Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • لاہورکی شان لاہورکی آن:اولڈ راوین آف پاکستان:سالانہ عیشائیہ:نامورشخصیات کی شرکت:مبشرلقمان بھی مہمان

    لاہورکی شان لاہورکی آن:اولڈ راوین آف پاکستان:سالانہ عیشائیہ:نامورشخصیات کی شرکت:مبشرلقمان بھی مہمان

    لاہور:لاہورکی شان لاہورکی آن:اولڈ راوین آف پاکستان:سالانہ عیشائیہ:نامورشخصیات کی شرکت:مبشرلقمان بھی مہمان،اطلاعات کے مطابق آج لاہور میں گورنمنٹ کالج کے نامور،روشن ستارے اورہونہارسابق طالب علموں کو اولڈراوینز تنظیم کی طرف سے سالانہ عیشائیہ دیا گیا ،

     

     

    باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق اس سالانہ عیشائیہ کے خصوصی مہمان ڈاکٹر امجد ثاقب تھے اوراس میں بڑے بڑے معروف چہروں اور اعلیٰ‌کردار کے مالک گورنمنٹ کالج کے پرانے طالب کی کثیرتعداد شامل تھی ، ان میں سے ایک معروف صحافی مبشرلقمان کو بھی یہ اعزاز حاصل ہوا کہ ان کو بھی اولڈ راوین کے گزرے ہوئے ماضی کی یادوں میں شمولیت کی دعوت دی گئی

     

    ۔
    تفصیلات کے مطابق اولڈراوینز کا سالانہ عشائیہ اور میوزیکل پروگرام اوول گراؤنڈ گورنمنٹ کالج لاہور میں منعقد ہوا۔چیئرمین اخوت فاؤنڈیشن ڈاکٹر امجد ثاقب نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔صدر اولڈراوین یونین جہانزیب نزیر خان نے صدارت کی ۔ وائس چانسلر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی پروفیسر اصغر زیدی بھی شریک ہوئے ۔سیکریٹری جنرل ڈاکٹر عبدالباسط نے سٹیج سیکریٹری کے فرائض سرانجام دیے۔

     

     

    ذرائع کے مطابق چیئرمین پارلیمانی کمیٹی کشمیر افیئرز شہریارآفریدی، سابق گورنر پنجاب سردار لطیف خان کھوسہ، وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل، ڈی جی والڈ سٹی اتھارٹی کامران لاشاری ، سابق وفاقی سیکریٹری قاضی آفاق ،معروف صحافی مبشر لقمان ، اسامہ غازی ، بیرسٹر احتشام امیرالدین، ڈپٹی کمشنر لاہور عمر شیر چٹھہ، ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ رانا شکیل اسلم ، چیئرمین بورڈ آف گورنرز کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی/میو ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر محمود شوکت نے شرکت کی

     

     

     

    اولڈ راوینزکے اس عیشائیہ میں دیگراہم مہمانوں میں گلوکار جواد احمد ، اداکار عثمان پیرزادہ ، کالم نگار روزنامہ جنگ پروفیسر نعیم مسعود ، گلوکار وارث بیگ ، سینیٹر زرقا تیمور سہروردی ، صدر پی ٹی آئی یو کے رانا ستار ، ممبر پنجاب بار کونسل منیر بھٹی ، اداکار عدیل ہاشمی ، ڈی آئی جی جیل خانہ جات مبشر ملک ، ایڈوائزر اولڈراوین افئیرز صدیق اعوان ، سابق پرنپسل جنرل ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر محمد طیب ، پروفیسر ڈاکٹر صفدر علی خان ،پروفیسر ڈاکٹر اشرف ضیا ، معروف بزنس مین ڈاکٹر آفتاب اقبال شیخ ، اشفاق موہلن ، پروفیسر ڈاکٹر محمد ناصر ، فیصل ڈار ، منصور فیروز خان ، شیخ منصور الہی ، انس غازی ، ڈاکٹر سلمان کاظمی ، میاں احمد چھچھر اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے ممتاز اولڈراوینز نے خصوصی شرکت کی

     

     

    اس اہم تقریب کو زینت بخشنے والے ہونہاراولڈراوین یونین کابینہ اراکین طیب حسین رضوی ، ڈاکٹر تنویر بھٹی ، رابعہ افضل واہلہ ، ڈاکٹر عبدالباسط ، جہانگیر اقبال میو ، کنور عثمان سعید ، مہتاب احمد ، ڈاکٹر ابرار الہی ملک ، ڈاکٹر زکریا بٹ ، الطاف سکھیرا ، سلطان نثار سرویا اور بابر بھٹہ شریک ہوئے ،

     

     

    ڈاکٹر امجد ثاقب نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گورنمنٹ کالج میں گزرے دن آج بھی زندگی کے سب سے یادگار دن ہیں۔ہم سب کو مل کر اس معاشرے کی بہتری کے لیے کام کرنا چاہیے۔

     

     

    وائس چانسلر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی پروفیسر اصغر زیدی نے صدر جہانزیب نزیر خان اور دیگر کابینہ اراکین کو کامیاب پروگرام پر مبارکباد دی۔پروگرام کے اختتام پر گلوکار امانت علی نے فن کا مظاہرہ کیا۔

     

     

    یاد رہے کہ ولڈ راوین یونین برصغیر کے معروف تعلیمی ادارے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے سابق طلبا و طالبات پر مشتمل ایک یونین ہے۔ اس کے 9ہزار سے زائد ممبران ہیں جن میں سابق وزرائے اعظم، فوجی افسران، ججز حضرات، وکلا، صحافی، ڈاکٹر، انجینئر، استاد، بیوروکریٹ اور دیگر طبقہ ہائے زندگی سے منسلک لوگ شامل ہیں

    ۔

  • بھارتی فوج تباہی کے دہانے پرپہنچ گئی:کہیں جرنیل جنرلوں کومارنے لگےتوکہیں افسران خودکشیوں پر مجبور

    بھارتی فوج تباہی کے دہانے پرپہنچ گئی:کہیں جرنیل جنرلوں کومارنے لگےتوکہیں افسران خودکشیوں پر مجبور

    سرینگر:بھارتی فوج تباہی کے دہانے پرپہنچ گئی:کہیں جرنیل جنرلوں کومارنے لگےتوکہیں افسران خودکشیوں پر مجبور،اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج میں اس وقت بغاوت کی کیفیت ہے اور اطلاعات ہیں کہ بڑے بڑے جنرلزاپنے مخالفین جنرلز کو مروانے کےلیے کہیں ہیلی کاپٹر جیسے حادثات کرواتےہیں تو کہیں اپنے ہی ماتحت جوانوں سے فائرنگ کروا کر کام تمام کروا دیتے ہیں

