Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • شوکت صدیقی ڈکٹیٹربن گئے،ریاست اداروں کےساتھ مضبوط ہوتی ہے:موصوف انہیں اداروں پرحملہ آورتھے

    شوکت صدیقی ڈکٹیٹربن گئے،ریاست اداروں کےساتھ مضبوط ہوتی ہے:موصوف انہیں اداروں پرحملہ آورتھے

    اسلام آباد:شوکت صدیقی ڈکٹیٹربن گئے،ریاستیں اداروں کےساتھ مضبوط ہوتی ہیں اورموصوف انہیں اداروں پرحملہ آورتھے: اطلاعات کے مطابق آج سپریم کورٹ کے جسٹس عمر عطا بندیال نے سابق جج شوکت صدیقی کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ شوکت صدیقی نے حدود سے تجاوز کیا، تقریرعدلیہ کے خلاف کی، فوج کے خلاف کرتے تو پتا چل جاتا ان کا کتنا زور ہے۔

    سپریم کورٹ میں سابق جج اسلام آباد ہائیکورٹ شوکت عزیز صدیقی برطرفی کیس کی سماعت کے دوران وکیل حامدخان نے شوکت عزیزصدیقی کے خلاف ریفرنسز کی تفصیل پیش کی اور کہا کہ شوکت صدیقی نے ٹی ایل پی کے ساتھ معاہدہ کرنے پر جنرل کے دستخط پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کیا تھا۔

    اس پر جسٹس عمر عطابندیال نے ریمارکس دیے کہ آپ جس فیصلے کے ساتھ تعلق جوڑ رہے ہیں، اس پرسپریم جوڈیشل کونسل نے دو نوٹس جاری کیے تھے، شوکت صدیقی نے حاضر سروس افسران پر آبزرویشنزبغیر نوٹس کے دیں، فاضل جج نے کس طرح اپنے اختیار سے تجاوز کیا؟

    جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ شوکت صدیقی نے حدود سے تجاوز کیا، تقریرعدلیہ کے خلاف کی، فوج کے خلاف کرتے تو پتا چل جاتا ان کا کتنا زور ہے۔

    اس دوران جسٹس سردار طارق نے کہا کہ جب آرمی اور اس کے حاضر سروس افسران کے خلاف شکایت نہیں تھی تو کیا جج نے ازخود نوٹس لیا؟ کیا ہائیکورٹ کو ازخود نوٹس لینے کا اختیار تھا؟

    جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ جج کی بار یا پبلک فورم پر تقریر حدود و قیود میں ہوتی ہیں۔

    وکیل حامد خان نے کہا کہ آئین کسی جج کو نکالنے سے پہلے انکوائری لازم قراردیتا ہے، آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت الزامات کی انکوائری ضروری ہے، بغیر انکوائری جج کو نکالنے کی مثال بن گئی تو کسی بھی جج کو کسی بھی بنیاد پر کبھی بھی برطرف کر دیا جائے گا۔

    اعلیٰ عدالت نے کیس کی مزید سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی۔

  • جوڈیشل کمیشن نے جسٹس بابرستاراورجسٹس طارق جہانگیری کوپکّا کرنے کی منظوری دے دی

    جوڈیشل کمیشن نے جسٹس بابرستاراورجسٹس طارق جہانگیری کوپکّا کرنے کی منظوری دے دی

    اسلام آباد :جوڈیشل کمیشن نے جسٹس بابرستاراورجسٹس طارق جہانگیری کوپکّا کرنے کی منظوری دے دی ،اطلاعات کے مطابق جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار اور جسٹس طارق جہانگیری کی مستقلی کی منظوری دے دی۔

    چیف جسٹس پاکستان کی زیرِ صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا جس میں جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس سردار طارق نے شرکت کی جبکہ جسٹس مقبول باقر اور جسٹس ریٹائرڈ سرمد جلال عثمانی بذریعہ ویڈیو لنک شریک ہوئے۔

    اجلاس میں پاکستان بار کی جانب سے ممبر اختر حسین اور اسلام آباد بار کی جانب سے رفیع الدین بابر نے شرکت کی۔

    جسٹس طارق محمود جہانگیری کون؟

    ہزارہ ڈویژن خیبر پختون خواہ سے تعلق رکھنے والے طارق محمود جہانگیری 1992 سے اسلام آباد بار کے رکن ہیں اور انہوں نے بی اے ایل ایل بی کے بعد اپنی وکالت کا آغاز کیا اور بتدریج تجربے کی بنیاد پر ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ کے وکیل بنے۔

    پچپن سالہ طارق محمود جہانگیری فوجداری و دیوانی مقدمات کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ کچہری وکالت کے دوران 2005 میں ڈسٹرکٹ بار کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ جب کہ 2009 اور 2010 میں ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب کے فرائض بھی سرانجام دے چکے ہیں۔

    2011-2013 میں ڈپٹی اٹارنی جنرل آف پاکستان کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ 2016 میں اسلام آباد بار کے صدر جب کہ 2017 میں ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد رہ چکے ہیں۔ طارق محمود جہانگیری اسلام آباد میں واقع قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ قانون میں گزشتہ پانچ سال سے تدریسی فرائض بھی سرانجام دے رہے تھے۔

    طارق محمود جہانگیری احتساب عدالت میں مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال کے وکیل کے طور پہ بھی پیش ہوتے رہے ہیں۔

    جسٹس بابر ستار:

    اسلام آباد کے رہائشی 45 سالہ بابر ستار مشہور وکیل ہونے کے ساتھ ساتھ کالم نگار ہیں اور نجی ٹی وی چینل پر پروگرام میں تجزیہ بھی کرتے رہے ہیں۔

    جسٹس بابر ستار نے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے1997 میں انٹرنیشنل ریلیشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اس کے بعد انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے وکالت کی بیچلر ڈگری جب کہ ہارورڈ سکول آف لا سے ایل ایل ایم یعنی قانون کی ماسٹر ڈگری بھی حاصل کی۔

    بابر ستار کارپوریٹ اور ٹیکس سیکٹر کے اچھے وکیل سمجھے جاتے ہیں۔ مختلف مقدمات میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی ، پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اور ایس ای سی پی کے بھی وکیل رہ چکے ہیں۔

    واضح رہے بابر ستار جسٹس قاضی فائز عیسی کیس میں اُن کی قانونی ٹیم کا حصہ بھی رہے ہیں جبکہ صحافی مطیع اللہ جان کیس توہین عدالت کیس میں بھی بابر ستار بطور وکیل پیش ہوئے۔

    بابر ستار ٹویٹر پر پونے چار لاکھ فالوورز کے ساتھ کافی فعال نظر آتے رہے ہیں اور سول سپرمیسی پہ یقین رکھتے ہیں۔ز جسٹس طارق محمود جہانگیری اور جسٹس بابر ستار کو مستقل کرنے کی سفارش کی۔

    خیال رہے کہ گزشتہ سال جسٹس بابر ستار اور جسٹس طارق محمود جہانگیری کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں بطور ایڈیشنل جج تعینات کیا گیا تھا۔جوڈیشل کمیشن نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابرستاراورجسٹس طارق جہانگیری کی مستقلی کی منظوری دے دی

