Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • کوئی آکھے پیڑلکےدی‘کوئی آکھے چُک:وچلی گل اےمحمدبخشا وچوں گئی اےمُک:زرداری،نواز ہمت ہارگئے

    کوئی آکھے پیڑلکےدی‘کوئی آکھے چُک:وچلی گل اےمحمدبخشا وچوں گئی اےمُک:زرداری،نواز ہمت ہارگئے

    لاہور:کوئی آکھے پیڑ لکے دی‘ کوئی آکھے چُک وچلی گل اے محمد بخشا وچوں گئی اے مُک:زرداری اورشہبازشریف ہمت ہارگئے،اطلاعات کے مطابق پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری اور بلاول بھٹو کی شہباز شریف اور مریم نواز سے ملاقات کی کہانی سامنے آگئی۔اس کہانی کا خلاصہ اور مرکزی خیال یہ ہے جو بزرگ پنجابی شاعر نے بڑا عرصہ پہلے ہی بیان کردیا تھا

    گئی جوانی آیا بڑھاپا جاگ پیاں سب پِیڑاں
    ہُن کِس کم محمد بخشاء، سونف‘ اجوائن‘ ہریڑاں​
    کوئی آکھے پِیڑ لکے دی، کوئی آکھے چُک
    وِچلی گَل اے ،محمد بخشاء وِچوں گئی اے مُک

    ذرائع کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں جماعتوں کے رہنماؤں میں 2023 کے انتخابات کے لیے مل کر حکمت عملی اپنانے پر اتفاق کیا ہے، یہ تجویز آصف زرداری کی جانب سے دی گئی جسے لیگی رہنماؤں نے تسلیم کرلیا۔

    ذرائع کا بتانا ہے کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے رہنماؤں میں آئندہ انتخابات کے بعد ضرورت پڑنے پر مل کر حکومت بنانے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔

    معتبر ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ اس دوران دونوں موروثی خاندانوں کے سربراہان نے اپنے بچوں کی موجودگی میں ان کے سامنے یہ بھی باتیں کی ہیں کہ عمران خان کو صرف اور صرف مہنگائی ہی کا خطرہ ہے ، عمران خان اس وقت عالمی سیاست کا کھلاڑی بن گیا ہے اور اس کی شخصیت کی وجہ سے وہ دنیا بھر میں معروف ہے

    یہ بھی نصیحت کی گئی کہ بچو عمران خان کو ایزی نہ لینا یہ بہت چالاک ہے ، تمام سیاسی مخالف جماعتوں کے اتحاد کی قوت بھی اس کو خوف زدہ نہیں کرسکتی اب بس عوام کو الیکشن تک حکومت کے خلاف موبلائز کریں تاکہ اس کے ووٹ بینک کو نقصان پہنچایا جاسکے، اس موقع پر یہ بھی خطرہ محسوس کیا گیا کہ اگر پی پی اور ن لیگ نے عمران خان کے خلاف اتحاد نہ کیا تو دونوں جماعتوں کو عبرتناک شکست ہوسکتی ہے اس لیے مل کر ہی عمران خان کو پیچھے دھکیلا جاسکتا ہے

    مریم نواز کے ذریعے آصف زرداری کا نواز شریف سے بھی بالواسطہ رابطہ ہوا، پیپلزپارٹی نے تجویز دی کہ مطلوبہ حمایت ملی تو عدم اعتماد پر غور کریں گے۔

    زرداری شہباز ملاقات کی کہانی۔23 ءکےانتخابات کی مشترکہ اسٹرٹیجی اپنانے پر اتفاق ضرورت پڑنے پر نیشنل حکومت بنائیں۔دونوں جماعتوں کے دوبارہ رابطے کی وجہ امپائر سے حمایت نہ ملناہےمریم کے ذریعے زردار ی کا نواز شریف سے بھی بالواسطہ رابطہ ہوا۔ حمایت ملی تو عدم اعتماد پر غور کریں گے۔

     

    آصف زرداری نے کہا کہ سینیٹ، قومی اسمبلی، پنجاب اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد لائی جائے، عمران خان کو گھر بھیجنے کا بہترین راستہ ہے کہ تحریک عدم اعتماد لائی جائے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی تجویز پر عمل کیا جاتا تو عمران خان آج اقتدار میں نہ ہوتے، آئینی کوشش ناکام ہوئی تو لانگ مارچ اور استعفوں پر ایک ساتھ موقف بنائیں گے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ ہمیں مشاورت کے لیے وقت دیں آپ کی تجویز قابل عمل ہے، تسلیم کرتا ہوں تحریک عدم اعتماد پر ن لیگ آپس میں متحد نہیں تھی۔

    انہوں نے کہا کہ مجھے نواز شریف کو اعتماد میں لینے کا وقت دیں، مریم نواز کا کہنا تھا کہ ہر قسم کی جدوجہد کرکے عوام کو اس حکومت سے نجات دلانے میں ساتھ ہیں۔

  • علی سدپارہ کو بچھڑے ایک برس بیت گیا

    علی سدپارہ کو بچھڑے ایک برس بیت گیا

    علی سدپارہ کو بچھڑے ایک برس بیت گیا

    علی سدپارہ اور ان کے 2 ساتھی 5 فروری 2021 کے دن کےٹو سر کرنے کے دوران لاپتہ ہوئے علی سدپارہ نے 8 ہزار میٹر سے بلند دنیا کی 8 چوٹیاں سر کی تھیں 6 فروری کو کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا تھا اس کے بعد 12 دن تک جاری رہنے والے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے خاتمے کا اعلان کیا گیا 18 فروری کو علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے والد کی موت کی سمیت دیگر دونوں غیر ملکی کوہ پیماؤں کی ہلاکت کی تصدیق بھی کردی تھی

    https://twitter.com/israrhussayn/status/1489929058125336577

    https://twitter.com/haideryabgo/status/1489947315078975488

    موسم سرما میں آکسیجن کے بغیر کے ٹو سر کرنے کی کوشش کے دوران 5 فروری کو لاپتا ہونیوالے پاکستان کے کوہ پیما محمد علی سد پارہ، آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے کوہ پیما جان پابلو موہر کی موت کی سرکاری طور پر تصدیق کی گئی تھی ۔ گلگت بلتستان کے وزیر سیاحت راجہ ناصر علی خان اور کوہ پیما محمد علی سد پارہ کے بیٹے کوہ پیما ساجد سدپارہ نے سکردو میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ علی سدپارہ اور دو غیر ملکی کوہ پیما اب ہم میں نہیں رہے ۔

    کوہ پیما محمد علی سدپارہ اپنے دو غیر ملکی ساتھیوں سمیت 5 فروری کو کے ٹو کی خطرناک چڑھائی بوٹل نیک کے قریب لاپتا ہوئے جن کی تلاش کیلئے 12 روزہ طویل ریسکیو آپریشن میں جدید ٹیکنالوجی استعمال کی گئی تھی۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کوہ پیما محمد علی سدپارہ کی موت کی سرکاری تصدیق پر ان کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا اللہ تعالیٰ قوم کے عظیم سپوت کو جنت الفردوس میں جگہ عطا کرے ۔

