لاہور:وزیراعظم کوگفتگوکرتےوقت تحمل اورحکمت عملی سےکام لیناچاہیے،جارحانہ اندازاچھا نہیں:اطلاعات کے مطابق سینئر صحافی مبشرلقمان جو وزیراعظم کے ان دوستوں میں سے ایک ہیں جن کو وزیراعظم کی دوستی اور وزیراعظم کی صاف شفاف شخصیت پر فخرہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جب سچ اور حقیقت بیان کرنے کا وقت آتا ہے تو مبشرلقمان دوستیوں اور تعلقات کی پرواہ نہیں کرتے
Very very alarming that internal talks are becoming public points for arguments. This is very unhealthy and scary. Can lead to serious unrest in the country. #PM must exercise caution and for political gains things should not be pushed beyond a certain point
شاید یہی وجہ ہے کہ مبشرلقمان جو کہ وزیراعظم عمران خان پرتنقید کے ساتھ ساتھ اچھائی کا پہلو بھی بیان کرتے ہیں وزیراعظم کی طرف سے پاکستان میں موجودہ جارحانہ رویے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انداز کسی کے لیے بھی اچھا نہیں ،یہ بھی کہا ہے کہ اپنی غلطی مان لینے میں ہی بہتری ہے ،
I have no idea what has gone into the mind of the #PM. My colleagues and I supported him for years but now his actions can put #Pakistan in a serious situation that we cannot even begin to fathom at this point. Why is he doing so???
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ پچھلے چند دنوں سے جو ملک کے اندر سیاسی رسہ کشی جاری ہے اس میں وزیراعظم کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا ، وہ کہتے ہیں کہ یہ رویہ بہت غیر صحت مند اور خوفناک ہے۔ ملک کے لیے شدید بدامنی کا باعث بن سکتا ہے۔
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ میری وزیراعظم سے عرض ہے کہ اپوزیشن کے جارحانہ انداز میں دھیما پن اپنائیں اور اپنی ذمہ داری ادا کریں
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ مجھےمعلوم نہیں کہ وزیراعظم کے دماغ میں کیا گزرا ہے۔ میرے ساتھیوں اور میں نے برسوں تک کتپان کا ساتھ دیا اور دے رہے ہیں لیکن ان کا یہ موجودہ رویہ اچھا نہیں لگا احتیاط برتنی چاہیے تھی
#Politics in #Pakistan is suddenly toxic and unbearable. This is not healthy and reason and argument has lost to bravado and loud rhetoric. Sad sad sad for the future of the country.
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ میں دیکھ رہا ، سُن رہا ہوں کہ بیان کے جواب میں بیان اور وہ بھی جارحانہ انداز، ان کا کہنا تھا کہ دلیل اپنی جگہ لیکن حکمت کے فوائد بہت ہی زیادہ ہوتے ہیں اس لیے وزیراعطم ذمہ داری کا مظآرہ کریں
Every statement and thought that comes out is met by hate comments on social media. Is this for real??? Who are these people who are fuelling hatred to this degree ?
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا کا دور ہے بیان کو غلط رنگ دے کر بار بار شیئرکیا جائے توپھرسننے والا بھی متاثرہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ، ا سلیے کوشش کریں کہ پہلے تولیں پھر بولیں اور اسی میں ہی بھلائی ہے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت مان گیا، میزائل ہم سے فائر ہوا
بھارت نے پاکستانی حدود میں میزائل گرنے کا اعتراف کرلیا ،
بھارتی وزارت دفاع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ میزائل انڈیا سے ہی فائر ہوا ہے، وزارت دفاع کی جانب سے کہا گیا ہے کہ نومارچ کو معمول کی دیکھ بھال کے دوران خرابی کی وجہ سے ایک میزائل حادثاتی طور پر فائر ہوا، وزارت دفاع کے مطابق میزائل فائر ہونے کے حوالہ سے ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے ،بھارتی وزارت دفاع کی جانب سے مزید کہا گیا کہ میزائل پاکستان کے علاقے میں گرا حادثے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ٹیکنیکل خرابی کے باعث پاکستان میں میزائل گرنے پر افسوس ہے،
بھارتی ناکارہ میزائل سسٹم خطے کے امن کے لیے خطرہ بن چکے ہیں،بھارت کا ناقابل بھروسہ میزائل سسٹم،پورے جنوبی ایشیا کا امن خطرے میں ڈال دیا بھارت کے میزائل سسٹم میں انتہائی سنگین خامیاں سامنے آگئیں بھارت نے اپنے میزائل سسٹم کی تکنیکی خامیوں کا اعتراف کرلیا ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ بھارت خطے کے امن کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش کررہاہے،
واضح رہے کہ گزشتہ شب ترجمان پاک فوج نے ہنگامی پریس کانفرنس کی تھی اور اس میں قوم کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ گزشتہ روز پاکستانی حدود کی خلاف ورزی ہوئی۔بظاہر یہ سپر سانک میزائل تھا،ہم خطے میں کسی قسم کا اشتعال نہیں چاہتے 9مارچ کو شام 6 بجکر 43منٹ پر بھارتی حدود سےتیزرفتار چیز کو ریڈار پر دیکھا گیا،
ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخارنے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 9مارچ کو 6 بج کر 33 منٹ پر ایک شے نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی، پاکستان ایئرفورس نے اس چیز کی مکمل مانیٹرنگ کی،اس چیز نے اچانک رخ بدلا اور پاکستانی حدود کی طرف بڑھنے لگی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی مذمت کرتے ہیں یہ چیز شام 6بج کر 50منٹ پر پاکستانی حدود میں گری،بھارت کو اس کی وضاحت کرنی پڑے گی اس شےکے گرنے سے سویلین آبادی کو بھی نقصان پہنچا،پاکستان ذمہ دارملک ہے،اس واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں پاکستانی حدود میں داخل ہوتے ہی ہم نے اس شے کو پک کرلیا،اب تک کی جو بھی تفصیلات تھیں وہ آپ کے ساتھ شیئرکیں،بھارت سے آنے والی چیز3 منٹ تک پاکستانی فضائی حدود میں رہی بھارتی چیزکسی بھی حساس جگہ پرنہیں گری،فلائنگ اوبجیکٹ غیرمسلح تھا،کوئی انسانی جان ضائع نہیں ہوئی صرف ایک دیوار گری،فلائنگ اوبجیکٹ کا پاکستان کی طرف آنا بھارتی ٹیکنالوجی پر سوالیہ نشان ہے، بیلسٹک میزائل کا ٹیسٹ ہونے سے پہلے اطلاع دی جاتی ہے،
بھارت کی سپر سونک میزائل سے پاکستانی فضائی حدود کی بلااشتعال خلاف ورزی پر اسلام آباد میں بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی ہوئی ہے اور پاکستان نے شدید احتجاج کیا ہے
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی علاقے سورت گڑھ سے 9 مارچ 6 بجکر 43 منٹ پر میزائل فائر کیا گیا پاکستان میں 6 بجکر 50 منٹ پر میزائل میاں چنوں میں زمین پر گرا،بھارتی میزائل سے میاں چنوں میں شہری املاک کو نقصان پہنچا، میزائل ملکی فضائی حدود میں قومی اور بین الاقوامی پروازوں کے لیے خطرہ بن سکتا تھا،بھارتی میزائل سنگین حادثے کے ساتھ شہری ہلاکتوں کا سبب بن سکتا تھا، بھارتی ناظم الامور پاکستان کی شدید مذمت سے دہلی کو آگاہ کریں،پاکستان اس واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہے،پاکستان چاہتا ہے کہ تحقیقات کے نتائج کا تبادلہ کیا جائے،بھارتی حکومت یاد رکھے، ایسی لاپرواہی کے ناخوشگوار نتائج ہو سکتے ہیں،
دوسری جانب پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے حوالے سے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ یہ دوسری مرتبہ ہماری فضائی حدود کی خلاف ورزی ہوئی ہے،وزارت خارجہ نے بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ بلا کر وضاحت طلب کی ہے،26 فروری کو بھارت نے جارحیت کی اور پاکستان نے اسے مناسب اور بروقت جواب دیا،ہم اس حرکت کو بھارت کی تکنیکی ناکامی کہیں، جارحیت کہیں یا بدنیتی کہیں، پاکستان نے 2019 میں بھی مدبرانہ ردعمل دیا، ہندوستان کی حرکت تشویشناک ہے، بین الاقوامی برادری کو اس حرکت کا نوٹس لینا چاہئے، انہوں نے اس حرکت سے معصوم جانوں کو خطرے میں ڈالا ہے ایوی ایشن اتھارٹیز کو اس کا نوٹس لینا چاہئے، سعودی ائرلائن کا جہاز ، قطر اور پاکستان کی ڈومیسٹک پروازیں نشانہ بن سکتی تھیں اور معصوم لوگ نشانہ بن سکتے تھے، ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پی 5 ممالک کے نمائندگان کو وزارت خارجہ میں مدعو کر کے، انہیں ساری صورتحال سے آگاہ کریں گے،ہمیں توقع ہے کہ عالمی برادری اس کا نوٹس لے گی، ہندوستان کو اس حرکت کیلئے جوابدہ ہونا پڑے گا، ہندوستان کی وضاحت کے بعد اگلے لائحہ عمل کا فیصلہ کریں گے،
الیکشن کمیشن کا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر وزیراعظم کو نوٹس بھیجنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر وزیر اعظم عمران خان کو نوٹس بھیجنے کا فیصلہ کیا، الیکشن کمیشن نے وزیر اعلیٰ کے پی، شاہ محمود قریشی ، اسد عمر کو بھی نوٹس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے وفاقی وزیر مراد سعید اور انور زیب کو بھی نوٹس بھیجنے کا فیصلہ کیا، الیکشن کمیشن نے وزیر اعظم کو دیر کا دورہ کرنے سے منع کیا تھا۔الیکشن کمیشن کی ہدایت کے باوجود وزیر اعظم عمران خان نے دیر میں عوامی اجتماع سے خطاب کیا۔
واضح رہے کہ خیبر پختونخواہ میں بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ 31 مارچ کو شیڈول ہے۔خیال رہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کو دیر میں جلسہ کرنے سے روک دیا گیا تھا۔اس حوالے سے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر لوئر دیر نے وزیر اعظم کو مراسلہ جاری دیا ہے جس مں وزیر اعظم کو جلسہ کرنے سے منع کیا گیا تھا۔
مراسلے کے مطابق وزیر اعظم 11 مارچ کو لوئر دیر میں جلسہ کرنے جارہے ہیں جبکہ الیکشن کمیشن لوئر دیر میں بلدیاتی الیکشن کا شیڈول جاری کرچکا ہے۔
مراسلے میں بتایا گیا تھا کہ بلدیاتی انتخابات کے باعث جلسے میں شرکت کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی ہوگی اور کوئی بھی عوامی عہدہ رکھنے والا شخص الیکشن مہم میں حصہ نہیں لے سکتا ہے۔
شہباز شریف نے مولانا سے ملاقات کر کے عمران خان کو وارننگ دے دی
صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) و قائد حزب اختلاف شہبازشریف کی امیر جمیعت علما اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان کی رہائشگاہ پر ان سے ملاقات ہوئی ہے
ملاقات میں مولانا عبدالغفور حیدری، مولانا اسعد محمود، اکرم درانی، کامران مرتضیٰ بھی شریک تھے ،ملاقات میں جے یو آئی کے رکن قومی اسمبلی صلاح الدین ایوبی، جمال الدین سمیت جمعیت علماء اسلام کے دیگر ارکان بھی شریک تھے
