Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پاکستان اورچین کیخلاف مودی حکومت کچھ کرنے جارہی ہے: امریکی رپورٹ

    پاکستان اورچین کیخلاف مودی حکومت کچھ کرنے جارہی ہے: امریکی رپورٹ

    نئی دہلی : واشنگٹن ::؛پاکستان اورچین کیخلاف مودی حکومت کیجانب سےکارروائی کا امکان، امریکی رپورٹ نے پاکستان اور چین کے لیے محتاط رہنے کا پیغام دے دیا ،اطلاعات کے مطابق امریکی خفیہ اداروں نے جوہری ہتھیاروں سے لیس بھارت کا چین اور پاکستان سے تنازع کافی حد تک تشویش ناک قرار دیا ہے۔

    امریکی انٹیلیجنس کمیونٹی نے ایوان نمائندگان کو بتایا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت میں اس بات کا امکان زیادہ ہے کہ پاکستان کی جانب سے کسی بھی جھوٹی سچی اشتعال انگیزی کا جواب فوجی طاقت سے دیا جائے۔

     

    عسکری خطرات سے متعلق امریکی انٹیلیجنس کمیونٹی کی سالانہ رپورٹ کو آفس آف ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلیجنس نے جاری کیا ہے جس کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان جس نوعیت کی سرحدی کشیدگی پائی جاتی ہے وہ کسی بھی وقت دونوں میں جنگ کا سبب بن سکتی ہے۔

    امریکی رپورٹ کے مطابق بھارت کی جانب سے پاکستان پر عسکری گروپوں کی حمایت کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں اسی لیے کشمیر میں پُرتشدد بدامنی کا کوئی واقعہ یا پھر بھارت میں کوئی حملہ ممکنہ فلیش پوائنٹ بن کر اُبھر سکتا ہے۔

    امریکی انٹیلیجنس نے خطرات سے متعلق اپنے اندازوں میں بھارت اور چین سے متعلق بھی آگاہ کیا ہے اور کہا ہے کہ فریقین کے درمیان فوجی پوزیشن میں توسیع سے دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان مسلح تصادم کا خطرہ بڑھ گيا ہے۔

    انٹیلیجنس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین اور بھارت میں مسلح تصادم کی صورت میں امریکی افراد اور مفادات کو بھی براہ راست خطرات لاحق ہوسکتے ہیں اسی لیے حکام امریکا سے مداخلت کا مطالبہ بھی کر سکتے ہیں۔

    امریکی رپورٹ کے مطابق 2020ء میں دونوں ممالک کی فوجوں میں ہوئے تصادم کے تناظر میں نئی دہلی اور بیجنگ کے درمیان تعلقات کشیدہ رہیں گے۔

    2020ء میں مشرقی لداخ کی پینگانگ جھیل کے آس پاس چین اور بھارت کی افواج کے درمیان جھڑپ ہو گئی تھی اسی وجہ سے فریقین نے آہستہ آہستہ وہاں فوجیں اور بھاری ہتھیار تعینات کرنا شروع کر دیا جہاں اب ہزاروں فوجی آمنے سامنے ہیں۔

  • ایم کیو ایم نے بھی وزیراعظم کے سامنے شرائط رکھ دیں

    ایم کیو ایم نے بھی وزیراعظم کے سامنے شرائط رکھ دیں

    ایم کیو ایم نے بھی وزیراعظم کے سامنے شرائط رکھ دیں

    وزیراعظم عمران خان نے کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں سندھ سب سے زیادہ تبدیلی چاہتا ہے سندھ کےعوام سے کہتا ہوں آپ کی آزادی کا وقت آگیا ہے،کراچی میں وہ کام کریں گے جو آج تک کسی نے نہیں کیے سندھ کے لوگ ڈاکو زرداری سے آزادی چاہتے ہیں،دنیامیں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا،ڈیزل سستا کیا ،بجلی سستی کی ڈاکووں کے گلدستے کو خوف آنا شروع ہوگیا ڈاکووں کو نہیں پتہ ہم نے کتنے بڑے بڑے چیلنجز کا سامنا کیا ،قوم کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں،سب سے ٹیکس ہماری حکومت میں جمع ہوا،ہماراملک صحیح راستے پرنکل آیا ،ہر مشکل میں ہماری حکومت نکلتی گئی اپوزیشن والوں نے وہ کام کیا جو میں اللہ سے مانگ رہا تھا،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ پٹرول اور فضل الرحمان کی قیمتوں کو کم کیا، پاکستان میں پیٹرول اورفضل الرحمان دبئی سے زیادہ سستا ہیں ،عدم اعتماد اپوزیشن والوں کی سیاسی موت ہے ڈاکووں اور چوروں کے خلاف 25سال سے جدوجہد اور جہاد کررہاہوں ،ڈاکواور چور کہتے تھے آج عدم اعتماد کریں گے کل کریں گے ،اللہ اس کی زیادہ سنتا ہے جو اپنے ملک کے لیے مانگتے ہیں ،اپوزیشن والےعدم اعتماد کی تحریک میں پھنسے ہیں ،میں نے ان سے آگے کا سوچ لیا یہ سیاسی موت مرنے جا رہے ہیں یہ اربوں ڈالر ملک سے باہر لے گئے، کراچی میں وہ کام کریں گے جو آج تک کسی نے نہیں کیے

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ میرے ہاتھ بندھے ہوئے تھے ،اب میں ان کو نہیں چھوڑوں گا،میری بندوق کی نوک پر آصف زرداری بڑی دیر سے آیا ہوا ہے میرا پہلا ہدف آصف زرداری ہوں گے ،ان کا وقت آگیا ہے آصف زرداری پیسوں کا ٹوکرا لے کر گھوم رہے ہیں ،لوگوں کو خرید رہے ہیں میرے ایک ایم این نے کہا آصف زرداری نے کروڑوں روپے کی پیش کش کی،میں نے کہا آپ لے لیتے پیسے ،کوئی خیراتی کام میں استعمال کرتے ،آصف زرداری ظالم ہیں، پولیس اور غنڈوں کو استعمال کرتے ہیں، اپوزیشن پھنس گئی ہے، کپتان نے اگلی تیاری بھی کر رکھی ہے،میں ان کے پیچھے جاؤں گا، انہیں چھوڑوں گا نہیں،مقصود چپڑاسی والا کون ہے؟ ان کو بھی نہیں چھوڑوں گا ،بلاول کو تو یہ نہیں پتا لڑکی آتا ہے یا آتی ہے،15 سال ہوگئے بلاول کبھی کہتا ہے بارش آتا ہے تو پانی آتا ہے،

    قبل ازیں وزیراعظم عمرا ن خان ایم کیوایم مرکز بہادرآباد پہنچ گئے ،وزیراعظم سے صحافی نے سوال کیا کہ عدم اعتماد کامیاب ہو گئی تو کیا کریں گے؟ وزیراعطم نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ مشکلیں اتنی پڑیں کہ آسان ہو گئیں، یہ گیم وہاں جا رہی ہے جس کا میں ایکسپرٹ ہوں جمعہ کو دیر میں ہونے والا جلسہ بتائے گا عوام کس کے ساتھ ہے ،میں نے اب تک اپنے اقتدار میں صرف 5 چھٹیاں کی ہیں یہ چھٹیاں صرف تب کیں جب مجھے کورونا ہوا تھا ہر دن نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور میں اس کیلئے تیار ہوں

