Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • وزیراعظم عمران خان نےپاکستان تحریک انصاف کی نئی تنظیم کا اعلان کر دیا

    وزیراعظم عمران خان نےپاکستان تحریک انصاف کی نئی تنظیم کا اعلان کر دیا

    اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان نےپاکستان تحریک انصاف کی نئی تنظیم کا اعلان کر دیا،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے پاکستان تحریک انصاف کی نئی تنظیم کا اعلان کر دیا۔

    وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی تنظیموں کی تحلیل کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے تحریک انصاف کی نئی تنظیم کا اعلان کیا ہے، اسد عمر تحریک انصاف کے نئے سیکرٹری جنرل ہوں گے جبکہ پرویز خٹک خیبر پختونخواہ کے اور علی زیدی سندھ کے صدر ہوں گے۔

    اس کے علاوہ قاسم سوری کو بلوچستان، شفقت محمود کو پنجاب اور خسرو بختیار کوجنوبی پنجاب کا صدور نامزد کیا گیا ہے۔ چئیرمین تحریک انصاف عمران خان نے عامر کیانی کو ایڈیشنل سیکرٹری جنرل بنا دیا ہے۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں شکست پر گزشتہ روز پی ٹی آئی کی تمام تنظیمیں اور ونگز تحلیل کرتے ہوئے 21 رکنی آئینی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزادکشمیر میں نئی تنظیم سازی کی جائے گی۔

    دوسری طرف کارکنان نے وزیراعظم کے اس فیصلے کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ ہمیں اپنے قائد پرپورا پورا بھروسہ ہے کہ وہ پارٹی کارکنان کو ضائع نہیں کریں‌ گے اور انہیں کارکنان کی محنت کے ذریعے پاکستان کومشکلات سے نکالیں گے

     

  • کل بڑوں بڑوں‌ کو دیکھا ایک میز پر:غریب نظر نہیں آئے مجھے اکٹھے کسی میزپر:مبشرلقمان

    کل بڑوں بڑوں‌ کو دیکھا ایک میز پر:غریب نظر نہیں آئے مجھے اکٹھے کسی میزپر:مبشرلقمان

    لاہور:کل بڑوں بڑوں‌ کو دیکھا ایک میز پر:غریب نظر نہیں آئے مجھے اکٹھے کسی میزپر:مبشرلقمان نے اچھی خبر کے ساتھ ساتھ کچھ اچھی رویوں کی بھی درخواست کردی ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کے سنیئر تجزیہ نگار ، معروف صحافی مبشرلقمان نے کل ملاقاتوں کے ایک اہم سلسلے کا ذکر کیا ہے اور ساتھ ہے ان میں سے چند بڑے ناموں کو بھی ذکرکرگئے

    یہ ملاقات کہاں ہوئی اس کا تو انہوں نے نہیں بتایا مگرایک بڑی پتے کی بات کہہ گئے ہیں ،اس حوالےسےانہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پرملاقاتوں کے اس سلسلے کا ذکر کرتے ہوئے بڑے بڑے نام بھی بتادیئے جوایک ہال میں اکٹھے تھے

    مبشرلقمان کہتےہیں‌ کہ انہیں یہ دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی کہ پاکستان کے بڑے بڑے چہرے ایک جگہ اکٹھےہیں‌،اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ کل ایک شام چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی ، مولانا فضل الرحمن ،سراج الحق ، شیخ رشید ،رحمن ملک ،عمران اسماعیل اور بہت سے دوسرے لوگوں سے ملاقات کی۔

     

    مبشرلقمان نےاس ملاقات کا تذکرہ کرتے ہوئے اور بھی بڑے بڑے نام بتائے جن مں سلیم صافی، ڈاکٹرشاہد مسعود ،حامد میر اور بہت سے معروف شخصیات وہاں موجود تھیں‌

    مبشرلقمان نے ان ملاقاتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے جہاں یہ اچھی خبر دی کہ سب کو ایک جگہ پر دیکھا وہاں ان کا مقصود یہ بھی ہے کہ اس ملک کی غریب عوام کو بھی ایسے مل جل کررہنا چاہیے ، غریب عوام کو بس اپنی اور اپنے اہل وعیال کی فکرکرنی چاہیے اور ان جماعتوں اور لیڈروں کی سیاست کی خاطر آپ میں نہیں لڑنا چاہیے یہ سب بڑے ایک ہیں ، انکو جب بھی بیک ڈور دیکھیں گے یہ سب اکٹھے ہوں گے اور دعا بھی ہےکہ پاکستان کی قیادت ہمیشہ اکٹھی رہے لیکن غریبوں کو خواہ مخواہ ان کی صفائیاں دینے اور ان کے ترجمان بن کرایک دوسرے سے لڑنے کی ضرورت نہیں بلکہ وہ بھی سب اکٹھے رہیں ، خوش رہیں تاکہ نفرت اور حسد کی آگ سے محفوظ رہیں, اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت پرتوجہ دیں

     

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ سب بڑے ہمیشہ بیک دی ڈور ایک ہوتے ہیں‌ مگرغریب ان کی سیاست کو تحفظ دینے کی خاطر خواہ مخواہ دشمنیاں مول لیتے ہیں ، ایک دوسرے کا گریبان نوچتے ہیں ، لعن طعن کرتے ہیں ، ایسا نہیں ہونا چاہیے ،ایسی سوچ اور فکر سے آزاد ہوکر آپس میں بھائی چارے کی فضا پیدا کریں‌، ان کہنا تھا کہ خدارا اپنی فکر کریں‌اپنے لیڈروں کی نہیں اپنے بچوں ، ملک وقوم کے لیے قربانی دیں اپنے لیڈروں کی سیاست کو بچانے کے لیے نہیں ، یہ سب ایک ہیں‌ ،آپ بھی سب ایک بن کررہیں‌اپنے لیے قوم کے لیے اور ملک کے لیے

