Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • شہزاد اکبر کے استعفے کے بعد نواز شریف کا پاکستان میں اہم شخصیت سے رابطہ

    شہزاد اکبر کے استعفے کے بعد نواز شریف کا پاکستان میں اہم شخصیت سے رابطہ

    شہزاد اکبر کے استعفے کے بعد نواز شریف کا پاکستان میں اہم شخصیت سے رابطہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے درمیان ٹیلیفون پر رابطہ ہوا ہے

    دونوں رہنماؤں نےملکی سیاسی صورتحال پر گفتگو کی اور پی ڈی ایم کی تحریک پر مشاورت کی مولانا فضل الرحمان اور نواز شریف نے حکومت مخالف تحریک کو تیز کرنے پر اتفاق کیا،لانگ مارچ اور ان ہاؤس تبدیلی سمیت مختلف اہم قومی امور پر بھی مشاورت کی گئی،مولانا فضل الرحمان نے نواز شریف کو آج کے پی ڈی ایم اجلاس کے ایجنڈے پر اعتماد میں لیا ، نواز شریف نے مولانا فضل الرحمان کو یقین دہانی کروائی کہ پی ڈی ایم پلیٹ فارم سے جو بھی فیصلہ کیا جائے گا، ن لیگ ساتھ دے گی ،

    واضح رہے کہ پی ڈی ایم کا آج اجلاس ہو گا،لانگ مارچ کی تیاریوں کے لیے پی ڈی ایم نے سربراہی اجلاس آج اسلام آباد میں طلب کر رکھا ہے، پی ڈی ایم کے سربراہ اور جے یو آئی کے قائد مولانا فضل الرحمان پی ڈی ایم کے اجلاس کی صدارت کریں گے ، پی ڈی ایم اجلاس میں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اپوزیشن کی تحریک اور سیاسی حکمت عملی کاجائزہ لیا جائے گا۔ اجلاس میں سٹیئرنگ کمیٹی کی سفارشات کی توثیق کی جائے گیرکے پی بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا جائے گا

    دوسری جانب خبریں ہیں کہ خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے باعث پی ڈی ایم کا لانگ مارچ ملتوی ہونے کا امکان ہے ذرائع پی ڈی ایم کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دوسرے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات 27 مارچ کو ہونے جاریے ہیں، جس کی وجہ سے لانگ مارچ کی تحریک متاثر ہوسکتی ہے، اس لئے لانگ مارچ کی تاریخ تبدیل کرکے حتمی فیصلہ کیا جائے گا

    @MumtaazAwan

    معاملے کو بہتر انداز سے سلجھایا گیا،شیخ رشید

    شیخ رشید نے لاہور بیٹھ کر اسلام آباد والوں کو سنائی خوشخبری

    لڑکے نالائق،لڑکیاں آگے،اب یہ کام کرنے کو دل نہیں کرتا، شیخ رشید

    23 مارچ کو مارچ کی کال بڑی غلطی ہے ،شیخ رشید کی اپوزیشن کو وارننگ

    شیخ رشید کی نواز شریف کو آفر، پی ڈی ایم سے تاریخ بدلنے کی اپیل

    الیکشن کمیشن فارن فنڈنگ کیس کی انکوائری کر رہا ہے تو کیا وزیر اعظم مستعفی ہو جائیں؟ سپریم کورٹ

    پیپلز پارٹی کا لانگ مارچ، اجلاس میں بڑے فیصلے ہو گئے

    پیپلز پارٹی کا لانگ مارچ، بلاول متحرک،اسلام آباد میں ڈیرے، اہم ملاقاتیں

    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے پی ڈی ایم کو مشروط پیشکش کر دی

    پی ڈی ایم کا مہنگائی مارچ ملتوی ہونے کا امکان

    لانگ مارچ کریں یا نہیں؟ پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس طلب

  • پاکستان میں کرپشن مزید بڑھ گئی، ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل

    پاکستان میں کرپشن مزید بڑھ گئی، ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل

    پاکستان میں کرپشن مزید بڑھ گئی، ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل
    ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے 180 ممالک کا کرپشن سیپشن انڈیکس جاری کر دیا ہے جس کے مطابق پاکستان میں کرپشن مزید بڑھ گئی ہے

    ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری کر دہ سروے کے مطابق پاکستان میں کرپشن میں گزشتہ سال کی نسبت ہوشربا اضافہ ہوا ہے ، 2020 میں پاکستان کا دنیا میں 124 واں نمبر تھا جس میں اب 16 درجے اضافہ ہواہے اور پاکستان 124 ویں سے 140 ویں نمبرپر جا پہنچا ہے کرپشن سیپشن انڈیکس میں پاکستان کے سکور میں تین پوائنٹس کا اضافہ ہواہے ، گزشتہ سال پاکستان کا سکور 31 تھا جبکہ 2021 میں یہ سکور 28 ہو گیا ہے کرپشن سیپشن انڈیکس میں سکور کم ہونا کرپشن میں اضافے کی علامت ہے

    ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے کرپشن پرسیپشن انڈیکس پر ڈنمارک، فن لینڈ، نیوزی لینڈ اور ناروے کی صورتحال سب سے بہترین رہی، جبکہ سنگاپور، سویڈن، سوئٹزرلینڈ، نیدرلینڈز اور لکسمبرگ میں بھی کرپشن نہ ہونے کے برابر ہے

    ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی جانب سے سروے رپورٹ آنے کے بعد اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف نے کہا کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ فرد جرم ہے کرپٹ حکمران مستعفی ہوں ‎ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے دوسری بار گواہی دی کہ حکومت چور ہے ان کی رپورٹ فرد جرم ہے وطن عزیزان کی لوٹ مار کا متحمل نہیں ہوسکتا،عمران نیازی کے دور میں پاکستان کرپشن میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے ، دنیا کہہ رہی ہے وزیر اعظم چور ہے ، عالمی سطح پر وطن کی بدنامی ہو رہی ہے ۔ ہماری گڈ گورننس،شفافیت اورقانونی اصلاحات سے ملک کی کرپشن انڈیکس میں رینکنگ 23 درجے بہتری ہوئی تھی ۔ موجودہ کرپٹ ٹولے نے ہماری محنت ضائع کر دی ۔

    پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ حکومت کے خلاف چارج شیٹ ہے، ایک سال میں پاکستان کرپشن انڈیکس میں 16 درجے اوپر چلا گیا،کرپشن اور لوٹ مار کے نتیجے میں عوام روٹی روٹی کو محتاج ہو گئے،معیشت کھنڈر بن چکی ہے، مہنگائی میں پاکستان دنیا میں تیسرے نمبر پر ہےکسان ایک ایک بوری کھاد کے لیے لائنوں میں لگنے پر مجبور ہے،

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کے ترجمان ذوالفقار علی بدر کا کہنا تھا کہ ٹرانسپرنسی کی کرپشن رپورٹ کے بعد عمران خان حکومت کا کوئی جواز نہیں رہ جاتا ،ملک سے کرپشن ختم نہیں ہوئی عمران خان اب گھر جائیں،پی ٹی آئی کی لوٹ مار کی وجہ سے ملک میں مہنگائی بڑھی، وزیراعظم کے مشیر احتساب کی چھٹی کے اگلے روز پی ٹی آئی کے کرپشن کے خلاف بیانیے کی بھی چھٹی ہوگئی،پاکستان کی کرپشن رینکنگ میں 16 درجے کا اضافہ پی ٹی آئی کے کرپشن کے خلاف نام نہاد بیانئے پر ایک زور دار طمانچہ ہے، کرپشن کی فہرست میں صرف ایک سال میں 124ویں نمبر سے 140ویں نمبر پر آنے کا کریڈٹ عمران خان اور ان کی کرپٹ کابینہ کو جاتا ہے عمران خان اور ان کے سرمایہ دار دوستوں نے ملک میں کرپشن کی انتہا کردی، پی ٹی آئی کی لوٹ مار کی وجہ سے ملک میں مہنگائی بڑھی

