Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پاکستان نےامریکا کی دعوت ٹھکراکرحقیقی بھائی ہونےکا  ثبوت دیا،عمران خان بھی فخرہے: چین

    پاکستان نےامریکا کی دعوت ٹھکراکرحقیقی بھائی ہونےکا ثبوت دیا،عمران خان بھی فخرہے: چین

    بیجنگ :پاکستان نے امریکا کی دعوت ٹھکرا کر حقیقی بھائی ہونے کا ثبوت دیا،عمران خان بھی فخرہے:حقیقی لیڈرثابت ہوئے:اطلاعات کے مطابق چینی حکومت کے ترجمان ژاؤ لی جیان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اجلاس میں شرکت سے انکار پر حقیقی بھائی ہونے کا ثبوت دیا ہے۔

    ترجمان ژاؤ لی جیان نے ٹوئٹر پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان نے جمہوریت سربراہی اجلاس میں شرکت سے انکار کرکے چین کا حقیقی بھائی ہونے کا ثبوت دیا ہے۔

     

     

    چینی حکومت کے ترجمان نے اس موقع وزیراعظم پاکستان کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم کی دلیرانہ قیادت پر فخر ہے،ترجمان کا کہنا تھا عمران خان کے فیصلوں نے کپتان کو ایک حقیقی لیڈر اور قابل بھروسہ دوست ثابت کرکے ایک نئے باب کی بنیاد رکھی ہے جسے چینی قوم اور چینی حکومت کبھی بھی بھول نہیں سکتی

    خیال رہے کہ پاکستان نے امریکا کی جانب سے جمہوریت پر منعقد سربراہی کانفرنس میں شرکت اے معذرت کرلی ہے۔

    گزشتہ روز ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار احمد کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ 9 اور 10 دسمبر 2021 کو جمہوریت کے موضوع پر ورچوئل سربراہی کانفرنس میں پاکستان کو بھی مدعو کیا گیا ہے، جس پر امریکا کے شکر گزار ہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے ابیان میں کہا کہ پاکستان ایک بڑی فعال جمہوریت ہے جس میں آزاد عدلیہ، متحرک سول سوسائٹی اور آزاد میڈیا ہے، ہم جمہوریت کو مزید گہرا کرنے، بدعنوانی سے لڑنے اور تمام شہریوں کے انسانی حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے پرعزم ہیں۔

    عاصم افتخار احمد کا کہنا تھا کہ حالیہ برسوں میں، پاکستان نے ان اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے وسیع پیمانے پر اصلاحات کا آغاز کیا، جبکہ ہم امریکہ کے ساتھ اپنی شراکت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جسے ہم دو طرفہ اور علاقائی اور بین الاقوامی تعاون کے لحاظ سے بڑھانا چاہتے ہیں، متعدد مسائل پر امریکا کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ ہم مستقبل میں مناسب وقت پر اس موضوع پر مشغول ہو سکتے ہیں۔

    ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ اس دوران پاکستان مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے بات چیت، تعمیری مشغولیت اور بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

  • بجلی فی یونٹ4روپے 74پیسے مہنگی:نیپرا اور وزارت توانائی صفائیاں دینے لگی

    بجلی فی یونٹ4روپے 74پیسے مہنگی:نیپرا اور وزارت توانائی صفائیاں دینے لگی

    اسلام آباد:بجلی فی یونٹ4روپے 74پیسے مہنگی:نیپرا اور وزارت توانائی صفائیاں دینے لگی،اطلاعات کےمطابق عوام کے لئے ایک اور مشکل آگئی اور حکومت کی جانب سے فی یونٹ بجلی 4 روپے 74 پیسے مہنگی کردی گئی ہے۔

    نیپرا کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا،نوٹیفکیشن کے مطابق بجلی صارفین پر 60 ارب روپے سے زائد کا اضافی بوجھ پڑے گا ،کے الیکٹرک اور لائف لائن صارفین پر اطلاق نہیں ہو گا جبکہ اکتوبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی مہنگی ہوئی ہے۔

    صارفین سے اضافہ دسمبر کے بجلی بلوں میں وصول کیاجائے جبکہ نوٹیفکیشن کا اطلاق لائف لائن صارفین پر نہیں ہوگا۔

    دوسری جانب وزارت توانائی نے کہا کہ22نومبر کو بجلی کی قیمت میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے سے متعلق میڈیا خبروں کی وضاحت کی تھی، نیپرا میں موجودہ درخواست صرف ایک مہینے کے دوران استعمال شدہ فیول کی مد میں تھی، جس پر آج نیپرا نے باقاعدہ سنوائی کے بعد فیصلہ دیا ہے۔

    وزارت توانائی کا مزید کہنا تھا کہ آج کے فیصلے کا بجلی کی قیمت پر کوئی مستقل اثر نہیں پڑے گا، نیپرا ہر مہینے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی عوامی سماعت کرتا ہے، نیپرا بجلی کی قیمت میں مخصوص مدت کیلئے فیول کی قیمت کا تعین کرتا ہے جوکہ مثبت یا منفی ہو سکتی ہے۔

    توانائی کی وزارت کی جانب سے کہا گیا کہ عالمی منڈی میں تیل اور دوسرے ایندھن کی قیمتوں کا ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ پر براہ راست اثر پڑتا ہے، آج کے نیپرا کے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے فیصلے کی بنیاد بھی عالمی مارکیٹ میں اکتوبر کے مہینے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔

