Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • اقوام متحدہ کی ماحولیات کانفرنس کے دوران زرتاج گل نے کیا "گُل ” کھلا دیئے؟

    اقوام متحدہ کی ماحولیات کانفرنس کے دوران زرتاج گل نے کیا "گُل ” کھلا دیئے؟

    اقوام متحدہ کی ماحولیات کانفرنس کے دوران زرتاج گل نے کیا "گُل ” کھلا دیئے؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے ماطبق چیئرمین کمیٹی رانا تنویر حسین کی زیر صدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا

    اقوام متحدہ کی ماحولیات کانفرنس کے دوران زرتاج گل اور امین اسلم کی لڑائی پر تحقیقات کا حکم دے دیا گیا،ریاض فتیانہ نے انکشاف کیا کہ وزیر مملکت زرتاج گل اور امین اسلم کے درمیان کانفرنس میں لڑائی ہوئی،گلاسکو میں زرتاج گل معاون خصوصی امین اسلم کے ساتھ لڑ کر وطن واپس آگئی تھیں، گلاسکو کانفرنس میں افسران کی نااہلی کے باعث پاکستان کی نمائندگی غیر معیاری تھی نیپال اور دوسرے ممالک کے وفد کو پاکستان کیمپ میں کسی افسر نے ریسیو نہیں کیا،

    چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی کے نااہل افسران کے باعث قومی خزانے کا کروڑوں روپے ضائع ہوئے، چیئرمین کمیٹی رانا تنویر حسین نے آڈٹ حکام کو تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا

    مشیر خزانہ شوکت ترین کو پی اے سی نے آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا ،پی اے سی نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں پر تحفظات کا اظہارکیا،رانا تنویر کا کہنا تھا کہ ای سی سی اجلاس میں بعض لوگوں کو فائدہ پہنچایا جاتا ہے،سب سے زیادہ کرپٹ پریکٹس ای سی سی میں ہوتی ہے،ای سی سی چینی، گندم درآمد یا برآمد کرنے کا فیصلہ کرتی ہے،حکومت ای سی سی کو نیب کے دائرہ اختیار سے نکال رہی ہے،گزشتہ تین سال کے پرنسپل اکاونٹنگ ابھی ابھی زندہ سلامت ہیں، 2001 والے زیادہ تر افسران ریٹائرڈ یا فوت ہو چکے ہیں پی اے سی کی ذیلی کمیٹیوں کے پاس 28 ہزار آڈٹ پیراز زیر التواء ہیں،آڈٹ پیراز کی تعداد جلد ایک لاکھ تک پہنچ جائے گی،

    خیال نہیں رکھ سکتے تو پنجروں میں قید کیوں، چڑیا گھر کے جانوروں کو پناہ گاہوں میں منتقل کر دیا جائے؟ عدالت

    پاکستان ایک انتہائی غیر محفوظ ممالک میں سے ایک ہے،زرتاج گل کے بیان پر وزیراعظم حیران

    نوجوانوں کو گوگل پر سرچ کرنے کی بجائے کیا کرنا چاہئے؟ زرتاج گل نے دیا مشورہ

    ماضی میں توجہ نہیں ملی،اب ہم یہ کام کریں گے، زرتاج گل کا حیرت انگیز دعویٰ

    عمران خان مایوس کریں گے یا نہیں؟ زرتاج گل نے کیا حیرت انگیز دعویٰ

    رنگ گورا کرنے کیلئے کاسمیٹکس کا استعمال کیسا ہے؟ زرتاج گل نے کیا اہم انکشاف

    اسلام آباد میں پہلی دفعہ یہ "کام” ہو رہا ہے، زرتاج گل نے یہ کیا کہہ دیا؟

    وزیر ماحولیات زرتاج گل اور اسکے شوہر نے دس لاکھ رشوت مانگی، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کا الزام

    زرتاج گل پر حلقے میں عوام نے برسائے ٹماٹر، لگائے پی ٹی آئی مردہ باد کے نعرے

    ہارنا ہے تو وقار سے ہاریں، زرتاج گل نے کس کو دیا مشورہ؟

    مریم نواز میں یہ کام کرنے کی صلاحیت ہی نہیں، زرتاج گل کا چیلنج

    میرا بھائی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہوا،یہ کس قربانی کی بات کرتے ہیں،زرتاج گل

