Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • قوم کے لیے بڑی خوشخبری آگئی :چیمپئنز ٹرافی 2025 کا میزبان ہوگا پاکستان

    قوم کے لیے بڑی خوشخبری آگئی :چیمپئنز ٹرافی 2025 کا میزبان ہوگا پاکستان

    لاہور:قوم کے لیے بڑی خوشخبری آگئی :چیمپئنز ٹرافی 2025 کا میزبان ہوگا پاکستان ،اطلاعات کے مطابق پاکستانی شائقین کرکٹ کو اب تک کی بڑی خوشخبری مل گئی اورآئی سی سی چیمپٹنر ٹرافی 2025کی میزبانی پاکستان کریگا۔اس حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ اورچیئرمین پی سی بی رمیز راجہ نے قوم کوخوشخبری دی

    اس حوالے سے خوشخبری دیتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی ) کی جانب سے 2025کی چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی ملنے پر مبارکباد کی پوسٹ شیئر کی گئی۔

     

     

     

     

     

    دوسری طرف اسی خوشخبری کے متعلق پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رمیز راجہ نے چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی پاکستان کو ملنے پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ بڑے فخر اور خوشی کی بات ہے کہ پاکستان آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 کی میزبانی کرے گا۔

    پی سی بی چیئرمین رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ یہ عظیم خبر یقیناً لاکھوں پاکستانی شائقین، غیر ملکیوں اور عالمی شائقین کو عظیم ٹیموں اور کھلاڑیوں کو ایکشن میں دیکھنے کے لیے پرجوش کرے گی اور دنیا کو ہماری مہمان نوازی کا نمونہ پیش کرنے کا موقع ملے گا۔

     

     

    خیال رہے کہ فروری 2025 میں پاکستان میں کھیلے جانے والے ٹورنامنٹ کا میزبان پاکستان اس ایونٹ میں اپنے ٹائٹل کا دفاع بھی کرے گا، ٹورنامنٹ میں 8 ٹیموں کے مابین کُل 15 میچز کھیلے جائیں گے، یہ میچز تین مختلف مقامات پر کھیلے جائیں گے جبکہ پاکستان نے آخری بار 1996 میں آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی کی تھی، آئی سی سی 1996 ورلڈکپ میں پاکستان مشترکہ میزبان تھا ،ورلڈکپ 1996 کی میزبانی پاکستان، بھارت اور سری لنکا نے کی تھی۔

    ذرائع کے مطابق اس سے پہلے آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈکپ 2024 امریکا اور ویسٹ انڈیز میں ہو گا ،فروری 2025 کی چیمپئنز ٹرافی پاکستان میں ہو گی جبکہ ٹی 20 ورلڈکپ 2026 بھارت اور سری لنکا میں شیڈول ہے،اس کے علاوہ چیمپئنز ٹرافی 2029 کی میزبانی بھارت کو مل گئی ہے۔

    یادرہے کہ 2017 میں چیمپیئنز ٹرافی کے فائنل میں پاکستان نے بھارت کو 180 رنز سے شکست دے کر پہلی مرتبہ ٹرافی جیتنے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔فیصلہ کن معرکے میں فخر زمان کو مین آف دی میچ اور حسن علی کومین آف دی ٹورنامنٹ قرار دیا گیا تھا

  • شہازشریف کےبعد نوازشریف کاچوہدری سالک کوٹیلیفون   :چوہدری شجاعت کی خیریت دریافت:اچانک رابطےکیوں؟

    شہازشریف کےبعد نوازشریف کاچوہدری سالک کوٹیلیفون :چوہدری شجاعت کی خیریت دریافت:اچانک رابطےکیوں؟

    گجرات :شہازشریف کے بعد نوازشریف کا چوہدری سالک کو ٹیلیفون، چوہدری شجاعت کی خیریت دریافت:اچانک رابطے کیوں؟اطلاعات کے مطابق سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف اور ان کی بیٹی مریم نواز نے چوہدری سالک حسین سے فون پررابطہ کیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہےکہ نوازشریف اورمریم نواز نے چوہدری سالک سے ان کے والد چوہدری شجاعت حسین کی خیریت دریافت کی۔اس حوالے سے نواز شریف کا کہنا تھاکہ چوہدری شجاعت حسین وضع داری کی علامت ہیں۔

    یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ اس موقع پر مریم نواز نے کہا کہ ہم سب ان کی جلد صحت یابی کیلئےدعا گوہیں۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز ن لیگ کے صدر شہباز شریف نے بھی چوہدری سالک کو فون کرکے چوہدری شجاعت کی خیریت دریافت کی تھئ۔

    دوسری طرف معتبر ذرائع نے دعویٰ‌کیا ہے کہ پہلے شہبازشریف پھرنوازشریف اورمریم نواز کا خریت دریافت کرنا اپنی جگہ مگراس کے پیچھے کچھ اہم معاملات ضرور ہیں