شہباز شریف نے کہا ہے کہ جے یو آئی کارکنوں کے ساتھ ظلم اور بربریت کی گئی پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والا واقعہ افسوس ناک تھا،عمران خان اب بھگوڑا ہو چکے ہیں تحریک انصاف کی حکومت ناکامی ہوگئی ہے، عمران خان اپوزیشن کو صرف چور اور ڈاکو کے لقب دیتے رہے،مگر ملا کچھ نہیں،عمران خان اپنے گریبان میں دیکھیں عمران خان بتائیں علیمہ خان کے پاس اربوں کی جائیداد کہاں سے آئی,
شہباز شریف نے عمران خان کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان اپنی زبان کو لگام دو،خواتین کے خلاف باتیں کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دیں گے،ہمیں کہا جاتا ہے کہ جوتے پالش کرتے ہیں تم کیا کرتے ہو؟ تم نے لندن میں بیٹھ کر فوج کو گالیاں دیں،مشرف نے نواز حکومت کو ختم کیا تو میں بھی نوازشریف کے ساتھ جیلوں میں تھا،اے ٹی ایم مشینیں تمہارے پاس ہیں ،وہ حرام کی کمائی ہے ان کے خلاف عدم اعتماد آچکا ہے تاریخ کی کرپٹ اور نااہل ترین حکومت سے جان چھڑانی ہے، گندم،چینی اور گیس کی قیمتوں میں اربوں کی کرپشن ہوئی ہمیں اعتماد ہے کہ تاریخ کی کرپٹ ترین حکومت سے جان چھڑائیں گے، چینی اور آٹے میں جتنی کرپشن ہوئی اس کا ذمہ دار عمران خان ہے،فضل الرحمان نے انتہائی صبر اور قانونی راستہ اپنایا
مولانا فضل الرحمان نے عمران خان کو باولا قرار دےدیا ،کہا عمران خان باولا ہو گیا ہے ،مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ بوکھلا کیوں گئے ہو ؟؟ گالیاں دینے پر کیوں آگئے ہو ؟ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگی عمران خان سن لو ہم تمہیں جام کرنا جانتے ہیں،ہم نے شرافت کا راستہ لیا لیکن ان کی فطرت میں شرافت کا احترام نہیں ہے،آپ کی زبان بتا رہی ہے کہ آپ وزیراعظم کے منصب پر بیٹھنے کے اہل نہیں ہیں،آپ کے وزیراعظم کے منصب پر بیٹھنا اس منصب کی بے توقیری ہے،
ملک کے صدر اور وزیراعظم کے خلاف تحاریک آتی ہیں، بوکھلا کیوں گئے ہو، گھبرا کیوں رہے ہو، ہم پاکستان میں ایسی سیاست کو اجازت نہیں دیں گےہم آپ کے خلاف جہاد لڑ رہے ہیں، یاد رکھنا تحریک ناکام بھی ہو گئی تو تم حکومت نہیں کر سکو گے، جب عدم اعتماد پیش ہوچکی ہے وہ کس طرح عوام میں جارہاہے وہ کس طرح ڈی چوک پر لوگوں کو بلانے کی باتیں کررہا ہے؟ اسے لگام دی جائے اس کے گلے میں پٹہ ڈالا جائے واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہو چکی ہے عدم اعتماد اپوزیشن جماعتوں نے ملکر جمع کروائی ہے،گزشتہ روز اسمبلی سیکرٹریٹ میں عدم اعتماد جمع کروانے کے بعد اپوزیشن قائدین مولانا فضل الرحمان، شہبا زشریف، آصف زرداری نے مشترکہ پریس کانفرنس کی بعد ازاں پیپلز پارٹی کے لانگ مارچ میں ڈی چوک میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی
کپتان کے کھلاڑی گھبرا گئے، بیرون ملک کی ٹکٹیں کٹ گئیں
وزیراعطم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد آنے کے بعد کھلاڑیوں نے کپتان کا ساتھ چھوڑنا دینا شروع کر دیا
بڑے بڑے افسران اور سیاسی شخصیات ملک سے فرار ہونا شروع ،ابھی مذید لوگوں کے نام آئیں گے ،نجی ٹی وی کے مطابق قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد کئی حکومتی رہنما،افسران ملک چھوڑ رہے ہیں ، سابق مشیر داخلہ شہزاد اکبر برطانیہ چلے گئے ہیں ،خاتون اول کی دوست فرح خان اور احسن گجر 23 مارچ کو امریکہ روانہ ہوں گے ،زلفی بخاری کے قریبی دوست وسیم بھی چند دنوں میں برطانیہ چلے جائیں گے
تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے یا نہیں اس حوالہ سے کچھ نہیں کہا جا سکتا، تا ہم اب کپتان کی ٹیم گھبراہٹ کا شکار ہو چکی ہے،نجی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق کئی حکومتی رہنما ملک چھوڑنے کے لئے تیار ہیں،اور وہ کسی بھی وقت جا سکتے ہیں،
شہزاد اکبر نے نجی ٹی وی کی خبر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ محترم محسن نقوی صاحب جب آپکو بلاول ہاؤس اور ماڈل ٹاون کی (لاحاصل) یاتروں سے فرست ملے تو تھوڑی توجہ اپنی صحافت پے بھی دیں لیں میں ہمہ وقت پاکستان میں موجود ہوں اور اپنے لیڈر کے ساتھ کھڑا ہوں۔ براے مہربانی اپنی خبر کی تصیح کر لیں
محترم محسن نقوی صاحب جب آپکو بلاول ہاؤس اور ماڈل ٹاون کی (لاحاصل) یاتروں سے فرست ملے تو تھوڑی توجہ اپنی صحافت پے بھی دیں لیں میں ہمہ وقت پاکستان میں موجود ہوں اور اپنے لیڈر @ImranKhanPTI کے ساتھ کھڑا ہوں۔ براے مہربانی اپنی خبر کی تصیح کر لیں pic.twitter.com/0lawVTmFpM
میرا مقابلہ تین ڈاکووں سے، ایک یارکر سے تین وکٹیں اڑاوں گا،عمران خان
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دیر کے لوگوں کا مشکورہوں پاکستان فلسفے کی بنیاد پرقائم ہوا،
وزیراعظم عمران خان نے لوئر دیر میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کا فلسفہ سمجھنے کا بھی ایک مقصد ہے پاکستان کے فلسفے کے مطابق اللہ کے سوا کسی کےسامنے نہیں جھکنا،اللہ نے حکم دیا کہ رسول ﷺ کی سنت پر عمل کریں 25سال پہلے یہ سوچ کر جدوجہد شروع کی کہ اپنے لوگوں کو کسی کے سامنے سر جھکنے نہیں دوں گا تین لوگوں کی وجہ سے پاکستان کے پاسپورٹ کی عزت نہیں ،تین لوگوں نے ملک کو مقروض بنایا نوازشریف اور زرداری نے اقتدار میں ڈرون حملوں کی مذمت نہیں کی،نوازشریف اور زرداری نے اپنے اثاثوں کی وجہ سے مذمت نہیں کی ڈرون حملوں کی مذمت تحریک انصاف کررہی تھی نوازشریف نے اپنے دور اقتدار میں مودی کے خلاف ایک بات بھی نہیں کی تین لوگوں نے ملک کو کمزور کیا ،یہ دنیا کے سامنے جھکے،
وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ اسلام آباد میں جے یو آئی رضا کاروں نے جو کیا اس کی مذمت کرتا ہوں میں بطور ملک کا سربراہ باپ کی طرح ہوں ،قوم کی تربیت میری ذمہ داری ہے،ڈیز ل نے ایک پریس کانفرنسکی اور کہا کہ اقتدار میں آکر ہم اداروں کو ٹھیک کریں گے ،ڈیزل سے کہتاہوں آج اگر یہ ملک بچا ہوا اس کی وجہ افواج پاکستان ہے جس ملک کے پاس دفاعی طاقت نہیں ہوتی وہ تباہ ہوجاتے ہیں ،ڈیزل بتائیں آپ ملک میں اداروں کو کیسے ٹھیک کریں گے ؟ مجھے یہ بھی کہتے ہیں نوازشریف کو بھگوڑا مت کہیں ،نوازشریف نے کھٹمنڈو میں مودی سے خفیہ ملاقات کی،کیا ملک کی سب سے بڑی بیماری آصف زرداری اداروں کو ٹھیک کریں گے ؟کیا شہبازشریف ملکی اداروں کو ٹھیک کریں گے ؟کیا یہ ڈاکووں کا گلدستہ ملک ٹھیک کرے گا؟ سب کو پیغام ہے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونے والا ہے ،شکرہے کہ ان لوگوں نے عدم اعتماد پر مجھے ردعمل کا موقع دیا،
وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ میں ایک ہی بار 3وکٹیں گرادوں گا،ڈی چوک اسلام آبا دمیں عوام کا سمندرہوگا ،نوازشریف امریکی صدر کےساتھ بیٹھے تھے اور ان کی کانپیں ٹانگ رہی تھیں، بلاول بچے کی کیا بات کروں ،اتنا پیسہ خرچ کرکے اسلام آبا دآیا،زبردستی لیڈر بنانے میں ایسے ہی مسائل ہوتے ہیں امریکہ میں مہنگائی کا چالیس سالہ ریکارڈ ٹوٹا ہے،آج میرا مقابلہ تین ڈاکووں سے ہے، ایک یارکر سے تین وکٹیں اڑاوں گا،ڈیزل نے امریکی سفارت خانہ کو کہا میں خدمت کروں گا مجھے ایک موقع دو،شہبازشریف ان کو ٹائی پہن کر کہتا ہے موقع دیں میں خدمت کروں گا،اللہ نے ہمیں اجازت نہیں دی کہ ہم نیوٹرل ہو جائیں ،جانور نیوٹرل ہوتا ہے کبھی انسان نیوٹرل نہیں ہوسکتا انسان اچھائی کے ساتھ کھڑا ہوتا، انسان میں اچھائی اور برائی کی تمیز ہوتی ہے۔حکومت گرانا آسان ہے ، جان دینی پڑ ی تو بھی ڈاکووں کو نہیں چھوڑوں گا اپوزیشن کے لوگ نوٹوں کے تھیلے لے کر پھر رہے ہیں،ان چوروں نے35سال حکومت کر کے اچھے اور برے کی تمیز ختم کردی،
سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ جو تحریک عدم اعتماد لے کر آئے ہیں وہ چور اور ڈاکو ہیں،ہم چور اور ڈاکووں کو بھاگنے نہیں دیں گے وزیراعظم عمران خان پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں ،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ لوئر دیر کے لوگوں نے 31مارچ کا فیصلہ سنا دیا ،ہم ڈیز ل کو اسلام آبا دسے بھگا ئیں گے دیر کے لوگ عمرا ن خان کے سپاہی ہیں
وزیر مراد سعید کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے ایک دن پہلے بڑا جلسہ کریں گے عمرا ن خان اقتدار میں آئے تو سب سے پہلے قوم کی خودمختاری کی بات کی عمران خان عوام کے لیے ساری دنیا سے لڑ رہےہیں،عمرا ن خا ن دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کربات کرتے ہیں عمران خان نے یو ین میں مسلمانوں کی مشکلات پر بات کی ،فضل الرحمان نے کہا عمران خان نے مغرب سے متعلق کیسے ایسی بات کی،
قبل ازیں الیکشن کمیشن نے انتخابی ضابطہ اخلاق پرنظرثانی کردی الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ فیصلہ سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد کیا گیا ،تمام ارکان پارلیمنٹ کوانتخابی مہم میں حصہ لینےکی اجازت ہے پبلک آفس ہولڈرز پر انتخابی مہم میں حصہ لینے پر پابندی رہے گی ،الیکشن کمیشن نے وزیراعظم کو لوئردیرمیں آج جلسہ سے روک دیا گیا،وزیراعظم عمران خان نے آج لوئردیرمیں جلسہ کرنا تھا
قبل ازیں اسپیکرقومی اسمبلی اسد قیصر سے ایم این ایز کی ملاقاتیں جاری ہیں اسپیکر اسد قیصر سے رکن قومی اسمبلی ساجد خان مہند کی ملاقات ہوئی ہے اسپیکر سے رکن قومی اسمبلی ملک انور تاج اور شیر علی ارباب کی بھی ملاقات ہوئی ہے ملاقات میں اراکین نے وزیراعظم عمران خان پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اسپیکر نے اراکین کو تحریک عدم اعتماد کے آئینی طریقہ کار سے بھی آگاہ کیا
اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی چیئرمین سینیٹ کی چیمبر آمد ہوئی چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی سے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی ملاقات ہوئی ملاقات میں ملکی مجموعی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیاگیا ملاقات میں وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر مشاورت کی گئی
دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ سے محبت کرنے والی قوم ہے پاکستان دہشت گردی کے باعث کئی سال عالمی کرکٹ کی میزبانی سے محروم رہا آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کی آمد پر پاکستانی قوم خوش تھی،آسٹریلوی ٹیم کو صدارتی سطح کی سیکیورٹی دی گئی ،سیاسی مصروفیات کے باعث کرکٹ دیکھنے کا وقت نہیں ملتا،وفیصلہ کن میچ تب ہوگا جب پچز اچھی بنائی جائیں گی 1976کا دورہ آسٹریلیا میرے کیریئر کے بہترین لمحات میں شامل ہیں بھارتی حکومت اقلیتوں بلخصوص مسلمانوں کےلیے نفرت پھیلا رہی ہے بین الاقوامی سطح پر بڑھتی مہنگائی نے لوگوں کو غربت سے نیچے دھکیل دیا پاکستان اوربھارت کے درمیان تعلقات میں کوئی پیش رفت نہیں ہورہی ،ڈپلومیسی اورڈائیلاگ پر یقین رکھتا ہوں