    وزیراعظم کے خواتین کے ریپ بارے بیان پر زرتاج گل بھی بول پڑیں

    سینما کے مالک کا بیٹا اب وزیر اعظم پر تنقید کرتا ہے،زرتاج گل

  • ظاہر جعفر کے بعد،اسلام آباد میں ایک اور درندے کا انکشاف

    ظاہر جعفر کے بعد،اسلام آباد میں ایک اور درندے کا انکشاف

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ نور مقدم کیس کا مکمل چلان پیش ہونے کے بعد ایک اہم سماعت ہوئی۔ سماعت میں کیا اہم پیش رفت ہوئیں۔ پولیس کی جانب سے جو مکمل چالان پیش کیا گیا ہے اس میں کیا ڈبل گیم کی گئی ہے اس پر بھی بات کریں گے۔ لیکن پہلے اسلام آباد میں ہونے والی ایک اور درندگی کے بارے میں بات ہو گی،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اب سے تقریبا دو ہفتے پہلے آٹھ نومبر کی صبح اسلام آباد کے میٹرو سٹیشن میں موجود زیر تعمیر واش روم سے پولیس کو ایک نامعلوم بچی کی لاش ملی تھی۔ اس بچی نے سفید لباس پہنا ہوا تھا اور اس کی گردن کے سامنے والی ہڈی فریکچر تھی اور چہرے پر نشانات تھے۔اسی روز اسلام آباد پولیس نے ٹوئٹر پر تلاش ورثا کے عنوان سے ایک اپیل پوسٹ کی جس میں شہریوں سے بچی کی شناخت میں مدد دینے کو کہا گیا۔ پہلے تو کئی دنوں تک اس پر کوئی ریسپانس نہ آیا لیکن پولیس نے دوبارہ مزید تفصیل کے ساتھ پوسٹ کی اور تصویر بھی ساتھ ڈالی گئی جس کے بعد اس کے چند رشتےداروں نے اس کو پہچان لیا انہوں نے پہلے تو اس کے والد سے رابطہ کیا لیکن والد نے اپنے رشتےداروں سے بھی بولا کہ وہ بچی اس کے پاس ہی ہے اور سو رہی ہے جس پر اس کے رشتے داروں نے پولیس سے رابطہ کیا۔ اور جب پولیس نے تفتیش کی تو پتہ چلا کہ خود کو غمزدہ اور مظلوم دکھانے والا باپ ہی اصل میں وہ درندہ ہے جس نے اس معصوم بچی کو قتل کیا۔ ابھی یہ تفتیش ہونا تو باقی ہے کہ کہیں اس بچی کے ساتھ قتل سے پہلے زیادتی تو نہیں کی گئی۔ لیکن اس درندے باپ نے یہ کہتے ہوئے اپنے جرم کا اعتراف کیا ہے کہ وہ بچی اس پر بوجھ تھی اس لئے اس نے بچی کو مار کر اس سے جان چھڑا لی اور ظلم کی انتہا دیکھیں کہ قتل کے فورا بعد وہ ایک دفتر میں گیا اور وہاں جاکر کہا کہ میں اپنی بیٹی کو اس کے چچا اور دادی کے پاس چھوڑ آیا ہوں اس لئے مجھے نوکری دے دی جائے۔ اس طرح پولیس کو معلوم ہونے سے پہلے ہی وہ فتح جنگ میں کسی کے ہاں ڈرائیونگ کی نوکری بھی حاصل کر چکا تھا۔ اور اب جب اس درندے کو عدالت کے سامنے پیش کیا گیا ہے تو وہاں یہ خود کو بچانے کے لئے ڈرامہ کر رہا ہے کہ اس نے اپنی بیٹی کو غیرت کے نام پر قتل کیا ہے۔اب بات کرتے ہیں دوسرے درندے ظاہر جعفر کی۔۔ نور مقدم قتل کیس کی ایک اہم سماعت ہوئی۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے جو 29 سمتبر کو کیس کا ٹرائل آٹھ ہفتوں میں مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔ وہ آٹھ ہفتے آج پورے ہو گئے ہیں۔ ویسے تو ملزمان کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا لیکن سپریم کورٹ نے18 اکتوبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا آٹھ ہفتوں میں ٹرائل مکمل کرنے کا حکم نامہ برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا تھا۔ اب وہ آٹھ ہفتے تو پورے ہو گئے ہیں لیکن مکمل چالان بھی دو دن پہلے پیش ہوا ہے اور ابھی تک صرف گیارہ گواہان کے بیانات قلمبند کرائے جا چکے ہیں جن پر جرح مکمل کر لی گئی ہے لیکن مزید سات گواہان کی بیانات قلمبند کروانے باقی ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ تھراپی ورکس کے سی ای او طاہر ظہور کے وکیل اکرم قریشی کی درخواست پر سماعت جلد کی گئی جبکہ مدعی کے وکیل سپریم کورٹ میں مصروفیت کے باعث عدالت میں پیش نہ ہوسکے اور ان کی جگہ بابر حیات کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ملزمان کے وکیل اکرم قریشی کی جانب سے سی سی ٹی وی فوٹیج ویڈیو وائرل ہونے سے متعلق دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جائے وقوعہ کی فوٹیج وائرل ہونے سے کیس پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی ہے۔ عدالت اس حوالے سے کوئی مناسب حکم نامہ جاری کرے۔ انہوں نے عدالت سے ایک بار پھر درخواست کی کہ عدالت اس کیس کو ان کیمرا رکھنے اور میڈیا کوریج پر مکمل پابندی کا حکم نامہ جاری کرے۔ میں آپ کو بتا دوں کہ درندے اور اس کے خاندان کی یہ بہت پرانی خواہش ہے کہ کسی طرح میڈیا کو اس کیس سے دور رکھا جائے تاکہ عوام تک اس کیس کی کوئی اپ ڈیٹس نہ پہنچ سکیں انصاف کے لئے کوئی پبلک پریشر نہ ہو اور اس کے بعد جس طرح سے یہ اپنا اثرورسوخ استعمال کرکے کیس کا رخ موڑنا چاہیں وہ موڑ سکیں۔ میڈیا کوریج سے روکنے کے لئے وکیل کی جانب سے یہ بھی دلیل دی گئی کہ ہمیں گالیاں پڑ رہی ہیں ہمارا میڈیا ٹرائل ہو رہا ہے ہماری فیملیز مشکل میں ہیں حالانکہ ہم تو یہاں صرف قانون کے مطابق Factsپر بات کر رہے ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ تو میرا سوال ان وکلا سے یہ ہے کہ جب آپ کو آپکی فیس سے بھی کئی گنا زیادہ پیسے لگائے گئے اور آپ نے یہ کیس لڑنے کی حامی بھری تو اس وقت آپ نے کیوں نہیں سوچا کہ جس درندے اور اس کے خاندان کو آپDefendکرنے جا رہے ہیں ان کا مکروہ اور گھناونا عمل تو پہلے ہی پوری دنیا کے سامنے کھل کر سامنے آ چکا ہے۔ جب آپ اتنی درندگی کرنے والے خاندان اور ان کے حمایتیوں کو بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے تو پھر یہ سب تو ہو گا۔ اور ساتھ ہی وکیل اسد جمال نے مکمل سی سی ٹی وی فوٹیج فراہم کرنے سے متعلق دلائل دیے۔ وکیل نے کہا کہ ہمیں صرف کچھ منٹس کے کلپس ہی فراہم کیے گئے ہیں ملزمان کا حق ہے کہ مکمل فوٹیج فراہم کی جائے تاکہ انہیں دفاع کا موقع دیا جا سکے۔ حق تو ملزمان کا ضرور ہے لیکن عدالت پہلے ہی ان کو کچھ کلپس دے کر دیکھ چکی ہے کہ وہ انھوں نے کیسے وائرل کروائے تھے اس لئے اب ان کو مکمل فوٹیج دینا بھی کسی خطرے سے خالی نہیں ہے۔ ویسے تو یہ اسد جمال صاحب کو چاہیے کہ فوٹیج میں جو کچھ یہ دیکھنا چاہتے ہیں اس کی تفصیلات یہ اپنی موکلہ عصمت آدم جی سے پوچھ لیں کیونکہ وہ تمام سی سی ٹی وی کیمرے عصمت آدم، درندے ظاہر جعفر اور ذاکر جعفر کے فون کے ساتھ لنک تھے۔ یہ دونوں خود نور مقدم پر ہونے والے ظلم کے تمام مناظر اپنے فونز پر دیکھتے رہے ہیں اور صرف دیکھتے ہی نہیں رہے یہ نور مقدم کی چیخ و پکار بھی سنتے رہے ہیں۔ اب اس فوٹیج کی آڈیو بھی سامنے آچکی ہے لیکن کیونکہ پیمرا کی جانب سے اجازت نہیں ہے تو وہ آپ کو سنوائی نہیں جا سکتی۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ وکلا کی جانب سے سی سی ٹی وی فوٹیج کے وائرل ہونے اور مکمل فوٹیج حاصل کرنے کے حوالے سے دلائل کے بعد ان دونوں درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے۔ جو کہ اگلی سماعت پر سنایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ آج کی سماعت میں استغاثہ کے گواہ محمد جابر جو کہ کمپیوٹر آپریٹر ہے اس کا بیان بھی قلمبند کیا گیا اور اس پر جرح بھی مکمل کر لی گئی ہے۔ لیکن درندے ظاہر جعفر نے آج پھر عدالت میں وہی ڈرامہ کیا جو کہ وہ کئی بار کر چکا ہے آج کی سماعت تقریبا ایک گھنٹے تک جاری رہنے رہی اور ملزمان کو سماعت کے آخر پر کمرہ عدالت میں لایا گیا۔ آج کی سماعت پر پھر درندے ظاہر جعفر کی جانب سے ایک اور وکیل پیش ہوا جس کا نام سکندر ذولقرنین سلیم ہے جو کہ لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج ہیں۔ ان کو درندے کی فیملی کی جانب سے ہی ہائر کیا گیا لیکن پچھلی سماعت کی طرح ان وکیل صاحب کے پاس بھی وکالت نامے پر درندے کے دستخط نہیں تھے۔ اور جب درندے کو عدالت میں لایا گیا اور اس سے دستخط کروانے کو کہا تو اس نے ایک بار پھر انکار کر دیا اور کہا کہ میں وکیل سے میٹنگ کرنے کے بعد اپنا وکیل مقرر کروں گا۔ اس کی فرمائشیں دیکھا کریں آپ کہ جیسے پتہ نہیں کونسا اعلی کارنامہ کرکے یہ موصوف بیٹھے ہیں حالانکہ اس نے جو کچھ کیا ہے اس کے بعد تو یہ انسان کہلانے کے بھی لاءق نہیں ہے۔اس کے علاوہ عصمت آدم جی کی درخواست پر کمرہ عدالت میں ہی ان کی درندے ظاہر جعفر اور ذاکر جعفر سے ملاقات کرائی گئی۔ اپنے وکیل کی موجودگی میں پہلے عصمت آدم جی نے درندے ظاہر جعفر سے کچھ دیر بات چیت کی اس کے بعد جب درندے کو کمرہ عدالت سے باہر لے جایا گیا۔ تو عصمت آدم جی نے کچھ دیر اپنے شوہر ذاکر جعفر سے بھی ملاقات کی۔اور اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ پولیس کی جانب سے جو پورا چالان پیش کیا گیا اس میں کیا ڈبل گیم کی گئی۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایک طرف تو پولیس نے اپنے آپ کو نیوٹرل ثابت کرنے کے لئے تمام کے تمام لوگوں کو ملزمان کی فہرست میں شامل کیا تھراپی ورکس کی جانب سے درخواست کے باوجود ان کو گواہان میں شامل نہیں کیا گیا۔ یہاں تک تو سب بہت اچھا ہے۔ لیکن سوچیں کہ یہ پولیس درندے سے اس کے فون کا پاسورڈ نہیں لے سکی۔ کیا یہ پولیس کی نااہلی نہیں ہے۔ پھر اس سے بھی بڑی نااہلی ایف آئی اے کی ہے جس نے صاف انکار کر دیا کہ ہم فون کا ڈیٹا نہیں نکال سکتے۔ یعنی اب جو مکمل چالان ہے اس میں درندے کے فون اور لیب ٹاپ کا ڈیٹا شامل ہی نہیں ہے سوچیں کہ اس ڈیٹا کے بغیر کیا گیا ٹرائل کیسے مکمل اور انصاف پر مبنی ہو سکتا ہے۔ ویسے تو جج صاحب نے بھی پولیس والوں کو کہا تھا کہ اگر آپ سے نہیں ہوتا تو مارکیٹ سے کسی ہیکر کو پکڑ کر فون کھلوا لیں لیکن نہیں پولیس نے کوئی کوشش نہیں کی۔ اور اگر اسلام آباد پولیس اتنی ہی نا اہل ہے تو اس درندے کو پنجاب پولیس کے حوالے ہی کر دیں جب ان کے ہاتھ درندے کو لگیں گے تو اس کو خود ہی پاسورڈ یاد آجائے گا۔ لیکن خیر اب اس عدالتی کاروائی پر میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ اب تو دیکھنا ہے کہ کب ٹرائل پورا ہو گا اور اس کا کیا نتیجہ سامنے آئے گا۔

