Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • خبردار،ورزش کرنے سے پہلے یہ ویڈیو دیکھ لیں

    خبردار،ورزش کرنے سے پہلے یہ ویڈیو دیکھ لیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ جب بھی ہم اپنے ادرگرد لوگوں کو موٹاپے اور مختلف بیماریوں کی شکایت کرتے سنتے ہیں تو جو سب سے پہلا خیال ہمارے دماغ میں آتا ہے وہ یہی ہوتا ہے کہ کیونکہ یہ ورزش نہیں کرتے اس لئے ان کی صحت خراب ہے یہ موٹاپے کا شکار ہیں اور موٹاپے کے ساتھ پھر باقی بیماریاں تو سمجھیں مفت میں ہی انسان کو گھیر لیتی ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ جو روزانہ جم یا ورزش کرتے ہیں اپنی فٹنس کا خیال رکھتے ہیں ان کے بارے میں ہم یہ ہی خیال کرتے ہیں کہ ان کوکبھی کوئی بیماری ہو ہی نہیں سکتی اور بیماریاں نہ ہونے کی وجہ سے ظاہری بات ہے کہ ان کی عمر بھی بہت لمبی ہو گی۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ لیکن آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ پاکستان میں ہرسال صرف دل کے مریضوں میں تقریبا دولاکھ افراد کا اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسی ہی کچھ صورتحال انڈیا میں بھی ہے۔جبکہ دل کی بیماری ایک ایسی بیماری ہے جس کے بارے میں ابھی تک بہت سے لوگ یہ سوچتے ہیں کہ یہ بیماری شاید بڑھاپے میں ہی ہوتی ہے لیکن اس وقت سب سے تشویشناک بات یہ ہے پچھلے چند سالوں میں کم عمرافراد میں ہارٹ اٹیک کے کیسز بہت زیادہ رپورٹ ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ 2017میں ایس جے آئی سی ایس آر کی جانب سے دو ہزار لوگوں پر ایک سروے کیا گیا تھا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ25سے40سال کی عمر کے لوگوں میں ہارٹ اٹیک کے کیسزمیں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ صرف ایک سال میں دل کی بیماری والے مریضوں میں پچھلے سال کی نسبت22فیصد اضافہ نوٹ کیا گیا۔اس سے بھی زیادہ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ ایسے نوجوان جو بظاہر بہت صحتمند اور فٹ لگتے تھے روزانہ جم اور ورزش کرتے ہیں ان کو کم عمری میں دل کا دورہ پڑا جوان کی جان لے گیا۔ اس کی دو بہت ہی مشہور مثالیں جو ہمارے سامنے ہیں وہ انڈیا کی ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایک مثال جنوبی انڈیا کی ریاست کرناٹک کے مشہور اداکار پنیت راجکمار ہے جس کی عمر صرف 46سال تھی کہ اچانک دل کا دورہ پڑنے سے اس کی موت ہو گئی۔اور دوسری مثال انڈین ٹیلی وژن کا نوجوان اداکار سدھارتھ شکلا ہے جس کی 40سال کی عمر میں اچانک دل کا دورہ پڑنے سے موت ہو گئی تھی۔پنیت راجکمار جنوبی انڈیا کی ریاست کرناٹک کا ایک بے حد مشہور اداکار، گلوکار، ٹی وی میزبان، اور فلم پروڈیوسر تھا اور اس کے بارے میں عام طور پر یہ ہی خیال کیا جاتا تھا کہ وہ بے حد فٹ یا صحت مند ہے۔وہ نہ صرف خود صحت مند دکھائی دیتا تھا بلکہ وہ ایک ڈاکٹر کا بیٹا تھا اس کے والد کا نام راج کمارہے۔ جس سے ایک عام طور پر ذہن میں یہ ہی خیال آتا ہے کہ اس کے گھر کا ماحول بھی صحت کے حوالے سے بہت اچھا ہوگا۔لیکن اس کی اچانک موت نے نہ صرف اس کے مداحوں اور پوری فلم انڈسٹری کو صدمے میں ڈال دیا ہے بلکہ عام انسان بھی یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ ایک ایسا انسان جس کی عمر اتنی کم تھی وہ ہر لحاظ سے صحت مند اور فٹ دکھائی دیتا تھا روزانہ جم اور ورزش کرتا تھا تو اس کو کیسے اچانک دل کا دورہ پڑ سکتا ہے کہ جو اس کی جان ہی لے گیا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دراصل ہوا یہ کہ پنیت راجکمار کو جم میں ورزش کرتے ہوئے سینے میں درد کی شکایت ہوئی جس پر اس نے اپنے فیملی ڈاکٹر اور مشہور کارڈیالوجسٹ رامنا راؤ سے رابطہ کیا۔ جس اس ڈاکٹر نے پنیت کی نبض اور بلڈ پریشر کا جائزہ لیا تو وہ نارمل تھیں۔ لیکن جب اس کے ڈاکٹر نے اس سے پوچھا کہ اسے اتنا پسینہ کیوں آرہا ہے تو اس نے بتایا کہ جم کرتے ہوئے اسے بہت پسینہ آتا ہے۔ خیر اس کی ای سی جی کروائی گئی اور فورا ہسپتال لے جایا گیا۔لیکن پنیت کو راستے میں ہی دل کا دورہ پڑ گیا اور اسے بچانے کی ساری کوششیں ناکام رہیں۔اب پنیت راجکمار کی موت سے صرف دو ماہ پہلے ستمبر میں اداکار سدھارت شکلا کی ایسے ہی اچانک موت ہوئی تھی تب بھی لوگوں کو بہت صدمہ ہوا تھا کہ بظاہر ایک بے حد فٹ انسان جس کی عمر صرف چالیس سال تھی وہ کیسے اچانک اس دنیا سے چلا گیا؟سدھارتھ شکلا انڈین ٹیلی وژن کا انتہائی مقبول اداکار تھا۔ اور ساتھ ہی وہ فلم انڈسٹری میں بھی انٹری کر چکا تھا۔ اور اہم بات یہ کہ وہ بھی اپنی صحت کا خاص خیال رکھتا تھا۔ روزانہ جم جا کر ورزش کرتا تھا۔ اسے بھی پنیت کی طرح اچانک دل کا دورہ پڑا تھا جو جان لیوا ثابت ہوا تھا۔حالانکہ یہ وہ افراد تھے جن کو دل سے متعلق پہلے سے کوئی بیماری یا شکایت نہیں تھی۔ ان میں کوئی ایسی عادتیں جیسے تمباکو نوشی جو دل کی بیماری کا خطرہ پیدا کرتی ہے وہ عادت بھی نہیں تھی اور نہ ہی ان کی اس بیماری کی کوئی خاندانی ہسٹری تھی۔ انھیں ذیباطیس، ہائپرٹینشن اور ہائی کولیسٹرول بھی نہیں تھا۔اب ان دونوں کی موت کے بعد اس بات پر کافی بحث ہو رہی ہے کہ بہتر صحت اور ایک فٹ باڈی کی خواہش میں جم جانے والے افراد کہیں نہ کہیں کوئی ایسی غلطی کر رہے ہیں جو کہ اس کم عمری میں جان لیوا دل کے دورے کی وجہ بن رہی ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اور میں آپ کو یہ بتا دوں کہ اس طرح کے واقعات پاکستان میں بھی کافی زیادہ ہو رہے ہیں لیکن ابھی تک کسی مشہور شخصیت کے ساتھ ایسا نہیں ہوا تو یہاں بڑے پیمانے پر اس بحث نے جنم نہیں لیا ورنہ یہ خطرہ ہمارے سروں پر بھی اتنی شدت سے ہی منڈلا رہا ہے جتنا کہ انڈین عوام کے۔۔۔دراصل آج کے دور میں نوجوانوں کو جم جاکر مسلز بنانے کا جنون سا پیدا ہو گیا ہے۔ جم میں تو کوئی ڈاکٹر ہوتا نہیں ہے پھر وہ خود بھی کسی ڈاکٹر سے مشورہ نہیں لیتے اور جم جا کر نہ صرف سخت قسم کی ورزش کرتے ہیں بلکہ Gym instructorکے کہنے پر پروٹین سپلیمنٹ بھی کھانا شروع کر دیتے ہیں۔ بہت سے instructorsنوجوانوں کوsteroidsلینے کا بھی مشورہ دیتے ہیں جو کہ صحت کے لیے بالکل اچھے نہیں ہوتے۔اس حوالے سے کئی ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ دراصل جب لوگ وزن اٹھانے جیسی ورزش کرتے ہیں تو ان کے پٹھوں میں تناؤ ہو جاتا ہے۔ ساتھ ہی وزن اٹھانے کی وجہ سے نسوں پربھی دباؤ پڑتا ہے۔ اس لئے ایک حد سے زیادہ ورزش دل کے Valvesکے لیے انتہائی خطرناک ہوتی ہے۔دراصل آج کل کے نوجوان مختلف Actors and playersوغیرہ کو دیکھتے ہیں اور باڈی بنانے کے چکر میں جم جاتے ہیںSupliments and steroidsکھاتے ہیں۔ حالانکہ یہ ایکٹرز یا کھلاڑی اگر کوئی سپلیمنٹ استعمال کرتے ہیں تو وہ اپنے ڈاکٹرز اور ہیلتھ کوچز کے مشورے کے بعد کرتے ہیں۔اس کے علاوہ آپ نے ایک محاورہ تو ضرور سنا ہوگا کہ Excess of everything is badیعنی کوئی بھی کام جب آپ اپنی برداشت سے زیادہ شروع کر دیں تو وہ لازمی آپ کے لئے خطرناک ہوگا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ حالانکہ کوئی بھی سخت والی ورزش کرنے سے پہلے ہمیں کسی cardiologistسے ضرور مشورہ کرنا چاہیے۔اس کے علاوہ جم جاتے ہیHigh intensityورک آؤٹ نہیں شروع کرنا چاہیے۔ پہلے جم جا کر ہلکی پھلکی ورزش کر کے اپنے جسم کوWarm upکرنا چاہیے۔ اورمشکل یا زیادہ سخت والی وزرش روزانہ نہیں کرنی چاہیے۔ ورنہ دوسری صورت میں ایسا کرنے سے دل سے جڑے مسائل کی شروعات ہو سکتی ہے۔اور ورزش کا انتخاب ہمیشہ اپنی جسمانی صلاحیت کے مطابق کرنا چاہیے کہ کون سی ورزش کرنی ہے اور کون سی نہیں۔اور اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ کہیں آپ بہت دیر تک تو اس طرح کی ورزش نہیں کر رہے۔ کیونکہ اگر آپ کا جسم باہر سے اچھا دکھائی دے رہا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کا دل بھی صحت مند ہے۔اور ایک چیز جس کا خیال جم والوں کو بھی کرنا چاہیے وہ یہ کہ جم میں لوگوں کی جسمانی صحت پر نظر رکھنے کے لیے ایک ڈاکٹر بھی ضرور ہونا چاہیے۔ جو لوگوں کو ان کی جسمانی صورتاحل کے مطابق مشورہ بھی دیں اور ایمرجنسی کی صورت میں لائف سپورٹ بھی فراہم کرسکیں۔ کیونکہ ڈاکٹرز کے مطابق اگر پنیت راجکمار دس منٹ پہلے ہسپتال پہنچ گئے ہوتے یا ان کو میڈیکل ایڈ مل گئی ہوتی تو شاید انھیں بچایا جا سکتا تھا۔ جس کے بعد وہ مزید کئی سالوں تک زندہ بھی رہ سکتے تھے