    پیپلز پارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات شازیہ مری کا کہنا تھا کہ ثابت ہو گیا کہ عمران خان کاکرپشن کے خلاف بیانیہ بھی دھوکہ تھا ،پہلے خیبر پختونخوا احتساب کمیشن کو تالا لگایا اور پھر ملک میں کرپشن بڑھائی، عمران خان نے چار سال کے اقتدار میں کرپشن اور تباہی کے سوا کچھ نہیں کیا پشاور بی آر ٹی اور بلین ٹری میگا کرپشن کی کھلی داستان ہے،اب کرپشن بڑھنے کا ملبہ بھی کسی وزیر یا مشیر پر ڈال دیا جائیگا،پاکستان کا کرپشن انڈیکس میں 16 درجے آگے جانا صادق اور امین کا کمال ہے ایل این جی کی خریداری میں تاخیر کرکے قوم کےاربوں روپے لوٹے گئے اور لوگوں پر مزید ٹیکس لگایا، عمران نے ملکی معیشت سے وابستہ ہر وزارت میں اپنے مالی سہولتکار بٹھائے ہیں عمران نے ریکارڈ قرضے لیئے اور آج ہر پاکستانی تقریباً دو لاکھ روپے کا مقروض ہے، ملک میں اصل نااہل عمران احمد نیازی خود ہے

    نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے کرپشن پرسیپشن انڈیکس پر کہا ہے کہ ‏ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی کرپشن پرسیپشن انڈیکس اس حکومت کے خلاف چارج شیٹ ہے، کرپشن میں پاکستان کا 16 درجے اوپر جانا اس حکومت کے بیانئے کو بے نقاب کرتا ہے،2020 میں دنیا بھر میں پاکستان کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں 124 نمبر پر تھا،1 سال کے اندر پاکستان 140ویں نمبر پر آگیا ہے، ‏کرپشن ختم کرنے کی دعویدار حکومت نے 16 ممالک کو کرپشن میں پیچھے چھوڑ دیا ہے،دوسری طرف مشیر احتساب کا استعفی اس بات کا ثبوت ہے کہ کرپشن کم نہیں، بڑھی ہے، احتساب صرف مخالفین کو نشانا بنانے کے لئے ہے،اس حکومت کی کرپشن سے اب عالمی ادارے پردہ اٹھا رہے ہیں،

    امریکی جیل میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی پرحملہ:پاکستان نے امریکہ سے بڑا مطالبہ کردیا ،

    عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے کراچی میں احتجاج

    اچھا ہوتا وزیراعظم اپنی تقریر میں ڈاکٹر عافیہ کا ذکر کرتے۔ حافظ سعد رضوی

     یہودی عبادت گاہ میں ہلاک یرغمالی ملک فیصل اکرم نے ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کیا

    عالمی یوم تعلیم امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نام منسوب

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے مبشر لقمان نے جوبائیڈن کو پیش کی تجویز

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی کی درخواست پر عدالت کا بڑا حکم

    امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی ممکن، کیسے؟ سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے بتا دیا

    امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی ممکن، کیسے؟ سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے بتا دیا

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے صاحبزادے حافظ احمد نے نماز تراویح میں قرآن مکمل کر لیا

    مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ عمران خان کو ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ پر قوم سے خطاب کریں عمران صاحب قوم کو بتائیں کہ آٹا، چینی، بجلی، گیس، دوائی کی چوری کی وجہ سے پاکستان آج کرپشن بڑھ چکی ہےآپ کی کرپشن، لوٹ مار کے نتیجے میں آٹا چینی بجلی گیس دوائی سمیت کوئی چیز عوام خریدنے کے قابل نہیں رہی ،عمران صاحب کرپشن کا آپ کا اعمالِ نامہ سامنے آنے کے بعد اب آپ سڑکوں پر نہیں نکلیں گے بلکہ جیل جائیں گے عمران صاحب اور ان کے مافیاز، کارٹلز اور اے ٹی ایمز کی کرپشن کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت تباہ ہوئی، بے روزگاری اور مہنگائی کا سونامی آیا ،2013 میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت آئی تو پاکستان کرپشن انڈیکس میں 127 نمبر پر تھا پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور میں ملک میں کرپشن میں کمی آئی اور پاکستان 117 نمبر پر آگیا پاکستان مسلم لیگ (ن) دور میں ہر سال کرپشن انڈیکس میں مسلسل کمی آئی ،2013 سے 2018 کے درمیان ریکارڈ ترقی ہوئی، ریکارڈ شفافیت آئی وزیراعظم نواز شریف کی قیادت میں ملک میں سی پیک آیا، ایل این جی، پاور پلانٹس، موٹرویز، پبلک ٹرانسپورٹ کے درجنوں منصوبے لگے کھربوں روپے کے منصوبوں کے ساتھ ملک میں کرپشن میں کمی بھی آئی عمران صاحب نے ملک کو دھیلے کی ترقی نہیں دی، ایک نیا منصوبہ نہیں دیا الٹا لوٹ مار کے نئے ریکارڈ قائم کر دئیے۔کرپشن کے اس عذاب نے آج قوم سے کھانے پینے کی اشیاء بھی چھین لیں، قوم کو روٹی کا محتاج کر دیا

  • ریور راوی پراجیکٹ،لاہور ہائیکورٹ نے دیا حکومت کو بڑا جھٹکا

    ریور راوی پراجیکٹ،لاہور ہائیکورٹ نے دیا حکومت کو بڑا جھٹکا

    ریور راوی پراجیکٹ،لاہور ہائیکورٹ نے دیا حکومت کو بڑا جھٹکا

    لاہور ہائیکورٹ نے ریور راوی پراجیکٹ کے خلاف فیصلہ درخؤاستوں پر فیصلہ سنا دیا

    جسٹس شاہد کریم نے ریور راوی پراجیکٹ کے خلاف درخواستیں منظور کر لیں لاہور ہائیکورٹ نے روڈا ایکٹ کی بعض شقوں کو آئین سے متصادم قرار دے دیا لاہور ہائیکورٹ نے راوی اربن پراجیکٹ کو کالعدم قرار دے دیا لاہور ہائیکورٹ نے تمام ترقیاتی کام روکنے کا حکم دے دیا عدالت نے روڈا کو پنجاب حکومت سے حاصل کیا گیا قرض بھی واپس کرنے کا حکم دیا

    قبل ازیں گزشتہ ایک سماعت کے دوران لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ کر دیا تھا، لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے ریور راوی اربن پراجیکٹ کے لیے زرعی اراضی ایکوائر کرنے سے متعلق حکم امتناعی کیخلاف درخواست پر سماعت کی تھی لاہورہائیکورٹ نے باربارحکم امتناعی کیخلاف متفرق درخواستیں دائرکرنے پر پنجاب حکومت کو 5 لاکھ روپے جرمانہ کیا تھا اورسخت برہمی کا بھی اظہارکیا تھا عدالت نے پنجاب حکومت کو ماحولیاتی اثرات کے جائزہ کے لیے راوی اربن پروجیکٹ کے لیے بین الاقوامی کنسلٹنٹ تعینات کرنے کی ہدایت کی تھی

    واضح رہے کہ راوی ریوراربن پراجیکٹ دریائے راوی کی دونوں اطراف شمال مشرق سے جنوب مغربی رقبے پرتعمیرکیا جا رہا ہے جس کیلئے پہلے 44 ہزارایکڑ رقبہ مختص کیا گیا تھا جسے بعد میں 44 ہزارسے بڑھا کرایک لاکھ ایکڑ کردیا گیا۔