  • کےالیکٹرک لوگوں کو بلیک میل کرتی ہے:کسی کو کوئی پتہ نہیں کہ اس کا مالک کون ہے؟:سپریم کورٹ

    کےالیکٹرک لوگوں کو بلیک میل کرتی ہے:کسی کو کوئی پتہ نہیں کہ اس کا مالک کون ہے؟:سپریم کورٹ

    کراچی :پیسہ ،پیسہ اور بس پیسہ یہ ہے کے الیکٹرک کا ماٹو:بلیک میلنگ بھی اورڈھٹائی بھی:سپریم کورٹ کے سخت ریمارکس ،اطلاعات کے مطابق کراچی کو بجلی کی فراہمی کرنے والے معروف ادارے کے الیکٹرک کے بارے میں آج سپریم کورٹ کے ریمارکس نے اصل حقائق سے پردہ اٹھا دیا

    سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں پی ای سی ایچ ایس میں گرین بیلٹ پر کےالیکٹرک کے گرڈ اسٹیشن کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک لوگوں کو بلیک میل کرتی ہے اور صرف پیسہ بنا رہی ہے۔

    چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ کے الیکٹرک کو کیا گرڈ اسٹیشن گرین بیلٹ پر ہی بنانا تھا؟ جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن نے پی ایس سی ایچ ایس کے وکیل سے پوچھا کہ کے الیکٹرک نے آپکو بجلی دینی تھی اس لیے جگہ دے دی آپ نے؟سماعت کے دوران عدالت نے کے الیکٹرک کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار کیا۔

    سماعت کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وکیل پی ای سی ایچ ایس نے کہا کہ ہم نے قومی مفاد میں کے الیکٹرک کو نارمل ریٹس پر جگہ دی تھی۔جس پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ کس بات کا قومی مفاد، کےالیکٹرک کاروبار کر رہا ہے، کونسی عوامی خدمت کر رہا ہے۔

    وکیل کے الیکٹرک نے کہا کہ آپ کو محمود آباد اور پی ای سی ایچ ایس کے بارے میں اچھی طرح معلوم ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جی ہمیں معلوم ہے ہم سب کرکٹ کھیلتے رہے ہیں وہاں، لیکن گرین بیلٹ پر گرڈ اسٹیشن بنانے کی اجازات نہیں دیں گے۔

    چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کے الیکٹرک والے پرائیویٹ لوگ ہیں پتہ نہیں کہاں سے آئے ہیں، جتنے مرضی گرڈ اسٹیشن بنالیں لوڈ شیڈنگ ختم نہیں ہوئی، لوگوں کو صرف دو دو، تین تین گھنٹے بجلی ملتی ہے۔

    جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا ہمیں ایک ایک انچ کا پتہ ہے کے الیکٹرک کے، جہاں گرڈ اسٹیشن بنائے گئے وہاں کے لوگوں سے پوچھیں وہاں بھی لوڈ شیڈنگ ہے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا کے الیکٹرک کو گرڈ اسٹیشن ہٹانے کے لیے کتنا وقت درکار ہے؟جس پروکیل کوئی تسلّی بخش جواب نہ دے سکا ، جبکہ اس دوران جسٹس قاضی امین نے وکیل کے الیکٹرک سے استفسار کیا کہ کے الیکٹرک گرڈ اسٹیشن کب ہٹائے گی؟ سادہ سی بات ہے آپ ایک نجی ادارہ ہیں۔

    چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ کے الیکٹرک کس کی ہے کسی کو معلوم ہے ہی نہیں، شاید ان کے سی ای او کو پتہ ہو، کے الیکٹرک بورڈز آف ڈائریکٹرز میں صرف یہی کہا جاتا ہے پیسہ پیسہ پیسہ۔

    سپریم کورٹ نے کے الیکٹرک کے وکیل کو گرین بیلٹ پر بنا گرڈ اسٹیشن ہٹانے کے معاملے پر ہدایت لینے کے لیے کل تک کی مہلت دیدی۔

     

     

  • ریکارڈ غائب کرنے کیلئے آگ لگتی رہی .اب ایوان صدر میں آگ نہ لگ جائےسپریم کورٹ کے ریمارکس

    ریکارڈ غائب کرنے کیلئے آگ لگتی رہی .اب ایوان صدر میں آگ نہ لگ جائےسپریم کورٹ کے ریمارکس

    ریکارڈ غائب کرنے کیلئے آگ لگتی رہی .اب ایوان صدر میں آگ نہ لگ جائےسپریم کورٹ کے ریمارکس

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں خیبرپختونخوا بلدیاتی انتخابات میں پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کر دیا،عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا اور دیگر فریقین کو عدالتی معاونت کا حکم دے دیا،جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فریقین کا تعلق سیاسی جماعتوں سے ہے،خوشدل خان ممبر صوبائی اسمبلی اور کامران مرتضٰی سینیٹر ہیں تمام فریقین عدالت کی معاونت کرتے ہوئے غیر جانبدار رہیں،تمام فریقین کا مقصد صاف و شفاف انتخابات ہونا چاہیے،کیس تین رکنی بینچ کے سامنے لگایا جائے،سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت 30 نومبر تک ملتوی کر دی جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی

    جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیاد پر کیوں نہیں ہو سکتے؟ ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں وجوہات نہیں دیں،پشاور ہائیکورٹ نے 19 دسمبر کو بلدیاتی انتخابات کا حکم دے رکھا ہے، پشاور ہائیکورٹ کے تفصیلی فیصلے میں وجوہات کا انتظار کر لیتے ہیں، ،ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ جماعتی بنیاد پر الیکشن کرانے کا قانونی طریقہ کار موجود نہیں ،حکومت جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کرانے کیلئے راضی ہو بھی جائے تو قانون میں گنجائش نہیں، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ ارڈیننس لے آئیں، باقی تینوں صوبے بھی بلدیاتی انتخابات جماعتوں بنیادوں پر کراتے ہیں،باقی صوبوں کا میکینزم اپنانے میں کیا مسئلہ ہے؟ ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ ہائیکورٹ کو حکم دیتے ہوئے شیڈیول دینے کے بجائے انتخابات کیلئے وقت دینا چاہیے تھا،شمائل بٹ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ اپنی نوعیت کا پہلا الیکشن ہو گا جس میں ایک ہی بیلٹ پیپر پر ایک پارٹی کے تین امیدواروں کے انتخابی نشانات ہوں گے،ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ جو ووٹر پڑھنا لکھنا نہیں جانتا وہ کیسے فرق کرے گا کہ ایک ہی پارٹی کے کون سے نشان پر ٹھپہ لگانا ہے؟ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کون سے قانون میں ترمیم سے ولیج کونسل کے انتخابات جماعتی بنیاد پر ہو سکیں گے؟ وکیل کامران مرتضی نے کہا کہ مانتے ہیں اتنے کم وقت میں جماعتی بنیادوں پر انتخابات کا میکنزم نہیں بن سکتا،الیکشن کمیشن نے اس مسئلے کا حل نکال کر بیلٹ پیپر جاری کرنے کا کام شروع کیا ہے، جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ
    الیکشن کمیشن نے کیا حل نکال کر بیلٹ پیپر جاری کرنے شروع کیے ہیں؟جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ایک حل یہ ہو سکتا ہے کہ بیلٹ پیپرز پر امیدواروں کی تصاویر لگا دی جائیں، ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ حل جو بھی ہو الیکشن کمیشن تب تک کچھ نہیں کر سکتا جب تک صوبائی حکومت رولز میں ترمیم نا کر لے، جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ ایک ہفتے کا وقت دیتے ہیں تمام فریقین اپنی تجاویز سے عدالت کی معاونت کریں، جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ صاف شفاف انتخابات الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، اگر الیکشن کمیشن آ کر کہے کہ انہیں انتخابات کرانے میں وقت درکار نہیں تو مسئلہ ختم ہو جائے گا

