Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • ماضی میں سڑکیں عوام کے فائدے کیلئے نہیں بلکہ پیسہ بنانے کیلئے بنائی جاتی تھیں،وزیر اعظم

    ماضی میں سڑکیں عوام کے فائدے کیلئے نہیں بلکہ پیسہ بنانے کیلئے بنائی جاتی تھیں،وزیر اعظم

    وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ماضی میں عوام کو فائدہ پہنچانے کیلئے نہیں بلکہ پیسہ بنانے کیلئے سڑکیں بنائی جاتی تھیں۔

    باغی ٹی وی :وزیراعظم عمران خان نےہکلہ ڈی آئی خان موٹروے کا افتتاح کر دیا افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہ امراد سعید اور این ایچ اے ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ مراد سعید کی منسٹری اور این ایچ اے نے زبردست کارکردگی دکھائی۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ ہکلہ ڈی آئی خان موٹروے سے پسماندہ علاقےترقی کریں گے، یہ موٹروے اور سی پیک کا مغربی روٹ پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لیے نہایت ضروری ہے ، یہ ان علاقوں کو ملا رہا ہے جو پیچھے رہ گئے ہیں ان شاء اللہ اب ان علاقوں میں بھی ترقی کا آغاز ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ سارے ترقی پذیر ممالک کا یہ مسئلہ ہے کہ تھوڑے سے لوگ امیر اور باقی غریب ہیں، ایک دو علاقوں میں سارا پیسہ لگادیا گیاملک طویل المدتی پالیسیوں سے بنتے ہیں ماضی میں چند لوگوں کو فوائد پہنچانے کےلیے پالیسیاں بنائی گئیں۔ جس کی وجہ سے کئی علاقے پیچھے رہ گئے-

    فارن فنڈنگ پی ٹی آئی پکڑی گئی :مریم نوازکے بیان پروفاقی وزرا نےحقیقت بتادی

    وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کوئی ملک اس طرح ترقی نہیں کرسکتا، طویل المدتی پلاننگ نہ ہونے سے تھوڑے سے علاقے ترقی کرتے ہیں اور زیادہ علاقے ترقی میں پیچھے رہ جاتے ہیں چین نے30سال کا پلان بنایا ہوا ہےدنیا میں سب سے تیزی سے جو ملک ترقی کررہا ہے وہ چین ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ 60کی دہائی میں ملک میں بڑے بڑے منصوبے بنے ہیں، اس کے بعد پاکستان میں کبھی بڑے منصوبے نہیں بنے، اس حکومت میں سی پیک کے ایسٹرن روڈ پر سب سے زیادہ ترقی ہوئی ہے۔

    کبوترچوری کرنے والے ملزم کی درخواست ضمانت خارج: مُلک وقوم کے چورآزاد:یہ…

    عمران خان نے کہا کہ مدینہ کی ریاست دنیا کی تاریخ کا سب سے کامیاب ماڈل تھا، مدینہ کی ریاست میں ایلیٹ کلاس کونہیں عوام کو اوپر اٹھایا گیا۔ مدینہ کی ریاست میں میرٹ اور انصاف کا بول بالا تھا جب کرپشن ختم کیا جائے تو قوم کو فائدہ ہوتا ہے،پاکستان کا سب سے بڑامسئلہ کرپشن ہے 25سال سے کہہ رہا ہوں ملک کا بڑا مسئلہ کرپشن ہے،۔جب کرپشن ختم کیا جائے تو قوم کو فائدہ ہوتا ہےواضح ہو گیاماضی سڑکیں پیسے بنانے کیلئے تعمیر کی جاتی تھیں کرپشن ختم کرنے سے این ایچ اے کی آمدنی دگنی ہوگئی۔

    تحریک انصاف سرخرو ہوئی،ثابت ہوگیا فارن فنڈنگ کاکوئی معاملہ نہیں،پاکستان زندہ باد:…

    انہوں نے کہا کہ جتنے پیسے میں پچھلے حکام نے ایک سڑک بنائی تھی، ہم نے اتنے ہی پیسے میں دگنی سڑکیں بنادیں، آج چیزیں کتنی زیادہ مہنگی ہیں،اس کے باوجود آج 2013 کی بہ نسبت زیادہ سستی سڑکیں بن رہی ہیں، اس کا مطلب ہے کہ کسی کی جیب میں بہت زیادہ پیسہ جارہا تھا، ماضی میں عوام کو فائدہ پہنچانے کے لیے نہیں بلکہ پیسے بنانے کے لیے سڑکیں بنائی جاتی تھیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ہم دور دراز علاقوں میں سڑکیں بنا رہے ہیں، بلوچستان کے عوام میں واقعی صحیح احساس محرومی ہے کہ ان کے ہاں سڑکیں نہیں بنتیں، بلکہ وہاں سڑکیں بنتی ہیں جہاں پہلے ہی خوشحالی ہے-

    ایک پردیسی زندگی بھر کی کمائی قبضہ مافیا کے ہاتھو ں گنوا بیٹھا:وزیراعلیٰ…

    عمران خان نے کہا کہ اس سے بڑا ظلم کیا ہوسکتا ہے کہ ایک طرف ملک قرضے لے رہا ہے اور وہیں مہنگی سڑکیں بنائی جارہی ہوں، ہم نے سوچا بھی کہ یہ کیس نیب کو دیں لیکن انہوں نے کام ایسا کیا ہے کہ اگر ہم عدالت میں جائیں تو وہ کہیں گے کہ ہم نے تو ٹینڈرنگ اور سارے پراسس پورے کیے تھے۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ ہیلتھ کارڈ صرف ہیلتھ کارڈ نہیں پورا ہیلتھ سسٹم ہے لوگوں کے پاس ہیلتھ کارڈ ہوگا تو پرائیویٹ اسپتال بنیں گے مارچ تک پنجاب کے ہر خاندان کے پاس 10لاکھ کے ہیلتھ انشورنس ہوگی۔

    خوشحال پاکستان کا خواب کب ہو گا پورا، تحریر : نوید شیخ

  • صحافیوں کےخلاف نفرت،سازش اورکردارکشی ناقابل برداشت،قابل مذمت:پرویزرشیدمعافی مانگیں:رانا عظمیم

    صحافیوں کےخلاف نفرت،سازش اورکردارکشی ناقابل برداشت،قابل مذمت:پرویزرشیدمعافی مانگیں:رانا عظمیم

