Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • کوئی فوجی حل نہیں، ہمیشہ سیاسی تصفیے کی حمایت کی، وزیراعظم

    کوئی فوجی حل نہیں، ہمیشہ سیاسی تصفیے کی حمایت کی، وزیراعظم

    کوئی فوجی حل نہیں، ہمیشہ سیاسی تصفیے کی حمایت کی، وزیراعظم
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان سے ٹرائیکا پلس کے خصوصی نمائندگان برائے افغانستان کی ملاقات ہوئی

    وزیراعظم عمران خان نے ٹرائیکا پلس میکنزم کی اہمیت کو اجاگر کیا،وزیراعظم عمران خان نے خطے کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے افغانستان میں امن و استحکام کی اہمیت پر زور دیا ،وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ افغانستان کا کوئی فوجی حل نہیں ہے،پاکستان نے ہمیشہ ایک جامع سیاسی تصفیے کی حمایت کی،وزیراعظم عمران خان نے انسانی حقوق کے احترام اور انسداد دہشت گردی کے پرعزم اقدامات کی اہمیت پر زور دیا .وزیراعظم عمران خان نے افغانستان میں انسانی بحران سے بچنے کے لیے بھی اقدامات پر زور دیا،وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری صورتحال کی سنگینی کو تسلیم کرے

    قبل ازیں چین، روس، امریکہ اور پاکستان کے افغانستان کے لئے نمائندہ خصوصی کا اہم اجلاس اسلام آباد میں ہوا، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی اجلاس میں موجود تھے، افغانستان کی صورتحال پر بات چیت ہوئی اور عالمی برادری سے افغان حکومت سے رابطے بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا، ٹرائیکا پلس اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے ،اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اعتدال پسند پالیسیوں کے نفاذ کے لیے طالبان کے ساتھ رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے،عالمی برادری افغانستان کو کورونا کیخلاف امداد کی فراہمی کیلئے ٹھوس اقدامات کرے طالبان افغان عوام کے ساتھ مل کر نمائندہ حکومت کی تشکیل کیلئے اقدامات کریں ،عالمی بینک کی موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک کے بارے میں رپورٹ بھی سامنے رکھی گئی، رپورٹ کے مطابق پاکستان، بھارت، افغانستان سب سے زیادہ متاثرہ ممالک قرار دیئے گئے اور کہا گیا کہ 2 دہائیوں میں خشک سالی، سیلاب، طوفانوں سے کروڑوں افراد متاثر ہوئے،2 دہائیوں میں ساؤتھ ایشیا ریجن کے 75 کروڑافراد موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہوئے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے فنانسنگ بڑھانے کی ضرورت ہے

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ افغانستان سے متعلق بیجنگ میں ہونے والے اجلاس میں طالبان کو مدعو کریں گے،جسے قائل کرنا ہے اسے میز پر لانا ہوگا۔پاکستان ذمہ دار ملک ہے،امن و استحکام میں دنیا کیلئے اور علاقائی فوائد ہیں،بگاڑ پیدا ہوا تو کوئی بھی بچ نہیں پائے گا

    وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ’ٹرائیکا پلس‘ (تین سے زائد ممالک) کے اجلاس سے افتتاحی خطاب کیا ،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میں ’ٹرائیکاپلَس‘ کے نویں اجلاس میں شرکت کے لئے اسلام آباد آمد پر آپ سب کوخوش آمدید کہتا ہوں۔ آپ کی یہاں موجودگی ایک پرامن، مستحکم، متحد، خود مختار اور خوش حال افغانستان دیکھنے کی مشترکہ خواہش کی عکاس ہے۔ میں دعا گو ہوں کہ آج آپ کی جانب سے غوروخوض کی کاوش، ثمربار ہو۔ ’ٹرائیکا پلَس‘ کا اجلاس تین ماہ کے وقفے سے دوبارہ ہورہا ہے۔ اس عرصے کے دوران افغانستان بنیادی تبدیلیوں سے گزرا ہے۔ کابل میں ایک نئی انتظامیہ فعال ہوئی ہے؛ عبوری کابینہ کی تشکیل ہوچکی ہے اور عالمی برادری کی جانب سے بڑے پیمانے پر انخلاء ہوا ہے خوش کن پہلو یہ تھے کہ خوں ریزی نہیں ہوئی، مہاجرین کے بڑے پیمانے پر ہجرت کے جو خوفناک اندیشے لاحق تھے، ان خدشات سے محفوظ رہے ، مستقبل کے اقدام پر طالبان کی طرف سے حوصلہ افزا اعلانات ہوئے اور اہم ترین امر یہ ہے کہ عالمی برادری نے رابطہ استوار رکھا ہے۔ افغانستان کے ساتھ رابطہ نہ صرف بحال رہنا چاہئے بلکہ کئی وجوہات کی بناءپر اس میں اضافہ ہونا چاہئے۔ تاکہ پھر سے یہ ملک خانہ جنگی کی نذر نہ ہو، کوئی بھی دوبارہ ایسا ہوتے دیکھنا نہیں چاہتا، معاشی انحاط وانہدام کا بھی کوئی خواہاں نہیں، جس سے عدم استحکام بڑھے گا ، ہر کوئی یہ چاہتا ہے کہ افغانستان کے اندر فعال، والے دہشت گرد عناصر کو موثر انداز سے نمٹاجائے اور ہم سب کی خواہش ہے کہ مہاجرین کے ایک نئے بحران سے بچا جائے۔ افغانستان سے متعلق ہم سب کی تشویش وفکر مندی مشترک ہے جبکہ وہاں امن واستحکام ہم سب کے مشترکہ مفاد میں ہے۔ ان سب کا حصول ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ اس صورتحال میں ’ٹرائیکا پلَس‘ نے نمایاں اہمیت حاصل کرلی ہے اور اس کا کلیدی کردار ہے جو اسے ادا کرنا ہے۔ہم پُر اعتماد ہیں کہ ’ٹرائیکا پلَس‘ کے نئی افغان حکومت سے امور کار، امن واستحکام کے فروغ ، پائیدار معاشی ترقی میں مددگار ثابت ہوں گے اور اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کے اندر سرگرم دہشت گردوں کے لئے گنجائش مسدود ہوتی چلی جائے گی۔افغانستان اس وقت معاشی تباہی کے دھانے پر کھڑا ہے۔ عالمی مالی امداد کے نہ ہونے سے تنخواہوں کی ادائیگی تک میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، چہ جائیکہ ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت ممکن ہوسکے۔ عام آدمی بدترین قحط کے شدید اثرات کا شکار اور اس سے متاثر ہے۔ صورتحال میں مزید تنزلی نئی انتظامیہ کی حکومت چلانے کی استعداد کو بری طرح محدود کردے گی۔ لہذا ناگزیر ہے کہ عالمی برادری ہنگامی بنیادوں پر انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے تحرک کرے ۔ صحت، تعلیم اور شہری خدمات (میونسپل سروسز) کی فراہمی کو فوری توجہ درکار ہے۔ افغانستان کو اپنے مجمند وسائل کی رسائی سے معاشی سرگرمیاں پیدا کرنے کی ہماری کوششوں کو تقویت ملے گی اور افغان معیشت استحکام اور پائیداری کی طرف گامزن ہوپائے گی۔ اسی طرح اقوام متحدہ اور اس کے اداروں پر زور دیا جائے کہ وہ عام افغان شہریوں تک رسائی کے طریقے تلاش کریں اور اس صورتحال میں ان کی مدد کریں۔

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں امن واستحکام قریب ترین ہمسائے کے طورپر پاکستان کے براہ راست مفاد میں ہے۔ پاکستان اور افغانستان مشترکہ ورثہ اور تاریخ رکھتے ہیں۔ ہم افغانستان کے ہر طبقہ و نسل کو ملک کی حتمی منزل کے لئے اہم تصور کرتے ہیں۔قریبی ہمسایہ ہونے کے ناطے ہم نے گذشتہ چار دہائیوں میں، مہاجرین، منشیات اور دہشت گردی کی صورت میں اس تنازعے اور عدم استحکام کا براہ راست نقصان اٹھایا ہے۔ ہم موجودہ صورتحال کو اس طویل تنازعے اور لڑائی کے خاتمے کا ایک موقع گردانتے ہیں۔ اس سمت میں ہم نے پہلے ہی متعدد اقدامات کئے ہیں تاکہ افغانستان میں عام آدمی کو سہولت ملے۔ ان میں سے چند یہ ہیں ،افغانستان میں کسانوں کی مدد کے لئے کھانے پینے کی اشیاءکو کسٹم ڈیوٹی سے استثنٰی قرار دے دیا ہے۔ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی ،پیدل آمدورفت کی سہولت دی گئی ہے ،ہم نے کورونا وبا کے دوران سرحد کو کھولے رکھا ،بیماروں اور علاج کے لئے آنے والوں کو ان کی آمد پر ویزا کی فراہمی کی سہولت دی گئی ہے ،15 اگست کے بعد سے میں نے مختلف ممالک کے اپنے متعدد ہم مناصب کی میزبانی کی۔ ہم افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے ہماری علاقائی پلیٹ فارم کی تشکیل کی تجویز کی حمایت کی تاکہ تشویش کے مشترک نکات اور مواقعوں پر بات چیت ممکن ہوسکے۔ دو اجلاسوں سے ٹھوس نتائج برآمد ہوئے ہیں اور مستقبل کی راہ عمل کی حامل دستاویزات میسرآئی ہیں۔ پاکستان اور بیرون ملک ان تمام رابطوں کے دوران عالمی برادری اور نئی افغان حکومت کو ہمارا ہمیشہ یہ پیغام رہا ہے کہ رابطے استوار رکھے جائیں اور باہمی اتفاق سے آگے کی راہ تلاش کی جائے۔

