Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • کراچی: گرین لائن سروس بس کا آغاز ہو گیا

    کراچی: گرین لائن سروس بس کا آغاز ہو گیا

    کراچی والوں کے لئے گرین لائن بس سروس آج سے شروع ہو گئی ابتدائی طور پر بس سروس کچھ گھنٹوں کے لئے چلے گی وزیراعظم عمران خان نے کراچی میں رواں ماہ کی 10 تاریخ کو گرین لائن بس منصوبے کا افتتاح کیا تھا۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابقک راچی والوں کے لیے گرین لائن بس منصوبے کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا سرجانی ٹاؤن بس ڈپو سے پہلی مسافر بس نمائش چورنگی سے روانہ ہو گئی، پہلے مرحلہ میں 22 اسٹیشنز میں سے 11 اسٹیشن فعال کیئے گئے ہیں مسافروں کے لئے کم سے کم کرایہ 15 روپے سے 55 روپے وصول کیا جائے گا۔

    رپورٹس کے مطابق بس سروس ابتدائی طور پر صبح 8 سے دوپہر 12 بجے تک چلے گی اس دوران 15 دن آزمائشی طور پر 80 میں سے صرف 25 بسیں 4 گھنٹے کیلئے چلائی جائیں گی۔

    ترجمان سندھ انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ کمپنی کے مطابق 10جنوری سے گرین بس آپریشن مکمل طور پر فعال اور اوقات کار میں بھی اضافہ کردیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ گرین لائن بس منصوبے کا اعلان جولائی 2014 میں( ن) لیگ کی وفاقی حکومت نے کیا تھا۔ 26 فروری 2016 کو اس 17.8 کلومیٹر طویل سرجانی سے گرومندر تک ٹریک کا سنگ بنیاد رکھا گیا-

    ابتدائی منصوبے کے مطابق گرین لائن کا روٹ سرجانی ٹاون سے بزنس ریکاررڈ روڈ تک تھا اور منصوبے کو 6 ارب روپے کی لاگت سے مکمل کرنا تھا تاہم بعد ازاں منصوبے کے روٹ کو پہلے جامع کلاتھ اور پھر ٹاور تک بڑھا دیا گیا۔ اس طرح منصوبے کی لاگت بھی 27 ارب روپے سے بڑھ گئی۔

    گرین لائن کے روٹ پر 22 اسٹاپس بنائے گئے ہیں اور ان بس اسٹاپس پر مسافروں کے لیے لفٹس، بزرگ اور خصوصی افراد کے لیے ویل چیئر ریمپ بنائے گئے ہیں تمام بس اسٹاپس پر کینٹن، واش روم اور ٹکٹ بوتھ بھی بنائے گئے ہیں ایک اندازے کے مطابق چین سے منگوائی گئیں 80 جدید بسوں میں یومیہ ڈیڑھ لاکھ افراد سفر کرسکیں گے۔

    بلدیاتی الیکشن میں شکست:پی ٹی آئی کی تمام تنظیمیں تحلیل کرنےپرکارکنان عمران خان کے فیصلے پرخوش

    گرین لائن بس منصوبے کے لیے چین سے منگوائی گئی بسیں 18 میٹر لمبی ہیں اور ان بسوں کے اندر ڈرائیور کے لیے کاک پٹ کیبن بنایا گیا ہے۔ سیٹوں کے لحاظ سے ایک بس میں 44 افراد کے بیٹھنے کی سہولت موجود ہے جبکہ 180 افراد بس میں سفر کر سکتے ہیں۔

    مکمل طور پر ائیرکنڈیشن بس میں معذور افراد کے لیے بھی جگہ مختص کی گئی ہے جبکہ دوران سفر مسافر وائی فائی، موبائل چارجنگ پورٹ بھی استعمال کر سکیں گے دوران سفر مسافر انٹرٹینمنٹ اسکرین سے بھی لطف اندوز ہو سکیں گے۔

    بس کے دونوں اطراف تین تین ہیڈولیک کنٹرول دروازے ہیں جن میں ریمپ کی سہولت بھی موجود ہے اور بس میں اشتہارات لگانے کے لیے 18 جگہیں مختص ہیں بس میں نگرانی کے لیے 5 کیمرے لگائے گئے ہیں جو دوران سفر کنٹرول روم سے بذریعہ انٹرنیٹ منسلک ہوں گے۔

    کراچی کی گرین لائن بس کی خرابی کی صورت میں 2 خصوصی جدید ٹرک ہر وقت تیار رہیں گے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوراً ایکشن میں آئیں گے۔ گرین لائن کے بس ڈپو میں واشنگ ایریا اور پمپنگ اسٹیشن بھی بنائے گئے ہیں اور سرجانی ٹاؤن میں ڈرائیورز حضرات کے لیے ریسٹ روم بھی بنائے گئے ہیں۔

    صوبہ سندھ میں بلدیاتی ترمیمی بل نافذ کردیا گیا

  • بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح‌ کا 146واں‌ یومِ پیدائش

    بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح‌ کا 146واں‌ یومِ پیدائش

    لاہور:آج 25 دسمبر 2021 کو ملک بھر میں قائدِ اعظم محمد علی جناح کا 146 واں یومِ پیدائش مِلّی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ہر سال کی طرح امسال بھی حکومت پاکستان نے یومِ قائد اعظم کے موقع پر عام تعطیل کا اعلان کیا ہے جبکہ محمد علی جناح کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے مختلف تقاریب کا اہتمام بھی کیا جائے گا۔

     

