Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • افغان طالبان اور ایرانی سرحدی فوج کے درمیان شدید جھڑپیں،افغان طالبان نے تین چوکیو‌ں پرقبضہ کرلیا

    افغان طالبان اور ایرانی سرحدی فوج کے درمیان شدید جھڑپیں،افغان طالبان نے تین چوکیو‌ں پرقبضہ کرلیا

    کابل، تہران: افغان طالبان اور ایرانی سرحدی فوج کے درمیان شدید جھڑپیں،افغان طالبان نے تین چوکیو‌ں پرقبضہ کرلیا ،اطلاعات کےمطابق افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، دونوں جانب سے بھاری اسلحہ کا استعمال کیا گیا۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغانستان کی طالبان فورسز اور ایرانی سرحدی فورس کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں، یہ جھڑپ مغربی افغانستان کے صوبہ نمروز کے سرحدی ضلع کُنگ میں ہوئی ہے۔

     

     

    افغان صحافیوں نے بتایا کہ طالبان اور ایرانی سرحدی فورس کے درمیان جھڑپ نمروز کے سرحدی ضلع میں بدھ کی شام 5 بجے شروع ہوئیں۔ لڑائی کے دوران طالبان کی جانب سے ہلکے ہتھیاروں کے علاوہ بھاری اسلحہ کا بھی استعمال کیا گیا۔

     

    مقامی میڈیا کے مطابق طالبان کی جانب سے تین سرحدی چوکیوں پر قبضہ کا دعوی کیا گیا ہے، جبکہ طالبان نے مزید فوجی کمک بھی طلب کرلی ہے۔مقامی افغان صحافیوں کے مطابق جھڑپ اس وقت شروع ہوئی جب ایران کی جانب سے سرحد پر چیک پوسٹ کی تعمیر کی جارہی تھی۔

    طلوع نیوز کے مطابق امارت اسلامی کے نائب ترجمان بلال کریمی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صوبہ نمروز کے سرحدی علاقوں میں طالبان فورسز اور ایرانی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ جھڑپیں اب بند ہوچکی ہیں اور ان میں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔ بلال کریمی نے جھڑپوں کی وجوہات کے حوالے سے کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔ لڑائی کے دوران بعض طالبان فوجیوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے، لیکن ایران کی جانب کسی زخمی یا جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    خیال رہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے کے بعد افغان اور ایرانی سرحد پر یہ پہلی جھڑپ ہے۔دوسری طرف ایرانی حکام نے کہا ہے کہ ایران کی چیک پوسٹ پر قبضے کی خبریں غلط ہیں، طالبان نے غلط فہمی کی بنیاد پر ایرانی کسانوں پر بلا اشتعال فائرنگ کی۔

     

     

  • وزیراعظم عمران خان نے سی پیک منصوبوں کے حوالے سے بڑا حکم دے دیا

    وزیراعظم عمران خان نے سی پیک منصوبوں کے حوالے سے بڑا حکم دے دیا

    اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے سی پیک منصوبوں کے حوالے سے بڑا حکم دے دیا،اطلاعات کے مطابق خطے خوشحالی کے شدید منتظر وزیراعظم عمران خان نے سی پیک منصوبوں پر کام مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت کرتےہوئے کہا ہے کہ حکومت سی پیک منصوبوں کی بروقت تکمیل کا عظم رکھتی ہے۔

    وزیراعظم کی صدارت میں چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبوں پر پیشرفت کا اجلاس ہوا، وفاقی وزرا اسد عمر، علی زیدی، حماد اظہر، مشیر خزانہ شوکت ترین، مشیر تجارت عبدالرزاق داود، معاون خصوصی خالد منصور اور سینیئر حکام نے شرکت کی۔

    اسلام آباد سے ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ معاون خصوصی برائے سی پیک خالد منصور نے اجلاس کو منصوبوں کی پیشرفت پر بریفنگ دی۔

    اس موقع پر وزیراعظم نے سی پیک منصوبوں پر کام مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ ملکی مفاد کے لیے طویل المدت منصوبوں کے لیے پالیسیوں کا تسلسل لازمی عنصر ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ چین اور پاکستان کے مابین وقت کی آزمائی ہوئی دوستی ہے، حکومت سی پیک منصوبوں کی بروقت تکمیل کا عظم رکھتی ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے وزیراعظم کی زیر صدارت اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلئے اجلاس ہوا جس میں ‏بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ایف آئی اے نے ڈالر منی لانڈرنگ اور غیرقانونی ہولڈنگ کی تحقیقات وسیع کی ‏ہیں ایف آئی اے کی بارڈر کراسنگزپرافرادی قوت بڑھائی جا رہی ہے۔

    بریفنگ میں کہا گیا کہ مال کی چیکنگ اور نقل و حرکت کی ٹریکنگ ممکن ہو سکےگی غیرقانونی پیٹرول ‏اسمگلنگ روکنے ،ذخیرہ اندوزی کیخلاف آپریشن میں کامیابی ملی۔

    اجلاس میں وزیراعظم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسمگلنگ کی وجہ سے ملک کی معیشت کو شدید نقصان ‏پہنچتا ہے اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں فرق اسمگلنگ کی وجہ بنتی ہے اسمگلنگ سےمصنوعی قلت پیدا ہوتی ‏ہے جس سے قیمتیں بڑھتی ہیں۔

    وزیراعظم نے ہدایت کی کہ گندم، یوریا، چینی، آٹا ،پیٹرول اسمگلنگ روکنےکیلئےاقدامات کئےجائیں ان اقدامات ‏کا مقصد عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔

  • آرمی چیف کاآزاد کشمیر رجمنٹل سنٹر مانسر کیمپ کادورہ:یادگار شہدا پرحاضری:شہدا کوخراج تحسین

    آرمی چیف کاآزاد کشمیر رجمنٹل سنٹر مانسر کیمپ کادورہ:یادگار شہدا پرحاضری:شہدا کوخراج تحسین

    راولپنڈی: آرمی چیف کا آزاد کشمیر رجمنٹل سنٹر مانسر کیمپ کا دورہ، یادگار شہدا پر حاضری ،اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کو کرنل کمانڈنٹ آزاد کشمیر کے بیجز لگا دیئے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آزاد کشمیر رجمنٹل سنٹر مانسر کیمپ کا دورہ کیا اور یاد گار شہدا پر حاضری دی جبکہ فاتحہ خوانی بھی کی۔

     

    آئی ایس پی آر کے مطابق سپہ سالار نے لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کو کرنل کمانڈنٹ آزاد کشمیر کے بیجز لگائے۔آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے آزاد کشمیر رجمنٹ کی پیشہ ورانہ مہارت اور آپریشنل کارکردگی کی تعریف کی۔

  • امریکہ نے قیامت روکنے کی ٹھان لی، قدرت سے پنگا،دنیا تباہ ہو سکتی

    امریکہ نے قیامت روکنے کی ٹھان لی، قدرت سے پنگا،دنیا تباہ ہو سکتی

    امریکہ نے قیامت روکنے کی ٹھان لی، قدرت سے پنگا،دنیا تباہ ہو سکتی
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ناسا نے زمین کو تباہی سے بچانے کے لئے ایک انوکھی کوشش شروع کر دی ہے۔اس کے لئے Dart نامی ایک مشن کو خلا میں روانہ کیا گیا ہے۔ زمین کو کیا خطرات لاحق ہیں اور اس سے بچاو کے لئے ناسا کیا کوششیں کر رہا ہے لیکن اس سے پہلے زمین کے مستقبل یعنی قیامت کے بارے میں قرآن پاک میں جو آیات نازل ہوئیں ہیں ان میں سے چند ایک میں آپ کے سامنے بیان کروں گا