    ریور راوی اربن پراجیکٹ پرتقریبا پانچ کھرب پاکستانی روپے خرچہ ہوگا جس کو بنانے کیلئے سب سے پہلے دریائے راوی پر46 کلومیٹر طویل جھیل بنائی جائے گی جس کے دونوں اطراف اس شہر کو بسایا جائے گا۔ اس جھیل پر6 بیراج تعمیرکئے جائیں گے اورساتھ ھی پانی کو صاف رکھنے کیلئے ویسٹ واٹرمینیجمنٹ سسٹم بھی بنایا جائے گا۔ اس جھیل میں نہ صرف بارش کے پانی کو اکٹھا کیا جائے گا بلکہ اسی جھیل سے لاہورشہرکا زیرزمین مسلسل خطرناک حد تک کم ہوتے پانی کی سطح کو بھی کنٹرول کیا جائے گا

    راوی ریوراربن پراجیکٹ کا 70 فیصد رقبہ جنگلات و سرسبز ہریالی پرمنحصر ہوگا جو نہ صرف راوی ریوراربن بلکہ لاہورکو بھی ماحولیاتی آلودگی جیسے گرد وغباراورسموگ سے پاک رکھے گا جبکہ 30 فیصد رقبہ رہائشی و صنعتی ہوگا جو بارہ مختلف سیکٹرز پر مشتمل ہوگا اور ہرسیکٹرایک باقاعدہ شہر ہوگا جہاں صحت عامہ، درس و تدریس، صنعت و تجارت اورکھیل و تفریح سمیت ایک ایسا انسان دوست ماحول ہو گا جو نہ آنے والی نسلوں کی تعمیرکرے گا بلکہ صدیوں یاد رکھا جائے گا۔

    راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی منصوبے کے سی ای او کی تنخواہ کے ہر طرف چرچے ، جان کر حیران ہو جائیں .

    راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا اجلاس ، وزیر اعظم نے دیے اہم احکام

    راوی اربن پروجیکٹ ،عدالت نے خریدوفروخت پر لگائی پابندی

    جیل حکام خواتین قیدیوں کی عزتیں تارتارکرتے ہیں، پیدا ہونے والے بچوں کوقتل کردیا جاتا ہے،لاہورجیل سے خاتون قیدی کی ویڈیووائرل

    سموگ کے تدارک کے لئے لاہور ہائیکورٹ نے حکومت سے کیا پوچھ لیا؟

    مغل پورہ کی طرف جائیں آسمان کا رنگ ہی بدل جاتا ہے،لاہور ہائیکورٹ

    راوی اربن ڈویلپمنٹ ، سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ، والٹن ائیر پورٹ کی منتقلی ،سستی رہائش ،وزیراعظم نے لی منصوبوں پر بریفنگ

     

  • شہزاد اکبر کا استعفیٰ اچھا چھٹکارا ہے،سربراہ براڈ شیٹ

    شہزاد اکبر کا استعفیٰ اچھا چھٹکارا ہے،سربراہ براڈ شیٹ

    براڈ شیٹ کے سربراہ کاوے موسوی نے وزیراعظم کے سابق مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر کے استعفے کو اچھا چھٹکارا قرار دیدیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری اپنے بیان میں کاوے موسوی نے شہزاد اکبر کے استعفے کو ‘چھٹکارا’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس شخص کی قانون کی حکمرانی، عدالتی احکامات کی تعمیل، یا بدعنوانی کی تحقیقات سے کوئی وابستگی نہیں تھی۔


    کاوے موسوی نے لکھا کہ شہزاد اکبر نے نیب کی طرف سے مجھ سے مذاکرات کرنے کی کوشش کی لیکن ان کی بدعنوانی کے خلاف ملکی یا بین الاقوامی جدوجہد میں کوئی ساکھ نہیں ہے۔

    استعفیٰ کافی نہیں، شہزاد اکبر کی نااہلیوں پر مقدمہ درج کیا جائے، مبشر لقمان

    واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے استعفیٰ دے دیا ہے شہزاد اکبر نے اپنا استعفیٰ وزیراعظم عمران خان کو بھجوایا ہے اور خود سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اس بات کی تصدیق کی ہے شہبزاد اکبر کا کہنا تھا کہ میں نے بطور مشیر اپنا استعفیٰ آج وزیراعظم کو بھجوا دیا ہے۔ مجھے پوری امید ہے کہ پی ٹی آئی کے منشور کے مطابق احتساب کا عمل وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں جاری رہے گا۔ میں پارٹی سے وابستہ رہوں گا اور ممبر کی حیثیت سے اپنا حصہ ڈالتا رہوں گا۔

    شہباز شریف کا مقدمہ براہ راست نشر ہونا چاہیے، فواد چوہدری

    شہزاد اکبر کے حوالہ سے تحریک انصاف کے اندر بھی تشویش پائی جاتی تھی کہ شہزاد اکبر احتساب کے مشیر بنا دیئے گئے اور بلند و بانگ دعوے کرتے نظر آتے ہیں لیکن ابھی تک کسی کا کوئی احتساب نہیں ہوا، نہ ہی کسی سے کوئی برآمد گی ہوئی، شہزاد اکبر نے چند روز قبل بھی لاہور میں شریف فیملی کے خلاف پریس کانفرنس کی تھی

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کی ہے اور کہا کہ شہزاد اکبر مستعفی ہو گئے انہیں ملک چھوڑنے کی اجازت نہیں ملنی چاہئے، شہزاد اکبر سے براڈ شیٹ اور برطانیہ میں کی گئی ادائیگییوں کی تحقیقات ہونی چاہئے-

    خیال رہے کہ برطانوی نژاد کاوے موسوی آکسفورڈ یونیورسٹی میں قانون کے استاد رہے جبکہ انٹرنیشنل مصالحتی عدالت میں ثالث کے طور پر کام کر چکے ہیں۔ تاہم بنیادی طور پر وہ ایک وکیل ہیںان کی کمپنی براڈ شیٹ ایل ایل سی پہلی مرتبہ 2000 میں پاکستان آئی تھی۔ سابق صدر پرویز مشرف نے نیب کے لئے ان کی خدمات حاصل کی تھیں کاوے موسوی کے مطابق پرویز مشرف چاہتے تھے کہ میاں نواز شریف، بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے بیرونِ ممالک اثاثوں کا سراغ لگا کر لوٹی گئی رقم پاکستان واپس لائی جائے۔ لیکن ہم کسی سیاسی انتقامی کارروائی کا حصہ نہیں بننا چاہتے تھے۔ اس لئے ہم نے واضح کر دیا کہ تھا ہم صرف ان 3 شخصیات کے خلاف تحقیقات نہیں کرینگے۔

    الیکشن کمیشن نے وزیراعظم کو دورہ لوئردیرسے روک دیا

    ابتدائی بات چیت کے بعد نیب اور حکومت پاکستان کے درمیان ان کا معاہدہ ہوا۔ جس کے تحت انھیں ان تین شخصیات سمیت دیگر 200 اہداف کی ایک فہرست فراہم کی گئی۔معاہدے کے مطابق نیب نے انھیں مطلوبہ دستاویزات فراہم کرنا تھیں جن کی بنیاد پر براڈشیٹ ایل ایل سی کو ان افراد کی طرف سے بیرونِ ملک رکھی گئی مبینہ کرپشن کی رقم کا سراغ لگا کر ثبوت فراہم کرنا تھے اور اسے پاکستان واپس لانے میں مدد فراہم کرنا تھی۔

    مراکش کے سفیر کی آرمی چیف سے ملاقات

    کاوے موسوی کا کہنا تھا کہ نیب نے ہم سے کہا کہ ہمارے پاس پیسے نہیں، آپ پیسہ خرچ کریں، ان افراد کے اثاثہ جات کا سراغ لگائیں اور لوٹی ہوئی رقم واپس دلانے میں ہماری مدد کریں۔ کل رقم کا 20 فیصد حصہ آپ کو معاوضے کے طور پر دیا جائے گا۔