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ ماہ کابل کے میرے دورے سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ افغانستان کی نئی حکومت کی عالمی برادری سے کیا توقعات ہیں۔ اس سے ہمیں یہ موقع بھی میسر آیا کہ طالبان قیادت کو ہم اپنی رائے سے آگاہ کریں اور عالمی برادری کی اُن سے توقعات کو اجاگر کریں۔ہم سمجھتے ہیں کہ طالبان رابطے میں دلچسپی رکھتے ہیں کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ دنیا انہیں تسلیم کرے اور ان کی مدد کرے ۔لہذا یہ کلیدی امر ہے کہ عالمی برادری ماضی کی غلطیاں دوہرانے سے بچے اور مثبت رابطہ جاری رکھے ۔اپنے حصے کے طور پر میں امن، ترقی اور خوش حالی کے راستے پر افغانستان کی مدد کرنے کے ہمارے وزیراعظم کے عزم کا اعادہ کرتا ہوں۔

    امریکی فضائیہ کے طیاروں کی پاکستانی فضائی حدود میں پرواز

    کابل ایئر پورٹ، مزید دھماکوں کا خدشہ برقرار،دو ممالک کا انخلا ختم کرنیکا اعلان

    امریکا کا افغانستان کے شہرجلال آباد پر فضائی حملہ

    کابل ائیرپورٹ پر راکٹ حملوں کو دفاعی نظام کے زریعے روک لیا ،امریکی عہدیدار

    کابل ائیرپورٹ پر ڈورن حملے سے متاثرہ خاندان کی تفصیلا ت سامنے آ گئیں

    افغانستان کی صورتحال، چین نے کیا بڑا اعلان

    ذبیح اللہ مجاہد کا کابل ایئر پورٹ کا دورہ، کیا اہم اعلان

    طالبان کے کابل پر کنٹرول کے بعد کشمیری مجاہدین کے حوصلے بلند،مودی سرکار نے سر پکڑ لیا

    اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ اسامہ بن لادن نائن الیون کے حملوں میں ملوث تھا ،ذبیح اللہ مجاہد

    سابق صدر حامد کرزئی، عبد اللہ عبداللہ کو طالبان نے نظر بند کردیا

    جنہوں نے حملہ کیا وہ اس کی قیمت چکائیں گے، جوبائیڈن کا کابل دھماکوں پر ردعمل

    بھارت امن چاہتا ہے تو کشمیریوں پر مظالم بند کرے،قریشی کی نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو

    شاہ محمود قریشی کی افغان عبوری وزیراعظم ملاحسن اخوند سے ملاقات

  • امریکا کیساتھ روایتی اور طویل مدتی تعاون کے خواہشمند ہیں: آرمی چیف

    امریکا کیساتھ روایتی اور طویل مدتی تعاون کے خواہشمند ہیں: آرمی چیف

    راولپنڈی:امریکا کیساتھ روایتی اور طویل مدتی تعاون کے خواہشمند ہیں:اطلاعات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ روایتی ،باہمی تعلق اور طویل مدتی تعاون کا خواہاں ہے

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان تھامس ویسٹ کی ملاقات ہوئی جس میں باہمی تعاون اور افغانستان میں سکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں بارڈرمینجمنٹ کے امور بھی زیرغور آئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق امریکی نمائندہ نے افغانستان کی صورتحال میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔ تھامس ویسٹ نے سرحد پر انتظامات، علاقائی استحکام کے لیے بھی پاکستانی کوششوں کی تعریف کی۔ امریکی نمائندہ نے پاکستان کے ساتھ تعلق و تعاون بڑھانے کے لیے کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    اس موقع پر جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ روایتی ،باہمی تعلق اور طویل مدتی تعاون کا خواہاں ہے۔

    سپہ سالار نے افغانستان میں انسانی المیہ سے بچنے کے لیے دنیا پر تعاون و مدد کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا افغان عوام کی معاشی بہتری کے لیے تعاون کرے۔