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سورة القارعہ میں قیامت کے حوالے سے بیان ہوا ہے کہ۔۔۔ یعنی جب وہ حادثہ عظیم برپا ہوگا جس کے نتیجے میں دنیا کا سارا نظام درہم برہم ہوجائے گا اس وقت لوگ گھبراہٹ کی حالت میں اس طرح بھاگے بھاگے پھریں گے جیسے روشنی پر آنے والے پروانے ہر طرف پراگندہ و منتشر ہوتے ہیں اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنکے ہوئے اون کی طرح اڑنے لگیں گے۔ ایک اور آیت ہے۔۔اس دن جب یہ زمین ایک دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی۔۔ بدل جائے گا۔۔ اور سب کے سب خدائے واحد و قہار کے سامنے پیش ہوں گے۔یہ قرآن پاک میں روز محشر کے منظر کی طرف اشارہ ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق یوں لگتا ہے جیسے محشر کا میدان اسی زمین کو بنایا جائے گا۔ اس کے لیے زمین کی شکل میں مناسب تبدیلی کی جائے گی، جیسا کہ اس آیت میں فرمایا گیا ہے۔
    سورۃ الفجر میں اس تبدیلی کی ایک صورت اس طرح بتائی گئی ہے:
    جب زمین کو کوٹ کوٹ کر ہموار کر دیا جائے گا۔
    پھر سورۃ الانشقاق میں فرمایا گیا ہے۔
    اور جب زمین کو کھینچا جائے گا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح تمام تفصیلات کو جمع کر کے جو صورت حال ممکن ہوتی محسوس ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ زمین کے تمام نشیب و فراز کو ختم کر کے اسے بالکل ہموار بھی کیا جائے گا اور وسیع بھی۔ اس طرح اسے ایک بہت بڑے میدان کی شکل دے دی جائے گی۔ جب زمین کو ہموار کیا جائے گا تو پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، زمین کے پچکنے سے اس کے اندر کا سارا لاوا باہر نکل آئے گا اور سمندر بھاپ بن کر اُڑ جائیں گے۔ اسی طرح نظام سماوی میں بھی ضروری رد وبدل کی جائے گی۔
    جس کے بارے میں سورۃ القیامہ میں اس طرح بتایا گیا ہے۔
    یعنی سورج اور چاند کو یکجا کر دیا جائے گا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح کی اور بھی بہت سی آیات ہیں جس سے اندازہ یہ لگایا جاتا ہے کہ شاید آنے والے وقتوں میں زمین کے ساتھ کچھ ٹکرائے گا اور زمین کا نقشہ بدل جائے گا۔ اس خطرے کو بھانپتے ہوئے بہت سے سائنسدان اس وقت مختلف تحقیق اور تجربے کرنے میں مصروف ہیں اور اب ایسا ہی ایک تجربہ ناسا کی طرف سے کیا گیا ہے۔چند دن پہلے ناسا کے سائنسدانوں نے اپنی ایک نئی ٹیکنالوجی کو آزمانے کے لیے ایک خلائی جہاز خلا میں بھیجا ہے جو مستقبل میں کسی بھی خطرناک سیارچے کو زمین سے ٹکرانے سے روک سکے گا۔ایک لمبے عرصے سے یہ بات کی جاتی رہی ہے کہ زمین کو مختلف خلائی چٹانوں سے خطرہ ہے اور ان چٹانوں میں سے کوئی بھی چٹان آنے والے وقتوں میں زمین سے ٹکرا سکتی ہے یہ مشن انھیں چٹانوں کو ناکارہ بنانے کے لئے شروع کیا گیا ہے۔ اور اس مشن کا نام ڈارٹ مشن رکھا گیا ہے۔ یہ خلائی جہازDimorphosنامی شہابیے سے ٹکرائے گا۔ جس کے بعد ناسا کے سائنسدان یہ دیکھنے کی کوشش کریں گے کہ کیا اس ٹکراو کے بعد Dimorphosکی رفتارمیں کوئی فرق پڑا ہے یا نہیں اور اس کے علاوہ یہ بھی نوٹ کیا جائے گا کہ کیا اس ٹکر کے بعد وہ شہابیہ اپنا راستہ کس حد تک تبدیل کرتا ہے یا واپس اسی راستے پر آجائے گا۔ناسا کا یہ مشن کتنا اہم ہے یا یہ کتنا خطرناک ہو سکتا ہے اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اگر خلائی چٹانوں کا کوئی ملبہ صرف چند سو میٹر سے زمین کے کسی حصے سے ٹکرائیں تو وہ پورے Continentمیں تباہی مچا سکتا ہے۔ اس ڈارٹ مشن کو خلا میں بھیجنے کے لئےSpace x کے بنائے گئے Falcon 9نام کے خلائی راکٹ کا استعمال کیا گیا ہے اور یہ مشن چوبیس نومبر دوہزار اکیس کو صبح چھ بج کر بیس منٹ پرCaliforniaکے Vandenberg Space Force Baseسے خلا میں روانہ کیا گیا تھا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ لیکن یہاں میں آپ کو یہ بات بتا دوں کہ Dimorphosایک ایسی خلائی چٹان یا شہابیہ ہے جس سے زمین کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ دراصل یہ خلائی چٹانیں ہمارے سولر سسٹم کے ایسے باقی ماندہ ٹکڑے ہیں جن میں سے اکثر زمین کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہیں۔ لیکن کچھ ایسی چٹانیں ہیں جو سورج کے گرد گھومتے ہوئے زمین کی طرف بڑھتی ہیں تو پھر ان کے زمین سے ٹکرانے کا امکان ہو سکتا ہے۔ اور اگر ایسا کچھ ہوتا ہے تو یہ زمین کے لئے بہت خطرناک ہو سکتا ہے۔ اس لئے صرف مستقبل میں ایسے خطروں سے نمٹنے کے لئے یہ تجربہ کیا جا رہا ہے تاکہ یہ سیکھنے کی کوشش کی جائے کہ مستقبل میں کوئی ایسا ملبہ یا شہابیہ زمین کی طرف آئے تو اسے کیسے دور رکھا جا سکتا ہے۔اس مشن میں پہلے تو سب سے مشکل کام یہ ہے کہ اسےDimorphosتک پہنچایا جائے تاکہ وہ اصل ٹارگٹ کو ہٹ کر سکے۔ کیونکہ باقی کا تجربہ اس کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا۔اس ڈارٹ مشن کو تقریبا 32 کروڑ ڈالرلگا کر تیار کرنے کے بعد ہمارے Binary system of orbit میں بھیجا گیا ہے جو ستمبر2022 تک خلا میں گھومتا رہے گا اور پھر زمین سے67 لاکھ میل دور جا کر سیارچوں کے ایک جوڑے کو نشانہ بنائے گا جو اس وقت ایک دوسرے کے گرد چکر لگا رہے ہیں۔ ان دونوں میں سے بڑے سیارچے کا نامDaddy mossہے جو تقریبا 780 میٹر چوڑا ہے۔ اور دوسرا سیارچہDimorphosہے جو تقریبا 160 میٹر چوڑا ہے۔خلا میں بڑے سیارچوں کے مقابلے میں چھوٹے سیارچے زیادہ ہیں اور اس لیے سب سے زیادہ خطرہ بھی انہی سے ہے۔ لیکن ان دومختلف سائز کے سیارچوں کو ٹارگٹ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پتا لگایا جا سکے کہ اس ٹکراو کے بعد کس سائز کا سیارچہ کس حد تک اپنی جگہ سے ہٹ سکے گا۔ یہ چیک کرنا اس لئے بھی اہم ہے کیونکہ اگر Dimorphos کے سائز والا کوئی سیارچہ زمین سے ٹکراتا ہے تو اس کا اثر کئی ایٹم بموں کی توانائی جتنا ہو گا۔ اس سے لاکھوں جانیں ضائع ہو سکتی ہیں۔ لیکن اگر تین سو میٹر اور اس سے زیادہ چوڑائی والی کوئی خلائی چٹان زمین سے ٹکراتی ہے تو وہ کئی براعظموں کو تباہ کرسکتی ہے اور ایک کلومیٹر کے سائز کے خلائی پتھر تو پوری زمین کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔یہ ڈارٹ مشن تقریبا 15,000میل فی گھنٹہ کی رفتار سے Dimorphosسے ٹکرائے گا۔ جس کی وجہ سے ان سیارچوں کی سمت صرف چند ملی میٹر تبدیل ہونے کی امید ہے۔ اگر حقیقت میں ایسا ممکن ہو گیا تو اس کی کلاس بدل جائے گی۔ اس بارے میں کچھ حد تک غیر یقینی صورتحال بھی ہے کہ اس ٹکراو کے بعد ان سیارچوں کا رویہ کیا ہو گا کیونکہ ابھی ناسا کے سائنسدان اس کی اندرونی ساخت کے بارے میں نہیں جانتے۔ اگر یہ اندر سے ٹھوس ہوئے تو ظاہری بات ہے کہ بہت سا ملبہ باہر آئے گا جس سے ڈارٹ کو مزید دھکا لگے گا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ویسے تو یہ ایک بہت چھوٹی سی تبدیلی لگتی ہے لیکن ایک خلائی چٹان کو زمین سے ٹکرانے سے روکنے اور تباہی سے بچانے کے لیے بس اتنا ہی کرنا کافی ہے۔ لیکن ایسا کرنا آسان نہیں ہے۔ڈارٹ مشن کی نگرانی کے لئے اس خلائی جہاز پرDraicoنامی ایک کیمرہ بھی لگایا گیا ہے جو اس کے مشن کی تصاویر لے گا تاکہ خلائی جہاز کے ٹکرانے کے لیے صحیح سمت کا تعین کیا جا سکے۔ اوراپنے ہدف کو نشانہ بنانے سے تقریبا دس دن پہلے ڈارٹLessia qubeنام کی ایک چھوٹی سیٹلائٹ کا استعمال کرے گا جو ٹکراو کے بعد کی تصاویر واپس ناسا کے آفس بھیجے گی۔ اس کے علاوہ ان سیارچوں کی گردش کے راستے میں آنے والی چھوٹی تبدیلیوں کو زمین پر لگی دوربینوں سے بھی ناپا جائے گا۔اس کا زرلٹ تو ستمبر دو ہزار بائیس کے بعد ہمارے سامنے آئے گا کہ بتیس کروڑ ڈالر لگا کر ناسا نے جو یہ تجربہ کیا ہے اس میں کس حد تک سائنسدانوں کو کامیابی ملی ہے۔ کیا واقعی زمین کو ایسے خطرات سے بچایا جا سکے گا یا پھر آنے والے دنوں میں تباہی ہی انسانوں کا مقدر بنے گی۔