    پاکستانی قوم کو تحریک پاکستان کے وقت عطا کیا جس نے قوم کو تحفے میں آزاد وطن پاکستان دیا۔ پاکستان کے اس بہادر اور عظیم لیڈر کا نام قائد اعظم محمد علی جناح ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح 25 دسمبر 1876کو پیدا ہوئے، والد کا نام پونجا جناح تھا آپ کی پیدائش پر آپ کا نام محمد علی رکھا گیا اور آپکے والدین کی طرف سے تعلیم و تربیت کا خاص اہتمام کیا گیا جسکی تکمیل کیلئے آپکو چھ برس کی عمر میں مدرسے میں داخل کیا گیا اسکے بعد ابتدائی تعلیم کے لیے گوگل داس پرائمری اسکول داخل کیا گیا اور پھر بعد میں سندھ مدرسہ سے پندرہ سال کی عمر میں میٹرک کا امتحان اعلی’ نمبروں سے پاس کیا 1892میں وکالت کا امتحان پاس کرنے کے بعد اعلی’ تعلیم کے لیے قائد اعظم محمد علی جناح لندن چلے گئے

    1896میں بیرسٹر بننے کے بعد آپ لندن سے کراچی واپس تشریف لائے اور 1902میں وکالت کے سلسلے میں آپ بمبئی تشریف لے گئے وہاں قائد اعظم نے سخت مشکلات کا سامنا کرنے کے باوجود بہت حوصلے اور بہادری کے ساتھ کام کیا قائداعظم نے دسمبر 1904میں بمبئی میں کانگریس کے بیسویں سالانہ اجلاس میں شرکت کر کے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا اس وقت ہندو مسلم اتحاد کے حامی تھے 1906میں آل انڈیا کانگریس میں شمیولیت اختیار کی ۔محمد علی جناح 60 رکنی امپیریل مشتاورتی کونسل کے ممبر بن گے قائد اعظم محمد علی جناح مسلمانوں کے حقوق کے حوالے سے بہت سرگرم تھے۔

    1913میں محمد علی جوہر، سید وزیر حسن اور دیگر مسلم قیادت نے آپ کو مسلم لیگ میں شمولیت پر آمادہ کیا مگر مسلم لیگ اس وقت نوابی تھی ۔اسلئے آپ کا رجحان کانگریس کی طرف رہا جس کے لیے آپ نے مسلم لیگ اور کانگریس کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی کوشش کی جس کے نتیجہ میں میثاق لکھنئو ہوا محمد علی جناح ان دونوں جماعتوں میں اتحاد کے علمبردار کی حیثت رکھتے تھے پہلی جنگ عظیم ختم ہونے کے بعد برطانوی حکومت نے اپنے وعدوں سے منحرف ہو کر رولٹا ایکٹ جیسا قانون نافذ کر کے سیاسی اور سماجی سرگرمیوں پر پاپندی لگا دی ۔جس سے سارے برصغیر میں تحریک شروع ہوگی اور حکومت نے مارشل لاء نافذ کر دیا اس تحریک کی قیادت گاندھی نے کی قائد اعظم نے کانگریس میں اس کی مخالفت کی آخر یہ تحریک ناکام ہوگئی 1920میں قائداعظم کانگریس سے ہندؤں کی ذہنیت کو سمجھتے ہوئے الگ ہوگئے

    1930میں لندن میں دوسری گول میز کانفرنس میں شریک ہوئے اس میں علامہ محمد اقبال بھی شریک تھے جنہوں نے 1930میں مسلم لیگ کے اجلاس آلہ آباد میں اپنا خطبہ صدرات میں ایک متحدہ اسلامی ریاست کے قیام کی نشاندہی کی اس کے بعد دونوں رہنماؤں کی ملاقاتیں ہوئی جس میں علامہ اقبال نے اپنے نقطہ نظر کی مزید وضاحت کی قائد اعظم برصغیر کی سیاست سے بیزار ہو کر واپس انگلستان چلے گئے 1933میں لیاقت علی خان جب لندن آئے تو انہوں نے قائداعظم سے ملاقات کی اور برصغیر آکر مسلمانوں کی قیادت کرنے کی درخواست کی اس پر آپ 1934میں برصغیر تشریف لائے یہاں آکر آپ نے مسلم لیگ کو با حثیت جماعت متحرک اور منظم کیا ۔قائداعظم محمد علی جناح کو 1935میں بمبئی کے مسلم لیگ کے اجلاس میں پارٹی کو منظم کرنے کے اختیار دیے گئے جس پر آ پ نے تمام برصغیر کا دورہ کیا ۔اس دورے کے دوران آپ نے مسلمانوں کو آنے والے خطرات اور اس سے نمٹنے کے لیے تیار کیا

     

    27مئی 1937کو قائداعظم کے نام اپنے ایک خط میں علامہ اقبال نے اس بات کا اظہار کیا کہ اسلام کے لیے سوشل ڈیموکریسی کی کسی شکل میں ترویج جب اسے شریعت کی تائید ومدافعت حاصل ہو۔حقیقت میں کوئی انقلاب نہیں بلکہ اس کی حقیقی پاکیزگی کی طرف رجوع کرنا ہوگا ۔مسائل حاضرہ کا حل مسلمانوں کے لیے ہندوؤں سے کہیں زیادہ آسان ہے لیکن جیسا کہ پہلے عرض چکا ہوں کہ اسلامی ہندوستان میں ان مسائل کا حل آسانی سے رائج کرنے کے لیے ملک کی تقسیم کی ذریعے اسلامی ریاست کا قیام اشد ضروری ہے ۔برصغیر کی ملت اسلامیہ کا قافلہ جو اٹھارہویں صدی سے اپنی بقاء اور تہذیبی اثاثوں کے تحفظ کے لیے بھٹک رہا تھا اور تقریبا” ڈیڑھ صدی سے اپنی منزل کے تعین کے باوجود سفر کی حکمت عملی سے بے خبر تھا۔ پوری ملت اسلامیہ برصیغر اسلام کے ساتھ پوری وابستگی اور مکمل خود سپردگی کے باوجود قیادت کے فقدان کا شکار تھی کچھ مایوسی کے برسوں کے بعد روشنی کی ایک کرن پھوٹی اور 1908 کی مسلم لیگ جو بڑے لوگوں کی جماعت سمجھی جاتی تھی .قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں مسلمانان برصغیر کی آنکھوں کا تارا بن گئی اور اس طرح ملت کا دل افسردہ قافلہ جو کہ رہنماؤں کی جلد بازیوں سے دلبرداشتہ ہوچکا تھا دوبارہ کمر بستہ ہوا اور ایک تازہ جوش و ولولے کے ساتھ قائد اعظم کی رہنمائی میں راس کماری سے لے کر پشاور تک رواں دواں ہو گیا