    کیا علی سدپارہ واقعی زندہ ہیں؟ ریسکیوٹیم نے ہار کیوں نہیں‌مانی ؟تہلکہ خیز انکشافات

    محمد علی سدپارہ سے کہاں غلطی ہوئی؟ تاریخی سرچ آپریشن میں کیا چل رہا ہے؟ اہم معلومات

    کے ٹو پر لاپتا پاکستانی کوہ پیماعلی سدپارہ کی موت کی تصدیق

    کے ٹو نے والد کو ہمیشہ کیلئے اپنی آغوش میں لے لیا،ساجد سدپارہ

    محمد علی سدپارہ اور بیٹے کوکون سے اعزاز دیئے جائیں گے؟ حکومت نے اعلان کر دیا

    دنیا کے سب سے خوبصورت سٹیڈیم میں پہلا کرکٹ میچ علی سدپاہ کے نام

    علی سدپارہ کی موت، جہانگیر ترین نے کیا کن جذبات کا اظہار؟

    جنید جمشید سمیت 1099 لوگوں کی موت کا ذمہ دار کون؟ مبشر لقمان نے ثبوتوں کے ساتھ بھانڈا پھوڑ دیا

    اے ٹی سی کی وائس ریکارڈنگ لیک،مگر کیسے؟ پائلٹ کے خلاف ایف آئی آر کیوں نہیں کاٹی؟ مبشر لقمان نے اٹھائے اہم سوالات

    اگرکوئی پائلٹ جعلی ڈگری پر بھرتی ہوا ہے تو سی اے اے اس کی ذمے دارہے،پلوشہ خان

    بین الاقوامی فیڈریشن آف پائلٹس اینڈ ائیرٹریفک کنڑولرز طیارہ حادثہ کے ذمہ داروں کو بچانے میدان میں آ گئی

    شہباز گل پالپا پر برس پڑے،کہا جب غلطی پکڑی جاتی ہے تو یونین آ جاتی ہے بچانے

    محمد علی سدپارہ کو خراجِ تحسین، پاک فوج کا منفرد انداز

  • عمران خان کو ہٹانے کے لئے ہم ہر قدم اٹھانے کو تیار ہیں،بلاول،مریم، فیصلہ ہو گیا

    عمران خان کو ہٹانے کے لئے ہم ہر قدم اٹھانے کو تیار ہیں،بلاول،مریم، فیصلہ ہو گیا

    عمران خان کو ہٹانے کے لئے ہم ہر قدم اٹھانے کو تیار ہیں،بلاول،مریم، فیصلہ ہو گیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ،آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو ماڈل ٹاؤن پہنچ گئے

    شہباز شریف نے پیپلزپارٹی کی قیادت کے اعزاز میں ظہرانہ دیا ہے ن لیگی نائب صدر مریم نواز بھی ماڈل ٹاون میں موجود ہیں ن لیگی ترجمان مریم اورنگزیب،سعد رفیق اور دیگر بھی شہبازشریف کی رہائش گاہ پر موجود ہیں ، ن لیگی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ شہباز شریف نے آصف زرداری اور بلاول بھٹو کا استقبال کیا،مریم نواز اور حمزہ شہبازدوران استقبال شہبازشریف کے ہمراہ تھے، پیپلزپارٹی کی قیادت کے ہمراہ پی پی پی وسطی پنجاب کے جنرل سیکریٹری حسن مرتضی اور رخسانہ بنگش موجود تھے

    آصف زرداری اور بلاول بھٹو نے مریم نواز سے نواز شریف کی صحت سے متعلق نیک تمناؤں کا اظہارکیا آصف زرداری اور بلاول بھٹو نے شہباز شریف سے ان کی خیریت دریافت کی ملاقات میں پیپلزپارٹی اور ن لیگی قیادت کے درمیان ملکی سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا

    شہباز شریف نے سابق صدر آصف زرداری کے لئے خصوصی پکوان تیار کروائے ہیں، شرکاء کے لئے ظہرانے میں سوپ، مٹن بریانی، سندھی بریانی، گرل فش، بار بی کیو، قورمہ، گاجر کا حلوہ اور سبز چائے شامل ہے،

    دوسری جانب اطلاع ہیں کہ سابق صدر آصف زرداری شہباز شریف کا بنوایا ہوا خصوصی کھانا نہیں کھائیں گے بلکہ
    آصف زرداری کیلئے انکا سٹاف الگ سے پرہیزی کھانا اور ادویات ساتھ لیکر آیا ہے، اس ضمن میں صحافی غضنفر عباس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک ویڈیو ٹویٹ کی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گاڑی سے آصف زرداری کا عملہ سامان اتار رہا ہے، ساتھ پیغام میں لکھا گیا ہے کہ آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو شہباز شریف کے ظہرانے پر پہنچ گئے آصف زرداری کیلئے انکا سٹاف الگ سے پرہیزی کھانا اور ادویات ساتھ لیکر آیا،

    ملاقات کے بعد میڈیا ٹاک کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آج یوم کشمیر ہے ،پورے پاکستان میں ریلیاں نکالی جارہی ہیں ہم نے ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ کردیا تھا،موجودہ حکومت نے نیشنل ایکشن پلان کو سرد خانے میں ڈال دیا ہے، آج ملک میں مہنگائی، غربت اور بے روزگاری ہے،پاکستان کا بچہ بچہ کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے، ہم سب نے آصف زرداری اور بلاول بھٹو کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہا ہے نوازشریف کے دور میں بھی قرضے لیے گئے، لیکن ترقیاتی کام کیے، موجودہ حکومت نے کھربوں روپے کے قرضے لیے لیکن کہیں ایک اینٹ نہیں لگائی،عوام ہم سے پوچھتے ہیں کہ کب اس حکومت سے ہماری جان چھڑوائیں گے موجودہ حکومت قرضے لینے کے سوا کچھ نہیں کررہی، پاکستان کو تباہی سے بچانے کیلئے ہمیں متحد ہونا ہوگا،

    شبہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ عدم اعتماد کے حوالے سے پیپلزپارٹی کلیئر تھی عدم اعتماد کے حوالے سے ہماری پارٹی میں مختلف آرا تھیں، شہباز شریف صحافی کے سوال پر برہم ہو گئے اور سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کیا ہم گزشتہ تین سال سے اشاروں پر چل رہے ہیں، عدم اعتماد کے حوالے سے معاملہ سی ای سی اور پی ڈی ایم کے سامنے رکھیں گے،عدم اعتماد کے حوالے سے چند دن میں فیصلہ کرلینگے،

    ن لیگی رہنما مریم نواز کا کہنا تھا کہ سیاسی پارٹیوں کے اندر اختلاف ہوتے ہیں لیکن جو چیز بلاول اور ہم سب کو جوڑتی ہے وہ عوام کے مسائل ہیں، عوام کی بہتری کے لئے اکٹھے ہم آگے بڑھیں گے،