    بعض ذرائع نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس طرح پہلے شریف برادران نے کبھی اس منصوبہ بندی سے ایسا نہیں کیا یہ اچانک برف کیوں پگھلنے لگی ، اس کے پیچھے سیاسی مصلحت ضرور ہے

    بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے پیچھے ایک بڑی حکمت ہے جس کا مقصد اداروں سے درگزرکرنے کی درخواست بھی ہے کیوں کہ اس وقت چوہدری برادران سے اہم حلقوں کا مکمل رابطہ ہے اوروہ چوہدری برادران کی عزت بھی کرتے ہیں ، اس لیے خریت دریافت کے ذریعے "ہتھ ہولا رکھن دی درخواست کی جائے گی”

    جبکہ یہ بھی خبریں ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ شریف برادران کوئی کچھڑی پکانے کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مستقبل قریب میں کوئی کھیل کھیلیں گے جس کے لیے قبل از وقت منصوبہ بندی ضروری ہے

  • نوازشریف کوکندھا دینے والے جج رانا شمیم کوبچانےکےلیے بیٹے نے قربانی پیش کردی

    نوازشریف کوکندھا دینے والے جج رانا شمیم کوبچانےکےلیے بیٹے نے قربانی پیش کردی

    اسلام آباد :نوازشریف کوکندھا دینے والے جج رانا شمیم کوبچانےکےلیے بیٹے نے قربانی پیش کردی،اطلاعات کے مطابق کرپشن کیس میں‌ برطرف لندن میں‌ مفرور سابق وزیراعظم نوازشریف کی سیاسی ساکھ کوبچانے کےلیے کندھا دینے والے سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کے بیٹےاحمد حسن رانا نے اپنے ابو کوبچانے کے لیے قربانی دینے کا اعلان کردیا ہے ،

    رانا شمیم کے بیٹے احمد حسن رانا نے کہا ہےکہ ان کے والد کا مؤقف یہ ہے کہ وہ اپنے بیان حلفی پر اسٹینڈ کرتے ہیں اور وہ اب جواب کے ساتھ پیش ہوں گے۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احمد حسن رانا نے کہا کہ رانا شمیم کا بیٹا بھی ہوں اوراب خوش قسمتی سے ان کا وکیل بھی ہوں، آج کیس ملتوی ہوکر26 نومبر تک چلا گیا ہے، اب رانا شمیم جواب کے ساتھ ذاتی حیثیت میں پیش ہوں گے۔

    انہوں نے وفاقی وزیر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فیصل واوڈا نے ایک ٹی وی ٹاک شو میں الٹا سیدھا بولا، انہوں نے کہا کہ رانا شمیم کے بیٹے کو نوازا گیا اور ایڈووکیٹ جنرل بنایا، میں کبھی بھی ایڈووکیٹ جنرل نہیں رہا بلکہ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل رہا ہوں، آپ ریکارڈ اٹھاکردیکھ سکتے ہیں کہ 6 مہینے میں میرا کام کیسا رہا، آپ کو پتا چلے گا کہ میں میرٹ پربھرتی ہوا تھا یا پرچی پر۔

    احمد حسن رانا کا کہنا تھا کہ یہ انکوائری طلب معاملہ ہے اورسپریم جوڈیشل کونسل میں جانا چاہیے، سپریم جوڈیشل کونسل میں شہادتیں ریکارڈ ہوں، جو حق پر ہے وہ سرخرو ہوجائےگا۔انہوں نے مزید کہا کہ میرے والد کا مؤقف یہ ہے کہ وہ اپنے بیان حلفی پر اسٹینڈ کرتے ہیں۔

  • ٹیکنیکل غلطی سے پی ٹی آئی این اے 133 سے آوٹ:لاہور ہائیکورٹ نےبھی جمشید اقبال چیمہ کی اپیل کومسترد کردیا

    ٹیکنیکل غلطی سے پی ٹی آئی این اے 133 سے آوٹ:لاہور ہائیکورٹ نےبھی جمشید اقبال چیمہ کی اپیل کومسترد کردیا

    لاہور:ٹیکنیکل غلطی سے پی ٹی آئی این اے 133 سے آوٹ:لاہور ہائیکورٹ نےبھی جمشید اقبال چیمہ کی اپیل کو مسترد کر دیا،اطلاعات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے جمشید اقبال چیمہ اور مسرت چیمہ کی اپیلوں کو مسترد کر دیا۔ جمشید اقبال چیمہ نے ریٹرننگ افسر اور ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف اپیلیں دائر کر رکھی تھیں۔

    ذرائع کے مطابق اس حوالے سے یہ معلوم ہوا ہےکہ ہائی کورٹ کے جسٹس جواد حسن اور جسٹس مزمل اختر پر مشتمل بنچ نے درخواستوں پر سماعت کی۔ الیکشن کمیشن اور ن لیگ کی امیدوار شائستہ پرویز کے وکیل نے درخواستوں کی مخالفت کی اور قابل سماعت ہونے پر اعتراض کیا۔

