Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • پاکستان افغان معاملے پرعالمی برادری کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے     عسکری حکام کی بریفنگ

    پاکستان افغان معاملے پرعالمی برادری کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے عسکری حکام کی بریفنگ

    پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق اعلیٰ عسکری حکام نے پارلیمانی قیادت کو قومی سلامتی کے امور پر بریفنگ دی اعلامیے میں کہا گیا کہ اجلاس میں اعلیٰ عسکری حکام نے ملک کی سیاسی و پارلیمانی قیادت، اراکین قومی اسمبلی و سینیٹ، صوبائی و آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی قیادت کو اہم خارجہ امور، داخلی سلامتی، اندرونی و بیرونی چیلنجز، خطے میں وقوع پذیر ہونے والی تبدیلیوں خصوصاً تنازع کشمیر اور افغانستان کی صورتحال پر جامع بریفنگ دی۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان برادر افعان عوام کی حمایت اور تائید جاری رکھے گا اور افغانستان میں امن کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ بھر پور کوشش ہے کہ موجودہ حالات کسی اور انسانی و معاشی بحران کو جنم نہ دیں۔

    پارلیمانی کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان نے افغان امن عمل میں پرخلوص طور پر مثبت اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا، پاکستان اس امر پر یقین رکھتا ہے کہ افغانستان میں پائیدار امن و استحکام خطے میں امن اور ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان کی بھرپور کوشش ہے کہ موجودہ حالات کسی اور انسانی و معاشی بحران کو جنم نہ دیں جو افعان عوام کی مشکلات میں اصافے کا باعث ہوں اور اس سلسلے میں پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہےاراکین اسمبلی اور دیگر قائدین کو بریفنگ میں اس امید کا بھی اظہار کیا گیا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی اور ساتھ پاک-افغان سرحد پر بارڈر کنٹرول کے نظام کے بارے میں بھی بتایا گیا۔

    اعلامیے کے مطابق سیاسی و پارلیمانی قیادت نے بریفنگ پر اطمینان کا اظہار کیا اور افغانستان میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اس حوالے سے کہا گیا کہ ان کی رائے میں ایسے اجلاس نہ صرف اہم قومی امور پر قومی اتفاق رائے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں بلکہ مختلف قومی موضوعات پر ہم آہنگی کو تقویت دینے کا بھی باعث بنتے ہیں۔

    پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور سید یوسف رضا گیلانی، شاہ محمود قریشی سمیت دیگر وفاقی وزرا اور حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹ نے شرکت کی۔

    پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائےاعلیٰ، وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر، اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے خصوصی دعوت پر شرکت کی علاوہ ازیں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار سمیت دیگر اعلیٰ عسکری حکام بھی موجود تھے۔

    اس سے قبل پارلیمنٹ ہاؤس میں پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا بند کمرہ اجلاس شروع ہوا تو میڈیا کے داخلے پر پابندی عائد کردی گئی تھی پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا اجلاس تقریباً ساڑھے 5 گھنٹے تک جاری رہا۔

    میڈیا پر پابندی کے حوالے سے حکام کا کہنا تھا کہ میڈیا پر سیکیورٹی وجوہات کی وجہ سے پابندی عائد کی گئی ہے اور پارلیمنٹ کی عمارت کے اندر میڈیا کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی اور میڈیا گیٹ نمبر ایک تک محدود رہے گا۔

    اجلاس کے بعد شیخ رشید نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ آج کے اجلاس میں زبردست ماحول تھا اور ایسا ہوتے رہنا چاہیےتحریک طالبان سے متعلق پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ تحریک طالبان سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ کالعدم ٹی ٹی پی کا معاملہ پارلیمنٹ میں لانے کا کہا گیا ہے انہوں نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال اور کالعدم ٹی ٹی پی کا معاملہ زیر بحث آیا ہے اور اجلاس میں لمبے سوال جواب ہوئے اور کھل کر باتیں ہوئیں۔

  • آرمی چیف کی کینیڈا کی ڈپٹی وزیر خارجہ سے ملاقات

    آرمی چیف کی کینیڈا کی ڈپٹی وزیر خارجہ سے ملاقات

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے کینیڈا کی ڈپٹی وزیر خارجہ نے ملاقات کی-

    باغی ٹی وی : پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آٓرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یہ بات کینیڈا کی ڈپٹی وزیر خارجہ مارٹا مورگن سے ملاقات کے دوران کہا کہ افغانستان میں انسانی المیے سے بچنے کے لیے عالمی برادری کو توجہ دینا ہو گی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے کینیڈا کی ڈپٹی وزیر خارجہ کی ہونے والی ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات میں خطے کی صورتحال اور افغانستان کے امور پر بھی گفتگو کی گئی۔ کینیڈا کی ڈپٹی وزیر خارجہ مارٹا مورگن نے خطے میں امن اور افغانستان میں انخلا آپریشن کے دوران پاکستان کے کردار کو سراہا۔

    ملاقات کے دوران چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان کینیڈا کے ساتھ دیرپا اور روایتی تعلقات کا خواہاں ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق کینیڈا کی ڈپٹی وزیر خارجہ مارٹا مورگن نے دونواں ممالک کے تعلقات میں بہتری کے لیے کردار ادا کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

  • حکومت نے جلد ہی چینی کی قیمتوں میں کمی کی خوشخبری سنا دی

    حکومت نے جلد ہی چینی کی قیمتوں میں کمی کی خوشخبری سنا دی

    وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومتی اقدامات کی بدولت آئندہ دو سے تین ہفتوں میں چینی کی قیمتیں تیزی سے نیچے آئیں گی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے پنجاب میں 15 نومبر تک جو شوگر مل نہیں چلے گی اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حماد اظہر نے کہا کہ رواں سال ایک مرتبہ پھر سندھ میں گنے کی کرشنگ میں تاخیر کی جا رہی ہے، سندھ میں شوگر ملیں 15 اکتوبر تک چل جاتی ہیں لیکن ابھی تک وہ شوگر ملیں نہیں چلیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس سندھ کی ان شوگر ملز کی تفصیلات موجود ہیں جنہوں نے بوائلر چلا کر پھر بند کر دیا، بوائلر کو سازش کے تحت بند کرایا گیا، سندھ کی شوگر ملیں چل رہی ہوں تو چینی کی قیمت نہیں بڑھے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ سیاسی سازش میں عوام پس رہے ہیں، سندھ میں شوگر ملوں کا نہ چلنا حکومت سندھ اور شوگر ملز ایسوسی ایشن سندھ زون کا گٹھ جوڑ اور وفاقی حکومت کے خلاف سیاسی سازش ہے، سندھ حکومت سازش بے شک کرے لیکن عوام کو اس سے تکلیف نہیں پہنچنی چاہیے، ہمارا سوال ہے کہ 15 اکتوبر تک سندھ میں جو شوگر ملیں چل جاتی تھیں وہ اب تک کیوں نہیں چلیں اور بوائلر چلا کر کیوں بند کر دی گئیں۔

    دوسری جانب وفاقی حکومت نے سندھ کی شوگر ملز کے خلاف 15 نومبر سے کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں چینی کے مکمل اسٹاک کو مارکیٹ میں لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    اس سے قبل وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت پرائس کنٹرول سے متعلق اجلاس ہوا۔ اجلاس میں چینی کے اسٹاک اور قیمتوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی تھی اجلاس میں ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا گیا اور چینی کے مکمل اسٹاک کو مارکیٹ میں لانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

    15 نومبر سے ملک بھر میں گنے کی کرشنگ کے آغاز کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور کرشنگ قوانین پر سختی سے عمل یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پنجاب رجسٹریشن آف گودام ایکٹ 2014 پرعمل یقینی بنایا جائے۔ منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور میں پریس کانفرنس کرتےہوئے شہباز گل نے چینی بحران کو سندھ حکومت کی سازش قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ سندھ حکومت نے تین شوگر ملز کو سازش کے تحت بند کر کے چینی بحران پیدا کیا ، گنے کی بمپر کروپ کے باعث کرشنگ پہلے شروع کرنی چاہئے تھی-