  • نورمقدم کیس، عدالت کا ایک اور بڑا فیصلہ،ظاہر کی انوکھی خواہش

    نورمقدم کیس، عدالت کا ایک اور بڑا فیصلہ،ظاہر کی انوکھی خواہش

    نورمقدم کیس، عدالت کا ایک اور بڑا فیصلہ،ظاہر کی انوکھی خواہش
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ نورمقدم کیس پر اس وقت کافی تیزی سے ٹرائل ہو رہا ہے۔ عدالت میں چار چار گھنٹے کی سماعت ہو رہی ہے۔ پہلے بتایا تھا کہ کیسے جعفر خاندان کے ملازمین کے جھوٹ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے بے نقاب ہوئے تھے اور یہ بھی کہ نور نے درندے کے گھر سے ایک بار نہیں بلکہ دو بار بھاگنے کی کوشش کی تھی جو ملازمین نے ناکام بنا دی تھی۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عدالت میں مزید کیا کچھ ہوا سی سی ٹی وی فوٹیج کے حوالے سے عدالت نے کیا فیصلہ کیا، درندے کے موبائل فون اور لیب ٹاپ کے فرانزک کا کیا بنا، ایک بار پھر عدالت سے ظاہر جعفر کو کیوں نکالا گیا، عدالت کے سامنے وہ کیا منتیں کرتا رہا اور ملازمین کے مزید جھوٹ کون سے جھوٹ سامنے آ گئے ہیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج جس کو حاصل کرنے کے لئے ملزمان کے وکیل پہلے دن سے ہی بہت زور لگا رہے تھے کہ ہمیں فوٹیج دی جائے تاکہ ہمیں اپنا کیس تیار کرنے میں آسانی ہو۔ ویسے تو یہ چالیس گھنٹوں کی فوٹیج ہے لیکن اس فوٹیج میں سے کچھ اہم حصوں کو الگ کرکے بھی ایک فوٹیج تیار کی گئی ہے۔ ہر سماعت کی طرح حالیہ سماعت میں بھی ملزمان کے وکلاء نے مطالبہ کیا کہ ہمیں سی سی ٹی وی فوٹیج کی کاپی دی جائے جس پر شاہ خاور نے کہہ کہ کیوں نہ فوٹیج کو عدالت میں ایک بار دکھا دیا حائے اس کے بعد وکلاء کو دے دی جائے کیونکہ اس پورے کیس میں یہ فوٹیج سب سے زیادہ اہم ہے اور نور کی فیملی اور وکیل یہ نہیں چاہتے کہ عدالت میں فوٹیج چلنے سے پہلے یہ کہیں اور وائرل ہو۔ لیکن اس فوٹیج کے بارے میں آج عدالت نے بالآخر فیصلہ کر دیا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی پانچ کاپیاں تیار کی جائیں اور ملزمان کے وکلاء کو دے دی جائیں اس طرح اب جمعہ کے روز فوٹیج ان سب کو مل جائے گی جس پر یہ اپنے کیس کی تیاری کریں گے اس لئے آنے والی سماعتیں اب اور بھی زیادہ اہم ہوں گی۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے علاوہ درندے کے موبائل فون اور لیب ٹاپ کو بھی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔ اور اس پر جو موقف اختیار کیا گیا ہے جب میں نے وہ سنا تو یقین جانیں کہ میں نے تو اپنا سر پکڑ لیا تھا کہ آج کے دور میں بھی اس طرح کی بات کیسے کی جاسکتی ہے۔ ہوا یہ کہ عدالت میں بتایا گیا کہ یہ لیب ٹاپ اور فون پاسورڈ نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک کھل نہیں سکے اور ان کا ڈیٹا حاصل نہیں ہو سکا۔ اور اب اگر ہم اس پر بار بار غلط پاسورڈ لگائیں گے تو ہو سکتا ہے کہ ڈیٹا ہی ڈیلیٹ ہو جائے۔ سوچیں ایک کیس انڈیا میں سوشانت سنگھ کی خودکشی کا ہوا تھا جس میں انہوں نے واٹس ایپ کے ڈیلیٹ شدہ میسجز بھی Retrieveکروا لئے تھے۔ لیکن ہماری پولیس اور ایف آئی اے کا حال دیکھ لیں کہ انہوں نے صاف جواب ہی دے دیا ہے کہ جی یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ اور اس طرح کے جواب پر اب تو مجھے یقین ہو گیا ہے کہ اس درندے کے خاندان کی طرف سے اس کیس پر خوب پیسہ لگایا جا رہا ہے۔ کہ پہلے تو پولیس موقع واردات سے موبائل لینا ہی بھول گئی تھی جب موبائل لے لیا گیا تو ٹوٹی ہوئی سکرین کا کہہ کر اسے پڑا رہنے دیا حالانکہ بچہ بچہ جانتا ہے کہ موبائل فون کی سکرین آرام سے تبدیل ہو سکتی ہے لیکن نہیں جب تک ہم نے آواز نہیں اٹھائی اس پر کسی کو دھیان ہی نہیں گیا اور اب جب درندہ ان کے قبضے میں ہے تو اس سے یہ موبائل اور لیب ٹاپ کا پاسورڈ نہیں اگلوا سکے حالانکہ یہ پولیس والے جب اپنی کرنے پر آتے ہیں تو ملزم سے وہ گناہ بھی منوا لیتے ہیں جو اس نے نہیں کیا ہوتا لیکن حیرت ہے کہ اسلام آباد پولیس اس درندے سے ایک پاسورڈ نہیں اگلوا سکی۔ ایف آئی اے کی بھی یہ حالت ہے کہ وہ عدالت کو یہ جواب دے رہے ہیں کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے علاوہ ایک بار پھر عدالت سے درندے کو باہر نکال دیا گیا کیونکہ وہ بار بار گواہوں کی جرح کی کاروائی میں خلل ڈال رہا تھا۔ اس سماعت میں درندے نے نیشنل فرانزک کرائم ایجنسی کے انچارج محمد عمران کی جرح کے دوران بولنا شروع کردیا اور ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی سے منت کرنی شروع کر دی۔ ظاہر جعفر نے کہا کہ جناب عطاء ربانی، کیا میں آپ کے قریب آ سکتا ہوں، مجھے کچھ سنائی نہیں دے رہا۔ آپ میری بات سن رہے ہیں؟ اس کے بعد درندے نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد دوبارہ بولنا شروع کر دیا اور کہا کہ جج عطا ربانی، میرا راضی نامہ کروا دیں، میں عدالت کے قریب آ کر کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔اس دوران درندے ظاہر جعفر کی والدہ عصمت آدم جی بھی عدالت میں ہی موجود تھیں۔ جس نے پچھلی سماعت پر عدالت کو بہت یقین دلایا تھا کہ درندے کی طرف سے دوبارہ ایسی کوئی حرکت نہیں ہو گی۔ خیر جب جج عطا ربانی کی جانب سے جب کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا تو درندے نے ایک بار پھر جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا جناب عطاء ربانی کیا آپ مجھے سن سکتے ہیں۔ اس پر جج عطا ربانی نے ملزمان کے وکلاء سے پوچھا کیا ملزم کی کمرہ عدالت میں موجودگی ضروری ہے؟ اس کی حاضری لگوا کر بھجوا دیں۔ سوچیں آج یہ راضی نامے کی بات کر رہا ہے عدالت میں بار بار کہتا ہے میری بات سنیں۔ اب کوئی اس درندے سے پوچھے کہ جب نور اس کی اور اس کے ملازمین کی منتیں کر رہی تھی کہ اس کو جانے دیا جائے تب اس نے نور کی بات کیوں نہیں سنی کیوں اس پر تشدد کیا کیوں اسے جانے نہیں دیا۔ اس کے علاوہ محمد عمران نے اپنے بیان میں عدالت کو بتایا کہ اس نے کمرے سے کیا کیا شواہد اکھٹے کئے تو اس میں چاقو، پستول جس میں ایک میگزین لگا ہوا تھا اور دوسرا میگزین بھی ساتھ میز پر رکھا تھا، ایک لوہے کا مکا تھا اور چار سگریٹ تھے جو اکٹھے کیے گئے اب ان چیزوں کی موجودگی سے آپ سوچیں اس لڑکی کو جان سے مارنے سے پہلے کتنا تشدد کیا گیا ہو گا۔ اوراس نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ نورمقدم کا سر کھڑکی کے پاس سے ملا تھا اور چاقو شیلف پر رکھا ہوا تھا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ لیکن یہ درندہ اس کے ماں باپ ملازمین اور تھراپی ورکس والے اپنے آپ کو معصوم ثابت کرنے کے لئے پورا زور لگا رہے ہیں۔ ویسے تو اس کیس کے شروع میں ہی جو ایک کام ہوا کہ ان سب کو فورا گرفتار نہیں کیا گیا تھا اس سے ان سب کو موقع مل گیا تھا کہ یہ آپس میں پلان کرکے ایک جیسے بیانات پولیس کو دیں لیکن پھر بھی وہ کہتے ہیں نا کہ جھوٹ کے پیر نہیں ہوتے جھوٹ آخر پکڑا ہی جاتا ہے تو جیسے جیسے کیس کی تفصیلات اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیل سامنے آ رہی ہے ان کے جھوٹ بھی پکڑے جا رہے ہیں۔ سوچیں جو ملازمین یہ بھی جانتے تھے اگر دروازہ بند ہے تو کمرے کی کھڑکی کھلی ہوئی ہے وہاں سے درندے کے کمرے میں جایا جا سکتا ہے۔ تھراپی ورکس والوں کو سیڑھی بھی انھیں ملازمین نے لا کر دی تو کیا وہ اس لڑکی کی جان بچانے کے لئے کچھ نہیں کر سکتے تھے لیکن نہیں یہ ملازمین تو جان کر گیٹ بند کر دیتے تھے تاکہ نور بھاگ نہ پائے اور اسے پکڑ کر واپس درندے کے حوالے کر دیتے تھے اور تھراپی ورکس والے جو معصوم بن رہے ہیں کہ ہمیں تو یہ بتایا گیا تھا کہ ظاہر جعفر کی حالت ٹھیک نہیں تھی ہم تو مریض کو لینے گئے تھے۔ تو کوئی ان سے پوچھے کہ مریض کو لانے کے لئے کونسی ڈاکٹرز کی ٹیم وکیل کو ساتھ لے کر جاتی ہے۔ کیونکہ تھراپی ورکس والوں کے ساتھ وکیل دلیپ کمار بھی تھا۔ اور اس کو ساتھ لے کر جانے کا مقصد یہ تھا کہ کیسے موقع واردات سے ثبوتوں کو مٹایا جائے، نور کی باڈی کو ٹھکانے لگایا جائے اور کیس کو خراب کیا جائے۔ تاکہ اس درندے کی جان بچ جائے۔ کیونکہ یاد کریں اس درندے نے اپنے باپ کو جب فون پر بتایا تھا کہ میں نے نور کو مار دیا ہے تو اس نے اپنے بیٹے سے کہا تھا کہ تم پریشان نہ ہو میں سب سنبھال لوں گا۔ ٹیم آ رہی ہے وہ تمھیں یہاں سے نکال لے گی۔ اس لئے تھراپی ورکس والے اپنی پوری تیاری سے گئے تھے اور مجھے تو یقین ہے کہ امجد پر بھی جو حملہ کیا گیا وہ بھی ڈرامہ کیا گیا۔ تاکہ اس کی ذہنی حالت خراب ثابت کی جا سکے۔ ورنہ جس طرح اس کے پاس اسلحہ تھا اگر وہ مارنا چاہتا تو وہ آرام سے امجد کو مار سکتا تھا۔اور جو یہ بیان دیا گیا کہ ظاہر نے اس وقت امجد سے کہا تھا کہ میں تمھیں بھی ماروں گا اور خود بھی خودکشی کروں گا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ تو یہ بھی ایک ڈرامہ ہی ہے کیونکہ اگر اس نے اپنی جان لینی ہوتی تو نور کو مارنے کے فورا بعد اپنی جان لے چکا ہوتا اپنے باپ کو فون نہ کرتا کہ مجھ سے قتل ہو گیا ہے اور مجھے بچا لو۔ ابھی تک جیسے ان کے پہلے والے ڈرامے بے نقاب ہوتے رہے ہیں انشااللہ باقی کے ڈارمے بھی آنے والے دنوں میں پکڑے جائیں گے۔اب عدالت نے اگلی سماعت جو کہ سترہ نومبر کو ہوگی اس پر ہیڈ کانسٹیبل جابر، کمپیوٹر آپریٹر مدثر، اے ایس آئی دوست محمد اور ڈاکٹر شازیہ کو طلب کرلیا ہے اب ان کی گواہی اور اس پر جراح ہو گی۔ اور مزید بہت سے انکشافات اس کیس کے حوالے سے سامنے آئیں جس سے ان درندوں کے جھوٹ مزید بے نقاب ہونگے اورنور کو جلد انصاف مل سکے گا .

  • ایک طرف شہباز شریف سے مدد دوسری جانب شہباز شریف کے گرد گھیرا تنگ

    ایک طرف شہباز شریف سے مدد دوسری جانب شہباز شریف کے گرد گھیرا تنگ

    ایک طرف شہباز شریف سے مدد دوسری جانب شہباز شریف کے گرد گھیرا تنگ

    شہباز شریف کے لئے بڑا جھٹکا،نیب نے شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی سفارش کر دی، وفاقی کابینہ شہباز شریف، سندھ کے سابق وزیراعلیٰ قائم علی شاہ اور فواد حسن فواد کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی منظوری دے گی، باخبر ذرائع کے مطابق ابھی تک کابینہ کو سمری موصول نہیں ہوئی،اطلاعات کے مطابق شہباز شریف کا نام پہلے بھی ای سی ایل میں ہے

    مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کا نام ای سی ایل پر ڈالنا عمران صاحب کی ترجیح ہے،مہنگائی اور معیشت ٹھیک کرنا نہیں .ایک نہیں، دو نہیں، تین چار دفعہ ای سی ایل پر ڈالو اور آٹا، چینی،بجلی ،گیس،دوائی مافیاز اور اپنے ATMs کو آرڈینس لا کر این آر او دیں عمران صاحب باتیں نہ کریں،اپنے نمبرز پورے کریں

    قبل ازیں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصرنے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو خط لکھا ہے اسد قیصر نے قائد حزب اختلاف کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ اپوزیشن اور حکومت کو وسیع تر قومی مفاد کو مد نظر رکھنا ہے،مشترکہ مفادات کی اصلاحات پر پارٹی وابستگی سے بالا تر ہوکر وسیع تر قومی مفاد کو مد نظر رکھا جائے الیکشن ترمیمی اور دیگز بلز پر مشاورتی عمل شروع کرنے اور قانون سازی کیلئے تشکیل دی گئی متفقہ کمیٹی کے فورم کو بروئے کار لایا جائے، اپوزیشن لیڈر کو اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے،الیکشن ترمیمی بل 2021 اوردیگر بلز قومی اسمبلی سے پاس ہو چکے ہیں،بلزپارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں زیر غور آنے ہیں ،متفقہ کمیٹی کی طرف سے مشاورتی عمل مکمل نہیں ہو سکا، امید ہے اپوزیشن لیڈر تمام عمل میں اپنا کردار ادا کریں گے،امید ہے شہبازشریف بلز پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں سہولت فراہم کریں گے،

