Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • کینیڈین وزیر خارجہ کوشاہ محمود قریشی کا فون:ساری کہانی کھل کرسامنےآگئی

    کینیڈین وزیر خارجہ کوشاہ محمود قریشی کا فون:ساری کہانی کھل کرسامنےآگئی

    اسلام آباد: کینیڈین وزیر خارجہ کوشاہ محمود قریشی کا فون:ساری کہانی کھل کرسامنےآگئی ،اطلاعات کے مطابق کپتان کے کھلاڑی بھی سفارتکاری کے میدان میں اس وقت پیش پیش نظرآرہے ہیں ، ادھر اس حوالے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کینیڈین وزیر خارجہ مارک گارنیو سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، گفتگو کے دوران دونوں وزرائے خارجہ کے مابین دو طرفہ تعلقات اور افغانستان کی ابھرتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اسلام آباد سے وزارت خارجہ کےذرائع کے مطابق وزیر خارجہ نے افغانستان کو امدادی سامان کی ترسیل کیلئے ”انسانی راہداری“ کھولنے کی بابت کینیڈین ہم منصب کو آگاہ کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے دو طرفہ تعلقات کی نوعیت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انہیں مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا ۔

    ٹیلیفوک رابطے کے دوران وزیر خارجہ نے کہا کہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کینیڈین وزیر خارجہ کو افغانستان کی صورتحال پر متفقہ لائحہ عمل کی تشکیل کے لیے کیے گئے حالیہ چار ملکی دورے کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا ۔

    شاہ محمود قریشی نے افغانستان میں اجتماعیت کے حامل سیاسی تصفیے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے افغانستان میں قیام امن کو خطے کے امن و استحکام اور ترقی کیلئے ناگزیر قرار دیا۔

    انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ افغانستان کی معاشی و انسانی معاونت کیلئے آگے بڑھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان، افغانستان میں انسانی المیے کے پیش نظر، افغانوں کو ہوائی اور زمینی راستوں سے امدادی سامان کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہے۔

    شاہ محمود نے کہا کہ عالمی برادری کو ان ممالک کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے جو عرصہ دراز سے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کرتے آ رہے ہیں۔

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم کورونا وبائی صورتحال میں بہتری کی صورت میں پاکستان اور کینیڈا کے درمیان اگلے سیاسی مشاورتی اجلاس کے بالمشافہ انعقاد کے متمنی ہیں۔ وزیر خارجہ نے کینیڈین وزیر خارجہ کے ساتھ، ہملٹن کینیڈا میں، پاکستانی کینیڈین شہری کی ہلاکت اور اس کے 63 سالہ والد فقیر علی کے اغواکا معاملہ اٹھایا۔

    کینیڈین وزیر خارجہ نے وزیر خارجہ نے مخدوم شاہ محمود قریشی کو یقین دلایا کہ متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی کیلئے، کینیڈین حکومت معاملے کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے ۔

    وزیر خارجہ نے کینیڈین ہم منصب سے مطالبہ کیا کہ وبائی صورتحال میں بہتری کو پیش نظر رکھتے ہوئے طلبا اور کاروباری حضرات کی مشکلات میں کمی لانے کیلئے ویزہ ایڈوائزری پر نظر ثانی کی جائے۔

    کینیڈین وزیر خارجہ نے افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان کی کاوشوں کو بھی سراہا اور کابل سے کینیڈین شہریوں کے انخلا میں پاکستان کی جانب سے فراہم کی گئی بھرپور معاونت پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اور پاکستانی قیادت کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

    وزیر خارجہ نے کنیندین ہم منصب کو یقین دلایا کہ پاکستان افغانستان سے انخلا کے عمل میں معاونت کا سلسلہ جاری رکھنے کیلئے پر عزم ہے ۔

  • کنٹونمنٹ سے پی ٹی آئی نے جنم لیا آج اپنی اسی جنم بھومی میں انکی سیاسی موت ہوئی،شہباز شریف

    کنٹونمنٹ سے پی ٹی آئی نے جنم لیا آج اپنی اسی جنم بھومی میں انکی سیاسی موت ہوئی،شہباز شریف

    کنٹونمنٹ وہ علاقہ ہیں جہاں پی ٹی آئی نے جنم لیا آج اپنی اسی جنم بھومی میں سیاسی موت ہوئی،شہباز شریف

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ ن لیگ ملک کے تمام مسائل حل کرے گی،

    سیالکوٹ ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ن لیگ کے ارکان اوررہنما نواز شریف کے شاہین ہیں کنٹونمنٹ بورڈ الیکشن میں کامیابی کوئی معمولی معرکہ نہیں، کنٹونمنٹ بورڈزوہ علاقے ہیں جہاں پی ٹی آئی نے جنم لیا تھا،اسی جنم بھومی میں پی ٹی آئی کی سیاسی موت ہوگئی،پی ٹی آئی والے ن لیگ کے منصوبوں کی تختیاں نکال کراپنی لگا دیتے ہیں،چینی 110 روپےکلوتک پہنچ چکی ہے،3سال میں اربوں روپے کی چینی درآمد کی گئی ہے عوام کی اکثریت نے ن لیگ کوووٹ دیا،اس ڈاکہ زنی میں ملکی زرمبادلہ ضائع کیا گیا،مہنگائی نے کمر توڑ دی ،عوام کا حکومت سے دل بھرگیا،جادو ٹونا کی بات کروں تو اعتراض کیا جاتا ہے،مہنگائی سے لوگ تنگ ہیں،عوام پھر کیوں نہ نواز شریف کی حکومت کو یاد کریں پی ٹی آئی کےہاتھوں ملکی معیشت کی بربادی ہورہی ہے،

