Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • سی پیک ناگزیر:حکومت چین اورعوام کامشکورہوں جو    میرےدورہ چین کےشدید منتظرہیں:وزیراعظم عمران خان

    سی پیک ناگزیر:حکومت چین اورعوام کامشکورہوں جو میرےدورہ چین کےشدید منتظرہیں:وزیراعظم عمران خان

    اسلام آباد: ملکی ترقی کیلئے سی پیک ناگزیر ہے:چین کی حکومت اور عوام کا مشکور ہوں جومیری آمد کے شدید منتظرہیں: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں اس بات پرمکمل اتفاق ہے ملک کی قومی ترقی کے لیے سی پیک ناگزیرہے۔ عوام اور ریاستی ادارے سی پیک کو پاک چین دوستی میں رکاوٹیں ڈالنے والوں سے تحفظ فراہم کرنے اور ہمارے مفادات کو نقصان پہنچانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے پرعزم ہیں۔

    چین کے اخبار گلوبل ٹائمز میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں وزیراعظم نے لکھا کہ پاک چین شراکت داری بین الریاستی تعلقات میں بے مثال ہے، بیلٹ اینڈ روڈ اقدام کے پرچم بردار منصوبہ کے طور پر پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) دونوں ممالک کے لیے بہت زیادہ اقتصادی اور تزویراتی اہمیت رکھتا ہے، پاکستان میں اس بات پرمکمل اتفاق ہے ملک کی قومی ترقی کے لیے سی پیک ناگزیرہے، ہماری حکومت سی پیک کو کو بی آرآئی کاایک اعلیٰ معیار کا مظہر منصوبہ بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے، پاکستان میں چینی عملے اور منصوبوں کی حفاظت اور تحفظ ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہیں، ملکی عوام اور ریاستی ادارے سی پیک کو پاک چین دوستی میں رکاوٹیں ڈالنے والوں سے تحفظ فراہم کرنے اور ہمارے مفادات کو نقصان پہنچانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے پرعزم ہیں، یقین ہے ہمارے لوگوں کے درمیان روابط مزید گہرے ہوں گے اور ہماری دوستی کی بہترین روایات ہماری آنے والی نسلوں تک منتقل ہوں گی ۔

    انہوں نے لکھا کہ ہمارے روابط عالمی و علاقائی پیش ہائے رفت کے اتار و چڑھاو سے قطع نظر آزمودہ اور ہمہ وقت ہیں۔ گزشتہ برس ہمارے سفارتی تعلقات کے قیام کی 70 ویں سالگرہ منانے کے لئے عظیم الشان تقریبات نے ہماری دوستی کو نئی قوت اور ولولہ بخشا ہے۔ پاکستان میں ہمارے لئے چین کے ساتھ تعلقات ہماری خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہیں جسے ہمہ جہت سیاسی حمایت حاصل ہے اور میں یہ بات پورے اعتماد سے کہہ سکتا ہوں ہماری عوام اس دوستی کی حقیقی قدر کا بھرپور ادراک رکھتے ہیں اور اس کے مزید فروغ کے لئے جذبے سے اپنا کردار ادا کرتے ہیں، اس دوستی کی گہرائی اور استحکام کے اظہار کے حوالے سے کی خصوصی ضرب المثل وضع کیے گئے۔

    وزیراعظم نے لکھا کہ وہ آئندہ چند دنوں میں سرمائی اولمپک گیمز کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لئے بیجنگ کا دورہ کریں گے۔ خود ایک کھلاڑی ہونے کے ناطے وہ اس جذبے کو سمجھ سکتے ہیں جو ایک قوم میں اولمپکس کی طرح کے کھیلوں کے مقابلے سے پیدا ہوتاہے، میں سمجھتا ہوں کہ کھیلیں یکجہتی کا عنصر ہوتی ہیں اور یہ سیاست سے بالا تر ہونا چاہئیں۔

    وزیراعظم نے اس بڑے ایونٹ کی میزبانی پر چین کی قیادت اور عوام کو مبارکباد دی اور تمام شرکاؤں کی صحت و تحفظ اور کامیاب کھیلوں کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ اکتوبر 2019 میں ان کے آخری دورہ چین کے بعد سے کووڈ 19 کی عالمگیر وبا کی صورت میں سب سے بڑا عصری چیلنج سامنے آیا جس سے دنیا میں تبدیلی آئی ہے، یہ وبا انسانی زندگیوں اور معاش پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی ایک اور عفریت ہے جس کا ہمیں سامنا ہے، ماحولیاتی تبدیلی ان کامیابیوں میں خلل ڈالنے کی صلاحیت رکھتی ہے جو بنی نوع انسانیت نے آج تک حاصل کی ہے۔

    انہوں نے لکھا کہ جغرافیائی سیاست کی ضروریات نے ہمارے خطے میں نئی صف بندیوں کو جنم دیا جو بہت سے لوگوں کے لیے گزشتہ صدی کے نظریاتی محاذآرائی کی یاد دلاتا ہے۔ افغانستان گزشتہ 20 سالوں سے عدم استحکام اور انتشار کا شکار تھا اور خطے میں امن کی واپسی کی امید کے ساتھ اس عدم استحکام اورانتشارکے خاتمہ کا وقت قریب آچکا ہے۔افغانستان میں معاشی بدحالی اور انسانی بحران کے سدباب کیلئے بین الاقوامی برادری کا متحرک کردار اورشمولیت ضروری ہے ۔

