Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • ریکوڈک کیلئے تمام مالیاتی بوجھ وفاقی حکومت اٹھائےگی:     خوشحال بلوچستان خوشحال پاکستان:وزیراعظم عمران خان

    ریکوڈک کیلئے تمام مالیاتی بوجھ وفاقی حکومت اٹھائےگی: خوشحال بلوچستان خوشحال پاکستان:وزیراعظم عمران خان

    لاہور:ریکوڈک کیلئے تمام مالیاتی بوجھ وفاقی حکومت اٹھائے گی:بلوچستان کی خوشحالی پاکستانی کی خوشحالی ہے:اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت ریکوڈک کے لیے تمام مالیاتی بوجھ اٹھائے گی۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وزیراعظم نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ چھوٹے صوبوں کی ترقی کے لیے اپنے حکومتی وژن کے مطابق میں نے فیصلہ کیا کہ ہماری وفاقی حکومت ریکوڈک کے لیے تمام مالیاتی بوجھ اٹھائے گی اور حکومت بلوچستان کی جانب سے اس کی ترقی کا بوجھ اٹھائے گی۔وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا کہ اس سے بلوچستان کے عوام اور صوبے کے لیے خوشحالی کے دور کا آغاز ہو گا۔

     

     

     

     

    خیال رہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے جنوری 2013ء میں ریکوڈک کے ذخائر استعمال کرنے کے آسٹریلوی کمپنی ٹیتھیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی) اور بلوچستان حکومت کے معاہدے کو کالعدم قرار دیا تھا۔عدالت نے قرار دیا تھا کہ جولائی 1993ء میں ہونے والا یہ معاہدہ ملکی قوانین کے خلاف ہے اور اس کے بعد اس میں کی گئی تمام بھی ترامیم غیر قانونی اور معاہدے کے منافی ہیں۔

    2011 میں نواب اسلم رئیسانی کی حکومت نے کمپنی کی جانب سے کان کنی کے لیے لائسنس کی درخواست مسترد کی تھی۔ بلوچستان حکومت اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کے خلاف ٹیتھیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی) نے جنوری 2012ء میں ورلڈ بینک گروپ کے انٹرنیشنل سینٹر برائے سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس (آئی سی ایس آئی ڈی) سے رجوع کیا۔

    سرمایہ کاری سے متعلق اس عالمی ثالثی عدالت نے 7 سال بعد فیصلہ سناتے ہوئے جولائی 2019ء میں پاکستان پر تقریبا 6 ارب ڈالر جرمانہ عائد کیا جو ملکی مجموعی قومی پیداوار کے دو فیصد کے برابر رقم ہے۔ اس کے فوری بعد ٹی سی سی نے اس فیصلے کے نفاذ کے لیے کارروائی شروع کردی تھی اور برٹش ورجن آئی لینڈ کی عدالت نے دسمبر 2020 میں پی آئی اے کے نیویارک اور پیرس میں ہوٹل سمیت پاکستانی اثاثوں کو منجمد کرنے کا حکم دیا تاہم بعد میں یہ فیصلہ منسوخ ہوا اور پاکستان نے عالمی عدالت سے مئی 2021 تک مشروط حکم امتناع بھی حاصل کر لیا۔

    گزشتہ کئی ماہ سے ٹیتھیان کاپر کمپنی اور پاکستانی حکومت کے درمیان عدالت سے باہر معاملات طے کرنے کی کوششوں کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ تقریباً ایک ماہ قبل 30 نومبر کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں اراکین نے قرارداد کے ذریعے ریکوڈک سے متعلق نئے مجوزہ معاہدے پر بلوچستان اسمبلی کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کیا۔

    یاد رہے کہ ریکوڈک ایران اور افغانستان کی سرحد کے قریب بلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے نوکنڈی میں ٹیتھیان کی اراضیاتی پٹی پر واقع ہے۔ یہ پاکستان میں سونے، چاندی اور تانبے کا سب سے بڑا ذخیرہ مانا جاتا ہے اور اس کا شمار دنیا کے چند بڑے قیمتی زیر زمین ذخائر میں ہوتا ہے۔
    ایک رپورٹ کے مطابق ریکوڈک میں ایک کروڑ 30 لاکھ ٹن تانبے کے ذخائر اور دو کروڑ 30 لاکھ اونس سونا موجود ہے۔

    ٹھیتان کاپر کمپنی کی ایک رپورٹ کے مطابق ریکوڈک کا اقتصادی طور پر قابلِ کان کن حصہ 2.2 ارب ٹن جبکہ ایک دوسری رپورٹ کے مطابق چار ارب ٹن سے زائد ہے، جس میں اوسطاً تانبا 0.53 فیصد ہے جبکہ سونے کی مقدار 0.3 گرام فی ٹن ہے۔ اس منصوبے کی کل عمر کا تخمینہ 56 سال لگایا گیا ہے۔

  • خبردار:ہوشیار:پاکستان میں ذیابیطس کے3لاکھ سےزائد مریض ٹانگوں سے محروم ہوسکتے ہیں :ماہرین صحت

    خبردار:ہوشیار:پاکستان میں ذیابیطس کے3لاکھ سےزائد مریض ٹانگوں سے محروم ہوسکتے ہیں :ماہرین صحت

    کراچی :خبردار:ہوشیار:پاکستان میں ذیابیطس کے3 لاکھ سے زائد مریضوں کو ٹانگوں سے محرومی کا خدشہ ہے:ماہرین صحت نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ،اطلاعات کے مطابق کورونا کی وبا کے دوران پاکستان سمیت دنیا بھر میں ذیابیطس کے نتیجے میں ہونے والے پیروں کے زخموں کے بعد ٹانگیں کٹنے اور معذوری کی شرح میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔اس حوالے سے ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگریہی صورت حال رہی تو پھر معاملات بہت ہی خراب ہوجائیں گے

    پاکستان میں شوگر یعنی ذیابطس سے ہونے والے نقصانات سے آگاہی اور اس کے تدارک کے لیے ہونے والے اس بہت ہی اہم سمٹ میں ماہرین نے بہت ہی سنہری باتیں کیں‌، ماہرین کا کہنا تھا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو خدشہ ہے کہ 2022 میں پاکستان میں 3 لاکھ سے زائد افراد ذیابیطس کی وجہ سے ہونے والے پیروں کے زخموں کے نتیجے میں اپنی ٹانگوں سے محروم ہو سکتے ہیں۔ان خدشات کا اظہار ڈائبیٹک فٹ انٹرنیشنل کے صدر اور نامور ماہر ذیابیطس پروفیسر ڈاکٹر زاہد میاں نے کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

    کراچی میں اس حوالے سے ہونے والی تحقیقات کے حوالے سے جو چیزیں سامنے آئی ہیں اس میں کہا گیاہے کہ اس موقع پر ذیابطیس کی وجہ سے ٹانگیں کٹنے سے بچانے کے لیے مقامی دوا ساز کمپنی ہائی کیو فارما اور بقائی انسٹیٹیوٹ آف ڈائیبیٹالوجی اینڈ اینڈوکرائنولوجی کے درمیان کراچی میں 30 ڈائبیٹک فٹ کلینکس کے قیام کے معاہدے پر بھی دستخط کیے گئے۔