    وزیراعظم عمران خان کے ہیلی کاپٹر نے کراچی میں نیشنل اسٹیڈیم پر لینڈنگ کی اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ نیشنل اسٹیڈیم لینڈنگ کے بعد وزیراعظم ایم کیو ایم کے مرکز بہادرآباد پہنچے ہیں جہاں ایم کیو ایم رہنماؤں نے انکا استقبال کیا،وزیراعظم عمران خان اور ایم کیو ایم رہنماؤں کی ملاقات ہوئی، گورنرسندھ، شاہ محمودقریشی، اسدعمر، علی زیدی ملاقات میں شریک تھے، خالد مقبول صدیقی، عامرخان، امین الحق، کنورنویدجمیل، وسیم اختر بھی موجود تھے. وزیر اعظم نے ایم کیو ایم کے 4 رہنماوں سے فردا ًفردا ًہاتھ ملایا وزیر اعظم مصافحہ کے بعد خالد مقبول صدیقی کا ہاتھ تھامے رہے ،وزیر اعظم سے ملاقات میں ایم کیو ایم کا کوئی رکن سندھ اسمبلی شامل نہیں تھا ، وزیراعظم عمران خان کےہمراہ پی ٹی آئی کے 4 اراکین سندھ اسمبلی ہیں حلیم عادل شیخ ، بلال غفار، خرم شیر زمان اور ارسلان تاج وزیراعظم کے ہمراہ ہیں

    ایم کیوایم نے وزیراعظم عمران خان کو کوئی یقین دہانی کروانے سے گریزکر لیا، ایم کیو ایم نے اپنی حمایت مشروط کردی۔ وزیراعظم سے کراچی میں اپنے بند دفاتر کھلوانے اور لاپتہ افراد بازیاب کروانے کا مطالبہ کر دیا۔ بہادر آباد میں ایم کیو ایم کے ہیڈ کوارٹر میں ملاقات کے بعد وزیراعظم واپس روانہ ہو گئے،

    موجودہ سیاسی صورتحال پر وزیراعظم اور خالد مقبول صدیقی کے مابین مکالمہ ہوا، وزیراعظم سے خالد مقبول صدیقی نے سوال کیا کہ سیاسی صورتحال کوکیسے دیکھ رہے ہیں ؟وزیراعظم نے کہا کہ حالات آپکے سامنے ہیں ایم کیو ایم کا ساتھ چاہیے،ایم کیو ایم نے ہمیشہ ساتھ دیا ہے، خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہمارے دفاتر اب تک نہیں کھلے ہیں،وزیراعظم نے یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ آپکے دفاتر جلد کھل جائینگے، عدم اعتماد کی تحریک کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے

    وزیراعظم عمرا ن خان ایم کیوایم مرکز بہادرآباد سے روانہ ہو گئے ہیں وزیر اعظم عمران خان 25 منٹ تک بہادر آبادمرکز میں رہے

    ملاقات کے بعد خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم تحریک عدم اعتماد پر بات کرنے نہیں آئے تھےعمران خان کے ساتھ ہیں جبھی تو وہ وزیراعظم ہیں ابھی تک،عدم اعتماد کو چھوڑیں ،ہمیں اس نظام پر ہی اعتماد نہیں ایم کیو ایم کو سیاسی دفاتر کی ضرورت نہیں نائن زیرو ہمارا ہی نہیں ہے ان سے کیا مانگیں ؟پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے آج رابطہ ہی نہیں کیا وزیراعظم عمران خان اپنا وعدہ نبھانے آئے تھے

    ایم کیو ایم رہنما خواجہ اظہار ناراض ہوکر بہادرآباد مرکز سے چلے گئے سیکیوٹی اہلکاروں نے خواجہ اظہا ر کو اندر جانے سے روک دیا تھا

    دوسری جانب وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے دوران ہی ایم کیو ایم کے دفاتر کھلنا شروع ہو گئے ہیں، حیدر آباد میں ایم کیو ایم کا سیل شدہ دفتر کھول دیا گیا ہے ایم کیو ایم کا حیدرآباد میں بھائی خان چوک پر زونل قائم دفتر کھول دیا گیا ہے جب کہ سندھ کے دیگر علاقوں میں قائم دفاتر بھی جلد کھول دیے جائیں گے،وزیراعظم نے ملاقات میں یقین دہانی کروائی ہے کہ تمام دفاتر کھول دیئے جائیں گے

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم سے ایم کیو ایم قیادت کی اچھی ملاقات رہی ،ملاقات میں ہم نے ساری سیاسی صورتحال کا جائزہ بھی لیا ،ایم کیو ایم حلیف جماعت ہے ہم ایک دوسرے سے تعاون کرتے آئے ہیں ہم نے ایم کیو ایم کے ساتھ آئندہ کی حکمت عملی وضح کرکے حتمی شکل دی

    ایم کیو ایم وفاقی حکومت میں اتحادی ہے،تحریک عدم اعتماد جمع ہو چکی، اب وزیراعظم کرسی بچانے کے لئے مدد مانگنے کے لئے ایم کیو ایم کے پاس گئے ہیں،ایک وقت تھا وزیراعظم عمران خان جن کے کسی زمانے میں ایم کیو ایم نے داخلے پر پابندی لگائی تھی ،2007 کے ایام میں عمران خان کے کراچی جانے پر پابندی تھی اور عمران خان تین سے چار بار کراچی کا دورہ کرنے کا اعلان کر چکے تھے مگر ایم کیو ایم نے انہیں کراچی نہیں آنے دیا تھا، اب وہی ایم کیو ایم عمران خان کی حکومت کی اتحادی بھی ہے اور اب عمران خان ایم کیو ایم کے مرکز بھی پہنچ چکے ہیں

    دوسری جانب ترجمان بلاول ہاؤس کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری نے عمران نیازی کے تکبر کو خاک میں ملادیا، اوقات یاد دلادی بلاول بھٹو زرداری نے سیلیکٹیڈ وزیراعظم کی دوڑیں لگوا دیں پیپلزپارٹی کے عوامی مارچ نے عمران نیازی کو در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کردیا سو سنار کی ایک لوہار کی، عمران نیازی کے پیروں تلے زمین نکل چکی اب آگے آگے دیکھو ہوتا ہے کیا، عمران

    وزیراعظم غیرملکی شہریت رکھنے والے مشیروں، وزیروں سے استعفیٰ لیں،مریم اورنگزیب

    حفیظ شیخ کوہٹانے کی وجہ مہنگائی نہیں بلکہ کچھ اورہی ہے:جس کے تانے بانے کہیں اورملتے ہیں‌

    حفیظ شیخ میری سابق کابینہ کا حصہ تھے، میں یہ کام نہیں کرنا چاہتا، یوسف رضا گیلانی کا دبنگ اعلان