    کاوے موسوی کے مطابق وہ سابق وزیرِاعظم نواز شریف کے پیسے کا سراغ لگا رہے تھے اور انھوں نے مبینہ طور پر کئی بینک اکاؤنٹس کے حوالے سے موزوں شواہد حاصل کر لئے تھے جن میں سے کئی اکاؤنٹس کو منجمد بھی کروایا گیا تھا ہم نے لاکھوں ڈالرز مالیت کے اکاؤنٹس کا سراغ لگایا۔ اس سے قبل کے وہ ان اکاؤنٹس کو منجمد کروانے کے لئے حرکت میں آتے انھیں دھوکا دہی سے ہٹا دیا گیا۔ یاد رہے کہ نیب نے براڈ شیٹ کے ساتھ معاہدہ سنہ 2003 میں ختم کر دیا تھا۔

    چودھری شجاعت حسین نے وزیراعظم کومشیروں سے خبردار کر دیا

  • الیکشن کمیشن نے وزیراعظم کو دورہ لوئردیرسے روک دیا

    الیکشن کمیشن نے وزیراعظم کو دورہ لوئردیرسے روک دیا

    اسلام آباد:الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وزیراعظم کو دورہ لوئردیرسے روک دیا۔

    باغی ٹی وی : وزیراعظم کے 27 جنوری کو لوئر دیر کے مجوزہ دور ے پر ایکشن لیتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وزیراعظم عمران خان کو دورے سے روک دیا ہے، اس حوالے سے الیکشن کمیشن لوئر دیر کی جانب سے باضابطہ نوٹیفیکیشن بھی جاری کردیا ہے۔

    مراکش کے سفیر کی آرمی چیف سے ملاقات

    الیکشن کمشنر محمد اقبال تنولی کی جانب سے ڈی سی لوئر دیر کو وزیراعظم کا جلسہ روکنے اور اس حوالے سے مؤثر اقدامات اٹھانے کے لیے مراسلہ ارسال کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مارچ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے سلسلے میں لوگ ووٹ کا حق استعمال کریں گے، الیکشن شیڈول آنے کے بعد وزیراعظم مذکورہ حلقہ کا دورہ نہیں کر سکتے۔

    الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ الیکشن شیڈول آنے کے بعد کسی بھی ترقیاتی منصوبے کا اعلان اور افتتاح ناممکن ہے، وزیر اعظم کا دورہ رولز 233 اور 234 کی خلاف ورزی ہوگی دوسری جانب وزیراعظم کے 27 جنوری کو مجوزہ دور ے اور جلسے کے خلاف جماعت اسلامی نے کل آل پارٹیز کانفرنس طلب کرنے اور بھرپور احتجاجی مہم شروع کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

    فیصلہ کرلیا،اسلام آباد ہر حال میں جائیں گے،بلاول کا کسان مارچ سے خطاب میں اعلان

    دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت حکومتی ترجمانوں کا اجلاس ہوا، جس میں موجودہ سیاسی و معاشی صورتحال پر ترجمانوں کو بریفنگ دی گئی اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ن لیگ سیاسی جماعت نہیں، ایک مافیا کی طرح آپریٹ کررہی ہے، جب کہ اپوزیشن جماعتیں ڈیل کی خبریں پھیلا کر اپنے لیے سیاسی ماحول بنا رہی ہیں مجرموں سے ڈیل کا مفاہمت قوم سے غداری کے مترادف ہے، ن لیگ سیاسی جماعت نہیں، ایک مافیا کی طرح آپریٹ کررہی ہے، انہوں نے ہر شعبے میں رانا شمیم جیسے لوگوں کو استعمال کیا ہے۔

    وہی ہوا جس کا انتظار تھا، وزیراعظم ہاؤس سے بڑا استعفیٰ آ گیا

    وزیراعظم نے ترجمانوں سے کہا کہ کرپشن کےخلاف بیانیہ پر فرنٹ فٹ پرکھیلیں، احتساب اور کرپشن کے خلاف بیانیہ پر ایک انچ پیچھے نہیں ہٹیں گے،کرپشن کے خلاف بیانیہ کے ساتھ ساتھ حکومت کے اچھے کام اجاگر کریں۔

    وزیراعظم نے ترجمانوں کو مثبت معاشی اعشاریہ اجاگر کرنے کی ہدایت کرتے ہوئےکہا کہ عالمی ادارے پاکستان کی معیشت کے بارے میں مسلسل مثبت اشارے دے رہے ہیں، پاکستانی معیشت درست سمت میں ترقی کررہی ہے، کاروباری کمپنیاں ریکارڈ منافع کما رہی ہیں، معیشت کی ترقی کے اثرات جلد عوام کو منتقل ہوں گے۔

    معاون خصوصی احتساب و مشیر داخلہ شہزاد اکبر کے استعفے کے حوالے سے عمران خان کا کہنا تھا کہ شہزاد اکبر نے مشکل حالات میں بہترین کام کیا، مافیا کے خلاف ان کا کام قابل تعریف ہے، اب وہ جانا چاہتے تھے-

    بریکنگ،وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا معاملہ اہم مرحلے میں داخل

  • شہباز شریف کا مقدمہ براہ راست نشر ہونا چاہیے، فواد چوہدری

    شہباز شریف کا مقدمہ براہ راست نشر ہونا چاہیے، فواد چوہدری

    وزیراطلاعات فواد چودھری نے مطالبہ کیا ہے کہ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کا مقدمہ لائیو ٹیلی کاسٹ ہونا چاہیے تاکہ عوام کو سارے حقائق معلوم ہوں کہ کیس کیا ہے اور کس طرح شہبازشریف نے ملک کو لوٹا۔

    باغی ٹی وی : میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چودھری نے کہا کہ شہباز شریف جب وزیراعلیٰ تھے تو انہوں نےلوکل گورنمنٹس ختم کر کے سارے وسائل اپنے پاس رکھ لئے، اس کے بعد سارا پیسہ شہباز شریف اینڈ کمپنی اپنے اکائونٹس میں جمع کرواتی رہی، ملک مقصود رمضان شوگر مل میں چپڑاسی بھرتی ہوئے، اس کے اکائونٹ میں چار ارب روپے نکلے، منظور پاپڑ اور مشتاق چینی کے ناموں سے اربوں روپے کی ٹی ٹیز شہباز شریف اور ان کے بچوں کے اکائونٹس میں گئیں۔

    چودھری شجاعت حسین نے وزیراعظم کومشیروں سے خبردار کر دیا

    فواد چودھری نے کہا کہ عدالتوں کو بلاخوف و خطر ان مقدمات کے فیصلے کرنے چاہیں اورعدالتوں میں کیمرے لگائیں تاکہ لوگ دیکھیں شریف برادران پر مقدمات کی نوعیت کیا ہے انہوں نے زور دیا کہ شہبازشریف کا کیس روزانہ کی بنیادپرچلنا چاہیے جبکہ ان کے بھائی سابق وزیر اعظم نوازشریف نے عدالتوں پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی۔

    انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اسی نظام کا خاتمہ چاہتے ہیں، بااختیار مقامی حکومتوں کے نظام سے ایسے نظام کا خاتمہ ہوگاہمارا مطالبہ ہے کہ شہباز شریف نواز شریف کے واپس نہ آنے کی وجوہات بتائیںن واز شریف اپنے عالیشان محلوں میں میڈیا سے ملاقاتیں کرتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ یہ میرا گھر نہیں ہے تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والا کہتا ہے کہ میرے بچوں پر پاکستانی قانون ہی لاگو نہیں ہوتا، نواز شریف اور زرداری اینڈ کمپنی نے اربوں روپے قوم کے لوٹے، قوم اس پیسے کا حساب چاہتی ہے۔

    تمباکو کی کم از کم قیمت مقرر

    وزیر اطلاعات نے کہا کہ عوام کا حق ہے کہ وہ دیکھ سکیں کہ ان پر الزامات سچے ہیں یا نہیں، ہماری عدلیہ سے استدعا ہے کہ ان کے مقدمات پر سماعت براہ راست عوام کو دکھائی جائے، ساڑھے تین سال گذر گئے ہیں، ان سے ریکوریاں بہت ضروری ہیں، ان کا بچہ پیدا بعد میں ہوتا ہے، محل اس کے نام پر پہلے خرید لیا جاتا ہے۔

