پارلیمنٹ حملہ کیس، صدر مملکت سمیت تحریک انصاف کے سب رہنماؤں کو ریلیف مل گیا
انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے پارلیمنٹ حملہ کیس کا فیصلہ سنادیا
اے ٹی سی اسلام آباد نےصدر عارف علوی سمیت تمام نامزد ملزمان کو بری کردیا اے ٹی سی اسلام آباد کی جانب سے وفاقی وزرا اور پی ٹی آئی رہنماوں کی بریت کی درخواستیں منظور کر لی گئیں ,اسلام آباد کی انسداد دھشتگردی عدالت کے جج محمد علی وڑائچ نے صدر عارف علوی ، پرویز خٹک ، شاہ محمود قریشی ، اسد عمر ، جہانگیر ترین ، علیم خان سمیت سب کو بری کر دیا وزیراعظم عمران خان پہلے ہی بری ہو چکے ہیں۔
قبل ازیں انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد میں پارلیمنٹ حملہ کیس کی سماعت ہوئی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، شفقت محمود اور سیف اللہ نیازی عدالت میں پیش ہوئے اے ٹی سی اسلام آباد نے ملزمان کو حاضری لگا کر جانے کی اجازت دے دی
واضح رہے کہ اس کیس میں وزیراعظم عمران خان کو بری کر دیا گیا تھا،انسداد دہشتگردی کی عدالت کے جج راجا جواد عباس حسن نے فیصلہ سنایا تھا،صدارتی استثنا کے باعث صدرمملکت عارف علوی کی حد تک کیس داخل دفترہے ،اس سے قبل عدالت عمران خان کو ایس ایس پی تشدد کیس میں بری کرچکی ہے۔ صدر مملکت عارف علوی، وفاقی وزراء شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک، اسد عمر، شفقت محمود، صوبائی وزیر علیم خان، جہانگیر ترین بھی مقدمہ میں ملزم نامزد ہیں
واضح رہے کہ اگست 2014 میں تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک نے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف دھرنا دیا تھا جس کے دوران دونوں جماعتوں کے کارکنان نے پولیس رکاوٹیں توڑ کر وزیراعظم ہاؤس میں گھسنے کی کوشش کی تھی اور مبینہ طور پر پی ٹی وی پر حملہ کیا۔ اس دوران شاہراہِ دستور پر تعینات پولیس اہلکاروں اور مظاہرین میں جھڑپ ہوئی اور پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کے 50 مظاہرین نے مبینہ طور پر سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس عصمت اللہ جونیجو کو حملہ کر کے زخمی کیا تھا۔
اسلام آباد پولیس نے ان تمام واقعات کے مقدمات عمران خان، طاہر القادری، عارف علوی، اسد عمر، شاہ محمود قریشی، شفقت محمود اور راجہ خرم نواز گنڈاپور کے خلاف درج کئے جن میں انسداد دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئیں
صدر عارف علوی اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت پی ٹی آئی کی سینئر لیڈرشپ پارلیمنٹ حملہ کیس میں بری ہوگئی۔ جبکہ مقدمہ 30 اگست 2014 کو تھانہ سیکرٹریٹ میں درج کیا گیا تھا
نہ ہماری حکومت جارہی ہے نہ کوئی تبدیلی ہورہی ہے،وزیراعظم کے قریبی ساتھی کا دعویٰ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کا سیاسی موسم مسلسل گرم ہو رہا ہے، گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ سیاسی پارٹیاں بھی متحرک ہو رہی ہیں
تحریک عدم اعتماد جمع ہو چکی، قومی اسمبلی کا اجلاس 21 مارچ کو ہو گا، 28 کو عدم اعتماد پر ووٹنگ ہو گی، 172 اراکین حکومت و اپوزیشن دونوں کو چاہئے، جس کو 172 مل گئے وہ کامیاب ٹھہرے گا تا ہم اس سے قبل حکومت و اپوزیشن دونوں نے ڈی چوک پر میلہ لگانے کا اعلان کیا ہے، تحریک انصاف نے 27 مارچ کو ڈی چوک پر جلسے کا اعلان کیا تو مولانا فضل الرحمان نے 23 مارچ کو ڈی چوک پر جلسے کا اعلان کر دیا اور کہا کہ ہم کب تک بیٹھیں گے یہ فیصلہ اسی روز ہو گا
اپوزیشن جماعتوں کے قائدین،رہنماؤں کی ملاقاتیں جاری ہیں، ایک دوسرے کو یقین دہانیاں کروائی جا رہی ہیں حکومتی اتحادی بھی متحرک ہیں کبھی حکومت والوں سے مل لیتے ہیں تو چند لمحوں بعد اپوزیشن کے پاس پہنچے ہوتے ہیں،عجیب سی کیفیت ہے، کون کس کے ساتھ ہے کچھ واضح نہیں ہو رہا،
ایسے میں وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا ہے کہ نہ ہماری حکومت جارہی ہے نہ کوئی تبدیلی ہورہی ہے ،پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ حکومت اور اسٹیبشلمنٹ ساتھ ہیں اور ساتھ رہیں گے،ہم نے کسی کو روکنا ہے نہ کسی کو کچھ کہتے ہیں ہم سنجیدہ لوگ ہیں ،کوئی بھی کسی ممبر کو نہیں روک سکتا،ہمارا کوئی ساتھی ہمارے خلاف ووٹ نہیں ڈالے گا،ہم نے کہا ہے جو جانا چاہتا ہے استعفیٰ دے اور ہمارے خلاف ووٹ ڈالے جو پارٹی کے خلاف جائے گا وہ اپنے ساتھ اور اپنے حلقے کے ساتھ زیادتی کرے گا،اتحادی اگر ہمارے ساتھ نہ ہوتے تو اب تک فیصلہ کرچکے ہوتے،اتحادی ہمارے ساتھ رہیں گے ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں،اپوزیشن صرف عمران خان کے خلاف متحد ہوئی ہے،اپوزیشن والے ایک دوسرے کے دشمن ہیں فوج ہمیشہ سے نیوٹرل ہے،پارلیمنٹ پر جب حملہ ہوا تو میں یہاں تھا ہی نہیں خالی جگہ پر کرنے کے لیے میرا نام کیس میں ڈالا گیا،
وزیراعظم عمران خان سےوفاقی وزیرفہمیدہ مرزا کی ملاقات ہوئی ہے،ملاقات میں سیاسی صورتحال سمیت دیگر امور پربات چیت کی گئی،فہمیدہ مرزا نے وزیراعظم کو جی ڈی اے کے تحفظات سے آگاہ کیا
وزیراعظم عمران خان سے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی ملاقات ہوئی ہے ملاقات میں پنجاب کی سیاسی صورتحال کا جائزہ لیاگیا وزیراعلیٰ پنجاب نے وزیراعظم کو اراکین اسمبلی سے ملاقاتوں پر بریفنگ دی،وزیراعظم عمران خان سے اراکین ہنجاب اسمبلی کی بھی ملاقاتیں ہوئی ہیں ملاقاتوں میں موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیاگیا ،
ایم کیو ایم پاکستان کا وفد شہباز شریف سے ملاقات کے لیے منسٹر انکلیو پہنچ گیا وفد میں خالد مقبول صدیقی، عامر خان ،وسیم اختر ،امین الحق ودیگر رہنما شامل ہیں مولانافضل الرحمان بھی منسٹر انکلیو پہنچ گئے پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی خصوصی دعوت پر ملاقات میں شریک ہوئے،ایم کیو ایم وفد کو شہباز شریف کی جانب سے ظہرانہ بھی دیا گیا شہباز شریف نے ایم کیو ایم سے تحریک عدم اعتماد پر تعاون کی درخواست کی
خالد مقبول صدیقی نے شہباز شریف اور مولانا فضل رحمان کو کل شام 5 بجے کی دعوت دے دی،اپوزیشن قائدین اور ایم کیو ایم میں ملاقات کل پارلیمنٹ لاجز میں ہوگی،شہبازشریف اور مولانا فضل الرحمان کے ہمراہ پارٹی وفود کو بھی مدعو کیا گیا ہے
جے یو آئی رہنما مولانا عبدالغفورحیدری کہتے ہیں کہ حکمرانوں نے ایسا ماحول پیدا کیا جس سے اپوزیشن نے بھی تلوار نیام سے نکال لی ہے ،اب شاید تلوار کو میان میں ڈالنا مشکل ہوگا،سیاسی طور پر حکمرانوں کو ایسی تاریخی شکست دینگے کہ یہ یاد رکھیں گےفیصلہ پارلیمنٹ میں ہوگا، بات چیت کا دروازہ کبھی بند نہیں کیا مگر اس صورتحال میں ممکن نہیں،
ن لیگی رہنما احسن اقبال کا کہنا ہے کہ عمران خان کو پتہ چل گیا اس لیے وہ بچنے کےلیے ہجوم گردی کا سہارا لے رہے ہیں وزرا کے یہ بیانات کہ جو ووٹ ڈالے گا ہجوم سے گزرے گا،یہ تو ہجوم گردی ہے عمران خان جمہوریت پریقین رکھتے ہیں تو 172 کی اکثریت ثابت کریں
دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارسے صوبائی وزراء میاں اسلم اقبال، ہاشم جواں بخت اورحامد یار ہراج کی ملاقات ہوئی ہے، اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ یوم پاکستان پر لانگ مارچ کا اعلان قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔پی ڈی ایم کو قومی مفادات کا رتی بھر بھی احساس نہیں۔یہ لوگ اپنی سیاسی دکانداری چمکانے کیلئے قومی مفادات کو داؤ پر لگارہے ہیں۔پی ڈی ایم نے سیاسی ناپختگی اور غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا ۔موجودہ حالات میں منفی سیاست کی ذرا سی بھی گنجائش نہیں۔اپوزیشن کی سیاست کسی اصول یا نظریے کی بنیاد پر نہیں اپوزیشن کے ہر ہتھکنڈے کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔قوم وزیراعظم عمران خان کے سا تھ ہے اور ساتھ رہے گی۔تحریک انصاف متحد ہے اور حکومت مدت پوری کرے گی۔
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارسے صوبائی وزراء میاں اسلم اقبال، ہاشم جواں بخت اورحامد یار ہراج کی ملاقات pic.twitter.com/YmKeG6dPIR
وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے مولانا فضل الرحمان کے لانگ مارچ کے اعلان پرکہا کہ اوآئی سی کانفرنس اسلام آبادمیں ہونے جارہی ہے، اوآئی سی اجلاس میں مداخلت نہیں ہونے دیں گے، اوآئی سی اجلاس کیلئے دعوت نامے بھیجے جا چکے ہیں، اسلام آبادمیں اوآئی سی اجلاس پاکستان کیلئےاعزازہے،اپوزیشن کہتی ہےہمارے پاس نمبرزپورےہیں،نمبرزپورے ہیں تو اسلام آبادمیں دھرنوں کی کیا ضرورت ہے،کچھ چیزیں ایسی ہیں جووزیراعظم قوم سے شیئرکرناچاہتے ہیں، جلسے کے ذریعے وزیراعظم عمران خان قوم کواعتماد میں لیں گے،تحریک عدم اعتماد کا مقابلہ آئینی وقانونی طریقےسے کرینگے،ارکان کو دھمکی دینے یا رابطوں میں رکاوٹ ڈالنے کا کوئی ارادہ نہیں، تمام ارکان اپنی آئینی وقانونی ذمہ داری کو بخوبی سمجھتے ہیں، تحریک عدم اعتماد پیش کرنا اپوزیشن کا آئینی حق ہے،عدم اعتماد کا مقابلہ کرنا ہمارآئینی وجمہوری حق ہے،پیپلزپارٹی نے لانگ مارچ کیا حکومت نےکہیں نہیں روکا،لانگ مارچ کرنے والوں کوآئندہ بھی نہیں روکاجائے گا
واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہو چکی ہے اور اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ کئی پی ٹی آئی اراکین بھی ہمیں ووٹ دیں گے، وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے بھی ڈی چوک پر میدان لگانے کا فیصلہ کیا ہے،پی ڈی ایم کی جماعتیں بھی ڈی چوک پر جلسہ کریں گی اور جلسہ عدم اعتماد والے روز ہو گا اس ضمن میں مشاورت جاری ہے ،تحریک انصاف نے بھی ڈی چوک پر جلسہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے
غلط اطلاعات اورپروپیگنڈے سے قومی ہم آہنگی متاثرہوتی ہے،آرمی چیف
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے لاہور کا دورہ کیا ہے
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے لاہورکے دورے کے دوارن ایس ایچ 15آ رٹیلری گنزکی شمولیت کی تقریب میں شرکت کی ،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اسٹیٹ آف دی آرٹ ویپنزسسٹم کی شمولیت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نئے ہتھیاروں کی شمولیت سے مستقبل کے جنگی چیلنجز سے نمٹنے میں مدد ملے گی اور جدید ترین گنز کی شمولیت سے رینج، نقل وحرکت ،آپریشنل صلاحیت میں اضافہ ہوگا
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بعدازاں آرمی چیف نے لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کا بھی دورہ کیا ، آرمی چیف کی لمزآمد پر وائس چانسلر ڈاکٹر ارشد ملک نے استقبال کیا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے لمز کے اساتذہ اور طلبا سے تبادلہ خیال کیا اور مستقبل کی قومی قیادت تیار کرنے میں لمز کے کردار کو سراہا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان باصلاحیت نوجوانوں کی دولت سے مالامال ہے، انسانی وسائل کی ترقی جدت،ٹیکنالوجی، ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے غلط اطلاعات اورپروپیگنڈے سے قومی ہم آہنگی متاثرہوتی ہے، ایسی سازشوں کی نشاندہی کرکے مشترکہ ردعمل دیا جانا چاہیے
پی ڈی ایم کے سربراہ اور چئیرمین جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ عمران خان کو غلط فہمی ہے کہ وہ 10 لاکھ لوگ اکھٹے کرلیں گے-
باغی ٹی وی : نجی ٹیو یو چینل کے پروگرام "کھرا سچ” میں میزبان مبشر لقمان کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں مولانا فضل الرحمان نے تحریک عدم اعتماد سمیت معروف ٹاک ٹاکر حریم شاہ اور حکومت کے تعلقات کے بارے میں تہلکہ خیز انکشافات کئے-
پروگرام میں سینئیر صحافی مبشر لقمان نے کہا کہ اگر کسی بھی اپوزیشن جماعت کو کوئی گارنٹی چاہیئے یا کچھ چاہیئے تو سب مولانا فضل الرحمان کے پاس آتے ہیں کو ئی مانے یا نا مانے اس وقت پاکستان میں حقیقی اپوزیشن کے طور پر ابھر کر آگے آئی ہے –
پروگرام میں مولانا نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کی مہربانی ہے کہ وہ مجھے عزت دیتے ہیں اللہ تعالیٰ ہماری کاوشوں کو قبول فرمائے-
میزبان کی طرف سے پوچھے گئے سوال کہ عدم اعتماد کی تحریک کب تک چلے گی؟ پر بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک کب تک رہنے والی بات تو رہی نہیں جب عدم اعتماد کی تحریک اسپیکر کے پاس جا کر جمع ہو جاتی ہے تو پھر ان کے اپنے قوانین و ضوابط ہیں کہ آپ کتنے دنوں کے اندر اندر نہیں لاسکتے ہیں اور کتنے دنوں کے اندر لانا لازمی ہے اس کا تعین بھی ہمارا آئین ہی کرتا ہے قانون اور رول اینڈ ریگولیشنز بھی کرتے ہیں اور اس وقت ہم نے ریکوزیشن بھی جمع کرائی ہے اس کی مدت کا تعین ہے کتنے دنوں کے اندر ریکوزیشن جمع ہو نے کے بعد اجلاس بلانا ہوتا یے اس حوالے سے فیصلہ اسپیکر نے کرنا ہے وہ کس وقت اجلاس بلاتے ہیں ظاہر ہے یہ تحریک ہم نے پیش کی ہے تو ہماری سو فیصد توانائیاں اس پر صرف ہوں گی کہ وہ ہر قیمت پر کامیاب ہو سکے-
10 لاکھ لوگ حکومت اور اپوزیشن بھی لوگوں کو ڈی چوک پر بلارہے ہیں کیا ہم انارکی کی طرف کسی لڑائی کی طرف جا رہے ہیں ؟
اس سوال کے جواب میں مولانا فضل ا لرحمان نے کہا کہ یہ بات تو ان کو نہیں کہنی چاہیئے تھی لیکن عمران خان کو شائد گھمنڈ ہے کہ شاید میں 10 لاکھ لوگ لا سکوں گا کیا 10 لاکھ لوگوں کے اکٹھے ہونے سے حالات پر اثر انداز ہو سکے گا کیا ٹرمپ نے اپنی ووٹنگ کے دن امریکا میں لاکھوں لوگوں کو اعلان نہیں کیا تھا کیا وہ کامیاب ہو گیا تھا پھر لوگوں کی رائے بدل گی ووٹ گننے والے دباؤ میں آگئے مرعوب ہو گئے ایسی صورتحال نہیں ہے-
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت عمران خان ہر صورت کوئی ایسے حالات پیدا کرنا چاہتا ہے اگر تو بات رہی پبلک کی تو واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ ہم نے بھی عوام کو اور اپنے کارکنوں کومتاثرہ طبقات کو جو اس وقت پاکستان کی نااہل حکومت کی وجہ سے برے حالات بھوک اور مہنگائی کا شکار ہیں اور بچوں کی فیسیں اور بجلی کا بل نہیں ادا کر سکتے یہ ساری چیزیں اس وقت ہمارے ہاں موجود ہیں تو اگر ہم نے بلا لیا لوگوں کو تو پھر میں نہیں سمجھتا کہ یہاں پر کوئی کنٹرول کر سکےگا-