    قائد اعظم محمد علی جناح کے انداز تقاریر کے لوگ ایسے گرویدہ ہوئے کہ انگریزی سے نا آشنا لوگ بھی بت بن کر انکو سنتے اور تالیاں بجاتے کیونکہ وہ سب کے لیڈر بن چکے تھے۔ مسلمان ملت برصغیر جس میں شرح خواندگی تین فیصد سے بھی کم تھی ۔مگر دنیاوی اعتبار سے وہی سادہ اور نا خواندہ مسلمانوں نے جو سامراجی قوتوں کے ستائے ہوئے تھے اور ہندؤں کی تنگ نظری، ذلت آمیز رویوں اور ناانصافیوں کا شکار تھے انہوں نے تاریخ کا وہ عظیم الشان سفر اپنے عظیم قائد کے ساتھ طے کیا کہ پوری دنیا کو حیران کر دیا جس نے اقوام عالم کی تاریخ میں بالکل ہی نئے اور انوکھے انداز میں انقلاب کا آغاز کیا۔قائد اعظم محمد علی جناح نے مختلف تقاریر کیں اور انکے اقتباسات ہیں جو آج تاریخ کا سرمایہ ہیں 23مارچ 1940کے اجلاس میں جب قرار داد منظور ہوئی ۔قائد اعظم نے فرمایا اسلام اور ہندو دھرم محض مذہب نہیں درحقیت دو مختلف معاشرتی نظام ہیں ۔

    20مارچ 1941کو قائد اعظم نے مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے ایک اجلاس میں بھی خطاب کیا۔ 15 نومبر1942ء کے خطاب میں بھی قائد اعظم نے فرمایا کہ مجھ سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ پاکستان کا طرز حکومت کیا ہو گا؟ پاکستان کے طرز حکومت کا تعین کرنے والا میں کون ہوتا ہوں مسلمانوں کا طرز حکومت آج سے تیرہ سو سال قبل قرآن مجید میں ہماری رہنمائی کے لیے موجود ہے اور قیامت تک موجود رہے گا ۔عظیم لیڈر قائداعظم محمد علی جناح کے یہ وہ تاریخی الفاظ تھے جنہیں اگر سمجھ لیا جائے تو یقین ہوجائے کہ جس قوم کو ایسا رہنما ملے وہ مایوس کیسے ہو سکتی تھی۔

    6 دسمبر1943ء کو کراچی میں آل انڈیا مسلم لیگ کے 31 ویں اجلاس سے خطاب کے دوران قائداعظم نے فرمایا وہ کون سا رشتہ ہے جس سے منسلک ہونے سے تمام مسلمان جسد واحد کی طرح ہیں وہ کون سی چٹان ہے جس پر ان کی ملت کی عمارت استوار ہے وہ کون سا لنگر ہے جس نے امت کی کشتی محفوظ کر دی گی ہے وہ رشتہ ،وہ چٹان ،وہ لنگر، اللہ کی کتاب قرآن کریم ہے مجھے امید ہے کہ جیسے جیسے ہم آگے بڑھتے جائیں گے قرآن مجید کی برکت سے زیادہ سے زیادہ اتحاد پیدا ہوتا جائے گا ایک خدا، ایک کتاب ، ایک رسول ص ، ایک امت قائداعظم محمد علی جناح کا یہ خطاب کسی تبصرے یا وضاحت کا محتاج نہیں اس کا ہر لفظ پکار کر گواہی دے رہا ہے کہ یہ بات کہنے والا امت کے حقیقی تصور سے بھی آشنا ہے اور اللہ ، قرآن اور رسول ص کو مان لینے کے لازمی نتائج سے بھی باخبر ہے ۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قائداعظم کا یوم پیدائش تو مناتے ہیں مگر کیا ہم اس عظیم لیڈر کی قربانیاں یاد کرتے ہوئے اسکی کوئی بات مانتے ہیں؟ اپنی نسل کو بھی اپنے قائد کے روشن کردار و سیرت سے متعارف کرواتے ہیں؟ آج بھی ہمارے رہنماء اور قوم قائداعظم محمد علی جناح کے خطبات سنیں اور انکے کردار اور سیرت کی خوبصورتی کو اپنائیں تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں کامیابی سے نہیں روک سکتی قائد نے پاکستان توڑنے کیلئے نہیں جوڑنے کیلئے بنایا تھا قائد کی سالگرہ کے دن 25 دسمبر کو عہد کیجئے کہ ہم سب پاکستانی قوم انکے خطبات کی پاسداری کرتے ہوئے اس وطن کو اتحاد و امن کا گہوارہ بنائیں گے

