Baaghi TV

Category: اہم خبریں

  • احمد مسعود اور امر اللہ صالح پنجشیر میں ہی موجود ہیں       سابق افغان سفیر

    احمد مسعود اور امر اللہ صالح پنجشیر میں ہی موجود ہیں سابق افغان سفیر

    دو شنبے: سابق افغان سفیر محمد ظاہر اغبر نے دعویٰ کیا ہے کہ احمد مسعود اور امر اللہ صالح پنجشیر میں ہی موجود ہیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سابق افغان حکومت کے تاجکستان میں سابق سفیر نے کہا ہے کہ پنجشیر کے رہنما احمد مسعود اور سابق افغان نائب صدر امر اللہ صالح کی مزاحمتی فورسز اب بھی طالبان سے لڑ رہی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ وہ امر اللہ صالح کے ساتھ باقاعدہ رابطے میں ہیں جبکہ مزاحمتی رہنما سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر عام رابطے نہیں کر رہے ہیں اگر احمد مسعود اور امر اللہ صالح کو فرار ہونا ہوتا تو وہ پہلے دن ہی فرار ہو جاتے جب ان کے پاس موافق حالات تھے۔

    آسٹریلیا نے افغانستان کے ساتھ ٹیسٹ میچ منسوخ کرنے کا عندیہ دے دیا

    انہوں نے کہا کہ دونوں رہنما سابق افغان صدر اشرف غنی کی طرح نہیں کیونکہ وہ اپنے لوگوں اور قوم کے لیے جذبات رکھتے ہیں میں امر اللہ صالح کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہوں جو اس وقت پنجشیر میں ہیں اور اسلامی جمہوریہ افغانستان کی حکومت چلا رہے ہیں۔

    محمد ظاہر اغبر نے کہا کہ پنجشیر میں مارشل لا نافذ ہے اور زیادہ تر خاندان گھاٹی چھوڑ کر پہاڑی علاقوں میں منتقل ہو گئے ہیں۔ مزاحمتی محاذ کی فورسز بدستور اپنی پوزیشنز پر ہیں۔

    طالبان کا افغان خواتین کرکٹ ٹیم پر پابندی کا فیصلہ

  • نور مقدم کیس خصوصی عدالت میں منتقل

    نور مقدم کیس کو خصوصی عدالت میں منتقل کر دیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : جرنلسٹ مبشر زیدی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں بتایا کہ نورمقدم قتل اورریپ کیس تیز ٹرائل کے لیے خصوصی عدالت میں منتقل کر دیا گیا ہے اب ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی آج سے کیس کی سماعت کریں گے-سیشن جج کامران بشارت مفتی نے ٹرائل کے لیے کیس منتقلی کے آرڈر جاری کئے

    کیس کی سماعت سیشن جج کامران بشارت مفتی نے کی دوران سماعت مقدمہ کا تفتیشی آفیسر اور ملزمان کے وکلاء عدالت میں پیش ہوئے عدالت نے کیس ایڈیشنل سیشن جج عطاء ربانی کے پاس ٹرانسفر کر دیا مرکزی ملزم ظاہر جعفر سمیت تمام ملزمان کا ٹرائل ایڈیشنل سیشن جج عطاء ربانی کرینگے

    واضح رہے کہ اس سے قبل سینیئرصحافی مبشرلقمان نے مقتولہ مظلومہ نورمقدم کے قاتلوں کی ڈرامے بازیوں سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ قاتل جتنے مرضی بھیروپ اختیارکرلے اسے جرم کی سزا ضرور ملے گی

    ذرائع کےمطابق اسی حوالے سے سینیئرصحافی نے نورمقدم کے والدین کے وکیل شاہ خاور سے آئینی اورپھرمجرم کے حوالے سے تکنیکی مسائل پرگفتگوکی تھی-

    شاہ خاور نے ایک سوال کے جواب میں بتایا تھا کہ ملزم جتنے مرضی ڈرامے کرلیں جوپراسیکیوشن ہوچکی اب معاملات اسی طرف جارہےہیں، اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ اب تو ظاہرجعفر کے والدین کا موقف بھی بدل بدل کرآرہا ہے اوریہ موقف نورمقدم کے لیے بہترثابت ہوگا-

    نورمقدم کے لواحقین کوضرورانصاف ملے گا:خواہ ملزم کتنے بھی ڈرامے کرلیں:مبشرلقمان

    شاہ خاور نے ایک سوال کے جواب میں بتایا تھا کہ تھراپکس ہویاڈاکٹر ظاہرجعفرنے قتل کے دوران اتنے شواہد چھوڑے ہیں کہ ہرچیز اب تو گواہی دے رہی ہےکہ یہ قاتل ہے