    @MumtaazAwan

    شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ خواجہ آصف کو جیل میں سردی میں زمین پر سلایا گیا،ن لیگ کےدورمیں نوجوانوں کولیپ ٹاپ دیئے جاتے تھے،آج کورونا کےدوران اسی لیپ ٹاپ سےبچے تعلیم حاصل کررہے ہیں،ایک کروڑ نوکریاں دینے کا کہا گیا،آج 50 ہزارافراد بے روزگارہوگئے،ایک وقت کی روٹی پوری نہیں ہو رہی،ان کی کرپشن اورمہنگائی کےخلاف جنگ کرنا ہو گی ،عمران خان بلے باز ہیں تو میدان میں کھلاڑیوں کو تربیت دیں،عمران خان کہتے ہیں میں دیانت دار وزیراعظم ہوں ،عمران خان جائیں لوگوں سے پوچھ لیں ،لوگ کیا رائے رکھتے ہیں اگلا الیکشن مسلم لیگ (ن) کاہوگا

    قبل ازیں شہباز شریف سیالکوٹ پہنچے تو انکا بھر پور استقبال کیا گیا، صدر شہبازشریف کے ہمراہ سیکرٹری جنرل احسن اقبال، صدر پنجاب رانا ثناءاللّٰہ خاں، رانا تنویر، خواجہ سعد رفیق، ملک احمد خان، عطاءاللّٰہ تارڑ ودیگرز قائدین بھی تھے

    شہباز شریف عدالت پہنچ گئے،نیب کی شہباز شریف کی ضمانت کی درخواست مسترد کرنے کی استدعا

    کن گراونڈز پر گرفتاری درکار ہے بتایا جائے؟ شہباز شریف کے وکیل کی عدالت سے استدعا

    عدالت میں شہباز شریف کے وارنٹ گرفتاری پیش،شہباز شریف کے وکیل نے کی سیاسی گفتگو

    شہباز شریف کی ممکنہ گرفتاری، سی سی پی او لاہور ہائیکورٹ پہنچ گئے، اہم حکم دے دیا

    شہبازشریف خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ ریفرنس،تحریری حکم نامہ جاری

    اگلا سال الیکشن کا ہے،مریم نواز نے عدالت سے کس کو دیا پیغام؟

    منی لانڈرنگ کیس،شہباز شریف پر فرد جرم کب عائد ہو گی؟ عدالت نے طلب کر لیا

    جج صاحب، جیل میں کون میرے پاس آیا اور میری ڈیمانڈ کیا تھی؟ شہباز شریف عدالت میں روپڑے

  • طالبان عبوری حکومت نے نیا آئینی ڈھانچہ جاری کر دیا

    طالبان عبوری حکومت نے نیا آئینی ڈھانچہ جاری کر دیا

    طالبان عبوری حکومت نے نیا آئینی ڈھانچہ جاری کر دیا

    افغانستان میں طالبان عبوری حکومت نے نیا آئینی ڈھانچہ جاری کردیا

    افغانستان میں اساسی و قانونی ڈھانچہ 40 نکات پر مشتمل ہے افغانستان کی عوام کو بنیادی انسانی حقوق اور انصاف یکساں طور پر حاصل ہوگا افغانستان کی سرکاری زبان دری ،پشتو اور مذہب اسلا م ہے افغانستان آزاد اور خودمختار اسلامی امارات ہے دیگر مذاہب اور اقلیتیں شریعت کے احکامات کے تحت آزاد ہیں افغانستا ن کے تمام ہمسایہ ممالک کےساتھ حل طلب مسائل حل کیے جائیں گے

    دوسری جانب امارت اسلامیہ کی نگران حکومت کے نائب وزیر اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نے ایک نجی ٹیلی ویژن چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ دنیا نے امارت اسلامیہ کی حکومت کو تسلیم کیا ہے اور یہ افغان عوام کا حق ہے۔امریکہ اور دیگر بین الاقوامی خدشات اور افغانستان کے بارے میں شبہات بے بنیاد ہیں۔ہم نے شروع سے بیان دیا ہے اور وعدہ کیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔القاعدہ اور دیگر دہشت گرد افغانستان میں نہیں ہیں ، اگر پہاڑوں میں کوئی گروہ تھا تو ہم ان کے خلاف کارروائی کریں گے ،افغان عوام جنگ سے نکل آئے ہیں اور افغان عوام کی مدد کرنے کی ضرورت ہے۔

    قبل ازیں اطلاعات اور ثقافت کے قائم مقام وزیر خیر اللہ خیرخواہ نے کہا کہ ہمیں (وزارت اطلاعات و ثقافت ، طالبان اور میڈیا) کو مل کر قوم کو دکھانا چاہیے کہ عوام اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔ ان میڈیا کا مواد عوامی ذہنیت کے "بگاڑ” اور غیر اسلامی اور غیر افغانی ثقافت کے فروغ کا سبب نہیں بننا چاہیے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ مواد اسلامی فقہ ، افغانی آداب اور افغانی روایات کے اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ میڈیا کو نوجوانوں کی ذہنیت کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔

    @MumtaazAwan

    کابل میں طالبان کی حکومت کے دوران ، انہوں نے میڈیا کے بیشتر پروگراموں کو تبدیل یا معطل کردیا۔ طنز اور موسیقی کے پروگرام میڈیا میں رک گئے ہیں اور خواتین کی موجودگی بھی کم ہو گئی ہے۔ خیر اللہ خیرخواہ نے یہ بھی کہا کہ ذرائع ابلاغ کے مواد کو غیر اسلامی اور غیر افغانی ثقافت کو فروغ دینے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

    طالبان اب واقعی بدل گئے، کابل کے شہریوں کی رائے

    افغانستان میں کیسی حکومت ہونی چاہئے؟ شاہ محمود قریشی کی تجویز سامنے آ گئی

    کابل ایئر پورٹ پر ہنگامی صورتحال، طالبان کے کنٹرول کے بعد پہلا نماز جمعہ

    افغانستان سے غیر ملکی صحافیوں کا انخلا ،وزیراعظم کی زیر صدارت خصوصی اجلاس

    افغان طالبان نے حکومت سازی کے حوالہ سے اہم اعلان کر دیا

    مودی افغان طالبان کے سامنے "جھکنے” کو تیار

    اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ اسامہ بن لادن نائن الیون کے حملوں میں ملوث تھا ،ذبیح اللہ مجاہد