    فواد چوہدری نے کہا کہ راناشمیم نے نوازشریف کے سامنے بیٹھ کر بیان حلفی لکھا، اومنی اسیکنڈل میں پانچ ہزار جعلی اکاؤنٹس بنائے گئے، شہباز شریف اینڈ کمپنی سارا پیسہ اپنے اکاؤنٹ میں جمع کررہی تھی، رمضان شوگر مل کے ملک مقصود چپراسی کے اکاؤنٹ میں 4 ارب روپے نکل آئے۔

    آٹا مہنگا ہونے کی ذمہ دار سندھ حکومت ہے، عمران اسماعیل

    انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے مقامی حکومتوں کے حوالے سے انقلابی اقدامات اٹھائے، کسی بھی حکومت نے اس سے پہلے اس طرح کا نظام نہیں دیا جس میں مقامی سطح پر لوگوں کو بااختیار بنایا جائے، 18 ویں ترمیم کے ذریعے اختیارات کی تقسیم وفاق سے صوبوں کو منتقل کر دی گئی لیکن صوبوں سے اضلاع کو اختیارات منتقل نہیں ہوئے، آج اسی وجہ سے شہروں میں مسائل ہیں، صوبائی حکومت کراچی کو اس کا حصہ نہیں دے رہی، باقی شہر بھی اسی لئے پس رہے ہیں کہ انہیں ان کا حصہ نہیں مل رہا۔

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا آئندہ 2 ماہ کیلئے شرح سود 7.75 فیصد پر برقراررکھنے کا فیصلہ

    فواد چودھری نے کہا کہ عمران خان نے بااختیار مقامی حکومتوں کا نظام بنانے کا فیصلہ کیا ہے،اس نظام کے ذریعے نہ صرف نیشنل فنانس کمیشن سے پیسہ صوبوں کو منتقل ہوگا بلکہ صوبوں سے اضلاع کو بھی منتقل ہوگا، اس نظام کے تحت براہ میئر براہ راست منتخب ہوگا جو اپنے اضلاع کو چلائے گا یہی ماڈرن نظام نیویارک، لندن اور پیرس میں بھی چل رہا ہے،بدقسمتی سے سندھ حکومت نے ایک مرتبہ پھر اپنے لوگوں کو اس حق سے بھی محروم کر دیا ہے سندھ حکومت نے سندھ کے لوگوں کو صحت کارڈ اور راشن کارڈ جیسی سہولت بھی نہیں لینے دی

    مراکش کے سفیر کی آرمی چیف سے ملاقات

  • دما دم مست قلندر شروع،امپورٹڈ مشیروں کی دوڑیں، پہلا استعفی آ گیا

    دما دم مست قلندر شروع،امپورٹڈ مشیروں کی دوڑیں، پہلا استعفی آ گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کل وزیر اعظم عمران خان کی پبلک کالز پر تقریر سن کر ایک شعر میرے ذہن میں آیا۔
    آپ کے لیے بھی ارشاد فرما دیتا ہون۔
    تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا،
    اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مجھے عمران خان کی باتیں سن کر ایسا لگتا ہے کہ ان کے درباریوں نے انہیں انتہائی خود فریبی کا شکار کر دیا ہے۔ قوم سے وہ ایسے بات کرتے ہیں جیسے بادشاہ حضور احسان فرما رہے ہوں۔
    جب کبھی برا وقت آتا ہے یا ان سے ان کی کارکردگی کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے وہ آگے سے احسان جتانا شروع کر دیتے ہیں۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اب کوئی ہے کہ جو ان سے پوچھے کہ آپ سیاست میں کیوں تشریف لائے، آپ نے جھوٹے وعدے کیوں کیے، آپ حالات سے اتنے نا علم تھے کہ اب کہتے ہیں میں کچھ اکیلا کچھ نہیں کر سکتا، عوام اور ادارے میرا ساتھ دیں۔ عوام کیا ڈنڈے لے کر سڑکوں پر آجائے، آپ کو ووٹ دے دیا، ملک کا وزیر اعظم بنوا دیا۔ سارے گورنر، وزیر اعلی، وزیر ،مشیر، اداروں کے سربراہ آپ کی مرضی کے لگ گئے۔
    کس کس کو اٹھاکر لگا دیا ہے اور انہیں وسیم اکرم پلس کا خطاب دے دیا ہے۔انسان کو کیا چاہیے ہوتا ہے، طاقت وہ آپ نے حاصل کر لی۔ پھر پیسا اس کی آپ کو ضروت نہیں کیونکہ جب ATMکارڈ جیب میں ہو تو پیسہ جیب میں نہیں رکھا جاتا آج کل ویسے بھی ڈیجیٹل دور ہے۔کیوں آپ نے چن چن کر اپنی پارٹی کی ATM کواعلی عہدوں پر بیٹھایا۔ کتنے لوگ ایسے ہیں جنہوں نے آپ کی خدمت کر کے اعلی سرکاری عہدے حاصل کیے اور پھر انہوں نے ملک کو بدنامی کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔ ملک کس کے فیصلوں کی وجہ سے برباد ہوا ہے۔ عوام کا بیڑا غرق ہوا ہوا ہے اور آپ فرما رہے ہیں کہ سب ٹھیک ہے۔آپ سے کس نے کہا تھا کہ حضرت عمر کی مثالیں دے دے کر لوگوں کو بے وقوف بنائیں ، کیوں آپ نے اپنا ہوم ورک اقتدار میں آنے سے پہلے ختم نہیں کیا۔ اقتدار مین آکر بھی ساڑھے تین سال ہو گئے ہیں اور آپ کو کچھ نہیں پتا کہ کیا کرنا ہے۔ کیوں سارے فصلی بٹیرے اپنی کابینہ میں شامل کیے، کیوں اقتدار کی خاطر کمپرومائز کیا کس نے آپ کی منتین کی تھی۔ قوم پر قرضہ ڈبل کر کے، آئی ایم ایف کا غلام بنا کر، لوگون کو بے روز گار کر کے۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ میرے پاس سب کچھ تھا، مجھے کیا ضرورت ہے دو ٹکے کے لوگوں کی باتیں سننے کی۔آپ کے پرانے ساتھی آپ کے بارے میں کیا کہہ رہے ہیں، آپ کے نظریاتی ساتھی آپ کے بارے میں کیا کہہ رہے ہیں۔
    آپ کے پاس سب کچھ تھا تو یہاں قوم کا وقت خراب کرنے کیوں آئے، آپ کو اپنے جھوٹے دعوے اور جھوٹے وعدوں پر جواب دینا ہو گا، آپ کی حکومت اور وزیروں مشروں کے جو ساڑھے تین سال میں اربوں روپے لگے ہیں اس کا جواب دینا ہو گا،روزانہ جو آپ ہیلی کاپٹروں کی سیریں کر رہے ہیں اس کا بھی جواب دینا ہو گا۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عمران خان فرماتے ہیں کہ اگر میں حکومت سے باہر نکل گیاتو زیادہ خطرناک ہوں گا‘ابھی تک تو میں چپ ہوں اور تماشے دیکھ رہاہوں ۔اگرسڑکوں پر نکل آیاتو آپ کیلئے چھپنے کی جگہ نہیں ہوگی ۔پینتیس سالوں میں سب نے ملکر جو ملک کے ساتھ کیا ہے لوگ آپ کو پہچان چکے ہیں ۔آپ سمجھ جائیں جو لاوا نیچے پک رہاہے ۔لوگوں کو صرف آپ کی طرف دکھانا ہے ۔پھر کوئی لندن بھاگ رہاہوگا ۔پہلے بھی لوگ بھاگے ہوئے ہیں ۔باقی بھی ادھر جارہے ہوں گے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ وہ دھمکی ہے جو سمجھا جا رہا ہے کہ عمران خان نے اپنی مان مانی کرنے سے پہلے اسٹیبلشمنٹ کو دھمکی دی ہے، انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا لیکن واقفان حال جان گئے ہیں کہ پس منظر میں کیا چل رہا ہے، میں نے ایک ویڈیو کی تھی وہ تیر جو عمران خان کے لیے شہتیر بن سکتا ہے اس میں معاملات کھل کے بیان کیے تھے کہ عمران خان اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے اہم تعیناتی اپنی مرضی سے کرنا چاہتے ہیں۔ اس دھمکی پر سلیم صافی کا کہنا ہے کہمیں بھی آپ کو خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ کسی غلط فہمی میں نہ رہنا۔ آپ جن کو دھمکی دے رہے ہیں ،اب وہ آپ کو اچھی طرح پہچان چکے ہیں۔۔آپ نے ابھی تک صرف ان کی لاڈ دیکھی ہے، مار نہیں۔۔۔اگر آپ کے خلاف پہلے وعدہ معاف گواہ اسد عمراور زلفی بخاری نہ بنے تو میرا نام شبلی فراز رکھ لیں۔دھمکیوں پر مریم نواز کا کہنا ہے کہ آپ کی دھمکیاں کہ اقتدار سے نکالا گیا تو مزید خطرناک ہو جاؤں گا گیدڑ بھبکیوں کے سوا کچھ نہیں۔ جس دن آپ اقتدار سے نکلے عوام شکرانے کے نفل پڑھیں گے۔ نا آپ نواز شریف ہیں جس کے پیچھے عوام کھڑی تھی نا ہی آپ بیچارے اور مظلوم ہیں۔ آپ سازشی ہیں اور مکافات عمل کا شکار ہوئے ہیں۔ مشرف زیدی اس پر ٹویٹ کرتے ہیں کہلوگوں میں انتشاری کیفیت پیدا کرکے کرسی پر سوار رہنا؟ کیا یہ ہے، ان کی سوچ میں انصاف پھیلانا؟ یہ کس طرح کی گفتگو ہے ؟ یہ کیا پاکستای عوام کو دھمکی دے رہے ہیں، یا ان کو جنہوں نے ان کا چناؤ کیا تھا؟ افسوس۔