مولانا فضل الرحمان نے مبشر لقمان کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ کسی طرف سے بھی ہمیں انارکی کی طرف نہیں جانا چاہیئے اگر ہم اس طرف جانا چاہتے تو پھر ظاہر ہے آپ کو پتہ ہے ہماری ترجیح تو یہ تھی کہ ہم استعفے دے کر ایوانوں سے نکل آئیں لیکن پھر بھی چند دوستوں نے کہا کہ ہم ایوان کے اندر ہمارا جمہوری اور آئینی راستہ ہے عدم اعتماد کا اس کو اپنانا چاہتے ہیں جب ہم نے ان کو اپنا لیا ہے تو حکومت بھی اسی محاز پر مقابلہ کریں ا نارکی کی طرف تو انہوں نے اشارات دیئے ہیں اور اگر ملک میں حالات ایسے خراب ہوتے ہیں تو اس سے پہلے بھی کچھ چھوڑا تو نہیں ہے یا پھر کچھ بچا کھچا ہے امکان ہے کہ آنے والے لوگ سنبھال سکیں گے تو اس کا خیال ہے وہ بالکل نہیں سنبھال سکیں گے-
مبشر لقمان نے سول پوچھا کہ یہ نارمل الیکشن نہیں ہیں اس میں ووٹ اسپیکر نے گننے ہیں اسپیکر نیشنل اسمبلی کی باتوں سے لگ رہا ہے کہ وہ تو حکومت ک سا ئڈ لے چکی ہے اور پی ٹی آئی کے لوگوں کے ووٹوں کو گننا نہیں وہ ڈس کوالیفائی کرلیں گے-
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نہیں کرسکتا اس قسم کے جبر سے اسمبلی ختم ہو جائے گی پوری اپوزیشن کے ساتھ آپ نے یہ کھیل کھیل لیا تو پوری اپوزیشن استعفے دے دے گی نہ آپ کی پبنجاب اسمبلی نا وفاق میں قومی اسمبلی رہ سکے گی آپ کے آدھے سے زیادہ لوگ مستعفی ہو جائیں گے ملک کا نظام کیسے چلائیں گے یہ حماقت کبھی بھی اسپیکر نہیں کرے گا –
ایک سوال کے جواب میں سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ ریاست مدینہ کی بات کرنا بھی مذاق ہے باہر کے اشاروں پر اس طرح کے کام کرنا جو ہم کر رہے ہیں یہ بھی کہنا مذاق ہے تو مذاق کے ذریعے سے تو سیاست نہیں کر سکتے غیر سنجیدہ ہو کر جو چاہو کہہ دو کسی کے بارے میں گالیاں دے دو یہ روش ایک نارمل انسان کی نہیں ہوا کرتی عمران خان ایک نارمل حثیثت بھی کھو چکے ہیں اور ایسے ایسے گفتگو ان کی زبان سے نکل رہی ہے جو ایک شریف انسان کی نہیں ہو سکتی-
سوال کہ آپ کو کتنی امید ہے کہ جو اتحادی ہیں حکومت کے وہ آپ لوگوں کے ساتھ عنقریب مل جائیں گے؟ کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دو چیزیں ہیں ایک ہے ان کی اتحادی حکومت کی کرگردگی سے مطمن ہو اور وہ چاہتے ہوں ہم حکومت سے وابستہ رہیں اور دوسرا یہ کہ وہاں سے بالکل اطمینان ختم ہو چکا ہے لیکن نئے اتحاد کی طرف آنا اور اپوزیشن سائیڈ پر ایڈجسٹ کرنا اعتماد حاصل کرنا میرے خیال میں اصل پہلو یہی ہے ادھر سے میرے خیال میں وہ 100 فیصد کٹ چکے ہیں اور کسی قسم کا ان کا وہاں پر اعتماد والی کیفیت نہیں رہی ہے اور مایوسی کی آخری حدود تک پہنچے ہیں –
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت آپ ق لیگ پیر پگاڑا کی جماعت یا ایم کیو یم کی بات کریں یہ سب مجھے مل چکے ہیں ور ان سب کے خیالات و احساسات سے میں واقف ہوں اور اب یہ ہے کہ اگر ہمارے ساتھ آ کر ملیں گے تو ظاہر ہے کہ کچھ نہ کچھ تو بہت سے لوگوں کے تقاضے مطالبات ایڈجسٹمنٹ کے لئے کچھ شرائط چھوٹی موٹی سامنے آتی رہی ہیں میرے سامنے تو ایسی صورتحال نہیں میں کسی کو وزارت دوں اپنے صوبے میں تو میرے پاس اتنی تعداد نہیں کہ کسی کو کہوں منسٹر وزارت دوں گا پنجاب میں مسلم لیگ ن کی اور سندھ میں پی پی کی اپوزیشن ہے اگر ان سے کوئی رابطہ ہو اور ایسی بات یوئی تو میں نہیں کہہ سکتا میرے سامنے ایسا نہیں ہوا .
مشر لقمان نے پوچھا کچھ تو ناراض اراکین کو وعدہ کیا ہو گا نا پی پی نے مسلم لیگ ن نے جے یو آئی نے؟ مولانا نے کہا کہ ظاہر ہے ایک مرتبہ ہم نے نئی حکومت بنانی ہے اس میں ہم شامل ہوں گے نئے لوگ آئیں گے ہم نے بھی تو حکومت میں آنے کے بعد وزارتیں دینی ہیں بغیر وزارتوں کے نظام نہیں چلتا تو کچھ آپ کے نئے آنے والے لوگوں کو بھی ایڈجسٹ کر سکتے ہیں-
مولانا نے ایک سوال کے جواب میں کہا ک جہانگیر خان ترین یا علیم خان ہوں یہ ایک مستقل جماعت نہیں ہیں پی ٹی آئی کا حصہ ہیں ہم نے پی ٹی آئی کی حلیف جماعتوں کی بات کی ہے دونوں میں فرق تو ہے اور اس اعتبار سے اگر کسی اور جماعت سے ان کے روابط ہوں ہماری اپوزیشن کی لیکن میرے ساتھ تو کوئی رابطہ نہیں میں اس پر کوئی تبصریہ نہیں کر سکتا-
اس سوال پر کہ پی ٹی آئی کے لوگوں کو اپنی حکومت پر اعنبار نہیں ہے؟ کا جواب دیتے ہوئے مولانا نے کہا کہ جو مجھے معلومات ہیں جو مجھے رپورٹ کیا جاتا ہے تو اس لحاظ سے ان کی اپنی صفیں مکمل طور پر ٹوٹ چکی ہیں بس ایک یا دو وزیر ان کے دفاع کی کوشش کرتے ہیں -مولانا فض الرحمان نے کہا کی جو بھی شکل ہے اس کی بس دو تین ایسے ہیں جو گفتگو کر رہے ہیں انہوں نے وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جیسی لیڈر کی زبان ہو گی پیرو کاروں کی بھی وہی زبان ہو گی گالیاں دیں گے یہ بوکھلاہٹ ہے اس بوکھلاہٹ کا کوئی فائدہ نہیں-
مبشر لقمان نے پوچھا کی آپ نے کہا عمران خان یہودیوں کا ایجنٹ ہے کیا اس کا کوئی ثبوت ہے؟
چئیرمین جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا کی ایک سوال جو میں تقریباً دس بارہ سال سے اٹھا رہاہوں آپ اس کے ثبوت آج مجھ سے پوچھ رہے ہیں پہلے تو مجھے آپ جیسے باخبر آدمی سے توقع نہیں تھی ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اس پر میں کافی کہہ چکا ہوں اور اب تو ہر مخالف وہ ہی باتیں کر رہا ہے مجھے زیادہ تر نہیں کہنی پڑ رہیں باقی لوگ اب اس کے لئے کافی ہو گئے ہیں کہ کس طریقے سے ان کے جو امریکا کے جے کیسنجتر جس زمانے میں ہمارے خارجہ سے واشنگٹن میں ملاقات کر رہے تھے اس میں گواسمتھ بھی بیٹھا ہوا تھا اس نے کہا کہ ہمارے لونڈے کا خیال رکھا کرو اس زمانے سے ہم جانتے ہیں پھر کہیں کہ یہ سب کچھ کہاں سے آرہا ہے کس کے کہنے پر ہو رہا ہے-
انہوں نے مزید کہا کہ 2013 کے الیکشن کے فورا بعد ایک وفد مجھے ملا اس نے مجھے کہا کہ ہم دو تین سال سے آپ کی تقریر نوٹ کر رہے ہیں آپ عمران خان کو یہودی ایجنٹ کہتے ہیں کیا ہم نے صحیح نوٹ کیا ؟ میں نے کہا ہاں آپ نے صحیح نوٹ کیا ہے-مولانا کے مطابق میری اس بات پر وفد نے کہا کہ ہم تصدیق کرتے ہیں آپ نے صحیحح نوٹ کیا-اس پر مبشر لقمان نے بھی انکشاف کیا کہ مجھے کچھ لوگوں نے کہا لیکن میں ان کا نام نہیں لوں گا-
مولانا فضل الرحمان نے انٹرویو میں مزید کہا کہ ووٹ دو اور کھڑے ہو جا ؤ یہ ان کا(عمران خان) ایک آئینی حق ہے جس کو ہم روک نہیں سکتے اگر فارن فنڈنگ کیس کی پٔزیشن یہ ہے کہ اگر الیکشن میں اس کے حقائق کی بنیاد پر فیصلہ آتا ہے تو ملک پاک ہو جاتا ہے ایک گند سے ایک ایسی پارٹی سے انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ ہمارا الیکشن کمیشن کس مصلحتوں کا شکار ہے کہ اتنے بڑے جرم پانامہ کا کیس ایک دم آتا ہے اور ایک دم آپ حکومت سے شخص کو نااہل کر کے باہر کر دیتے ہیں ایک کیس پڑا ہوا ہے اس کا مدعی دندنا رہا ہے اور کہہ رہا ہے میں گھر کے اندر سے گواہی دے رہاہوں گھر کے اندر سے گواہ تو بڑا زبردست قسم کا ہوتا ہے تو وہاں پر ہمارا ایک بڑا ادارہ جس کے پاس یہ کیس ہے وہ کیوں انصاف کے تقاضوں کو موخر کررہا ہے میرے سمجھ نہیں آ رہا-