    معاہدے کے تحت بقائی انسٹیٹیوٹ آف ڈائیبیٹولوجی اینڈ اینڈوکرائنولوجی کے ماہرین مقامی دوا ساز ادارے کے ساتھ مل کر کراچی میں 30 کلینکس قائم کریں گے تاکہ ذیابطیس کی وجہ سے پیروں میں ہونے والے زخموں کا علاج کرکے ایسے مریضوں کی ٹانگوں کو کٹنے سے بچایا اور ان کو معذوری سے محفوظ رکھا جا سکے۔

    ڈاکٹر زاہد میاں کا کہنا تھا کہ عالمی ذیابیطس فیڈریشن کے مطابق پاکستان میں تین کروڑ تیس لاکھ سے زائد افراد ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہیں جبکہ ذیابیطس کے مرض میں مبتلا افراد میں ٹانگیں کٹنے کی شرح 20 سے 40 فیصد تک ہوتی ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ذیابیطس کے مریضوں میں سے 10 فیصد افراد کی ٹانگیں بھی ناقابل علاج زخموں کی وجہ سے کاٹنی پڑیں تو پاکستان میں اگلے سال تین لاکھ سے زائد افراد معذور ہو جائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ان میں سے تقریبا 85 فیصد افراد کو معذوری سے بچایا جا سکتا ہے جس کے لیے پاکستان میں 3 ہزار سے زائد ڈائبیٹک فٹ کلینکس قائم کرنے کی ضرورت ہے جہاں پر عالمی معیار کا علاج فراہم کیا جائے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ پاکستان کے مختلف دواساز کمپنیوں کی مالی اور فنی معاونت سے پاکستان بھر میں فٹ کلینکس قائم کر رہا ہے، کراچی میں کئی سالوں سے قائم فٹ کلینکس کی بدولت لوگوں کی ٹانگیں کٹنے کی شرح میں کافی حد تک کمی آئی ہے۔

    بقائی انسٹی ٹیوٹ آف ڈائیبیٹولوجی اینڈ اینڈوکرائنولوجی کے ڈائریکٹر پروفیسر عبدالباسط کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ذیابیطس میں مبتلا اکثر افراد کو اپنی بیماری کا علم ہی نہیں ہوتا۔

    انہوں نے کہا جب ان افراد میں اس مرض کی تشخیص ہوتی ہے اس وقت تک جسم کے کئی اعضا خراب ہو چکے ہوتے ہیں جبکہ پیروں میں خون کی سپلائی یا تو بہت کم یا ختم ہو چکی ہوتی ہے جس کے نتیجے میں پیروں میں درد محسوس کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے، ایسے مریضوں کو اگر کوئی زخم لگتا ہے تو انہیں پتہ نہیں چلتا اور جلد ہی وہ زخم شوگر کی وجہ سے اتنا خراب ہو جاتا ہے کہ پاؤں اور ٹانگ کاٹنے کی نوبت آجاتی ہے۔

    پروفیسر عبد الباسط کا کہنا تھا کہ ڈائبیٹک فٹ کلینکس قائم ہونے کے نتیجے میں ایسے مریضوں کا بہتر اور کامیاب علاج ہو سکے گا اور لوگوں کو معذوری سے بچایا جا سکے گا۔ہائی کیو فارما کے مینیجنگ ڈائریکٹر عاطف اقبال کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ ملک بھر میں اس طرح کے 500 ڈائبیٹک فٹ کلینکس قائم کرنے کی کوشش کرے گا تاکہ لاکھوں لوگوں کو معذوری سے بچایا جا سکے۔

  • اپوزیشن کے سارے کےسارےمنصوبے ادھورے رہ گئے : حکومت کو بڑی حمایت مل گئی

    اپوزیشن کے سارے کےسارےمنصوبے ادھورے رہ گئے : حکومت کو بڑی حمایت مل گئی

    لاہور:اپوزیشن کے سارے کےسارےمنصوبے ادھورےحکومت کو بڑی حمایت مل گئی ،اطلاعات کے مطابق ایک بار پھر اپوزیشن کے سارے کے سارے منصوبے ادھورے رہ گئے ہیں‌ ، یہ بھی اطلاعات ہیں‌ کہ وفاقی حکومت کو منی بجٹ کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے سے قبل بڑی حمایت مل گئی

    خیال رہے کہ قومی اسمبلی میں منی بجٹ کو پیش کیا جائے گا، جس میں آئی ایم ایف کی شرائط کو مد نظر رکھتے ہوئے بجلی، پٹرول سمیت دیگر اشیاء کی قیمتوں کو بڑھایا جائے گا جبکہ دیگر پر ٹیکسز میں اضافہ کیا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق منی بجٹ کی منظوری کے معاملے پر مسلم لیگ ق نے حکومت کی حمایت کا فیصلہ کر لیا ہے، ق لیگ منی بجٹ کو سپورٹ کرے گی۔حکومت کے ساتھ اتحادیوں کے رابطوں میں ق لیگ نے یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا ہے کہ اتحادی کی حیثیت سے منی بجٹ کو سپورٹ کریں گے۔

    یاد رہےکہ اس سے پہلے بھی اس وقت اپوزیشن کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا جب پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا گیا تھا ، اس موقع پر بھی پاکستان مسلم لیگ قائداعظم نے ملک کی بہتری کی خاطرحکومت کی حمایت کی اور اسی حمایت کی وجہ سے ملک میں‌ بڑے عرصے کے بعد کچھ بہتر قانون سازی ہوئی ہے

    اس وقت حکومت کے دیگراتحادیوں کی طرف سے بھی یہی توقع کی جارہی ہےکہ وہ حکومت کی حمایت کریں گے اور حکومت اپنے مقصد میں‌ کامیاب ہوجائے گی

    ادھر آج اس منی بجٹ کے خلاف اپوزیشن کی طرف سے ایک بار پھر ایوان کومچھلی منڈی بنا دیا گیا قومی اسمبلی میں منی بجٹ پر گونج سنائی دی جانے لگی، اپوزیشن حکومت پر برس پڑی، اپوزیشن نے منی بجٹ پیش کیے جانے پر حکومت کا بھرپور مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی صدارت میں ہوا، اجلاس کے دوران اپوزیشن منی بجٹ کے معاملے پر حکومت پر برس پڑی، مسلم لیگ ن ، پاکستان پیپلز پارٹی سمیت دیگر جگہوں پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

    قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما خواجہ آصف نے منی بجٹ معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایک سرنڈر 1971 میں کیا تھا، اس سے زیادہ خطرناک سرنڈر اب کیا جا رہا ہے، حکمران پاکستان کی خودمختاری کو سرنڈر کرنے جا رہے ہیں،

    اس موقع پر سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ قومی اسمبلی اجلاس منی بجٹ کے حوالے سے ایوان کے اندر اور باہر چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں، عوام پہلے ہی مہنگائی کے ہاتھوں تباہ حال ہے۔ سب کواس حوالے سے تشویش ہے، اگرکوئی منی بل، منی بجٹ آئے گا توعوام کے دکھوں میں اضافہ ہوگا۔

