الگ سے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی سالڈ ریزن ہو تو مجھ سمیت کوئی بھی جج اپنا فیصلہ تبدیل کرسکتا ہے فیصلے میں کوئی غلطی نہ ہوجائے اس لئے سب کو معاونت کی کھلی دعوت ہے، جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا وفاقی حکومت حکمران اتحاد کے فیصلے سے الگ ہوگئی ہے؟ عامر رحمان نے کہا کہ میں صرف آرٹیکل 27کے تحت عدالت کی معاونت کرنا چاہتا ہوں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ دیکھنا ہے کی ڈپٹی اسپیکر نے سپریم کورٹ کا فیصلہ غلط تواستعمال نہیں کیا؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نکتہ یہ ہے کہ دوسرا فریق یہاں موجود ہے لیکن کارروائی میں حصہ نہیں لے رہا،اقوام متحدہ میں جو ملک ممبر نہیں ہوتا وہ آبزرور ہوتا ہے ،

    کیس کی سماعت میں ایک گھنٹے کا وقفہ کر دیا گیا

    قبل ازیں چوہدری مونس الٰہی 9 ایم پی ایز کے ہمراہ سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں،بائیکاٹ کے باوجود ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کے وکیل عرفان قادر سپریم کورٹ پہنچ گئے۔چوہدری شجاعت کے وکیل بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں گزشتہ روز پی ڈی ایم نے سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا مگر آج ان کے وکلاء سماعت سے قبل سپریم کورٹ پہنچ گئے.پی ٹی آئی رہنما پرویز خٹک اور پیپلزپارٹی کے فاروق ایچ نائیک بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں

    سپریم کورٹ میں بڑی سماعت ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ سے متعلق متوقع فیصلے کے پیش نظر سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے،سپریم کورٹ کے اطراف آنیوالے راستوں کو بند کر دیا گیا ہے، ڈی چوک، نادرا چوک سمیت دیگر شاہراہوں کو بند کر دیا گیا خار دار تاریں، بلاکس لگا کر بند کیا گیا ہے

    سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کے الیکشن سے متعلق گزشتہ روز کی سماعت کا حکمنامہ جاری کردیا۔حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ فل کورٹ کی استدعا مسترد کی جاتی ہے، فل کورٹ تشکیل نہ دینے کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی،حمزہ شہباز ،ڈپٹی اسپیکر اور دیگر وکلاء کی طرف سے مزید وقت مانگا گیا ہے فریق دفاع کے وکلاء کی مزید وقت کی استدعا منظور کی جاتی ہے تمام وکلاء 26 جولائی کو مقدمے کی تیاری کرکے آئیں،

     حکومتی اتحاد کی فوری فل کورٹ بینچ بنانے کی درخواست مسترد

     فل کورٹ مستر کیا جاتا ہے تو ہم بھی عدلیہ کےاس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں.حکمران اتحاد 

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

    مریم نواز کی حکومتی اتحاد کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس

    پرویز الہٰی کے وکیل نے نظرثانی درخواست کی سماعت کے لیے لارجر بینچ بنانے کی استدعا کردی

  • ججز تقرری کا معاملہ ،جسٹس قاضی فائز عیسی نے اجلاس پر اعتراض اٹھا دیا

    ججز تقرری کا معاملہ ،جسٹس قاضی فائز عیسی نے اجلاس پر اعتراض اٹھا دیا

    جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ججز تقرری سے متعلق جوڈیشل کمیشن کے اجلاس پر چیف جسٹس کوخط لکھا ہے

    جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے 28 جولائی کو ہونے والے جوڈیشل کمیشن اجلاس پر اعتراض اٹھا دیا ،جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو لکھے گئے خط میں کہا کہ بیرون ملک چھٹیوں پر ہوں، جوڈیشل کمیشن کا کوئی اجلاس شیڈول نہیں تھا میرے بیرون ملک جانے کے بعد جوڈیشل کمیشن کے 2 اجلاس بلائے گئے،میری غیر موجودگی میں جوڈیشل کمیشن کا تیسرا اجلاس 28 جولائی کو بلا لیا گیا جوڈیشل کمیشن کا اجلاس موخر کیا جائے،سپریم کورٹ میں ججز کی تعیناتی سے پہلے مل بیٹھ کر طے کرنا ہوگا آگے کیسے بڑھنا ہے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، ججز کو بائی پاس کرنے سے پہلے نامزدگی کے طریقہ کار کو زیر غور لایا جائے سپریم کورٹ کا سینئر ترین جج ججز کی نامزدگی کا طریقہ کار طے کرنے میں ناکام رہا، چیف جسٹس کی طرف سے ججز کی تعیناتی کے معاملے پر جلد بازی سوالیہ نشان ہے،

    جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو لکھے گئے خط میں کہا کہ چیف جسٹس چاہتے ہیں2347 دستاویز کا ایک ہفتے میں جائزہ لیا جائے،دستاویزات ابھی تک مجھے فراہم ہی نہیں کی گئیں، واٹس ایپ کے ذریعے یہ ہزاروں دستاویزات مجھے بھیجنے کی کوشش کی گئی،واٹس ایپ پر مجھے صرف 14 صفحات تک رسائی ملی جو پڑھے نہیں جا سکتے، یہ دستاویزات مجھے کورئیر کیے گئے سفارتخانے کے ذریعے نہ بھجوائے گئے،

    قبل ازیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ججز تقرری کے حوالہ سے ایک خط پہلے بھی لکھا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ہ بار کونسلز سمیت جوڈیشل کمیشن ممبران نے کئی بار رولز میں ترمیم کا مطالبہ کیا،ججز تقرری میں سنیارٹی،میرٹ اور قابلیت کو دیکھنا ہوتا ہے،سپریم کورٹ میں چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کی جگہ جونیئر جج کو تعینات کیا گیا، ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اور سینئر ججز نے سابق چیف جسٹس سابق نثار کی باتوں کی تردید کی سینئر ججز کے خود نہ آنے کی بات کر کے ثاقب نثار نے مکاری کی سابق چیف جسٹس گلزار احمد نے بھی چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ اور سینئر ججز کو نظر انداز کیا خط کی کاپی سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور گلزار احمد کو بھی بھیج رہا ہوں بطور ممبر جوڈیشل کمیشن سابق جج جسٹس مقبول باقر کی رائے کو بھی نظرانداز کیا گیا، جوڈیشل کمیشن رولز میں ترمیم کیلئے قائم کمیٹی کی آج تک کوئی رائے نہیں آئی، جوڈیشل کمیشن اجلاس ان کیمرہ نہیں ہونا چاہیے،ججز تقرری کیلئے اجلاس سے متعلق عوام کو علم ہونا چاہیے،

    ملک اسلامی جمہوریہ مگریہاں اسلام کے مطابق کچھ نہیں ہورہا،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس غلطی تھی، عمران خان نے تسلیم کر لیا

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اسلام آباد میں گورنر بلوچستان کے سکواڈ کی گاڑی کا چالان کروا دیا ۔

    صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف ازخود نوٹس کیس،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    پولیس ملزمان کی ویڈیو کیوں نہیں بناتی؟ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا اظہار برہمی

  • لانگ مارچ تشدد کیس، پی ٹی آئی کے 18 رہنماؤں کی ضمانت میں توسیع

    لانگ مارچ تشدد کیس، پی ٹی آئی کے 18 رہنماؤں کی ضمانت میں توسیع

    اے ٹی سی لاہور،لانگ مارچ کے دوران سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    اے ٹی سی لاہور نے ملزمان کو فوری شامل تفتیش ہونے کا حکم دے دیا ،عدالت نے تفتیشی افسر کو ابھی عدالت کے باہر ملزمان کے بیانات قلمبند کرنے کی ہدایت کر دی،زبیر نیازی ،میاں اکرم عثمان سمیت دیگر کو ابھی شامل تفتیش ہونے کا حکم دے دیا