  • پاک فوج کی جانب سے مسیحی برادری کو کرسمس کی مبارکباد

    پاک فوج کی جانب سے مسیحی برادری کو کرسمس کی مبارکباد

    راولپنڈی :پاک فوج کی جانب سے مسیحی برادری کو کرسمس کی مبارکباد ،اطلاعات کے مطابق ملک کی عسکری قیادت نے کرسچنز کے مذہبی تہوار کرسمس کے موقع پر مسیحی برادری کو مبارکباد پیش کی ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور سروسز چیفس کی جانب سے تہنیتی پیغامات دیئے گئے ہیں۔

     

    عہدیداران نے مسلح افواج میں موجود اور ملک بھر میں مسیحی برادری کو کرسمس کی مبارکباد دی، عسکری قیادت کا کہنا ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک وطن عزیز کیلئے مسیحی برادری کی قربانیاں اور خدمات بےمثال ہیں۔

    عسکری قیادت نے کہا کہ تعلیم، صحت، سماجی بہبود کے شعبے میں مسیحی برادری کی کاوشیں قابل تعریف ہیں۔ مادر وطن کے دفاع کے لیے بھی مسیحی برادری کا کردار قابل تحسین ہے۔

     

    اس سے پہلے پاکستان سمیت دنیا بھر میں کرسمس منایا جارہا ہے، وزیراعظم عمران خان نے مسیحی برادری کو مذہبی تہوار کی مبارک باد دی ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے پیغام میں وزیراعظم نے لکھا کہ “اپنے تمام مسیحی شہریوں کو دل کی گہرائیوں سے کرسمس کی مبارکباد پیش کرتا ہوں”۔

     

    اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ کرسمس کی تقریبات ہمیں عالمگیر محبت، بھائی چارے، رواداری اور کا سبق سکھاتی ہیں جو کسی بھی معاشرے کی ترقی کا باعث بنتی ہیں۔

     

    وزیراعظم نے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش پوری انسانیت اور دنیا کے لیے امن، بھائی چارے، رواداری اور عقیدت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ملک کے دفاع، تعلیم، صحت اور معاشی ترقی کے شعبوں میں مسیحی برادری کی مخلصانہ اور گراں قدر خدمات ہمیشہ قابل تحسین رہی ہیں، ریاست کے مساوی شہری ہونے کے ناطے حکومت انہیں قومی ترقی کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا اختیار دے گی۔

    وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ ہماری پالیسیاں تمام مذاہب کے لوگوں کے درمیان ہم آہنگی اور اتفاق پیدا کرنے کے لیے تیار کی گئی ہیں، حکومت اقلیتوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے اقدامات کو اپنا فرض سمجھتی ہے تاکہ وہ معاشرے میں فعال شہری کے طور پر اپنا کردار مثبت انداز میں ادا کرسکیں اور اس ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں مدد کریں۔

     

  • “پاکستان کو عظیم بنانے کے لئےقائد کے اصولوں کو اپنانا ہوگا”:صدر،وزیراعظم اورقومی رہنماوں کا پیغام

    “پاکستان کو عظیم بنانے کے لئےقائد کے اصولوں کو اپنانا ہوگا”:صدر،وزیراعظم اورقومی رہنماوں کا پیغام

    اسلام آباد:“پاکستان کو عظیم بنانے کے لئےقائد کے اصولوں کو اپنانا ہوگا”:صدر،وزیراعظم اورقومی رہنماوں کا پیغام،اطلاعات کے مطابق یوم قائد کے موقع پر صدر مملکت اور وزیراعظم نے اپنے پیغامات میں قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو عظیم بنانے کیلئے قائداعظم کے اصولوں کو اپنانا ہوگا۔

    تفصیلات کے مطابق صدرعارف علوی نےقائدِ اعظم کے 145 ویں یوم پیدائش کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ قائدِ اعظم محمد علی جناح کے پاکستان کو عظیم تر بنانے کیلئے ہمیں اُن کے بتائے ہوئے اصولوں کو اپنانا ہے، جنہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کی آزادی، علیحدہ اور خودمختار ریاست کے قیام کیلئے انتھک جدوجہد کی اوراپنی صلاحیتوں، عزم اور غیر معمولی کردار کی بدولت پاکستان کے خواب کو حقیقت میں بدلا۔

    صدرمملکت نے کہا کہ ملک کی خوشحالی کیلئے معاشرے کے نظر انداز کئے گئے طبقات کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دینا ہوگی، آج کے دن ہم اِس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ پاکستان کو ایک عظیم اور مضبوط ملک بنائیں گے۔

    وزیراعظم عمران خان

    یوم قائد کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن کی اہمیت کا احساس کیا جہاں تمام شہری عقیدے کی آزادی، پیشہ اور مساوی مواقعوں کا حق رکھتے ہوں۔

    قائد اعظم کا بڑے چیلنجوں اور مخالفتوں کے باوجود قوم کو متحد کرنے کا عزم ان کی ثابت قدمی سے ہی ممکن ہوا، مشکلات اور چیلنجوں سے نبردآزما ہونے کے لیے انہوں نے اللہ تعالیٰ پر پختہ یقین اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصولوں سے رہنمائی حاصل کی۔