    وزیر مملکت علی محمد خان نے کہا کہ پی ٹی ڈی سی اور سیاحت کے شعبے کو مکمل طور پر صوبوں کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، پی ٹی ڈی سی کے اثاثے اور ملازمین صوبوں کے حوالے کرنے کا عمل شروع ہوچکا ہے، مرکزی سطح پر ٹورزم بورڈ کام کرے گا، حکومت مقامی و غیر ملکی سیاحت کے فروغ کے لیے کام کرے گی

  • ہوشیار، اب نکلیں گی عوام کی چیخیں، خان کا نیا پینترا،نواز شریف کی نئی چال

    ہوشیار، اب نکلیں گی عوام کی چیخیں، خان کا نیا پینترا،نواز شریف کی نئی چال

    ہوشیار، اب نکلیں گی عوام کی چیخیں، خان کا نیا پینترا،نواز شریف کی نئی چال
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے ان ساڑھے تین سالوں میں عوام کی ان سے وابستہ کوئی امید پوری نہیں ہوئی ۔ کوئی آس پوری نہیں ہوئی۔ عوام کی مشکلات حد سے زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ مہنگائی سمجھ سے باہر ہے۔ لوگ روٹی سے تنگ ہیں۔ افراتفری پھل پھول رہی ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کرپٹ لیڈر کپتان کی پالیسیوں کے سبب اپنے بونے قد خوفناک حد تک بڑھا چکے ہیں۔ وہ کرپشن جس کو کپتان نے ختم کرنا تھا۔ کپتان کی غلط پالیسیوں کے سبب پہلے سے بہت زیادہ ہو گئی ہے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ وہ کام جو اپوزیشن کے لوگ تا حیات نہیں کر سکتے تھے۔ عمران خان کی نااہلیوں اور غلط فیصلوں نے کر دیا ہے۔ کہتے ہیں کسی بھی قوم کو زنجیروں میں جکڑنا ہو تو اسے قرضہ دیا جائے وہ بھی سود پر۔ یہ جو منی بجٹ عوام پر نازل کیا جا رہا ہے ۔ سب ان ہی قرضوں کی وجہ سے ہے ۔ وزارت خزانہ کے ترجمان جتنا مرضی کہتے رہیں کہ منی بجٹ میں عام آدمی کے استعمال کی کسی چیز پر ٹیکس نہیں لگے گا۔ لوگ ماننے کو تیار نہیں کیونکہ یہ سب فضولیات ہیں ۔ ایک مثال دے دیتا ہوں ۔ کہ ۔ اس بار جو کئی پاکستانیوں کے بجلی کے بل دیکھ کر اوسان خطا ہو گئے تھے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس کی سب سے بڑی وجہ بنیادی ٹیرف اور سرچارج میں اضافہ تھا ۔ سچ یہ ہے کہ 2021 میں بجلی 18روپے 71پیسے فی یونٹ تک مہنگی کر دی گئی ہے ۔ گزشتہ ایک سال میں بجلی کی قیمت میں 9 بار اضافہ کیا گیا یوں بجلی صارفین پر 650ارب روپےکااضافی بوجھ ڈالاگیا۔ تو یہ جتنا مرضہ کہتے رہیں کہ پوری دنیا میں مہنگائی ہے لیکن ہم مینیج کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ سب جھوٹ ہے ۔ مسئلہ ہی سب سے بڑا یہ ہے کہ یہ کچھ بھی مینیج نہیں کر رہے ہیں ۔ یہ آئی ایم ایف کے حکم پر بس عوام پر ظلم کیے جارہے ہیں ۔ دوسری جانب ہر سیزن میں تجربہ کار کھلاڑی شیخ رشید آج کل خوب فرنٹ فٹ پر آ کر کھیل رہے ہیں اور ایک پیش کش داغ دی ہے کہ نواز آئیں اور چوبیس گھنٹے میں ویزہ اور ٹکٹ مفت دیں گے۔ انہوں نے یہاں تک ہی بس نہیں کی۔ یہ بھی کہہ دیا کہ شریف اور زرداری دونوں کرپٹ اور گیٹ نمبر چار کی پیداوار ہیں۔ اس پر رانا ثناء اللہ کہاں چپ رہنے والے تھے ۔ وہ کہتے ہیں شیخ رشید کا بیان بتاتا ہے کہ حکومت کی ٹلی بج گئی۔ ۔ تو کہنے والے تو کہہ رہے ہیں ۔ کہ برطانیہ میں نواز شریف کا مزید قیام قانونی طور پر ممکن نہیں اس لئے وآپسی ان کی مجبوری ہو گی۔ ۔ کہنے کا مقاصد یہ ہے کہ عمران خان نے ایسے لوگ چن چن کر لگائے ہیں جنہیں نہ تو سیاسی سمجھ بوجھ ہے اور نہ ہی وہ زمینی حقائق کا علم رکھتے ہیں۔ بلکہ اس حکومت کا ہر مشیر کسی مافیا کا نمائندہ ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کسی حکومتی نمائندے سے بات کریں تو وہ حکومت کی کارگردگی گنواتے ہوئے تھکتے نہیں اور کہتے ہیں اپوزیشن ہمیں کام نہیں کرنے دیتی ہے صرف ہم پر تنقید کرتی ہے۔ کپتان کی مجبوریاں کیا ہیں۔ کوئی نہیں جانتا۔ عمران خان پہلے دن سے کہتے آ رہے ہیں کہ کسی کو چھوڑوں گا نہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ ابھی تک کسی کو پکڑا ہی کب ہے کہ نہ چھوڑیں گے۔ عمران خان اور کچھ نہ کرتے کم از کم یہ سرکاری افسران کی ایکڑوں میں پھیلی ہوئی کوٹھیاں ہی ایک کنال کے گھر پر محیط کر دیتے۔ یہ جی او آرز، ریلوے کے افسران، بیورو کریسی کی کنالوں اور ایکڑوں پر پھیلی ہوئی کوٹھیاں ہی سائز میں لے آتے، پروٹوکول ہی کنٹرول کرلیتے تو لوگ سمجھتے کچھ تبدیلی آئی ہے۔ اگر ریاست مدینہ کا نام لیا ہی تھا تو ملک میں کوئی قانون ، کوئی انصاف کا نظام ہی قائم کر دیتے ۔ الٹا اس کے برعکس ظلم کا نظام انھوں نے قائم کر دیا ہے ۔ ہوا کیا وزیراعظم نے کار چھوڑ کر ہیلی کاپٹر پر گھر جانا شروع کر دیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کروڑوں کی گاڑیاں منگوانے لگے۔ پہلی بار ڈی سی، کمشنر، ڈی آئی جی اور دیگر عہدوں پر تعیناتی کے پیسوں کی بازگشت فضاؤں میں سنی جانے لگی۔ یہ ہے اصل کارکردگی ۔۔۔ جو وزیر مشیر نہیں بتاتے ۔ پھر کپتان اگر یہ سمجھتے ہیں کہ تحریک انصاف کو پانچ وفاقی وزراء کے سپرد کر کے وہ مطلوبہ نتائج حاصل کر لیں گے۔ تو ان کی مرضی ہے لیکن بادی النظر میں معاملہ اتنا آسان نہیں جتنا انہوں نے سمجھ لیا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جہاں عمران خان نے پارٹی تنظیمیں توڑ دی ہیں۔ تو اسد عمر کو نیا جنرل سیکرٹری لگا دیا ہے ۔ پنجاب میں شفقت محمود، جنوبی پنجاب میں خسرو بختیار اور خیبر پختونخواہ میں پرویز خٹک کو لگا دیا ہے ۔ میں آپ کو بتاوں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ الٹانقصان ہی ہونا ہے ۔ یہ عمران خان کی نااہلی اور ناتجربہ کاری ہے ۔ کہ کبھی بھی کوئی جرنیل جنگ کے دوران اپنی فوج کا مورال نہیں گراتا ۔۔ جیسے عمران خان نے کیا ہے ۔ یہ پی ٹی آئی میں آخری کیل ٹھونکنے کے مترداف ہے ۔ آنے والے دنوں میں آپکو اس کا رزلٹ مل جائے گا ۔کیونکہ ایک تنظیمی طور پر انتشار کا شکار جماعت کو اگر درست کرنا اتنا ہی آسان ہوتا تو یہ کام بہت پہلے ہو سکتا تھا۔ اب انتشار کم ہونے کی بجائے مزید بڑھے گا کیونکہ یہ نئی انتظامی باڈی اپنی پسند ناپسند پر کام کرے گی اور ناراضی کو مزید بڑھائے گی کم نہیں کر سکے گی۔ دراصل اسد عمر کو جنرل سکریرٹی بنا کے کپتان نے ایک بار پھر جواء کھیلا ہے۔ وہی جواء جو وہ انہیں وزیر خزانہ بنا کے کھیل چکے ہیں اور نتائج آج تک پوری قوم بھگت رہی ہے کیا ان میں پارٹی منظم کرنے کی صلاحیت ہے؟ کیا ان کے چاروں صوبوں میں رابطے ہیں، کیا ان کا کوئی ایسا سیاسی بیک گراؤنڈ ہے، جو ایسی سیاسی پوسٹ کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ یہ درست ہے وہ عمران خان کے با اعتماد ساتھی ہیں، مگر یہاں معاملہ ایک پارٹی کو سیدھی راہ پر لگانے کا ہے۔ پھر اگر انہیں یہ ذمہ داری سونپی بھی ہے تو انہیں وزارت کے جھنجھٹ سے آزاد کر دینا چاہئے تاکہ وہ مکمل توجہ تحریک انصاف کے تنظیمی ڈھانچے کی بحالی پر دے سکیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کہنے کو عمران خان یہ بھی کہتے ہیں اب پارٹی کے معاملات وہ خود دیکھیں گے کیا ایسا ممکن ہے اوپر سے لے کر یونین کونسل تک ایک ڈھانچہ بنائے بغیر معاملات کو کیسے سیدھا کیا جا سکتا ہے۔ ان کو لگتا ہے کہ ٹویٹر پر ٹرینڈ چلوا دو ۔ جو تنقید کرے اسکو پی ٹی آئی کی گالم گلوچ بریگیڈ برا بھلا کہے تو پارٹی مقبول ہے ۔ ایسا نہیں ہوتا ۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں کچھ عرصہ پہلے کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات ہوئے تو اپنے ہی امیدواروں کے خلاف سرگرم کردار ادا کرنے والے کوئی اور نہیں پی ٹی آئی کے ناراض کارکن تھے جس کی وجہ سے ہر جگہ شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کپتان نے پرویز خٹک کو تحریک انصاف خیبرپختونخوا کا صدر بنا دیا ہے سب جانتے ہیں کہ موجودہ وزیر اعلیٰ محمود خان سے ان کی نہیں بنتی۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ بھی ایک سامنے کا سچ ہے کہ پرویز خٹک خیبرپختونخوا میں ایک گروپ کی سرپرستی کرتے ہیں افواہیں گرم ہیں کہ شاید پرویز خٹک کو آنے والے دنوں میں صوبائی اسمبلی کا ممبر بنا کے وزیر اعلیٰ بھی مقرر کر دیا جائے۔ یہ بھی ایک بہت بڑا جوا ہو گا۔ جو الٹا بھی پڑ سکتا ہے۔ کیونکہ خیبرپختونخوا کی سیاست کا مزاج سب سے مختلف ہے۔ وہاں ذاتی مفادات کو پارٹی مفاد پر ترجیح دینے کا ایک رواج موجود ہے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف کو شکست بھی اسی لئے ہوئی ہے کہ ارکانِ اسمبلی نے اپنے ہی امیدواروں کی مخالفت کی۔ پرویز خٹک اگرچہ ایک اچھے وزیر اعلیٰ رہے ہیں۔ ان کے دور میں خیبرپختونخوا کے اندر ترقیاتی کام بھی ہوئے۔ گڈ گورننس بھی موجود تھی۔ تاہم پارٹی کے صوبائی صدر کی حیثیت سے وہ ایک منتشر تنظیمی ڈھانچے کو یکجا کر سکیں گے یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جہاں تک پنجاب کا تعلق ہے تو اسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ وسطی پنجاب کا صدر شفقت محمود کو اور جنوبی پنجاب کا صدر خسرو بختیار کو بنا دیا گیا ہے۔ یہ دونوں وفاقی وزراء ہیں اور بطور وفاقی وزیر یہ شاید ہی پنجاب کے مختلف شہروں کے دورے پر گئے ہوں۔ شفقت محمود کا سیاسی وژن تو ہے لیکن پارٹی منظم کرنے کا سیاسی تجربہ نہیں۔ انہیں بہت عرصہ لگے گا یہ سمجھنے میں کہ تحریک انصاف تنظیمی لحاظ سے کس سطح پر کھڑی ہے۔ لاہور میں علیم خان کو کارنر کیا گیا۔ جو پارٹی اور وزارت سے ہی بددل ہو گئے۔ سب سے دلچسپ تقرری جنوبی پنجاب میں کی گئی۔ خسرو بختیار کو صدر بنا دیا گیا ہے۔ جن کے بارے میں ابھی تک یہ تاثر موجود ہے وہ حکومت کے اتحادی ہیں تحریک انصاف کے رکن نہیں یاد رہے کہ عام انتخابات سے پہلے وہ تحریک صوبہ محاذ بنا کے ایک معاہدے کے تحت تحریک انصاف کے اتحادی بنے تھے۔ ان کا زیادہ تر سیاسی حلقہ رحیم یار خان تک محدود ہے۔ البتہ ان کے بارے میں یہ تاثر موجود ہے وہ جہانگیر ترین گروپ سے تعلق رکھتے ہیں۔ کیا ان کے آنے سے شاہ محمود قریشی گروپ نظر انداز ہو جائے گا؟ ایسا ہوا تو جنوبی پنجاب میں بھی تحریک انصاف ایک نئی کشمکش سے دو چار ہو جائے گی۔ دراصل عمران خان کو قدرت نے بہت ہی اچھا موقع دیا تھا کہ ملک کو پٹڑی پر چڑھا دیتے۔ پر موقع اب ضائع ہوچکا ہے