    انہوں نے کہا تھا کہ اکتوبر میں سندھ میں شوگر ملز چلنا شروع ہوتی ہیں ، 3 شوگر ملز چلیں جن کو سازش کے تحت بند کر دیا گیا، سندھ حکومت سستا سیاسی فائدہ حاصل کرنے کیلئے ملز بند کروا رہی ہےسندھ حکومت نے ملک دشمنی کرنے کی کوشش کی ہے،سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لیے سندھ حکومت نے یہ کام کیا۔عوام کو ان ساری باتوں کو پتہ چل رہا ہے-

    شہباز گل کا کہنا تھا کہ چینی مافیا نے جولائی میں اعلیٰ عدالت سے سٹے آرڈر لیا ، یہ مہنگے وکیل کر کے سٹے آرڈر لےکر حکومت کے ہاتھ باندھ دیتے ہیں،عدالتوں سے درخواست ہے جہاں غریب پس رہا ہو وہاں سٹے آرڈر نہ دیں،سٹے آرڈر سے حکومت کے ہاتھ بندھ جاتے ہیں،عمران خان کیسے غریب کی مدد کریں؟ طاقتور مافیا نے عدالتوں سے سٹے آرڈر لے رکھے ہیں –

    ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے شہباز گل کی پریس کانفرنس پر فوری رد عمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ وفاق کے ترجمان نے تمام مسائل کا ذمہ دار پاکستان پیپلزپارٹی کو قرار دیا ہے ، یہ ترجمان بتادیں کون سی شوگر ملز ہیں جنہیں سندھ حکومت نے بند کرایا ہے ،نام بتا دیں وہ کون سی شوگر ملز ہیں ہم خود وہاں جاکر چیک کریں گے۔

    مرتضی وہاب نے کہا تھا کہ خیبر پختونخوا میں 160روپے چینی مل رہی ہے، خیبرپختونخوا میں چینی مہنگی ملنے کا الزام بھی پیپلزپارٹی پر لگایا جارہا ہے، پنجاب میں 46 شوگر ملز ہیں،7 خیبرپختونخوا میں آپریٹ ہوتی ہیں،میرا سوال ہے پنجاب کے تمام شوگر ملز چل رہی ہیں؟، کیا خسرو بختاور ، مونس الٰہی کی شوگر ملیں چل رہی ہیں ۔