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ عمران خان کو ہٹانے کے لئے ہم ہر قدم اٹھانے کو تیار ہیں، شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتا ہوں ، بلاول بھٹو زرداری نے بلوچستان میں موجودہ دہشتگردی کی لہر اور حکومتی نااہلی پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف متحد ہیں، حکومت کی نااہلی سامنے آ رہی ہے، پچھلے کچھ دنوں میں بلوچستان سے جو خبریں آ رہی ہیں یہ بہت خطرناک ہے شہباز شریف اپنی ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹے ہیں،حکومت سے عوام کا اعتماد اٹھ چکا ہے،پارٹی کی رائے کو ن لیگ کی قیادت کے سامنے رکھا گیا ہے،ہر سیاسی جماعت کی مختلف رائے ہوتی ہے،

    صحافی نے سوال کیا مریم نواز آپ اور بلاول کے درمیان جو سیاسی ہم آہنگی تھی وہ چپکلش میں تبدیل ہوئی اس کے بارے میں کیا کہیں گی، جس پر دونوں چپ رہے اور شہباز شریف بولے، شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بھائی ان دونوں بلاول اور مریم کے بیچ کھڑا ہوں میں ہوں نہ

    قبل ازیں ن لیگ کی رہنما مریم نواز ماڈل ٹاؤن میں شہباز شریف کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی ہیں

    شہبا زشریف اور آصف زرداری کے مابین ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال اور حکومت کے خلاف تحریک پر مشاورت ہو گی

    قبل ازیں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں لانگ مارچ کی تیاریوں کے سلسلے میں اجلاس ہوا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو وسطی پنجاب میں لانگ مارچ کی آمد کی تیاریوں اور راستے میں ہونے استقبال سے متعلق بریف کیا گیا چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پنجاب کی صوبائی اور لاہور کی تنظیم کو لانگ مارچ سے متعلق اہم ٹاسک سونپ دئیے بلاول ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں حسن مرتضی، ثمینہ خالد گھرکی، اسلم گل، جمیل منج اور فائزہ ملک شریک تھے

    ضروری ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک لیکر آئیں،راجہ پرویز اشرف

    بریکنگ،وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا معاملہ اہم مرحلے میں داخل

    اک زرداری سب پر بھاری،آج واقعی ایک بار پھر ثابت ہو گیا

    مبارک ہو، راہیں جدا ہو گئیں مگر کس کی؟ شیخ رشید بول پڑے

    پاکستان میں جنگ زدہ افغانستان سے بھی زیادہ مہنگائی ہے، بلاول

    پٹواریوں سے نہ مولانا سے ،حکومت کا مقابلہ صرف جیالوں سے ہے،بلاول

    وہ دن دور نہیں جب نثارکھوڑو اور مرادعلی شاہ کی جگہ خواتین کام کرینگی،بلاول

    بلاول پنجاب میں ن لیگ کے ساتھ جے یو آئی کی وکٹیں بھی گرانے لگے

    پنجاب کے ہر گھر میں پیپلزپارٹی کا جھنڈا لہرائیں گے ،راجہ پرویز اشرف

    لانگ مارچ عمران خان حکومت کیخلاف چارج شیٹ ہوگا،بلاول

  • یوم یکجہتی کشمیر، آرمی چیف کا کشمیریوں کے لئے پیغام

    یوم یکجہتی کشمیر، آرمی چیف کا کشمیریوں کے لئے پیغام

    یوم یکجہتی کشمیر، آرمی چیف کا کشمیریوں کے لئے پیغام
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاک فوج کی جانب سے کشمیریوں کو خراج تحسیش پیش کیا گیا ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر کہا ہے کہ کشمیریوں کو جدو جہد آزادی پر سلام پیش کرتے ہیں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی طرف سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں اور لاک ڈاؤن نے کشمیریوں کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ وقت آگیا ہے کہ کشمیریوں پر مظالم بند کیے جائیں اور مسئلہ کشمیر کشمیریوں کی امنگوں اور اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے

    واضح رہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے، ملک بھر میں یوم یکجہتی کشمیر کے حوالہ سے سیمینارز و تقریبات ہو رہی ہیں

    بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کا آرٹیکل 370 ختم کر کے وادی میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا تھا۔ بھارت کی ہندو انتہا پسند حکمران جماعت بی جے پی کے اس اقدام کے بعد سے ہی مقبوضہ وادی میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور وادی میں مکمل لاک ڈاؤن ہے کشمیری حریت رہنماؤں کو جیلوں میں ڈالا ہوا ہے، دختران ملت کی سربراہ سیدہ آسیہ اندرابی، ڈاکٹر یاسین ملک سمیت تمام حریت رہنما جیلوں میں ہیں، کشمیری نوجوانوں کو بھارتی فوج دن دہاڑے گولیوں سے نشانہ بناتی ہے، خواتین کی عصمتیں پامال کی جاتی ہیں ،عالمی دنیا خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے،

    پاکستان کا ہر جوان تحریک کشمیر کا ترجمان ہے،ورلڈ کالمسٹ کلب کے زیر اہتمام یکجہتی کشمیر سیمینار سے میاں اسلم اقبال کا خطاب

    یوم یکجہتی کشمیر،بھارتی ناجائز تسلط کے خلاف ہو گا دنیا بھر میں احتجاج، سفیرکشمیر جائیں گے مظفر آباد

    یوم یکجہتی کشمیر،وزیرخارجہ نے کیا عالمی دنیا سے بڑا مطالبہ

    مودی مسلمانوں کا قاتل، کشمیر حق خودارادیت کے منتظر ہیں، صدر مملکت

    یوم یکجہتی کشمیرپرتحریک آزادی بارے مفتیان نے کیا فتویٰ دیا؟ لیاقت بلوچ نے بتا دیا

    یکجہتی کشمیر،جماعت اسلامی کی ہوں گی ملک بھر میں ریلیاں، شیڈول جاری

    کشمیر متنازعہ علاقہ، بھارت فوج بھیج سکتا ہے تو پاکستان کیوں نہیں؟ سراج الحق

    تمام پارلیمانی فورموں پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا،سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر

    ہماری امن پسندی کو کمزوری نہ سمجھا جائے، یوم یکجہتی کشمیر پر وزیر داخلہ کا پیغام

    یوم یکجہتی کشمیر، وزیراعظم عمران خان نے جاری کیا کشمیریوں کیلئے خصوصی پیغام

    یوم یکجہتی کشمیر، سینیٹ کا ایک اجلاس کشمیر میں منعقد کرنے کا فیصلہ

    سینیٹ اجلاس،ہندو خاتون رکن نے کی صدارت ،کشمیریوں سے یکجہتی کی قرارداد منظور

    بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات،بھارت کی معاونت تھی،ترجمان دفتر خارجہ

