Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • بھارت میں خانہ جنگی کا خدشہ ،مسلمانوں کے ساتھ ساتھ عیسائی بھی نشانے پر

    بھارت میں خانہ جنگی کا خدشہ ،مسلمانوں کے ساتھ ساتھ عیسائی بھی نشانے پر

    بھارت میں خانہ جنگی کا خدشہ ،مسلمانوں کے ساتھ ساتھ عیسائی بھی نشانے پر
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اقلیتوں کے حوالے سے بھارت میں دن بہ دن حالات بدترین ہوتے جا رہے ہیں۔ آئے روز نفرت انگیز تقریر ہوتی ہیں۔ اقیلتوں پر حملے کئے جاتے ہیں ان کے مقدس مقامات کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ مذہبی رسومات سے روکا جاتا ہے۔ لیکن ایسا کرنے والوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوتی۔ کیونکہ یہ سب کرنے والوں میں خود مودی سرکار کے اپنے لوگ شامل ہیں۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بی جے پی سے زیادہ اس وقت انڈیا پر آر ایس ایس کا قبضہ ہے اور ان کا ایک ہی مقصد ہے کہ انڈیا کو صرف ہندووں کا ملک بنا دیا جائے۔ باقی اقلیتوں کو مجبورکر دیا جائے کہ وہ وہاں سے نکل جائیں یا پھر ان کا مذہب تبدیل کروادیا جائے اور اگر یہ دو کام نہیں ہوتے تو ان کے پاس سب سے آسان حل یہ ہے کہ ان کو مار دیا جائے۔اور اب یہ نفرت صرف عام لوگوں تک محدود نہیں ہے بلکہ بڑے بڑے مسلمان فنکار بھی اس کی لپیٹ میں آرہے ہیں۔ شاہ رخ خان کے بیٹے کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ہم نے دیکھ لیا۔ ہندو تہواروں پر اشتہاری کمپئین میں اردو زبان کے استعمال پر الگ واویلا مچایا جاتا ہے۔ مسلمان فنکاروں کو جان بوجھ کر دیوار سے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ان کے ساتھ سلوک اتنا برا ہوتا جا رہا ہے کہ اب ان کی برداشت بھی جواب دے چکی ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران بالی وڈ کے مشہور اور سینئراداکار نصیرالدین شاہ بھی بھارت میں مذہبی منافرت کے بڑھتے ہوئے رجحان پر پھٹ پڑے اور یہاں تک بھی کہہ دیا کہ مودی سرکار میں مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنایا جا رہا ہے اور یہ ہر شعبے میں ہو رہا ہے۔ اگر مسلمانوں کے خلاف اسی طرح مہم چلتی رہی تو بھارت میں خانہ جنگی کا بھی خدشہ ہے۔ دراصل جب نصیر الدین شاہ سے سوال کیا گیا کہ ان کو نریندر مودی کے بھارت میں مسلمان ہونا کیسا لگتا ہے؟ تو اس کے جواب میں انہوں نے صاف صاف کہا کہ مسلمانوں کو پسماندہ اور بے کار بنایا جا رہا ہے۔ جب مسلمانوں کو اس طرح کچلا جائے گا تو ظاہری بات ہے کہ وہ لڑیں گے۔ مسلمان اپنےگھر، خاندان اور بچوں کا دفاع کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف اسی طرح مہم چلتی رہی تو بھارت میں خانہ جنگی کا خدشہ ہے۔یہاں تک کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے بارے میں تو انہوں نے کھل کر بات کہ جو خون خرابے اور نسل کشی ہو رہی ہے دراصل اس کی وجہ یہ ہے کہ مودی کو کسی کی کوئی پروا نہیں ہے۔ مودی نسل کشی کی دھمکیاں دینے والوں کو خود ٹوئٹر پر فالو کرتا ہے۔
    حالانکہ نصیر الدین شاہ کے بارے میں۔۔ میں آپ کو بتاوں کہ وہ بہت ہی انصاف پسند شخص ہیں۔ وہ کسی بھی بات کو مذہب سے زیادہ ہیومن گراونڈز پر تولتے ہیں۔ اور اس بات کا اندازہ آپ اس چیز سے بھی لگا سکتے ہیں کہ جب افغانستان میں طالبان کی واپسی پر بھارتی مسلمانوں نے ٹوئیٹر پر ان کی حمایت کی تو نصیر الدین شاہ نے ان کی آڑے ہاتھوں لیا تھا۔اور وہ خود اپنے بارے میں کہتے ہیں کہ میں بھارتی مسلمان ہوں جیسا کہ مرزا غالب فرما گئے ہیں میرا رشتہ اللہ سے بے حد تکلف ہے اور مجھے سیاسی مذہب کی کوئی ضروت نہیں۔ ہندوستانی اسلام ہمیشہ دنیا بھر کے اسلام سے مختلف رہا ہے، اللہ وہ وقت نہ لائے کہ ہم اسے پہچان بھی نہ سکیں۔لیکن آج وہی نصیر الدین شاہ خانہ جنگی کا اشارہ دے رہے ہیں تو سمجھ لیں کہ حالات جتنے برے نظر آ رہے ہیں اصل میں اس سے کہیں زیادہ خراب ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ لیکن میں آپ کو بتاوں کہ انڈیا میں حالات صرف مسلمانوں کے لئے ہی خراب نہیں ہیں بلکہ عیسائیوں کے لئے بھی بہت زیادہ خراب ہیں۔اس کرسمس ڈے پر ایک طرف تو نریندر مودی نے خوب سیاسی بیان دیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے لوگوں میں مذہبی ہم آہنگی کی درخواست کرتے ہوئے تمام مذاہب کے احترام پر زور دیا۔ لیکن دوسری طرف مودی سرکار کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے حامی انتہا پسند گروپ آر ایس ایس نے عیسائیوں کے اس مقدس دن کو بھی پامال کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔ آگرہ میں ہندو انتہا پسند عیسائیوں کے رہائشی علاقوں میں نکل آئے اور انہوں نے کرسمس کی تقریبات کو تہس نہس کر دیا تھا۔ یہاں تک کہ آر ایس ایس کے غنڈے چرچوں میں داخل ہو گئے اور عیسائیوں کی مذہبی عبادات کو زبردستی بند کروادیا۔اور نہ صرف عام عیسائیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ پاسٹرز پر بھی حملے کرکے ان کو زخمی کیا گیا۔ ایک علاقے میں تو سانٹا کلاز کے خلاف بھی مظاہرہ کیا گیا نعرے بازی کی گئی اور آخر میں سانتا کلاز کے پتلے کو آگ بھی لگا دی گئی۔ ریاست کرناٹکا کے ایک سکول کو بھی نشانہ بنایا گیا جہاں کرسمس کی تقریبات جاری تھیں۔ تقریبات کو زبردستی بند کروا کے بچوں پر بھی تشدد کیا گیا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ حال ہی میں بنگلور سے تعلق رکھنے والے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ تجسوی سریا کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں وہ بھارت میں مسلمانوں اور عیسائیوں کو ہندو بنانے پر زور دے رہی ہیں۔اس کے علاوہ اسی مہینے ہری دوار میں ہونے والی ایک تقریب میں جس طرح سے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کی گئیں اور مسلمانوں کے قتل عام پر لوگوں کو اکسایا گیا کہ اگر آپ سب کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو انھیں مار دیں۔ ہمیں 100 فوجیوں کی ضرورت ہے۔ میانمار کی طرح، ہماری پولیس، ہمارے سیاستدانوں، ہماری فوج اور ہر ہندو کو ہتھیار اٹھانے چاہیئں اور صفائی ابھیان یعنی کلین اپ کرنا چاہیے۔ کوئی اور آپشن نہیں بچا ہے۔اور اب تو امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز میں بھی یہ رپورٹ کیا جا رہا ہے کہ ہندو انتہا پسند مسیحی کمیونٹی کو زبردستی ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ اور حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ موت کے خوف سے عیسائیوں نے خود کو ہندو ظاہر کرنا شروع کر دیا۔مسلمانوں پر ہونے والے ظلم پر تو عالمی میڈیا خاموش رہتا تھا لیکن اب جب یہ سب عیسائیوں کے ساتھ بھی ہو رہا ہے تو نیویارک ٹائمز کے ساتھ ساتھ اسرائیلی میڈیا میں بھی اس بات پر آوازیں اٹھنا شروع ہو گئیں ہیں کہ Modi’s politics of hate now come for Indian’s Christians. اور یہ سلسلہ اس وقت سے شروع ہوا ہے جب سے نریندرا مودی اقتدار میں آیا ہے یعنی2014
    اور دوبارہ 2019 میں تب سے ہی اس کی جماعت کے عہدیدار سرعام ملک بھر میں ہندوؤں کو تشدد پر اکسا رہے ہیں۔ اور کیونکہ بی جے پی کا آر ایس ایس کے ساتھ گٹھ جوڑ ہے۔ اس لیے اب آر ایس ایس پہلے سے کہیں زیادہ وحشی اور خوفناک ہوگئی ہے۔ اور جس مذہبی منافرت اور مسلمانوں کو کچلنے کی بات نصیر الدین شاہ نے کی ہے وہ محض انتہا پسند ہندوؤں کی وجہ سے نہیں ہے آپ غور کریں تو پتا چلے گا کہ ایک طرف بھارتی آئین کا آرٹیکل25 آزادی رائے اور مذہبی عقائد کے آزادانہ پرچار کا راگ الاپتا ہے تو دوسری طرف آرٹیکل48 گائے ذبح کرنے سے روکتا ہے جو اسلامی اصولوں کے سراسر خلاف ہے۔ اس کے علاوہ انڈیا میں جو اس وقت کوٹہ سسٹم رائج ہے اس میں بھی صرف ہندووں کو ترجیح دی جاتی ہے اور باقی قوموں کو پولیس‘ سول سروسز‘ فوج‘ تعلیم اور کھیل کے میدان میں بہت کم مواقع دیئے جاتے ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایک اندازے کے مطابق اس سال صرف جولائی سے ستمبر تک تقریبا تین سو چرچوں کو پورے انڈیا میں نشانہ بنایا گیا تھا۔درجنوں افراد کو تو انڈیا میں ہر سال صرف گائے ذبح کرنے کے شک میں ہجوم تشدد کرکے ہلاک کر دیتا ہے۔ کئی ریاستوں میں تو اب مسلمانوں کو کھلے مقامات پر اکھٹے ہو کر با جماعت نماز جمعہ تک ادا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اور ان تمام کاروائیوں میں ہندو انتہا پسند یہ سجمھتے ہیں کہ وہ اپنے ملک میں اپنے مذہب کا دفاع کررہے ہیں اور یہ ان کا حق ہے کیونکہ بھارت میں 80 فیصد ہندو بستے ہیں اور ان کے مذہب کو خطرہ ہے ۔ حالانکہ ایک حالیہ سروے کے مطابق بھارت میں ہندو مذہب کو ہرگز کوئی خطرہ نہیں ہے وہاں تبدیلی مذہب کے گنے چنے واقعات ہی پیش آتے ہیں۔ جسے
    Loveجہاد کا نام دے کر اس کے بدلے بڑی تعداد میں مسلمانوں کا جینا حرام کر دیا جاتا ہے۔لیکن مودی جیسے انسان سے اور توقع بھی کیا کی جا سکتی ہے جس کی پوری الیکشن مہم ہی مسلمانوں کے خلاف اپنی عوام کو اکسانے پر تھی اور مسلم دشمنی کے نام پر ہی مودی نے اقتدار حاصل کیا تو پھر وہ اور اس کی جماعت انڈیا میں اس کے علاوہ اور کیا کر سکتے ہیں۔
    لیکن اگر اب یہ صورتحال خانہ جنگی تک پہنچی تو معاملات بہت زیادہ بگڑ سکتے ہیں کیونکہ اب معاملہ صرف مسلمانوں کا نہیں بلکہ عیسائیوں کا بھی ہے جس پر عالمی میڈیا بالکل بھی خاموش نہیں رہے گا اس لئے مودی سرکار کو چاہیے کہ اس بربریت کو بند کرے اور ہوش کے ناخن لے۔