  • کورونا کا نیا ویرینٹ اومیکرون پاکستان پہنچ گیا، کراچی میں پہلا مشتبہ کیس رپورٹ

    کورونا کا نیا ویرینٹ اومیکرون پاکستان پہنچ گیا، کراچی میں پہلا مشتبہ کیس رپورٹ

    کراچی: کئی ممالک میں تیزی سے پھیلنے والا، کورونا وائرس کا نیا ویرینٹ ’اومیکرون‘ پہلی بار مبینہ طور پر پاکستان میں بھی رپورٹ ہوگیا ہے۔

    محکمہ صحت سندھ نے اومیکرون ویرینٹ کے پہلے کیس کے بارے میں بتایا کہ کراچی میں اومیکرون ویرینٹ کا پہلا مشتبہ کیس ایک نجی اسپتال میں رپورٹ ہوا ہے۔
    محکمہ صحت سندھ کے مطابق، مذکورہ خاتون میں اومیکرون ویرینٹ کی ممکنہ موجودگی کا انکشاف 8 دسمبر کو ہوا، تاہم ان میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی کوئی علامت موجود نہیں تھی۔ وہ خاتون ویکسی نیٹڈ بھی نہیں تاہم وہ گھر پر قرنطینہ میں ہیں۔
    دوسری جانب قومی ادارہ صحت نے بھی پاکستان میں اومیکرون کی موجودگی سے متعلق میڈیا پر آنے والی اطلاعات کے حوالے سے اپنے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ کراچی سے رپورٹ ہونے والے اومیکرون ویرینٹ کے مشتبہ کیس کی تاحال تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
    ابھی اس کا جینوم مکمل طور پر نہیں پڑھا گیا ہے جبکہ یہ عمل متاثرہ خاتون کے خون کا نمونہ حاصل کرنے کے بعد انجام دیا جائے گا جس میں دو ہفتے لگ سکتے ہیں۔ قومی ادارہ صحت نے عالمی وبائی حالات کے تناظر میں پاکستانی عوام سے پُرزور اپیل کی کہ وہ جلد از جلد ویکسین لگوائیں۔
    واضح رہے کہ اب تک ایشیا، افریقہ، مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور امریکا میں کورونا کے نئے ’اومیکرون ویرینٹ‘ کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ مزید ملکوں میں ظاہر ہوتا جارہا ہے۔
    اپنے تیز رفتار پھیلاؤ کے باوجود، اب تک دنیا میں کسی ملک سے بھی اومیکرون ویرینٹ کے باعث اموات کی کوئی خبر نہیں ملی ہے۔

  • ہیلی کاپٹرحادثے پر اٹھائے گئے سوال،ایم آئی 17 کے سابق پائلٹ کا بھی اہم انکشاف

    ہیلی کاپٹرحادثے پر اٹھائے گئے سوال،ایم آئی 17 کے سابق پائلٹ کا بھی اہم انکشاف

    ہیلی کاپٹرحادثے پر اٹھائے گئے سوال،ایم آئی 17 کے سابق پائلٹ کا بھی اہم انکشاف

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت اور انکی اہلیہ سمیت 13 افراد کی گزشتہ روز تامل ناڈو میں ہیلی کاپٹر حادثے میں موت ہوئی ہے، کل جمعہ کو حادثے میں ہلاک سب افراد کی آخری رسومات دہلی میں ہوں گی ،ڈیڈ باڈیز دہلی پہنچیں گی تو بھارتی وزیراعظم مودی لاشوں کو وصول کریں گے، آخری رسومات کی تقریب میں مودی بھی شریک ہوں گے،ہیلی کاپٹر حادثہ کیسے ہوا؟ بھارت کی وی وی آئی پی شخصیت ،بھارت کی افواج کا سربراہ کا ہیلی کیسے حادثے کا شکار ہو گیا ‘اس حوالہ سے بھارت میں بھی چہ میگوئیاں جاری ہیں، واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا جا چکا ہے اور ہیلی کا بلیک باکس بھی تحقیقاتی ٹیم کو مل چکا ہے تا ہم تحقیقات کے بعد سب کچھ سامنے آئے گا البتہ کچھ خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے

    ہیلی حادثے کو لے کر چار سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جنکے جواب کی تلاش ہے تا ہم ابھی تک حکومت کی جانب سے صرف تحقیقاتی کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے، کمیٹی نے اپنا کام شروع کردیا ہے ،ماہرین کا کہنا ہے کہ موسم کی خرابی ہیلی کے حادثے کی وجہ سے ہو سکتی ہے، بھارتی میڈیا پر ایک ویڈیو چلائی جا رہی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہیلی کاپٹر دھند سے نکلتا دکھائی دیتا ہے اور پھر دھند میں ہی داخل ہو جاتا ہے، موسم کی خرابی کی وجہ سے کئی فضائی حادثات ہو چکے ہیں، ایم آئی 17 کے سابق پائلٹ امیتابھ رنجن کا کہنا تھا کہ اکثر حادثات موسم کی خرابی کی وجہ سے ہوتے ہیں اور پہاڑی علاقوں میں ایسا ہوتا ہی ہے، جہاں حادثہ پیش آیا وہاں صبح کے وقت موسم صحیح نہیں تھا

    ہیلی حادثہ کی دوسری وجہ ہیلی کاپٹر میں تکنیکی خرابی بھی ہو سکتی ہے، لیکن تکینیکی خرابی کے حوالہ سے سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر تکنیکی خرابی تھی تو اس کو اڑانے سے پہلے چیک کیوں نہیں کیا گیا؟ کیا جنرل بپن راوت کو جان بوجھ کر مارنے کی سازش کی گئی کہ اسے خراب ہیلی میں سفر کروا دیا گیا؟ ،ایم آئی 17 کو محفوظ ترین ہیلی تصور کیا جاتا ہے، بھارتی وزیراعظم مودی بھی اس ہیلی میں سفر کرتے ہیں اور یہ دو انجن والا ہیلی ہے تا کہ اگر ایک خراب ہو تو دوسرے سے لینڈنگ کی جا سکے