    وزیراعظم عمران خان نے کیا کہ آج ہم اپنے عظیم رہنما قائداعظم محمد علی جناح کا یوم پیدائش منا رہے ہیں، یہ ہماری نسل اور ہمارے بچوں کے لیے فخر کی بات ہے کہ وہ ایک آزاد پاکستان میں پیدا ہوئے جو قائداعظم کی جدوجہد کے بغیر ہمارا مقدر نہیں بن سکتا تھا، ہمیں بحیثیت قوم قائد کے ترقی یافتہ، ترقی پسند اور روادار پاکستان کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ان اوصاف کو اپنانے کی ضرورت ہے۔

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے یوم قائد پر اپنے پیغام میں کہا کہ بانی پاکستان کی تعلیمات کی موجودہ دور میں اہمیت بڑھ گئی ہے، قائد اعظم نے اتحاد، ایمان اور نظم وضبط جیسے اصول وضع کیے، اتحاد، ایمان کےاصولوں سےتمام مسائل کامقابلہ کیاجاسکتاہے۔

    بلاول بھٹو کا قائداعظم کو خراج عقیدت
    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے قائداعظم کے یوم پیدائش پر انہیں شاندارالفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قائداعظم اپنےہم عصردور کی سب سےقد آور شخصیت تھے، ان کا خواب تھا برصغیرکے مسلمانوں کےلیےمساوات پر مبنی ملک ہو، مسلمان جہاں پرامن بقائےباہمی کی بنیاد پر رہ سکیں۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ شہید بھٹو نے1973کا آئین کا تحفہ دے کر قائداعظم کےخواب کو پوراکیا، شہید محترمہ نے قائد کےپاکستان کو فلاحی ریاست بنانےکے لیےاقدامات کیے، پیپلز پارٹی ہی نظریہ پاکستان کی حقیقی علمبردار ہے اور عوام اورپی پی قائداعظم کےوژن پر سختی سےکاربند رہیں گے۔

    اپوزیشن لیڈر شہباز شریف

    شہباز شریف نے یوم ولادت بابائے قوم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قائد اعظم قول کےسچے،دھن کےپکے،کردار کےکھرے، باعمل رہبر تھے، قائداعظم نےتاریخ کا دھارا موڑا، آج ان کا حرف بہ حرف سچ ثابت ہورہا ہے، تاریخ نےثابت کیا کہ قائداعظم کی جدوجہدسچائی، اصولوں پرمبنی تھی۔

    شہبازشریف کا کہنا تھا کہ عظیم قائد نے تمام زندگی پاکستان کے مقصد کے لئے وقف کی، قوم اپنے محسن کو سلام عقیدت پیش کرتی ہے۔

  • پاک فضائیہ کا بابائے قوم کو یوم پیدائش پر شاندار خراج عقیدت

    پاک فضائیہ کا بابائے قوم کو یوم پیدائش پر شاندار خراج عقیدت

    پاکستان کی فضائیہ نے قائد اعظم محمد علی جناح کو ان کے یوم پیدائش پر خراج عقیدت پیش کیا –

    باغی ٹی وی :پاک فضائیہ کے شعبہ تعلقات عامہ نے قائداعظم کے یوم پیدائش پر مختصر دورانیے کی دستاویزی فلم جاری کی ہے دستاویزی فلم میں قائداعظم کو برصغیر کے مظلوم مسلمانوں کے لیے بطور امید اجاگر کیا گیا ہے ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق قائد اعظم محمد علی جناحؒ امید کی روشن کرن تھے انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک قوم کی طرح متحد کر کے علیحدہ و آزاد وطن حاصل کیا۔

    بانی پاکستان کی ولادت پر مزار کی تزئین و آرائش کا کام جاری

    ترجمان پاک فضائیہ نے کہا یہ قائداعظم کی انتھک کاوشوں کا ہی ثمر ہے کہ آج ہم آزاد مملکت میں سانس لے رہے ہیں قائداعظم نے جمہوریت، آزادی، مساوات، رواداری، سماجی انصاف کے اصولوں پر ریاست کا تصور دیا، بنیاد رکھی۔ پاک فضائیہ کو ’’کوئی مقابل نہیں‘‘ کا پائیدار وژن بھی دیا۔

    انہوں نے کہا کہ قائد کا نظریہ، وژن، ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط کے رہنما اصول، عظیم قوم بننے کے سفر میں مشعل راہ ہیں۔

    بابائے قوم کا یوم پیدائش:مزار پر گارڈز کی تبدیلی کی پُروقار تقریب

    واضح رہے کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا یومِ پیدائش آج عقیدت و احترام سے منایا جارہا ہے، پاکستان کے حصول کیلئے لازوال کردار پر قوم ہمیشہ محمد علی جناح کی احسان مند رہے گی کراچی میں مزار قائد پر گارڈز کی تبدیلی کی پُروقار تقریب ہوئی، پاکستان ملٹری اکیڈمی کے کیڈٹس نے مزار قائد پر سیکیورٹی کے فرائض سنبھال لیے، کمانڈنٹ پاکستان ملٹری اکیڈمی میجر جنرل عمر احمد بخاری تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔

    بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح‌ کا 146واں‌ یومِ پیدائش

    تقریب میں بابائے قوم کو قومی سلام پیش کیا گیا اور قومی ترانہ بھی بجایا گیا مہمانِ خصوصی نے اس موقع پر پریڈ کا معائنہ بھی کیا بانیٔ پاکستان کے یومِ پیدائش پر پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام دیا ہے کہ قائدِ اعظم کے اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط کے اصولوں پر چلنے والے پر امن اور ترقی پسند پاکستان کا وژن بحیثیت قوم ہماری کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔

    کراچی: گرین لائن سروس بس کا آغاز ہو گیا

  • بابائے قوم کا یوم پیدائش:مزار پر گارڈز کی تبدیلی کی پُروقار تقریب

    بابائے قوم کا یوم پیدائش:مزار پر گارڈز کی تبدیلی کی پُروقار تقریب

    بانیٔ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح ؒ کے یومِ پیدائش کے موقع پر کراچی میں واقع ان کے مزار پر گارڈز کی تبدیلی کی تقریب منعقد ہوئی۔

    باغی ٹی وی :بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا یومِ پیدائش آج عقیدت و احترام سے منایا جارہا ہے، پاکستان کے حصول کیلئے لازوال کردار پر قوم ہمیشہ محمد علی جناح کی احسان مند رہے گی۔

    کراچی میں مزار قائد پر گارڈز کی تبدیلی کی پُروقار تقریب ہوئی، پاکستان ملٹری اکیڈمی کے کیڈٹس نے مزار قائد پر سیکیورٹی کے فرائض سنبھال لیے، کمانڈنٹ پاکستان ملٹری اکیڈمی میجر جنرل عمر احمد بخاری تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔

    بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح‌ کا 146واں‌ یومِ پیدائش

    تقریب میں بابائے قوم کو قومی سلام پیش کیا گیا اور قومی ترانہ بھی بجایا گیا مہمانِ خصوصی نے اس موقع پر پریڈ کا معائنہ بھی کیا۔

    تقریب کے اختتام پر مہمانِ خصوصی کمانڈنٹ پی ایم اے میجر جنرل عمر احمد بخاری نے بانیٔ پاکستان کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات بھی درج کیے۔


    بانیٔ پاکستان کے یومِ پیدائش پر پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام دیا ہے کہ قائدِ اعظم کے اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط کے اصولوں پر چلنے والے پر امن اور ترقی پسند پاکستان کا وژن بحیثیت قوم ہماری کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔

    بانی پاکستان کی ولادت پر مزار کی تزئین و آرائش کا کام جاری

    مزارِ قائد پر گارڈز کی تبدیلی کی تقریب سال میں 3 بار، 14 اگست، 6 ستمبر اور آج یعنی 25 دسمبر کو منعقد کی جاتی ہے، اس تقریب میں نیوی، ایئر فورس اور پی ایم اے کاکول کے کیڈٹس بالترتیب ذمے داریاں سنبھالتے ہیں۔

  • کراچی: گرین لائن سروس بس کا آغاز ہو گیا

    کراچی: گرین لائن سروس بس کا آغاز ہو گیا

    کراچی والوں کے لئے گرین لائن بس سروس آج سے شروع ہو گئی ابتدائی طور پر بس سروس کچھ گھنٹوں کے لئے چلے گی وزیراعظم عمران خان نے کراچی میں رواں ماہ کی 10 تاریخ کو گرین لائن بس منصوبے کا افتتاح کیا تھا۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابقک راچی والوں کے لیے گرین لائن بس منصوبے کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا سرجانی ٹاؤن بس ڈپو سے پہلی مسافر بس نمائش چورنگی سے روانہ ہو گئی، پہلے مرحلہ میں 22 اسٹیشنز میں سے 11 اسٹیشن فعال کیئے گئے ہیں مسافروں کے لئے کم سے کم کرایہ 15 روپے سے 55 روپے وصول کیا جائے گا۔

    رپورٹس کے مطابق بس سروس ابتدائی طور پر صبح 8 سے دوپہر 12 بجے تک چلے گی اس دوران 15 دن آزمائشی طور پر 80 میں سے صرف 25 بسیں 4 گھنٹے کیلئے چلائی جائیں گی۔

    ترجمان سندھ انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ کمپنی کے مطابق 10جنوری سے گرین بس آپریشن مکمل طور پر فعال اور اوقات کار میں بھی اضافہ کردیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ گرین لائن بس منصوبے کا اعلان جولائی 2014 میں( ن) لیگ کی وفاقی حکومت نے کیا تھا۔ 26 فروری 2016 کو اس 17.8 کلومیٹر طویل سرجانی سے گرومندر تک ٹریک کا سنگ بنیاد رکھا گیا-

    ابتدائی منصوبے کے مطابق گرین لائن کا روٹ سرجانی ٹاون سے بزنس ریکاررڈ روڈ تک تھا اور منصوبے کو 6 ارب روپے کی لاگت سے مکمل کرنا تھا تاہم بعد ازاں منصوبے کے روٹ کو پہلے جامع کلاتھ اور پھر ٹاور تک بڑھا دیا گیا۔ اس طرح منصوبے کی لاگت بھی 27 ارب روپے سے بڑھ گئی۔

    گرین لائن کے روٹ پر 22 اسٹاپس بنائے گئے ہیں اور ان بس اسٹاپس پر مسافروں کے لیے لفٹس، بزرگ اور خصوصی افراد کے لیے ویل چیئر ریمپ بنائے گئے ہیں تمام بس اسٹاپس پر کینٹن، واش روم اور ٹکٹ بوتھ بھی بنائے گئے ہیں ایک اندازے کے مطابق چین سے منگوائی گئیں 80 جدید بسوں میں یومیہ ڈیڑھ لاکھ افراد سفر کرسکیں گے۔

    بلدیاتی الیکشن میں شکست:پی ٹی آئی کی تمام تنظیمیں تحلیل کرنےپرکارکنان عمران خان کے فیصلے پرخوش