    عدالت نے درخواست گزار کے وکیل پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کا جج ہوں، دوسرے صوبہ کی بجائے یہاں کی عوام کو جوابدہ ہوں، یہ تاثر نہ دیں کہ عدالتوں کی وجہ سے کیس میں تاخیر ہو رہی ہے، آپ دلائل دیں، ہم سن لیتے ہیں۔

    وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ووٹر سرٹیفیکیٹ پر حلقہ کا نمبر نہیں لکھا ہوتا، میڈیا سے علم ہوا ہمارا تجویز کنندہ اس حلقے سے نہیں، الیکشن کمیشن کی ووٹر لسٹیں ناقص ہیں، ایک حلقہ کے ووٹوں کو دوسرے حلقہ میں شامل کر لیا گیا، علم ہونے پر ریٹرننگ افسر کو متبادل پیش کرنے کی اجازت مانگی، یہ درخواست مقررہ وقت سے پہلے دی تھی۔

    جسٹس جواد حسن کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ سناتے ہوئے جمشید اقبال چیمہ اور مسرت چیمہ کی اپیلوں کو مسترد کر دیا۔

  • عمران خان کے لیے جان بھی حاضر:ایم کیوایم پاکستان کا اعلان:پی ڈی ایم یہ سُن کوحواس باختہ ہوگئی

    عمران خان کے لیے جان بھی حاضر:ایم کیوایم پاکستان کا اعلان:پی ڈی ایم یہ سُن کوحواس باختہ ہوگئی

    کراچی :عمران خان کے لیے جان بھی حاضر:ایم کیوایم پاکستان کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان نے وفاقی حکومت کو الیکٹرونک ووٹنگ مشین پر سپورٹ کرنے کا فیصلہ کرلیا، ای وی ایم کیساتھ حیدرآباد یونیورسٹی کا قیام اور مردم شماری پر بھی بل لایا جائے گا۔

    ادھر اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان نے وفاقی حکومت کو ای وی ایم پر سپورٹ کرنے کا فیصلہ کرلیا ، اس حوالے سے وفاقی وزیر امین الحق نے کہا کہ فیصلہ رابطہ کمیٹی کی مشاورت سے کیا گیا ہے.

    .دوسری طرف وفاقی وزیرامین الحق کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اس ب.ل کیساتھ 2مزید بل بھی ایوان میں لائےگی، ای وی ایم کیساتھ حیدرآباد یونیورسٹی کا قیام اور مردم شماری پر بھی بل لایا جائے گا.

    گذشتہ روز شبلی فراز نے الیکٹرونک ووٹنگ مشین پر تحفظات تحفظات کے حوالے سے ایم کیوایم وفد کو تفصیلی بریفنگ دی تھی ، خالد مقبول، عامر خان، کنور نوید،وسیم اختر،امین الحق اور اسامہ قادری وفد میں شامل تھے۔اس دوران شبلی فراز نے ایم کیوایم کے تحفظات سنے اور ای وی ایم پر تفصیلی بریف کیا.

    ذرائع ایم کیوایم کا کہنا تھا کہ پاکستان،جمہوریت اورعوام کی بہتری کیلئےبہترفیصلہ کیاجائے گا ، الیکٹرونک ووٹنگ مشین پر بریفنگ اور تحفظات پر ایم کیوایم اراکین میں مشاورت بھی ہوگی.

    یاد رہے کہ کل پاکستان تحریک انصاف کی دوسری بڑی اتحادی جماعت پاکستان مسلم لیگ نے بھی عمران خان کی حکومت کی مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے اور کہا ہے کہ وہ خلوص دل کے ساتھ اس حکومت کے ساتھ ہیں اور ساتھ رہیں گے ،اس اعلان کے بعد اپوزیشن میں مایوسی پھیل گئی اورپھردیکھتے ہی دیکھتے پی ڈی ایم رہنماوں کے غباروں سے ہوا نکل گئی ، جس کےبعد مایوسی کے عالم میں پی ڈی ایم نے سپریم کورٹ جانے کی دھمکی دےدی

  • فروری 2019 میں بھارتی جارحیت نے جنوبی ایشیا کو جنگ کے دہانے پر دھکیل دیا        شاہ محمود قریشی

    فروری 2019 میں بھارتی جارحیت نے جنوبی ایشیا کو جنگ کے دہانے پر دھکیل دیا شاہ محمود قریشی

    وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (NDU) میں زیر تربیت افسران سے خطاب کیا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق خطاب کا موضوع "پاکستان کی خارجہ پالیسی اور درپیش چیلنجز، تھا مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں زیر تربیت افسران کے ساتھ بات چیت کرنا ہمیشہ خوشی کا باعث رہا ہے مجھے کئی دوست ممالک کے باسی شرکاء کو پاکستان کے سول اور فوجی افسران کے ساتھ اکٹھے دیکھ کر خوشی محسوس ہو رہی ہے۔

    مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم واقعی "دلچسپ دور” سے گزر رہے ہیں۔ جہاں دنیا تیزی سے بدل رہی ہے ہمارے لیے چیلنج یہ ہے کہ ہم، اپنے قومی مفادات کو فروغ دینے اور ان کو پہنچنے والے نقصانات کو روکنے کے لیے نئے حقائق سے ہم آہنگ ہونے کے لیے ہمہ وقت چوکس رہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا،وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور چین کے سنگم پر واقع ہے۔ اس لیے ہمارے اقتصادی مفادات کو فروغ دینے اور اپنے ثقافتی اور تاریخی تعلقات کو زندہ رکھنے کے لیے بہتر رابطہ ضروری ہے۔

    وزیر خارجہ نے کہا کہ کنیکٹیویٹی حوالے سے سی پیک، ایک اہم اقدام ہے پاکستان اس فریم ورک کو نہ صرف اپنے لیے بلکہ خطے کے لیے بھی گیم چینجر کے طور پر دیکھتا ہے۔

    گوادر پورٹ CPEC فریم ورک کے اہم اجزاء میں سے ایک ہے اس سلسلے میں گوادر اتنا اہم کیوں ہے؟ سوال پر وزیر خارجہ نے کہا کہ اول، یہ دنیا کی واحد قدرتی گہری سمندری بندرگاہ ہے، دوسرا، یہ بی آر آئی اور شاہراہ ریشم کے منصوبوں کو جوڑتی ہے-

    تیسرا، وسطی ایشیا اور افغانستان کے لیے مختصر ترین راستہ ہونے کی وجہ سے یہ خطے کے لیے گیٹ وے کے طور پر کام کرنے کے لیے موزوں ہے چوتھا، یہ یورپ سے یوریشیا تک ایک ممکنہ علاقائی تجارتی مرکز ہےلہٰذا، ہم گوادر کو علاقائی تعاون اور مشترکہ اقتصادی فوائد کے بے پناہ امکانات کے مرکز کے طور پر دیکھتے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ کئی ممالک نے سی پیک میں شرکت کیلئے دلچسپی ظاہر کی ہے پاکستان سی پیک کے تحت ساتھ بنائے جانے والے خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کرنے والے دیگر ممالک کو خوش آمدید کہے گا اس طرح علاقائی روابط اور مشترکہ ترقی کے ہمارے وژن کو عملی شکل ملے گی

    مخدوم شاہ محمود قریشی نے خطاب میں مزید کہا کہ ہمارا مقصد روزگار کے مواقعے اور علاقائی تجارتی روابط کا فروغ ہے ہم سی پیک کو نہ صرف ہمارے لیے بلکہ خطے کے لیے بھی گیم چینجر سمجھتے ہیں افغانستان مشترکہ ذمہ داری کا حصہ ہے۔ پاکستان نے افغانستان میں مذاکرات اور مفاہمت کے فروغ میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے-

    محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ کہا تھا کہ افغانستان کی جنگ کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور ایک پرامن اور خوشحال افغانستان پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے ہم افغانستان کی مدد میں متحرک رہے ہیں 15 اگست کے بعد، ہم نے 37 ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے 30,000 سفارتی اور این جی او کے عملے اور میڈیا کے افراد کو نکالنے میں سہولت فراہم کی-

    انہوں نے کہا کہ ہم اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ بین الاقوامی افواج کا انخلاء، بین الاافغان مذاکرات میں پیشرفت کے ساتھ، ذمہ دارانہ ہونا چاہیے پاکستان کا خیال ہے کہ اس وقت سب سے بڑا موقع افغانستان میں پائیدار امن اور استحکام کیلئے عالمی برادری کا اتحاد ہے بدقسمتی سے، امن مخالف عناصر، ایک بار پھر پاکستان کے خلاف بیانیے کو تبدیل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمارے خطے اور عالمی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہندوتوا کے نظریے کی پیداوار ہے،فروری 2019 میں بھارتی جارحیت نے جنوبی ایشیا کو جنگ کے دہانے پر دھکیل دیا ہمارا ردعمل اشتعال کا مقابلہ کرنے، روکنے اور اس آگ کو بجھانے والا تھا۔ ہم یہ تینوں مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

    ہم نے اپنے دفاع کا حق استعمال کیا اور کسی بھی بیرونی مہم جوئی کو ناکام بنانے کی اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا پاکستان کا مسلسل موقف رہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن جموں و کشمیر کے تنازع کے منصفانہ حل پر منحصر ہے پاکستان کے ساتھ بامعنی اور نتیجہ خیز تعلقات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی ذمہ داری بھارت پر عائد ہوتی ہے۔

    5 اگست 2019 کو بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے بعد وزیر اعظم عمران خان کی ہدایات کے تحت، ہم نے دنیا بھر میں کشمیر کاز کو ایک نئے جوش اور عزم کے ساتھ اٹھایا، اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا ہم نے تمام دستیاب فورمز پر بھارتی جارحیت کے باعث بین الاقوامی امن اور سلامتی کو لاحق خطرات کو واضح کیا۔

