Baaghi TV

Category: صحت

  • خطرناک مشروب

    خطرناک مشروب

    پاکستان میں سب سے خطرناک مشروب جس میں کیفین کی مقدار بہت کیفین ہے کیا چیز اور اس کے نقصانات کیا ہیں؟

    STING
    ہے کیا چیز اور اس کے نقصانات کیا ہیں؟

    آج کل کم عمر بچوں اور نوجوانوں میں جگر کے کیسز بہت آرہے ہیں جسکی وجہ کثرت سے STING مشروب کا استعمال ہے صبح خالی پیٹ تو یہ زہر قاتل ہے اسمیں کیفین کی اتنی مقدار ہے کہ جو کسی بھی منشیات کے مقابلے میں 100/25 فیصد زیادہ ہے اسی بدولت لوگ اس کے عادی ہوتے جا رہے ہیں اور نہ ملنے پر بے چین اور جسم میں درد اور کھچاءو کی شدت رہتی ہے
    ڈاکٹرز نے اس مشروب کے استعمال سے سختی سے منع کیا ہے حالانکہ کمپنی نے خود بوتل کے ڈھکن پر تحریری لکھا ہے کہ اس میں کیفین کی مقدار زیادہ ہے اس لئے حاملہ عورتیں اور 12 سال سے کم عمر بچے اس سے گریز کریں

  • ملک بھر مزید بارشوں کی پیش گوئی

    ملک بھر مزید بارشوں کی پیش گوئی

    لاہور میں بارش جب کہ دیگر علاقوں میں بھی بارش کا امکان ہے محکمہ موسمیات کے مطابق ہفتے کے روز ہزارہ، راولپنڈی، گوجرانوالہ، سرگودھا، فیصل آباد،لاہور ڈویژن، اسلام آباد اور کشمیر میں کہیں کہیں بارش کا امکان ہے۔

    جبکہ مالا کنڈ، پشاور، کوہاٹ، بنوں، ڈی آئی خان، ساہیوال، ملتان، ڈی جی خان، بہاولپور ڈیوژن اور گلگت بلتستان میں چند مقامات پر تیزہواوٗں اور گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارش کا امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات نے بتایا ہے کہ جمعہ کی (رات) سے ہفتہ کے دوران ہزارہ، مالاکنڈ، راولپنڈی، گوجرانوالہ، ڈی جی خان ڈویژن اسلام آباد اور کشمیر میں موسلادھار بارش کے باعث دریاوٰں اور برساتی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔

    اس دوران پشاور، راولپنڈی، گوجرانوالہ، لاہور ڈویژن میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا بھی امکان ہے۔

    گزشتہ روز راولپنڈی، سرگودھا، گوجرانوالہ، لاہور ڈویژن اور اسلام آباد میں کہیں کہیں جبکہ پشاور، مالاکنڈ، مکران ڈویژن، کشمیر اور گلگت بلتستان میں چند مقامات پر تیز ہوائوں/آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی۔

  • 4500 افراد لاہور کے ہسپتالوں میں کیوں پہنچے، خبرایسی کہ ہر کوئی ہو جائے حیران

    4500 افراد لاہور کے ہسپتالوں میں کیوں پہنچے، خبرایسی کہ ہر کوئی ہو جائے حیران

    لاہور : وہی کچھ جس کا ڈر تھا ، ماہرین طب نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ عیدکے موقع پر گوشت کھائیےضرور مگر احتیاط بھی برتیئے . لیکن گوشت کے شوقین افراد نے احتیاط سے کام نہ لیا . اطلاعات کے مطابق عید کے دنوں میں کھانےپینے میں بے احتیاطی، ناقص صفائی اور آلودہ پانی کا استعمال، گیسٹرو اور ڈائریا کےمریضوں میں اضافہ ہوگیا، عید کے دنوں میں سرکاری ہسپتالوں میں 4500 سے زائد مریض رپورٹ ہوئے۔