    گرین لائن بس منصوبے کے لیے چین سے منگوائی گئی بسیں 18 میٹر لمبی ہیں اور ان بسوں کے اندر ڈرائیور کے لیے کاک پٹ کیبن بنایا گیا ہے۔ سیٹوں کے لحاظ سے ایک بس میں 44 افراد کے بیٹھنے کی سہولت موجود ہے جبکہ 180 افراد بس میں سفر کر سکتے ہیں۔

    مکمل طور پر ائیرکنڈیشن بس میں معذور افراد کے لیے بھی جگہ مختص کی گئی ہے جبکہ دوران سفر مسافر وائی فائی، موبائل چارجنگ پورٹ بھی استعمال کر سکیں گے دوران سفر مسافر انٹرٹینمنٹ اسکرین سے بھی لطف اندوز ہو سکیں گے۔

    بس کے دونوں اطراف تین تین ہیڈولیک کنٹرول دروازے ہیں جن میں ریمپ کی سہولت بھی موجود ہے اور بس میں اشتہارات لگانے کے لیے 18 جگہیں مختص ہیں بس میں نگرانی کے لیے 5 کیمرے لگائے گئے ہیں جو دوران سفر کنٹرول روم سے بذریعہ انٹرنیٹ منسلک ہوں گے۔

    کراچی کی گرین لائن بس کی خرابی کی صورت میں 2 خصوصی جدید ٹرک ہر وقت تیار رہیں گے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوراً ایکشن میں آئیں گے۔ گرین لائن کے بس ڈپو میں واشنگ ایریا اور پمپنگ اسٹیشن بھی بنائے گئے ہیں اور سرجانی ٹاؤن میں ڈرائیورز حضرات کے لیے ریسٹ روم بھی بنائے گئے ہیں۔

    صوبہ سندھ میں بلدیاتی ترمیمی بل نافذ کردیا گیا

  • بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح‌ کا 146واں‌ یومِ پیدائش

    بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح‌ کا 146واں‌ یومِ پیدائش

    لاہور:آج 25 دسمبر 2021 کو ملک بھر میں قائدِ اعظم محمد علی جناح کا 146 واں یومِ پیدائش مِلّی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ہر سال کی طرح امسال بھی حکومت پاکستان نے یومِ قائد اعظم کے موقع پر عام تعطیل کا اعلان کیا ہے جبکہ محمد علی جناح کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے مختلف تقاریب کا اہتمام بھی کیا جائے گا۔

     

    پاکستانی قوم کو تحریک پاکستان کے وقت عطا کیا جس نے قوم کو تحفے میں آزاد وطن پاکستان دیا۔ پاکستان کے اس بہادر اور عظیم لیڈر کا نام قائد اعظم محمد علی جناح ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح 25 دسمبر 1876کو پیدا ہوئے، والد کا نام پونجا جناح تھا آپ کی پیدائش پر آپ کا نام محمد علی رکھا گیا اور آپکے والدین کی طرف سے تعلیم و تربیت کا خاص اہتمام کیا گیا جسکی تکمیل کیلئے آپکو چھ برس کی عمر میں مدرسے میں داخل کیا گیا اسکے بعد ابتدائی تعلیم کے لیے گوگل داس پرائمری اسکول داخل کیا گیا اور پھر بعد میں سندھ مدرسہ سے پندرہ سال کی عمر میں میٹرک کا امتحان اعلی’ نمبروں سے پاس کیا 1892میں وکالت کا امتحان پاس کرنے کے بعد اعلی’ تعلیم کے لیے قائد اعظم محمد علی جناح لندن چلے گئے

    1896میں بیرسٹر بننے کے بعد آپ لندن سے کراچی واپس تشریف لائے اور 1902میں وکالت کے سلسلے میں آپ بمبئی تشریف لے گئے وہاں قائد اعظم نے سخت مشکلات کا سامنا کرنے کے باوجود بہت حوصلے اور بہادری کے ساتھ کام کیا قائداعظم نے دسمبر 1904میں بمبئی میں کانگریس کے بیسویں سالانہ اجلاس میں شرکت کر کے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا اس وقت ہندو مسلم اتحاد کے حامی تھے 1906میں آل انڈیا کانگریس میں شمیولیت اختیار کی ۔محمد علی جناح 60 رکنی امپیریل مشتاورتی کونسل کے ممبر بن گے قائد اعظم محمد علی جناح مسلمانوں کے حقوق کے حوالے سے بہت سرگرم تھے۔

    1913میں محمد علی جوہر، سید وزیر حسن اور دیگر مسلم قیادت نے آپ کو مسلم لیگ میں شمولیت پر آمادہ کیا مگر مسلم لیگ اس وقت نوابی تھی ۔اسلئے آپ کا رجحان کانگریس کی طرف رہا جس کے لیے آپ نے مسلم لیگ اور کانگریس کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی کوشش کی جس کے نتیجہ میں میثاق لکھنئو ہوا محمد علی جناح ان دونوں جماعتوں میں اتحاد کے علمبردار کی حیثت رکھتے تھے پہلی جنگ عظیم ختم ہونے کے بعد برطانوی حکومت نے اپنے وعدوں سے منحرف ہو کر رولٹا ایکٹ جیسا قانون نافذ کر کے سیاسی اور سماجی سرگرمیوں پر پاپندی لگا دی ۔جس سے سارے برصغیر میں تحریک شروع ہوگی اور حکومت نے مارشل لاء نافذ کر دیا اس تحریک کی قیادت گاندھی نے کی قائد اعظم نے کانگریس میں اس کی مخالفت کی آخر یہ تحریک ناکام ہوگئی 1920میں قائداعظم کانگریس سے ہندؤں کی ذہنیت کو سمجھتے ہوئے الگ ہوگئے