    یہ بھی یاد رہےکہ آج بابائے قوم کی خدمات اور ان کی تعلیمات کو اجاگر کرنے کے لیے ریڈیو اور ٹی وی چینلز پر خصوصی پروگرام نشر کئے جارہے ہیں جب کہ پرنٹ میڈیا میں بھی خاص مضامین کی اشاعتوں کا اہتمام کیا گیا ہے، متعدد مقامات پر بابائے قوم کی سالگرہ کی مناسبت سے کیک کاٹے جارہے ہیں جب کہ صوبائی دارالحکومتوں میں بانی پاکستان کی انتہائی نادر، نایاب اور تاریخی تصاویر اور ان کے زیر استعمال اشیا کی نمائش بھی منعقد کی گئی ہے۔

  • روسی صدرکو خراج تحسین پیش کرنے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع

    روسی صدرکو خراج تحسین پیش کرنے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو خراج تحسین پیش کرنے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی گئی

    قرارداد مسلم لیگ ن کی رکن پنجاب اسمبلی ربعیہ نصرت کی جانب سے جمع کرائی گئی ،قراردادکے متن میں کہا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ صدر پیوٹن نے توہین رسالتﷺ کی مذمت کرکے عالم اسلام کے دل جیت لیے ہیں۔ عالم اسلام کیلئے حضور نبی اکرم ﷺ کی محبت اپنی جان، مال اور اولاد سے بھی بڑھ کر عزیز ہے۔ حضورﷺ کی شان میں گستاخی سے سب سے زیادہ مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ کسی بھی پیغمبر یا مذہب کی توہین آزادی اظہار رائے نہیں۔ دنیا میں اسوقت تک امن نہیں آسکتا جب تک ہم ایک دوسرے کے مذہب کا احترام نہیں کرتے۔ روسی صدر نے دنیا بھر کو یہی پیغام دیا ہے۔ پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان روسی صدر کے بیان کا خیر مقدم کرتا ہے۔۔متن

    پیغمبراسلامﷺ کی حرمت سےمتعلق عمران خان کی کوششوں کو روسی صدرکی تائید وحمایت پرمولانا فضل الرحمن بھی خوش،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی طرف سے عالمی فورم پرپیغمبر اسلامﷺ کی حرمت سے متعلق واضح اور جاندار موقف اور اقدامات کی تائید اور حمایت پر روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے پیغمبر اسلام ﷺ کی حرمت سے متعلق دیئے گئے بیان کا جہاں پوری دنیا میں خیرمقدم کیا جارہا ہے وہاں پاکستان کے سیاسی اور دیگراہم رہنما بھی وزیراعظم کی کوششوں کے نتیجے میں ہونے والی پیش رفت پرخوش ہیں

    مولانا فضل الرحمان سربراہ جے یو آئی ف

    وزیراعظم عمران خان کی پیغمبراسلامﷺ کی حرمت سےمتعلق کوششوں کے نتیجے میں ولادی میر پوتین جیسی شخصیات کی طرف سے تائید اورحمایت پر مولانا فضل الرحمن نے بھی خراج تحسین پیش کیا ہے امیر جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان نے ٹویٹر پر لکھا کہ روس کے صدر ولادی میر پیوٹن کا یہ بیان کہ نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی اظہارِ رائےکی آزادی یا فن کا اظہار نہیں ہے، عالم اسلام کے اس موقف کی تائید ہے کہ حضور ﷺ کی حرمت و تقدس آفاقی ہے جس پر ہم انکو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

    وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی:
    وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ٹویٹر پر روسی صدر کے بیان کا خیر مقدم کیا ۔ شاہ محمود قریشی نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ روسی صدر کے بعد اب عالمی برادری میں مزید شعور پیدا ہوگا

    فواد چودھری

    وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے مولانا فضل الرحمان کے ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ کھلے دل کے ساتھ مسلم اُمّہ کے اس لیڈر کا بھی شکریہ ادا کریں جس نے نبی کریم ﷺ کی شان اقدس کی حرمت کا مدعا پوری دنیا کے سامنے رکھا اور آج روسی صدرولادی میر پیوٹن جیسے عالمی رہنما عمران خان کی ان کاوشوں کے نتیجے میں اس مسئلے پر دو ٹوک رائے دے رہے ہیں۔

    شہزاد اکبر:

    مشیر داخلہ شہزاد اکبر نے ٹویٹر پر لکھا کہ بلا شبہ وزیراعظم عمران خان نے عالمی سطح پہ اسلاموفوبیا کے خلاف مقدمہ لڑا اور آج اس بات کے حق میں اٹھنے والی آواز عمران خان کی اپروچ پہ مہر تصدیق ثبت کر رہی ہے۔

    زلفی بخاری
    وزیراعظم کے سابق معاون خصوصی اوورسیز پاکستانیوں کے دل کی دھڑکن سید زلفی بخاری کہتے ہیں کہ وزیراعظم کی کوششیں رنگ لارہی ہیں اور روسی صدر جیسی بڑی شخصیت کا کپتان کی آواز میں آواز ملانا ایک بہت بڑی کامیابی ہے ، وہ کہتے ہیں‌کہ دو ارب سے زائد مسلمانوں کی دل آزاری کرنا کون سی اظہار رائے کی آزادی ہے ، اب یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے

    ڈاکٹر شہباز گل :
    وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے ٹویٹر پر لکھا کہ اللہ کا شکر ہے مسلمانوں کو ایک ایسا لیڈر ملا جس نے اسلاموفوبیا اور شان رسالت ﷺپر مدلل اور بے باک سٹینڈ لیا۔ ایک اور ملک کے لیڈر نے خان کو کہا آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ جمہوری اور منتخب لیڈر ہیں اور بہادری سے اس موضوع پر کھڑے ہیں کیونکہ ہم اس موضوع پر اتنا کھل کر بات نہیں کر سکتے

    فرخ حبیب:
    وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ وزیراعظم عمران خان اسلام کے حقیقی سفیر اور پوری دنیا کے مسلمانوں کی آواز ہیں۔ صدر پیوتن ہمارے وزیر اعظم کے موقف کی پیروی کرتے ہیں۔

