Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • ڈاکٹرز اور ہیلتھ کیئرعملہ ہمارے ہیروز ہیں: آرمی چیف

    ڈاکٹرز اور ہیلتھ کیئرعملہ ہمارے ہیروز ہیں: آرمی چیف

    راولپنڈی:ڈاکٹرز اور ہیلتھ کیئرعملہ ہمارے ہیروز ہیں: آرمی چیف انسانیت کے خدمت گاروں کوخراج تحسین ،اطلاعات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ڈاکٹرز اور ہیلتھ کیئرعملہ ہمارے ہیروز ہیں۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق آرمی چیف نے کالج آف فزیشن اینڈ سرجنز کے کانووکیشن میں شرکت کی، سی پی ایس پی کے نائب صدر شعیب شفیع نے استقبال کیا، سپہ سالار تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق تقریب میں آرمی چیف کو سی پی ایس پی کی اعزازی فیلو شپ سے بھی نوازا گیا جبکہ انہوں نے کامیاب ہونیوالے گریجویٹس میں اسناد تقسیم کیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے کورونا وبا میں فرنٹ لائن ورکرز کے طور پر کام کرنے پر میڈیکل کمیونٹی کو سراہا اور ڈاکٹرز اور فزیشنز کو متعلقہ فیلڈ میں سپیشلائزیشن کرانے کی تعریف کی۔

    اس موقع پر آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز اور ہیلتھ کیئرعملہ ہمارے ہیروز ہیں، چیلنجز کے باوجود کورونا میں ڈاکٹرز اور عملے نے عوام کی خدمت کی، ڈاکٹرز، ہیلتھ کیئر ورکرز نے دن رات کام کیا، قوم ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکس کی قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے، ڈاکٹرز اور طبی عملے نے کورونا کے دوران کئی قیمتیں جانیں بچائیں، آرمی میڈیکل کورکی قومی ہیلتھ کیئرسسٹم میں اہم خدمات ہیں، عوام کےتحفظ اور سکیورٹی کیلئےتمام وسائل بروئےکارلائیں گے۔

  • قومی اسمبلی:مالیاتی ضمنی بل ایوان میں پیش،شہبازشریف کی حمایت بھی حاصل

    قومی اسمبلی:مالیاتی ضمنی بل ایوان میں پیش،شہبازشریف کی حمایت بھی حاصل

    اسلام آباد:قومی اسمبلی:مالیاتی ضمنی بل ایوان میں پیش،شہبازشریف کی حمایت بھی حاصل,باقی اپوزیشن کی شدید نعرے بازی:،اطلاعات کے مطابق منی بجٹ کیلئے قومی اسمبلی اجلاس کے دوران وزیر خزانہ نے مالیاتی ضمنی بل ایوان میں پیش کر دیا۔اپوزیشن نے قرار داد کی مخالفت کی۔اس مخالفت کے بعد قومی اسمبلی میں بحث ومباحثہ جاری ہے اور حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے پرسخت جملوں سے حملے کررہےہیں‌

    باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ شہبازشریف کی حکومت کو درپردہ حمایت حاصل تھی جس کی وجہ سے وہ وعدے کے مطابق اس دوران قومی اسمبلی کے اجلاس میں نہیں آئے

    تفصیلات کے مطابق اسد قیصر کی زیر صدرت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا، قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے ایوان میں رولز معطل کرنے کی قرارداد پیش کردی۔

    رولز معطل کرنے کی قرارداد منظور ہوئی جس کے بعد وزیر خزانہ شوکت ترین نے ضمنی مالیاتی بل 2021 (منی بجٹ) قومی اسمبلی میں پیش کردیا۔ اپوزیشن کی جانب سے بل کی ووٹنگ چیلنج کی گئی اور شدید احتجاج کیا گیا اور حکومت کیخلاف نعرے لگائے گئے جبکہ بجٹ نا منظور نا منظور کے نعرے بھی لگائے۔

    ذرائع کے مطابق فنانس ترمیمی بل میں زیرو ریٹڈ انڈسٹری کے 6 آئٹمز پر جی ایس ٹی چھوٹ واپس لینے کی تجویز ہے، امپورٹڈ فارمولا دودھ، سائیکلوں پر دی گئی ٹیکس چھوٹ واپس لینے کی تجویز ہے، بل زیرو ریٹڈ آئٹمز پر ٹیکس چھوٹ ختم ہونے سے ساڑھے 9 ارب روپے اضافی بوجھ پڑے گا، 59 امپورٹڈ فوڈ آئٹمز پر دی گئی جی ایس ٹی چھوٹ بھی ختم کرنے کی تجویز ہے۔

    بل کے مطابق امپورٹڈ فوڈ آئٹمز پر ٹیکس چھوٹ ختم ہونے سے 215 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا، بیکری آئٹمز، برانڈڈ فوڈ آئٹمز پر بھی جی ایس ٹی چھوٹ واپس لینے کی تجویز ہے، پاور سیکٹر کے لیے امپورٹڈ مشینری پر دی گئی چھوٹ واپس لینے کی تجویز ہے، امپورٹڈ موبائل فون پر 17 فیصد اضافی ٹیکس لگانے کی تجویز ہے، گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس ایڈوانس ٹیکس میں 100 فیصد اضافے کی تجویز ہے، غیر ملکی ٹی وی سیریلز اور ڈرامہ پر ایڈوانس ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے، 1000 سی سی سے زائد گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے کی تجویزہے۔

    ادھر اس بل پر قومی اسمبلی میں بحث جاری ہے پاکستان کی خود مختاری سرنڈر نہ کیا جائے: خواجہ آصف نوازلیگ کے رکن اسمبلی خواجہ آصف نے کہا کہ آپ نے اپوزیشن اور پاکستان کے عوام کی زبان بندی کرکے پاکستان کی معاشی خودمختاری بیچ رہے ہیں۔ آپ وہ آرڈیننس بحال کر رہے ہیں جو ختم ہوچکے تھے جو آئین کے خلاف ہے، سٹیٹ بینک کا کنٹرول آئی ایم ایف کو دے رہے ہیں، آپ 1200 یا 100 ارب ارب ٹیکس واپس لے کر استثنیٰ دے کر عوام کے اوپر مہنگائی کا پہاڑ توڑ رہے ہیں۔

    خواجہ آصف کی تقریر کے بعد وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ یہ تکلیف کیوں ہورہی ہے، کچھ ہفتوں سے طوفان کھڑا کیا گیا عمران خان گیا، انہوں نے عوام کو متحرک کرنا تھا اپنے بندوں کوکرسی پرکھڑا نہیں کرسکے، ان کےصرف تین لوگ کرسی پر کھڑے ہوئے، یہ حکومت کیا گرائیں گے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ان کو شرم نہیں آتی، ان کے وزیردفاع کوئی مالی، کوئی دھوبی، نائی کے اقامے پر نوکریاں کر رہے تھے اور ہمیں قومی سلامتی کا درس دے رہے ہیں، مودی کو شادی پر بلایا، یہ کس منہ سے قومی سلامتی کی بات کرتے ہیں، ہم نے بھارتی پائلٹ کو ذلیل کر کے چائے پلا کر بھیجا، شرم کی بات ہوتی ہے یہ پاکستان کے سرنڈر کی بات کرتے ہیں، کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے۔

    اسدعمرنے اپوزیشن کوایکسپائرسیاست دان قراردیتے ہوئے کہا کہ ایکسپائرآرڈیننس کی بڑی ٹیکنکل بات کی گئی، ایکسپائرسیاستدان کی تقریریں سننا ہم پرلازم ہے یا نہیں۔

    سید نوید قمر نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ آج ایجنڈے میں مدت ختم ہونے کے بعد آرڈیننس لائے جارہے ہیں، اس ایوان میں نئی نئی روایتیں ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔،مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی میں مدت سے پہلے آرڈیننس پیش ہوتے ہیں، اس حوالے سے رولز کے مطابق کارروائی چلائی جارہی ہے۔

  • گو نیازی گو، شوکت ترین قوم کا غدار، قومی اسمبلی میں نعرے

    گو نیازی گو، شوکت ترین قوم کا غدار، قومی اسمبلی میں نعرے

    گو نیازی گو، شوکت ترین قوم کا غدار، قومی اسمبلی میں نعرے
    قومی اسمبلی کا اجلاس ا سپیکراسدقیصر کی زیر صدارت شروع ہو گیا ہے

    وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے فنانس بل پیش کیا، مالیاتی ضمنی بل 2021 ایوان میں پیش کر دیا گیا، سٹیٹ بینک آف پاکستان ایکٹ ترمیمی بل 2021 بھی پیش کر دیا گیا، بل پیش کرنے کی تحریک کے حق میں 145 اور مخالفت میں 3ووٹ آئے قومی اسمبلی کے اجلاس میں مسلم لیگ ن کے رہنماء پلے کارڈ اٹھائے پارلیمنٹ کے ایوان میں داخل ہوئے اورشوکت ترین کی جانب سے فنانس بل پیش کرنے کے موقع پر احتجاج کرتے رہے ،اپوزیشن نے گونیازی گو کے نعرے لگائے، اپوزیشن نے پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے،قومی اسمبلی اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کو اپوزیشن اراکین نے گھیر لیا اور قوم کا غدار کہا

    اس دوران قومی اسمبلی کا ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرنے لگا، پی پی رہنما شازیہ مری کو دھکے دیئے گئے،قومی اسمبلی اجلاس میں شگفتہ جمانی اور حکومتی رکن غزالہ سیفی میں ہاتھا پائی ہوئی، شگفتہ جمانی اور غزالہ سیفی میں ہاتھا پائی سپیکر ڈائس کے سامنے وزرا کی چییئرز کے سامنے ہوئی

    ن لیگی رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ وہ آرڈیننس پیش کیے جارہے ہیں جن کی مدت ختم ہوچکی تھی، اسٹیٹ بینک کا کنٹرول آئی ایم ایف کو دیا جارہا ہے،ملکی معاشی خودمختاری کا سودا کیا جارہا ہے،3سال لوٹ مار نہ کی جاتی تو آج منی بجٹ نہ پیش کرنا پڑتا،میری آواز نہ بند کی جائے، پاکستان کی خودمختاری پر سرنڈر نہ کریں،ہمیں معاشی طور پر غلام بنایا جارہا ہے،میں پاکستان کے 22 کروڑ عوام کی نمائندگی کر رہا ہوں،جو ملک معاشی طور پر غلام ہو جائے وہ کالونی بن جاتا ہے، یہاں پتہ نہیں کون سی حکومت آگئی ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ایکسپائر آرڈیننس کو ری نیو نہیں کیا جا سکتا، اسٹیٹ بینک کو قرضوں کیلئے آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیا گیا،آپ نعرے لگاتے تھے کہ ہم دودھ کی ندیاں بہا دیں گے، خیبر پختونخوا کے حلقے گواہی دیتے ہیں کہ پی ٹی آئی نے 3سال میں صرف ظلم کیا ہے، اتنی مہنگائی میں تنخواہ دار طبقہ کیسے اپنے بچوں کا پیٹ پالے،