    اس کے بعد وزیر اعظم صاحب فرماتے ہیں کہ پرویز مشرف نے دوخاندانوں کو این آراو دیکر ظلم کیا‘قوم جانتی ہے اپوزیشن کا وقت ختم ہوچکا ہے شہباز شریف کو اپوزیشن لیڈر نہیں قوم کا مجرم سمجھتا ہوں اس نے 8 ارب روپے کے گھپلوں کا نیب کو جواب دینا ہے۔ عدلیہ سے اپیل ہے کہ وہ ملک پر رحم کرے اور روزانہ کی بنیاد پران کے کیس کی سماعت کرے‘پی ٹی ایم اور ٹی ایل پی سمیت سب سے بات کرنے کو تیار ہوںمگر چوروں سے نہیں‘ ملک لوٹنے والوں سے مفاہمت اور سمجھوتہ ملک اورقوم سے غداری ہوگی۔اب آپ ان کے ٹون پر غور کریں اور ان کی باتوں پر۔ یہ سانحہ اے پی ایس کے مجرموں سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن وہ لوگ جن کو جیل میں ڈالنا ان کا اپنا مفاد ہے کیونکہ وہ اقتدار ان کے ہاتھ سے چھین سکتے ہیں۔ ان کے سیاسی رقیب ہیں۔ جن کو باہر بھیجنے کے لیے ان کی حکومت کے اپنے بورڈ نے لکھ کر دیا کہ نواز شریف کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں ہے۔کیا چیف جسٹس اس بات کا نوٹس لیں گے کہ ملک کا وزیر اعظم عدالت کو کہہ رہا ہے کہ مل پر رحم کریں، جیسے عدالتیں دانستہ طور پر ملک کو تباہ کر رہی ہوں۔ اب اس ملک کے وزیر اعظم کو ترجیحات بھی بتانی پڑیں گی کہ چوری جو کہ ثابت نہیں ہوئی وہ قتل سے بڑا جرم نہیں ہو سکتی۔ جوش خطابت میں بولنے سے پہلے تھورا سوچ لیا کریں۔آج کل وزیر اعظم صاحب کو کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا، میڈیا جب تک گن کا رہا تھا سب ٹھیک تھا، میڈیا کی جے جے ہو رہی تھی لیکن جیسے ہی میڈیا نے آئینہ دیکھانے کی کوشش کی تو برا مان گئے۔ خان صاحب فرماتے ہیں۔میڈیا ہم پر تنقید ضرور کرے مگر پروپیگنڈہ نہیں ۔جان بوجھ کرفیک نیوز کے ذریعے مایوسی پھیلائی جا رہی ہے۔اگر اتنے ہی برے حالات تھے تو ملک کو دیوالیہ ہوجانا چاہیے تھا اور بیروزگاری بڑھنی چاہیے تھی۔میں اکیلا کچھ نہیں کرسکتا۔عوام اور اداروں کو ساتھ دیناہوگا۔ عدالتیں آزادہیں ۔ان کی بھی ذمہ داری ہے ۔ جیلوں میں کوئی طاقتورڈاکونہیں۔وہاں قید چھوٹے لوگوں کو بھی چھوڑدینا چاہئے۔کس نے چھوڑا چور ڈاکوں کو۔ کون ہے جو آپ کے خلاف پراپیگنڈا کر رہا ہے،۔ آپ تو سچ بولتے تھے۔ مجبوری میں اقتدار سے چپکنے والے نہیں تھے۔ آپ کیوں بلیک میل ہو رہے ہیں کون ہے جسے آپ سڑکون پر آکر مزہ چھکا سکتے ہیں۔ کون آپ کو اپنی من مانی کرنے سے روک رہا ہے۔چلو یہ تو عمران خان نے مانا کہ وہ زبردستی اقتدار سے چپکے ہوئے ہیں اور ان کا بس نہیں چل رہا، جب انہیں اقتدار سے گھسیٹ کے نکالا جائے گا تب ہی وہ لوگون کو حقیقت بتائیں گے اور حقیقت بھی وہ جسے وہ حقیقت سمجھتے ہیں۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ خان صاحب آپ فرماتے ہیں کہ اگلے پانچ سال بھی میں پورے کروں گا، کون سا تیر آپ نے مارا ہے جو آپ دوبارہ آجائیں گے، اتنے اعتماد سے کہنے کا مطلب ہے جو کھیل آپ نے دو ہزار اٹھارا میں رچایا کیا اسی کی تیاری دوبارہ کی جا رہی ہے۔؟وہ کون سا کارنامہ ہے جو آپ کو نہ صرف دوبارہ منتخب کروائے گا بلکہ دس سال آپ کو اس قوم پر نازل بھی کرے گا۔آپ نے قوم کو اپنے سیاسی مخالفین کی کرپشن اور احتساب کا ڈھنڈورا پیٹ کربے وقف بنایا، اور اپنے اقتدار میں بھی احتساب نہ کر سکے۔ لیکن بس اب نہیں، ہم مزید بے وقوف نہیں بن سکتے۔سارے مافیا اپنے ارد گرد اکھٹے کر کے ہمیں مافیا پر بھاشن مت دیں۔کرپشن بڑھ گئی ہے، غربت بڑھ گئی ہے، بھوک بڑھ گئی ہے۔ لیکن کوئی بات نہیں۔ہمارا وزیر اعظم تو ایماندار ہے جس کے اردگرد سارے مافیا اکھٹے ہیں۔آپ خان صاھب کی باتیں سنییں۔۔ بندہ سر پکڑ کے بیٹھ جاتا ہے۔ موصوف فرماتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں سب سے بڑی خرابی یہی ہے یہاں طاقتور کیلئے ایک اور غریب کیلئے دوسرا قانون ہے، قانون کی بالادستی ختم ہو چکی ہے۔اس وقت جیلوں میں کوئی طاقتور ڈاکو نہیں۔بدعنوان لوگوں کی اس معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ساڑھے تین سال سے آپ اس ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بنے بیٹھے ہیں اور باتیں ایسے کر رہے ہیں جیسے کوئی مطلق العنان، کرپٹ اور ظالم شخص اس ملک پر حکومت کر رہا ہے، خان صاحب آپ کو اللہ کا واسطہ ہے۔ کنٹینر سے اتر آئیں۔ ورنہ بہت دیر ہو جائے گی۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جاتے جاتے آپ کو یہ خبر دے دوں کہ بارش کا پہلا قطرہ گر چکا ہے ابھی موسلا دھار بارش کا انتظار ہے۔ ملک میں احتساب کے علمبردار اور کرپشن کے سب سے بڑے دشمن، جنہوں نے ملک میں احتساب کو مذاق بنا دیا ۔۔ نے استعفی دے دیا ہے۔ جی ہاں آپ سمجھ چکے ہوں گے۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے ٹویٹر پر استعفی دے دیا ہے۔ انہوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ہے کہ
    I have tendered my resignation today to PM as Advisor. I sincerely hope the process of accountability continues under leadership of PM IK as per PTI’s manifesto. I will remain associated with party n keep contributing as member of legal fraternity.