  • نور مقدم کیس، شاطر دماغ چل گیا،بڑی پلاننگ ہو گی

    نور مقدم کیس، شاطر دماغ چل گیا،بڑی پلاننگ ہو گی

    نور مقدم کیس، شاطر دماغ چل گیا،بڑی پلاننگ ہو گی
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آپ کو میں ںے اپنی پچھلی ویڈیو میں بتایا تھا کہ کیسے ظاہر جعفر نے عدالت کے لئے نازیبا الفاظ استعمال کئے عدالت کے اندر پولیس والوں سے ہاتھا پائی بھی کی ان کے گریبانوں پر ہاتھ ڈالا۔ اور یہ سب ڈارمہ اس لئے کیا گیا تاکہ اس کیس کا رخ اپنے حساب سے موڑا جا سکے۔ لیکن پرانی ویڈیو میں۔۔ میں نے آپ کو وہ اصل الفاظ نہیں بتائے تھے جو کہ درندے ظاہر جعفر نے عدالت میں بولے تھے۔ کیونکہ ظاہری بات ہے میں سوچ رہا تھا کہ عدالت کے بارے میں جو گھٹیا الفاظ استعمال کئے گئے اگر وہ ہم استعمال کریں گے تو کہیں توہین عدالت نہ ہو جائے۔ لیکن اب جس سماعت پر یہ سب ڈرامہ ہوا تھا۔ جج عطا ربانی نے خود یہ الفاظ استعمال کئے تھے کہ یہ درندہ ڈرامے بازی کر رہا ہے اس سماعت کا تفصیلی فیصلہ آ گیا ہے لیکن جو ہم سوچ رہے تھے کہ عدالت کو اس پر ایکشن لینا چاہیے ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس لئے اب میں پہلے آپ کو وہ الفاظ بتاتا ہوں کہ Exactly اس درندے نے کیا الفاظ عدالت کے لئے استعمال کئے تھے پھر میں آپ کو فیصلے کے بارے میں اور کیس کے بارے میں مزید تفصیلات بتاوں گا۔میں آپ کو موقع دے رہا ہوں آپ مجھے پھانسی پر لٹکا دیں۔ اتنے نا اہل افراد میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھے جتنے اس کمرے میں موجود ہیں۔ یہ ساری کاروائی فیک ہے۔ اپنی زندگی میں میں نے اتنے نا اہل افراد نہیں دیکھے عدالت غلاظت کے سوا کچھ نہیں۔ اس کاروائی کو طول دیا جا رہا ہے اس سے یہ صاف نظر آتا ہے کہ ان کے پاس بھی کوئی اختیارات نہیں ہیں۔ میں آپ کو موقع دے رہا ہوں مجھے پھانسی پر لٹکا دیں۔ مجھے یرغمال بنا رکھا گیا ہے اگر میرے خلاف فیصلہ آیا تو یہ یرغمال ریاست کی نشانی ہوگی۔This fucking system is a drama. Court cannot give its fucking decision. This court is nothing but a dirt.یہ وہ الفاظ ہیں جو اس دن ظاہر جعفر نے عدالت میں استعمال کئے تھے۔ وہ عدالت جس میں اگر اجازت کے بغیر کوئی کاروائی کے دوران بولنے کی کوشش کرے تو اس پر توہین عدالت لگ جاتی ہے۔ عدالت یا عدالتی فیصلوں کے خلاف اگر میڈیا یا سوشل میڈیا پر کوئی سخت الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں تو کورٹ کی طرف سے توہین عدالت کا نوٹس آجاتا ہے۔ لیکن اس درندے کے معاملے میں ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ اس درندے کو جب تک عدالت سے باہر نہیں نکالا گیا تھا یہ وقفے وقفے سے آدھے گھنٹے تک عدالت سے متعلق نازیبا الفاظ کا استعمال کرتا رہا تھا اور اس نے یہ تمام الفاظ بہت اونچی آواز میں چیخ چیخ کر کہے تھے۔لیکن ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نے جو اس سماعت کا دو صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کیا ہے۔ اس میں صرف اتنا کہا گیا ہے کہ اگر ملزم ظاہر جعفر نے رویہ درست نہ کیا تو ویڈیو لنک کے ذریعے ملزم کی حاضری شروع کردی جائیگی۔ یعنی اتنی بدتمیزی اور پولیس کے ساتھ ہاتھا پائی کے بعد صرف اتنی تنبیہہ کرکے چھوڑ دیا گیا۔ حیرت کی بات ہے کہ اس پر کوئی توہین عدالت کی دفعہ نہیں لگائی گئی۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جس سے صاف یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ جعفر فیملی جس طرح کیس کا رخ موڑنا چاہ رہے تھے وہ اس میں اب کامیاب ہوتے جا رہے ہیں۔ آپ کو یاد ہوگا کہ جب اس فیملی کو عدالت لایا جاتا تھا اور میڈیا والے ان کی فوٹیج بناتے تھے تو کیسے اس درندے کی ماں عصمت رپورٹرز سے کیمرے چھین لیتی تھی میڈیا کو کوریج سے رکوانے کی کوشش کی جاتی تھی کہ ہماری پرائیویسی ڈسٹرب ہوتی ہے۔ انھیں میڈیا ہمیشہ ہی مسئلہ رہا ہے۔ تو اب اس تمام ڈرامے کی وجہ سے اس درندے کو چھٹی مل جاتی ہے کہ وہ عدالت نہ آئے اور ویڈیو لنک کے ذریعے ہی حاضری لگ جائے تو اس سے اچھی بات اس کے لئے اور کیا ہو سکتی ہے۔ اس کی عدالت آنے سے جان چھٹ جائے گی میڈیا کے سامنے بھی نہیں آنا پڑے گا نہ میڈیا والوں کے کیمروں کا سامنا کرنا پڑے گا نہ ہی ان کے سوالات کا۔دراصل آپ کو معلوم ہی ہے کہ عصمت جعفر اب باہر آ چکی ہے تو اس کا شاطرانہ دماغ بھی خوب چل رہا ہے میں نے تو اس عورت کی ضمانت کا فیصلہ آتے ہی آپ سب کو یہ کہا تھا کہ اب اس کی طرف سے خوب سازشیں تیار کی جائیں گی اور وہی ہو رہا ہے۔ اور جو بھی یہ درندہ کر رہا ہے اس کے پیچھے اس کی ماں کی پلاننگ ہے۔اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ جب عدالت میں یہ بولنا شروع ہوا تو جس وکیل نے اس کو روکا اور یہ اس کے روکنے پر خاموش ہو گیا تھا وہ وکیل اسد جمال ہیں جو کہ اس درندے کے وکیل نہیں ہیں بلکہ اس کی ماں عصمت جعفر کے وکیل ہیں۔ یہ درندہ عدالت کی بات نہیں مان رہا تھا جج کے منع کرنے پر اور یہ کہنے پر کہ اس کو باہر لے جائیں تو اس نے ہاتھا پائی شروع کر دی تھی لیکن اپنی ماں کے وکیل کی بات مان کر خاموش ہو گیا تھا کچھ دیر کے لئے۔ اور پھر یہ بھی کہ جب اسے لے جایا گیا تو اس کے بعد بھی اس درندے کی ماں اور اس کا وکیل جج صاحب کے سامنے اس کی سفارش کرتے رہے کہ دیکھیں جیل میں رہ رہ کر اس کی کیا ذہنی حالت ہو گئی ہے یہ کتنا زیادہ ڈسٹرب ہے اس کو علاج کی ضرورت ہے۔اور یہ صرف اس کی ماں ہی نہیں کہہ رہی بلکہ اب جتنے بھی ملزمان کے بیانات کی تفصیل ہمارے سامنے آ رہی ہیں چاہے وہ تھراپی ورکس والوں کے بیانات ہوں یا پھر جعفر فیملی کے ملازمین ہوں سب کے بیانات میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ یہ ذہنی مریض ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر وامق اور ان کی ٹیم کے بیانات جو سامنے آئے ہیں اس میں یہی کہا گیا ہے کہ ہمیں تو کہا گیا تھا کہ مریض کی حالت کافی خراب ہے اس کو جا کر سنبھالیں تو ہماری ٹیم تو مریض کے لئے گئی تھی۔ لیکن جب ہم گئے تو دروازہ لاک تھا۔ ہم نے اس کے والد کو بتایا تو انھوں نے کہا کہ آپ بے شک دروازہ توڑ دیں لیکن اس کو باہر نکالیں۔ لیکن دروازہ کیونکہ ڈبل لاک تھا اس لئے نہیں ٹوٹ سکا تب ہم نے باہر سے جا کر دیکھا تو کھڑکی کھلی ہوئی تھی اس لئے ہم نے سیڑھی منگوائی اور جب سیڑھی سے اوپر جاکر دیکھا تو اندر لاش تھی۔ ظاہر جعفر کی حالت کافی خراب تھی اور جب امجد اندر گیا تو اس پر ظاہر نے وار کیا لیکن اس نے ظاہر کو قابو کر لیا اور پھر ہمیں آواز دی کہ مریض قابو میں آگیا ہے اندر آجائیں پھر ہماری پوری ٹیم اندر داخل ہوئی۔یہ وہ بیان ہے جس سے ملتا جلتا بیان ہی تھراپی ورکس کے تمام ملازمین نے ایک ساتھ پلاننگ کرکے دیا ہے لیکن آپ ان کے جھوٹ کا ندازہ کریں کہ وہ درندہ جس کے دل میں نور کا سر تن سے جدا کرتے کوئی رحم نہیں آیا جو عدالت کے سامنے ہاتھا پائی کرتا رہا اور چار پولیس والوں کے قابو نہیں آیا مزید نفری بلانی پڑی تھی وہ اکیلے امجد کے قابو کیسے آگیا۔اور یہ پولیس والوں کے معاملے میں بھی میں آپ کو بتا دوں کہ بظاہر تو ہاتھا پائی کرنے پر پولیس نے اس کے خلاف فوری ایف آئی آر بھی کٹوائی تھی اس کو جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کر لیا گیا ہے اس رات اس کو جیل کی بجائے بھی مارگلہ تھانے لے جایا گیا تھا وہ رات اس نے تھانے میں گزاری۔ لیکن پولیس کی طرف سے جو ایف آئی آر کٹوائی گئی ہے اس کا اصل میں اس درندے کو فائدہ ہی ہوا ہے کیونکہ اس ایف آئی آر میں لکھا گیا ہے کہ ملزم کی ذہنی حالت خراب تھی اور اس نے عدالت کے سامنے دیوار میں سر مار کر خودکشی کی بھی کوشش کی۔ اب آپ سوچیں کہ جج عطا ربانی صاحب یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ ڈرامے بازی کر رہا ہے ان کو نظر آ رہا ہے تو پولیس کو نظر کیوں نہیں آرہا پولیس والے بھی اس درندے کی ماں کی زبان کیوں بول رہے ہیں وہ بھی اس کو ذہنی مریض ہی کہہ رہے ہیں۔ اور تھانے لے جانے کا بھی جو ڈرامہ کیا گیا وہ بھی معلوم نہیں کہ اصل میں اس رات وہاں کیا ہوا ہو گا۔ کیونکہ آپ کو پتہ ہے کہ پولیس کو جعفر فیملی کی طرف سے اتنا پیسہ کھلایا جا رہا ہے کہ پولیس درندے سے متعلق صرف وہ خبر سامنے لاتی ہے جو وہ لانا چاہتی ہے ورنہ میڈیا تک کوئی خبر نہیں آنے دی جاتی۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس لئے میں آپ کو بار بار کہہ رہا ہوں کہ یہ سب ڈرامہ ہے۔ یاد کریں جب یہ درندہ جیل گیا تھا شروع شروع میں بھی اس کی ایک لڑائی ہوئی تھی اور وہ لڑائی جیل میں موجود دیگر قیدیوں سے ہوئی تھی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ درندہ اتنے زیادہ لوگوں کے درمیان نہیں رہنا چاہتا تھا تب اس نے لڑائی کا ڈرامہ کیا اور اپنا مقصد حاصل کر لیا اس کے بعد دوبارہ کبھی سننے میں نہیں آیا کہ اس نے جیل میں کوئی ایسی حرکت کی ہو بلکہ ایک وقت تو وہ بھی آیا تھا کہ پولیس والوں نے یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ یہ بہت قابل بچہ ہے۔تو اب میں آپ کو بتا دوں کہ اس قابل بچے کا اور اس کی ماں کا شاطر دماغ خوب چل رہا ہے جو کچھ کیا جا رہا ہے وہ پوری پلاننگ کے ساتھ کیا جا رہا ہے تاکہ جس طرح ماں نے عورت ہونے کی بنیاد پر ضمانت حاصل کی ہے اسی طرح اس درندے کو ذہنی مریض ثابت کرکے علاج کے لئے ضمانت دلوائی جائے، جیل سے ہسپتال منتقل کیا جائے۔ اور ویسے بھی دو ہفتوں سے زیادہ ہو گئے ہیں یا تو جلد از جلد ٹرائل پورا کرکے فیصلہ کیا جائے ورنہ اس طرح کی چھوٹی موٹی ایف آئی آر کٹوانے کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اصل جرم سے دھیان ہٹایا جائے۔ کیونکہ جس انسان نے اتنی بے دردی سے ایک لڑکی کو قتل کر دیا جس کے ساتھ اس کی دوستی تھی تو اس درندے کے لئے پولیس سے پاتھا پائی یا عدالت کے بارے میں ایسی باتیں کرنا تو بہت معمولی کام ہے اس لئے میری درخواست تو یہی ہے کہ آس پاس کی باتیں چھوڑ کر صرف نور مقدم کو انصاف دیا جائے جب اس معاملے میں انصاف ہو جائے گا تو سمجھیں سب ہو جائے گا