    لاہور:صحافیوں کےخلاف نفرت،سازش اوران کی کردارکشی ناقابل برداشت:پرویزرشید دیگرہمنواوں کی پُرزورمذمت کرتے ہیں:اطلاعات کے مطابق پی ایف یو جے کے صدر جی ایم جمالی اور سیکرٹری جنرل رانا محمد عظیم نے مسلم لیگ ن کے نائب صدر پرویز رشید کی جانب سے سینئر صحافیوں کے بارے تضحیک آمیز کلمات ادا کرنے کی شدید مزمت کی ہے

    راناعظیم کہتےہیں‌کہ پاکستان کی پوری صحافی برادری نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے اس غیر اخلاقی عمل پر پوری صحافی برادری سے معافی مانگیں۔

     

     

    رانا عظیم نے کہا کہ پرویز رشید اور مریم نواز کی آڈیوز لیک سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے سینئر صحافی مظہر عباس اورحسن نثار کو تضحیک آمیزالقابات سے نوازا اور کہا کہ وہ ایک نجی چینل کے پروگرام میں ان کی سیاسی جماعت اور قیادت بارے غلط تبصرے اورگالم گلوچ کرتے ہیں۔

    پی ایف یو جے لیڈرشپ نے کہا ہے کہ ان سینئر صحافیوں کی تحریر اور تبصرے سے اختلاف رکھنا آزادی اظہار ہے اور سیاسی جماعتوں کو حق ہے کہ صحافیوں کی رائے اور تبصرے کی نفی کریں یا اسے مسترد کریں مگر کسی جماعت, تنظیم یا حکومت وقت کو یہ حق نہیں کہ وہ صحافیوں کو گالیاں دینا شروع کردیں-

    رانا عظیم نے کہا کہ پاکستان کی تمام صحافی برادری خصوصا پی ایف یو جے نے سابق وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ فوی طور پر اپنے اس غیر اخلاقی رویہ پر معافی مانگیں ورنہ ان کے خلاف باقاعدہ احتجاج کیا جائے گا۔

  • ہم حاضرہم قربان:اے اہل بلوچستان:بارشوں اورسیلاب میں گھبرانانہیں:خدمت اورامدادی کام جاری:ترجمان پاک فوج

    ہم حاضرہم قربان:اے اہل بلوچستان:بارشوں اورسیلاب میں گھبرانانہیں:خدمت اورامدادی کام جاری:ترجمان پاک فوج

    کوئٹہ:ہم حاضرہم قربان:اے اہل بلوچستان:بارشیں اورسیلاب گھبرانا نہیں:خدمت اورامدادی کام جاری:اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے ترجمان ادارے کی طرف سے اہل بلوچستان کو پیغام دیا گیاہے کہ سخت سردی بھی ہے اورپھربارشیں اس قدر ہورہی ہیں‌ کہ سیلابی صورتحال ہے لیکن گھبرانا نہیں ہم حاضرخدمت ہیں ،

      

     

    اس حوالے سے پیغام جاری کرتے ہوئے آئی ایس پی آر کی طرف سے کہا گیا ہے کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارش کے بعد سیلابی صورت حال پیدا ہونے کے بعد پاک فوج کا امدادی کام جاری ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں شدید بارشوں کے بعد سیلابی صورتحال ہے، سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے پانی نکالنے کا عمل بھی جاری ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق مقامی آبادی اور سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقلی کرنے کے ساتھ ساتھ گوادر اور تربت کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فوج کا امدادی کام جاری ہے، پسنی، جیوانی، سربندر، نگور میں خوراک اور شیلٹرز کی فراہمی بھی جاری ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق اس دوران سول انتظامیہ کے ساتھ امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا جا رہا ہے۔

  • سیاسی منظر نامے پر شدید دھند، کون حکومت گرائے گا کون بنائے گا؟

    سیاسی منظر نامے پر شدید دھند، کون حکومت گرائے گا کون بنائے گا؟

    سیاسی منظر نامے پر شدید دھند، کون حکومت گرائے گا کون بنائے گا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آج کی اس ویڈیو میں ہم بات کریں گے کہ تحریک انصاف کی حکومت کے گھر جانے کے کیا امکانات ہیں، نئے الیکشن کب متوقع ہیں، سیاست کا کیا کھیل چل رہا ہے، موسم میں دھند کی طرح سیاسی منظر نامے پر بھی دھند چائی ہوئی ہے، کون حکومت گرائے گا اور کون حکومت بنائے گا کے ساتھ ساتھ مریم نواز کی نئی آڈیو لیک پر بھی روشنی ڈالیں گے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس وقت بد قسمتی یہ ہے کہ تمام مسائل کی جڑ اسٹیبلشمنٹ کو قرار دینے والی تمام سیاسی جماعتیں اس وقت اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی کے لیے سر توڑ کوششیں کر رہی ہیں۔ساتھ ساتھ حکومت کے حواری یہ بیان دے رہے ہیں کہ عمران خان کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے وہ اپنی مدت پوری کرے گی۔ اس حوالے سے کئی خدشات ہیں۔ کیونکہ اگر عمران خان کو اپنی مدت پوری کرنے کا موقع مل گیا تو وہ اپوزیشن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتے ہیں، اہم عہدوں پر اہم تعیناتیوں کے بعد وہ اگلے الیکشن میں اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کی پوری کوشش کریں گے اور اگر آپ اس وقت حکومت کی بھاگ دوڑ پر نظر ڈالیں تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ یہ سب کچھ تحریک انصاف کی حکومت کو اگلے پانچ سال کے لیے دوبارہ لانے کے لیے لگ رہی ہے۔جبکہ اپوزیشن کے ساتھ ڈیل کی خبریں دینے والوں کا کہنا ہے کہ ڈیل یا ڈھیل اس سیٹ اپ کو اڑانے کے لیے نہیں بلکے اگلے سیٹ اپ کے لیے کی جا رہی ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کتنی بڑی بدنصیبی ہے کہ قانون بنانے والے خود قانون شکن بنے ہوئے ہیں، جمہوریت کی بقا کا نعرہ مارنے والے خود جمہوریت کی جڑیں کاٹ رہے ہیں۔ ان کے لیے طاقت کا حصول عوام نہیں بلکے کوئی اور طاقت ہے اور ایسی حکومتیں کیا کبھی عوامی توقعات کو پورا کر سکتی ہیں لیکن بڑی ڈھٹائی سے عوام کے ساتھ دھوکہ کر کے ان کی آنکھوں میں دھول جھونک کر تمام پارٹیاں اس تگ و دو میں ہیں کہ کسی نہ کسی طرح اقتدار کی سیڑھی پر چڑھ جائیں چاہے اس کے لیے انہیں کسی کی بھی قدم بوسی کیوں نہ کرنی پڑے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دراصل اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کی خبریں باہر لانے کا ایک بڑا مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ بااثر سیاسی دھڑے اور امیدوار جو کسی بھی پارٹی کے بغیر اپنے حلقوں میں جیتنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہوا کا رخ دیکھ کر اپنے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں

    پولیس کی زیادتی، خواجہ سراؤں نے ملک گیر احتجاج کی دھمکی دے دی

    پلاسٹک بیگ پر پابندی لگی تو خواجہ سراؤں نے ایسا کام کیا کہ شہری داد دینے پر مجبور

    کرونا لاک ڈاؤن، شادی کی خواہش رہی ادھوری، پولیس نے دولہا کو جیل پہنچا دیا

    کرونا لاک ڈاؤن، گھر میں فاقے، ماں نے 5 بچوں کو تالاب میں پھینک دیا،سب کی ہوئی موت

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    کرونا مریض اہم، شادی پھر بھی ہو سکتی ہے، خاتون ڈاکٹر شادی چھوڑ کر ہسپتال پہنچ گئی

    دس برس تک سگی بیٹی سے مسلسل جنسی زیادتی کرنیوالے سفاک باپ کو عدالت نے سنائی سزا

    گھر میں گھس کر خاتون سے زیادتی کی کوشش کرنیوالا سابق پولیس ملازم گرفتار

    خواجہ سرا مشکلات کا شکار،ڈی چوک میں احتجاج،پشاورمیں "ریپ” کی ناکام کوشش

    خواجہ سرا کے روٹھنے پر خود کو آگ لگانے والا پریمی ہسپتال منتقل

    خواجہ سرا پر تشدد کرنے والے ملزمان گرفتار

    خواجہ سراؤں کو ملازمتوں میں کوٹہ مقرر کرنے کا مطالبہ سامنے آ گیا

    خواجہ سرا کا یہ کام دوسروں کیلئے مشعل راہ ہے،لاہور ہائیکورٹ

    سگی بیٹی کو فحش ویڈیو دکھا کر سفاک باپ سمیت 28 افراد نے کیا ریپ

  • نئے سال کا پہلا پیغام،مبشر لقمان پھٹ پڑے

    نئے سال کا پہلا پیغام،مبشر لقمان پھٹ پڑے

    نئے سال کا پہلا پیغام،مبشر لقمان پھٹ پڑے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ مجھے بڑا دکھ ہو رہا ہے، منی بجٹ آیا اس میں دودھ کی قیمت بڑھ گئی، کھانے کی قیمت بڑھ گئی، بچوں کے دودھ کی قیمت بڑھ گئی، ہر ضروری چیز جو زندگی کا حصہ ہے اسکی قیمت بڑھ گئی لیکن حکمرانوں سے کئی بار درخواست کی کہ سگریٹ کی قیمت بڑھائیں ،2017 سے لے کر آج تک سگریٹ کی قیمت نہیں بڑھی، تمباکو کی قیمت نہیں بڑھی،یہ کون سی انڈسٹری ہے جو سگریٹ کی قیمت نہیں بڑھنے دے رہے، غریب کے لئے آٹا دال پر ٹیکس لگایا جاتا ہے لیکن جس چیز سے لوگ مر رہے ہیں، اس پر ٹیکس نہیں لگایا جاتا، اسکی قیمت بڑھاتے ہوئے حکمران گھبراتے ہیں

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کہا جا رہا ہے کہ ٹوبیکو کمپنیز کی جانب سے فنڈنگ کی گئی ہے، کینسر ہسپتال کیسے فنڈ لے سکتا ہے ٹوبیکو کمپنیز سے، ہمیں دنیا کی مثالیں دی جاتی ہیں کہ دنیا میں مہنگائی ہو گئی یہاں بھی ہو گئی، برطانیہ میں سگریٹ کے ریٹ بھی دیکھ لیں اور یہاں کے دیکھ لیں، وہاں سگریٹ مہنگا، یہاں قیمتیں نہ ہونے کے برابر، 12 پاؤنڈ کی ڈبی کریں، غریب کے آٹے دال پر کیوں ٹیکس لگا رہے ہیں، ٹوبیکو پر ٹیکس لگائیں،سگار پر ٹیکس لگائیں،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ک حکومت کہہ رہی ہے کہ یہ زیر بحث ہے ابھی منظور ہو گا لیکن اگر بازار چلے جائیں تو ہر چیز کی قیمت بڑھ چکی ہے، ااگر کابینہ اس منی بجٹ کو رد کر دیتی ہے تو ان قیمتوں کو واپس کون لائے گا، اسوقت یہ بیچارے ہو جائیں گے، ہم حکمرانوں کی نالائقیاں بتاتے رہیں گے، گورننس کا آئی ایم ایف ، ورلڈ بینک کے کوئی تعلق نہیں،

    #سگریٹ_ٹیکس_بڑھاؤ ، ٹویٹر پر صارفین کا مطالبہ

    کرونا مریض اہم، شادی پھر بھی ہو سکتی ہے، خاتون ڈاکٹر شادی چھوڑ کر ہسپتال پہنچ گئی

    کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

    پولیس اہلکار نے لڑکی کو منہ بولی بیٹی بنا کر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، نازیبا ویڈیو بھی بنا لیں

    نوجوان لڑکی سے چار افراد کی زیادتی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس ان ایکشن

    خاتون سے زیادتی اور زبردستی شادی کی کوشش کرنے والا ملزم گرفتار

    واش روم استعمال کیا،آرڈر کیوں نہیں دیا؟گلوریا جینز مری کے ملازمین کا حاملہ خاتون پر تشدد،ملزمان گرفتار

    سگریٹ پر پچھلے تین سال میں ٹیکس نہ بڑھنے کا انکشاف

     

    شکریہ عمران خان، ہر چیز ڈبل مگر،سگریٹ کی قیمت کئی سال سے نہیں بڑھی

  • چین کی بحری ناکہ بندی کامنصوبہ مکمل:پاکستان بھی نشانہ:بھارتی بحریہ کوجنگی طیاروں کی فراہمی جاری