     

  • پیغمبراسلامﷺ کی حرمت سےمتعلق میری کوششوں کی تائید وحمایت پرروسی صدرکاشکریہ اداکرتا ہوں‌:وزیراعظم

    پیغمبراسلامﷺ کی حرمت سےمتعلق میری کوششوں کی تائید وحمایت پرروسی صدرکاشکریہ اداکرتا ہوں‌:وزیراعظم

    اسلام آباد:پیغمبر اسلامﷺ کی حرمت سے متعلق میری کوششوں کی تائید وحمایت پر روسی صدرکا شکریہ ادا کرتا ہوں‌:اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے پیغمبر اسلام ﷺ کی حرمت سے متعلق دیئے گئے بیان کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ توہین رسالت سے متعلق بیان میرے مؤقف کی تائید ہے۔

     

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں وزیراعظم نے لکھا کہ میں صدر پیوٹن کے اس بیان کا خیرمقدم کرتا ہوں جو میرے اس پیغام کی تصدیق کرتا ہے کہ ہمارے نبی پاک ﷺ کی توہین "آزادی اظہار” نہیں ہے۔ ہم مسلمانوں کو خصوصاً مسلم رہنماؤں کو اسلامو فوبیا کا مقابلہ کرنے کے لیے اس پیغام کو غیر مسلم دنیا کے رہنماؤں تک پہنچانا چاہیے۔

    سالانہ پریس کانفرنس میں روسی صدر کا کہنا تھاکہ شان رسالت ﷺ میں گستاخی لوگوں کو ناراض کرنے اور اشتعال دلانے کا باعث بنتی ہے اور پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی شان میں گستاخی آزادی اظہار رائے نہیں۔

    ان کا کہنا تھاکہ شان رسالت ﷺ میں گستاخی مذہبی آزادی کے خلاف ہے اور مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنا ہے۔

    متنازع فرانسیسی میگزین چارلی ہیبڈو پر حملے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے روسی صدر کا کہنا تھاکہ ایسی حرکتیں انتہا پسندی کی طرف لے جاتی ہیں۔

    خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان اسلاموفوبیا کے خلاف سرکردہ فورمز پر آواز اٹھا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وزیراعظم عمران خان نے توہین رسالت اور اسلاموفوبیا کے معاملے پر مسلم ممالک کے سربراہان کو خط بھی لکھا تھا۔

  • بھارتی ایئر فورس کا لڑاکا طیارہ گر کر تباہ، پائلٹ ہلاک

    بھارتی ایئر فورس کا لڑاکا طیارہ گر کر تباہ، پائلٹ ہلاک

    بھارتی ایئر فورس کا لڑاکا طیارہ مگ 21 راجھستان میں گر کر تباہ ہو گیا-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق راجستھان میں جیسلمیر کے مقام پر مگ 21 طیارہ گر کر تباہ ہوا اور پائلٹ کی لاش برآمد کر لی گئی ہے۔


    بھارتی فضائیہ کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے ٹوئٹ کیا گیا کہ آج شام تقریباً 8:30 بجےانڈین ایئر فورس کا ایک مگ 21طیارہ تربیتی پرواز کے دوران مغربی سیکٹر میں حادثے کا شکار ہوا۔


    جیسلمیر کے ایس پی اجے سنگھ نے بھارتی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ طیارہ سام پولیس سٹیشن کے تحت ڈیزرٹ نیشنل پارک کے علاقے میں گر کر تباہ ہوا،مقامی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور حادثے کی تفتیش کی جارہی ہے۔

    انڈیا کی پاکستانی سرحد کے قریب فضائی دفاعی سسٹم ایس۔400 کی تنصیب

    خبر کی تصدیق کرتے ہوئے بھارتی فضائیہ کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے ٹوئٹ کیا گیا کہ آج شام تقریباً 8:30 بجےانڈین ایئر فورس کا ایک مگ 21طیارہ تربیتی پرواز کے دوران مغربی سیکٹر میں حادثے کا شکار ہوا۔


    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق صرف ایک سال میں مگ 21 کے کئی حادثے رپورٹ ہوئے ہیں۔بھارتی حکومت نے مئی 2012 میں پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ 1971 سے اپریل 2012 تک 482 مگ طیارے حادثات کا شکار ہو چکے ہیں جن میں 171 پائلٹ، 39 شہری، 8سروس اہلکار اور ایک ہوائی عملے کا شخص ہلاک ہو چکا ہے۔

    بھارت کا اگنی پرائم کے بعد ‘پرالے ‘ میزائل کا تجربہ

  • صوبہ سندھ میں بلدیاتی ترمیمی بل نافذ کردیا گیا

    صوبہ سندھ میں بلدیاتی ترمیمی بل نافذ کردیا گیا

    کراچی: صوبہ سندھ میں بلدیاتی ترمیمی بل نافذ کردیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : اس ضمن میں سندھ اسمبلی کے سیکریٹری نے باقاعدہ نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے سندھ اسمبلی کے سیکریٹری کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے بعد بلدیاتی ترمیمی بل نافذ العمل ہو گیا ہے۔

    واضح رہے کہ بلدیاتی ترمیمی بل 26 نومبر کو منظورکیے جانے کے بعد حتمی منظوری کے لیے گورنر سندھ عمران اسماعیل کو بھیجا گیا تھا گورنر سندھ نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے بل پر اعتراضات دور کرنے کے لیے 11 دسمبر کو واپس بھیج دیا تھا۔