    دوسری جانب شہباز شریف نے اسپیکر قومی اسمبلی کے خط کے حوالہ سے پارٹی رہنماؤں سے مشورہ کیا ہے، باخبر ذرائع کے مطابق اس بات کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ متحدہ اپوزیشن سے مشاورت کے بعد کوئی قدم اٹھائیں گے

     سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    میں نے صدر عارف علوی کا انٹرویو کیا، ان سے میرا جھوٹا افیئر بنا دیا گیا،غریدہ فاروقی

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    دوران تفتیش ایف آئی اے ایک آدمی پر چلاتا رہا مجھ سے بات نہیں کی،شہباز شریف

    متحدہ اپوزیشن، بلاول نے آج سب کو بلا لیا

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر

    چاہتے ہیں اگلے الیکشن میں دھاندلی کا رونا نہ ہو،وزیراعظم

  • بازی پلٹ گئی، اتحادیوں کا صاف انکار،حکومت کو اسمبلی میں بدترین شکست

    بازی پلٹ گئی، اتحادیوں کا صاف انکار،حکومت کو اسمبلی میں بدترین شکست

    بازی پلٹ گئی، اتحادیوں کا صاف انکار،حکومت کو اسمبلی میں بدترین شکست
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ جس طرح پاکستانی عوام کی مشکلات میں کہیں سے کوئی کمی نہیں ہو رہی ویسے ہی اب عمران خان کے لئے بھی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں جن میں کافی حد تک ان کا اپنا ہی عمل دخل ہے کیونکہ ظاہری بات ہے کہ وہ حاکم وقت ہیں ان کے پاس اقتدار ہے اور اگر وہ عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہوں گے تو دوسروں کو موقع ملے گا کہ وہ بھی عمران خان نے خلاف مشکلات کھڑی کر سکیں اور مشکلات نہ بھی ہوں تو صورتحال یہ ہے کہ اس وقت اپوزیشن عمران خان کے حالات کا خوب مزہ بھی لے رہی ہے اور مذاق بھی بنا رہی ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے الیکٹرونک ووٹنگ مشین کے حوالے سے قانون سازی اور کلبھوشن و دیگر معاملات پر قانون سازی کیلئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 11 نومبر کو طلب کیا ہوا تھا جس کے حوالے سے پہلے وزیراعظم ہاؤس میں اراکین پارلیمنٹ کے اعزاز میں ظہرانہ دیا گیا جس کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے یہاں تک بھی کہہ دیا کہ ہم ملک کی فلاح کے لئے قانون سازی کر رہے ہیں۔ انتخابات کو متنازعہ بنانے سے بہتر ہے کہ انتخابی اصلاحات لائی جائیں۔ قانون سازی ذاتی یا سیاسی فوائد کیلئے نہیں کررہے، انتخابی اصلاحات پر قانون سازی جمہوری نظام کیلئے ضروری ہے، جمہوریت پر یقین ہے اس لیے انتخابی اصلاحات کرنا چاہتے ہیں۔ اراکین کا خاص ہدایت کی گئی کہ الیکڑونک ووٹنگ مشین کو لانے کے لئے اور اس کا بل پاس کروانے کے لئے جہاد سمجھ کر کرشش کی جائے لیکن پھر تھوڑی ہی دیر بعد اس اجلاس کومؤخر کردیا گیا۔جس کے بارے میں وفاقی وزراء کہہ رہے ہیں کہ اسپیکر اسد قیصر کو اپوزیشن سے ایک بار پھر رابطہ کرنے کا کہا گیا ہےتاکہ ایک متفقہ انتخابی اصلاحات کا بل لایا جا سکے۔ انتخابی اصلاحات ملک کے مستقبل کا معاملہ ہے، ہم نیک نیتی سے کوشش کر رہے ہیں کہ ان معاملات پر اتفاق رائے پیدا ہو۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ یہ اجلاس آخر موخر کیوں کیا گیا۔ وجہ یہ ہے کہ کل جس طرح سے قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی اراکین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا اس کے بعد انھیں پتہ لگ چکا ہے کہ اب اگر اپوزیشن سے بات کئے بغیر یہ اجلاس میں کوئی بھی بل پیش کریں گے تو یہ اس کو پاس کروانے میں ناکام رہیں گے اس لئے یہ اجلاس کینسل کرنا پڑا۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں ہوا یہ تھا کہ اکثریت ہونے کے باوجود حکمران اتحاد کے مقابلے میں اپوزیشن نے ایک ہی دن میں حکومت کو دو مرتبہ ووٹنگ میں شکست دے دی۔ جس کی وجہ سے حکومت کی مخالفت کے باوجود اپوزیشن رکن کا بل پیش ہو گیا جبکہ حکومتی رکن کو بل پیش کرنے کی اجازت ہی نہ ملی۔ اور پھر جب بعد میں حکومتی رکن کی جانب سے پیش کیے گئے بل کی اپوزیشن نے مخالفت کی تو اجلاس کی صدارت کرنے والے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے ووٹنگ کرائی تو اس میں حکومتی بنچوں کو شکست ہو گئی۔اپوزیشن کی جانب سے سید جاوید حسنین نے بل پیش کیا کہ کوئی منتخب رکن اگر پارٹی تبدیل کرتا ہے تو پابندی ہونی چاہیے کہ وہ آئندہ سات سال تک کسی دوسری پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن نہ لڑ سکے لیکن حکومت کی جانب سے اس بل کی مخالفت کی گئی کہ اس بل کے زریعے آپ کسی بھی رکن سے اس کا جمہوری حق نہیں چھین سکتے ہیں۔اس مخالفت کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حکومتی اراکین میں سے کچھ اراکین شاید یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ وہ آنے والے الیکشن میں اپنی پارٹی تبدیل کرکے اس ٹولے میں شامل ہو جائیں جس کے جیتنے کے چانسز زیادہ ہوں گے۔ کیونکہ بہر حال یہ ایک حقیقت ہے کہ الیکشنز کے نزدیک ایک مخصوص ٹولہ ہے جو بڑی مہارت سے اپنی وفاداریاں تبدیل کرتے ہیں اور جو پارٹی ان کو لگتی ہے کہ حکومت بنائے گی اس کے ساتھ جا کر مل جاتے ہیں۔ اور جب اس بل پرووٹنگ کی گئی تو بل کے حق میں 117 ووٹ آئے جب کہ اس کی مخالفت میں 104 ووٹ ڈالے گئے۔اس طرح حکومت کی ایک نہ چلی اور سید جاوید حسنین کا پیش کردہ بل متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔اس کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی اہم رکن اسما قدیر کے بل کی اپوزیشن نے مخالفت کر دی۔ اسما قدیر کی جانب سے خواتین کو سوشل میڈیا پر ہراساں کرنے پر سزا کی تجویز کا بل پیش کیا گیا تھا۔ لیکن ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے ووٹنگ کے بعد کہا کہ فوجداری قوانین ترمیمی بل 2021 پیش کرنے کی مخالفت میں ووٹ زیادہ ہیں۔ اس لیے بل پیش کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ جس کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن کے احسن اقبال نے دعوی کیا کہ اپوزیشن کے 127 اور حکومت کے صرف 78 ووٹ نکلے تھے۔
    اسمبلی میں اس کامیابی پر بلاول بھٹو نے اپوزیشن جماعتوں کو مبارک باد بھی پیش کی تھی اور کہا تھا کہ متحدہ اپوزیشن نے آج حکومت کو قومی اسمبلی میں شکست دے دی ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے علاوہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں الیکٹرونک ووٹنگ مشین کے حوالے سے قانون سازی، کلبھوشن یادیو کو نظرثانی کی اپیل کا حق دینے کے بل اور دیگر اہم قوانین کے حوالے سے حکمت عملی طے کرنے کے لیے اپوزیشن رہنماؤں کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ آج قومی اسمبلی میں سب نے تبدیلی دیکھ لی ہے۔ مشترکہ اجلاس میں بھی حکومت کا راستہ روکیں گے۔ جس پر تمام اپوزیشن نے اتحاد کا مظاہرہ کیا۔بس اسی اتحاد کے ڈر سے اس اجلاس کو موخر کیا گیا ہے۔
    جس پر مریم نواز نے بھی تنقید کرتے ہوئے ٹوئیٹ کی کہ۔۔ابھی ابھی ریجیکٹڈ خان صاحب تقریر جھاڑ رہے تھے کہ کل کے اراکین مشترکہ اجلاس میں جہاد سمجھ کر ووٹ کریں تو کیا قوم یہ پوچھ سکتی ہے کہ جہاد اچانک ملتوی کیوں کرنا پڑا ؟ ویسے تو قوم سب جانتی ہے مگر پھر بھی پوچھنا تو بنتا ہے۔ویسے آج سپریم کورٹ میں سانحہ پشاور کے حوالے سے جو پیشی ہوئی تھی جس میں وزیر اعظم عمران خان کو طلب بھی کیا گیا تھا اس پر بھی مریم نواز نے ایک ٹوئیٹ اور عمران خان کو نشانہ بنایا کہ۔۔
    روٹی مہنگی تو کم کھاؤ،میں کیا کروں؟
    چینی مہنگی تو میٹھا چھوڑ دو،میں کیا کروں؟
    پیٹرول مہنگا توگاڑی مت چلاؤ،میں کیا کروں؟
    خواتین سےزیادتی ہے توگھر بیٹھیں،میں کیا کروں؟
    شہدا کےلواحقین صبرکریں،میں کیا کروں؟
    تم بس ملک پرعذاب بن کر ٹوٹتے رہو! لیکن اب یہ عذاب کے دن بھی ختم ہونے کو ہیں۔
    اور پھر دوسری ایک ٹوئیٹ میں کہا کہ۔۔
    بے سکون ہو تو قبر میں جاؤ سکون ملے گا میں کیا کروں ؟