    جی سی ویمن یونیورسٹی میں یوم یکجہتی کشمیرکی تقریب

  • بھارتی رہنماؤں کی جانب سے کشمیر کے حوالے سے بھارتی حکومت پر تنقید

    بھارتی رہنماؤں کی جانب سے کشمیر کے حوالے سے بھارتی حکومت پر تنقید

    بھارتی رہنماؤں کی جانب سے کشمیر کے حوالے سے بھارتی حکومت پر تنقید کی گئی ہے

    بی جے پی حکومت نے پالیسیوں پر تنقید کرنے والے افراد کو گرفتار کرنے کا سلسلہ جاری کر رکھا ہے غیر قانونی اقدام پر بھارتی رہنماؤں کی جانب سے بی جے پی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، سپریا سَلی ممبر لوک سبھا کے مطابق حکومتی بلوں میں کشمیر کو شامل نہ کرنا متعصبانہ رویہ ہے کانگریس ممبر ششی تھرور کا کہنا ہے کہ بھارتی کالے قانون نے بھارتی جمہوریت کو بے نقاب کر دیا ہے، نیشنل کانگریس کے لیڈر مصطفیٰ کمال نے بھارت کے اس اقدام کو آئین کی نفی قرار دیا کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے کشمیر کی حقیقی صورتحال پر سوال اُٹھائے ہیں پریانکا گاندھی نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات کو آئین اور جمہوریت کے منافی قرار دیا

    نوبل انعام یافتہ امریتہ سین نے کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تنقید کی اور کہا کہ تمام انسانوں کے حقوق کو برقرار رکھا جائے مجھے نہیں لگتا کہ جمہوریت کے بغیر بھی کشمیر کی کوئی قرار داد ہو گی ، بھارتی سکالر ننوت چڈھا بہیرا کا کہنا تھا کہ بھارت میں جمہوری اُصولوں کو ختم کیا جا رہا ہے،زیادہ پریشان کُن بات ہے کہ کسی بھی دوسری ریاست کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے ؟،فیڈرلزم کے حق میں بہت کم لوگ ہیں، جو بھارت کی جمہوریت کیلئے خطرہ ہے،

    قبل ازیں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان جموں و کشمیر پر اپنے اصولی موقف پر قائم ہے اور قوم حق خود ارادیت کی منصفانہ جدوجہد میں کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ 5 فروری یوم یکجہتیِ کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ریاست جموں و کشمیر کے متعلق حتمی فیصلہ صرف کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق ہوگا، کشمیری عوام کی خواہشات اور متعلقہ قراردادوں کے مطابق تنازع کا حل پاکستان کا حتمی مقصد ہے۔

    ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ جموں و کشمیر سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر سب سے پرانے مسائل میں سے ایک ہے، بھارتی ہٹ دھرمی، انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے تنازع حل نہ ہو سکا کشمیری عوام گزشتہ 7 دہائی سے مشکل حالات، دہشت اور ظلم کے خلاف برسرِپیکار ہیں جبکہ بھارت کشمیرمیں غیر انسانی حربے، سفاکانہ قوانین اور ریاستی دہشت گردی کا استعمال کر رہا ہے۔

    صدرمملکت نے کشمیریوں کو خودارادیت کے جائز حق کے لیے بے مثال عزم پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام جبر، ناجائز قبضے کے خلاف جرات مندانہ جدوجہد میں ضرور سرخرو ہوں گے۔

    انہوں نے کہا کہ بھارت حراستی تشدد، پیلٹ گنوں کے استعمال اور گھروں کو مسمار کرنے میں ملوث ہے، 9 لاکھ سے زائد قابض بھارتی افواج نے مقبوضہ کشمیر کو ایک بڑی جیل میں بدل دیا ہے اور آر ایس ایس اور بی جے پی کی کشمیریوں کی تحریکِ آزادی کو کنٹرول کرنے کی کوشش ناکام رہی ہے۔


    دوسری جانب یکجہتیِ کشمیر کے موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ متحد ہے اور حق خود ارادیت کے لیے ان کی جائز جدوجہد کے لیے پرعزم ہے۔ مودی کے جبر اور تشدد کی فاشسٹ پالیسیاں کشمیر میں کشمیریوں کی مزاحمت کے جذبے کو کچلنے میں ناکام رہی ہیں-

    انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ دنیا کشمیر میں بھارت کی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لے جس میں انسانیت کے خلاف جرائم، جنگی جرائم اور نسل کشی کی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ جبری آبادیاتی تبدیلی کا خطرہ بھی شامل ہے۔ یہ سب جنیوا کنونشنز کی سراسر خلاف ورزی ہیں۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ کشمیر میں غیر جانبدارانہ رائے شماری کو یقینی بنانا عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔ دنیا کو جموں و کشمیر کے لوگوں کی حالت زار اور بھارتی ریاست کے ظالمانہ فوجی قبضے سے خود کو آزاد کرانے کی ان کی ناقابل تردید خواہش کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

    قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر جنوبی ایشیامیں امن و ترقی کا خواب پورا نہیں ہوسکتا 5اگست 2019 کے غیرقانونی بھارتی اقدامات یواین قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں عالمی برادری بھارت کو انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر جوابدہی کے کٹہرے میں کھڑا کرے،آج کشمیری شہداکو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں،فلسطین اورکشمیر تنازعات اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور عالمی برادری کے لیے چیلنج ہیں تنازعات کے حل تک اقوام متحدہ کے قیام کے بنیادی مقاصد پورے نہیں ہوں گے اقوام متحدہ کو اپنی ساکھ کی بحالی کے لیے کشمیر اور فلسطین تنازعات کا منصفانہ حل یقینی بنانا ہوگا،

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو کا مشن تھا،حقِ خود ارادیت کے لیے جاری جدوجہد کو پیپلزپارٹی کی حمایت حاصل رہے گیمسئلہ کشمیر تقسیمِ برصغیر کا نامکمل ایجنڈا اور عالمی ضمیر پر بوجھ ہے، بھارت کشمیریوں کی جدوجہد کو دبانے میں ناکام ہوا ہے، عالمی برادری کو اپنی ذمیداریاں نبھانا ہوں گی،اگر پیپلزپارٹی کی حکومت ہوتی، تو مودی کے دانت کھٹے کر دیئے ہوتے،

    وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا تھا کہ حقِ خودارادیت اہلِ کشمیر کا بنیادی حق ہے،پاکستان پورے عزم و استقلال سے کشمیر کاز کے ساتھ کھڑا ہے، مودی کی ہندوتوا سرکار جذبہ حریت دبانے کیلئے جبر و بربریت میں شدت لائی، کشمیر پر دائمی قبضے کی مودی کی کوشش نے کشمیریوں کی مزاحمت میں نئی روح پھونکی ، اقوام عالم مقبوضہ وادی میں بھارتی وحشت و بربریت کے تدارک کیلئے اقدام کریں،