    اسد عمر نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کچھ ہفتوں سے اپوزیشن نے طوفان کھڑا کیا ہوا تھا انہیں ووٹ ڈالنے کیلئے صرف 3 ممبر کھڑے ہوئے، اپوزیشن اپنے بندوں کو کرسی پر نہیں کھڑا کرسکتی حکومت کیا گرائے گی،مودی کو اپنے گھر بلوانے والے ہمیں درس دیتے ہیں کورونا کے بعد ایک صاحب سی وی اپ ڈیٹ کر کے بھاگے ہوئے آئے،یہ خود ہی اپنی تعریفیں کرتے ہیں، ہماری تو عالمی فورم تعریف کرتے ہیں ایکسپائرڈ لیڈروں کی تقریر سننا ہم پر لازم نہیں ہے، پچھلے سروے میں 86 فیصد عوام نے کہا وفاقی حکومت نے اچھا کام کیا خیبر پختونخوا میں ہماری 15اور تین جماعتوں کی 9سیٹیں ہیں،

    اسدعمر نے خواجہ آصف کیلئے خواجہ آصف کا ہی جملہ دہرا دیا اور کپا کہ سرنڈر سے متعلق خواجہ آصف کی تقریر پر کہوں گا کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے

    پی پی رہنما راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ جس طریقے سے ترامیم کی جا رہی ہیں اس سے پارلیمنٹ کا تقدس پامال ہو رہا ہے،آئین کے تحت چلیں تو دو تہائی اکثریت درکار ہو گی،آج پارلیمنٹ پر داغ لگایا گیا،قانون سازی 22 کروڑ عوام کیلئے کی جا رہی ہے،خواجہ آصف کے بیان پر کیا جواب دیا گیا، کبھی بھی نہیں چاہتا کہ ہاوس کا ماحول خراب ہو،حکومت کا طریقہ کار ناقابل برداشت ہے،بتایا جائے ملک میں مہنگائی ہے یا نہیں؟ مہنگائی کنٹرول کرنے کا کہیں تو جواب آتا ہے آپ کی وجہ سے ہے،حکومت ہر محاذ پر فیل ہوئی یہ لوگ پاکستان کے عوام کے ساتھ مذاق کر رہے ہیں، اپوزیشن کو اسپیکر کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے پر مجبور کیا جاتا ہے، یہ سوئے رہتے ہیں، انہیں نہیں پتہ تھا کہ آرڈیننس ایکسپائر ہو گیا،یہ اسپیکر کی کرسی کو استعمال کر رہے ہیں،مجبور کر رہے ہیں کہ اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آئے اسپیکر صاحب سے درخواست ہے کہ نیوٹرل رہیں، جے یو آئی رہنما مولانا اسعد محمود نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے خارجہ اور معاشی پالیسی کو تباہ کیا،

    فنانس ترمیمی بل کی کاپی سامنے آئی ہے، زیروریٹڈ انڈسٹری کی 6 آئٹمزپرجی ایس ٹی چھوٹ واپس لینے کی تجویزدی گئی ہے،امپورٹڈدودھ، سائیکلوں پردی گئی ٹیکس چھوٹ واپس لینےکی تجویز دی گئی ہے زیروریٹڈ آئٹمزپرٹیکس چھوٹ ختم ہونے سے ساڑھے 9ارب روپے کا بوجھ پڑے گا،59 امپورٹڈ فوڈآ ئٹمزپردی گئی جی ایس ٹی چھوٹ بھی ختم کرنےکی تجویزدی گئی ہے امپورٹڈ فوڈ آئٹمزپرٹیکس چھوٹ ختم ہونےسے 215ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا بیکری آئٹمز،برانڈڈ فوڈآئٹمزپربھی جی ایس ٹی چھوٹ واپس لینےکی تجویزدی گئی ہے پاورسیکٹرکیلئےامپورٹڈمشینری پردی گئی چھوٹ واپس لینے کی تجویز دی گئی ہے، امپورٹڈموبائل فونزپر 17 فیصد اضافی ٹیکس لگانے کی تجویزدی گئی ہے ،گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس ایڈوانس ٹیکس میں 100 فیصداضافے کی تجویزدی گئی ہے ،غیرملکی ٹی وی سیریلز اورڈرامہ پرایڈوانس ٹیکس عائدکرنےکی تجویز دی گئی ہے 1000سی سی سے زائدگاڑیوں پرفیڈرل ایکسائزڈیوٹی بڑھانے کی تجویزدی گئی ہے

    وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ختم ہو گیا ہے ،اسد عمر کا کہنا تھا کہ وزیر خزانہ ابھی بل سےمتعلق تفصیلات ایوان کو بتا دیں گے،خیبرپختونخوا میں ہونےوالے بلدیاتی انتخابات پر مطمئن نہیں ،حکومت مہنگائی کو کنڑول کرنے کیلئے اقدامات کر رہی ہے،حکومت مزید اقدامات بھی اٹھائے گی

    وزیراعظم کی زیرصدارت پی ٹی آئی اور اتحادی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا . پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں ارکان کو منی بجٹ کے خدوخال پر بریفنگ دی گئی پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں ارکان کو ایوان میں حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی

    نجی ٹی وی کے مطابق حکومتی پارلیمانی پارٹی اجلاس کی اندورنی کہانی سامنے آئی ہے ، حکومتی اتحادی جماعت ایم کیو ایم نے منی بجٹ پر تحفظات کا اظہار کر دیا، ایم کیو ایم اراکین کا کہنا تھا کہ ہمارے تحفظات کو دور نہیں کیا گیا،منی بجٹ سے مہنگائی کا طوفان آئے گا،

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے حکومتی پارلیمانی پارٹی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فنانس بل کے حوالے سے ممبران کو آگاہ کیا گیا،ممبران کا حق ہے کہ پیش کیے جانے والے بل سے متعلق آگاہ کیا جائےفنانس بل سے متعلق وزیر خزانہ نے ممبران کے سوالات کے جوابات دیئے، اسٹیٹ بینک ایکٹ میں ترامیم سے متعلق پائے جانے والے شکوک و شبہات کو دور کیا گیا،کابینہ خصوصی اجلاس میں فنانس بل پر تبادلہ خیال ہوا

    تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اراکین اجلاس کے لئے پہنچے تو اراکین کے موبائل فونز باہر رکھوا لیے گئے خواتین ارکان کے بیگز بھی باہر رکھوا دیئے گئے

    وزیراعظم عمران خان کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اسمبلی میں شہبازشریف کی تقریر نہیں ہوتی جاب ایپلی کیشن ہوتی ہے،ہر تین ماہ بعد کہا جاتا ہے کہ حکومت مشکل میں ہے،حکومت کوئی مشکل میں نہیں،کہا جاتا ہے نواز شریف آج آرہے ہیں کل آرہے ہیں ،نواز شریف جب سعودی عرب گئے تب بھی یہی کہا جاتا تھا،

    وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ اتحادی حکومت کے ساتھ ہیں 72بلین ڈالر کا مجموعی بجٹ ہے،عام آدمی پر 2 بلین کا بوجھ پڑے گا،

    قبل ازیں وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ختم ہو گیا ہے ،وفاقی کابینہ نے فنانس ترمیمی بل 2021 کی منظوری دے دی،وزیر خزانہ شوکت ترین نے بل کا مسودہ کابینہ میں پیش کیا،کابینہ منظوری کے بعد منی بجٹ اب قومی اسمبلی میں پیش ہو گا ،وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کا کہنا ہے کہ کابینہ نے فنانس بل کی منظوری دے دی ہے،اب یہ بل قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیا جائیگا،

    حکومت آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے واسطے 360 ارب روپے کا منی بجٹ وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس سے منظوری کے بعد آج قومی اسمبلی میں پیش کرے گی 12 جنوری سے پہلے آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد ضروری ہے

    وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ منی بجٹ میں عوام پر کوئی بوجھ نہیں ڈالا جا رہا،عوام پر بہت تھوڑا بوجھ پڑے گا،

    دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کا بھی اجلاس ہوا تا ہم اپوزیشن جماعتوں کےمشترکہ اجلاس سےمرکزی قیادت غائب نظر آئی، اجلاس میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے شرکت نہیں کی آصف زرداری اور بلاول بھٹو بھی اجلاس میں نہیں آئے اپوزیشن جماعتوں کےاجلاس میں صرف 98 اراکین نے شرکت کی پیپلز پارٹی کے 56 میں سے صرف 30 اراکین آئے ,منی بجٹ کوعوام اور پاکستان کی پیٹھ میں خنجر گھونپنا قراردے کراراکین پارلیمنٹ کا امتحان لینے والے اپوزیشن لیڈرشہبازشریف خود ایوان میں نہیں آئے،بلاول بھی ایوان میں نہیں آئے،

    سینیٹر فیصل جاوید کا کہنا ہے کہ اپوزیشن بھڑکیں مار رہی ہے اور گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے،اپوزیشن کہہ رہی ہے یہ بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے،اپوزیشن کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا،پیپلز پارٹی اور ن لیگ 14 دفعہ آئی ایم ایف کے پاس جا چکے ہیں پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے آئی ایم ایف کا 82 فیصد قرضہ لیا

    قبل ازیں مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ عوام کی جیبیں کاٹنے والے ظالموں کا بھرپورمقابلہ کرینگے ،منی بجٹ سےمہنگائی میں مزیداضافہ ہوگا،اپوزیشن کے نمبر بالکل پورے ہیں،پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج کریں گے ،حکومت کے اتحادیوں کوبھی چاہیے کہ منی بجٹ پرآواز اٹھائیں،عمران خان روز جھوٹ بولتے ہیں، مہنگائی پرعوام کو جواب دیں

    قبل ازیں پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ منی بجٹ سے لگنے والے ٹیکسوں سے کاروبار مزید ختم اور معیشت سکڑ جائے گی عمران خان کا منی بجٹ لانے کی وجہ گزشتہ حکومتوں کو قرار دینا دماغی خلل کا نتیجہ ہے، 350 ارب کے ٹیکسوں سے سیکڑوں اشیا مہنگی ہوں گی، ٹیکس سے جو سیکڑوں اشیامہنگی ہونے جا رہی ہیں اس کا عام مہنگائی پر اثر پڑے گا حکومت کا واحد معاشی مقصد اب صرف عوام سے ٹیکس بٹورنا رہ گیا ہے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کی تجاویز بھی تشویشناک ہیں یہ بجٹ نہیں لاکھوں افراد کو بےروزگار کرنے کا منصوبہ ہے سیکیورٹی پالیسی پر بغلیں بجانا حکومت کی کوتاہ اندیشی کی مثال ہے،

    قبل ازیں پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ حکومت 600 ارب روپے کا منی بجٹ بم گرانے جا رہی ہے، پاکستان آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر کیوں چل رہا ہے؟ ایڈجسٹمنٹ اخراجات میں کٹوتیوں اور ٹیکس چھوٹ میں کمی کی وجہ سے بے روزگاری اور افراط زر میں اضافہ ہوگا عوام کو آگے مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، کیا یہ وہ تبدلی ہے جس کا تباہی سرکار نے وعدہ کیا تھا؟ یہ ملک کو مدینہ کی ریاست نہیں، آئی ایم ایف کی کالونی بنا رہے ہیں، پہلے کہتے تھے آئی ایم ایف نہیں جائیں گے پی ٹی آئی حکومت یو ٹرن لے کر آئی ایم ایف چلی گئی، پھر کہتے تھے منی بجٹ نہیں ہوگا، اب منی بجٹ بم گرا رہے ہیں، جس سے مہنگائی کی سونامی آئے گی