    ہیلی حادثہ بارے تیسرا سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ ہیلی اپنے مقام سے دس کلو میٹر دور رہ گیا تھا کیا پائلٹ نے اونچائی کم کر دی تھی ؟ جس کی وجہ سے ہیلی حادثہ ہوا، تحقیقات میں اس بات کو دیکھا جائے کہ ہیلی کا جہاں حادثہ ہوا وہاں کتنی اونچائی پر پرواز پر تھا، اگر نچلی پرواز تھی تو پاور لائن سے ٹکر تونہیں لگ گئی، حادثے بارے چوتھا سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ واقعہ میں کہیں پائلٹ کی کوئی غلطی تو نہیں؟ انسانی غلطی بھی ہو سکتی ہے، ہو سکتا ہے پائلٹ کچھ بھول گیا ، تا ہم ان سوالوں کے جوابات تحقیقات کے بعد ہی ملیں گے،

    دوسری جانب ہیلی حادثہ کے ایک عینی شاہد نے خبر رساں ادارے کو بتایا جب ہیلی گرا تو میں نے تین افراد کو دیکھا جن میں سے ایک زندہ تھا، زندہ فرد نے ہم سے پانی مانگا، وہ زخمی تھا، ہم نے پانی پلایا، بعد ازاں فوجی پہنچ گئے اور ہمیں وہاں سے ہٹا دیا گیا، بعد میں ہمیں پتہ چلا کہ جس شخص کو میں نے پانی پلایا وہ بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت تھے

    بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت اور ان کی اہلیہ کا جسد خادی دہلی چھاونی میں لایا جائے گا اور جمعہ کو آخری رسومات ادا کی جائیں گی جسد خاکی ایک فوجی طیارے کے ذریعے دہلی پہنچایا جائے گا ، ہیلی کاپٹر کا فلائٹ ریکارڈ بلیک باکس تلاش کر لیا گیا ہے، بلیک باکس کے ملنے سے تحقیقات میں آسانی ہو گی، بلیک باکس کو ڈھونڈنے کے لئے تحقیقاتی ٹیم نے علاقے میں سرچ آپریشن کیا، ٹیم کو جائے حادثہ سے تقریبا 300 میٹر سے ایک کلومیٹر کے علاقے کے درمیان سرچ آپریشن کرتے ہوئے بلیک باکس ملا،ونگ کمانڈر آر بھاردواج کی قیادت میں بھارتی فضائیہ کے افسران کی 25 رکنی خصوصی ٹیم نے بلیک باکس برآمد کیا،

    بھارتی ریاست تامل ناڈو میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا ہے ،بھارتی افواج کے سربراہ بپن راوت ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو گئے ہیں، بہن راوت کی اہلیہ بھی ہلاک ہو گئی ہیں، جنرل بپن راوت پہلے بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف تھے، حادثہ پر وزیر دفاع راجناتھ سنگھ سمیت تمام لیڈروں نے بھی اظہار افسوس کیا ہے ،بھارتی فضائیہ نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے

    دوسری جانب چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے ہیلی حادثے اور ممکنہ موت پر بھارت کے اندر فوجی حلقوں میں جشن کا سماں ہے، وہ ہندوستانی فوج کے اندر ایک نفرت انگیز آدمی تھا جس نے آر ایس ایس اور مودی کے لیے اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے یہ نئی ترقی حاصل کی تھی بپن راوت کی سربراہی میں بھارت کو رافیل طیاروں میں کرپشن کا سامنا رہا بپن راوت کی سربراہی میں بھارت کو پلوامہ اور دوکلم میں ہزیمت اور اندرونی خلفشار کا سامنا رہا ہے

    بھارتی افواج کے سربراہ بپن راوت اپنی بیوی اور افسران کے ہمراہ محفوظ ترین ہیلی میں سوار تھے جس کے دو انجن ہیں، ایک انجن میں خرابی آنے کے بعد دوسرے انجن کے ساتھ محفوظ لینڈنگ کروائی جا سکتی ہے ، وی وی آئی پی شخصیات کے لئے اس ہیلی کاپٹر کا استعمال ہوتا ہے،

    واضح رہے کہ بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت اپنی مدت ملازمت پوری کرنے کے بعد 31 دسمبر 2019 کو ریٹائر ہوئے جنہیں مودی سرکار نے بھارت کا پہلا چیف آف ڈیفنس اسٹاف مقرر کیا تھا جنرل بپن لکشمن سنگھ راوت ہندوستانی فوج کے فور اسٹار جنرل تھے وہ بھارت کے علاقے اتراکھنڈ میں پیدا ہوئے، انڈین ملٹری اکیڈمی سے انہوں نے تعلیم حاصل کی، انکے والد بھی فوجی تھے، بھارتی حکومت نے فوج کے حوالہ سے قوانین میں ترمیم کر کے بپن روات کو عہدہ دیا تھا ،اس ضمن میں عمر کی حد بڑھا کر 62 سے 65 برس کی گئی تھی اور آرمی چیف کے عہدے سے ریٹائر ہونے کے بعد انہیں چیف آف ڈیفنس اسٹاف بنایا گیا تھا ،بپن راوت کے والد بھی لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے سے سبکدوش ہوئے تھے راوت نے 1978 میں فوج کی 11ویں گورکھا رائفلز کی 5ویں بٹالین میں کمیشن کے ساتھ اپنے فوجی کیریئر کا آغاز کیا تھا جنرل راوت مسلسل کامیابی کی سیڑھی چڑھتے رہے اور مختلف اہم ذمہ داریاں نبھاتے رہے، انہیں یکم ستمبر 2016 کو ڈپٹی چیف آف آرمی اسٹاف بنایا گیا تھا

