بحرین کی نمائندہ کونسل کے اسپیکر نے وزیراعظم سے ملاقات کی۔
باغی ٹی وی: وزیراعظم عمران خان سے مملکت بحرین کی کونسل آف ریپریزنٹیٹوز کی سپیکر محترمہ فوزیہ بنت عبداللہ زینال نے پارلیمانی وفد کے ہمراہ آج ملاقات کی۔ وزیراعظم نے سپیکر اور ان کے وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔
بحرین کے پارلیمانی وفد کی مہمان نوازی پر اظہار تشکر کرتے ہوئے سپیکر نے مملکت کی قیادت کی طرف سے وزیراعظم کو تہہ دل سے تہنیتی پیغام پہنچایا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان کا یہ دورہ دونوں ممالک کے طویل اور تاریخی برادرانہ تعلقات کا اعادہ ہے۔ دو طرفہ اور کثیر جہتی فورمز پر مسلسل اور قریبی تعاون کو یاد کرتے ہوئے سپیکر نے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کیا، خاص طور پر تجارت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں۔ بحرین میں مقیم پاکستانیوں کے تعاون کو سراہتے ہوئے سپیکر نے بحرین میں مقیم پاکستانیوں کو بحرینی عوام کا رشتہ دار قرار دیا۔
بحرینی قیادت کے گرمجوشی کے جذبات کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے بحرین کے بادشاہ اور ولی عہد کو پاکستان کے دورے کی دعوت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے بحرین کی قیادت کا خصوصی طور پر عالمی وبائی مرض کے آزمائشی اوقات میں 120,000 مضبوط پاکستانی تارکین وطن کی دیکھ بھال پر خصوصی شکریہ ادا کیا۔ وزیر اعظم نے تعاون کے تمام پہلوؤں میں مملکت کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرنے کی پاکستان کی خواہش کا اعادہ کیا۔
بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر (IIOJK) میں انسانی حقوق کی جاری اور سنگین خلاف ورزیوں کے بارے میں دورہ کرنے والے معزز مہمان کو آگاہ کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے عالمی برادری بالخصوص مسلم دنیا پر زور دیا کہ وہ کشمیریوں کے تحفظ کے لیے اپنی آواز بلند کرے۔ کشمیری عوام کے بنیادی حقوق انہوں نے اسلامو فوبیا کو عالمی سطح پر مسلمانوں کو درپیش ایک اہم مسئلے کے طور پر بھی اجاگر کیا، اور اس طرح کے مسائل سے اجتماعی طور پر نمٹنے کے لیے امت کے درمیان اتحاد اور یکجہتی کی اہمیت پر زور دیا۔
وزیراعظم عمران خان نے افغانستان کی سنگین انسانی صورتحال پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری کی تعمیری شمولیت اور افغانستان میں سنگین اقتصادی چیلنجوں کے پیش نظر بڑھتے ہوئے انسانی بحران کو روکنے کے لیے فوری اقدامات پر زور دیا۔ وزیراعظم نے افغانستان کے مالیاتی اثاثوں کو غیر منجمد کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ سپیکر نے وزیر اعظم سے افغانستان کی صورتحال پر عالم اسلام کے تعمیری اور اجتماعی ردعمل اور مسلم کاز کی حمایت پر اتفاق کیا۔
کنگڈم آف بحرین کی کونسل آف ریپریزنٹیٹوز کی سپیکر قومی اسمبلی کے سپیکر کی دعوت پر اپنے وفد کے ہمراہ 17 سے 21 نومبر 2021 تک پاکستان کا دورہ کر رہی ہیں۔
جو تیرے عشق میں قید ہوئے وہ کیا قید ہوئے،حافظ سعد رضوی
حافظ سعد حسین رضوی رہا ہوچکے ہیں،حافظ سعد رضوی رہائی کے بعد مسجد رحمۃ للعالمین پہنچ چکے ہیں حافظ سعد رضوی کو کوٹ لکھپت جیل سے رہا کیا گیا ہے-
باغی ٹی وی: حافظ سعد رضوی نے رہائی کے بعد اپنا پہلا انٹرویو پاکستان کے معروف اور سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کے ساتھ انٹرویو میں نظر بندی کے دوارن حالات و واقعات پر تفصیلی گفتگو کی-
ویڈیو میں سینئیر صحافی مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ حافظ سعد رضوی متعدد تکالیف ،مشکلات اور بہت سے ساتھیوں کی شہادت درجنوں کی گرفتاریاں اور پتہ نہیں کتنے لوگوں کے زخمی ہونے کے بعد بلآخر رہائی مل گئی ہے اور اپنے اہلخانہ کے درمیان چلے گئے ہیں یہ ان کا پہلا انٹرویو ہے جو انہوں نے شفقت فرمائی اور ہمارے ساتھ بات کرنا مناسب سمجھا اور ہمیں انٹرویو دے رہے ہیں-
انہوں نے کہا کہ وہ گواہ ہیں کہ حافظ سعد رضوی کی رہائی کے پیچھے ایک دو نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کی دعائیں ہیں وہ ایسے لوگوں کو جانتے ہیں جنہوں نے بھیگی آنکھوں سے اشکبار ہو کر ان کی رہائی ان کی کامیابی کے لئے دعائیں مانگتے رہے مبشرلقمان نے سعد رضوی کو رہائی ملنے پر مبارکباد دی-