    نواز شریف کی نئی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع، نواز ذہنی دباؤ کا شکار،جہاز کا سفر خطرناک قرار

    جس ڈاکٹر کا سرٹیفیکٹ لگایا وہ امریکہ میں اور نواز شریف لندن میں،عدالت کے ریمارکس

    اشتہاری ملزم کی درخواستیں کس قانون کے تحت سن سکتے ہیں،نواز شریف کے وکیل سے دلائل طلب

    نواز شریف کی جیل میں طبیعت کیوں خراب ہوئی تھی؟ نئی میڈیکل رپورٹ میں اہم انکشاف

    اشتہاری مجرم کی ضمانت منسوخی کی ضرورت ہے؟ نواز شریف کیس میں عدالت کے ریمارکس

    نواز شریف کو مفرور بھی ڈکلیئر کر دیں تو تب بھی اپیل تو سنی جائے گی،عدالت

    گرفتاری پہلے، مقدمہ بعد میں، مہذب ممالک میں کبھی ایسا دیکھا ہے؟ مریم نواز

    مریم نواز کا وکیل بھاگ گیا

    جاوید لطیف نوازشریف کے بیانیے کے ساتھ کھڑے ہیں،مریم نواز

    قائمہ کمیٹی اجلاس،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار، رانا شمیم کے نہ آنے پرجاوید لطیف کا بڑا اعلان

    مشکل حالات، قومی اتفاق رائے پیدا کیا جائے، اپوزیشن کی حکومت کو پیشکش

  • کیا تبدیلی واقعی ہار چکی، سال 2021،ڈیل،ڈھیل، واپسی،اقتدار

    کیا تبدیلی واقعی ہار چکی، سال 2021،ڈیل،ڈھیل، واپسی،اقتدار

    کیا تبدیلی واقعی ہار چکی، سال 2021،ڈیل،ڈھیل، واپسی،اقتدار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ملکی سیاست میں اکیسویں صدی کا اکیسیواں سال بہت سے حوالوں سے سرد و گرم رہا ہے ۔ حکومت اور اپوزیشن کی جنگ کے ساتھ مہنگائی نے عوام کو خون کے آنسو رلائے۔ پھر کورونا کی عالمی وباء نے پاکستانیوں کو بھی عذاب میں مبتلاء کئے رکھا ہے ۔ پر لگتا ہے کہ نئے سال میں بھی سیاست کی گرم بازاری کا سلسلہ یوں ہی جاری رہے گا جیسے پہلے تھا بلکہ اس کی شدت میں اضافہ ہی ہوگا۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کیونکہ کوئی چاہتا ہے کہ موجودہ حکومت کو ختم کر کے اُس کے لیے رستہ بنایا جائے تو کسی دوسرے کی یہ خواہش ہے کہ اُس کے لیے ملک اور سیاست میں واپسی کا راستہ ہموار کر کے آئندہ الیکشن کو آزادانہ کروایاجائے تو وہ راضی ہو گا۔ جبکہ جو اقتدار کے مزہ لے رہے ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ ڈیل والے اُن کے ساتھ ہی کھڑے رہیں ۔ چاہے اُن کی کارکردگی جیسی بھی ہو اُن کی حمایت جاری رکھیں اور اُن کے مخالفین کو کوئی رعایت نہ دیں۔ ۔ اس وقت جہاں ہر خاص وعام کی زبان پر اپوزیشن سے ڈیل کی باتیں جاری ہیں توعمران خان کی گفتگو بھی معنی خیز ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دراصل جس دن عمران خان نے اپنے وزیروں اور ترجمان کے خصوصی اجلاس میں یہ راز فاش کیا کہ نواز شریف کو چوتھی بار وزیر اعظم بنانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ اس دن اس بحث کو مزید تقویت مل گئی جو ملک میں کئی دن سے جاری تھی۔ حقیقت میں عمران خان نے اعتراف کر لیا ہے کہ یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ ان کا بیان یہ بتاتا ہے کہ وہ یہ کہنا چاہتے ہیں وہ اس سے باخبر ہیں۔ وہ جواب میں کیا کریں گے۔ اس کا اندازہ ان کے ردعمل سے لگایا جائے گا۔ میرے خیال میں یہ کپتان کا بہت بڑا امتحان ہے۔ فی الحال اس امتحان میں وہ کامیاب نہیں جا رہے۔ ان کا ردعمل یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ محسوس کر رہے ہیں وہ جنگ ہار رہے ہیں۔ اور جوابی لڑائی کے لئے ان کی حکمت عملی بھی کوئی ایسی نہیں جس پر کسی کو پریشانی ہو۔ حقیقت میں پاکستان میں تبدیلی ہار چکی ہے ۔ جس کی واضح مثال کے پی کے بلدیاتی انتخابات میں شکست اور پے درپے ضمنی انتخابات میں حکومتی شکست ہے ۔ یوں صحیح معنوں میں عوام نے تحریک انصاف کے چھکے چھڑا دیے ہیں۔ دراصل اپوزیشن وہ کام نہ کر پائی ہے جو تحریک انصاف نے بذات خود انجام دے ڈالا ہے ۔ آپ دیکھیں ۔ خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں شکست کا اثر یہ ہوا ہے کہ پی ٹی آئی کے اپنے ہی آپس میں لڑ لڑ پاگل ہونے کو ہیں ۔ جس نے اس شکست کو مزید بڑا کر دیا ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایک جانب وزیراعظم کے معاون خصوصی ارباب شہزاد کے بھتیجے ارباب محمد علی نے گورنر کے پی شاہ فرمان کے احتساب کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ۔ تو دوسری جانب یہ خبریں کہ گورنرخیبر پختونخوا اور صوبائی وزیر نے میئر پشاور کا ٹکٹ سات کروڑ میں بیچا۔ تاہم میئر پشاور کی نشست کیلئے تحریک انصاف کے امیدوار رضوان بنگش نے ٹکٹ کے عوض پارٹی قائدین کو رقوم دینے کی تردید کرتے ہوئے ارباب خاندان کو پارٹی کی ناکامی کا ذمہ دار قرار دیا۔۔ اس سب کا پنجاب کے مقامی انتخابات میں جو اثر پڑنے جا رہا ہے اُس کی خبر شاید تحریک انصاف کو لانے والے کو بھی نہیں ہے۔ پی ٹی آئی اس طرح منتشر ہوتی دکھائی دے رہی ہے جس طرح کسی تباہ شدہ جہاز کا ملبہ اور شاید اگلا انتخاب اس کا آخری انتخاب ہو۔ جس سے قبل اس پارٹی کے جہاز پر چڑھائے گئے مسافر ایسے جان چھڑانے کی تیاری میں ہیں ۔ جیسے ہمیں کابل کے ایئر پورٹ پر نظر آیا تھا۔ دیکھا جائے تو عمران خان کی سیاست کارکردگی کی نہیں۔ بلکہ صرف الزامات کی سیاست ہے اور لوگوں کے کان اتنے سالوں سے وہی الزامات سن سن کر پک چکے ہیں۔ عمران خان نے پی ٹی آئی کی تمام تنظیمیں توڑ کر نئے عہدیدار لگائے ہیں۔ لیکن یہ وقت ٹیم کا نہیں۔ بلکہ کپتان کی تبدیلی کا آ چکا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ عوام اب مزید اس ناکام تجربہ کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہیں اور نہ ہی اس قابل رہے ہیں کیونکہ ان کی برداشت کی سکت تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔ پھر جو لوگ ڈیل کے دعوے کر رہے ہیں وہ یہ بتانے سے گریزاں ہیں کہ ڈیل کس کیساتھ اور کیا ہو رہی ہے؟ ن لیگ سے ، مولانا سے یا پھر پیپلزپارٹی سے ؟؟۔ جہاں بعض حلقوں کا خیال ہے کہ نواز شریف کی واپسی کے بعد ن لیگ کا وزارتِ عظمیٰ کا امیدوار دوسرا کوئی نہیں ہو سکتا جبکہ بہت سے سرگرم ن لیگی شہباز شریف کے امیدوار ہونے پر امید لگائے بیٹھے ہیں ۔ جبکہ کچھ کا ماننا ہے کہ وقت آنے پر مریم نواز، شہباز شریف کی تجویز کنندہ ہوں گی۔ فرض کریں اگر نواز شریف واپس آتے ہیں تو انہیں عدالت میں پیش ہونے کے لئے گرفتاری دینا ہو گی ۔ ضمانت کرانا ہو گی۔ سزا پر نظرثانی کے لئے دائر درخواستوں پر عدالتی فیصلہ کا انتظار کرنا ہوگا۔نا اہلی ختم کرانا ہو گی۔ اس کے بعد الیکشن میں حصہ لے سکیں گے۔ اور یہ سب کچھ پاکستان میں ممکن ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری ستر سالہ تاریخ ایسی چیزوں سے بھری پڑی ہے ۔ یوں جوں جوں نواز شریف کی یقینی وطن واپسی کا وقت قریب آ رہا ہے۔ حکومتی ترجما نوں کی فوج کی آوازیں بلند ہونا شروع ہوگئی ہیں ۔ ویسے ان ترجمانوں کی تعداد کتنی ہے شاید خود حکومت کو بھی معلوم نہیں ۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حکومتی کیمپوں میں تھرتھلی مچی ہوئی ہے ۔ کہ کچھ ہونا والا ہے ۔ اس سب کے باوجود خبریں یہ ہیں کہ خود حکومتی پارٹی کے ممبران اسمبلی اپنا اپنا بائیوڈیٹا نواز شریف کے پاس پہنچانے کے لئے ہاتھوں میں لئے پھر رہے ہیں اور نواز شریف کی ہلکی سی نظر کرم کے منتظر ہیں۔ کیونکہ ان پی ٹی آئی ممبران اسمبلی کو بھی معلوم ہے کہ اگلے الیکشن میں پی ٹی آئی کا ٹکٹ یقینی شکست اور ضمانت ضبط کروانے کا ٹکٹ ہے۔ پھر جہاں مسلم لیگ ن کا حوصلہ مزید بلند ہوا ہے۔ تو زرداری صاحب بھی دو دو ہاتھ کرنے کے لیے بے چین ہو رہے ہیں۔ ان کی نظریں بھی جنوبی پنجاب سمیت بلوچستان پر ٹکی ہوئی ہیں۔ اور ان کی بھی خواہش ہے کہ کسی طرح کوئی بات بنے ۔ اور ایک بار پھر پیپلز پارٹی وفاق میں ابھر کر سامنے آجائے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس حوالے سے کہا تو بہت جا چکا ہے ۔ پھر ابھی گزشتہ ہفتہ ہی سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ فارمولے والے اُن کی مدد لینے آئے تھے کہ کس طرح ملک کو اس موجودہ بھنور سے نکالا جائے۔ جس پر اُنہوں نے فارمولے والوں کو کہا کہ پہلے عمران خان کو نکالو۔ یعنی ہر طرف ڈیل ہی ڈیل کی کہانیاں چل رہی ہیں۔ ڈیل ہو چکی۔ یا ڈیل ہو رہی ہے۔ اسکرپٹ فائنل ہو چکا یا ابھی اُس پر کام ہو رہا ہے، ان سب سوالات پر ہر طرف بحث و مباحثہ جاری ہے۔ نام کوئی نہیں لے رہا۔ نام عمران خان نے بھی نہیں لیا کہ کون نواز شریف کی نااہلی کے خاتمہ کا رستہ نکال رہا ہے۔ ایاز صادق بھی کھل کر نہیں بتا رہے کہ کون غیر سیاسی لوگ نواز شریف سے لندن میں ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ صحافی حضرات بھی نہیں بتا رہے ہیں کہ وہ اسکرپٹ کس کا ہے جس سے نواز شریف مطمئن ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہاں یاد کروادوں کہ کہا جاتا تھا کہ عمران خان کا خیال تھا کہ اس نے ملک کی مقتدر قوتوں کے لئے کوئی آپشن ہی نہیں چھوڑا۔ ن لیگ نہ پیپلز پارٹی اور یہ بھی کہ یہ تبدیلی ن لیگ کو آن بورڈ لئے بغیر نہیں آسکتی۔ اس لئے حکومت کا سارا زور ن لیگ کو ملیا میٹ کرنے پر رہا۔ جس میں وہ ہر دوسرے کام طرح مکمل ناکام رہے ۔ دراصل اس تمام صورت حال کی بڑی اور بنیادی وجہ خراب حکومتی کار کردگی ہے۔ عوام کو فوری ریلیف دینے میں حکومت اب تک ناکام ہے۔ ایسی بے چینی اور غیر یقینی کیفیت سے فائدہ اٹھانا اپوزیشن کا حق تھا اور اس نے اندرونی اختلافات کے باوجود اس سے سیاسی فوائد حاصل کر لیے ہیں ۔ پر ایک چیز طے ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے سب کو کچھ نہ کچھ دانا ڈالا ہوا ہے ۔ اور وہ شاید اس بار safe play کررہے ہیں کہ کوئی اگر آنکھیں دیکھائے تو ان کے پاس اس بار دوسرا آپشن موجود ہو ۔ مگر اپوزیشن کو بھی قدم پھونک پھونک کر رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ جہاں اس وقت واضح طور پر اِن ہاؤس تبدیلی کیلئے حالات خاصے تیار ہیں ۔ تو اپوزیشن نے اگر کسی فوری تبدیلی کیلئے مقتدرہ کا دروازہ کھٹکھٹایا توعمران خان سے بھی زیادہ مصیبت میں پھنس جائے گی۔ اس تمام شور شرابے میں مارچ بہت اہم ہے ۔ اور آپ دیکھیں گے عنقریب بہت تیزی سے تبدیلیاں رونما ہوں گی ۔ ایسے ایسے معجزے بھی ہوں گے جن کا کبھی کسی نے خواب وخیال بھی نہ سوچا ہوگا ۔ کیونکہ پاکستانی سیاست سب چلتا ہے اور سب کچھ ممکن ہے ۔ کیونکہ یہاں ڈیل اور ڈھیل کے بغیر کچھ ممکن نہیں ۔ ۔ یوں اب سیاسی گیند میاں نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن کیساتھ ساتھ آصف زرداری کے کورٹس میں ہے۔