  • اس دن میرا جذبہ تھا کہ…ملک عدنان نے وزیراعظم ہاؤس میں دل کی بات بتا دی

    اس دن میرا جذبہ تھا کہ…ملک عدنان نے وزیراعظم ہاؤس میں دل کی بات بتا دی

    اس دن میرا جذبہ تھا کہ…ملک عدنان نے وزیراعظم ہاؤس میں دل کی بات بتا دی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم آفس میں ملک عدنان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس دن میرا جذبہ یہی تھا کہ کسی طرح سری لنکن شہری کو بچا لوں،چاہتا تھا کہ کوئی ایسا واقعہ نہ پیش آ جائے کہ ملک کا نام خراب ہو،یہ واقعہ پورے پاکستان کی سوچ کو بدل دے گا،سوچ بدلے گی تو آنے والی نسل کی بہتر پرورش ہو گی،

    آنجہانی پریا نتھا کمار کی یاد میں وزیراعظم آفس میں تقریب ہوئی ،تقریب میں وزیراعظم عمران خان شریک تھے ،تقریب میں پریانتھا کمار کے خاندان، سری لنکن حکومت اور عوام کےساتھ اظہار تعزیت کی گئی تقریب میں وفاقی وزرا، سری لنکن ہائی کمشنر اوردیگر شریک تھے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ملک عدنان کو سند اعزاز سے نوازا گیا،وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک عدنان کو دیکھ کر فخر محسوس ہوا،ملک عدنان نے سری لنکن شہری کی جان بچانے کی کوشش کی اخلاقی قوت جسمانی قوت سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے،دین کو استعمال کرنے والوں کو ہم نہیں چھوڑیں گے،ملک عدنان کی بہادری اور جرات پر ہمیں فخر ہے فیصلہ کرلیا ہے کہ ہم نے اس طرح کے اور واقعات نہیں ہونے دینے ملک میں رول ماڈل کی بہت ضرورت ہوتی ہے

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ سیالکوٹ کی بزنس کمیونٹی نے ایک لاکھ ڈالر پریانتھا کے خاندان کیلئے جمع کیا ہے، پریانتھا کے خاندان کو ساری زندگی تنخواہ دی جائے گی نبی ﷺ پوری دنیا کیلئے رحمت اللعالمین ﷺبن کرآئے مدینہ کی ریاست میں رحم اورانصاف تھا،پوری قوم عاشق رسول ﷺہے، ہمیں نبی ﷺکی سیرت پر چلنا ہوگا،

    قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ، سیالکوٹ واقعہ پرکی مذمت

    واضح رہے کہ توہین مذہب ،قرآن کا مبینہ الزام لگا کر غیر ملکی شہری کو جلا گیا گیا ،واقعہ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور سے 132 کلو میٹر دور سیالکوٹ کی تحصیل اگوکی میں پیش آیا جہان‌ایک فیکٹری میں جنرل منیجر کے طور پر کام کرنے والے ملازم کو قرآن مجید کی مبینہ بے حرمتی کے الزام میں عوامی ہجوم نے تشدد کر کے قتل کیا بعد ازاں اسکی لاش کو آگ لگا دی گئی فیکٹری کے مالک کا کہنا ہے کہ پرانتھا کمارا کےحوالے سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی تھی، جب اس معاملےکی اطلاع ملی تب تک پرانتھا کمارا ہجوم کے ہتھے چڑھ گیا تھا پولیس کو تقریباً صبح پونے گیارہ بجے اطلاع دی تھی، جب پولیس پہنچی تو نفری کم تھی، پولیس کی مزید نفری پہنچنے سے پہلے پرانتھا ہلاک ہوچکا تھا۔فیکٹری مالک نے بتایا کہ پرانتھا کمارا نے 2013 میں بطور جی ایم پروڈکشن جوائن کیا تھا، پرانتھا کمارا محنتی اور ایماندار پروڈکشن منیجر تھے

  • دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر:یوکرین پرمتوقع روسی حملہ:امریکہ واتحادی جوابی حملےکے لیےتیار

    دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر:یوکرین پرمتوقع روسی حملہ:امریکہ واتحادی جوابی حملےکے لیےتیار

    واشنگٹن :دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر:یوکرین پرمتوقع روسی حملے کے لیے امریکہ واتحادی جواب کے لیےتیار،اطلاعات کے مطابق وائٹ ہاؤس نے خبردار کیا ہے کہ اگر روس یوکرین پر حملہ کرتا ہے تو امریکہ مشرقی یورپ میں اپنی فوج کی موجودگی بڑھا دے گا اور روس کو اس کی جانب سے ’شدید اقتصادی نقصان‘ کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    یوکرین کے معاملے پر پچھلے 24 گھنٹوں سے صورت حال بڑی ہے اہمیت اختیار کرگئی ہے ، آج بھی وائٹ ہاوس اور پینٹا گان میں بڑی بڑے اہم اجلاس جاری ہیں‌ اس سلسلے میں‌ کل صحافیوں سے ایک پریس کال میں انتظامیہ کے سینیئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرتے ہوئے بتایا کہ اگر روس یوکرین پر حملہ کرتا ہے تو نیٹو کے مشرقی اتحادی اضافی فوجیوں اور صلاحیتوں کی درخواست کریں گے اور امریکہ فراہم کرے گا۔

    یہ بھی یاد رہے کہ یوکرین پر روسی متوقع حملے کے بارے میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس بھی ایک بیان میں کہہ چکے ہیں کہ اگر روس یوکرین سے پیچھے نہیں ہٹتا، اس کی خودمختاری اور آزادی کے لیے خطرہ بنتا ہے تو ہم اور ہمارے اتحادی کارروائی کے لیے تیار ہوں گے۔‘ وائٹ ہاؤس کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آج یعنی منگل کو امریکی صدر جو بائیڈن روسی صدر ولادی میر پوتن کے درمیان ویڈیو کال متوقع ہے۔

    ذرئع کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ کے ایک سینیئر عہدیدار نے بتایا کہ صدر بائیڈن صدر پوتن کو اس کال کے دوران خبردار کریں گے کہ اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو اسے سنگین اقتصادی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہونے جا رہے ہیں جب یوکرین کی سرحد پر دسیوں ہزار فوجی جمع ہونے کے بعد امریکہ روس کو یوکرین کے خلاف فوجی کارروائی شروع کرنے سے باز رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    ادھر اس حوالے سے روسی صدر ولادی میر پوتن کے ساتھ اپنی ورچوئل ملاقات سے قبل بائیڈن نے پیر کو فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے رہنماؤں سے بھی بات کی، جس کے بعد مغربی طاقتوں نے اس ’عزم‘ کا اظہار کیا کہ یوکرین کی خودمختاری کا احترام کیا جائے گا۔

    ایک سینیئر امریکی عہدیدارنے دعویٰ‌کیا ہے کہ امریکی صدر اپنے یوکرینی ہم منصب ولادو میر زیلنسکی کو بھی فوری طور پر پوتن کے ساتھ اپنی بات چیت کی تفصیلات سے آگاہ کریں گے، جو منگل کو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ہو رہی ہے، کیونکہ دسیوں ہزار روسی فوجی یوکرین کی سرحد کے قریب تعینات ہیں۔ مذکورہ عہدیدار نے کہا کہ وائٹ ہاؤس کو نہیں معلوم کہ آیا پوتن نے یوکرین کے خلاف اپنی فوجی دستوں کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے یا نہیں، تاہم وہ براہ راست امریکی مداخلت کی دھمکی دینے سے باز رہے۔

    اس امریکی عہدیدار نے بڑے وثوق سے کہا کہ اگر روس نے حملہ کیا تو امریکہ اور یورپی اتحادی سخت ’جوابی معاشی اقدامات‘ کرسکتے ہیں جو روسی معیشت کو اہم اور شدید اقتصادی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’اس کے علاوہ صدر بائیڈن یہ واضح کریں گے کہ اگر پوتن پیش قدمی کرتے ہیں تو مشرقی خطے کے اتحادیوں کی طرف سے اضافی افواج، دفاعی صلاحیتوں اور مشقوں کے لیے موجود درخواست پر امریکہ کی طرف سے مثبت جواب ملے گا۔