  • نواز شریف آخری گرین سگنل کا منتظر،کپتان کو سردی میں گرمی لگنے لگی

    نواز شریف آخری گرین سگنل کا منتظر،کپتان کو سردی میں گرمی لگنے لگی

    نواز شریف آخری گرین سگنل کا منتظر،کپتان کو سردی میں گرمی لگنے لگی
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ویسے تو پاکستان بہت سے مسائل میں گھیرا ہوا ہے ۔ مگر ٹی وی سکرینوں کو جن خبروں نے جکڑا ہوا ہے ۔ ۔ ان میں نوازشریف واپس آئیں گے کہ نہیں ۔ ۔ حکومت پانچ سال پورے کرے گی یا نہیں ۔ ۔ خیبر پختونخواہ کے بعد پنجاب میں بھی پی ٹی آئی کو مار پڑے گی ؟۔ منی بجٹ کب اور کیسے منظور ہوگا ؟

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس وقت جو چیز دیکھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ ملک پھر الیکشن موڈ میں آگیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے تو جنرل الیکشن کی تیاری بھی شروع کردی ہے ۔ اس حوالے سے ایک ریہرسل خیبر پختونخواہ کے بلدیاتی الیکشن میں ہوچکی ہے ۔ ایک اب پنجاب کے بلدیاتی الیکشن میں ہونی ہے ۔ پھر فائنل شو جنرل الیکشن میں دیکھنے کو ملے گا ۔ ابھی پنجاب کا بلدیاتی الیکشن عثمان بزدار کے حواس پر ایسا سوار ہو چکا ہے کہ انھوں نے لاہور سمیت پورے پنجاب کے لیے تجوریوں کے منہ کھول دیے ہیں ۔ اب وہ بھی دھڑا دھڑ نئے نئے منصوبے بنوانے کے چکروں میں ہیں کہیں کسی کا افتتاح ہورہا ہے تو کسی کا اعلان ۔۔۔ یوں جو عمران خان جنگلہ بس اور کنکریٹ کا شہر کہہ کر شہباز شریف پر تنقید کیا کرتے تھے اب انکا اپنا وزیر اعلی الیکشن کی خاطر سب کچھ کرنے کو تیار ہے ۔ پر یہ جو مرضی کر لیں پنجاب میں پی ٹی آئی کے لیے رزلٹ ۔۔ کے پی کے ۔۔ سے بھی زیادہ خوفناک آنا ہے ۔ جس کے بعد ہر کسی کو معلوم ہوجائے گا کہ ہواؤں کا رخ کیا ہے ۔ اب اس حوالے سے ن لیگی تو بہت ہی پراعتماد دیکھائی دیتے ہیں جو کے ان کے بیانات سے ظاہر بھی ہورہا ہے جیسے کہ ۔ جاوید لطیف کا کہنا ہے کہ نواز شریف ہفتوں میں پاکستان نظر آئیں گے، 23 مارچ سے پہلے حکومت سے اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ اٹھ جائے گا۔ اس لیے نوازشریف کی واپسی کا سن کرحکومت کےہاتھ پاؤں پھولے ہوئے ہیں۔ پھر ایاز صادق کہتے ہیں کہ میں نواز شریف سے مل کر آیا ہوں میری مسکراہٹ بتا رہی کہ حالات کیا ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کا دھڑن تختہ ہونے والاہے، ان کے گھبرانے کا وقت آنے والا ہے۔ ۔ تو رانا ثنااللہ کہتے ہیں کہ اگر حکومت ملاقاتیں کررہی ہے تو ہم بھی کسی نہ کسی سے مل رہے ہیں، اپنے نمبر پورے اور حکومت کے نمبر کم کرنے کی کوشش کریں گے۔ منی بجٹ کی بھر پور مخالفت کریں گے۔ ۔ میں یہاں بتاتا چلوں کہ موجودہ صورتحال میں منی بجٹ بھی انتہائی اہمیت اختیار کرگیا ہے ۔ آپ دیکھیں جیسے خیبرپختونخواہ کے بلدیاتی الیکشن میں کوئی مدد نہ ملی ۔ اگر منی بجٹ کے معاملے میں مدد نہ ملی تو یہ پاس کروانا حکومت کے لیے جان جوکھوں کا کام ہوگا ۔ اس حوالے سے خبریں یہ بھی ہیں کہ نوازشریف بس اس کا ہی انتظار کر رہے ہیں کہ اس معاملے میں اسٹیبلشمنٹ کیا کردار ادا کرتی ہے ۔اگر تو وہ نیوٹرل رہتی ہے تو پھر یہ نواز شریف کے لیے گرین سگنل ہے۔ کہ بساط لپیٹنے کی تیاری ہوچکی ہے ۔ ۔ آپ دیکھیں آصف زرداری نے اپنی خراب صحت کے باوجود کراچی سے اسلام آباد جا کر چند روز گزارے ۔ لگتا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی مل کر منی بجٹ کی مخالفت میں ووٹ دینے کی تیاریاں کررہے ہیں ۔ اگر یہ بل اسمبلی سے منظور نہ ہوا تو پارلیمانی روایات کے مطابق اسے وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ سمجھا جائے گا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ تاہم پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن دونوں کے پاس مل کر بھی اِتنے ارکانِ قومی اسمبلی نہیں ہیں کہ وہ حکومت کو شکست دے سکیں۔ البتہ حکومتی اتحادمیں شامل اتحادی جماعتیں ایم کیو ایم اورمسلم لیگ ق اپوزیشن سے مل جائیں تو حکومت کے لیے خطرہ ہوسکتا ہے ۔ کیونکہ اس منی بجٹ کا بوجھ اٹھانا ان اتحادی جماعتوں کے لیے بھی مشکل دیکھائی دے رہا ہے ۔ ۔ پر اگر یہ منی بجٹ پاس ہوگیا تو حکومت کی جو اگر کہیں کوئی مقبولیت ہے بھی ۔۔۔ وہ بالکل ختم ہو کر رہ جائے گی ۔ کیونکہ یہ آئی ایم ایف کی شرائط پورا کرنے کی خاطرنئے ٹیکسوں کا نفاذہے۔ جسے مِنی بجٹ کا نام دیا گیا ہے۔ فی الحال شیخ رشید نے اصل بات کہہ دی ہے کہ ہر جماعت کی خواہش ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اس کے سر پر ہاتھ رکھے مگر اسٹیبلشمنٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ جو جماعت اقتدار میں آئے گی وہ اس کے ساتھ ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اگر اس بات کو yard stick بنا لیا جائے تو جو عمران خان کی کارکردگی ہے اس سے تو صاف نظر آرہا ہے کہ باقی ماندہ ڈیڑھ سال بھی ان کو مل گیا تو انھوں نے کون سا کوئی تیر چلا لینا ہے ۔ الٹا مزید بیڑہ غرق کرنے کی چانسز زیادہ ہے ۔ تو عمران خان کی دوبارہ حکومت بنتے تو نہیں دیکھائی دے رہی ہے ۔ جس کا مطلب ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اب پی ٹی آئی کے ساتھ نہیں ہوگی ۔ ۔ لاکھ اختلاف کے باوجود ایک بات ماننے چاہیے کہ نواز شریف ایک مظبوط اعصاب کے مالک سیاستدان ثابت ہوئے ہیں ۔ آپ دیکھیں شہباز شریف نے لاہور میں خواجہ محمد رفیق کی برسی کے موقع پر ہونے والی تقریب جس میں نواز شریف بھی بذریعہ ٹیلی فون شامل تھے ۔۔۔ کہا ہے کہ میں امید کرتا ہوں آپ سے پاکستان میں جلد ملاقات ہو گی۔ ۔ اس لیے ایک بات تو طے ہے کہ نواز شریف پاکستان واپس آگئے اور کیسز سے بچ نکلے اور اگر الیکشن دوبارہ لڑنے کی اجازت مل گئی ۔ تو پھر نواز شریف کیا ۔۔ کوئی ن لیگی بھی نہیں پکڑا جائے گا ۔ بلکہ اس کے بعد تو شاید آدھی سے زیادہ پی ٹی آئی جاتی عمرہ کے باہر اپنی سی وی لیے کھڑی ہو ۔ بڑی تبدیلی اس وقت یہ ہی ہے کہ موجودہ حکومت کی رخصتی کی بات چل نکلی ہے۔ لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ بات کہاں تک پہنچتی ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ پاکستان میں اداروں،عدالتوں اور عوام کے مزاج سارا سال بدلتے رہتے ہیں۔ ان کا جب جی چاہتا ہے کسی کو ہیرو بنا نے کے لئے نکل پڑتے ہیں اور جب جی نہ چاہے ہیرو کو زیرو بنانے کے لئے ساری توانائیاں استعمال کرنے لگتے ہیں۔ پھر کے پی کے میں تحریک انصاف کی ہار نے بتادیا ہے کہ حکومتی جماعت میں غلط فیصلے کرنے کی صلاحیت کس قدر ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دراصل تحریک انصاف کی حکومت تین سال میں عوام کے لئے ایک بھی خوشی کی خبر نہیں لا سکی ہے اور اگلے الیکشن میں وقت تیزی سے کم ہورہا ہے۔ ۔ جنوبی پنجاب میں جہانگیر ترین خان صاحب سے ناراض ہو کے علیحدہ گروپ بنا چکا ہیں ۔ شاہ محمود قریشی ہمیشہ سے کسی کے اشارے کے انتظار میں رہتے ہیں ۔ گورنر چودھری سرور کے بیانات خوب رونق لگا چکے ہیں ۔ شمالی پنجاب میں چودھری برادران اپنے قدم مضبوطی سے جمائے ہوئے ہیں۔ ایسے میں اگر انتخابات ہوتے ہیں تو تحریک انصاف کے لیے پنجاب سے بیس سیٹیں نکالنا بھی مشکل ہو جائے گا۔ ۔ اس لئے نواز شریف کے لیے یہ بہت مناسب وقت ہے کہ سیاسی میدان میں واپسی کی جائے۔ اگر اگلے چند ہفتوں میں میاں نواز شریف وطن واپس آتے ہیں اور جیل میں بند کر دیئے جاتے ہیں تو امید ہے کہ اگلے تین چار ماہ بعد وہ عدالتوں سے رہائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر ایک پورا سال ان کے پاس ہو گا کہ نہ صرف اپنی جماعت کی صفیں دوبارہ سیدھی کرنے کی کوشش کریں بلکہ ملک کے طول و عرض میں جا کے عوام تک اپنا پیغام لے کر جائیں ۔ نواز شریف کی واپسی سے مریم اور شہباز کو لے کے چلنے والی باتیں بھی دم توڑ جائیں گی کہ نواز شریف کے سامنے ان کے لوگ سر تسلیم خم کرنے کے عادی رہے ہیں۔ کیونکہ ورکر نواز شریف کا ہے ووٹر نواز شریف کا ہے۔ جلسے میں لوگ انہی کے نام پہ آتے ہیں۔اس لئے ان کی واپسی سے مسلم لیگ ن میں دوسری جماعتوں سے ناراض لوگوں کی آمد کا سلسلہ چل نکلے گا۔ اسی لیے کپتان کی باتوں سے اب لگنا شروع ہوگیا ہے کہ کہیں کچھ گڑبڑ ضرور ہے کہ دسمبر کی سخت سردی میں گرمی لگنے لگی ہے۔ اور اپوزیشن کے مردہ جسم میں جیسے جان سی پڑ گئی ہے۔ میں آپکو بتاوں یہ سب تب ہوتا ہے ۔ جب آپ کے اردگرد صرف خوشامدی ہوں ۔ جو یہ نہ بتائیں لوگ آپکو کیا کیا بدعائیں دے رہے ہیں ۔ کیا کیا کہہ رہے ہیں ۔ جو یہ نہ بتائیں کہ ملک اوپر جانے کی بجائے غریب اوپر جانے شروع ہوگئے ہیں ۔ پھر آپ کو صرف اپنا آپ سچ دیکھائی دے باقی سب جھوٹ ۔ حالانکہ آپ نے وعدے یا دعوے تو کیا پورے کرنے تھے ۔ الٹا میرے کپتان آپ تو اس عوام کو دلاسہ دینے میں بھی ناکام رہے ۔ جب اس انتہا کا عوام پر ظلم ہو اور ان کی زندگی اجیرن کر دی جائے تو پھر قدرت اپنا انصاف کرتی ہے ۔ پھر آپ جتنے مرضی طاقتور ہوں ۔ جو مرضی آپ کے ساتھ ہو ۔ حکومت چلانا تو دور کی بات بچانا مشکل ہوجاتا ہے ۔ کیونکہ کوئی بھی شخص ہر وقت ہر کسی کو بے وقوف نہیں بنا سکتا ۔