  • بھارت میں خانہ جنگی کا خدشہ ،مسلمانوں کے ساتھ ساتھ عیسائی بھی نشانے پر

    بھارت میں خانہ جنگی کا خدشہ ،مسلمانوں کے ساتھ ساتھ عیسائی بھی نشانے پر

    بھارت میں خانہ جنگی کا خدشہ ،مسلمانوں کے ساتھ ساتھ عیسائی بھی نشانے پر
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اقلیتوں کے حوالے سے بھارت میں دن بہ دن حالات بدترین ہوتے جا رہے ہیں۔ آئے روز نفرت انگیز تقریر ہوتی ہیں۔ اقیلتوں پر حملے کئے جاتے ہیں ان کے مقدس مقامات کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ مذہبی رسومات سے روکا جاتا ہے۔ لیکن ایسا کرنے والوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوتی۔ کیونکہ یہ سب کرنے والوں میں خود مودی سرکار کے اپنے لوگ شامل ہیں۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بی جے پی سے زیادہ اس وقت انڈیا پر آر ایس ایس کا قبضہ ہے اور ان کا ایک ہی مقصد ہے کہ انڈیا کو صرف ہندووں کا ملک بنا دیا جائے۔ باقی اقلیتوں کو مجبورکر دیا جائے کہ وہ وہاں سے نکل جائیں یا پھر ان کا مذہب تبدیل کروادیا جائے اور اگر یہ دو کام نہیں ہوتے تو ان کے پاس سب سے آسان حل یہ ہے کہ ان کو مار دیا جائے۔اور اب یہ نفرت صرف عام لوگوں تک محدود نہیں ہے بلکہ بڑے بڑے مسلمان فنکار بھی اس کی لپیٹ میں آرہے ہیں۔ شاہ رخ خان کے بیٹے کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ہم نے دیکھ لیا۔ ہندو تہواروں پر اشتہاری کمپئین میں اردو زبان کے استعمال پر الگ واویلا مچایا جاتا ہے۔ مسلمان فنکاروں کو جان بوجھ کر دیوار سے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ان کے ساتھ سلوک اتنا برا ہوتا جا رہا ہے کہ اب ان کی برداشت بھی جواب دے چکی ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران بالی وڈ کے مشہور اور سینئراداکار نصیرالدین شاہ بھی بھارت میں مذہبی منافرت کے بڑھتے ہوئے رجحان پر پھٹ پڑے اور یہاں تک بھی کہہ دیا کہ مودی سرکار میں مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنایا جا رہا ہے اور یہ ہر شعبے میں ہو رہا ہے۔ اگر مسلمانوں کے خلاف اسی طرح مہم چلتی رہی تو بھارت میں خانہ جنگی کا بھی خدشہ ہے۔ دراصل جب نصیر الدین شاہ سے سوال کیا گیا کہ ان کو نریندر مودی کے بھارت میں مسلمان ہونا کیسا لگتا ہے؟ تو اس کے جواب میں انہوں نے صاف صاف کہا کہ مسلمانوں کو پسماندہ اور بے کار بنایا جا رہا ہے۔ جب مسلمانوں کو اس طرح کچلا جائے گا تو ظاہری بات ہے کہ وہ لڑیں گے۔ مسلمان اپنےگھر، خاندان اور بچوں کا دفاع کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف اسی طرح مہم چلتی رہی تو بھارت میں خانہ جنگی کا خدشہ ہے۔یہاں تک کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے بارے میں تو انہوں نے کھل کر بات کہ جو خون خرابے اور نسل کشی ہو رہی ہے دراصل اس کی وجہ یہ ہے کہ مودی کو کسی کی کوئی پروا نہیں ہے۔ مودی نسل کشی کی دھمکیاں دینے والوں کو خود ٹوئٹر پر فالو کرتا ہے۔
    حالانکہ نصیر الدین شاہ کے بارے میں۔۔ میں آپ کو بتاوں کہ وہ بہت ہی انصاف پسند شخص ہیں۔ وہ کسی بھی بات کو مذہب سے زیادہ ہیومن گراونڈز پر تولتے ہیں۔ اور اس بات کا اندازہ آپ اس چیز سے بھی لگا سکتے ہیں کہ جب افغانستان میں طالبان کی واپسی پر بھارتی مسلمانوں نے ٹوئیٹر پر ان کی حمایت کی تو نصیر الدین شاہ نے ان کی آڑے ہاتھوں لیا تھا۔اور وہ خود اپنے بارے میں کہتے ہیں کہ میں بھارتی مسلمان ہوں جیسا کہ مرزا غالب فرما گئے ہیں میرا رشتہ اللہ سے بے حد تکلف ہے اور مجھے سیاسی مذہب کی کوئی ضروت نہیں۔ ہندوستانی اسلام ہمیشہ دنیا بھر کے اسلام سے مختلف رہا ہے، اللہ وہ وقت نہ لائے کہ ہم اسے پہچان بھی نہ سکیں۔لیکن آج وہی نصیر الدین شاہ خانہ جنگی کا اشارہ دے رہے ہیں تو سمجھ لیں کہ حالات جتنے برے نظر آ رہے ہیں اصل میں اس سے کہیں زیادہ خراب ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ لیکن میں آپ کو بتاوں کہ انڈیا میں حالات صرف مسلمانوں کے لئے ہی خراب نہیں ہیں بلکہ عیسائیوں کے لئے بھی بہت زیادہ خراب ہیں۔اس کرسمس ڈے پر ایک طرف تو نریندر مودی نے خوب سیاسی بیان دیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے لوگوں میں مذہبی ہم آہنگی کی درخواست کرتے ہوئے تمام مذاہب کے احترام پر زور دیا۔ لیکن دوسری طرف مودی سرکار کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے حامی انتہا پسند گروپ آر ایس ایس نے عیسائیوں کے اس مقدس دن کو بھی پامال کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔ آگرہ میں ہندو انتہا پسند عیسائیوں کے رہائشی علاقوں میں نکل آئے اور انہوں نے کرسمس کی تقریبات کو تہس نہس کر دیا تھا۔ یہاں تک کہ آر ایس ایس کے غنڈے چرچوں میں داخل ہو گئے اور عیسائیوں کی مذہبی عبادات کو زبردستی بند کروادیا۔اور نہ صرف عام عیسائیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ پاسٹرز پر بھی حملے کرکے ان کو زخمی کیا گیا۔ ایک علاقے میں تو سانٹا کلاز کے خلاف بھی مظاہرہ کیا گیا نعرے بازی کی گئی اور آخر میں سانتا کلاز کے پتلے کو آگ بھی لگا دی گئی۔ ریاست کرناٹکا کے ایک سکول کو بھی نشانہ بنایا گیا جہاں کرسمس کی تقریبات جاری تھیں۔ تقریبات کو زبردستی بند کروا کے بچوں پر بھی تشدد کیا گیا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ حال ہی میں بنگلور سے تعلق رکھنے والے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ تجسوی سریا کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں وہ بھارت میں مسلمانوں اور عیسائیوں کو ہندو بنانے پر زور دے رہی ہیں۔اس کے علاوہ اسی مہینے ہری دوار میں ہونے والی ایک تقریب میں جس طرح سے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کی گئیں اور مسلمانوں کے قتل عام پر لوگوں کو اکسایا گیا کہ اگر آپ سب کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو انھیں مار دیں۔ ہمیں 100 فوجیوں کی ضرورت ہے۔ میانمار کی طرح، ہماری پولیس، ہمارے سیاستدانوں، ہماری فوج اور ہر ہندو کو ہتھیار اٹھانے چاہیئں اور صفائی ابھیان یعنی کلین اپ کرنا چاہیے۔ کوئی اور آپشن نہیں بچا ہے۔اور اب تو امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز میں بھی یہ رپورٹ کیا جا رہا ہے کہ ہندو انتہا پسند مسیحی کمیونٹی کو زبردستی ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ اور حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ موت کے خوف سے عیسائیوں نے خود کو ہندو ظاہر کرنا شروع کر دیا۔مسلمانوں پر ہونے والے ظلم پر تو عالمی میڈیا خاموش رہتا تھا لیکن اب جب یہ سب عیسائیوں کے ساتھ بھی ہو رہا ہے تو نیویارک ٹائمز کے ساتھ ساتھ اسرائیلی میڈیا میں بھی اس بات پر آوازیں اٹھنا شروع ہو گئیں ہیں کہ Modi’s politics of hate now come for Indian’s Christians. اور یہ سلسلہ اس وقت سے شروع ہوا ہے جب سے نریندرا مودی اقتدار میں آیا ہے یعنی2014
    اور دوبارہ 2019 میں تب سے ہی اس کی جماعت کے عہدیدار سرعام ملک بھر میں ہندوؤں کو تشدد پر اکسا رہے ہیں۔ اور کیونکہ بی جے پی کا آر ایس ایس کے ساتھ گٹھ جوڑ ہے۔ اس لیے اب آر ایس ایس پہلے سے کہیں زیادہ وحشی اور خوفناک ہوگئی ہے۔ اور جس مذہبی منافرت اور مسلمانوں کو کچلنے کی بات نصیر الدین شاہ نے کی ہے وہ محض انتہا پسند ہندوؤں کی وجہ سے نہیں ہے آپ غور کریں تو پتا چلے گا کہ ایک طرف بھارتی آئین کا آرٹیکل25 آزادی رائے اور مذہبی عقائد کے آزادانہ پرچار کا راگ الاپتا ہے تو دوسری طرف آرٹیکل48 گائے ذبح کرنے سے روکتا ہے جو اسلامی اصولوں کے سراسر خلاف ہے۔ اس کے علاوہ انڈیا میں جو اس وقت کوٹہ سسٹم رائج ہے اس میں بھی صرف ہندووں کو ترجیح دی جاتی ہے اور باقی قوموں کو پولیس‘ سول سروسز‘ فوج‘ تعلیم اور کھیل کے میدان میں بہت کم مواقع دیئے جاتے ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایک اندازے کے مطابق اس سال صرف جولائی سے ستمبر تک تقریبا تین سو چرچوں کو پورے انڈیا میں نشانہ بنایا گیا تھا۔درجنوں افراد کو تو انڈیا میں ہر سال صرف گائے ذبح کرنے کے شک میں ہجوم تشدد کرکے ہلاک کر دیتا ہے۔ کئی ریاستوں میں تو اب مسلمانوں کو کھلے مقامات پر اکھٹے ہو کر با جماعت نماز جمعہ تک ادا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اور ان تمام کاروائیوں میں ہندو انتہا پسند یہ سجمھتے ہیں کہ وہ اپنے ملک میں اپنے مذہب کا دفاع کررہے ہیں اور یہ ان کا حق ہے کیونکہ بھارت میں 80 فیصد ہندو بستے ہیں اور ان کے مذہب کو خطرہ ہے ۔ حالانکہ ایک حالیہ سروے کے مطابق بھارت میں ہندو مذہب کو ہرگز کوئی خطرہ نہیں ہے وہاں تبدیلی مذہب کے گنے چنے واقعات ہی پیش آتے ہیں۔ جسے
    Loveجہاد کا نام دے کر اس کے بدلے بڑی تعداد میں مسلمانوں کا جینا حرام کر دیا جاتا ہے۔لیکن مودی جیسے انسان سے اور توقع بھی کیا کی جا سکتی ہے جس کی پوری الیکشن مہم ہی مسلمانوں کے خلاف اپنی عوام کو اکسانے پر تھی اور مسلم دشمنی کے نام پر ہی مودی نے اقتدار حاصل کیا تو پھر وہ اور اس کی جماعت انڈیا میں اس کے علاوہ اور کیا کر سکتے ہیں۔
    لیکن اگر اب یہ صورتحال خانہ جنگی تک پہنچی تو معاملات بہت زیادہ بگڑ سکتے ہیں کیونکہ اب معاملہ صرف مسلمانوں کا نہیں بلکہ عیسائیوں کا بھی ہے جس پر عالمی میڈیا بالکل بھی خاموش نہیں رہے گا اس لئے مودی سرکار کو چاہیے کہ اس بربریت کو بند کرے اور ہوش کے ناخن لے۔