    وزیراعظم نے کہاکہ موجودہ چیلنجز خواہ کتنے بڑے کیوں نہ ہوں ہمارے خطے اور اس سے باہر امن اور خوشحالی کے لیے بوجوہ تکثریت اور بین الاقوامی تعاون کے متقاضی ہے جیسا کہ صدر شی جن پنگ نے عالمی اقتصادی فورم سے اپنے حالیہ خطاب میں مناسب طور پر ذکر کیا ہے کہ عالمی بحران کے بڑھتے ہوئے طوفانوں کے درمیان ممالک 190 چھوٹی کشتیوں میں الگ الگ سوار نہیں بلکہ سب ایک بڑے جہاز کے سوار ہیں جس پر ہماری مشترکہ تقدیربھی ہے۔

    عمران خان نے لکھا کہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے پاکستان اور چین نے ماضی میں مشترکہ طور پر ایسی عہد ساز تبدیلیوں کو عبور کیا اور اس میں کامیاب رہے۔ دونوں ممالک نے بنیادی قومی مفادات کے امور پر ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔ ہمارا مشترکہ وژن ہے جنوبی ایشیا میں پائیدار امن خطے میں تزویراتی توازن کو برقرار رکھنے پر منحصر ہے، سرحدوں سے متعلق امور، مسئلہ کشمیر جیسے تمام تصفیہ طلب مسائل کومذاکرات وسفارتکاری اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں واقدار کے مطابق حل کرنا چاہئیے ۔

    وزیراعظم نے لکھا کہ کووڈ 19 کی عالمگیروبا کے خلاف دوطرفہ تعاون نے پاک چین مضبوط دوستی کو مزید تقویت دی ہے۔ آہنی بھائی ہونے کے ناطے پاکستان عالمگیروبا کے پھوٹنے کے بعد چین کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہا۔ صدر عارف علوی کے بیجنگ کے یکجہتی دورے سے لے کر چین کی جانب سے وبا سے نمٹنے کیلئے اشیاء سے لدھے 60 سے زائد طیاروں کی پاکستان روانگی تک باہمی تعاون اور خیر سگالی کی روشن مثال سامنے آئی ہے۔ چینی ویکسین اب پاکستان میں جاری بڑے پیمانے پر ویکسینیشن مہم کا بنیادی مرکز بن چکی ہیں۔

    انہوں نے لکھا کہ پائیدار اورمضبوط پائیدار ترقی کے لیے پاکستان نئی راہوں کا تعین اور جغرافیائی واقتصادی (جیواکنامکس) مرکز کے طور پر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی کوششیں کر رہا ہے۔ پاکستان کی نئی قومی سلامتی کی پالیسی میں ہماری حکومت کے عوام کی خوشحالی، بنیادی حقوق اور سماجی انصاف کو یقینی بنانے کے نقطہ نظرپرتوجہ مرکوزکی گئی ہے، ان اہداف کے حصول کیلئے ہم چین کی کامیابیوں سے رہنمائی حاصل کررہے ہیں خواہ وہ 80 کروڑ لوگوں کو کو مکمل غربت سے باہر نکالنا ہو یا عالمگیروبا کے خلاف عوام کی جنگ میں فتح ہوں ۔ دوست، پڑوسی اور شراکت دار ملک کے طور پر چین کے لوگوں، کاروباری اداروں اور کاروباری شخصیات کو پیش کرنے کے لیے پاکستان کے پاس بہت کچھ ہے۔

    چینی سرمایہ کاروں اورعوام کو مخاطب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان بھرپور تاریخ، ثقافتی تنوع اور شاندار مناظر کا حامل ملک ہیں۔22 کروڑ آبادی، نوجوان اور ہنر مند افرادی قوت، سٹریٹجک محل وقوع، سرمایہ کاری کیلئے سازگارودوستانہ ماحول اور چینی عوام کے لیے گرمجوشی کے جذبات کے ساتھ پاکستان آپ کو آپ کی اگلی سرمایہ کاری اور اگلے تفریحی سفر کے لیے خوش آمدید کہتا ہے۔ چین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی اور سرمایہ کاری شراکت دار ملک بن گیا ہے۔ 2021 میں دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت تاریخی سطح پر پہنچ گئی۔ کئی چینی کاروباری اداروں نے پاکستان میں مضبوط موجودگی قائم کرلی ہے جو ہماری سماجی اور اقتصادی ترقی میں اپنا کرداراداکررہے ہیں ۔ چین پاکستان کے لائیو سٹاک اور زرعی مصنوعات کی ایک بڑی منڈی بن سکتا ہے۔ اسی طرح پاکستان صنعت کاری، زراعت میں جدت ، ای کامرس اور ڈیجیٹل فنانس میں چینی مہارت سے استفادہ کرسکتاہے ۔

    عمران خان نے لکھا کہ پاکستان صدر شی جن پنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ اقدام کے ابتدائی شرکاء میں سے ایک ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ اقدام( بی آر آئی) کے پرچم بردار منصوبہ کے طور پر پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) دونوں ممالک کے لیے بہت زیادہ اقتصادی اور تزویراتی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان میں اس بات پرمکمل اتفاق ہے کہ ملک کی قومی ترقی کے لیے سی پیک ناگزیرہے ۔ ہماری حکومت سی پیک کو کو بی آرآئی کاایک اعلیٰ معیار کا مظہر منصوبہ بنانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ سی پیک پاکستان کے توانائی کے دیرینہ بحران سے نمٹنے اوربنیادی ڈھانچہ کی ترقی کے ذریعے رابطوں کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان گوادر کی بندرگاہ اور خصوصی اقتصادی زونز کی ترقی پر بھی تیزی سے پیش رفت کررہاہے جس سے پورے خطے کو فائدہ پہنچے گا۔