جس پر سعد رضوی نے اللہ تعالی کا شکر ادا کیا اور کہا کہ میں اس یقین پر ہوں اور میں نے تو کبھی خود کو قید سمجھا ہی نہیں تھا انہوں نے شاعرانہ انداز مین نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اظہار محبت کرتے ہوئے کہا کہ”جو تیرے عشق میں قید ہوئے وہ کیا قید ہوئے-
مبشر لقمان نے سعد رضوی سے سوال کہا کہ ناموس رسالت پر ہر پاکستانی جان دے سکتا ہے جس پر سعد رضوی نے کہا کہ بےشک ہر پاکستانی جان دے سکتا ہے آپ کو کم عمری میں اللہ نے اعزاز دے دیا کہ آپ بہت کم عمری میں اس تحریک کے امیر بنے آپ کو کس وجہ سے اندر نظر بند کیا ہوا تھا ور غیر قانونی بند کیا ہوا تھا –
سعد رضوی نے کہا کہ یہ تو تمام کورٹس کے فیصلوں کے بعد قانون اور ذمہ داران بھی نہیں جان سکے کہ ہم نے اس شخص کو کیوں بند کیا ہوا ہے-یہ تو ان سے پوچھا جائے کیوں بند کیا ہوا جو بند ہے وہ کیا بتائے گا کہ میں کیوں بند ہوں اسے تو بس یہی پتہ ہے کہ میں بند ہوں-
مبشر لقمان نے سوال کیا کہ علامہ صاحب مجھے خبریں ملتی تھیں میں لوگوں کو دیتا نہیں تھا کہ میں چاہتا تھا آپ با ہر آ جائیں آپ سے تصدیق کے بعد کہوں کہ آپ کے اوپر تشدد بھی کیا گیا کہ آپ کوئی پولیس کی مرضی کا مطلب کا ویڈیو بیان جاری کر دیں آشوریٰ کے لئے کیا ایسا ہوا تھا؟
علامہ حافظ سعد رضوی نے کہا کہ اس راہ میں سب کچھ ہوتا ہے آخر میں انجام کو دیکھا جاتا ہے جو کچھ ہوا ایک راہ تھی اس راہ میں سب کچھ قبول ہے وہ گرفتارہ وہ تشدد ہو میرے کارکن میرے اوپر اس سے زیادہ تشدد کیا ہو سکتا ہے کہ میرے کارکنوں کا خون بہایا گیا-اور میرے کارکنوں کو زخمی کیا گیا ان کی ٹانگیں توڑی گئیں میں تو اس تشدد سے باہر نہیں نکل سکتا یہ تشدر تو ذاتی میرے لئے کوئی حیثیت نہیں رکھتی جب آپ کو سامنے دکھائی دے رہا ہو کہ آپ کو معلوم ہو رہا ہو کہ آپ کے کارکنوں کا خون بہایا جا رہا ہے اور وہ لوگ بے قصور ہیں اور جو صرف احتجاج کے لئے نکلے ہوں ساری دنیا احتجاج کرتی ہیں ان کو گولیاں ، بولٹ ان کو شیل فائر کئے جائیں تو میں میرے اوپر اس سے زیادہ تشدد کیا ہو سکتا ہے-
مبشر لقمان نے سوال پوچھتے ہوئے انکشاف کیا کہ انہیں پتہ چلا تھا جیل میں آپ کے اوپر اتنا تشدد ہو کہ آپ کے گردوں سے بلیڈنگ ہونا شروع ہو گئی تھی؟
سعد رضوی نے اس سوال کا جواب نہیں دیا اور کہا کہ اس سب کو چھوڑیں جانے دیں ہم اس طرف چلتے ہیں جو آگے نئی راہ کھولے یہ تو گزر گیا جو ماضی تھا بڑا حسین ماضی تھا –
سینئیر صحافی نے سوال کیا کہ آپ کے کارکنوں کو پتہ ہونا چایئے کہ آپ نے کتنی صعوبتیں اور تکلیف اٹھائی ہے اور برداشت کی ہے قربانیاں دی ہیں –
امیر تحریک لبیک پاکستان نے کہا کہ جب میرے علم میں ہے کہ میرے کارکنوں نے کتنی تکالیف برداشت کی ہیں تو انہیں یہ بھی پتہ ہو گا کہ جن کے اوپر انہوں نے بھروسہ کیا ہے انہوں نے بھی ایسے ہیں تکالیف برداشت کی ہیں-
مبشر لقمان نے پوچھا وہ شیڈول ختم ہو گیا کالعدم کا لفظ ختم ہو گیا سیاسی جماعت تسلیم ہو گئی تو اب آگے کا کیا لائحہ عمل ہے؟
سعد رضوی نے بتایا کہ لائحہ عمل وہی ہے جس کو ہم لے کر چلتے ہیں ناموس رسالت ختم نبوت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوپر کام ہے اور اس ملک میں ہر ظالم کے پنجے سے مظلوم کو چھڑوانا ہے اور ہر غریب اور مسکین جو ذہنی طور پر مفلوج کر دیا ہے ان ظالموں نے ان کے چہروں پر مسکراہٹ لانا ان کو خوش رکھنا اور خوش کرنا ہی لائحہ عمل ہے-
جیل کے اندر حکومت کے لوگ میٹنگز میں کیا کیا مطالبات کرتے تھے ؟ کے جواب میں سعد رضوی کا کہنا تھا کہ میرے ساتھ جو بھی جیل کے اندر میٹنگ ہوئی ایک آفیشل میٹنگ تھی علماء اکرمن لے کر آئے اور باقی جو ہماری جماعت کے معملات کے اندر میٹنگ تھی وہ ہمارے ذمہ داران کے ساتھ کرتے تھے میرے ساتھ جو میٹنگ ہوئی علماء اکرام آئے اور سب لوگوں کو دکھایا بھی گیا جو میٹنگ ہوئی باقی جو باتیں کرتے تھے آپ اسٹیپ ڈاؤن لے لیں پیچھے ہٹ جائیں وہ تو ہر ایک اپنا موقف ہوتا ہے اور وہ اپنے تطریقے سے بات کرتے تھے ہم اپنے طریقے سے بات کرتے تھے-
ایسی کیا وجہ ہوئی کہ دو مرتبہ آپ لوگوں کے ساتھ تحریری معاہدہ کرنے کے باوجود حکومت پھر گئی؟ پر انہوں نے کہا کہ حکومت کے مسائل یہ ہیں کہ ان کو شاید اپنی ہی بات کے اوپر یہ یقین نہیں ہے اور اس کے اوپر کبھی کبھی وہ ہمارا وجود نہیں مانتے تھے کہ ان کا سیاسی کوئی وجود ہے اور یہ ہمارے ہی شہری ہیں کہتے تھے یہ چند لوگ ہیں ان کو ہم تتر بتر کر لیں گے اور ان پر شیلنگ فائر کریں گے اور گولیاں چلائیں گے وہ جان دے سکتے ہیں ان کو علامہ خادم حسین رضوی نے وہ عشق کا جام پلایا ہے جو نشہ نہیں اتر سکتا اور انہوں نے وہ نشہ گولیوں سے بولٹ سے فائر سے اتارنے کی کوشش کی ان کو اس یقین اور اس بات تک لانے تک اتنے یقین اور اتنے معاہدے ہوئے-