    عدالت نے پی ٹی آئی کے 18 رہنماوں کی عبوری ضمانتوں میں 5 اگست تک توسیع کردی اے ٹی سی لاہور نے وکلا کو حتمی دلائل کے لیے آئندہ سماعت پر طلب کر لیا ،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا تمام ملزمان شامل تفتیش ہو چکے ہیں ؟ وکیل ملزمان نے کہا کہ تمام ملزمان شامل تفتیش ہو چکے ہیں ملزمان کی طرف سے برہان معظم ملک ایڈووکیٹ پیش ہوئے جمشید اقبال چیمہ ، حماد اظہر ، یاسمین راشد ، اعجاز چودھری ، محمود الرشید پیش ہوئے اسلم اقبال ، زبیر نیازی ،ندیم عباس بارا ،طارق اقبال ، عدیل ،زمان خان بھی پیش ہوئے افضال عظیم ، حسان نیازی ، مراد راس اور یاسر گیلانی نے عبوری ضمانتیں دائر کیں

    اے ٹی سی لا ہورنے پی ٹی آئی رہنما اعجاز چودھری کی عبوری ضمانت مسترد کر دی

    دوسری جانب پی ٹی آئی رہنماؤں نے دہشتگردی کی دفعات کو چیلنج کر دیا لاہور کے 4 تھانوں میں درج مقدمات میں دہشتگردی کی دفعات کو چیلنج کیا گیا حماد اظہر اور یاسمین راشد کی طرف سے اے ٹی سی میں درخواستیں دائر کر دی گئیں پولیس اور پراسیکیوشن کو دہشتگردی دفعات خارج کرنے کیلئے درخواستیں جمع کرائی گئیں

    عدالت پیشی کے موقع پر میاں اسلم اقبال کا کہنا تھا کہ چند روز سے اداروں پر حملہ کرنا، ججز کو انڈر پریشر کرنا ان کا پرانا وطیرہ ہے، فیصلہ حق میں آئے تو مٹھائیاں بانٹتے ہیں، کہتے ہیں حق کی فتح ہوئی،انہیں سوچنا چاہیے کہ یہ نائنٹیز نہیں ،2022ہے من پسند فیصلوں کے لیے ججز کو کالز کرنا، عدالتوں پر حملہ کرنا ان کا معمول ہے،یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے عوام کا خون چوسا ہے، پیسے بنائے اور باہر جمع کیے انہوں نے اربوں کے کیسز ختم کروائے، نئے سرے سے کرپشن کا بازار گرم کیا

    مسرت جمشید چیمہ کا کہنا تھا کہ سیاست کو منڈی بنا دیا گیا،عوام نے لوٹوں اور چوروں کو رد کر دیا ،ہم ملک بچانے نکلے ہیں، عوام کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا،یہ مقدمات اور کارروائیوں کے لیے تیار ہو جائیں ، ملک کا بیڑا غرق کر دیا چار گھنٹے بعد یہ فاشسٹ حکومت گھر چلی جائے گی انہوں نے عدالتوں کو ماننے سے انکار کر دیا

    پی ٹی آئی عہدیدار کے گھر سے برآمد اسلحہ کی تصاویر سامنے آ گئیں

    لانگ مارچ، عمران خان سمیت تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مقدمہ درج

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    لانگ مارچ میں فیاض الحسن چوہان کتنے بندے لے کر نکلے،ویڈیو وائرل

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے 25 مئی کو لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا، لاہور سے جب لانگ مارچ کے شرکا نکلے تھے تو انکا پولیس کے ساتھ تصادم ہوا تھا، ان دنوں پنجاب کی صوبائی حکومت نے دفعہ 144 نافذ کر رکھی تھی، لانگ مارچ کے شرکا اور پولیس میں کئی مقامات پر تصادم ہوا تھا، پولیس نے پی ٹی آئی کے رہنماوں و کارکنان کو گرفتار بھی کیا تھا