  • نواز شریف آخری گرین سگنل کا منتظر،کپتان کو سردی میں گرمی لگنے لگی

    نواز شریف آخری گرین سگنل کا منتظر،کپتان کو سردی میں گرمی لگنے لگی

    نواز شریف آخری گرین سگنل کا منتظر،کپتان کو سردی میں گرمی لگنے لگی
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ویسے تو پاکستان بہت سے مسائل میں گھیرا ہوا ہے ۔ مگر ٹی وی سکرینوں کو جن خبروں نے جکڑا ہوا ہے ۔ ۔ ان میں نوازشریف واپس آئیں گے کہ نہیں ۔ ۔ حکومت پانچ سال پورے کرے گی یا نہیں ۔ ۔ خیبر پختونخواہ کے بعد پنجاب میں بھی پی ٹی آئی کو مار پڑے گی ؟۔ منی بجٹ کب اور کیسے منظور ہوگا ؟

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس وقت جو چیز دیکھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ ملک پھر الیکشن موڈ میں آگیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے تو جنرل الیکشن کی تیاری بھی شروع کردی ہے ۔ اس حوالے سے ایک ریہرسل خیبر پختونخواہ کے بلدیاتی الیکشن میں ہوچکی ہے ۔ ایک اب پنجاب کے بلدیاتی الیکشن میں ہونی ہے ۔ پھر فائنل شو جنرل الیکشن میں دیکھنے کو ملے گا ۔ ابھی پنجاب کا بلدیاتی الیکشن عثمان بزدار کے حواس پر ایسا سوار ہو چکا ہے کہ انھوں نے لاہور سمیت پورے پنجاب کے لیے تجوریوں کے منہ کھول دیے ہیں ۔ اب وہ بھی دھڑا دھڑ نئے نئے منصوبے بنوانے کے چکروں میں ہیں کہیں کسی کا افتتاح ہورہا ہے تو کسی کا اعلان ۔۔۔ یوں جو عمران خان جنگلہ بس اور کنکریٹ کا شہر کہہ کر شہباز شریف پر تنقید کیا کرتے تھے اب انکا اپنا وزیر اعلی الیکشن کی خاطر سب کچھ کرنے کو تیار ہے ۔ پر یہ جو مرضی کر لیں پنجاب میں پی ٹی آئی کے لیے رزلٹ ۔۔ کے پی کے ۔۔ سے بھی زیادہ خوفناک آنا ہے ۔ جس کے بعد ہر کسی کو معلوم ہوجائے گا کہ ہواؤں کا رخ کیا ہے ۔ اب اس حوالے سے ن لیگی تو بہت ہی پراعتماد دیکھائی دیتے ہیں جو کے ان کے بیانات سے ظاہر بھی ہورہا ہے جیسے کہ ۔ جاوید لطیف کا کہنا ہے کہ نواز شریف ہفتوں میں پاکستان نظر آئیں گے، 23 مارچ سے پہلے حکومت سے اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ اٹھ جائے گا۔ اس لیے نوازشریف کی واپسی کا سن کرحکومت کےہاتھ پاؤں پھولے ہوئے ہیں۔ پھر ایاز صادق کہتے ہیں کہ میں نواز شریف سے مل کر آیا ہوں میری مسکراہٹ بتا رہی کہ حالات کیا ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کا دھڑن تختہ ہونے والاہے، ان کے گھبرانے کا وقت آنے والا ہے۔ ۔ تو رانا ثنااللہ کہتے ہیں کہ اگر حکومت ملاقاتیں کررہی ہے تو ہم بھی کسی نہ کسی سے مل رہے ہیں، اپنے نمبر پورے اور حکومت کے نمبر کم کرنے کی کوشش کریں گے۔ منی بجٹ کی بھر پور مخالفت کریں گے۔ ۔ میں یہاں بتاتا چلوں کہ موجودہ صورتحال میں منی بجٹ بھی انتہائی اہمیت اختیار کرگیا ہے ۔ آپ دیکھیں جیسے خیبرپختونخواہ کے بلدیاتی الیکشن میں کوئی مدد نہ ملی ۔ اگر منی بجٹ کے معاملے میں مدد نہ ملی تو یہ پاس کروانا حکومت کے لیے جان جوکھوں کا کام ہوگا ۔ اس حوالے سے خبریں یہ بھی ہیں کہ نوازشریف بس اس کا ہی انتظار کر رہے ہیں کہ اس معاملے میں اسٹیبلشمنٹ کیا کردار ادا کرتی ہے ۔اگر تو وہ نیوٹرل رہتی ہے تو پھر یہ نواز شریف کے لیے گرین سگنل ہے۔ کہ بساط لپیٹنے کی تیاری ہوچکی ہے ۔ ۔ آپ دیکھیں آصف زرداری نے اپنی خراب صحت کے باوجود کراچی سے اسلام آباد جا کر چند روز گزارے ۔ لگتا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی مل کر منی بجٹ کی مخالفت میں ووٹ دینے کی تیاریاں کررہے ہیں ۔ اگر یہ بل اسمبلی سے منظور نہ ہوا تو پارلیمانی روایات کے مطابق اسے وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ سمجھا جائے گا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ تاہم پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن دونوں کے پاس مل کر بھی اِتنے ارکانِ قومی اسمبلی نہیں ہیں کہ وہ حکومت کو شکست دے سکیں۔ البتہ حکومتی اتحادمیں شامل اتحادی جماعتیں ایم کیو ایم اورمسلم لیگ ق اپوزیشن سے مل جائیں تو حکومت کے لیے خطرہ ہوسکتا ہے ۔ کیونکہ اس منی بجٹ کا بوجھ اٹھانا ان اتحادی جماعتوں کے لیے بھی مشکل دیکھائی دے رہا ہے ۔ ۔ پر اگر یہ منی بجٹ پاس ہوگیا تو حکومت کی جو اگر کہیں کوئی مقبولیت ہے بھی ۔۔۔ وہ بالکل ختم ہو کر رہ جائے گی ۔ کیونکہ یہ آئی ایم ایف کی شرائط پورا کرنے کی خاطرنئے ٹیکسوں کا نفاذہے۔ جسے مِنی بجٹ کا نام دیا گیا ہے۔ فی الحال شیخ رشید نے اصل بات کہہ دی ہے کہ ہر جماعت کی خواہش ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اس کے سر پر ہاتھ رکھے مگر اسٹیبلشمنٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ جو جماعت اقتدار میں آئے گی وہ اس کے ساتھ ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اگر اس بات کو yard stick بنا لیا جائے تو جو عمران خان کی کارکردگی ہے اس سے تو صاف نظر آرہا ہے کہ باقی ماندہ ڈیڑھ سال بھی ان کو مل گیا تو انھوں نے کون سا کوئی تیر چلا لینا ہے ۔ الٹا مزید بیڑہ غرق کرنے کی چانسز زیادہ ہے ۔ تو عمران خان کی دوبارہ حکومت بنتے تو نہیں دیکھائی دے رہی ہے ۔ جس کا مطلب ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اب پی ٹی آئی کے ساتھ نہیں ہوگی ۔ ۔ لاکھ اختلاف کے باوجود ایک بات ماننے چاہیے کہ نواز شریف ایک مظبوط اعصاب کے مالک سیاستدان ثابت ہوئے ہیں ۔ آپ دیکھیں شہباز شریف نے لاہور میں خواجہ محمد رفیق کی برسی کے موقع پر ہونے والی تقریب جس میں نواز شریف بھی بذریعہ ٹیلی فون شامل تھے ۔۔۔ کہا ہے کہ میں امید کرتا ہوں آپ سے پاکستان میں جلد ملاقات ہو گی۔ ۔ اس لیے ایک بات تو طے ہے کہ نواز شریف پاکستان واپس آگئے اور کیسز سے بچ نکلے اور اگر الیکشن دوبارہ لڑنے کی اجازت مل گئی ۔ تو پھر نواز شریف کیا ۔۔ کوئی ن لیگی بھی نہیں پکڑا جائے گا ۔ بلکہ اس کے بعد تو شاید آدھی سے زیادہ پی ٹی آئی جاتی عمرہ کے باہر اپنی سی وی لیے کھڑی ہو ۔ بڑی تبدیلی اس وقت یہ ہی ہے کہ موجودہ حکومت کی رخصتی کی بات چل نکلی ہے۔ لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ بات کہاں تک پہنچتی ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ پاکستان میں اداروں،عدالتوں اور عوام کے مزاج سارا سال بدلتے رہتے ہیں۔ ان کا جب جی چاہتا ہے کسی کو ہیرو بنا نے کے لئے نکل پڑتے ہیں اور جب جی نہ چاہے ہیرو کو زیرو بنانے کے لئے ساری توانائیاں استعمال کرنے لگتے ہیں۔ پھر کے پی کے میں تحریک انصاف کی ہار نے بتادیا ہے کہ حکومتی جماعت میں غلط فیصلے کرنے کی صلاحیت کس قدر ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دراصل تحریک انصاف کی حکومت تین سال میں عوام کے لئے ایک بھی خوشی کی خبر نہیں لا سکی ہے اور اگلے الیکشن میں وقت تیزی سے کم ہورہا ہے۔ ۔ جنوبی پنجاب میں جہانگیر ترین خان صاحب سے ناراض ہو کے علیحدہ گروپ بنا چکا ہیں ۔ شاہ محمود قریشی ہمیشہ سے کسی کے اشارے کے انتظار میں رہتے ہیں ۔ گورنر چودھری سرور کے بیانات خوب رونق لگا چکے ہیں ۔ شمالی پنجاب میں چودھری برادران اپنے قدم مضبوطی سے جمائے ہوئے ہیں۔ ایسے میں اگر انتخابات ہوتے ہیں تو تحریک انصاف کے لیے پنجاب سے بیس سیٹیں نکالنا بھی مشکل ہو جائے گا۔ ۔ اس لئے نواز شریف کے لیے یہ بہت مناسب وقت ہے کہ سیاسی میدان میں واپسی کی جائے۔ اگر اگلے چند ہفتوں میں میاں نواز شریف وطن واپس آتے ہیں اور جیل میں بند کر دیئے جاتے ہیں تو امید ہے کہ اگلے تین چار ماہ بعد وہ عدالتوں سے رہائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر ایک پورا سال ان کے پاس ہو گا کہ نہ صرف اپنی جماعت کی صفیں دوبارہ سیدھی کرنے کی کوشش کریں بلکہ ملک کے طول و عرض میں جا کے عوام تک اپنا پیغام لے کر جائیں ۔ نواز شریف کی واپسی سے مریم اور شہباز کو لے کے چلنے والی باتیں بھی دم توڑ جائیں گی کہ نواز شریف کے سامنے ان کے لوگ سر تسلیم خم کرنے کے عادی رہے ہیں۔ کیونکہ ورکر نواز شریف کا ہے ووٹر نواز شریف کا ہے۔ جلسے میں لوگ انہی کے نام پہ آتے ہیں۔اس لئے ان کی واپسی سے مسلم لیگ ن میں دوسری جماعتوں سے ناراض لوگوں کی آمد کا سلسلہ چل نکلے گا۔ اسی لیے کپتان کی باتوں سے اب لگنا شروع ہوگیا ہے کہ کہیں کچھ گڑبڑ ضرور ہے کہ دسمبر کی سخت سردی میں گرمی لگنے لگی ہے۔ اور اپوزیشن کے مردہ جسم میں جیسے جان سی پڑ گئی ہے۔ میں آپکو بتاوں یہ سب تب ہوتا ہے ۔ جب آپ کے اردگرد صرف خوشامدی ہوں ۔ جو یہ نہ بتائیں لوگ آپکو کیا کیا بدعائیں دے رہے ہیں ۔ کیا کیا کہہ رہے ہیں ۔ جو یہ نہ بتائیں کہ ملک اوپر جانے کی بجائے غریب اوپر جانے شروع ہوگئے ہیں ۔ پھر آپ کو صرف اپنا آپ سچ دیکھائی دے باقی سب جھوٹ ۔ حالانکہ آپ نے وعدے یا دعوے تو کیا پورے کرنے تھے ۔ الٹا میرے کپتان آپ تو اس عوام کو دلاسہ دینے میں بھی ناکام رہے ۔ جب اس انتہا کا عوام پر ظلم ہو اور ان کی زندگی اجیرن کر دی جائے تو پھر قدرت اپنا انصاف کرتی ہے ۔ پھر آپ جتنے مرضی طاقتور ہوں ۔ جو مرضی آپ کے ساتھ ہو ۔ حکومت چلانا تو دور کی بات بچانا مشکل ہوجاتا ہے ۔ کیونکہ کوئی بھی شخص ہر وقت ہر کسی کو بے وقوف نہیں بنا سکتا ۔