  • عمران خان تیار ہو جائیں، انتقامی سیاست کے نتائج بھگتنے کا وقت آ گیا

    عمران خان تیار ہو جائیں، انتقامی سیاست کے نتائج بھگتنے کا وقت آ گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ایک جانب پیٹرول ، چینی اور بجلی کے بعد آٹا بحران سر اٹھا رہا ہے تو دوسری جانب موجودہ حالات کو عنیمت جانتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں نے کمر کس لی ہے ۔ اب پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر دونوں جگہ خوب احتجاج کیا جائے ۔ بلکہ دسمبر میں لانگ مارچ بھی پلان کیا جا رہا ہے ۔ رہی بات حکومت کی تو ایسا لگتا ہے کہ ان کے پاس کوئی ایسا قابل اور ذہین شخص ہی نہیں ہے جو موجود حالات میں پی ٹی آئی کی کشتی کو پار لگا دے ۔ الٹا ایسے بیانات اور اقدامات مزید کیے جار ہے ہیں کہ عوام کے زخموں پر نمک پاشی ہو ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے ایک نہایت ہی بھونڈا اور مضحکہ خیز قسم کا پرپیگنڈہ کرکے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ پتہ نہیں کس افلاطون کا یہ آئیڈیا ہے ۔ پر یہ بری طرح پٹ گیا ہے ۔ کہ اورسیز پاکستانیوں سے مہنگائی پر صبر کرنے کےبھاشن دلوائے جائیں ۔ اس پر لوگ حکومت کو مزید لعن طعن کر رہے ہیں بلکہ اس پر بھی حکومت کے خلاف میمز کا طوفان شروع ہوچکا ہے ہونا بھی چاہیے ۔ کیونکہ اورسیز پاکستانیوں نے تو پاؤنڈزیا ڈالر میں کما کر روپوں میں خرچ کرنے کا مزہ دیکھا ہوا ہے مگر وہ روپوں میں کما کر ڈالر کی قیمتوں سے اشیاء خریدنے کا دکھ نہیں جانتے۔ پھر عمران خان پانچ سال کا حوالہ تو ایسے دے رہے ہیں جیسے ابھی ان کے اقتدار کی مدت پانچ سال باقی ہے ۔ حالانکہ وہ ساڑھے تین سال گزار چکے ہیں اور بمشکل ڈیڑھ سال باقی ہے۔ اب ان کا یہ فرمانا پانچ سال بعد دیکھیں گے غربت کم ہوئی یا زیادہ عوام کو مزید اشتعال دلانے کے مترادف ہے۔ ان کو یاد نہیں ہوگا میں پر یاد کروادیتا ہوں کہ ساڑھے تین برسوں میں وہ کبھی سال اور کبھی چھ ماہ بعد تو کبھی تین ماہ بعد اچھے دنوں کی نوید سناتے رہے ہیں۔ یہاں تک عطااللہ عیسا خیلوی نے بھی اچھے دن آئیں گے ۔۔۔ پر گانا بنا دیا تھا ۔۔۔ اب پتہ نہیں اب وہ ان برے دنوں پر بھی کوئی بناتے ہیں یا نہیں ۔ کیونکہ اچھے دن تو نہیں آئے بلکہ الٹا برے دنوں میں بھی ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ شروع ہو گئی۔ وزیر اعظم در اصل پاکستانی عوام کو تکلیف اور آئی ایم ایف کو ریلیف پہنچا رہے ہیں۔ آپ دیکھیں بجٹ کے بعد صرف تین مہینوں میں پیٹرول ڈیزل بجلی گیس، ایل این جی ، دوائیوں ، اشیائے خورد نوش اور مختلف ٹیکس کے مد میں تقریبا 475ارب روپے عوام کے جیب سے نکلوائے ہیں ۔ پھر2018 میں جی ڈی پی 5.8تھی اور اگلہ ٹارگٹ تھا کہ آئندہ چند سالوں میں 7.8تک لیجایا جائے گا ۔ پر عمران خان جن کے پاس پتہ نہیں کتنے تجربہ کار لوگوں کی ٹیم تھی انھوں نے 5.8 سے جی ڈی پی کو نیچے گرا کر 3.7 تک کردیا ۔ پھر 2018 میں ایکسپورٹ 28 بلین ڈالر تھی اور ٹارگٹ تھا40 بلین ڈالر تک لے جانا کا ۔ پر عمران خان نے ان ایکسپورٹس کو 28 بلین ڈالرز سے نیچے لا کر 25 بلین ڈالرز تک لے گرا دیا ۔ یہ ہے اس حکومت کی جادوگری ۔۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر حکومت کا مشیر خزانہ بتاتا ہے کہ اگر سمندر پار پاکستانیوں نے 29 ارب نہ بھیجا ہوتا تو معیشت ختم تھی ؟ اس سے واضح ہوگیا کہ اس حکومت کا انحصار بیرونی قرضے، بیرونی امداد اور بیرونی وسائل پہ ہے اسکے پلے کچھ بھی نہیں۔ نہ ان کے پاس پلان ہے نہ ہی یہ ملک کواندسٹرلائزیشن کے طرف ڈالنے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ الٹا انھوں نے تو پرانے چلتے کاروبار بند کروادیئے ہیں ۔ تو یہ ہے وہ کارکردگی ۔ جس پر عمران خان اور ان کی پارٹی کی خواہش ہے کہ وہ اگلا الیکشن بھی جیتیں گے ۔ اور عوام ان کے گلے میں ہار بھی ڈالیں گے ۔ معذرت کے ساتھ تبدیلی کا جنون اب صرف ان لوگوں میں زندہ ہے جن کا جیب خرچ ابھی تک والدین دیتے ہیں یا وہ پاکستانی جو چھٹیاں گزارنے یا کسی فوتگی یا پھر کسی شادی پر ہی پاکستان آتے ہیں ۔ یہ بھی بہت تھوڑی تعداد ہے اور یہ بھی اگر چند ماہ گرمیوں میں پاکستان آگئے تو حکومت کو گالیاں ہی نہیں پتہ نہیں کیا کیا کہتے رہے گے ۔ اس لیے پی ٹی آئ والوں سے بحث کرکے اپنا وقت ضائع نہ کریں یہ صرف آپ کے سامنے ڈٹے ہوتے ہیں۔ اکیلے میں یہ بھی خود کو کوستے ہی ہیں ۔ پھر دیکھا جائے تو اس حکومت نے مہنگائی ختم کرنے کی ساری امیدیں ہی ختم کر دی ہیں وزیر اعظم نے عملاً ہاتھ نہیں کھڑے کئے ۔ ان کی باتوں سے یہی لگتا ہے وہ ہار مان گئے ہیں۔ کیونکہ آج پھرعمران خان نے وہ گھسا پیٹا بیان دیا ہے کہ کورونا سے عالمی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ پاکستان مہنگائی کے اعتبار سے دیگر ملکوں کے مقابلے میں اب بھی بہتر ہے۔ پھر انہوں نے چینی کی قیمتوں کے حوالے سے اٹک میں جو گفتگو کی وہ ایک بے بس حکمران کی تقریر تھی۔ جو ہار مان چکا ہو جو صرف یہ بتا رہا ہے میں نے یہ معلوم کیا، وہ معلوم کیا، جس سے دیکھائی دیا کہ چینی مافیا کے آگے انھوں نے ہاتھ کھڑے کر دیئے ہیں ۔ اب اگر حکومت ایک مافیا کے سامنے بے بسی کا اظہار کرے گی تو باقی مافیاز خودبخود اپنے دانت تیز کر لیں گے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر منصوبہ بندی کا یہ عالم ہےکہ پی ٹی آئی کے کرتا دھرتاوں کو یہ نہیں معلوم کہ ملک میں ایل این جی کب اور کتنی امپورٹ کرنی ہے۔ یوں حکومت جلد عوام پرگیس اور بجلی کی کمی کا بحران بھی نازل کرنے والی ہے۔ یہ مذاق نہیں ہے کہ جن چیزوں مثلا آٹا،چینی ،کاٹن میں پاکستان خود کفیل تھا خان صاحب کی حکومت اربوں ڈالر ان اشیا کی درآمد پر خرچ کررہی ہے۔ حالات یہی رہے تو ملک میں غریب نام کا کوئی شخص زندہ نہیں ملے گا۔ اس وقت تو یہ لگ رہا ہے حکومت عوام کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ چکی ہے۔ آج ہر شخص یہ دہائی دے رہا ہے صرف بازاروں ہی میں نہیں سرکاری دفاتر میں بھی لوٹ مچی ہوئی ہے۔ بیورو کریسی جتنی بے لگام اور بے خوف آج ہے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ سرکاری افسر عوام کے ساتھ اچھوتوں جیسا سلوک کر رہے ہیں، انہیں معلوم ہے ہم بہت تھوڑے دنوں کے لئے تعینات ہوتے ہیں، جتنی لوٹ مچا سکتے ہیں مچا لیں اس کے بعد ٹرانسفر تو ہونا ہی ہے۔۔ یہی وجہ ہے کہ اب مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی اور جے یوآئی ف بھی ڈٹ کر کھڑی ہوگئی ہے ۔ ان کو امید ہوچلی ہے کہ قبل ازوقت الیکشن ہوسکتے ہیں اور پھر اگلی باری ان کو بھی مل سکتی ہے ۔ یا کم ازکم نئی حکومت میں حصہ تو مل ہی جائے گا ۔ آج اگرپی ٹی آئی کی فلم کوپیچھے گھما کردیکھا جائے تومعلوم ہوگاکہ کس کس طرح عوام کو بے وقوف بنایا گیا تھا۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ عمران خان نے بطور اپوزیشن لیڈ ر جو جو کچھ کیا تھا۔ آج قدرت وہی کچھ انہیں دکھا رہی ہے۔ ۔ دھاندلی دھاندلی کا شور یہ مچاتے تھے اب پتہ چلا ہے کہ حکومت میں آکر پی ٹی آئی خود دھاندلی میں ملوث ہوگئی ہے ڈسکہ الیکشن کے حوالے سے جو رپورٹ سامنے آئی ہے اس کے بعد تو اپوزیشن کا یہ مطالبہ ٹھیک ہے کہ عمران خان بھی استعفی دیں اور قانون کا سامنا کریں۔ کیونکہ یہ ہی پوائنٹ لے کر تو عمران خان نے کئی بار اسلام آباد پرچڑھائی کی تھی ۔ اور نواز شریف کے استعفی کا مطالبہ کیا تھا ۔ اس پر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ عوام کے سرمائے کی طرح لوگوں کے ووٹ اور اپنے نمائندے منتخب کرنے کا اختیار بھی لوٹنے اور چھننے کی کوشش ہو رہی ہے۔ ڈسکہ رپورٹ آگئی ہے اور ووٹ چوری ثابت ہوچکی ہے۔ عمران نیازی بتائیں اب کس چیز کا انتظار ہے۔ اب کارروائی کی جائے۔ نواز شریف کی طرح وزیراعظم ہو کر قانون کا سامنا کرنے اور پیشیاں بھگتنے کے لئے بڑا دل گردہ چاہئے، اگر عمران نیازی طاقتور ہیں تو خود کو قانون کے نیچے لائیں۔ہم انتخابی اصلاحات، الیکڑانک ووٹنگ مشین اور نیب ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے پاکستان، عوام اور آئین کے خلاف سازش کا بھرپور مقابلہ کریں گے۔ سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر عوام کو غلام بنانے کا موجودہ حکومت کا سیاہ منصوبہ ناکام بنائیں گے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ بیان سن کر ایسا نہیں لگتا کہ ماضی اپنے آپ کو دھرا رہا ہے ۔ عمران خان جو ماضی میں کہا کرتے تھے اب اپوزیشن بھی وہ ہی کہہ رہی ہے وہ ہی زبان استعمال کررہی ہے ۔۔ عنقریب آپ دیکھیں گے کہ کرپشن کے بڑے بڑے اسکینڈل بھی سامنے آئیں گے ۔ یہ چاہے جتنا مرضی زور لگا لیں اور نیب سے اپنے اوپر فائلیں بند کروالیں ۔ جب ان کے پاس حکومت کی طاقت نہیں ہوگی تو بند فائلیں بھی کھول جائیں گی ۔ تب پتہ چلے گا کہ اس دور میں مافیاز کیوں اتنے پھلے پھولے ۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگ عمران خان صاحب کی باتوں اور دعووں سے تنگ آچکے ہیں اور چاہتے ہیں کہ حکومت یا تو ڈیلیور کرے یا پھر جگہ خالی کرے۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت کی حالت اس گرتی ہوئی دیوار کی مانند ہے جسے ایک دھکا کافی ہے۔ کیونکہ عوام میں حکومت کی حمایت کم نہیں بلکہ ختم ہوگئی ہے۔