    انڈیا کر رہا ہے پاکستان کے خلاف نئی سازش، بپن روات جھوٹ بولنے سے باز نہ آئے

    بادلوں کی وجہ سے طیارے راڈار میں نہیں آتے، بھارتی آرمی چیف کی مودی کے بیان کی تصد

    بھارتی ائیر فورس نے مقبوضہ کشمیر کے سرینگر ائیر بیس کے سینئر ترین ائر آفیسر کمانڈر کا تبادلہ کر دیا

    اپنا ہیلی کاپٹر گرانے والے بھارتی آفیسر کے ساتھ بھارت نے کیا سلوک کیا؟

    پاکستان کو دھمکیاں دینے والے بھارت کا ہیلی کاپٹر کیسے تباہ ہوا؟ جان کر ہوں حیران

    بریکنگ.بھارتی فضائیہ کا جنگی طیارہ تباہ، کیپٹن ہلاک

    بھارتی فضائیہ کا جنگی طیارہ تباہ،پائلٹ ہلاک، رواں برس کتنے طیارے تباہ ہو چکے؟

    وہی ہوا جس کا تھا انتظار،مودی کی مکاری،ڈرون کا الزام پاکستان پر عائد

    ہیلی کاپٹر حادثہ، بلیک باکس برآمد، تحقیقات کا آغاز

  • بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف بپن راوت کوواقعی فوج کےاندرسے ٹارگٹ کیاگیا:ثبوت ملنے لگے

    بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف بپن راوت کوواقعی فوج کےاندرسے ٹارگٹ کیاگیا:ثبوت ملنے لگے

    نئی دلی: بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف بپن راوت کوواقعی فوج کےاندرسے ٹارگٹ کیاگیا:ثبوت ملنے لگے،اطلاعات کے مطابق کل بھارتی چیف آف ڈیفنس جنرل بین راوت ایک ہیلی کاپٹرحادثے میں ہلاک ہوگئے ہیں اور ان کے ساتھ ان کی اہلیہ اور دیگر13 افراد بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں‌ ،

    ادھر پہلے تو بھارتی میڈیا اور دیگرنظررکھنے والوں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ بھارتی چیف آف ڈیفنس جنرل بین راوت فوج میں‌ انتہائی متنازعہ جنرل تے اور ان کے رویے سے کئی اعلیٰ جنرل بہت زیادہ پریشان تھے اور فوج کے اندر ہلاک ہونے والے جنرل کے خلاف سخت نفرت پائی جاتی تھی اور یہ بھی خدشہ ظاہر کیا تھا کہ بھارتی جرنیلوں نے ہی چیف آف ڈیفنس جنرل بین راوت کو مروا دیا ہے،

    سوشل میڈیا پر ہر گزرتے لمحہ کے ساتھ آوزیں بلند ہورہی ہیں کہ بھارتی ریاست تامل ناڈو میں آج ایک پراسرار ہیلی کاپٹر حادثے میں بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف بپن راوت کی ہلاکت بھارتی فوج میں موجود اختلافات کا شاخسانہ ہوسکتا ہے ۔

    کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بھارتی فوج کے سابق ڈی جی ایم او ریٹائرڈلیفٹیننٹ جنرل شنکر پرسادنے جو ایک دفاعی تجزیہ کار بھی ہیں، اپنے بلاگ میں بپن راوت کی ہلاکت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھاہے کہ آج بھارت کے ایک دو ر اندیش اور صاحب بصیرت فوجی کمانڈر کی ہیلی کاپٹر حادثے میں موت نے بہت سے سوالات کو جنم دیاہے ۔

    انہوں نے کہاکہ بھارتی فضائیہ کا ہیلی کاپٹرMi-17V5ایک انتہائی قابل اعتماد ہیلی کاپٹر ہے جوطویل عرصے سے بھارت میں زیر استعمال ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اس کی جدید ٹیکنالوجی اور بہترین حفاظتی ریکارڈ اسے انتہائی اہم شخصیات کے سفر کیلئے انتہائی موزوں بناتا ہے ۔ مزید برآں ایسے ہیلی کاپٹر کو چلانے کے لیے صرف انتہائی تجربہ کار پائلٹ اور ٹیکنیشنز کی خدمات حاصل کی جاتی ہیںاور اس ہیلی کاپٹر میں تکنیکی خرابیوںکا خدشہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔

    انہوں نے موسمی صورتحال کو حادثے کا باعث بننے کے خدشہ کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے کہاکہ ہمارے ہنر مند پائلٹ ہر طرح کے موسمی حالات میں کام کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں اورMi-17V5 جدید ایویونکس سے لیس ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کسی بھی وی وی آئی پی موومنٹ کی اجازت موسم کی صورتحال ، آپریشنل کلیئرنس، ایئر ڈیفنس کلیئرنس، سیکیورٹی کلیئرنس اور فلائٹ انفارمیشن کلیئرنس کے بعد ہی دی جاتی ہے ۔ ریٹائرڈلیفٹیننٹ جنرل شنکر پرسادنے سوال اٹھایا تو کیا یہ پائلٹ کی غلطی تھی، تکنیکی خرابی یا کوئی اور ؟