علیم خان کی لندن میں نواز شریف سے ملاقات،علیم خان کا ترجمان بھی میدان میں آ گیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ترجمان علیم خان میاں خالد کا کہنا ہے کہ علیم خان کا دورہ برطانیہ نجی نوعیت کا ہے،لیم خان لندن میں زیر تعلیم اپنے بچوں سے ملنے گئے ہیں،دورہ برطانیہ میں ان کی سیاسی ملاقاتیں نہیں ہوئی علیم خان وطن واپسی پراپنے ساتھیوں کے ہمراہ سیاسی لائحہ عمل طے کریں گے،
تحریک انصاف کے رہنما علیم خان کی لندن میں سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات ہوئی ہے ،نجی ٹی وی اے آئی وائی نے دعویٰ کیا ہے کہ علیم خان کی لندن میں نوازشریف سے ملاقات ہوئی، ملاقات نوازشریف کے گھر پر مقامی وقت کے مطابق 6 بجے ہوئی علیم خان، نوازشریف سے ملنے کیلئے عقبی دروازے سے داخل ہوئے علیم خان نے پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کیلئے ٹکٹ سے متعلق بات کی علیم خان کی ملاقات میں رانا ثناء اللہ نے اہم کردار ادا کیا ہے، جہانگیر ترین اس ملاقات میں موجود نہیں تھے، کچھ ایم پی ایز نے علیم خان سے فون پر رابطہ بھی کیا ہے اور کہا ہے کہ نواز شریف سے ملاقات میں پارٹی ٹکٹ کی گارنٹی لے کر آئیں، علیم خان نے نواز شریف سے ملاقات میں اراکین کے پارٹی ٹکٹ کی بات کی ہے ، رانا ثناء اللہ کے ذریعے نواز شریف سے علیم خان کا لاہور میں بھی رابطہ ہوا تھا، نجی ٹی وی کے مطابق مسلم لیگ ن اب علیم خان کو سپورٹ کرے گی، نواز شریف مسلم لیگ ن کے قائد ہیں
علیم خان کی نواز شریف سے ملاقات کے دوران ن لیگی رہنما سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور نوازشریف کے بیٹے حسن نواز اورحسین نواز بھی موجود تھے، یہ ملاقات تین گھنٹے تک جاری رہی،
علیم خان چند روز قبل لندن روانہ ہوئے تھے، علیم خان کی جہانگیر خان ترین سے بھی ملاقات متوقع تھی تا ہم جہانگیر ترین سے علیم خان کی ملاقات ابھی تک نہیں ہو سکی ہے اور اب علیم خان نے ترین کو ملے بغیر ہی واپسی کا فیصلہ کر لیا ہے ، عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہو چکی ہے اور ترین گروپ پنجاب میں بزدار کو ہٹانا چاہتا ہے، جبکہ عمران خان بزدار کو نہیں ہٹانا چاہتے، ترین گروپ نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر بزدار کو نہ ہٹایا گیا تو ہم اپنا فیصلہ کریں گے ،
علیم خان ترین گروپ میں شامل ہوئے تو وزیراعظم نے گورنر سندھ کو علیم خان کے منانے کا ٹاسک دیا، گورنر سندھ نے علیم خان سے ملاقات کی، وزیراعطم سے ملاقات کی پھر علیم خان سے ملاقات کی، تا ہم علیم خان کو نہ منا سکے، علیم خان کی وزیراعظم سے ملاقات نہ ہو سکی ،علیم خان نے کہا تھا کہ جہانگیر ترین سے ہی مشاورت کر کے حتمی فیصلہ کریں گے اکیلا کچھ نہیں کہہ سکتا،
علیم خان نے ترین گروپ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جد وجہد میں ہم سب ایک دوسرے کے ہم سفر رہے ہیں 11سال پہلے پی ٹی آئی میں شامل ہوا ہم نے اکٹھا وقت گزارا ہے،ہم نے وہ وقت بھی گزارا ہے جب ہم اپوزیشن میں تھے،عہدوں کے بغیر اور ساتھ بھی وقت گزارا ہے اسحاق خاکوانی بڑے ہیں انہوں ہمیشہ بڑے ہونے کا ثبوت دیا
سینئر صحافی و تجزیہ کار عدنان عادل نے علیم خان کی نواز شرید سے ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹویٹ کی اور کہا ہے کہ علیم خان کے سعد رفیق سے دیرینہ کاروباری تعلقات ہیں۔ رانا ثنااللہ سے دوستی ہے۔ وہ رانا ثنااللہ کی "سرپرستی” کرتے رہے۔ اب رانا ثنااللہ نے لندن میں علیم خان کی نواز شریف سے ملاقات بھی کروادی۔ جب تک سما ٹی وی کا لائسنس نہیں ملا تھا علیم خان خاموش رہے۔ لائسنس نام ہوتے ہی بغاوت کردی۔
علیم خان کے سعد رفیق سے دیرینہ کاروباری تعلقات ہیں۔ رانا ثنااللہ سے دوستی ہے۔ وہ رانا ثنااللہ کی "سرپرستی" کرتے رہے۔ اب رانا ثنااللہ نے لندن میں علیم خان کی نواز شریف سے ملاقات بھی کروادی۔ جب تک سما ٹی وی کا لائسنس نہیں ملا تھا علیم خان خاموش رہے۔ لائسنس نام ہوتے ہی بغاوت کردی۔
علیم خان کی نواز شریف سے ملاقات پر تحریک انصاف کے سینیٹر اعجاز چودھری نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ *اے آر وائے پر نعیم اشرف بٹ صاحب کی خبر*
عبدالعلیم خان کی لندن میں نوازشریف سے خفیہ ملاقات ، ذرائع
ملاقات نوازشریف کےگھر پر مقامی وقت کےمطابق ساڑھے6 بجے ہوئی، ذرائع
علیم خان کو گھر کےعقبی دروازے سے داخل کیاگیا، ذرائع
(خُفیہ ملاقات اور عقبی دروازے سے داخلہ
یہ وقت بھی آنا تھا)
*اے آر وائے پر نعیم اشرف بٹ صاحب کی خبر* عبدالعلیم خان کی لندن میں نوازشریف سے خفیہ ملاقات ، ذرائع ملاقات نوازشریف کےگھر پر مقامی وقت کےمطابق ساڑھے6 بجے ہوئی، ذرائع علیم خان کو گھر کےعقبی دروازے سے داخل کیاگیا، ذرائع
(خُفیہ ملاقات اور عقبی دروازے سے داخلہ یہ وقت بھی آنا تھا)
— Senator Ejaz Chaudhary (@EjazChaudhary) March 11, 2022
صحافی و تجزیہ کار اجمل جامی کہتے ہیں کہ اہم خبر! علیم خان ن لیگ کے ہمراہ چلنے کی مکمل تیاری کر چکے، ترین سے البتہ انکی ملاقات تاحال تک نہ ہونے کی اطلاع ھے،
پانچ سے چھ صوبائی وزرا کو اگلی ٹکٹوں کی یقین دہانی مع دیگر ضروری کمٹمنٹس بھی آفریں کرائیں،دو نے پلو پکڑایا بقیہ نہیں مانے۔ ابھی تک نوٹ ایبل سٹریںنتھ نہیں شو کر سکے!