    قبل ازیں سپریم کورٹ میں ایف ڈبلیو او کے زمینوں کے حصول سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی سپریم کورٹ نے ایف ڈبلیو او کی تشکیل کا صدارتی حکم طلب کرلیا ، جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ کیا حکم دیتے وقت جنرل یحییٰ ہوش و حواس میں تھے ؟ جسٹس سردار طارق نے کہا کہ ملک میں مختلف عمارتوں سے ریکارڈ غائب کرنے کیلئے تو آگ لگتی رہی ہے،ایوان صدر میں تو آج تک آگ بھی نہیں لگی ،ایف ڈبلیو او تو یہ بھی نہیں کہہ سکتی کہ آگ لگ گئی صدارتی حکم نہیں مل رہا ،اب ایوان صدر میں آگ نہ لگ جائے ایف ڈبلیو او کے وکیل بتائیں کہ صدارتی حکم کی اہمیت ہے یا نہیں؟ کہتے ہیں تو کیس کو صدارتی حکم کے بغیر ہی چلا کر فیصلہ کرتے ہیں، ایف ڈبلیو او کا وجود اور اختیارات کیس کے بنیادی نقطے ہے،وکیل احسن بھون نے کہا کہ صدارتی حکم کی تلاش کیلئے مزید مہلت دی جائے،عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی

    قبل ازیں سپریم کورٹ میں تھرپارکر میں غذائی قلت سے بچوں کی ہلاکتوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی . جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے خود سول اسپتال مٹھی کا دورہ کیا ،کوئی سہولت نہیں تھی ، آپریشن تھیٹر مارچری لگ رہا تھا اسپتال میں ایک ڈاکٹر تھا جس نے کہا رات کو بتایا گیا ہے کل آجانا ،چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ تھرپارکر میں بہت برا حال ہے ،لوگ اللہ کے سہارے پڑے ہیں بجلی بھی 2 گھنٹے کیلئے آتی ہے ،پانی کیلئے بارش کا انتظار کرتے ہیں ،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آر او پلانٹس پر کروڑوں روپے لگادیئے جو سب خراب ہیں ،چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ تھرپارکر میں صرف بھرتیاں ہورہی ہیں ،وہاں کوئی کام کرنے والا نہیں دس، پندرہ ہزار صحت کا عملہ ہوگا مگر کوئی نظر نہیں آتا ،

    @MumtaazAwan

    کراچی کو مسائل کا گڑھ بنا دیا گیا،سرکاری زمین پر قبضہ قبول نہیں،کلیئر کرائیں، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ کا کراچی کا دوبارہ ڈیزائن بنانے کا حکم،کہا آگاہی مہم چلائی جائے

    وزیراعظم کو بتا دیں چھ ماہ میں یہ کام نہ ہوا تو توہین عدالت لگے گا، چیف جسٹس

    تجاوزات ہٹانے جائینگے تو لوگ گن اور توپیں لے کر کھڑے ہوں گے،آرمی کو ساتھ لیجانا پڑے گا، چیف جسٹس

    سرکلر ریلوے، سپریم کورٹ نے بڑا حکم دے دیا،کہا جو بھی غیر قانونی ہے اسے گرا دیں

    ہم نے کہا تھا کیسے کام نہیں ہوا؟ چیف جسٹس برہم، وزیراعلیٰ کو فوری طلب کر لیا

    آپ کی ناک کے نیچے بحریہ بن گیا کسی نے کیا بگاڑا اس کا؟ چیف جسٹس کا استفسار

    آپ کو جیل بھیج دیں گے آپکو پتہ ہی نہیں ہے شہر کے مسائل کیا ہیں،چیف جسٹس برہم

    کس کی حکومت ہے ؟ کہاں ہے قانون ؟ کیا یہ ہوتا ہے پارلیمانی نظام حکومت ؟ چیف جسٹس برس پڑے

    شہر قائد سے تجاوزات کے خاتمے کیلئے سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    کراچی میں سپریم کورٹ کے حکم پرآپریشن کا آغاز،تاجروں کا احتجاج

    سو برس بعد بھی قبضہ قانونی نہیں ہو گا،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    ہزاروں اراضی کے تنازعات،زمینوں پر قبضے،ہم کون سی صدی میں رہ رہے ہیں ؟ چیف جسٹس

    نسلہ ٹاور گرانے سے متعلق نظر ثانی اپیلوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آ گیا

    پاک فوج کے پاس مشینری موجود، جائیں ان سے مدد لیں،نسلہ ٹاور گرائیں، سپریم کورٹ

    عہدہ چھوڑ دیں، آپ کے کرنے کا کام نہیں،نسلہ ٹاور نہ گرانے پر سپریم کورٹ برہم

    کنٹونمنٹ والوں پر قانون لاگو نہیں ہوتا ؟ کھمبوں پر سیاسی جماعتوں کے جھنڈے کیوں؟ پاکستان کا پرچم لگائیں ،سپریم کورٹ

    دفاعی اداروں کی جانب سے کمرشل کاروبار ،سیکریٹری دفاع کونوٹس جاری

    ریاست فیل،مکمل تباہی، کیا آپ ہی کو فارغ کردیں؟ سپریم کورٹ کے اہم ترین ریمارکس

  • ایک ماں ہے بیوی ہے ، ایک بچہ ہے ریاست ساتھ ہوتی تو در بدر نا پھر رہے ہوتے،عدالت

    ایک ماں ہے بیوی ہے ، ایک بچہ ہے ریاست ساتھ ہوتی تو در بدر نا پھر رہے ہوتے،عدالت

    سپریم کورٹ میں لاپتہ شہری کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت 2 ہفتے تک ملتوی کر دی گئی

    عدالت نے کہا کہ گیارہ مئی 2012 میں درخواست گزار کا شوہر لاپتہ ہوا،درخواست گزار کا کہنا ہے اسکے شوہر کو اٹھایا گیا درخواست گزار سپریم کورٹ سمیت دیگر فورمز سے رجوع کر چکی ہے،سپریم کورٹ 15 مئی 2013 کو معاملہ کمیشن کے سپرد کرکے نمٹا چکی ہے، سیکیورٹی ادارے جوابات میں کہہ چکی ہیں کہ لاپتہ شہری انکی تحویل میں نہیں ہمارے سامنے لاپتہ افراد کمیشن فریق نہیں ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل لاپتہ افراد کمیشن سے تفصیلات لیکر فراہم کریں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل بتائیں لاپتہ افراد کمیشن میں اب تک کیا کارروائی ہوئی؟