    ویسے تو بہت سے ایسے واقعات ہیں جن کوانتہائی خفیہ رکھا جاتا ہے مگرچند دن پہلے جنرل بپن راوت کے ہیلی کاپٹر کوفضا میں راکٹ یا میزائل سے داغے جانے کے بعد یہ تنازعہ اب کھل کر سامنے آگیا ہے ، یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بھارتی فوج کے انٹرنل سیکورٹی اداروں نے چیف آف ڈیفنس جنرل بپن راوت کے ہیلی کاپٹر کو تباہ کرنے والے فوجی افسران کو گرفتار کرلیا ہے اوران کی گرفتاری کو پوشیدہ رکھا جارہا ہے ،

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس سازش میں بھارتی فضائیہ کے ایک اسکوارڈ ن لیڈر،بری فوج کے ایک جنرل اور ایک برگیڈربھی اس وقت فوج کے انٹرنل سیکورٹی اداروں کی تحویل میں ہیں ، جن کے بارے میں بھارتی فوجی حکام معاملے کو پوشیدہ رکھے ہوئے ہیں‌

    دوسری طرف بھارتی فوج میں اعلیٰ‌افسران کے رویے کی وجہ سے پہلے جوان اور جونیئر افسران خودکشیاں کرتے تھے مگراب تو خود بڑے بڑے افسران کی طرف سے خود کشی کے واقعات سامنے آرہے ہیں‌، تازہ واقعہ میں‌ غیر قانونی طور پربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج کے ایک میجر نے ضلع رامبن میں خود کو گولی مار کر خودکشی کر لی۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج کی راشٹریہ رائفلز کے میجر پرویندر سنگھ نے ضلع کے علاقے مہوبل میں اپنی سرکاری رہائش گاہ پر خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کردیا۔کھاری پولیس پوسٹ کے انچارج کے مطابق مہوبل میں 23 راشٹریہ رائفلز کی الفا کمپنی کے کمانڈر میجر پرویندر سنگھ نے اپنے رہائشی کوارٹرپر اپنی سروس رائفل اے کے 47 سے خود کو گولی مارکر خود کشی کرلی۔

    اس واقعے سے جنوری 2007 سے مقبوضہ جموں وکشمیر میں خودکشی کرنے والے بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی تعداد بڑھ کر524 ہو گئی ہے۔

  • وزیر اعظم نے گوادر کے ماہی گیروں کے جائزمطالبات کا نوٹس لے لیا

    وزیر اعظم نے گوادر کے ماہی گیروں کے جائزمطالبات کا نوٹس لے لیا

    اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے گوادر کے ماہی گیروں کے جائز مطالبات کا نوٹس لے لیا۔

    باغی ٹی وی : گوادر میں ماہی گیروں کے احتجاج کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ ٹرالروں سے غیر قانونی ماہی گیری کے خلاف سخت ایکشن لیں گے۔


    وزیراعظم نے لکھا کہ میں نے گوادر کے جفاکش ماہی گیروں کے بالکل جائز مطالبات کا نوٹس لے لیا ہے۔ ٹرالرز کی جانب سے غیرقانونی ماہی گیر کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور میں وزیراعلیٰ بلوچستان سے بھی بات کروں گا۔

    حیدرآباد اور کوٹری میں زلزلے کے جھٹکے

    بلوچستان کے ضلع گوادر میں ’گوادر کو حق دو‘ تحریک کا احتجاجی دھرنا 28 ویں روز بھی جاری رہا تحر یک کی جانب سے آج گوادر میں ریلیاں نکالی جا رہی ہیں جن میں گوادر کے علاوہ مکران کے مختلف علاقوں سے لوگ بڑی تعداد میں شرکت کر رہے ہیں 15 نومبر سے شروع ہونے والے اس احتجاج میں مقامی افراد جماعت اسلامی بلوچستان کے صوبائی سیکٹری جنرل مولانا ہدایت الرحمن کی سربراہی میں دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔

    انڈپینڈنٹ اردو کے مطابق مولانا ہدایت الرحمن نے 10 دسمبر کو کہا تھا کہ ’ہمارے مطالبات بڑے نہیں ہیں ہم سی پیک کی مد میں موٹر وے نہیں مانگ رہے ہیں۔ ہم نہیں کہتے کہ گوادر اور مکران کی سڑکوں پر ٹائل لگائیں یا سنگ مرمر کے روڈ بنا دیں اور نہ ہی یہ کہ ہمیں ایک کروڑ نوکریاں دے دیں یہ دھرنا جاری رہے گا۔ ہم پاکستانی شہری ہیں اور ہم اپنے حقوق سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘

    پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید 7 افراد جاں بحق

    رپورٹ کے مطابق مولانا ہدایت الرحمن نے اس تحریک میں اپنے پہلے مطالبے کے حوالے سے بتایا کہ ’ہمارے مطالبات ہیں کہ ’جو سمندر ہے اور 750 کلومیٹر کا ساحل ہزاروں سالوں سے ہمارے آبا و اجداد کے روزگار کا ذریعہ ہے وہاں ہزاروں کی تعداد میں موجود ٹرالر مافیا سمندری حیاتیات کی نسل کشی کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ وہ یہاں غیر قانونی ماہی گیری اور ممنوعہ جال استعمال کر رہے ہیں جس کے باعث سمندر میں مچھلیاں ختم ہوگئی ہیں اسی وجہ سے لاکھوں ماہی گیر متاثر ہوئے ہیں۔ اگر ہماری مدد کرنے کے لیے حکمران ہم سے ٹیکس لیتے ہیں تو ہم انہیں ٹیکس دیں گے مگر خدا کے لیے ہمارے روزگار پر ڈاکہ نہ ڈالا جائے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’بلوچستان کے پانچ اضلاع پاک ایران سرحد پر ہیں ایران ہمارا اسلامی برادر ملک ہے جہاں سے ہماری اشیائے خرد و نوش اور ان پانچ اضلاع کی بجلی حاصل کی جاتی ہیں بارڈر کی بندش کی وجہ سے گوادر میں لاکھوں افراد متاثر ہو رہے ہیں اگر سکیورٹی ضروری ہے تو کریں مگر آزادانہ اور باعزت روزگار کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔

    سال 2021 میں انتقال کرنے والی شوبز شخصیات

    حق دو بلوچستان کو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمن کا کہنا تھا کہ ’ہمارے تعلیمی ادارے، ہسپتال، تفریحی مقامات، میدان، گھروں کے اندر اور اوپر اور سمندر کے کنارے چیک پوسٹیں ہیں۔ کیا ہم آزاد شہری ہیں یا ہم جیل میں رہ رہے ہیں؟ ہم چاہتے ہیں کہ غیر ضروری چیک پوسٹوں کو ختم کردیا جائے۔‘

    مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ ’بلوچستان کے 10 لاکھ نوجوان منشیات کا شکار ہیں بلوچستان میں دن میں روشنی میں منشیات کا کاروبار ہو رہا ہے بلوچستان میں منشیات سمندر اور زمینی راستے سے آتی ہیں۔ اگر یہاں بازار میں منشیات بک رہی ہیں تو کہیں سے تو آرہی ہیں منشیات کی روک تھام میں ہمارے ادارے ناکام ہیں اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ بلوچستان میں منشیات کے کاروبار کو روکا جائے۔‘

    واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ماہی گیروں کے مسائل کے حل کے لیے ڈی جی فشریز کے مرکزی دفتر کو فی الفور کوئٹہ سے گوادر منتقل کر دیا گیا ہے اور غیر قانونی ٹرالنگ روکنے کے لیے محکمہ فشریز اور دیگر اداروں کے اہلکاروں کا گشت بڑھا دیا گیا ہے ماہی گیروں کو سمندر میں جانے کے لیے ٹوکن سسٹم کا خاتمہ کردیا گیا ہے اور اب ماہی گیر بغیر کسی اجازت کے سمندر میں آ جاسکتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا گیا کہ گوادر میں تمام ’غیر ضروری‘ چیک پوسٹوں کا خاتمہ کردیا گیا ہے۔

    سعودی عرب میں کنسرٹ، سلمان خان کے رقص پر حاضرین خوش:عربی جھومنے لگے

  • نریندرمودی کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ایک مرتبہ پھرہیک ہو گیا

    نریندرمودی کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ایک مرتبہ پھرہیک ہو گیا

    بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ایک مرتبہ پھر ہیک ہو گیا۔

    باغی ٹی وی : وزیر اعظم کے دفتر سے کیے جانے والے ٹویٹ کے مطابق یہ معاملہ ٹوئٹر انتظامیہ کے علم میں لایا گیا اور وزیراعظم کا ذاتی ٹوئٹر ہینڈل فوری طور پر محفوظ کر لیا گیا تاہم اکاونٹ کچھ دیر بعد بحال کردیا گیا۔


    ٹویٹ میں وزیراعظم کے دفتر نے ٹوئٹر صارفین سے درخواست کی ہے کہ اس دوران کیے جانے والے کسی بھی ٹویٹ کو نظرانداز کر دیا جائے تاہم اس دوران اس اکاونٹ سے کوئی ٹویٹ نہیں کیا گیا نہ ہی اب تک کسی اور متاثر اکاؤنٹ کی کوئی تفصیلات ملی ہیں۔

    یاد رہے کہ ستمبر2020میں بھی وزیراعظم نریندر مودی کا ذاتی ٹوئٹر ہینڈل ہیک ہوا تھا اس وقت کچھ ٹویٹس جاری کیے گئے تھے جس میں فالوورز سے کرپٹو کرنسی کے ذریعے امدادی فنڈ میں پیسے عطیہ کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

    ہیکرز نے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ وزیر اعظم کے کورونا کی وبا سے نمٹنے کے لیے قائم کیے گئے خصوصی فنڈ میں کرپٹو کرنسی کے ذریعے ’چندے‘ جمع کروائیں۔

  • جمہوریت بڑے پیمانے پرتباہی پھیلانے والا ہتھیارہے:     جمہوریت،جمہوریت کا درس دینا اب بند کریں‌:چین

    جمہوریت بڑے پیمانے پرتباہی پھیلانے والا ہتھیارہے: جمہوریت،جمہوریت کا درس دینا اب بند کریں‌:چین

    بیجنگ :امریکہ سمیت جمہوریت کی رٹّ لگانے والے جمہوریت اپنے پاس رکھیں:جمہوریت بڑے پیمانے پرتباہی پھیلانے والا ہتھیارہے:چین نے جمہوریت کا واویلہ کرنے والوں کو کھری کھری سنادیں‌، اطلاعات کے مطابق امریکی صدر بائیڈن کی زیر قیادت سربراہی اجلاس کے میں چین کو بے دخل رکھنے کے بعد، چین نے غصے کا اظہارکرتے ہوئے امریکی جمہوریت کو ‘بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کا ہتھیار’ قرار دے دیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کی وزارت خارجہ نے امریکہ نے جمہوریت کی مضبوطی کے لیے 9 اور 10 دسمبر کو ورچوئل’سمٹ فار ڈیموکریسی‘ کے نام سےکانفرنس منعقد کی جس میں چین ، روس اور بعض دیگر ممالک کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی جبکہ امریکہ نے تائیوان کو کانفرنس میں شرکت کی دعوت جسے چین اپنا حصہ تصور کرتا ہے۔

    امریکہ کی جانب سے منعقدہ دوروزہ کانفرنس کے جواب میں چین نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے جاری بیان میں کہا کہ طویل عرصے امریکہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والا ایک ہتھیار بنا ہوا ہے جسے امریکہ دیگر ممالک میں مداخلت کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

    بیان میں کہا گیا کہ امریکی صدر بائیڈن سرد جنگ کے دور کی نظریاتی تقسیم کو اُکسا رہے ہیں۔امریکہ کی جانب سے کانفرنس کے اہتمام کا مقصد نظریاتی تعصب کی بنیاد پر تقسیم کرنا، جمہوریت کو آلہ کار کے طور پر استعمال کرنا، تنازعے اور محاذ آرائی کو اکسانا ہےجبکہ مشرقی یورپ سمیت دیگر ممالک میں شروع ہونے والی انقلابی تحاریک ’کلر ریوولوشن‘ کے پیچھے بھی امریکہ کا ہاتھ تھا۔

    چین کی وزارت خارجہ نے دعویٰ کیا کہ ’یقیناً اس بات میں کوئی شک نہیں کہ چین میں حقیقی جمہوریت ہے۔اور ’چین ہر قسم کی جعلی جمہوریت کی مخالفت اور مقابلہ کرے گا۔‘

    واضح رہے کہ بین الاقوامی سطح پر امریکہ متعدد مرتبہ یہ یقین دہانی کروا چکا ہے کہ امریکہ چین کے ساتھ ایک اور سرد جنگ کا آغاز نہیں کرے گا، اس کے باوجود دنیا کی ان دو بڑی معیشتوں کے درمیان مختلف معاملات پر کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

  • امریکی سینیٹرز کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات:پاک فوج واقعی زندہ باد:امریکی سینیٹرزمان گئے

    امریکی سینیٹرز کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات:پاک فوج واقعی زندہ باد:امریکی سینیٹرزمان گئے

    راولپنڈی:امریکی سینیٹرز کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات:پاک فوج واقعی زندہ باد:امریکی سینیٹرزمان گئے،اطلاعات کےمطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کے دوران امریکی سینیٹرز نے افغان صورتحال پر پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے ہر سطح پر سفارتی تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا عہد کیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی سینیٹرز پر مشتمل وفد نے ملاقات کی ہے۔ 4 رکنی وفد میں امریکی سینیٹرز انگس کنگ، رچرڈ بر، جان کارنائن اور بینجمن سیسی شامل تھے جبکہ پاکستان میں امریکی ناظم الامور انجیلا ایگلر بھی وفد کے ہمراہ تھیں۔