اہم خبر! علیم خان ن لیگ کے ہمراہ چلنے کی مکمل تیاری کر چکے، ترین سے البتہ انکی ملاقات تاحال تک نہ ہونے کی اطلاع ھے، پانچ سے چھ صوبائی وزرا کو اگلی ٹکٹوں کی یقین دہانی مع دیگر ضروری کمٹمنٹس بھی آفریں کرائیں،دو نے پلو پکڑایا بقیہ نہیں مانے۔ ابھی تک نوٹ ایبل سٹریںنتھ نہیں شو کر سکے! https://t.co/FqsrSe9EDx
فضائی حدود کی بلااشتعال خلاف ورزی پر بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی
بھارت کی سپر سونک میزائل سے پاکستانی فضائی حدود کی بلااشتعال خلاف ورزی پر اسلام آباد میں بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی ہوئی ہے اور پاکستان نے شدید احتجاج کیا ہے
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی علاقے سورت گڑھ سے 9 مارچ 6 بجکر 43 منٹ پر میزائل فائر کیا گیا پاکستان میں 6 بجکر 50 منٹ پر میزائل میاں چنوں میں زمین پر گرا،بھارتی میزائل سے میاں چنوں میں شہری املاک کو نقصان پہنچا، میزائل ملکی فضائی حدود میں قومی اور بین الاقوامی پروازوں کے لیے خطرہ بن سکتا تھا،بھارتی میزائل سنگین حادثے کے ساتھ شہری ہلاکتوں کا سبب بن سکتا تھا، بھارتی ناظم الامور پاکستان کی شدید مذمت سے دہلی کو آگاہ کریں،پاکستان اس واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہے،پاکستان چاہتا ہے کہ تحقیقات کے نتائج کا تبادلہ کیا جائے،بھارتی حکومت یاد رکھے، ایسی لاپرواہی کے ناخوشگوار نتائج ہو سکتے ہیں،
دوسری جانب پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے حوالے سے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ یہ دوسری مرتبہ ہماری فضائی حدود کی خلاف ورزی ہوئی ہے،وزارت خارجہ نے بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ بلا کر وضاحت طلب کی ہے،26 فروری کو بھارت نے جارحیت کی اور پاکستان نے اسے مناسب اور بروقت جواب دیا،ہم اس حرکت کو بھارت کی تکنیکی ناکامی کہیں، جارحیت کہیں یا بدنیتی کہیں، پاکستان نے 2019 میں بھی مدبرانہ ردعمل دیا، ہندوستان کی حرکت تشویشناک ہے، بین الاقوامی برادری کو اس حرکت کا نوٹس لینا چاہئے، انہوں نے اس حرکت سے معصوم جانوں کو خطرے میں ڈالا ہے ایوی ایشن اتھارٹیز کو اس کا نوٹس لینا چاہئے، سعودی ائرلائن کا جہاز ، قطر اور پاکستان کی ڈومیسٹک پروازیں نشانہ بن سکتی تھیں اور معصوم لوگ نشانہ بن سکتے تھے، ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پی 5 ممالک کے نمائندگان کو وزارت خارجہ میں مدعو کر کے، انہیں ساری صورتحال سے آگاہ کریں گے،ہمیں توقع ہے کہ عالمی برادری اس کا نوٹس لے گی، ہندوستان کو اس حرکت کیلئے جوابدہ ہونا پڑے گا، ہندوستان کی وضاحت کے بعد اگلے لائحہ عمل کا فیصلہ کریں گے،
مخدوم شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ ہم جارحیت کے قائل نہیں ہیں لیکن دفاع ہم نے کل بھی کیا تھا اور آئندہ بھی کریں گے، ابھینندن کی چائے ابھی ٹھنڈی نہیں ہوئی لگتا ہے انہیں پھر سے طلب ہو رہی ہے، ہندوستان میں آج ہندتوا اور اکھنڈ بھارت کی سوچ کی حامل حکومت برسراقتدارہے،ہندوستان کی صورتحال اتنی بگڑ چکی ہے کہ یورپی یونین پارلیمنٹ کے 21 ممبران نے اسپیکر لوک سبھا کو خط لکھا ہے، انہوں نے بھارت سرکار سے ہندوستان میں اقلیتوں اور انسانی حقوق کا دفاع کرنے والوں کے ساتھ ناروا سلوک کی وضاحت طلب کی ہے، ہندوستان کا رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے ہندوستان کو کٹہرے میں لانے کی ضرورت ہے، مبھارت نے 26 فروری کو جارحیت کی، حقائق سب کے سامنے آ گئے، لیکن دنیا مصلحتاً خاموش رہی،پاکستان نے افغانستان سے محفوظ انخلاء کیلئے جو اقدامات اٹھائے وہ بھی دنیا کے سامنے ہیں،ہم نے ہندوستان کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کی پشت پناہی کے ٹھوس ثبوت ایک ڈوزیر کے ذریعے عالمی برادری کے سامنے رکھے،ہم نے بھارت کا اصلی چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کیا، دوہرے معیار سے تشویش میں اضافہ ہو گا،پاکستانی قوم دیکھ رہی ہے کہ ان کی حکومت ذمہ دارانہ اور آزادانہ طریقے سے ان کی امنگوں کو اجاگر کر رہی ہے،ہم جارحیت کے حامی نہیں، ہم ہندوستان سمیت اپنے ہمسایوں کے ساتھ اچھے تعلقات کی خواہاں ہیں لیکن ہندوستان کا رویہ تو دیکھیں؟،مقبوضہ کشمیر میں جبرو تشدد کا سلسلہ عروج پر ہے، سمندری و فضائی حدود کی خلاف ورزیاں سب کے سامنے ہیں،دوسری طرف پاکستان کا رویہ ہمیشہ مصالحانہ اور مدبرانہ رہا لیکن دفاع ہمارا حق ہے اور دفاع کیلئے پوری قوم تیار ہے،
چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے بھارت کی پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ پاکستان کی بین الاقوامی سرحد کی خلاف ورزی ناقابل قبول ہے پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام کی کوشش کی ہے،پاکستان نے کبھی کسی بحران کو جنم دینے یا بڑھانے کی کوشش نہیں کی،پاکستان بھارت کی طرف سے یکطرفہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دے سکتاہے،
واضح رہے کہ گزشتہ شب ترجمان پاک فوج نے ہنگامی پریس کانفرنس کی تھی اور اس میں قوم کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ گزشتہ روز پاکستانی حدود کی خلاف ورزی ہوئی۔بظاہر یہ سپر سانک میزائل تھا،ہم خطے میں کسی قسم کا اشتعال نہیں چاہتے 9مارچ کو شام 6 بجکر 43منٹ پر بھارتی حدود سےتیزرفتار چیز کو ریڈار پر دیکھا گیا،
ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخارنے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 9مارچ کو 6 بج کر 33 منٹ پر ایک شے نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی، پاکستان ایئرفورس نے اس چیز کی مکمل مانیٹرنگ کی،اس چیز نے اچانک رخ بدلا اور پاکستانی حدود کی طرف بڑھنے لگی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی مذمت کرتے ہیں یہ چیز شام 6بج کر 50منٹ پر پاکستانی حدود میں گری،بھارت کو اس کی وضاحت کرنی پڑے گی اس شےکے گرنے سے سویلین آبادی کو بھی نقصان پہنچا،پاکستان ذمہ دارملک ہے،اس واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں پاکستانی حدود میں داخل ہوتے ہی ہم نے اس شے کو پک کرلیا،اب تک کی جو بھی تفصیلات تھیں وہ آپ کے ساتھ شیئرکیں،بھارت سے آنے والی چیز3 منٹ تک پاکستانی فضائی حدود میں رہی بھارتی چیزکسی بھی حساس جگہ پرنہیں گری،فلائنگ اوبجیکٹ غیرمسلح تھا،کوئی انسانی جان ضائع نہیں ہوئی صرف ایک دیوار گری،فلائنگ اوبجیکٹ کا پاکستان کی طرف آنا بھارتی ٹیکنالوجی پر سوالیہ نشان ہے، بیلسٹک میزائل کا ٹیسٹ ہونے سے پہلے اطلاع دی جاتی ہے،
ڈی جی آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ فوج کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں.پہلے بھی کہا تھا اب بھی کہہ رہا ہوں یہ ایسے ہی ہے، ایسے ہی رہے گا. اس سے متعلق اور کوئی غیر ضروری سوال نہ کیا جائے.اگر کسی کو یہ شک ہے کہ ہماری طرف سے کچھ ہو رہا ہےتواسکاکوئی ثبوت ہوگا آج تک تو کوئی ثبوت سامنےنہیں لایا۔ یہ سوال آپ ان سے پوچھیں جوفوج پر الزام لگاتے ہیں بھارت میں ایسی دہشتگرد تنظیمیں موجود ہیں جن کوکنٹرول کرنےمیں وقت لگے گا،پچھلے چند ہفتوں میں 80 دہشت گرد ہلاک کرچکے ہیں، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کا کوئی دورہ امریکا شیڈول نہیں، یہ قیاس آرائیاں ہیں،
گرفتار کارکنان،اراکین پارلیمنٹ رہا،سڑکوں پر آنے کی ضرورت باقی نہیں رہی،مولانا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز پارلیمنٹ لاجز سے گرفتار کئے گئے جے یو آئی کارکنان اور اراکین قومی اسمبلی کو رہا کر دیا گیا ہے
گرفتار کئے گئے تمام کارکنوں کو شخصی ضمانت اور ضمانتی مچلکوں پر رہا کیا گیا رہائی کے بعد جےیوآئی ف کے کارکن اور دونوں ایم این ایز تھانہ آبپارہ سے روانہ ہو گئے ہیں ،کارکنان کی رہائی کے بعد مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ صبح ہونے سے پہلے تمام ممبران قومی اسمبلی اور کارکن رہاکردیئے گئے رہائی نہ ملنے کی صورت میں ہم نے دوبارہ سڑکوں پر آنے کے لیے فیصلہ کیا تھا دوبارہ سڑکوں پر آنے کی ضرورت باقی نہیں رہی ،عدم اعتماد کی تحریک میں کامیاب ہوں گے پارلیمنٹ لاجز میں اسلام آباد پولیس نے قوانین کو روندتے ہوئے دھاوا بولا ،ممبران پارلیمنٹ پر بلاجواز تشدد کیاگیا
گزشتہ شب جے یو آئی ف کے گرفتار کارکنان کو جیل وین میں تھانہ آبپارہ متقل کیا گیا تھا وفاقی پولیس نے گزشتہ رات پارلیمنٹ لاجز میں آپریشن کے دوران ایم این اے جمال الدین اور مولانا صلاح الدین ایوبی سمیت 21 افراد کو حراست میں لیا تھا گرفتاریوں کے بعد جے یوآئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی ہدایت پر جے یو آئی اور پی ڈی ایم میں شامل دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکنان نے کوئٹہ، کراچی، اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور سمیت دیگر شہروں اور علاقوں میں احتجاج شروع کیا تھا تاہم مولانا فضل الرحمان کی ہدایت پراحتجاج اوردھرنا آج صبح تک ملتوی کردیا گیا تھا
کارکنوں اورارکان اسمبلی کی رہائی پرجے یوآئی (ف) کے ترجمان نے اپوزیشن قائدین اور کارکنوں کا شکریہ ادا کیا ہے ترجمان جے یو آئی کا کہنا ہے کہ اپوزیشن قائدین اور کارکنوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں،مشاورت کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا
امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا تھا کہ کہ پارلیمنٹ لاجز میں ارکان قومی اسمبلی و سینیٹ پر پولیس تشدد قابل مذمت ہے۔ کہ یہ رویہ پارلیمانی روایت کےخلاف اور بوکھلاہٹ کی علامت ہے۔ سیاسی و ذاتی مقاصد کےلیے اداروں کا استعمال افسوسناک ہے، ایسے اقدامات کا کبھی مثبت نتیجہ نہیں نکلا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو انارکی کی جانب دھکیلنے کی کوشش کی جارہی ہے ،حکومت کا یہ رویہ ملک و جمہوریت دونوں کےلیے نقصان دہ ثابت ہوگا
وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل کا کہنا ہے کہ فضل الرحمن صاحب رات بھر ادھر ادھر فون کرتے رہے مافیاؤں مانگتے رہے کہ میرے بندے چھڑوا دیں میری کچھ عزت رہ جائے گی۔ پھر اپنے بندوں سے معافی منگوائی۔ ایک ہی رات میں سارا بخار اتر گیا۔ اصلولاً انہیں چھوڑنا نہیں چاہئے تھا لیکن ہم انہیں اس بہانے سیاسی میدان سے بھاگنے نہیں دینا چاہتے
فضل الرحمن صاحب رات بھر ادھر ادھر فون کرتے رہے مافیاؤں مانگتے رہے کہ میرے بندے چھڑوا دیں میری کچھ عزت رہ جائے گی۔ پھر اپنے بندوں سے معافی منگوائی۔ ایک ہی رات میں سارا بخار اتر گیا۔ اصلولاً انہیں چھوڑنا نہیں چاہئے تھا لیکن ہم انہیں اس بہانے سیاسی میدان سے بھاگنے نہیں دینا چاہتے