    قبل ازیں اسلام آ باد ہائیکورٹ میں لاپتہ صحافی کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ،اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کو متاثرہ فیملی کو سننے کی ہدایت کردی ،عدالت نے کہا کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل بتائیں کب وزیراعظم اور کابینہ متاثرہ فیملی کو سن کر مطمئن کریں گے وزیراعظم اور وفاقی کابینہ متاثرہ فیملی کو مطمئن کریں کہ ریاست اس میں شامل نہیں،عدالت نے کہا کہ اگر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے پیر تک تاریخ نہ بتائی تو آئندہ سیکریٹری داخلہ پیش ہوں،وفاقی حکومت کی ذ مہ داری ہے کہ شہریوں کی حفاظت یقینی بنائے ،ملک میں جبری گمشدگی کا رجحان موجود ہے ،لاپتہ شہری کی بازیابی بھی یقینی بنانا وفاقی حکومت کی زمہ داری ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہاں کوئی رول آف لاء نہیں یہاں یا تو یہاں جبری گمشدگی نا ہوتی ہو پھر بات کریں، اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے بازیابی درخواست پر سماعت کی ،لاپتہ مدثر نارو کی فیملی کی جانب سے وکیل ایمان مزاری ، عثمان وڑائچ عدالت میں پیش ہوئے وزارت دفاع کا نمائندہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے، ڈپٹی اٹارنی جنرل سید طیب شاہ نے کہا کہ دو منٹ اگر مل جائیں تو حقائق سامنے رکھوں گا ،اس کیس کے حقائق مختلف ہیں ،عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو لاپتہ افراد کمیشن کی رپورٹ پڑھنے کی ہدایت کی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اگر تو جبری گمشدگیاں نا ہو رہی ہوں تو پھر ہم اس طرف نا جائیں لیکن ایسا نہیں ہے، یہ واقعہ کب کا ہے ؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت میں بتایا کہ 20 اگست 2018 کا واقعہ ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ وزیراعظم اس وقت کون تھا ؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ وزیراعظم عمران خان ہی تھے اسی روز چارج لیا تھا ،متاثرہ فیملی نے ماہرہ ساجد کیس کی روشنی میں بیان حلفی جمع کرا دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک ماں ہے بیوی ہے اور ایک بچہ ہے ریاست ساتھ ہوتی تو در بدر نا پھر رہے ہوتے، ڈپٹی اٹارنی جنرل سید طیب شاہ نے کہا کہ آدھ منٹ مجھے سن لیں اس کیس میں ڈی پی مانسہرہ کی رپورٹ ہے،یہ دریائے کنہار کے کنارے واک کر رہے تھے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چھوڑ دیں ڈی پی او کو ، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو بولنے سے روک دیا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ان کی فیملی مطمئن نہیں وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کی زمہ داری ہے کہ ان کو مطمئن کرے، مائرہ ساجد کیس کا فیصلہ بھی عدالت کے سامنے پڑھا گیا کمیشن رپورٹ کے مطابق گمشدہ فیملی کا ماننا ہے کہ ریاست اور اس کی ایجنسیز اس میں ملوث ہوں،عدالت نے کیس کی مزید سماعت پیر تک ملتوی کردی

    صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف ازخود نوٹس کیس،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    انڈس نیوز کی بندش، صحافیوں کا ملک ریاض کے گھر کے باہر دھرنا

    تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے ملک ریاض کو کہا جائے،آپ نیوز کے ملازمین کا جنرل ر عاصم سلیم باجوہ کو خط

    پنجاب پولیس نے ملک ریاض فیملی کے آگے گھٹنے ٹیک دئیے، حسان نیازی

    جب تک قانون کے مطابق سخت سزا نہیں دی جائے گی، قوم کرنل کی بیوی اور ٹھیکیدار کی بیٹی جیسے ٹرینڈ بناتی رہے گی۔ اقرار

    ملک ریاض کے باپ سے پیسے لے کر نہیں کھاتا، کوئی آسمان سے نہیں اترا کہ بات نا کی جائے، اینکر عمران خان

    صحافیوں کے خلاف کچھ ہوا تو سپریم کورٹ دیوار بن جائے گی، سپریم کورٹ

    صحافیوں کا کام بھی صحافت کرنا ہے سیاست کرنا نہیں،سپریم کورٹ میں صحافیوں کا یوٹرن

    مجھے صرف ایک ہی گانا آتا ہے، وہ ہے ووٹ کو عزت دو،کیپٹن ر صفدر

    پولیس جرائم کی نشاندہی کرنے والے صحافیوں کے خلاف مقدمے درج کرنے میں مصروف

    بیوی، ساس اورسالی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے الزام میں گرفتارملزم نے کی ضمانت کی درخواست دائر

    سپریم کورٹ کا سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس،ہمارے خاندانوں کو نہیں بخشا جاتا،جسٹس قاضی امین

    ‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    صحافیوں کا دھرنا،حکومتی اتحادی جماعت بھی صحافیوں کے ساتھ، بلاول کا دبنگ اعلان

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    میں نے صدر عارف علوی کا انٹرویو کیا، ان سے میرا جھوٹا افیئر بنا دیا گیا،غریدہ فاروقی

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    سپریم کورٹ نے صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا کا نوٹس لے لیا

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    پریس کلب پر اخباری مالکان کا قبضہ، کارکن صحافیوں نے پریس کلب سیل کروا دیا

    صحافیوں کو کرونا ویکسین پروگرام کے پہلے مرحلے میں شامل کیا جائے، کے یو جے

    کیوں ان صحافیوں کے پیچھے پڑ گئے جو حکومت یا کسی اور کے خلاف رائے دے رہے ہیں،عدالت

    مینار پاکستان واقعہ کے ملزم پکڑے جاسکتے تو صحافیوں کے کیوں نہیں؟ سپریم کورٹ

    مقامی صحافیوں کو کان پکڑوا کر تشدد کروانے والا ملزم گرفتار

    حکومت بتائے صحافیوں کے حقوق تحفظ کے لیے کیا اقدامات اٹھائے؟ عدالت

  • ریاست فیل،مکمل تباہی، کیا آپ ہی کو فارغ کردیں؟ سپریم کورٹ کے اہم ترین ریمارکس

    ریاست فیل،مکمل تباہی، کیا آپ ہی کو فارغ کردیں؟ سپریم کورٹ کے اہم ترین ریمارکس

    ریاست فیل،مکمل تباہی، کیا آپ ہی کو فارغ کردیں؟ سپریم کورٹ کے اہم ترین ریمارکس
    سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے رفاعی پلاٹس پر قبضہ کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے متاثرین کو معاوضہ ادا کرنے کا حکم دے دیا سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے چیئرمین نیب کو نیب کارکردگی کا جائزہ لینے کی ہدایت کر دی،سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے چیئرمین نیب کو رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے چیئرمین نیب کو تفتیشی افسر کے خلاف انکوائری کی بھی ہدایت کر دی،سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے ملزمان کو شوکاز نوٹس بھی جاری کردیئے، چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سینکڑوں کیسز 10،10 سال سے التوا ہیں، کوئی پیش رفت نہیں ہوتی،چیف جسٹس گلزاراحمد رجسٹرار کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی حکا م پر برہم ہو گئے اور ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارکس، مسجد اراضی کی الاٹمنٹ کینسل کیوں نہیں کرتے؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مسجد، اسکولز سب پلاٹس بیچ ڈالے،

    چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جنہوں نے الاٹمنٹ کیں وہ کیسے باہر گھوم رہے ہیں؟ الاٹمنٹ کرنے والے یہ یہاں دیدا دلیری سینہ تان کر کھڑے ہیں ،ریاست کیا کر رہی ہے؟ کیا ریاست بے یارومددگار ہوچکی؟ نیب کیا کر رہا ہے؟ انہیں جیلوں میں کیوں نہیں ڈالتے؟ نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ چار افراد نے عبوری ضمانتیں حاصل کر رکھی ہیں،چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ 32پلاٹس کا معاملہ 10 سال سے چل رہا ہے، حکومت کو کچھ فکر نہیں،رجسٹرار کو آپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی نے عدالت میں جواب دیا کہ پلاٹس کینسل کرنا میری ڈومین میں نہیں آتا، چیف جسٹس گلزار احمد نے رجسٹرار کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی سے سوال کیا کہ پلاٹس کینسل پھر کون کینسل کرے گا ؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریاست بے یارومددگار دکھائی دے تو پھر کیا ہو سکتا ہے؟ چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ادھر ادھر کی باتیں ہو رہی ہیں، اصل بات 11 سال سے دبی ہوئی ہے،پارک کو کاٹ کر جو 32 پلاٹس کاٹے، سب سے پہلے اس کی بات کریں، کیا کوئی نہیں جانتا کیا کرنا ہوتا ہے؟ نیب نے عدالت میں جواب دیا کہ پلاٹس کی الاٹمنٹ کی منسوخی ایس بی سی اے کا اختیار ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لے آؤٹ کا بیڑا غرق کردیا، مسجد، پارک کوئی نہیں چھوڑا، نیب کیا آسمان سے اترا ہے؟ رجسٹرار کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی نے کہا کہ مجھے دو ماہ پہلے چارج ملا، جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ تو کیا رجسٹرار آفس 2 ماہ پہلے بنا؟ جسٹس قاضی محمد امین نے کہا کہ نیب تفتیشی افسر ملزمان کی گرفتاری کے لیے کیا کیا؟اگر ضمانت پر ہیں تو کیا صدیوں تک چلنی ہے؟ چیف جسٹس گلزار احمد نے تفتیشی افسر سے سوال کیا کہ کیا آپ ہی کو فارغ کردیں؟چیئرمین نیب کو کہہ دیتے ہیں، آپ کے خلاف انکوائری کریں تفتیشی افسر نیب ہی کو جیل بھیج دیتے ہیں،لگتا نہیں کہ یہ تفتیشی افسر ہیں، جسٹس قاضی محمد امین نے کہا کہ ضمانت کب ملی، کب کیا ہوا؟ نیب تفتیشی افسر کو کچھ نہیں پتہ،نیب خود ملزمان سے ملی ہوئی ہے،چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ سارے کیسز میں ایسا ہی ہوتا ہے؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ نیب، ایف آئی اے ریاست کے اہم ترین ادارے ہیں،ریاست فیل دکھائی دیتی ہے، مکمل تباہی ہے،اس طرح تو پورے کراچی پر قبضہ ہو جائے، چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ آپ کوعوام کے کاموں کے لیے لگایا ، کسی اور کام میں لگ گئے، عدالت نے کہا کہ معاملہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے،ملزمان کے خلاف کارروائی یقینی بنائی جائے،

    قبل ازیں سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سرکاری زمینوں کے ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی عدالت نے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو سے استفسار کیا کہ کتنی سرکاری زمین واگزار کروائی گئی ہے عدالت نے اطمینان بخش جواب نہ دینے پر سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کی سرزنش کی چیف جسٹس گلزار احمد نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ خاموش رہو بھاشن نہیں دو ،ہمارے ساتھ کھیل مت کھیلو ،سرکاری زمینوں پر قبضہ ہوگیا ہے، آپ کے افسران آپ کو لالی پاپ دیتے ہیں، آدھے سے زیادہ سندھ کی سرکاری زمینوں پر قبضہ ہے ، وہ نظر نہیں آتا ،کونے کونے کی تصوریرں لگا کر ہمیں بیوقوف بنانے کی کوشش کرتے ہو،چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ منشی ہو ، بابو ہو ، کلر ک ہو ، کیا ہو تم، سینئر ممبر بنو،کمیٹی کی کہانیاں ہمیں مت سناﺅ ، قبضہ ختم کراﺅ جا کر ۔عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اینٹی انکروچمنٹ عدالتیں بھی کچھ نہیں کر رہیں ، سکھر جیسے شہر میں ایک کیس ہے صرف ،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ حیدرآباد میں کوئی تجازوات نہیں ، چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ پورا حیدرآباد انکروچڈ ہے ،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے حیدرآباد ، لاڑکانہ ، سکھر اور بینظیر آباد میں کوئی کیس نہیں ، پورے کراچی پر قبضہ ہے اور صرف 9 کیس ہیں ،چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سب پتہ ہے پیسے لیکر روزا نہ قبضے کروا رہے ہیں، جسٹس قاضی محمد امین نے کہا کہ کوشش کی بات نہیں کرو، دو ہفتوں کا کام ہے،چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کورنگی سمیت پوری کراچی میں غیر قانونی بلڈنگ بنی ہوئی ہے،کراچی میں کتنے قبضے ہیں، کب سے آرڈر دیا ہےختم نہیں ہوئی، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ رپورٹ سے کچھ نہیں ہوتا،کام پورا کرنا آ پ کا کام ہے ،ممبر بورآد آف ریونیو نے کہا کہ میں سینئر ہوکر کام کرتا ہوں،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ کوشش کرنے کیا بات ہے، آپ کی ذمہ داری ہے،سرکاری زمینوں سے قبضہ ختم کرنے سے متعلق سینئر ممبر کی رپورٹ مسترد کر دی گئی،سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے سینئر ممبر کو عدالتی حکم پر مکمل عمل کرانے کا حکم دے دیا،سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے سینئر ممبر کو ایک ماہ میں جامع رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے سندھ بھر میں سرکاری زمینوں سے قبضہ ختم کرانے کا حکم دے دیا

    قبل ازیں سپریم کورٹ رجسٹری کراچی میں نسلہ ٹاور اور تجوری ہائٹس گرانے سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کر رہا ہے ۔ کمشنر کراچی نے پیشرفت رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی ، اپنی رپورٹ میں کمشنر کراچی نے کہا کہ عدالتی فیصلے پر من و عن عمل شروع کر دیا گیا ہے ، نسلہ ٹاور کو تیزی سے گرانے کا کام جاری ہے جبکہ تجوری ہائٹس کو گرانے پر بھی کام جاری ہے ۔ تجوری ہائٹس کا بلڈر خود عمارت گرا رہا ہے ، نسلہ ٹاور گرانے کیلئے 50 روز چاہئے

    قبل ازیں سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں دادو میں 3 افراد کو زخمی کرنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے ملزم کی درخواست ضمانت مسترد کردی،عدالت نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے موکل نے 3 افراد کو زخمی کیا ہے میڈیکولیگل رپورٹ سے زخمی ثابت ہوا ، شواہد کی روشنی میں ملزم کی درخواست منظور نہیں کی جا سکتی، ملزم کی سندھ ہائیکورٹ سے بھی درخواست ضمانت مسترد ہوچکی ہے

    @MumtaazAwan

    کراچی کو مسائل کا گڑھ بنا دیا گیا،سرکاری زمین پر قبضہ قبول نہیں،کلیئر کرائیں، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ کا کراچی کا دوبارہ ڈیزائن بنانے کا حکم،کہا آگاہی مہم چلائی جائے

    وزیراعظم کو بتا دیں چھ ماہ میں یہ کام نہ ہوا تو توہین عدالت لگے گا، چیف جسٹس

    تجاوزات ہٹانے جائینگے تو لوگ گن اور توپیں لے کر کھڑے ہوں گے،آرمی کو ساتھ لیجانا پڑے گا، چیف جسٹس

    سرکلر ریلوے، سپریم کورٹ نے بڑا حکم دے دیا،کہا جو بھی غیر قانونی ہے اسے گرا دیں

    ہم نے کہا تھا کیسے کام نہیں ہوا؟ چیف جسٹس برہم، وزیراعلیٰ کو فوری طلب کر لیا

    آپ کی ناک کے نیچے بحریہ بن گیا کسی نے کیا بگاڑا اس کا؟ چیف جسٹس کا استفسار

    آپ کو جیل بھیج دیں گے آپکو پتہ ہی نہیں ہے شہر کے مسائل کیا ہیں،چیف جسٹس برہم

    کس کی حکومت ہے ؟ کہاں ہے قانون ؟ کیا یہ ہوتا ہے پارلیمانی نظام حکومت ؟ چیف جسٹس برس پڑے

    شہر قائد سے تجاوزات کے خاتمے کیلئے سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    کراچی میں سپریم کورٹ کے حکم پرآپریشن کا آغاز،تاجروں کا احتجاج

    سو برس بعد بھی قبضہ قانونی نہیں ہو گا،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    ہزاروں اراضی کے تنازعات،زمینوں پر قبضے،ہم کون سی صدی میں رہ رہے ہیں ؟ چیف جسٹس

    نسلہ ٹاور گرانے سے متعلق نظر ثانی اپیلوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آ گیا

    پاک فوج کے پاس مشینری موجود، جائیں ان سے مدد لیں،نسلہ ٹاور گرائیں، سپریم کورٹ

    عہدہ چھوڑ دیں، آپ کے کرنے کا کام نہیں،نسلہ ٹاور نہ گرانے پر سپریم کورٹ برہم

    کنٹونمنٹ والوں پر قانون لاگو نہیں ہوتا ؟ کھمبوں پر سیاسی جماعتوں کے جھنڈے کیوں؟ پاکستان کا پرچم لگائیں ،سپریم کورٹ