    یاد رہے کہ چاروں سینیٹرز کی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے اراکین ہیں جبکہ سینیٹر انگس کنگ سینیٹ کی آرمڈ سروسز کے رکن بھی ہیں۔

    ترجمان پاک فوج کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، افغانستان کی موجودہ سکیورٹی صورتحال اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے آنے والے چیلنجوں کے پیش نظر جیو پولیٹیکل اور سیکیورٹی صورتحال کے بارے میں باہمی افہام و تفہیم کے لیے سینیٹرز کی کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔

     

     

    میجر جنرل بابر افتخار کے مطابق معزز مہمانوں نے افغان صورتحال میں پاکستان کے کردار، بارڈر مینجمنٹ کے لیے خصوصی کاوشوں، علاقائی استحکام میں کردار کو سراہا اور پاکستان کے ساتھ ہر سطح پر سفارتی تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا عہد کیا۔

    ملاقات کے دوران سپہ سالار نے کہا کہ پاکستان خطے کے تمام ممالک کیساتھ نتیجہ خیز دوطرفہ روابط برقرار رکھنے اور پرامن، پائیدار تعلقات کے خواہاں ہیں۔

    جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ افغانستان میں بحران اور افغان عوام کی معاشی ترقی کے لیے مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔

    اس سے قبل وزیراعظم عمران خان سے امریکی سینیٹ کے 4 رکنی وفد کیساتھ ملاقات میں کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ تعلقات کو تمام شعبوں میں وسعت دینے کے لیے پرعزم ہیں۔ امریکا کو خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

    وزیر اعظم عمران خان سے امریکی سینیٹرز پر مشتمل وفد نے ملاقات کی ہے ۔ چار کنی وفد میں امریکی سینیٹرز انگس کنگ ، رچرڈ بر، جان کارنائن اور بینجمن سیسی شامل تھے ۔

    امریکی سینیٹرز کے وفد کا استقبال کیا کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ پاکستان طویل تعلقات رکھتا ہے اور اقتصادی شعبہ سمیت دیگر تمام شعبوں میں پاک امریکا باہمی تعلقات میں مزید اضافہ کیلئے پرعزم ہے ۔

    انہوں نے توقع ظاہر کی کہ امریکی قانون سازوں کے وفد کے دورہ سے باہمی اعتماد کے استحکام میں مدد حاصل ہوگی اور سے عوامی رابطوں میں بھی بہتری آئے گی۔عمران خان نے عزم کا اعادہ کیا کہ دونوں ممالک کی گہری اور مضبوط شراکتداری باہمی، خطے کے امن ، سلامتی اور استحکام کے مفاد میں ہے۔

    افغانستان کی حالیہ صورتحال کے تناظر میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کو امن ، سلامتی اور معاشی ترقی کے مشترکہ مقاصد کے حصول کیلئے باہمی رابطوں میں اضافہ ضروری ہے ۔

     

     

    انہوں نے افغان عوام کی فوری مدد کی ضرورت پر خصوصی زور دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالہ سے ہر طرح کے ممکنہ اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ کسی انسانی اور معاشی بحران سے بچا جا سکے۔

    وزیر اعظم نے قریبی اشتراک کار کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں دہشتگردی سمیت سکیورٹی کے خدشات کے حوالہ سے قریبی تعاون ضروری ہے ۔ غیر قانونی بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف وریوں کے حوالہ سے انہوں نے آرایس ایس کی انتہا پسندانہ اور انسانی حقوق کی مانع سوچ پرمبنی بی جے پی کے اقدامات سے خطے کے امن اور ستحکام کو سنگین خدشات درپیش ہیں۔انہوں نے پاکستان اور امریکا کے باہمی تعلقات میں استحکام اور وسعت کے حوالہ سے اپنے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

    پاکستان کی آبادی اور جیو سٹرٹیجیک جغرافیہ کے تناظر میں امریکی سینیٹرز نے کہا کہ امریکا اورپاکستان کو تجارت ، سرمایہ کاری اور معاشی تعاون کے فروغ کیلئے کاوشوں کو وسعت دینی چاہئے۔