    چلیں اب پریس پریس کانفرنسوں کا بوجھ تو میڈیا سے کم ہو گا۔

  • مراکش کے سفیر کی آرمی چیف سے ملاقات

    مراکش کے سفیر کی آرمی چیف سے ملاقات

    پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے مراکش کے سفیر محمد کرمون نے آج جی ایچ کیو میں ملاقات کی۔

    باغی ٹی وی : آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، دوطرفہ دفاع، سیکیورٹی تعاون اور افغانستان سمیت علاقائی سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    امریکہ کے نامزد سفیرکب پہنچیں گے پاکستان؟

    سی او اے ایس نے کہا کہ پاکستان مراکش کے ساتھ اپنے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ہم مشترکہ مفادات کی بنیاد پر باہمی فائدہ مند کثیر ڈومین تعلقات کو بڑھانے کے لیے پر امید ہیں۔

    چودھری شجاعت حسین نے وزیراعظم کومشیروں سے خبردار کر دیا

    مراکش کے سفیر محمد کرمون نے افغان صورتحال میں پاکستان کے کردار، علاقائی استحکام کے لیے کوششوں کو سراہا اور پاکستان کے ساتھ ہر سطح پر سفارتی تعاون میں مزید بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا عہد کیا۔

    استعفیٰ کافی نہیں، شہزاد اکبر کی نااہلیوں پر مقدمہ درج کیا جائے، مبشر لقمان

  • فیصلہ کرلیا،اسلام آباد ہر حال میں جائیں گے،بلاول کا کسان مارچ سے خطاب میں اعلان

    فیصلہ کرلیا،اسلام آباد ہر حال میں جائیں گے،بلاول کا کسان مارچ سے خطاب میں اعلان

    فیصلہ کرلیا،اسلام آباد ہر حال میں جائیں گے،بلاول کا کسان مارچ سے خطاب میں اعلان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی غریب کی جماعت ہے ،

    پیپلز پارٹی کا کسانوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ملک گیر ٹریکٹر ٹرالی مارچ ،چیئرمین بلاول بھٹو زرداری حیدر آباد، راجہ پرویز اشرف راولپنڈی، یوسف رضا گیلانی بہاولپور بائی پاس پر ٹرالی مارچ میں شریک ہیں بیرسٹر عامر اور ڈاکٹر نعیم خوشاب، آصف بھاگٹ اور چودھری اختر منڈی بہاؤ الدین کے ٹرالی مارچ میں شریک ،ارشد جٹ، اشعر حیات اٹک، محسن ملہی، اعجاز شاہانہ بھکر، عنایت علی شاہ اور علی رضا زیدی چنیوٹ کے مارچ میں شریک ،ثمینہ گھرکی اور ابرار شاہ ننکانہ صاحب، فیصل میر، اعجاز چودھری فیصل آباد، تنویر موہل، جاوید بھٹی جھنگ کے ٹرالی مارچ میں شریک ہیں خان آصف خان، زبیر حمزہ میانوالی کے ٹرالی مارچ میں شرکت کر رہے ہیں۔

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حیدرآباد میں فتح چوک پر حیدرآباد ڈویژن کے کسان ٹریکٹر ٹرالی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک کے بعد ایک بحران پیدا کیا جاتا ہے ،وفاقی حکومت نااہل ہے ٹڈی دل سے فصلوں کو نقصان پہنچا تھا اب کھاد اوریوریا کابحران آ گیا ،زراعت معیشت کا اہم ذریعہ ہے لیکن اس کو تباہ کردیا گیا نااہل حکومت نے ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کو گرا دیا ،نااہل حکومت نے پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے فصلوں کو نقصان پہنچایا،یہ ملک کے کسانوں کے ساتھ کیا کررہے ہیں ؟سب کو معلوم ہے کہ اگر کسان خوشحال ہوگا تو ملک خوشحال ہو گا ،آج یہ حالات ہیں کہ یوریا کھاد کے لیے کسان قطاروں میں کھڑے ہیں ،کسان حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ہمارا مسئلہ حل کریں کسان بھوکا سوئے گا توملک بھوکاسوئے گا،کسانوں کا معاشی قتل برداشت نہیں کرسکتے، آج زرعی معیشت تباہ، پاکستان کا کسان بھوکا سو رہا ہے،

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ فیصلہ کرلیا،اسلام آباد پہنچ کر حکومت کو بے نقاب کریں گے بلدیاتی قانون کو کالا کہنے والوں کا منہ کالا ہوجائے گا،ہم اپنے جیالے میئرز لائیں گے ،خود ان کے ساتھ کام کروں گا، پاکستان کی معیشت کو بچانا ہے ،عمران خان کو بھگا نا ہے ہم جمہوری ،قانونی اورآئینی طاقت سے حکومت کو ختم کریں گے،حکومت کے خلاف 27 فروری کو کراچی سے نکلیں گے، لسانی تنظیمیں ہمیں آپس میں لڑوا ر ہے ہیں،

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر ملک بھر میں پیر کو ڈویژن کی سطح پر کسان مارچ کیا جا رہا ہے۔ راولپنڈی میں کسان مارچ سابق وزیرِ اعظم راجہ پرویز اشرف کی قیادت میں لیاقت باغ سے اسلام آباد کی جانب نکالا گیا، کسان کارواں میں بڑی تعداد میں کسانوں نے شرکت کی

    خیرپورمیں بھی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر پاکستان پیپلزپارٹی ضلع خیرپور کے زیر اہتمام کسانوں سے اظہار یکجہتی کے لئے اور حکومت کی کسان دشمن پالیسیوں کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں شرکا نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کسانوں کو ریلیف دیا جائے

    ہم وزیراعظم اور وزیراعلی کا استعفی لینے نکلے تھے، اپنے استعفوں کی بات شروع ہوگئی،بلاول

    بلاول میرا بھائی کہنے کے باوجود مریم بلاول سے ناراض ہو گئیں،وجہ کیا؟

    ندیم بابر کو ہٹانا نہیں بلکہ عمران خان کے ساتھ جیل میں ڈالنا چاہئے، مریم اورنگزیب

    ن لیگ بڑی سیاسی جماعت لیکن بچوں کے حوالہ، دھینگا مشتی چھوڑیں اور آگے بڑھیں، وفاقی وزیر کا مشورہ

    اک زرداری سب پر بھاری،آج واقعی ایک بار پھر ثابت ہو گیا

    مبارک ہو، راہیں جدا ہو گئیں مگر کس کی؟ شیخ رشید بول پڑے

    پاکستان میں جنگ زدہ افغانستان سے بھی زیادہ مہنگائی ہے، بلاول

    پٹواریوں سے نہ مولانا سے ،حکومت کا مقابلہ صرف جیالوں سے ہے،بلاول

    وہ دن دور نہیں جب نثارکھوڑو اور مرادعلی شاہ کی جگہ خواتین کام کرینگی،بلاول

    بلاول پنجاب میں ن لیگ کے ساتھ جے یو آئی کی وکٹیں بھی گرانے لگے

    پنجاب کے ہر گھر میں پیپلزپارٹی کا جھنڈا لہرائیں گے ،راجہ پرویز اشرف

    ضروری ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک لیکر آئیں،راجہ پرویز اشرف