    چین کی بحری ناکہ بندی کامنصوبہ مکمل:پاکستان بھی نشانہ:بھارتی بحریہ کوجنگی طیاروں کی فراہمی جاری

    لاہور(……9251 +)ہندوستان نے اپنی بحریہ کومزید 57 رافیل جنگی طیاروں سے لیس کرکےپاکستان اورچین کوپیغام بھیج دیا،اطلاعات ہیں‌ کہ ہندوستانی بحریہ کل اپنی بحریہ کو مزید مضبوط کرنے کے لیے بڑی تعداد میں جنگی طیاروں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے کچھ کرنے جارہا ہے ، اس حوالے سے ہندوستانی دفاعی حکام کے درمیان ہونے والی گفتگو سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستان اپنی بحریہ کومزید مضبوط کرکے پاکستان اور چین کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ ہندوستان سے کبھی بھی نہ ٹکرانا

    ادھرہندوستانی افواج کی قیادت کے درمیان ہونے والی گفتگو سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان اپنے نئے مقامی طور پر تیار کردہ طیارہ بردار بحری جہاز کے لیے ملٹی رول کیریئر پر مبنی جنگی طیاروں کی تلاش میں ہے جو اس وقت بھارت کی سمندری حدود میں آزمائش کے مرحلے میں ہے اور کارکردگی چیک ہونے کے بعد اس کو شامل کیا جائے گا
    ادھر ہندوستانی بحریہ نے اشارہ کیا ہے کہ وہ MiG-29K کو تبدیل کرنے کے لیے جڑواں انجن والا طیارہ حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے جو فی الحال INS وکرمادتیہ سے چل رہا ہے۔

     

     

    ہندوستانی بحریہ 6 جنوری سے گوا میں آئی این ایس ہنسا میں ساحل پر مبنی ٹیسٹ سہولت میں رافیل لڑاکا طیاروں کے بحری ورژن کی فلائٹ ٹیسٹنگ کرے گی تاکہ 40,000 ٹن وزنی کیریئر آئی این ایس وکرانت کے مطابق بہترین جنگی طیارے کا تعین کیا جا سکے۔

    شاید اسی طاقت کے بل بوتے پر ہندوستانی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل کرمبیر سنگھ نے کہا تھا کہ ہندوستانی بحریہ ہندوستانی فضائیہ کے ساتھ جنگجوؤں کے مشترکہ حصول کا پیچھا کر سکتی ہے۔

    یہ بھی یاد رہے کہ روسی ساختہ جنگی طیاروں خاص کر میگ 29 کے متبادل کے طور پر ہندستانی بحریہ نے ڈائریکٹوریٹ آف نیول ایئر اسٹاف کی طرف سے جنوری 2017 میں ملٹی رول کیریئر برن فائٹر کے لیے معلومات کی درخواست (RFI) جاری کی گئی تھی کیونکہ فی الحال آپریشنل Mig-29K کو 2034 میں مرحلہ وار ختم کیا جانا ہے۔

    ہندوستانی بحریہ نے اپنے بحری بیڑوں کو مضبوط سے مضبوط تربنانے کےلیے مبنی جڑواں انجن لڑاکا طیاروں کے لیے عالمی ٹینڈر کا جائزہ لینے کا انتخاب کیا ہے، اس حقیقت کے باوجود کہ مقامی طور پر تیار کردہ ٹوئن انجن ڈیک بیسڈ فائٹر (ٹی ای ڈی بی ایف) 2032 تک پہنچنا ہے۔

    یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کل ہونے والے جنگی مظاہروں کے بعد اگرکوئی صورت حال تسلیٰ‌ بخش ہوتی ہے تو پھر ہندوستانی بحریہ اسی مقام پر رافیل-ایم (میرین) طیارے کے متبادل کے طور پر امریکی F-18 سپر ہارنٹس کی جانچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ بوئنگ F-18 سپر ہارنیٹ امریکی بحریہ کے لیے ایک آزمائشی اور ہندوستانی بحریہ کی ڈیمانڈ پر مبنی ملٹی رول فائٹر ہے، جس میں 1991 کی خلیجی جنگ سے متعلق حیرت انگیز مشنز ہیں۔

     

    بھارتی دفاعی حکام کے درمیان چلنے والی گفتگو اور باہمی پیغام رسانی سے یہ بھی چیزیں‌ سامنے آئی ہیں‌کہ IAC-1 کو INS وکرانت کے طور پر 15 اگست 2022 کو ہندوستان کی آزادی کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پرہندوستانی بحری بیڑوں میں آپریشنل کرنے کا پروگرام ہے ۔ ہندوستانی بحریہ طیارہ بنانے والی فرانسیسی کمپنیوں سے 2022 میں چار سے پانچ Rafale-M طیارے لیز پرلینے کا پروگرام بنا چکی ہے تاکہ طیارہ بردار جہاز کو آپریشنل بنایا جا سکے۔

    ہندوستان میں امبالہ ایئربیس پر پہلے ہی رافیل کی دیکھ بھال اور پرواز کی تربیت کی سہولت موجود ہے۔ بحریہ کے ہوا بازوں کو آئی این ایس ہنسا میں تربیت دی جائے گی۔

    اس موقع پر یہ بھی بتا دوں کہ چند دن پہلے اپنے حالیہ دورہ ہندوستان میں، فرانسیسی وزیر دفاع نے بھی ہندوستان کو کیرئیر پر مبنی رافیل کی فراہمی پر آمادگی ظاہر کی تھی۔فرانسیسی وزیردفاع کا کہا تھا – "ہمیں معلوم ہے کہ طیارہ بردار بحری جہاز جلد ہی پہنچ جائے گا…اور اس کے لیے مزید طیاروں کی ضرورت ہوگی۔ اگر ہندوستان دوسرا رافیل خریدنے کا فیصلہ کرتا ہے تو ہم اسے دینے کے لیے تیار ہیں۔ اس وقت، اس نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ اگر ہندوستان کو ضرورت ہو تو فرانس ہندوستانی فضائیہ کے ذریعہ حاصل کیے جانے والے 36 سے زائد رافیل لڑاکا طیارے فراہم کرے گا۔

     