  • خبردار،ورزش کرنے سے پہلے یہ ویڈیو دیکھ لیں

    خبردار،ورزش کرنے سے پہلے یہ ویڈیو دیکھ لیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ جب بھی ہم اپنے ادرگرد لوگوں کو موٹاپے اور مختلف بیماریوں کی شکایت کرتے سنتے ہیں تو جو سب سے پہلا خیال ہمارے دماغ میں آتا ہے وہ یہی ہوتا ہے کہ کیونکہ یہ ورزش نہیں کرتے اس لئے ان کی صحت خراب ہے یہ موٹاپے کا شکار ہیں اور موٹاپے کے ساتھ پھر باقی بیماریاں تو سمجھیں مفت میں ہی انسان کو گھیر لیتی ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ جو روزانہ جم یا ورزش کرتے ہیں اپنی فٹنس کا خیال رکھتے ہیں ان کے بارے میں ہم یہ ہی خیال کرتے ہیں کہ ان کوکبھی کوئی بیماری ہو ہی نہیں سکتی اور بیماریاں نہ ہونے کی وجہ سے ظاہری بات ہے کہ ان کی عمر بھی بہت لمبی ہو گی۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ لیکن آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ پاکستان میں ہرسال صرف دل کے مریضوں میں تقریبا دولاکھ افراد کا اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسی ہی کچھ صورتحال انڈیا میں بھی ہے۔جبکہ دل کی بیماری ایک ایسی بیماری ہے جس کے بارے میں ابھی تک بہت سے لوگ یہ سوچتے ہیں کہ یہ بیماری شاید بڑھاپے میں ہی ہوتی ہے لیکن اس وقت سب سے تشویشناک بات یہ ہے پچھلے چند سالوں میں کم عمرافراد میں ہارٹ اٹیک کے کیسز بہت زیادہ رپورٹ ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ 2017میں ایس جے آئی سی ایس آر کی جانب سے دو ہزار لوگوں پر ایک سروے کیا گیا تھا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ25سے40سال کی عمر کے لوگوں میں ہارٹ اٹیک کے کیسزمیں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ صرف ایک سال میں دل کی بیماری والے مریضوں میں پچھلے سال کی نسبت22فیصد اضافہ نوٹ کیا گیا۔اس سے بھی زیادہ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ ایسے نوجوان جو بظاہر بہت صحتمند اور فٹ لگتے تھے روزانہ جم اور ورزش کرتے ہیں ان کو کم عمری میں دل کا دورہ پڑا جوان کی جان لے گیا۔ اس کی دو بہت ہی مشہور مثالیں جو ہمارے سامنے ہیں وہ انڈیا کی ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایک مثال جنوبی انڈیا کی ریاست کرناٹک کے مشہور اداکار پنیت راجکمار ہے جس کی عمر صرف 46سال تھی کہ اچانک دل کا دورہ پڑنے سے اس کی موت ہو گئی۔اور دوسری مثال انڈین ٹیلی وژن کا نوجوان اداکار سدھارتھ شکلا ہے جس کی 40سال کی عمر میں اچانک دل کا دورہ پڑنے سے موت ہو گئی تھی۔پنیت راجکمار جنوبی انڈیا کی ریاست کرناٹک کا ایک بے حد مشہور اداکار، گلوکار، ٹی وی میزبان، اور فلم پروڈیوسر تھا اور اس کے بارے میں عام طور پر یہ ہی خیال کیا جاتا تھا کہ وہ بے حد فٹ یا صحت مند ہے۔وہ نہ صرف خود صحت مند دکھائی دیتا تھا بلکہ وہ ایک ڈاکٹر کا بیٹا تھا اس کے والد کا نام راج کمارہے۔ جس سے ایک عام طور پر ذہن میں یہ ہی خیال آتا ہے کہ اس کے گھر کا ماحول بھی صحت کے حوالے سے بہت اچھا ہوگا۔لیکن اس کی اچانک موت نے نہ صرف اس کے مداحوں اور پوری فلم انڈسٹری کو صدمے میں ڈال دیا ہے بلکہ عام انسان بھی یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ ایک ایسا انسان جس کی عمر اتنی کم تھی وہ ہر لحاظ سے صحت مند اور فٹ دکھائی دیتا تھا روزانہ جم اور ورزش کرتا تھا تو اس کو کیسے اچانک دل کا دورہ پڑ سکتا ہے کہ جو اس کی جان ہی لے گیا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دراصل ہوا یہ کہ پنیت راجکمار کو جم میں ورزش کرتے ہوئے سینے میں درد کی شکایت ہوئی جس پر اس نے اپنے فیملی ڈاکٹر اور مشہور کارڈیالوجسٹ رامنا راؤ سے رابطہ کیا۔ جس اس ڈاکٹر نے پنیت کی نبض اور بلڈ پریشر کا جائزہ لیا تو وہ نارمل تھیں۔ لیکن جب اس کے ڈاکٹر نے اس سے پوچھا کہ اسے اتنا پسینہ کیوں آرہا ہے تو اس نے بتایا کہ جم کرتے ہوئے اسے بہت پسینہ آتا ہے۔ خیر اس کی ای سی جی کروائی گئی اور فورا ہسپتال لے جایا گیا۔لیکن پنیت کو راستے میں ہی دل کا دورہ پڑ گیا اور اسے بچانے کی ساری کوششیں ناکام رہیں۔