    دفاعی اداروں کی جانب سے کمرشل کاروبار ،سیکریٹری دفاع کونوٹس جاری

  • این اے 133:پی ٹی آئی آوٹ:ن لیگ کی جیت یقینی

    این اے 133:پی ٹی آئی آوٹ:ن لیگ کی جیت یقینی

    لاہور:این اے 133:پی ٹی آئی آوٹ:ن لیگ کی جیت یقینی،اطلاعات کے مطابق این اے 133 کے ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف نے میدان خالی چھوڑ دیا۔ پی ٹی آئی نے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف سپریم کورٹ نہ جانے کا فیصلہ کرلیا۔

    ادھر قومی اسمبلی کے حلقے این اے 133 کے ضمنی انتخاب میں پاکستان تحریک انصاف کے نامزد امیدوار جمشید اقبال چیمہ کا کہنا ہے کہ ریٹرننگ افسر نے کاغذات نامزدگی مسترد جبکہ الیکشن ٹریبونل اور ہائیکورٹ نے اعتراض برقرار رکھا، سپریم کورٹ جانے کے لیے 7 دن کا وقت لگ سکتا ہے،

     

     

    پاکستان تحریک انصاف کے نامزد امیدوار جمشید اقبال چیمہ کا کہنا ہے کہ اگروہ اس وقت عدالت جائیں گے تو انتخابی مہم نہیں کر سکیں گے، سپریم کورٹ سے رجوع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، حلقے میں 40 ہزار بوگس وٹ ہیں، اس کے خاتمے کے لیے کام کریں گے۔

    خیال رہے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار جمشید اقبال چیمہ کے کاغذات تجویز کنندہ کا تعلق حلقے سے نہ ہونے کی بنیاد پر مسترد ہوئے جبکہ مسرت چمشید چیمہ کے کاغذات تائید کنندہ حلقے کا نہ ہونے کی بنیاد پر مسترد ہوئے۔ این اے 133 میں ضمنی انتخاب 5 دسمبر کو ہوگا۔

    این اے 133 لاہور ضمنی انتخاب کا شیڈول جاری، الیکشن کمیشن کے مطابق حلقے میں پولنگ 5 دسمبر کو ہو گی، این اے 133 کی نشست ن لیگ کے رکن قومی اسمبلی پرویز ملک کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی۔

    این اے 133 کی نشست مسلم لیگ نون کے پرویز ملک کی وفات سے خالی ہوئی تھی، اب مسلم لیگ نون کی طرف سے ان کی اہلیہ شائستہ پرویز ملک اور پیپلز پارٹی کے اسلم گل سمیت 12 امیدوار میدان میں ہیں۔

    پی ٹی آئی امیدوار جمشید چیمہ نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کئے جانے کے وجہ سے اس دوڑ‌سے باہر ہیں

  • پٹرول پمپس کی ملک بھر میں ہڑتال، کہیں پٹرول پمپس کُھلے تو کہیں بند:پٹرول پمپس پرلمبی قطاریں

    پٹرول پمپس کی ملک بھر میں ہڑتال، کہیں پٹرول پمپس کُھلے تو کہیں بند:پٹرول پمپس پرلمبی قطاریں

    لاہور:پٹرول پمپس کی ملک بھر میں ہڑتال، کہیں پٹرول پمپس کُھلے تو کہیں بند:پٹرول پمپس پرلمبی قطاریں ،اطلاعات کے مطابق پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کی ملک بھر میں ہڑتال جاری ہے، کئی شہروں میں کہیں پٹرول پمپس کھلے تو کہیں بند ہیں، جہاں پٹرول دستیاب وہاں لوگوں کی لمبی لائنیں لگ گئیں، نئے بحران پر شہری پریشان ہیں.

    یاد رہےکہ پچھلے کئی دنوں سے پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے اپنے کمیشن مارجن کو 6 فیصد کرنے کے مطالبے کو برقرار رکھتے ہوئے آج ہڑتال کا اعلان کررکھا تھا۔

    صبح صبح ملک بھر سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ عوام کی طرف سے پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے طرز عمل کی سخت مذمت کی جارہی ہے اور دوسری طرف اس مشکل وقت میں عوام الناس کو سہولت فراہم کرنے والے پٹرول پمپس مالکان کو دعائیں دی جارہی ہیں

    دوسری طرف ترجمان وزارت پٹرولیم نے کہا کہ ملک بھر میں آج تمام پٹرول پمپ کھلے رہیں گے۔ ترجمان کی جانب سے کہا گیا کہ وزارت توانائی پٹرولیم ڈویژن نے پٹرول پمپ ڈیلرز کے مارجن کو بڑھانے کےلئے کیس ای سی سی بھیجوا دیا، آئل مارکیٹنگ کمپنیز اور ڈیلرز کے مارجن میں مناسب اضافے کے لئے وزارت کوشاں ہے.

    وزارت پٹرولیم کے ترجمان کا کہنا تھا کہ آئل سیکٹر کی مختلف تنظیموں نے وزارت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے جبکہ عوام کو کوئی فکر کرنے یا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

    ترجمان پی ایس او کے مطابق ملک بھرمیں پی ایس او کے پیٹرول پمپس کھلے رہیں گے، حکومت اور عوام کے ساتھ ہیں، پیٹرول پمپس پر فیول کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے جبکہ پی ایس او کی سپلائی چین بھرپور طور پر فعال ہے اورپی ایس او عوام کی خدمت کے لیے ہمیشہ کی طرح مستعد ہے۔

    ادھر آئل اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کی ہڑتال کے معاملہ کا نوٹس لیتے ہوئے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کر دی۔

    ترجمان اوگرا کے مطابق صورتحال کی مانیٹرنگ کے لئے ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں، ڈیلرز مارجن میں اضافے سے متعلق چند عناصر پٹرول کی سپلائی میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، تمام آؤٹ لیٹس پر پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے جبکہ تیل سپلائی میں خلل ڈالنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

    ادھر مختلف علاقوں سے یہ بھی خبریں مل رہی ہیں کہ پٹرول پمپس پرلمبی لائنوں کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات درپیش ہیں لیکن اس کےباوجود شہری مطئمن دکھائی دے رہےہیں،

     