کل عرس کی تقریب میں ہمارا یہ مقصد نہیں ہے کہ ہم انہیں اس ہجوم سے ڈرائیں یا مقصد ہو کہ ہم اس سے اپنی پاور شو کریں ہمارا ایک روحانی سلسلہ ہے ہمارا ایک ایونٹ ہے اور ہم اسے بڑے آرام سے ایک تربیتی اور روحانی لحاظ سے اور ایک آگے کے لائحہ عمل کے لحاظ سے ہم اس کو منائیں گے اور اس سے لوگوں کو پریشان نہیں ہو نا چاہیئے یہ جو ہمارے قائد کی وفائے رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے نا لوگ اس وجہ سے ان کی قبر پر جمع ہوتے ہیں اور فاتحہ پڑھنے آتے ہیں لہذا لوگوں اس بات سے پریشان نہیں ہونا چاہیئے-
حکومت فرانس میں بڑی تبدیلیاں ہو چکی ہیں ان کی طرف سے ان کی ایمبیسی کی طرف سے کوئی معافی آ جائے تو کیا آپ لوگ اس پر اتفاق کر لیں گے؟
اس پر حافظ رسعد رضوی نے کہا کہ ان کو معافی ملتی ہے یا نہیں لیکن ان کو اس بات کا احساس ہونا چاہیئے کہ جو کچھ ہم کر رہے ہیں اس سے لاکھوں دل مجروح ہوتے ہیں جو مسلمان ہے وہ کائنات کی ہر چیز برداشت کر سکتا ہے لیکن اللہ کے نبی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت پر کوئی حرف برداشت نہیں کر سکتا تو یہ ان کی معافی اُدھر ہے ہم کون ہیں جو ان سے معافی منگوائیں ہمارا ان سے کوئی ذاتی جھگڑا تو نہیں ہے ہمارا عزت رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مسئلہ ہے یہ معافی اُدھر مانگے یا اُدھر بات کرے ہمارے ساتھ ان کا کوئی مسئلہ نہیں ہمارا مسئلہ ناموس رسالت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہے ان کے ساتھ اور جب تک وہ اس سے توبہ نہیں کرتے ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے نہ ہم ان کی کوئی بات سننے کے لئے تیار ہیں-
واضح رہے کہ آج حافظ سعد حسین رضوی رہا ہوچکے ہیں ان کے استقبال کی پر تحریک لبیک کے کارکنان کی بڑی تعداد بھی یتیم خانہ چوک پہنچی،حافظ سعد رضوی کے یتیم خانہ چوک پہنچنے پر کارکنان کی جانب سے بھر پور استقبال کیا گیا،پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں،حافظ سعد رضوی جب گاڑی سے اترے تو کارکنان نے انکا زبردست خیر مقدم کیا، کارکنان کی جانب سے نعرے بھی لگائے گئے-
سری نگر: کشمیر میں 13 سالہ معصوم بچی کی دل دہلا دینے والی ویڈیو نے انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
باغی ٹی وی :مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے اور قابض فوج نے دو روز میں ایک ڈاکٹر اور تاجر سمیت 9 شہریوں کو شہید کردیا ہے شہدا میں کشمیری تاجر الطاف بھٹ بھی شامل ہیں جن کی بیٹی کی ویڈیو نے ہر آنکھ کو اشک بار کردیا ویڈیو میں الطاف بھٹ کی کم سن بیٹی نے بتایا کہ بھارتی فوج اس کے بابا کو شہید کرکے ہنستے رہے کشمیری بیٹی کی المناک اور دل سوز ویڈیو پر ہر آنکھ اشک بار ہوگئی۔
سوشل میڈیا پر جاری یڈیوز اور خبروں کے مطابق الطاف بھٹ کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں ایک شاپنگ سنٹر میں دکان دار تھےگزشتہ روز دکان بند کرکے جب وہ واپس آرہے تھے تو بھارتی فوج نے انہیں پکڑ کر گولیاں مار کر شہید کردیا لواحقین نے اسے بہیمانہ اور سنگدلانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج کیا بھارتی فوج نے اس پر بس نہیں کیا بلکہ شہدا کے جسد خاکی بھی لواحقین کو دینے سے انکار کردیا۔
#KASHMIRCROWNPHOTOGRAPHY Families of Altaf Bhat and Dr Mudasir Gul staged Potest at Press Enclave demanding the Dead bodies of both persons.
https://twitter.com/SHABIRABUTT/status/1461039236568604675?s=20
شہدا کے لواحقین نے شہدا کے جسد خاکی لینے کےلیے دھرنا دیا تو بھارتی پولیس اور فوج نہتے اور لواحقین پر پل پڑی اور انہیں گرفتار کرکے لے گئی ایک ضعیف العمر رشتے دار نے بھارتی فوج کی بندوق کا رخ اپنی طرف کرکے کہا کہ مجھے بھی گولی ماردو، جس پر بھارتی درندے بھوکے کتوں کی طرح ان پر بھی پل پڑے اور تشدد کا نشانہ بنایا بھارتی فوج نے شہدا کی لاشوں کو پکواڑہ میں ایک نامعلوم مقام پر دفن کردیا –
Indian occupied forces have detained family members of Altaf Ahmad Bhat and Dr Mudasir Gul who were killed by Indian forces in Hyderpora, Srinagar.