    انہوں نے کہاکہ حقیقت یہ ہے کہ جنرل راوت کی طرف سے متعارف کرائی گئی اصلاحات فوج نے بہت سے مسلح فورسز میں بہت سے حلقوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور ممکن ہے کہ ہم سب نے جس تباہی کا مشاہدہ کیا ہے اس میں انسانی ہاتھ ہو اوربھارت فوج میں موجود ناراض کالی بھیڑوں کاکیادھرا ہو ؟ایک ٹوئٹر ہینڈلر عادل راجہ نے بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کا بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو لکھا گیا خط شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف آف ڈیفنس سٹاف کی ناپسندیدہ تقرری کے بعد بھارتی اسٹیبلشمنٹ کے اندر جنگ چھڑ گئی تھی۔

    راج ناتھ سنگھ کے خط کے مطابق وادی گلوان میں چینی فوج کی طرف سے بھارتی فوجیوں کے ساتھ توہین آمیز سلوک آرمی چیف جنرل منوج نروانے اور فوج کے کمانڈر XIVکور لیفٹیننٹ جنرل ہریندر سنگھ کی طرف سے صورتحال کا غلط اندازہ لگانے کا نتیجہ تھا۔ راجناتھ سنگھ نے مزید کہا کہ اس سے نہ صرف ہندوستانی افسروں اور فوجیوں کو نقصان اٹھانا پڑا بلکہ بھارت کو بھی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ۔

     

    خط میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جنرل بپن راوت نے اس معاملے میں اور ماضی میں بھی ان کی کارکردگی کی وجہ سے دونوں افسروں کو ان کے عہدوں سے ہٹانے کی سفارش کی تھی۔بھارتی فوج کے سابق ڈی جی ایم او لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈشنکر پرساد نے بھی جنرل بپن راوت کے ایک حالیہ بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بھارتی فضائیہ ایک معاون فورس ہے نہ کہ خودجنگ لڑنے والی فورس ۔بھارتی فضائیہ کے سربراہ نے کھلے عام انہیں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاتھا کہ فضائیہ خود طاقت کا ایک سرچشمہ ہے۔اس عوامی تصادم نے تھیٹر کمانڈز کے تصور پر تینوں مسلح افواج کے درمیان گہرے اختلافات کو بے نقاب کیا۔

    بھارتی فضائیہ اور بحریہ کو ہمیشہ یہ خوف رہتا ہے کہ انہیں ماتحت فورس تک محدودکردیاجائے گا اور اس نظام کے ذریعے انہیںفوج کی کمان کے تحت لایا جائے گا۔انہوں نے مزید لکھاکہ اس ماڈل کے سب سے بڑے حامی جنرل بپن راوت تھے جنہیں دیگر مسلح افواج کی مخالفت کے باوجود ہندوستان کا پہلا چیف آف ڈیفنس سٹاف بنایا گیا تھا۔ صرف 2 ہفتے قبل راوت نے فضائیہ اور بحریہ کو تھیٹر کمانڈز کے تحت آنے کیلئے حتمی ڈیڈ لائن دی تھی۔

  • کلبھوشن یادیو کو وکیل فراہم کرنے کی حکومتی درخواست،دلائل طلب

    کلبھوشن یادیو کو وکیل فراہم کرنے کی حکومتی درخواست،دلائل طلب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں کلبھوشن یادیو کو وکیل فراہم کرنے کی حکومتی درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے نئی قانون سازی کے بعد درخواست قابل سماعت ہونے پر دلائل طلب کر لئے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا اس معاملے سے متعلق کوئی قانون سازی ہوئی ہے؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل سید طیب شاہ نے چیف جسٹس اطہر من اللہ کوجواب دیا کہ ایک ایکٹ پاس ہوا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت 27 جنوری تک ملتوی کر دی اٹارنی جنرل سے نئی قانون سازی کے بعد درخواست قابل سماعت ہونے پر دلائل طلب کر لئے گئے

    @MumtaazAwan

    وزارت قانون و انصاف نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا،حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے صدارتی آرڈیننس کے تحت عدالت میں درخواست دائر کی گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ قومی مفاد میں عدالت بھارتی ایجنٹ کلبھوشن یادیو کی جانب سے قانونی نمائندہ مقرر کرے،دائر درخواست میں مزید کہا گیا کہ کلبھوشن یادیونےسزاکیخلاف اپیل سےانکارکیا، کلبھوشن بھارتی معاونت کے بغیر پاکستان میں وکیل مقررنہیں کرسکتا،بھارت بھی آرڈیننس کے تحت سہولت حاصل کرنے سے گریزاں ہے،

    قبل ازیں اس حوالہ سے وزیرقانون فروغ نسیم نے عالمی عدالت انصاف نظرثانی بل اورکلبھوشن کیس پروضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بل کی مخالفت کرنے والوں نے شاید اسے پڑھا نہیں ،قونصلر رسائی نہ ملنے پر بھارت نے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیاپاکستان نے عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن کیس کا بھرپور دفاع کیا بھارت نے کلبھوشن کی بریت کی استدعا کی تھی،عالمی عدالت انصاف نے بھارتی جاسوس کی بریت کی درخواست مسترد کی،عالمی عدالت انصاف نے قونصلر رسائی کی درخواست منظور کی،عالمی عدالت انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے بل لائے،کلبھوشن کیس ملکی سیکیورٹی کا معاملہ ہے،کلبھوشن کا معاملہ ریڈ لائن ہے،کیسے پارلیمان ہیں جنہیں ملکی مفاد کا ہی پتہ نہیں ،بھارت کے ناپاک عزائم تھے،کلبھوشن سے متعلق قانون سازی پر بھارت کے ہاتھ کاٹ دیئے ہیں ،اپوزیشن میں بیٹھے سیاستدانوں کو سمجھ نہیں، وہ کیسے سیاستدان ہیں،اپوزیشن کو قومی سلامتی کا ادراک کیوں نہیں،قانون سازی کے معاملے پر ڈس انفارمیشن پھیلائی گئی،پاکستان کلبھوشن کیس جیت چکا ہے،پاکستان بنانا ری پبلک نہیں ہے،