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دراصل ایسا ہی ایک کمنٹ چیف جسٹس پاکستان نے بھی سانحہ اے پی ایس کے حوالے سے کیا تھا کہ آپ وزیر اعظم ہیں، جواب آپ کے پاس ہونا چاہیے۔اور صحیح بات ہے صرف سانحہ پشاور ہی نہیں اس وقت پوری قوم کے ہی جو بھی حالات ہیں اس کے جواب دہ وزیر اعظم عمران خان ہیں کیونکہ عوام نے ان پر یقین کرکے ان کو منتخب کیا تھا عوام اپنے حالات میں بہتری کی امید لئے ان کی طرف دیکھ رہی ہے اور کوئی بدلاو نہ آنے پر اپوزیشن ان کا مذاق بنا رہے ہیں ان پر تنقید کر رہے ہیں۔لیکن اس وقت عمران خان کا پورا زور صرف اور صرف الیکڑانک ووٹنگ مشین پر ہے۔ آج کے ظہرانے میں بھی اس پر تمام اراکین کو خوب لیکچر دیا گیا لیکن عمران خان این اے 75 ڈسکہ پر خاموش ہیں حالانکہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کی صاف چلی شفاف چلی۔۔ تحریک انصاف چلی۔۔ کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوٹ دیا ہے۔ کہ پاکستان تحریک انصاف جو ماضی میں خود دھاندلی دھاندلی کا شور مچاتی رہی ہے ہر ہارے ہوئے الیکشن کو متنازع بنانے کی کوشش کرتی ہے لیکن جب اپنی بات آتی ہے تو ہار برداشت کرنا ان کے لئے مشکل ہوتا ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ 2013 کے الیکشن میں تحریک انصاف نے پینتیس پنکچر کا واویلا کیا بعد میں کہا گیا کہ 35 پنکچر والا بیان تو صرف ایک سیاسی بیان تھا۔ پھر چار حلقے کھولنے کا مطالبہ لے کر احتجاج شروع کیا جب چاروں حلقے کھولے گئے تو کسی ایک بھی حلقے سے منظم دھاندلی کا کوئی ثبوت سامنے نہ آیا۔ شاید اسی لئے ہار سے بچنے کے لئے ڈسکہ الیکشن میں ہراوچھا ہتھکنڈا استعمال کیا گیا۔ پوری کی پوری انتظامی مشینری کو الیکشن جیتنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ الیکشن کمیشن کی رپورٹ میں صاف بتایا گیا ہے کہ دھاندلی کی پلاننگ کے لیے وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کی سابق معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان اور وزیراعلی کے ڈپٹی سیکرٹری کی موجودگی میں ایجوکیشن اور ریٹرننگ افسران کی میٹنگز ہوتی رہیں۔ منظم انداز میں پریزائیڈنگ آفیسرز کو لاپتہ کیا گیا ۔ اس معاملے میں پولیس اہلکار معاونت فراہم کرتے رہے۔ محکمہ ایجوکیشن کے افسران جانبداری کا مظاہرہ کرتے رہے اور حکومتی اہلکاروں کے آلہ کار بن کر الیکشن چوری کروانے میں مدد فراہم کرتے رہے۔ پولیس افسران نے دباؤ ڈال کر بیس سے زائد پریزائیڈنگ افسران سے زبردستی نتائج تبدیل کروائے۔ لیکن اب کسی کے خلاف کوئی ایکشن نہیں ہوگا ان تمام لوگوں سے کوئی سوال نہیں کر رہا۔
    یا پھر شاید عمران خان اسی ڈسکہ رپورٹ کی وجہ سے الیکشن کمیشن پر اتنے غصے میں ہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ جلد سے جلد الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر قانون سازی ہو اور آنے والا الیکشن ہرحال میں مشینوں کے ذریعے ہو۔مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ لیکن اس وقت جو سیاسی حالات نظر آرہے ہیں اور حکومتی ناکامیوں کی فہرست جتنی لمبی ہوتی جا رہی ہے اس کے بعد ایسا ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ اجلاس موخر کیا گیا تاکہ ٹائم مل سکے نمبرز پورے کرنے کے لئے۔ دوسری طرف اپوزیشن بھی متحد ہے لیکن دیکھیں آنے والے دنوں میں یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔

  • ان ہاؤس تبدیلی نہیں بلکہ نئے انتخابات، مولانا فضل الرحمان کا بلاول کو مشورہ

    ان ہاؤس تبدیلی نہیں بلکہ نئے انتخابات، مولانا فضل الرحمان کا بلاول کو مشورہ

    ان ہاؤس تبدیلی نہیں بلکہ نئے انتخابات، مولانا فضل الرحمان کا بلاول کو مشورہ
    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پہنچ گئے مولانا فضل الرحمان اور مولانا اسعد محمود نےبلاول بھٹو کا استقبال کیا یوسف رضا گیلانی اور قمر زمان کائرہ بھی بلاول بھٹو کے ہمراہ ہیں ،بلاول بھٹو نے مولانا فضل الرحمان سے ان کی صحت سے متعلق خیریت دریافت کی بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ملکی سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمان نے ملک میں بڑھتی مہنگائی پر تشویش کا اظہار کیا،بلاول نے مولانا فضل الرحمان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ بزرگ سیاست دان ہیں، 3 نسلوں سے ہمارا رشتہ ہے، ای وی ایم اور احتساب قوانین پر پارلیمان میں لائحہ عمل کامیابیوں کا سبب بن سکتا ہے،پارلیمان کے ذریعے ہی حکومت کی پالیسیوں کو ناکام بنایا جاسکتا ہے،حکومت کی پارلیمان میں حالیہ شکست اپوزیشن کی کامیابیاں ہیں،

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ سربراہ جے یوآئی ف مولانا فضل الرحمان سے ملاقات ہوئی حکومت کو پارلیمان میں شکست کا سامنا ہے پارلیمنٹ کا مشترکہ سیشن رات کے اندھیرے میں منسوخ کیا گیا،حکومت کی پارلیمان میں حالیہ شکست اپوزیشن کی بڑی کامیابی ہے، سیاسی جماعتوں نے پوری قوت سےحکومتی کوشش ناکا م بنا دی ،جہوری انداز سے کام کریں گے تو کامیابی ملے گی

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ اور پوری قوم کو نقصان پہنچایا گیا، ہم جعلی اکثریت کو قبول نہیں کرتے، جعلی مینڈیٹ کے ساتھ آئی حکومت کو بھی قبول نہیں کرتے ،ہمارا مطالبہ نئے الیکشن ہیں اپوزیشن ملکر حکومت کے ہتھنکنڈے ناکام بنا رہی ہے، پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلایا گیا تو اپوزیشن ایک بار پھر حکومت کو شکست دے گی ہم جعلی حکومت کو بہت جلد گھر بھجیں گے، دھاندلی زدہ حکومت کو اصلاحات کرنےکا کوئی حق نہیں، میں پی ڈی ایم کا سربراہ ہوں اورتنہا کچھ بھی نہیں کرتا، ہمارا شروع سے ایک ہی مطالبہ نئے انتخابات ہیں، پی ڈی ایم میں پیپلز پارٹی کی واپسی پر کوئی بات نہیں ہوئی،

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے ن لیگ کی رہنما مریم نواز بھی اسلام آباد پہنچ چکی ہیں، پی ڈی ایم میں پیپلز پارٹی کی دوبارہ شمولیت کی بھی کوشش جاری ہیں، پیپلز پارٹی کی پی ڈی ایم میں واپسی کے حوالہ سے گزشتہ چند دنوں سے باز گشت جاری تھی ،پی پی رکن اسمبلی سید خورشید شاہ کی رہائی کے بعد وہ متحرک تھے اور انہوں نے اس ضمن میں رابطے بھی کئے تھے تا کہ کسی طرح اپوزیشن ایک بار پھر حکومت کے خلاف متحد ہو اور متحد ہو کر ہی تحریک چلائی جائے

    پیپلز پارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات شازیہ مری کا کہنا ہے کہ چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا، اسپیکر قومی اسمبلی کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد کا تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا،اپوزیشن کے تمام فیصلے متفقہ ہوں گے کوئی یکطرفہ فیصلہ نہیں ہوگا،پیپلزپارٹی اپنی موثر حکمت عملی کے ذریعے تمام کارڈز کھیلے گی،اسپیکر اسدقیصر نے آج خط لکھ کر مذاکرات کی دعوت دی ہے،اپوزیشن متحد ہوکر مذاکرات سے متعلق اور آگے کی حکمت عملی کا فیصلہ کرے گی،