ایک سول کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر عمران خان مصالحت کے لئے رابطہ کریں گے تو یا تو بُری چیز ختم کر دی جانے چاہیئے یا پھر مٹ جانا چاہئئے اور یہ بھی ایک بُری چیز ہے اس کا بھی نام و نشان مٹ جانا چاہیئے اس کو فنا ہو جانا چاہیئے-
مبشر لقمان نے کہا کہ اسلامی ریاست ہو نے کے باوجود مولوی لوگ پاپولر ووٹ کیوں نہیں لےسکتے ؟
جس پر مولانا نے کہا کہ یہ ایک لمبی بحث ہے میں علماء کو کہتا ہوں کہ آپ اپنے آپ کو انبیا ء کے وارث سمجھتے ہیں اگر انبیا کی وراثت محراب کا مصلہ ہے تو اس پر آپ کے بغیر قوم کسی کو قبول نہیں کرتی اگر ممبر رسول وہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وراثت ہے تو وہاں پر آپ کے بغیر قوم کسی کو قبول نہیں کرتی تو پھر سیاست بھی منصب انبیا ہے ار اس سیاست کے منصب پر علما اکرام کو کیوں کہا جاتا ہے اگر سیاست شریعہ ہو انبیا کی سیاست ہو آج بھی اس کے اصل وارث علما اکرام ہیں لیکن پھر یہ ہمیں خود عالم کو سوچنا ہو گا کہ ہم نے عام آدمی کو اس حوالے سے مطمن کیوں نہیں کیا –
انہوں نے کہا کی عام آدمی بہتر معشیت مسائل مشکلات کا حل چاہتا ہے ظلم سے نجات حاصل کرنا چہاتا ہے تھانے کچہری کے ظلم سے نجات حاصل کرنا چاہتا ہے کیوں آپ انتخابی سیات کرتے ہیں اور آپ کا ناقابل اجر کام ہے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنی فضیلت بیان کی ہے اس کام کی لیکن شاید ہم اس طرخ سے آگے نہیں بڑھ رہے ہیں آج جمیعت علما اسلام کے ساتھ جو وابستہ علما ہیں 4 سے 5 لاکھ علما اکرام ہیں وہ عوام میں جاتے ہیں اگر جو ن لیگ کی پی پی کی بات کرتا ہے عوامی حوالے سے اس طرض جے یو آئی کی بھی بات کرتا ہے اس پر ہم نے کام کیا ہے بڑی محنت کی ہے پورے پاکستان کے مکاتب فکر کے ساتھ رابطے میبں ہیں ان کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں ہم نے پاکستان کے ساتھ جمہوری نظام کے ساتھ رہنا ہے –
عمران خان کو پیغام میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ عوام کا منتخب نہیں ہے ایک بدترین قسم کی دھاندلی کی گئی 25 جولائی 2018 کوجو پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے وہ فوری مسعفی ہوں اور قوم کا مینڈینٹ اور امانت واپس کریں اگر نہیں کریں گے تو اس کے خلاف ہم ڈٹے رہیں گے-
انہوں نے کہا کہ 50 لاکھ لوگوں کو کنٹرول کرنے کے لئے حکومت پولیس مہیا کر سکتی ہیں؟ اگر میرے رضا کار نہ ہوں تو پھر جھوٹ بولا گیا کہ پارلیمنٹ لاجز میں رضا کار آ گئے 10 رضا کر آئے جن کا گیٹ پاس بنا باقی واپس چلے گئے ان پر اسلام آباد پولیس نے دھاوا بول دیا لاجز کے دو یا تین کمروں کے اندر کتنے لوگ ہوں گے کہ اسلام آباد پولیس اندر گھس کر ان پر حملہ کرے کہ میزیں دراوزے توڑیں پارلیمنٹ کے اندر بغیر اجازت اندر نہیں آ سکتے وہاں شناختی کارڈ جمع کیا جاتا ہے آپ کو فون کیا جاتا ہے آپ کے بندے آئے ہیں اجازت ہے-
لیکن اس کوپراپیگنڈہ کیا گیا کوئی شرم حیا ہی نہیں ان لوگوں کو اس جھوٹ پر مجھے زیادہ افسوس ہے کہ ناجائز کام کیا گیا ایک سویلین آدمی لاجز میں پارلیمنٹ ممبر کی اجازت سے آتا ہے 70 نہیں صرف دس اور اگر پارلیمنٹ میں 165 اراکین ہمارے پاس ہوں اور ہر آدمی کہے مجھے ایک کی دو کی اجازت ہے پورے نہیں آتے وہاں پر کیا ہم قانون کو نہیں جانتے-
انہوں نے حکومت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا تم اچھا جانتے ہو؟ انہیں قانون کا احترام نہیں ہے مجھے پتہ ہے تم ان لاجز کے کمروں میں کیا کردار ادا کرتے ہو تمہارے گند اور غلاظت تعفن اور بدبو کہاں کہاں تک پھیلتی ہے ہوو ہاں سے وہ خاتون حریم شاہ جو وزیراعظم آفس میں داخل ہو کر دروازے کو ٹھڈے مارتی ہے وہاں تو کوئی کاروائی نہیں ہوتی لیکن وہ پھر بھی حریم و محترم ہے لیکن ہمارے باریش نوجوان صرف اجازت سے اندر آئے ان کو معلوم ہو گیا تھا کہ ہمارے اراکین کو اٹھا نا ہے ان کو تحفظ دینے کے لئے آئے تھے پھر ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ انہوں نے ایسی کاروائی کرنی ہے پھر 70 کے 70 داخل ہو جاتے ہمیں پرواہ نہیں تھی –
انہوں نے مزید کہا کہ پھر آدھے گھنٹے کے اندر اند رمیں پہنچا ار پورا ملک جام ہو گیا پھر جا کر یہ نیچے آئے انہوں نے جو بدمعاشی کی ہے جو قانون توڑا ہے ریاست دہشتگردی کا ارتکاب کیا ہے مجھے اس پر احتجا ج ہے کہ میرے ساتھ بات کس بنیاد پر کرتے ہیں منہ بنا کر بات کر دینا دہشتگرد یہ اور وہ اس قسم کی باتیں ہمارے ساتھ نہ کرو ہم تم سے لاکھ درجے بہتر شریف اور آئین کے تابع اور قانون کا احترام کرنے والے لوگ ہیں تمہیں تو آئین کی سمجھ ہی نہیں قانون کی سمجھ ہی نہیں جہاں ایک بنیادی انسانی شرافت کی جگہ نہیں ہم پر بات کر رہے ہیں-
پرویزالہیٰ کو وزیراعلیٰ بنانے کی مخالفت کون کر رہا؟ سب پتہ چل گیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کا سیاسی موسم گرم ہے
ملاقاتوں کے سلسلے جاری ہیں، کون حکومت کا ساتھ دے گا کون اپوزیشن کا ، کچھ واضح نہیں پھر بھی سب کچھ واضح نظر آنا شروع ہو گیا ہے، اتحادیوں کے فیصلے انکے رویئے سب نظر آ رہے ہیں اپوزیشن کی بھی ملاقاتیں حکمرانوں کو کچھ پیغام دے رہی ہیں اور وزیراعظم کرسی بچانے کے لئے ڈی چوک پر جلسہ کرنے کا اعلان کر چکے ہیں
سیاسی ملاقاتوں کا سلسلے کی کڑی سامنے آئی ہے، چودھری شجاعت اور پرویز الہٰی سے پی ٹی آئی رہنما یار محمد رند کی ملاقات ہوئی ہے ملاقات میں چودھری سالک،چودھری حسین الہٰی اور صوبائی وزیر عمار یاسر بھی شریک تھے ملاقات میں بلوچستان کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا
قبل ازیں وفاقی وزیر برییگیڈئیر ریٹائرڈ اعجاز شاہ چوہدری برادران کی رہائش گاہ پرپہنچ گئے ،چوہدری پرویزالہی اورمونس الہی سے اعجاز شاہ کی ملاقات ہوئی، ملاقات میں سیاسی صورتحال اوراتحاد کے امورپر بات چیت کی گئی،چودھری پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ سیاسی صورتحال پر مسلسل مشاورت سے گزر رہے ہیں،
دوسری جانب مسلم لیگ ق اور تحریک انصاف کے درمیان دوریاں بڑھنے لگیں مسلم لیگ ق اور تحریک انصاف کے درمیان دوریاں بڑھنے کی وجہ سامنے آگئی مسلم لیگ ق کے مشاورتی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آئی ہے،ق لیگ کا کہنا ہے کہ عمران خان سے دوریاں ان کے رویہ کی وجہ سے بڑھیں،عمران خان نے اقتدار میں آنے کے بعد کوئی رابطہ ہی نہیں رکھا، عمران خان اگر اقتدار سے گئے تو اپنے رویہ کی وجہ سے جائیں گے، عمران خان کا جلسے کرنا اور ایسے الفاظ استعمال کرنا مناسب بات نہیں،کون سی حکومت کو پاور شو کی ضرورت ہوتی ہے،آصف زرداری نے کہا پرویز الہی ٰکو وزیر اعلیٰ بنانا چاہتے ہیں،آصف زرداری نے واضح کہا کہ مجھے کچھ نہیں چاہیے، پرویز الہٰی کو وزیر اعلیٰ بنا دیں،پی ٹی آئی اور ن لیگ کے اندر کے لوگ پرویز الہٰی کو وزیر اعلی ٰبنانے کی مخالفت کر رہے ہیں،