    سندھ اسمبلی کے سیکریٹری کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن میں واضح کیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 116 کےتحت 10 دن گزرجانے کے بعد اس بل کو نافذ العمل کردیا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے سندھ کی حکمراں جماعت نے بلدیاتی حکومت کا ترمیمی بل اپوزیشن کی عدم موجودگی میں اسمبلی سے منظور کروایا تھا جس میں نہ صرف تعلیم اور صحت کے کام میونسپل اداروں سے واپس لے لیے گئے بلکہ میئرز، ڈپٹی میئرز کے انتخاب کے لیے اوپن بیلٹ کو بھی ختم کردیا گیا۔

    نیا بل صوبائی حکومت کو میونسپل اداروں پر اتنا کنٹرول دیتا ہے کہ وہ قانون سازی کے بوجھل عمل سے گزرے بغیر محض ایک نوٹی فکیشن کے ذریعے باگ ڈور واپس لے سکتی ہے۔

    تاہم اس بل پر مرکز کی جانب سے ایک سخت ردعمل سامنے آیا ہے، جس سے پیپلز پارٹی کی زیر قیادت حکومت سندھ کے لیے نئے چیلنجز پیدا ہوگئے ہیں۔

    حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے اس بل پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے کالا قانون قرار دیا تھا البتہ صوبائی حکومت نے اس بل کا کھل کر دفاع کیا تھاحکومت اور اپوزیشن کی جماعتوں نے ایک دوسرے پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ بلدیاتی انتخابات سے متعلق قانون پر لسانی کارڈ کھیلا جا رہا ہے۔

    ناساز معاشی حالات پر وزیر اعظم کے پرانے ساتھی جہانگیر خان ترین بھی بول پڑے

    حزبِ اختلاف کی جماعتوں کا کہنا تھا کہ یہ بل عجلت میں اسمبلی سے منظور کرایا گیا اور اس ضمن میں بل کو غور کے لیے اسٹینڈنگ کمیٹیوں کو بھیجنا بھی گوارا نہیں کیا گیا لیکن صوبائی حکومت اپوزیشن کے ان الزامات کی تردید کی تھی-

    مہنگائی کی ہفتہ وار رپورٹ جاری، دال، چینی، انڈے اور سیلنڈر سمیت 23 اشیا ضروریہ…

    اپوزیشن جماعتوں کا خیال تھا کہ لوکل گورنممٹ ایکٹ بلدیاتی اداروں کےوسائل پرقبضہ مزید مستحکم کرنے کی ایک کوشش ہے حزبِ اختلاف کی جماعت متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم) کے رہنما خواجہ اظہار الحسن کا کہنا تھا کہ آئین میں درج ہے کہ مقامی حکومتوں کو سیاسی، مالی اور انتظامی اختیار حاصل ہونے چاہیئں لیکن سندھ میں گزشتہ 13 سالوں سے یہ اختیارات چھینے جارہے ہیں۔

    اسد عمرکا کہنا تھا کہ ہم اس بل کو مسترد کرتے ہیں اور اب وقت آگیا ہے کہ ہم کراچی اور سندھ کے لوگوں کے حقوق کے لیے مہم شروع کریں ان کا کہنا تھا کہ یہ بل (سندھ لوکل گورنمنٹ بل) کراچی یا صوبے کے کسی دوسرے شہر کی مقامی حکومت کو اختیارات نہیں دیتا، یہ جعلی بلدیاتی نظام بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اسلام آباد کے لیے ہم ایک ایسا بلدیاتی نظام لائے ہیں جو میئر کو دارالحکومت کے ہر ایک میونسپل، صحت اور تعلیمی کام کے لیے بااختیار بناتا ہے یہاں کراچی میں ہم دیکھتے ہیں کہ بلدیاتی نمائندے پانی کی فراہمی، صفائی اور صحت کا معاملہ بھی نہیں اٹھا سکتے، میں کراچی میں اپنے ساتھی اراکین سے کہتا ہوں کہ یہ شہر کے ساتھ بہت بڑی ناانصافی ہے اور انہیں اس کے خلاف ایک مؤثر مہم کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔

    وفاقی وزیر نے کہا تھا کہ کراچی کے لوگ ناانصافی کا شکار ہیں، وہ خیرات نہیں مانگتے اور بہتر زندگی، مضبوط اور طاقتور بلدیاتی نظام کے مستحق ہیں۔

  • ناساز معاشی حالات پر وزیر اعظم کے پرانے ساتھی جہانگیر خان ترین بھی بول پڑے

    ناساز معاشی حالات پر وزیر اعظم کے پرانے ساتھی جہانگیر خان ترین بھی بول پڑے

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ عوام آج جتنی تکلیف میں ہے پہلے نہیں تھی۔

    باغی ٹی وی : جہانگیر ترین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں کو چاہیے، عوام کو مزید ذلیل ہونے سے بچائیں، ملک میں معیشت کے بہت مسائل ہیں موجودہ حکمران ان کو سنبھالیں ملک مسائل میں گھرا ہوا ہے دعا ہے کہ ان سے نکل جائے۔

    انہوں نے حکومتی پالیسیوں پر جواب دینے سے گریز کیا اور کہا حالات کی بہتری کے لیئے دعاگو ہوں مجھ سے بہتر میڈیا جانتا ہے ، اس پر کوئی کمنٹ نہیں کرنا چاہوں گا۔

    میرےعزیزہم وطنو:ہرسال لاکھوں کنکشن بڑھ رہے ہیں‌: سردی میں لوڈشیڈنگ کےمسائل دنیا بھرمیں ہیں:حماد…

    جہانگیت ترین نے کہا کہ عاصم علی شاہ کا انتقال بہت بڑا سانحہ ہے ، خدا اپنے لوگوں سے امتحان لیتا ہے ، 2002 کی اسمبلی میں طاہر شاہ اور میں اکٹھے تھے۔