اب پنیت راجکمار کی موت سے صرف دو ماہ پہلے ستمبر میں اداکار سدھارت شکلا کی ایسے ہی اچانک موت ہوئی تھی تب بھی لوگوں کو بہت صدمہ ہوا تھا کہ بظاہر ایک بے حد فٹ انسان جس کی عمر صرف چالیس سال تھی وہ کیسے اچانک اس دنیا سے چلا گیا؟سدھارتھ شکلا انڈین ٹیلی وژن کا انتہائی مقبول اداکار تھا۔ اور ساتھ ہی وہ فلم انڈسٹری میں بھی انٹری کر چکا تھا۔ اور اہم بات یہ کہ وہ بھی اپنی صحت کا خاص خیال رکھتا تھا۔ روزانہ جم جا کر ورزش کرتا تھا۔ اسے بھی پنیت کی طرح اچانک دل کا دورہ پڑا تھا جو جان لیوا ثابت ہوا تھا۔حالانکہ یہ وہ افراد تھے جن کو دل سے متعلق پہلے سے کوئی بیماری یا شکایت نہیں تھی۔ ان میں کوئی ایسی عادتیں جیسے تمباکو نوشی جو دل کی بیماری کا خطرہ پیدا کرتی ہے وہ عادت بھی نہیں تھی اور نہ ہی ان کی اس بیماری کی کوئی خاندانی ہسٹری تھی۔ انھیں ذیباطیس، ہائپرٹینشن اور ہائی کولیسٹرول بھی نہیں تھا۔اب ان دونوں کی موت کے بعد اس بات پر کافی بحث ہو رہی ہے کہ بہتر صحت اور ایک فٹ باڈی کی خواہش میں جم جانے والے افراد کہیں نہ کہیں کوئی ایسی غلطی کر رہے ہیں جو کہ اس کم عمری میں جان لیوا دل کے دورے کی وجہ بن رہی ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اور میں آپ کو یہ بتا دوں کہ اس طرح کے واقعات پاکستان میں بھی کافی زیادہ ہو رہے ہیں لیکن ابھی تک کسی مشہور شخصیت کے ساتھ ایسا نہیں ہوا تو یہاں بڑے پیمانے پر اس بحث نے جنم نہیں لیا ورنہ یہ خطرہ ہمارے سروں پر بھی اتنی شدت سے ہی منڈلا رہا ہے جتنا کہ انڈین عوام کے۔۔۔دراصل آج کے دور میں نوجوانوں کو جم جاکر مسلز بنانے کا جنون سا پیدا ہو گیا ہے۔ جم میں تو کوئی ڈاکٹر ہوتا نہیں ہے پھر وہ خود بھی کسی ڈاکٹر سے مشورہ نہیں لیتے اور جم جا کر نہ صرف سخت قسم کی ورزش کرتے ہیں بلکہ Gym instructorکے کہنے پر پروٹین سپلیمنٹ بھی کھانا شروع کر دیتے ہیں۔ بہت سے instructorsنوجوانوں کوsteroidsلینے کا بھی مشورہ دیتے ہیں جو کہ صحت کے لیے بالکل اچھے نہیں ہوتے۔اس حوالے سے کئی ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ دراصل جب لوگ وزن اٹھانے جیسی ورزش کرتے ہیں تو ان کے پٹھوں میں تناؤ ہو جاتا ہے۔ ساتھ ہی وزن اٹھانے کی وجہ سے نسوں پربھی دباؤ پڑتا ہے۔ اس لئے ایک حد سے زیادہ ورزش دل کے Valvesکے لیے انتہائی خطرناک ہوتی ہے۔دراصل آج کل کے نوجوان مختلف Actors and playersوغیرہ کو دیکھتے ہیں اور باڈی بنانے کے چکر میں جم جاتے ہیںSupliments and steroidsکھاتے ہیں۔ حالانکہ یہ ایکٹرز یا کھلاڑی اگر کوئی سپلیمنٹ استعمال کرتے ہیں تو وہ اپنے ڈاکٹرز اور ہیلتھ کوچز کے مشورے کے بعد کرتے ہیں۔اس کے علاوہ آپ نے ایک محاورہ تو ضرور سنا ہوگا کہ Excess of everything is badیعنی کوئی بھی کام جب آپ اپنی برداشت سے زیادہ شروع کر دیں تو وہ لازمی آپ کے لئے خطرناک ہوگا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ حالانکہ کوئی بھی سخت والی ورزش کرنے سے پہلے ہمیں کسی cardiologistسے ضرور مشورہ کرنا چاہیے۔اس کے علاوہ جم جاتے ہیHigh intensityورک آؤٹ نہیں شروع کرنا چاہیے۔ پہلے جم جا کر ہلکی پھلکی ورزش کر کے اپنے جسم کوWarm upکرنا چاہیے۔ اورمشکل یا زیادہ سخت والی وزرش روزانہ نہیں کرنی چاہیے۔ ورنہ دوسری صورت میں ایسا کرنے سے دل سے جڑے مسائل کی شروعات ہو سکتی ہے۔اور ورزش کا انتخاب ہمیشہ اپنی جسمانی صلاحیت کے مطابق کرنا چاہیے کہ کون سی ورزش کرنی ہے اور کون سی نہیں۔اور اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ کہیں آپ بہت دیر تک تو اس طرح کی ورزش نہیں کر رہے۔ کیونکہ اگر آپ کا جسم باہر سے اچھا دکھائی دے رہا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کا دل بھی صحت مند ہے۔اور ایک چیز جس کا خیال جم والوں کو بھی کرنا چاہیے وہ یہ کہ جم میں لوگوں کی جسمانی صحت پر نظر رکھنے کے لیے ایک ڈاکٹر بھی ضرور ہونا چاہیے۔ جو لوگوں کو ان کی جسمانی صورتاحل کے مطابق مشورہ بھی دیں اور ایمرجنسی کی صورت میں لائف سپورٹ بھی فراہم کرسکیں۔ کیونکہ ڈاکٹرز کے مطابق اگر پنیت راجکمار دس منٹ پہلے ہسپتال پہنچ گئے ہوتے یا ان کو میڈیکل ایڈ مل گئی ہوتی تو شاید انھیں بچایا جا سکتا تھا۔ جس کے بعد وہ مزید کئی سالوں تک زندہ بھی رہ سکتے تھے