    ذرائع کے مطابق پانچ بڑے ٹیچنگ ہسپتالوں میں سب سے زیادہ مریض جنرل ہسپتال میں 1100، جناح ہسپتال میں 800، گنگا رام ہسپتال میں 550، سروسز ہسپتال میں 400 اور میو ہسپتال میں 350 سے زائد رپورٹ ہوئے جبکہ 500 سے زائد بچوں کو بھی گیسٹرو اور ڈائریا میں مبتلا ہونے کی وجہ سے ہسپتالوں میں علاج کیلئے لایا گیا۔

    دوسری طرف ڈی جی ہیلتھ پنجاب ڈاکٹر ہارون جہانگیر نے الرٹ جاری کرتے ہوئے حالیہ حبس زدہ موسم اور بار بار ہونے والی بارشوں کے دوران گیسٹرو اور ڈینگی کی روک تھام کیلئے فوری اقدامات یقینی بنانے کی ہدایات جاری کر دی ہیں ۔

  • اسلام آباد میں‌ خطرہ ، ٹیموں کوتیار رہنے کا حکم ، کیا ہے وہ خطرہ ؟ جانیئے اس رپورٹ سے

    اسلام آباد میں‌ خطرہ ، ٹیموں کوتیار رہنے کا حکم ، کیا ہے وہ خطرہ ؟ جانیئے اس رپورٹ سے

    اسلام آباد: ملک میں مون سون بارشوں کے بعد ڈینگی کی پیدائش اور انسانی صحت پر اثرانداز ہونے کے خطرات پیدا ہوچکے ہیں. اسی سلسلے میں اسلام آباد کی انتظامیہ نے قومی ادارہ صحت (این ایچ ایس) کی وزارت سے ڈینگی بچاؤں ٹیموں کو متحرک رہنے کی ہدایت کرنے کی درخواست کردی۔

    ذرائع کے مطابق کیپٹل انتظامیہ نے این ایچ ایس سے شہر میں بڑھتے ہوئے ڈینگی خطرے کے پیش نظر ضروری اقدامات کرنے کی بھی درخواست کی۔کیپٹل انتظامیہ کے حکام کے مطابق ایک روز قبل اجلاس طلب کیا گیا تھا جس میں تمام متعلقہ محکموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔دوسری طرف اجلاس کے دوران این ایچ ایس نمائندوں سے درخواست کی گئی کہ وہ اپنی ٹیموں کو متحرک کریں اور انہیں راوت سمیت تمام متعلقہ علاقوں میں بھیجیں۔

  • مویشی منڈی میں جانور کی مفت ادویات

    قصور کی مویشی منڈی میں جانور کا معائنہ اور مفت ادویات کی فراہمی
    تفصیلات کے مطابق قصور انتظامیہ کی طرف سے ویٹنری
    کیلیے منڈی میں لائے جانے والے جانوروں کا مفت معائنہ کیا جاتا ہے اور مختلف امراض کی صورت میں مویشیوں کو ادویات بھی بلکل مفت دی جا رہی ہیں
    بیوپاری حضرات اور عوام کی جانب سے انتظامیہ کے اس اقدام کی خوب تعریف کی جا رہی ہے

  • جرمنی کی ڈاکٹر رتھ کیتھرینا نے پاکستانیوں کے لیے  اپنا گھر بار کیوں چھوڑا ؟ دلچسپ کہانی پڑھنا نہ بھولیں

    جرمنی کی ڈاکٹر رتھ کیتھرینا نے پاکستانیوں کے لیے اپنا گھر بار کیوں چھوڑا ؟ دلچسپ کہانی پڑھنا نہ بھولیں

    اسلام آباد : آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں طِب کے شعبے سے وابستہ پاکستان کی مدر ٹریسا، ڈاکٹر رتھ فاؤ کی دوسری برسی منائی جارہی ہے۔ڈاکٹر رتھ فاؤ کا شمار پاکستان کی ایک ایسی عظیم محسن کی صورت میں ہوتا ہے جن کی کاوشوں کی بدولت 1996ء میں عالمی ادارہ صحت کی جانب سے پاکستان کو جزام کے مرض پر قابو پالینے والے ممالک میں شامل کرلیا گیا تھا۔