  • نوازشریف:شہبازشریف سمیت ساری شریف فیملی کو بھی صحت کارڈ جاری کیے جارہے ہیں‌:اہم شخصیت کا دعویٰ‌

    نوازشریف:شہبازشریف سمیت ساری شریف فیملی کو بھی صحت کارڈ جاری کیے جارہے ہیں‌:اہم شخصیت کا دعویٰ‌

    لاہور:نوازشریف:شہبازشریف سمیت ساری شریف فیملی کو بھی صحت کارڈ جاری کیے جارہے ہیں‌:اہم شخصیت کا دعویٰ‌ ادھر یہ خبریں بھی گردش کرنا شروع ہوگئی ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کل لاہور کس چیز کا افتتاح کرنے آرہےہیں؟معاون خصوصی نے قبل ازوقت ہی بتا دیا ،اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ‌پنجاب عثمان بزدار کے معاون خصوصی وزیر اعلیٰ پنجاب حسان خاور نے وزیراعظم عمران خان کے دورہ لاہور کے حوالے سے قبل ازوقت ہی انکشاف کردیا ہے ،

    معاون خصوصی وزیر اعلی پنجاب حسان خاور نےسینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ اتھارٹی سائٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم لاہور سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ اتھارٹی کا دورہ کرنے آئے ہیں جو نیا منصوبہ ہے۔حسان خاورکاکہنا تھا کہ لاہور ڈاؤن ٹاؤن کا جلد افتتاح کریں گے اس کے بعد ڈیجیٹل اور ریزیڈینٹل سٹی کا افتتاح ہوگا، یہاں پر نیلے رنگ کی سڑکیں ہوں گی اور زیادہ تر گاڑیوں کو انڈر گراونڈ رکھا جائیگا۔

    وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی حسان خاور نے کہا کہ وزیراعظم کا ویژن تھا پرائیویٹ اپرٹنر شپ وہاں کی جائے جہاں اشد ضرورت ہو یا ہماری انویسٹمنٹ ہو۔ حسان خاور نے کہا کہ یہ منصوبہ ماحول دوست منصوبہ ہوگا، اس کا دوسرا مقصد شہر کی تخلیق نو ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پنجاب کی تاریخ کی سب سے بڑی آکشن یہاں کی جس کے زریعے یہ اب تک چالیس ارب روپے جنریٹ کر چکے ہیں۔

    حسان خاور کا کہنا تھا کہ لاہور ڈاؤن ٹاؤن کا جلد افتتاح کریں گے اس کے بعد ڈیجیٹل اور ریزیڈینٹل سٹی کا افتتاح ہوگا، یہاں پر نیلے رنگ کی سڑکیں ہوں گی اور زیادہ تر گاڑیوں کو انڈر گراونڈ رکھا جائیگا۔ معاون خصوصی وزیر اعلی پنجاب حسان خاور کا کہنا ہے کہ ہم ایسا بلدیاتی انتخاب لارہے ہیں جسکے ذریعے اختیار عام عوام تک پہنچے گا۔۔

    حسان خاور نے کہا کہ کل وزیراعظم لاہور تشریف لا رہے ہیں جو ہیلتھ کارڈ تقریب سے خطاب کریں گے جبکہ تارکین وطن بھی اس ہیلتھ کارڈ سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ حسان خاور کا کہنا تھا کہ ہم اپوزیشن لیڈروں خواہ وہ پاکستان ہوں یا لندن ہیلتھ کارڈ دے سکتے ہیں تاکہ وہ یہاں علاج کروا سکیں۔اس میں نوازشریف ، اسحاق ڈار سمیت سب کو دیئے جائیں گے

    دوسری طرف وزیراعظم کے دورہ لاہور کے سلسلے میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے جارہےہیں اوریہ بھی امکان ہے کہ وزیراعظم کل کسی اہم تقریب میں شرکت بھی کریں ، ادھر لاہور میں اس وقت وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے حوالے سے تاجراور دیگرکاروباری حضرات بہت خوش دکھائی دیتےہیں

  • یہ لوگ حکومتیں گرانے کی طاقت رکھتے ہیں،عدالت میں کس نے کیا اظہار بے بسی

    یہ لوگ حکومتیں گرانے کی طاقت رکھتے ہیں،عدالت میں کس نے کیا اظہار بے بسی

    یہ لوگ حکومتیں گرانے کی طاقت رکھتے ہیں،عدالت میں کس نے کیا اظہار بے بسی
    اسلام آباد ہائیکورٹ میں پولیس آرڈر 2002 پرعمل نہ کرنے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ عالمی سطح پر انصاف کی فراہمی میں عدلیہ کا کیا نمبر بتایا جا رہا ہے؟ ریٹنگ کا یہ تاثر غلط ہے، چالیس سال سے یہ عدالت وفاقی حکومت سے کہہ رہی ہے پراسیکیوشن برانچ بنا دیں،پراسیکیوشن برانچ نہ بننے سے شہریوں کو پریشانی ہوتی ہے، سیکریٹری داخلہ اور آئی جی پولیس کو اس آرڈر سے کوئی غرض نہیں،ریاست کی تمام مشینری قبضہ گروپ میں ملوث ہے،ہر ادارے نے اپنا ریئل اسٹیٹ کا بزنس کھول رہا ہے یہ جرم ہے،جرائم روکنے والے ادارے جرائم میں ملوث ہیں اور مجرموں کا تحفظ کرتے ہیں