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں 55 سال کے وقفے کے بعد ایک سال میں تین مرتبہ کشمیر کی صورتحال زیر بحث آئی پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک کہ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ان کا جائز اور ناقابل تنسیخ حق، حق خودارادیت ان کو حاصل نہیں ہو جاتا۔

    بھارت کی اشتعال انگیزیوں کے باوجود، پاکستان نے نومبر 2019 میں کرتار پور راہداری کو کھول دیا جس میں بھارت سمیت پوری دنیا میں مقیم سکھوں کو ان کے مقدس ترین مقامات تک رسائی دی گئی عمران خان کا خطے اور پاک بھارت تعلقات کے لیے وژن، پرامن بقائے باہمی، بین المذاہب ہم آہنگی اور تنازعات کے پرامن حل پر مشتمل ہے۔

    خطے میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے وزرائے اعظم کے درمیان رابطے، دوطرفہ تعلقات میں بہتری کی نشاندہی کرتے ہیں پاکستان کے دیگر علاقائی شراکت داروں جیسے نیپال اور سری لنکا کے ساتھ دیرینہ دوستانہ تعلقات ہیں جو باہمی اعتماد اور احترام پر مبنی ہیں ہم امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو برقرار رکھنے اور مضبوط کرنے کے لیے پرعزم ہیں جو بہت قابل قدر اور باہمی طور پر فائدہ مند ہیں-

    ہم امریکہ کی اہمیت سے بخوبی واقف ہیں اور اپنے تعلقات کو عملی اور غیر جذباتی انداز میں آگے بڑھاناچاہتے ہیں جہاں تک امت مسلمہ کا تعلق ہے، پاکستان نے ہمیشہ پُل کا کردار کرنے اور بات چیت کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے، ہم نے بحرین، ایران، ملائیشیا، قطر، سعودی عرب، ترکی اور متحدہ عرب امارات سمیت دیگر ممالک کے ساتھ اپنی روایتی شراکت داری کا دائرہ وسیع اور مزید گہرا کیا ہے۔

    مئی 2021 میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں تشدد میں اضافے کے بعد، پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلانے کے لیے ترکی، سوڈان اور فلسطین کے ساتھ کاوشیں کیں، پاکستان نے ہمیشہ 1967 سے پہلے کی سرحدی پوزیشن اور القدس الاشریف بطور دارالحکومت، ایک قابل عمل، آزاد اور متصل فلسطینی ریاست کے لیے اپنی اصولی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

    او آئی سی کے بانی رکن کے طور پر، پاکستان تنظیم کے ساتھ فعال طور پر منسلک رہا ہے اور اس کے مختلف اداروں کو مضبوط بنانے کیلئے کوشاں رہا ہے پاکستان OIC کے دو اہم اداروں، یعنیCOMSTECH (وزارتی کمیٹی برائے سائنسی اور تکنیکی تعاون) اور اسلامک چیمبرز آف کامرس، انڈسٹری اور ایگریکلچر کی میزبانی کرتا ہے-

    پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ گہرے برادرانہ تعلقات ہیں ۔ ہمارے تعلقات روحانی نوعیت سے لے کر اسٹریٹجک اور اقتصادی نوعیت تک پھیلے ہوئے ہیں سعودی عرب اور خلیجی ممالک بالخصوص متحدہ عرب امارات میں مقیم ہمارے پاکستانی ہم وطن ریکارڈ ترسیلات زر کے ساتھ پاکستان کی معیشت میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔

    ایران کے ساتھ ہمارے دوطرفہ تعلقات تاریخی ، مذہبی ، ثقافتی اور گہری روحانی وابستگی سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہم نے مختلف دباؤ کے باوجود ایران کے ساتھ مسلسل بہترین تعلقات قائم رکھے ہیں پاکستان نے کئی افریقی ممالک کی، ان کی جدوجہد آزادی میں حمایت کی پاکستان گزشتہ 7 دہائیوں سے اقوام متحدہ کے امن مشنز کے ذریعے امن و سلامتی کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے-

    اب Engage Africa Initiative کے تحت، ہم اپنے افریقی دوستوں کے ساتھ اقتصادی سفارت کاری اور باہمی تعاون کے لیے نئی راہیں کھول رہے ہیں جنوری 2020 میں نیروبی میں پاکستان افریقہ ٹریڈ ڈویلپمنٹ کانفرنس کا انعقاد اس سلسلے میں ایک اہم اقدام تھاپاکستان نے افریقہ میں پانچ نئے مشن کھولے، نائجر اور تنزانیہ میں مشنز کو سفیر کی سطح تک اپ گریڈ کیا-