    لانگ مارچ کے بعد تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت دیگر پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت پر بھی مقدمہ درج کیا گیا تھا، اسلام آباد میں پی ٹی آئی کا لانگ مارچ عمران خان سمیت 150افراد کیخلاف 3 مقدمات درج کر لئے گئے مقدمات میں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کی دفعات شامل کی گئی ہیں، مقدمہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت باقی قیادت، کارکنان پر درج کئے گئے ہیں، مقدمات میں 39 افراد کی گرفتاری بھی ظاہر کی گئی ہے ،درج مقدمات میں اسد عمر، عمران اسماعیل ، راجہ خرام نواز ،علی امین گنڈا پور اور علی نواز اعوان کے نام بھی شامل ہیں،وزیراعلی گلگت بلتستان پر بھی مقدمہ درج کیا گیا تھا، فواد چودھری پر جہلم میں مقدمہ درج کیا گیا تھا

  • فل کورٹ نہ بنایا گیا تو فیصلے کو مسترد کرتے ہیں،حکمران اتحاد

    فل کورٹ نہ بنایا گیا تو فیصلے کو مسترد کرتے ہیں،حکمران اتحاد

    حکمران اتحاد اورپی ڈی ایم کے قائدین کا ہنا ہے کہ اگر فل کورٹ مستر کیا جاتا ہے تو ہم بھی عدلیہ کےاس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں.حکمران اتحاد نے فیصلہ کیا ہے کہ اس بنچ کے سامنے پیش نہیں ہوں گے،پنجاب کے کیس کے حوالے سے اس بینچ کا بائیکاٹ کریں گے.

    حکمران اتحاد اور پی ڈی ایم کے قائدین نے ممکنہ صورتحال میں متفقہ حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنے پر اتفاق کیا۔سپریم کورٹ کے ممکنہ فیصلے سے قبل حکومتی اتحاد اور پی ڈی ایم قائدین کا مشاورتی اجلاس ہوا۔

    مجھے کم از کم یقین تھا فل کورٹ نہیں بنے گا ،مریم نواز

    باغی ٹی وی کی رپورت کے مطابق وزیراعظم ہاﺅس میں حکمران اتحاد اور پی ڈی ایم کے قائدین کا مشاورتی اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان، بلاول بھٹو زرداری ، ایم کیو ایم، مسلم لیگ (ق)، اے این پی کے قائدین بھی اجلاس میں شریک ہوئے، جبکہ بلوچستان عوامی پارٹی، بی این پی سمیت دیگر اتحادی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ مریم نواز اور پارٹی کے دیگر قائدین نے بھی اجلاس میں شرکت کی.

    اجلاس کے بعد مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ پنجاب سے متعلق کیس فل کورٹ سنے، موجودہ بینچ کا فیصلہ جانبدارانہ فیصلہ تصور کیا جائے گا،انصاف کی بالادستی کیلئے فل کورٹ کی تجویز دی تھی، اب فیصلہ تین بینج پر مشتمل یہی ججز کریں گے،اگر فل کورٹ مستر کیا جاتا ہے تو ہم بھی عدلیہ کےاس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں،انہوں نے بتایا کہ حکمران اتحاد نے فیصلہ کیا ہے کہ اس بنچ کے سامنے پیش نہیں ہوں گے،پنجاب کے کیس کے حوالے سے اس بینچ کا بائیکاٹ کریں گے.

    پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ ہمارا مطالبہ فل کورٹ کا ہے،یہ مطالبہ آئین، جمہوریت اور عدلیہ کے وقار کیلئے کیا تھا،جب تک ہمارا مطالبہ نہیں ما ناجاتا ہم سپریم کورٹ میں سماعت کا بائیکاٹ کریں گے، سپریم کورٹ کو پارلیمان سے متعلق بار بار فیصلے دینے پڑ رہے ہیں،جب تک ہمارا مطالبہ نہیں ما ناجاتا ہم سماعت کا بائیکاٹ کریں گے،ہم سمجھتے ہیں عدالت کا بھی فل بینچ بیٹھے اور فیصلہ دے،حکومتی اتحادی جماعتوں نے عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے.

     

    فل بینچ تشکیل نہیں دیا تو عدالتی کارروائی کابائیکاٹ کریں گے،رانا ثناء اللہ

     

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اب امتحان سپریم کورٹ کا ہے،قانون کا تقاضا ہے کہ کسی جج یا بینچ پر انگلی اٹھ جائے تو وہ خود کو وہاں سے ہٹا دے، ہم نے صرف فل کورٹ کی استدعا کی تھی، مسلم لیگ ن کے وفاقی وزیر احسن اقباک کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے باعث 20 اراکین اسمبلی کے ووٹ نہیں گنے گئے، اس کیس پر نظرثانی کی درخواست اب بھی سپریم کورٹ میں زیر التواء ہے،نظرثانی درخواست کا فیصلہ آئے بغیر یہ معاملہ غلط سمت میں جا رہا ہے،عمران نیازی کی ہدایت محترم تھی تو چودھری شجاعت کی ہدایت بھی اتنی ہی محترم ہونی چاہئے، ایک سربراہ کی ہدایت پر 20 اراکین کو نااہل کر دیا جاتا ہے اور دوسرے کی ہدایت کو تسلیم نہیں کیا جاتا،ہیں چاہتے کہ کسی سیاسی تنازع پر سپریم کورٹ پر لوگ انگلیاں اٹھائیں،عام تاثر ہے کہ عمران خان عدلیہ کے ذریعے اپنا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھاتے ہیں،ہم نے صرف سپریم کورٹ کا فل بینچ تشکیل دینے کی درخواست کی تھی،سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اتنی تیزی اس مقدمے کی سماعت کیوں کی جا رہی ہے،فل کورٹ اپوزیشن کا متفقہ فیصلہ تھا.

    عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) رہنما میاں افتخار حسین نے سپریم کورٹ کے فل کورٹ کی استدعا مسترد کرنے کے فیصلے کو سمجھ سے بالاتر قرار دے دیا۔ پشاور میں میڈیا سے گفتگو میں میاں افتخار حسین نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فل کورٹ بنتا تو تمام سیاسی جماعتیں مطمئن ہوتیں۔انہوں نے کہا کہ پارٹی سربراہ کا فیصلہ نہ مان کر پارلیمانی پارٹی کو جواز بنانا سمجھ سے بالاتر ہے جبکہ 25 ارکان کی نااہلی کے پیچھے پارٹی سربراہ کے احکامات تھے۔اے این پی رہنما نے مزید کہا کہ سینیٹ میں یوسف رضا گیلانی کے مسترد شدہ ووٹوں کا ابھی تک فیصلہ نہیں ہوا ہے، مرحوم حاصل بزنجو کے ووٹ مسترد ہوئے تو اس پر بھی عدالت خاموش رہی۔ان کا کہنا تھا کہ سابق ڈپٹی اسپیکر کے 52 ہزار ووٹ جعلی نکلے، اس معاملے پر بھی عدالت 3 سال تک فیصلہ نہ دے سکی۔

    ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے فیصلے کی روشنی میں مستقبل کی حکمت عملی طے کی گئی، تمام قائدین نے ممکنہ صورتحال میں متفقہ حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنے پر اتفاق کیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کو آج کی سپریم کورٹ کی کارروائی سے متعلق بریفنگ دی گئی۔

     

    فل
    کورٹ بنانے کی درخواستیں مسترد ،کیس 3 رکنی بینچ ہی سنےگا