    1930میں لندن میں دوسری گول میز کانفرنس میں شریک ہوئے اس میں علامہ محمد اقبال بھی شریک تھے جنہوں نے 1930میں مسلم لیگ کے اجلاس آلہ آباد میں اپنا خطبہ صدرات میں ایک متحدہ اسلامی ریاست کے قیام کی نشاندہی کی اس کے بعد دونوں رہنماؤں کی ملاقاتیں ہوئی جس میں علامہ اقبال نے اپنے نقطہ نظر کی مزید وضاحت کی قائد اعظم برصغیر کی سیاست سے بیزار ہو کر واپس انگلستان چلے گئے 1933میں لیاقت علی خان جب لندن آئے تو انہوں نے قائداعظم سے ملاقات کی اور برصغیر آکر مسلمانوں کی قیادت کرنے کی درخواست کی اس پر آپ 1934میں برصغیر تشریف لائے یہاں آکر آپ نے مسلم لیگ کو با حثیت جماعت متحرک اور منظم کیا ۔قائداعظم محمد علی جناح کو 1935میں بمبئی کے مسلم لیگ کے اجلاس میں پارٹی کو منظم کرنے کے اختیار دیے گئے جس پر آ پ نے تمام برصغیر کا دورہ کیا ۔اس دورے کے دوران آپ نے مسلمانوں کو آنے والے خطرات اور اس سے نمٹنے کے لیے تیار کیا

     

    27مئی 1937کو قائداعظم کے نام اپنے ایک خط میں علامہ اقبال نے اس بات کا اظہار کیا کہ اسلام کے لیے سوشل ڈیموکریسی کی کسی شکل میں ترویج جب اسے شریعت کی تائید ومدافعت حاصل ہو۔حقیقت میں کوئی انقلاب نہیں بلکہ اس کی حقیقی پاکیزگی کی طرف رجوع کرنا ہوگا ۔مسائل حاضرہ کا حل مسلمانوں کے لیے ہندوؤں سے کہیں زیادہ آسان ہے لیکن جیسا کہ پہلے عرض چکا ہوں کہ اسلامی ہندوستان میں ان مسائل کا حل آسانی سے رائج کرنے کے لیے ملک کی تقسیم کی ذریعے اسلامی ریاست کا قیام اشد ضروری ہے ۔برصغیر کی ملت اسلامیہ کا قافلہ جو اٹھارہویں صدی سے اپنی بقاء اور تہذیبی اثاثوں کے تحفظ کے لیے بھٹک رہا تھا اور تقریبا” ڈیڑھ صدی سے اپنی منزل کے تعین کے باوجود سفر کی حکمت عملی سے بے خبر تھا۔ پوری ملت اسلامیہ برصیغر اسلام کے ساتھ پوری وابستگی اور مکمل خود سپردگی کے باوجود قیادت کے فقدان کا شکار تھی کچھ مایوسی کے برسوں کے بعد روشنی کی ایک کرن پھوٹی اور 1908 کی مسلم لیگ جو بڑے لوگوں کی جماعت سمجھی جاتی تھی .قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں مسلمانان برصغیر کی آنکھوں کا تارا بن گئی اور اس طرح ملت کا دل افسردہ قافلہ جو کہ رہنماؤں کی جلد بازیوں سے دلبرداشتہ ہوچکا تھا دوبارہ کمر بستہ ہوا اور ایک تازہ جوش و ولولے کے ساتھ قائد اعظم کی رہنمائی میں راس کماری سے لے کر پشاور تک رواں دواں ہو گیا

    قائد اعظم محمد علی جناح کے انداز تقاریر کے لوگ ایسے گرویدہ ہوئے کہ انگریزی سے نا آشنا لوگ بھی بت بن کر انکو سنتے اور تالیاں بجاتے کیونکہ وہ سب کے لیڈر بن چکے تھے۔ مسلمان ملت برصغیر جس میں شرح خواندگی تین فیصد سے بھی کم تھی ۔مگر دنیاوی اعتبار سے وہی سادہ اور نا خواندہ مسلمانوں نے جو سامراجی قوتوں کے ستائے ہوئے تھے اور ہندؤں کی تنگ نظری، ذلت آمیز رویوں اور ناانصافیوں کا شکار تھے انہوں نے تاریخ کا وہ عظیم الشان سفر اپنے عظیم قائد کے ساتھ طے کیا کہ پوری دنیا کو حیران کر دیا جس نے اقوام عالم کی تاریخ میں بالکل ہی نئے اور انوکھے انداز میں انقلاب کا آغاز کیا۔قائد اعظم محمد علی جناح نے مختلف تقاریر کیں اور انکے اقتباسات ہیں جو آج تاریخ کا سرمایہ ہیں 23مارچ 1940کے اجلاس میں جب قرار داد منظور ہوئی ۔قائد اعظم نے فرمایا اسلام اور ہندو دھرم محض مذہب نہیں درحقیت دو مختلف معاشرتی نظام ہیں ۔

    20مارچ 1941کو قائد اعظم نے مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے ایک اجلاس میں بھی خطاب کیا۔ 15 نومبر1942ء کے خطاب میں بھی قائد اعظم نے فرمایا کہ مجھ سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ پاکستان کا طرز حکومت کیا ہو گا؟ پاکستان کے طرز حکومت کا تعین کرنے والا میں کون ہوتا ہوں مسلمانوں کا طرز حکومت آج سے تیرہ سو سال قبل قرآن مجید میں ہماری رہنمائی کے لیے موجود ہے اور قیامت تک موجود رہے گا ۔عظیم لیڈر قائداعظم محمد علی جناح کے یہ وہ تاریخی الفاظ تھے جنہیں اگر سمجھ لیا جائے تو یقین ہوجائے کہ جس قوم کو ایسا رہنما ملے وہ مایوس کیسے ہو سکتی تھی۔