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ظاہرجعفرکے والدین بہت زیادہ پیشہ بہارہےہیں اوربڑے بڑے وکلا سے خدمات لے رہے ہیں لیکن یہ صاف نظرآرہا ہے کہ یہ سزا ہوکررہےگی-

  • افغانستان کی تعمیرِ نو کے آغاز کے لیے ملک میں استحکام ضروری ہے،سہیل شاہین

    افغانستان کی تعمیرِ نو کے آغاز کے لیے ملک میں استحکام ضروری ہے،سہیل شاہین

    افغانستان کی تعمیرِ نو کے آغاز کے لیے ملک میں استحکام ضروری ہے،سہیل شاہین

    ترجمان افغان طالبان سہیل شاہین نے چینی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے

    سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ افغان شہریوں کو خوراک اور دیگر بنیادی اشیا کی ضرورت ہے، افغانستان میں 70 فیصد افراد کو غربت کا سامنا ہے، ہمیں ہمسائے اور دیگر ممالک سے انسانی امداد کی ضرورت ہے،افغانستان میں امن قائم کرنا ہماری ترجیحی بنیادوں میں شامل ہے،افغانستان کی تعمیر نو بھی پہلی ترجیح میں شامل رہی ہے اب بھی ہے،چین سے اچھے تعلقات قائم رکھنا افغان حکومت کی خارجہ پالیسی کا حصہ ہے،مستقبل میں افغانستان کی تعمیرِ نو کے لیے چین کے ساتھ مل کر کام کریں گے،امید ہے کہ افغانستان چین اور دیگر پڑوسی ممالک کے درمیان رابطے کا مرکز بن جائے گا،افغانستان کی سر زمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال کرنے نہیں دیں گے ،افغانستان کی تعمیرِ نو، معاشی ترقی اور بحالی کا کام شروع کرنا چاہتے ہیں،افغانستان کی تعمیرِ نو کے آغاز کے لیے ملک میں استحکام ضروری ہے،افغانستان کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے،

    دوسری جانب سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب افغان عوام کے انتخاب اور بیرونی مداخلت سے پاک مستقبل کی خواہش کا احترام کرتا ہے۔ امید ہے کہ نئی افغان حکومت ملک میں امن و استحکام لائے گی .

    قبل ازیں ز طالبان نے افغانستان میں نئی حکومت کی تشکیل کا اعلان کر دیا ترجمان طالبان ذبیح اﷲ مجاہد نے نئی افغان حکومت اور کابینہ کا اعلان کرتے کہا کہ نئی اسلامی حکومت کے قائم مقام وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند ہوں گے۔ ملا عمر کے بیٹے عبدالغنی برادر قائم مقام نائب وزیراعظم‘ ملا امیر خان متقی کو وزیر خارجہ مقرر کیا گیا ہے۔ مولوی یعقوب مجاہد قائم مقام وزیر دفاع‘ قاری دین حنیف قائم مقام وزیر خزانہ‘ ملا عبدالحق وثیق این ڈی ایس کے سربراہ بنا دیئے گئے۔ قاری فصیح الدین افغانستان کے چیف آف آرمی سٹاف‘ سراج الدین حقانی قائم مقام وزیر داخلہ‘ ملا ہدایت اﷲ وزیر مالیات ہوں گے۔

    سابق صدر حامد کرزئی، عبد اللہ عبداللہ کو طالبان نے نظر بند کردیا

    جنہوں نے حملہ کیا وہ اس کی قیمت چکائیں گے، جوبائیڈن کا کابل دھماکوں پر ردعمل

    امریکی فضائیہ کے طیاروں کی پاکستانی فضائی حدود میں پرواز

    کابل ایئر پورٹ، مزید دھماکوں کا خدشہ برقرار،دو ممالک کا انخلا ختم کرنیکا اعلان

    امریکا کا افغانستان کے شہرجلال آباد پر فضائی حملہ

    کابل ائیرپورٹ پر راکٹ حملوں کو دفاعی نظام کے زریعے روک لیا ،امریکی عہدیدار

    افغانستان کی سالمیت، خود مختاری کا احترام کرتے ہیں،وزیر خارجہ

    ملا عبدالغنی برادر نے کابل کی فتح پر مبارکبادی پیغام جاری کر تے ہو ئے کہا ہے کہ ‏افغانستان کی پوری مسلم ملت باالخصوص کابل کے شہریوں کو فتح پر مبارکباد پیش کرتے ہیں اللہ کی مدد و نصرت سے یہ کامیابی حاصل ہوئی ہے اللہ کا ہر وقت عاجزی کے ساتھ شکر ادا کرتے ہیں۔ کسی غرور اور تکبر میں مبتلا نہیں ہیں ملا عبدالغنی برادر نے کابل کی فتح پر مبارکبادی پیغام جاری کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ‏طالبان کا اصل امتحان اور آزمائش اب شروع ہوئی ہے کہ وہ کیسے افغان عوام کی خدمت کرتے ہیں اور دنیا کے لیے ایک ایسی مثال بنتے ہیں، جس کی باقی دنیا پیروی کرے