    2016 میں فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کے معاہدے پر دستخط کرنے سے پہلے بھی، Dassault Aviation بحریہ کے ساتھ Rafale کے بحری قسم کی فروخت کے بارے میں بات چیت کر رہی تھی۔

    ہندوستانی بحریہ کو بوئنگ کا جڑواں سیٹوں والا F/A-18 بلاک III سپر ہارنیٹ اس کے RFI کے جواب میں 57 ملٹی رول کیریئر پر مبنی فائٹرز کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ سپر ہارنیٹ بلاک III سپر ہارنیٹ کا سب سے نفیس قسم ہے اور چوتھی نسل کی لڑاکا صلاحیتوں کو پیچھے چھوڑتا ہے۔

    ٹچ اینڈ گو لینڈنگ Rafale-M – امریکی بحریہ کے ذریعےیہ طیارہ "اسکی جمپ” ریمپ سے چل سکتا ہے اور اسے ہندوستانی تجزیہ کاروں کے ذریعہ "محفوظ ہند-بحرالکاہل کے لئے فعال کرنے والا” کا نام دیا گیا ہے، جنہوں نے سپر ہارنٹس کی صلاحیتوں اور ہندوستانی بحریہ کے لئے موزوں ہونے پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، جیسا کہ پہلے رپورٹ کیا گیا تھا۔ یورو ایشین ٹائمز

    "F/A-18 سپر ہارنیٹ بلاک III ہندوستانی بحریہ (IN) کو پیش کش پر ہے جو امریکی بحریہ (USN) کا سب سے جدید، کثیر کردار، فرنٹ لائن لڑاکا ہے اور یہ بیڑے کے لیے ورک ہارس ہے، اور ایسا ہی رہے گا۔ ،‘‘ انکور کناگلیکر، ہیڈ انڈیا فائٹرز سیلز، بوئنگ ڈیفنس، اسپیس اینڈ سیکیورٹی، نے پہلے فنانشل ایکسپریس کو بتایا۔

    فوجی ماہرین کا خیال ہے کہ رافیل میرین فائٹرز کو سپر ہارنٹس پر برتری حاصل ہے کیونکہ فرانس اور ہندوستانی حکومت کے درمیان 36 رافیل ڈبلیو کے لیے 8.7 بلین ڈالر کی ایک میگا ڈیل طے پائی تھی۔

    ادھر بھارتی فوجی قیادت کے درمیان ہونے والی گفتگو سے جو نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی بحریہ ایک طرف پاکستان کوجواب دینے کے لیے تیار ہے تو دوسری طرف بھارت ، جاپان ،آسٹریلیا اور امریکہ کے ساتھ ملکر جنوبی چین اور کواڈ ممالک کے درمیان ہونے والے جنگی معاہدوں کے مطابق چین کے بحری راستوں کی ناکہ بندی کے لیے استعمال ہوں گے جس کا مقصد چین کی بحری ناکہ بندی کرکے چین کومعاشی طورپرکمزوراور تباہ حال کرنا ہے

  • اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف ایک اورسازش کا انکشاف

    اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف ایک اورسازش کا انکشاف

    لاہور(….9251+) :اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف ایک اورسازش کا 43 سال بعد انکشاف ،تفصیلات کے مطابق معروف اسرائیلی اخباریروشلم پوسٹ نے خفیہ اداروں کی طرف سے ملنے والے حقائق کومنظرعام پرلاتے ہوئے بڑے بڑے سنگین انکشافات کیئے ہیں‌

    اس حوالے سے یروشلم پوسٹ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد نے 1980 کی دہائی میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف سازش کرتے ہوئے پاکستان کوجوہری ٹیکنالوجی کی فراہمی روکنے کے لیے جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کو دھمکیاں دی تھیں‌ جنہوں نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نئے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام میں مدد کے لیے بھرپور طریقے سے کام کیا۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے انکشاف کیا ہے کہ جرمنی اور سوئٹزرلینڈ میں‌ باقاعدہ ان کمپنیوں پرحملےکروائے گئے، ان حملوں کے دومقاصد تھے ایک تو یہ ثآبت کرنا تھا کہ ان حملوں کے پیچھے پاکستان کی حامی قوتوں کا ہاتھ ہوسکتا ہے دوسرا جو اسرائیلی موساد ایجنسی ایک متبادل تاثرپیدا کررہی تھی تو اس کا مطلب یہ تھا کہ پاکستان کو ایٹمی ٹیکنالوجی کی فراہمی کی صورت میں جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کوسخت نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نےتقریبا 43 سال بعد سال 2022 کے پہلے ہفتے میں اس سازش پرسے پردہ ہٹاتے ہوئے خطرناک حقائق پیش کئے ہیں‌۔ اخبار کے مطابق، "اس بات کے مضبوط شواہد ہیں‌ کہ جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کوملنے والی دھمکیوں‌ کے پیچھے موساد کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے ان ملکوں کوخبردار کیا تھا کہ اگرجوہری ٹیکنالوجی فراہم کی گئی تو پاکستان بلاشبہ عالم اسلام کی پہلی اسلامی ایٹمی ریاست بن جائے گا جو اسلام کے مقابل دیگرمذاہب کے ماننے والوں کے لیے انتہائی خطرے سے کم نہیں‌

    اخبار نے رپورٹ کیا کہ پاکستان اور اسلامی جمہوریہ ایران نے 1980 کی دہائی میں جوہری ہتھیاروں کے آلات کی تعمیر پر مل کر کام کیا۔ NZZ کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام میں مدد کرنے میں جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کی کمپنیوں کا گہرا کردار ہے اور یہ تعلق ایران سے آگے بڑھتے ہوئے پاکستان تک جاپہنچتا ہے

    اخبار نے سوئس مؤرخ ایڈریان ہانی کا حوالہ دیا جس نے کہا کہ ممکنہ طور پر موساد سوئس اور جرمن کمپنیوں کے بم حملوں میں ملوث تھی، تاہم، یہ ثابت کرنے کے لیے کوئی "سگریٹ نوشی بندوق” نہیں تھی کہ موساد نے یہ حملے کیے ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ جنوبی ایشیا میں جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی تنظیم، جو پہلے سے نامعلوم ادارہ ہے، نے سوئٹزرلینڈ اور جرمنی میں ہونے والے دھماکوں کا کریڈٹ لینے کا دعویٰ کیا ہے۔