    وزیر اعظم عمران خان نے کرونا وبا کے تناظر میں ترقی پذیر ممالک کے لیے قرضوں میں ریلیف کی ضرورت پر زور دیا ہم موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ کے ساتھ ساتھ غیر قانونی مالیاتی بہاؤ کو روکنے کی کوششوں میں پیش پیش ہیں پاکستان اسلامو فوبیا کی بڑھتی ہوئی لہر کا مقابلہ کرنے اور اس کا مقابلہ کرنے اور اس کے خلاف سب سے زیادہ آواز اٹھانے والا ملک ہے۔

    پاکستان نے اس مسئلے کو مختلف اعلیٰ سطحی پلیٹ فارمز پر بھرپور انداز میں اٹھایا ہم اقوام متحدہ کے کثیرالجہتی نظام کو آگے بڑھانے اور اصلاحات کے ضمن میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں،وزیر اعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق، ہم اوورسیز پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھا رہے ہیں ۔

    ایف ایم پورٹل کو اس ماہ وسعت دی گئی ہے تاکہ پاکستانیوں کی سہولت اور مدد کی جا سکے اور بیرون ملک مقیم پاکستانی مشنز کی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنایا جا سکے ہم قونصلر طریقہ کار کو بھی آسان بنانے کیلئے کوششیں کر رہے ہیں۔مخدوم شاہ محمود قریشی

    وزیر خارجہ نے اس موقع پر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں زیر تربیت افسران کے سوالات کے جوابات بھی دیئے اور ان کی علمی جستجو کو سراہا-

  • وفاقی وزیر فواد چودھری نے الیکشن کمیشن سے معذرت کرلی

    وفاقی وزیر فواد چودھری نے الیکشن کمیشن سے معذرت کرلی

    الیکشن کمیشن کے خلاف بیانات سے متعلق کیس کی سماعت ،وفاقی وزیراطلاعات و نشریات فواد چوہدری الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے اور الیکشن کمیشن کے متعلق اپنے بیانات پر معذرت کرلی ہے۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن کے خلاف بیانات پر وفاقی وزیر فوادچودھر ی کو طلبی کا نوٹس جاری ہواتھا الیکشن کمیشن نے فواد چوہدری کو تحریری جواب جمع کرانے کا حکم دیا ہے الیکشن کمیشن میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امید ہے الیکشن کمیشن میری وضاحت کو مثبت انداز میں لے گا۔

    انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر کے حیثیت سے میں جو بھی بات کرتا ہوں وہ حکومت اور کابینہ کی پالیسی ہوتی ہے، وہ میری ذاتی رائے نہیں ہوتی۔

    ان کا کہنا تھا میں الیکشن کمیشن کو بتایا کہ جو بات کرتا ہوں بطور وزیر اطلاعات کرتا ہوں، میں وفاقی کابینہ کی نمائندگی کرتا ہوں۔ امید ہے الیکشن کمیشن میری باتوں کو مثبت لے گا۔

    فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ وہ ایک وکیل ہیں اور جج اور اداروں کا احترام کرتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ پارلیمان کااجلاس کل طلب کرلیاگیاہے ای وی ایم کا معاملہ پی ٹی آئی کا نہیں قومی ایجنڈا ہے بل تمام اتحادیوں کے ساتھ ملکر پاس کرارہے ہیں انتخابی اصلاحات ضروری ہیں، اپوزیشن تجاویز دیں، کھلے دل سے قبول کر لیں گے-

    وفاقی وزیر کا سابق چیف جسٹس کے بیانات کے معاملے پر کہنا تھا کہ نوازشریف یا مریم نوازکی عدالت پیشی ہوتی ہے کوئی نہ کوئی معاملہ اٹھایاجاتاہےن لیگ نے عدالتوں کے خلاف ایک مہم شروع کی ہےعدالتوں پر حملہ ن لیگ کی روایات کاحصہ ہےگزشتہ روز جعلی حلف نامہ سامنے آیا جس کی فیس شریف فیملی نے اداکی سابق جج لندن میں نواز شریف کے خرچے پر رہ رہے ہیں-

    واضح رہے کہ حکومت نے بالآخر بدھ کے روز پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلانے کا فیصلہ کرلیا تاکہ انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینز (ای وی ایمز) کے استعمال سے متعلق بل سمیت متنازع بلز منظور کرائے جاسکیں۔

    جبکہ اس سے قبل قانون سازی کی حمایت حاصل کرنے کے لیے وزیراعظم عمران خان نے پیر کو حکومتی اتحادیوں، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) اور پاکستان مسلم لیگ (پی ایم ایل-ق) کا اجلاس طلب کیا تھا۔

  • امریکی اور چینی صدور کے درمیان پہلی ورچوئل ملاقات، دونوں رہنماوں کا تعاون بڑھانے پر اتفاق

    امریکی اور چینی صدور کے درمیان پہلی ورچوئل ملاقات، دونوں رہنماوں کا تعاون بڑھانے پر اتفاق