    وزیراعظم نے کہاکہ ترقی کی کوئی بھی مقدار اس وقت تک کوئی معنی نہیں رکھتی جب تک اس کے ثمرات معاشرے کے معاشی طور پسماندہ طبقے تک نہ پہنچ جائیں، اس لیے غربت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا اور پاکستانی عوام کو اپنی قسمت کا مالک بننے کے لیے بااختیار بنانا میراوژن ہے، اسی تناظرمیں سی پیک کے دوسرے مرحلہ کو روزگار کی تخلیق، صنعتی جدید کاری، معاش میں بہتری، دیہی علاقوں اور سماجی و اقتصادی ترقی اور غربت کے خاتمے کے لیے ترتیب دیا گیاہے ۔ ان منصوبوں کوتقویت دینے کیلئے ہماری حکومت نے “احساس” پروگرام شروع کیاہے جوتخفیت غربت اور سماجی اٹھان کے لیے بڑا سماجی تحفظ کا نیٹ ورک ہے۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ پاکستان میں چینی عملے اور منصوبوں کی حفاظت اور تحفظ ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہیں ۔پاکستان کے عوام اور ریاستی ادارے سی پیک کو پاک چین دوستی میں رکاوٹیں ڈالنے والوں سے تحفظ فراہم کرنےاور ہمارے مفادات کو نقصان پہنچانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے پرعزم ہیں۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ چین موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کو کم کرنے اور فطرت کو اس کی اصلی خوبصورتی میں بحال کرنے میں قائدانہ کرداراداکررہاہے ۔ ہم چین کے ساتھ ملکر موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور مشترکہ لیکن مختلف ذمہ داری کے اصول کی بنیاد پر مستقبل میں پیش رفت کے منتظر ہیں۔

    وزیراعظم نے کہاکہ ان کا سرسبز وشاداب پاکستان اورچین کے صدر شی جن پنگ کا “خوشحال، صاف اور خوبصورت دنیا” کا وژن ایک جیساہے ۔ پاکستان جنگلات کووسعت دینے اورجنگلات کی بحالی کیلئے دنیا کی سب سے پرجوش کوششوں میں سے 10 بلین ٹری سونامی پراجیکٹ کے ایک حصے کے طور پر ایک ارب درخت لگا چکا ہے۔

    وزیراعظم نے کہاکہ ڈیجیٹل دور میں جدت، اختراع اور ٹیکنالوجی پائیدار اور مضبوط وتیزتر ترقی کی بنیادی گاڑی کے طور پر کام کرتی ہے، پاکستان چین کے ساتھ کوانٹم کمپیوٹنگ، روبوٹکس، مصنوعی ذہانت، کلائوڈ اور بگ ڈیٹا میں دوطرفہ استفادہ پرمبنی تعاون کو بڑھانے کا خواہاں ہے۔ شی جن پنگ کی جانب سے پیش کردہ گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کے مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے چین کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

    وزیراعظم نے کہاکہ گزشتہ چندسالوں میں دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان رابطوں میں اضافہ ہمارے دوطرفہ تعلقات کے سب سے زیادہ امید افزا اور یقین دہانی کرنے والے پہلوئوں میں سے ایک ہے۔ دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت میں گرمجوشی ہمارے عوام کے درمیان محبت اور بھائی چارے کے جذبات کی آئینہ دار ہے۔ دونوں ممالک کے 40 سے زائد صوبے اور شہر جڑواں قراردئیے گئے ہیں، یقین ہے ہمارے لوگوں کے درمیان روابط مزید گہرے ہوں گے، اور ہماری دوستی کی بہترین روایات ہماری آنے والی نسلوں تک منتقل ہوں گی ۔ خوشی ہے چینی عوام صدر شی جن پنگ اور چین کی کمیونسٹ پارٹی کی قابل قیادت کی رہنمائی میں عظیم قومی تجدید کے حصول کے لیے پرعزم ہے۔

    وزیراعظم نے لکھا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے وہ اس بات کا اعادہ کرنا چاہتے ہیں پاکستان کی صورت میں چین کو ہمیشہ ایسا قابل اعتماد دوست ملے گا جو نہ صرف امن اور خوشحالی کی لہروں بلکہ چیلنجوں کے بڑھتے ہوئے طوفانوں میں بھی اس کے ساتھ کھڑا رہے گا۔

    وزیراعظم نے چین کی قیادت اورعوام کو شیر کے سال اور بہار کے تہوار کے لیے نیک خواہشات کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ انہیں امید ہے کہ پاک چین دوستی کا مقدس شعلہ پائیدار چمک اور گرمجوشی کے ساتھ چمکتا رہے گا۔ پاک چین دوستی زندہ باد!