    عدلیہ سے متعلق ریٹنگ کا یہ تاثر غلط ہے،ایک قیدی نے بھکر جیل سے خط لکھا ہے کہ کس طرح زیادتی کی جاتی ہے،قیدی نے خط میں لکھا ہے کہ پوری ریاست کی مشینری اس میں شامل ہے، اصل مجرم پکڑے ہی نہیں جاتے کیونکہ ریاست کی ساری مشینری ملوث ہے، اسلا م آباد پر ایلیٹ کلاس کا قبضہ ہے،وزارت داخلہ کے حاضر سروس افسران ریئل اسٹیٹ کا بزنس چلا رہے ہیں،آئی بی کی بہت بڑی ہاؤسنگ سوسائٹی ہے، پولیس بھی ہاؤسنگ سوسائٹی بنا رہی ہے شہری تکلیف میں ہیں کیونکہ جن اداروں نے تحفظ کرنا ہے وہ اپنے بزنس چلا رہے ہیں، اس عدالت نے معاملہ وفاقی حکومت کو بھیجا انہوں نے کچھ نہیں کیا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کون ریاست کے کمزور شہریوں کی داد رسی کریگا؟ کس طرح قبضے ہوتے ہیں اور لوگوں کو اٹھایا جاتا ہے،ایس ایچ او اور پٹواری کے ملوث ہوئے بغیر قبضہ ہو ہی نہیں سکتا،ادارے اپنے نام سے سوسائٹیاں بنا کر پرائیویٹ بزنس کر رہے ہیں، اس سے بڑا مفادات کا ٹکراؤ کیا ہو سکتا ہے،پولیس آرڈر کا نفاذ 2015 میں کیا گیا عدالت بار بار عمل کا کہہ چکی ہے، ریاست کے تمام اداروں کوشہریوں کی خدمت کرنی چاہئیں،جیل سے لکھے گئے اس ایک خط پر پوری حکومت کو ہل جانا چاہیے،غریب آدمی کیلئے فیصلہ آتا ہے تو میڈیا بھی اس طرح نہیں چلاتا،بڑی مشکل سے کچہری کو منتقل کیا جا رہا ہے، اور اسکا کریڈٹ وزیراعظم کو جاتا ہے، کسی ایک بڑے آدمی کو کچھ ہو جائے تو پوری مشینری ادھر پہنچ جاتی ہے،پولیس آرڈر سے متعلق عدالتی آرڈر کی کاپی سب کو گئی کسی نے نہیں پڑھی ہو گی،پولیس کے تفتیشی افسروں کو تفتیش سے متلعق کچھ پتہ ہی نہیں،پھر بدنام عدالتیں ہوتی ہیں کہ 136 میں سے 130 نمبر پر آ گئیں،یہ پورا سسٹم عام آدمی کیلئے ہے لیکن سارے اسکے خلاف کام کر رہے ہیں،کیا دنیا میں کہیں ریاستی اداروں کے نام پر پرائیویٹ بزنس ہوتا ہے،ایف آئی اے کا ڈائریکٹر ایف آئی اے کی سوسائٹی کا ڈائریکٹر ہوتا ہے،پولیس کی اپنی سوسائٹی ہے، اور یہ سب جرائم کی جڑ ہے ڈپٹی کمشنر بے بس ہیں، جہاں وزارت داخلہ کا مفاد ہو گا وہ اسکے خلاف کچھ کر سکتے ہیں؟ اس عدالت کے غریب کیلئے دیئے گئے ہر فیصلے کو ہر ایک نے دراز میں رکھ دیا، جو کیسز اس عدالت میں آ رہے ہیں وہ لرزہ خیز ہیں،عدالت کے پاس آبزرویشنز دینے کے علاوہ کچھ کرنے کا اختیار نہیں،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ عدالت نے جو کچھ کہا ایک ایک حرف حقیقت کا حصہ ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ افسوسناک ہے کہ ریاست صرف طاقتور کا تحفظ کرتی ہے،

    صحافیوں کا دھرنا،حکومتی اتحادی جماعت بھی صحافیوں کے ساتھ، بلاول کا دبنگ اعلان

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    میں نے صدر عارف علوی کا انٹرویو کیا، ان سے میرا جھوٹا افیئر بنا دیا گیا،غریدہ فاروقی

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    سپریم کورٹ نے صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا کا نوٹس لے لیا

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    پریس کلب پر اخباری مالکان کا قبضہ، کارکن صحافیوں نے پریس کلب سیل کروا دیا

    صحافیوں کو کرونا ویکسین پروگرام کے پہلے مرحلے میں شامل کیا جائے، کے یو جے

    کیوں ان صحافیوں کے پیچھے پڑ گئے جو حکومت یا کسی اور کے خلاف رائے دے رہے ہیں،عدالت

    مینار پاکستان واقعہ کے ملزم پکڑے جاسکتے تو صحافیوں کے کیوں نہیں؟ سپریم کورٹ

    مقامی صحافیوں کو کان پکڑوا کر تشدد کروانے والا ملزم گرفتار

    حکومت بتائے صحافیوں کے حقوق تحفظ کے لیے کیا اقدامات اٹھائے؟ عدالت

    پبلک آفس ہولڈر کا عزیز لاپتہ ہو جائے توریاست کا ردعمل کیا ہوگا؟چیف جسٹس اطہرمن اللہ کے اہم ریمارکس

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے معاملہ وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کے سامنے رکھنے کا حکم دے دیا ،عدالت نے کہا کہ اب یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے اور واضح تبدیلی نظر آنی چاہیے، وفاقی حکومت اس عدالت کو دکھائے کہ وہ بہتری لانے کے خواہش مند ہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ کوشش وفاقی حکومت کی بقا کی جنگ ہوتی ہے میں جواز پیش نہیں کر رہا لیکن ذرا سی کارروائی کی جائے تو ہلا کر رکھ دیا جاتا ہے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے مفادات کا ٹکراؤ ختم کیا جائے،یہ صرف قانون سازی سے نہیں ہو گا کچھ کر کے دکھانا ہو گا،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ شوگر مافیا پر ہاتھ ڈالا تو انہوں نے اس عدالت میں بھی درخواستیں دائر کر دیں،یہ لوگ حکومتیں گرانے کی طاقت رکھتے ہیں،ہم نے شوگر مافیا، پیٹرول مافیا اور دیگر پر بھی ہاتھ ڈالا ہے ، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس کا جو کام ہے وہ اگر نہیں کر سکتا تو وہ بیچارا نہیں ہے،اگر کوئی اپنا کام نہیں کر سکتا تو وہ اپنے گھر جائے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں کمزور اٹارنی جنرل نہیں ہوں میری وزیراعظم تک رسائی ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر آئی جی اور ایس ایچ او نہ چاہیں تو انکی حدود سے کسی کو اٹھایا جا سکتا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ کاش میں 1789 میں فرانس میں ہوتا جب وہاں انقلاب آیا تھا،فرانس انقلاب میں سب صفائی کر دی گئی تھی، عدالت نے کہا کہ انقلاب تب آئے گا جب ہم سب دیانتدار ہو جائیں اور سچی بات کرنے لگیں،وزیراعظم اور کابینہ کے سامنے رکھیں اور اس عدالت کو کچھ کر کے دکھائیں، اگر آئی جی اور ایس ایچ او ملوث نہ ہوں تو جرائم نہیں ہو سکتے، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ میں گزشتہ روز وزیراعظم سے ملا تو وہ پریشان تھے،وزیراعظم نے کہا کہ 3سال میں کوئی ریفارمز نہیں ہوئیں جو انکے ایجنڈے پر تھیں،سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ کبھی کسی کو قانون کے خلاف کوئی کام کرنے کا نہیں کہا،

    علیم خان کی ہاؤسنگ سوسائٹی ،سپریم کورٹ نے دیا بڑا جھٹکا

    تین سو ارب روپے کے میگا سکینڈل میں اینٹی کرپشن کی تحقیقات آخری مرحلے میں داخل

    سرکاری زمین پر قبضہ کرکے سینما بنانے پر ن لیگی رہنما پر مقدمہ درج

    پی ڈی ایم کا جلسہ:اپوزیشن کا آخری شوبھی فلاپ:سچ کیا اورجھوٹ کیا:ممتازاعوان نے منظرکشی کردی

    پی ڈی ایم کو لاہورجلسہ الٹا پڑ گیا،مولانا ،بلاول اور نواز شریف کے واضح اشارے، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    پی ڈی ایم مینار پاکستان جلسے میں ناکامی پر پی ڈی ایم سربراہ نے ایکشن لے لیا

    ابصار عالم کو کس نے گولی ماری ؟ جسٹس فائز عیسیٰ کا تاریخی فیصلہ آگیا ، سنئے مبشرلقمان کی زبانی

    حکومت کے حق میں آرٹیکلز لکھنے پر اشتہارات ملتے ہیں، قائمہ کمیٹی میں انکشاف

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے ساری سوسائٹیز کے خلاف کارروائی کرتی ہے خود چلا رہی ہے،آئے روز جس طرح کیسز آ رہے ہیں وہ اس عدالت کیلئے بھی افسوسناک ہیں، بتائیں عدالت اپنے آرڈر میں کیا لکھے کہ ضمیر تو جگا دیئے جائیں، چار ہفتے میں بتائیں کہ مفادات کا ٹکراؤ کس طرح ختم کیا جائے گا؟اگر اسلام آباد ہائیکورٹ کوئی کاروبار شروع کر دے تو یہ مفاد کا ٹکراؤ نہیں ہو گا، کتابی اور سیمینار والی باتیں نہیں بلکہ تبدیلی گراؤنڈ پر نظر آنی چاہیے،یہ عدالت اٹارنی جنرل کو کمیشن بنا دیتی ہے،جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے کمیشن نہ بنائیں،میں یہ وزیراعظم کے سامنے رکھوں گا اور سیکریٹری داخلہ سے مشاورت کرونگا، لینڈ مافیا ایک لعنت ہے،جس پر عدالت نے کہا کہ ریاست اور ریاستی ادارے لینڈ مافیا بن چکے ہیں،

    صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف ازخود نوٹس کیس،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    انڈس نیوز کی بندش، صحافیوں کا ملک ریاض کے گھر کے باہر دھرنا

    تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے ملک ریاض کو کہا جائے،آپ نیوز کے ملازمین کا جنرل ر عاصم سلیم باجوہ کو خط