    6 دسمبر1943ء کو کراچی میں آل انڈیا مسلم لیگ کے 31 ویں اجلاس سے خطاب کے دوران قائداعظم نے فرمایا وہ کون سا رشتہ ہے جس سے منسلک ہونے سے تمام مسلمان جسد واحد کی طرح ہیں وہ کون سی چٹان ہے جس پر ان کی ملت کی عمارت استوار ہے وہ کون سا لنگر ہے جس نے امت کی کشتی محفوظ کر دی گی ہے وہ رشتہ ،وہ چٹان ،وہ لنگر، اللہ کی کتاب قرآن کریم ہے مجھے امید ہے کہ جیسے جیسے ہم آگے بڑھتے جائیں گے قرآن مجید کی برکت سے زیادہ سے زیادہ اتحاد پیدا ہوتا جائے گا ایک خدا، ایک کتاب ، ایک رسول ص ، ایک امت قائداعظم محمد علی جناح کا یہ خطاب کسی تبصرے یا وضاحت کا محتاج نہیں اس کا ہر لفظ پکار کر گواہی دے رہا ہے کہ یہ بات کہنے والا امت کے حقیقی تصور سے بھی آشنا ہے اور اللہ ، قرآن اور رسول ص کو مان لینے کے لازمی نتائج سے بھی باخبر ہے ۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قائداعظم کا یوم پیدائش تو مناتے ہیں مگر کیا ہم اس عظیم لیڈر کی قربانیاں یاد کرتے ہوئے اسکی کوئی بات مانتے ہیں؟ اپنی نسل کو بھی اپنے قائد کے روشن کردار و سیرت سے متعارف کرواتے ہیں؟ آج بھی ہمارے رہنماء اور قوم قائداعظم محمد علی جناح کے خطبات سنیں اور انکے کردار اور سیرت کی خوبصورتی کو اپنائیں تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں کامیابی سے نہیں روک سکتی قائد نے پاکستان توڑنے کیلئے نہیں جوڑنے کیلئے بنایا تھا قائد کی سالگرہ کے دن 25 دسمبر کو عہد کیجئے کہ ہم سب پاکستانی قوم انکے خطبات کی پاسداری کرتے ہوئے اس وطن کو اتحاد و امن کا گہوارہ بنائیں گے

    یہ بھی یاد رہےکہ آج بابائے قوم کی خدمات اور ان کی تعلیمات کو اجاگر کرنے کے لیے ریڈیو اور ٹی وی چینلز پر خصوصی پروگرام نشر کئے جارہے ہیں جب کہ پرنٹ میڈیا میں بھی خاص مضامین کی اشاعتوں کا اہتمام کیا گیا ہے، متعدد مقامات پر بابائے قوم کی سالگرہ کی مناسبت سے کیک کاٹے جارہے ہیں جب کہ صوبائی دارالحکومتوں میں بانی پاکستان کی انتہائی نادر، نایاب اور تاریخی تصاویر اور ان کے زیر استعمال اشیا کی نمائش بھی منعقد کی گئی ہے۔

  • روسی صدرکو خراج تحسین پیش کرنے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع

    روسی صدرکو خراج تحسین پیش کرنے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو خراج تحسین پیش کرنے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی گئی

    قرارداد مسلم لیگ ن کی رکن پنجاب اسمبلی ربعیہ نصرت کی جانب سے جمع کرائی گئی ،قراردادکے متن میں کہا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ صدر پیوٹن نے توہین رسالتﷺ کی مذمت کرکے عالم اسلام کے دل جیت لیے ہیں۔ عالم اسلام کیلئے حضور نبی اکرم ﷺ کی محبت اپنی جان، مال اور اولاد سے بھی بڑھ کر عزیز ہے۔ حضورﷺ کی شان میں گستاخی سے سب سے زیادہ مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ کسی بھی پیغمبر یا مذہب کی توہین آزادی اظہار رائے نہیں۔ دنیا میں اسوقت تک امن نہیں آسکتا جب تک ہم ایک دوسرے کے مذہب کا احترام نہیں کرتے۔ روسی صدر نے دنیا بھر کو یہی پیغام دیا ہے۔ پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان روسی صدر کے بیان کا خیر مقدم کرتا ہے۔۔متن

    پیغمبراسلامﷺ کی حرمت سےمتعلق عمران خان کی کوششوں کو روسی صدرکی تائید وحمایت پرمولانا فضل الرحمن بھی خوش،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی طرف سے عالمی فورم پرپیغمبر اسلامﷺ کی حرمت سے متعلق واضح اور جاندار موقف اور اقدامات کی تائید اور حمایت پر روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے پیغمبر اسلام ﷺ کی حرمت سے متعلق دیئے گئے بیان کا جہاں پوری دنیا میں خیرمقدم کیا جارہا ہے وہاں پاکستان کے سیاسی اور دیگراہم رہنما بھی وزیراعظم کی کوششوں کے نتیجے میں ہونے والی پیش رفت پرخوش ہیں