  • اسلام آباد میں نیا بلدیاتی نظام چیلنج،صدر مملکت کو نوٹس جاری

    اسلام آباد میں نیا بلدیاتی نظام چیلنج،صدر مملکت کو نوٹس جاری

    اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں نئے بلدیاتی نظام کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی :اسلام آباد کے بلدیاتی نمائندوں نے نئے لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیاعدالت نے صدر پاکستان، سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری قانون کو نوٹس جاری کردیا۔

    250 ارب ٹیکس پیپلزپارٹی کے حکمران خاندان کو جاتا ہے:اب اس نظام کو بدلنا ہوگا:…

    عدالت نے سیکرٹری دا خلہ اور سیکرٹری قانون کو 11 جنوری تک آرڈینس سے متعلق جواب جمع کرانے کا حکم دیا ہے اسلام آباد ہائیکورٹ نے اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے 11 جنوری کو طلب کر لیا ہے۔

    درخواست گزار سردار مہتاب نے کہا کہ مئیر کا براہ راست انتخاب، ڈپٹی مئیرز کا عہدہ ختم کرنا خلاف قانون ہے –

    اسلام آباد ائیر پورٹ :کروڑوں روپے مالیت کی ہیروئن پکڑی گئی

    درخواست گزار کے وکیل قاضی عادل ایڈووکیٹ نے کہا کہ دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ لوکل گورنمنٹ چلانے کے لیے غیر منتخب افراد کی کونسل بھی خلاف قانون ہے لوکل گورنمنٹ 2015ء کے قانون کی موجودگی میں آرڈیننس کے ذریعے نیا نظام آئین سے متصادم ہے۔

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وفاقی حکومت نے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی لندن سے وطن واپس نہ آنے کے معاملے پر پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کیخلاف عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

    اسٹیبلشمنٹ کس کے ساتھ ہے؟ شیخ رشید نے بڑوں کی امید پر پھیرا پانی

    واضح رہے کہ نئے بلدیاتی نظام کے تحت پنجاب میں 11میٹروپولٹین ہوں گی سیالکوٹ کوعالمی حیثیت کےپیش نظر ‏میٹروپولٹین کا درجہ دیا جا رہا ہے، گجرات کوبھی میٹرو پولٹین کا درجہ دیا گیا ہے 9 ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز پر میٹروپولٹین ہوں گی، نئے بلدیاتی نظام کےتحت پنجاب میں 25 ضلع ‏کونسل ہوں گے ضلع ناظم،میٹروپولٹین کےمیئرکاانتخاب براہ راست جماعتی بنیاد ہوگا۔

    بچوں میں جنسی ہراسانی سے متعلق آگاہی کیلئے پاکستان کی پہلی اینیمیٹڈ سیریز ’سُپرسوہنی‘ ریلیز کیلئے تیار

    نیبرہڈکونسل ،ویلیج کونسل اور تحصیل کونسل کانظام ہوگا نیبرہڈکونسل اورویلیج کونسل کاانتخاب غیرجماعتی ‏بنیادوں پر ہوگا ویلیج کونسل10سے20ہزار آبادی پر مشتمل ہو گی جب کہ نیبر ہیڈکونسل15سے20ہزار آباد ی پر ‏مشتمل ہو گی۔
    ‏اومی کرون کے خلاف بوسٹر ڈوز کا اثر 10 ہفتے بعد کمزور پڑنے لگتا ہے،یو کے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی
    ویلیج کونسل کے ساتھ نجائت کونسل کےارکان کوویلیج ‏کونسل کا چیئرمین نامزد کرے گا گاؤں کی برادریوں کی اہم شخصیات کی پنچائت کونسل میں نمائند گی ہوگی ‏پنچائت کونسل صفائی، اسٹریٹ لائٹس،اسکول،چھوٹےتنازعات کودیکھےگی۔پنجاب کونسل کومعمولی نوعیت کے ‏ٹیکس لگانے کا اختیاربھی ہوگا۔

    اسلام آباد ائیر پورٹ :کروڑوں روپے مالیت کی ہیروئن پکڑی گئی

    نیبرہڈکونسل اورویلیج کونسل میں بزرگ شہریوں کیلئےایک سیٹ رکھی جائےگی لاہور میٹروپولٹین کارپوریشن ‏میں نیبرہڈکونسل کی بجائےٹاؤن ہوں گے اور ہر ٹاؤن کےمیئرزکا انتخاب بھی براہ راست ہوگا۔

    1450 افغان بچے جو والدین کے بغیر تنہا امریکا پہنچے

  • سال 2021، بھارت میں غداری کے ریکارڈ مقدمے درج

    سال 2021، بھارت میں غداری کے ریکارڈ مقدمے درج

    سال 2021، بھارت میں غداری کے ریکارڈ مقدمے درج

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سال 2021 میں بھارت میں غداری کے ریکارڈ مقدمے درج کئے گئے تا ہم کسی ایک مقدمے میں بھی غداری ثابت نہیں کی جا سکی

    بھارت میں غداری کے زیادہ مقدمے مسلمانوں پر درج کئے گئے،پاکستان کی حمایت میں نعرے لگانے، پاکستانی پرچم بلند کرنے، پاکستانی کرکٹ ٹیم کی حمایت کرنے یا پھر مودی سرکار کے خلاف بات کرنے پر غداری کے مقدمے درج کئے جاتے رہے، ایک برس میں جتنے بھی بھارت میں غداری کے مقدمے درج کئے گئے ان میں مودی سرکار کسی ایک بھی مقدمے میں غداری ثابت نہیں کر سکی

    بھارت میں رواں برس غداری کا مقدمہ پہلے ماہ جنوری میں ہی 2 جنوری درج کیا گیا تھا ،اسٹینڈ اپ کامیڈین منور فاروقی کے خلاف غداری کا رواں برس کا پہلا مقدمہ درج کیا گیا تھا ،دوسرا مقدمہ ماہ جنوری کی 28 تاریخ کو درج کیا گیا تھا اور وہ مقدمہ ایک صحافی ظفر آغا پر ایک ٹویٹ کو لے کر غداری کا مقدمہ درج کیا گیا تھا

    دوسرے ماہ فروری میں ماحولیاتی تبدیلی کی رکن اور طالبہ دیشا روی کیخلاف غداری کا مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کر لیا گیا تھا، بھارت میں کسان تحریک کی حمایت کا ان پر الزام لگا تھا اور ایک ٹویٹ کو غداری کا مقدمہ درج کرنے کی بنیاد بنایا گیا تھا

    فواد چودھری، تھپڑ کے بعد صحافیوں کو دھمکیاں، ،متنازعہ ترین بیانات،کیا واقعی کرائے کا ترجمان ہے؟

    صحافیوں نے کیا پنجاب اسمبلی سمیت دیگر سرکاری تقریبات کے بائیکاٹ کا اعلان

    بلاول کا آزادی صحافت کا نعرہ، سندھ میں 50 سے زائد صحافیوں پر سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج

    فردوس عاشق اعوان نے سنائی صحافیوں کو بڑی خوشخبری جس کے وہ 19 برس سے تھے منتظر

    2020 میڈیا ورکرز کی آسانیوں کا سال، فردوس عاشق اعوان نے سنائی بڑی خوشخبری،کیا قانون لایا جا رہا ہے؟ بتا دیا

    پی ٹی وی میں اچھے لوگوں کو پیچھے اور کچرے کو آگے کر دیا جاتا ہے، ایسا کیوں؟ قائمہ کمیٹی

    7 مئی کو بھارتی ریاست اترپردیش میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے والے محمد اسلم اور اسکے چار ساتھیوں پر غداری کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، 14 مئی کو تقریر ٹیلی کاسٹ کرنے پر نیوز چینل TV5 اور ABN Andhrajyoti پر غداری کا مقدمہ درج کیا گیا تھا

    6 اپریل 2021 کو ایک فیس بک پوسٹ سامنے آنے پر آسام کے رائٹر شیکھا سرما کو غداری کے کیس میں گرفتار کیا گیا تھا ،27 اکتوبر کو پاکستان زندہ باد کہنے پر تین کشمیری طلبہ سمیت سات لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا

    بھارت میں غداری کے زیادہ تر مقدمات مسلمانوں پر درج کئے جاتے ہیں تا ہم ان پر الزامات ثابت نہیں ہوتے، ایک رپورٹ کے مطابق 2014 سے 2019 کے درمیان بھارت میں غداری کے 326 مقدمے قائم کئے گئے جن میں سے صرف چھ مقدامت میں ملزمان پر جرم ثابت ہو سکا،

    ہم جہنم میں جی رہے ہیں، دہلی ہائیکورٹ نے حکومت بارے دیئے ریمارکس

    دہلی سے مسلم نوجوان گرفتار،داؤد ابراہیم سے تعلق،پاکستان سے تربیت لی، دہلی پولیس کا دعویٰ

    حکومت کے خلاف احتجاج ،وزیراعلیٰ کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا

    کسانوں کا بھارت بند، ٹرین روک دی ،احتجاج جاری

    کسانوں کے احتجاج میں شامل خاتون نے لگایا مودی پر سنگین الزام

    مودی سرکار کی تجویز نامنظور،کسانوں نے دوبارہ بڑا اعلان کر دیا

    مر جائیں گے لیکن گھر نہیں جائیں گے، بھارت میں کسانوں کا اعلان

    نہ تھکیں گے، نہ رکیں گے،بھارت میں کسانوں کا احتجاج جاری، بھوک ہڑتال شروع

    کسان رہنماؤں کو قتل کروانے کی مودی سرکار کی سازش بے نقاب

    کسان ٹریکٹر مارچ روکنے کیلئے فوج تعینات، کسانوں کا بھی مودی کو دبنگ پیغام

    دہلی فسادات کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی تھی، دہلی ہائیکورٹ

    غداری کے الزام میں گرفتار شرجیل امام کی درخواست ضمانت پر فیصلہ آ گیا

  • جعلی ڈگری کی بنیاد پر نوکری سے برطرف ائیر ہوسٹس کی اپیل پرآیا فیصلہ

    جعلی ڈگری کی بنیاد پر نوکری سے برطرف ائیر ہوسٹس کی اپیل پرآیا فیصلہ

    جعلی ڈگری کی بنیاد پر نوکری سے برطرف ائیر ہوسٹس کی اپیل پرآیا فیصلہ

    ٹرائل کورٹ فیصلہ سے قبل کسی بھی گواہ کو طلب کر سکتی ہے، جسٹس امجد رفیق نے قانونی نقطہ طے کردیا

    لاہور ہائیکورٹ کا قتل کیس کے گواہان کو علیحدہ درخواست پر طلب کر نے کے خلاف نظر ثانی اپیلوں پرفیصلہ سامنے آیا ،لاہور ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے نظر ثانی اپیلوں کو خارج کر دیا ،فیصلے میں کہا گیا کہ سسٹم کی غلطی کو صرف غلطی سمجھ کر چھوڑنا نہیں یہ ہم نے خود ٹھیک کرنی ہیں، آئین کے سیکشن 540 کے مطابق کریمنل جسٹس کے وہ پہلو سامنے آنے چاہئیں جو انتہائی اہم ہیں،سیکشن کے مطابق عدالت کسی بھی گواہ کو ٹرائل کے کسی بھی وقت بلا سکتی ہے،عدالت انتہائی پیچیدہ پہلوؤں کو سمجھنے کے لیے کسی بھی گواہ کو کسی بھی وقت طلب کر سکتی ہے، عدالت کسی پرائیویٹ کمپلینٹ کے ذریعے گواہوں کو بھی طلب کر سکتی ہے،درخواست گزار کسی بھی وقت گواہان کے بیان کی نقل لے سکتا ہے اور عدالت کو اسکو دینے کی پابند ہے، عدالت جب بھی گواہان کو طلب کرے یہ بات واضح رہے کے اسکو سیکشن 540 کی روشنی میں دیکھ جائے مقدمے کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے گواہان کی طلبی درخواست کی

    قبل ازیں لاہور ہائیکورٹ میں جعلی ڈگری کی بنیاد پر نوکری سے برطرف ائیر ہوسٹس کی اپیل پر فیصلہ سنا دیا گیا،لاہور ہائیکورٹ نے ائیر ہوسٹس کی درخواست مسترد کر دی اور سول کورٹ کا فیصلہ درست قراردے دیا،لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس رسال حسن سید نے 5 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا ،فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار 1996 میں پی آئی اے مین بطور ائیر ہوسٹس بھرتی ہوئی ، درخواست گزار کی بی اے کی ڈگری تصدیق کےلیے بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی بھجوائی گئی، بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی نے درخواست گزار کی ڈگری جعلی اور بوگس قرار دی، درخواست گزار کو 2018میں جعلی ڈگری کی بنیاد پر نوکری سے برطرف کیا گیا،درخواست گزار نے سول اور ٹرائل کورٹ سے رجوع کیا استدعا مسترد کی گئی، ائیر ہوسٹس پوسٹ کے لیے بی اے کی ڈگری کی ضرورت نہیں تھی درخواست گزارکا موقف تھا،

    درخواست گزار کے مطابق ائیر ہوسٹس کے لیے انٹر میڈیٹ کی ڈگری مانگی گئی تھی جو جعلی نہیں ، درخواست گزار کے مطابق بی اے کی ڈگری غیر متعلقہ ہے، نوکری سے برطرف نہیں کیا جاسکتا ،

    پاکستان بار کونسل کے تمام امیدواروں کی ڈگریاں چیک کرنے کا حکم

    وکلا کی جعلی ڈگریوں کے حوالے سے کیس،عدالت نے اہم شخصیت کو کیا طلب

    جعلی ڈگریوں پرملازمت کیس میں سپریم کورٹ کے اہم ریمارکس

    جعلی ڈگری کیس، عدالت نے سابق سینیٹر کو سزا سنا دی،گرفتار کرنیکا حکم

    جعلی ڈگری ،سپریم کورٹ کا وکلا پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینے کا عندیہ