    وائٹ ہاؤس نے یورپی رہنماؤں کے ساتھ بائیڈن کی بات چیت کے بعد ایک بیان میں کہا کہ مکمل بات چیت میں روس سے کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ ڈونباس میں تنازع کو حل کرنے کا واحد راستہ سفارت کاری ہے۔ یوکرین کے مطابق روس کی سرحد کے قریب ایک لاکھ کے قریب فوجی موجود ہیں۔

    دوسری جانب روس کسی بھی جنگی ارادے کی تردید کرتا ہے اور مغرب پر اشتعال انگیزی کا الزام لگاتا ہے، خاص طور پر بحیرہ اسود میں فوجی مشقوں کے ساتھ، جسے وہ اپنے اثر و رسوخ کے ایک حصے کے طور پر دیکھتا ہے۔ پوتن مغرب سے یہ وعدہ چاہتے ہیں کہ یوکرین نیٹو کا حصہ نہیں بنے گا، جو سابق سوویت یونین کا مقابلہ کرنے کے لیے بنایا گیا ٹرانس اٹلانٹک اتحاد ہے۔

    پینٹاگون نے واضح کیا ہے کہ وہ روسی فوجیوں کی تعداد میں اضافے کو ایک سنگین خطرے کے طور پر لے رہا ہے۔ روس کے صدر کے دفتر نے پیر کو کہا تھا کہ ماسکو بائیڈن- پوتن کال سے کچھ زیادہ توقعات نہیں رکھتا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس کے مطابق ہے کہ امریکہ اب بھی سمجھتا ہے کہ روس اور مغرب کے درمیان یوکرین کی روس نواز علیحدگی پسندوں کے ساتھ جنگ ​​بندی پر عمل درآمد سے متعلق منسلک معاہدے ممکن تھے۔

    ترجمان کی طرف سے یہ بھی کہاگیا ہے کہ ہمیں یقین ہے کہ اس مسئلے کو سفارتی طور پر حل کرنے کے لیے ہمارے سامنے ایک موقع، ایک آپشن موجود ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ اگر روس اس میں دلچسپی ظاہر نہیں کرتا تو امریکہ ’بھاری اثرات والے اقتصادی اقدامات کو لاگو کرنے کے لیے تیار ہے، جو ہم نے ماضی میں استعمال کرنے سے گریز کیا ہے۔‘

     

     

  • وزیراعظم کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس شروع:اہم فیصلے متوقع

    وزیراعظم کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس شروع:اہم فیصلے متوقع

    اسلام آباد:وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس شروع:اہم فیصلے متوقع ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس شروع ہوگیا۔اجلاس میں ملکی سیاسی و معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔اجلاس میں سیالکوٹ سانحہ پر بھی بات چیت کی جائے گی، سیالکوٹ سانحہ پر ملزمان کے خلاف کاروائی پر کابینہ ارکان کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس کا 17 نکاتی ایجنڈہ جاری کر دیا گیا ۔

    ذرائع کے مطابق آج وزیراعظم کی صدارت میں کابینہ کو وزارتوں اور اداروں میں سی ای اوز اور ایم ڈیز کی خالی آسامیوں پر بریفنگ دی جائے گی،سکائی ونگز پرائیویٹ لمیٹڈ کو ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل فلائیٹ لائسنس کے اجرا کی منظوری دی جائے گی،افغان باشندوں کو کسی تیسرے ملک میں جانے کے لیے زمینی یا فضائی محفوظ راستہ دینے کی منظوری دی جائے گی۔

    اجلاس میں انٹرنیشنل این جی اوز کے لیے ویزے کے طریقہ کار کی منظوری بھی ایجنڈے میں شامل کیا جائے گا جبکہ عمر سعید خان کو سیکیورٹی ایکٹ کے تحت نظر بند کیے جانے کی منظوری دی جائے گی۔وفاقی کابینہ اجلا س میں گیپکو اور ٹیسکو کے سی ای اوز کی تعیناتی کی منظوری بھی ایجنڈے میں شامل ہیں۔

    اجلاس میں پاکستان سٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کی مارکنگ فیس پر نظرثانی کی منظوری دی جائے گی،ڈی جی پاکستان سٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کراچی کی منظوری دی جائے گی۔کابینہ اجلاس میں اوگرا کی سال 2019-20 کی رپورٹ پیش کی جائے گی،کابینہ کمیٹی برائے نجکاری اور ای سی سی کے فیصلوں کی توثیق بھی کرے گی،

    کابینہ کمیٹی برائے لیجیسلیٹو کیسز کے فیصلوں کی توثیق کی جائے گی،کابینہ کو معاشی اعشاریوں کے حوالے سے بریفنگ بھی ایجنڈے میں شامل ہے ۔ اجلاس میں شعبہ زراعت کی 5 بڑی فصلوں سے متعلق کارکردگی پر بریفنگ دی جائے گی جبکہ یوریا فرٹیلائزر کی ٹی سی پی کے ذریعے درآمد سے متعلق رولز 2004 میں جزوی استثنیٰ کی منظوری دی جائے گی۔

  • سیالکوٹ بار کا سری لنکن شہری کے قتل میں ملوث ملزمان کا مقدمہ  نہ لڑنے کا اعلان

    سیالکوٹ بار کا سری لنکن شہری کے قتل میں ملوث ملزمان کا مقدمہ نہ لڑنے کا اعلان

    سیالکوٹ بار نے سری لنکن شہری کے قتل میں ملوث ملزمان کا مقدمہ نہ لڑنے کا اعلان کر دیا

    سیالکوٹ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کا اجلاس ہوا جس میں ملزمان کو وکالت نامہ نہ دینے کی قرارداد پیش کی گئی،،قرارداد وکلا کی کثیر تعداد نے بھاری اکثریت سے منظور کرلی،صدر بار خالد قریشی کا کہنا تھا کہ سیالکوٹ واقعے سے دنیا بھرمیں اسلام اور پاکستان کا امیج خراب ہوا سیالکوٹ واقعے کے علاوہ بھی تشددکرنے والوں کا کیس نہیں لیا جائے گا

    قبل ازیں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا،وفاقی کابینہ کی نے سیالکوٹ واقعہ کی مذمت کی اور کہا کہ ایسے واقعات ملک کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں،واقعہ میں ملوث افراد کیخلاف سخت کارروائی کی جائے،

    قبل ازیں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ وزارت قانون سے ایسے قوانین آنے چاہئیں کہ اس طرح کے مقدمات کے فیصلے جلد از جلد ہوں سیالکوٹ میں دل دہلا دینے والا واقعہ ہوا، میں نے سری لنکن ہائی کمشنر کو یقین دلایا ہے کہ مجرمان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی

    سیالکوٹ کے دلخراش و افسوسناک واقعے پر پاکستان بھر کے جیّد علماء کرام و اسلامی نظریاتی کونسل کے وفد نے الشیخ مفتی محمد تقی عثمانی کی سربراہی میں سری لنکن سفیر سے ملاقات واظہار افسوس کیا ہے ،اس موقع پر مفتی تقی عثمانی کا کہنا تھا کہ سری لنکا دکھ میں برابر کے شریک ہے سری لنکا بردار ملک ہے ہم ملزم کو سزا دینگے سیالکوٹ واقعہ نے پوری قوم کو ہلا کررکھ دیااس موقع پر سری لنکن ہائی کمشنر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مفتی تقی نے کہا کہ ہم ملاقات کیلئے وقت دینے پر سری لنکن ہائی کمشنر کے مشکور ہیں حکومت سے درخواست ہے کہ متاثرہ خاندان کو معاوضہ دے۔ واقعے پر دکھ ہے، ملوث افراد کو سخت سزا دی جائے۔

    پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین اور وزیراعظم کے مشیر علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ تمام علما نے واقعے کی مذمت کی اورملزمان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا،سیالکوٹ واقعہ کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کریں گےعدالتوں سے جلد انصاف کی توقع کرتے ہیں سری لنکن شہری کے اہلخانہ کی مدد کی جائے گی جس شخص کو کلمہ صحیح طریقے سے پڑھنا نہیں آتا وہ بھی فتوے جاری کررہا ہے۔ پولیس کے شہدا کے حوالے سے آئی جی پنجاب نے واضح کر دیا ہے کہ کسی قاتل کو معافی نہیں دی جائے۔

    مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ ہمارے پاس الفاظ نہیں جس سے ہم اپنے ردعمل کا اظہار کریں ہم یہاں سری لنکن عوام سے اظہار مذمت کرنے آئے ہیں۔ یہ ایک ظالمانہ اقدام تھا، جسے کوئی بھی سپورٹ نہیں کرے گا۔ اور نہ کوئی اس پر جواز پیش کرسکتا ہے، ہم واقعہ پر شرمندہ ہیں۔وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سربراہ قاری حفیظ جالندھری نے جمعہ 10 دسمبر کو ملک بھر میں یوم مذمت منانے کا اعلان کیا ہے۔ اس دن تمام مساجد اور امام بارگاہوں میں اسی موضوع پر گفتگو ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ملاقات میں اس بات کا یقین دلایا ہے کہ حکومت پاکستان مجرمان کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کرے گی۔ انہیں عبرتناک سزا دی جائے گی۔سینیٹر ساجد میر کا کہنا تھا کہ یہاں ہم سانحہ سیالکوٹ کی مذمت اور سری لنکن عوام اور متاثرہ اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرنے آئے ہیں۔ سیالکوٹ میں جو ہوا وہ اسلامی تعلیمات نہیں بلکہ اسلام اور اس کی تعلیمات کے خلاف تھا، جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں اور ہم اس ڈیمانڈ کو سپورٹ کرتے ہیں کہ ملوث ملزمان کو قرار واقعی سزا دے جائے۔صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر کا کہنا تھا کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب یہاں تعزیت اور ہمدردی کیلئے آئے ہیں۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں تھی کہ غلط الزام لگا کر کسی شخص کو اس بے دردی سے قتل کیا جائے۔ ہم واقعہ کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ اس واقعہ کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ نہ پاکستان کا آئین ایسے کسی اقدام کی اجازت دیتا ہے۔ اسلام امن، محبت اور رواداری کا سبق دیتا ہے نا کہ کسی بے گناہ کی ناحق جان لینے کا یہ ایک غیر انسانی اور غیر انسانی عمل تھا۔

    شیعہ علما کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ عارف وحدی نے کہا کہ ہم یہاں پوری قوم کی نمائندگی کیلئے یہاں آئے ہیں۔ ہم یہ پیغام دینے آئے ہیں کہ دونوں ممالک جیسے پہلے برادر ملک تھے، ویسے ہی رہیں گے۔ ہم دوستی برقرار رکھیں گے اور مزید بہتر تعلقات قائم کریں گے۔مفتی عبدالرحیم ان کا کہنا تھا کہ ہم اس شدت پسندی کی مذمت کرتے ہیں، یہ شدت پسندی پاکستان اور اسلام کے ساتھ دشمنی ہے۔

    پریس کانفرنس کے ساتھ ایک اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ بغیر ثبوت کے توہین مذہب کا الزام لگانا غیر شرعی عمل ہے سیالکوٹ سانحہ ایک المیہ ہے ان کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے,اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین سمیت پاکستان بھر کے مستند علما نے بھرپور طریقے سے اس کی مذمت کی ہے-عاقبت نا اندیش عناصر کا یہ اقدام ملک و قوم، اسلام اور مسلمانوں کی سبکی کا باعث بناہے,علاوہ ازیں پیغام پاکستان کی قومی دستاویز جس میں ایسے ہر قسم کے مسلح اقدام کی نفی کی گئی، یہ اقدام اس سے سرسر انحراف ہے,پیغام پاکستان کو پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اور مدارس بورڈز کی تائید حاصل ہے,ان شر پسند افراد کے خلاف رائج ملکی قوانین کے مطابق سخت سے سخت قانونی اقدامات کئے جائیں,اس تکلیف دہ واقعہ میں امید کی ایک کرن یہ تھی کہ نوجوان ملک عدنان نے اپنی جان کی پروا کئے بغیر اس قتل ہونے والے بے گناہ شخص کو بچانے کی بھرپور کوشش کی اس نوجوان کا یہ اقدام قابل تحسین بھی ہے اور قابل تقلید بھی,وزیر اعظم پاکستان نے اس نوجوان کی حوصلہ افزائی کے لیے تمغہ شجاعت دینے کا اعلان کر کے ایک بہت مستحسن اقدام کیا ہے علمائے کرام اعتدال پسندی کو فروغ دیں گے اور معاشرے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے،سیالکوٹ واقعے میں ملوث افراد کو سخت سے سخت سزا دی جائے گی ،

    قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ، سیالکوٹ واقعہ پرکی مذمت

    واضح رہے کہ توہین مذہب ،قرآن کا مبینہ الزام لگا کر غیر ملکی شہری کو جلا گیا گیا ،واقعہ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور سے 132 کلو میٹر دور سیالکوٹ کی تحصیل اگوکی میں پیش آیا جہان‌ایک فیکٹری میں جنرل منیجر کے طور پر کام کرنے والے ملازم کو قرآن مجید کی مبینہ بے حرمتی کے الزام میں عوامی ہجوم نے تشدد کر کے قتل کیا بعد ازاں اسکی لاش کو آگ لگا دی گئی فیکٹری کے مالک کا کہنا ہے کہ پرانتھا کمارا کےحوالے سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی تھی، جب اس معاملےکی اطلاع ملی تب تک پرانتھا کمارا ہجوم کے ہتھے چڑھ گیا تھا پولیس کو تقریباً صبح پونے گیارہ بجے اطلاع دی تھی، جب پولیس پہنچی تو نفری کم تھی، پولیس کی مزید نفری پہنچنے سے پہلے پرانتھا ہلاک ہوچکا تھا۔فیکٹری مالک نے بتایا کہ پرانتھا کمارا نے 2013 میں بطور جی ایم پروڈکشن جوائن کیا تھا، پرانتھا کمارا محنتی اور ایماندار پروڈکشن منیجر تھے

    صفائی ستھرائی کے لیے جس سپروائزر کی پریانتھا نے سرزنش کی اسی نے ورکرز کو اشتعال دلایا، پولیس رپورٹ

    مقتول سری لنکن منیجر کی اہلیہ کا پہلا بیان:وزیراعظم عمران خان ہمیں‌ انصاف چاہیے

    بے بنیاد اور وحشیانہ قتل کب بند ہوں گے:صوفیہ مرزا بھی چُپ نہ رہ سکیں‌

    یقین سے کہتا ہوں کہ عمران خان ذمے داروں کوکٹہرے میں لائیں گے،سری لنکن وزیراعظم کی…