    افغانستان میں طالبان کی حکومت،پاکستان توجہ کا مرکز بن گیا، آج بھی اہم شخصیت آ رہی ہے پاکستان

  • آسٹریلیا نے افغانستان کے ساتھ ٹیسٹ میچ منسوخ کرنے کا عندیہ دے دیا

    آسٹریلیا نے افغانستان کے ساتھ ٹیسٹ میچ منسوخ کرنے کا عندیہ دے دیا

    سڈنی: آسٹریلیا کرکٹ ٹیم نے افغانستان کے ساتھ ٹیسٹ میچ منسوخ کرنے کا عندیہ دے دیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق آسٹریلیا 27 نومبر کو افغانستان کے خلاف اپنے پہلے ٹیسٹ کی میزبانی کرنے والا تھا اور کرکٹ آسٹریلیا نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ میچ کی منصوبہ بندی اچھے سے جاری ہے تاہم اب ٹیسٹ میچ منسوخ کرنے کا عندیہ دے دیا ہے-

    میڈیا کے مطابق آسٹریلیا نے افغان خواتین ٹیم کو کھیلنے کی اجازت نہ ملنے پر ٹیسٹ میچ منسوخ کرنے کا عندیہ دیا ہے آسٹریلوی کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ اگر طالبان نے خواتین کو کرکٹ کھیلنے کی اجازت نہ دی تو وہ افغانستان کے ساتھ طے شدہ ٹیسٹ میچ منسوخ کر دیں گے۔

    طالبان کا افغان خواتین کرکٹ ٹیم پر پابندی کا فیصلہ

    انہوں نے کہا کہ کرکٹ کے لیے ہمارا وژن یہ ہے کہ یہ کھیل سب کے لیے ہے اور ہم ہر سطح پر خواتین کی اس کھیل میں شمولیت کی حمایت کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ طالبان نے افغانستان میں خواتین کے کھیلنے پر پابندی عائد کر دی ہے اور افغان خواتین کرکٹ ٹیم پر بھی پابندی کا فیصلہ کیا ہے طالبان رہنما احمد اللہ وقاص کا کہنا تھا کہ افغانستان میں خواتین کے ہر قسم کے کھیل پر پابندی ہو گی۔

    انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے افغان خواتین کو کرکٹ کھیلنے کی اجازت نہ ملنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے آئی سی سی کا کہنا تھا کہ خواتین کو کرکٹ کھیلنے کی اجازت ملنی چاہیے، افغانستان کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

  • افغانستان:نئی کابینہ کی تقریب حلف برداری 11 ستمبر کو منعقد ہو گی

    افغانستان:نئی کابینہ کی تقریب حلف برداری 11 ستمبر کو منعقد ہو گی

    کابل: افغانستان کی نئی کابینہ کی تقریب حلف برداری 11 ستمبر کو منعقد ہو گی۔

    باغی ٹی وی : برطانوی میڈیا رپورٹ کے مطابق حا ل ہی میں افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللّٰہ مجاہد کی طرف سے اعلان کردہ عبوری حکومت کی حلف برداری کی تقریب 11ستمبر کو منعقد ہوگی۔

    افغانستان کی نئی حکومت کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے پاکستان، چین، روس، ترکی اور ایران سمیت دیگر ممالک کو باضابطہ دعوت دی گئی ہے۔

    یاد رہے کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے حادثے کو بھی 11 ستمبر کے دن 20 سال مکمل ہو جائیں گے امریکہ اور اس کی اتحادی افواج نے 9/11 کے 20 سال مکمل ہونے سے قبل ہی افغانستان سے انخلا کیا ہے۔

    عالمی میڈیا میں یہ خبر بھی زیر گردش ہے کہ افغانستان کی نئی حکومت کی افتتاحی تقریب میں روسی سفارتی عہدیدار شرکت کریں گے۔

    طالبان ترجمان ذبیح اللّٰہ مجاہد نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں افغانستان کی نئی حکومت اور کابینہ کے اراکین کا اعلان کیا تھا طالبان ترجمان کے مطابق ملا محمد حسن آخوند وزیراعظم جب کہ ملا برادر اور ملا عبدالسلام حنفی نائب وزیراعظم ہوں گے۔