    پنجاب پولیس نے ملک ریاض فیملی کے آگے گھٹنے ٹیک دئیے، حسان نیازی

    جب تک قانون کے مطابق سخت سزا نہیں دی جائے گی، قوم کرنل کی بیوی اور ٹھیکیدار کی بیٹی جیسے ٹرینڈ بناتی رہے گی۔ اقرار

    ملک ریاض کے باپ سے پیسے لے کر نہیں کھاتا، کوئی آسمان سے نہیں اترا کہ بات نا کی جائے، اینکر عمران خان

    صحافیوں کے خلاف کچھ ہوا تو سپریم کورٹ دیوار بن جائے گی، سپریم کورٹ

    صحافیوں کا کام بھی صحافت کرنا ہے سیاست کرنا نہیں،سپریم کورٹ میں صحافیوں کا یوٹرن

    مجھے صرف ایک ہی گانا آتا ہے، وہ ہے ووٹ کو عزت دو،کیپٹن ر صفدر

    پولیس جرائم کی نشاندہی کرنے والے صحافیوں کے خلاف مقدمے درج کرنے میں مصروف

    بیوی، ساس اورسالی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے الزام میں گرفتارملزم نے کی ضمانت کی درخواست دائر

    سپریم کورٹ کا سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس،ہمارے خاندانوں کو نہیں بخشا جاتا،جسٹس قاضی امین

    ‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    ریاست خود کرمنلز کو تحفظ دیتی،قانون کو دیکھ کر فیصلہ کریںگے،عدالت

  • یہ معاملہ عدلیہ کی آزادی سے متعلق ہے،عدالت کا اٹارنی جنرل کو حکم

    یہ معاملہ عدلیہ کی آزادی سے متعلق ہے،عدالت کا اٹارنی جنرل کو حکم

    یہ معاملہ عدلیہ کی آزادی سے متعلق ہے،عدالت کا اٹارنی جنرل کو حکم
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں ملازمین کی معلومات شہری کو فراہم کرنے کے حکم کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ آپکو کیوں معلومات چاہیے؟ درخواست گزار نے کہا کہ بطور شہری سپریم کورٹ کے ملازمین کی معلومات چاہئیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا وزارت قانون سپریم کورٹ کی کنٹرولنگ وزارت ہے? اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کہا کہ نہیں، کنٹرولنگ وزارت نہیں بلکہ متعلقہ وزارت ہے، عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ قرار دے چکی کہ ادارے متاثرہ فریق نہیں ہو سکتے،

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزارت قانون اعلیٰ عدلیہ کے نوٹیفکیشن جاری کرتی ہے اس لیے متعلقہ وزارت ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا وزارت قانون نے سپریم کورٹ کی اجازت سے یہ درخواست دائر کی ہے، سپریم کورٹ کا مطلب سپریم کورٹ ہے، کیا فل بینچ نے اسکی اجازت دی؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ رجسٹرار سپریم کورٹ سے نہیں پوچھ سکتا تھا کہ انہوں نے اجازت لی یا نہیں،عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ قرار دے چکی کہ ادارے متاثرہ فریق نہیں ہو سکتے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزارت قانون اعلیٰ عدلیہ کے نوٹیفکیشن جاری کرتی ہے اس لیے متعلقہ وزارت ہے، انفارمیشن کمیشن نے فیصلہ دیا اور رجسٹرار سپریم کورٹ متاثرہ فریق تھے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے یہ فرق سمجھ لیں کہ رجسٹرار سپریم کورٹ، سپریم کورٹ نہیں ہے، اس ہائیکورٹ میں غیرقانونی بھرتیاں ہوئیں اور ہم نے انکے خلاف کارروائی کی، کیا ان بھرتیوں کا ذمہ دار رجسٹرار آفس ہو گا یا تمام ججز ذمہ دار ہونگے؟ کوئی ریاستی ادارہ متاثرہ نہیں ہو سکتا رجسٹرار متاثرہ ہو سکتا ہے، شہری نے سپریم کورٹ کی نہیں رجسٹرار آفس سے متعلق معلومات مانگی ہیں، اس ہائیکورٹ نے رجسٹرار کو پرنسپل اکاؤنٹنٹ افسر مقرر کیا ، اور تمام چیزیں وہ دیکھتے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ شہری نے رجسٹرار آفس سے نہیں بلکہ سپریم کورٹ سے متعلق معلومات مانگی ہیں، اٹارنی جنرل

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا اس ہائیکورٹ کا رجسٹرار ہائیکورٹ ہو سکتا ہے؟ ہائیکورٹ تو اس ہائیکورٹ کے ججز ہیں، اس عدالت نے رجسٹرار کو پرنسپل اکاؤنٹنگ افسر بنایا ہے کیونکہ کل آڈٹ ہو سکے، رجسٹرار کی ذمہ داری بھی ہو گی تو کل احتساب بھی ہو سکے گا، چیف جسٹس کسی بھرتی میں تو شامل نہیں ہو گا، اس شہری کے تو رجسٹرار سپریم کورٹ آفس سے متعلق معلومات مانگی ہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئینی عدالتوں سے متعلق معلومات قانون کے مطابق فراہم نہیں کی جا سکتیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ یہ قانون معلومات کی فراہمی کے قانون سے متصادم کیسے ہو سکتا ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ قانون بنانے والوں اگر آئینی عدالتوں کو اس سے باہر رکھا ہے تو کیا غلط ہے،اگر یہ عدالت وفاقی قانون کے تحت بنائی گئی ہو تو پارلیمنٹ کل تہس نہس کر دیگی، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نہیں نہیں، کوئی ایسا نہیں کر سکتا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ آپ تک پہنچنے کیلئے کسی کو میرے اوپر سے گزرنا پڑیگا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ نہیں نہیں، ہم آپکو بیچ میں نہیں ڈالیں گے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ، فیڈرل شریعت کورٹ اور یہ ہائیکورٹ آئینی عدالتیں ہیں، آئینی عدالتوں کو ختم نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ وہ آئین کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ یہ عدالت اگر فیصلہ دیتی ہے تو اسکے خلاف اپیل کہاں دائر ہو گی، سپریم کورٹ تو خود درخواست گزار ہے وہ اپیل کیسے سن سکتے ہیں، چھپانے کیلئے کچھ نہیں، عوام تک معلومات کیوں نہیں پہنچنی چاہیے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ایسا کچھ نہیں جو چھپایا جائے، آئینی عدالت کی معلومات کی فراہمی قانون کے مطابق نہیں کی جا سکتی، عدالت نے کہا کہ آرٹیکل 19 کہاں روکتا ہے کہ آئینی اداروں کی معلومات نہیں فراہم کی جائے گی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 19 میں مناسب پابندیوں کا بھی ذکر ہے. اور یہ معلومات اس میں آتی ہے،

    رجسٹرار سپریم کورٹ اور وزارت قانون کی درخواستیں قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ میں رجسٹرار سپریم کورٹ کی نمائندگی نہیں بلکہ عدالت کے نوٹس پر آیا ہوں،درخواست گزار نے کہا کہ آئین اور دیگر قانون دونوں ہی پارلیمنٹ بناتی ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے درخواست گزار شہری سے استفسار کیا کہ باقی دنیا میں کیا پریکٹیس ہے ؟بھارت میں کیس پر جو فیصلہ ہوا تھا اس کی کاپی بھی عدالت دیں، کمیشن نے کورٹ کے بارے میں ایک آرڈر پاس کیا جسے چیلنج نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا، اس عدالت نے رجسٹرار کو کہا کہ معلومات فراہم کی جائیں، مشکل یہ ہے کہ آپ اس عدالت کے پاس آئے ہیں کہ معلومات نہیں دینا چاہتے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ پاکستان میں پانچ ہائی کورٹس ہیں، یہ معاملہ اس عدالت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب ججز کی تنخواہ قانون کے مطابق ہے تو کوئی بھی شہری اسکی معلومات لے سکتا ہے، اٹارنی جنرل آف پاکستان نے کہا کہ اگر اس متعلق قانون کی تشریح ہو جائے تو پھر ہو سکتا ہے، انفارمیشن کمیشن نے جو فیصلہ دیا وہ اس کا اختیار نہیں تھا،جو معلومات مانگی گئی اس میں ایسا کچھ نہیں تھا جو چھپایا جاتا،جس پر عدالت نے کہا کہ تو پھر معلومات دے دینی چاہیے تھی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر میں رجسٹرار ہوتا تو شاید معلومات دے دیتا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ رجسٹرار سے معلومات لے کر شہری کو دیدیں، یہ معاملہ عدلیہ کی آزادی سے متعلق ہے،شہری کو یہ نہیں لگنا چاہیے کہ اس سے کچھ چھپایا جا رہا ہے،شہری کا عدالت پر اعتماد سب سے زیادہ اہم ہے،

    نواز شریف کی نئی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع، نواز ذہنی دباؤ کا شکار،جہاز کا سفر خطرناک قرار

    جس ڈاکٹر کا سرٹیفیکٹ لگایا وہ امریکہ میں اور نواز شریف لندن میں،عدالت کے ریمارکس

    اشتہاری ملزم کی درخواستیں کس قانون کے تحت سن سکتے ہیں،نواز شریف کے وکیل سے دلائل طلب

    نواز شریف کی جیل میں طبیعت کیوں خراب ہوئی تھی؟ نئی میڈیکل رپورٹ میں اہم انکشاف

    اشتہاری مجرم کی ضمانت منسوخی کی ضرورت ہے؟ نواز شریف کیس میں عدالت کے ریمارکس

    نواز شریف کو مفرور بھی ڈکلیئر کر دیں تو تب بھی اپیل تو سنی جائے گی،عدالت

    گرفتاری پہلے، مقدمہ بعد میں، مہذب ممالک میں کبھی ایسا دیکھا ہے؟ مریم نواز

    مریم نواز کا وکیل بھاگ گیا

    جاوید لطیف نوازشریف کے بیانیے کے ساتھ کھڑے ہیں،مریم نواز

    قائمہ کمیٹی اجلاس،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار، رانا شمیم کے نہ آنے پرجاوید لطیف کا بڑا اعلان

  • الیکشن کمشنرخیبرپختونخوا شریف اللہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