    ڈاکٹر رتھ کیتھرینا مارتھا فاؤ کی زندگی بھی اپنی تاریخ رکھتی ہے. مورخین کا کہنا ہے کہ ویسے تو جرمنی میں پیدا ہوئیں لیکن انہوں نے اپنی ساری زندگی پاکستان کی خدمت کے لیے وقف کردی۔ڈاکٹر رتھ کیتھرینا مارتھا فاؤ نے جذام کے مریضوں کی حالت زار دیکھی تو اپنے ملک واپس نہ جانے کا فیصلہ کرلیا۔ انہوں نے کراچی ریلوے اسٹیشن کے پیچھے میکلوڈ روڈ پر کوڑھیوں کی بستی میں فری کلینک کا آغاز کیا۔

    کراچی سے ذرائع کے مطابو پاکستانی مدر ٹریسا کی طرف سے قائم کردہ ’میری ایڈیلیڈ ۔لیپرسی سینٹر‘ کے نام سے قائم ہونے والا یہ شفاخانہ جذام کے مریضوں کے علاج کے ساتھ ساتھ ان کے لواحقین کی مدد بھی کرتا تھا۔ اس کے بعد اس مرض کے خاتمے کیلئے کراچی کے دوسرے علاقوں میں بھی کلینک قائم کیے گئے۔ پاکستان میں جذام کے مرض پر قابو پانے کے لیے انہوں نے جرمنی سے بھی بیش بہا عطیات جمع کیے اور کراچی کے علاوہ راولپنڈی میں بھی کئی اسپتالوں لیپرسی ٹریٹمنٹ سینٹر قائم کیے۔

    حکومت پاکستان نے ڈاکٹر رتھ کیتھرینا مارتھا فاؤ کی پاکستانیوں سے محبت ، خدمت اور خلوص کو پیش نظر رکھتے ہوئے 1988ء میں پاکستان کی شہریت دی۔ ان کی گرا ں قدر خدمات پر حکومت پاکستان ، جرمنی اور متعدد عالمی اداروں نے انہیں اعزازات سے نوازا جن میں نشان قائد اعظم، ہلال پاکستان، ہلال امتیاز، جرمنی کا آرڈر آف میرٹ اور متعدد دیگر اعزازت شامل ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر رُتھ فاؤ اپنی زندگی کے 56 برس پاکستانیوں کی خدمت میں مصروف عمل رہیں، انہیں پاکستان کی’مدر ٹریسا‘ بھی کہا جاتا ہے۔ لاکھوں مریضوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنے والی ڈاکٹر رتھ فاؤ 10 اگست 2017 کو طویل علالت کے بعد انتقال کر گئیں

  • ڈاکٹر رتھ کیتھرینا مارتھ فاؤ المعروف رتھ فاؤ کون تھیں؟

    ڈاکٹر رتھ کیتھرینا مارتھ فاؤ المعروف رتھ فاؤ کون تھیں؟

    رتھ فاؤ کی وفات
    ڈاکٹر رتھ کیتھرینا مارتھا فاؤ (جرمن: Ruth Katherina Martha Pfau) المعروف رتھ فاؤ (ولادت: 1929ء تا 10 اگست 2017ء) ایک جرمن ڈاکٹر، سرجن اور سوسائیٹی آؤ ڈاٹرز آف دی ہارٹ آؤ میری نامی تنظیم کی رکن ہے۔ اس نے 1962ء سے اپنی زندگی پاکستان میں کوڑھیوں کے علاج کے لیے وقف کی ہوئی ہے۔ 1996ء میں عالمی ادارۂ صحت نے پاکستان میں کوڑھ کے مرض کو قابو میں قرار دے دیا۔ پاکستان اس ضمن میں ایشیاء کے اولین ملکوں میں سے تھا۔ ڈاکٹر رتھ فاؤ کا انتقال 10 اگست 2017ء کو کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں ہوا۔