    گزشتہ دنوں اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی میری جماعت ہے لیکن تین سال میں مہنگائی کنٹرول نہیں کرسکی ہے۔ اس سے عوام سخت پریشان ہیں۔

    نوازلیگ میں وزیراعظم کا نام نوازشریف:باقی خواہشمندوں کواطاعت کرنا پڑے گی:ورنہ آوٹ:رانا ثنااللہ

    انہوں نے کہروڑ پکہ میں ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے حکومت کو کڑی نکتہ چینی کا نشانہ بنایا اور ساتھ ہی مشورہ دیا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ تمام کام چھوڑ کر صرف مہنگائی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرے اس سے عوام سخت پریشان ہیں مہنگائی سپلائی اور ڈیمانڈ سے کنٹرول ہوتی ہے-

    ان کا کہنا تھا کہ اگر بروقت برآمدات کے اہم فیصلے ہوجاتے تو چینی اور گندم سمیت دیگر مسائل پیدا ہی نہ ہوتے۔

    شوکت ترین نے آج سینیٹرکے عہدے کا حلف اٹھا لیا

  • دنیا سُن لے : پیغمبر اسلامﷺ کی توہین آزادی اظہار نہیں ہے: روسی صدر پیوٹن

    دنیا سُن لے : پیغمبر اسلامﷺ کی توہین آزادی اظہار نہیں ہے: روسی صدر پیوٹن

    ماسکو:دنیا سُن لے کہ پیغمبر اسلامﷺ کی توہین آزادی اظہار نہیں ہے:اطلاعات کے مطابق روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے کہا ہے کہ پیغمبر اسلامﷺ کی توہین آزادی اظہار نہیں ہے۔

    روسی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق پیوٹن نے اپنی سالانہ نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ پیغمبرﷺ کی توہین مذہبی آزادی کی خلاف ورزی اور مسلمانوں کے جذبات کی خلاف ورزی ہے۔

    پیوٹن نے عام طور پر فنکارانہ آزادی کی تعریف کرتے ہوئےکہا کہ ان لوگوں کی اپنی حدود ہیں اور ان کی آزادی کی خلاف ورزی کرنا بھی کسی طور درست نہیں ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ روس ایک کثیر النسلی اور کثیر الاعتقادی ریاست کے طور پر تیار ہوا ہے اور ہم ایک دوسرے کی روایات کا احترام کرنے کے عادی ہیں،مگر کچھ دوسرے ممالک اس چیز کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔

    اس سے قبل وزیراعظم پاکستان عمران خان پوری دنیا کو باور کراتے رہے ہیں کہ مغربی دنیا کو معلوم ہی نہیں کہ ہم مسلمان نبیﷺ سے کتنا لگاؤ اور محبت رکھتے ہیں،دنیا کو بتانے کے لئے رحمت اللعالمین اتھارٹی بنائی ہے جو دنیا کو آگاہ کرے گی کہ توہین پیغمبرﷺ ہمارے لئے کسی صورت بھی قبول نہیں۔

    واضح رہے کہ 2018 میں یورپی یونین کی عدالت برائے انسانی حقوق (ای ایچ سی آر) نے کہا تھا کہ پیغمبرِ اسلام ﷺکی توہین آزادیِ اظہار کی جائز حدوں سے تجاوز کرتی ہے اور اس کی وجہ سے تعصب کو ہوا مل سکتی ہے اور اس سے مذہبی امن خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

    یہ فیصلہ عدالت نے پیغمبرِ اسلام ﷺکے بارے میں توہین آمیز کلمات کہنے والی آسٹریا سے تعلق رکھنے والی ای ایس نامی خاتون کے خلاف سزا کے فیصلے کی اپیل پر صادر کیا تھا۔عدالت نے کہا کہ ای ایس کے خلاف فیصلہ ان کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے۔

  • غریب جیلوں میں اورملک کا اربوں‌ لوٹنے والے نوازشریف کی سیاسی دباوپرسزا کا خاتمہ ہو:یہ ناممکن ہے:وزیراعظم

    غریب جیلوں میں اورملک کا اربوں‌ لوٹنے والے نوازشریف کی سیاسی دباوپرسزا کا خاتمہ ہو:یہ ناممکن ہے:وزیراعظم

    اسلام آباد:غریب جیلوں میں بےبس اورملک کا اربوں‌ لوٹنے والے نوازشریف کی سیاسی دباوپرسزا کا خاتمہ ہو:یہ ناممکن ہے:،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے عوام کا پیسہ لوٹ کر باہر منتقل کیا، عدالت کی جانب سے دی گئی سزا کا خاتمہ ممکن نہیں۔

    وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ترجمانوں کا اجلاس ہوا، اجلاس کے دوران ملکی سیاسی صورتحال، بلدیاتی الیکشن سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    وزیراعلیٰ خیبرپختوانخوا کے معاون خصوصی بیرسٹر سیف نے وزیراعظم کو بریفنگ کے دیتے ہوئے بلدیاتی الیکشن میں ووٹ حاصل کرنے سے متعلق اعدادوشمار سے بھی آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ویلیج کونسل کے نتائج میں بہتری کی امید ہے۔ تحریک انصاف کے پی کے میں ووٹوں کے تناسب سے مقبول اور بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔

    اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ تحریک انصاف کو ووٹ زیادہ پڑا، اس کو اجاگر کیا جائے، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کا خیبرپختونخوا الیکشن سے متعلق خوشیاں منانا حیران کن ہے، یہ ممکن نہیں کہ ہے کہ سزا یافتہ شخص کی سزا ختم ہو جائے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے عوام کا پیسہ لوٹا اور باہر منتقل کیا، پانامہ میں نواز شریف کا نام آیا اور عدالت نے نا اہل کیا، نواز شریف آج تک منی ٹریل بھی نہیں دے سکے، تحریک انصاف کا ووٹر اور عوام ہمارے ساتھ کھڑی ہے۔