    الیکشن کمشنرخیبرپختونخوا شریف اللہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

    اسلام آباد :صوبائی الیکشن کمشنرخیبرپختونخوا شریف اللہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا، ڈی جی لوکل گورنمنٹ الیکشن کو الیکشن کمشنر خیبرپختونخوا تعینات کردیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان کے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ صوبائی الیکشن کمشنرخیبرپختونخوا شریف اللہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق شریف اللہ کی جگہ ڈی جی لوکل گورنمنٹ الیکشن محمد رزاق کو الیکشن کمشنر خیبرپختونخوا تعینات کردیا گیا ہے۔ شریف اللہ کو الیکشن کمیشن سیکریٹریٹ اسلام آباد رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ تاہم الیکشن کمشنر خیبرپختونخوا شریف اللہ کو عہدے سے ہٹانے کی وجوہات سامنے نہیں آسکیں۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن نے کے پی بلدیاتی انتخابات کا دوسرے مرحلہ کے پول ڈے مقرر کرنے کیلئے سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات دوسرے مرحلہ کیلئے معاملہ سماعت کیلئے مقرر کردیا ،

    ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن (آج) جمعرات کو معاملے پر سماعت کرے گا۔ الیکشن کمیشن سے مرتضیٰ جاوید عباسی سمیت متعدد درخواست گزاروں نے رجوع کررکھا ہے، سخت موسم اور برفباری کی وجہ سے الیکشن کمیشن شیڈول جاری نہیں کرسکا، درخواستگزاروں نے الیکشن کمیشن سے شیڈول تاخیر سے جاری کرنے کی استدعا کررکھی ہے،

    الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ 16 جنوری کو کرانے کا اعلان کیا تھا۔یاد رہے خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں مولونا فضل الرحمان کی جمیعت علمائے اسلام پہلے نمبر پر فاتح جماعت رہی، جبکہ حکمران جماعت تحریک انصاف انتخابات میں دوسرے نمبر پر رہی۔ جبکہ بلدیاتی انتخابات میں تیسرے نمبر پر آزاد امیدواروں نے نشستیں حاصل کیں۔

  • ریکوڈک کیلئے تمام مالیاتی بوجھ وفاقی حکومت اٹھائےگی:     خوشحال بلوچستان خوشحال پاکستان:وزیراعظم عمران خان

    ریکوڈک کیلئے تمام مالیاتی بوجھ وفاقی حکومت اٹھائےگی: خوشحال بلوچستان خوشحال پاکستان:وزیراعظم عمران خان

    لاہور:ریکوڈک کیلئے تمام مالیاتی بوجھ وفاقی حکومت اٹھائے گی:بلوچستان کی خوشحالی پاکستانی کی خوشحالی ہے:اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت ریکوڈک کے لیے تمام مالیاتی بوجھ اٹھائے گی۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وزیراعظم نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ چھوٹے صوبوں کی ترقی کے لیے اپنے حکومتی وژن کے مطابق میں نے فیصلہ کیا کہ ہماری وفاقی حکومت ریکوڈک کے لیے تمام مالیاتی بوجھ اٹھائے گی اور حکومت بلوچستان کی جانب سے اس کی ترقی کا بوجھ اٹھائے گی۔وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا کہ اس سے بلوچستان کے عوام اور صوبے کے لیے خوشحالی کے دور کا آغاز ہو گا۔

     

     

     

     

    خیال رہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے جنوری 2013ء میں ریکوڈک کے ذخائر استعمال کرنے کے آسٹریلوی کمپنی ٹیتھیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی) اور بلوچستان حکومت کے معاہدے کو کالعدم قرار دیا تھا۔عدالت نے قرار دیا تھا کہ جولائی 1993ء میں ہونے والا یہ معاہدہ ملکی قوانین کے خلاف ہے اور اس کے بعد اس میں کی گئی تمام بھی ترامیم غیر قانونی اور معاہدے کے منافی ہیں۔

    2011 میں نواب اسلم رئیسانی کی حکومت نے کمپنی کی جانب سے کان کنی کے لیے لائسنس کی درخواست مسترد کی تھی۔ بلوچستان حکومت اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کے خلاف ٹیتھیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی) نے جنوری 2012ء میں ورلڈ بینک گروپ کے انٹرنیشنل سینٹر برائے سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس (آئی سی ایس آئی ڈی) سے رجوع کیا۔

    سرمایہ کاری سے متعلق اس عالمی ثالثی عدالت نے 7 سال بعد فیصلہ سناتے ہوئے جولائی 2019ء میں پاکستان پر تقریبا 6 ارب ڈالر جرمانہ عائد کیا جو ملکی مجموعی قومی پیداوار کے دو فیصد کے برابر رقم ہے۔ اس کے فوری بعد ٹی سی سی نے اس فیصلے کے نفاذ کے لیے کارروائی شروع کردی تھی اور برٹش ورجن آئی لینڈ کی عدالت نے دسمبر 2020 میں پی آئی اے کے نیویارک اور پیرس میں ہوٹل سمیت پاکستانی اثاثوں کو منجمد کرنے کا حکم دیا تاہم بعد میں یہ فیصلہ منسوخ ہوا اور پاکستان نے عالمی عدالت سے مئی 2021 تک مشروط حکم امتناع بھی حاصل کر لیا۔

    گزشتہ کئی ماہ سے ٹیتھیان کاپر کمپنی اور پاکستانی حکومت کے درمیان عدالت سے باہر معاملات طے کرنے کی کوششوں کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ تقریباً ایک ماہ قبل 30 نومبر کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں اراکین نے قرارداد کے ذریعے ریکوڈک سے متعلق نئے مجوزہ معاہدے پر بلوچستان اسمبلی کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کیا۔

    یاد رہے کہ ریکوڈک ایران اور افغانستان کی سرحد کے قریب بلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے نوکنڈی میں ٹیتھیان کی اراضیاتی پٹی پر واقع ہے۔ یہ پاکستان میں سونے، چاندی اور تانبے کا سب سے بڑا ذخیرہ مانا جاتا ہے اور اس کا شمار دنیا کے چند بڑے قیمتی زیر زمین ذخائر میں ہوتا ہے۔
    ایک رپورٹ کے مطابق ریکوڈک میں ایک کروڑ 30 لاکھ ٹن تانبے کے ذخائر اور دو کروڑ 30 لاکھ اونس سونا موجود ہے۔

    ٹھیتان کاپر کمپنی کی ایک رپورٹ کے مطابق ریکوڈک کا اقتصادی طور پر قابلِ کان کن حصہ 2.2 ارب ٹن جبکہ ایک دوسری رپورٹ کے مطابق چار ارب ٹن سے زائد ہے، جس میں اوسطاً تانبا 0.53 فیصد ہے جبکہ سونے کی مقدار 0.3 گرام فی ٹن ہے۔ اس منصوبے کی کل عمر کا تخمینہ 56 سال لگایا گیا ہے۔

  • خبردار:ہوشیار:پاکستان میں ذیابیطس کے3لاکھ سےزائد مریض ٹانگوں سے محروم ہوسکتے ہیں :ماہرین صحت

    خبردار:ہوشیار:پاکستان میں ذیابیطس کے3لاکھ سےزائد مریض ٹانگوں سے محروم ہوسکتے ہیں :ماہرین صحت

    کراچی :خبردار:ہوشیار:پاکستان میں ذیابیطس کے3 لاکھ سے زائد مریضوں کو ٹانگوں سے محرومی کا خدشہ ہے:ماہرین صحت نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ،اطلاعات کے مطابق کورونا کی وبا کے دوران پاکستان سمیت دنیا بھر میں ذیابیطس کے نتیجے میں ہونے والے پیروں کے زخموں کے بعد ٹانگیں کٹنے اور معذوری کی شرح میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔اس حوالے سے ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگریہی صورت حال رہی تو پھر معاملات بہت ہی خراب ہوجائیں گے

    پاکستان میں شوگر یعنی ذیابطس سے ہونے والے نقصانات سے آگاہی اور اس کے تدارک کے لیے ہونے والے اس بہت ہی اہم سمٹ میں ماہرین نے بہت ہی سنہری باتیں کیں‌، ماہرین کا کہنا تھا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو خدشہ ہے کہ 2022 میں پاکستان میں 3 لاکھ سے زائد افراد ذیابیطس کی وجہ سے ہونے والے پیروں کے زخموں کے نتیجے میں اپنی ٹانگوں سے محروم ہو سکتے ہیں۔ان خدشات کا اظہار ڈائبیٹک فٹ انٹرنیشنل کے صدر اور نامور ماہر ذیابیطس پروفیسر ڈاکٹر زاہد میاں نے کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

    کراچی میں اس حوالے سے ہونے والی تحقیقات کے حوالے سے جو چیزیں سامنے آئی ہیں اس میں کہا گیاہے کہ اس موقع پر ذیابطیس کی وجہ سے ٹانگیں کٹنے سے بچانے کے لیے مقامی دوا ساز کمپنی ہائی کیو فارما اور بقائی انسٹیٹیوٹ آف ڈائیبیٹالوجی اینڈ اینڈوکرائنولوجی کے درمیان کراچی میں 30 ڈائبیٹک فٹ کلینکس کے قیام کے معاہدے پر بھی دستخط کیے گئے۔

    معاہدے کے تحت بقائی انسٹیٹیوٹ آف ڈائیبیٹولوجی اینڈ اینڈوکرائنولوجی کے ماہرین مقامی دوا ساز ادارے کے ساتھ مل کر کراچی میں 30 کلینکس قائم کریں گے تاکہ ذیابطیس کی وجہ سے پیروں میں ہونے والے زخموں کا علاج کرکے ایسے مریضوں کی ٹانگوں کو کٹنے سے بچایا اور ان کو معذوری سے محفوظ رکھا جا سکے۔