لواحقین نے کہا کہ وہ تو بس اپنے پیاروں کی اپنے قریب اور اپنے ہاتھوں سے شرعی طریقے سے تدفین کرنا چاہتے ہیں، لیکن بھارتی فوج جنازے نہ دے کر ان کی بے حرمتی کررہی ہے-
https://twitter.com/MaktoobMedia/status/1461060916150091777?s=20
‘My toddler daughter cries for her father, return his body’: Families of civilians, killed in Srinagar, protest, reports @umeerasifpic.twitter.com/v69lfauADd
واضح رہے کہ مودی حکومت کی پالیسی کے تحت کشمیر میں مجاہدین کے جسد خاکی کو لواحقین کے حوالے نہیں کیا جاتا، تاکہ لوگ ان کے جنازوں میں شریک نہ ہوسکیں کشمیر میں شہدا کے جنازوں میں لوگوں کی بڑی تعداد شریک کرتی ہے اور اس موقع پر ہر قربانی دے کر جدوجہد آزادی جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتی ہے نہتے کشمیریوں کے جذبہ آزادی سے خوف زدہ بھارت سرکار مختلف ہتھکنڈے اور حربے اختیار کرکے سمجھتی ہے کہ اس طرح سے وہ کشمیریوں کو کچل سکے گی۔
یورپی یونین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر بن چکا
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا چئیرمین کمیٹی سینیٹرذیشان خانزادہ کی زیرصدارت اجلاس ہوا
سینیٹر فدا محمد کے سوال پر سیکرٹری تجارت نے قائمہ کمیٹی تجارت کو بتایا کہ گرے لسٹ میں ہونے کے باعث پاکستان کی برآمدات پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا ہے-ایران کے ساتھ بنکنگ چینلز نہ ہونے کے باعث برآمدات میں مسائل ہیں- ایران کے ساتھ بارٹر ٹریڈکا معاملہ حل کر لیا گیاہے-ایران کے ساتھ اشیاء کے بدلے اشیاء کی تجارت کے حوالے سےمعائدہ ہو گیا ہے-انہوں نے بتایا کہ ایک ماہ تک ایران کے ساتھ بارٹر ٹریڈ شروع ہو جائے گی-
سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس سینیٹرذیشان خانزادہ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوُس میں ہوا-مشیر تجارت عبدالرازق داؤد نے کمیٹی کو جی پی پلس اور یورپی یونین تجارت پر بریفنگ دی- انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ یورپی یونین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر بن چکا ہے-پورپ کیلئے پاکستان کی برآمداد 9 بلین ڈالرز تک پہنچ چکی ہیں جو پاکستان کیلئے ایک اچھی بات ہے-
مشیرتجارت نے کمیٹی کو بتایا کہ یورپی یونین نے جی ایس پی پلس کی شرائط پر عمل درآمد پر اطمینان کا اظہار کیا ہے-27 کنونشن میں سے اکثر پر پاکستان عمل کر چکا ہے-یورپ کی ڈیمانڈز میں چائلڈ لیبر ،جبری مشقت جسیے مسائل پر قابو پاناپاکستان کے مفاد میں ہے-یورپی یونین کو پھانسی دینے اور کچھ اور قوانین پر اعتراض ہے-یورپی یونین کہتا ہے آپ اپنی برآمدات یورپی یونین کو بڑھائیں لیکن یورپی یونین کو برآمدات میں وہ اضافہ نہیں ہوا جو ہونا چاہیے تھا-ان کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ یہ پاکستان برآمدکنندگان کی کمزوری ہے کہ برآمدات کو نہیں بڑھا سکے-
چئیرمین کمیٹی کے سوال پرعبدالرزاق داود نے بتایا کہ جی ایس پی پلس کے تحت پاکستان کی 66 فی صد ٹیرف لائن زیرو ڈیوٹیز پر ہیں-گزشتہ سات سال میں یورپی یونین کے ساتھ مجموعی تجارت میں 27 فی صد اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ سات سال کے دوران پاکستان کی یورپی یونین کی برآمدات میں 47 فی صد اضافہ ہوا انہوں نے بتایا کہ یورپی یونین کے ساتھ تجارت پاکستان کے مفاد میں ہے-
جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے حوالے سے مزید تفصیلی گفتگو اورپاکستان کاٹن اسٹینڈرڈ انسٹیٹیوٹ کی جانب سے بریفنگ کو اگلی میٹنگ تک موخرکردیا گیا-چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ ان اہم معاملات پر بات کرنے کیلئے تمام سینیٹر ممبران کی موجودگی ضروری ہے-مشیرتجارت نے جی آئی قانون کو پاس کروانے میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی تجارت کے کردار کوبھی سراہا-سینیٹر فدا محمد، سینیٹر سلیم مانڈوی والا کے علاوہ مشیر تجارت عبدالرزاق داود، سیکرٹری تجارت، ایڈیشنل سیکرٹری اور پاکستان کاٹن اسٹینڈرڈ انسٹیٹیوٹ کے حکام نے کمیٹی اجلاس میں شرکت کی-
حافظ سعد رضوی کی رہائی کے بعد استقبال کے مناظر،خصوصی ویڈیو
بریکنگ، تحریک لبیک کے سربراہ حافظ سعد رضوی کو رہا کر دیا گیا ہے
حافظ سعد حسین رضوی رہا ہوچکے ہیں،حافظ سعد رضوی رہائی کے بعد مسجد رحمۃ للعالمین پہنچ چکے ہیں حافظ سعد رضوی کو کوٹ لکھپت جیل سے رہا کیا گیا ہے، حافظ سعد رضوی کے استقبال کی بھر پور تیاریاں کی گئی تھیں، تحریک لبیک کے کارکنان کی بڑی تعداد بھی یتیم خانہ چوک پہنچ چکی ہے،حافظ سعد رضوی کے یتیم خانہ چوک پہنچنے پر کارکنان کی جانب سے بھر پور استقبال کیا گیا،پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں،حافظ سعد رضوی جب گاڑی سے اترے تو کارکنان نے انکا زبردست خیر مقدم کیا، کارکنان کی جانب سے نعرے بھی لگائے گئے
قبل ازیں ،تحریکِ لبیک پاکستان کے امیر سعد حسین رضوی کا نام فورتھ شیڈول سے خارج کر دیا گیا تھا اس ضمن میں ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے نوٹفکیشن جاری کر دیا ہے محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے 487 افراد کے نام فورتھ شیڈول کی فہرست سے نکالے گئے ہیں جس میں ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کا نام بھی شامل ہے۔ اب تک 577 افراد کے نام فورتھ شیڈول کی فہرست سے نکالے گئے