    سیالکوٹ واقعہ کی ابتدائی رپورٹ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش :مذہبی انتہا…

    سیالکوٹ میں افسوسناک واقعہ: لوگوں کو اشتعال دلانے والا دوسرا ملک دشمن،اسلام دشمن…

    سیالکوٹ واقعہ کی ابتدائی رپورٹ پیش،گرفتار افراد میں سے 13اہم ملزمان کی تصاویر جاری

    سانحہ سیالکوٹ، سری لنکن حکومت کیا چاہتی ہے ؟ وزیر خارجہ نے بتا دیا

  • اسمبلی سے منظوری نہ ہو تو رقم نیب ملازمین سے واپس لی جائے،کمیٹی کا چیئرمین نیب کو حکم

    اسمبلی سے منظوری نہ ہو تو رقم نیب ملازمین سے واپس لی جائے،کمیٹی کا چیئرمین نیب کو حکم

    اسمبلی سے منظوری نہ ہو تو رقم نیب ملازمین سے واپس لی جائے،کمیٹی کا چیئرمین نیب کو حکم
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے نیب میں چلنے والے مقدمات پر بات کرنے سے صحافی کو منع کر دیا ،چیئرمین نیب سے صحافی نے سوال کیا کہ شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں آپ ڈیلی ویجز چیئرمین نیب ہیں جس پر چیئرمین نیب جسٹس ر جاوید اقبال نے کہا جن پر مقدمات چل رہے ہو ں ان کے کمنٹس کی کوئی حیثیت نہیں

    چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال پبلک اکاؤنٹ کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کیلئے پہنچے جہاں راہداری میں صحافیوں نے سوالات کی بوچھاڑ کر دی میڈیا سے گفتگو میں چیئرمین نیب جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کی اہمیت مسلمہ ہے ہمیشہ پارلیمنٹ کا احترام کیا ہے اور آئندہ بھی کروں گا ،صحافی نے سوال کیا کہ آپ بہت عرصے کے بعد آئے ہیں ، چیئرمین نیب نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ آپ نے بلایا ہی بہت عرصے بعد ہے ، مصروفیت کے باعث پارلیمنٹ نہیں آسکا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سلیکٹو احتساب کی بات سو فیصد غلط ہے ایسا احتساب نہ ماضی میں کبھی ہوا نہ مستقبل میں ہو سکتا ہے ۔ صحافی نے سوال کیا کہ آرڈیننس کے تحت آپ کو توسیع دینے پر بہت تنقید ہو رہی ہے، چیئرمین نے جواب دیا کہ تنقید تو ان پر کریں جنہوں نے آرڈیننس کا نفاذ کیا ہے،صحافی نے سوال کیا کہ نیب پر الزام ہے کہ وہ حکومت کو فیور دیتا ہے،چیئرمین نیب نے کہا کہ پرویز خٹک کے خلاف پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ واضح ہے،

    صحافی نے سوال کیا کہ کیا حکومت کا کوئی نمائندہ کرپشن میں ملوث نہیں؟ چیئرمین نیب نے کہا کہ آپ بتائیں کہ ان کے خلاف کتنی شکایتیں آئی ہیں، سوال کیا گیا کہ کیا کابینہ میں بیٹھے لوگوں کی کرپشن آپ کو نظر نہیں آتی؟ جس پر چیئرمین نیب نے کہا کہ کیا سبطین خان اور بلین ٹری پر کارروائی جاری نہیں ہے؟آٹا گندم اسکینڈل کا معاملہ ہمارے پاس نہیں ایف آئی اے کے پاس ہے،

    قبل ازیں رانا تنویر کی صدارت میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا،کمیٹی نے نیب کے آڈٹ پیراز مالی سال 19-2018 کا جائزہ لیا،چئیرمین نیب کمیٹی کے اجلاس میں موجود تھے ،آڈٹ حکام نے کہا کہ نیب نے منظوری کے بغیر 38 کروڑ روپے خرچ کیے،چیئرمین نیب نے کہا کہ ‏اس سے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا، مالی سال کے اختتام سے پہلے آخری سہ ماہی میں رقم منظور کی گئی،سی جی اکاؤنٹ نے کہا کہ ‏یہ پہلے بھی ہوتا رہا ہے لیکن بعد میں وزارت خزانہ ریگولر کرتی تھی، اب یہ قانون نہیں ہے، نیب حکام نے کہا کہ ‏یہ مالی سال کے اختتام سے پہلے آخری سہ ماہی میں یہ رقم منظور کی گئی، کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹ‏ نے کہا کہ ایساپہلے بھی ہوتا رہا ہے بعد میں وزارت خزانہ ریگولر کرتی تھی، اب قانون نہیں ،رانا تنویر نے ہدایت کی کہ یہ ضروری خرچا تھا کر لیا، اب اسے ریگولرائز کرائیں،اسے منی بجٹ میں ایک ماہ کے اندر ریگولرائز کرائیں، یہ معاملہ سینیٹ کی فائنانس کمیٹی میں زیر غور آیا، وزارت خزانہ نے کہا انہیں 815 بلین کا پتہ ہی نہیں کہاں گئی، ہم کس قانون کے تحت وزارت خزانہ کو بتائیں؟کیا قانون میں کہا گیا ہے کہ وزارت خزانہ کو بتانا ہوگا؟ 3ارب 60 کروڑ روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ بغیر منظوری استعمال نہیں کی جا سکتی، نیب اور سیکریٹری خزانہ سپلیمنٹری گرانٹ کو ایک ماہ میں قومی اسمبلی سے منظور کروائے، اسمبلی سے منظور نہ ہونے کی صورت میں رقم نیب ملازمین سے وصول کی جائے چیئرمین نیب جنوری کے پہلے ہفتہ پی اے سی کو بتائیں کہ کتنی رقم ملزمان سے وصول کی گئی،،تفصیل بتائی جائے لوٹی ہوئی رقم کتنی تھی، ڈیفالٹ کتنی اور ہائزنگ سوسائٹی سے کتنی وصول کی،

    قبل ازیں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں چیئرمین نیب نے شرکت کی مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء خواجہ آصف نے پورے اجلاس میں نہ کوئی سوال پوچھا نہ ہی کوئی ریمارکس دیئے چیئرمین کمیٹی کی جانب سے آئندہ اجلاس کب رکھنے کے سوال پر خواجہ آصف کی جانب سے”فرسٹ ویک”(جنوری کا) کا لفظ ہمیں سنائی دیا ،

    قبل ازیں ن لیگی رہنما احسن اقبال نے کہا کہ 23مارچ کو روایتی پریڈ ہوتی ہے،اس دفعہ عوامی پریڈ ہوگی ہم پاکستان کو قائد اعظم کا پاکستان بنائیں گے،چند لوگ کہتے ہیں سڑکوں سے ترقی نہیں ہو سکتی، سڑکیں اور شاہراہیں نہ ہوں تومعیشت ترقی نہیں کر سکتی،عوام کے فیصلے کسی کو بند کمروں میں کرنے نہیں دینگے،ملک کے مستقبل کا فیصلہ 22کروڑ عوام کرے گی ہمارے دور حکومت میں پاکستان پر امن ملک بنا،گزشتہ 3سالوں میں جس طرح واقعات پیش آرہے ہیں وہ سب کے سامنے ہے،

    ن لیگی قیادت پر غداری کا مقدمہ درج کروانے والے بدر رشید کی گورنر پنجاب کے ساتھ تصاویر وائرل

    ن لیگی قیادت پر بغاوت کے مقدمے کا مدعی خود ریکارڈ یافتہ ملزم نکلا

    ریاستی اداروں کے خلاف بولنے والوں کو نشان عبرت بنائیں گے،شہر یار آفریدی

    بشیر میمن کے انکشاف کے بعد عمران خان کیخلاف مقدمہ بنایا جائے،مریم اورنگزیب

    شاہد خاقان عباسی کا وزیراعظم کیخلاف تھانہ شاہدرہ میں غداری کا مقدمہ درج کرانیکا اعلا

    مزار قائد کی بے حرمتی، شیخ رشید بھی میدان میں آ گئے

    کیپٹن ر صفدر نے وزیراعظم کا "سیکنڈل” میڈیا کو بتا دیا

    کوئی شہر ایسا نہیں جہاں میرے خلاف مقدمہ درج نہ ہو،کیپٹن ر صفدر

    میرا باپ کون؟ کیپٹن ر صفدر نے ایسا نام لے لیا کہ مریم بھی ..