  • دہشتگردوں کو کٹہرے میں لائیں گے، شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا: آرمی چیف

    دہشتگردوں کو کٹہرے میں لائیں گے، شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا: آرمی چیف

    راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا، شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، بلوچستان پاکستان کا مستقبل ہے۔

    خیال رہے کہ سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کا بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب چند روز قبل دہشتگردوں کے حملے میں بلوچستان کے ضلع کیچ میں دس جوان شہید ہوئے تھے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق آرمی چیف نے تربت کا دورہ کیا، کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی نے استقبال کیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق تربت کے بعد جنرل قمر باجوہ نے بلوچستان کے ضلع کیچ کا بھی دورہ کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے پورا دن فوجیوں کے ساتھ گزارا اور کیچ میں تعینات فوجیوں سے بات چیت کی جبکہ کور ہیڈکوارٹر ایف سی بلوچستان جنوبی میں بریفنگ دی گئی اور پاک ایران باڑ لگانے سمیت سکیورٹی اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔

    بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ بلوچستان حکومت کو ترقیاتی منصوبوں میں بھرپور تعاون فراہم کیا جا رہا ہے، پاک فوج کے صوبائی حکومتی مدد کے لیے سماجی و اقتصادی اقدامات جاری ہیں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد بڑھائی جا رہی ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق بریفنگ کے دوران بتایا کہ بلوچستان میں سکیورٹی صورتحال غیر مستحکم کرنے کی دشمن کی کاوشوں کا مقابلہ کیا جا رہا ہے۔

    آرمی چیف کا اس موقع پر کہنا تھا کہ فوج پائیدار امن اور خوشحالی کے لیے صوبائی حکومت کی ہر ممکن مدد کرے گی۔ دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا، شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، بلوچستان پاکستان کا مستقبل ہے، صوبے کی ترقی اور خوشحالی کا مطلب ملک کی ترقی ہے۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ دشمن قوتوں کی طرف سے خلل ڈالنے والی کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا، بلوچستان کی سلامتی، استحکام اور خوشحالی کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔

  • بھارت نے جاسوسی کیلئے اسرائیل سے پیگاسس اسپائی وئیرخریدا،رپورٹ

    بھارت نے جاسوسی کیلئے اسرائیل سے پیگاسس اسپائی وئیرخریدا،رپورٹ

    نئی دہلی: نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت نے 2017 میں اسرائیل سے ہتھیاروں کی خریداری کے ساتھ جاسوسی کے لئے استعمال ہونے والا سوفٹ وئیر اسپائی وئیرخریدنے کا بھی معاہدہ کیا بھارتی حکومت اوراسرائیل کے ہتھیاروں کی خریدی کے معاہدے میں اسپائی وئیرکی خریداری بھی شامل تھی۔

    باغی ٹی وی :پچھلے سال ایک بڑے تنازعہ نے جنم لیا جب این ایس او گروپ کچھ حکومتوں کی طرف سے صحافیوں، انسانی حقوق کے محافظوں، سیاست دانوں اور دیگر ممالک بشمول ہندوستان کی جاسوسی کے لیے اپنے پیگاسس سافٹ ویئر کے مبینہ استعمال کے ساتھ سرخیوں میں آیا، جس سے رازداری کے لیے
    متعلقہ مسائل پر تشویش پیدا ہوئی۔

    اسرائیل کا جاسوس سافٹ وئیر "پیگاسس” کیا ہے اور کیسے کام کرتا ہے؟

    نیویارک ٹائمز نے ‘دنیا کے سب سے طاقتور سائبر ہتھیاروں کے لیے جنگ’ کے عنوان سے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیلی فرم NSO گروپ تقریباً ایک دہائی سے "اپنا سرویلنس سافٹ ویئر سبسکرپشن کی بنیاد پر دنیا بھر کے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو فروخت کر رہا ہے یہ وعدہ کرتے ہوئے کہ یہ وہ کام کر سکتا ہے جو کوئی اور نہیں کر سکتا ہے کوئی نجی کمپنی نہیں، یہاں تک کہ کوئی ریاستی انٹیلی جنس سروس بھی نہیں کر سکتی ہے: کسی بھی آئی فون یا اینڈرائیڈ سمارٹ فون کی انکرپٹڈ کمیونیکیشنز کو مستقل اور قابل اعتماد طریقے سے کریک کریں۔” رپورٹ میں جولائی 2017 میں وزیر اعظم نریندر مودی کے اسرائیل کے دورے کا بھی حوالہ دیا گیا تھا –

    پیگاسس سے جاسوسی پاکستان سالمیت پرحملہ ہے، قانونی چارہ جوئی کرینگے، مشیر داخلہ کا اعلان

    امریکی اخبار کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مودی سرکار نے 2017 میں اسرائیل سے اسپائی وئیرپیگاسس خریدنے کا بھی معاہدہ کیا۔ اسپائی وئیرکوسیاسی مخالفین اوردیگرشخصیات کی جاسوسی کے لئے استعمال کیا جانا تھا۔

    کیا دنیا بھر میں جاسوسی کرنے والے پیگاسس کی مدد واٹس ایپ نے کی اور پاک فوج کیسےمحفوظ رہی؟ پی ٹی اے حکام کے انکشافات

    بھارت نے 2017 میں اسرائیل سے 2 بلین ڈالرزمالیت کے ہتھیاروں کی خریداری کا معاہدہ کیا تھا جس میں جاسوسی کے لئے استعمال ہونے والا اسپائی وئیربھی شامل تھا بھارت اوراسرائیل کی حکومتوں نے اسپائی وئیرکی فروخت کے معاہدے کوعوامی سطح پرتسلیم نہیں کیا ہے۔