  • کوئی نہیں بچے گا، اب ہو گی قانونی چارہ جوئی، وزیراعظم نے حکم دے دیا

    کوئی نہیں بچے گا، اب ہو گی قانونی چارہ جوئی، وزیراعظم نے حکم دے دیا

    کوئی نہیں بچے گا، اب ہو گی قانونی چارہ جوئی، وزیراعظم نے حکم دے دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت پرائس کنٹرول سے متعلق اجلاس ہوا

    اجلاس کو چینی کے اسٹاک اور قیمتوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی،اور بتایا گیا کہ اس وقت ملک میں چینی وافر مقدار میں موجود ہے،سندھ کے شوگر ملوں کی بندش کے فیصلے سے چینی کی قیمتیں بڑھیں سندھ نے گندم بحران میں بھی وفاق اورباقی صوبوں کے فیصلوں سے اختلاف کیا،سندھ کے اختلاف سے ہنگامی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا،وزیراعظم نے شوگر فیکٹریز کنٹرول ترمیمی ایکٹ 2021پر عمل یقینی بنانے کی ہدایت کی وزیراعظم نے پنجاب آف ہولڈنگ ایکٹ 2020پر بھی عمل یقینی بنانے کی ہدایت کردی

    اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی ،اجلاس میں چینی کے مکمل ا سٹاک کو مارکیٹ میں لانے کا فیصلہ کیا گیا ، اجلاس میں 15 نومبر سےملک بھر میں گنے کی کرشنگ کے آغاز کرنے کا فیصلہ کیا گیا،اجلاس میں کرشنگ قوانین پر سختی سے عمل یقینی بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پنجاب رجسٹریشن آف گودام ایکٹ 2014 پرعمل یقینی بنایا جائے،منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، عوام کو ریلیف دینے کے لیے صوبائی اور ضلعی حکومتیں فیلڈ میں نظر آئیں،بین الاقوامی مارکیٹ میں اشیا کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں،پاکستان درآمدی اشیا پر انحصار کرتا ہے اس لیے مقامی مارکیٹ پر اثرات پڑ رہے ہیں ،حکومت غریب طبقے پر بوجھ کم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات لے رہی ہے،احساس راشن، کامیاب پاکستان، کسان کارڈغریب طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ہیں،صحت کارڈ اور احساس پروگرام کی دیگر اسکیمیں بھی غریب کوریلیف کی فراہمی کے لیے ہیں عوام کے سامنے حقائق اور اعداد و شمار پیش کیے جائیں،موثراورآگاہی مہم چلائی جائے،ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوری کے مرتکب افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے،سیاست سے بالاتر ہو کر عوام کی خدمت پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں حکومت مہنگائی کے اثرات کا احساس رکھتی ہے،