    ‏اسلام آباد میں یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے ریلی نکالی گئی.ریلی کی قیادت صدر مملکت عارف علوی نے کی،ریلی میں وفاقی وزرااوردیگر حکا م بھی شریک‏ تھے ریلی میں اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ شریک‏ تھے ریلی میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کےلیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی ،چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کے ہمراہ ریلی میں شرکت کی، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کا کہنا تھا کہ پاکستان کا بچہ بچہ کشمیر بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے حصول تک پوری قوم کشمیروں کے ساتھ کھڑی ہے۔ 5اگست 2019کا بھارتی غیر قانونی اقدام جمہوریت کے منہ پر کالا نشان بن گیا ہے۔ نریندرمودی کو 5اگست 2019کے مقبوضہ کشمیر کے لئے غیر قانونی اقدام کو واپس لینا ہو گا۔ مسئلہ کشمیر کا حل کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہو گا۔ پاکستان اپنے اصولی موقف پر قائم ہے۔ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر سب سے پرانا مسئلہ ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اقوام عالم کو اقدامات اٹھانے ہونگے۔بھارت نے 5اگست 2019کے بعد مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بد ترین پامالیوں کی مثا لیں قائم کی۔ کشمیری نوجوانوں، عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو قید و بند کیا گیا۔ کشمیریوں کی جدوجہد کو دبانے کیلئے نریندر مودی نے ہر اوچھے ہتھکنڈا استعمال کیا۔ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہو گا۔ کشمیر پاکستان کا حصہ اور شہ رگ ہے۔ بھارت کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کا استعمال بند کرے۔ کشمیر ی عوام کی جرات مندانہ جدوجہد آزادی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔وہ دن دور نہیں جب کشمیر پاکستان کا حصہ ہو گا۔

  • وزیراعظم عمران خان کی کامیاب بریفنگ:پہلی ملاقات میں چینی کمپنیوں کیساتھ اربوں ڈالرز کے معاہدے

    وزیراعظم عمران خان کی کامیاب بریفنگ:پہلی ملاقات میں چینی کمپنیوں کیساتھ اربوں ڈالرز کے معاہدے

    بیجنگ:وزیراعظم عمران خان کی کامیاب بریفنگ:پہلی ملاقات میں چینی کمپنیوں کیساتھ اربوں ڈالرز کے معاہدے ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے دورہ چین کے دوران چینی کمپنیوں کے ساتھ اربوں ڈالرز کے معاہدے طے پا گئے۔اور یہ سارے معاہدے پہلی ملاقات میں طئے پاگئے ابھی دو دن باقی ہیں‌، امید ہے کہ اور بھی معاہدے کرنے میں کامیاب ہوں گے

    گوادر میں سٹیل ری سائیکلنگ کے لیے ساڑھے 4 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا معاہدہ طے پایا، زرعی ٹیکنالوجی ٹرانسفر کرنے کے لیے چائنا مشنری انجینئرنگ کارپوریشن ایک سنٹر قائم کرے گی۔ سی ایم ای سی نے کراچی میں 2 لاکھ میٹرک ٹن ایل این جی اسٹوریج میں بھی دلچسپی دکھائی۔

    50 ملین ڈالر زرعی ٹیکنالوجی اور 500 ملین ڈالرز ایل این جی سٹوریج پر سرمایہ کاری ہو گی۔ چین کی ایک اور کمپنی نے فوجی فرٹیلائزر کے ساتھ متعدد ایم او یوز پر دستخط کردیے۔ رائل گروپ بفلو فارم کے قیام کے لیے 50 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ رائل گروپ دودھ کی پراسسنگ میں بھی 30 ملین ڈالر سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتا ہے۔ چیلنج فیشن نے 250 ملین ڈالر کی لاگت سے فری اکنامک زون کے لیے مزید 100 ایکڑ زمین خرید لی۔ اس سرمایہ کاری سے برآمدات میں سالانہ 400 ملین اضافہ ہوگا اور 20 ہزار نوکریاں پیدا ہونگی۔

    سی آر بی سی کراچی پورٹ ٹرسٹ کی شراکت سے ساڑھے 3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔ دونوں گروپوں کے اشتراک سے کراچی کوسٹل ڈویلپمنٹ زون قائم کیا جائے گا۔ نیو سوفٹ میڈیکل سسٹم میڈیکل کے میدان میں مصنوعی ذہانت پر 30 ملین ڈالر سرمایہ کاری کرے گا۔ نیو سوفٹ مزید 170 ملین ڈالر کی لاگت سے مختلف منصوبوں پر کام کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

    ہنان سن واک کنسٹرکشن گروپ 2 ارب ڈالر کی لاگت سے 1 لاکھ کلومیٹر لمبی فائبر آپٹکس کیبل بچھائے گا، گلوبل سیمی کنڈکٹر گروپ 40 ملین ڈالر کی لاگت سے سکلز ڈویلپمنٹ سنٹر قائم کرے گا، اس سرمایہ کاری سے ایک لاکھ سے زائد نوکری کے مواقع میسر آئیں گے۔

  • سیکیورٹی فورسز کا آپریشن،پنجگور سمیت بلوچستان میں کارروائیاں کرنے والے 3 دہشت گرد ہلاک

    سیکیورٹی فورسز کا آپریشن،پنجگور سمیت بلوچستان میں کارروائیاں کرنے والے 3 دہشت گرد ہلاک

    کوئٹہ:سیکیورٹی فورسز کا آپریشن،پنجگور سمیت بلوچستان میں کارروائیاں کرنے والے 3 دہشت گرد ہلاک ،اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے علاقے کیچ میں سیکیورٹی فورسز نے کلیئرنس آپریشن کیا ہے جس میں تین دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق کلیئرنس آپریشن دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانوں پر کیا گیا جس کے دوران اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے۔ ہلاک دہشت گردوں میں دو ہائی ویلیو ٹارگٹ بھی شامل تھے۔

    ہلاک دہشت گرد ہوشاب اور پنجگور سمیت حالیہ دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث تھے۔ تینوں دہشت گرد فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوئے ہیں۔

    ہلاک دہشت گردوں کی شناخت سمیر عرف بہادر، کمانڈر الطاف عرف لالک اور کمانڈر پھیلان بلوچ کے ناموں سے ہوئی ہے۔ تینوں دہشت گرد حالیہ کارروائیوں سے پہلے بھی بلوچستان بھر میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث تھے۔

    پنجگور میں حالیہ دہشت گردی کی کارروائیوں سے منسلک دہشت گردوں کے ایک خفیہ ٹھکانے پر کیے گئے فالو اپ کلیئرنس آپریشن میں بالگتر،کیچ میں 2 ہائی ویلیو اہداف سمیت 3 دہشت گرد مارے گئے۔

    مارے گئے دہشت گرد پورے بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث تھے۔

  • بھارت کاجارحانہ رویہ علاقائی امن کےلیےخطرہ ہے: وزیراعظم کی چین میں پالیسی سازوں سےگفتگو