    پاکستان کا کلبھوشن کے معاملے پربھارت سے دوبارہ رابطہ

    کلبھوشن کا وکیل مقرر کرنے کی درخواست پر سماعت کے لئے لارجر بینچ تشکیل

    کلبھوشن کی سزا کیخلاف ہائی کورٹ میں اپیل داخل کرنے کی مدت ختم

    کلبھوشن کا نام لینے یا نہ لینے پر حب الوطنی یا غداری کا سرٹیفیکیٹ جاری ہوتاتھا اب سہولت کاری کیلیے قانون بن رہا ہے، خواجہ آصف

    کلبھوشن یادیوتک قونصلر رسائی، بھارت مان گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھارت کو کلبھوشن تک قونصلر رسائی کا ایک اور موقع دے دیا

    کلبھوشن یادیو کیس ،حکومت کا عالمی عدالت انصاف آرڈیننس میں توسیع کا فیصلہ

    کلبھوشن کیس میں بھارت کی کیا کوشش ہے؟ ترجمان دفتر خارجہ نے بتا دیا

    پاکستانی عدالت کلبھوشن کا کیس نہیں سن سکتی، بھارت

    کلبھوشن کیس،وزیر قانون اور ن لیگی رہنما لڑ پڑے،کمیٹی کا چیئرمین نہیں لیکن آپکا نوکر بھی نہیں،فروغ نسیم کا جواب

    بھارت کلبھوشن کے ساتھ اکیلے کمرے میں قونصلر رسائی چاہتا،اٹارنی جنرل،عدالت کا حکم بھی آ گیا

    گزشتہ برس مئی میں بھارت نے اپنے جاسوس کلبھوشن یادیو کی پھانسی رکوانے کے لیے عالمی عدالت انصاف میں درخواست دائر کی تھی۔ 15 مئی کو بھارتی درخواست پر سماعت کا آغاز ہوا،نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں قائم عالمی عدالت اںصاف نے بھارت کی درخواست پر اٹھارہ سے اکیس فروری تک اس مقدمے کی سماعت کی تھی

    کلبھوشن کیس،مناسب ہے بھارت کو ایک اور موقع دیا جائے،اسلام آباد ہائیکورٹ

  • بھارت سے بات چیت کی کوشش کی مگر….وزیراعظم پھٹ پڑے

    بھارت سے بات چیت کی کوشش کی مگر….وزیراعظم پھٹ پڑے

    بھارت سے بات چیت کی کوشش کی مگر….وزیراعظم پھٹ پڑے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے پرامن اور خوشحال جنوبی ایشیا کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں انسانی بحران جنم لے رہا ہے

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا میں قیام امن ہر ملک کے مفاد میں ہے، اسی نیت سے وزیراعظم بننے کے بعد بھارت سے بات چیت کی کوشش کی مگر آہستہ آہستہ احساس ہوا کہ مودی سمجھتا ہے کہ ہم کمزور ہیں، ہمیں بھارت میں ایک آئیڈیولوجی کا سامنا تھا جس کا نام آر ایس ایس ہے ، اس آئیڈیولوجی کے ساتھ بھارتی سرکار کیساتھ گفت و شنید انتہائی مشکل ہے مودی کا نظریہ نہ صرف مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں بلکہ خود ہندوستان کے عوام کیلئے بھی بد قسمتی ہے جو لوگ جنگوں سے معاملات طے کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ تاریخ سے نا واقف ہوتے ہیں اور دوسرا انہیں اپنے ہتھیاروں پر بہت غرور ہوتا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ جنگ کے بعد مسائل چند لمحوں یا ہفتوں میں حل ہو جائیں گے

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ یہی سوچ لے کر امریکہ افغانستان میں آیا مگر پھر دنیا نے دیکھا کہ یہ چند ہفتوں کیلئے شروع کی جانے والی جنگ دو دہائیوں پر پھیل گئی افغانستان میں انسانی بحران جنم لے رہا ہے میں ماحولیات کے اس المیے سے ہم لوگ بیس سال پہلے آگاہ تھے مگر دنیا نےچشم پوشی کئے رکھی پاکستان میں تو کبھی سوچا ہی نہیں گیا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلی سے بھی کوئی فرق پڑے گا ملک میں 1960 کی دہائی میں معیاری منصوبہ بندی کمیشن بنا تھا ملک میں اس طرح کے تھنک ٹینک کی بہت ضروری ہے باہر امریکی تھینک ٹینک پاکستان پر گفتگو کر رہے ہیں نہ وہ یہاں کی تاریخ جانتے ہیں نہ یہاں کے لوگوں کے بارے میں کچھ علم رکھتے ہیں مگر وہ باہر بیٹھے پراپیگنڈا کرتے رہتے ہیں کہ یہ ایک انتہا پسند ملک ہے اور ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم موقف بھی بیان نہیں کرتے

    قبل ازیں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ 25 سال پہلے تحریک انصاف شروع کی تو ہمارا منشور واضح تھا کہ پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا ہے احساس راشن رعایت پروگرام کے اجراء سے شہریوں کو آٹا، گھی، تیل اور دالوں کی خریداری پر30 فیصدرعایت ملے گی احساس راشن پروگرام کی کل لاگت 120ارب روپے ہے، پروگرام کے تحت 2 کروڑ خاندان اور تقریبا 13 کروڑ افراد مستفید ہوں گے جو ملک کی کل آبادی کا تقریبا 53 فیصد ہے، ماہانہ 50 ہزار سے کم آمدن والے خاندان اس پروگرام سے استفادے کے اہل ہوں گے ۔ اہل صارفین کو کل خریداری پر 30 فیصد رعایت ملے گی،یہ رعایت آٹا، گھی یا تیل اور دالوں پرملے گی