    سابق صدر حامد کرزئی، عبد اللہ عبداللہ کو طالبان نے نظر بند کردیا

    جنہوں نے حملہ کیا وہ اس کی قیمت چکائیں گے، جوبائیڈن کا کابل دھماکوں پر ردعمل

    امریکی فضائیہ کے طیاروں کی پاکستانی فضائی حدود میں پرواز

    کابل ایئر پورٹ، مزید دھماکوں کا خدشہ برقرار،دو ممالک کا انخلا ختم کرنیکا اعلان

    امریکا کا افغانستان کے شہرجلال آباد پر فضائی حملہ

    کابل ائیرپورٹ پر راکٹ حملوں کو دفاعی نظام کے زریعے روک لیا ،امریکی عہدیدار

    کابل ائیرپورٹ پر ڈورن حملے سے متاثرہ خاندان کی تفصیلا ت سامنے آ گئیں

    افغانستان کی صورتحال، چین نے کیا بڑا اعلان

    ذبیح اللہ مجاہد کا کابل ایئر پورٹ کا دورہ، کیا اہم اعلان

    طالبان کے کابل پر کنٹرول کے بعد کشمیری مجاہدین کے حوصلے بلند،مودی سرکار نے سر پکڑ لیا

    واقعی طالبان کشمیر پہنچ گئے؟ بھارتی فوج کی دوڑیں لگ گئیں

    افغان طالبان کا خوف یا کچھ اور، مودی سرکار کی نئی چال سامنے آ گئی

    طالبان کا خوف،مودی نے سعودی عرب سے مدد مانگ لی؟ سعودی شخصیت کا دورہ بھارت متوقع

  • اقوام متحدہ کے امن دستوں کی فوجی مشقیں،پاکستانی دستوں کی مہارت کو سراہا گیا

    اقوام متحدہ کے امن دستوں کی فوجی مشقیں،پاکستانی دستوں کی مہارت کو سراہا گیا

    اقوام متحدہ کے امن دستوں کی فوجی مشقیں مشترکہ مقصد کا انعقاد کیا گیا

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق امن مشق چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے کیویشن ٹریننگ بیس پر منعقد ہوئی، پاکستان ،چین ،منگولیا اور تھائی لینڈ کے فوجی دستوں نے مشقوں میں حصہ لیا امن مشن کے کردار اورمقاصد کے تحت مشقیں کی گئیں، ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستانی دستوں کی مہارت کو شرکا نے بھر پور اندازمیں سراہا،

    دوسری جانب پاکستان نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے امن دستوں میں شامل پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں نے کشیدگی کے شکار ممالک لائبیریا، برونڈی، سیرالیون اور تیمور لیستے میں امن کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پائیدار امن کے قیام کی حمایت سے متعلق بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ میں خدمات سرانجام دینے والے ہمارے فوجی دستوں نے کشیدگی کا شکار ممالک میں مقامی پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تربیت سمیت پرامن انتخابات کے انعقاد باغیوں کو غیر مسلح کرنے بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنانے کے آپریشن اور شہریوں کے تحفظ میں بھی میزبان حکام کی مدد کی ہے

    پاکستان نے 30ستمبر1947ء کو اقوامِ متحدہ کے امن مشن میں شمولیت اختیار کی ،یہ ایک نامور دور کا آغاز تھا جس کی تاریخ بے مثال ہے ،پاکستان نے 28 ممالک میں 2 لاکھ سے زائد افواج کے ہمراہ 46 مشترکہ مِشنز میں حصہ لیا ،یو این امن مِشنز میں 161جوانوں بشمول 24 افسران نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ برس نائیک محمد نعیم رضا شہید کو اَقوامِ مُتحد ہ کا خصوصی میڈل عطاکیا گیا ،پاکستان اقوامِ متحدہ کے حوالے سے بہترین خدمات سر انجام دے رہا ہے،اقوام متحدہ کی قیادت نے پاکستان کی پر امن فوج کی کارکردگی کو تسلیم کیا ہے
    @MumtaazAwan

    بھارتی آئیڈیالوجی نفرت پر مبنی،اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل کے سامنے وزیراعظم نے کیا مودی کو بے نقاب

    ترک صدر نے کیا کشمیر ، ایف اے ٹی ایف بارے اہم اعلان، کہا وفا کے پیکر پاکستانیوں کو کبھی نہیں بھول سکتے

    اقوام متحدہ مداخلت کرے، تقریر سے کچھ نہ ہوا تو دنیا کو پتہ چل جائے گا کشمیر میں کیا ہو رہا ہے، وزیراعظم

    وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری پاکستان کے لئے یہ کام کرے، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے کی اپیل

    اقوام متحدہ امن مشن میں کتنی پاکستانی خواتین اہلکار ہیں؟ ڈی جی ملٹری آپریشنز نے بتا دیا

    افغانستان میں جنگ بہت ہو چکی، اب امریکا کی کیا خواہش ہے؟ زلمے خلیل زاد بول پڑے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستانی خواتین بھی اقوامِ متحدہ امن مشن کانگو میں امن کے لیے سر گرم عمل ہیں،امریکی نائب معاون وزیر خارجہ بھی پاکستانی خواتین سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے،ایلس ویلز نے پاکستانی خواتین کے امن کردار کو سراہا،اقوامِ متحدہ چھتری تلے تاحال83پاکستانی خواتین امن مشن کا حصہ ہیں،پاکستان 19جون2019میں کانگو میں خواتین دستے تعینات کرنے والا پہلا ملک ہے

  • امریکاکےپاس کوئی مربوط پالیسی نہیں:طالبان حکومت کوتسلیم نہ کیاتومسائل بڑھیں گے:وزیراعظم

    امریکاکےپاس کوئی مربوط پالیسی نہیں:طالبان حکومت کوتسلیم نہ کیاتومسائل بڑھیں گے:وزیراعظم

    اسلام آباد:امریکاکےپاس کوئی مربوط پالیسی نہیں:طالبان حکومت کو تسلیم نہ کیا تومسائل بڑھیں گے: اطلاعات کےمطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ دنیا کے پاس کوئی راستہ نہیں۔ امریکا کی طرف سے طالبان حکومت کو تسلیم نہ کرنے سے مسائل بڑھیں گے۔ افغان طالبان کے ساتھ بات کرنی چاہیے۔