  • وزیراعظم عمران خان نے چینی، آٹا اور پیٹرول کی اسمگلنگ روکنے کی ہدایت کردی

    وزیراعظم عمران خان نے چینی، آٹا اور پیٹرول کی اسمگلنگ روکنے کی ہدایت کردی

    اسلام آباد :وزیراعظم عمران خان نے چینی، آٹا اور پیٹرول کی اسمگلنگ روکنے کی ہدایت کردی ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ گندم، یوریا، چینی، آٹا ،پیٹرول اسمگلنگ روکنےکیلئےاقدامات ‏کئےجائیں۔

    تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلئے اجلاس ہوا جس میں ‏بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ایف آئی اے نے ڈالر منی لانڈرنگ اور غیرقانونی ہولڈنگ کی تحقیقات وسیع کی ‏ہیں ایف آئی اے کی بارڈر کراسنگزپرافرادی قوت بڑھائی جا رہی ہے۔

    بریفنگ میں کہا گیا کہ مال کی چیکنگ اور نقل و حرکت کی ٹریکنگ ممکن ہو سکےگی غیرقانونی پیٹرول ‏اسمگلنگ روکنے ،ذخیرہ اندوزی کیخلاف آپریشن میں کامیابی ملی۔

    اجلاس میں وزیراعظم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسمگلنگ کی وجہ سے ملک کی معیشت کو شدید نقصان ‏پہنچتا ہے اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں فرق اسمگلنگ کی وجہ بنتی ہے اسمگلنگ سےمصنوعی قلت پیدا ہوتی ‏ہے جس سے قیمتیں بڑھتی ہیں۔