    پولیس کا قحبہ خانے پر چھاپہ،14 مرد، سات خواتین گرفتار

    خاتون کے ساتھ زیادتی ،عدالت کا چھ ماہ تک گاؤں کی خواتین کے کپڑے مفت دھونے کا حکم

    جناح ہسپتال کا ڈاکٹر گرفتار،نرسز، لیڈی ڈاکٹرز کی پچاس برہنہ ویڈیو برآمد

    دو برس تک بیٹی سے مبینہ زیادتی کا مرتکب باپ گرفتار

    اسلحہ کے زور پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی ،برہنہ بنائی گئی ویڈیو وائرل

    طالبات کو کالج کے باہر چھیڑنے والا گرفتار،گھر کی چھت پر لڑکی کے سامنے برہنہ ہونیوالا بھی نہ بچ سکا

    دو سو افراد نے ایک ساتھ کپڑے اتار کر تصویریں بنوا کر ریکارڈ قائم کر دیا

    اسلحہ کے زور پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی ،برہنہ بنائی گئی ویڈیو وائرل

    جناح ہسپتال کا ڈاکٹر گرفتار،نرسز، لیڈی ڈاکٹرز کی پچاس برہنہ ویڈیو برآمد

  • سینیٹ ضمنی انتخاب:شوکت ترین کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    سینیٹ ضمنی انتخاب:شوکت ترین کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    پشاور: سینیٹ کے ضمنی انتخاب کیلئے شوکت ترین کے کاغذات نامزدگی منظور ہونے کے خلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی : پشاورمیں سینیٹ کی خالی نشست پر انتخاب کے حوالے سے الیکشن کمیشن میں مشیر خزانہ شوکت ترین کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے فیصلے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی، الیکشن ٹربیونل نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا جو آج ہی سنائے جانے کا امکان ہے۔

    درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف پیش کیا کہ الیکشن شیڈول جاری ہونے کے بعد ووٹر لسٹ منجمد ہوجاتی ہے، شوکت ترین کا ووٹ الیکٹورل رول میں درج نہیں ہے الیکٹورل رول میں ووٹ درج نہ ہونے پر شوکت ترین کے پی سے سینیٹ الیکشن نہیں لڑسکتے۔

    شوکت ترین کے وکیل علی گوہر نے مؤقف پیش کیا کہ سینیٹ کے لئے الیکشن کمیشن کا ووٹ سرٹیفکیٹ ہی کافی ہوتا ہے۔

    شوکت ترین کو سینیٹر بنانے کے لیے ٹکٹ جاری دیا گیا

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر محمد ایوب نے سینیٹر کے عہدے سے استعفی دے دیا تھا جس کے بعد انہیں وزیراعظم عمران خان کا معاون خصوصی بنایا گیا تھا، ان کی اس سیٹ پر شوکت ترین سینیٹ الیکشن میں حصہ لیں گے۔

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن خیبر پختونخوا نے سینیٹر محمد ایوب کے استعفیٰ کی وجہ سے خالی ہونیوالی نشست کے لئے انتخابی شیڈول کا اعلان کردیا، سینیٹ کی خالی نشست پر پولنگ 20 دسمبر کو ہوگی الیکشن کمیشن خیبرپختونخوا کے جاری کردہ انتخابی شیڈول کے مطابق سینیٹر محمد ایوب کے استعفیٰ کی وجہ سے خالی ہونیوالی نشست پر پولنگ 20 دسمبر کو ہوگی۔

    آرمی چیف کی زیر صدارت کور کمانڈر کانفرنس، سیکیورٹی اقدامات پراطمینان کا اظہار

    الیکشن کمیشن کاکہنا تھا کہ کاغذات نامزدگی جمع کروانے کی آخری تاریخ 2 دسمبر 2021 تک ہے، 11 دسمبر کو کاغذات جمع کرنے والے امیدواروں کی فہرست جاری ہوگی۔

    یاد رہے کہ شوکت ترین وزیر خزانہ کی ذمہ داریاں سنبھالتے رہے مگر عوام کا منتخب نمائندہ نہ ہونے کے باعث ان کے عہدے کی زیادہ سے زیادہ مدت چھ ماہ تھی جس کے بعد وہ وزیر خزانہ نہ رہے وزیراعظم عمران خان نے شوکت ترین کو اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے چھ ماہ کے وزیر خزانہ بنایا تھا اور امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ سینیٹر اسحاق ڈار کی سیٹ کی ڈی نوٹیفائی کر کے ان کی جگہ شوکت ترین کو وزیر خزانہ بنایا جائے گا تاہم قانونی پیچیدگیوں کے باعث انہیں وزارت خزانہ کا قلمدان نہ مل سکا جس کے باعث انہیں مشیر خزانہ کا قلمدان سونپا گیا تھا۔

    برطانوی وزیراعظم کی پریس سیکرٹری مستعفی:وزیراعظم کی حکومت خطرے میں‌:تہلکہ خیزانکشافات

    بطور مشیر شوکت ترین کمیٹیوں کے اجلاس کی سربراہی نہیں کر سکتے ، شوکت ترین کو پارلیمنٹ میں نشست دینے کیلئے پاکستان تحریک انصاف نےاپنے سینیٹر ایوب آفریدی کو سینیٹ کی سیٹ سے مستعفی کرایا ہے ۔