    سول ایوی ایشن نے گونگلوؤں سے مٹی جھاڑ دی،پائلٹ کوذمہ دار ٹھہرانے کا لیٹر کیوں جاری کیا گیا؟ سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    طیارہ حادثہ،ابتدائی رپورٹ اسمبلی میں پیش، تحقیقاتی کمیٹی میں توسیع کا فیصلہ،پائلٹس کی ڈگریاں بھی ہوں گی چیک

    طیارہ حادثہ، تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی تشکیل

    لاشوں کی شناخت ،طیارہ حادثہ میں مرنیوالے کے لواحقین پھٹ پڑے،بڑا مطالبہ کر دیا

    کراچی طیارہ حادثہ،طیارہ ساز کمپنی ایئر بس نے ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاری کر دی

    ن لیگ کو بڑا جھٹکا،رکن اسمبلی جعلی ڈگری کی وجہ سے نااہل قرار

    جعلی ڈگری ،سپریم کورٹ کا وکلا پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینے کا عندیہ

  • فرانس:حکومت نے مسجد بند کرنے کے احکامات جاری کردیئے

    فرانس:حکومت نے مسجد بند کرنے کے احکامات جاری کردیئے

    پریس :فرانس:حکومت نے مسجد بند کرنے کے احکامات جاری کردیئے ،اطلاعات کے مطاق فرانس میں مینہ طور پر جہاد پر اکسانے ‘ممنوعہ تبلیغ’ کے الزام میں ایک مسجد کو بندکرنےکے احکامات جاری کردیے گئے۔

    فرانسیسی خبررساں ادارے کے مطابق حکومت کی جانب سے شمالی فرانس کے علاقے بووے میں ایک مسجدکو اس کے امام کی ‘بنیاد پرست تبلیغ’ کے باعث بند کرنےکا حکم دیا گیا ہے۔

    خبرایجنسی کے مطابق مقامی حکام نے بتایا ہےکہ مذکورہ مسجد آئندہ 6 ماہ تک بند رہے گی کیونکہ مسجد میں دیےگئے خطبات نفرت اور تشددکو ہوا دیتے ہیں اور جہاد کا دفاع کرتے ہیں۔

    400 نمازیوں کی گنجائش والی اس مسجد کے حوالے سے کارروائی کا آغاز 2 ہفتے قبل ہوا تھا جب فرانس کے وزیر داخلہ جیرالڈ ڈرمینن نے کہا تھا کہ مذکورہ مسجد کے امام کی جانب سے خطبوں میں عیسائیوں، یہودیوں اور ہم جنس پرستوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے جو کہ ناقابل قبول ہے اس لیے مسجد کو بند کرنے کی کارروائی شروع کی جارہی ہے۔

    اے ایف پی کے مطابق قانون کے مطابق مقامی حکام کو کسی بھی کارروائی سے قبل 10 روز تک اس حوالے سے معلومات جمع کرنا ہوتی ہیں تاہم حکام کا کہنا ہے کہ مسجد کو 2 روز میں بندکردیا جائےگا۔مقامی اخبار کی رپورٹ کے مطابق مسجد کے امام ایک نومسلم ہیں جنہوں نے کچھ عرصہ قبل ہی اسلام قبول کیا ہے۔

    مسجد انتظامیہ کے وکیل کا کہنا ہےکہ اس فیصلےکے خلاف عدالت میں درخواست دائر کردی گئی ہے جس پر 48 گھنٹوں کے دوران سماعت ہوگی۔

    خبرایجنسی کے مطابق مسجد انتظامیہ نے حکام کو بتایا ہےکہ مذکورہ امام خاص موقعوں پر ہی خطبے دیتے ہیں اور انہیں معطل کردیا گیا ہے،جب کہ حکام کا دعویٰ ہےکہ مذکورہ امام روز ہی مسجد میں موجود ہوتے ہیں۔

    فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ امام اپنے خطبات میں جہاد کو فرض قرار دیتے ہوئے ان ‘جنگجوؤں’ کو ہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں جو مغرب کی مداخلت سے اسلام کا تحفظ کرتے ہیں اور امام کی جانب سے غیر مسلموں کو دشمن بھی قرار دیا جاتا ہے۔

    خیال رہے کہ گذشتہ سال فرانس کےایک اسکول میں طالب علموں کے سامنے گستاخانہ خاکے دکھانے والے استاد کا سر قلم کردیا گیا تھا جس کے بعد فرانسیسی صدر نے اس واقعے اور اسی سے متعلق دیگرحملوں کے خلاف فرانسیسی سیکولرازم کی کھل کر حمایت کی اور متنازع بیانات بھی دیے جس کے بعد فرانس کو دنیا بھر میں مسلمانوں کی جانب سے احتجاج اور مصنوعات کے بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑا۔

    بعد ازاں فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے مسلم رہنماؤں کو 15 روز کا الٹی میٹم دیا کہ وہ فرانس میں بنیاد پرستی کو روکنے کے لیے ‘میثاقِ جمہوری اقدار’ کو قبول کرلیں، میثاق کے مطابق اسلام کو ایک سیاسی تحریک کے بجائے صرف مذہب سمجھا جائےگا۔

    اس کے بعد سے فرانس بھر میں مساجدکے خلاف کریک ڈاؤن اور تحقیقات کا نیا سلسلہ شروع کردیا گیا اور بنیاد پرستی پھیلانےکے الزام میں متعدد مساجد کو بند کیا جاچکا ہے۔

  • حکومت نے عالمی صورتحال دیکھتے ہوئے قومی سلامتی پالیسی تشکیل دی: ترجمان پاک فوج

    حکومت نے عالمی صورتحال دیکھتے ہوئے قومی سلامتی پالیسی تشکیل دی: ترجمان پاک فوج

    اسلام آباد:حکومت نے عالمی صورتحال دیکھتے ہوئے قومی سلامتی پالیسی تشکیل دی:اطلاعات کے مطابق پاکستان کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کی تشکیل اور منظور پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ حکومت نے عالمی صورتحال دیکھتے ہوئے کر قومی سلامتی پالیسی تشکیل دی۔

    نیشنل سکیورٹی پالیسی کی منظوری کے بعد پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار کی طرف سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری کردہ بیان کے مطابق قومی سلامتی پالیسی کااجراءاہم سنگ میل ہے۔ پاکستان کی قومی سلامتی مضبوط بنانےمیں پالیسی انتہائی اہم ہے۔

     

     

    ترجمان پاک فوج کے مطابق جامع فریم ورک، قومی سلامتی کے پہلوؤں پر باہمی روابط کو تسلیم کرتی ہے۔ قومی سلامتی پالیسی ابھرتے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ناگزیر ہے۔ حکومت نےعالمی صورتحال دیکھتےہوئے پالیسی تشکیل دی۔ افواج پاکستان قومی سلامتی پالیسی کے وژن کے مطابق کرداراداکریں گی۔

    اس سے قبل وفاقی کابینہ نے ایک تاریخی اقدام کے طور پر شہریوں پر مرکوز ملک کی پہلی جامع قومی سلامتی پالیسی کی منظوری دے دی ہے جس کی بنیاد اقتصادی سلامتی پر مبنی ہے۔