    NZZ آنجہانی پاکستانی ایٹمی سائنسدان، عبدالقدیر خان کے کردار پر رپورٹ کیا ہے، جو پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کے بانی تھے، جنہوں نے 1980 کی دہائی کے دوران جوہری ہتھیاروں کے آلات کے لیے مغربی اداروں اور کمپنیوں سے ٹیکنالوجی اور بلیو پرنٹس حاصل کرنے کے لیے یورپ کا رخ کیا۔ اخبار نے لکھا ہے کہ خان نے 1987 میں ایران کی جوہری توانائی کی تنظیم کے ایک وفد سے زیورخ کے ہوٹل میں ملاقات کی تھی۔ ایرانی وفد کی قیادت ایران کے نیوکلیئر انرجی کمیشن کے سربراہ انجینئر مسعود نرغی کر رہے تھے۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس دوران دو جرمن انجینئرز، گوتھارڈ لیرچ اور ہینز میبس،انجینئر مسعود نرغی کے ساتھ، جنہوں نے امریکہ میں پی ایچ ڈی کی تھی، سوئٹزرلینڈ میں خان کے گروپ سے ملے۔ جبکہ اس سلسلے میں مزید ملاقاتیں متحدہ عرب امارات میں دبئی میں ہوئیں۔

    پاکستان کی جانب سے اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو تیز کرنے کی کوششوں کے ساتھ، امریکی حکومت نے کامیابی کے بغیر، جرمن اور سوئس حکومتوں کو اپنے ممالک میں ان کمپنیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کی کوشش کی جو پاکستان کی مدد کر رہی تھیں۔ موساد کے مشتبہ ایجنٹوں نے مبینہ طور پر سوئٹزرلینڈ اور جرمنی میں پاکستان کی مدد کرنے والی کمپنیوں اور انجینئرز کے خلاف کارروائی کی۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ مضبوط روابط کا انتقام لینے کے لیے اسرائیلی خفیہ ایجسی موساد نے اس وقت کے برلن میں نامعلوم مجرموں نے ان میں سے تین کمپنیوں پر دھماکہ خیز حملے کیے: 20 فروری 1981 کو کورا انجینئرنگ چور کے ایک سرکردہ ملازم کا گھر؛ 18 مئی 1981 کو مارکڈورف میں Wälischmiller کمپنی کی فیکٹری کی عمارت پر؛ اور آخر کار، 6 نومبر 1981 کو، ایرلانجن میں ہینز میبس کے انجینئرنگ آفس میں۔ تینوں حملوں کے نتیجے میں صرف املاک کو نقصان پہنچا، صرف میبس کا کتا مارا گیا۔

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی دعویٰ‌ کیا ہے کہ اس دوران ” دھماکہ خیز مواد کے حملوں کے ساتھ کئی فون کالز بھی ہوئیں جن میں اجنبیوں نے دیگر ڈیلیوری کمپنیوں کو انگریزی یا ٹوٹے ہوئے جرمن میں دھمکیاں دیں۔ بعض اوقات فون کرنے والا دھمکیوں کو ٹیپ کرنے کا حکم دیتا۔ ‘وہ حملہ جو ہم نے Wälischmiller کمپنی کے خلاف کیا تھا وہ آپ پر بھی ہو سکتا ہے’ – اس طرح Leybold-Heraeus انتظامیہ کے دفتر کو ڈرایا گیا۔ اس وقت کے VAT کے مالک Siegfried Schertler اور اس کے ہیڈ سیلز مین Tinner کو کئی بار بلایا گیا۔ Schertler نے سوئس وفاقی پولیس کو بھی اطلاع دی کہ اسرائیلی خفیہ سروس نے ان سے رابطہ کیا ہے۔ یہ تحقیقاتی فائلوں سے اس بات کی تصدیق بھی ہوتی ہے،

    Schertler نے کہا کہ جرمنی میں اسرائیلی سفارت خانے کے ایک ملازم، جس کا نام ڈیوڈ تھا، نے VAT ایگزیکٹو سے رابطہ کیا۔ کمپنی کے سربراہ نے کہا کہ ڈیوڈ نے ان پر زور دیا کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے "یہ کاروبار” بند کر دیں اور ٹیکسٹائل کے کاروبار میں جائیں۔

    سوئس اور جرمن کمپنیوں نے خان جوہری ہتھیاروں کے نیٹ ورک کے ساتھ اپنے کاروبار سے نمایاں منافع حاصل کیا۔ NZZ نے رپورٹ کیا کہ "ان میں سے بہت سے سپلائرز، خاص طور پر جرمنی اور سوئٹزرلینڈ سے، جلد ہی پاکستان کے ساتھ کروڑوں مالیت کے کاروبار میں داخل ہو گئے:

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے یہ بھی دعویٰ‌ کیا ہے کہ اسرائیل کو اس بات کا خوف تھا کہ پاکستان اگرجوہری قوت بن گیا تو اس سے عرب دنیا اوردیگراسلامی ملکوں کو حوصلہ ملے گا اور پھراس کا دباو بلا شبہ اسرائیل اور دیگراسرائیل کے حمایت یافتہ ممالک پرپڑے گا

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) کا کہنا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی نے اسرائیل ،امریکہ ، بھارت ، برطانیہ سمیت درجنوں اتحادی ممالک کی خفیہ ایجنسیوں ان کی حکومتوں اور دیگراداروں کو بڑی آسانی سے شکست دے کرپاکستان کوپہلی اسلامی ایٹمی ریاست بنانے میں مرکزی کردار ادا کیا

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) لکھتا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ہی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بانی ہے جس نے مختلف اوقات میں اسرائیل ، امریکہ ، برطانییہ ،بھارت اور دیگردرجنوں اتحادی ملکوں کے سارے منصوبوں کوخاک میں ملایا ، اخبار کا یہ بھی کہنا ہے کہ آئی ایس آئی نے اس مقصد کے لیے ڈاکٹرعبدالقدیر خان کے ساتھ ساتھ دیگر بھی کئی خفیہ کردار متحرک کررکھے تھے جن کو آج تک موساد، را ، سی آئی اے ، برطانوی ، فرانسیسی اور دیگرملکوں کی خفیہ ایجنسیاں محسوس اور ڈی ٹیکٹ نہ کرسکیں‌ اور یہی پاکستان کی کامیابی کا سب سے بڑا راز