    لندن سے بانی متحدہ کو لاسکتا ہوں اور نہ ہی نوازشریف کو،شیخ رشید کی بے بسی

    بھٹو کو پھانسی ہوئی تو کچھ نہیں ہوا،یہ لوگ بھٹو سے بڑے لیڈر نہیں، شیخ رشید

    مقبوضہ کشمیر میں کسی دہشتگرد کے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، شیخ رشید

    بلاول جس دن پیدا ہوا عدم اعتماد پر ہی چل رہے ہیں، شیخ رشید

    طورخم ،چمن بارڈر پرسکون،پاکستانیوں کو واپس لائینگے،اشرف غنی کے دل میں فتور تھا،شیخ رشید

    بھارت کو افغانستان میں منہ کی کھانی پڑی،شیخ رشید نے کیا بڑا اعلان

    بلاول کیخلاف بات نہیں سن سکتا،مولانا کو اب یہ کام کرنا چاہئے، شیخ رشید

    وہی ہوا جس کا انتظار تھا، وزیراعظم ہاؤس سے بڑا استعفیٰ آ گیا

    شہزاد اکبر کو بھاگنے نہ دیا جائے،اگلا استعفیٰ کس کا آئے گا؟ مبشر لقمان کا انکشاف

    آصف زرداری،ایم کیو ایم وفد کی ملاقات کے بعد اسد قیصر بھی چودھری پرویز الہیٰ سے ملنے پہنچ گئے

  • باغی ٹی وی کا عورت مارچ منتظمین کیخلاف عدالت جانیکا اعلان

    باغی ٹی وی کا عورت مارچ منتظمین کیخلاف عدالت جانیکا اعلان

    باغی ٹی وی کا عورت مارچ منتظمین کیخلاف عدالت جانیکا اعلان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز لاہور میں ہونیوالے عورت مارچ میں باغی ٹی وی کے لوگو کے غلط استعمال پر باغی ٹی وی نے عدالت جانے کا اعلان کیا ہے

    باغی ٹی وی نے ہمیشہ سے ہی خواتین کے حقوق کے بات کی اور ان پر ہونیوالے تشدد، مظالم کو اجاگر کرتے ہوئے حکام بالا تک پہنچایا تا کہ انہیں انصاف ملے اور خواتین کو تحفظ فراہم ہو، باغی ٹی وی نے ہمیشہ عوام کی آواز بنتے ہوئے اہم کردار ادا کیا،باغی ٹی وی نے ہمیشہ مظلوموں کی مدد کے لئے آواز بلند کی اور خواتین کے حقوق کے لئے جدوجہد کی،باغی ٹی وی نے خواتین کے حوالہ سے تمام تقریبات کو کوریج دی ،

    عورت مارچ لاہور میں مقامی ہوٹل کے باہر باغی ٹی وی کے رپورٹر فائز چغتائی کی تصویر لگائی گئی ساتھ انکے گلے میں باغی ٹی وی کا لوگو لگایا گیا اور ایک تحریر بھی لکھی گئی، باغی ٹی وی کے رپورٹر فائز چغتائی کے علاوہ سینئر صحافی اوریا مقبول جان کا بھی پوسٹر لگایا گیا تھا، عورت مارچ والوں کی جانب سے صحافیوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالنے کے اقدام کی لاہور پریس کلب نے بھی مذمت کی ہے،لاہور پریس کلب کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ صحافیوں کے پتلے بنا کر انکی تضحیک کرنے کی مذمت کرتے ہیں ،پریس کلب خواتین کے حقوق کا علمبردار ہے ،تا ہم عورت مارچ کے منتظمین کو اپنی صفوں سے شرپسند عناصر کو نکالنا ہو گا، ورنہ‌ صحافی ایسی تقریبات کا بائیکاٹ کریں گے اور احتجاجی عمل بھی اختیار کریں گے

    باغی ٹی وی کے رپورٹر فائز چغتائی کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز عورت مارچ میں مجھ سمیت کئی سینئر صحافیوں کی تصاویر انکے چینل کے ساتھ لگا کر انکی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا،آزادی اظہار رائے کے دعویداروں نے آزادی اظہار رائے کی دھجیاں اڑائی ہیں، فائز کا کہنا تھا کہ جو عوام چاہتے تھے اسی حساب سے ان سے سوال کئے گئے تھے تا ہم عورت مارچ والوں نے باغی ٹی وی کی ٹیم اور دیگر صحافیوں کی زندگیاں خطرے میں‌ڈالی ہیں ہم اس معاملے پر خاموش نہیں رہیں گے بلکہ عدالت لے کر جائیں گے

    اردو پوائنٹ کے اینکر فرخ شہباز وڑائچ کی تصویر بھی لگائی گئی تھی، فرخ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ یہ حرکت آج عورت مارچ کی انتظامیہ کی جانب سے کی گئی فلیٹیز ہوٹل کے باہر مجھ سمیت کئی صحافی دوستوں کے پتلے لگائے گئے اگر یہ اظہار رائے کی آزادی ہے تو اس پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے

    عورت مارچ کو روکا جائے،وزیر مذہبی امور کے خط کے بعد بحث جاری

    حنا پرویز بٹ "عورت مارچ” کے حق میں کھڑی ہو گئیں

    عورت مارچ کو فول پروف سیکیورٹی دینے کی ہدایات

    عورت مارچ نا منظور،مردان میں "مرد مارچ” کے نعرے

    مرد دوسری شادی کے بعد پہلی بیوی کو گھر سے نکال دیتا ہے،وزیراعظم

    تاثر غلط ہے کہ ہراسمنٹ کا قانون صرف خواتین کے لیے ہے،کشمالہ طارق

    عورت مارچ کے خلاف برقع پوش خواتین سڑکوں پر آ گئیں، بے حیائی مارچ نا منظور کے نعرے

    اسلام آباد: عورت مارچ اور یوم خواتین ریلی کے شرکا میں تنازع، عورت مارچ شرکاء نے دیکھتے ہی غلیظ نعرے اورپتھراو شروع کردیا

    عورت مارچ پر پتھراوَ کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج

  • سپریم کورٹ کا پچیسویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں پر لارجر بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ

    سپریم کورٹ کا پچیسویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں پر لارجر بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ

    سپریم کورٹ نے پچیسویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں پر لارجر بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے

    سپریم کورٹ نے کہا کہ کیس کو ماہ رمضان کے بعد لارجر بینچ میں سنا جائے گا،آئین میں درج وفاقی اکائیوں کی حیثیت تبدیل نہ کرنے کا سوال اٹھایا گیا اہم بات یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے آئین میں ترمیم پر کیا اختیارات اور حدود ہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ تعین کرنا ضروری ہے کہ پارلیمنٹ کس حد تک آئین میں ترامیم کر سکتی ہے،اگر علاقائی انضمام سے رہائشیوں کے حقوق متاثر ہوں تو وفاقی اکائیوں کا سوال اٹھ سکتا ہے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا فاٹا انضمام سے قبائلی علاقوں کے رہائشیوں کی صوبائی اور قومی اسمبلی میں نمائندگی متاثر ہوئی؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ پچیسویں آئینی ترمیم کے بعد مسئلہ ہی فاٹا نمائندوں کی قومی و صوبائی اسمبلیوں میں نشستوں کا تھا،فاٹا کے نمائندوں نے پچیسویں آئینی ترمیم کی حمایت کی تھی، جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ فاٹا انضمام سے اصل مسئلہ کیا ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فاٹا والے کہہ چکے ان کی تہذیب خیبرپختونخوا سے مختلف ہے،عدالت نے کہا کہ فاٹا والوں کا موقف آچکا کہ آئین نے ان کو الگ حیثیت کا جو تحفظ دیا وہ ترمیم سے واپس لے لیا گیا، جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ کیا پارلیمنٹ نے اختیارات واپس لیتے وقت فاٹا کی عوام سے رائے لی تھی؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین میں ہے اگر کشمیر آزاد ریاست کے طور پر رہنا چاہے تو کشمیریوں کی رائے لی جائے، جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ اور بیک گراؤنڈ بالکل مختلف ہے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت آئین کا بنیادی جز ہے، پچیسویں آئینی ترمیم کا مقصد قبائلی علاقوں میں جمہوریت لانا بتایا گیا،ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ کا پارلیمنٹ کی ترمیم کو کالعدم قرار دینا اختیارات سے تجاوز ہوگا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ان تمام سوالوں کے جوابات پر تفصیلی دلائل سنیں گے سپریم کور ٹ نے کیس کی سماعت رمضان کے بعد تک ملتوی کردی

    وزیراعظم کی رہائشگاہ بنی گالہ کے قریب کسی بھی وقت بڑے خونی تصادم کا خطرہ

    مارگلہ کے پہاڑوں پر قبضہ،درختوں کی کٹائی جاری ،ادارے بنے خاموش تماشائی

    سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز میں مونال ریسٹورنٹ کے حوالہ سے بڑا حکم

    مارگلہ ہلز ، درختوں کی غیرقانونی کٹائی ،وزارت موسمیاتی تبدیلی کا بھی ایکشن

    مارگلہ ہلز،درختوں کی کٹائی پرتحقیقاتی کمیٹی قائم،پاک فوج بھی کمیٹی کا حصہ

    جو نقشے عدالت میں پیش کئے گئے وہ سب جعلی،یہ سب ملے ہوئے ہیں، مارگلہ ہلز کیس میں چیف جسٹس کے ریمارکس

    نور مقدم قتل کیس، ظاہر جعفر پر ایک اور مقدمہ درج

    مارگلہ کی پہاڑیوں پر تعمیرات پر پابندی عائد

    ایف نائن پارک میں شہری پر حملے کا مقدمہ تھانہ مارگلہ میں درج کر لیا گیا

    وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی بھی اسلام آباد پولیس کے خلاف بول اٹھے

    اسلام آباد جرائم کا گڑھ بن گیا، روز پولیس مقابلے، ڈکیتیاں، وجہ کیا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    مونال ریسٹورنٹ کو کھولنے کی استدعا سپریم کورٹ نے کی مسترد

  • گورنر سندھ  نہ منا سکے،علیم خان لندن روانہ

    گورنر سندھ نہ منا سکے،علیم خان لندن روانہ

    گورنر سندھ نہ منا سکے،علیم خان لندن روانہ

    تحریک انصاف کے ناراض رہنما جہانگیر ترین سے ملاقات کیلئے سابق سینئر صوبائی وزیر علیم خان لندن روانہ ہو گئے

    علیم خان لندن میں جہانگیر ترین سے ملاقات کریں گے ملاقات میں موجودہ سیاسی صورتحال پر مشاورت ہو گی،ملاقات میں تحریک انصاف کے ترین گروپ، عدم اعتماد کی صورتحال، بزدار کو ہٹانے بارے مشاورت اور حتمی فیصلہ ہو گا,علیم خان جہانگیر ترین سے سیاسی صورتحال پر حتمی مشاورت کریں گے اور کوئی بڑا فیصلہ کریں گے،علیم خان کی لندن میں سابق وزیراعظم نواز شریف سے بھی ملاقات کا امکان ہے،

    دو روز قبل جہانگیر ترین کے گھر پی ٹی آئی کے ناراض اراکین کی بیٹھک ہوئی تھی جس کی قیادت جہانگیر ترین نے لندن سے ویڈیو لنک کے ذریعے کی تھی۔ اس بیٹھک میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ ترین گروپ کے سینئر رہنما اسحاق خاکوانی ، عون چوہدری جہانگیر ترین سے ملنے لندن جائیں گے تاکہ کہ آئندہ کا لائحہ عمل تیار کیا جا سکے

    علیم خان ترین گروپ میں شامل ہوئے تو وزیراعظم نے گورنر سندھ کو علیم خان کے منانے کا ٹاسک دیا، گورنر سندھ نے علیم خان سے ملاقات کی، وزیراعطم سے ملاقات کی پھر علیم خان سے ملاقات کی، تا ہم علیم خان کو نہ منا سکے، علیم خان کی وزیراعظم سے ملاقات نہ ہو سکی اور اب علیم خان لندن روانہ ہو چکے ہیں ،علیم خان نے کہا تھا کہ جہانگیر ترین سے ہی مشاورت کر کے حتمی فیصلہ کریں گے اکیلا کچھ نہیں کہہ سکتا،

    قبل ازیں ترین گروپ اراکین کاعون چودھری کی رہائشگاہ پر مشاورتی اجلاس ہوا عون چودھری نے گورنر سندھ سے ہونیوالی ملاقات سے متعلق کمیٹی کو آگاہ کیا،ممبر ترین گروپ کا کہنا ہے کہ ترین گروپ متحد ہے،ہم کسی سے رابطہ نہیں کر رہے،فیصل حیات کا کہنا ہے کہ ہم نے اپنے تحفظات سے آگاہ کر دیا،حتمی فیصلہ جہانگیر ترین کریں گے،
    علیم خان نے ترین گروپ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جد وجہد میں ہم سب ایک دوسرے کے ہم سفر رہے ہیں 11سال پہلے پی ٹی آئی میں شامل ہوا ہم نے اکٹھا وقت گزارا ہے،ہم نے وہ وقت بھی گزارا ہے جب ہم اپوزیشن میں تھے،عہدوں کے بغیر اور ساتھ بھی وقت گزارا ہے اسحاق خاکوانی بڑے ہیں انہوں ہمیشہ بڑے ہونے کا ثبوت دیا

    عمران خان کا پیغام پہنچایا گیا تو علیم خان نے کیا دیا جواب؟

    آجکی میٹنگ جہانگیر ترین کے گھر کیوں رکھی؟ علیم خان کا بڑا اعلان

    وفاقی انٹیلی جنس بیورو آئی بی کے افسران کی جانب سے ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام پر اربوں کا فراڈ

    آئی بی کی ہاوسنگ اسکیم کے فراڈ پر پوسٹ لکھنے پر صحافی کا 15 سالہ پرانا فیس بک اکاؤنٹ ہیک

    آئی بی افسران کی ہاؤسنگ سکیم،دس سال پہلے پلاٹ خریدنے والوں کو قبضہ نہیں ملا، نیب کہاں ہے؟ عدنان عادل