  • پیپلزپارٹی فلاحی پروگرام کے حوالے سے اپنی ایک تاریخ رکھتی ہے،وزیراعلیٰ سندھ

    پیپلزپارٹی فلاحی پروگرام کے حوالے سے اپنی ایک تاریخ رکھتی ہے،وزیراعلیٰ سندھ

    کراچی : وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی فلاحی پروگرام کے حوالے سے اپنی ایک تاریخ رکھتی ہے۔حاملہ خواتین کی خوراک، فوڈ سپلیمنٹ کو ممکن بنایا جائیگا۔تین سال تک ہم حاملہ خواتین کی کیئر کرینگے۔بچے کی گروتھ کو پراپر بنایا جائیگا۔ڈاکٹرز کی کمی کو دور کیا جائیگا۔
    یہ بات انہوں نے بدھ کو وزیراعلی ہاؤس میں سی ایم سیکریریٹ کی جانب سے شروع کئے گئے "سوشل پروٹیکشن اسٹریٹیجی یونٹ” کے تحت منعقدہ مدر اینڈ چائلڈ سپورٹ پروگرام کے افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ پروگرام میں وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ، صوبائی وزرا، مشیران، معاونین خصوصی اور مختلف محکموں کے اعلی افسران نے شرکت کی۔
    انہوں نے کہا کہ آج کا یہ ایونٹ بہت اہم ہے۔
    سوشل پروٹیکشن یونٹ کے حوالے سے ہمارے کیا مقاصد ہیں اس بارے میں بتایا جا چکا ہے۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ آج چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری اس پروگرام کا باضابطہ افتتاح کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی فلاحی پروگرام کے حوالے سے اپنی ایک تاریخ رکھتی ہے۔بے نظیر اِنکم سپورٹ پروگرام سے لیکر دیگر پروگرام اسکی مثالیں ہیں اوریہ ہمارے الیکشن منشور کا حصہ تھا۔
    انہوں نے کہا کہ صوبے کے لوگوں نے جب دوبارہ ہمیں منتخب کیا تو ہم نے اپنے منشور پر کام شروع کیا اور کرنا بھی تھا۔2019 اور 2020 کے دوران صوبے میں فلڈ اور کورونا کی صورتحال سے مسائل پیدا ہوئے ۔کہیں زلزلہ اور سیلاب آتا ہے تو ہمارے پاس پراپر ڈیٹا موجود نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اس پر کام شروع کیا اور سوشل رجسٹری کی۔ مردوں کو تو رجسٹرڈ کرلیا جاتا تھا مگر خواتین سے متعلق یہ مشکل ٹاسک ہوتا تھا ہم نے اسکو ممکن بنایا۔
    انہوں نے کہا کہ حمل سے لیکر بچے کی پیدائش تک ہمیں اس کو لیکر چلنا ہے کہ بچے کو کس قسم کی خوراک اور ادویات کی ضرورت ہوگی۔حاملہ خواتین کی خوراک، فوڈ سپلیمنٹ کو ممکن بنایا جائیگا۔تین سال تک ہم حاملہ خواتین کی کیئر کرینگے۔بچے کی گروتھ کو پراپر بنایا جائیگا۔ڈاکٹرز کی کمی کو دور کیا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کو ابتدائی طور پر دو اضلاع اور اگلے دو سال تک پورے صوبے میں پھیلایا جائیگا۔
    اس کے علاوہ دیگر پروگرامز بھی ہیں جن پر ہم کام کررہے ہیں۔انشااللہ اس پروگرام کو ملک کے دیگر حصوں تک لے جانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فوڈ سیکورٹی، بے زمین ہاری، سمیت کئی پروگرامز پر کام جاری ہے۔ہمارا الیکشن منشور پورے ملک کیلئے تھا۔بدقسمتی سے ہم پورے ملک میں نہیں آسکے۔انہوں نے کہا کہ وفاق اپنی ہر خامی کا الزام ہم ڈال دیتے ہیں۔
    مہنگائی پورے ملک میں ہے اور انہوں نے صوبہ سندھ کو ٹارگٹ بنارکھا ہے ۔یہ آٹے چینی، دال گھی چار اشیا پر سبسڈی کی بات کرتے ہیں مگر عوام کی حالت ابتر ہوتی جارہی ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کے پروگرام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پروگرام میں رجسٹر ہونے کے لئے اسمارٹ فون ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے۔مجھے سمجھ نہیں آئی کہ پہلے غریب آدمی اسمارٹ فون کہاں سے لائیگا لگتا ہے پہلے یہ اسمارٹ فون کی فروخت بڑھانا چاہتے ہیں۔
    وہ کہتے ہیں آٹے پر 20روپے مثال کے طور پر سبسڈی دینگے۔اس پر ایشوز آئینگے پھر وہ کیسے اس پروگرام کو مینج کرینگے۔اس پروگرام میں بدعنوانی کا عنصر ہوسکتا ہے۔ہم نے انہیں کیش پروگرام شروع کرنے کا مشورہ دیا ہے۔رجسٹرڈ افراد اپنی مرضی سے خریداری کرسکیں گے یا اپنے بچوں کی فیس دے سکیں گے۔بے نظیر پروگرام اسکی بہترین مثال ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ نام بدل بھی لیں مگر پھر بھی لوگوں کی دلوں سے بے نظیر بھٹو کی محبت کو مٹا نہیں سکتے۔
    کل الزام دید یا کہ سندھ سے 16لاکھ میٹرک ٹن گندم چوری ہوگئی۔انھوں نے کہا کہ اتنی تو ہم نے ذخیرہ بھی نہیں کی تھی ۔16 لاکھ تو کیا سولہ کلو بھی چوری نہیں ہوئی۔پرائیویٹ ملاقاتوں میں انکے لوگ کیا کہتے ہیں وہ میں کوٹ نہیں کرونگا۔انہوں نے کہا کہ یہ اسلام آباد میں غلط طریقے سے سلیکٹ ہوکر بیٹھا ہے۔وفاق میں جو لوگ جس طرح بھی آئے وہ عوام کا سوچیں تو بہتر ہے۔
    وزیراعلی سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت وہ واحد حکومت ہے جس نے حالات کو دیکھ کرملازمین کی کم از کم تنخواہ پچیس ہزار کی۔ہمیں علم نہیں تھا کہ یہ ملک کی یہ حالت کردینگے۔ہمیں اپنی قیادت کی طرف سے ہدایت ہے کہ غریب کا خیال رکھیں۔انہوں نے کہا کہ کم از کم اجرت 25 ہزار نہیں رہے گی بلکہ یہ بڑھے گی۔وفاقی حکومت بھی اس طرف دھیان دے ۔وزیراعلی سندھ نے تقریب میں پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے تشکر کا اظہار کیا۔
    وزیراعلی سندھ نے کہا کہ یہ پائلٹ پروجیکٹ پہلے مرحلے میں تھرپارکر اور عمرکوٹ اضلاع میں شروع کیا گیا ہے۔ اس پروگرام کو دیگر اضلاع میں بھی شروع کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ پروجیکٹ عالمی ادرہ صحت کے عین اصولوں کے تحت شروع کیا جارہا ہے۔ یہ سہولیات ماں اور بچے کیلئے ہونگی۔انہوں نے کہا کہ دوران حمل ماں کا مفت چیک اپ کے ساتھ 1000 روپیہ وظیفہ بھی دیا جائیگا۔
    یہ پروگرام بچوں کی نشو نما اور ماں کی صحت کیلئے شروع کیا گیا ہے۔ پاکستان میں "Stunting” بچوں کا قد نہ بڑھنے کی شرح 38 فیصد ہے۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ ایک لاکھ ماں میں سے دوران زچگی 189 مائیں انتقال کرجاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان مسائل کو حل کرنے کیلئے ماں اور بچوں کیلئے سپورٹ پروگرام شروع کیا جا رہا ہے۔ زچگی کے شروع کے دنوں سے لیکر بچوں کی نشونما تک مکمل سہولیات دی جائینگی۔
    ماں کے ہر چیک اپ پر ان کو 1000 روپیہ وظیفہ دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام بچے کی پیدائش سے پہلے کا چیک اپ، پیدائش، بچے کی نشونما اوربچے کی ویکسی نیشن تک جاری رہے گا۔ یہ پروگرام بچے کی نشو نما سے لیکر 2 سال کی عمر تک جاری رہے گا۔ حاملہ خواتین کو فوری طور پر اپنے صحت کے مراکز پر جانا ہوگا۔ ماں کی رجسٹریشن کیلئے ایم آئی ایس سسٹم کی اپلیکیشن متعارف کرائی گئی ہے۔ اس ایپلی کیشن کے ذریعہ حاملہ خاتوں کا مکمل طور پر کمپیوٹرائیز ریکارڈ بنتا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اس ایپلی کیشن کے ذریعے حاملہ خاتوں کو جاز کیش کے ذریعہ 1000 روپیہ ہر وزٹ پر فراہم کیا جائے گا ۔

  • سندھ میں الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس میں 9 لاکھ کی کمی

    سندھ میں الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس میں 9 لاکھ کی کمی

    کراچی: الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن میں بڑی پیشرفت، سندھ حکومت نے الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس میں بڑی کمی کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت نے الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس 10 لاکھ 80 ہزار روپے سے کم کرکے 1 لاکھ 6 ہزار روپے کردی ہے۔ رجسٹریشن فیس میں ہونے والی بڑی کمی سے سندھ میں الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن میں اضافہ ہوگا۔

    سندھ کے وزیر ایکسائز مکیش کمار چاولہ کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس 10لاکھ 80 ہزار روپے تھی تاہم سندھ کابینہ کی منظوری کےبعد الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس میں ریکارڈ کمی کردی گئی ہے۔
    مکیش چاولہ کے مطابق سندھ میں تاحال 11 الیکٹرک گاڑیاں رجسٹرڈ ہوچکی ہیں جب کہ 1490 گاڑیوں کی رجسٹریشن کی درخواست صوبائی محکمہ ایکسائز کے پاس جمع ہوچکی ہے۔