    عمران خان نےکہا کہ پیڈ میڈیا اور سیاسی دباو سے ایک مجرم شخص کی سزا معاف کردی جائے اور غریب جیلوں میں بے بس تڑپ رہے ہوں ایسے ممکن نہیں ہوسکتا ،

    ادھراطلاعات کے مطابق لاہور کی بینکنگ جرائم کورٹ نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں عدالت کے دائرہ اختیار پر وکلاء کو تیاری کے لیے حتمی مہلت دے دی۔

     

     

    بینکنگ کورٹ کے جج سردار طاہر صابر نے ایف آٸی اے کی جانب سے دائرہ اختیار پر دائراعتراض پر سماعت کی، وکلا نے کیس پر تیاری کے لیے مزید مہلت کی استدعا کی جس کو منظور کرتے ہوٸے عدالت نے سماعت چار جنوری تک ملتوی کر دی۔

    عدالت نے قرار دیا کہ آٸندہ سماعت پر فریقین کے وکلاء عدالتی دائرہ اختیار پر دلائل مکمل کریں۔ شوگر انکواٸری منی لانڈرنگ کیس میں ایف آٸی اے نے عدالت کے داٸرہ اختیار پر اعتراضات اٹھاٸے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ بینکنگ کورٹ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت پر سماعت نہیں کر سکتی۔

    اس حوالے سے مشیر احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ آج منی لانڈرنگ کیس سے شہباز شریف کے وکلا غیر حاضر رہے، روز روز چالان مانگنے والے آج عدالت سے فرار ہوگئے۔

    دوسری جانب شہبازگل نے بھی طنزیہ وار کرتے ہوئے کہا کہ اب چابی بھری ترجمان کیا فرماتی ہیں، جھوٹی باجی کو اطلاع دینی تھی کہ شہباز شریف عدالت سے بھاگ رہے ہیں۔

    دوسری طرف سوشل میڈیا پر شریف فمیلی کے اس شاہانہ طرز عمل پر ایک طوفان بدتمیزی بپا ہے ، پاکستانی پوچھ رہے ہیں کہ کیا یہ ہے ایک پاکستان جہاں طاقتور کے لیے قانون اور جبکہ غریب کے لیے قانون اور

    بعض نے لکھا ہے کہ اس ملک کی تباہی میں ان بڑے لوگون کا ہاتھ ہے اور ان کو خودساختہ قانون کا ساتھ بھی نصیب ہے

    بعض نے لکھا ہے کہ اس ملک کی عدالتوں میں غریب رسوا ہورہے ہیں اور شرفائے سیاست عدالتوں کو جوتے کی نوک پربھی نہیں سمجھتے یہ کیا ہورہا ہے ، ہمیں اس نظام سے کون بچائے گا

  • منی لانڈرنگ کیس :طاقتور شہباز شریف اور حمزہ شہبازعدالت کو پھرچکردے گئے:غریب دیکھتے رہ گئے

    منی لانڈرنگ کیس :طاقتور شہباز شریف اور حمزہ شہبازعدالت کو پھرچکردے گئے:غریب دیکھتے رہ گئے

    لاہور:منی لانڈرنگ کیس : شہباز شریف اور حمزہ شہبازعدالت کو پھرچکردے گئے،اطلاعات کے مطابق لاہور کی بینکنگ جرائم کورٹ نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں عدالت کے دائرہ اختیار پر وکلاء کو تیاری کے لیے حتمی مہلت دے دی۔

     

    بینکنگ کورٹ کے جج سردار طاہر صابر نے ایف آٸی اے کی جانب سے دائرہ اختیار پر دائراعتراض پر سماعت کی، وکلا نے کیس پر تیاری کے لیے مزید مہلت کی استدعا کی جس کو منظور کرتے ہوٸے عدالت نے سماعت چار جنوری تک ملتوی کر دی۔

     

    عدالت نے قرار دیا کہ آٸندہ سماعت پر فریقین کے وکلاء عدالتی دائرہ اختیار پر دلائل مکمل کریں۔ شوگر انکواٸری منی لانڈرنگ کیس میں ایف آٸی اے نے عدالت کے داٸرہ اختیار پر اعتراضات اٹھاٸے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ بینکنگ کورٹ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت پر سماعت نہیں کر سکتی۔

     

    اس حوالے سے مشیر احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ آج منی لانڈرنگ کیس سے شہباز شریف کے وکلا غیر حاضر رہے، روز روز چالان مانگنے والے آج عدالت سے فرار ہوگئے۔

    دوسری جانب شہبازگل نے بھی طنزیہ وار کرتے ہوئے کہا کہ اب چابی بھری ترجمان کیا فرماتی ہیں، جھوٹی باجی کو اطلاع دینی تھی کہ شہباز شریف عدالت سے بھاگ رہے ہیں۔

     

    دوسری طرف سوشل میڈیا پر شریف فمیلی کے اس شاہانہ طرز عمل پر ایک طوفان بدتمیزی بپا ہے ، پاکستانی پوچھ رہے ہیں کہ کیا یہ ہے ایک پاکستان جہاں طاقتور کے لیے قانون اور جبکہ غریب کے لیے قانون اور

     

    بعض نے لکھا ہے کہ اس ملک کی تباہی میں ان بڑے لوگون کا ہاتھ ہے اور ان کو خودساختہ قانون کا ساتھ بھی نصیب ہے

     

    بعض نے لکھا ہے کہ اس ملک کی عدالتوں میں غریب رسوا ہورہے ہیں اور شرفائے سیاست عدالتوں کو جوتے کی نوک پربھی نہیں سمجھتے یہ کیا ہورہا ہے ، ہمیں  اس نظام سے کون بچائے گا