قبل ازیں محکمہ داخلہ پنجاب نے سعد رضوی کی رہائی کے خلاف پنجاب حکومت کی جانب سے دائراپیل واپس لینے کا فیصلہ کیا تھا محکمہ داخلہ پنجاب نے سعد رضوی پر درج 98 مقدمات کی فہرست بھی وفاقی وزارت داخلہ کو بھجوا ئی تھی اور وزارت داخلہ نے دہشت گردی کے مقدمات ختم کرنے سے متعلق وزارت قانون سے مشاورت بھی کی تھی
@MumtaazAwan
تحریک لبیک کے سربراہ حافظ سعد رضوی جو علامہ خادم حسین رضوی کے صاحبزادے ہیں کو 12 اپریل کو اسکیم موڑ چوک لاہورسے گرفتار کیا گیا تھا ،پولیس نے حافظ سعد رضوی کو 16 اپریل کا احتجاج روکنے کے لیے حراست میں لیا کیونکہ حکومت کے ساتھ ان کے مذاکرات ناکام ہوگئے تھے اور فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے سے متعلق تحریک لبیک نے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے سے انکار کردیا تھا
اب حکومت نے تحریک لبیک پر سے پابندی بھی ختم کر دی ہے، آج حافظ سعد رضوی کو بھی رہا کر دیا گیا ہے، تحریک لبیک کا اسلام آبا د جانے والا مارچ وزیرآباد سے واپس آیا تھا اور اعلان کیا گیا تھا کہ حافظ سعد رضوی عرس کی تقریب میں شریک ہوں گے، عرس سے قبل حکومت نے وعدے کے مطابق حافظ سعد رضوی کو رہا کر دیا ہے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ پنجاب چرن جیت سنگھ وفد کے ساتھ بارڈر ٹرمینل کرتار پور پہنچ گئے ہیں
صدر پر بندھک کمیٹی سردار امیر سنگھ اور سول حکام نے وزیر اعلیٰ کا استقبال کیا۔ بھارتی پنجاب کی کابینہ کے ارکان اور نوجوت سنگھ سدھو بھی کرتارپور پہنچ گئے۔ وزیر اعلی ٰچرن جیت سنگھ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرتار پور آ کربہت خوشی ہوئی ، ہماراخون اورپیار سانجھا ہے ، ٰچرن جیت سنگھ کا کہنا تھا کہ راہداری کھولنےسےامن اور شانتی بڑھےگی ہم سب ایک ہیں اور ایک رہیں گے ،بھارت سے زیادہ اچھی پنجابی یہاں ملی.
پاکستان اور دنیا بھر سے سکھ برادری کی باباگرونانک جی کے552ویں جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے لئے کرتار پور آمد۔وزیراوقاف و مذہبی امور سید سعید الحسن شاہ،کمشنر ذوالفقار گھمن اور دیگر اعلیٰ حکام نے بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ چرن جیت سنگھ اور ان کے وفد کی آمد پر تمام مہمانوں کوخوش آمدید اورمبارکباد دی اور پھولوں کے گلدستے پیش کئے۔ پاکستان اور دنیا بھر سے سکھ برادری باباگرونانک جی کے552ویں جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے لئے کرتار پور آئے ہیں۔
اس موقع پر وزیر اوقاف سید سعید الحسن شاہ نے کہا کہ بابا گورونانک کا جنم دن سکھ برادری کیلئے خوشیوں بھرا تہوار ہے -سید سعید الحسن شاہ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر سکھ برادری کے گوردواروں کی دیکھ بھال، تزئین و آرائش اور سکیورٹی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ سکھ برادری سمیت اقلیتوں کی فلاح وبہبود حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کو بنیادی حقوق کی فراہمی اور ان کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا ہے۔ اس موقع پر سکھ برادری نے کہا کہ حکومت پاکستان و پنجاب نے سکھ برادری کو بابا گو رونانک کے جنم دن کی تقریبات میں مذہبی رسومات کی ادائیگی کیلئے بہترین سہولیات فراہم کی ہیں۔سکھ برادری سکھ برادری کاکرتار پور آمداور بہترین انتظامات پر وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار خراج تحسین پیش کیا۔
بابا گرونانک کی 552 ویں جنم دن کی تقریبات کا آغاز ننکانہ صاحب میں ہوگیا ہے تقریبات کا آغاز سکھوں کی مذہبی رسم اکھنڈ پاٹھ سے کیا گیا مرکزی تقریب 19 نومبر کو گردوارہ جنم استھان ننکانہ صاحب میں ہوگی بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ چرنجیت سنگھ کی وفد کے ہمراہ کرتارپور پہنچے ہیں جو کل ہونے والی مرکزی تقریب میں شریک ہونگے
بھارتی حکومت نے 19 نومبر سے کرتارپور راہداری کھولنے کا اعلان کیا تھا اس حوالے سے ممبر پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی اندرجیت سنگھ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ایک سال 10 ماہ بعدبھارت نے راہداری کھولنےکا فیصلہ کیا ہے کورونا کے باعث بھارت نے کوریڈور راستہ 16مارچ 2020 سے بند کیا تھا اور بی جے پی کے سکھ ارکان پارلیمنٹ نے وزیراعظم نریندر مودی سے کرتارپور راہداری کھولنے کی درخواست کی تھی
خطے میں امن کیلئے وزیراعظم کی ہدایت پر تعمیر کئے گئے کرتار پور رہداری منصوبے کے اخراجات پاکستان نے ادا کیے، پاک بھارت معاہدے کے مطابق منصوبہ مرحلہ وار مکمل ہوگا، ابتدائی مرحلے میں پل اور سرنگ سمیت عمارت تعمیر کی گئی ہے، دوسرے مرحلے میں عمارت کی توسیع، یاتریوں کیلئے رہائشگاہیں تعمیر ہوں گی، کرتار پور آنیوالے یاتریوں کی سہولت کیلئے بازار بھی قائم کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ 18 اگست 2018 کو وزیر اعظم عمران خان کی تقریب حلف برداری میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کو کرتارپور راہداری کھولنے کی خوشخبری سنائی۔ 28 نومبر 2018 کو وزیر اعظم عمران خان نے کرتار پور راہداری کا سنگ بنیاد رکھا۔