دوسری جانب حکومت نے اتحادیوں سے رابطوں کا ایک اور دورشروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے حکومتی شخصیات (ق) لیگ، ایم کیوایم اور بلوچستان عوامی پارٹی سے دوبارہ رابطے کریں گے وزیراعظم کی پرویز الٰہی سے ملاقات کا امکان ہے اور حکومتی شخصیات کی جانب سے دونوں کی ملاقات کرائے جانے کا امکان ہے جس کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ آج حکومتی شخصیات دوبارہ مسلم لیگ (ق) سے رابطہ کریں گی۔
قبل ازیں وفاقی وزیر،ق لیگ کے رہنما مونس الہٰی کا تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کے بیٹے علی ترین سے ٹیلی فون پر رابطہ ہوا ہے، عون چوہدری نے علی ترین اورمونس الہٰی کی ٹیلی فون پر بات چیت کرائی جس میں وفاقی وزیر نے علی ترین سے ان کے والد جہانگیر ترین کی خیریت دریافت کی جب کہ دونوں کے درمیان ملکی سیاسی معاملات پر بھی گفتگو کی گئی
واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہو چکی ہے اور اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ کئی پی ٹی آئی اراکین بھی ہمیں ووٹ دیں گے، وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے بھی ڈی چوک پر میدان لگانے کا فیصلہ کیا ہے،پی ڈی ایم کی جماعتیں بھی ڈی چوک پر جلسہ کریں گی اور جلسہ عدم اعتماد والے روز ہو گا اس ضمن میں مشاورت جاری ہے ،تحریک انصاف نے بھی ڈی چوک پر جلسہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد سے گرفتار سینئر صحافی محسن بیگ کی درخواست ضمانت منظور کر لی گئی ہے
اے ٹی سی اسلام آباد نے صحافی محسن بیگ کی ضمانت منطورکرلی اے ٹی سی اسلام آباد نے صحافی محسن بیگ کو 5 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا ، اسلام آباد کے انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج محمد علی وڑائچ نے محفوظ شدہ فیصلہ سنایا، محسن بیگ کو مچلکے جمع کروائے جانے کے بعد آج رہا کیا جا سکتا ہے
محسن بیگ کو پولیس نے گھر سے گرفتار کیا تھا محسن بیگ اسوقت جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں محسن بیگ کے خلاف تھانہ آبپارہ میں مقدمہ درج ہے محسن بیگ کیخلاف درج مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئی تھیں بعد ازاں گرفتاری کے بعد ناجائز اسلحہ کا مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا اس مقدمہ میں محسن بیگ کی ضمانت ہو گئی تھی آج دوسرے مقدمے میں بھی ضمانت ہو گئی ہے
محسن بیگ کو جب گھر سے اٹھایا گیا تھا اسکے بعد ان پر تھانے کے اندر بہیمانہ تشدد کیا تھا، گرفتاری کے بعد پولیس نے محسن بیگ کے گھر پر بعد میں بھی چھاپے مارے تھے، حکومتی وزرا نے محسن بیگ کو ایک دہشت گرد ثابت کرنے کی کوشش کی تاہم اسلام آباد سمیت ملک بھر کی صحافی برادری محسن بیگ کے ساتھ کھڑی رہی اور حکومتی ہتھکنڈوں کا مقابلہ کیا،
آن لائن نیوز ایجنسی اور روزنامہ جناح کے ایڈیٹر انچیف محسن جمیل بیگ کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ضمانت منظور ہونے پر جناح بلڈنگ کے باہر صحافی کمیونٹی کا احتجاجی کیمپ کے اختتام پزیر ہونے پر اظہار تشکر کیا، جڑواں شہروں کے صحافیوں سمیت پی ایف یو جے ،آر آئی یو جے اور نیشنل پریس کلب کے عہدیداروں نے کثیر تعداد میں شرکت کی ،خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا پاکستان کی معزز عدالتوں کی غیر جانبداری پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں ، محسن جمیل بیگ کے تمام کیسز پر فیصلے حق و سچ کی دلیل ہے ، حکمران جماعت نہ صرف آزادی اظہار پر پابندی لگا رہی ہے بلکہ عوام کے منہ سے روٹی کا نوالہ بھی چھین رہی ہے حکومت وقت جان لے کہ ہم سچ لکھتے رہیں گے اور قوم کو حقائق سے آگاہ کرنا ہمارا فریضہ ہے عمرانی حکومت جان لے آزادی صحافت پر پابندیاں لگانے سے حق و سچ کی آواز بند نہیں کی جا سکتی۔ صحافیوں پر تشدد کسی صورت برداشت نہیں کریں پیکا ایکٹ آرڈیننس واپس لے ۔صحافیوں کو آئین اور قانون کے مطابق ہمیں آزادی اظہا رائے کا حق دینا چاہئے۔
چیف ایڈیٹر جناح / آن لائن محسن جمیل بیگ کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ضمانت منظور ہونے پر ورکرز ایکشن کمیٹی کی جانب سے لگائے جانے والے احتجاجی کیمپ کے اختتام پر اظہار تشکر کرتے ہوئے پر صدر آر آئی یو کے عابد عباسی نے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافتی تنظیموں کا محسن جمیل بیگ کی گرفتاری کے خلاف لگائے گئے کیمپ میں کردار مثالی رہا اور صحافیوں نے یکجہتی کی مثال قائم کرتے ہوئے ثابت کر دیا کہ صحافی زندہ ہے اور یہ ثابت کیا کہ ریاستی جبر و ظلم کے ضابطے اور حکومت کے کالے قوانین کسی صورت قبول نہیں پیں صدر نیشنل پریس کلب انور رضا نے کہا ہے کہ محسن جمیل بیگ کی ضمانت منظور ہوگئی ، ریاستی جبر ہار گیا،معزز عدلیہ کا کردار ناقابل فراموش ہے،صحافی برادری بائیس روز کے احتجاجی کیمپ میں دن رات بیٹھے رہے دلی مبارکباد پیش کرتا ہون ورکرز ایکشن کمیٹی کی استقامت لائق تحسین ہے۔
اس موقع پر گروپ ایڈیٹر روزنامہ جناح و آن لائن شمشاد مانگٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محسن جمیل بیگ شیر صحافت ہیں ، جسطرح تمام کیسز کے متعلق معزز عدالتیں غیرجانبداری سے فیصلے سنا رہی ہیں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ملک کے اندر عدالتوں کی عملداری بہترین انداز میں ہورہی ہے ، جناح آن لائن وکرز ایکشن کمیٹی بھی مبارکباد کی مستحق ہے جنہوں نے 22 دن بلا ناغہ احتجاجی کیمپ کو آباد رکھا ہے اس موقع پر سیکرٹری آر آئی یو کے طارق علی ورک نے کہا ہے کہ کہ اپنے شعبہ میں ہم نے قسم اٹھا رکھی ہے کہ عوام کے حقوق کے حق میں لکھتے ،محسن جمیل بیگ کی رہائی تک احتجاجی کیمپ لگائے رکھنے کا عہد وفا کیا ہے مستقبل میں بھی صحافیوں کے خلاف حکومتی و ریاستی جبر کے خلاف کھڑے رہیں گے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے صحافیوں پر الزامات لگائے ہیں کہ پیسے لیکر خبریں دینے ہیں لیکن ہمارا مطالبہ ہے کہ ثبوت دیئے جائیں انہوں نے کہا کہ محسن جمیل بیگ نے ثابت کیا کہ حکومت کے ظلم اور جبر کے خلاف کیسے ڈٹ کر کھڑا ہونا ہے ۔
اس موقع پر اظہار تشکر کرتے ہوئے سینئر اینکر پرسن سمیع ابراہیم نے کہا ہی کہ حکومت وقت اپنے تمام سرکاری وسائل لگا کر صحافیوں کی آواز بند کرنا چاہتے ہیں جو کہ ہمارے ہوتے ہوئے ممکن نہیں ہے، محسن جمیل بیگ کی آج کی ضمانت سے ثابت کر دیا ہے ہماری معزز عدالتیں بغیر کسی دباو کے اپنا کام کر کر رہی ہے ، حکومت اپنے اور تنقید برداشت کرے انہوں نے جناح آن لائن وکرز ایکشن کمیٹی کے تمام ممبران کو مبارکباد پیش کی ،