  • کمزور دل حضرات مت دیکھیں،آڈیو کے بعد برہنہ ویڈیوز کا سلسلہ شروع

    کمزور دل حضرات مت دیکھیں،آڈیو کے بعد برہنہ ویڈیوز کا سلسلہ شروع

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کپیٹن صفدر نے کہا ہے کہ اتنی گندی ویڈیوز ریلیز ہونے والی ہیں کہ دیکھنے کے بعد عرق گلاب سے آنکھیں دھونی پڑنی ہیں۔ اب یہ ویڈیوز تو پتہ نہیں کب منظر عام پر آنی ہیں ۔ مگر اس وقت پورے پاکستان میں برہنہ ویڈیوز اور لیک ویڈیوز ہونے کا ایک ایسا رواج چل پڑا ہے کہ ہمارا پورا کا پورا معاشرہ ننگا ہو کر رہ گیا ۔ معاشی اور سیاسی طور پر تو ہم پہلے ہی زوال کا شکار ہیں ۔ پر ساتھ اب ہمارے ملک کا اخلاقی طور پر بھی جنازہ نکل رہا ہے ۔ کبھی فیصل آباد میں کاغذ چننے والیوں کی برہنہ ویڈیوز سامنے آتی ہیں تو کبھی تھیڑاداکاروں کی ویڈیوز تو کبھی ایسے ایسے جنسی اسکینڈل نکل کر سامنے آرہے ہیں کہ مجھے تو ٹی وی اور اخبار اٹھاتے ہوئے اب ڈر لگنے لگا ہے ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جو کل کوئٹہ سے اسٹوری سامنے آئی ہے ۔ اس نے تو اوسان خطا کر دیے ہیں ۔ سب کچھ بتانے سے پہلے میں واضح کر دوں کہ میری نظر میں ان تمام چیزوں کی سب سے بڑی ذمہ داری ریاست اور حکومت پاکستان کی ہے ۔ کیونکہ جس ملک میں نظام عدل کا وجود نہ ہو ۔ جس ملک کی حکومت بیرون ملک پلٹ نکمے کھلاڑیوں پر مشتمل ہو ۔ وہاں پھر ایسے درندے ۔ ایسے جرائم پیشہ لوگ دلیر ہوجاتے ہیں ۔ کیونکہ ان کو پتہ ہوتا ہے کہ جب مرضی اس قانون کے جالے کو پھاڑ کر ہم نکل جائیں گے ۔ اس لیے جو کرنا ہے کر گزرو۔۔۔ اور یہ جو کچھ بھی اس وقت پاکستان میں ہو رہا ہے ۔ اسکی سب سے بڑی ذمہ داری حکومت وقت پر پڑتی ہے ۔ یہ جو کوئٹہ میں اسٹوری سامنے آئی ہے یہ اتنی خوفناک ہے کہ دل دہل جاتا ہے ۔ یہ میری زندگی کی مشکل ترین اسٹوری ہے ۔ جس کو آپ تک پہنچتے ہوئے ۔ روح کانپ اٹھی ہے ۔ ہوا کچھ یوں کہ کوئٹہ میں ملزمان لڑکیوں کو نوکری کا جھانسہ دے کر بلاتے ۔ پھر جھانسہ دے کر نشہ آور مواد پلایا جاتا اور اس کے بعد نازیبا ویڈیوز بنا کر بلیک میل کیا جاتا تھا ۔ ان ویڈیوز میں نظر آنے والے مناظر نہایت دردناک ہیں، ان میں لڑکیوں کو برہنہ کرکے ان کے گلے میں رسی ڈال کر ان کو گھسیٹا جاتا ہے، تھپڑوں سے مار جاتا ہے، بال نوچے جاتے ہیں، پاؤں انکے منہ پہ مارے جاتے ہیں غرض جس قدر درندگی ہوسکتی ہے ان ویڈیوز میں موجود ہے اس لیے ہدایت خلجی کا ڈارک ویب سے بھی تعلق نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ 200 سے زائد بچیاں ہیں جن کو نوکری اور روزگار کا جھانسہ دے کر نشے کا عادی بنا کر انہیں تشدد اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر برہنہ ویڈیوز بنانے اور بلیک میل کرنے والے گروہ کا سرغنہ، بدنامِ زمانہ ڈرگ ڈیلر حبیب اللہ کا بیٹا سابقہِ کونسلر ہدایت خلجی نامی درندے نے یہ گھناؤنا کھیل بلوچستان یونیورسٹی کی طالبات سے شروع کیا۔ اس سارے گندے کھیل میں اسے بااثر سیاسی افراد کی پشت پناہی حاصل رہی جن کے پاس لڑکیوں کو بھیجا جاتا تھا اس لیے بھی اس کے خلاف کبھی کوئی خاص کاروائی نہیں ہوئی۔ اب مختلف کیسز اور متاثرہ خواتین کی شکایات سامنے آنے کے بعد ہدایت خلجی اور اسکے بھائی کو بظاہر گرفتار کرلیا گیا ہے ان کے قبضے سے سینکڑوں لڑکیوں کی نازیبا ویڈیوز برآمد کرکے لیپ ٹاپ، متعدد موبائلز اور دیگر ڈیوائسز قبضے میں لے لی گئی ہیں۔ تاہم سیاسی دباؤ کی وجہ سے پولیس کاروائی کرنے کی پوزیشن میں نہیں اس لیے کوئی خاص ایکشن نظر نہیں آ رہا۔ ہدایت خلجی کے اثرورسوخ کا اندازہ ایک خاتون کے اس بیان سے بھی لگایا جاسکتا ہے جس میں ایک متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ جب وہ قائد آباد کوئٹہ کے SHO شیخ قاضی کے پاس ملزم ہدایت خلجی کے خلاف مقدمہ درج کرنے گئی تو شیخ قاضی ایس ایچ او نے بھی متاثرہ لڑکی کو اپنے پاس رکھا اور ذیادتی کا نشانہ بنایا اور بعد میں پریشر ڈالنے کے لیے مجھے، میری بہن اور میرے بھائی کو اٹھا کر لے گئے، میرے بہن، بھائی کا ابھی تک علم نہیں کہ وہ کہاں، کس حال میں ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ہدایت خلجی سے جو ویڈیوز برآمد ہوئی ہیں ان میں 6 ہزارہ، 221 پشتون، 63 بلوچ اور 22 اردو بولنے والی لڑکیاں شامل ہیں۔ اس وقت ملزمان ہدایت اللہ اور خلیل 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں مقدمے میں زیرحراست ملزمان سمیت 3 افراد نامزد کئے گئے ہیں پولیس کے مطابق ملزمان سے تحقیقات جاری ہیں ۔ ملزمان سے برآمد کئے گئے موبائل فون، لیپ ٹاپ، ویڈیو، کو پنجاب فرانزک لیبارٹری بھجوا دیا گیا ہے۔ ویڈیو کی تحقیقات کے لئے ایس ایس پی آپریشنز کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی بنائی گئی ہے۔ جو تحقیقات کر رہی ہے۔ کیس میں نامز د ملزم شائی کی گرفتاری کیلئے چھاپے جاری ہیں ۔ پھر ملزمان کی جانب سے اغوا کی گئی 2 لڑکیاں افغانستان میں ہیں ۔ لڑکیوں کی واپسی کے لیے وفاقی سطح پر افغان حکومت سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔

    نوجوان نسل کو منشیات سے روکنا کس کا کام ، وفاقی وزیر ہوا بازی میدان میں آ گئے

    بھارت، آندھرا پردیش کے سابق اسپیکرشیو پرساد کی خودکشی

    بھارتی فوجی خاتون کو شادی کا جھانسہ دے کر 14 برس تک عزت لوٹتا رہا،مقدمہ درج

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارتی پولیس اہلکاروں کی غیر ملکی خاتون سے 5 ماہ تک زیادتی

    ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

    ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

    فرار ہونیوالے ملزمان میں سے کتنے ابھی تک گرفتار نہ ہو سکے؟

    طالب علم سے زیادتی کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزم گرفتار
    Fitness Trends that Are Shaping This Year accutane australia buy alpha-pharma bodybuilding steroids.
    ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی بنائی گئیں نازیبا ویڈیوز،ایک اور شرمناک سیکنڈل سامنے آ گیا