    وزیراعظم نے ہدایت کی کہ گندم، یوریا، چینی، آٹا ،پیٹرول اسمگلنگ روکنےکیلئےاقدامات کئےجائیں ان اقدامات ‏کا مقصد عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی وزیراعظم کئی مرتبہ اسمگلنگ روکنے کی ہدایات دے چکے ہیں‌ مگران ہدایات پرعمل ہوتا ہوا نظرنہیں آتا

    اس سے قبل جنوری کے مہینے میں وزیراعظم نے ایک اہم اجلاس میں کہا تھا کہ اجلاس کے شرکا کو بتایا گیا کہ اس وقت ملک میں 2094 پیٹرول پمپس اسمگلڈ تیل کی فروخت میں ملوث ہیں، اسمگل کئے گئے تیل سے ملک معیشت کو 100 سے 150 ارب روپے سالانہ نقصان ہورہا ہے۔

    وزیراعظم نے اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف سخت ترین اقدامات کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اسمگلنگ کی وجہ سے ملکی معیشت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے، انسداد اسمگلنگ اقدامات سے محصولات میں اضافہ ہوگا۔

     

     

  • سات ملکوں کی سرزمین”متحدہ عرب امارات”قیام سے عروج تک

    سات ملکوں کی سرزمین”متحدہ عرب امارات”قیام سے عروج تک

    شارجہ :سات ملکوں کی سرزمین”متحدہ عرب امارات”قیام سے عروج تک:دنیا میں مقام ،عرب امارات کا اصل اور سرکاری نام متحدہ عرب امارات داولہ العمارت العربیہ ال متحدہ / متحدہ عرب امارات ہے،تفصیلات کے مطابق متحدہ عرب امارات جسے سات ملکوں کی سرزمین کہا جاتا ہے اپنے قیام سے لے کرابتک دنیا کی ایک بڑی معاشی طاقت کے طور پر ابھر کرسامنے آیا ہے،عرب امارات جس نے اپنے قیام کے 50 سال بعد دنیا میں ایک مرکزی مقام حاصل کرلیا ہے ، جس کی حیثیت سے آج کوئی انکار نہیں کرسکتا،    

    متحدہ عرب امارات جو کہ سات ملکوں کی سرزمین ہے یہ جزیرہ عرب کی مشرقی ساحلی پٹی پر واقع ہے۔مورخین کے مطابق عرب امارات کی تاریخ تجارت سے جڑی ہوئی ہے جو 630 میں اس خطے میں داخل ہوئی، مورخیں کا کہنا ہے کہ اس کا ساحل یورپی جارحیت پسندوں کے زیر قبضہ تھا۔ یہ علاقہ انیسویں صدی میں برطانوی استعمارکے کنٹرول میں رہا، یہاں تک کہ جواہرات اور ہیروں کی کھیپ برآمد ہوئی پھر انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں اسے خود مختاری مل گئی۔

    تفصیلات کے مطابق اس کے بعد عرب امارات نے کھجوروں کی کاشت سردیوں میں آمدنی کا ذریعہ ہوتی ہے۔ بیسویں صدی کے درمیان کے عشرے تک یہ سلسلہ جاری رہا، اس دوران تیل کمپنیوں نے تیل کی تلاش کی۔ خام تیل کی پہلی کھیپ سنہ 1962 میں ابوظہبی سے برآمد ہوئی، اسے انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے استعمال کیا گیا۔

    برطانوی استعمار کے خلیج سے دستبرداری کے اعلان کے ساتھ ہی ابو ظہبی ، دبئی ، شارجہ ،عجمان ، ام القواین اور فجیرہ کے حکمرانوں کے مابین یک معاہدہ طے پایا۔ 2 دسمبر 1971 ء کو متحدہ عرب امارات کے نام سے مشہور فیڈریشن کا قیام عمل میں آیا اور اگلے ہی سال میں ساتویں امارت راس الخیمہ نے اس اتحاد میں شمولیت اختیار کی۔

    حکومت متحدہ عرب امارات دستوری اعتبار سے ایک وفاقی ریاست ہے جس کی تاسیس 1971 میں ہوئی، یہ آئین ریاست کے تمام شہریوں کو مساوی مواقع اور مساوی حقوق دیتا ہے
    امارات میں حکومت سلیکشن کے پراسس سے گزر کر ہوتی ہے۔ چنانچہ ریاست کے صدر کا انتخاب ان سات امارات کے حکمرانوں کے ذریعے کیا جاتا ہے جو فیڈرل سپریم کونسل تشکیل د یتے ہیں اور ملک کا سیاسی نظام اس آئین پر مبنی ہے جس کا تعین پانچ فیڈرل اتھارٹیز کرتی ہے۔

     

     

    ابوظہبی میں عمری د یوان کے زیراہتمام ریاستی پرچم ڈیزائن مقابلہ جیتنے کے بعد اس پرچم کو عبد ہللا محمد المانع نے ڈیزائن کیا تھا جسے مشہور شاعر صفی الدین الحلی کی ایک نظم سے متاثر ہوکر تیار کیا گیا ہے ۔ مستطیل شیپ میں جھنڈا جس کی لمبائی چوڑائی سے دگنی ہے اور چار رنگوں سرخ، سبز، سفید اور سیاہ پر مشتمل ہے اور انگریزی کے حرف ای کی طرح دکھتا ہے، اس پرچم کو پہلی بار 2 دسمبر 1971 کو متحدہ عرب امارات کے فیڈریشن کے اعلان کے موقع پر شیخ زید بن سلطان النہیان نے لہرایا تھا۔

    سات امارات
    متحدہ عرب امارات مکمل طور پر 2 دسمبر 1972 میں قائم ہوا اور 7 امارات سے تشکیل پایا تھا جس کا دارالحکومت ابوظہبی بنایا گیا
    ابوظہبی
    یہ متحدہ عرب امارات کی سب سے بڑی امارت ہے۔ یہ امارات کا سیاسی، انتظامی اور اقتصاد ی مرکز شمار ہوتا ہے۔ امارت کی مجموعی مصنوعات میں 60 فیصد کے برابر حصہ ابوظہبی کا ہے۔

    دبئی
    رقبے کے لحاظ سے اس کا دوسرا نمبر ہے اور یہ ایک بین الاقوامی شہر ہے۔ اسے ماضی میں جوہرۃ العالم ( دنیا کا زیور) کہا جاتا تھا جبکہ اسے لؤلؤۃ الخلیج (خلیج کا موتی) بھی کہا جاتا تھا۔
    شارجہ
    رقبہ کے لحاظ اس کا تیسرا نمبر ہے، یہ متعدد چھوٹے شہروں پر مشتمل ہے اور امارات میں بہت سے ایسے تعلیمی ادارے موجود ہیں جو نئی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ جس سے امارت میں معاشی ترقی تیز ہو رہی ہے۔