    ڈاکٹر زاہد میاں کا کہنا تھا کہ عالمی ذیابیطس فیڈریشن کے مطابق پاکستان میں تین کروڑ تیس لاکھ سے زائد افراد ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہیں جبکہ ذیابیطس کے مرض میں مبتلا افراد میں ٹانگیں کٹنے کی شرح 20 سے 40 فیصد تک ہوتی ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ذیابیطس کے مریضوں میں سے 10 فیصد افراد کی ٹانگیں بھی ناقابل علاج زخموں کی وجہ سے کاٹنی پڑیں تو پاکستان میں اگلے سال تین لاکھ سے زائد افراد معذور ہو جائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ان میں سے تقریبا 85 فیصد افراد کو معذوری سے بچایا جا سکتا ہے جس کے لیے پاکستان میں 3 ہزار سے زائد ڈائبیٹک فٹ کلینکس قائم کرنے کی ضرورت ہے جہاں پر عالمی معیار کا علاج فراہم کیا جائے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ پاکستان کے مختلف دواساز کمپنیوں کی مالی اور فنی معاونت سے پاکستان بھر میں فٹ کلینکس قائم کر رہا ہے، کراچی میں کئی سالوں سے قائم فٹ کلینکس کی بدولت لوگوں کی ٹانگیں کٹنے کی شرح میں کافی حد تک کمی آئی ہے۔

    بقائی انسٹی ٹیوٹ آف ڈائیبیٹولوجی اینڈ اینڈوکرائنولوجی کے ڈائریکٹر پروفیسر عبدالباسط کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ذیابیطس میں مبتلا اکثر افراد کو اپنی بیماری کا علم ہی نہیں ہوتا۔

    انہوں نے کہا جب ان افراد میں اس مرض کی تشخیص ہوتی ہے اس وقت تک جسم کے کئی اعضا خراب ہو چکے ہوتے ہیں جبکہ پیروں میں خون کی سپلائی یا تو بہت کم یا ختم ہو چکی ہوتی ہے جس کے نتیجے میں پیروں میں درد محسوس کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے، ایسے مریضوں کو اگر کوئی زخم لگتا ہے تو انہیں پتہ نہیں چلتا اور جلد ہی وہ زخم شوگر کی وجہ سے اتنا خراب ہو جاتا ہے کہ پاؤں اور ٹانگ کاٹنے کی نوبت آجاتی ہے۔

    پروفیسر عبد الباسط کا کہنا تھا کہ ڈائبیٹک فٹ کلینکس قائم ہونے کے نتیجے میں ایسے مریضوں کا بہتر اور کامیاب علاج ہو سکے گا اور لوگوں کو معذوری سے بچایا جا سکے گا۔ہائی کیو فارما کے مینیجنگ ڈائریکٹر عاطف اقبال کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ ملک بھر میں اس طرح کے 500 ڈائبیٹک فٹ کلینکس قائم کرنے کی کوشش کرے گا تاکہ لاکھوں لوگوں کو معذوری سے بچایا جا سکے۔

  • اپوزیشن کے سارے کےسارےمنصوبے ادھورے رہ گئے : حکومت کو بڑی حمایت مل گئی

    اپوزیشن کے سارے کےسارےمنصوبے ادھورے رہ گئے : حکومت کو بڑی حمایت مل گئی

    لاہور:اپوزیشن کے سارے کےسارےمنصوبے ادھورےحکومت کو بڑی حمایت مل گئی ،اطلاعات کے مطابق ایک بار پھر اپوزیشن کے سارے کے سارے منصوبے ادھورے رہ گئے ہیں‌ ، یہ بھی اطلاعات ہیں‌ کہ وفاقی حکومت کو منی بجٹ کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے سے قبل بڑی حمایت مل گئی

    خیال رہے کہ قومی اسمبلی میں منی بجٹ کو پیش کیا جائے گا، جس میں آئی ایم ایف کی شرائط کو مد نظر رکھتے ہوئے بجلی، پٹرول سمیت دیگر اشیاء کی قیمتوں کو بڑھایا جائے گا جبکہ دیگر پر ٹیکسز میں اضافہ کیا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق منی بجٹ کی منظوری کے معاملے پر مسلم لیگ ق نے حکومت کی حمایت کا فیصلہ کر لیا ہے، ق لیگ منی بجٹ کو سپورٹ کرے گی۔حکومت کے ساتھ اتحادیوں کے رابطوں میں ق لیگ نے یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا ہے کہ اتحادی کی حیثیت سے منی بجٹ کو سپورٹ کریں گے۔

    یاد رہےکہ اس سے پہلے بھی اس وقت اپوزیشن کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا جب پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا گیا تھا ، اس موقع پر بھی پاکستان مسلم لیگ قائداعظم نے ملک کی بہتری کی خاطرحکومت کی حمایت کی اور اسی حمایت کی وجہ سے ملک میں‌ بڑے عرصے کے بعد کچھ بہتر قانون سازی ہوئی ہے

    اس وقت حکومت کے دیگراتحادیوں کی طرف سے بھی یہی توقع کی جارہی ہےکہ وہ حکومت کی حمایت کریں گے اور حکومت اپنے مقصد میں‌ کامیاب ہوجائے گی

    ادھر آج اس منی بجٹ کے خلاف اپوزیشن کی طرف سے ایک بار پھر ایوان کومچھلی منڈی بنا دیا گیا قومی اسمبلی میں منی بجٹ پر گونج سنائی دی جانے لگی، اپوزیشن حکومت پر برس پڑی، اپوزیشن نے منی بجٹ پیش کیے جانے پر حکومت کا بھرپور مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی صدارت میں ہوا، اجلاس کے دوران اپوزیشن منی بجٹ کے معاملے پر حکومت پر برس پڑی، مسلم لیگ ن ، پاکستان پیپلز پارٹی سمیت دیگر جگہوں پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

    قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما خواجہ آصف نے منی بجٹ معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایک سرنڈر 1971 میں کیا تھا، اس سے زیادہ خطرناک سرنڈر اب کیا جا رہا ہے، حکمران پاکستان کی خودمختاری کو سرنڈر کرنے جا رہے ہیں،

    اس موقع پر سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ قومی اسمبلی اجلاس منی بجٹ کے حوالے سے ایوان کے اندر اور باہر چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں، عوام پہلے ہی مہنگائی کے ہاتھوں تباہ حال ہے۔ سب کواس حوالے سے تشویش ہے، اگرکوئی منی بل، منی بجٹ آئے گا توعوام کے دکھوں میں اضافہ ہوگا۔

    وزیر مملکت علی محمد خان نے کہا کہ پی ٹی ڈی سی اور سیاحت کے شعبے کو مکمل طور پر صوبوں کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، پی ٹی ڈی سی کے اثاثے اور ملازمین صوبوں کے حوالے کرنے کا عمل شروع ہوچکا ہے، مرکزی سطح پر ٹورزم بورڈ کام کرے گا، حکومت مقامی و غیر ملکی سیاحت کے فروغ کے لیے کام کرے گی