    کھلاڑیوں کا کمال،بزدار آؤٹ ہونے لگے، چودھریوں کے ہاتھ بھی خالی رہ جانیکا امکان

    بزدار کی کرسی بچانے کی بھی کوششیں جاری،وزراء متحرک

    تحریک عدم اعتماد 48 گھنٹے سے پہلے آجائے گی،مولانا فضل الرحمان

    علیم خان کی لندن روانگی طے،نواز شریف سے ہو گی ملاقات ؟ِ

    اپوزیشن تیار،وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع

    عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد کے تمام معاملات طے ہوچکے

    جمہوریت بہترین انتقام ہے ،سلیکٹڈ کا وقت ختم ،بلاول

    اسلام آباد کا سیاسی موسم گرم،شہباز شریف کی سراج الحق سے ملاقات

  • اسلام آباد کا سیاسی موسم گرم،شہباز شریف کی سراج الحق سے ملاقات

    اسلام آباد کا سیاسی موسم گرم،شہباز شریف کی سراج الحق سے ملاقات

    اسلام آباد کا سیاسی موسم گرم،شہباز شریف کی سراج الحق سے ملاقات
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد اسلام آباد میں سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے

    قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہبازشریف اورامیرجماعت اسلامی سراج الحق کی ملاقات ہوئی ہے ملاقات میں تحریک عدم اعتماد اور سیاسی صورتحال پر گفتگو کی گئی ملاقات میں محمود خان اچکزئی بھی موجود تھے ،امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا تھا کہ شہبازشریف سمیت ن لیگی وفد کا مشکور ہوں کوئی شک نہیں کہ حکومت ہر معاملے میں ناکام ہوئی، شہبازشریف سے کہا کہ افراد کی تبدیلی کسی مسئلے کا حل نہیں شہبازشریف کو تجویز دی کہ عوام سے رجوع کیا جائے نئے مینڈیٹ کے لیے ضروری ہے کہ شفاف انتخابات ہو، تما م سیاسی جماعتوں کا الیکشن اصلاحات پر اتفاق ہے ،افرادکی تبدیلی کے بجائے اللہ کا نظا م ملک کے لیے بہترہوگا،جماعت اسلامی جمہوری جماعت ہے جس میں مشاورت کا نظام ہے،اپنی  جماعت کا اجلاس بلا کر مشاورت کریں گے، حکومت نے موجودہ ماحول خود بنایا ہے، عدم اعتماد جمہوریت کا ایک آئینی طریقہ کار ہے،

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ امیر جماعت اسلامی سراج الحق سے تحریک عدم اعتماد پر بات ہوئی گزشتہ روز سراج الحق سے آنے کے لیے وقت مانگا تھا،سراج الحق سے ملاقا ت میں اپنی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کا موقف پیش کیا تحریک عدم اعتماد کی بات عوام کی خواہش پر آگے بڑھائی گئی ہم عوامی حکومت کے خواہاں ہیں،چاہتے ہیں صاف شفاف انتخابات سے عوامی حکومت آئے، سراج الحق نے کہا پارٹی شوریٰ سے مشورہ کرنے کے بعد ردعمل دیں گے،سیاست میں سیاسی جماعتوں کو قائل کیا جاتا ہے پی ٹی آئی کے اپنے لوگ ہی نالاں نظرآتے ہیں،ہم سیاسی کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں سیاست میں کوئی بات حتمی نہیں ہوتی ن لیگ کے فیصلے نوازشریف کرتے ہیں وہ جو بھی فیصلہ کریں گے ہم تسلیم کریں گے

    دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان کا کہنا ہے کہ قائداعظم نے کہا تھا مسلمان مصیبت میں گھبرایا نہیں کرتے پیپلزپارٹی والے رات کو آتے ہی واپس چلے گئے،پیپلزپارٹی والوں کا آکر چلے جانا کیاہے ؟قاسم سوری کےمعاملے پر اپوزیشن والوں نے مجھ سے کہا فیس سیونگ دیں، چھانگا مانگا، سوات آپریشن والا دورنہیں جو بھی شخص پارٹی آئین کی خلاف ورزی کرےگا اس کے خلاف کارروائی یقینی ہے،ضمیر فروش ہر جگہ ہوتےہیں اپوزیشن والے کہتے ہیں مغرب کو ناراض کردیا ہم آیک آزاد ملک میں رہتے ہیں ،ہمارا عدلیہ آزاد ہے، فضل الرحمان کے سینیٹر نے سینیٹ میں تحریک پیش کی تھی،شہبازشریف نےعمران خان کے خلاف چارج شیٹ پیش کی سینیٹ میں تحریک اور شہباز شریف کا الزام صرف یورپ سے متعلق بات تھی،وزیراعظم کے خلاف یہ مہم بغیر کسی شک کے بیرون طاقتوں کے ایما پر شروع ہواوزیراعظم کے مغرب کو اڈوں سےمتعلق انکار پر یہ سلسلہ شروع ہوا وزیراعظم کے خلاف مہم اپوزیشن کے وہ لوگ چلارہےہیں جن کے اثاثے باہر ہیں،بعض اپوزیشن والوں کو عمران خان ہٹاو اور این آر او فراہمی کی پیش کش کی گئی ،آصف زرداری 3سال سے دعوے کررہے ہیں یہ کریں گے وہ کریں گے،تمام اتحادیوں کے ساتھ ہمارے رابطے ہیں ہم نے سینیٹ ہو یا دویگر معاملات میں اپوزیشن کو شکشت دی ہے جو ثمان بزدار کو وزیراعلیٰ نہیں دیکھنا چاہتے ان سے متعلق تھوڑا انتظار کیاجائے پی ٹی آئی والے سب متحد ہیں

    اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے وزیر قانون فروغ نسیم کی ملاقات ہوئی ہے ملاقات میں تحریک عدم اعتماد اور آئینی و قانونی پہلو پر غورکیا گیا

    قبل ازیں سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے پاکستان تحریک انصاف کے رہنمائوں کی ملاقات ہوئی ہے، ملاقات میں موجودہ سیاسی صورتحال، اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد پر حکمت عملی سمیت دیگر اہم امور یر تفصیلی غور کیا گیا، ملاقات میں گورنر سندھ عمران اسماعیل، وفاقی وزرا چوہدری فواد حسین، مراد سعید، وزیر مملکت فرخ حبیب، سینیٹر فیصل جاوید اور سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم سمیت دیگر نے شرکت کی ملاقات میں اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کیلئے لائحہ عمل مرتب کیا گیا، پاکستان تحریک انصاف اور اتحادی جماعتیں مل کر اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کیلئے متحد ہیں، اس ضمن میں ارکان اسمبلی سے رابطہ مہم بھی شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا،

    دوسری جانب صحافی و اینکر اقرارالحسن کہتے ہیں کہ اگر تحریکِ عدم اعتماد (میں جس کی حمایت میں ہر گز نہیں) کامیاب ہوتی ہے تو یہ بات لکھ رکھئیے کہ عمران خان، تحریکِ انصاف کی باقی ماندہ قیادت اور تحریکِ انصاف کا سوشل میڈیا، اسٹیبلشمنٹ کے خلاف سب سے اونچی آواز ہو گا۔۔۔ محبِ وطن دوست ابھی فیصلہ کر لیں اُس وقت کس کا ساتھ دینا ہے۔