کرتارپور راہداری بھارت اور پاکستان کے درمیان مجوزہ سرحدی راہداری ہے جو بھارتی پنجاب میں واقع ڈیرہ بابا نانک صاحب کو پاکستان کے علاقہ کرتارپور میں واقع گردوارہ دربار صاحب کی مقدس عبادت گاہ سے منسلک کریگی۔ اس راہداری کا مقصد بھارت کے مذہبی عقیدت مندوں کو پاک بھارت سرحد سے محض 4.7 کلومیٹر دور واقع گردوارہ دربار صاحب کی زیارت کرنے میں آسانی پیدا کرنا ہے۔
امریکا کا پاکستان پر مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کا الزام،دفتر خارجہ کا ردعمل آ گیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی مذہبی آزادی پر آربیٹریری مشاہدے کو مسترد کرتے ہیں
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اورامریکا اس حولے سے بامقصد بات چیت کر رہے ہیں،بھارت میں آر ایس ایس اور بی جے پی حکومت ملکر مذہبی آزادیوں کوسلب کر رہے ہیں،آئی سی جے فیصلے کے مطابق بھارتی جاسوس کونظر ثانی اور ری کنسیڈیشن ایکٹ کا بل منظور کیا،کرتارپور راہداری کھولنے کے حوالے سے تمام دباو َبھارت پر تھا،آخری لمحات میں بھارت نےپاکستان کو کرتار پور راہداری کھولنےکے حوالے سے آگاہ کیا،پاکستان میں 600 کے قریب بھارتی قیدی ہیں،ایتھوپیا کی صورتحال کو قریب سے دیکھ رہے ہیں ،ایتھوپیا میں 200 کے قریب پاکستانی مقیم ہیں،ایتھوپیامیں ہمارامشن اور سفارت خانہ پاکستانیوں سے رابطے میں ہے،مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات غیر قانونی اور یک طرفہ ہیں.ہم مقبوضہ کشمیر میں بھارتی رویہ کو مسترد کرتے ہیں۔بھارت کی جانب سے افغانستان کو بھیجی جانے والی گندم پر وزیر اعظم آفس کا بیان واضح ہے۔واضح کہا گیا کہ ہم اس معاملے کو انسانی بنیادوں پر دیکھ رہے ہیں۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکا کی جانب سے پاکستان کو ایک بار پھر مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں والی رپورٹ میں شامل کیا گیا ہے ،امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے دس ممالک کی نئی لسٹ جاری کی گئی ہے جس میں پاکستان، چین، اراین، روس، سعودی عرب، تاجکستان، میانمار، ترکمانستان، شمالی کوریا، اریٹیریا شامل ہیں ،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان ممالک کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں میں ملوث پایا گیا ہے اور مختلف عقائد کے لوگوں کو اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کی اجازت نہیں دی جاتی
امریکی وزیر خارجہ ایتھونی بلنکن کا کہنا ہے کہ دس ایسے ملک ہیں جہاں آزادی مذہب کے زمرے میں آنے والی قابل مذمت نوعیت کی خلاف ورزیاں برداشت کی جاتی ہیں، امریکہ ہر سال ایسی فہرست تیار کرتا ہے، گزشتہ برس نائجیریا بھی اس فہرست میں شامل تھا جس کا نام اس سال کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے
امریکی وزیر خارجہ ایھتونی بلنکن نے پاکستان کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کرنے والے خصوصی تشویش والے ملک کے طور پر نئے سرے سے نامزد کیا اور طالبان کو ایک خاص تشویش کا مرکز قرار دیا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے سب سے پہلے دسمبر 2018 میں پاکستان کو اس فہرست میں شامل کیا اور 2020 میں بھی اسے برقرار رکھا۔ اس سال جنوری میں برسراقتدار آنے والی بائیڈن انتظامیہ نے دو تبدیلیوں کے ساتھ پرانی فہرست کو برقرار رکھا، روس کو شامل کیا اور سوڈان کو سی پی سی کیٹیگری سے نکال دیا۔اس زمرے میں ممالک کو مبینہ طور پرمذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے کے لیے درج کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ "میں الجزائر، کوموروس، کیوبا اور نکاراگوا کو ان حکومتوں کے لیے خصوصی واچ لسٹ میں بھی شامل کر رہا ہوں جو مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث یا برداشت کر رہی ہیں۔
سکریٹری بلنکن نے الشباب، بوکو حرام، حیات تحریر الشام، حوثی، داعش، مغربی افریقہ، جماعت نصر الاسلام والمسلمین، اور طالبان کو بھی خاص تشویش کی تنظیموں کے طور پر نامزد کیا۔ ہر سال سکریٹری آف اسٹیٹ حکومتوں اور غیر ریاستی اداکاروں کی نشاندہی کرتا ہے، جو، ان کے خیال میں، امریکی بین الاقوامی مذہبی آزادی ایکٹ کے تحت میرٹ کا عہدہ رکھتے ہیں۔
اوورسیز پاکستانیوں کو جمہوری نظام میں شامل کرنے پر خوشی ہے،وزیراعظم
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سمندر پار پاکستانیوں کی سہولت کیلئے ڈیجیٹل پورٹل کے آغاز کی تقریب منعقد کی گئی
سمندر پار پاکستانیوں کی سہولت کیلئے ڈیجیٹل پورٹل کا آغازکر دیا گیا،ڈیجیٹل پورٹل کے ذریعے پاور آف اٹارنی جنرل کی تصدیق کی جاسکے گی، ذاتی موجودگی ضروری نہیں ڈیجیٹل پورٹل نادرا کے ڈیٹا بیس سے منسلک ہوگا ڈیجیٹل پورٹل ابتدائی طور پر 10ممالک میں شروع کیا جا رہا ہے