    نواز شریف کی نئی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع، نواز ذہنی دباؤ کا شکار،جہاز کا سفر خطرناک قرار

    جس ڈاکٹر کا سرٹیفیکٹ لگایا وہ امریکہ میں اور نواز شریف لندن میں،عدالت کے ریمارکس

    اشتہاری ملزم کی درخواستیں کس قانون کے تحت سن سکتے ہیں،نواز شریف کے وکیل سے دلائل طلب

    نواز شریف کی جیل میں طبیعت کیوں خراب ہوئی تھی؟ نئی میڈیکل رپورٹ میں اہم انکشاف

    مریم نواز کو بیرون ملک بھجوانے پر حکومت راضی ہو گئی

    مریم نواز کی گاڑی پر پتھراؤ، شہباز شریف، بلاول بھی میدان میں آ گئے

    تمام گاڑیوں کی فوٹیجز موجود ،پتھراؤ کرنیوالوں کیخلاف کاروائی ہو گی، راجہ بشارت

    نیب دفتر کے باہر ن لیگی کارکنان کی ہنگامہ آرائی پر وزیراعلیٰ کا نوٹس، رپورٹ طلب

    کیپٹن صفدر کا کورٹ مارشل کرو، اب سب اندرجائیں‌ گے،مبشر لقمان کا اہم انکشاف

    مریم نواز عدالت پہنچ گئی

    مریم نواز کی گرفتاری کی تیاریاں شروع

    دوسروں کی عزت کی دھجکیاں اُڑاؤ ، پگڑیاں اچھالو تو احتساب ہو رہا ہے،مریم اورنگزیب

    کیپٹن ر صفدر کا تو کوئی "کردار” ہی نہیں،دلائل سن کر مریم بھی وکیل کا چہرہ دیکھنے لگ گئیں

    نیب کے پاس ریکوری کا ریکارڈ ہے یا نہیں؟ جسٹس ر جاوید اقبال بھی میدان میں آ گئے

  • وزیر اعظم عمران خان کا کرکٹ گراؤنڈ کا دورہ

    وزیر اعظم عمران خان کا کرکٹ گراؤنڈ کا دورہ

    وزیراعظم عمران خان نے بنی گالہ سے گزرتے ہوئےکرکٹ گرائونڈ کا دورہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے گرائونڈ میں انتظامات کا جائزہ لیا اور گرائونڈ کے اطراف درخت لگانے کی ہدایات دیں گراونڈ کے دورے کے دوران عمران خان کے ساتھ معاون خصوصی شہباز گل بھی موجود تھے۔

    وزیراعظم نے کرکٹ کھیلتے بچوں کے ساتھ ملاقات بھی کی اور ان سے گرائونڈ میں کھیلنے کیلئے انتظامات کے حوالے سے رائے بھی لی، وزیراعظم عمران خان اس سے قبل بھی متعدد بار اس گرائونڈ کا دورہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے بچوں کے ساتھ تصویر بھی بنوائی۔

    کھلاڑی مشکل وقت سے گھبراتا نہیں ہے ۔ وزیراعظم

    واضح رہے کہ گزشتہ روز ‏اسلام آباد میں ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کی لانچنگ تقریب‏ ہوئی تھی جس میں ا 6 ہزار اتھلیٹس اور نوجوان جناح اسٹیڈیم میں موجود‏ تھے،وزیراعظم عمران خان نے جناح اسٹیڈیم میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عثمان ڈار کو ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کی لانچنگ پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں ،اسپورٹس نوجوانوں کے لیے بہت ضروری ہے ،جب کھیل کے میدان میں مقابلہ کرتے ہیں تو ہار اور جیت کا طریقہ سیکھتے ہیں ،دلبرداشتہ ہوکر شکست تسلیم کرنا ہی اصل ہا ر ہے،مشکل وقت میں مقابلہ کرنے والا گھبراتا نہیں ،اسپورٹس زندگی کے عملی میدان میں مقابلے کا فن سکھاتی ہے 70فیصد پاکستانی 30سال کے عمر سے کم ہے ،اسپورٹس انسان کی صحت کے لیے اہم ہے ،ہم نے اپنے نوجوانوں کے لیے کھیل کےمیدان آباد کرنے ہیں ،

    تقریریں اچھی کرنے والا لیڈر نہیں ہوتا،اسد عمر

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں ہم نے 300 کھیل کے میدان بنائے ہیں ،کھیلوں سےانسان کومشکلات سے لڑنا آجاتا ہے،زندگی کے 21 سال انٹرنیشنل اسپورٹس گراؤنڈزمیں گزارے،نئی اسپورٹس کمیٹیوں میں تبدیلی کردی ہے،اسپورٹس کمیٹیوں سے مافیاز نکال دیئے ہیں،‏نیوزی لینڈمیں 22 کروڑ آبادی والے پاکستان سے زیادہ گراؤنڈز ہیں، خیبر پختونخوا میں کھیلوں کے 300 گراؤنڈ بنا چکے ہیں،کھیل کے میدان میں آپکو جیتنا آتا ہے اور ساتھ ہی آپ ہار کا مقابلہ کرنا بھی سیکھتے ہیں لیکن یاد رکھیں ہارتا وہ ہے جو ہار مان کر دلبرداشتہ ہو جاتا ہے کھلاڑی مشکل وقت سے گھبراتا نہیں ہے۔

    یونیورسٹی آف نارووال میں 86 خاندانوں کامعاشی تحفظ کیوں ضروری؟

  • میں نے مرحومہ بیوی سے وعدہ کیا تھا کہ…سابق چیف جج رانا شمیم نے بیان جمع کروا دیا

    میں نے مرحومہ بیوی سے وعدہ کیا تھا کہ…سابق چیف جج رانا شمیم نے بیان جمع کروا دیا

    اسلام آباد: مبینہ بیان حلفی کے معاملے پر توہین عدالت کیس میں سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم عدالت میں پیش ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں سابق چیف جج گلگت بلتستان راناشمیم کے مبینہ بیان حلفی کی خبرپرتوہین عدالت کے کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں رانا شمیم ذاتی حیثیت میں عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور شوکاز کا جواب داخل کرایا دی نیوزکے ایڈیٹر عامر غوری اور ایڈیٹر انویسٹی گیشن انصارعباسی بھی عدالت میں پیش ہوئے جب کہ جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی گئی۔

    سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل پاکستان نے کہا کہ جواب ابھی تک عدالت میں تو داخل نہیں ہوا۔

    رانا شمیم کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست پر عدالت نے سنایا فیصلہ