  • افغانستان میں‌ ہمارے ساتھ کیا ہوا؟ 20 ملکوں کا اعلیٰ سفارتی اجلاس جرمنی میں شروع

    افغانستان میں‌ ہمارے ساتھ کیا ہوا؟ 20 ملکوں کا اعلیٰ سفارتی اجلاس جرمنی میں شروع

    برلن :افغانستان پر20 ملکوں کا اعلیٰ سفارتی اجلاس جرمنی میں شروع ،اطلاعات کے مطابق امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن اور جرمن وزیرخارجہ ہائکو ماس بدھ کے روز ساتھیوں کے ایک گروپ اور اتحادیوں کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں، جس کا موضوع افغانستان کی صورت حال ہے۔

    رمسٹائین ایئر بیس پر منعقد اس اجلاس میں 20 ممالک شریک ہیں، ​جن امور پر بات ہو رہی ہے، ان میں طالبان کی جانب سے حکومت سنبھالنے کے علاوہ انسانی ہمدری کی نوعیت کی بنیادی امداد جاری رکھنے کی کوششوں پر غور بھی شامل ہے۔

    وزارتی سطح کے اجلاس سے قبل، امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ اس بات کو بھی زیر غور لایا جائے گا کہ آیا طالبان کیے گئے اپنے وعدوں کو وفا کرنے کی بین الاقوامی برادری کی توقعات پر پورے اترنے کی کوشش کریں گے۔

    جرمنی آمد سے قبل، قطر کے دورے کے دوران بلنکن نے اس بات کو نمایاں کیا کہ امریکہ اور دیگر ملکوں نے طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے وعدے پورے کریں اور جس کے پاس سفری دستاویزات موجود ہوں اور وہ افغانستان سے باہر جانے کا خواہش مند ہو انھیں باہر جانے کی سہولت فراہم کی جائے۔

    یہ معاملہ تب سے منظر عام پر رہا ہے جب اگست کے اواخر میں امریکہ نے افغانستان سے انخلا مکمل کیا جس کے نتیجے میں افغانستان میں دو عشروں سے جاری فوجی موجودگی ختم ہوئی جب کہ ہزاروں افراد کو خصوصی پروازوں کے ذریعے ملک نے باہر لے جایا گیا۔

    تاہم، بہت سے افراد جو افغانستان سے باہر نکلنا چاہتے تھے، وہ امریکی انخلا کی تکمیل سے قبل ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ بدھ کو ہونے والے اس اجلاس میں انسداد دہشت گردی کے معاملات کے علاوہ افغانستان میں بنیادی انسانی حقوق کے امور کی سربلندی کا معاملہ بھی زیر بحث آئے گا

  • دعا ہے افغان طالبان کی قائم کردہ حکومت ، ترقی ، خوشحالی اورامن کا مرکز بن جائے:پاکستان

    دعا ہے افغان طالبان کی قائم کردہ حکومت ، ترقی ، خوشحالی اورامن کا مرکز بن جائے:پاکستان

    اسلام آباد: دعا ہے افغان طالبان کی قائم کردہ حکومت ، ترقی ، خوشحالی اورامن کا مرکز بن جائے:اطلاعات کے مطابق طالبان کی جانب سے عبوری حکومت کے اعلان پر پاکستان کا ردعمل آ گیا۔

    ترجمان دفترخارجہ سے جاری بیان کے مطابق پاکستان افغانستان میں حکومت سازی کاجائزہ لے رہا ہے امید ہے ‏عبوری افغان حکومت امن وسلامتی کیلئےکام کرے گی۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ افغان عوام کی فلاح وبہبودعبوری حکومت کی ترجیح ہونی چاہئے، پاکستان پرامن، ‏مستحکم اورخودمختارافغانستان کاحامی ہے۔

    طالبان حکومت کے قیام سے متعلق عالمی طاقتیں اور دیگر ممالک اپنے اپنے موقف کا اظہار کر رہے ہیں اور دنیا ‏بھر سے ردعمل آنے کا سلسلہ برقرار ہے۔

    چینی حکومت کا کہنا ہے کہ افغانستان کی نئی حکومت اور سربراہ کے ساتھ رابطہ برقرار رکھنے کیلئے تیار ہیں، ‏ہم افغانستان کی خومختاری ، آزادی اورسالمیت کا احترام کرتے ہیں۔

    اس سے قبل امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے طالبان کی عبوری حکومت کے اعلان پر تشویش کا اظہار کیا ‏تھا اور کہا تھا کہ طالبان کو ان کی باتوں سے نہیں، ان کے اقدامات سے پرکھیں گے۔