    چین کے معاملات پر شور مچانے والے اسرائیل اور پیگاسس معاملے پر کیوں خاموش ہیں؟ روسی میڈیا نے سوال اٹھا دیا

    رپورٹ میں کہا گیا کہ مہینوں بعد، نیتن یاہو نے ہندوستان کا ایک غیر معمولی سرکاری دورہ کیا۔ اور جون 2019 میں، ہندوستان نے اقوام متحدہ کی اقتصادی اور سماجی کونسل میں اسرائیل کی حمایت میں ووٹ دیا تاکہ فلسطینی انسانی حقوق کی تنظیم کو مبصر کا درجہ دینے سے انکار کیا جا سکے، جو کہ قوم کے لیے پہلا قدم تھا۔”

    کانگریس پارٹی کے رہنما راہول گاندھی نے اسپائی وئیرکی خریداری کے انکشاف پرمودی سرکار کوکڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ غداری ہے۔ حکومت نے سیاسی مخالفین، ججز اورعام آدمی کی جاسوسی کے لئے آلات خریدے جوغداری کے مترادف ہے کانگریس نے اسپائی وئیر کی خریداری سے متعلق شفاف تحقیقات اورذمہ داروں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

    بھارت کا پیگاسس کے ذریعے 25 کشمیری رہنماؤں اور صحافیوں کی جاسوسی کا انکشاف

  • وزیراعظم کا دورہ چین دونوں ممالک کی شراکت داری کو مزید مضبوط کرے گا،ترجمان دفتر خارجہ

    وزیراعظم کا دورہ چین دونوں ممالک کی شراکت داری کو مزید مضبوط کرے گا،ترجمان دفتر خارجہ

    دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان 3 سے 5 فروری تک چین کے دورہ کریں گے، دورے کے دوران وزیر اعظم سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں شرکت کریں گے اور چینی رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ یہ دورہ ہر طرح کے حالات میں تعاون کے لیے دونوں ممالک کی شراکت داری کو مزید مضبوط کرے گا اور آنے والے وقت کے لیے مشترکہ مستقبل سے متعلق پاک ۔ چین کمیونٹی روابط کو مضبوط کرنے کے مقصد کے حصول میں مدد دے گا وزیر اعظم عمران خان تقریباً دو سال بعد چین کا دورہ کر رہے ہیں، اہم دورے کے دوران دونوں ممالک باہمی تعاون کے جاری منصوبوں کے ساتھ ساتھ نئے منصوبوں پر غور کریں گے۔

    پاکستان میں غربت کے خاتمے کیلئے چینی ترقیاتی ماڈل کی تقلید کرنا چاہتے ہیں، وزیراعظم

    ترجمان دفتر خارجہ نے اس موقع پر ایک بار پھر اربوں ڈالر کے انفرااسٹرکچر منصوبے پاک ۔ چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کی رفتار میں کمی کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ منصوبہ تیزی سے مکمل ہو رہا ہے گزشتہ دو سالوں کے دوران کورونا وبا کے باجود سی پیک پر کام تیزی سے جاری ہے، گزشتہ جے سی سی کا اجلاس کافی مثبت رہا اور سی پیک کے کئی منصوبے جاری ہیں۔

    عاصم افتخار کا سی پیک روڈ اینڈ بیلٹ انیشیٹو کو اعلیٰ معیار کا مظہر منصوبہ قرار دیتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ دونوں ممالک منصوبے کو مزید آگے بڑھانے اور اس کی کامیابی کے لیے پرعزم ہیں۔

    بھارت کے ساتھ تعلقات کی بحالی سے متعلق سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ فی الحال اس کے لیے حالات سازگار نہیں ہیں دونوں ممالک کے ہائی کمشنر کی واپسی بھی اسی صورت میں ہوسکتی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان چیزیں مثبت سمت میں جانے لگیں موجودہ حالات میں معاملات بہتر نہیں ہیں اور ہمارے خیال میں موجودہ صورتحال کی ذمہ داری بھارت پر عائد ہوتی ہے۔

    اسلام آباد: گھرمیں کھڑی گاڑی سے کروڑوں روپے مالیت کی ہیروئن برآمد

    عاصم افتخار نے کہا کہ بھارت کو دونوں ممالک کے درمیان تعمیری مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں بھارت کے اپنے زیادہ تر پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات خراب ہیں بھارت نے پاکستان کے ساتھ تناؤ کو کم کرنے اور تعلقات کو نارمل کرنے کے مشترکہ دوستوں کے مشورے کو نظر انداز کیا ہے بدقسمتی سے بھارت نے مثبت ردعمل کا اظہار نہیں کیا بلکہ صورتحال کو خراب کیا ہے۔

    پرویز مشرف اثاثہ جات کیس: نیب چیئرمین کے خلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر

  • پاکستان میں غربت کے خاتمے کیلئے چینی ترقیاتی ماڈل کی تقلید کرنا چاہتے ہیں، وزیراعظم

    پاکستان میں غربت کے خاتمے کیلئے چینی ترقیاتی ماڈل کی تقلید کرنا چاہتے ہیں، وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ چین نے 40 سال محنت کی اور اپنی معیشت کو ترقی دے کر لوگوں کو غربت سے نکالا، میرا بھی بنیادی مقصد لوگوں کو غربت سے نکالنا ہے، میں پاکستان میں غربت کے خاتمے کے لیے چینی اصول سے رہنمائی لینا اور چینی ترقیاتی ماڈل کی تقلید کرنا چاہتا ہوں-