  • فواد چودھری کیخلاف نا اہلی کیس، درخواست گزار کی درخواست واپس لینے کی استدعا

    فواد چودھری کیخلاف نا اہلی کیس، درخواست گزار کی درخواست واپس لینے کی استدعا

    وفاقی وزیر فواد چودھری کیخلاف نا اہلی کیس میں درخواست گزار نے درخواست واپس لینے کی استدعا کر دی ۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں فواد چودھری کی نا اہلی سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی ، درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے درخواست واپس لینے کی استدعا کی جس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ آپ درخواست واپس کیوں لینا چاہتے ہیں ؟۔

    فواد چودھری کے خلاف نااہلی کیس کی درخواست پر سماعت کب ہو گی ؟ اہم خبر

    وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ مجھے درخواست واپس لینے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ نے عدالت سے کہ اکہ اگر درخواست گزار درخواست واپس لینا چاہتے ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے ۔

    عدالت کی جانب سے درخواست واپس لینے کی استدعا پر فیصلہ اگلی سماعت پر کیا جائے گا۔

    مجرمان کو عامی افراد کا خود سزا دینا منافی اسلام ہے

    واضح رہے کہ فواد چودھری کے خلاف دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ فوادچودھری نے کاغذات نامزدگی میں اثاثے چھپائے، الیکشن کمیشن میں درست معلومات نہیں دی گئیں-

    وفاقی وزیر سائنس وٹیکنالوجی فوادچودھری کے خلاف درخواست میں مزید کہا گیا تھا کہ فواد چوھدری نےملکیتی اراضی ظاہر نہیں کی، فوادچودھری آرٹیکل 62،63 پرپورانہیں اترتے ،عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ فوادچودھری کو 62 ون ایف کےتحت نااہل کیا جائے .

    فواد چوھدری قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 67 سے الیکشن لڑے تھے ان کے مقابلے میں مسلم لیگ کے امیدوار نوابزادہ مطلوب مہدی تھے، فواد چوھدری دس ہزار کی لیڈ سے الیکشن جیتے تھے-

    رواں سال پاکستان میں سب سے زیادہ سرچ کی جانے والی فلمیں و ڈرامے

  • برطانوی وزیراعظم کی پریس سیکرٹری مستعفی:وزیراعظم کی حکومت خطرے میں‌:تہلکہ خیزانکشافات

    برطانوی وزیراعظم کی پریس سیکرٹری مستعفی:وزیراعظم کی حکومت خطرے میں‌:تہلکہ خیزانکشافات

    لندن :برطانوی وزیراعظم کی پریس سیکرٹری مستعفی:وزیراعظم کی بھی چُھٹّی ہوسکتی ہے:تہلکہ خیزانکشافات ،اطلاعات کے مطابق اس وقت برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی حکومت سخت خطرے میں ہے ، اس کی وجہ بہت سنگین بتائی جارہی ہے،

    ادھر اپنے گناہ کا اقرار کرتے ہوئے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے بدھ کو برطانیہ کی پارلیمان کے دارالعوام میں اس ویڈیو پر معذرت کر لی ہے جس میں ان کے سٹاف کو گزشتہ سال کرسمس کے موقع پر ان کی سرکاری رہائش گاہ پر مبینہ پارٹی پر بات کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    بورس جانسن نے پارلیمان میں اس معاملے پر سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ متعدد مرتبہ اس بات کی یقین دہانی کرا چکے ہیں کہ کوئی پارٹی نہیں ہوئی تھی اور اعلان کیا کہ یہ انکوائری بھی کروائی جائے گی کہ آیا کووڈ کی وجہ عائد کسی ضابطے کی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی۔

    کرسمس کے موقع پر کووڈ کی پابندیوں کو ملحوظ نہ رکھتے ہوئے پارٹی کا اہتمام کرنے کے الزامات سامنے آنے کے بعد سے بورس جانسن کی حکومت شدید تنقید کی زد میں ہے۔

    اس پر عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ حزب اختلاف کے رہنما کیر سٹامر نے کہا ہے کہ وزیر اعظم رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں اور ان واقعات کے بارے میں ان کا بیان قابل اعتبار نہیں ہے۔

    ادھر غلط بیانی پر یہ ویڈیو بورس جانسن کی حکومت کا تختہ الٹ سکتی ہے ،ویسے تو برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کے لیے تنازعہ کوئی نئی چیز نہیں تاہم حالیہ دنوں میں وہ اور ان کی کابینہ ایک نئے سکینڈل کی زد میں آ گئے ہیں۔اس بہت بڑے جھوٹ نما سیکنڈل کے منظرعام پر آنے کے بعد قیاس آرائیاں شروع ہوگئی ہیں کہ بورس جانسن کو حکومت سے ہاتھ دھونا پڑے گا

    اس بار ان کے لیے مشکل وہ ویڈیو بن گئی ہے جس میں ان کی اپنی پریس سیکریٹری یہ انکشاف کر رہی ہیں کہ گذشتہ برس دسمبر میں کووڈ 19 کے باعث لاگو پابندیوں کے باوجود وزیر اعظم آفس میں ایک پارٹی کا انعقاد کیا گیا۔

    لیک ہونے والی ویڈیو کے مطابق اس پارٹی میں 40 سے 50 افراد شریک تھے اور یہ ویڈیو برطانیہ کے آئی ٹی وی چینل نے نشر کی ہے۔اب بورس جانسن کی طرف سے اقرار کرنے کےساتھ جہاں ان کی پریس سیکرٹری کو مستعفیٰ ہونا پڑا ہے ، بعض حلقوں نے خدشے کا اظہار کیا ہے کہ بورس جانسن کی حکومت بھی چند دن کی مہمان ہے