راولپنڈی :41 ویں پاکستان آرمی رائفل ایسوسی ایشن (PARA) میگا ایونٹ شوٹنگ کی اختتامی تقریب:آرمی چیف کی شرکت،اطلاعات کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے جہلم گیریژن میں 41ویں پاکستان آرمی رائفل ایسوسی ایشن (PARA) کے مرکزی اجلاس کی اختتامی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔
ذرائع کے مطابق میگا شوٹنگ ایونٹ کا انعقاد آرمی مارکس مین شپ یونٹ میں 26 اکتوبر سے یکم دسمبر 2021 تک کیا گیا۔ آرمی، نیوی، ایئر فورس، سول آرمڈ فورسز (CAFs) بشمول رینجرز، فرنٹیئر کور اور ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس کے 2500 سے زائد فائررز کے ساتھ ساتھ عام شہریوں نے بھی حصہ لیا۔ مقابلہ جس میں متعدد واقعات شامل تھے جن میں مختلف رینجز اور ہتھیاروں کی اقسام شامل تھیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل باجوہ نے شوٹنگ کے ہر زمرے میں جیتنے والوں اور رنرز اپ کو ٹرافیاں اور تمغے دئیے۔ انٹر فارمیشن مقابلے میں ملتان کور پہلے اور منگلا کور دوسرے نمبر پر رہی۔ سی اے ایف کیٹگری میں ٹرافی پنجاب رینجرز نے حاصل کی جبکہ گلگت بلتستان سکاؤٹس رنر اپ رہے۔ انٹر سروسز میچز میں پاکستان آرمی نے چاروں مقابلے جیتے جن میں سی او اے ایس، چیف آف ائیر سٹاف (سی اے ایس) اور چیف آف نیول سٹاف (سی این ایس) میچز شامل ہیں۔ پی اے ایف سی او اے ایس اور سی اے ایس میچز میں رنر اپ رہی جبکہ سی این ایس میچ میں پاکستان نیوی دوسرے نمبر پر رہی۔
پاکستان آرمی نے اوپن نیشنل میچز میں شاٹ گن، لانگ رینج اور سمال بور ٹرافی جیتی۔ پاک فوج نے پرائم منسٹر اسکلز ایٹ آرمز بگ بور نیشنل چیلنج بھی جیتا جبکہ پاک بحریہ نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔
شوٹنگ کا سب سے بڑا اعزاز ‘دی ماسٹر ایٹ آرمز’ ٹرافی 12 پنجاب رجمنٹ کے لانس حوالدار ارشد صدیق کو دی گئی۔ پریذیڈنٹ کپ نیشنل چیلنج میچ ٹرافی آرمی مارکس مین شپ یونٹ کے حوالدار جعفر حسین کو دی گئی۔ وزیراعظم کا ‘اسکلز ایٹ آرمز’ بڑا قومی چیلنج میچ پاک فوج نے جیت لیا۔ بہترین شاٹ میچ ٹرافی لانس دفاتر ذوالفقار خان کو دی گئی۔
شرکاء کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نشانہ بازی کے بہترین معیار کے لیے فائررز کی تعریف کی۔ شوٹنگ کی مہارت کو ایک پیشہ ور سپاہی کی پہچان قرار دیتے ہوئے، آرمی چیف جنرل قمر جاوید نے کہا کہ شوٹنگ میں مہارت حاصل کرنا فوجی تربیت کے بنیادی مقاصد کا مرکز ہونا چاہیے۔
اسلام آباد:صدرپاکستان ڈاکٹر عارف الرحمن علوی نے انتخابی اصلاحات بل پر دستخط کرکے پاکستانیوں کے دل جیت لئے،اطلاعات کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پارلیمنٹ سے منظور شدہ انتخابی اصلاحات بل پر دستخط کردیئے۔
اس سلسلےمیں دستخطوں کی تقریب ایوان صدر میں ہوئی، وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی سینیٹر شبلی فراز، وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری، وفاقی وزیر تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود، وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر، وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ظہیر الدین بابر اعوان اور وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے شرکت کی۔
صدر مملکت کی جانب سے دستخط کے بعد انتخابی اصلاحات بل قانون بن گیا ہے۔ اس کے تحت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بھی ووٹ کا حق دیا گیا ہے جبکہ آئندہ انتخابات میں ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے پہلے ہی الیکٹرانک ووٹنگ مشین تیار کی ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہاکہ انتخابی اصلاحات کا سہرا وزیراعظم عمران خان کے سر ہے کیونکہ انہوں نے اس کیلئے انتھک محنت کی۔ ووٹ ڈالنے والوں کو الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال میں کوئی مشکلات درپیش نہیں ہوں گی کیونکہ انھیں یقین ہے کہ ووٹر آسانی کے ساتھ اس نئے نظام کو سمجھ لیںگے۔
آئی ووٹنگ کے بارے میں صدر نے کہاکہ یہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا حق ہے کہ وہ اپنا ووٹ کاحق استعمال کریں۔
دوسری طرف پردیس میں 90 لاکھ سے زائد پاکستانیوں نے وزیراعظم عمران خان کا شکریہ ادا کرتےہوئے کہا ہے کہ اب ان کو بھی اپنے دیس میں اپنے وطن کی بہتری بھلائی اور خوشحالی کےلیے اپنا حق استعمال کرنے کا موقع مل جائے گا ، جس سے سابقہ حکومتوں نے محروم رکھا ہوا تھا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آخر وہی ہوا جس خدشے کا اظہار میں نے نور مقدم قتل کیس کے حوالے سے اپنی شروع میں بتایا تھا آج اس کیس کی سماعت کے دوران ایک ایسی درخواست عدالت میں جمع کروائی گئی ہے جس کے بارے میں جان کر مجھے کوئی حیرت تو نہیں ہوئی لیکن دکھ ضرور ہوا کہ کس طرح سے اس درندے کو بچانے کے لئے چالیں چلی جا رہی ہے۔