    قبل ازیں وزیراعظم عمران خان سے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا محمد آفریدی کی ملاقات ہوئی ہے ،ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال اور قانون سازی سے متعلق امور پر بات چیت کی گئی

    شیخ رشید فوری جیل جائیں گے، فیصلہ ہو گیا

    اگر معاہدہ پورا نہ ہوا تو یہ قافلہ آگے روانہ ہوگا تحریک لبیک کی شوریٰ کا اعلان

    خون کی ہولی کھیلی گئی،مولانا فضل الرحمان بھی تحریک لبیک کے حق میں بول پڑے

    کالعدم تحریک لبیک کے ساتھ مذاکرات کے حوالہ سے نئی پیشرفت

    ٹی ایل پی سے جو ہمارے معاملات طے ہوئے..شیخ رشید نے اپنی خواہش کا اظہار کر دیا

    کالعدم تحریک لبیک کی شوریٰ کی جانب سے انتہائی اہم ویڈیو پیغام جاری

    تحریک لبیک کا مارچ مرید کے میں موجود، آج کا دن اہم،کارکنان نے ایک بندہ پکڑ لیا

    تحریک لبیک سے مذاکرات ناکام، امید ختم، شیخ رشید کا انکار،لانگ مارچ پھر تیار

    ایک کارکن کا بھی خون بہا تو ذمہ دار عمران خان، شیخ رشید ہونگے ،تحریک لبیک کی شوریٰ کا اعلان

    بڑا اعلان. تحریک لبیک کا عمران خان کو دوٹوک جواب

    شیخ رشید نے تحریک لبیک کو بڑی پیشکش کر دی

    تحریک لبیک کا وزیرآباد میں دھرنا ختم کرنے کا اعلان

  • تحریک لبیک کا وزیرآباد میں دھرنا ختم کرنے کا اعلان

    تحریک لبیک کا وزیرآباد میں دھرنا ختم کرنے کا اعلان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک لبیک نے وزیرآباد سے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا

    اعلان تحریک لبیک کی شوریٰ نے سٹیج سے کیا، شرکا سے کہا گیا ہے کہ دھرنا ختم کرنے کا اعلان کرتے ہیں، شرکا پرامن لوٹ جائیں، کوئی کارکن گھر نہیں جائے گا بلکہ مسجد رحمت اللعالمین میں قائد محترم کا انتظار کریں گے، باغی ٹی وی کے رپورٹر فائز چغتائی جو وزیرآباد میں دھرنے میں موجود ہیں نے بتایا کہ اعلان کے بعد تحریک لبیک کے دھرنے میں موجود شرکاء کا کہنا ہے کہ ہم شوریٰ کی بات کو تسلیم کریں گے،دھرنے کے واپس ہونے کے اعلان پر کئی کارکنان روتے رہے تا ہم سٹیج سے انکی ڈھارس بندھائی گئی اور کہا گیا کہ ہم وزیرآباد سٹیج سے اعلان کیا گیا ہے کہ علامہ حافظ سعد حسین رضوی عرس سے پہلے ہمارے درمیان موجود ہوں گے

    سٹیج سے اعلان کیا گیا کہ دھرنے سے واپس جائیں اور علامہ خادم حسین رضوی کے عرس کی تیاری کریں، پہلا عرس مبارک 19٫20٫21 نومبر کو لاہور مرکز جامع مسجد رحمت العالمین میں ہوگا .وزیر آباد میں تحریک لبیک کے شرکاء نے خیمے لگا رکھے تھے، معاہدہ ہونے کے بعد اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے والے شرکا وزیرآباد رک گئے تھے، اس سے قبل مرید کے میں شرکا کو تین دن کے لئے روکے رکھا گیا تھا، لیکن معاہدہ پورا نہ ہونے پر شرکاء آگے چلے اور دو سے تین دن میں وزیرآباد پہنچے، اور آج تک وہیں تھے

    تحریک لبیک پاکستان مجلسِ شوریٰ کے اراکین علامہ فاروق الحسن قادری ، علامہ غلام غوث بغدادیب اور انجینئر حفیظ اللّٰہ علوی کو رہا کر دیا گیا ہے، وہ بھی دھرنے میں شامل ہو گئے تھے

    قبل ازیں گزشتہ روز وفاقی وزارت داخلہ نے تحریک لبیک پاکستان کا نام کالعدم لسٹ سے نکال دیا جس کا نوٹیفکشین بھی جاری کیا تھاکالعدم ٹی ایل پی پر پابندی ختم کرنے کے معاملے پر وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد سمری وزارت داخلہ کو موصول ہوئی تھی جس کے بعد وفاقی وزارت داخلہ نے کالعدم کا اسٹیٹس ختم کرنے کا نوٹفیکشن جاری کر دیا ہے۔اس حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے نوٹیفکیشن جاری کرنے کی تصدیق کر دی ہے، تحریک لبیک پاکستان کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے سب سیکشن ایک کے تحت کالعدم جماعتوں کی فہرست سے نکالا گیا ہے،انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت شیڈول فرسٹ میں رکھا گیا تھا۔ ،تحریک لبیک پاکستان کی آئین اور قانون پر مکمل عملدرآمد کی یقین دہانی پر نام کالعدم کی فہرست سے نکالا گیا ہے جبکہ تنظیم پر عائد تمام پابندیاں ختم کردی گئی ہیں۔

    شیخ رشید فوری جیل جائیں گے، فیصلہ ہو گیا

    اگر معاہدہ پورا نہ ہوا تو یہ قافلہ آگے روانہ ہوگا تحریک لبیک کی شوریٰ کا اعلان

    خون کی ہولی کھیلی گئی،مولانا فضل الرحمان بھی تحریک لبیک کے حق میں بول پڑے

    کالعدم تحریک لبیک کے ساتھ مذاکرات کے حوالہ سے نئی پیشرفت

    ٹی ایل پی سے جو ہمارے معاملات طے ہوئے..شیخ رشید نے اپنی خواہش کا اظہار کر دیا

    کالعدم تحریک لبیک کی شوریٰ کی جانب سے انتہائی اہم ویڈیو پیغام جاری

    تحریک لبیک کا مارچ مرید کے میں موجود، آج کا دن اہم،کارکنان نے ایک بندہ پکڑ لیا

    تحریک لبیک سے مذاکرات ناکام، امید ختم، شیخ رشید کا انکار،لانگ مارچ پھر تیار

    ایک کارکن کا بھی خون بہا تو ذمہ دار عمران خان، شیخ رشید ہونگے ،تحریک لبیک کی شوریٰ کا اعلان

    بڑا اعلان. تحریک لبیک کا عمران خان کو دوٹوک جواب

    شیخ رشید نے تحریک لبیک کو بڑی پیشکش کر دی

  • نیب ترمیمی آرڈیننس جمع کرائیں پھر دیکھیں گے،سپریم کورٹ

    نیب ترمیمی آرڈیننس جمع کرائیں پھر دیکھیں گے،سپریم کورٹ

    نیب ترمیمی آرڈیننس جمع کرائیں پھر دیکھیں گے،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں سابق کمشنر کراچی روشن علی شیخ اور دیگر ملزمان کی ضمانت منسوخی کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے نیب کو اضافی دستاویزات جمع کرانے کی مہلت دیدی سپریم کورٹ نے ملزمان کے وکیل کو نیب ترمیمی آرڈیننس پیش کرنے کی ہدایت کردی ، جسٹس منصورعلی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا آرڈیننس کا اطلاق جاری مقدمات پر بھی ہوگا؟ وکیل نے کہا کہ آرڈیننس کے تحت تمام جاری مقدمات متعلقہ عدالتوں کو منتقل ہونگے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ نیب ترمیمی آرڈیننس جمع کرائیں پھر دیکھیں گے، سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی

    واضح رہے کہ صدرمملکت کی منظوری سے تیسرا نیب ترمیمی آرڈیننس جاری کر دیا گیا ہے عوام سے دھوکہ اورفراڈکیسز دوبارہ نیب کے حوالے کر دیئے گئے،مضاربہ کیسزب ھی نیب کےحوالے کر دیئے گئے فراڈاوردھوکہ دہی کے کیسز 6 اکتوبرسے پہلےکی پوزیشن پربحال کر دیئے گئے، نیب اوراحتساب عدالتوں کوفراڈ کیسز پر کارروائی کا اختیار دے دیا گیا آرڈیننس کا اطلاق بھی 6 اکتوبر سے ہوگا،جعلی اکاؤنٹس کے پرانے مقدمات آرڈیننس کے تحت جاری رہ سکیں گے، مضاربہ اور بی فور یو کیسز بھی دوبارہ نیب کے حوالے کر دیئے گئے

    چیئرمین نیب کو ہٹانے کا اختیار سپریم جوڈیشل کونسل سے واپس لے لیا گیا ،ترمیمی آرڈیننس کے مطابق چیئرمین نیب کو عہدے سے ہٹانے کا اختیار صدر مملکت کے پاس ہو گا،الیکٹرانک ڈیوائسز کی تنصیب تک پرانے طریقے سے شہادتیں قلمبند کی جائیں،حکومت نے 6 اکتوبر کے آرڈیننس میں چیئرمین نیب کو ہٹانے کا اختیار سپریم جوڈیشل کونسل کو دیا تھا جوڈیشل کونسل نے اٹارنی جنرل کو چیئرمین نیب کو ہٹانے کے طریقہ کار پر وضاحت کی ہدایت کی تھی سپریم جوڈیشل کونسل میں چیئرمین نیب کیخلاف ریفرنس زیر التوا ہے زر ضمانت کے تعین کا اختیار بھی عدالت کو دے دیا گیا پہلے ترمیمی آرڈیننس میں جرم کی مالیت کے برابر مچلکے جمع کرانے کی شرط رکھی گئی تھی

    نیب کی کارروائیاں ناقابل برداشت ہوتی جا رہی ہیں،اپوزیشن سینیٹ میں پھٹ پڑی

    سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کا معاملہ،رضا ربانی بھی عدالت پہنچ گئے

    سینیٹ الیکشن کے لئے کتنے ریٹس لگے؟ وزیراعظم نے کیا حکم دیا؟

    حکومت کے ساتھ پیپلز پارٹی کی ڈیل ہو رہی ہے یا نہیں؟ سینیٹر سلیم مانڈوی والا کا اہم انکشاف

    سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے عدالت میں کیا درخواست دائر کر دی؟

    نواز شریف سے جیل میں نیب نے کتنے گھنٹے تحقیقات کی؟

    تحریک انصاف کا یوٹرن، نواز شریف کے قریبی ساتھی جو نیب ریڈار پر ہے بڑا عہدہ دے دیا

    بلی بارگین کرنے والے کو الیکشن لڑنے کی اجازت ہونی چاہئے، نیب ترمیمی بل سینیٹ میں پیش

    نیب آرڈیننس میں ترامیم کے بعد نیا مسودہ تیار

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

  • پنڈورہ لیکس،سراج الحق سپریم کورٹ پہنچ گئے، بڑا مطالبہ کر دیا

    پنڈورہ لیکس،سراج الحق سپریم کورٹ پہنچ گئے، بڑا مطالبہ کر دیا

    پنڈورہ لیکس،سراج الحق سپریم کورٹ پہنچ گئے، بڑا مطالبہ کر دیا

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے پنڈورہ لیکس کی تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے پانامہ لیکس پٹشن میں ہی متفرق درخواست دائر کی جس میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ پانامہ کیساتھ پنڈورہ لیکس میں شامل افراد کیخلاف بھی تحقیقات کی جائیں، ملک کی دولت لوٹنے والوں کا احتساب کیا جائے،

    سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سراج الحق کا کہنا تھا کہ ملک میں پانامہ کے بعد اب پنڈورا پیپر کھل کر سامنے آئے ہیں ملک میں احتساب کا عمل ناکام ہو چکا کرپٹ اشرافیہ پر ہاتھ نہیں ڈالا جا رہا سپریم کورٹ حقیقی معنوں میں احتساب شروع کرے آج نیب کا ادارہ، الیکشن کمیشن، عدالتیں اور ایوان کو حکومت یرغمال بنانا چاہتی ہے پانامہ کے 436 افراد کا احتساب ہوتا تو آج پنڈورا نہ کھلتے ملک میں جتنے بھی سیکنڈل آئے حکمران پارٹی کے لوگ شامل ہیں سیاستدان اور وزراء وزیراعظم کے جیب کی گھڑی بن کر سرکاری خزانے کو نقصان پہنچا رہے ہیں مافیا نے پٹرول بحران میں 25 ارب کا نقصان پہنچایا انرجی بحران میں بھی 50 ارب سے زائد کا نقصان پہنچایا گیا سرکاری خزانے کو حکومت میں شامل وزراء آستین کا سانپ بن کر لوٹ رہے ہیں کرپٹ اشرافیہ نے غریب عوام کے خون پسینے کی کمائی کو باہر منتقل کیا ہم پنڈورا پیپرز میں شامل افراد کا احتساب چاہتے ہیں ایک سے بڑھ کر ایک وزیر ملکی دولت کو لوٹ رہا ہے غریب عوام کی جیبوں پر ڈاکا ڈالا گیا ہے آج لوگ مہنگائی کے باعث خودکشی کر رہے ہیں لندن میں جائیدادیں خریدنے والوں میں پاکستان سیاستدان، جرنیل، ججز اور وزراء ہیں مافیاز کے ہاتھوں حکومت کا وہی حشر ہوا جو افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں امریکہ کا ہوا مافیاز نے حکومت کو عملاً مفلوج کر دیا ہے حکومت کرپٹ مافیا کے رحم کرم پر ہیں پی ٹی آئی ، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ سب نے ملک کو لوٹا سپریم کورٹ آج لوگوں کو ان کا حق دلانے آئے ہیں سپریم کورٹ سے مطالبہ کرتے ہیں غریب عوام کے خون پسینے کی کمائی پر ڈاکہ نہ ڈالیں پانامہ لیکس میں بار بار 436 افراد کے خلاف کارروائی کیلیے درخواستیں دیں لیکن کچھ نہیں ہوا،سپریم کورٹ سے اپیل کرتا ہوں وہ اپنی صوابدید استعمال کرتے ہوئے پنڈورا پیپرز کے افراد کے خلاف کارروائی کرے

    @MumtaazAwan

    پنڈورا پیپرز میں 700 لوگوں کا نام ،جو نواز شریف کے ساتھ ہوا وہی ہونا چاہئے، شاہد خاقان عباسی

    پنڈورا لیکس میں پاکستانی میڈیا مالکان کے نام بھی سامنے آ گئے

    پینڈورا پیپرز میں ملوث وزرا کو عمران خان فارغ نہیں کریں گے،اہم شخصیت کا دعویٰ

    پنڈورا لیکس کی تحقیقات کے لیے وزیراعظم نے اعلیٰ سطح کا سیل قائم کر دیا

    قبل ازیں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے پنڈورا پیپرزکی تحقیقات کے لئے سیل کے قیام کا فیصلہ مسترد کردیا ہے۔ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے پینڈورا پیپرز تحقیقات کے لیے سیل کا اعلان اپنے دوستوں کے تحفظ کے لیے ہے سیل کا مقصد اپوزیشن اور میڈیا کو مروڑنا ہے-وزیراعظم کے معائنہ کمیشن کے پاس قانون کے تحت ایسی تحقیقات کرنے یا نگرانی کرنے کا کوئی مینڈیٹ نہیں ایسی کوئی بھی کارروائی غیر قانونی ہو گی۔جسٹس عیسی کے خلاف وزارت قانون اور مشیر احتساب کی غیر قانونی تحقیقات کو سپریم کورٹ نے بدنیتی پر مبنی اور غیر قانونی قرار دیا تھاایف بی آر کو معاملہ بھجوانے کا کوئی فائدہ نہیں، یہ ایک کور اپ ہے ایف بی آر نے پاناما پیپپرز میں پہلے نوٹس کے بعد کچھ نہیں کیا تھا۔