    روسی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پورے خطے کیلئے اس وقت افغانستان سب سے اہم موضوع ہے، افغانستان اس وقت تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ پاکستان افغانستان میں امن کا خواہشمند ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے خلاف ایک پروپیگنڈا مہم شروع کی گئی ہے۔ 22 کروڑ عوام کیلئے پاکستان کا ٹوٹل بجٹ 50ارب ڈالر ہے۔ یہ کیسے ہوا کہ 3 لاکھ افغان فوج لڑی ہی نہیں، کیا پاکستان نے انہیں لڑنے سے منع کیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے نقطہ نظر سے افغان سرزمین سے دہشتگردی کا بھی خطرہ ہے۔ انخلاء سے دو ہفتے قبل افغان آرمی ہتھیار ڈال دیتی ہے، ایس سی او سربراہی اجلاس میں افغانستان کے تمام ہمسایہ ملک شریک ہیں، پورے خطے کے لیے اس وقت افغانستان سب سے اہم ہے، وہ تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے، 40 سال کی جنگی صورتحال کے بعد استحکام کی طرف بڑھے گا

    عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام کی واحد صورت مشترکہ حکومت ہے، بیرونی طاقتوں کے خلاف جنگ کو افغان عوام جہاد سمجھتے ہیں، طالبان نے 20 سال میں بہت کچھ سیکھا، امریکا کی طرف سے طالبان حکومت کو تسلیم نہ سے مسائل بڑھیں گے۔ ہمارے وزیر خارجہ کی امریکی وزیر خارجہ سےبات ہوئی ہے۔ تمام ہمسایوں ملک کے ساتھ ملکر کام کر رہے ہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ امریکا کی طرف سے طالبان حکومت کو تسلیم کیے جانے سے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا، اس وقت امریکا کی افغانستان کے معاملے پر ایک مربوط پالیسی ہے یا نہیں، اس پر کچھ نہیں کہہ سکتا۔ افغانستان غلط سمت چلا گیا تو مہاجرین کا مسئلہ بڑھے گا۔

    انہوں نے کہا کہ سابق افغان حکومت کو افغانیوں کی اکثریت کٹھ پتلی سمجھتی ہے، سابق افغان حکومت کی افغانیوں کی نظر میں کوئی وقعت نہیں تھی۔

    امریکی وزیر خارجہ کی سینیٹ کو حالیہ دی گئی بریفنگ کے سوال پر جواب میں انہوں نے کہا کہ کچھ ریمارکس پر بہت زیادہ افسوس ہے، پاکستان کو افغانستان میں ناکامی کا ذمہ ٹھہرائے جانے کا سننا ہمارے لیے بہت تکلیف دہ ہے، پاکستان وہ ملک ہے جس نے امریکا کی افغانستان میں جنگ کے لیے سب سے زیادہ قربانیاں دی، ہمارا ملک کیسے اس جنگ میں مدد فراہم کرسکتا تھا، امریکا نے جنگ میں دو ہزار ارب ڈالر خرچ کیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو افغانستان میں امریکی چڑھائی کا حصہ بننے کے لیے کہا گیا جبکہ پاکستان کا نائن الیون کےساتھ کوئی لینا دینا نہیں تھا، ہم نے 150 ارب ڈالر گنوائے اور 70 ہزار سے ز ائد لوگ جاں بحق ہوئے۔ کچھ لوگوں نے پاکستان کیخلاف ہتھیار اٹھا لیے اور فوج اور عوام پر خود کش حملے کیے، 50 مختلف مسلح گروہوں نے بٹ کر پاکستانی ریاست پر حملے کرنا شروع کر دیئے، اس وقت اسلام آباد قلعے کی حیثیت اختیار کر چکا تھا۔

    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ افغانستان میں طالبان ایک حقیقت ہیں، دنیا کے پاس اب اور کوئی راستہ نہیں، افغان طالبان نے کنٹرول سنبھال لیا ہے، افغان طالبان کے ساتھ بات کرنی چاہیے کیونکہ اب اگر پابندیاں لگائی گئیں تو وہاں پر بہت سارے مسائل ہوں گے، افغانستان کا 75 فیصد انحصار غیر ملکی امداد پر ہوتا تھا۔

    بھارت سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں اچھے دوست ہیں، کرکٹ وہاں سبھی کو بہت پسند ہے، میں نے نیک نیتی کے ساتھ پوری کوشش کی ہمارے تعلقات بھارت سے اچھے ہو جائیں، مگر بدقسمتی سے بھارت میں اس وقت ایک دہشتگرد نظریے کی حکومت ہے۔ جو پاکستان مخالف نظریہ رکھتے ہیں اور جارحانہ رویے کے حامل ہیں۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ میرے لیے یہ مشکل ہو رہا ہے کہ کیسے بھارت کے ساتھ تعلقات بڑھاؤں، پھر انہوں نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی ریاستی حیثیت ختم کر دی، کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک متنازع علاقہ ہے، جس کے بعد بھارت کے ساتھ تمام رابطے منقطع ہو گئے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دنیا کو طالبان کی جانب سے انسانی حقوق کی بہت فکر ہے مگر کشمیریوں پر نظر کیوں نہیں رکھتا جہاں پر 8 لاکھ فوج کشمیریوں پر ظلم ڈھا رہی ہے، کشمیریوں کے ہر حق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، خواتین کے حقوق کی بات نہیں ہو رہی اور ان کی پامالی ہو رہی ہے، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی دستاویزات بھی موجود ہیں۔

  • وزیراعظم عمران خان اورتاجک صدرکے درمیان اہم گفتگوپھراعلامیہ بھی جاری  کردیا گیا

    وزیراعظم عمران خان اورتاجک صدرکے درمیان اہم گفتگوپھراعلامیہ بھی جاری کردیا گیا

    دوشنبے:وزیراعظم عمران خان اورتاجک صدرکے درمیان اہم گفتگوپھراعلامیہ بھی جاری کردیا گیا ،اطلاعات کے مطابق آج تاجک صدر سےبات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہےکہ تین دہشتگرد گروپ اب بھی افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کررہے ہیں۔