مبشر لقمان کا کہنا تھاکہ اس درندے کو خود اس کی ماں پاگل ثابت کر رہی ہے کیونکہ اس کا مقصد صرف ایک ہے کہ کسی بھی طرح اس کی جان بچا لی جائے کسی طرح یہ سزائے موت سے بچ سکے۔ اس کوشش میں اس کی ماں یہ بھی بھول گئی ہے کہ اس نے کیسے ایک معصوم لڑکی کا سر کاٹ کر دھڑ سے جدا کر دیا تھا کیا اس سے زیادہ کوئی درندگی ہو سکتی ہے جو عصمت آدم جی کے اس درندے بیٹے نے کی لیکن نہیں ان کے لئے تو ان کا بیٹا معصوم ہے اس نے جو کیا وہ پاگل پن کی حالت میں کیا۔ درندے ظاہر جعفر کے وکیل کی جانب سے آج درخواست جمع کروائی گئی ہے کہ اس کی ذہنی حالت کو جانچنے کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے۔ اور یہ وہی وکیل ہیں سکندر ذوالقرنین سلیم جن کے بارے میں۔۔ میں نے آپ کو اس کیس کے حوالے سے اپنی پچھلی ویڈیو میں بتایا تھا۔ اور اہم بات یہ ہے کہ درندے ظاہر جعفر نے اس کو اپنا وکیل تسلیم ہی نہیں کیا تھا نہ ہی وکالت نامے پر دستخط کئے تھے لیکن سکندر سلیم صاحب نے پچھلی سماعت پر استغاثہ کے گواہ سے جرح بھی کی تھی اور اب ان کی طرف سے یہ اہم درخواست بھی سامنے آ گئی ہے جو اس کیس کا پانسہ پلٹ سکتی ہے۔ یہ وکیل دراصل عصمت آدم جی کی طرف سے کیے گئے ہیں جو اب اس کیس کو لمبے عرصے کے لئے لٹکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور یہ بات میں نے آپ کو اس وقت ہی بتا دی تھی جب اس عورت کی ضمانت منظور ہوئی تھی کہ اب جیل سے باہر آ کر یہ اپنی تمام چالیں چلے گی کہ کسی طرح اپنے خاوند اور بیٹے کو جیل سے باہر نکالا جا سکے۔ اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ درندہ ظاہرجعفرمنشیات کے استعمال کی وجہ سے ایک لمبے عرصے سےschizoaffective disorderنامی ذہنی بیماری میں مبتلا ہے اور جس دن اسے گرفتار کیا گیا اس وقت بھی وہ اسی کیفیت میں مبتلا تھا۔
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کتنی حیرانگی کی بات ہے کہ ویسے اس درندے کے والدین کہتے ہیں کہ ہم تو کراچی میں تھے ہر بات سے لاعلم تھے ان کا کوئی قصور ہی نہیں ہے لیکن ان کو یہ ضرور پتہ ہے کہ اس وقت اس درندے پر بیماری کا دورہ پڑا ہوا تھا۔ یہ اپنے اس بیمار بیٹے کو اتنے دنوں کے لئے اکیلے، گولیوں سے بھری پستول اور چاقو کے ساتھ چھوڑ کر خود کراچی چلے گئے تھے۔ فون پر یہ اپنے بیٹے اور ملازمین کے ساتھ رابطے میں تھے تو اس وقت ان کو نہیں پتہ چلا کہ اس کی ذہنی حالت کیا ہے کہ وہ نور مقدم کے والدین کو فون کردیتے یا پھر نوکروں کو ہی کہہ دیں کہ نور کو وہاں سے نکالیں۔ وہ نور جو کئی بار کوشش کرتی رہی اس گھر سے بھاگنے کی لیکن ان کے درندے بیٹے اور نوکروں نے اس کو نکلنے نہیں دیا۔ اور آج یہ درخواست دے رہے ہیں کہ میڈیکل بورڈ بنایا جائے کیونکہ ان کا بیٹا پاگل ہے اور قتل کے وقت اس پر پاگل پن کا دورہ پڑا ہوا تھا۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے علاوہ اس درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ مقامی پولیس اور تفتیشی ایجنسی ملزم کی ذہنی حالت بتانے میں ناکام رہی ہے اور کیونکہ شکایت کنندہ ایک سابق سفیر ہیں اور بااثر شخص ہیں ان کے Power corridorsمیں رابطے ہیں اس لیے پولیس نے جان بوجھ کر ملزم کی ذہنی حالت کو چھپایا ہے۔ لیکن کوئی ان سے پوچھے کہ کیا یہ خود کوئی معمولی لوگ ہیں جعفرز اور آدم جی خاندانوں کو کون نہیں جانتا کہ ان کے کہاں کہاں تک تعلقات ہیں اور کتنا پیسہ ہے ان کے پاس۔۔۔ کیا خواجہ حارث جیسا وکیل انہوں نے بغیر پیسے اور اثرورسوخ کے ہی کر لیا تھا۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ کیسے انہوں نے خود کو بچانے کے لئے پیسے کی بوریوں کے منہ کھولے ہوئے ہیں۔ اور اگر وہ یہ کہتے کہ آدم جی فیملی ان کے ساتھ نہیں ہے تو یہ بھی غلط بیانی ہوگی۔ یہ صرف شروع کی بات ہے کہ آدم جی خاندان نے اپنی ساکھ بچانے کے لئے یہ اعلان کیا تھا کہ ان کا اب اس جعفر فیملی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ان کی تمام تر ہمدردی مقدم فیملی کے ساتھ ہے لیکن یہاں میں آپ کو یاد دلاوں کہ سکندر سلیم سے پہلے جو وکیل ملک امجد درندے ظاہر جعفر کے لئے ہائر کیا گیا تھا جسے اس نے ماننے سے ہی انکار کر دیا تھا وہ ظاہر جعفر کے ماموں کی طرف سے ہی ہائر کیا گیا تھا۔ اس لئے یہ کہنا کہ یہ دونوں خاندان الگ ہیں یا یہ اس درندے کا ساتھ نہیں دے رہے تو یہ بات بالکل غلط ہے۔ اب آپ فیصلہ کریں پیسے اور اثرورسوخ میں یہ فیملی آگے ہے یا نور مقدم کے والد؟البتہ درندے کی طرف سے کسی بھی وکیل کو اپنا وکیل نہ ماننا بھی پلان کا حصہ تھا
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے علاوہ ایک اوراہم بات جو درخواست میں کی گئی وہ یہ کہ درندے ظاہرجعفر نے عدالت کے سامنے بھی جو برتاؤ کیا جو کہ ملزم کی ذہنی حالت بتاتا ہے اور میڈیا نے بھی عدالت کے سامنے اس کے رویے کو رپورٹ کیا یعنی وہ میڈیا جس کو آپ ہر ممکن کوشش کرتے رہے کہ وہ اس کیس سے دور رہے آج اپنے فائدے کی بات آئی تو اسی کی مثالیں دی جا رہی ہیں۔ اور جہاں تک درندے کے عدالت میں رویے کا تعلق ہے جس پر اس کو دو بار عدالت سے باہر بھی نکالا گیا تھا جج صاحب بھی اس کی ماں عصمت آدم جی کو بار بار کہتے رہے کہ اس کا رویہ ٹھیک کروائیں لیکن وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آیا تھا کیونکہ یہ تو اس کی ماں کے پلان کا ہی حصہ تھا۔ اس پر ہر کوئی یہ ہی رپورٹ کر رہا تھا کہ یہ تمام ڈرامہ کیا جا رہا ہے جان بوجھ کر یہ عدالت میں ایسی حرکتیں کرتا ہے تاکہ آنے والے دنوں میں اس کو پاگل کہہ کر ریلیف لیا جائے اور آج وہی کچھ ہو بھی گیا ہے یہ درخواست عصمت آدم خور کی سازشوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