    دوسری جانب ن لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا پنڈوراپیپرز کی تحقیقات وزیراعظم عمران خان کے ہوتے ہوئے ممکن نہیں ہیں۔ واضح رہے کہ پنڈورا پیپرز میں حکومتی وزرا، معاون خصوصی، کئی نامورسیاستدانوں سمیت 700 سے زائد پاکستانیوں کے نام سامنے آئے ہیں پنڈورا لیکس کی تحقیقات کے لیے وزیراعظم نے اعلیٰ سطح کا سیل قائم کیا ہے جو پنڈورا لیکس میں شامل تمام افراد سے جواب طلبی کرے گا۔

    چیئرمین نیب اور پنڈورا پیپرز سے متعلق اپوزیشن کے تحفظات مسترد

  • افغانستان کے لئے بڑا خطرہ کون؟ قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی میں اہم بریفنگ

    افغانستان کے لئے بڑا خطرہ کون؟ قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی میں اہم بریفنگ

    افغانستان کے لئے بڑا خطرہ کون؟ قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی میں اہم بریفنگ
    قومی اسمبلی اور سینیٹ ارکان پر مشتمل قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس شروع ہو گیا ہے

    اسپیکر اسد قیصر کی زیرصدارت قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس جاری ہے پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے تمام شرکا کو خوش آمدید کہا ،اسد قیصر نے کہا کہ قومی سلامتی کی موجودہ صورتحال پر آج اجلاس بلایا گیا، تمام پارلیمانی لیڈرز کو بات کرنے کا موقع دیاجائے گا عسکری قیادت اور وفاقی سیکریٹریز بریفنگ دیں گے ،عسکری قیادت کا مشکور ہوں کہ انہوں نےشرکت یقینی بنائی،

    اجلاس میں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سمیت عسکری حکام شریک ہیں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف، بلاول بھٹو ، وزرائے اعلیٰ بھی اجلاس میں شریک ہیں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، طارق بشیر چیمہ، وزیرداخلہ شیخ رشید اجلاس میں شریک ہیں مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان، وزیرمملکت علی محمد خان ، اعجاز شاہ اجلاس کا حصہ ہیں اسعد محمود،امیر حیدر ہوتی، آغا حسن بلوچ، مفتی عبدالشکور، ثنااللہ مستی خیل اجلاس میں شریک ہیں

    اجلاس میں افغانستان کی صورتحال پر اعلیٰ عسکری حکام نے بریفنگ دی،طالبان حکومت آنے کے بعد کی صورتحال پر اراکین پارلیمنٹ کو آگاہی دی گئی ،بریفنگ میں بتایا گیا کہ داعش افغانستان کے لیے بڑا خطرہ ہے،افغان حکومت سے تعاون جاری ہے،پاکستان خطے میں ہونے والی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے دشمن ممالک خطے کی موجودہ صورتحال کا فائدہ اٹھانے کی کوششوں میں ہیں،بار بار عالمی برادری پر زور دے رہے ہیں کہ وہ افغان حکومت کو تنہا نہ چھوڑے،

    قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں میڈیا کے داخلہ پر ایک بار پھر پابندی عائد کر دی گئی ہے اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں، میڈیا کو گیٹ نمبر ایک تک محدود کیا گیا ہے ۔قبل ازیں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی میں شرکت کےلیے پارلیمنٹ ہاوس پہنچ گئے، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف یوسف رضا گیلانی اورشیری رحمان پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے ہیں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بھی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچ گئے ہیں

    قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف جب اجلاس میں شرکت کے لئے پہنچے تو انہوں نے اس موقع پر صحافیوں سے مختصر گفتگو کی شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیم سے معاہدے کے بارے میں حکومت پارلیمان میں آکر بتائے، ہر چیز خفیہ ہے لہٰذا حکومت بتائے کیا معاہدہ کیا ہے کالعدم تنظیم کو کالعدم کی لسٹ سے نکالنے پرمشاورت سے جواب دیں گے

    صحافی نے شہباز شریف سے سوال کیا کہ ٹی ایل پی کے ساتھ مذاکرات کو کیسے دیکھتے ہیں؟ اس پر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ یہ تو حکومت پارلیمان میں آکر بتائے،کیا مذاکرات اور معاہدہ ہوا صحافی کے سوال پر کہ ٹی ایل پی سے کالعدم کا اسٹیٹس ختم کرنے پر کیا کہیں گے؟ شہباز شریف نے کہا کہ باقاعدہ مشاورت کے بعد بیان جاریں کریں گے

    قومی اسمبلی نے گزشتہ روز ایک تحریک منظور کی جس میں پیر کو قومی سلامتی کے بارے میں پارلیمانی کمیٹی کو بریفنگ کیلئے ایوان استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے تحریک ، وزیر قانون فروغ نسیم کی جانب سے پیش کی گئی ،

    دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی کے ترجمان زاہد خان نے کہا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے دوران میڈیا پر پابندی کی شدید مذمت کرتے ہیں،میڈیا پر قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے دوران پارلیمنٹ کی عمارت میں داخلے پر پابندی سمجھ سے بالاتر ہے،پارلیمان قانون سازی عمارت ہے اس میں میڈیا کی پابندی عوام کی آواز اور حقائق پر ڈاکے کے مترادف ہے ماضی میں سول اور عسکری قیادت پارلیمان آتی رہی رہیں لیکن کبھی میڈیا پر پابندی نہیں لگی، موجودہ حکومت مسلسل میڈیا پر قدغن لگانے میں مصروف ہے، اسد قیصر اسپیکر ہونے کے باوجود پارلیمان کو بے توقیر کر رہے ہیں،اس سے قبل میڈیا گیلری کو تالے بھی لگوا چکے ہیں۔ اسپیکر وضاحت دیں

    پٹرولیم بحران ، کمپنیوں نے ملبہ حکومت پر ڈال دیا، عوام کو مزید پریشان کر دینے والی خبر آ گئی

    پٹرولیم قیمتوں میں تاریخ کا بلند ترین33 فیصد اضافہ’’چینی اسکینڈل پارٹ ٹو‘‘ہے،شہباز شریف،بلاول

    خان صاحب آپکے لیے ایک آفر ہے استعفی دو اور گھر جاؤ،جنید سلیم

    آپ کیلئے پٹرول کی قیمتیں روکنا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا تو اب کیا ہوا؟ فہد مصطفیٰ

    مت بھولو کہ عمران خان مافیا کے خلاف 24 سال جہاد کرنے کے بعد نہ صرف وزیرِاعظم بنا بلکہ کرپشن کی چٹانوں سے ٹکرایا، عون عباس

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج

    ‏تنخواہ اور پینشن ایک روپیہ نہیں بڑھائی ، پٹرول 25 روپے مہنگا کرکے بتا دیا سلیکٹڈ کے دل میں اس قوم کے لئے کتنا درد بھرا ہوا ہے، جاوید ہاشمی

    25 روپے اضافے جیسے عوام دشمن اقدام کا دفاع کوئی منتخب وزیر نھیں کرسکتا یہ فریضہ باہر سے لائے گئے پراسرارمشیر ھی کر سکتے ، سلمان غنی

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مسترد، بڑا مطالبہ سامنے آ گیا

    میرے پاکستانیو….رات کے اندھیرے میں پٹرول بم گرا دیا گیا،ریٹ‌ ڈالر کے قریب پہنچ گیا

    اگر ٹیکس لیتے تو پٹرول کی قیمت 180 ہونی تھی،وزارت خزانہ