  • نوازشریف:شہبازشریف سمیت ساری شریف فیملی کو بھی صحت کارڈ جاری کیے جارہے ہیں‌:اہم شخصیت کا دعویٰ‌

    نوازشریف:شہبازشریف سمیت ساری شریف فیملی کو بھی صحت کارڈ جاری کیے جارہے ہیں‌:اہم شخصیت کا دعویٰ‌

    لاہور:نوازشریف:شہبازشریف سمیت ساری شریف فیملی کو بھی صحت کارڈ جاری کیے جارہے ہیں‌:اہم شخصیت کا دعویٰ‌ ادھر یہ خبریں بھی گردش کرنا شروع ہوگئی ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کل لاہور کس چیز کا افتتاح کرنے آرہےہیں؟معاون خصوصی نے قبل ازوقت ہی بتا دیا ،اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ‌پنجاب عثمان بزدار کے معاون خصوصی وزیر اعلیٰ پنجاب حسان خاور نے وزیراعظم عمران خان کے دورہ لاہور کے حوالے سے قبل ازوقت ہی انکشاف کردیا ہے ،

    معاون خصوصی وزیر اعلی پنجاب حسان خاور نےسینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ اتھارٹی سائٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم لاہور سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ اتھارٹی کا دورہ کرنے آئے ہیں جو نیا منصوبہ ہے۔حسان خاورکاکہنا تھا کہ لاہور ڈاؤن ٹاؤن کا جلد افتتاح کریں گے اس کے بعد ڈیجیٹل اور ریزیڈینٹل سٹی کا افتتاح ہوگا، یہاں پر نیلے رنگ کی سڑکیں ہوں گی اور زیادہ تر گاڑیوں کو انڈر گراونڈ رکھا جائیگا۔

    وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی حسان خاور نے کہا کہ وزیراعظم کا ویژن تھا پرائیویٹ اپرٹنر شپ وہاں کی جائے جہاں اشد ضرورت ہو یا ہماری انویسٹمنٹ ہو۔ حسان خاور نے کہا کہ یہ منصوبہ ماحول دوست منصوبہ ہوگا، اس کا دوسرا مقصد شہر کی تخلیق نو ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پنجاب کی تاریخ کی سب سے بڑی آکشن یہاں کی جس کے زریعے یہ اب تک چالیس ارب روپے جنریٹ کر چکے ہیں۔

    حسان خاور کا کہنا تھا کہ لاہور ڈاؤن ٹاؤن کا جلد افتتاح کریں گے اس کے بعد ڈیجیٹل اور ریزیڈینٹل سٹی کا افتتاح ہوگا، یہاں پر نیلے رنگ کی سڑکیں ہوں گی اور زیادہ تر گاڑیوں کو انڈر گراونڈ رکھا جائیگا۔ معاون خصوصی وزیر اعلی پنجاب حسان خاور کا کہنا ہے کہ ہم ایسا بلدیاتی انتخاب لارہے ہیں جسکے ذریعے اختیار عام عوام تک پہنچے گا۔۔

    حسان خاور نے کہا کہ کل وزیراعظم لاہور تشریف لا رہے ہیں جو ہیلتھ کارڈ تقریب سے خطاب کریں گے جبکہ تارکین وطن بھی اس ہیلتھ کارڈ سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ حسان خاور کا کہنا تھا کہ ہم اپوزیشن لیڈروں خواہ وہ پاکستان ہوں یا لندن ہیلتھ کارڈ دے سکتے ہیں تاکہ وہ یہاں علاج کروا سکیں۔اس میں نوازشریف ، اسحاق ڈار سمیت سب کو دیئے جائیں گے

    دوسری طرف وزیراعظم کے دورہ لاہور کے سلسلے میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے جارہےہیں اوریہ بھی امکان ہے کہ وزیراعظم کل کسی اہم تقریب میں شرکت بھی کریں ، ادھر لاہور میں اس وقت وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے حوالے سے تاجراور دیگرکاروباری حضرات بہت خوش دکھائی دیتےہیں

  • یہ لوگ حکومتیں گرانے کی طاقت رکھتے ہیں،عدالت میں کس نے کیا اظہار بے بسی

    یہ لوگ حکومتیں گرانے کی طاقت رکھتے ہیں،عدالت میں کس نے کیا اظہار بے بسی

    یہ لوگ حکومتیں گرانے کی طاقت رکھتے ہیں،عدالت میں کس نے کیا اظہار بے بسی
    اسلام آباد ہائیکورٹ میں پولیس آرڈر 2002 پرعمل نہ کرنے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ عالمی سطح پر انصاف کی فراہمی میں عدلیہ کا کیا نمبر بتایا جا رہا ہے؟ ریٹنگ کا یہ تاثر غلط ہے، چالیس سال سے یہ عدالت وفاقی حکومت سے کہہ رہی ہے پراسیکیوشن برانچ بنا دیں،پراسیکیوشن برانچ نہ بننے سے شہریوں کو پریشانی ہوتی ہے، سیکریٹری داخلہ اور آئی جی پولیس کو اس آرڈر سے کوئی غرض نہیں،ریاست کی تمام مشینری قبضہ گروپ میں ملوث ہے،ہر ادارے نے اپنا ریئل اسٹیٹ کا بزنس کھول رہا ہے یہ جرم ہے،جرائم روکنے والے ادارے جرائم میں ملوث ہیں اور مجرموں کا تحفظ کرتے ہیں