    امریکی صدر جو بائیڈن اور چینی ہم منصب شی جن پنگ کے درمیان پہلی ورچوئل ملاقات میں دونوں رہنماوں نے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی میڈیا کے مطابق دونوں صدور کے درمیان ملاقات خوشگوار رہی اور دونوں نے گرمجوشی کے ساتھ ایک دوسرے کو سلام کیا۔ چینی صدر نے کہا کہ وہ اپنے “پرانے دوست” بائیڈن کو دیکھ کر خوش ہیں۔

    امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ بطور قائدین ذمہ داری ہے کہ دونوں ممالک تنازعات کی طرف نہ جائیں ہم دونوں نےہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ بہت ایمانداری اور صاف گوئی سے بات چیت کی ہے، ہم نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ دوسرے کیا سوچ رہے ہیں شاید مجھے زیادہ باضابطہ طور پر بات شروع کرنی چاہیے حالانکہ میں اور آپ کبھی بھی ایک دوسرے کے ساتھ اتنے رسمی نہیں رہے۔

    چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ امریکہ اور چین کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ دونوں ممالک کو رابطے اور تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے چینی صدر نے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک کے ساتھ مل کر چلنے پر زور دیا اور کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور کوویڈ 19 جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے مضبوط چین امریکہ تعلقات کی ضرورت ہے۔

    صدر شی جن پنگ کا کہنا ہے کہ انسان ایک گلوبل ویلج میں رہتے ہیں اور ہمیں مل کر متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ چین اور امریکہ کو رابطے اور تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے انہوں نے امریکی صدر سے کہا کہ چین اور امریکہ کے تعلقات کو مثبت سمت میں آگے بڑھانے کے لیے میں آپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہوں۔

    امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ ہمیں یقینی بنانا ہو گا کہ ہمارے ممالک کے درمیان مقابلہ کسی تنازع کی طرف نہ جائے۔ انہوں نے مزید کہاکہ اب تمام ممالک کو یکساں اصولوں کے مطابق چلنا ہوگا۔ امریکہ ہمیشہ اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے مفادات کے لیے کھڑا رہتا ہے۔

    امریکی صدر نے اتحادیوں کے مفادات کی بات کرتے ہوئے تائیوان مسئلے کی طرف اشارہ کیا ہے گزشتہ عرصے سے امریکہ اور چین کے درمیان تناو بڑھنے کی وجہ تائیوان کا معاملہ رہا ہے امریکی صدر نے چین کو وارننگ دی تھی کہ اگر اس نے تائیوان پر حملہ کیا تو امریکہ بھر پور جوابی کارروائی کرے گا۔

    وائٹ ہاوس سے امریکی اور چینی صدور کی ملاقات کا شیڈول جاری

    یاد رہے کہ چین اور امریکی صدور کے درمیان انتہائی اہم ملاقات ایسے وقت پرہوئی ہے جب دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان تائیوان، تجارت اور انسانی حقوق جیسے مسائل پر تناؤ بڑھ رہا ہے-

    واضح رہے کہ امریکہ اور چین میں طویل سرد مہری کے بعد ستمبر میں صدر جابائیڈن اور صدر شی جن پنگ میں پہلا ٹیلیفونک رابطہ ہوا تھا ۔ دونوں رہنماوں نے مسائل کے حل کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر زور دیا تھا۔

    وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا تھا صدر شی جن پنگ نے تائیوان سے متعلق معاہدے کی پاسداری کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

    چینی صدر نے کہا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کے معاملے پر تعاون جاری رکھیں گے چین سے متعلق امریکی پالیسی نے سنگین مشکلات پیدا کی ہیں دونوں صدور نے تنازع کی طرف جانے والے راستے سے دور رہنے پر زور دیاتھا۔

    خیال رہے کہ تائیوان نے چینی طیاروں کی در اندازی پر فکر کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسے حملے کا خطرہ محسوس ہو رہا ہے چند روز قبل 38 چینی فوجی طیاروں نے تائیوان کی دفاعی زون میں پروازیں کی تھیں، جو بیجنگ کی طرف سے اب تک کا سب سے بڑا حملہ تھا تائیوان کی وزارت دفاع کے مطابق ان طیاروں میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والے بمبار طیارے بھی شامل تھے، جو دو مرحلوں میں تائیوان کی فضائی دفاعی شناختی زون میں داخل ہوئے جبکہ تائیوان کی جانب سے اپنے جیٹ طیاروں اور میزائل سسٹم کے ساتھ اپنا دفاع کیا گیا۔

    چینی صدر شی جن پنگ کا رتبہ ماؤزے تنگ کے برابر قرار

    فضائی دفاعی شناختی زون کسی بھی ملک کے علاقے اور فضائی حدود سے باہر کا علاقہ ہوتا ہے لیکن یہاں آنے والے غیر ملکی طیاروں کو شناخت، نگرانی اور قومی سلامتی کے مفاد میں کنٹرول کیا جاتا ہے چین اور تائیوان 1940 کی دہائی میں خانہ جنگی کے دوران تقسیم ہوئے لیکن بیجنگ کا اصرار ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو اس جزیرے کو کسی وقت طاقت کے ذریعے دوبارہ حاصل کیا جائے گا۔