    تاجک صدر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ایس سی او کے انعقاد پر تاجک صدر کو مبارک باد دیتا ہوں، دونوں ملکوں کے درمیان اہم گفتگو اور افغان صورتحال سے متعلق بات ہوئی، تاجکستان کے ساتھ تجارت، سیاحت، اطلاعات اور ادویہ سازی سمیت مختلف شعبوں پر بھی بات ہوئی۔

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں پنجشیر کی صورتحال پر فکر ہے، پاکستان اور تاجکستان پنجشیر معاملہ مذاکرات سے حل کرنا چاہتے ہیں، پنجشیر میں تاجک اور طالبان کے درمیان معاملے کے پر امن حل کے لیے ثالثی پر بات ہوئی ہے، صدر امام علی رحمان تاجک گروپوں پر جب کہ پاکستان پشتون گروپوں پر اثرورسوخ استعمال کرے گا۔

    انہوں نے مزید کہاکہ افغانستان میں امن نا صرف پاکستان اور تاجکستان بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہے، 3 دہشتگرد گروپ اب بھی افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کررہے ہیں۔

    دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کے دورہ تاجکستان کے حوالے سے مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک نے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

    مشترکہ اعلامیے کے مطابق پاکستان تاجکستان نے توانائی کے منصوبوں کو مشترکہ مفاد اور تعاون کے تحت بنانے کا فیصلہ کیا ہے، دونوں ممالک نے ہائیڈرو پروجیکٹس اور ٹرانسمیشن لائنز مشترکہ سرمایہ کاری سے بنانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

    پاکستان اور تاجکستان نے صحت، فارماسیوٹیکل، میڈیکل، قدرتی آفات اور ایمرجنسی سیکٹرز میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا، پاکستان اور تاجکستان نے مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبے شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹیجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔

  • اللہ کے فضل وکرم سے مشکلات کے باوجود ملک میں امن اور ترقی کی بنیاد رکھ دی: آرمی چیف

    اللہ کے فضل وکرم سے مشکلات کے باوجود ملک میں امن اور ترقی کی بنیاد رکھ دی: آرمی چیف

    لاہور:اللہ کے فضل وکرم سے مشکلات کے باوجود ملک میں امن اور ترقی کی بنیاد رکھ دی:اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے سربراہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ تمام مشکلات کے باوجود ملک میں امن اور ترقی کی بنیاد رکھ دی ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کا دورہ کیا۔ آرمی چیف نے یونیورسٹی کے کانووکیشن میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے نوجوانوں کی بہترین تربیت پر یونیورسٹی کی انتظامیہ کی تعریف کی، جنرل قمر جاوید باجوہ نے نوجوانوں کو قائد کی سوچ کے مطابق سخت محنت کے ذریعہ اعلی ترین مقام حاصل کرنے پر زور دیا۔

     

     

     

    پاک فو ج کے سربراہ آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی پاکستان کے تعلیمی اداروں کے تاج میں لگا ایک موتی ہے۔ یونیورسٹی نے دنیا میں قابل ترین افراد پیدا کیے ، ان افراد نے اپنے اپنے شعبہ میں بہت نام کمایا

    ان کا کہنا تھا کہ میں پاکستان کے روشن مستقبل کے حوالے سے بہت پرامید ہوں، ہم ایک محتنی قوم ہیں، نوجوان ہمارا حقیقی اثاثہ ہیں، تمام مشکلات کے باجود عظیم قربانیوں دے کر ہم نے ملک میں امن اور ترقی کی بنیاد رکھ دی ہے ، اب نوجوانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کو نئی بلندیوں پر لیجانے میں اپنا اہم کردار ادا کریں۔

  • پاکستان برطانیہ کی ریڈ لسٹ سے باہر:اوربھی خوشخبری سنادی گئی

    پاکستان برطانیہ کی ریڈ لسٹ سے باہر:اوربھی خوشخبری سنادی گئی

    اسلام اباد:پاکستان برطانیہ کی ریڈ لسٹ سے باہر:اوربھی خوشخبری سنادی گئی،اطلاعات کے مطابق برطانوی حکومت نے بالآخرپاکستان کوریڈلسٹ سے باہرنکال دیا ہے اورساتھ اوربھی خوشخبری سنادی گئی ہے

    برطانوی حکومت نے یہ اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانیہ نے بڑے غوروخوض کےبعد پاکستان سمیت 8ممالک کوریڈلسٹ سےنکالنےکافیصلہ ہے

    ادھر بر طانوی حکومت نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ پاکستان سےبرطانیہ آنے والے مسافروں کیلئےپی سی آرٹیسٹ کی شرط بھی ختم کردی گئی ہے

    ادھر پاکسعتان میں برطانوی سفیر کرسچین ٹرنر نے اہل پاکستان کوخوشخبری سناتے ہوئے کہا ہے کہ 5 ماہ تک بڑی تکلیف دہ صورت حال میں رہنے کے بعد بالآخرپاکستان کو ریڈ لسٹ سے نکال دیا گیا ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپراپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستانیوں نے اس دوران بڑی تکلیف کا سامنا کیا

    برطانوی سفیر نے اپنے پیغام میں اسدعمر،ڈاکٹرفیصل سلطان اوردیگر پاکستانی اداروں کواس کی اطلاع دیتے ہوئے خوشخبری سنائی ہے

    یاد رہے کہ برطانیہ نے پاکستان کو اس سال اپریل سے سفری پابندیوں کی ریڈ لسٹ میں شامل کر رکھا ہے جبکہ نڈیا کو اس فہرست سے نکال دیا گیا تھا تاہم پاکستان کو اسی فہرست میں برقرار رکھا گیا تھا۔

    کچھ عرصہ پہلے برطانوی حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستانی حکام کورونا وائرس کے اعداد و شمار سے آگاہ نہیں کررہے ہیں لہٰذا پاکستان کو ریڈ لسٹ میں رکھا گیا ہے۔

  • نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ ہویا پھرریڈ لسٹ کا معاملہ:امریکہ افغانستان میں رسوائی کا بدلہ لے گا

    نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ ہویا پھرریڈ لسٹ کا معاملہ:امریکہ افغانستان میں رسوائی کا بدلہ لے گا

    لاہور:نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ ہویا پھرریڈ لسٹ کا معاملہ:امریکہ افغانستان میں رسوائی کا بدلہ لے گا،ہرطرف ایک ہی کہانی سنائی جارہی ہےکہ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے پاکستان کا دورہ سیکورٹی وجوہات کی بنیاد پرملتوی کردیا ہے

    اس فیصلے کے پیچھے نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی مرضی نہیں بلکہ ان قوتوں کا کھیل ہے جو اس وقت عالمی سازشوں کا حصہ ہیں اور پاکستان سے افغانستان میں ہونے والی رسوائی کا بدلہ لینا چاہتے ہیں ،

    یہ قوتیں جن کو چین مخالف قوتیں بھی کہا جاسکتا ہے اس وقت سخت ہزیمت اٹھا رہی ہیں ، اس بلاک میں امریکہ کے ساتھ یورپ بھی ہے اورکچھ چین کے فطری مخالف ملک جن میں‌بھارت ، جاپان ، آسٹریلیا ، تائیوان اورکچھ نادیدہ ہمسائیگی کی قوتیں ہیں جوچین کوچین سے نہیں دیکھنا چاہتے

    یہ بھی یاد رہے کہ یہ قوتیں چین کی فتح ، ترقی اورخوشحالی کو پاکستان کے مرہون منت سمجھتے ہیں ، ان قوتوں کا خیال ہے کہ اگرپاکستان چین کا ساتھ نہ دے تو چین کبھی اتنا طاقتورنہ بنتا

    ان قوتوں کا یہ بھی خیال ہے کہ افغانستان ہویا مشرق وسطیٰ کی لڑائی ، بوسنیا ہویا فلسطین میں اسرائیل کے خلاف مزاحمت ان سب کےپیچھے پاکستان اورنظریہ پاکستان کارفرما ہے

    اب ان قوتوں کوافغانستان میں جوشکست ہوئی اس شکست نے تو ان کی کمرتوڑ دی ،

    اب جوقوتیں کہہ رہی ہیں کہ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم سیکورٹی مسائل کی وجہ سے پاکستان نہیں آرہی توان عقل کے اندھوں کو یہ بھی پتا ہونا چاہیے کہ افغانستان سے یورپین ، آسٹریلین ، نیوزی لینڈ اوردیگرملکوں کے شہری پی آئی اے اوردیگرپروازوں کے ذریعے پاکستان میں پناہ تلاش کرتے کرتے پہنچے اورپھرانہوں نے سکھ اورسکون کا سانس لیا اورجاتے جاتے پاکستان کا شکریہ بھی ادا کیا کہ اگرآپ ہمیں پاکستان نہ لاتے توہم مرجاتے

    یہ نادیدہ قوتیں پہلے بھی پاکستان کے خلاف سازشیں کررہی تھیں اوراب بھی کررہی ہیں ، ایف اے ٹی ایف میں یہی توعوامل کارفرما ہیں

    اب ان نادیدہ قوتوں نے نیوزی لینڈ کوپاکستان جانے سے روک کرکئی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی ہے
    سب سے پہلے پاکستانی اپوزیشن کوحکومت اوراداروں کے خلاف پراپیگنڈے کا موقع دیا اوراس جلتی ہوئی آگ پرتیل ڈالا ، کیوں کہ یہ قوتیں جانتی ہیں کہ اگرعمران خان رہا تو پھراس خطے میں امریکہ اوراتحادیوں کی نہیں بلکہ چین اورپاکستان کی حکمت عملی چلے گی اس لیے یہ نادیدہ قوتیں پاکستان کی اپوزیشن کو ایسی گراونڈ فراہم کریں گے کہ جسے حکومت کی ناکامی قرار دے کرامریکہ اوراتحادیوں کے مقاصد کی تکمیل کی جائے گی

    دوسرا یہ تاثردینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ پاکستان میں سیکورٹی کے مسائل ہیں لٰہذا غیرملکی دوروں کاسلسلہ رک جائے چاہے وہ کھیل ہویا تجارت ، تاکہ پاکستان کا امیج ڈاون ہواورپاکستانی حکومت عدم استحکام کا شکار ہو

    کس امریکن نے نیوزی لینڈ حکومت اورکرکٹ بورڈ سے پاکستان نہ آنے کا حکم صادرکیا یہ تو پتا چل گیا ہے لیکن کب کیا ہوا اس کے بارے میں‌ سب باتیں بعد میں پیش کی جائیں گی

    مختصریہ کہ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کا پاکستان کا دورہ منسوخ کرنا پاکستان مخالف قوتوں کوکمک دینے کی ایک گھٹیا سازش ہے جس کی لپیٹ میں سب آجائیں گے ، کیونکہ پاکستان اب ایسی سازشوں کا مقابلہ کرنے کا عادی ہو گیا اورشیخ رشید جو کہہ رہے ہیں وہ بھی انہیں نادیدہ قوتوں کا ذکرکررہےہیں ،