    وفاقی انٹیلی جنس بیورو آئی بی کے افسران کی جانب سے ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام پر اربوں کا فراڈ

    آئی بی کی ہاوسنگ اسکیم کے فراڈ پر پوسٹ لکھنے پر صحافی کا 15 سالہ پرانا فیس بک اکاؤنٹ ہیک

    آئی بی افسران کی ہاؤسنگ سکیم،دس سال پہلے پلاٹ خریدنے والوں کو قبضہ نہیں ملا، نیب کہاں ہے؟ عدنان عادل

    کھلاڑیوں کا کمال،بزدار آؤٹ ہونے لگے، چودھریوں کے ہاتھ بھی خالی رہ جانیکا امکان

    بزدار کی کرسی بچانے کی بھی کوششیں جاری،وزراء متحرک

    تحریک عدم اعتماد 48 گھنٹے سے پہلے آجائے گی،مولانا فضل الرحمان

    علیم خان کی لندن روانگی طے،نواز شریف سے ہو گی ملاقات ؟ِ

    اپوزیشن تیار،وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع

    عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد کے تمام معاملات طے ہوچکے

    جمہوریت بہترین انتقام ہے ،سلیکٹڈ کا وقت ختم ،بلاول

  • امریکی صدرکا فون،سعودی عرب اور یو اے ای نے بات کرنے سے انکار کر دیا

    امریکی صدرکا فون،سعودی عرب اور یو اے ای نے بات کرنے سے انکار کر دیا

    سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے سربراہان نے امریکی صدر جوبائیڈن سے فون پر بات کرنے سے انکار کر دیا ہے کیونکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے یوکرین پر روس کے حملے کی وجہ سے توانائی کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے کی کوشش کی ہے۔

    باغی ٹی وین: "دی گارجئین” کے مطابق یہ بڑا دعویٰ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی جانب سے کیا گیا ہے امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ بائیڈن نے محمد بن سلمان اور متحدہ عرب امارات کے شیخ محمد بن زید النہیان سےٹیلی فون پر رابطے کی کوشش کی ، دونوں سربراہان نے امریکی صدر کی کال لینے سے انکار کر دیا، کوشش ایسے وقت پر کی گئی جب امریکہ یوکرین کے لیے عالمی سطح پر حمایت بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ٕ

    روس نے یوکرین کی رہائشی عمارت پر بم گرا دیا،2 بچوں سمیت 18 شہری ہلاک

    ایک امریکی اہلکار نے سعودی شہزادہ محمد اور بائیڈن کے بات کرنے کے منصوبے کے بارے میں کہا کہ "فون کال کی کچھ توقع تھی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔” "یہ سعودی تیل کے سپیگوٹ کو آن کرنے کا حصہ تھا۔”

    امریکی اخبار نے مزید انکشاف کیا کہ جوبائیڈن تیل کی عالمی قیمت کو قابو میں رکھنے کے لیے کوشاں ہیں، سعودی عرب کے امریکا سے کچھ مطالبات ہیں، یمن جنگ میں امریکی مدد، سویلین جوہری پروگرام میں مدد مطالبات میں شامل ہیں۔

    گزشتہ ہفتے، OPEC، جس میں روس بھی شامل ہے، نے مغربی درخواستوں کے باوجود تیل کی پیداوار بڑھانے سے انکار کر دیا اطلاعات اس وقت سامنے آئیں جب بائیڈن انتظامیہ منگل کو روسی تیل کی درآمد پر باضابطہ پابندی عائد کرنے کے بعد تیل کی سپلائی میں اضافہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جس سے تیل کی قیمتیں 130 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں، جو 14 سالوں میں بلند ترین سطح ہے۔

    روس سب سے زیادہ پابندیوں کا سامنا کرنے والا دنیا کا پہلا ملک

    خلیجی خطے میں امریکی پالیسی پر بائیڈن انتظامیہ کے دوران امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں سرد مہری آئی ہے۔

    شہزادہ محمد کے لیے امریکہ میں قانونی استثنیٰ بھی مطالبات میں شامل، اخبار کے مطابق سعودی ولی عہد کو امریکہ میں چند مقدمات کا سامنا ہے، جو چار سال قبل استنبول کے قونصل خانے میں سعودی ہٹ ٹیم کے ہاتھوں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے مقدمہ بھی ہے-

    انتخابی مہم میں بائیڈن نے کہا تھا کہ وہ سعودی عرب کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خمیازہ ادا کرنے پر مجبور کریں گے، متحدہ عرب امارات کو بھی خوثی باغیوں کی جانب سے حالیہ میزائل حملوں کے جواب میں امریکی ردعمل پر خدشات ہیں۔

    مسائل میں ایران جوہری معاہدے کی بحالی شامل ہے۔ یمن کی خانہ جنگی میں سعودی مداخلت کے لیے امریکی حمایت کا فقدان اور حوثیوں کو دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں شامل کرنے سے انکار؛ سعودی سویلین جوہری پروگرام میں امریکہ کی مدد بھی شامل ہے-

    فضائی حملوں اور دھماکوں کی گونج میں شادی کرنے والا یوکرینی فوجی جوڑا

    اس ہفتے کے شروع میں، وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے کہا کہ بائیڈن اور شہزادہ محمد کے درمیان جلد بات کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، اور صدر کے ریاض جانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

    امریکہ میں متحدہ عرب امارات کے سفیر یوسف العتیبہ نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کی تصدیق کی۔ "آج، ہم تناؤ کے امتحان سے گزر رہے ہیں، لیکن مجھے یقین ہے کہ ہم اس سے نکل کر ایک بہتر مقام پر پہنچ جائیں گے،” العتیبہ نے پیش گوئی کی۔

    دونوں خلیجی ممالک قیمتوں میں اضافے کو کم کرنے کے لیے زیادہ تیل پمپ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے واحد عالمی سپلائرز کے طور پر شمار کیے جاتے ہیں۔

    تیل کی برآمد پر پابندی لگائی گئی تو یورپ کو گیس سپلائی بند کردیں گے، روس کی دھمکی

  • ‏کہتا ہےباہرنکالا توخطرناک ہو جاوں گا،میں کہتا ہوں آوتوسہی:آصف زرداری

    ‏کہتا ہےباہرنکالا توخطرناک ہو جاوں گا،میں کہتا ہوں آوتوسہی:آصف زرداری

    اسلام آباد:ڈی چوک رات میں دن کا سماں عوام کا جم غفیر۔بلاول وزیراعظم کے نعرے،اطلاعات کے مطابق اس وقت اسلام آباد میں پی پی کے لانگ مارچ میں تمام جماعتوں کے کارکنوں کی قیادت کی طرف سے ہدایت کےبعد شرکت نے اس مارچ کو بہت رنگ دے دیئے ہیں، اسلام آباد کا ڈی چوک اس وقت بلاول وزیراعظم کے نعروں سے گونج رہا ہے ،