    بریکنگ،وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا معاملہ اہم مرحلے میں داخل

    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر پاکستان پیپلزپارٹی ضلع شہید بینظیر آباد کے زیر اہتمام کسانوں سے اظہار یکجہتی کے لئے اور حکومت کی کسان دشمن پالیسیوں کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی

    چیئرمین بلاول بھٹو کی ہدایت پر پیپلزپارٹی جعفر آباد کے زیراہتمام ڈیرہ اللہ یار سٹی کے مقام پر پیپلز پارٹی جعفرآباد کے ضلعی صدر سید عبداللہ شاہ بخاری٬جنرل سیکرٹری سید یار محمد شاہ کی قیادت میں کسان مارچ ہوا جس میں کارکنان نے کثیر تعداد میں شرکت کی،

  • وہی ہوا جس کا انتظار تھا، وزیراعظم ہاؤس سے بڑا استعفیٰ آ گیا

    وہی ہوا جس کا انتظار تھا، وزیراعظم ہاؤس سے بڑا استعفیٰ آ گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وہی ہوا جس کا انتظار تھا، وزیراعظم ہاؤس سے بڑا استعفیٰ آ گیا

    وزیر اعظم عمران خان نے بیرسٹر شہزاد اکبر کا استعفیٰ منظور کرلیا ہے

    وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے استعفیٰ دے دیا، شہزاد اکبر نے اپنا استعفیٰ وزیراعظم عمران خان کو بھجوایا ہے اور خود سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اس بات کی تصدیق کی ہے شہبزاد اکبر کا کہنا تھا کہ میں نے بطور مشیر اپنا استعفیٰ آج وزیراعظم کو بھجوا دیا ہے۔ مجھے پوری امید ہے کہ پی ٹی آئی کے منشور کے مطابق احتساب کا عمل وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں جاری رہے گا۔ میں پارٹی سے وابستہ رہوں گا اور ممبر کی حیثیت سے اپنا حصہ ڈالتا رہوں گا۔

    واضح رہے کہ شہزاد اکبر کے حوالہ سے تحریک انصاف کے اندر بھی تشویش پائی جاتی تھی کہ شہزاد اکبر احتساب کے مشیر بنا دیئے گئے اور بلند و بانگ دعوے کرتے نظر آتے ہیں لیکن ابھی تک کسی کا کوئی احتساب نہیں ہوا، نہ ہی کسی سے کوئی برآمد گی ہوئی، شہزاد اکبر نے چند روز قبل بھی لاہور میں شریف فیملی کے خلاف پریس کانفرنس کی تھی

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کی ہے اور کہا ہے کہ شہزاد اکبر مستعفی ہو گئے انہیں ملک چھوڑنے کی اجازت نہیں ملنی چاہئے، شہزاد اکبر سے براڈ شیٹ اور برطانیہ میں کی گئی ادائیگییوں کی تحقیقات ہونیا چاہئے

    18 جنوری کو کابینہ کمیٹی کی میٹنگ میں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے نوازشریف کی واپسی سے متعلق سوال اٹھایا تھا جس پر شہزاد اکبر نے نواز شریف کی واپسی کو مشکل قرار دیا تھا وزیراعظم عمران خان شہزاد اکبر کی کارکردگی سے خوش نہیں تھے ،اگر شہزاد اکبر استعفیٰ نہ دیتے تو وزیراعظم عمران خان انہیں گھر بھجوا سکتے تھے، شہزاد اکبر نے دوستوں سے مشاورت کے بعد استعفیٰ دیا،

    مسلم لیگ ن کے رہنما عطاء اللہ تارڑ نے شہزاد اکبر کے استعفے پر ردعمل میں کہا ہے کہ آج سے ٹھیک ایک ہفتہ قبل یہ بات کی تھی،کیا شہزاد اکبر سے قوم کا پیسہ اور وقت ضائع کرنے کا حساب لیا جائے گا؟ ایسٹ ریکوری یونٹ نے قوم کے اربوں روپے خرچے اور نتیجہ کچھ نہ نکلا شہزاد اکبر قومی مجرم ہیں، انتقامی کارروائیوں کا مداوا کون کرے گا؟

    سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی نے بھی اپنے خلاف دائر ہونے والے صدارتی ریفرنس میں ایک جواب سپریم کورٹ میں جمع کروایا تھا جس میں احتساب سے متعلق وزیراعظم عمران خان کے مشیر شہزاد اکبر کی اثاثہ جات ریکوری یونٹ کی بطور سربراہ تقرری، ان کی شہریت اور اثاثوں سے متعلق سوالات اٹھائے تھے سوالات میں کہا گیا تھا کہ شہزاد اکبر کو جس محکمہ اثاثہ جات ریکوری یونٹ کا سربراہ بنایا گیا اس کا معیار کیا مقرر کیا گیا ؟ کیا اس عہدے پر کسی شخص کی تقرری کے لیے کوئی اشتہار وغیرہ دیا گیا اور کیا درخواستیں موصول کی گئیں اور کیا یہ عہدہ پبلک سروس کمیشن کے طریقہ کار کی روشنی میں چنا گیا ہے اپنے جواب میں جسٹس قاضی فائز عیسی نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ شہزاد اکبر کو اثاثہ جات ریکوری یورنٹ کا سربراہ مقرر کرنے کے حوالے سے کیا شرائط اور ضوابط طے کیے گئے تھے

    مسلم لیگ ن کے رہنما عطاء اللہ تارڑ نے بھی چند روز قبل کہا تھا کہ شہزاد اکبر اب الٹے بھی ہو جائیں تو ان کی نوکری بچتی نظر نہیں آتی۔ ڈیڑھ سال سے جاری ایف آئی اے کی تفتیش میں ایک دھیلے کی کرپشن ثابت نہیں ہو سکی جس کا شہزاد اکبر کو شدید رنج ہے۔کبھی ایک عدالت تو کبھی دوسری عدالت میں چالان جمع کرانے اور تفتیشی رپورٹ اور چالان کو متعدد بار تبدیل کرنے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس کیس میں کچھ نہیں۔نیب جن الزامات کی تحقیقات تین سال سے تحقیقات کر رہا ہے، ہے انہی الزامات پر ایف آئی اے کو تفتیش دی گئی جس میں کچھ ثابت نہیں ہوا

    وزیراعظم غیرملکی شہریت رکھنے والے مشیروں، وزیروں سے استعفیٰ لیں،مریم اورنگزیب

    حفیظ شیخ کوہٹانے کی وجہ مہنگائی نہیں بلکہ کچھ اورہی ہے:جس کے تانے بانے کہیں اورملتے ہیں‌

    حفیظ شیخ میری سابق کابینہ کا حصہ تھے، میں یہ کام نہیں کرنا چاہتا، یوسف رضا گیلانی کا دبنگ اعلان

    لندن سے بانی متحدہ کو لاسکتا ہوں اور نہ ہی نوازشریف کو،شیخ رشید کی بے بسی

    بھٹو کو پھانسی ہوئی تو کچھ نہیں ہوا،یہ لوگ بھٹو سے بڑے لیڈر نہیں، شیخ رشید

    مقبوضہ کشمیر میں کسی دہشتگرد کے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، شیخ رشید

    بلاول جس دن پیدا ہوا عدم اعتماد پر ہی چل رہے ہیں، شیخ رشید

    طورخم ،چمن بارڈر پرسکون،پاکستانیوں کو واپس لائینگے،اشرف غنی کے دل میں فتور تھا،شیخ رشید

    بھارت کو افغانستان میں منہ کی کھانی پڑی،شیخ رشید نے کیا بڑا اعلان

    بلاول کیخلاف بات نہیں سن سکتا،مولانا کو اب یہ کام کرنا چاہئے، شیخ رشید