    ترجمان نے کہا تھا لپ فہرست میں صرف طالبان کےرکن یا ان کے ساتھی ہیں کوئی خاتون نہیں ، کابینہ کےکچھ ‏افراد کی وابستگیوں اور ٹریک ریکارڈ پربھی فکرمند ہیں۔

    گذشتہ روز افغان طالبان نے عارضی حکومت تشکیل دیتے ہوئے وزرا اور کابینہ اراکین کے ناموں کا اعلان کیا تھا، ‏جس کے مطابق سربراہ محمد احسن اخوند کو منتخب کیا گیا تھا۔

    ملاعبد الغنی برادر کو معاون سرپرست ریاست اور وزرا کا عہدہ دیا گیا ہے، اسی طرح مولوی محمد یعقوب مجاہد ‏وزیردفاع، سراج حقانی کو وزیرداخلہ تعینات کیا گیا ہے۔

  • وزیراعظم کی زیرصدارت نیشنل کمانڈاتھارٹی کااجلاس  :نیوکلیئرسیکیورٹی کےلیےجاری اقدامات پراظہاراطمنان

    وزیراعظم کی زیرصدارت نیشنل کمانڈاتھارٹی کااجلاس :نیوکلیئرسیکیورٹی کےلیےجاری اقدامات پراظہاراطمنان

    اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے اجلاس میں سٹرٹیجک اثاثوں کی حفاظتی اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا25واں اجلاس ہوا، اجلاس سٹرٹیجک پلان ڈویژن کے ہیڈ کوارٹرز میں ہوا۔

    وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت نیشنل کمانڈ اتھارٹی (این سی اے) کا اہم اجلاس ہوا، جس میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، مسلح افواج کے سربراہان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر خزانہ شوکت ترین اور وزیر داخلہ شیخ رشید نے بھی شرکت کی۔

    نیشنل کمانڈ اتھارٹی نے پاکستان کے اسٹریٹجک اثاثوں کے حفاظتی اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ شرکاء تغ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ این سی اے کو خطےمیں جاری تنازعات اور علاقائی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔

    اجلاس کے دوران تربیت کےاعلیٰ معیار، سٹریٹیجک فورسز کی آپریشنل تیاریوں کو بھی سراہاگیا جبکہ مقاصد کے حصول میں کوشش کرنے والے سائنسدانوں و انجینئرز کی تعریف کی گئی۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ اتھارٹی کے مطابق پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے، پاکستان جوہری عدم پھیلاؤ کے اقدامات کو بہتر بنانے کی عالمی کوششوں میں مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔

    اعلامیے کے مطابق نیشنل کمانڈ اتھارٹی کو خطےمیں جاری تنازعات پربھی تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس پر شرکا نے روایتی اور اسٹریٹجک سطح پر بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کے عدم استحکام پر تشویش کا اظہار کیا اور اسے امن و سلامتی کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔

    این سی اے کا اعلامیہ میں کہنا تھا کہ ’پاکستان جوہری عدم پھیلاؤ کو بہتربنانےکیلئےکردار ادا کرتا رہے گا‘۔

    این سی اےنے پاکستان کی اسٹریٹیجک صلاحیتوں کی رفتارپربھی اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تربیت کےاعلیٰ معیار، اسٹریٹجک فورسزکی آپریشنل تیاریوں کوبھی سراہا جبکہ مقاصدکےحصول میں کوشش کرنے والےسائنس دانوں اور انجینئرز کی تعریف بھی کی۔

    این سی اے کے مطابق ہتھیاروں کی دوڑ سے پیدا صورتحال خطے میں امن اور سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہے، پاکستان ہتھیاروں کی دوڑ کا حصہ نہیں بنے گا، پاکستان خطے میں اسٹرٹیجک استحکام، امن، سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے تمام اقدامات کرے گا۔

  • مسرت عالم بٹ کو حریت کانفرنس کا نیا چیئرمین تعینات کرنے پرپاکستان کا خیر مقدم

    مسرت عالم بٹ کو حریت کانفرنس کا نیا چیئرمین تعینات کرنے پرپاکستان کا خیر مقدم

    اسلام آباد: پاکستان نے آل پارٹی حریت کانفرنس کی جانب سے مسرت عالم بٹ کو نیا چیئر مین اے پی ایچ سی اور شبیر احمد اور غلام احمد گلزار کو وائس چیئرمین تعینات کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے آل پارٹی حریت کانفرنس (اے پی ایچ) سی قیادت کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کشمیریوں کے حقیقی نمائندوں کی حیثیت سے ،اے پی ایچ سی قیادت ان کی امنگوں کی حقیقی آواز ہے۔

     

     

     

     