    بھارت کاجارحانہ رویہ علاقائی امن کےلیےخطرہ ہے: وزیراعظم کی چین میں پالیسی سازوں سےگفتگو

    بیجنگ: بھارت کا جارحانہ رویہ علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے: وزیراعظم عمران خان کی چین میں پالیسی سازوں سے گفتگو ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ بھارت کا جارحانہ رویہ علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے، موجودہ بھارتی رجیم خطے کے دیرپا عدم استحکام کا سبب بن رہی ہے۔

    وزیر اعظم نے چینی معروف تھنک ٹینکس، یونیورسٹیوں اور پاکستان اسٹڈی سینٹرز کے سربراہان اور نمائندوں سے ملاقات کی، اور پاک چین تعلقات کی اہمیت اور علاقائی استحکام اور خوشحالی کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع پر چین کی غیر متزلزل حمایت پر بھی شکریہ ادا کیا۔

    ملاقات میں علاقائی استحکام اور خوشحالی کو یقینی بنانے میں پاک چین تعلقات کی اہمیت پر بھی بات چیت کی گئی۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارت کے جارحانہ رویے اور ہندوتوا نظریہ علاقائی امن کے لیے خطرہ ہیں، موجودہ بھارتی رجیم خطے کے دیرپا عدم استحکام کا سبب بن رہی ہے، مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارت کے مسلسل مظالم جاری ہیں، دنیا کو کشمیریوں کے خلاف بھارت کے جاری ظلم پر توجہ دینی چاہیے۔

    وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کو خطے کی ترقی کیلئے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ سی پیک کا پہلا مرحلہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور رابطے پر مرکوز تھا، اگلے مرحلے میں صنعت کاری، انفارمیشن ٹیکنالوجی میں تعاون اور زرعی تبدیلی پر توجہ دی جائے گی، پاکستان سرمایہ کاری کے لیے زبردست مراعاتی پیشکش فراہم کر رہا ہے، بے شمار عالمی چیلنجوں کے پیش نظر دنیا ایک اور سرد جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی، پاکستان کا نظریہ ہے کہ بین الاقوامی سیاست میں تصادم کے بجائے تعاون ہونا چاہیے، پاکستان نے ماضی میں بھی پل کا کردار ادا کیا تھا اور دوبارہ ایسا کرنے کے لیے تیار ہے۔

    قومی سلامتی کی پالیسی کا بھی ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ میری حکومت نے اقتصادی سلامتی کو بنیادی اہمیت دی ہے، یہ وژن روابط اور ترقیاتی شراکت داری پر مبنی ہے جس کے لیے پاک چین شراکت داری ناگزیر ہے۔

    امن، ترقی کے لیے پاکستان اور چین کی افغانستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں امن و سلامتی کو یقینی بنانے میں تعاون پاکستان اور چین کے باہمی مفاد میں ہے، عالمی برادری افغانیوں کو اس مشکل وقت میں تنہا نہ چھوڑے۔

  • دوسری جنگ عظیم کے بعد بڑا معرکہ تیار،روس،امریکہ، برطانیہ نے فوجیں لگا دیں

    دوسری جنگ عظیم کے بعد بڑا معرکہ تیار،روس،امریکہ، برطانیہ نے فوجیں لگا دیں

    دوسری جنگ عظیم کے بعد بڑا معرکہ تیار،روس،امریکہ، برطانیہ نے فوجیں لگا دیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ہم اپنے اندرونی مسائل مہنگائی ، بے روزگاری ، آئی ایم ایف ، اسٹیٹ بینک اور نواز شریف کی بیماری میں اتنا پھنسے ہوئے ہیں کہ ہم کو اندازہ ہی نہیں کہ ہمارے پڑوس میں ایک نئی جنگ کی تیاریاں زور وشور سے جاری ہیں ۔ اور اس جنگ کے اثرات پاکستان سمیت پوری دنیا میں پھیلنے والے ہیں اس تنازعہ کا نام ہے ۔۔۔ یوکرائن پر کون قابض ہوگا ۔۔۔مشرق یا مغرب ؟؟؟