    سابق صدر آصف علی زرداری نے کہاکہ جیالے کی خاص پہچان ہے، آپ کی محبت دیکھ کر میرا دل بہت خوش ہوا، آج بلاول کے ساتھ آپ کا پیار اور محبت دیکھی، وقت آگیا ہے سلیکٹڈ کو باہر نکالیں گے، جمہوری قوتوں کو مل کر ملک کو آگے لے جانا پڑیگا، مائنس سلیکٹڈ ، اس کو باہر نکالیں گے اور آپ کی حکومت لائیں گے، عمران خان کو بہت جلد میں باہر نکال دوں گا، اگر اس کو رہنے دیا تو نہ آنے والی نسلیں معاف کریں گی، نہ ہماری قبریں، جمہوری قوتوں کو مل کر ملک کو آگے لے جانا پڑےگا، لانگ مارچ کر لیا، عدم اعتماد بھی کر لیا، اب یہ بھی کر کے دکھائیں گے۔

    ادھر اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اب میں عمران خان کو ایک دن بھی چین سے نہیں بیٹھنے دوں گا، عدم اعتماد اس لشکر کا جمہوری ہتھیار ہے۔

    وفاقی دارالحکومت کے ڈی چوک میں عوامی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کے جیالوں کو سلام پیش کرتا ہوں، یہ بہادر اور وفادار لوگ 10 دن سے سلیکٹڈ سرکار کے خلاف سراپا احتجاج ہیں، کراچی سے 27 فروری کو نکلے اور پھر تعداد میں اضافہ ہوتا رہا، آج ہم ڈی چوک بھی پہنچ گئے، جیالے جو کہتے ہیں وہ کر کے دکھاتے ہیں۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے بلاول کا کہنا تھا کہ آپ 3 سال سے اس کٹھ پتلی سے ٹکرا رہے ہو، ہم نے اسے پہلے دن ہی بے نقاب کر دیا تھا، یہ الیکٹڈ نہیں سلیکٹڈ ہے، اب میں عمران خان کو ایک دن بھی چین سے نہیں بیٹھنے دوں گا، عدم اعتماد اس لشکر کا جمہوری ہتھیار ہے، کٹھ پتلی کو اس قوم پر مسلط کیا گیا۔

     

     

    انہوں نے کہا کہ ہمیں غیر جمہوری طریقے سے مسلط ہونے والے کٹھ پتلی کو گھر بھیجنا ہے، عمران خان سے پورے پاکستان کا اعتماد اٹھ چکا ہے، اب وقت آ چکا ہے پارلیمان کا اعتماد بھی اس سے اٹھ جائے، پہلے بھی یوسف رضا گیلانی کو اسمبلی سے جتوا کر تاریخ رقم کی تھی، وزیراعظم کے پسینے چھوٹ رہے ہیں، گالیاں دینے پر مجبور ہو گیا، عوام کو کہتا تھا کہ مہنگائی ہے مگر گھبرانا نہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اب تو عدم اعتماد کی تحریک پیش ہو گئی، ہم نے جمہوری حملہ کر دیا ہے، وزیراعظم صاحب گھبرانے کا وقت آ گیا ہے، ہماری عمران خان سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں، انہوں نے جمہوریت کا جنازہ نکال دیا ہے۔ پی ٹی آئی ایم ایف ڈیل عوام دشمن اور غریب دشمن ڈیل ہے، ہماری بات نہیں مانی گئی اور پھر بوجھ عام آدمی پر آگیا، تم سب صوبوں کے حقوق پر ڈاکے مارنے کی کوشش کررہے ہو، ہم جمہوریت پر ڈاکہ برداشت نہیں کر سکتے،

    بلاول بھٹو نے کہا کہ اس شخص نے پاکستان کے عوام کا معاشی قتل کیا، اس کی معاشی پالیسی عام آدمی کو تکلیف اور امیر کو ریلیف پہنچانا ہے، قائد عوام نے روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ دیا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ اس شخص نے ملک کی خارجہ پالیسی کو نقصان پہنچایا، اس شخص نے پاکستان کو دنیا میں تنہا کر دیا، اس شخص نے سی پیک کو بھی سبوتاژ کرنے کی کوشش کی، قائد عوام نے اس پارٹی کی بنیاد کشمیر کاز پر رکھی تھی، کشمیر کے مسئلے پر قومی اتفاق رائے بنانا اس کا کام تھا جو نہیں ہوا، ہم دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کو برداشت نہیں کریں گے۔

    کارکنوں کی طرف سے بہت زیادہ پرجوش مناظر پیش کیے جارہے ہیں اور ہر طرف ایک خوشی کا سماں ہے، یہ بھی کہا جارہا ہےکہ کل کسی بھی وقت اس لانگ مارچ کو ختم کرنے کا اعلان ہوسکتا ہے ،

     

    ادھر دوسری طرف صوبائی وزیررناصر شاہ نے وزیراعظم عمران خان کو طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم تو اسلام آباد پہنچ چکے اب کیوں نہیں وہ کھانے اور چائے کی دعوتیں پیش کرنے کا وعدہ پورا کررہے ہیں لائیں اور اپنے مہمانوں کو پیش کریں

     

     

    گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا اور دو۔بلاول کا ڈی چوک میں خطاب ایک جزباتی منظر پیش کررہا تھا جہاں ہزاروں کی تعداد میں پاں میں ہاں ملارہے ہیں

     

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ڈی چوک میں اس وقت اس لانک مارچ میں جس میں بلاول بھٹو وزیراعظم کے نعرے لگ رہے تھے تو ن لیگ کے ورکز بھی بلاول بھٹو وزیراعظم کے نعرے بھی لگا رہے تھے

     

    پیپلز پارٹی کے عوامی مارچ میں لاکھوں کا مجمع ہے کراچی سے شروع ہونے والا لانگ مارچ ایوان اقتدار پہنچا تو پی پی کارکنان کا جوش و جزبہ دیکھنے والا تھا ۔پی پی کارکنان پارٹی پرچم لہراتے بلاول وزیراعظم کے نعرے لگاتے دکھائی دیئے پی پی کے عوامی مارچ میں اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے بھی ڈی چوک میں شرکت کی ڈی چوک میں اسوقت عوام کا جم غفیر ہے ملک بھر سے پی پی کارکنان نے عوامی مارچ میں شرکت کی اور حکومت کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کیا ۔

    بلاول کی قیادت میں عوامی مارچ میں آصفہ زرداری سمیت پی پی کی مرکزی قیادت شریک رہی ۔مارچ کے اسلام آباد پہنچنے سے قبل وزیراعظم کے خلاف تھریک عدم اعتماد جمع کروا دی گئی ہے ۔اپوزیشن رہنماؤں نے متحد ہو کر تحریک جمع کروائی بعد ازاں سابق صدر زرداری کا کہنا تھا کہ ہمیں 172 سے زیادہ ووٹ ملیں گے ۔