  • بشریٰ بی بی پاگل خانے کیوں گئی؟ کم عقل وزیروں کا عوام سے انتقام شروع

    بشریٰ بی بی پاگل خانے کیوں گئی؟ کم عقل وزیروں کا عوام سے انتقام شروع

    بشریٰ بی بی پاگل خانے کیوں گئی؟ کم عقل وزیروں کا عوام سے انتقام شروع

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ تاریخ کی مہنگی ترین ، بجلی ، گیس ، پیٹرول ، آٹا ، چینی دینے کی حکومتی کارکردگی اپنی جگہ ۔ پر اس پر ڈھٹائی سے یہ کہنا کہ پاکستان میں تیل کی قیمتیں خطے میں اب بھی سب سے کم ہیں۔ پتہ نہیں کہاں سے یہ اعداد وشمار نکال کر لاتے ہیں ۔ ان کو شرم نہیں آتی ۔ روز ٹی وی پر آکر جھوٹ بولتے ہیں ۔ بدمعاشیاں کرتے ہیں ۔ کم از کم یہ عوام کو دلاسہ نہیں دے سکتے تو ان کے زخموں پر نمک تو نہ چھڑکیں ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ جو وزیر کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کی قوتِ خرید بھارت سے بہتر ہے۔ اور اصل حکومتی کامیابی یہ ہے کہ 75 فیصد آبادی کی آمدنی میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے ۔ ملک میں مستری اور مزدور کی دیہاڑی بھی 3 گنا بڑھ گئی ہے۔ تو کاش یہ کوئی تین مزدور ہی سامنے لے آئیں جو کھل کر حکومت کی تعریف کر دیں ۔ حالت یہ ہے کہ لوگ جھولیاں بھر بھر ان کوبدعائیں دے رہے ہیں اور یہ ہم کو کہانیاں سنا رہے ہیں۔ کسی کی گڈی چڑھی ہے تو صرف آٹا ، چینی اور دوائی مافیا کی چڑھی ہے ۔ دن بدلے ہیں تو وزیروں کے بدلے ہیں ۔ موجیں لگی ہوئیں ہیں تو عثمان بزدار کی لگی ہوئی ہیں ۔ یہ وہ ہی وزیر اعظم ہیں جو کہا کرتے تھے پروٹوکول نہیں لوں گا ۔ ابھی کل کی بات ہے کہ خاتون اول بشری بی بی پاگل خانے کے دورے پر گئیں ۔ پروٹوکول گاڑیاں آپ خود گن لیں ۔ آپکو ان سے پہلے والے حکمران مسیحا لگنے لگ جائیں گے ۔ وزیروں مشیروں کے گھر اور ان کے اللے تللے تو اس بیچاری دکھیاری قوم کے ٹیکس کے پیسوں سے پورے ہوجاتے ہیں ۔ ان کو تو کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ فرق پڑتا ہے اس بدقسمت ملک کی غریب عوام کو جن کے دکھ ، درد اور تکلیفیں سننے والا کوئی نہیں ۔ ۔ اس وقت ایک پاکستانی ایک لاکھ 60 ہزار روپے کا مقروض ہوچکا ہے۔ تو حکومت اپنے دوست سرمایہ داروں کو رعایت اور مراعات دے رہی ہے۔ جہاں حکومت لوگوں کوملازمتوں سے فارغ کرنے کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔ تو اپنے وزیروں اور مشیروں کی فوج میں روز بروز اضافہ ہی کرتی جا رہی ہے ۔ اور ہم جب یہ حقائق بتاتے ہیں آئینہ ان کو دیکھاتے ہیں تو جواب ملتا ہے کہ وزیراعظم نے ورلڈ کپ جیتا تھا ۔ وزیر اعظم نے شوکت خانم بنایا ۔ وزیر اعظم نے نمل یونیورسٹی بنائی ۔ وزیر اعظم باہر سے پڑھ کر آیا ہے ۔ پرمیں بتا دوں اس قوم کو اب مزید ماموں نہیں بنایا جاسکتا ۔ عوام اس سونامی اور تبدیلی سے بیزار ہوچکی ہے ۔ کیونکہ لوگوں کو معلوم ہوچکا ہے کہ نہ تو وزیراعظم اپنی کہی کسی بات پر قائم رہا ہے نہ ہی اس نے کوئی کارکردگی دیکھائی ہے ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ مغربی معاشروں کی جمہوریت کا راگ تو بڑا الپاتے ہیں پر پتہ ان کو ٹکے کا نہیں ہے ۔ پارلیمنٹ تو ان سے ٹھیک چل نہیں رہی ہے ۔ صرف اگر پارلیمانی سطح پر حکومتی چیلنجز کا احاطہ کیا جائے تو عمران خان اور تحریک انصاف کے لیے آنے والے سالوں میں کافی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس وقت حکومت کے سامنے ایک لمبا چوڑا اصلاحاتی ایجنڈا موجود ہے جس کو وہ آنے والے سال میں مکمل کرنا چاہتی ہے۔ ظاہر ہے اس کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہو گی۔ اور قانون سازی کے لیے دونوں ایوانوں میں اکثریت کا ہونا ضروری ہے جو کہ حکومت کے پاس موجود نہیں۔ پھر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کسی بھی لیول پر کوئی ورکنگ ریلیشن شپ قائم نہیں ہے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ ویسے تو سیاست میں سب کچھ ممکن ہوتا ہے لیکن پی ٹی آئی کے اندر یہ ایک متفقہ رائے پائی جاتی ہے کہ وزیراعظم عمران خان کسی بھی صورت میں شہباز شریف ہوں یا پھر آصف علی زرداری، ملاقات تو دور کی بات وہ ان سے کبھی رسمی طور پر ہاتھ بھی نہیں ملائیں گے۔ جیسا کہ حکومت ای ووٹنگ اور بیرون ممالک میں موجود پاکستانیوں کو ووٹ دینے کے حوالے سے قوانین اب پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے پاس کروانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ الیکشن کمیشن میں دو ممبران کی تعیناتی کا معاملہ بھی اب پارلیمان کی ایک مشترکہ کمیٹی کے سامنے آنا ہے۔ کیونکہ وزیراعظم عمران خان کے تجویز کردہ ناموں کو اپوزیشن رد کر چکی ہے۔ لہٰذا اب یہ معاملہ بھی پارلیمان کے ذریعے ہی حل ہو گا۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہملک پر ایسی ووٹنگ مشینری مسلط کی جا رہی ہے جس کی دنیا کے دیگر ممالک اور الیکشن کمیشن نے مخالفت کی ہے۔ قریب کی مثال دیے دیتا ہوں ۔ بھارت میں بھی ای وی ایم استعمال ہوچکی ہے پر وہاں اپوزیشن کے حامی جس بھی پارٹی کو ووٹ ڈالتے۔ مشین سے بی جے پی کا ووٹ ہی نکلتا اس لیے یہ مشین قابل اعتماد نہیں۔ اس کا سافٹ ویئر آسانی سے تبدیل ہو سکتا ہے۔ اس حکومت کی اعلی کارکردگی یہ ہے کہ اس نے ادروں کو بھی آمنے سامنے لاکھڑا کیا ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ نادرا نے آئی ووٹنگ کے لیے الیکشن کمیشن کے ساتھ 2.4