دراصل اپنے بیٹے کو پاگل ثابت کرکے اور میڈیکل بورڈ بنوا کر یہ اس کیس کو لٹکانا چاہتے ہیں تاکہ اپنے درندے بیٹے کو بچا سکیں۔ اس لئے اس درخواست میں صاف کہا گیا ہے کہ جب عدالت نے درندے ظاہر جعفر اور باقی تمام ملزمان پر فرد جرم عائد کیا تو اس پر ظاہر جعفر نے کوئی رد عمل نہیں دیا کیونکہ اس کو عدالتی کارروائی کی کوئی سمجھ ہی نہیں آرہی تھی حالانکہ ٹرائل شروع ہونے سے پہلے ظاہر جعفر کو پوری چارج شیٹ پڑھائی گئی تھی۔ اب یاد کریں کہ درندہ عدالت میں اکثر یہ شور مچاتا تھا کہ اس کو آواز نہیں آ رہی اس کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تو وجہ یہی تھی کیونکہ یہ سب اس خاندان کا پلان تھا کہ پہلے اس درندے سے یہ ایکٹنگ کروائی جائے اور اب اس کے تمام رویے کو بنیاد بنا کریہ درخواست دے دی گئی ہے۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ساتھ ہی درخواست میں یہ موقف بھی اپنایا گیا ہے کہ عدالت مرکزی ملزم کی ذہنی حالت کا مشاہدہ کر چکی ہے لیکن اس کے باجود گواہوں کے بیانات ملزم کی غیر موجودگی میں ریکارڈ کرتی رہی جس سے نہ صرف ٹرائل متاثر ہوتا ہے بلکہ آئین کے آرٹیکل10اے کے تحت ملزم کو فیئر ٹرائل کے حق سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔ کیا مذاق ہے کہ ایک طرف کہہ رہے ہیں کہ اس کو کچھ سمجھ نہیں آتی کیونکہ وہ پاگل ہے اور دوسری طرف یہ بھی اعتراض ہے کہ اس کی غیر موجودگی میں ٹرائل کیوں چلتا رہا۔ اور ساتھ ہی درخواست میں کہہ دیا کہ عدالت قانون کے مطابق درندے ظاہر جعفر کی ذہنی حالت کو جانچنے کے لیے ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دے۔ مختصر الفاظ میں۔۔ میں آپ کو بتاوں کہ اب ان کی پلاننگ یہ ہے کہ اپنے بیٹے کو پاگل تو خود ہی یہ ثابت کر چکے ہیں۔ اب یہ چاہتے ہیں کہ بورڈ بنے پہلے وہ اس کی جانچ کرے اور میں آپ کو بتا دوں اس بورڈ سے بھی اس کی شاطر ماں نے اسے پاگل قرار دلوا دینا ہے اور ایک بار ایسا ہو گیا تو یہ کیس اتنا لٹک جائے گا کہ آپ کی سوچ ہے کیونکہ اس کے بعد پہلے اس درندے کا علاج ہو گا اور جب تک وہی بورڈ اس کو مکمل صحت یاب نہیں قرار دے دے گا یہ کیس آگے نہیں چل سکے گا ٹرائل جو دو ماہ میں پورا ہونا تھا اور وہ دو ماہ بھی گزرے کئی دن ہو چکے ہیں وہ ٹرائل یہیں رک جائے گا۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پہلے اس درندے کو ٹھیک کرنے کے بہانے جیل سے نکالا جائے گا اور اس کے علاج میں ایک لمبا عرصہ لگائیں گے تاکہ لوگ اس کیس کو بھول جائیں اس کے بعد پھر سے ٹرائل ہوگا اور دوبارہ نئے سرے سے کیس کو چلا کراپنی مرضی کا فیصلہ لینے کو کوشش کی جائے گی۔اور ابھی تک درندہ جو کسی بھی وکیل کو اپنا وکیل نہیں مان رہا اس کے پیچھے ان کی سازش یہ ہے کہ ظاہر جعفر کے وکیل کے بغیر ہی جتنا ٹرائل چلنا ہے وہ چلتا رہے۔ تاکہ یہاں سے ٹرائل میں جو بھی فیصلہ ہو اس کو یہ اس سے اوپر والی عدالت میں یہ کہہ کرچیلنج کر سکیں گے۔۔ کہ اس ٹرائل کے دوران مرکزی ملزم کا تو کوئی وکیل نہیں تھا اس لئے انصاف کا تقاضا پورا نہیں ہوتا جس کے بعد اس پورے ٹرائل کو بے معنی کر دیا جائے۔ یہ ہے جعفرز اور آدم جی فیملی کا وہ مکروہ چہرہ جو وقت کے ساتھ ساتھ کھل کر سامنے آ رہا ہے۔ لیکن اس کیس پر جو بھی اہم پیش رفت ہو گی ہم آپ تک وہ ضرور پہنچاتے رہیں گے تاکہ لوگ اس کیس کو بھولنے نہ پائیں اور نور مقدم کو انصاف مل سکے۔ انشااللہ
یو اے ای کا پچاس برسوں کا سفر مکمل،ایک نئے باب کا آغاز
متحدہ عرب امارات میں آج قومی دن شایان شان طریقے سے منایا جا رہا ہے
عرب امارات آج گولڈن جوبلی منا رہا ہے، یو اے ای کی 50 سالگرہ پر شہری پوجوش ہیں، عرب امارات کے قومی دن کے حوالہ سے یو اے ای میں تقریبات کا آغاز ہو چکا ہے، حکام کی جانب سے پیغامات جاری کئے گئے ہیں، حکومت کی جانب سے عام چھٹی کا اعلان بھی کیا گیا ہے، یو اے ای نے پچاس برسوں کا سفر طے کیا ہے جو پورے خطے کے لئے ایک اہم موڑ ثابت ہو گا،آج سے یو اے ای ایک نئے باب کا آغاز کر رہا ہے .یو اے ای نے ان پچاس سالوں میں بہت سے سنگ میل عبور کئے اور بہت ساری غیر معمولی کامیابیاں سمیٹیں، اب ترقی کے اگلے مرحلے کی جانب سفر جاری ہے
دنیا میں چین سے پھیلنے والا کرونا وائرس پھیل چکا ہے جو ابھی تک ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ،کرونا کے ہوتے ہوئے اس دن کو عوامی سطح پر منانا مشکل ترین کام تھا مگر گولڈن جوبلی کی وجہ سے یو اے ای میں جشن منایا جا رہا ہے، متحدہ عرب امارات ان چند ممالک میں سے ایک تھا جس نے اعلان کیا کہ اس نے کرونا وبا جو بدترین مرض ہے کیخلاف جنگ جیت لی ہے، یو اے ای میں تقریبا پوری آبادی کو ویکیسن لگائی جا چکی ہے اور کرونا سے نمٹنے کے حوالہ سے بہترین ممالک کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے
اسی کرونا وبا کے دوران ہی یو اے ای میں ایکسپو دبئی کا آغاز ہوا جو دنیا کا سب سے بڑا اجتماع ہے، اس ایکسپو میں 190 سے زائد ممالک حصہ لے رہے ہیں اور یہ خطے کی سب سے بڑی ایکسپو ہے ،یہ وہ سال بھی تھا جب یو اے ای نے برقہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کا آغاز کیا تھا، جو عرب خطے کا پہلا ملٹی یونٹ ہے، جس نے قابل تجدید توانائی کے علاقائی اور عالمی مرکز کے طور پر ملک کی قابل فخر حیثیت کو مزید مستحکم کیا۔ یہ چند سال پہلے کا خواب تھا۔ آج برقہ ایٹمی توانائی پلانٹ کے یونٹ 3 کی تعمیر مکمل ہو گئی ہے۔
یہ پچھلے 12 مہینوں میں یواے ای کے سنگ میل کی صرف تین مثالیں ہیں۔ یہ فہرست درحقیقت ایک طویل ہے جس میں یو اے ای کی تاریخ کی سب سے بڑی قانون سازی اور قانونی ترمیم بھی شامل ہے، جس کا اعلان شیخ خلیفہ بن زید النہیان نے گزشتہ ہفتے کیا تھا۔
یو اے ای میں پاکستان کے سفیر افضال محمود کی جانب سے یو اے ای کے قومی دن کے موقع پر پیغام میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی کمیونٹی اور اپنی جانب سے، میں متحدہ عرب امارات کی قیادت اور اماراتی بھائیوں کو ان کے قومی دن کے پرمسرت موقع پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرنا چاہتا ہوں۔ میں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ ایک ایسے وقت میں یو اے ای میں پاکستان کی نمائندگی کر رہا ہوں جب یو اے ای اپنی گولڈن جوبلی منا رہا ہے اور ہم اپنے برادرانہ دوطرفہ تعلقات کے 50 سال مکمل ہونے کا جشن منا رہے ہیں۔آج متحدہ عرب امارات امن، ترقی اور گڈگورنینسانی کی پہچان کے طور پر اقوام عالم میں فخر کے ساتھ کھڑا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے گزشتہ پانچ دہائیوں میں جو شاندار پیش رفت حاصل کی ہے وہ ملک کو ایک جدید ریاست اور ترقی کرتی ہوئی معیشت میں تبدیل کرنے کے لیے اماراتی قیادت کے وژن اور عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یواے ای نے تجارت، مالیاتی خدمات، سیاحت، ٹرانزٹ اور ٹرانسپورٹ کے لیے عالمی معیار کے مرکز کے طور پر ابھرنے کے لیے شاندار پیش رفت کی ہے۔ یہ متاثر کن ترقی رواداری، جامع اقتصادی ترقی اور اختراع کو فروغ دینے سے ممکن ہوئی ہے۔پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی موجودہ دور اندیش قیادت میں ہمارے دوطرفہ تعلقات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ یہ باہمی فائدہ مند برادرانہ تعلقات سیاسی، اقتصادی، تجارتی، ثقافتی اور دفاعی تعاون سمیت کثیر جہتی تعاون پر محیط ہیں۔ متحدہ عرب امارات تقریباً 1.6 ملین پاکستانیوں کا دوسرا گھر ہے جو نہ صرف ہماری دونوں قوموں کے لیے فخر کا باعث ہے بلکہ ہمارے دونوں ممالک کے درمیان ایک موثر پل کا کام بھی کرتے ہیں۔ ہمارے بھائی چارے کے رشتوں کو مضبوط بنانے کے لیے متحدہ عرب امارات میں پاکستانیوں کی طرف سے دیا جانے والا تعاون کئی دہائیوں سے قابل ذکر رہا ہے۔
پاکستان سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے یوا ے ای کے قومی دن پراپنے دلی جذبات کا اطہار کرتے ہوئے کہا کہ یواے ای نے جس تیزی سے ترقی کی منزلیں طے کیں اسکی مثال پوری دنیا میں نہیں ملتی اسکے پیچھے آل نہیان کی حب الوطنی اور دانش مندانہ پالیسیاں ہیں کورونا وبا نے پوری دنیا کامعاشی نقشہ تبدیل کر دیا مگرعرب امارات کے حکمرانوں کی بہترین حکمت عملی سے متحدہ عرب امارات میں حالات بہت کنٹرول میں رہے ،مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ امارات کا قومی دن بڑی اہمیت کاحامل ہے یو اے ای کی موجودہ تعمیر وترقی یہاں کے حکمرانوں کی اپنے ملک اور عوام سے گہری محبت اورخلوص کامنہ بولتا ثبوت ہے پوری اماراتی قوم کو دل کی گہرائیوں سے 50ویں نیشنل ڈے کی خوشیاں مبارک ہوں اللہ تعالی یواے ای کومزید کامیابیوں اورکامرانیوں سے نوازے آمین
یو اے ای اور پاکستان دونوں برادرانہ ملک ہیں اور دونوں ممالک کے مابین بہترین تعلقات ہیں دونوں ممالک کےمابین دوستی کا رشتہ برسوں پرانا ہے جس کے قیام کے لیے ریاست کے بانی عزت مآب مرحوم شیخ زید بن سلطان النہیان کی خدمات کوکبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔مرحوم پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے تھے 1971 میں متحدہ عرب امارات کے قیام کے بعد پاکستان دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے نہایت پرجوش انداز میں نہ صرف اسے تسلیم کیا تھا بلکہ اس کی جانب دست تعاون بھی دراز کیا تھا اس وقت سے لے کر آج تک پاکستان نے دوستی کے اس رشتے کو نہ صرف برقرار رکھا ہے بلکہ اسے وسیع سے وسیع تر کرنے کی کوشش کی ہے
اقوام متحدہ کے امن مشن میں خدمات سرانجام دینے والا پاک فوج کا ایک اور جوان شہید
حوالدار محمد شفیق سینٹرل افریقن ری پبلک میں خدمات کے دوران شہید ہو گئے