    ان کا کہنا تھا کہ اے پی ایچ سے برسوں سے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے حق کیلئے جدوجہد جہد میں پیش پیش ہے۔بغیر کسی شک و شبہ کے انہیں جموں و کشمیر کے ایک حصہ پر غیر قانونی بھارتی تسلط کیخلاف کشمیریوں کی جدوجہد کی مشعل بردار کی حیثیت سے کشمیری عوام کی حمایت حاصل ہے۔

    اپنے حصے کے طور پر پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت کی جائز جدوجہد میں کشمیری عوام کو ہر ممکن تعاون کی فراہمی جاری رکھے گا۔

     

     

    جموں و کشمیر مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے مسرت عالم بھٹ اپنی 50 برس کی زندگی میں سے 24 سال انڈین جیلوں میں گزار چکے ہیں۔ انھیں انڈین حکام کی جانب سے 38 مرتبہ حراست میں لیا گیا۔ اس وجہ سے ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سنگاپور کے ڈاکٹر چائی تھائے پوش کے بعد ایشیا میں طوﯾل ﻋرﺻﮯ ﺗﮏ سیاسی قیدی رہنے والی شخصیت ہیں۔

     

     

     

    انھیں کشمیر میں حق ﺧود ارادیت اور آزادی ﮐﯽ جنگ کے لیے سرگرم ہونے پر جموں و کشمیر پبلک سیفٹی اﯾﮑٹ 1978 ﮐﮯ ﺗﺣت 38 ﺑﺎر ﺣراﺳت ﻣﯾں لیا گیا ﮨﮯ اور وہ کسی اﻟزام ﯾﺎ ﻣﻘدﻣﮯ ﮐﯽ سماعت ﮐﮯ بغیر چوبیس سال جیلوں میں رہے ہیں۔

    جون 1971 میں سری نگر میں پیدا ہونے مسرت عالم بھٹ اگرچہ پہلی بار 19 سال کی عمر میں گرفتار ہوئے تاہم 2008 سے قبل کشمیری ان کے نام سے زیادہ واقفیت نہیں رکھتے تھے۔

     

    وہ 2008 میں اس وقت مزاحمتی رہنما کے طور پر ابھرے جب انہوں نے کشمیر کی زمینوں کو آل ہندو شرائن بورڈ کو منتقل کیے جانے کے خلاف بغاوت کا اعلان کیا اور عملی جدوجہد شروع کی جس کے بعد انھیں گرفتار کرلیا گیا اور انھیں کشمیر سے باہر بھی انڈین جیلوں میں رکھا گیا۔

     

     

    26مئی 2008 کو کشمیر میں انڈین ﺣﮑﺎم ﻧﮯ 99 اﯾﮑڑ ﺟﻧﮕﻼت ﮐﯽ زمین کو اﻣرﻧﺎﺗﮭ ﻣزار ﺑورڈ کو منتقل ﮐردﯾﺎ۔ اس پر تنازع پیدا ہوا اور زمین کی منتقلی کے خلاف کشمیر میں مظاہرے شروع ہوگئے اس دوران 60 سے زائد افراد کو قتل کیا تو کشمیر میں اﯾﮏ ﮨﯽ رﯾﻠﯽ میں لاکھوں افراد امڈ اور ﺑﺎﻵﺧر منتقلی روک دی گئی۔

    دو ﺳﺎل بعد جون میں مسرت عالم ﮐﯽ ﺣراﺳت کو کشمیر ﮐﯽ اﯾﮏ اﻋﻠﯽٰ عدالت ﻧﮯ منسوخ ﮐردﯾﺎ اور رﮨﺎ ﮐردﯾﺎ ﮔﯾﺎ۔ کچھ دن روپوش رہنے کے بعد انہوں ﻧﮯ ’کشمیر ﭼﮭوڑ دو‘ تحریک ﮐﺎ اﻋﻼن ﮐﯾﺎ۔

    کشمیر میں پہلی بار پیلٹ گنز کا استعمال کیا گیا تو مسرت عالم کا نعرہ ’گو انڈیا، گو بیک‘ نے پورے کشمیر میں گونجنے لگا جس کے بعد انھیں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت ایک بار پھر گرفتار کر لیا گیا اور وہ تب سے زیر حراست ہیں۔

    ﻣﺳرت عالم زمانہ طالب علمی سے مزاحمتی سیاست میں حصہ لے رہے ہیں۔ جب انھیں پہلی بار گرفتار کیا گیا تھا اس وقت ان کی عمر 19 برس تھی۔ اور ان کو ﺣزب ﷲ کا رکن ہونے کے الزام میں دو اکتوبر 1990 کو پی ایس اے کے تحت گرفتار کیا گیا۔