  • کرتار پور راہداری 17 نومبر سے کھولنے کا اعلان

    کرتار پور راہداری 17 نومبر سے کھولنے کا اعلان

    بھارتی حکومت نے سکھوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دئے اور بالآخر کرتار پور راہدراری17 نومبر سے کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔ بھارت نے کوروناوائرس کے پیش نظر 16 مارچ 2020 کو راہداری کو بند کر دیا تھا۔ جب کہ 2 اکتوبر 2020 کو پاکستان کی طرف سے راہداری دوبارہ کھولنے کا اعلان کر دیا گیا تھا۔

    پاکستان کی طرف سے متعدد بار بھارت کو خطوط لکھے گئے اور راہداری کھولنے کے حوالے سے فیصلہ لینے کی اپیل کی گئی۔ بھارت میں سکھوں کی تمام تنظیموں نے بھی راہداری کھولنے کے لئے بھارتی حکومت پر دباو ڈالا لیکن بھارتی حکومت ٹس سے مس نہ ہوئی۔

    گزشتہ ہفتے بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھنے والے سکھ ارکان پارلیمینٹ کے ایک وفد نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی اور انہیں کرتارپور راہداری کھولنے کی درخواست کی جسے قبول کرتے ہوئے مودی نے گورونانک دیو کی 552 ویں سالگرہ کے موقعہ پر راپداری کھولنے کا اعلان کر دیا۔ اس حوالے سے بھارتی دفتر خارجہ تمام انتظامات کو حتمی شکل دے رہا ہے اور اس سلسلے میں پاکستان کو سرکاری طور پر مطلع کیا جارہا ہے۔

    پاکستان متروکہ وقف املاک بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر عامر نے باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں غیر سرکاری طور پر اس بات کا علم ہے کہ بھارت کرتارپور راہداری17 نومبر کو کھولنے کے انتظامات کررہاہے تاہم بھارت کی طرف سے ابھی تک سرکاری طور پر مطلع نہیں کیا گیا انہوں نےکہا کہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ راہداری کو فوری طور پر کھولا جائے۔ 

  • عشقِ رسول کا سب سے بڑا ثبوت نبی ﷺ کی سیرت پر عمل کرنا ہے     وزیراعظم عمران خان

    عشقِ رسول کا سب سے بڑا ثبوت نبی ﷺ کی سیرت پر عمل کرنا ہے وزیراعظم عمران خان

    اسلام آباد:وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت رحمت للعالمین اتھارٹی کا جائزہ اجلاس ہوا اجلاس میں وزیر اعظم کو اتھارٹی کے قیام پر پیشرفت سے آگاہ کیا گیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق مذکورہ اجلاس میں وفاقی وزیر نورالحق قادری، شفقت محمود، اعجاز اکرم، خالد مسعود و دیگر نے شرکت کی جب کہ ڈاکٹر عطاء الرحمان نے وڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

    اجلاس میں وزیر اعظم کو دی گئی بریفنگ میں کہا گیا کہ اتھارٹی کے لیے جامع میڈیا پلان آئندہ ہفتے پیش کر دیا جائے گا اور اسلامو فوبیا کا سدباب کرنے کے لیے سفارتخانوں کو آن بورڈ لیا جائے گا-

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ جدید طریقہ کار سے نوجوانوں اوربچوں اور نوجوانوں کی سیرت طیبہ کی روشنی میں کردار سازی پر توجہ دی جائے گی نصاب میں سیرت طیبہ کی روشنی میں اخلاقیات کی تدریس شامل کی جائے گی جبکہ اسلام اور سائنس میں ہم آہنگی اجاگر کرنے کے لیے تحقیق اور اقدامات بھی اتھارٹی کے مقاصد میں شامل ہے۔

    اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ریاست مدینہ اصول پسندی اور اخلاقیات کا عملی نمونہ تھی جبکہ میثاق مدینہ انسانی حقوق کا محافظ تھا اسلامی معاشرہ اپنے دور کا سب سے جدت پسند معاشرہ تھا صوفیائے کرام نے سیرت کی روشنی میں مقامی لوگوں کو ان کی زبان میں دین کی تعلیمات دیں اور مذہبی تہواروں کو کردار سازی کا ذریعہ بنانے پر زور دیا جائے گا۔

    وزیر اعظم نے مزید کہا کہ جامعات میں تحقیق اور غورو فکر سے سیرت کے اہم پہلوؤں کو اجاگر کیا جائے گا پاکستان کا ہر شہری عاشقِ رسولﷺ ہے اور عشقِ رسول کا سب سے بڑا ثبوت نبی ﷺ کی سیرت پر عمل کرنا ہے۔

    وزیرِ اعظم نے اتھارٹی سے متعلق تمام اقدامات کو جلد عملی جامع پہنانے کی ہدایات جاری کیں۔