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق حوالدار محمد شفیق کی نمازجنازہ میاں چنوں میں ادا کی گئی، شہید کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ سپردخاک کیا گیا، حوالدار محمد شفیق نے پسماندگان میں اہلیہ اور 3 بیٹے چھوڑے ہیں حوالدار شفیق فروری 2021 میں امن مشن میں شامل ہوئے،اب تک 162 اہلکار امن مشنز میں خدمات کے دوران شہید ہوچکے،یو این مشن میں خدمات کی انجام دہی کے دوران حوالدار محمد شفیق شہید ہوئے
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ حوالدار محمد شفیق وسطی افریقی ریپبلک میں شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور انسانی امداد کی فراہمی میں سہولت فراہم کرنے والے پاکستانی دستے کے ایک بہادر اور سرشار رکن تھے
قبل ازیں رواں برس 11 ستمبر کو یواین امن مشن دارفور میں خدمات سرانجام دیتے ہوئے لانس نائیک عادل جان شہید ہو گئے، شہید لانس نائیک عادل جان کا تعلق ایف سی بلوچستان سے تھا،لانس نائیک عادل کی عمر 38 سال تھی اور وہ لکی مروت کے رہائشی تھے،ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق شہید اقوام متحدہ کے مشن ڈارفور کا حصہ تھے جو شہریوں کے تحفظ اور انسانی امداد کی سہولت کے لیے ذمہ دار تھے
پاکستان نے 30ستمبر1947ء کو اقوامِ متحدہ کے امن مشن میں شمولیت اختیار کی ،یہ ایک نامور دور کا آغاز تھا جس کی تاریخ بے مثال ہے ،پاکستان نے 28 ممالک میں 2 لاکھ سے زائد افواج کے ہمراہ 46 مشترکہ مِشنز میں حصہ لیا ،یو این امن مِشنز میں 161جوانوں بشمول 24 افسران نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ برس نائیک محمد نعیم رضا شہید کو اَقوامِ مُتحد ہ کا خصوصی میڈل عطاکیا گیا ،پاکستان اقوامِ متحدہ کے حوالے سے بہترین خدمات سر انجام دے رہا ہے،اقوام متحدہ کی قیادت نے پاکستان کی پر امن فوج کی کارکردگی کو تسلیم کیا ہے
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستانی خواتین بھی اقوامِ متحدہ امن مشن کانگو میں امن کے لیے سر گرم عمل ہیں،امریکی نائب معاون وزیر خارجہ بھی پاکستانی خواتین سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے،ایلس ویلز نے پاکستانی خواتین کے امن کردار کو سراہا،اقوامِ متحدہ چھتری تلے تاحال 83 پاکستانی خواتین امن مشن کا حصہ ہیں، پاکستان 19جون2019میں کانگو میں خواتین دستے تعینات کرنے والا پہلا ملک ہے
دوہری شہریت،فیصل واوڈا نے ایک بار پھر بڑا قدم اٹھا لیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینیٹر فیصل واوڈا نے دہری شہریت کیخلاف جاری کارروائی رکوانے کیلئے انٹراکورٹ میں اپیل دائر کردی
سینیٹر فیصل واوڈا کی دہری شہریت سے متعلق الیکشن کمیشن میں کارروائی جاری ہے ،سینیٹر فیصل واوڈا نے سنگل بینچ کی درخواست مسترد کرنے کا فیصلہ چیلنج کیا ،دائر درخواست میں موقف اپنایا کہ عدالت کے ایک رکنی بینچ نے 12 نومبر کو درخواست مسترد کی،عدالت ایک رکنی بنچ کا فیصلہ کالعدم قرار دے، درخواست میں الیکشن کمیشن اور درخواست گزار دوست علی کو فریق بنایا گیا
قبل ازیں الیکشن کمیشن میں فیصل واوڈا نااہلی کیس کی سماعت ہوئی ،فیصل واوڈا اور قادر مندوخیل کمیشن کے سامنے پیش ہوئے ،فیصل واوڈا نے کہا کہ میرے وکیل بیمار ہیں سفر نہیں کر سکتے، گزارش ہے کچھ وقت دیا جائے ،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ کیس پہلے ہی بہت تاخیر کا شکار ہے ،ممبر کمیشن نے کہا کہ تحریری دلائل دینے کا کہا تھا آج بھی جواب جمع کروا سکتے تھے،فیصل واوڈا نے کہا کہ ذاتی طور پرمہلت طلب کرنے آیا ہوں ،ممبر کمیشن نے فیصل واوڈا سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ فائل کیوں نہیں لے کر آئے کیس اس طرح نہیں چلتے،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ فریقین کو کہا گیا تھا حتمی دلائل دے دیں،تحریری دلائل جمع کروانا چاہتے ہیں تو ٹھیک ورنہ ہم پرانے دلائل پر فیصلہ دیں گے،اگر آپ کے وکیل نہیں بھی ہیں تو تحریری دلائل جمع کروانے کا بہت کلیئرکہا تھا،درخواست گزاروں نےجو سرٹیفکیٹ دیا تھا کیا آپ اس کو قبول کرتے ہیں؟
فیصل واوڈا نے چیف الیکشن کمشنر کو جواب دیا کہ مجھے نہیں معلوم انہوں نے کیا جمع کروایا ہے،چیف الیکشن کمشنر نے فیصل واوڈا سے استفسار کیا کہ آپ اس سرٹیفکیٹ کو تسلیم نہیں کررہے لیکن مانتے ہیں کہ دہری شہریت رکھتے ہیں، فیصل واوڈا نے چیف الیکشن کمشنر کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ فوٹو کاپی ہے اس طرح تو میں بھی فوٹو کاپیاں لے آوں،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ جب آپ نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تو کیا آپ شہریت چھوڑ چکے تھے،چیف الیکشن کمشنر نے فیصل واوڈا سے سوال کیا کہ آپ کے پاس شہریت ترک کرنے کا تو کوئی ثبوت ہوگا،فیصل واوڈا نے کہا کہ مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا ،چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کمیشن کو اس کیس کو ختم کرنا چا رہا ہے،فیصل واوڈا نے کہا کہ جب ایم این اے تھا تو الزامات عائد ہوئے،سیٹ سے مستعفی ہوچکا ہوں،میں ایک سیاسی آدمی ہوں اگر میں سیٹ رکھ رہا ہوتا تو یہ کیس چلے،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آپ کی اس درخواست پر کمیشن اپنا فیصلہ دے چکا ہے،اگر آپکی کوئی درخواست رہتی ہے تو اس پر بھی فیصلہ کردیں گے،فیصل واوڈا نے کہا کہ میں پانچ جنوری کی تاریخ مانگ رہا تھا،ہائیکورٹ نے دو ماہ میں کیس کا فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا،اب ہمیں مقدمات نمٹا کر اگلے الیکشن کی تیاری کرنی ہے، کیس کو مزید التواکا شکار نہیں ہونے دینگے،آئندہ سماعت پر کوئی نہ آیا تو فیصلہ محفوظ کر لینگے،الیکشن کمیشن میں فیصل واوڈا نا اہلی کیس کی سماعت 23 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی
فیصل واوڈا کی نااہلی کے لیے دائر درخواست میں موقف اپنا گیا ہے کہ انہوں نے کاغذات نامزدگی میں جعلی حلف نامہ جمع کروایا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ فیصل واوڈا کو جعلی حلف نامہ جمع کروانے پر نااہل کیا جائے کیونکہ صادق اور امین نہیں رہے۔ سپریم کورٹ دوہری شہریت رکھنے پر 2 سینٹرز کو نا اہل قراردے چکی ہے
فیصل واوڈا تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی تھے تا ہم نااہلی کے خدشے کے پیش نظر انہوں نے قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا اور سینیٹر منتخب ہو گئے تھے
کابل، تہران: افغان طالبان اور ایرانی سرحدی فوج کے درمیان شدید جھڑپیں،افغان طالبان نے تین چوکیوں پرقبضہ کرلیا ،اطلاعات کےمطابق افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، دونوں جانب سے بھاری اسلحہ کا استعمال کیا گیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغانستان کی طالبان فورسز اور ایرانی سرحدی فورس کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں، یہ جھڑپ مغربی افغانستان کے صوبہ نمروز کے سرحدی ضلع کُنگ میں ہوئی ہے۔
فوری: منابع محلی میگویند نیروهای مرزی ایران و طالبان ساعتهاست باهم در ولسوالی کنگ ولایت نمیروز درگیر شدند و هردو طرف از سلاحهای سبک و سنگین استفاده میکنند . pic.twitter.com/6QMJT58zDC
افغان صحافیوں نے بتایا کہ طالبان اور ایرانی سرحدی فورس کے درمیان جھڑپ نمروز کے سرحدی ضلع میں بدھ کی شام 5 بجے شروع ہوئیں۔ لڑائی کے دوران طالبان کی جانب سے ہلکے ہتھیاروں کے علاوہ بھاری اسلحہ کا بھی استعمال کیا گیا۔
Islamic Emirate deputy spokesman Bilal Karimi told TOLOnews that the Islamic Emirate and Iranian forces clashed today in border areas in Nimroz province. He said the clashes have stopped and did not provide information about their cause.#TOLOnewspic.twitter.com/Dp0CfMaFWJ
مقامی میڈیا کے مطابق طالبان کی جانب سے تین سرحدی چوکیوں پر قبضہ کا دعوی کیا گیا ہے، جبکہ طالبان نے مزید فوجی کمک بھی طلب کرلی ہے۔مقامی افغان صحافیوں کے مطابق جھڑپ اس وقت شروع ہوئی جب ایران کی جانب سے سرحد پر چیک پوسٹ کی تعمیر کی جارہی تھی۔
طلوع نیوز کے مطابق امارت اسلامی کے نائب ترجمان بلال کریمی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صوبہ نمروز کے سرحدی علاقوں میں طالبان فورسز اور ایرانی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جھڑپیں اب بند ہوچکی ہیں اور ان میں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔ بلال کریمی نے جھڑپوں کی وجوہات کے حوالے سے کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔ لڑائی کے دوران بعض طالبان فوجیوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے، لیکن ایران کی جانب کسی زخمی یا جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
خیال رہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے کے بعد افغان اور ایرانی سرحد پر یہ پہلی جھڑپ ہے۔دوسری طرف ایرانی حکام نے کہا ہے کہ ایران کی چیک پوسٹ پر قبضے کی خبریں غلط ہیں، طالبان نے غلط فہمی کی بنیاد پر ایرانی کسانوں پر بلا اشتعال فائرنگ کی۔
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے سی پیک منصوبوں کے حوالے سے بڑا حکم دے دیا،اطلاعات کے مطابق خطے خوشحالی کے شدید منتظر وزیراعظم عمران خان نے سی پیک منصوبوں پر کام مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت کرتےہوئے کہا ہے کہ حکومت سی پیک منصوبوں کی بروقت تکمیل کا عظم رکھتی ہے۔
وزیراعظم کی صدارت میں چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبوں پر پیشرفت کا اجلاس ہوا، وفاقی وزرا اسد عمر، علی زیدی، حماد اظہر، مشیر خزانہ شوکت ترین، مشیر تجارت عبدالرزاق داود، معاون خصوصی خالد منصور اور سینیئر حکام نے شرکت کی۔
اسلام آباد سے ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ معاون خصوصی برائے سی پیک خالد منصور نے اجلاس کو منصوبوں کی پیشرفت پر بریفنگ دی۔
اس موقع پر وزیراعظم نے سی پیک منصوبوں پر کام مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ ملکی مفاد کے لیے طویل المدت منصوبوں کے لیے پالیسیوں کا تسلسل لازمی عنصر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چین اور پاکستان کے مابین وقت کی آزمائی ہوئی دوستی ہے، حکومت سی پیک منصوبوں کی بروقت تکمیل کا عظم رکھتی ہے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے وزیراعظم کی زیر صدارت اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلئے اجلاس ہوا جس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ایف آئی اے نے ڈالر منی لانڈرنگ اور غیرقانونی ہولڈنگ کی تحقیقات وسیع کی ہیں ایف آئی اے کی بارڈر کراسنگزپرافرادی قوت بڑھائی جا رہی ہے۔