    دوسری جانب سندھ کے وزیر اطلاعات سعید غنی نے کہا ہے کہ بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمان کی ٹیلیفونک گفتگو کا علم نہیں سعید غنی کا کہنا تھا کہ ہم پی ڈی ایم سے علیحدہ نہیں ہونا چاہتے تھے،پی ڈی ایم کے فیصلے برابری کی بنیاد پر ہونگے،تمام سیاسی پارٹیاں برابر ہیں اور ہم کسی ایک کا دم چھلا نہیں بن سکتے، جو بھی فیصلے ہونگے باہمی مشاورت سے ہونگے،ہم یک طرفہ فیصلوں پر یقین نہیں رکھتے ہیں ہماری تجاویز پر پی ڈی ایم عمل کرنا نہیں چاہتی،عوام کو مشکلات سے نکالنے کیلئے ہم قدم اٹھا رہے تھے، کسی بھی جماعت نے استعفٰی دینے کا اعلان نہیں کیا،ہمارے پاس ووٹ آف لو کنفیڈنشن کا آپشن موجود ہے

    سعید غنی کا مزید کہنا تھا کہ کسی کوعلم نہیں آئی ایم ایف سے کیا بات ہوئی،اسٹیٹ بینک کےمعاملات میں مداخلت ہورہی ہے،آئی ایم ایف سے مذاکرات کا باضابطہ اعلان نہیں ہوا،پی ٹی آئی کو پارٹی کے اندرہی چیلنجزکا سامنا ہے ،ہمارے لیے بلدیاتی انتخابات کرانا لازمی ہے ،آئین کے مطابق نئی حلقہ بندیاں ضروری ہیں،نااہل حکومت کابوجھ عوام پرپڑ رہا ہے،وزیراعظم ہمیشہ غیرذمہ دارانہ بات کرتےہیں،وزیراعظم کوکسی نے بتایا سندھ کی شوگرملز بند ہونے سے قیمتیں بڑھیں،آصف زرداری کی ایک شوگرمل بھی نہیں ہے،مشیرخزانہ نے خوشخبری سنائی تھی بجلی اور پیٹرول کی قیمتیں بڑھائیں گے،آنے والے دنوں میں گیس بحران پیدا ہوسکتاہے، صرف سندھ میں بلدیاتی اداروں نے اپنی مدت پوری کی ، پنجاب میں جیسے ہی تحریک انصاف کی حکومت آئی انہوں نے بلدیاتی اداروں کو غیر فعال کر دیا ، سپریم کورٹ نے سات ماہ قبل بلدیاتی اداروں کی بحالی کا حکم دیا مگر اب تک عمل نہ ہوا خیبرپختونخوا میں بلدیاتی ادارے کئی سال سے کام نہیں کر رہے ۔ سندھ میں دوبارہ بلدیاتی الیکشن نہ کرانے کی ذمہ داری ہم پر نہیں آتی آئین کے مطابق ہر مردم شماری کے بعد حلقہ بندیاں ہونی ضروری ہیں یہاں نئی حلقہ بندیاں نہیں ہوئیں اس لئے انتخابات نہیں ہو سکتے ہم قانون پر کام کر رہے ہیں امید ہے کہ تین سے پانچ ماہ میں سندھ میں بلدیاتی الیکشن ہوں گے

    واضح رہے کہ گزشتہ دو دنوں سے اسلام آباد میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں، شہباز شریف نے متحدہ اپوزیشن کو عشائیہ دیا، تو اگلے روز بلاول نے کھانا دیا، اپوزیشن کی سب کمیٹی بنی ہے جس کا گزشتہ روز اجلاس ہوا، اپوزیشن کو پی ڈی ایم کا اجلاس ملتوی کر نا پڑا تو حکومت کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ملتوی کرنا پڑا، گزشتہ روز اپوزیشن جماعتوں کی اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا،اجلاس میں قومی اسمبلی سے عجلت میں منظور کرایا گیا نیب ترمیمی بل سینیٹ سے مسترد کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اجلاس میں نیب ترمیمی بل مسترد کرانے کے لیے سینیٹ میں قرارداد لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے قرارداد پر اپوزیشن جماعتوں کے دستخط لیے جارہے ہیں،دستخط ہوجانے کے بعد قرارداد سینیٹ سیکریٹریٹ میں جمع کرائی جائے گی کمیٹی نے حکومتی متنازعہ قانون سازی کے خلاف پارلیمنٹ اور عدالتوں میں جانے کا فیصلہ کیا ہے .دوسری جانب اپوزیشن نے ان ہاؤس تبدیلی کے آپشن پر غور شروع کر دیا، پیپلز پارٹی نے تجویز دی کہ ان ہاؤس تبدیلی مرحلہ وار لائی جائے،چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد سے آغاز کیا جائے، سینیٹ میں اپوزیشن کی اکثریت ہے وہاں سے آغاز کیا جائے،سینیٹ میں کامیابی کے بعد اسد قیصرکے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائے گی،

    مریم نواز نے یوسف رضا گیلانی کو مشکل میں پھنسا دیا

    اب نہیں تو کبھی نہیں، گیلانی کے خلاف پی ٹی آئی نے بڑا قدم اٹھا لیا

    اور پھر اس بار بلاول مان ہی گئے، ایسا فیصلہ کیا کہ مولانا فضل الرحمان اسلام آباد چھوڑ گئے

    سینیٹ انتخابا ت کے دوران ووٹ کیسے کاسٹ کیا تھا؟ زرتاج گل نے ایک بار پھر بتا دیا

    سینیٹ انتخابات میں کیا اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل تھی؟ شیخ رشید نے دیا جواب

    ابو نہیں بیٹا بچاؤ مہم آج چلی، شکست پر پاکستانی ٹرمپ کا ردعمل قوم نے دیکھ لیا،مریم نواز

    ہم دیکھیں گے آپ کا وزیراعلیٰ اور اسپیکر کب تک کرسی پر بیٹھیں گے،بلاول

    بزدار کے لئے خطرے کی گھنٹی بج گئی،پنجاب میں ان ہاؤس تبدیلی کب ہو گی؟ بڑا فیصلہ ہو گیا

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    میں نے صدر عارف علوی کا انٹرویو کیا، ان سے میرا جھوٹا افیئر بنا دیا گیا،غریدہ فاروقی

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    دوران تفتیش ایف آئی اے ایک آدمی پر چلاتا رہا مجھ سے بات نہیں کی،شہباز شریف

    متحدہ اپوزیشن، بلاول نے آج سب کو بلا لیا

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر

    چاہتے ہیں اگلے الیکشن میں دھاندلی کا رونا نہ ہو،وزیراعظم

    گیلانی کے ایک ہی چھکے نے ن لیگ کی چیخیں نکلوا دیں

    بلاول میرا بھائی کہنے کے باوجود مریم بلاول سے ناراض ہو گئیں،وجہ کیا؟

    ندیم بابر کو ہٹانا نہیں بلکہ عمران خان کے ساتھ جیل میں ڈالنا چاہئے، مریم اورنگزیب

    ن لیگ بڑی سیاسی جماعت لیکن بچوں کے حوالہ، دھینگا مشتی چھوڑیں اور آگے بڑھیں، وفاقی وزیر کا مشورہ

     سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    سب مان گئے، اب ہو گی ان ہاؤس تبدیلی، پہلے جائے گا کون؟ فیصلہ ہو گیا

    اور حکومت شہباز شریف کے آگے جھک گئی،مدد مانگ لی

  • پاکستان اور ٹی ٹی پی کے مابین سیزفائر معاہدہ،افغان وزیر خارجہ کا ردعمل آ گیا

    پاکستان اور ٹی ٹی پی کے مابین سیزفائر معاہدہ،افغان وزیر خارجہ کا ردعمل آ گیا

    پاکستان اور ٹی ٹی پی کے مابین سیزفائر معاہدہ،افغان وزیر خارجہ کا ردعمل آ گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے وزیرخارجہ امیر متقی نے کہا ہے کہ اداروں میں خواتین 100 فیصد واپس آچکی ہیں،افغان عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی نے پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں میں 75 فیصد خواتین واپس ڈیوٹی پرآچکی ہیں وزیراعظم عمران خان سے آج ملاقات ہوگی،اس وقت افغان سرزمین میں پاکستان مخالف عناصرموجود نہیں،افغان سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہیں ہو رہی،افغانستان کو بڑی فوج کی ضرورت نہیں ،ہم مختصر اورباصلاحیت فوج تشکیل دیں گے ،ہماری حکومت وسیع البنیاد ہے،تمام قومیتیں شامل ہیں،پاکستان اور ٹی ٹی پی کے مابین سیزفائر معاہدہ خوش آئند ہے،

    افغانستان کے وزیرخارجہ امیر متقی نے کہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان سمیت کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی،پاکستان کے دورے کے دوران اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان کے وزیرخارجہ امیر متقی کا کہنا تھا کہ افغانستان پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں ہے ،افغانستان انسانی بنیادوں پر پاکستان کی طرف سے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے افغان عوام کو 40 سال پناہ دینے پر پاکستان کے شکرگزار ہیں،افغان مہاجرین نے جتنا عرصہ پاکستان میں گزارا زرا نقصان نہیں پہنچایا،افغانستان کی جیلوں میں 35ہزار سے زائد قیدی موجود تھے آج افغانستان کی جیلوں میں کوئی قیدی نہیں آج افغانستان میں تعلیمی ادارے بحال ہیں ،افغانستان کے وزیر خارجہ امیر متقی کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کی پاسداری ہورہی ہے ،دنیا افغانستان میں جن اصلاحات پرکام کرنا چاہتی ہے ہم کام کرنے کے لیے تیار ہیں افغانستان میں تعمیراتی کاموں کے لیے دنیا کو آگے آنا چاہیے دباو کے ذریعے کسی بھی ملک کوقائل نہیں کیاجا سکتا،مذاکرات بہترین عمل ہے افغانستان کے دارالحکومت کابل یا کسی اورشہر میں افغانوں کوکوئی مشکل نہیں ،افغانستان کے وزیرخارجہ امیر متقی کا کہنا تھا کہ افغانستان میں نئی حکومت کے آنے کے بعد سب کچھ صفر سے شروع ہوا،افغانستان میں معاشی اوردیگر مسائل ہیں توا س کی وجہ وہاں سب کچھ نئے سرے سے شروع ہونا ہے افغانستان کی ترقی کے خواہاں ہیں ،چاہتے ہیں دنیا کے تمام ممالک تعمیر و ترقی میں مددکریں افغانستان کے تمام اداروں میں خواتین کوکام کرنے کی آزادی ہے اشرف غنی کا کابل سے فرار ہونا افغانستان کے ساتھ ناانصافی تھی کابل پرکنٹرول حاصل کرنے سے پہلے اشرف غنی فرار ہوئے