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہان نازیبا ویڈیو کیس کے حوالہ سے ڈی آئی جی کوئٹہ کا کہنا ہے کہ کیس کی تحقیقات جاری ہیں، بہت انکشافات سامنے آئی ہیں۔ ملزمان ویڈیوز کب سے بنا رہے تھے اس کی بھی تحقیقات جاری ہیں ،ملزم ہدایت کے خلاف دو مقدمے درج ہیں، ملزم نے کسی بھی لڑکی کو بلیک میل کیا ہو تو وہ ہم سے رابطہ کرے ، نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا، ہم چاہتے ہیں ملزمان کے خلاف زیادہ سے زیادہ ثبوت ملیں اور کیس مضبوط ہو تا کہ ملزمان کو کڑی سے کڑی سزا مل سکے۔۔ مجھے نہیں پتہ کب تک اس ملک میں صرف قانون ہی بنتے رہیں گے، کب یہ اندھا، گونگا، بہرہ نظام انصاف جاگے گا۔ کب تک لوگ خود قانون ہاتھ میں لیں گے۔ کب تک ایسے درندے ہمارے معاشرے میں دندناتے پھریں گے۔ کب تک ہماری مائیں،بہنیں اور بیٹیاں مجبوری کے ہاتھ تنگ آ کر ان درندوں کے ہاتھ استعمال ہوتی رہیں گی۔ ایسے درندوں کو لٹکا دینا چاہیے انکے سیاسی یاروں کو جو خدمت کے نام پہ ووٹ لیکر فرعون بن جاتے ہیں عزتوں سے کھیلتے ہیں، مجرموں، زانیوں، قاتلوں اور منشیات فروشوں کی پشت پناہی کرتے۔ ان گندے کرداروں کا نام بھی سامنے آنا چاہیئے ۔ تاکہ عوام جان سکیں کہ کیسے گندے لوگ حکمران بنے بیٹھے ہیں ۔ میرا حکومت سے بھی سوال ہے کہ جب آپ اپنے سیاسی معاملات کے ایجنسیز کو استعمال کرسکتے ہیں تو ایسے گھناونے کرداروں کا قلع قمع کرنے کے لیے ان ایجنسیوں کو استعمال کیوں نہیں کرتے ۔ کیا عوام کا دکھ درد آپ کو دیکھائی نہیں دیتا ۔ یادرکھیں ایک سب نے مر جانا ہے ۔ اور اس وقت نہ کوئی رتبہ ، عہدہ ، پیسہ اور زمین کام نہ آئے گی ۔ ایسا اسکینڈل اور اسٹوری کسی اور ملک میں آئی ہوتی تو ابھی تک اس ملک کے تمام ادارے ، حکومتیں ، عوام جت جاتے کہ ان درندے صفت کرداروں کا قلع قمع کیا جائے ۔ پر یہ پاکستان ہی ہے جہاں وزیر اعظم سے لے کر وزیر اطلاعات تک روز دسیوں پر بار ٹی وی پر آتے ہیں ۔ ان کو اپوزیشن کی بینڈ بجانا یاد رہتا ہے یہ عوام کے دکھ دیکھائی نہیں دیتے ۔ میری شکایت اعلی عدالتوں سے بھی ہے جن کے کسی جج کا نام آجائے توsuo motoلے لیا جاتا ہے ۔ مگر یہاں دو سو سے زائد بچیوں کی زندگی زندہ درگوں کردی گئی ۔ مگر ہماری حکومت ، ہماری عدالت ، ہمارے ادارے سب خاموش ہیں ۔