    عدلیہ سے متعلق ریٹنگ کا یہ تاثر غلط ہے،ایک قیدی نے بھکر جیل سے خط لکھا ہے کہ کس طرح زیادتی کی جاتی ہے،قیدی نے خط میں لکھا ہے کہ پوری ریاست کی مشینری اس میں شامل ہے، اصل مجرم پکڑے ہی نہیں جاتے کیونکہ ریاست کی ساری مشینری ملوث ہے، اسلا م آباد پر ایلیٹ کلاس کا قبضہ ہے،وزارت داخلہ کے حاضر سروس افسران ریئل اسٹیٹ کا بزنس چلا رہے ہیں،آئی بی کی بہت بڑی ہاؤسنگ سوسائٹی ہے، پولیس بھی ہاؤسنگ سوسائٹی بنا رہی ہے شہری تکلیف میں ہیں کیونکہ جن اداروں نے تحفظ کرنا ہے وہ اپنے بزنس چلا رہے ہیں، اس عدالت نے معاملہ وفاقی حکومت کو بھیجا انہوں نے کچھ نہیں کیا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کون ریاست کے کمزور شہریوں کی داد رسی کریگا؟ کس طرح قبضے ہوتے ہیں اور لوگوں کو اٹھایا جاتا ہے،ایس ایچ او اور پٹواری کے ملوث ہوئے بغیر قبضہ ہو ہی نہیں سکتا،ادارے اپنے نام سے سوسائٹیاں بنا کر پرائیویٹ بزنس کر رہے ہیں، اس سے بڑا مفادات کا ٹکراؤ کیا ہو سکتا ہے،پولیس آرڈر کا نفاذ 2015 میں کیا گیا عدالت بار بار عمل کا کہہ چکی ہے، ریاست کے تمام اداروں کوشہریوں کی خدمت کرنی چاہئیں،جیل سے لکھے گئے اس ایک خط پر پوری حکومت کو ہل جانا چاہیے،غریب آدمی کیلئے فیصلہ آتا ہے تو میڈیا بھی اس طرح نہیں چلاتا،بڑی مشکل سے کچہری کو منتقل کیا جا رہا ہے، اور اسکا کریڈٹ وزیراعظم کو جاتا ہے، کسی ایک بڑے آدمی کو کچھ ہو جائے تو پوری مشینری ادھر پہنچ جاتی ہے،پولیس آرڈر سے متعلق عدالتی آرڈر کی کاپی سب کو گئی کسی نے نہیں پڑھی ہو گی،پولیس کے تفتیشی افسروں کو تفتیش سے متلعق کچھ پتہ ہی نہیں،پھر بدنام عدالتیں ہوتی ہیں کہ 136 میں سے 130 نمبر پر آ گئیں،یہ پورا سسٹم عام آدمی کیلئے ہے لیکن سارے اسکے خلاف کام کر رہے ہیں،کیا دنیا میں کہیں ریاستی اداروں کے نام پر پرائیویٹ بزنس ہوتا ہے،ایف آئی اے کا ڈائریکٹر ایف آئی اے کی سوسائٹی کا ڈائریکٹر ہوتا ہے،پولیس کی اپنی سوسائٹی ہے، اور یہ سب جرائم کی جڑ ہے ڈپٹی کمشنر بے بس ہیں، جہاں وزارت داخلہ کا مفاد ہو گا وہ اسکے خلاف کچھ کر سکتے ہیں؟ اس عدالت کے غریب کیلئے دیئے گئے ہر فیصلے کو ہر ایک نے دراز میں رکھ دیا، جو کیسز اس عدالت میں آ رہے ہیں وہ لرزہ خیز ہیں،عدالت کے پاس آبزرویشنز دینے کے علاوہ کچھ کرنے کا اختیار نہیں،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ عدالت نے جو کچھ کہا ایک ایک حرف حقیقت کا حصہ ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ افسوسناک ہے کہ ریاست صرف طاقتور کا تحفظ کرتی ہے،

    صحافیوں کا دھرنا،حکومتی اتحادی جماعت بھی صحافیوں کے ساتھ، بلاول کا دبنگ اعلان

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    میں نے صدر عارف علوی کا انٹرویو کیا، ان سے میرا جھوٹا افیئر بنا دیا گیا،غریدہ فاروقی

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    سپریم کورٹ نے صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا کا نوٹس لے لیا

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    پریس کلب پر اخباری مالکان کا قبضہ، کارکن صحافیوں نے پریس کلب سیل کروا دیا

    صحافیوں کو کرونا ویکسین پروگرام کے پہلے مرحلے میں شامل کیا جائے، کے یو جے

    کیوں ان صحافیوں کے پیچھے پڑ گئے جو حکومت یا کسی اور کے خلاف رائے دے رہے ہیں،عدالت

    مینار پاکستان واقعہ کے ملزم پکڑے جاسکتے تو صحافیوں کے کیوں نہیں؟ سپریم کورٹ

    مقامی صحافیوں کو کان پکڑوا کر تشدد کروانے والا ملزم گرفتار

    حکومت بتائے صحافیوں کے حقوق تحفظ کے لیے کیا اقدامات اٹھائے؟ عدالت

    پبلک آفس ہولڈر کا عزیز لاپتہ ہو جائے توریاست کا ردعمل کیا ہوگا؟چیف جسٹس اطہرمن اللہ کے اہم ریمارکس

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے معاملہ وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کے سامنے رکھنے کا حکم دے دیا ،عدالت نے کہا کہ اب یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے اور واضح تبدیلی نظر آنی چاہیے، وفاقی حکومت اس عدالت کو دکھائے کہ وہ بہتری لانے کے خواہش مند ہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ کوشش وفاقی حکومت کی بقا کی جنگ ہوتی ہے میں جواز پیش نہیں کر رہا لیکن ذرا سی کارروائی کی جائے تو ہلا کر رکھ دیا جاتا ہے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے مفادات کا ٹکراؤ ختم کیا جائے،یہ صرف قانون سازی سے نہیں ہو گا کچھ کر کے دکھانا ہو گا،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ شوگر مافیا پر ہاتھ ڈالا تو انہوں نے اس عدالت میں بھی درخواستیں دائر کر دیں،یہ لوگ حکومتیں گرانے کی طاقت رکھتے ہیں،ہم نے شوگر مافیا، پیٹرول مافیا اور دیگر پر بھی ہاتھ ڈالا ہے ، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس کا جو کام ہے وہ اگر نہیں کر سکتا تو وہ بیچارا نہیں ہے،اگر کوئی اپنا کام نہیں کر سکتا تو وہ اپنے گھر جائے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں کمزور اٹارنی جنرل نہیں ہوں میری وزیراعظم تک رسائی ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر آئی جی اور ایس ایچ او نہ چاہیں تو انکی حدود سے کسی کو اٹھایا جا سکتا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ کاش میں 1789 میں فرانس میں ہوتا جب وہاں انقلاب آیا تھا،فرانس انقلاب میں سب صفائی کر دی گئی تھی، عدالت نے کہا کہ انقلاب تب آئے گا جب ہم سب دیانتدار ہو جائیں اور سچی بات کرنے لگیں،وزیراعظم اور کابینہ کے سامنے رکھیں اور اس عدالت کو کچھ کر کے دکھائیں، اگر آئی جی اور ایس ایچ او ملوث نہ ہوں تو جرائم نہیں ہو سکتے، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ میں گزشتہ روز وزیراعظم سے ملا تو وہ پریشان تھے،وزیراعظم نے کہا کہ 3سال میں کوئی ریفارمز نہیں ہوئیں جو انکے ایجنڈے پر تھیں،سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ کبھی کسی کو قانون کے خلاف کوئی کام کرنے کا نہیں کہا،

    علیم خان کی ہاؤسنگ سوسائٹی ،سپریم کورٹ نے دیا بڑا جھٹکا

    تین سو ارب روپے کے میگا سکینڈل میں اینٹی کرپشن کی تحقیقات آخری مرحلے میں داخل

    سرکاری زمین پر قبضہ کرکے سینما بنانے پر ن لیگی رہنما پر مقدمہ درج

    پی ڈی ایم کا جلسہ:اپوزیشن کا آخری شوبھی فلاپ:سچ کیا اورجھوٹ کیا:ممتازاعوان نے منظرکشی کردی

    پی ڈی ایم کو لاہورجلسہ الٹا پڑ گیا،مولانا ،بلاول اور نواز شریف کے واضح اشارے، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    پی ڈی ایم مینار پاکستان جلسے میں ناکامی پر پی ڈی ایم سربراہ نے ایکشن لے لیا

    ابصار عالم کو کس نے گولی ماری ؟ جسٹس فائز عیسیٰ کا تاریخی فیصلہ آگیا ، سنئے مبشرلقمان کی زبانی

    حکومت کے حق میں آرٹیکلز لکھنے پر اشتہارات ملتے ہیں، قائمہ کمیٹی میں انکشاف

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے ساری سوسائٹیز کے خلاف کارروائی کرتی ہے خود چلا رہی ہے،آئے روز جس طرح کیسز آ رہے ہیں وہ اس عدالت کیلئے بھی افسوسناک ہیں، بتائیں عدالت اپنے آرڈر میں کیا لکھے کہ ضمیر تو جگا دیئے جائیں، چار ہفتے میں بتائیں کہ مفادات کا ٹکراؤ کس طرح ختم کیا جائے گا؟اگر اسلام آباد ہائیکورٹ کوئی کاروبار شروع کر دے تو یہ مفاد کا ٹکراؤ نہیں ہو گا، کتابی اور سیمینار والی باتیں نہیں بلکہ تبدیلی گراؤنڈ پر نظر آنی چاہیے،یہ عدالت اٹارنی جنرل کو کمیشن بنا دیتی ہے،جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے کمیشن نہ بنائیں،میں یہ وزیراعظم کے سامنے رکھوں گا اور سیکریٹری داخلہ سے مشاورت کرونگا، لینڈ مافیا ایک لعنت ہے،جس پر عدالت نے کہا کہ ریاست اور ریاستی ادارے لینڈ مافیا بن چکے ہیں،

    صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف ازخود نوٹس کیس،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    انڈس نیوز کی بندش، صحافیوں کا ملک ریاض کے گھر کے باہر دھرنا

    تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے ملک ریاض کو کہا جائے،آپ نیوز کے ملازمین کا جنرل ر عاصم سلیم باجوہ کو خط

    پنجاب پولیس نے ملک ریاض فیملی کے آگے گھٹنے ٹیک دئیے، حسان نیازی

    جب تک قانون کے مطابق سخت سزا نہیں دی جائے گی، قوم کرنل کی بیوی اور ٹھیکیدار کی بیٹی جیسے ٹرینڈ بناتی رہے گی۔ اقرار

    ملک ریاض کے باپ سے پیسے لے کر نہیں کھاتا، کوئی آسمان سے نہیں اترا کہ بات نا کی جائے، اینکر عمران خان

    صحافیوں کے خلاف کچھ ہوا تو سپریم کورٹ دیوار بن جائے گی، سپریم کورٹ

    صحافیوں کا کام بھی صحافت کرنا ہے سیاست کرنا نہیں،سپریم کورٹ میں صحافیوں کا یوٹرن

    مجھے صرف ایک ہی گانا آتا ہے، وہ ہے ووٹ کو عزت دو،کیپٹن ر صفدر

    پولیس جرائم کی نشاندہی کرنے والے صحافیوں کے خلاف مقدمے درج کرنے میں مصروف

    بیوی، ساس اورسالی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے الزام میں گرفتارملزم نے کی ضمانت کی درخواست دائر