    قبل ازیں گزشتہ روز وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی نے اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ ملاقات کی جس میں قائم مقام وزرائے صنعت و تجارت کے علاوہ خزانہ اور نائب وزیر ہوا بازی بھی شامل تھے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے ہمراہ وزیر ہوا بازی سرور خان، مشیر خزانہ شوکت ترین ‘ رزاق داؤد اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغان عوام کو درپیش دہرے چیلنجوں کے پیش نظر افغانستان کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد اور اقتصادی مدد فراہم کرنے کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں کو اجاگر کیا پاکستان نے مختلف شعبوں میں تکنیکی مدد کی پیشکش کی اور موجودہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور تعاون کے نئے شعبوں کی نشاندہی کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا.قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی نے پرامن اور مستحکم افغانستان کے لیے پاکستان کی مسلسل حمایت اور خاص طور پر گزشتہ چار دہائیوں سے لاکھوں پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے عوام کے باہمی فائدے کے لیے برادرانہ تعاون پر مبنی تعلقات کو مضبوط بنانے میں مکمل تعاون کا یقین دلایا

    کابل ائیرپورٹ پر ڈورن حملے سے متاثرہ خاندان کی تفصیلا ت سامنے آ گئیں

    افغانستان کی صورتحال، چین نے کیا بڑا اعلان

    ذبیح اللہ مجاہد کا کابل ایئر پورٹ کا دورہ، کیا اہم اعلان

    طالبان کے کابل پر کنٹرول کے بعد کشمیری مجاہدین کے حوصلے بلند،مودی سرکار نے سر پکڑ لیا

    اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ اسامہ بن لادن نائن الیون کے حملوں میں ملوث تھا ،ذبیح اللہ مجاہد

    سابق صدر حامد کرزئی، عبد اللہ عبداللہ کو طالبان نے نظر بند کردیا

    جنہوں نے حملہ کیا وہ اس کی قیمت چکائیں گے، جوبائیڈن کا کابل دھماکوں پر ردعمل

    بھارت امن چاہتا ہے تو کشمیریوں پر مظالم بند کرے،قریشی کی نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو

    شاہ محمود قریشی کی افغان عبوری وزیراعظم ملاحسن اخوند سے ملاقات

    عالمی برادری سے افغان حکومت سے رابطے بحال کرنے کا مطالبہ

  • اور حکومت شہباز شریف کے آگے جھک گئی،مدد مانگ لی

    اور حکومت شہباز شریف کے آگے جھک گئی،مدد مانگ لی

    اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصرنے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو خط لکھا ہے

    اسد قیصر نے قائد حزب اختلاف کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ اپوزیشن اور حکومت کو وسیع تر قومی مفاد کو مد نظر رکھنا ہے،مشترکہ مفادات کی اصلاحات پر پارٹی وابستگی سے بالا تر ہوکر وسیع تر قومی مفاد کو مد نظر رکھا جائے الیکشن ترمیمی اور دیگز بلز پر مشاورتی عمل شروع کرنے اور قانون سازی کیلئے تشکیل دی گئی متفقہ کمیٹی کے فورم کو بروئے کار لایا جائے، اپوزیشن لیڈر کو اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے،الیکشن ترمیمی بل 2021 اوردیگر بلز قومی اسمبلی سے پاس ہو چکے ہیں،بلزپارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں زیر غور آنے ہیں ،متفقہ کمیٹی کی طرف سے مشاورتی عمل مکمل نہیں ہو سکا، امید ہے اپوزیشن لیڈر تمام عمل میں اپنا کردار ادا کریں گے،امید ہے شہبازشریف بلز پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں سہولت فراہم کریں گے،

    دوسری جانب شہباز شریف نے اسپیکر قومی اسمبلی کے خط کے حوالہ سے پارٹی رہنماؤں سے مشورہ کیا ہے، باخبر ذرائع کے مطابق اس بات کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ متحدہ اپوزیشن سے مشاورت کے بعد کوئی قدم اٹھائیں گے

    واضح رہے کہ گزشتہ دو دنوں سے اسلام آباد میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں، شہباز شریف نے متحدہ اپوزیشن کو عشائیہ دیا، تو اگلے روز بلاول نے کھانا دیا، اپوزیشن کی سب کمیٹی بنی ہے جس کا گزشتہ روز اجلاس ہوا، اپوزیشن کو پی ڈی ایم کا اجلاس ملتوی کر نا پڑا تو حکومت کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ملتوی کرنا پڑا، گزشتہ روز اپوزیشن جماعتوں کی اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا،اجلاس میں قومی اسمبلی سے عجلت میں منظور کرایا گیا نیب ترمیمی بل سینیٹ سے مسترد کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اجلاس میں نیب ترمیمی بل مسترد کرانے کے لیے سینیٹ میں قرارداد لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے قرارداد پر اپوزیشن جماعتوں کے دستخط لیے جارہے ہیں،دستخط ہوجانے کے بعد قرارداد سینیٹ سیکریٹریٹ میں جمع کرائی جائے گی کمیٹی نے حکومتی متنازعہ قانون سازی کے خلاف پارلیمنٹ اور عدالتوں میں جانے کا فیصلہ کیا ہے .دوسری جانب اپوزیشن نے ان ہاؤس تبدیلی کے آپشن پر غور شروع کر دیا، پیپلز پارٹی نے تجویز دی کہ ان ہاؤس تبدیلی مرحلہ وار لائی جائے،چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد سے آغاز کیا جائے، سینیٹ میں اپوزیشن کی اکثریت ہے وہاں سے آغاز کیا جائے،سینیٹ میں کامیابی کے بعد اسد قیصرکے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائے گی،

    قبل ازیں ن لیگی رہنما سعد رفیق ،خورشید شاہ اور شاہدہ اختر علی کی ق لیگ کے وفد سے ملاقات ہوئی ہے اپوزیشن نے ق لیگ سے حکومت سے الگ ہونے کی درخواست کی اپوزیشن نے ق لیگ سے انتخابی اصلاحات بل کی حمایت نہ کرنے کی درخواست کی ق لیگ نے بل کی حمایت سے انکار کر دیا، اپوزیشن نے تعاون کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا

    مشترکہ اپوزیشن نے اتحادی جماعتوں سے رابطے شروع کردیئے ہیں، ن لیگی رہنما رکن قومی اسمبلی ایاز صادق کا کہنا ہے کہ حکومتی اتحادی جماعتوں سے بات چیت ہوئی ہے، پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان کا بھی کہنا تھا کہ حکومتی اتحادی جماعتوں سے بھی بات ہوئی ہے،اتحادی جماعتوں کو تحفظات سے آگاہ کیا ہے،اپوزیشن نے حکومت سے تحریری طور پر قانون سازی کی تفصیلات مانگ لیں ،شیری رحمان کا کہنا تھا کہ جتنے بھی قانون سازی اور آرڈیننس ہونی ہے اس کو دیکھیں گے،جو بھی کام ہے وہ تحریری طور پر اسپیکر کو درخواست کریں گے،کوئی کنفیوژن نہیں، اسپیکر تحریری طور پر لکھ کر دیں، ہم حقیقی سیاسی تنظیمیں ہیں ہم پارلیمان کے دروازے بند نہیں کرتے،قیادت کو تمام صورتحال سے آگاہ کردیا ہے،مشترکہ اجلاس ہم نے ملتوی نہیں کروایا،ہمارے نمبر پورے ہیں ہم تنہا نہیں کھڑے،ہم سب متحد نظر آ رہے ہیں اور متحد رہیں گے،اسپیکر کو تمام جماعتوں کی نمائندگی کرنی چاہیے، اسپیکر بلا رہے ہیں تو ہم انہیں کہیں گے تحریری طور پر لکھ کر دیں،

    واضح رہے کہ ایم کیو ایم کے رہنما امین الحق نے کہا ہے کہ وزیراعظم سے کہا کہ مشترکہ اجلاس سے پہلے ای وی ایم پر مشاورت چاہتے ہیں .امین الحق کا کہنا تھا کہ وزیراعظم سے کہا کہ پہلے ای وی ایم پر مشاورت کی جائے،ایم کیوایم کی خواہش تھی رابطہ کمیٹی ارکان سے مشاورت کریں جمہوری کلچر کا بنیادی نکتہ مشاورت اور اعتماد ہوتا ہے،ایم کیوایم پاکستان جمہوری کلچر کے ذریعے آگے بڑھناچاہتی ہے،ای وی ایم پر ہمارے خدشات ہیں جو دور کیے جائیں،