    چیف جسٹس نے عدالتی معاون فیصل صدیقی سے سوال کیا کہ خبرشائع کرنے پرمختلف ذمہ داروں کی کیا ذمہ داری ہے؟ ہم نے صحافت سے متعلق بین الاقوامی معیارات کوبھی دیکھنا ہے۔

    عدالت نے رانا شمیم سے استفسار کیا کہ آپ نے اپنا جواب جمع کرایا ہے؟ اس پر سابق جج نے جواب دیا کہ میرے وکیل راستے میں ہیں وہ ابھی پہنچنے والے ہیں میں نے چار دن پہلے جواب دے دیا تھا، وہ جواب عدالت میں لطیف آفریدی صاحب کوجمع کرانا ہے۔

    جسٹس اطہر من اللہ نےعدالتی معان فیصل صدیقی سے سوال کیا کہ اخبار کی رپورٹنگ کیلئے کیا ذمہ داریاں ہیں؟رانا شمیم نے گزشتہ سماعت پر کہا کہ انہوں نے بیان حلفی اخبار کو نہیں دیا۔کیا کسی ذمہ داری کے بغیر خبر شائع کی جا سکتی ہے؟

    جس تقریر میں ثاقب نثار نے یہ اعتراف کیا ہو کہ نواز شریف کو سزا دینی ہے وہ تقریر سامنے لائیں ،مریم نواز

    عدالتی معاون فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ کسی دستاویز کو شائع کرنے سے پہلے تمام متعلقہ فریقین سے موقف لینا ضروری ہے۔کیس میں رجسٹرار سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ سے موقف نہیں لیا گیا۔ رانا شمیم نے کہا کہ یہ خفیہ دستاویز تھا اور اسے شائع کرنے کیلئے نہیں رکھا گیا تھا۔اگر رانا شمیم کا دستاویز پرائیویٹ ہے تو پھر ان پر توہین عدالت نہیں بنتی۔

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توہین عدالت کی کارروائی کسی جج کی عزت بچانے کیلئے نہیں ہے ججز پریس کانفرنس نہیں کر سکتے-

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ رانا شمیم نے کہا کہ ایک سابق چیف جسٹس نے انکے سامنے اتنا سنگین جرم کیا۔جسٹس عامر فاروق اس وقت چھٹیوں پر تھے، جب متعلقہ اپیلوں پر سماعت تھی۔ کیا چھٹیوں پر موجود جج نے باقی دو ججز کا بھی سمجھوتہ کرایا؟ بینچ جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب شامل تھے۔

    آڈیو لیک،عدلیہ پر الزامات، اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک اور درخواست دائر

    روز کچھ نہ کچھ چل رہا ہوتا ہے آپ کس کس بات کی انکوائری کرائیں گے؟ آڈیو لیکس پر عدالت کے ریمارکس

    ا نہوں نے کہا نواز شریف کی رہائی پر بھی اسی طرح کی خبریں شائع کی گئیں۔ یہ تاثر دیا گیا کہ رہائی الیکشن سے پہلے نہیں ہوئی بعد میں ہوئی ہے۔ یہ تاثر دیا گیا کہ اس ہائیکورٹ کے تمام ججز نے سمجھوتہ کیا۔ یہ کیوں ہوا کہ رانا شمیم نے 3 سال بعد بیان حلفی لکھا؟یہ تاثر دیا گیا کہ ہائیکورٹ کے تمام ججز نے سمجھوتہ کر رکھا ہے۔ اگر ضمیر جاگ گیا تھا تو بیان حلفی کہیں جمع کراتے۔

    چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ میں دعوے اور اعتماد سےکہہ سکتاہوں اس عدالت کے ججزکوکوئی اپروچ نہیں کرسکتا، میں نے اپنی پوری زندگی کسی کو خود تک رسائی نہیں دی میرے دروازے ہر کسی کے لیے بند رہے میں چیف جسٹس ہوں، میرے سامنے کوئی چیف جسٹس ایسا جرم کرتا تو مجھے کیا کرنا چاہیے تھا؟یہ ایک مسئلہ ہے جب کوئی کرسی پر بیٹھا ہوتا ہے تو ضمیر نہیں ہوتا،یہ مسئلہ ہے کہ کافی عرصے بعد ضمیر جاگ جاتا ہے-

    عدالت کی جانب سے سابق جج رانا شمیم کو حلف نامہ جمع کرانے کے حکم میں اہم پیشرفت

    چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ میرے کسی جج نے کسی کے لیے دروازہ نہیں کھولا، اگر انہوں نےکہیں پر اوریجنل ڈاکومنٹ جمع نہیں کرایا تو وہ عدالت میں پیش کریں، اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ اس عدالت پرعوام کا اعتماد ختم کیا جائے، کوئی آزاد جج یہ عذر پیش نہیں کرسکتا کہ اس پر کوئی دباؤ تھا۔

    عدالت نے کہا کہ جسٹس وقار سیٹھ پر کوئی دباؤ اس لئے نہیں ڈال سکتا تھا کیونکہ وہ دروازہ نہیں کھولتے تھےاس عدالت کو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے کوئی غرض نہیں یہ مسئلہ اس عدالت کے اپیلیں سننے والے بینچ میں شامل ججز پر الزام لگانے کا ہے-جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ الزام چیف جسٹس پاکستان کےخلاف نہیں بلکہ اس ہائی کورٹ کےجج کےخلاف ہے، آپ کیاچاہتے ہیں مجھ سمیت تمام ہائی کورٹ ججزکےخلاف انکوائری شروع ہوجائے؟

    بڑا دھماکہ، چوری پکڑی گئی، ثاقب نثار کی آڈیو جعلی ثابت،ثبوت حاضر

    بڑے بڑے لوگوں کی فلمیں آئیں گی، کوئی سوئمنگ پول ، کوئی واش روم میں گرا ہوا ہے، کیپٹن رصفدر

    رانا شمیم کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ میرے کلائنٹ نے بیان حلفی کے متن سے کوئی انکار نہیں کیا، اس پر اٹارنی جنرل پاکستان نے سوال کیا کہ یہ بتائیں اصل ڈاکومنٹ خود لارہے ہیں یا پاکستانی سفارت خانے کو دیں گے؟ایڈووکیٹ لطیف آفریدی نے کہا کہ اصل بیان حلفی رانا شمیم کے پوتے کے پاس ہے رانا شمیم کو بیان حلفی لینے باہر جانے دیں جس پرعدالت نے رانا شمیم کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کی استدعا مسترد کر دی چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ رانا شمیم باہر نہیں جا سکتے-لطیف آفریدی نے عدالت سے کہا کہ راناشمیم کے بیٹے کو ہراساں کیا جا رہا ہے جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے لطیف آفریدی سے سوال کیا کہ برطانیہ میں کون کیسے ہراساں کر سکتا ہے؟

    بڑا دھماکہ، چوری پکڑی گئی، ثاقب نثار کی آڈیو جعلی ثابت،ثبوت حاضر

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ اب انہیں بتانا ہو گا کہ پاکستان سے باہر انہیں کون ہراساں کر رہا ہے؟ انہیں بیان حلفی پاکستانی سفارتخانے کو دینا تھا وہ پاکستان آ جاتا -چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ پہلے رانا شمیم کو بیان حلفی پیش کر کے اپنی اچھی نیت ثابت کرنی ہو گی پیرتک اصل بیان حلفی پیش نہ کیا گیا توفردجرم عائدکی جائےگی بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 13 دسمبر تک ملتوی کردی۔

    گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم نے بیان حلفی پر توہین عدالت کے کیس میں اپنا تحریری جواب جمع کرا دیا ہے جواب میں کہا گیا کہ ثاقب نثار سے گفتگو گلگت بلتستان میں ہوئی جہاں پاکستان کے قوانین لاگو نہیں ہوتے لہذا توہین عدالت کی کارروائی واپس لی جائے ۔بیان حلفی کیس میں رانا شمیم نے تحریری جواب میں کہا کہ میں نے اپنا بیان حلفی پولیس کو بھیجا نہ کسی اور کو بیان حلفی میں بیان کئے گئے حقائق بتانے کو تیار ہوں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے حلف نامے کی کاپی جمع کر ارہا ہوں سوشل میڈیا والے حلف نامے کے مندرجات وہی ہیں جو میرے جواب میں ہیں میں قانون کی پاسداری کرنے والا شخص ہوں کبھی عدلیہ کو بدنام کرنے یا مذاق آرانے کا ارادہ نہ تھا نہ ہی کسی عدالتی کارروائی کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی حلف نامے میں بیان واقعہ 15 جولائی 2018 کی شام 6 بجے کے پاس کا ہے ،اس وقت میں اور سابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار ایک ساتھ چائے پی رہے اور ناشتہ کر رہے تھے میں نے مرحومہ بیوی سے وعدہ کیا تھا کہ اس وقت پیش آنے والی حقیقت کو تحریری طور پر ریکارڈ کراؤں گا حلف نامے کی شکل میں مرحومہ بیوی سے کیا ہوا وعدہ پورا کیا عدلیہ کی تضحیک کا ارادہ ہوتا تو پاکستان میں حلف نامہ میڈیا کو دیتا ، 4 جون 2021 کو اہلیہ کے انتقال کے بعد میرا پہلا غیر ملکی دورہ تھا ۔ امریکہ سے واپس آتے ہوئے دو روز لندن میں رہا جہاں اپنے پوتے سے ملاقات کی جو قانون کا طالبعلم ہے ، میں بیان حلفی کو اپنی زندگی میں عام کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا اس لئے مناسب سمجھا کہ اپنا بیان ریکارڈ کراؤں اور حلف نامہ پاکستان سے باہر نوٹرائز کراؤں میں نے بیان حلفی پوتے کو دیا اور ہدایت کی کہ اسے نہ کھولے مجھے نہیں معلوم کہ حلف نامہ رپورٹ تک کیسے پہنچا واقعہ گلگت بلتستان کا ہے جہاں پاکستانی قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا لہذا توہین عدالت کی کارروائی کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا ۔ عدالت کو پریشانی ہوئی تو افسوس کا اظہار کرنے میں ہچکچاہٹ نہیں ہوگی عاجزی سے عدالت سے درخواست ہے کہ شوکاز نوٹس واپس لے لیا جائے

    دوسری جانب ایڈوکیٹ جنرل نے خط میں کہا ہے کہ رانا شمیم کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی کارروائی زیرسماعت ہے،اسلام آباد ہائی کورٹ رانا شمیم کو شوکاز نوٹس جاری کر چکی ہےرانا شمیم کا نام جلد از جلد ای سی ایل پر ڈالا جائے، اگر رانا شمیم بیرون ملک روانہ ہو جاتے ہیں تو عدلیہ کی آزادی پر سنجیدہ سوال اٹھیں گےکیس کی آئندہ سماعت 13 دسمبر کو ہو گی، کارروائی جلد مکمل کی جائے،

    مریم نواز کی گرفتاری کی تیاریاں شروع

    دوسروں کی عزت کی دھجکیاں اُڑاؤ ، پگڑیاں اچھالو تو احتساب ہو رہا ہے،مریم اورنگزیب

    نواز شریف حاضر ہو، اسلام آباد ہائیکورٹ نے طلبی کی تاریخ دے دی

    نواز شریف کی نئی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع، نواز ذہنی دباؤ کا شکار،جہاز کا سفر خطرناک قرار

    جس ڈاکٹر کا سرٹیفیکٹ لگایا وہ امریکہ میں اور نواز شریف لندن میں،عدالت کے ریمارکس

    یاد رہے کہ چند دن پہلے ہائیکورٹ نے توہین عدالت کیس میں سابق جج رانا شمیم، میر شکیل الرحمان، انصار عباسی اور عامر غوری کو الگ الگ شوکاز نوٹس جاری کیے تھے ۔سماعت کے دوران جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا سابق جج رانا شمیم، میر شکیل الرحمان، انصار عباسی، عامر غوری کے خلاف توہین عدالت کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے شوکاز نوٹسز جاری کرتے ہوئے فریقین کو 30 نومبر کو عدالت کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا تھا،شوکاز نوٹس میں کہا گیا تھا کہ عدالت آرڈیننس 2003 سیکشن 5 کے تحت مجرمانہ توہین کے ارتکاب پر سزا دے سکتی ہے۔

    @MumtaazAwan

  • سیالکوٹ واقعہ:ملک عدنان کو وزیراعظم نے ملاقات کے لئے بلا لیا، آج رات وزیراعظم ہاؤس میں قیام کریں گے

    سیالکوٹ واقعہ:ملک عدنان کو وزیراعظم نے ملاقات کے لئے بلا لیا، آج رات وزیراعظم ہاؤس میں قیام کریں گے

    وزیراعظم عمران خان نے سیالکوٹ واقعہ میں سری لنکن مینیجر کی جان بچانے کی کوشش کرنے والے ملک عدنان کوملاقات کے لیے بلا لیا-

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق ملک عدنان وزیراعظم سے ملاقات کے لیے اسلام آباد پہنچ گئے ہیں جہاں معاون خصوصی ڈاکٹر شہبازگل اور اعلی ٰحکام نے ان کا استقبال کیا وزیراعظم عمران خان سے ملک عدنان کی ملاقات کل ہو گی وہ آج رات وزیراعظم ہاؤس میں قیام کریں گے۔اور ان کے اعزاز میں وزیراعظم آفس میں تقریب کا اہتمام بھی کیا جائے گا تقریب میں ملک عدنان کی سری لنکن شہری کو بچانے کی کاوشوں کو سراہا جائے گا۔

    وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس، آرمی چیف کی شرکت،سری لنکن مینجر کے قتل کے ظالمانہ فعل پر تشویش کا اظہار

    یاد رہے کہ وزیراعظم ہاوس میں غیرملکی سربراہان کا قیام کروایا جاتا ہے۔

    دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر جائزے کیلئے اجلاس ہوا جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، وزیر اطلاعات فواد چوہدری، وزیر داخلہ شیخ رشید، معاون خصوصی برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور اعلیٰ عسکری و سول افسران نے شرکت کی ۔

    قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ، سیالکوٹ واقعہ پرکی مذمت

    اجلاس میں سری لنکن منیجر کو بچانے کی کوشش کرنے والے ملک عدنان کی بہادری اور جرأت کی بھی تعریف کی گئی ملک عدنان نے سری لنکن شہری کو بچانے کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالی-

    واضح رہےکہ اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے ملک عدنان کو تمغہ شجاعت دینے کا اعلان کیا تھا انہوں نے کہا تھا کہ وہ پوری قوم کی جانب سے ملک عدنان کی اخلاقی جرات اور بہادری کو سلام پیش کرنا چاہتے ہیں ملک عدنان نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر پریانتھا کمارا کو مشتعل ہجوم سے بچانے کی ہرممکن کوشش کی۔

    سیالکوٹ میں تشدد سے ہلاک ہونیوالے سری لنکن منیجر کا پوسٹمارٹم مکمل:پریشان کن حقائق