    اسلام آباد کا سیاسی موسم گرم ہونے کے بعد ق لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین بھی اسلام آباد پہنچے ہیں اور انہوں نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی بجایے پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان سے انکے گھر جا کر ملاقات کی ہے ۔ ڈی چوک میں پی پی کارکنان موجود ہیں اور قائدین کے خطاب جاری ہیں وزیراعظم بھی متحرک ہیں اور اپنی حکومت بچانے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں اتحادیوں سے رابطوں ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے ۔

    وزیراعظم کے دورہ کراچی کا بھی امکان ہے جہان وہ ایم کیو ایم کے مرکز جائیں گے علیم خان کو بھی منانے کی کوشش جاری ہے تاہم حتمی فیصلہ جہانگیر ترین پر چھوڑ دیا گیا ہے جہانگیر ترین اسوقت لندن میں ہیں اور لندن جانے سے قبل شہباز شریف اور بلاول کی لندن سے خفیہ ملاقات ہوئی تھی ۔آنیوالے دنوں میں وزیراعظم اعتماد کا ووٹ لے کر کرسی بچا سکتے ہیں یا پھر اپوزیشن اپنا وزیراعظم بنا لے گی ابھی کچھ بھی کہنا قبل ازوقت ہے ۔

  • جوبائیڈن نےروسی تیل اورگیس کی تمام درآمدات پرپابندی لگا دی:روس نےجوابی کارروائی کی دھمکی دےدی

    جوبائیڈن نےروسی تیل اورگیس کی تمام درآمدات پرپابندی لگا دی:روس نےجوابی کارروائی کی دھمکی دےدی

    واشنگٹن: جو بائیڈن نے روسی تیل اور گیس کی تمام درآمدات پر پابندی لگا دی:روس نے جوابی کارروائی کی دھمکی دے دی ،اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے ملک میں روسی تیل اور گیس کی درآمدات پر پابندی کا اعلان کردیا ہے۔

    عالمی میڈیا کے مطابق امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ روسی تیل اور گیس اب امریکی بندرگاہوں پر قابلِ قبول نہیں۔ ہم روس کے صدر ولادمیر پوٹن کو جنگ میں کوئی ’مالی معاونت‘ فراہم نہیں کرنا چاہتے۔

    جوبائیڈن نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ یورپی اتحادیوں کے ساتھ مشاورت سے کیا ہے تاہم وہ پابندی میں امریکہ کا ساتھ دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکہ یورپی اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تا کہ روسی تیل اور گیس پر انحصار کم کرنے کے لیے “طویل مدتی حکمت عملی” تیار کی جا سکے۔

    واضح رہے کہ اس پابندی سے روسی معیشت کو ایک تباہ کن دھچکا پہنچنے کی توقع ہے جو ملک کی آمدنی کا 40 فیصد سے زائد تیل اور گیس کی پیداوار پر انحصار کرتی ہے۔روس نے دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ روسی تیل کو مسترد کرنے سے عالمی مارکیٹ میں قیمت 300 ڈالر بیرل تک پہنچ جائے گی۔

    روسی نائب صدر الیگزینڈر نوواک کے مطابق اگر روس کے تیل کو مسترد کیا گیا تو اس کے تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے اور تیل کی قیمت 300 ڈالر بیرل تک پہنچ جائے گی۔ اگر تیل کی برآمد پر پابندی لگائی گئی تو جواب میں جرمنی جانے والی گیس کی مین پائپ لائن کو بند کیا جا سکتا ہے۔

    یاد رہے کہ اس وقت عالمی مارکیٹ میں 2008ء کے بعد سے تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر ہیں۔

  • عمران خان کےخلاف عدم اعتماد:اپوزیشن کوپہلا بڑاجھٹکا لگ بھی گیا

    عمران خان کےخلاف عدم اعتماد:اپوزیشن کوپہلا بڑاجھٹکا لگ بھی گیا

    لاہور:عمران خان کےخلاف عدم اعتماد:اپوزیشن کوپہلا بڑاجھٹکا لگ بھی گیا:،اطلاعات کے مطابق ملک میں جاری سیاسی صورتحال کے پیش نظر پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چودھری شجاعت حسین اور پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی ملاقات ہوئی جس میں تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر بات چیت ہوئی۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی میں جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد کے بعد 11 جماعتی پی ڈی ایم اتحاد کی طرف سے اب بندے پورے کرنے کا سلسلہ جاری ہے

    اسی تناظر میں پاکستان ق لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے گھر پہنچے جہاں پر دونوں کی ملاقات ہوئی۔

    باغی ٹی وی کو ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ اس ملاقات میں چوہدری شجاعت حسین نے مولانا فضل الرحمن کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ حضرت جی چوہدری جس کے ساتھ وعدہ کرتے ہیں اس کو نبھاتے بھی ہیں ، ہم عمران خان کے اتحادی ہیں اور اتحادی رہیں گے ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس موقع پر فضل الرحمن نے چوہدری شجاعت کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا چکمہ دینے کی بھی کوشش کی تو چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ وہ ہمارا اور ہمارے اتحادیوں کا معاملہ ہے

    اس موقع پر یہ بھی بات سامنے آئی ہے کہ فضل الرحمن نے چوہدری شجاعت حسین سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ اگرہماری حمایت کرتے ہیں تو ہم عمران خان کو ہٹاسکتے ہیں ،

    ادھر اس حوالے سے یہ بھی کہا جارہاہے کہ فضل الرحمن کے ان جملوں سے دعووں کی قلعی کھل کرسامنے آگئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اپوزیشن کو حکومتی اتحاد کے 25 ارکان کی خاموش حمایت حاصل ہے ،سوشل میڈیا پراس حوالے سے یہ خیالات پیش کیے جارہے ہیں کہ اگراپوزیشن کے پاس 25 ارکان ہیں تو پھرپاکستان مسلم لیگ کی بار بار کیوں منتیں کی جارہی ہیں ،اس سے معلوم ہوتا ہے اپوزیشن حقائق کو صیح بیان نہیں کررہی

    قبل ازیں متحدہ اپوزیشن کے قائدین نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کیخلاف پر امید ہیں عدم اعتماد کامیاب ہو گی، 172 ارکان سے زیادہ ووٹ لیں گے۔

    اسلام آباد میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری، پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف نے کہا کہ کل پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام(ف) اور مسلم لیگ(ن) اور ہمارے ساتھ منسلک اتحادی پارٹیوں کی طرف سے ہم نے مل کر مشاورت کی اور ہم نے فیصلہ کیا کہ آج ہم تحریک عدم اعتماد اسمبلی میں جمع کروائیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم اس بات کو خفیہ رکھا تھا اور اس کی سب نے پاسداری کی، آج تمام جماعتوں نے ریکویزیشن اور تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے اپنے اراکین سے دستخط لیے اور آج ہم نے اس کو جمع کرا دیا ہے۔

    ان کا کہناتھا کہ پونے چار سال بعد اس تحریک عدم اعتماد کی ضرورت اس لیے پڑی کیونکہ اس سلیکٹڈ حکومت اور وزیراعظم نے جو کچھ اس ملک کے ساتھ معاشی، سماجی، معاشرتی حوالے سے کردیا ہے اس کی نظیر پاکستان کی 70سالہ تاریخ میں نہیں ملتی۔