    مبشر لقمان کا کہنا تھاکہ اس سلسلے میں بھی دنیا دو حصوں میں بٹی دیکھائی دے رہی ہے ۔ ایک جانب مغرب ہے تو دوسری طرف مشرق ۔ ابھی تو ہر کوئی یہ خدشہ ظاہر کر رہا ہے کہ یہ جنگ ٹلتی نہیں دیکھائی دے رہی ہے اور ساتھ ہی یہ جنگ چھڑ گئی تو معاملہ مزید آگے ہی بڑھے گا ۔ کیونکہ یوکرائن کے معاملے پر دو بڑے پہلوان امریکہ اور روس زور آزمائی کررہے ہیں ۔ خود امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑی فوجی کارروائی ہوسکتی ہے، جس سے دنیا کا نقشہ تبدیل ہوسکتا ہے۔ جبکہ روس کے صدر پوتن کا دعویٰ ہے کہ مغربی طاقتیں یوکرائن کو روس کو گھیرنے کے لیے استعمال کر رہی ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ نیٹو مشرقی یورپ میں اپنی فوجی سرگرمیاں بند کر دے۔ وہ ایک طویل عرصے سے اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ امریکہ نے 1990 میں دی گئی اپنی اس ضمانت کو ختم کر دیا، جس کے مطابق نیٹو اتحاد مشرق میں نہیں پھیلے گا۔ دراصل یہ پھڈا شروع ہی یوکرائن میں امریکی میزائلوں کی تنصیب سے ہوا ہے ۔۔۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب جب امریکہ روس کی ناک کے نیچے اسکی سرحد ساتھ اپنا جدید اسلحہ لگائے گا تو روس بھی جواب دے گا ۔ اور اسی جواب میں روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے یوکرائن کی سرحدوں پر تقریباً ایک لاکھ کے قریب فوج اکھٹی کردی ہے۔ اس حوالے سے امریکی جنرل مارک میلی کا کہنا ہے کہ اگر یوکرائن پر روس کا حملہ ہوگیا تو اس سے بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوں گی۔ انھوں نے حالیہ روسی فوجیوں کی موجودگی کو بھی سرد جنگ کے بعد سب سے بڑی فوجی تعیناتی قرار دیا ہے۔ جنگ کی تیاری میں ہی امریکہ نے اب تک تین سو کے قریب Juvenile missile اور بنکر نیست و نابود کرنے والے انتہائی مہلک بم یوکرائن پہنچادیے ہیں۔ جنگ کی صورت میں روس سے گیس کی ترسیل بند ہونے کی صورت میں یورپی ممالک متبادل ذرائع تلاش کر رہے ہیں۔ امریکہ اگلے چند روز میں 8,500فوجی یوکرائن یا اس کے آس پاس متعین کر رہا ہے اور یورپ میں موجود 64,000 سپاہیوں کو تیاررہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ۔ اسی لیے روس نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے Moldova اور Crimea میں بڑے پیمانے پر جنگی مشقیں کی ہیں ۔ اس کے علاوہ بحیرہ عرب میں چین کے اشتراک کے ساتھ بحری مشقیں بھی کی ہیں ۔ روس اپنے میزائلوں کو بھی حالت تیاری میں رکھے ہوئے ہے اور یوکرائن کی سرحد پر 60جنگی جہاز اور بمبار تیاری کی انتہائی حالت میں ہیں۔۔ ابھی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے مشرقی یورپ میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کا حکم دے دیا ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دوسری جانب روس بھی پیشقدمی کرنے لگا ہے ۔ ۔ وال اسٹریٹ جنرل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوجی پولینڈ اور جرمنی میں تعینات کیے جائیں گے جب کہ ایک ہزار کے قریب فوجیوں کو جرمنی سے رومانیہ منتقل کیا جائے گی اور یہ فیصلہ امریکی صدر جوبائیڈن نے وزیر دفاع اور امریکی فوج کے اعلیٰ حکام کے ساتھ اہم میٹنگ کے بعد کیا ہے ۔۔ اس حوالے سے پینٹاگون کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ تعینات کیے جانے والے فوجیوں کی اہم اور خطرناک مشن کو پورا کرنے کے لیے خصوصی تربیت دی گئی ہے جو جدید اسلحے اور ضروری ساز و سامان سے لیس ہیں۔۔ پھر روس کے حملے کے پیش نظر صرف امریکا ہی نہیں برطانیہ نے بھی یوکرائن کو فوجی مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔ جبکہ اس حوالے سے نیٹو افواج کو پہلے ہی سرحدوں پر تعینات کیا جا چکا ہے۔ اس حوالے سے اعلیٰ سطح پر جاری مذاکرات کے باوجود روس اور امریکا اب تک اس کشیدگی کو کم کرنے کے طریقے کے حوالے سے کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔ ۔ اگرچہ ماسکو کا دعویٰ ہے کہ اس کا یوکرائن پر حملہ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، تاہم اس نے یہ بھی مطالبہ کر رکھا ہے کہ نیٹو پہلے یہ وعدہ کرے کہ وہ کبھی بھی اپنے اتحاد میں Kiev کٓو رکنیت کی اجازت نہیں دے گا۔ روس کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ نیٹو اتحاد مشرقی یورپ سے اپنی افواج کو واپس بلائے اور روس کی سرحدوں کے قریب ہتھیاروں کی تعیناتی اور فوجی سرگرمیوں کو ختم کرے۔ ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دوسری جانب وائٹ ہاؤس اور نیٹو دونوں نے ہی روس کے مطالبات کو ناممکن قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ امریکا نے دھمکی دی ہے کہ اگر ماسکو نے سرحد پر اپنی فوجی کارروائی جاری رکھی تو اس پر اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔۔ دراصل یہ سارا مسئلہ شروع ہی تب ہوا جب امریکی قیادت میں نیٹو اتحاد نے یوکرائن کی ممبر شپ کی درخواست کو منظور کر لیا۔ یوکرائن ابھی تک نیٹو کا شراکت دار ملک ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ یوکرائن کو مستقبل میں کسی بھی وقت اس اتحاد میں شامل ہونے کی اجازت ہے۔ روس مغربی طاقتوں سے اس بات کی یقین دہانی چاہتا ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہو گا۔ لیکن مغرب اس کے لیے تیار نہیں ہے ۔۔ امریکی وزیر خارجہ Anthony Blanken اور ان کے روسی ہم منصب Sergei Lavrov کے درمیان جنوری کے اوائل میں اس معاملے پر بات چیت ہوئی تھی، تاہم ان سفارتی کوششوں کا اب تک کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔ ۔ صدر جو بائیڈن اور ولادیمیر پوٹن کے درمیان بھی ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی تھی تاہم اس کا بھی کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔۔ اب برطانوی وزیر اعظم Boris Johnson بھی یوکرائن کے صدر Vladimir Zelensky سے بات کرنے کے لیے Kievپہنچے ہیں تاکہ کشیدگی کو کسی طرح کم کیا جا سکے۔۔ اس حوالے سے یورپی یونین کا کہنا ہے کہ یوکرائن ہمارا ہمسایہ اور ساجھے دار ہے۔ اس کی سلامتی ہماری بھی سلامتی ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ تو ترکی کے صدر ایردوگان نے کہا ہے کہ میری خواہش ہے کہ روس یوکرائن پر حملے یا قبضے کا راستہ اختیار نہ کرے۔ اگر روس اور یوکرائن کے صدور چاہیں تو ہم انہیں اپنے ملک میں مذاکراتی میز پر لا کر بحالی امن کے لئے راستہ کھول سکتے ہیں۔ ۔ پھر یوکرائن کے اس مسئلے کو بھارت میں خاصی تشویش کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔ کیونکہ 1962 میں جب بڑی طاقتیں کیوبا میں روسی میزائل کے معاملے کو سلجھانے میں مصروف تھیں تو اس کا فائدہ اٹھاکر چین نے بھارت پر فوج کشی کرکے اس سے 43,000مربع کلومیٹر کا علاقہ ہتھیا لیاتھا۔ تاریخ شاید ایک بار پھر دہرائی جا رہی ہے۔ کیونکہ 2020ء سے 60 سال کے بعد چینی اور بھارتی افواج ایک بار پھر ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں اور بڑی طاقتیں یوکرائن میں برسر پیکار ہیں۔ کل تو راہول گاندھی نے بھی اس حوالے سے خوب چینخ وپکار کی ہے ۔ اور مودی کو خوب کوسا بھی ہے ۔ ۔ یوکرائن کے تنازعہ کی وجہ سے امریکہ فی الحال چین کو قابو میں رکھنے کی اپنی ایشیا پیسفک پالیسی بھی بھول چکا ہے اور اس خطے میں اس نے اپنے اتحادیوں کو بڑی حد تک اب چین کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ چین بھی 1962ء کے مقابلے اب خودہی ایک فوجی اور اقتصادی طاقت ہے۔ جو بڑی حد تک امریکہ کے ہم پلہ ہے اور روس اسکے ایک اتحادی کے طور پر ابھر رہا ہے۔ اسی لیے بھارت اپنے آپ کو مزید تنہا محسوس کر رہا ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر یوکرائن والے معاملے کو لے کر سلامتی کونسل میں بھی بہت شور شرابہ ہوا ہے ۔ بلکہ اس کاروائی کو رپورٹ کرنے والوں کا کہنا تھا کہ منظر بالکل ایسا تھا جیسے ہماری پارلیمان کے اجلاس کا ہوتا ہے ۔۔ اب اس اجلاس میں جہاں واشنگٹن نے کہا کہ روسی فوج کی تعیناتی بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ تو روس کے ترجمان نے اقوام متحدہ کے سربراہی اجلاس کو PR Stunt قرار دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس پر Hysteria پیدا کرنے کا الزام عائد کیا۔۔ پھر امریکا نے اس کے جواب میں کہا ہے کہ روس آنے والے ہفتوں میں بیلاروس میں اپنے فوجیوں کی تعداد بڑھا کر 30,000 کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے تاکہ وہ یوکرائن کی سرحد کے قریب منتقل ہونے والے اپنے ایک لاکھ فوجیوں میں مزید اضافہ کر سکے۔ تاہم بیلاروس کے نمائندے نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اس بات سے انکار کیا کہ اسے یوکرائن پر روسی حملے کے لیے staging ground کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ روس اس معاملے پر کھلے اجلاس کے مطالبے کی مخالفت کر رہا تھا۔ اس کے باوجود امریکا سلامتی کونسل کے 15 ارکان میں سے 10 کو عوامی اجلاس کی حمایت کرنے پر راضی کر سکا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ لیکن سلامتی کونسل کی طرف سے اس معاملے میں کسی بھی رسمی کارروائی کے امکانات انتہائی کم ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک طرف جہاں روس کو ویٹو پاور حاصل ہے وہیں چین سمیت سلامتی کونسل کے دیگر ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ جنہوں نے اس مسئلے پر کھلی میٹنگ کو روکنے کی ماسکو کی کوششوں کی حمایت بھی کی ہے۔۔ اقوام متحدہ میں بیجنگ کے ایلچی Zhang Jun نے کہا۔ واقعی یہی مناسب وقت ہے کہ خاموش سفارت کاری کا مطالبہ کیا جائے۔