    معروف سوئس روزنامہ Neue Zürcher Zeitung (NZZ) نے لکھا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج ہی پاکستان کے ایٹمی اثآثوں کی نگہبان اورمحافظ ہیں،امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک پاکستان کی سیاسی حکومتوں کے ذریعے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن جب مسلّح افواج کو اس بات کی خبرملتی کہ سیاسی حکومتوں کے سربراہ امریکہ کوخوش کرنے کے لیے امریکہ اور اتحادیوں کے لیے سہولت کاربن رہے ہیں تو پھرملکی سلامتی اورپہلی ایٹمی اسلامی ریاست کی جوہری قوت کو بچانے کے لیے مجبورا حکومتوں کو ختم کردیا جاتا تھا

  • خیبرپختونخوا حکومت کے اربوں روپے جا کہاں رہے ہیں؟ چیف جسٹس

    خیبرپختونخوا حکومت کے اربوں روپے جا کہاں رہے ہیں؟ چیف جسٹس

    خیبرپختونخوا حکومت کے اربوں روپے جا کہاں رہے ہیں؟ چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں بریسٹ کینسر کے بڑھتے کیسز سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی عدالت نے وفاقی اور تمام صوبائی سیکریٹری صحت کو بریسٹ کینسر سے متعلق رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا،سپریم کورٹ نے سیکریٹری صحت بلوچستان کو آئندہ سماعت پر طلب کر لیا

    ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخواہ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے بریسٹ کینسر کی مشینری اور علاج کیلئے 3 ارب روپے مختص کیے ،منصوبے کا پی سی ون تیار کر لیا گیا ہے، چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ صرف پی سی ون ہی بناتے رہتے ہیں عملدرآمد کوئی نہیں ہوتا، جسٹس جمال خان مندو خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اصل مسئلہ انسانی وسائل کا ہے،کروڑوں کی مشینری لا کر رکھ دی جاتی ہے، استعمال کوئی نہیں جانتا جب تک اسپتالوں کا سیٹ اپ بنائیں گے تب تک لوگ مرتے رہیں گے، صوبہ بلوچستان میں ایک بھی انکالوجسٹ نہیں،

    ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ خیبرپختونخواحکومت نے صحت کارڈ کے اجراء کا کام شروع کیا ہے، صحت کارڈ کے تحت ہر شہری کو 10 لاکھ روپے تک علاج کرانے کی سہولت دی گئی ، چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے5،6ارب مختص کر دیے ہوں گے تا کہ لوگ اس میں سے پیسہ کھاتے رہیں، ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے نوٹس لیا تو حکومتوں کو ہوش آیا،چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کے گورنمنٹ سیکٹر میں تو کوئی کام ہو ہی نہیں رہا، جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صحت کارڈز کا کوئی طریقہ کار تو ہو، کس کس کو صحت کارڈ دیں گے؟

    چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کے سرکاری اسپتالوں میں نہ کوئی ایکسرے مشین کام کرتی ہے نہ آکسیجن کا نظام ہے،کے پی حکومت کے اربوں روپے جا کہاں رہے ہیں؟ خیبر پختونخوا کے اسپتالوں میں ٹاپ سے لے کر نیچے تک لوگ سفارش پر بھرتی کیے گئے ہیں،خیبرپختونخوا حکومت کے اربوں روپے جا کہاں رہے ہیں؟ جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ بلوچستان کا ہیلتھ بجٹ کہاں جاتا ہے؟ بلوچستان میں آج تک کوئی اوپن ہارٹ سرجری نہیں ہوئی،کیس کی سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دی گئی.

    @MumtaazAwan

    کراچی کو مسائل کا گڑھ بنا دیا گیا،سرکاری زمین پر قبضہ قبول نہیں،کلیئر کرائیں، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ کا کراچی کا دوبارہ ڈیزائن بنانے کا حکم،کہا آگاہی مہم چلائی جائے

    وزیراعظم کو بتا دیں چھ ماہ میں یہ کام نہ ہوا تو توہین عدالت لگے گا، چیف جسٹس

    تجاوزات ہٹانے جائینگے تو لوگ گن اور توپیں لے کر کھڑے ہوں گے،آرمی کو ساتھ لیجانا پڑے گا، چیف جسٹس

    سرکلر ریلوے، سپریم کورٹ نے بڑا حکم دے دیا،کہا جو بھی غیر قانونی ہے اسے گرا دیں

    ہم نے کہا تھا کیسے کام نہیں ہوا؟ چیف جسٹس برہم، وزیراعلیٰ کو فوری طلب کر لیا

    آپ کی ناک کے نیچے بحریہ بن گیا کسی نے کیا بگاڑا اس کا؟ چیف جسٹس کا استفسار

    آپ کو جیل بھیج دیں گے آپکو پتہ ہی نہیں ہے شہر کے مسائل کیا ہیں،چیف جسٹس برہم

    کس کی حکومت ہے ؟ کہاں ہے قانون ؟ کیا یہ ہوتا ہے پارلیمانی نظام حکومت ؟ چیف جسٹس برس پڑے

    شہر قائد سے تجاوزات کے خاتمے کیلئے سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    کراچی میں سپریم کورٹ کے حکم پرآپریشن کا آغاز،تاجروں کا احتجاج

    سو برس بعد بھی قبضہ قانونی نہیں ہو گا،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    کیا ملزم کو پیش کرنے سے سپریم کورٹ کی عمارت اڑ جائے گی؟ چیف جسٹس برہم

  • مریم نواز کی ایک اور مبینہ آڈیو لیک،سینئر تجزیہ کاروں سے متعلق نازیبا کلمات کا استعمال

    مریم نواز کی ایک اور مبینہ آڈیو لیک،سینئر تجزیہ کاروں سے متعلق نازیبا کلمات کا استعمال

    مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز اور پرویزرشید کی ایک اور مبینہ آڈیو سامنے آگئی –

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق مریم نواز مبینہ آڈیو میں سابق وزیر اطلاعات پرویزرشید سے گفتگوکررہی ہیں آڈیو میں سینئرصحافی حسن نثار اور ارشاد بھٹی پرالزامات لگا ئے گئے اور سینئر تجزیہ کاروں سے متعلق نازیبات کلمات کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔


    مبینہ آڈیومیں مریم نواز پرویز رشید کو جیو گروپ کو ہدایات دینے پر بات کررہی ہے ، پرویز رشید کہہ رہے ہیں کہ اس کورکارڈ میں حسن نثارصاحب آپ کوپتا ہے ہم کو گالیاں دیتے ہیں، ارشاد بھٹی ایڈ کر لیا ہے وہ بھی آپ کو معلوم ہے گھٹیا گفتگوکرتا ہے۔

    مریم نواز کی آڈیو بھی لیک ہو گئی

    پرویز رشید آڈیو میں کہتے ہیں کہ مظہرعباس کی گفتگو ہمارےخلاف ہوتی ،طنز بھی ہوتا ہےمذاق بھی ، باقی کوئی بندہ وہاں نہیں جس کوہمارااسپوک پرسن کہا جاسکے،مریم نے نواز کہتی ہیں کہ ستار بابر ہے وہ آزادانہ رائے رکھتا ہے، ستار بابر بھی عام طور پر ہمارےبہت حق میں نہیں ہے-

    پرویز رشید نے مزید کہا کہ حفیظ اللہ نیازی ہمارانقطہ نظر نہیں دیتا ، جس طرح یہ گالیاں دیتے ہیں یہی سلوک وہ عمران خان سےکرتاہے،حفیظ اللہ نیازی کو ہٹا دیا، اس کا کالم بھی بند کردیا گیا ہے، یہ بڑی زیادتی اور ناانصافی ہے۔

    مبینہ آڈیو میں مریم نواز نے کہا انکل میں پوچھوں گی ناں کہ پہلے بتاؤہٹا یا کیوں ہے؟ جس پر پرویز رشید کا کہنا تھا کہ درخواست ہےاس سے بھی بات کریں اورمیرشکیل سےبھی کریں۔

    پی ٹی آئی کا مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے خفیہ اکاؤنٹس چھپانے کا دعویٰ

    مریم نواز نے کہا کہ پہلے میں اس سے اندر کی خبر توپوچھوں تو پرویزرشید کا کہنا تھا کہ اتنا بیلنس پروگرام ہوگا عمران خان کےاوپر جو چیک تھاختم کردیا، ہمارے اوپر بھونکنے والےبٹھا دیئےمریم نواز نے کہا کہ انکل یہ بالکل ہی ایک وائس میس ہے-

    مبینہ آڈیو میں مریم نواز نے دوصحافیوں کو باسکٹس دینے کی بھی ہدایت کی کہا کہ ابو آذربائیجان سےدوباسکٹس لائےہیں ، ایک نصرت جاوید اور ایک رانا جواد کو دینی ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان سمیت دیگر اراکان اسمبلی کی ٹیکس تفصیلات سامنےآ گئیں

    واضح رہے کہ گزشتہ سال نومبر میں بھی پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نوازصفدر کی آڈیوسامنے آئی تھی جن میں انہوں نے اپنی پارٹی کو 4 بڑے نجی چینلز کا بائیکاٹ کرنے کی ہدایات دی تھیں آڈیو میں وہ اپنی میڈیا ٹیم کو اے آر وائی نیوز، 92 نیوز،سماءنیوز اور 24 نیوز چینلز کو کسی بھی قسم کا کوئی بھی بیان اور ایڈ بھیجنے پرمنع کرتے سانئی دیں کہا تھا کہ مذکورہ بالا 4 نجی ٹی وی چینلز کو کسی بھی قسم کا بالکل کوئی بھی ایڈ‌نہیں بھیجا جائے گا-

  • کابینہ اجلاس، وزیراعظم عمران خان نے بڑی پابندی لگا دی

    کابینہ اجلاس، وزیراعظم عمران خان نے بڑی پابندی لگا دی

    کابینہ اجلاس، وزیراعظم عمران خان نے بڑی پابندی لگا دی
    وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ختم ہو گیا ہے

    اجلاس میں ملکی معاشی اور سیاسی صورتحال سمیت 7 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا،وفاقی کابینہ نے متعدد نکات کی منظوری دے دی، وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ اجلاس میں کہا کہ تمام وزارتیں اپنی سالانہ کارکردگی کی رپورٹ عوام کے سامنے رکھیں کوئی بھی سفیر آئندہ وزارت خارجہ کو پیشگی اطلاع دیئے بغیر کسی وزیر سے ملاقات نہیں کریگا، وزارت خارجہ کی کلیئرنس کے بعد سفرا دیگر وزرا سے ملاقات کر سکیں گے، ایسی تمام ملاقاتوں میں وزارت خارجہ کی جانب سے ایک نمائندہ بھی شریک ہو گا،

    وزیر اعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر غور کیا گیا، پاکستان ادارہ شماریات میں 3 ممبران کی تقرری کا معاملہ بھی کابینہ اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا گیا وفاقی کابینہ اجلاس میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف انٹیلی جینس اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کے قیام کی سمری پیش کی گئی، قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف انٹیلی جینس اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کی قیام کی تجویز بھی دی گئی، ملزم عبدالقادراحسان کی برطانیہ حوالگی کی منظوری دی گئی

    قبل ازیں وزیر اعظم عمران خان سے وزیر صنعت و پیداوار خسرو بختیارکی ملاقات ہوئی ہے ،ملاقات میں علاقائی تنظیمی ڈھانچے اور جنوبی پنجاب کی ترقی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ،وزیراعظم عمران خان نے جنوبی پنجاب میں پی ٹی آئی کو مضبوط اور فعال بنانے کی ہدایت کی وزیراعظم نے ترقیاتی منصوبوں اورجنوبی پنجاب سیکریٹریٹ کو جلد مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی

    قبل ازیں وزیرِ اعظم عمران خان سے انصاف لائیرز فورم کے وفد کی ملاقات ہوئی ہے، ملاقات میں ایڈیشنل سیکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف عامر محمود کیانی کے علاوہ چیرمین آئی ایل ایف سینیٹر علی ظفر، نوید سہیل ملک، فیاض احمد مہر، قیصر عباس شاہ، عمیر نیازی، انیس ہاشمی، نہا وسیم شامل تھے۔ ملاقات میں آئی ایل ایف کی مختلف امور پر بات چیت ہوئی۔وزیرِ اعظم نے اس موقع پر کہا کہ حکومت قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے اور اس بات پر زور دیا کہ مراعات یافتہ طبقے اور عام شہری پر قانون کا اطلاق یکساں ہونا چاہیئے.