اس موقع پر پی آر اے کے صدر صدیق ساجد نے کہا ہے کہ تمام صحافی تنظیموں کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ محسن جمیل بیگ اور جناح آن لائن ورکرز ایکشن کمیٹی کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں ، صحافت کی آواز نہیں دبائی جا رہی بلکہ ریاست کے عوام کی آواز دبائی جا رہی ہے ، آواز کو ہر ڈکٹیٹر نے بند کرنے کی کوشش کی مگر حق و سچ کو کون دبا سکتا ہے ۔
اس موقع پر نائب صدر نیشنل پریس کلب اظہر جتوئی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے نہ صرف صحافیوں اور اظہار آزادی رائے کا گلہ دبانے کی کوشش کی ہے بلکہ بے چاری عوام کے ساتھ بھی ظلم عظیم کیا ہے جنہوں نے انہیں ووٹ دے کر اقتدار میں لائے تھے عوام دو ٹائم کے نوالے کو ترس رہے ہیں ، حکومت کا صحافیوں کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے کالے قانون کسی صورت قبول نہیں ہیں تحریک کا اختتام نہیں صحافیوں کے حقوق کی جنگ جاری رہے۔
سینئر صحافی غلام مرتضی نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان بھی دوسری ڈکٹیٹرز کی طرح اپنے منطقی انجام کو پہنچنے جا رہا ہے جناح آن لائن ورکرز ایکشن کمیٹی اور صحافی تنظیموں کا احتجاج کیمپ 22 روز جاری رہا سب مبارکباد کے مستحق ہیں اور صحافیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ صحافت زندہ ہے،جب سے یہ حکومت برسر اقتدار آئی بے روز گاری ،صحافت پر پابندیاں لگانے کی کوشش کی گیی اور پیکا جیسے کالے قانون کے ایکٹ میں ترمیم کر کے آرڈیننس جاری کیا گیا جو کہ قابل مزاہمت ہے ۔
پی ٹی آئی نے 27مارچ بروز اتوار ڈی چوک پر جلسے کا اعلان کر دیا
وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا تھا کہ کپتان نے ڈی چوک اسلام آباد جلسے کا حتمی فیصلہ کر لیا،27مارچ کو تاریخ ساز اجتماع ہونے جا رہا ہے،دنیا دیکھے گی عوام کیسے خودمختاری کے لیے کپتان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں،27 مارچ کو اسلام آباد کے ڈی چوک میں انسانوں کے سمندر کا خیر مقدم کریں گے، 27مارچ کو اسلام آباد کے ڈی چوک میں تاریخ رقم کریں گے، عمران خان قوم کے اتحاد کی علامت، لٹیروں کیلئے خوف کا پیغام ہیں،مفاد پرستوں کا گروہ ملکی ترقی کی راہ روک کر قوم کو پستی کی جانب دھکیلنا چاہتا ہے،کسی کو ملک و قوم کے مستقبل سے کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے مرکزی ایڈیشنل سیکریٹری عامر محمود کیانی جلسے کے انتظامات کی نگرانی کریں گے،27مارچ کو عوام کے محبوب قائد قوم کو آئندہ کا لائحہ عمل دیں گے،
وزیراعظم کی زیرصدارت کور کمیٹی کا اجلاس ہوا، کورکمیٹی نے تمام فیصلوں کا اختیار وزیراعظم کو دے دیا کورکمیٹی اجلاس میں ڈی چوک پر جلسہ سے متعلق بھی غورکیا گیا تحریک انصاف نے جارحانہ پالیسی جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا، کور کمیٹی کا کہنا تھاکہ کرپٹ ٹولے کو عوام میں بے نقاب کیا جائے گا،حکمران جماعت نے ملک بھر میں سیاسی جلسے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ملک کے مزید شہروں میں جلسے کیے جائیں گے،اتحادیوں کے تحفظات دور کرنے کا فیصلہ، وزرا کو ٹاسک سونپ دیا گیا تحریک انصاف کی حکومت کو اتحادیوں کے ساتھ کھڑا رہنے کی امید ہے ،کور کمیٹی کو بریفنگ دی گئی جس میں کہا گیا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کی جلدی نہیں،حکومت کو کوئی مسئلہ نہیں، اتحادی ساتھ ہی ہیں نمبرز پورے ہیں، ہمارے ارکان کو کروڑوں کی پیشکش ہے،ارکان کو کسی بھی ملک میں پیسے پہنچانے کی پیشکش ہے،
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کیسز منطقی انجام تک پہنچنے کے باعث اپوزیشن کو جلدی ہے،مشاورت سے ہی فیصلے کیے جائیں گے،ہماری تمام تیاریاں مکمل ہیں، عدم اعتماد سے کوئی پریشانی نہیں، صورتحال اطمینان بخش ہے،
سینیٹر فیصل جاوید کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس 21 مارچ کو بلایا جائے گا،تحریک عدم اعتماد پرووٹنگ 28 مارچ کو ہوگی،اپوزیشن کی ریکوزیشن پرقومی اسمبلی کا اجلاس 21مارچ کوبلایا جائے گا
دوسری جانب قومی اسمبلی اجلاس 21 مارچ کو بلائے جانے کا امکان ہے، قومی اسمبلی کا اجلاس 21 مارچ کو بلا کر ملتوی کیا جائے گا،اس کے بعد چھٹیاں ہوگی۔قومی اسمبلی کا اجلاس دوبارہ 25 مارچ کو شروع ہوگا،عدم اعتماد پر 3 دن بحث کی جائے گی،ووٹنگ 28 مارچ کو ہوگی
کور کمیٹی اجلاس کے بعد وفاقی وزیراطلاعات فواد چودھری کا کہنا ہے کہ کورکمیٹی اجلاس ہوا،ہم نے اپنی سیاسی حکمت عملی پرغورکیا، کور کمیٹی اجلاس میں وزیراعظم عمران خان پراعتماد کا اظہارکیا گیا ،پی ٹی آئی اضلاع تک محدود د نہیں ،پیپلزپارٹی کا مارچ سندھ سے شروع ہوا تو پنجاب میں بکھر گیا کورکمیٹی نے اپوزیشن کی جانب سے لوگوں کو خریدنے اور پیش کش کی مذمت کی ہم کوئی 4 ڈویژنز کی پارٹی نہیں ہیں،پی ٹی آئی نے ہمیشہ کامیاب جلسے کیے فضل الرحمان ،آصف زرداری اور شہباز شریف نے شیروں کو جگا دیا کورکمیٹی نے قومی اسمبلی اجلاس جلد بلانے کی تجویز دی عمران خان کے پاس جو فارمولا ہے اپوزیشن والے ہاتھ ملتے رہ جائیں گے 3جوکرزکا جاری کھیل آخری ثابت ہوگا
صحافی نے اسد قیصر سے سوال کیا کہ آپ کے خلاف اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان کیا ؟ جس کے جواب میں اسد قیصر نے کہا کہ مجھے کوئی اعتراض نہیں، تحریک عدم اعتماد لانا ان کا آئینی حق ہے،تحریک عدم اعتماد اپوزیشن کا آئینی حق ہے، میں ویلکم کرتا ہوں میں نے کوئی خط نہیں لکھا، میڈیا خبروں کی تردید کرتا ہوں،جو اقدام اٹھاؤں گا قانون اورولز کے مطابق ہوگا،حکومت اور اپوزیشن کیا کررہی ہیں اس سے میرا کوئی تعلق نہیں،
عامر محمود کیانی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے جو جلسے کیے ان کے قریب بھی کوئی نہ آسکے،تمام جلسوں کو کیمروں نے کور کیا،وزیراعظم نے کہا پی ڈی ایم مفادات کی جماعت ہے،اپوزیشن میں موجود لوگوں کے بچے پارلیمنٹ میں اور پیسہ باہر ہے،اپوزیشن کا وزن ہمارے گلے پڑ گیا ہے،یہ قوم کسی کو اپنا بادشاہ نہیں بننے دے گی،اپوزیشن کی تیسری نسلیں بھی سیاست کرنے کا سوچ رہی ہیں،تمام اضلاع کے ایم این ایز کو تیاریاں شروع کرنے کیلئے کہا ہے،
وزیراعطم کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد لاہور دورے کے موقع پر وزیراعظم عمران خان نے ڈی چوک پر جلسہ کرنے کا اعلان کیا تھا، آج تاریخ کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے، حکومتی وزرا کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ جلسے میں لاکھوں افراد شامل ہوں گے،
سینیٹر فوزیہ ارشد کا کہنا ہے کہ اسلام آباد والو تیار ہو جاؤ!!!وزیراعظم عمران خان نے 27 مارچ کو اسلام آباد ڈی چوک میں تاریخی جلسہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔انشاءاللہ ہم اسلام آباد کے جلسے سے ثابت کریں گے کہ ہم وزیراعظم عمران خان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
اسلام آباد والوں تیار ہو جاؤ!!!