    ارب روپے کے معاہدے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔س حوالے سے نادرا کی جانب سے الیکشن کمیشن کو خط لکھا گیا ۔ پر الیکشن کمیشن کی جانب سے چیئرمین نادرا کو لکھے گئے جوابی خط میں کہا گیا کہ نادرا پہلے بتائے اس نے آئی ووٹنگ کا سابق منصوبہ کیوں چھوڑا؟ آئی ووٹنگ کے سابق منصوبے پر 6 کروڑ 65 لاکھ روپے خرچ ہو چکے تھے۔ جوابی خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر چھوڑے گئے نظام میں کوئی خامیاں تھیں تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ پھر اکتوبر میں چیئرمین نیب کی مدت ملازمت بھی ختم ہو رہی ہے۔ آئین کے مطابق وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کو مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنا ہے ۔ مطلب نئے چیئرمین کاتقرر کرناہے۔ لیکن ایسا ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا۔ اطلاعات ہیں کہ حکومت آرڈیننس کے ذریعے موجودہ چیئرمین کو مزید چار سال دینا چاہتی ہے۔ حالانکہ موجودہ چیئرمین نیب کی کارکردگی بھی سوالیہ نشان ہے ۔ دھیلے کا پیسہ انھوں نے ریکور نہیں کیا سارا زور پلی بارگین پر ہی رہا ہے ۔ یعنی الٹا چوروں اور ڈاکووں کو کلین چیٹ دی گئی ہے ۔ حکومت میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کیلئے ایک بااختیار اتھارٹی بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ جس کو فی الحال تمام میڈیا کی تنظیمیں کلی طور پر رد کر چکی ہیں۔ اب یہ کام بھی پارلیمان کے ذریعے ہی ہو گا۔ لہٰذا اب یہ درد سر حکومت کا ہے کہ وہ کیسے قانون سازی کرتی ہے۔ کیونکہ جو مدد حکومت کو حاصل رہا کرتی تھی اب محسوس یہ ہوتا ہے وہ شفقت کا ہاتھ حکومت کے سر سے ہٹ چکا ہے ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات میں ایک اچھی خاصی تعداد میں آزاد امیدواروں کا کامیاب ہونا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ حکومت کی کارکردگی کیا ہے ۔ پھر تحریک انصاف نے اپنے تین سالہ دورِ اقتدار میں ہر وہ کام کیا ہے۔ جس کے خلاف اپوزیشن میں رہ کر وہ جدوجہد کرتی رہی۔ ایک زمانہ تھا کپتان بلدیاتی نظام کو جمہوریت کی بنیاد کہا کرتے تھے۔ اب تین سال ہو گئے ہیں ۔ تحریک انصاف بلدیاتی انتخابات کرانے سے گریزاں ہے۔ سپریم کورٹ پنجاب کے بلدیاتی اداروں کو بحال کر چکی ہے۔ مگر حکومت نے انہیں بحال نہیں کیا اور نہ ہی نئے انتخابات کرائے۔ اب الیکشن کمیشن نے اعلان کیا ہے وہ بلدیاتی انتخابات کے بارے میں حکم جاری کر رہا ہے۔ صوبائی حکومتوں کو اس پر عملدرآمد کرنا ہو گا۔ صاف لگ رہا ہے حکومت بلدیاتی نظام کا رسک نہیں لینا چاہتی،کیونکہ اس میں مسلم لیگ (ن) خاص طور پر پنجاب میں اکثریت حاصل کر سکتی ہے،جو حکومت کے لئے ایک ڈراؤنا خواب ہے۔ ۔ دوسری طرف بلدیاتی ادارے مسلم لیگی سیاست کا گڑھ بن سکتے ہیں۔ جو 2023ء کے انتخابات میں تحریک انصاف کو ایک بڑی شکست سے دوچار کر سکتے ہیں۔ آپ دیکھیں عمران خان اپوزیشن لیڈر کے طور پر خود کہتے تھے۔ ارکانِ اسمبلی کو ترقیاتی کاموں کے نام پر گرانٹ دینا ایک کرپشن ہے۔ کیونکہ ترقیاتی کام کرانا بلدیاتی نمائندوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ پر عمران خان نے جہاں اور بہت سے یوٹرن لئے ہیں وہاں یہ یوٹرن بھی لے چکے ہیں۔ ترقیاتی فنڈز بھی ارکان کو دے رہے ہیں اور بلدیاتی ادارے بھی بحال نہیں کر رہے۔ نہ ہی نئے انتخابات کرانے پر آمادہ ہیں۔ میری نظر میں بلدیاتی نظام نہ ہونے کی وجہ سے گڈ گورننس بھی کہیں نظر نہیں آتی۔ کیونکہ جو کام بلدیاتی ادارے کرتے ہیں۔ وہ بیورو کریسی کر ہی نہیں سکتی۔ بیورو کریسی تو مسائل پیدا کرنے کے لئے ہوتی ہے۔ حل کرنے کے لئے نہیں۔ پھر وزیراعظم عمران خان ہر دوسرے دن کسی نہ کسی شہر کا دورہ کرتے ہیں اور اپنے کھلاڑیوں کو نئے نئے ہدف دے دیتے ہیں ۔ حالیہ لاہور کے دورے پر ایسا ہی کیا ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس سیاسی اور انتظامی ٹیم نے پرانے اہداف حاصل کر لیے ہیں ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے فلاسفر ہر مسئلے کو ماضی کی حکومتوں پر ڈال کر نکلنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ہر خبر کو جھوٹی خبروں کے بیانیے میں دبا کر متنازع بنانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اپنی ناکامیوں کو "مافیاز” کے سر ڈالنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ تین سال گذر چکے ہیں اور حکومت ایک بھی ایسا کارنامہ سرانجام نہیں دے سکی جس کی بنیاد پر وہ الیکشن میں جا کر ووٹ مانگ سکیں ۔ پھر حکومتی فیصلے ایسے ہیں کہ جن سے عام آدمی کو کبھی کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔ حکومتوں کا سب سے بڑا ہدف شہریوں کی بہتر زندگی ہونا چاہیے۔