     

     

    راس الخیمہ
    رقبے کے لحاظ سے اس کا چوتھا نمبر ہے جسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: نخیل اور پرانا راس الخیمہ۔ فجیرہ ،خلیج عمان کے مشرقی ساحل پر فجیرہ نظر آتا ہے۔ فجیرہ وادی ہام روڈ پر بھی واقع ہے۔ یہ ایک تجارتی سڑک ہے جو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہے۔

     

    عجمان
    یہ متحدہ عرب امارات کی سب سے چھوٹی امارت ہے البتہ اس میں پہاڑوں کا ایک سلسلہ ہے جو دوسری امارات سے ممتاز ہے

    ام القوین
    یہ آبادی کی لحاظ سے سب سے چھوٹی امارت ہے۔ یہ ایک تنگ جزیرہ نما پر قائم کیا گیا تھا جسے خور البدایہ کہا جاتا ہے۔
    امارات کی آب و ہوا
    امارات کا اکثر علاقہ صحرا پر مشتمل ہے جس میں ریت کے بڑے بڑے ٹیلے ہیں۔ خلیج عرب کے ساتھ کئی خالی میدانوں ہیں۔ شمال مشرقی علاقوں میں پتھروں کے پہاڑ ہیں۔

    مبرح پہاڑ کی چوٹی امارات میں سب بلند چوٹی ہے،عراد میں موجود ریت کے ٹیلے دنیا میں سب سے بڑے ریت کے ٹیلے ہیں۔ امارات میں سردی کا موسم معتدل جبکہ گرمی کا موسم نہایت سخت ہوتا ہے۔
    یہاں بارشیں کافی کم ہوتی ہیں۔لیکن کبھی کبھار بارشیں شدید ہوجاتی ہیں تاہم اس کے باوجود بھی موسم سرد نہیں ہوتا بلکہ معتدل رہتا ہے۔

     

    باغی ٹی وی انتظامیہ اپنے مسلم برادر ملک متحدہ عرب امارات کے قومی دن پر اس برادر ملک کو قیام کی 50 ویں  سالگرہ پر مبارکباد پیش کرتی ہے اور دعا گو ہے کہ اللہ اس ملک کو اس ملک کے باسیوں کو ہمیشہ متحد رکھے اور یہ سرزمین دنیا بھر میں امن وبھائی چارہ کا باعث بنے ، کل 2 دسمبرکی مبارک تاریخ کو ریاست ہائے متحدہ عرب امارات کے قومی دن کے موقع پر باغی ٹی وی انتظامیہ بھی یہ دن منائے گی اور متحدہ عرب امارات  کے لیے کامیابیوں کے لیے دعا گو بھی ہوگی ،

     

     

    یہ یو اے ای کا50 واں قومی دن ہے ۔ 7 متحدہ عرب ریاستوں پر مشتمل یواے ای کے اس قومی دن پر پاکستانی عوام اور حکومت نے اپنے اس انتہائی قریبی دوست اور ہم مذہب ملک کے پرمسرت موقعے پر تہہ دل سے مبارک باد کرتے ہیں ۔

    دونوں ممالک کے درمیان دوستی کا یہ رشتہ برسوں پرانا ہے جس کے قیام کے لیے ریاست کے بانی عزت مآب مرحوم شیخ زید بن سلطان النہیان کی خدمات کوکبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ مرحوم پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے جوار رحمت میں بلند مقام عطا کرے۔

  • جب وزیر خزانہ تھا تو میں نے یہ کام کیا تھا، سراج الحق روسٹرم پر آ گئے

    جب وزیر خزانہ تھا تو میں نے یہ کام کیا تھا، سراج الحق روسٹرم پر آ گئے

    جب وزیر خزانہ تھا تو میں نے یہ کام کیا تھا، سراج الحق روسٹرم پر آ گئے

    وفاقی شرعی عدالت میں سود کے خاتمے سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی

    عدالتی معاون انور منصور خان کی جانب سے عدالت میں دلائل دیئے گئے،انور منصور خان نے کہا کہ آئین کے مطابق ریاست 10سال میں ہر طرح کے استحصال کے خاتمے کی پابند تھی،سود بھی استحصال کی ہی ایک قسم ہے، عدالتی دائرہ اختیار صرف 1980 سے 1990 تک نہیں تھا، چیف جسٹس شریعت کورٹ نے کہا کہ کیا قانون میں لکھا ہے کہ قرض جاری نہیں ہو سکے گا؟ انور منصور نے کہا کہ ریکوری کا قانون ختم ہونے کا مطلب ہے کہ قرض جاری ہی نہیں ہوگا،سال 1990 سے شریعت کورٹ قوانین کو غیر اسلامی قرار دینے کا اختیار رکھتی ہے، ربا کا خاتمہ ضروری ہوگیا ہے، سپریم کورٹ بھی قرار دے چکی ہے کہ تمام قوانین کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالا جائے،

    دوران سماعت امیرجماعت اسلامی سراج الحق روسٹرم پر آگئے، سراج الحق نے عدالت میں کہا کہ خیبرپختونخوا میں وزیرخزانہ تھا تب اسلامی بنیکاری شروع کی،قائداعظم کے نعرے پاکستان کا مطلب کیا لا الہ اللہ پر قوم نے لبیک کہا، مشیر خزانہ نے اعتراف کیا کہ سودی نظام سے غریب اور امیر میں فرق بڑھ گیا جرمن سرکاری بینک کے سربراہ کو سود سے پاک نظام پر 3 گھنٹے بریفنگ دی،گزشتہ بجٹ میں 33 ہزار ارب روپے ملک نے سود میں ادا کیا وزیر خزانہ نے بتایا کہ سود ادا کرنے کیلئے مزید قرض لینا ہو گا، چوہتر سال سے ملک میں سودی مظام چل رہا ہے ،دنیا سود فری کی طرف جارہے ہیں لیکن حکومت نے سود کی شرح میں اضافہ کیا سود نظام کے خاتمے کے لیے پارلیمنٹ اور عدالتوں کا رخ کیا ہے پی ہی پی ، ن لیگ ،مشرف اور پی ٹی آئی نے سودی نظام کو گلے سے لگایا ہے