وزیراعظم عمران خان کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ محنت کش پاکستانیوں کی وجہ سے ملک چل رہا ہے،پاور آف اٹارنی کا حصول بیرون ملک پاکستانیوں کیلئے بڑا مسئلہ تھا، اوورسیز پاکستانیوں کو بہت مشکلات کاسامنا تھا، جب بھی پاکستان کو مشکلات کا سامنا ہوتا ہے ، اوورسیز پاکستانی ساتھ دیتے ہیں،اوورسیز پاکستانی ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہیں،اوورسیز پاکستانی جب بھی بزنس کرنے کی کوشش کرتے ہیں انہیں نقصان ہوتا، اوورسیز پاکستانیوں کیلئے یہاں کام کرنا بہت مشکل ہوتا ہے،ہمارے ملک میں بدقسمتی سے اوورسیز پاکستانیوں کے پلاٹس پر قبضہ ہوجاتا ہے،جب بھی مشکل وقت آیا، اوورسیز پاکستانیوں نے بھرپور مدد کی اوورسیز پاکستانیوں کو پاکستان کی سیاست اور جمہوریت میں شامل کرلیا ہے، 90 لاکھ اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ حق دیا ہے، ووٹ کا حق ملنے کے بعد ہر حکومت اوورسیز پاکستانیوں کی قدر کرے گی،اوورسیز پاکستانیوں کو جمہوری نظام میں شامل کرنے پر خوشی ہے،پرانے سسٹم سے فائدہ اٹھانے والے نہیں چاہتے کہ تبدیلی آئے، یوٹیلٹی اسٹورز کے اندر ہم نے چیک اینڈ بیلنس کیلئے آٹومیشن کی بات کی،
قبل ازیں چیئرمین ریاض فتیانہ کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی قانون و انصاف کا اجلاس ہوا ،سیکرٹری الیکشن کمیشن اجلاس میں آئے اور کہا کہ ای وی ایم کا استعمال آئندہ عام انتخابات میں ہوگا یا نہیں، کچھ نہیں کہہ سکتے ای وی ایم کے استعمال میں چیلنجز درپیش ہیں عام انتخابات میں ای وی ایم کے استعمال سے پہلے 14 مراحل سے گزرنا ہوگا،ایک پولنگ اسٹیشن پر کتنی مشینیں ہونگی، فگر آؤٹ کرنا باقی ہے، عالیہ کامران نے سوال کیا کہ بلوچستان کے حلقہ بندیاں کسے ہونگے؟ جہاں انٹرنیٹ نہیں ہے وہاں ای وی ایم مشین کیسے استعمال ہو گی؟ بلوچستان کے عوام مشکل سے ووٹ کاسٹ کر جاتے ہیں،اکرم درانی نے کہا کہ میرے حلقے کو دو حصوں میں تقسیم کریں گے، جس پر سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ آپ کے سوالات کے جوابات نہیں دے سکتا،
قبل ازیں ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور کا کہنا ہے کہ اپوزیشن الیکٹرانک ووٹنگ سے ڈر رہی تھی، بیرون ملک مقیم پاکستانی ووٹ کا حق استعمال کریں گے، کتنے لاکھ ای وی ایم کی ضرورت ہوگی، اسکا تعین الیکشن کمیشن کے ساتھ بیٹھ کر کیا جاسکتا ہے
بچوں کی نازیبا ویڈیو فروخت کرنے والے ملزمان بارے اہم انکشاف
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں چائلڈ پورنو گرافی کے حوالہ سے سی بی آئی نے بڑی کاروائی کی ہے ، چائلڈ پورنو گرافی کے حوالہ سے 50 سے زائد گروپس اور 5000 افراد کا پتہ لگایا ہے جوچائلڈ پورنو گرافی میں ملوث ہیں
بھارت میں چائلڈ پورنو گرافی کے حوالہ سے تحقیقاتی ایجنسی سی بی آئی نے ملک کی کئی ریاستوں میں کریک ڈاؤن جاری رکھا ہوا ہے، ایک ہی روز میں سی بی آئی نے 14 ریاستوں میں 77 مقامات پر چھاپے مارے اور دس ملزمانو کو چائلڈ پورنو گرافی کے حوالہ سے مواد سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کے الزام میں حراست میں لیا ہے، بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارت میں چائلڈ پورنو گرافی کے حوالہ سے تحقیقات کے دوران سی بی آئی نے 50 ایسے گروپس کا پتہ لگایا جو چائلڈ پورنو گرافی میں ملوث ہیں، ان گروپس کے اراکین کی تعداد 5000 ہے،سوشل میڈیا پر یہی گروپس اور اراکین چائلڈ پورنو گرافی کے حوالہ سے مواد شیئر کرتے ہیں، سی بی آئی کو دوران تحقیقات پتہ چلا کہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی ویڈیوز ،چائلڈ پورنو گرافی کی ویڈیو شیئر کرنے والے میں صرف بھارتی ہی نہیں بلکہ دیگر ممالک کے لوگ بھی ملوث ہیں
بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق سی بی آئی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سی بی آئی قانونی دفعات کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ساتھ بات چیت کرے گی تا کہ چائلڈ پورنو گرافی کی ویڈیوز کو روکا جا سکے ، سی بھی آئی نے بھارت کی 14 ریاستوں آندھرا پردیش، دہلی، اتر پردیش، پنجاب، بہار، اڈیشہ، تامل ناڈو، راجستھان، مہاراشٹر، گجرات، ہریانہ، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش اور ہماچل پردیش میں چھاپے مارے اور ملزمان کو گرفتار کیا، سی بی آئی کے مطابق کمسن بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی ، چائلڈ پورنو گرافی میں ملوث 83 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے اور انکے خلاف 23 الگ الگ مقدمات درج کئے گئے ہیں، ان تمام ملزمان پر سوشل میڈیا وئب سائٹس پر چائلڈ پورنو گرافی کی ویڈیو پوسٹنگ،شیئرنگ کا الزام ہے
سی بی آئی کے ذرائع نے بھارتی چینل سی این این نیوز 18 کو بتایا کہ 50 گروپس میں 5000 سے زائد افراد چائلڈ پورنو گرافی کا مواد شیئر کر رہے ہیں، ملائشیا کے 22، یمن ے 24، آزربائیجان کے 27، سری لنک کے 30، بنگلہ دیش کے 35، امریکہ کے 35، کینڈا کے 35، اور پاکستان کے 36، اور بھارت کے ہزاروں ملزمان ہیں جو مواد شیئر کر رہے ہیں، سی بی آئی ان غیر ملکی شہریوں کے خلاف بھی کاروائی کرنا چاہتا ہے اور اس ضمن میں چائلڈ پورنو گرافی کے حوالہ سے کام کرنے والے اداروں کے ساتھ ملکر ان کے خلاف کاروائی کا امکان ہے