    سپریم کورٹ کا سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس،ہمارے خاندانوں کو نہیں بخشا جاتا،جسٹس قاضی امین

    ‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    ریاست خود کرمنلز کو تحفظ دیتی،قانون کو دیکھ کر فیصلہ کریںگے،عدالت

  • یہ معاملہ عدلیہ کی آزادی سے متعلق ہے،عدالت کا اٹارنی جنرل کو حکم

    یہ معاملہ عدلیہ کی آزادی سے متعلق ہے،عدالت کا اٹارنی جنرل کو حکم

    یہ معاملہ عدلیہ کی آزادی سے متعلق ہے،عدالت کا اٹارنی جنرل کو حکم
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں ملازمین کی معلومات شہری کو فراہم کرنے کے حکم کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ آپکو کیوں معلومات چاہیے؟ درخواست گزار نے کہا کہ بطور شہری سپریم کورٹ کے ملازمین کی معلومات چاہئیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا وزارت قانون سپریم کورٹ کی کنٹرولنگ وزارت ہے? اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کہا کہ نہیں، کنٹرولنگ وزارت نہیں بلکہ متعلقہ وزارت ہے، عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ قرار دے چکی کہ ادارے متاثرہ فریق نہیں ہو سکتے،

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزارت قانون اعلیٰ عدلیہ کے نوٹیفکیشن جاری کرتی ہے اس لیے متعلقہ وزارت ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا وزارت قانون نے سپریم کورٹ کی اجازت سے یہ درخواست دائر کی ہے، سپریم کورٹ کا مطلب سپریم کورٹ ہے، کیا فل بینچ نے اسکی اجازت دی؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ رجسٹرار سپریم کورٹ سے نہیں پوچھ سکتا تھا کہ انہوں نے اجازت لی یا نہیں،عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ قرار دے چکی کہ ادارے متاثرہ فریق نہیں ہو سکتے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزارت قانون اعلیٰ عدلیہ کے نوٹیفکیشن جاری کرتی ہے اس لیے متعلقہ وزارت ہے، انفارمیشن کمیشن نے فیصلہ دیا اور رجسٹرار سپریم کورٹ متاثرہ فریق تھے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے یہ فرق سمجھ لیں کہ رجسٹرار سپریم کورٹ، سپریم کورٹ نہیں ہے، اس ہائیکورٹ میں غیرقانونی بھرتیاں ہوئیں اور ہم نے انکے خلاف کارروائی کی، کیا ان بھرتیوں کا ذمہ دار رجسٹرار آفس ہو گا یا تمام ججز ذمہ دار ہونگے؟ کوئی ریاستی ادارہ متاثرہ نہیں ہو سکتا رجسٹرار متاثرہ ہو سکتا ہے، شہری نے سپریم کورٹ کی نہیں رجسٹرار آفس سے متعلق معلومات مانگی ہیں، اس ہائیکورٹ نے رجسٹرار کو پرنسپل اکاؤنٹنٹ افسر مقرر کیا ، اور تمام چیزیں وہ دیکھتے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ شہری نے رجسٹرار آفس سے نہیں بلکہ سپریم کورٹ سے متعلق معلومات مانگی ہیں، اٹارنی جنرل

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا اس ہائیکورٹ کا رجسٹرار ہائیکورٹ ہو سکتا ہے؟ ہائیکورٹ تو اس ہائیکورٹ کے ججز ہیں، اس عدالت نے رجسٹرار کو پرنسپل اکاؤنٹنگ افسر بنایا ہے کیونکہ کل آڈٹ ہو سکے، رجسٹرار کی ذمہ داری بھی ہو گی تو کل احتساب بھی ہو سکے گا، چیف جسٹس کسی بھرتی میں تو شامل نہیں ہو گا، اس شہری کے تو رجسٹرار سپریم کورٹ آفس سے متعلق معلومات مانگی ہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئینی عدالتوں سے متعلق معلومات قانون کے مطابق فراہم نہیں کی جا سکتیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ یہ قانون معلومات کی فراہمی کے قانون سے متصادم کیسے ہو سکتا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ قانون بنانے والوں اگر آئینی عدالتوں کو اس سے باہر رکھا ہے تو کیا غلط ہے،اگر یہ عدالت وفاقی قانون کے تحت بنائی گئی ہو تو پارلیمنٹ کل تہس نہس کر دیگی، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نہیں نہیں، کوئی ایسا نہیں کر سکتا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ آپ تک پہنچنے کیلئے کسی کو میرے اوپر سے گزرنا پڑیگا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ نہیں نہیں، ہم آپکو بیچ میں نہیں ڈالیں گے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ، فیڈرل شریعت کورٹ اور یہ ہائیکورٹ آئینی عدالتیں ہیں، آئینی عدالتوں کو ختم نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ وہ آئین کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ یہ عدالت اگر فیصلہ دیتی ہے تو اسکے خلاف اپیل کہاں دائر ہو گی، سپریم کورٹ تو خود درخواست گزار ہے وہ اپیل کیسے سن سکتے ہیں، چھپانے کیلئے کچھ نہیں، عوام تک معلومات کیوں نہیں پہنچنی چاہیے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ایسا کچھ نہیں جو چھپایا جائے، آئینی عدالت کی معلومات کی فراہمی قانون کے مطابق نہیں کی جا سکتی، عدالت نے کہا کہ آرٹیکل 19 کہاں روکتا ہے کہ آئینی اداروں کی معلومات نہیں فراہم کی جائے گی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 19 میں مناسب پابندیوں کا بھی ذکر ہے. اور یہ معلومات اس میں آتی ہے،

    رجسٹرار سپریم کورٹ اور وزارت قانون کی درخواستیں قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ میں رجسٹرار سپریم کورٹ کی نمائندگی نہیں بلکہ عدالت کے نوٹس پر آیا ہوں،درخواست گزار نے کہا کہ آئین اور دیگر قانون دونوں ہی پارلیمنٹ بناتی ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے درخواست گزار شہری سے استفسار کیا کہ باقی دنیا میں کیا پریکٹیس ہے ؟بھارت میں کیس پر جو فیصلہ ہوا تھا اس کی کاپی بھی عدالت دیں، کمیشن نے کورٹ کے بارے میں ایک آرڈر پاس کیا جسے چیلنج نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا، اس عدالت نے رجسٹرار کو کہا کہ معلومات فراہم کی جائیں، مشکل یہ ہے کہ آپ اس عدالت کے پاس آئے ہیں کہ معلومات نہیں دینا چاہتے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ پاکستان میں پانچ ہائی کورٹس ہیں، یہ معاملہ اس عدالت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب ججز کی تنخواہ قانون کے مطابق ہے تو کوئی بھی شہری اسکی معلومات لے سکتا ہے، اٹارنی جنرل آف پاکستان نے کہا کہ اگر اس متعلق قانون کی تشریح ہو جائے تو پھر ہو سکتا ہے، انفارمیشن کمیشن نے جو فیصلہ دیا وہ اس کا اختیار نہیں تھا،جو معلومات مانگی گئی اس میں ایسا کچھ نہیں تھا جو چھپایا جاتا،جس پر عدالت نے کہا کہ تو پھر معلومات دے دینی چاہیے تھی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر میں رجسٹرار ہوتا تو شاید معلومات دے دیتا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ رجسٹرار سے معلومات لے کر شہری کو دیدیں، یہ معاملہ عدلیہ کی آزادی سے متعلق ہے،شہری کو یہ نہیں لگنا چاہیے کہ اس سے کچھ چھپایا جا رہا ہے،شہری کا عدالت پر اعتماد سب سے زیادہ اہم ہے،

    نواز شریف کی نئی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع، نواز ذہنی دباؤ کا شکار،جہاز کا سفر خطرناک قرار

    جس ڈاکٹر کا سرٹیفیکٹ لگایا وہ امریکہ میں اور نواز شریف لندن میں،عدالت کے ریمارکس

    اشتہاری ملزم کی درخواستیں کس قانون کے تحت سن سکتے ہیں،نواز شریف کے وکیل سے دلائل طلب

    نواز شریف کی جیل میں طبیعت کیوں خراب ہوئی تھی؟ نئی میڈیکل رپورٹ میں اہم انکشاف

    اشتہاری مجرم کی ضمانت منسوخی کی ضرورت ہے؟ نواز شریف کیس میں عدالت کے ریمارکس

    نواز شریف کو مفرور بھی ڈکلیئر کر دیں تو تب بھی اپیل تو سنی جائے گی،عدالت

    گرفتاری پہلے، مقدمہ بعد میں، مہذب ممالک میں کبھی ایسا دیکھا ہے؟ مریم نواز

    مریم نواز کا وکیل بھاگ گیا

    جاوید لطیف نوازشریف کے بیانیے کے ساتھ کھڑے ہیں،مریم نواز

    قائمہ کمیٹی اجلاس،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار، رانا شمیم کے نہ آنے پرجاوید لطیف کا بڑا اعلان

  • الیکشن کمشنرخیبرپختونخوا شریف اللہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

    الیکشن کمشنرخیبرپختونخوا شریف اللہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

    اسلام آباد :صوبائی الیکشن کمشنرخیبرپختونخوا شریف اللہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا، ڈی جی لوکل گورنمنٹ الیکشن کو الیکشن کمشنر خیبرپختونخوا تعینات کردیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان کے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ صوبائی الیکشن کمشنرخیبرپختونخوا شریف اللہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق شریف اللہ کی جگہ ڈی جی لوکل گورنمنٹ الیکشن محمد رزاق کو الیکشن کمشنر خیبرپختونخوا تعینات کردیا گیا ہے۔ شریف اللہ کو الیکشن کمیشن سیکریٹریٹ اسلام آباد رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ تاہم الیکشن کمشنر خیبرپختونخوا شریف اللہ کو عہدے سے ہٹانے کی وجوہات سامنے نہیں آسکیں۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن نے کے پی بلدیاتی انتخابات کا دوسرے مرحلہ کے پول ڈے مقرر کرنے کیلئے سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات دوسرے مرحلہ کیلئے معاملہ سماعت کیلئے مقرر کردیا ،

    ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن (آج) جمعرات کو معاملے پر سماعت کرے گا۔ الیکشن کمیشن سے مرتضیٰ جاوید عباسی سمیت متعدد درخواست گزاروں نے رجوع کررکھا ہے، سخت موسم اور برفباری کی وجہ سے الیکشن کمیشن شیڈول جاری نہیں کرسکا، درخواستگزاروں نے الیکشن کمیشن سے شیڈول تاخیر سے جاری کرنے کی استدعا کررکھی ہے،

    الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ 16 جنوری کو کرانے کا اعلان کیا تھا۔یاد رہے خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں مولونا فضل الرحمان کی جمیعت علمائے اسلام پہلے نمبر پر فاتح جماعت رہی، جبکہ حکمران جماعت تحریک انصاف انتخابات میں دوسرے نمبر پر رہی۔ جبکہ بلدیاتی انتخابات میں تیسرے نمبر پر آزاد امیدواروں نے نشستیں حاصل کیں۔