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کا کہنا ہے کہ جمیعت کے غنڈوں نے کان پکڑ کر معافی مانگ لی اورنکل گئے(نہیں چھوڑنے چاہئیں تھے) لیکن اس واقعے سے جعلی دانشور ایک بار پھر ظاہر ہو گئےجو بغض عمران میں جتھوں کی بھی حمائیت سے باز نہیں آئے، اپوزیشن اور میڈیا میں ان کے حمائیتی ایک مخصوص مافیا کا حصہ ہیں جو اپنے مفادات کے کیلئے اکٹھے ہیں
جمیعت کے غنڈوں نے کان پکڑ کر معافی مانگ لی اورنکل گئے(نہیں چھوڑنے چاہئیں تھے) لیکن اس واقعے سے جعلی دانشور ایک بار پھر ظاہر ہو گئےجو بغض عمران میں جتھوں کی بھی حمائیت سے باز نہیں آئے، اپوزیشن اور میڈیا میں ان کے حمائیتی ایک مخصوص مافیا کا حصہ ہیں جو اپنے مفادات کے کیلئے اکٹھے ہیں
اراکین اسمبلی و رضارکاروں کی رہائی کے بعد آج کے تمام احتجاجی مظاہرے اور ہڑتال ملتوی کر دی گئی، جمعیت علماء اسلام کے ایم این ایز اور انصار الاسلام کے تمام کارکنان رہا کر دیئے گئے ہیں اور علی الصبح تمام ساتھیوں نے قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کے ساتھ ناشتہ کیا۔
جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے گذشتہ روز کے دلخراش واقعے پر عوام اور کارکنوں کے نام اہم پیغام جاری کیا ہے، مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ لاجز میں اسلام آباد پولیس نے تمام قوانین اور اخلاقیات کو روندتے ہوئے دھاوا بولا ۔ممبران پارلیمنٹ پر بلاجواز تشدد کیاگیا ،قوم کے منتخب نمائندوں کو گھسیٹتے ہوئے گرفتار کیا ان کے مہمانوں کو زدوکوب اور گرفتار کیا ۔واقعے کی غلط تصویر اور جھوٹ پر مبنی بیانیہ قوم کے سامنے رکھ کر تاریخ کے صفحات پر اپنے سیاہ کردار کی پردہ پوشی کی بھونڈی کوشش کی ۔جے یو آئی اور دیگر جماعتوں کے کارکنوں اور عوام کا شکر گذار ہوں کہ انہوں نے ہماری آواز پر لبیک کہتے ہوئے فوری رد عمل دیا ۔پورے ملک کو ایک گھنٹے سے کم وقت میں جام کر دیا ۔کارکنوں اور عوام کو اس فتح پر مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔صبح ہونے سے پہلے ہی تمام ممبران قومی اسمبلی اور کارکن رہا ہوچکے ہیں ۔ رہائی نہ ملنے کی صورت میں ہم دوبارہ سڑکوں پر آنے کے لئے فیصلہ کیا تھا لیکن اب اب اسکی ضرورت باقی نہیں رہی ۔
مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ جمعۃ المبارک کے اجتماعات میں شکرانہ کے نوافل ادا کریں آئندہ بھی اللہ تعالی سے فتح و نصرت کے لئے اجتماعی اور انفرادی دعاؤں کا خاص اہتمام کریں رجوع الی اللہ ہماری کامیابیوں کی ضمانت ہے ۔ اللہ سے امید ہے کہ آئندہ بھی اور خاص طور پر عدم اعتماد کی تحریک میں ہمیں اللہ کامیابی عطاء کرے گا ۔ان نااہل نالائق اور ناجائز حکمرانوں سے اللہ قوم کو نجات عطاء کرے گا ۔
قبل ازیں اسلام آباد پارلیمنٹ لاجز میں پولیس کا ایکشن سینیٹر کامران مرتضی مقدمہ درج کرانے تھانہ سیکرٹریٹ پہنچے سینیٹر کامران مرتضی نے ڈی آئی جی، اے ڈی سی اور وزیرداخلہ کیخلاف مقدمہ درج کرانے کیلئے درخواست جمع کرادی ،سینیٹر کامران مرتضی نے تھانہ سیکرٹریٹ میں درخواست جمع کرادی، کامران مرتضیٰ نے درخواست میں کہا کہ پولیس والوں نے ایم این اے کے لاجز کا دروازہ توڑا اور زبردستی اندرگھسے،پولیس نے اندر موجود لوگوں کو یرغمال بنایا، پولیس کے ساتھ اسسٹنٹ ڈپٹی کمشنر بھی لاج میں موجود تھے اے ڈی سی نے کہا ہمیں اوپر سے حکم ہے،پولیس نے ہم پر دھاوا بولا اور زبردستی ہمارے ایم این اے اور ان کے مہمانوں کو گرفتار کیا،پولیس نے مجھ پر دیگر لوگوں پر تشدد کیا،پولیس دو ایم این ایز اور ان کے مہمانوں کو اغواء کرکے لے گئی،اے ڈی سی، ڈی آئی جی، اور وزیرداخلہ کی ایماء پر ہم پرتشدد کیا، آئی جی بھی ان کے ساتھ رابطے میں تھے۔مقدمہ درج کیا جائے،
بھارتی پنجاب میں حکمران جماعت کانگریس کی عبرت ناک شکست کے بعد بھارتی تجزیہ کاروں نے اس کی ذمہ داری نوجوت سنگھ سدھو کی عمران خان سے دوستی پر ڈال دی ہےاور کہا کہ نوجوت سنگھ سدھو نے عمران خان کے اشاروں پر بھارتی پنجاب کی حکومت میں پھوٹ ڈالی جس سے کانگریس کی مقبولیت کا گراف نیچے آگیا۔
ایک بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو جو کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے انتہائی قریبی دوست ہیں، خودکیپٹن امریندر سنگھ کو ہٹا کر پنجاب کے وزیراعلی بننا چاہتے تھے اور عمران خان ان کو سپورٹ کررہے تھے۔
اس وقت کے وزیراعلی کیپٹن امریندر سنگھ ان کو ایک آنکھ نہیں بھاتے تھے۔ کیپٹن امریندر سنگھ کا خیال تھا کہ کرتار پور راہداری بنانے کے حوالے سے سدھو نے ان کو اعتماد نہیں لیا جس سے بھارتی پنجاب کانگریس کی مقبولیت میں بے حد کمی آئی۔
یہ بھی کہا گیا کہ بھارتی عوام نوجوت سنگھ سدھو کے اس اقدام سے خوش نہیں تھےجس سے کانگریس کے خلاف عوامی نفرت کا آغاز ہوا اور کانگریس کی مقبولیت کا گراف تیزی سے نیچے آگیا۔
میڈیا رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ کانگریس کی مقبولیت میں کمی کے لئے جہاں کئی عوامل کارفرما تھے اس کے ساتھ ساتھ پنجاب کی سیاست میں عمل دخل کے لئے سدھو کی عمران خان سے مشاورت نے جلتی پر تیل کا کام کیا جس کے نتیجہ میں گزشتہ روز انتخابات میں کے نتائج میں کانگریس کو صرف 15سیٹوں پراور مودی کی بی جے پی کو صرف 5 سیٹون پر کامیابی ملی۔ جب کہ عام آدمی پارٹی نے 85 سے زائد سیٹوں پر کامیابی حاصل کر لی اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ 2024 کے انتخابات میں بھی عام آدمی پارٹی دہلی اور پنجاب کے بعد مرکز میں مودی سرکار کے لئے بھی سب سے بڑے خطرہ کا باعث بن سکتی ہے۔