  • وزیراعظم عمران خان نے چینی، آٹا اور پیٹرول کی اسمگلنگ روکنے کی ہدایت کردی

    وزیراعظم عمران خان نے چینی، آٹا اور پیٹرول کی اسمگلنگ روکنے کی ہدایت کردی

    اسلام آباد :وزیراعظم عمران خان نے چینی، آٹا اور پیٹرول کی اسمگلنگ روکنے کی ہدایت کردی ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ گندم، یوریا، چینی، آٹا ،پیٹرول اسمگلنگ روکنےکیلئےاقدامات ‏کئےجائیں۔

    تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلئے اجلاس ہوا جس میں ‏بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ایف آئی اے نے ڈالر منی لانڈرنگ اور غیرقانونی ہولڈنگ کی تحقیقات وسیع کی ‏ہیں ایف آئی اے کی بارڈر کراسنگزپرافرادی قوت بڑھائی جا رہی ہے۔

    بریفنگ میں کہا گیا کہ مال کی چیکنگ اور نقل و حرکت کی ٹریکنگ ممکن ہو سکےگی غیرقانونی پیٹرول ‏اسمگلنگ روکنے ،ذخیرہ اندوزی کیخلاف آپریشن میں کامیابی ملی۔

    اجلاس میں وزیراعظم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسمگلنگ کی وجہ سے ملک کی معیشت کو شدید نقصان ‏پہنچتا ہے اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں فرق اسمگلنگ کی وجہ بنتی ہے اسمگلنگ سےمصنوعی قلت پیدا ہوتی ‏ہے جس سے قیمتیں بڑھتی ہیں۔

    وزیراعظم نے ہدایت کی کہ گندم، یوریا، چینی، آٹا ،پیٹرول اسمگلنگ روکنےکیلئےاقدامات کئےجائیں ان اقدامات ‏کا مقصد عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی وزیراعظم کئی مرتبہ اسمگلنگ روکنے کی ہدایات دے چکے ہیں‌ مگران ہدایات پرعمل ہوتا ہوا نظرنہیں آتا

    اس سے قبل جنوری کے مہینے میں وزیراعظم نے ایک اہم اجلاس میں کہا تھا کہ اجلاس کے شرکا کو بتایا گیا کہ اس وقت ملک میں 2094 پیٹرول پمپس اسمگلڈ تیل کی فروخت میں ملوث ہیں، اسمگل کئے گئے تیل سے ملک معیشت کو 100 سے 150 ارب روپے سالانہ نقصان ہورہا ہے۔

    وزیراعظم نے اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف سخت ترین اقدامات کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اسمگلنگ کی وجہ سے ملکی معیشت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے، انسداد اسمگلنگ اقدامات سے محصولات میں اضافہ ہوگا۔

     

     

  • سات ملکوں کی سرزمین”متحدہ عرب امارات”قیام سے عروج تک

    سات ملکوں کی سرزمین”متحدہ عرب امارات”قیام سے عروج تک

    شارجہ :سات ملکوں کی سرزمین”متحدہ عرب امارات”قیام سے عروج تک:دنیا میں مقام ،عرب امارات کا اصل اور سرکاری نام متحدہ عرب امارات داولہ العمارت العربیہ ال متحدہ / متحدہ عرب امارات ہے،تفصیلات کے مطابق متحدہ عرب امارات جسے سات ملکوں کی سرزمین کہا جاتا ہے اپنے قیام سے لے کرابتک دنیا کی ایک بڑی معاشی طاقت کے طور پر ابھر کرسامنے آیا ہے،عرب امارات جس نے اپنے قیام کے 50 سال بعد دنیا میں ایک مرکزی مقام حاصل کرلیا ہے ، جس کی حیثیت سے آج کوئی انکار نہیں کرسکتا،    

    متحدہ عرب امارات جو کہ سات ملکوں کی سرزمین ہے یہ جزیرہ عرب کی مشرقی ساحلی پٹی پر واقع ہے۔مورخین کے مطابق عرب امارات کی تاریخ تجارت سے جڑی ہوئی ہے جو 630 میں اس خطے میں داخل ہوئی، مورخیں کا کہنا ہے کہ اس کا ساحل یورپی جارحیت پسندوں کے زیر قبضہ تھا۔ یہ علاقہ انیسویں صدی میں برطانوی استعمارکے کنٹرول میں رہا، یہاں تک کہ جواہرات اور ہیروں کی کھیپ برآمد ہوئی پھر انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں اسے خود مختاری مل گئی۔

    تفصیلات کے مطابق اس کے بعد عرب امارات نے کھجوروں کی کاشت سردیوں میں آمدنی کا ذریعہ ہوتی ہے۔ بیسویں صدی کے درمیان کے عشرے تک یہ سلسلہ جاری رہا، اس دوران تیل کمپنیوں نے تیل کی تلاش کی۔ خام تیل کی پہلی کھیپ سنہ 1962 میں ابوظہبی سے برآمد ہوئی، اسے انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے استعمال کیا گیا۔

    برطانوی استعمار کے خلیج سے دستبرداری کے اعلان کے ساتھ ہی ابو ظہبی ، دبئی ، شارجہ ،عجمان ، ام القواین اور فجیرہ کے حکمرانوں کے مابین یک معاہدہ طے پایا۔ 2 دسمبر 1971 ء کو متحدہ عرب امارات کے نام سے مشہور فیڈریشن کا قیام عمل میں آیا اور اگلے ہی سال میں ساتویں امارت راس الخیمہ نے اس اتحاد میں شمولیت اختیار کی۔

    حکومت متحدہ عرب امارات دستوری اعتبار سے ایک وفاقی ریاست ہے جس کی تاسیس 1971 میں ہوئی، یہ آئین ریاست کے تمام شہریوں کو مساوی مواقع اور مساوی حقوق دیتا ہے
    امارات میں حکومت سلیکشن کے پراسس سے گزر کر ہوتی ہے۔ چنانچہ ریاست کے صدر کا انتخاب ان سات امارات کے حکمرانوں کے ذریعے کیا جاتا ہے جو فیڈرل سپریم کونسل تشکیل د یتے ہیں اور ملک کا سیاسی نظام اس آئین پر مبنی ہے جس کا تعین پانچ فیڈرل اتھارٹیز کرتی ہے۔

     

     

    ابوظہبی میں عمری د یوان کے زیراہتمام ریاستی پرچم ڈیزائن مقابلہ جیتنے کے بعد اس پرچم کو عبد ہللا محمد المانع نے ڈیزائن کیا تھا جسے مشہور شاعر صفی الدین الحلی کی ایک نظم سے متاثر ہوکر تیار کیا گیا ہے ۔ مستطیل شیپ میں جھنڈا جس کی لمبائی چوڑائی سے دگنی ہے اور چار رنگوں سرخ، سبز، سفید اور سیاہ پر مشتمل ہے اور انگریزی کے حرف ای کی طرح دکھتا ہے، اس پرچم کو پہلی بار 2 دسمبر 1971 کو متحدہ عرب امارات کے فیڈریشن کے اعلان کے موقع پر شیخ زید بن سلطان النہیان نے لہرایا تھا۔