    ۔ یوں سلامتی کونسل کے اس دو گھنٹے سے زائد وقت کے اجلاس میں خوب گرما گرمی رہی ۔ ماسکو کی نمائندہ Vasily Nebenzia نے الزام لگایا کہ امریکا Kiev میں خالصتاً نازیوں کو اقتدار میں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ تو اس پر امریکی سفیر Linda Thomas Greenfield نے جواباً کہا کہ یوکرائن کی سرحدوں پر روس کی جانب سے ایک لاکھ سے زیادہ فوجیوں کی بڑھتی ہوئی عسکری قوت یورپ میں گزشتہ کئی دہائیوں میں سب سے بڑی فوجی نقل و حرکت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کی جانب سے سائبر حملوں اور غلط معلومات پھیلانے میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ وہ بغیر کسی حقیقت کے ہی یوکرائن اور مغربی ممالک کو حملہ آور کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ حملے کا بہانہ بنایا جا سکے۔ اس کے جواب میں روسی سفیر نے مغرب پر منافقت کا الزام لگاتے ہوئے کہا، ہمارے مغربی ساتھی کشیدگی میں کمی کی ضرورت کی بات کر رہے ہیں۔ تاہم، سب سے پہلے، وہ خود ہی کشیدگی اور بیان بازی کو ہوا دے رہے ہیں اور اشتعال انگیزی پھیلا رہے ہیں۔ تھوڑا پیچھے جائیں تویوکرائن 1991تک سوویت یونین کا حصہ تھا۔ یوکرائن میں رہنے والے روسی باشندوں کی ایک بڑی آبادی ہے ان کے روس سے قریبی سماجی اور ثقافتی تعلقات ہیں۔ یوں روس یوکرائن کو اپنے قریبی علاقے کے طور پر دیکھتا ہے۔ روس کا خیال ہے کہ نیٹو اتحادی ہونے کی وجہ سے امریکہ اور اس کے اتحادی مزید اسلحہ اسکی سرحد کے پاس اکٹھا کریں گے۔ دیکھا جائے تو افغانستان سے انخلاء کے بعد امریکہ روس کو اور چین کو قابو میں کرنے کیلئے ایشیاء بحرالکاہل کے خطے سمیت بلقان ملکوں کے علاوہ وسط ایشیاء میں بھی پیر جمانے کی کوشش کر رہا ہے۔ جس پر روس اور چین ناراض دکھائی دیتے ہیں۔ بلکہ اس سلسلے میں یہ دونوں امریکی اتحادیوں کو سبق بھی سیکھنا چاہتے ہیں ۔ اسی لیے روس نے یوکرائن سمیت یورپ اور چین نے بھارت سمیت تائیوان کو خوب ٹائٹ کیا ہوا ہے

  • مسلح افواج کا ملکی دفاع  میں کردار اہم  ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال

    مسلح افواج کا ملکی دفاع میں کردار اہم ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال

    مسلح افواج کا ملکی دفاع میں کردار اہم ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال
    چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کے49 رکنی وفد نے لیفٹیننٹ کرنل ہاشم اقبال باجوہ کی سربراہی میں چیف جسٹس سےملاقات کی

    ترجمان سپریم کورٹ کے مطابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کے وفد کو خوش آمدید کہا ،وفد سے آئین ،عدالتی نظام، سپریم کورٹ کی آئینی ذمہ داریوں سے متعلق بات چیت کی گئی چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وفد کے سوالوں کے جواب بھی دئیے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو وفد کی جانب سے یادگاری شیلڈ پیش کیا گیا،

    ترجمان سپریم کورٹ کے مطابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ خصوصی اختیارات کے تحت مقننہ اورعدالتی اقدامات کا جائزہ لے سکتی ہے،مسلح افواج کا ملکی دفاع میں کردار اہم ہے ملکی دفاع کے لیے مسلح افواج نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا مسلح افواج کو آئینی دفعات کے تحت بھی منظم کیا جاتا ہے اور انہیں سیلاب، زلزلے وغیرہ جیسے خصوصی حالات میں شہری جمہوری اداروں کی مدد کے لیے بھی بلایا جاتا ہے۔

    چیف جسٹس نے وفد کو نظام عدل، انصاف کی فراہمی، ملک بھر کی عدالتوں کے دائرہ اختیار سماعت اور بنیادی آئینی حقوق سے متعلق آگاہ کیا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ پچیسویں آئینی ترمیم کے سبب کے پی میں اضلاع کے انضمام سے قانون کی حکمرانی ہوگی

    روز کچھ نہ کچھ چل رہا ہوتا ہے آپ کس کس بات کی انکوائری کرائیں گے؟ آڈیو لیکس پر عدالت کے ریمارکس

    زرداری نے کہا تھا پی ٹی آئی کا جنم خیبر پختونخوا سے ہوا،وہیں دفن ہو گی

    نہیں دیکھیں گے کہ کس کا بھائی ڈی ایس پی ہے یا اے سی،چیف الیکشن کمشنر برہم

    خواتین کو پولنگ سٹیشنز سے اغواء کرنا انتہائی سنگین واقعہ ہے،چیف الیکشن کمشنر برہم

    یہ رویہ رکھا تو ہمیشہ کیلئے الیکشن بھول جائیں گے،چیف الیکشن کمشنر کے ریمارکس

    تحصیل بکا خیل میں امن و امان کیس، بڑا فیصلہ، اہم شخصیات نااہل قرار