     

     

     

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری کے ہمراہ مشترکہ میڈیا بریفنگ میں کابینہ اجلاس کے فیصلوں کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ گزشتہ روز قومی سلامتی کمیٹی کی جانب سے قومی سلامتی پالیسی (این ایس پی) کی توثیق کے بعد کابینہ نے اس کی منظوری دے دی ہے۔ میں اس کامیاب کوشش پر پوری قوم کو مبارکباد پیش کرنا چاہتا ہوں کیونکہ اگر کسی ملک کا قومی سلامتی کا وژن غیر واضح ہے تو اس کے تحت پالیسی بنانا بہت مشکل ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ اس پالیسی میں قومی سلامتی کے مجموعی پہلوؤں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے اور وزیر اعظم کی قیادت میں یہ ضابطہ بندی کی گئی ہے کہ اقتصادی سلامتی پالیسی کا بنیادی مرکز ہوگی۔ مضبوط معیشت دفاعی اور انسانی سلامتی پر مزید اخراجات کو یقینی بنا سکے گی۔ بیرونی اقدامات کے حوالے سے پالیسی کا مقصد ’’امن‘‘ہے۔

    نیشنل سکیورٹی پالیسی کے تحت قومی ہم آہنگی کے لئے ملک نے اپنے ثقافتی اور نسلی تنوع کے سب سے اہم پہلو کی نشاندہی کی ہے، اس حوالے سے قومی اتحاد قائم کیا جانا چاہئے۔ ہم ایک اسلامی ریاست ہیں اور اسلامی ملک کا نظریہ رکھتے ہیں لہذا قومی ہم آہنگی کے پالیسی پہلوؤں کو ملک کے تنوع پر مرکوز ہونا چاہئے، تنوع کے تمام پہلوؤں کو پالیسی کے دیگر عناصر کے ساتھ ساتھ لیا جائے گا۔

    مشیر قومی سلامتی کا کہنا تھا کہ نیشنل سکیورٹی پالیسی کے انسانی تحفظ کے پہلوؤں کی بنیادی توجہ آبادی ہے جو تحفظ صحت، آب و ہوا اور پانی، خوراک کی حفاظت اور صنف کے متعلق ہے۔ جہاں تک اقتصادی سلامتی کا تعلق ہے، اس پالیسی نے اس پر مناسب بحث کی ہے۔ پاکستان کی دوسری اہم تشویش معیاری انسانی وسائل کی تیاری ہے جو کہ مقامی سطح پر معیشت پر حتمی اثرات مرتب کرے گی، مزید برآں اقتصادی تحفظ کے باب میں بھی بات چیت کی گئی، پالیسی کے دیگر عناصر خودمختاری، علاقائی سالمیت پر روشنی ڈالتے ہیں جو دفاع اور فوجی سلامتی سے متعلق ہے۔

    انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی پالیسی کی تشکیل کا عمل 2014 میں دوبارہ شروع ہوا جو 7 سال میں مکمل ہوا کیونکہ اس میں بہت سی حساسیتیں اور پیچیدگیاں تھیں جبکہ اس عمل میں بڑے پیمانے پر گفت و شنید کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ تمام وفاقی وزارتوں اور صوبوں کے چار راؤنڈ کئے گئے ہیں جہاں انہوں نے گزشتہ سالوں میں ان پٹ دیا ہے۔ سول ملٹری قیادت اور اداروں نے مل کر کام کیا اور تمام سٹیک ہولڈرز کے اتفاق رائے کے بعد دستاویز کی منظوری دی گئی۔

    ڈاکٹر معید یوسف نے نجی شعبے، تعلیمی اداروں اور ماہرین کی عدم شرکت کے حوالے سے تنقید کے بارے میں کہا کہ 2014 سے تعلیمی اداروں، یونیورسٹیوں کے طلباء اور نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے 600 سے زائد پاکستانی ماہرین نے پالیسی بنانے کے لئے اپنا کلیدی ان پٹ فراہم کیا۔ یہ ایک بھرپور مشاورتی عمل تھا جہاں اس دستاویز کے ایک ایک لفظ پر وسیع بحث کی گئی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وزیر اعظم نے ہدایت کی ہے کہ قومی سلامتی ڈویژن (این ایس ڈی) پالیسی کے نفاذ اور اس حوالے سے درپیش درپیش مسائل کے بارے میں این ایس سی کو ماہانہ بنیادوں پر آگاہ کرے گا۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ یہ اجتماعی طور پر ایک خفیہ دستاویز ہوگی لیکن اگلے ہفتے یا دس دنوں میں وزیر اعظم کی جانب سے مکمل عوامی ورژن جاری کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی میں قومی سلامتی اور قومی معیشت کے باب شامل ہیں، اس حوالے سےجتنا زیادہ بحث کی جائے گی اتنا ہی بہتر ہوگا۔

    انہوں نے پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں اپنے تمام ساتھیوں، سول اور مسلح افواج کی قیادت کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جنہوں نے اہم کردار ادا کیا۔

    ڈاکٹر معید نےمختلف سوالات کے جواب میں کہا کہ قومی سلامتی پالیسی ایک چھتری ہے جس میں معاشی، انسانی، داخلی، فوجی اور دیگر سیکورٹی خدشات جیسے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ پیر کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) کا اجلاس ہوا جس میں ملک کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کی منظوری دی گئی۔

    اجلاس کے دوران پاکستان کی پہلی قومی سلامتی پالیسی 2022-2026 کو قومی سلامتی کے مشیر نے منظوری کے لیے پیش کیا۔ اجلاس میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی، وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری، وزیر داخلہ شیخ رشید احمد، وزیر خزانہ شوکت ترین، وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، تمام سروسز چیفس، قومی سلامتی کے مشیر اور دیگر اعلیٰ سول اور فوجی حکام نے شرکت کی۔

  • علاقائی امن اور افغان عوام کے خوشحال مستقبل کیلئے کوشاں ہیں: آرمی چیف

    علاقائی امن اور افغان عوام کے خوشحال مستقبل کیلئے کوشاں ہیں: آرمی چیف

    راولپنڈی :علاقائی امن اور افغان عوام کے خوشحال مستقبل کیلئے کوشاں ہیں: اطلاعات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ افغانستان میں انسانی المیے سے بچنے کیلئے ‏سنجیدہ عالمی کوششوں کی ضرورت ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ سے یونانی سفیر نے الوداعی ملاقات ‏کی جس میں باہمی دلچسپی، علاقائی سیکیورٹی اور افغان صورتحال پرگفتگو کی گئی۔
    ملاقات میں مختلف شعبوں میں تعاون کا فروغ بھی زیرغور آیا۔

    اس موقع پر آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کےفروغ کیلئے ‏پرعزم ہے خطے میں امن ،مستحکم اور خوشحال افغان عوام کےلئےکوشاں ہیں۔

    یونانی سفیر نے افغانستان کی صورتحال میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی اور بارڈر مینجمنٹ ‏سمیت علاقائی استحکام کیلئے پاکستان کی کوششوں کا بھی اعتراف کیا۔