    مولانا فضل الرحمان سربراہ جے یو آئی ف

    وزیراعظم عمران خان کی پیغمبراسلامﷺ کی حرمت سےمتعلق کوششوں کے نتیجے میں ولادی میر پوتین جیسی شخصیات کی طرف سے تائید اورحمایت پر مولانا فضل الرحمن نے بھی خراج تحسین پیش کیا ہے امیر جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان نے ٹویٹر پر لکھا کہ روس کے صدر ولادی میر پیوٹن کا یہ بیان کہ نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی اظہارِ رائےکی آزادی یا فن کا اظہار نہیں ہے، عالم اسلام کے اس موقف کی تائید ہے کہ حضور ﷺ کی حرمت و تقدس آفاقی ہے جس پر ہم انکو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

    وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی:
    وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ٹویٹر پر روسی صدر کے بیان کا خیر مقدم کیا ۔ شاہ محمود قریشی نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ روسی صدر کے بعد اب عالمی برادری میں مزید شعور پیدا ہوگا

    فواد چودھری

    وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے مولانا فضل الرحمان کے ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ کھلے دل کے ساتھ مسلم اُمّہ کے اس لیڈر کا بھی شکریہ ادا کریں جس نے نبی کریم ﷺ کی شان اقدس کی حرمت کا مدعا پوری دنیا کے سامنے رکھا اور آج روسی صدرولادی میر پیوٹن جیسے عالمی رہنما عمران خان کی ان کاوشوں کے نتیجے میں اس مسئلے پر دو ٹوک رائے دے رہے ہیں۔

    شہزاد اکبر:

    مشیر داخلہ شہزاد اکبر نے ٹویٹر پر لکھا کہ بلا شبہ وزیراعظم عمران خان نے عالمی سطح پہ اسلاموفوبیا کے خلاف مقدمہ لڑا اور آج اس بات کے حق میں اٹھنے والی آواز عمران خان کی اپروچ پہ مہر تصدیق ثبت کر رہی ہے۔

    زلفی بخاری
    وزیراعظم کے سابق معاون خصوصی اوورسیز پاکستانیوں کے دل کی دھڑکن سید زلفی بخاری کہتے ہیں کہ وزیراعظم کی کوششیں رنگ لارہی ہیں اور روسی صدر جیسی بڑی شخصیت کا کپتان کی آواز میں آواز ملانا ایک بہت بڑی کامیابی ہے ، وہ کہتے ہیں‌کہ دو ارب سے زائد مسلمانوں کی دل آزاری کرنا کون سی اظہار رائے کی آزادی ہے ، اب یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے

    ڈاکٹر شہباز گل :
    وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے ٹویٹر پر لکھا کہ اللہ کا شکر ہے مسلمانوں کو ایک ایسا لیڈر ملا جس نے اسلاموفوبیا اور شان رسالت ﷺپر مدلل اور بے باک سٹینڈ لیا۔ ایک اور ملک کے لیڈر نے خان کو کہا آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ جمہوری اور منتخب لیڈر ہیں اور بہادری سے اس موضوع پر کھڑے ہیں کیونکہ ہم اس موضوع پر اتنا کھل کر بات نہیں کر سکتے

    فرخ حبیب:
    وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ وزیراعظم عمران خان اسلام کے حقیقی سفیر اور پوری دنیا کے مسلمانوں کی آواز ہیں۔ صدر پیوتن ہمارے وزیر اعظم کے موقف کی پیروی کرتے ہیں۔

     

  • پیغمبراسلامﷺ کی حرمت سےمتعلق میری کوششوں کی تائید وحمایت پرروسی صدرکاشکریہ اداکرتا ہوں‌:وزیراعظم

    پیغمبراسلامﷺ کی حرمت سےمتعلق میری کوششوں کی تائید وحمایت پرروسی صدرکاشکریہ اداکرتا ہوں‌:وزیراعظم

    اسلام آباد:پیغمبر اسلامﷺ کی حرمت سے متعلق میری کوششوں کی تائید وحمایت پر روسی صدرکا شکریہ ادا کرتا ہوں‌:اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے پیغمبر اسلام ﷺ کی حرمت سے متعلق دیئے گئے بیان کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ توہین رسالت سے متعلق بیان میرے مؤقف کی تائید ہے۔

     

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں وزیراعظم نے لکھا کہ میں صدر پیوٹن کے اس بیان کا خیرمقدم کرتا ہوں جو میرے اس پیغام کی تصدیق کرتا ہے کہ ہمارے نبی پاک ﷺ کی توہین "آزادی اظہار” نہیں ہے۔ ہم مسلمانوں کو خصوصاً مسلم رہنماؤں کو اسلامو فوبیا کا مقابلہ کرنے کے لیے اس پیغام کو غیر مسلم دنیا کے رہنماؤں تک پہنچانا چاہیے۔

    سالانہ پریس کانفرنس میں روسی صدر کا کہنا تھاکہ شان رسالت ﷺ میں گستاخی لوگوں کو ناراض کرنے اور اشتعال دلانے کا باعث بنتی ہے اور پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی شان میں گستاخی آزادی اظہار رائے نہیں۔

    ان کا کہنا تھاکہ شان رسالت ﷺ میں گستاخی مذہبی آزادی کے خلاف ہے اور مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنا ہے۔

    متنازع فرانسیسی میگزین چارلی ہیبڈو پر حملے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے روسی صدر کا کہنا تھاکہ ایسی حرکتیں انتہا پسندی کی طرف لے جاتی ہیں۔

    خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان اسلاموفوبیا کے خلاف سرکردہ فورمز پر آواز اٹھا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وزیراعظم عمران خان نے توہین رسالت اور اسلاموفوبیا کے معاملے پر مسلم ممالک کے سربراہان کو خط بھی لکھا تھا۔