  • ہوشیار، اب نکلیں گی عوام کی چیخیں، خان کا نیا پینترا،نواز شریف کی نئی چال

    ہوشیار، اب نکلیں گی عوام کی چیخیں، خان کا نیا پینترا،نواز شریف کی نئی چال

    ہوشیار، اب نکلیں گی عوام کی چیخیں، خان کا نیا پینترا،نواز شریف کی نئی چال
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے ان ساڑھے تین سالوں میں عوام کی ان سے وابستہ کوئی امید پوری نہیں ہوئی ۔ کوئی آس پوری نہیں ہوئی۔ عوام کی مشکلات حد سے زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ مہنگائی سمجھ سے باہر ہے۔ لوگ روٹی سے تنگ ہیں۔ افراتفری پھل پھول رہی ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کرپٹ لیڈر کپتان کی پالیسیوں کے سبب اپنے بونے قد خوفناک حد تک بڑھا چکے ہیں۔ وہ کرپشن جس کو کپتان نے ختم کرنا تھا۔ کپتان کی غلط پالیسیوں کے سبب پہلے سے بہت زیادہ ہو گئی ہے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ وہ کام جو اپوزیشن کے لوگ تا حیات نہیں کر سکتے تھے۔ عمران خان کی نااہلیوں اور غلط فیصلوں نے کر دیا ہے۔ کہتے ہیں کسی بھی قوم کو زنجیروں میں جکڑنا ہو تو اسے قرضہ دیا جائے وہ بھی سود پر۔ یہ جو منی بجٹ عوام پر نازل کیا جا رہا ہے ۔ سب ان ہی قرضوں کی وجہ سے ہے ۔ وزارت خزانہ کے ترجمان جتنا مرضی کہتے رہیں کہ منی بجٹ میں عام آدمی کے استعمال کی کسی چیز پر ٹیکس نہیں لگے گا۔ لوگ ماننے کو تیار نہیں کیونکہ یہ سب فضولیات ہیں ۔ ایک مثال دے دیتا ہوں ۔ کہ ۔ اس بار جو کئی پاکستانیوں کے بجلی کے بل دیکھ کر اوسان خطا ہو گئے تھے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس کی سب سے بڑی وجہ بنیادی ٹیرف اور سرچارج میں اضافہ تھا ۔ سچ یہ ہے کہ 2021 میں بجلی 18روپے 71پیسے فی یونٹ تک مہنگی کر دی گئی ہے ۔ گزشتہ ایک سال میں بجلی کی قیمت میں 9 بار اضافہ کیا گیا یوں بجلی صارفین پر 650ارب روپےکااضافی بوجھ ڈالاگیا۔ تو یہ جتنا مرضہ کہتے رہیں کہ پوری دنیا میں مہنگائی ہے لیکن ہم مینیج کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ سب جھوٹ ہے ۔ مسئلہ ہی سب سے بڑا یہ ہے کہ یہ کچھ بھی مینیج نہیں کر رہے ہیں ۔ یہ آئی ایم ایف کے حکم پر بس عوام پر ظلم کیے جارہے ہیں ۔ دوسری جانب ہر سیزن میں تجربہ کار کھلاڑی شیخ رشید آج کل خوب فرنٹ فٹ پر آ کر کھیل رہے ہیں اور ایک پیش کش داغ دی ہے کہ نواز آئیں اور چوبیس گھنٹے میں ویزہ اور ٹکٹ مفت دیں گے۔ انہوں نے یہاں تک ہی بس نہیں کی۔ یہ بھی کہہ دیا کہ شریف اور زرداری دونوں کرپٹ اور گیٹ نمبر چار کی پیداوار ہیں۔ اس پر رانا ثناء اللہ کہاں چپ رہنے والے تھے ۔ وہ کہتے ہیں شیخ رشید کا بیان بتاتا ہے کہ حکومت کی ٹلی بج گئی۔ ۔ تو کہنے والے تو کہہ رہے ہیں ۔ کہ برطانیہ میں نواز شریف کا مزید قیام قانونی طور پر ممکن نہیں اس لئے وآپسی ان کی مجبوری ہو گی۔ ۔ کہنے کا مقاصد یہ ہے کہ عمران خان نے ایسے لوگ چن چن کر لگائے ہیں جنہیں نہ تو سیاسی سمجھ بوجھ ہے اور نہ ہی وہ زمینی حقائق کا علم رکھتے ہیں۔ بلکہ اس حکومت کا ہر مشیر کسی مافیا کا نمائندہ ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کسی حکومتی نمائندے سے بات کریں تو وہ حکومت کی کارگردگی گنواتے ہوئے تھکتے نہیں اور کہتے ہیں اپوزیشن ہمیں کام نہیں کرنے دیتی ہے صرف ہم پر تنقید کرتی ہے۔ کپتان کی مجبوریاں کیا ہیں۔ کوئی نہیں جانتا۔ عمران خان پہلے دن سے کہتے آ رہے ہیں کہ کسی کو چھوڑوں گا نہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ ابھی تک کسی کو پکڑا ہی کب ہے کہ نہ چھوڑیں گے۔ عمران خان اور کچھ نہ کرتے کم از کم یہ سرکاری افسران کی ایکڑوں میں پھیلی ہوئی کوٹھیاں ہی ایک کنال کے گھر پر محیط کر دیتے۔ یہ جی او آرز، ریلوے کے افسران، بیورو کریسی کی کنالوں اور ایکڑوں پر پھیلی ہوئی کوٹھیاں ہی سائز میں لے آتے، پروٹوکول ہی کنٹرول کرلیتے تو لوگ سمجھتے کچھ تبدیلی آئی ہے۔ اگر ریاست مدینہ کا نام لیا ہی تھا تو ملک میں کوئی قانون ، کوئی انصاف کا نظام ہی قائم کر دیتے ۔ الٹا اس کے برعکس ظلم کا نظام انھوں نے قائم کر دیا ہے ۔ ہوا کیا وزیراعظم نے کار چھوڑ کر ہیلی کاپٹر پر گھر جانا شروع کر دیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کروڑوں کی گاڑیاں منگوانے لگے۔ پہلی بار ڈی سی، کمشنر، ڈی آئی جی اور دیگر عہدوں پر تعیناتی کے پیسوں کی بازگشت فضاؤں میں سنی جانے لگی۔ یہ ہے اصل کارکردگی ۔۔۔ جو وزیر مشیر نہیں بتاتے ۔ پھر کپتان اگر یہ سمجھتے ہیں کہ تحریک انصاف کو پانچ وفاقی وزراء کے سپرد کر کے وہ مطلوبہ نتائج حاصل کر لیں گے۔ تو ان کی مرضی ہے لیکن بادی النظر میں معاملہ اتنا آسان نہیں جتنا انہوں نے سمجھ لیا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جہاں عمران خان نے پارٹی تنظیمیں توڑ دی ہیں۔ تو اسد عمر کو نیا جنرل سیکرٹری لگا دیا ہے ۔ پنجاب میں شفقت محمود، جنوبی پنجاب میں خسرو بختیار اور خیبر پختونخواہ میں پرویز خٹک کو لگا دیا ہے ۔ میں آپ کو بتاوں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ الٹانقصان ہی ہونا ہے ۔ یہ عمران خان کی نااہلی اور ناتجربہ کاری ہے ۔ کہ کبھی بھی کوئی جرنیل جنگ کے دوران اپنی فوج کا مورال نہیں گراتا ۔۔ جیسے عمران خان نے کیا ہے ۔ یہ پی ٹی آئی میں آخری کیل ٹھونکنے کے مترداف ہے ۔ آنے والے دنوں میں آپکو اس کا رزلٹ مل جائے گا ۔کیونکہ ایک تنظیمی طور پر انتشار کا شکار جماعت کو اگر درست کرنا اتنا ہی آسان ہوتا تو یہ کام بہت پہلے ہو سکتا تھا۔ اب انتشار کم ہونے کی بجائے مزید بڑھے گا کیونکہ یہ نئی انتظامی باڈی اپنی پسند ناپسند پر کام کرے گی اور ناراضی کو مزید بڑھائے گی کم نہیں کر سکے گی۔ دراصل اسد عمر کو جنرل سکریرٹی بنا کے کپتان نے ایک بار پھر جواء کھیلا ہے۔ وہی جواء جو وہ انہیں وزیر خزانہ بنا کے کھیل چکے ہیں اور نتائج آج تک پوری قوم بھگت رہی ہے کیا ان میں پارٹی منظم کرنے کی صلاحیت ہے؟ کیا ان کے چاروں صوبوں میں رابطے ہیں، کیا ان کا کوئی ایسا سیاسی بیک گراؤنڈ ہے، جو ایسی سیاسی پوسٹ کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ یہ درست ہے وہ عمران خان کے با اعتماد ساتھی ہیں، مگر یہاں معاملہ ایک پارٹی کو سیدھی راہ پر لگانے کا ہے۔ پھر اگر انہیں یہ ذمہ داری سونپی بھی ہے تو انہیں وزارت کے جھنجھٹ سے آزاد کر دینا چاہئے تاکہ وہ مکمل توجہ تحریک انصاف کے تنظیمی ڈھانچے کی بحالی پر دے سکیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کہنے کو عمران خان یہ بھی کہتے ہیں اب پارٹی کے معاملات وہ خود دیکھیں گے کیا ایسا ممکن ہے اوپر سے لے کر یونین کونسل تک ایک ڈھانچہ بنائے بغیر معاملات کو کیسے سیدھا کیا جا سکتا ہے۔ ان کو لگتا ہے کہ ٹویٹر پر ٹرینڈ چلوا دو ۔ جو تنقید کرے اسکو پی ٹی آئی کی گالم گلوچ بریگیڈ برا بھلا کہے تو پارٹی مقبول ہے ۔ ایسا نہیں ہوتا ۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں کچھ عرصہ پہلے کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات ہوئے تو اپنے ہی امیدواروں کے خلاف سرگرم کردار ادا کرنے والے کوئی اور نہیں پی ٹی آئی کے ناراض کارکن تھے جس کی وجہ سے ہر جگہ شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کپتان نے پرویز خٹک کو تحریک انصاف خیبرپختونخوا کا صدر بنا دیا ہے سب جانتے ہیں کہ موجودہ وزیر اعلیٰ محمود خان سے ان کی نہیں بنتی۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ بھی ایک سامنے کا سچ ہے کہ پرویز خٹک خیبرپختونخوا میں ایک گروپ کی سرپرستی کرتے ہیں افواہیں گرم ہیں کہ شاید پرویز خٹک کو آنے والے دنوں میں صوبائی اسمبلی کا ممبر بنا کے وزیر اعلیٰ بھی مقرر کر دیا جائے۔ یہ بھی ایک بہت بڑا جوا ہو گا۔ جو الٹا بھی پڑ سکتا ہے۔ کیونکہ خیبرپختونخوا کی سیاست کا مزاج سب سے مختلف ہے۔ وہاں ذاتی مفادات کو پارٹی مفاد پر ترجیح دینے کا ایک رواج موجود ہے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف کو شکست بھی اسی لئے ہوئی ہے کہ ارکانِ اسمبلی نے اپنے ہی امیدواروں کی مخالفت کی۔ پرویز خٹک اگرچہ ایک اچھے وزیر اعلیٰ رہے ہیں۔ ان کے دور میں خیبرپختونخوا کے اندر ترقیاتی کام بھی ہوئے۔ گڈ گورننس بھی موجود تھی۔ تاہم پارٹی کے صوبائی صدر کی حیثیت سے وہ ایک منتشر تنظیمی ڈھانچے کو یکجا کر سکیں گے یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جہاں تک پنجاب کا تعلق ہے تو اسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ وسطی پنجاب کا صدر شفقت محمود کو اور جنوبی پنجاب کا صدر خسرو بختیار کو بنا دیا گیا ہے۔ یہ دونوں وفاقی وزراء ہیں اور بطور وفاقی وزیر یہ شاید ہی پنجاب کے مختلف شہروں کے دورے پر گئے ہوں۔ شفقت محمود کا سیاسی وژن تو ہے لیکن پارٹی منظم کرنے کا سیاسی تجربہ نہیں۔ انہیں بہت عرصہ لگے گا یہ سمجھنے میں کہ تحریک انصاف تنظیمی لحاظ سے کس سطح پر کھڑی ہے۔ لاہور میں علیم خان کو کارنر کیا گیا۔ جو پارٹی اور وزارت سے ہی بددل ہو گئے۔ سب سے دلچسپ تقرری جنوبی پنجاب میں کی گئی۔ خسرو بختیار کو صدر بنا دیا گیا ہے۔ جن کے بارے میں ابھی تک یہ تاثر موجود ہے وہ حکومت کے اتحادی ہیں تحریک انصاف کے رکن نہیں یاد رہے کہ عام انتخابات سے پہلے وہ تحریک صوبہ محاذ بنا کے ایک معاہدے کے تحت تحریک انصاف کے اتحادی بنے تھے۔ ان کا زیادہ تر سیاسی حلقہ رحیم یار خان تک محدود ہے۔ البتہ ان کے بارے میں یہ تاثر موجود ہے وہ جہانگیر ترین گروپ سے تعلق رکھتے ہیں۔ کیا ان کے آنے سے شاہ محمود قریشی گروپ نظر انداز ہو جائے گا؟ ایسا ہوا تو جنوبی پنجاب میں بھی تحریک انصاف ایک نئی کشمکش سے دو چار ہو جائے گی۔ دراصل عمران خان کو قدرت نے بہت ہی اچھا موقع دیا تھا کہ ملک کو پٹڑی پر چڑھا دیتے۔ پر موقع اب ضائع ہوچکا ہے