    سات امارات
    متحدہ عرب امارات مکمل طور پر 2 دسمبر 1972 میں قائم ہوا اور 7 امارات سے تشکیل پایا تھا جس کا دارالحکومت ابوظہبی بنایا گیا
    ابوظہبی
    یہ متحدہ عرب امارات کی سب سے بڑی امارت ہے۔ یہ امارات کا سیاسی، انتظامی اور اقتصاد ی مرکز شمار ہوتا ہے۔ امارت کی مجموعی مصنوعات میں 60 فیصد کے برابر حصہ ابوظہبی کا ہے۔

    دبئی
    رقبے کے لحاظ سے اس کا دوسرا نمبر ہے اور یہ ایک بین الاقوامی شہر ہے۔ اسے ماضی میں جوہرۃ العالم ( دنیا کا زیور) کہا جاتا تھا جبکہ اسے لؤلؤۃ الخلیج (خلیج کا موتی) بھی کہا جاتا تھا۔
    شارجہ
    رقبہ کے لحاظ اس کا تیسرا نمبر ہے، یہ متعدد چھوٹے شہروں پر مشتمل ہے اور امارات میں بہت سے ایسے تعلیمی ادارے موجود ہیں جو نئی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ جس سے امارت میں معاشی ترقی تیز ہو رہی ہے۔

     

     

    راس الخیمہ
    رقبے کے لحاظ سے اس کا چوتھا نمبر ہے جسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: نخیل اور پرانا راس الخیمہ۔ فجیرہ ،خلیج عمان کے مشرقی ساحل پر فجیرہ نظر آتا ہے۔ فجیرہ وادی ہام روڈ پر بھی واقع ہے۔ یہ ایک تجارتی سڑک ہے جو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہے۔

     

    عجمان
    یہ متحدہ عرب امارات کی سب سے چھوٹی امارت ہے البتہ اس میں پہاڑوں کا ایک سلسلہ ہے جو دوسری امارات سے ممتاز ہے

    ام القوین
    یہ آبادی کی لحاظ سے سب سے چھوٹی امارت ہے۔ یہ ایک تنگ جزیرہ نما پر قائم کیا گیا تھا جسے خور البدایہ کہا جاتا ہے۔
    امارات کی آب و ہوا
    امارات کا اکثر علاقہ صحرا پر مشتمل ہے جس میں ریت کے بڑے بڑے ٹیلے ہیں۔ خلیج عرب کے ساتھ کئی خالی میدانوں ہیں۔ شمال مشرقی علاقوں میں پتھروں کے پہاڑ ہیں۔

    مبرح پہاڑ کی چوٹی امارات میں سب بلند چوٹی ہے،عراد میں موجود ریت کے ٹیلے دنیا میں سب سے بڑے ریت کے ٹیلے ہیں۔ امارات میں سردی کا موسم معتدل جبکہ گرمی کا موسم نہایت سخت ہوتا ہے۔
    یہاں بارشیں کافی کم ہوتی ہیں۔لیکن کبھی کبھار بارشیں شدید ہوجاتی ہیں تاہم اس کے باوجود بھی موسم سرد نہیں ہوتا بلکہ معتدل رہتا ہے۔

     

    باغی ٹی وی انتظامیہ اپنے مسلم برادر ملک متحدہ عرب امارات کے قومی دن پر اس برادر ملک کو قیام کی 50 ویں  سالگرہ پر مبارکباد پیش کرتی ہے اور دعا گو ہے کہ اللہ اس ملک کو اس ملک کے باسیوں کو ہمیشہ متحد رکھے اور یہ سرزمین دنیا بھر میں امن وبھائی چارہ کا باعث بنے ، کل 2 دسمبرکی مبارک تاریخ کو ریاست ہائے متحدہ عرب امارات کے قومی دن کے موقع پر باغی ٹی وی انتظامیہ بھی یہ دن منائے گی اور متحدہ عرب امارات  کے لیے کامیابیوں کے لیے دعا گو بھی ہوگی ،

     

     

    یہ یو اے ای کا50 واں قومی دن ہے ۔ 7 متحدہ عرب ریاستوں پر مشتمل یواے ای کے اس قومی دن پر پاکستانی عوام اور حکومت نے اپنے اس انتہائی قریبی دوست اور ہم مذہب ملک کے پرمسرت موقعے پر تہہ دل سے مبارک باد کرتے ہیں ۔

    دونوں ممالک کے درمیان دوستی کا یہ رشتہ برسوں پرانا ہے جس کے قیام کے لیے ریاست کے بانی عزت مآب مرحوم شیخ زید بن سلطان النہیان کی خدمات کوکبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ مرحوم پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے جوار رحمت میں بلند مقام عطا کرے۔

  • جب وزیر خزانہ تھا تو میں نے یہ کام کیا تھا، سراج الحق روسٹرم پر آ گئے

    جب وزیر خزانہ تھا تو میں نے یہ کام کیا تھا، سراج الحق روسٹرم پر آ گئے

    جب وزیر خزانہ تھا تو میں نے یہ کام کیا تھا، سراج الحق روسٹرم پر آ گئے

    وفاقی شرعی عدالت میں سود کے خاتمے سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی

    عدالتی معاون انور منصور خان کی جانب سے عدالت میں دلائل دیئے گئے،انور منصور خان نے کہا کہ آئین کے مطابق ریاست 10سال میں ہر طرح کے استحصال کے خاتمے کی پابند تھی،سود بھی استحصال کی ہی ایک قسم ہے، عدالتی دائرہ اختیار صرف 1980 سے 1990 تک نہیں تھا، چیف جسٹس شریعت کورٹ نے کہا کہ کیا قانون میں لکھا ہے کہ قرض جاری نہیں ہو سکے گا؟ انور منصور نے کہا کہ ریکوری کا قانون ختم ہونے کا مطلب ہے کہ قرض جاری ہی نہیں ہوگا،سال 1990 سے شریعت کورٹ قوانین کو غیر اسلامی قرار دینے کا اختیار رکھتی ہے، ربا کا خاتمہ ضروری ہوگیا ہے، سپریم کورٹ بھی قرار دے چکی ہے کہ تمام قوانین کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالا جائے،

    دوران سماعت امیرجماعت اسلامی سراج الحق روسٹرم پر آگئے، سراج الحق نے عدالت میں کہا کہ خیبرپختونخوا میں وزیرخزانہ تھا تب اسلامی بنیکاری شروع کی،قائداعظم کے نعرے پاکستان کا مطلب کیا لا الہ اللہ پر قوم نے لبیک کہا، مشیر خزانہ نے اعتراف کیا کہ سودی نظام سے غریب اور امیر میں فرق بڑھ گیا جرمن سرکاری بینک کے سربراہ کو سود سے پاک نظام پر 3 گھنٹے بریفنگ دی،گزشتہ بجٹ میں 33 ہزار ارب روپے ملک نے سود میں ادا کیا وزیر خزانہ نے بتایا کہ سود ادا کرنے کیلئے مزید قرض لینا ہو گا، چوہتر سال سے ملک میں سودی مظام چل رہا ہے ،دنیا سود فری کی طرف جارہے ہیں لیکن حکومت نے سود کی شرح میں اضافہ کیا سود نظام کے خاتمے کے لیے پارلیمنٹ اور عدالتوں کا رخ کیا ہے پی ہی پی ، ن لیگ ،مشرف اور پی ٹی آئی نے سودی نظام کو گلے سے لگایا ہے