    انھیں نومبر 1991 ﻣﯾں رﮨﺎ کیا گیا ﺗﺎﮨم 1993 ﻣﯾں ﭘﮭر ﺣراﺳت ﻣﯾں ﻟﯾﺎ ﮔﯾﺎ اور1997 تک جیل میں رکھا گیا۔ رہائی کے چھ ماہ بعد ستمبر 1997 میں پھر گرفتار کیا گیا جبکہ چوتھی بار مئی 2000 ﺗﮏ ﮔرﻓﺗﺎر ﮐﯾﺎ ﮔﯾﺎ۔

    ﺟﻧوری میں 2001 ﻣﯾں پھر گرفتار ہوئے اور اﮔﺳت 2003 میں دو ﻣﺎه ﮐﮯ لیے رﮨﺎ ﮐﯾﺎ ﮔﯾﺎ۔ انہیں دوﺑﺎره اﮐﺗوﺑر 2003 ﻣﯾں ﺣراﺳت میں ﻟﯾﺎ ﮔﯾﺎ اور 2005 ﻣﯾں رﮨﺎ ﮐﯾﺎ ﮔﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔

     

     

    اس دوران اے پی ایچ ﺳﯽ ﮐﮯ اﯾﮏ حصے ﻧﮯ اس وقت کے وزﯾراﻋظم ڈاﮐﭨر ﻣن ﻣوﮨن ﺳﻧﮕﮭ کے ساتھ کشمیر کے تنازع کے حوالے سے ﺑﺎت ﭼﯾت شروع ﮐﯽ ﺗﮭﯽ۔ اس بنیاد پر منموہن ﺳﻧﮕﮭ ﻧﮯ پبلک سیفٹی ایکٹ اور پوٹا کے تحت گرفتار کیے جانے والے کشمیری قائدین کو رہا کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

    22 اپریل 2007 کو مسرت عالم کو اس لیے رہا کیا گیا تاکہ ان کو پھر سے گرفتار کیا جا سکے۔ اس دفعہ مسرت عالم کے اہل خانہ نے پہلی بار ﻧظرﺑﻧدی ﮐﮯ ﺣﮑم ﮐو ﭼﯾﻠﻧﺞ ﮐﯾﺎ۔ اس سے قبل انہوں نے کسی بھی انڈین عدالت میں درخواست دینے سے انکار کیا تھا

     

    انہوں نے 1990 ﺳﮯ 2005 ﮐﮯ درﻣﯾﺎن 15 برسوں ﻣﯾں ﺳﮯ 12 سال کسی ﺑﮭﯽ مجرمانہ اﻟزام ﯾﺎ ﻣﻘدﻣﮯ ﮐﯽ ﺳﻣﺎﻋت ﮐﮯ ﺑﻐﯾر ﻧظرﺑﻧدی ﻣﯾں ﮔزارے۔

    2015 ﻣﯾں عدالت نے ان کی 33 وﯾں ﻧظرﺑﻧدی منسوخ کرتے ہوئے 45 روز کے لیے رہا کیا ﻟﯾﮑن ﺑﯽ ﺟﮯ ﭘﯽ ﻧﮯ ان ﮐﯽ رﮨﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﺧﻼف انڈین ﭘﺎرﻟﯾﻣﻧٹ ﻣﯾں اﯾﮏ ﮨﻧﮕﺎمہ ﮐﮭڑا ﮐردﯾﺎ اور حکمران طبقے کی ایما پر سری نگر سے مسرت عالم کو پھر سے گرفتار کر لیا گیا۔ ﻣﺳرت ﺗب ﺳﮯ ﺟﯾل ﻣﯾں ہیں۔

    1990 ﮐﮯ ﺑﻌد ﺳﮯ اب تک ﻣﺳرت عالم ﮐﯽ 38 نظربندیوں نے انہیں نہ ﺻرف ﮐﺷﻣﯾر ﻣﯾں بلکہ پورے اﯾﺷﯾﺎ ﻣﯾں طوﯾل ﻋرﺻﮯ ﺗﮏ حراست میں رہنے والا سیاسی قیدی بنا دیا۔ سنگا پور کے ڈاﮐﭨر ﭘوش ﮐﮯ ﺑﻌد وہ طویل ترین حراستیں برداشت کرنے والے رہنما ہیں، ڈاکٹر پوش ﺳﻧﮕﺎﭘور ﮐﮯ ﻧﺎم ﻧﮩﺎد داﺧﻠﯽ ﺳﻼﻣﺗﯽ اﯾﮑٹ ﮐﮯ ﺗﺣت اﮐﺗوﺑر 1966 ﮐﮯ ﺑﻌد 22 ﺳﺎل ﺗﮏ ﻧظرﺑﻧد رہے۔