    باغی ٹی وی : وزیر اعظم عمران خان نے چینی میڈیا کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان بہترین تعلقات ہیں اور آئندہ ہفتے چین کا دورہ کر رہا ہوں دورہ چین ہمیشہ باعث خوشی رہا ہے پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات وقت کے ساتھ مضبوط ہو رہے ہیں اور چین نے کورونا سمیت ہر مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کی ہے۔ شاہراہ قرارقرم بنتے وقت دشوار گزار راستوں کے باوجود کام ہوتا رہا سی پیک پاکستان اور چین کے درمیان بہترین منصوبہ ہے جبکہ سی پیک پاکستان اور چین کو قریب لایا۔

    پرویز مشرف اثاثہ جات کیس: نیب چیئرمین کے خلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر

    وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان 40 سال مشکل میں رہا اور اسے میدان جنگ بنایا گیا اور مغربی افواج کے انخلا کے بعد وہاں انسانی بحران کا خدشہ پیدا ہوا عالمی برادری افغانستان کی مدد کرے اور انسانی بحران سے بچانے میں تعاون کرے، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں، عالمی برادری بھارتی فو رسز کے مظالم پر خاموشی توڑے۔

    انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش ہے چینی کھلاڑیوں کو کرکٹ سکھائیں اور کورونا سے کھیل کی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔ خیبرپختونخوا میں گلگت سمیت دیگر علاقے کھیل کے لیے بہترین ہیں اور خنجراب پاس کے قریب پاکستان اور چین میں کھیلوں کی سرگرمیوں کے خواہاں ہیں۔ چین کھیلوں میں آگے نہیں تھا مگر آج وہاں ترجیح دی جا رہی ہے –

    اے آر وائی نیٹ ورک کا ملازمین کی تنخواہیں 80 فیصد تک بڑھانے کا اعلان،وزیراعظم کا…

    عمران خان نے کہا کہ چین نے 40سال محنت کی اور اپنی معیشت کو ترقی دے کر لوگوں کو غربت سے نکالا، میرا بھی بنیادی مقصد لوگوں کو غربت سے نکالنا ہے، میں پاکستان میں غربت کے خاتمے کے لیے چینی اصول سے رہنمائی لینا اور چینی ترقیاتی ماڈل کی تقلید کرنا چاہتا ہوں کیونکہ اس ماڈل کے ذریعے چین نے اجتماعی طور پر سبھی کو ترقی میں حصہ دار بنایا، تمام ملک جو پائیدار ترقی چاہتے ہیں وہ چین کے ماڈل سے سیکھ سکتے ہیں، چین میں ہر شعبے نے ترقی کی، ہم وہی ماڈل اپنانا چاہتے ہیں، دورہ چین ہمیشہ خوشی کا باعث رہا ہے ، آئندہ ہفتے چین کا دورہ کررہا ہوں، غربت کے خاتمے کیلئے ہم چین کے تجربات سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں۔

    جماعت اسلامی کو زرداری مافیا نے دھوکہ دیا ،علی زیدی،پیپلزپارٹی نے جماعت اسلامی…

    انہوں نے کہا کہ ہمیں معیشت کو بہتر کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنے ہوں گے جبکہ زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبے میں چین سے معاونت کے خواہاں ہیں۔ پاکستان چاہتا ہے پیداوار بڑھائے اور زراعت کو بہتر کرے بدقسمتی سے معیشت پر ماضی میں توجہ نہیں دی گئی جبکہ موسمیاتی تبدیلوں سے نمٹنے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔ پاکستان میں شہر بڑھ رہے ہیں اور لوگ شہروں کی طرف آ رہے ہیں۔

    ​اسلام آباد ایئرپورٹ سول ایوی ایشن اتھارٹی کا ملازم منی لانڈرنگ میں سہولت کار نکلا

  • آرمی چیف کا ہیڈ کوارٹرز لاہور کا دورہ

    آرمی چیف کا ہیڈ کوارٹرز لاہور کا دورہ

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آج ہیڈ کوارٹرز لاہور کور کا دورہ کیا۔

    باغی ٹی وی : آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو فارمیشن کے مختلف امور پر بریفنگ دی گئی بعد میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے LUMS، FCU، UET، LSE، PU اور GCU کے VC’s، فیکلٹی اور طلباء سے بات چیت کی۔

    آئی ایس پی کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مستقبل کی قیادت اور مفید شہریوں کی تیاری میں ان اہم تعلیمی اداروں کے کردار کو سراہا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور ماحولیات کے شعبوں میں انسانی ترقی کی اشد ضرورت ہے۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس بات پر زور دیا کہ غلط معلومات پھیلانے سے نہ صرف پرسیپشن مینجمنٹ متاثر ہو رہی ہے بلکہ ریاست کی سالمیت کو بھی خطرہ ہے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ڈس انفارمیشن مہم کا مقابلہ کرنے اور دشمن قوتوں کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے متحد رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    اجلاس میں کور کمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل محمد عبدالعزیز بھی موجود تھے۔