    واضح رہے کہ ماہ جون میں ملک میں سودی نظام کے خاتمے کے لیے وزیراعظم عمران خان نے سفارشات طلب کی تھیں، اسی حوالے سے اسپیکر قومی اسمبلی نے علما سے سودی نظام کے خلاف اور اس کے متبادل نظام پر مشاورت کرکے سفارشات وزیراعظم عمران خان کو بھیجنے کا اعلان کیا تھا،اسپیکر قومی اسمبلی نے اعلان کیا تھا کہ وہ سودی نظام کےخلاف جید علما کے ساتھ عیدالاضحیٰ کے بعد مشاورت کریں گے اور پھر اس حوالے سے سفارشات تیار کر کے وزیراعظم کو دیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ عید الاضحٰی کے فوراً بعد مفتی تقی عثمانی سمیت دیگر جید علما سے سودی نظام کے خلاف اور اس کے متبادل نظام پر مشاورت کی جائے گی۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل وزیرمملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان ملک سے سودی نظام کے خاتمے کا مطالبہ کرچکے ہیں۔ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا ہے کہ سودی نظام ختم کرکے کسی کو بھی کرسی پر بٹھادیں ملک ترقی کریگا۔ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امورعلی محمد خان نے کہا ہے کہ ملک میں سودی نظام ختم کرکے اسلامی بینکاری شروع کی جائے سودی نظام اللہ رسولؐ سے جنگ ہے اسی لئے ملک ترقی نہیں کرسکتا

    علی محمد خان کا مزید کہنا تھا کہ ماہرین معیشت قائد کے فرمان کو پڑھیں اللہ ورسول کے نام پر ملک بنایا تو نیا نظام بھی بناسکتے ہیں. اللہ پوچھے گا کہ اقتدارِ دیا میرا نظام  لایا کہ نہیں پوچھے گا. ختم نبوت پر مہر لگا یا اس میں بھٹو اور مفتی محمود کا بھی کردار ہے.اللہ سود کو ختم اور صدقہ کو بڑھتاہے.مسلمان حکمران کے معاملات دیکھے جاتے ہیں نماز روزہ نہیں دیکھا جاتاہے. سود اللہ اور رسولؐ کے ساتھ جنگ ہے. حضرت عمرؓ کا قانون مغرب میں لاگو ہے مغرب میں سود کے خلاف قانون سازی ہورہی ہے. وہ اسلامی بینکاری کی طرف آرہے ہیں. سودی نظام یہودیوں نے دنیا کو غلام بنانے کے لیے بنایاہے.ظلم کے خلاف ہم قاضی کے ساتھ ہوگئے تاکہ اس نظام کو ختم کریں ملک کلمہ پر چلے گا ترقی کے لیے اسلامی بینکاری کی طرف آنا ہوگا سودی نظام سے نکلنا ہوگا.

    ریاست کو للکارنے والے علی وزیر،محسن داوڑ کی رکنیت ختم کی جائے، اسمبلی میں مطالبہ

    دہلی، جے شری رام کا نعرہ نہ لگانے پرہندو انتہا پسندوں نے کیا امام مسجد پر

    رام مندر کی تعمیر کیلئے انتہا پسند ہندو تنظیم نے مودی سے بڑا مطالبہ کر دیا

    مودی سرکار نے بنایا بھارتی جیلوں میں قید پاکستانیوں کے خلاف خطرناک منصوبہ

    بی جے پی کی کامیابی کے بعد بھارت میں گائے کے گوشت کے نام پر مسلمانوں پر تشدد

    سودی نظام کے خاتمے سے متعلق کیس،اٹارنی جنرل نے کیا دعویٰ کر دیا؟

  • پبلک آفس ہولڈر کا عزیز لاپتہ ہو جائے توریاست کا ردعمل کیا ہوگا؟چیف جسٹس اطہرمن اللہ کے اہم ریمارکس

    پبلک آفس ہولڈر کا عزیز لاپتہ ہو جائے توریاست کا ردعمل کیا ہوگا؟چیف جسٹس اطہرمن اللہ کے اہم ریمارکس

    پبلک آفس ہولڈر کا عزیز لاپتہ ہو جائے توریاست کا ردعمل کیا ہوگا؟چیف جسٹس اطہرمن اللہ کے اہم ریمارکس
    اسلام آباد ہائیکورٹ میں صحافی کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم لوگوں کی زندگی کے تحفظ کے ضامن ہیں ،ایک بندہ لاپتہ ہوجاتا ہے اور ریاست کا کردار وہ نہیں جیسے ہونا چاہیے ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے لیکن ایسے کیسز میں ماں کا کردار نظر نہیں آتا جب کوئی عدالت میں کہتا ہے کہ میرا پیارا لاپتہ ہے تو اسے مطمئن کون کرے گا مجھے پتہ چلا کہ صحافی کی اہلیہ بھی کیس لڑتے لڑتے موت کی نیند سو گئیں اب اس بچے کو ریاست نے تو مطمئن کرنا ہے،

    وفاقی وزیر انسانی حقوق شیری مزاری نے عدالت میں کہا کہ آپ نے پہلے بھی قیدیوں کےمعاملے پر بلایا تھا،جبری گمشدگیوں کا معاملہ ہمارے منشور میں تھا،ہم بل لا ئے ہیں ، قومی اسمبلی سے منظور ہو چکا، سینیٹ میں جلد بھجوایا جائے گاوزیراعظم بننے سے پہلے بھی عمران خان کا معاملے پرواضح موقف رہا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو اغوا کرنا انتہائی سنگین جرم ہے، کسی پبلک آفس ہولڈر کا کوئی عزیز غائب ہو جائے تو ریاست کا رد عمل کیا ہو گا؟ پبلک آفس ہولڈر کا کوئی عزیز غائب ہو جائے تو پوری مشینری حرکت میں آجائے گی، ریاست کا رد عمل عام شہری کے غائب ہونے پر بھی یہی ہونا چاہیے، تمام ایجنسیاں وفاقی حکومت کے کنٹرول میں ہیں، یہ سمریوں یا رپورٹس کی بات نہیں، مسنگ پرسن کے بچے اور والدین کو مطمئن کریں،ریاست کی ذمہ داری ہے کہ بچے کی دیکھ بھال کرے اور متاثرہ فیملی کو سنے،کسی کو تو ذمہ داری لینی ہوگی تو چیف ایگزیکٹو کو ذمہ دار کیوں نہ بنایا جائے ؟یہ ہماری ڈیوٹی ہے کہ ہم ان گمشدگیوں کو روکیں ہمیں اہل خانہ کو مطمئن کرنا ہے کہ ریاست ان کے لیے بھی ماں جیسی ہے،ماہرہ خان کیس میں کمپن سیشن کا عدالتی فیصلہ وفاقی حکومت نے چیلنج کیا ہے،کیا عدالتی فیصلہ چیلنج کرنا حکومت کا کردار ہے ؟ شیریں مزاری نے عدالت میں کہا کہ میں اس معاملے کو وزارت سے چیک کروا لیتی ہوں، عدالت نے کہا کہ جس چیف ایگزیکٹو کے دور میں شہری لاپتہ ہوتا ہے اسکی جیب سے فیملی کو معاوضہ کیوں نہ ادا کیا جائے،اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس اہم سوال پر وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری سے رائے طلب کر لی اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کو لاپتہ شہر ی کی فیملی کو آئندہ سماعت تک مطمئن کرنے کا حکم دے

    صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف ازخود نوٹس کیس،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    انڈس نیوز کی بندش، صحافیوں کا ملک ریاض کے گھر کے باہر دھرنا

    تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے ملک ریاض کو کہا جائے،آپ نیوز کے ملازمین کا جنرل ر عاصم سلیم باجوہ کو خط

    پنجاب پولیس نے ملک ریاض فیملی کے آگے گھٹنے ٹیک دئیے، حسان نیازی

    جب تک قانون کے مطابق سخت سزا نہیں دی جائے گی، قوم کرنل کی بیوی اور ٹھیکیدار کی بیٹی جیسے ٹرینڈ بناتی رہے گی۔ اقرار

    ملک ریاض کے باپ سے پیسے لے کر نہیں کھاتا، کوئی آسمان سے نہیں اترا کہ بات نا کی جائے، اینکر عمران خان

    صحافیوں کے خلاف کچھ ہوا تو سپریم کورٹ دیوار بن جائے گی، سپریم کورٹ

    صحافیوں کا کام بھی صحافت کرنا ہے سیاست کرنا نہیں،سپریم کورٹ میں صحافیوں کا یوٹرن

    مجھے صرف ایک ہی گانا آتا ہے، وہ ہے ووٹ کو عزت دو،کیپٹن ر صفدر

    پولیس جرائم کی نشاندہی کرنے والے صحافیوں کے خلاف مقدمے درج کرنے میں مصروف

    بیوی، ساس اورسالی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے الزام میں گرفتارملزم نے کی ضمانت کی درخواست دائر

    سپریم کورٹ کا سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس،ہمارے خاندانوں کو نہیں بخشا جاتا،جسٹس قاضی امین

    ‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    صحافیوں کا دھرنا،حکومتی اتحادی جماعت بھی صحافیوں کے ساتھ، بلاول کا دبنگ اعلان

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    میں نے صدر عارف علوی کا انٹرویو کیا، ان سے میرا جھوٹا افیئر بنا دیا گیا،غریدہ فاروقی

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    سپریم کورٹ نے صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا کا نوٹس لے لیا

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    پریس کلب پر اخباری مالکان کا قبضہ، کارکن صحافیوں نے پریس کلب سیل کروا دیا

    صحافیوں کو کرونا ویکسین پروگرام کے پہلے مرحلے میں شامل کیا جائے، کے یو جے

    کیوں ان صحافیوں کے پیچھے پڑ گئے جو حکومت یا کسی اور کے خلاف رائے دے رہے ہیں،عدالت

    مینار پاکستان واقعہ کے ملزم پکڑے جاسکتے تو صحافیوں کے کیوں نہیں؟ سپریم کورٹ

    مقامی صحافیوں کو کان پکڑوا کر تشدد کروانے والا ملزم گرفتار

    حکومت بتائے صحافیوں کے حقوق تحفظ کے لیے کیا اقدامات اٹھائے؟ عدالت

    مہنگائی، بے روزگاری، شہر قائد میں صحافی نے خود کشی کر لی

  • بھارتی فوج کی فائرنگ سے مزید 2 کشمیری نوجوان شہید

    بھارتی فوج کی فائرنگ سے مزید 2 کشمیری نوجوان شہید

    سرینگر: مقبوضہ کشمیرمیں قابض بھارتی فورسزکی فائرنگ سے مزید2 کشمیری نوجوان شہید ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ضلع پلواما میں بھارتی فوج نے 2 کشمیریوں کو شہید کردیا، کشمیریوں کو قصبہ یارمیں نام نہاد سرچ آپریشن کےدوران نشانہ بنایا گیابھارتی فوج نے پلواما کا محاصرہ کرلیا اورنام نہاد سرچ آپریشن میں متعدد نوجوانوں کوگرفتارکرلیا-

    سری نگر:دہشتگردی کی مالی معاونت کے الزام میں کشمیری رہنما خرم جاوید گرفتار

    پلواما اورقریبی علاقوں میں موبائل اورانٹرنیٹ سروس بند کردی گئی۔ بھارتی فورسزنے گھروں میں گھس کرلوگوں کوہراساں کیا اورسنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ جبکہ علاقے میں سرچ آپریشن ابھی بھی جاری ہے اوربھارتی فورسز نے لوگوں کوگھروں سے باہرنہ نکلنے کا حکم دیا ہے۔

    دنیا والو :بھارتی حکومت کشمیری مسلمانوں کے ووٹوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے : محبوبہ مفتی

    واضح رہے کہ 24 نومبر کو قابض بھارتی فوج کی جانب سے سرینگر میں 3 بے گناہ کشمیری نوجوانوں کو تشدد اور فائرنگ کر کے شہید کر دیا گیا تھاکشمیریوں کی شہادت کے خلاف مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال کی گئی تھی، جس کی وجہ سے دکانیں اور کاروباری مراکز مکمل طور پر بند رہے کُل جماعتی حریت کانفرنس کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں ہڑتال کا اعلان کیا گیا تھا۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں آئے روز شہریوں کو نام نہاد سرچ آپریشن کی آڑ میں نشانہ بنایا جاتا ہے۔

    یوم شہدا جموں،وزیراعظم آزاد کشمیر،مشعال ملک کا اہم پیغام

    گزتہ روز پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کشمیر سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت کی عالمی ساکھ متاثر ہوئی ہے، جمہوریت اور انسانیت کے علمبردار بھارتی شہری بھی مودی کی پالیسیوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق سے متعلق رپورٹس بھارت کے بھیانک چہرے کو بے نقاب کررہی ہیں تاہم مودی حکومت کی پالیسی میں کوئی بدلاؤ نہیں آیا ہماری پالیسی دو ٹوک اور واضح ہے کہ بھارت سے مذاکرات تبھی ہوں گے جب کم از کم 5 اگست کے اقدام کو واپس لے کر بھارت نتیجہ خیز مذاکرات کی لئے تیار ہوگا۔

    آسٹریلوی پارلیمنٹیرینز کی اسلام آباد میں حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ سے ملاقات

    انہوں نے واضح کیا تھا کہ کوئی بیک ڈور مذاکرات نہیں ہورہے نہ ہی حکومت بھارت سے متعلق نرم رویہ رکھتی ہے، بھارت کے ساتھ نرم رویہ رکھنا کشمیریوں سے غداری کے مترادف ہے سیز فائر معائدے کے حوالے سے انہوں نے بتایا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایل او سی پر سیز فائز کا معائدہ 2003 میں ہوا تھا جس کے مثبت اثرات دیکھنے کو ملے تھے سیز فائر کا سب سے زیادہ فائدہ کشمیری عوام کو ہے، کیونکہ بھارت کی جانب سے اندھا دھند فائرنگ سے معصوم کشمیری شہید ہورہے ہیں۔

    مقبوضہ کشمیر:قابض بھارتی فوج کی ریاستی دہشتگردی جاری،مزید 4 کشمیری شہید ،پاکستان کی شدید مذمت

    انہوں نے بتایا تھا کہ اس معاہدے کے باوجود بھارت کی جانب سے سیز فائر کی 13600 خلاف ورزیاں ہوچکی ہیں، صرف گزشتہ سال میں 397 مرتبہ سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت نے 28 کشمیریوں کو شہید کیا اور 255 کو زخمی کیا ہم ایل او سی کے قریب رہنے والے کشمیریوں کیلئے بنکرز بنانے کا سوچ رہے ہیں تاکہ ایسی صورتحال کے دوران وہ خود کو محفوظ کرسکیں۔

    13 سالہ کشمیری بچی کی دل دہلا دینے والی ویڈٰیو سوشل میڈیا پر وائرل