    گیلانی کے ایک ہی چھکے نے ن لیگ کی چیخیں نکلوا دیں

    بلاول میرا بھائی کہنے کے باوجود مریم بلاول سے ناراض ہو گئیں،وجہ کیا؟

    ندیم بابر کو ہٹانا نہیں بلکہ عمران خان کے ساتھ جیل میں ڈالنا چاہئے، مریم اورنگزیب

    ن لیگ بڑی سیاسی جماعت لیکن بچوں کے حوالہ، دھینگا مشتی چھوڑیں اور آگے بڑھیں، وفاقی وزیر کا مشورہ

     سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    میں نے صدر عارف علوی کا انٹرویو کیا، ان سے میرا جھوٹا افیئر بنا دیا گیا،غریدہ فاروقی

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    دوران تفتیش ایف آئی اے ایک آدمی پر چلاتا رہا مجھ سے بات نہیں کی،شہباز شریف

    متحدہ اپوزیشن، بلاول نے آج سب کو بلا لیا

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر

    چاہتے ہیں اگلے الیکشن میں دھاندلی کا رونا نہ ہو،وزیراعظم

    سب مان گئے، اب ہو گی ان ہاؤس تبدیلی، پہلے جائے گا کون؟ فیصلہ ہو گیا

  • آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا آرمرڈ کور رجمنٹل سنٹر نوشہرہ کا دورہ: یاد گار شہدا پرفاتحہ خوانی کی۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا آرمرڈ کور رجمنٹل سنٹر نوشہرہ کا دورہ: یاد گار شہدا پرفاتحہ خوانی کی۔

    نوشہرہ: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا آرمرڈ کور رجمنٹل سنٹر نوشہرہ کا دورہ: یاد گار شہدا پرفاتحہ خوانی کی۔،اطلاعات کے مطابق آج پاک فوج کے سربراہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ نے آرمرڈ کور رجمنٹل سنٹر نوشہرہ کا دورہ کیا، اور یاد گار شہدا پر پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے لیفٹیننٹ ندیم ذکی منج کے آرمرڈ کور کے کرنل کمانڈنٹ کے بیجز لگائے جبکہ جنگ میں آرمرڈ کور کے فیصلہ کن کردار کی تعریف کی۔

    آرمی چیف نے کہا کہ آرمرڈ کور کی پیشہ ورانہ مہارتیں اور آپریشنز میں کارکردگی نمایاں ہیں، ہر سطح پر کمانڈرز پیشہ ورانہ تربیت پر خصوصی توجہ دیں، فوج اورخصوصی آرمرڈ کور میں جدید ٹیکنالوجی کو روشناس کراتے رہنا چاہیے، آرمرڈ کور کیلئے ٹیکنالوجی بارے تازہ ترین پیش رفت سے باخبر رہنا ضروری ہے۔

  • ٹی20ورلڈ کپ:سنسنی خیز مقابلے میں پاکستان کو شکست،آسٹریلیا فائنل میں داخل

    ٹی20ورلڈ کپ:سنسنی خیز مقابلے میں پاکستان کو شکست،آسٹریلیا فائنل میں داخل

    دبئی :ٹی 20ورلڈ کپ کے دوسرے سیمی فائنل میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد آسٹریلیا پاکستان کو شکست دیکر فائنل میں پہنچ گیا ہے۔

    وارنر اور مچل مارش نے بہترین بیٹنگ کرتے ہوئے51 رنز کی شراکت قائم کی لیکن 52 کے مجموعے پر شاداب خان کو چھکا مارنے کی کوشش میں مچل مارش کیچ دے بیٹھے۔

    آسٹریلیا نے اب تک 7 اوورز میں دو وکٹوں کے نقصان 57 رنز بنائے ہیں۔

    ٹی20 ورلڈ کپ کے دوسرے سیمی فائنل آسٹریلیا نے پاکستان کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کا فیصلہ کیا اور پاکستان نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 4وکٹ کے نقصان پر176 رنزبنا کرآسٹریلیا کوجیت کےلیے 177 کا ہدف دیا ہے

    پاکستان نے مقررہ 20 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 176 رنز بنائے، محمد رضوان 67 اور فخر زمان رنز 55 بناکر نمایاں رہے۔

    پاکستان نے اننگز کا آغاز کیا تو اوپنرز نے پہلے اوور میں محتاط انداز اپنایا اور بابر اعظم نے اسٹارک کو باؤنڈری لگا کر کھاتا کھولا اور پھر اگلے اوور میں جوز ہیزل وُڈ کو بھی چوکا لگایا۔محمد رضوان کو اننگز کی ابتدا میں ہی نئی زندگی ملی اور گلین میکسویل کی گیند پر ڈیوڈ وارنر ان کا کیچ نہ لے سکے۔

    پاکستان کی طرف سے دونوں اوپنرز نے جارحانہ کھیل پیش کرتے ہوئے آسٹریلین باؤلرز کو آڑے ہاتھوں لیا اور پاور پلے میں کوئی وکٹ نہ گرنے دی۔پاکستان نے پاور پلے میں 47 رنز بنائے جو ان کا رواں ورلڈ کپ میں کسی بھی ٹیم کے خلاف پاور پلے میں کیا گیا سب سے بہترین اسکور ہے۔

    اس اننگز کے دوران بابر اعظم نے مچل مارش کو چوکا لگا کر ٹی20 انٹرنیشنل میچوں میں ڈھائی ہزار رنز کا سنگ میل عبور کر لیا اور یہ کارنامہ سب سے کم اننگز میں سرانجام دینے کا عالمی ریکارڈ قائم کردیا۔

    اس سے قبل یہ ریکارڈ بھارتی کپتان ویرات کوہلی کے پاس تھا لیکن اب بابر اعظم نے 62اننگز میں ڈھائی ہزار رنز بنا کر یہ ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔

    اوپنرز نے پاکستان کو 71رنز کا آغاز فراہم کیا لیکن اسی اسکور پر ایڈم زامپا کو چھکا مارنے کی کوشش میں بابر کی 39رنز کی اننگز اختتام کو پہنچی، ان کی اننگز میں پانچ چوکے شامل تھے۔

    دوسرے اینڈ سے محمد رضوان نے بہترین بیٹنگ کا سلسلہ جاری رکھا اور رواں ٹی20 کرکٹ میں ہزار رنز مکمل کرنے کا اعزاز حاصل کر لیا جس کے ساتھ ہی وہ ٹی20 کرکٹ کی تاریخ میں ایک سال میں ہزار رن بنانے والے پہلے بلے باز بن گئے۔انہوں نے بہترین بیٹنگ کرتے ہوئے ہیزل وُڈ کو چھکا مارنے کے ساتھ ساتھ اسی اوور میں نصف سنچری بھی مکمل کی۔

    رضوان اور فخر نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے دوسری وکٹ کے لیے 70رنز سے زائد کی شراکت قائم کی اور جوش ہیزل وُڈ کے ایک اوور 21رنز بٹورے جنہوں نے اپنے چار اوورز کے کوٹے میں 49رنز دیے۔

    رضوان نے 52 گیندوں پر چار چھکوں اور تین چوکوں کی مدد سے 67رنز کی اننگز کھیلی اور مچل اسٹارک کو وکٹ دے بیٹھے۔ پاکستان نے اب تک 19.2 اوورز میں 4وکٹوں کے نقصان پر 162 رنز بنائے ہیں

    واضح رہے کہ پاکستان متحدہ عرب امارات میں گزشتہ 16 ٹی ٹوئنٹی میچز میں ناقابل شکست ہے البتہ آسٹریلیا آئی سی سی ایونٹ میں پاکستان کے خلاف تمام 4 ناک آؤٹ میچز جیتا ہے۔

    دبئی میں ہونے والے میگا ایونٹ کے بڑے مقابلے کےلیے ٹیمیں تیار ہیں، دونوں ہی ٹیموں میں شامل ہر کھلاڑی میچ ونر ہے،کوئی بیٹ سے بازی پلٹا ہے تو کوئی بولنگ سے میچ اپنے حق میں کر لیتا ہے۔

    بابر ، رضوان ، حفیظ ، شعیب ، آصف پاکستان کی بیٹنگ پاور ہیں تو بولنگ کی جان ہیں شاہین آفریدی ، حسن علی اور حارث رؤف لیکن دبئی میں اہم کردار ہوگا اسپینرز کا اور یہ شعبہ ہے عماد وسیم ، محمد حفیظ اور شاداب خان کے ہاتھوں میں۔

    دوسری جانب بھی ایڈم زمپا ہیں ، میکس ویل بھی گیندیں گھماتے ہیں، پھر اس کی بیٹنگ پاور فنچ ، وارنر ، اسمتھ ، سب ہی ایک سے بڑھ کر ایک ہیں جبکہ آسٹریلیا کا پیس اٹیک بھی اپنی مثال آپ ہے۔

    واضح رہے کہ آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے پہلے سیمی فائنل میں گزشتہ روز نیوزی لینڈ نے انگلینڈ کو شکست دےکی پہلی بار فائنل کیلئے کوالیفائی کیا۔

    میچ کے لیے دونوں ٹیمیں ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہیں۔

    پاکستان: بابر اعظم (کپتان)، فخر زمان، محمد رضوان، شعیب ملک، حارث رؤف، محمد حفیظ، شاہین شاہ، حسن علی، عماد وسیم، آصف علی، شاداب خان۔

    آسٹریلیا: ایرون فنچ(کپتان)، اسٹیون اسمتھ، ڈیوڈ وارنر، گلین میکسویل، میتھیو ویڈ، مچل مارش، مارکس اسٹوئنس، پیٹ کمنز، مچل اسٹارک، ایڈم زامپا اور جوش ہیزل وُڈ۔