    واضح رہے کہ ماہ جون میں ملک میں سودی نظام کے خاتمے کے لیے وزیراعظم عمران خان نے سفارشات طلب کی تھیں، اسی حوالے سے اسپیکر قومی اسمبلی نے علما سے سودی نظام کے خلاف اور اس کے متبادل نظام پر مشاورت کرکے سفارشات وزیراعظم عمران خان کو بھیجنے کا اعلان کیا تھا،اسپیکر قومی اسمبلی نے اعلان کیا تھا کہ وہ سودی نظام کےخلاف جید علما کے ساتھ عیدالاضحیٰ کے بعد مشاورت کریں گے اور پھر اس حوالے سے سفارشات تیار کر کے وزیراعظم کو دیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ عید الاضحٰی کے فوراً بعد مفتی تقی عثمانی سمیت دیگر جید علما سے سودی نظام کے خلاف اور اس کے متبادل نظام پر مشاورت کی جائے گی۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل وزیرمملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان ملک سے سودی نظام کے خاتمے کا مطالبہ کرچکے ہیں۔ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا ہے کہ سودی نظام ختم کرکے کسی کو بھی کرسی پر بٹھادیں ملک ترقی کریگا۔ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امورعلی محمد خان نے کہا ہے کہ ملک میں سودی نظام ختم کرکے اسلامی بینکاری شروع کی جائے سودی نظام اللہ رسولؐ سے جنگ ہے اسی لئے ملک ترقی نہیں کرسکتا

    علی محمد خان کا مزید کہنا تھا کہ ماہرین معیشت قائد کے فرمان کو پڑھیں اللہ ورسول کے نام پر ملک بنایا تو نیا نظام بھی بناسکتے ہیں. اللہ پوچھے گا کہ اقتدارِ دیا میرا نظام  لایا کہ نہیں پوچھے گا. ختم نبوت پر مہر لگا یا اس میں بھٹو اور مفتی محمود کا بھی کردار ہے.اللہ سود کو ختم اور صدقہ کو بڑھتاہے.مسلمان حکمران کے معاملات دیکھے جاتے ہیں نماز روزہ نہیں دیکھا جاتاہے. سود اللہ اور رسولؐ کے ساتھ جنگ ہے. حضرت عمرؓ کا قانون مغرب میں لاگو ہے مغرب میں سود کے خلاف قانون سازی ہورہی ہے. وہ اسلامی بینکاری کی طرف آرہے ہیں. سودی نظام یہودیوں نے دنیا کو غلام بنانے کے لیے بنایاہے.ظلم کے خلاف ہم قاضی کے ساتھ ہوگئے تاکہ اس نظام کو ختم کریں ملک کلمہ پر چلے گا ترقی کے لیے اسلامی بینکاری کی طرف آنا ہوگا سودی نظام سے نکلنا ہوگا.

    ریاست کو للکارنے والے علی وزیر،محسن داوڑ کی رکنیت ختم کی جائے، اسمبلی میں مطالبہ

    دہلی، جے شری رام کا نعرہ نہ لگانے پرہندو انتہا پسندوں نے کیا امام مسجد پر

    رام مندر کی تعمیر کیلئے انتہا پسند ہندو تنظیم نے مودی سے بڑا مطالبہ کر دیا

    مودی سرکار نے بنایا بھارتی جیلوں میں قید پاکستانیوں کے خلاف خطرناک منصوبہ

    بی جے پی کی کامیابی کے بعد بھارت میں گائے کے گوشت کے نام پر مسلمانوں پر تشدد

    سودی نظام کے خاتمے سے متعلق کیس،اٹارنی جنرل نے کیا دعویٰ کر دیا؟

  • پبلک آفس ہولڈر کا عزیز لاپتہ ہو جائے توریاست کا ردعمل کیا ہوگا؟چیف جسٹس اطہرمن اللہ کے اہم ریمارکس

    پبلک آفس ہولڈر کا عزیز لاپتہ ہو جائے توریاست کا ردعمل کیا ہوگا؟چیف جسٹس اطہرمن اللہ کے اہم ریمارکس

    پبلک آفس ہولڈر کا عزیز لاپتہ ہو جائے توریاست کا ردعمل کیا ہوگا؟چیف جسٹس اطہرمن اللہ کے اہم ریمارکس
    اسلام آباد ہائیکورٹ میں صحافی کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم لوگوں کی زندگی کے تحفظ کے ضامن ہیں ،ایک بندہ لاپتہ ہوجاتا ہے اور ریاست کا کردار وہ نہیں جیسے ہونا چاہیے ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے لیکن ایسے کیسز میں ماں کا کردار نظر نہیں آتا جب کوئی عدالت میں کہتا ہے کہ میرا پیارا لاپتہ ہے تو اسے مطمئن کون کرے گا مجھے پتہ چلا کہ صحافی کی اہلیہ بھی کیس لڑتے لڑتے موت کی نیند سو گئیں اب اس بچے کو ریاست نے تو مطمئن کرنا ہے،

    وفاقی وزیر انسانی حقوق شیری مزاری نے عدالت میں کہا کہ آپ نے پہلے بھی قیدیوں کےمعاملے پر بلایا تھا،جبری گمشدگیوں کا معاملہ ہمارے منشور میں تھا،ہم بل لا ئے ہیں ، قومی اسمبلی سے منظور ہو چکا، سینیٹ میں جلد بھجوایا جائے گاوزیراعظم بننے سے پہلے بھی عمران خان کا معاملے پرواضح موقف رہا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو اغوا کرنا انتہائی سنگین جرم ہے، کسی پبلک آفس ہولڈر کا کوئی عزیز غائب ہو جائے تو ریاست کا رد عمل کیا ہو گا؟ پبلک آفس ہولڈر کا کوئی عزیز غائب ہو جائے تو پوری مشینری حرکت میں آجائے گی، ریاست کا رد عمل عام شہری کے غائب ہونے پر بھی یہی ہونا چاہیے، تمام ایجنسیاں وفاقی حکومت کے کنٹرول میں ہیں، یہ سمریوں یا رپورٹس کی بات نہیں، مسنگ پرسن کے بچے اور والدین کو مطمئن کریں،ریاست کی ذمہ داری ہے کہ بچے کی دیکھ بھال کرے اور متاثرہ فیملی کو سنے،کسی کو تو ذمہ داری لینی ہوگی تو چیف ایگزیکٹو کو ذمہ دار کیوں نہ بنایا جائے ؟یہ ہماری ڈیوٹی ہے کہ ہم ان گمشدگیوں کو روکیں ہمیں اہل خانہ کو مطمئن کرنا ہے کہ ریاست ان کے لیے بھی ماں جیسی ہے،ماہرہ خان کیس میں کمپن سیشن کا عدالتی فیصلہ وفاقی حکومت نے چیلنج کیا ہے،کیا عدالتی فیصلہ چیلنج کرنا حکومت کا کردار ہے ؟ شیریں مزاری نے عدالت میں کہا کہ میں اس معاملے کو وزارت سے چیک کروا لیتی ہوں، عدالت نے کہا کہ جس چیف ایگزیکٹو کے دور میں شہری لاپتہ ہوتا ہے اسکی جیب سے فیملی کو معاوضہ کیوں نہ ادا کیا جائے،اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس اہم سوال پر وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری سے رائے طلب کر لی اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کو لاپتہ شہر ی کی فیملی کو آئندہ سماعت تک مطمئن کرنے کا حکم دے

    صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف ازخود نوٹس کیس،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    انڈس نیوز کی بندش، صحافیوں کا ملک ریاض کے گھر کے باہر دھرنا

    تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے ملک ریاض کو کہا جائے،آپ نیوز کے ملازمین کا جنرل ر عاصم سلیم باجوہ کو خط

    پنجاب پولیس نے ملک ریاض فیملی کے آگے گھٹنے ٹیک دئیے، حسان نیازی

    جب تک قانون کے مطابق سخت سزا نہیں دی جائے گی، قوم کرنل کی بیوی اور ٹھیکیدار کی بیٹی جیسے ٹرینڈ بناتی رہے گی۔ اقرار

    ملک ریاض کے باپ سے پیسے لے کر نہیں کھاتا، کوئی آسمان سے نہیں اترا کہ بات نا کی جائے، اینکر عمران خان

    صحافیوں کے خلاف کچھ ہوا تو سپریم کورٹ دیوار بن جائے گی، سپریم کورٹ

    صحافیوں کا کام بھی صحافت کرنا ہے سیاست کرنا نہیں،سپریم کورٹ میں صحافیوں کا یوٹرن

    مجھے صرف ایک ہی گانا آتا ہے، وہ ہے ووٹ کو عزت دو،کیپٹن ر صفدر

    پولیس جرائم کی نشاندہی کرنے والے صحافیوں کے خلاف مقدمے درج کرنے میں مصروف

    بیوی، ساس اورسالی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے الزام میں گرفتارملزم نے کی ضمانت کی درخواست دائر

    سپریم کورٹ کا سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس،ہمارے خاندانوں کو نہیں بخشا جاتا،جسٹس قاضی امین

    ‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    صحافیوں کا دھرنا،حکومتی اتحادی جماعت بھی صحافیوں کے ساتھ، بلاول کا دبنگ اعلان

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    میں نے صدر عارف علوی کا انٹرویو کیا، ان سے میرا جھوٹا افیئر بنا دیا گیا،غریدہ فاروقی

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    سپریم کورٹ نے صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا کا نوٹس لے لیا

    کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    پریس کلب پر اخباری مالکان کا قبضہ، کارکن صحافیوں نے پریس کلب سیل کروا دیا

    صحافیوں کو کرونا ویکسین پروگرام کے پہلے مرحلے میں شامل کیا جائے، کے یو جے

    کیوں ان صحافیوں کے پیچھے پڑ گئے جو حکومت یا کسی اور کے خلاف رائے دے رہے ہیں،عدالت

    مینار پاکستان واقعہ کے ملزم پکڑے جاسکتے تو صحافیوں کے کیوں نہیں؟ سپریم کورٹ

    مقامی صحافیوں کو کان پکڑوا کر تشدد کروانے والا ملزم گرفتار

    حکومت بتائے صحافیوں کے حقوق تحفظ کے لیے کیا اقدامات اٹھائے؟ عدالت

    مہنگائی، بے روزگاری، شہر قائد میں صحافی نے خود کشی کر لی

  • بھارتی فوج کی فائرنگ سے مزید 2 کشمیری نوجوان شہید

    بھارتی فوج کی فائرنگ سے مزید 2 کشمیری نوجوان شہید

    سرینگر: مقبوضہ کشمیرمیں قابض بھارتی فورسزکی فائرنگ سے مزید2 کشمیری نوجوان شہید ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ضلع پلواما میں بھارتی فوج نے 2 کشمیریوں کو شہید کردیا، کشمیریوں کو قصبہ یارمیں نام نہاد سرچ آپریشن کےدوران نشانہ بنایا گیابھارتی فوج نے پلواما کا محاصرہ کرلیا اورنام نہاد سرچ آپریشن میں متعدد نوجوانوں کوگرفتارکرلیا-

    سری نگر:دہشتگردی کی مالی معاونت کے الزام میں کشمیری رہنما خرم جاوید گرفتار

    پلواما اورقریبی علاقوں میں موبائل اورانٹرنیٹ سروس بند کردی گئی۔ بھارتی فورسزنے گھروں میں گھس کرلوگوں کوہراساں کیا اورسنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ جبکہ علاقے میں سرچ آپریشن ابھی بھی جاری ہے اوربھارتی فورسز نے لوگوں کوگھروں سے باہرنہ نکلنے کا حکم دیا ہے۔

    دنیا والو :بھارتی حکومت کشمیری مسلمانوں کے ووٹوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے : محبوبہ مفتی

    واضح رہے کہ 24 نومبر کو قابض بھارتی فوج کی جانب سے سرینگر میں 3 بے گناہ کشمیری نوجوانوں کو تشدد اور فائرنگ کر کے شہید کر دیا گیا تھاکشمیریوں کی شہادت کے خلاف مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال کی گئی تھی، جس کی وجہ سے دکانیں اور کاروباری مراکز مکمل طور پر بند رہے کُل جماعتی حریت کانفرنس کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں ہڑتال کا اعلان کیا گیا تھا۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں آئے روز شہریوں کو نام نہاد سرچ آپریشن کی آڑ میں نشانہ بنایا جاتا ہے۔

    یوم شہدا جموں،وزیراعظم آزاد کشمیر،مشعال ملک کا اہم پیغام

    گزتہ روز پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کشمیر سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت کی عالمی ساکھ متاثر ہوئی ہے، جمہوریت اور انسانیت کے علمبردار بھارتی شہری بھی مودی کی پالیسیوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق سے متعلق رپورٹس بھارت کے بھیانک چہرے کو بے نقاب کررہی ہیں تاہم مودی حکومت کی پالیسی میں کوئی بدلاؤ نہیں آیا ہماری پالیسی دو ٹوک اور واضح ہے کہ بھارت سے مذاکرات تبھی ہوں گے جب کم از کم 5 اگست کے اقدام کو واپس لے کر بھارت نتیجہ خیز مذاکرات کی لئے تیار ہوگا۔

    آسٹریلوی پارلیمنٹیرینز کی اسلام آباد میں حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ سے ملاقات