    ﻣﺳرت 1990 ﮐﮯ ﺑﻌد ﺳﮯ محض 54 ﻣﺎه ﺟﯾل ﺳﮯ ﺑﺎﮨر رہے۔ ان کی بہن کا 2016 میں انتقال ہوا تو انہیں جنازے میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔ مسرت عالم کا تعلق ﺳری ﻧﮕر ﮐﮯ مشہور کاروباری خاندان سے ہے۔

     

    سیاست میں آنے کے بعد ان کے خاندان کا کاروبار بھی بری طرح متاثر ہوا لیکن خود مختاری کے لیے اس سودے پر مسرت کو کوئی افسوس نہیں ہے۔

  • جنگلات کی ہزاروں ایکڑزمین پرقبضہ:لینڈ ریکارڈ کے بعد شہری اپنا پلاٹ گھربیٹھا دیکھ سکےگا:وزیراعظم

    جنگلات کی ہزاروں ایکڑزمین پرقبضہ:لینڈ ریکارڈ کے بعد شہری اپنا پلاٹ گھربیٹھا دیکھ سکےگا:وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پیسہ بنانے والے انتہائی طاقتور بن چکے، ناقص سسٹم کے باعث ردوبدل انتہائی آسان، اوور سیز پاکستانی ناجائز قبضوں سے زیادہ متاثر، مافیا نہیں چاہتا کہ لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہو، ٹیکنالوجی قبضہ گروپوں کو شکست دے گی۔

    وزیراعظم کا لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن اور کیڈیسٹریل میپنگ منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کہنا تھا کہ لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن سے ہر کوئی اپنے پلاٹ کو کمپیوٹر پر دیکھ سکے گا۔

    وزیراعظم عمران خان نے لینڈ ریکارڈ ڈیجیٹلائزیشن نظام کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد میں جنگلات کی ایک ہزار ایکڑ زمین پر قبضہ ہوا ہے۔

    اسلام آباد میں لینڈ ریکارڈ ڈیجیٹلائزیشن اینڈ کیڈسٹریل میپنگ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ یہ کام ہوگیا کیونکہ اس میں دلچسپی لینے والے بہت گروپس تھے جو چاہتے نہیں تھے کہ یہ ہوں۔

    انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کو بہت پہلے کمپیوٹرائز ہونا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہوتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ کمپیوٹرائز نہ کرنے سے انٹرسٹ گروپس کو زیادہ فائدہ ملتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ لینڈ ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ نہ کرنے سے طاقتور لوگوں کو فائدہ ہوتا رہا۔ جائیدادوں پر ناجائز قبضے سے سب سے زیادہ بیرون ملک مقیم پاکستانی متاثر ہو رہے تھے۔ سمندر پار پاکستانیوں کے لیے اگر مناسب ماحول فراہم کر دیں تو وہ اپنے ملک میں سرمایہ کاری کریں گے۔

    عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ سرمایہ کاری کے لیے ملک میں قانون کا یکساں نفاذ ضروری ہے۔ پچاس فیصد عدالتوں میں کیسز قبضہ گروپوں سے متعلق ہوتے ہیں۔ اگلے مرحلے میں لوگ زمینوں کا انتقال گھر بیٹھے آن لائن کرا سکیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ تین سالوں میں اربوں روپے کی سرکاری زمینوں پر قبضے چھڑائے۔ اسلام آباد میں 300 ارب کی زمین پر قبضے تھے۔ جنگلات کی ایک ہزار ایکڑ زمین پر قبضے ہوئے تھے۔ ریکارڈ ڈیجیٹلائز ہونے سے قبضوں کا پتا چل جائے گا۔ زمین کی ٹرانسفرکرانے کا مرحلہ ایک عذاب ہوتا ہے لیکن اب لوگوں کو آسانیاں ہونگی۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سمندرپار پاکستانی ہمارا بہت بڑا اثاثہ ہیں اور اگر ہم انہیں سرمایہ کاری کے لیے آسانیاں اور مواقع پیدا کریں تو پاکستانیوں کا باہر اتنا پیسہ پڑا ہوا ہے وہ یہاں آئے گا اور ہمیں آئی ایم ایف سے قرضے لینے اور ڈالر کی قیمت اوپر جانے، روپیہ کاگرنا اور مہنگائی سب اس سے جڑے ہوئے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان میں لوگوں کو قانون کی وہ بالادستی نہیں دی کہ لوگ باہر سے آکر سرمایہ کاری کریں، قانون کی بالادستی ہوتی ہے تو سرمایہ کاری آتی ہے۔