سی بی آئی کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پیسہ کمانے کے لئے لوگ چائلڈ پورنو گرافی کی ویڈیو شیئر کر رہے ہیں، کچھ لوگ چائلڈ پورنو گرافی میں خود ملوث ہیں کچھ ویڈیو کو صرف شیئر کرتے ہیں، سی بی آئی نے جب گرفتار ملزمان کے لیپ ٹاپ، موبائل فونز کی تلاشی لی ان میں سے متعدد ویڈیوز، تصاویر برآمد ہوئیں ،ملزمان نے اعتراف کیا کہ وہ چائلڈ پورنو گرافی میں ملوث ہیں، انہوں نے ویڈیوز بنائی بھی ہیں اور شیئر بھی کی ہیں جبکہ کچھ کا کہنا تھا کہ ہم نے ویڈیو خریدی ہیں اور ہم نے آگے بیچنی تھیں ،ملزمان سوشل میڈیا پر چائلڈ پورنو گرافی کی ویڈیوز شیئر کر کے باقاعدہ کمائی کر رہے تھے
پاکستان بنانا ری پبلک نہیں،کلبھوشن کیس جیت چکا،وفاقی وزیر قانون
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا ہے کہ اپوزیشن نےکہا انتخابی اصلاحا ت کابل چیلنج کریں گے،اپوزیشن جماعتوں کے تمام اعتراضات بے بنیاد ہیں مشترکہ سیشن پارلیمانی نہیں تو 18ویں ترمیم میں نکال دیتے،مشترکہ سیشن میں 34 بل مفادعامہ میں پاس ہوئے ،میں نے کہا آرٹیکل 55 سب آرٹیکل ون پڑھ لیں جواب مل جائے گا،جوکہتے ہیں قانون سازی چیلنج کرینگے وہ بے شک کریں لیکن مطالعہ ضرورکریں
وزیرقانون فروغ نسیم نے عالمی عدالت انصاف نظرثانی بل اورکلبھوشن کیس پروضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بل کی مخالفت کرنے والوں نے شاید اسے پڑھا نہیں ،قونصلر رسائی نہ ملنے پر بھارت نے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیاپاکستان نے عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن کیس کا بھرپور دفاع کیا بھارت نے کلبھوشن کی بریت کی استدعا کی تھی،عالمی عدالت انصاف نے بھارتی جاسوس کی بریت کی درخواست مسترد کی،عالمی عدالت انصاف نے قونصلر رسائی کی درخواست منظور کی،عالمی عدالت انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے بل لائے،کلبھوشن کیس ملکی سیکیورٹی کا معاملہ ہے،کلبھوشن کا معاملہ ریڈ لائن ہے،کیسے پارلیمان ہیں جنہیں ملکی مفاد کا ہی پتہ نہیں ،بھارت کے ناپاک عزائم تھے،کلبھوشن سے متعلق قانون سازی پر بھارت کے ہاتھ کاٹ دیئے ہیں ،اپوزیشن میں بیٹھے سیاستدانوں کو سمجھ نہیں، وہ کیسے سیاستدان ہیں،اپوزیشن کو قومی سلامتی کا ادراک کیوں نہیں،قانون سازی کے معاملے پر ڈس انفارمیشن پھیلائی گئی،پاکستان کلبھوشن کیس جیت چکا ہے،پاکستان بنانا ری پبلک نہیں ہے،
اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے الیکشن کمیشن اور کلبھوشن سے متعلق قانون سازی پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن سے درخواست کی ہے کہ کلبھوشن قومی ایشو ہے اس پر سیاست نہ کی جائے،
اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو تنہا کرنے کا بھارتی منصوبہ ناکام ہوا ہے،بھارت پاکستان کو دوبارہ عالمی عدالت انصاف اور سلامتی کونسل لیکر جانا چاہتا تھا،بھارت کی پاکستان پر پابندیاں عائد کرانے کی کوشش سبوتاژ ہوگئی،کلبھوشن پاکستانیوں کا قاتل اور بھارتی جاسوس ہے،عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے مطابق قانون سازی کی گئی،اپوزیشن چاہے تو تفصیلی بریفنگ دینے کو تیار ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ میں کارروائی بھی اسی قانون کے تحت ہو رہی ہے،
قبل ازیں ن لیگی رہنما، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز ایوان کی کارروائی سب کے سامنے ہے حکومت کادعویٰ ہے کہ کامیاب قانون سازی ہوئی،حکومت نےقانون سازی کس کیلئے کی؟ الیکشن چوری کرنے والوں پر آرٹیکل 6 لگانے کے لیے قانون سازی کی جائے ،اسپیکر کوخط لکھا تھا لیکن کوئی جواب نہیں ملا ،انہوں نے اپنے خط کی نفی خود کی ،یوان اخلاقی برتری کی بنیاد پرچلتے ہیں، انتخابی اصلاحات الیکشن چوری کرنے ک اطریقہ ہے ،الیکشن کمیشن کوحکومت کے تابع کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں دنیامیں ناکام ہوچکی ہیں ،گزشتہ روز بھارتی جاسوس کوگھربھیجنے کا پروگرام بنایا گیا،کلبھوشن کوگھربھیجنا تھا توآرڈیننس جاری کردیتے کلبھوشن کو گھر بھیجنے کے لئے قانون بنانےکی کیا ضرورت تھی ،
@MumtaazAwan
قبل ازیں کلبھوشن کے حوالہ سے وزارت قانون و انصاف نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا،حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے صدارتی آرڈیننس کے تحت عدالت میں درخواست دائر کی گئی تھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ قومی مفاد میں عدالت بھارتی ایجنٹ کلبھوشن یادیو کی جانب سے قانونی نمائندہ مقرر کرے،دائر درخواست میں مزید کہا گیا کہ کلبھوشن یادیونےسزاکیخلاف اپیل سےانکارکیا، کلبھوشن بھارتی معاونت کے بغیر پاکستان میں وکیل مقررنہیں کرسکتا،بھارت بھی آرڈیننس کے تحت سہولت حاصل کرنے سے گریزاں ہے،
گزشتہ برس مئی میں بھارت نے اپنے جاسوس کلبھوشن یادیو کی پھانسی رکوانے کے لیے عالمی عدالت انصاف میں درخواست دائر کی تھی۔ 15 مئی کو بھارتی درخواست پر سماعت کا آغاز ہوا،نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں قائم عالمی عدالت اںصاف نے بھارت کی درخواست پر اٹھارہ سے اکیس فروری تک اس مقدمے کی سماعت کی تھی