  • سوئی میں دہشتگردوں کا حملہ، سینیٹر سرفراز بگٹی کے کزن سمیت 4 افراد جاں بحق

    سوئی میں دہشتگردوں کا حملہ، سینیٹر سرفراز بگٹی کے کزن سمیت 4 افراد جاں بحق

    ڈیرہ بگٹی: ڈیرہ بگٹی میں سوئی کے علاقے میں دھماکے کے نتیجے میں امن فورس کے 4 رضا کار جاں بحق جبکہ 8 زخمی ہوگئے۔

    سینیٹر سرفراز بگٹی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ سوئی کے نواحی علاقے ٹلی مٹ میں دھماکا ہوا، جس میں امن فورس کے 4 رضا کار شہید اور 8 زخمی ہوئے، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے، کالعدم تنظیم اس حملے میں ملوث ہے، ریاست کب تک معصوم لوگوں پر ایسے حملوں کو برداشت کرتی رہے گی۔

     

     

    سینیٹر سرفراز بگٹی نے بتایا کہ سوئی حملے میں 8 افراد زخمی بھی ہوئے، بلوچ ری پبلیکن آرمی کے دہشت گرد حملے میں ملوث تھے۔انہوں نے بتایا کہ حملے میں میرے کزن سمیت 4 افراد شہید ہوئے، حکومت مذاکرات کے نام پر ہم سے مذاق کر رہی ہے۔

    سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت سے پوچھتا ہوں کہ کیوں ہمیں دہشت گردوں کے آگے پھینک دیا ہے، لوگوں کی مدد کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان نے سوئی میں ہونے والے بم دھماکے کی مذمت کی اور امن فورس کے رضا کاروں کی شہادت پر دلی رنج و غم کا اظہار کیا۔ عبدالقدوس بزنجو نے شہید رضا کاروں کے خاندانوں سے اظہار تعزیت کیا۔

  • پنجاب حکومت کی کارکردگی قابل تعریف :عثمان بزدار توقعات پر پورا اتررہے ہیں‌ : وزیراعظم

    پنجاب حکومت کی کارکردگی قابل تعریف :عثمان بزدار توقعات پر پورا اتررہے ہیں‌ : وزیراعظم

    لاہور: پنجاب حکومت کی کارکردگی قابل تعریف :عثمان بزدار توقعات پر پورا اتررہے ہیں‌ :اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عوامی ریلیف کے شعبوں میں پنجاب حکومت کی کارکردگی قابل تعریف ہے۔

    وزیر اعظم عمران خان سے وزیر اعلیٰ پنجاب نے ملاقات کی جس میں عثمان بزدار نے وزیراعظم کو صوبے کے اہم امور، امن و امان کی صورتحال اور انار کلی واقعے پر بریفنگ دی جب کہ وزیراعلیٰ نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تیار یوں سے بھی آگاہ کیا۔

    وزیراعلیٰ نے بریفنگ میں بتایا کہ پنجاب میں تحصیل کی سطح پر ریسکیو سروس کا آغاز کردیا ہے اور ریسکیو ائیر ایمبولینس سروس بھی شروع کررہے ہیں جس پر وزیراعظم نے پنجاب حکومت کے ائیر ایمبولینس کے منصوبے کی تعریف کی۔اس کے علاوہ وزیراعلیٰ پنجاب نے مختلف محکموں میں اصلاحات اور صحت کارڈ کی تقسیم سےمتعلق بھی وزیر اعظم کو بریف کیا۔

    عثمان بزدار نے کہا کہ پی ٹی آئی کے منشور کے مطابق عوامی ریلیف کے اقدامات میں تیزی لائی جارہی ہے اور مختلف شعبوں میں قانون سازی سےمتعلق بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان نے صوبے میں حکومتی منصوبے جلد مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت کی عوامی ریلیف کے شعبوں میں کارکردگی قابل تعریف ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ عام آدمی کو ریلیف دینے کے اقدامات میں تیزی لائی جائے۔

  • راوی اربن پراجیکٹ سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے:    کامیابی کےبعد سندھ میں بھی نیاشہربسائیں گے:وزیراعظم

    راوی اربن پراجیکٹ سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے: کامیابی کےبعد سندھ میں بھی نیاشہربسائیں گے:وزیراعظم

    لاہور: راوی اربن پراجیکٹ سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے:کامیابی کے بعد سندھ میں بھی نیا شہربسائیں گے:اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت نے راوی اربن پراجیکٹ کیس کو صحیح طریقے سے عدالت میں پیش نہیں کیا۔

    لاہور میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ راوی اربن پراجیکٹ کو سپریم کورٹ میں لے جارہے ہیں، عدالتوں کا بہت احترام کرتا ہوں لیکن راوی اربن پراجیکٹ پر حکومت نے کیس صحیح طرح پیش نہیں کیا، یہ ایک ہاؤسنگ سوسائٹی نہیں ، نیا شہر بسایا جا رہا ہے، یہاں ایک جدید شہر بنایا جا رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ 20 ارب ڈالر کا پراجیکٹ ہے اور اس سے بیرونی سرمایہ کاری آئے گی ، اس منصوبے سے روزگار کے مواقع ملیں گے، ملکی تاریخ میں بہت دیر کے بعد اتنا بڑا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبادی میں اضافے کےساتھ ہمیں نئے شہر بسانے کی ضرورت ہے کیونکہ شہر پھیلتے گئے تو گیس، بجلی اور صاف پانی کی سہولتیں فراہم نہیں کی جاسکیں گی، ایسے پراجیکٹ بنانے کی ضرورت ہے، ورنہ کراچی جیسے مسائل پیدا ہوں گے۔

    وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ راوی کوبچایا جائے گا، بیراج بنائیں گے، اسلام آباد کے بعد دوسرا شہرپلاننگ کے تحت بن رہا ہے، کوشش کررہے ہیں کہ بنڈل جزیرے پربھی نیا شہربنائیں مگرسندھ حکومت رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔

  • سینیٹ اجلاس: اسٹیٹ بینک ترمیمی بل منظور،اپوزیشن ہار گئی ،حکومت جیت گئی

    سینیٹ اجلاس: اسٹیٹ بینک ترمیمی بل منظور،اپوزیشن ہار گئی ،حکومت جیت گئی

    اسلام آباد: سینیٹ اجلاس میں اسٹیٹ بینک ترمیمی بل منظور ہوگیا۔ ترمیمی بل کیلئے گنتی میں حکومت نے 44 اور اپوزیشن کے 43 ووٹ حاصل کئے، اپوزیشن نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر ہوا میں لہرا دیں، چیئرمین کے ڈائس کا گھیراؤ کیا۔

    ذرائع کے مطابق سینیٹ میں اسٹیٹ بینک ترمیمی بل سینیٹ میں منظور کرلیا گیا ہے، اسٹیٹ بینک ترمیمی بل وزیرخزانہ شوکت ترین نےایوان میں پیش کیا ۔ترمیمی بل کے حق میں 44 اور مخالفت میں 43ووٹ آئے، چیئرمین سینیٹ کے ووٹ نے انتہائی اہم کردار ادا کیا۔

    اس سے قبل چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت ایوان بالا کا اجلاس شروع ہوا تو اپوزیشن ارکان نے کہا کہ بل پیش کیا جائے، جس پر چیئرمین سینیٹ نے رولنگ دی کہ حکومت نے بل موخر کرنےکی درخواست کی ہے، اگر کسی نے صدارتی خطاب پربات کرنی ہےتو کریں۔

    چیئرمین سینیٹ کی رولنگ پر اپوزیشن ارکان نے اپنے بینچز پر کھڑے ہو کر بل لانے کا مطالبہ کیا، اس موقع پر چند اراکین چئیرمین ڈائس کے سامنے آئے اور احتجاج ریکارڈ کرایا

    اس سے قبل چیئرمین صادق سنجرانی کی صدارت میں سینیٹ اجلاس ہوا۔ صادق سنجرانی نے کہا کہ بل ایجنڈے میں شامل ہے، حکومت پیش نہیں کر رہی، بل پیش کرنے کی جلدی تھی، اب کوئی بات نہیں کر رہا۔ اپوزیشن ارکان نے بل پیش کرنے کے حق میں شور شرابہ کیا اور نشستوں پر کھڑے ہو کر احتجاج کیا۔

    ادھر شیری رحمان نے کہا ہے کہ حکومت آئی ایم ایف کو بتانا چاہتی ہے پارلیمنٹ نے بل پاس کیا، آدھی رات کو جاری ایجنڈا حکومتی مقاصد کو بیان کرتا ہے، حکومت خود مختار فیصلوں کی صلاحیت بھی چھیننا چاہتی ہے۔

    نائب صدر پیپلز پارٹی و سینیٹر شیری رحمان نے اسٹیٹ بینک بل کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ سینیٹ اجلاس کے لئے آدھی رات کو جاری شدہ ایجنڈا حکومت کے چھپے مقاصد کو بیان کرتا ہے، حکومت آئی ایم ایف کو بتانا چاہتی ہے پارلیمنٹ نے اسٹیٹ بینک سے متعلق بل پاس کیا ہے،

    شیری رحمان کا کہنا تھا کہ حکومت قومی بحران کے وقت پاکستان کے خود مختار فیصلے کرنے کی صلاحیت کو بھی چھیننا چاہتی ہے، حکومت اسٹیٹ بینک کی خودمختاری متعلق بل کو بلڈوز کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    شیری رحمان کا کہنا تھا کہ بڑے منصوبوں میں خود مختار ضمانتیں دینے کی حکومتی صلاحیت کا کیا ہوگا ؟ یہ ہنگامی واجبات کے طور پر درج ہیں، لہذا آئی ایم ایف اب ان پر بھی کنٹرول کر سکتا ہے، اپوزیشن حکومت کے اس فیصلے کے خلاف ہے، آئی ایم ایف نے یہ شرط رکھی ہے مرکزی بینک پاکستان کو کسی بھی بحران میں پیسے نہیں دے گا،

    سینیٹر شیری رحمان نے مزید کہا کہ یہ قانون مکمل طور پر ناقابل قبول ہے، بل منظور ہونے کی صورت میں اسٹیٹ بینک پاکستان نہیں بلکہ آئی ایم ایف کی زیر نگرانی کام کرے گا، وفاقی حکومت کو اسٹیٹ بینک سے قرضہ لینے کی لئے آئی ایم ایف کی منظوری چاہیے ہوگی، شیری رحمان کا کہنا تھا کہ ہم نے ایسا کبھی نہیں دیکھا کہ وزیر خزانہ خود ایسی تنبیہ کر رہے ہو، یہ کیا ہو رہا ہے؟ قرضے آسمان کو چھو رہے ہیں جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