  • محمد بن سلمان گھٹنوں پر آ گئے، 5 ملکوں کے ہنگامی دورے

    محمد بن سلمان گھٹنوں پر آ گئے، 5 ملکوں کے ہنگامی دورے

    محمد بن سلمان گھٹنوں پر آ گئے، 5 ملکوں کے ہنگامی دورے
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ایک طویل عرصے تک قطر پر پابندیاں لگانے کے بعد اب آخر وہ وقت بھی آ ہی گیا ہے جب محمد بن سلمان خود قطر کا دورہ کرنے کے لئے دوحہ پہنچ گئے ہیں۔ محمد بن سلمان ایک بہت ہی چالاک انسان ہیں وہ کوئی بھی کام بلاوجہ نہیں کرتے۔ پہلے انہوں نے ایک طویل عرصے تک قطر پر مختلف الزامات لگاتے ہوئے پابندیاں لگائے رکھیں لیکن پھر اس سال جنوری سے قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا پہلے ریاض اور قاہرہ نے دوحہ میں اپنے نئے سفارت کار مقرر کئے اس کے بعد قطر کے امیر کوسعودی عرب کے دورے پر بھی بلایا گیا۔ اور اب محمد بن سلمان خود قطر کے دورے پر بھی تشریف لے گئے ہیں۔ آخر ایسی کیا وجہ بنی کہ وہ خود دوحہ کا دورہ کرنے پہنچ گئے۔ اور صرف دوحہ ہی نہیں بلکہ کئی دوسرے خلیجی ممالک کا بھی دورہ کیا جا رہا ہے۔ آپ سب جانتے ہیں کہ اس وقت سعودی عرب کے حقیقی حکمران ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ہی ہیں ان کے بغیر اجازت وہاں پتا بھی نہیں ہل سکتا شاہ سلمان بھی اگر کوئی فیصلہ لیتے ہیں تو وہ محمد بن سلمان سے پوچھ کر ہی لیا جاتا ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ قطر تنازعے کی شروعات 2017 میں اس وقت ہی ہوئی تھی جس شہزادہ محمد بن سلمان کو ولی عہد مقررکیا گیا تھا۔ سعودی عرب نے اپنے دیگر اتحادیوں کو ساتھ ملا کر نہ صرف قطر پر پابندیاں عائد کر دیں تھیں بلکہ اس کی ناکہ بندی بھی کردی گئی تھی تاکہ قطر کو تنہا کیا جا سکے۔ لیکن پھر اس سال کے شروع میں امریکہ کے کہنے پر قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کا کام شروع ہوا۔ اور اب کیونکہ اس مہینے خلیجی ممالک کی تعاون تنظیم گلف کوآپریشن کونسل جی سی سی کی بیالیسویں سربراہی کانفرنس چودہ دسمبر کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہونے والی ہے تو اس سلسلے میں محمد بن سلمان خلیجی ممالک کے دورے کر رہے ہیں۔ دوحہ سے پہلے انہوں نے عمان اور متحدہ عرب امارت کا دورہ کیا تھا یو اے ای کے دورے کے دوران دبئی ایکسپو میں بھی شرکت کی تھی۔ اور قطر کے دورے کے بعد محمد بن سلمان بحرین اور کویت کے دورے پر بھی جائیں گے۔جب سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے قطر کے ساتھ خارجہ پالیسی پر اپنے تنازعات ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے اس کے بعد یہ جی سی سی کا پہلا سربراہی اجلاس ہونے جا رہا ہے۔گلف کوآپریشن کونسل کے علاوہ یہ دورے اس لئے بھی اہم ہیں کیونکہ اس وقت عالمی طاقتیں 2015 کے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے لیے ایران کے ساتھ بات چیت کر رہی ہیں۔ لیکن اسرائیل کی طرح سعودی عرب بھی ایران کے ایٹمی پروگرام کی مخالفت کے ساتھ ساتھ اس کے خلاف پابندیوں کا بھی حامی ہے۔ویسے تو ان خلیجی ممالک کے درمیان مذہبی، ثقافتی اور قبائلی تعلقات کافی مضبوط رہے ہیں لیکن ماضی میں قطر پر لگائی پابندیوں کی وجہ سے جی سی سی کے درمیان تعلقات پر کافی فرق پڑا اور ان میں اب وہ پہلے جیسی بات نہیں رہی۔ یہی وجہ ہے کہ کئی اہم معاملات کے ساتھ ساتھ ایران اور اسرائیل والے معاملے پر بھی ان خلیجی ممالک کی کوئی ایک رائے نہیں ہے بلکہ ہر ایک نے اپنی الگ الگ پالیسی بنائی ہوئی ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس تمام عرصے کے دوران عمان، کویت اور قطر نے ایران کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھے جبکہ سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات کے ایران کے ساتھ حالات دن بہ دن خراب ہوتے گئے۔ اور اب کیونکہ عالمی سطح پر ایران کو لیکر بڑے فیصلے ہو رہے ہیں تو محمد بن سلمان چاہتے ہیں کہ تمام خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنا کر ایران کے حوالے سے کوئی ایک پالیسی بنائی جائے اس لئے خلیجی ممالک کی یہ سربراہی کانفرنس محمد بن سلمان کے لئے بہت اہم ہے تاکہ تمام خلیجی ممالک کے درمیان حالات کو معمول پرلانے کی کوشش کی جا سکے۔لیکن اس سب کے علاوہ ان دوروں کے پیچھے محمد بن سلمان کے کچھ ذاتی مقاصد بھی ہیں۔دراصل جنوری 2021 میں جب سے جو بائیڈن نے امریکہ میں اقتدار سنبھالا ہے محمد بن سلمان کی پوزیشن ملکی اور عالمی سطح پر ہل کر رہ گئی ہے۔ اور اب وہ خود کوسیاسی طور پر تنہا محسوس کر رہا ہے۔ ٹرمپ کے دور اقتدار میں کیونکہ ایم بی ایس کی ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد Jared Kushnerکے ساتھ گہری دوستی تھی تو اس دوران محمد بن سلمان عالمی سطح پر جو فائدہ بھی حاصل کرنا چاہتا تھا اس میں اسے کبھی کوئی مشکل پیش نہیں آئی تھی یہاں تک کہ ٹرمپ نے ایم بی ایس کو جمال خاشقجی کے قتل کیس میں بھی بچایا۔ لیکن اب جوبائیڈن کے آنے کے بعد امریکہ کی طرف سے محمد بن سلمان کو اتنی اہمیت نہیں دی جا رہی جو پہلے دی جاتی تھی۔سعدوی عرب کی اندرونی سیاست کی بات کی جائے تو محمد بن سلمان اب بھی سب سے مضبوط ہیں اور ان کے لئے سعودی تخت حاص کرنا کوئی مشکل نہیں ہے لیکن عالمی سطح پر مشکل یہ ہے کہ محمد بن نائف سمیت اس کے کچھ حریفوں کے بائیڈن حکومت کے ساتھ کافی گہرے تعلقات ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس لئے اس وقت محمد بن سلمان کا رویہ پہلے سے کافی زیادہ تبدیل اور محتاط بھی ہو گیا ہے۔ اس پورے سال میں محمد بن سلمان نے کوئی بیرون ملک سفر نہیں کیا یہاں تک کہ برسلز میں ہونے والی حالیہ G20 سربراہی اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی تھی۔ اس کے علاوہ اہم بات یہ بھی ہے کہ محمد بن سلمان کی پچھلے گیارہ ماہ میں امریکی صدر جوبائیڈن سے ایک بار بھی کوئی بات چیت نہیں ہو سکی۔ یعنی سعودی عرب کے ہاتھ سے امریکہ بھی گیا جس کے چکر میں محمد بن سلمان نے خلیجی ممالک کو بھی اگنور کیا ہوا تھا۔ محمد بن سلمان کی علاقائی پالیسی مکمل طور پر فلاپ ثابت ہوئی اور اس کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آیا جبکہ دوسری طرف متحدہ عرب امارات معاشی تعقی اور مختلف ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات میں بھی کافی آگے نکل چکا ہے۔ قطر بھی عالمی دنیا میں اپنی اہمیت منواچکا ہے جس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ افغانستان میں امریکہ اب اپنے سفارت خانے کھولنے کی بجائے قطر کے ذریعے اپنے مفادات کی نگرانی کروارہا ہے۔ اب یہ سب محمد بن سلمان کو برداشت کرنا مشکل ہوا رہا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس لئے محمد بن سلمان کے حالیہ دوروں میں ایک قابل غور بات یہ بھی ہے کہ یہ دورے یو اے ای کے اماراتی حکام کے شام اور ترکی کے دورے اور تہران میں یو اے ای کے قومی سلامتی کے مشیر طحنون بن زاید کے دورہ کے بعد ہو رہے ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کشیدگی کتنی بڑھ چکی ہے۔ محمد بن سلمان کو یہ برداشت ہی نہیں ہے کہ متحدہ عرب امارات اس کی مرضی کے بغیر ایران اور شام سے اپنے تعلقات بہتر بنائے۔الخلیج الجدید نیوزکی ایک رپورٹ کے مطابق۔۔ اس وقت سعودی عرب خلیج تعاون کونسل کا کنٹرول کھو چکا ہے اور متحدہ عرب امارات اب علاقائی سیاست میں اس کا اہم حریف ہے۔اس کے علاوہ ابوظہبی کے ولی عہد شہزادہ محمد بن زاید امریکہ کے بھی قابل اعتماد اتحادی ہیں اس لئے اب محمد بن سلمان اپنی بنائی گئی سعودی خارجہ پالیسی پرنظرثانی کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ محمد بن سلمان کی بنائی گئی پالیسی کی وجہ سے سعودی عرب نے 2017میں دہشت گردی کی حمایت اور علاقائی معاملات میں مداخلت کے نام پر قطر کا بائیکاٹ کیا۔ لیکن پھر جوبائیڈن کے صدارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد وہ محاصرہ ختم بھی کر دیا گیا جس سے انہیں کوئی فائدہ تو حاصل نہیں ہوا لیکن اس کے نتائج بھگتنے پڑ گئے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دوسری طرف سعودی عرب 2015میں یمن کے خلاف جنگ میں داخل ہوا، لیکن سات سال بعد اسے وہاں بھی بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اور اس طرح سعودی عرب ایک طرح سے سیاسی تنہائی کا شکار ہو کر رہ گیا۔اس لئے عالمی مسائل کے ساتھ ساتھ ان دوروں کے کچھ ذاتی مقاصد بھی ہیں۔ تاکہ آنے والے گلف کوآپریشن کونسل کے اجلاس میں عالمی اور علاقائی مسائل پر خلیجی ممالک کو اعتماد میں لیا جائے۔ اور ایک بار پھر اپنی پوزیشن مضبوط کی جائے اور اپنے آپ کو دنیا کی نظر میں دوبارہ سے اہم ثابت کیا جائے

  • پاکستان کی دلیرانہ خارجہ پالیسی:امریکی سینیٹرز توقعات کےساتھ        وزیراعظم کے پاس پہنچ گئے:کپتان کا دبنگ اعلان

    پاکستان کی دلیرانہ خارجہ پالیسی:امریکی سینیٹرز توقعات کےساتھ وزیراعظم کے پاس پہنچ گئے:کپتان کا دبنگ اعلان

    اسلام آباد:پاکستان کی دلیرانہ خارجہ پالیسی:امریکی سینیٹرزاہم توقعات کے ساتھ وزیراعظم کے پاس پہنچ گئے:کپتان کا دبنگ اعلان ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے امریکی سینیٹ کے 4 رکنی وفد کیساتھ ملاقات میں کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ تعلقات کو تمام شعبوں میں وسعت دینے کے لیے پرعزم ہیں۔ امریکا کو خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