    انہوں نے واضح کیا تھا کہ کوئی بیک ڈور مذاکرات نہیں ہورہے نہ ہی حکومت بھارت سے متعلق نرم رویہ رکھتی ہے، بھارت کے ساتھ نرم رویہ رکھنا کشمیریوں سے غداری کے مترادف ہے سیز فائر معائدے کے حوالے سے انہوں نے بتایا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایل او سی پر سیز فائز کا معائدہ 2003 میں ہوا تھا جس کے مثبت اثرات دیکھنے کو ملے تھے سیز فائر کا سب سے زیادہ فائدہ کشمیری عوام کو ہے، کیونکہ بھارت کی جانب سے اندھا دھند فائرنگ سے معصوم کشمیری شہید ہورہے ہیں۔

    مقبوضہ کشمیر:قابض بھارتی فوج کی ریاستی دہشتگردی جاری،مزید 4 کشمیری شہید ،پاکستان کی شدید مذمت

    انہوں نے بتایا تھا کہ اس معاہدے کے باوجود بھارت کی جانب سے سیز فائر کی 13600 خلاف ورزیاں ہوچکی ہیں، صرف گزشتہ سال میں 397 مرتبہ سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت نے 28 کشمیریوں کو شہید کیا اور 255 کو زخمی کیا ہم ایل او سی کے قریب رہنے والے کشمیریوں کیلئے بنکرز بنانے کا سوچ رہے ہیں تاکہ ایسی صورتحال کے دوران وہ خود کو محفوظ کرسکیں۔

    13 سالہ کشمیری بچی کی دل دہلا دینے والی ویڈٰیو سوشل میڈیا پر وائرل

  • یہ بات طئے ہے کہ اگرای وی ایم پر الیکشن نہ ہوئے حکومت الیکشن کمیشن کو فنڈز نہیں دے گی: فواد چودھری

    یہ بات طئے ہے کہ اگرای وی ایم پر الیکشن نہ ہوئے حکومت الیکشن کمیشن کو فنڈز نہیں دے گی: فواد چودھری

    اسلام آباد:یہ بات طئے ہے کہ اگرای وی ایم پر الیکشن نہ ہوئے حکومت الیکشن کمیشن کو فنڈز نہیں دے گی:،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا ہے کہ اگر الیکشن الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر نہیں ہوئے تو وفاقی حکومت الیکشن کمیشن کو فنڈز نہیں دے گی۔

    ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا کہ قانون میں تبدیلی کے بعد ہم سمجھتے ہیں کہ الیکشن کمیشن کے لیے اگلے تمام ضمنی الیکشن الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر کرانا لازمی ہیں اور اگر الیکشن الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر نہیں ہوتے تو حکومت الیکشن کمیشن کو فنڈ نہیں کر سکے گی کیونکہ قانون صرف ای وی ایم پر انتخابات کو مانتا ہے۔

    اس حوالےسے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیر قانون کا بھی یہی ماننا ہے کہ بادی النظر میں حکومت الیکشن کمیشن کو انتخابات کے لیے تب ہی فنڈ دے سکے گی جب وہ الیکشن ای وی ایم پر ہوں گے لہٰذا ہم نے ایک کمیٹی بنائی ہے اور اب سے حکومت انہی انتخابات کو فنڈ کر سکے گی جو الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے منعقد ہوں گے۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے فواد چودھری نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے لاہور میں ووٹ خریدنے کی ویڈیو پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ سینیٹ کے انتخابات میں جس طرح سے ووٹ کی خریداریاں ہوئیں، اگر اس وقت اس پر تیزی سے عمل کیا جاتا تو آج ان انتخابات میں یہ صورتحال نظر نہ آتی۔

    وزیر اطلاعات نے کہا کہ کسی بھی جمہوری ملک میں جہاں انتخابات حکومت سازی کی بنیاد ہوتے ہیں، وہاں انتہائی اہم ہے کہ الیکشن کا سسٹم شفاف ہو اور اس پر تمام لوگوں کو اعتماد ہو لہٰذا الیکشن کمیشن کا مضبوط اور مؤثر ہونا بہت ضروری ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ الیکشن کمیشن کو سینیٹ انتخابات کے ساتھ ساتھ لاہور میں ووٹ چوری کے معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانا چاہیے۔

     

  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار،خوشخبری 15 دسمبرکوسنائی جائے گی

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار،خوشخبری 15 دسمبرکوسنائی جائے گی

    لاہور:پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار،خوشخبری 15 دسمبرکوسنائی جائے گی ،اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وفاقی حکومت نے عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کے باوجود ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    وزارت خزانہ کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق 15 دسمبر تک کیلئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق پٹرول کی قیمت 145 روپے 82 پیسے فی لٹر پر برقرار رہے گی۔ ڈیزل کی قیمت 142 روپے62 پیسے فی لیٹر برقرار رہے گی۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت116 روپے 53 پیسے فی لٹر برقرار رہے گی۔ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت 114 روپے 7 پیسے فی لٹر کی سطح پر برقرار رہے گی۔

     

     

     

    اس سے قبل اوگرا نے دسمبر کے لیے ایل پی جی کی قیمت میں کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ جس کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں 14 روپے 31 پیسے فی کلو گرام کمی کی گئی ہے، 11.8 کلو کا گھریلو سلنڈر 168 روپے 90 پیسے سستا ہوگیا ہے۔ ایل پی جی کی نئی قیمتوں کا اطلاق یکم دسمبر 2021ء کیلئے ہے۔

     

     

    ایل پی جی کی ایک کلوگرام کی نئی قیمت 216 روپے 89 پیسے مقرر کر دی گئی ہے، گھریلو سلنڈر کی نئی قیمت 2390 روپے 44 پیسے مقرر کی گئی ہے۔یاد رہے کہ نومبر میں ایل پی جی کا گھریلو سلنڈر 2559 روپے 35 پیسے کا تھا۔

    واضح رہے کہ چند روز قبل ترجمان وزارت خزانہ مزمل اسلم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر دنیا نیوز کے پروگرام ’دنیا کامران خان کے ساتھ‘ کا ایک ویڈیو کلپ ری ٹویٹ کیا تھا۔

    ٹویٹر پر شیئر کیے گئے کلپ کے کیپشن میں مزمل اسلم نے لکھا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت کم ہو کر 72.91ڈالرفی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔

    مزمل اسلم نے لکھا کہ اللہ پاکستان پر مہربان ہے، عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کا اثر 15 دسمبر کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کےتعین میں نظر آئےگا۔ یقینی طور تیل کی قیمتوں میں کمی درآمدات اور آئندہ قیمتوں پر اثر انداز ہو گی۔

     

  • تبدیلی کا اصل چہرہ تاریخی مہنگائی اور بےروزگاری ہے : بلاول بھٹو زرداری

    تبدیلی کا اصل چہرہ تاریخی مہنگائی اور بےروزگاری ہے : بلاول بھٹو زرداری

    کراچی : پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ تبدیلی کا اصل چہرہ تاریخی مہنگائی اوربےروزگاری ہے۔