بریفنگ میں کہا گیا کہ مال کی چیکنگ اور نقل و حرکت کی ٹریکنگ ممکن ہو سکےگی غیرقانونی پیٹرول اسمگلنگ روکنے ،ذخیرہ اندوزی کیخلاف آپریشن میں کامیابی ملی۔
اجلاس میں وزیراعظم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسمگلنگ کی وجہ سے ملک کی معیشت کو شدید نقصان پہنچتا ہے اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں فرق اسمگلنگ کی وجہ بنتی ہے اسمگلنگ سےمصنوعی قلت پیدا ہوتی ہے جس سے قیمتیں بڑھتی ہیں۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ گندم، یوریا، چینی، آٹا ،پیٹرول اسمگلنگ روکنےکیلئےاقدامات کئےجائیں ان اقدامات کا مقصد عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔
راولپنڈی: آرمی چیف کا آزاد کشمیر رجمنٹل سنٹر مانسر کیمپ کا دورہ، یادگار شہدا پر حاضری ،اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کو کرنل کمانڈنٹ آزاد کشمیر کے بیجز لگا دیئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آزاد کشمیر رجمنٹل سنٹر مانسر کیمپ کا دورہ کیا اور یاد گار شہدا پر حاضری دی جبکہ فاتحہ خوانی بھی کی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سپہ سالار نے لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کو کرنل کمانڈنٹ آزاد کشمیر کے بیجز لگائے۔آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے آزاد کشمیر رجمنٹ کی پیشہ ورانہ مہارت اور آپریشنل کارکردگی کی تعریف کی۔
امریکہ نے قیامت روکنے کی ٹھان لی، قدرت سے پنگا،دنیا تباہ ہو سکتی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ناسا نے زمین کو تباہی سے بچانے کے لئے ایک انوکھی کوشش شروع کر دی ہے۔اس کے لئے Dart نامی ایک مشن کو خلا میں روانہ کیا گیا ہے۔ زمین کو کیا خطرات لاحق ہیں اور اس سے بچاو کے لئے ناسا کیا کوششیں کر رہا ہے لیکن اس سے پہلے زمین کے مستقبل یعنی قیامت کے بارے میں قرآن پاک میں جو آیات نازل ہوئیں ہیں ان میں سے چند ایک میں آپ کے سامنے بیان کروں گا
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سورة القارعہ میں قیامت کے حوالے سے بیان ہوا ہے کہ۔۔۔ یعنی جب وہ حادثہ عظیم برپا ہوگا جس کے نتیجے میں دنیا کا سارا نظام درہم برہم ہوجائے گا اس وقت لوگ گھبراہٹ کی حالت میں اس طرح بھاگے بھاگے پھریں گے جیسے روشنی پر آنے والے پروانے ہر طرف پراگندہ و منتشر ہوتے ہیں اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنکے ہوئے اون کی طرح اڑنے لگیں گے۔ ایک اور آیت ہے۔۔اس دن جب یہ زمین ایک دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی۔۔ بدل جائے گا۔۔ اور سب کے سب خدائے واحد و قہار کے سامنے پیش ہوں گے۔یہ قرآن پاک میں روز محشر کے منظر کی طرف اشارہ ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق یوں لگتا ہے جیسے محشر کا میدان اسی زمین کو بنایا جائے گا۔ اس کے لیے زمین کی شکل میں مناسب تبدیلی کی جائے گی، جیسا کہ اس آیت میں فرمایا گیا ہے۔
سورۃ الفجر میں اس تبدیلی کی ایک صورت اس طرح بتائی گئی ہے:
جب زمین کو کوٹ کوٹ کر ہموار کر دیا جائے گا۔
پھر سورۃ الانشقاق میں فرمایا گیا ہے۔
اور جب زمین کو کھینچا جائے گا۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح تمام تفصیلات کو جمع کر کے جو صورت حال ممکن ہوتی محسوس ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ زمین کے تمام نشیب و فراز کو ختم کر کے اسے بالکل ہموار بھی کیا جائے گا اور وسیع بھی۔ اس طرح اسے ایک بہت بڑے میدان کی شکل دے دی جائے گی۔ جب زمین کو ہموار کیا جائے گا تو پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، زمین کے پچکنے سے اس کے اندر کا سارا لاوا باہر نکل آئے گا اور سمندر بھاپ بن کر اُڑ جائیں گے۔ اسی طرح نظام سماوی میں بھی ضروری رد وبدل کی جائے گی۔
جس کے بارے میں سورۃ القیامہ میں اس طرح بتایا گیا ہے۔
یعنی سورج اور چاند کو یکجا کر دیا جائے گا۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح کی اور بھی بہت سی آیات ہیں جس سے اندازہ یہ لگایا جاتا ہے کہ شاید آنے والے وقتوں میں زمین کے ساتھ کچھ ٹکرائے گا اور زمین کا نقشہ بدل جائے گا۔ اس خطرے کو بھانپتے ہوئے بہت سے سائنسدان اس وقت مختلف تحقیق اور تجربے کرنے میں مصروف ہیں اور اب ایسا ہی ایک تجربہ ناسا کی طرف سے کیا گیا ہے۔چند دن پہلے ناسا کے سائنسدانوں نے اپنی ایک نئی ٹیکنالوجی کو آزمانے کے لیے ایک خلائی جہاز خلا میں بھیجا ہے جو مستقبل میں کسی بھی خطرناک سیارچے کو زمین سے ٹکرانے سے روک سکے گا۔ایک لمبے عرصے سے یہ بات کی جاتی رہی ہے کہ زمین کو مختلف خلائی چٹانوں سے خطرہ ہے اور ان چٹانوں میں سے کوئی بھی چٹان آنے والے وقتوں میں زمین سے ٹکرا سکتی ہے یہ مشن انھیں چٹانوں کو ناکارہ بنانے کے لئے شروع کیا گیا ہے۔ اور اس مشن کا نام ڈارٹ مشن رکھا گیا ہے۔ یہ خلائی جہازDimorphosنامی شہابیے سے ٹکرائے گا۔ جس کے بعد ناسا کے سائنسدان یہ دیکھنے کی کوشش کریں گے کہ کیا اس ٹکراو کے بعد Dimorphosکی رفتارمیں کوئی فرق پڑا ہے یا نہیں اور اس کے علاوہ یہ بھی نوٹ کیا جائے گا کہ کیا اس ٹکر کے بعد وہ شہابیہ اپنا راستہ کس حد تک تبدیل کرتا ہے یا واپس اسی راستے پر آجائے گا۔ناسا کا یہ مشن کتنا اہم ہے یا یہ کتنا خطرناک ہو سکتا ہے اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اگر خلائی چٹانوں کا کوئی ملبہ صرف چند سو میٹر سے زمین کے کسی حصے سے ٹکرائیں تو وہ پورے Continentمیں تباہی مچا سکتا ہے۔ اس ڈارٹ مشن کو خلا میں بھیجنے کے لئےSpace x کے بنائے گئے Falcon 9نام کے خلائی راکٹ کا استعمال کیا گیا ہے اور یہ مشن چوبیس نومبر دوہزار اکیس کو صبح چھ بج کر بیس منٹ پرCaliforniaکے Vandenberg Space Force Baseسے خلا میں روانہ کیا گیا تھا۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ لیکن یہاں میں آپ کو یہ بات بتا دوں کہ Dimorphosایک ایسی خلائی چٹان یا شہابیہ ہے جس سے زمین کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ دراصل یہ خلائی چٹانیں ہمارے سولر سسٹم کے ایسے باقی ماندہ ٹکڑے ہیں جن میں سے اکثر زمین کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہیں۔ لیکن کچھ ایسی چٹانیں ہیں جو سورج کے گرد گھومتے ہوئے زمین کی طرف بڑھتی ہیں تو پھر ان کے زمین سے ٹکرانے کا امکان ہو سکتا ہے۔ اور اگر ایسا کچھ ہوتا ہے تو یہ زمین کے لئے بہت خطرناک ہو سکتا ہے۔ اس لئے صرف مستقبل میں ایسے خطروں سے نمٹنے کے لئے یہ تجربہ کیا جا رہا ہے تاکہ یہ سیکھنے کی کوشش کی جائے کہ مستقبل میں کوئی ایسا ملبہ یا شہابیہ زمین کی طرف آئے تو اسے کیسے دور رکھا جا سکتا ہے۔اس مشن میں پہلے تو سب سے مشکل کام یہ ہے کہ اسےDimorphosتک پہنچایا جائے تاکہ وہ اصل ٹارگٹ کو ہٹ کر سکے۔ کیونکہ باقی کا تجربہ اس کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا۔اس ڈارٹ مشن کو تقریبا 32 کروڑ ڈالرلگا کر تیار کرنے کے بعد ہمارے Binary system of orbit میں بھیجا گیا ہے جو ستمبر2022 تک خلا میں گھومتا رہے گا اور پھر زمین سے67 لاکھ میل دور جا کر سیارچوں کے ایک جوڑے کو نشانہ بنائے گا جو اس وقت ایک دوسرے کے گرد چکر لگا رہے ہیں۔ ان دونوں میں سے بڑے سیارچے کا نامDaddy mossہے جو تقریبا 780 میٹر چوڑا ہے۔ اور دوسرا سیارچہDimorphosہے جو تقریبا 160 میٹر چوڑا ہے۔خلا میں بڑے سیارچوں کے مقابلے میں چھوٹے سیارچے زیادہ ہیں اور اس لیے سب سے زیادہ خطرہ بھی انہی سے ہے۔ لیکن ان دومختلف سائز کے سیارچوں کو ٹارگٹ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پتا لگایا جا سکے کہ اس ٹکراو کے بعد کس سائز کا سیارچہ کس حد تک اپنی جگہ سے ہٹ سکے گا۔ یہ چیک کرنا اس لئے بھی اہم ہے کیونکہ اگر Dimorphos کے سائز والا کوئی سیارچہ زمین سے ٹکراتا ہے تو اس کا اثر کئی ایٹم بموں کی توانائی جتنا ہو گا۔ اس سے لاکھوں جانیں ضائع ہو سکتی ہیں۔ لیکن اگر تین سو میٹر اور اس سے زیادہ چوڑائی والی کوئی خلائی چٹان زمین سے ٹکراتی ہے تو وہ کئی براعظموں کو تباہ کرسکتی ہے اور ایک کلومیٹر کے سائز کے خلائی پتھر تو پوری زمین کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔یہ ڈارٹ مشن تقریبا 15,000میل فی گھنٹہ کی رفتار سے Dimorphosسے ٹکرائے گا۔ جس کی وجہ سے ان سیارچوں کی سمت صرف چند ملی میٹر تبدیل ہونے کی امید ہے۔ اگر حقیقت میں ایسا ممکن ہو گیا تو اس کی کلاس بدل جائے گی۔ اس بارے میں کچھ حد تک غیر یقینی صورتحال بھی ہے کہ اس ٹکراو کے بعد ان سیارچوں کا رویہ کیا ہو گا کیونکہ ابھی ناسا کے سائنسدان اس کی اندرونی ساخت کے بارے میں نہیں جانتے۔ اگر یہ اندر سے ٹھوس ہوئے تو ظاہری بات ہے کہ بہت سا ملبہ باہر آئے گا جس سے ڈارٹ کو مزید دھکا لگے گا۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ویسے تو یہ ایک بہت چھوٹی سی تبدیلی لگتی ہے لیکن ایک خلائی چٹان کو زمین سے ٹکرانے سے روکنے اور تباہی سے بچانے کے لیے بس اتنا ہی کرنا کافی ہے۔ لیکن ایسا کرنا آسان نہیں ہے۔ڈارٹ مشن کی نگرانی کے لئے اس خلائی جہاز پرDraicoنامی ایک کیمرہ بھی لگایا گیا ہے جو اس کے مشن کی تصاویر لے گا تاکہ خلائی جہاز کے ٹکرانے کے لیے صحیح سمت کا تعین کیا جا سکے۔ اوراپنے ہدف کو نشانہ بنانے سے تقریبا دس دن پہلے ڈارٹLessia qubeنام کی ایک چھوٹی سیٹلائٹ کا استعمال کرے گا جو ٹکراو کے بعد کی تصاویر واپس ناسا کے آفس بھیجے گی۔ اس کے علاوہ ان سیارچوں کی گردش کے راستے میں آنے والی چھوٹی تبدیلیوں کو زمین پر لگی دوربینوں سے بھی ناپا جائے گا۔اس کا زرلٹ تو ستمبر دو ہزار بائیس کے بعد ہمارے سامنے آئے گا کہ بتیس کروڑ ڈالر لگا کر ناسا نے جو یہ تجربہ کیا ہے اس میں کس حد تک سائنسدانوں کو کامیابی ملی ہے۔ کیا واقعی زمین کو ایسے خطرات سے بچایا جا سکے گا یا پھر آنے والے دنوں میں تباہی ہی انسانوں کا مقدر بنے گی۔