     

     

    وزیراعظم عمران خان سے امریکی سینیٹ کے وفد نے ملاقات کی، امریکی سینیٹ کے 4 رکنی وفد میں سینیٹرز اینگس کنگ، رچرڈ بر، جان کارن اور بینجمن ساس شامل تھے، چاروں سینیٹرز سینیٹ کی سلیکٹ کمیٹی برائے انٹیلی جنس کے رکن ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے امریکی سینیٹرز کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔

     

     

    وزیراعظم عمران خان نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ دیرینہ تعلقات کوقدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، امریکا کے ساتھ تعلقات کو تمام شعبوں میں وسعت دینے کے لیے پرعزم ہیں، دونوں ممالک کے درمیان گہری اور مضبوط شراکت داری خطے کے امن، سلامتی اور خوشحالی کے لیے باہمی طور پر مفید اور اہم ہے۔

     

     

    وزیراعظم نے افغانستان میں انسانی بحران اور معاشی تباہی کو روکنے کے لیے افغان عوام کی مدد کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔

     

     

    عمران خان نے وفد کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس سے متاثر بی جے پی کی انتہا پسند پالیسیاں علاقائی امن اور سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ امریکا کو خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

  • کرپٹ لوگوں کو این آر او…وزیراعظم کا میانوالی میں بڑا اعلان

    کرپٹ لوگوں کو این آر او…وزیراعظم کا میانوالی میں بڑا اعلان

    کرپٹ لوگوں کو این آر او…وزیراعظم کا میانوالی میں بڑا اعلان
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میانوالی کے کارکنوں کا خاص طور پرمشکورہوں ،

    وزیراعظم عمران خان نے میانوالی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج میں وزیراعظم ہوں تو میانوالی کے کارکنوں کی وجہ سے ہوں،حکومت کے 5سال پورے ہونے کے بعد میانوالی کی ترقی نظر آئے گی،جب میرے ساتھ کوئی نہیں تھا تو میانوالی کے کارکنو ں نے ساتھ دیا،پاکستان کے قبائلی علاقے پیچھے رہ گئے قبائلی علاقوں کے لیے ماضی میں کچھ نہیں کیا گیا ،پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لیے کام کریں گے میانوالی میں نمل یونیورسٹی اقتدار کےبعد نہیں پہلے سے بن رہی ہے،نمل یونیورسٹی کی تعمیر کے لیے میں نے پیسے اکھٹے کیے ،میانوالی کے لوگوں کی خدمت کرکے احسان کا بدلہ چکاؤں گا،میانوالی میں 5 سال کے دوران ریکارڈ ترقی ہوگی ،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ مہنگائی کی وجہ کورونا سے دنیا بھر کے ممالک کا متاثر ہونا ہے،اللہ کا شکر ہے پاکستان اب بھی سستا ملک ہے دنیا میں فوڈ سپلائی چین کورونا سے متاثر ہوئی اور مہنگائی ہوگئی مہنگائی کی وجہ سے بنیادی اشیا خورونوش کی قیمتیں بڑھ گئیں 20 لاکھ کمزور خاندانوں کے لیے بلاسود قرضے دے رہے ہیں،اپنا گھر بنانے کےلیے 27 لاکھ روپے بلاسود قرض فرا ہم کیا جائے گا،ہر خاندان کے پاس صحت کارڈ ہوگا جو10 لاکھ روپے تک علاج کی سہولت دے گا،پہلی بار بڑی رقم نوجوانوں کی تعلیم اوراسکالرشپس پر خرچ ہورہی ہے حکومت 62 لاکھ لوگوں کو اسکالرشپس دے گی .

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے وعدہ کیا تھا ،پاکستان کبھی کسی غلامی نہیں کرے گا،ہم آزاد ہوکر بھی آزاد فیصلے نہیں کرسکتے تھے پاکستان میں مختلف نظریات کے حامل تمام لوگوں سے بات کرنے کوتیارہیں ،بلوچستان کے ناراض لوگوں سے بھی بات کرنے کے لیے تیار ہیں کرپشن میں ملوث اورعوام کا پیسہ باہرلے جانے والوں سے ہرگز بات نہیں ہوگی،کرپٹ لوگوں کو این آراو ملے گی نہ ہی ان سے بات ہوگی جب چوری کو گناہ نہیں سمجھا جائے گاوہ معاشرہ ترقی نہیں کرسکے گا،رسول ﷺ نے فرمایا تھا میری بیٹی بھی چوری کرے گی تو سزا ملے گی جوقوم بڑے ڈاکوؤں سے ڈیل کرتی ہے وہ تباہ ہوجاتی ہے،میری حکومت ملک کا پیسہ چوری کرنے والوں کواین آراونہیں دے گی ،مشکل وقت ہر قوم کی زندگی میں آتا ہے لیکن وہ بہتر اندازسے نمٹتے ہیں ،سولر ٹیوبویلز کوعام کرنے کے لیے اقدامات کریں گے مہنگی بجلی کے معاہدے ہماری حکومت میں آنے سے پہلے ہوئے تھے،وعدہ ہے پاکستان وہ ملک بنے گا جو کسی کے سامنے نہیں جھکے گا، کرپٹ لوگوں کواین آراوملے گا نہ ہی ان سے بات ہوگی.

    ہمارے سامنے ماسٹر نہ بنیں، کسی کے لاڈلے ہونگے،ہمارے نہیں،چیف جسٹس کے ریمارکس

    سپریم کورٹ نے دیا شہر قائد میں پارک کی زمین پر بنائے گئے فلیٹ گرانے کا حکم

    ماضی میں توجہ نہیں ملی،اب ہم یہ کام کریں گے، زرتاج گل کا حیرت انگیز دعویٰ

    عمران خان مایوس کریں گے یا نہیں؟ زرتاج گل نے کیا حیرت انگیز دعویٰ

    نہر کنارے درخت کاٹ کر ان کے ساتھ دہشت گردی کی گئی، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

    ملزم نے دو شادیاں کر رکھی ہیں،وکیل کے بیان پر چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے کیا ریمارکس دیئے؟

    سرکلرریلوے کی بحالی ،چیف جسٹس نے کی سماعت،سندھ حکومت نے دیا جواب

    اتنے بے بس ہیں تو میئر بننے کی کیا ضرورت تھی، جائیں اور یہ کام کریں، عدالت کا میئر کراچی کو بڑا حکم

    اربوں کی ریلوے کی زمین کروڑوں میں دینے پر چیف جسٹس نے کیا جواب طلب

    عمارت میں ہسپتال کیسے بند ہو گیا؟ کیسے معاملات ہمارے سامنے آ رہے ہیں؟ چیف جسٹس کے ریمارکس