    بلاول بھٹو نے پشاور میں پیپلزپارٹی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سلیکٹڈ نے پیپلزپارٹی کوپشاور میں جلسےکی اجازت نہیں دی، کاغذی وزیراعلیٰ نے جلسہ رکوانے کی کوشش کی، عمران خان اتنا ظلم کریں جتنا برداشت کر سکتے ہیں، آج لوگوں کاجم غفیردیکھ لیں،لوگ پیپلزپارٹی کیساتھ ہیں، پی ڈی ایم کا پشاورجلسہ بھی ناکام رہا۔
    بلاول بھٹو نے کہا کہ موجودہ حکومت امیروں کوریلیف غریبوں کوتکلیف دیتی ہے، پی ٹی آئی ایم ایف ڈیل کابوجھ عام آدمی پرڈالاگیا، جس کی ہم پچھلے3سال سے مخالفت کررہےہیں، یہ ڈیل غیر قانونی ہے، سلیکٹڈ کی ناکام معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ہر طبقہ پریشان ہے، موجودہ حکومت ہرشعبےمیں ناکام رہی ہے، یہ حکومت آئی ایم ایف کی غلامی میں مصروف ہے، نئے پاکستان میں جمہوری ،انسانی اور معاشی حقوق پر ڈا کہ ڈالا جارہا ہے، ہرپاکستانی کومعلوم ہےکہ تبدیلی کا اصل چہرہ تاریخی مہنگائی اوربےروزگاری ہے۔
    چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ اوورسیزپاکستانیوں کےنام پرگیم کھیلا جارہا ہے، ہم صاف اورشفاف الیکشن چاہتےہیں، ای وی ایم آر ٹی ایس ٹو ہے، اوورسیزپاکستانیوں کیلئےالگ الیکٹورل کالج ہوناچاہیے، ہم نےکہاکہ اوورسیزپاکستانیوں کاپارلیمنٹ میں اپنانمائندہ ہوناچاہیے، یہ کیسےہوسکتاہےکہ پیرس میں ووٹ ڈالاجائےاورنتیجہ پشاورمیں نکلے۔

    بلاول کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت دہشتگردوں کےسامنےجھک چکی ہے، یہ لوگ کون ہوتےہیں قاتلوں سےمذاکرات کرنےوالے؟ جو سنگین جرائم میں ملوث ہیں ان کوسزاملنی چاہیے، جنہوں نےاےپی ایس کےبچوں کوشہیدکیاان کیساتھ حکومت مذاکرات کررہی ہے۔

    بلاول بھٹوزرداری نے مزید کہا کہ سازش کرنےوالوں کوسازش کرنےدیں،ٹیپ نکالنےوالےٹیپ نکالتےرہیں، ہم عوامی طاقت سےحکومت بنائیں گے، ہمیں اس پرخوشی نہیں ہورہی کہ آج ان کےخلاف ٹیپس نکل رہی ہیں، اب رات کے اندھیروں میں سعودی عرب سے طیارے نہیں آئینگے، خان صاحب تم سے پہلے جو حکومت تھی وہ بھی امپائر کی انگلی پر ڈانس کرتے تھے، جو بھٹو کی بیٹی کو چور کہتے تھے وہ خود سرٹیفائیڈ ہوچکے، ماضی میں عدالت پردباؤ ڈالتےرہےکہ زرداری کو20سال قیدکی سزاسناؤ۔

  • کورونا کی نئی لہر کا خدشہ، سندھ حکومت نے نئی پابندیاں عائد کردیں

    کورونا کی نئی لہر کا خدشہ، سندھ حکومت نے نئی پابندیاں عائد کردیں

    کراچی : سندھ حکومت نے کورونا وائرس کی نئی لہر ’’ایمی کرون‘‘ کے پیش نظر صوبے بھر میں نئی پابندیاں عائد کردیں۔

    تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت نے افریقا سے پھیلنے والی سارس کووٹو کی نئی لہر ’’ایمی کرون‘‘ کے خدشے اور کورونا ویکسی نیشن مہم میں سست روی پر سی کیٹگری میں شامل اضلاع میں پابندیاں بڑھادی ہیں۔

    محکمہ داخلہ سندھ کے جاری کردی حکم نامے کے تحت سی کیٹگری میں شامل اضلاع کے ہوٹلز میں 50 فیصد نشستیں خالی رکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے اس طرح کراچی میں ان ڈور ڈائننگ کے لیے 30 فیصد نشستیں خالی رکھنے کی پابندی عائد کی گئی ہے ۔ اب کراچی میں ہوٹلز 70 فیصد سے زائد نشستوں پر گاہکوں کو نہیں بٹھا سکیں گے۔
    کورونا ایس او پیز سے متعلق نئے حکم نامے کے تحت لاڑکانہ، میرپور خاص، حیدرآباد ڈویژن، خیرپور اور گھوٹکی میں 300 افراد سے زائد کے شادی بیاہ کے اجتماعات پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

    سانگھڑ اور سکھر کے اضلاع اور کراچی ڈویژن میں 500 افراد کے ان ڈور اجتماعات کی اجازت دی گئی ہے۔ سیاحت، تفریح پارکس، سوئمنگ پولز اور فلائٹ میں سفر کورونا ویکسین سے مشروط ہوگا۔

    محکمہ داخلہ سندھ نے کہا ہے کہ صوبے بھر میں سنیما ہالز میں ویکسی نیٹڈ افراد کے داخلے کی اجازت ہے، کاروباری مراکز رات 10 بجے تک کھلے رکھے جاسکتے ہیں جب کہ تمام تعلیمی ادارے بدستور کھلے رہیں گے۔ سندھ میں وبائی امراض ایکٹ کے تحت نئی پابندیاں 15 دسمبر تک نافذالعمل ہوں گی۔

    دریں اثنا کہا گیا ہے کہ کراچی ڈویژن، سانگھڑ اور سکھر اضلاع میں ویکسی نیشن مہم بہتر ہے اس لیے انہیں بی کیٹگری میں شامل کیا گیا ہے۔

    حیدرآباد ڈویژن کے تمام اضلاع میں وبائی امراض ایکٹ کےتحت پابندیوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ شہید بے نظیرآباد، نوشہرو فیروز، خیرپور، گھوٹکی اضلاع بھی سی کیٹگری میں شامل ہیں۔

    لااڑکانہ اور میرپور خاص ڈویژن میں بھی کورونا ویکسی نیشن مہم سست روی کا شکار ہے اس لیے انہیں بھی سی کیٹگری میں شامل کیا گیا ہے