وزیراعظم عمران خان نے 27 مارچ کو اسلام آباد ڈی چوک میں تاریخی جلسہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انشاءاللہ ہم اسلام آباد کے جلسے سے ثابت کریں گے کہ ہم وزیراعظم عمران خان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔#DChowkOnMarch27
— Senator Fawzia Arshad (@FawziaArshadPTI) March 14, 2022
وزیراعظم عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد حکمران جماعت نے ڈی چوک پر میدان لگانے کا فیصلہ کیا تو اپوزیشن بھی پیچھے نہ رہی ،اپوزیشن جماعتوں نے بھی ڈی چوک پر جلسہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ن لیگ کی جا نب سے کارکنوں کو ڈی چوک پہنچنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کر دی گئی ہے رانا ثنااللہ نے پارٹی کے صوبائی ،ڈویژنل اور ضلعی عہدیداروں کو تیاریوں کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ کارکن اسلام آباد میں ڈی چوک میں پہنچے کے لیے تیار رہیں،ڈی چوک میں عوامی قوت دکھائیں گے، ،جیسے ہی پارٹی کال دے، ڈی چوک کی طرف چل پڑیں۔پاکستان مسلم لیگ (ن) بھی ڈی چوک میں جلسہ کرے گی
واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہو چکی ہے اور اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ کئی پی ٹی آئی اراکین بھی ہمیں ووٹ دیں گے، وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے بھی ڈی چوک پر میدان لگانے کا فیصلہ کیا ہے،پی ڈی ایم کی جماعتیں بھی ڈی چوک پر جلسہ کریں گی اور جلسہ عدم اعتماد والے روز ہو گا اس ضمن میں مشاورت جاری ہے ،تحریک انصاف نے بھی ڈی چوک پر جلسہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے
واقعی عمران خان گھبرا گئے؟ کابینہ اجلاس چوتھے ہفتے بھی التوا کا شکار
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی کابینہ کا اجلاس ایک بار پھر ملتوی کر دیا گیا ہے
وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد اسلام آباد کا سیاسی موسم گرم ہے، اپوزیشن جماعتوں کی روزانہ کی مشاورت اور اجلاس نے وزیراعظم عمران خان کو پریشان کر دیا ہے، وزیراعظم بھی اپنی کرسی بچانے کے لئے کوشش کر رہے ہیں، وزیراعظم مسلسل پارٹی اجلاسوں کی صدارت کر رہے ہیں، اب خبر آئی ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کا اجلاس ایک بار پھر ملتوی کر دیا ہے اور یہ اجلاس چوتھے ہفتے مسلسل ملتوی کیا جا رہا ہے، اس سے قبل پچھلے تین ہفتے بھی اجلاس نہیں ہوا، اس منگل کو بھی وفاقی کابینہ کا اجلاس نہیں ہو گا ،میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی کابینہ کا 15 مارچ کو ہونے والا اجلاس ملتوی کر دیا گیا ہے، اجلاس وزیراعظم عمران خان اور کابینہ ارکان کی سیاسی مصروفیات کے باعث ملتوی کیا گیا۔
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کور کمیٹی کا اجلاس ہوا،پی ٹی آئی کورکمیٹی اجلاس میں تحریک عدم اعتماد ناکام بنانے پر مشاورت کی گئی پی ٹی آئی کورکمیٹی اجلاس میں اتحادیوں کے ساتھ رابطے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ،وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنائیں گے تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کی تیاری مکمل ہےعوام ہمارے ساتھ ہیں،ڈی چوک پر بڑا جلسہ کریں گے، تحریک عدم اعتماد سے کوئی پریشانی نہیں،
وزیراعظم عمران خان سے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کی ملاقات ہوئی ہے ملاقات میں تحریک عدم اعتماد سے متعلق مشاورت کی گئی اٹارنی جنرل نے تحریک عدم اعتماد پر آئینی و قانونی رائے دی
وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر اسپیکر قومی اسمبلی نے اسمبلی سیکرٹریٹ سے رابطہ کیا اور ارکان کی ووٹنگ کے حوالے سے سوالات کئے سپیکر اسد قیصر نے سوال کیا کہ منحرف ارکان کو ووٹ ڈالنے سے روک سکتا ہوں جس پر متعلقہ حکام نے جواب دیا کہ کسی بھی رکن کو ووٹ ڈالنے سے نہیں روکا جاسکتا کوئی بھی رکن پارٹی پالیسی کے خلاف جاتا ہے تو کارروائی اس کے عمل کے بعد ہوگی آئین کا آرٹیکل 63 ون اے بالکل واضح ہے
سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے سوال کیا کہ وزیراعظم یا پارٹی چیف وہپ مشکوک اراکین کے نام بھجوائے تو پھر کیا ایکشن ہوسکتا ہے کیا منحرف اراکین سے متعلق ووٹنگ سے پہلے رولنگ دی جا سکتی ہے اس پر متعلقہ حکام نے جواب دیا کہ اسپیکر پارٹی چیئرمین کے باضابطہ ڈیکلریشن ملنے کے بعد کردار ادا کرسکتا ہے اسپیکر کو رولنگ دینے کا اختیار ہے تاہم معاملہ پر آئین و قانون واضح ہے۔
دوسری جانب تحریک انصاف کا سیاسی صورتحال پر مشاورت کا فیصلہ ،ق لیگ اور ترین گروپ کے تحفظات اور دیگر ایشوز پر مشاورت ہوگی تحریک انصاف کا مشاورتی اجلاس آج وزیر اعظم ہاوس میں ہوگا وزیراعظم عمران خان نے گورنرپنجاب چودھری سرور کو بلا لیا وزیر اعلیٰ پنجاب ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوں گے محمود الرشید اور سینیٹر اعجاز چودھری بھی ویڈیولنک کے ذریعے شریک ہوں گے وزیراعظم اور کابینہ ارکان کی سیاسی مصروفیات کے باعث وفاقی کابینہ کا کل ہونے والا اجلاس ملتوی کر دیا گیا ہے
واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہو چکی ہے اور اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ کئی پی ٹی آئی اراکین بھی ہمیں ووٹ دیں گے، وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے بھی ڈی چوک پر میدان لگانے کا فیصلہ کیا ہے،پی ڈی ایم کی جماعتیں بھی ڈی چوک پر جلسہ کریں گی اور جلسہ عدم اعتماد والے روز ہو گا اس ضمن میں مشاورت جاری ہے ،تحریک انصاف نے بھی ڈی چوک پر جلسہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد سیاسی میدان گرم ہے
اپوزیشن رہنماؤں کی ملاقاتیں جاری ہیں تو وزیراعظم بھی اتحادیوں اور اراکین کو منانے کی کوشش کر رہے ہیں، تحریک انصاف کا ترین گروپ بھی متحرک ہے، وزیراعظم روزانہ اہم اجلاس کر رہے ہیں تو پی ڈی ایم قیادت کی بھی حکومتی اتحادیوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے
تحریک انصاف کا سیاسی صورتحال پر مشاورت کا فیصلہ ،ق لیگ اور ترین گروپ کے تحفظات اور دیگر ایشوز پر مشاورت ہوگی تحریک انصاف کا مشاورتی اجلاس آج وزیر اعظم ہاوس میں ہوگا وزیراعظم عمران خان نے گورنرپنجاب چودھری سرور کو بلا لیا وزیر اعلیٰ پنجاب ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوں گے محمود الرشید اور سینیٹر اعجاز چودھری بھی ویڈیولنک کے ذریعے شریک ہوں گے وزیراعظم اور کابینہ ارکان کی سیاسی مصروفیات کے باعث وفاقی کابینہ کا کل ہونے والا اجلاس ملتوی کر دیا گیا ہے
ترین گروپ کا اجلاس آج ماڈل ٹاؤن میں جہانگیر ترین کی رہائش گاہ پر 3 بجے ہو گا اجلاس میں جہانگیر ترین لندن سے ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوں گے اجلاس میں پنجاب اور وفاق میں تحریک عدم اعتماد کے حوالے مشاورت ہوگی
حکومتی اتحادی جماعت ق لیگ کا مشاورتی اجلاس آج دوبارہ ہوگا اجلاس 4بجے چودھری شجاعت حسین کی رہائشگاہ پر ہوگا ،دوسری جانب ایم کیوایم کا وفد خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں چودھری برادران سے ملاقات کرے گا ملاقات شام 7 بجے چودھری شجاعت کی رہائشگاہ پراسلام آباد میں ہوگی ق لیگ سے حکومتی اتحادی جماعت بی اے پی کے درمیان بھی ملاقات طے ہوچکی، نجی ٹی وی نے ذرائع سے دعویٰ کیا ہے کہ اگلے دو سے تین روز میں تینوں حکومتی اتحادی جماعتیں اپنے فیصلے کا اعلان کردیں گی،
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف آج مشترکہ اپوزیشن کے اراکین کو عشائیہ دیں گے،عشائیہ میں مولانا فضل الرحمان، آصف زرداری، بلاول زرداری، محمود اچکزئی، اختر مینگل سمیت دیگر شریک ہوں گے
قبل ازیں وفاقی وزیر،ق لیگ کے رہنما مونس الہٰی کا تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کے بیٹے علی ترین سے ٹیلی فون پر رابطہ ہوا ہے، عون چوہدری نے علی ترین اورمونس الہٰی کی ٹیلی فون پر بات چیت کرائی جس میں وفاقی وزیر نے علی ترین سے ان کے والد جہانگیر ترین کی خیریت دریافت کی جب کہ دونوں کے درمیان ملکی سیاسی معاملات پر بھی گفتگو کی گئی
یار محمد رند کی سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان سے رات گئے 2 گھنٹے طویل ملاقات ہوئی مولانا فضل الرحمان سے یار محمد رند کی ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال ، عدم اعتماد پرگفتگو کی گئی یار محمد رند اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان 3 دن میں یہ دوسری ملاقات ہے
وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد نے سیاست میں نئی ہلچل پیدا ہوگئی ہے پارٹیوں نے سر جوڑ لیے ہیں سیاسی رابطوں میں تیزی آگئی ہے، عدم اعتماد کے معاملے پر مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) الگ الگ بیٹھک اتوار ہوئی ن لیگ کی پارلیمانی پارٹی نے تمام فیصلوں کا اختیار نوازشریف کو دیدیا، جبکہ اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے کہنا ہے کہ اپنا فیصلہ کرچکے، اپوزیشن میں گئے تو وزارتوں سے استعفے دیدینگے شہباز شریف کے ساتھ ملاقات کسی بھی وقت ہوسکتی ہے
پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ ہماری طرف سے تیاری کے بعد ہی عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی اسپیکر اجلاس بلا کر معاملے آگے بڑھائیں،عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہوئی تو ہم انتخابی اصلاحات کی جانب جائیں گے، حکومت کی جانب سے تاخیر کا معاملہ درست نہیں ،عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہوئی تو قلیل المدتی حکومت آئے گی، وزیراعظم عمرا ن خان الجھن میں مبتلا ہیں،جو بھی حکومت آئے گی اس کے پاس وقت کم ہوگا ،کام نہیں ہوسکے گا، جو بھی حکومت آئے گی نگران سیٹ اپ نہیں ،عارضی ہوگی اگر حکومت کو عدم اعتماد کی تحریک میں ناکامی کا یقین ہے تو پھر اجلاس ہوجاچاہیے،اپوزیشن نے نمبر پورے ہونے کےبغیر تحریک جمع نہیں کرائی،ہمارے پاس نمبر کم بھی ہوئے تو کیا ہم یہ کہیں گے
دوسری جانب قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے متحدہ اپوزیشن کی وزیراعظم عمران خان کیخلاف تحریک کو ضابطہ کے مطابق قرار دیدیا ہے اسمبلی ذرائع کے مطابق تحریک اور ریکوزیشن پر اپوزیشن اراکین کے دستخطوں کی تصدیق کا عمل مکمل ہو گیا ہے کسی بھی رکن کے دستخط مشکوک یا رول آف سائن کے خلاف نہیں نکلے ہیں
قومی اسمبلی شعبہ قانون سازی نے تمام ضوابط پورے کرنے کے بعد فائل اسپیکر کو بھجوا دی ہے اسمبلی سیکرٹریٹ نے اسپیکر کو 22مارچ سے قبل کسی بھی دن اجلاس بلانے کی تجویز بھی دیدی ہے اجلاس بلانا ایک آئینی تقاضہ ہے جس سے انحراف نہیں کیا جا سکتا پہلا مرحلہ ریکوزیشن پر دستخطوں کی تصدیق اور دوسرا عدم اعتماد کی تحریک پر دستخطوں کی تصدیق تھا دونوں مراحل مکمل ہونے اور تحریک کے ضابطہ کے مطابق ہونے کا جائزہ لیا گیا
متحدہ اپوزیشن نے چند روز قبل وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروائی تھی جسکے بعد اب اسپیکر قومی اسمبلی کے پاس قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لئے آئینی طور پر 14روز کا وقت موجود ہے
واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہو چکی ہے اور اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ کئی پی ٹی آئی اراکین بھی ہمیں ووٹ دیں گے، وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے بھی ڈی چوک پر میدان لگانے کا فیصلہ کیا ہے،پی ڈی ایم کی جماعتیں بھی ڈی چوک پر جلسہ کریں گی اور جلسہ عدم اعتماد والے روز ہو گا اس ضمن میں مشاورت جاری ہے ،تحریک انصاف نے بھی ڈی چوک پر جلسہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے
اسلام آباد:چوہدری پرویزالٰہی کے اعلان کے ساتھ ہی اپوزیشن کے غبارے سے غیرملکی ہوا نکل گئی ،اطلاعات کےمطابق پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما اور سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ اس بات پر اتفاق ہوچکا ہے کہ موجودہ اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں گی۔
پاکستان مسلم لیگ ق کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، اجلاس کی صدارت چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی نے کی، بلوچستان عوامی پارٹی ، ایم کیوایم اور ترین گروپ سے رابطوں پر بات چیت کی گئی جبکہ اجلاس میں تحریک عدم اعتماد اور سیاسی منظر نامے پر مشاورت کی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں ق لیگ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چودھری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ آئین و قانون بڑا واضح ہے، سپیکر قومی اسمبلی کو اس پر عمل کرنا چاہیے، ہم اپنا فیصلہ کرچکے ہیں، اس پر اپنے ساتھیوں سے حتمی مشاورت کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ ق، ایم کیو ایم اور بلوچستان عوامی پارٹی مل کر چل رہے ہیں، اپوزیشن اتحاد میں گئے تو وزارتوں سے استعفیٰ دیں گے، آج جہانگیر ترین گروپ کے عون چوہدری ملاقات کے لئے آئے تھے، اگلے دو دن میں وہ بھی ہمیں اپنی حمایت کا بتائیں گے۔
سپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کے ساتھ ملاقات کسی بھی وقت ہوسکتی ہے، وزیراعظم عمران خان کو اپنی کوششیں جاری رکھنا چاہئیں۔
ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ق کی قیادت سے ترین گروپ کی اہم ملاقات ہوئی، ترین گروپ اور چودھری برادران کے درمیان معاملات طے پا گئے، عون چودھری کی اسلام اباد میں چودھری برادران سے اہم ملاقات ہوئی جس میں ترین گروپ اور مسلم لیگ ق کا باہمی طور پر سیاسی تعاون کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ جلد ترین گروپ اور چودھری برادران کی ایک بڑی مشترکہ ملاقات ہوگی، مسلم لیگ ق اور بلوچستان عوامی پارٹی کے درمیان بھی رابطے ہوئے، مشترکہ کمیٹی نے مسلم لیگ ق اور بلوچستان عوامی پارٹی کے درمیان تعاون کی حکمت عملی کو حتمی شکل دیدی ہے۔
متحدہ اپوزیشن چودھری پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ پنجاب بنانے پر متفق