    9 ستمبر 1929 کو جرمنی کے شہر لیپزگ میں پیدا ہونے والی رُتھ کیتھرینا مارتھا فائو کے خاندان کو دوسری جنگ عظیم کے بعد روسی تسلط والے مشرقی جرمنی سے فرار پر مجبور ہونا پڑا۔ مغربی جرمنی آکر رُتھ فائو نے میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کا آغاز کیا اور 1949 میں "مینز” سے ڈگری حاصل کی۔ زندگی میں کچھ کرنے کی خواہش ڈاکٹر رُتھ کو ایک مشنری تنظیم "دختران قلب مریم” تک لے آئی اور انہوں نے انسانیت کی خدمت کو اپنا مقصد حیات قرار دے لیا۔
    پاکستان کے لیے خدمات

    سن 1958ء میں ڈاکٹر رُتھ فاؤ نے پاکستان میں کوڑھ (جزام) کے مریضوں کے بارے میں ایک فلم دیکھی‘ کوڑھ اچھوت مرض ہے جس میں مریض کا جسم گلنا شروع ہو جاتا ہے‘ جسم میں پیپ پڑجاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی انسان کا گوشت ٹوٹ ٹوٹ کر نیچے گرنے لگتا ہے‘ کوڑھی کے جسم سے شدید بو بھی آتی ہے‘ کوڑھی اپنے اعضاء کو بچانے کے لیے ہاتھوں‘ ٹانگوں اور منہ کو کپڑے کی بڑی بڑی پٹیوں میں لپیٹ کر رکھتے ہیں‘ یہ مرض لا علاج سمجھا جاتا تھا چنانچہ جس انسان] کو کوڑھ لاحق ہو جاتا تھا اسے شہر سے باہر پھینک دیا جاتا تھا اور وہ ویرانوں میں سسک سسک کر دم توڑ دیتا تھا۔

    پاکستان میں 1960ء تک کوڑھ کے ہزاروں مریض موجود تھے‘ یہ مرض تیزی سے پھیل بھی رہا تھا‘ ملک کے مختلف مخیرحضرات نے کوڑھیوں کے لیے شہروں سے باہر رہائش گاہیں تعمیر کرا دی تھیں‘ یہ رہائش گاہیں کوڑھی احاطے کہلاتی تھیں‘ لوگ آنکھ‘ منہ اور ناک لپیٹ کر ان احاطوں کے قریب سے گزرتے تھے‘ لوگ مریضوں کے لیے کھانا دیواروں کے باہر سے اندر پھینک دیتے تھے اور یہ بیچارے مٹی اورکیچڑ میں لتھڑی ہوئی روٹیاں جھاڑ کر کھا لیتے تھے‘ ملک کے قریباً تمام شہروں میں کوڑھی احاطے تھے‘ پاکستان میں کوڑھ کو ناقابل علاج سمجھا جاتا تھا چنانچہ کوڑھ یا جزام کے شکار مریض کے پاس دو آپشن ہوتے تھے‘ یہ سسک کر جان دے دے یا خود کشی کر لے۔

    1960 کے دوران مشنری تنظیم نے ڈاکٹر رُتھ فائو کو پاکستان بھجوایا۔ یہاں آکر انہوں نے جذام کے مریضوں کی حالت زار دیکھی تو واپس نہ جانے کا فیصلہ کر لیا۔ انہوں نے کراچی ریلوے اسٹیشن کے پیچھے میکلوڈ روڈ کوڑھیوں کی بستی میں چھوٹا سے فری کلینک کا آغاز کیا جو ایک جھونپڑی میں قائم کیا گیا تھا۔ "میری ایڈیلیڈ لیپرسی سنٹر” کے نام سے قائم ہونے والا یہ شفاخانہ جذام کے مریضوں کے علاج کے ساتھ ساتھ ان کے لواحقین کی مدد بھی کرتا تھا۔ اسی دوران میں ڈاکٹر آئی کے گل نے بھی انھیں جوائن کر لیا.
    مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر 1963 میں ایک باقاعدہ کلینک خریدا گیا جہاں کراچی ہی نہیں، پورے پاکستان بلکہ افغانستان سے آنے والے جذامیوں کا علاج کیا جانے لگا۔ کام میں اضافے کے بعد کراچی کے دوسرے علاقوں میں بھی چھوٹے چھوٹے کلینک قائم کیے گئے اور ان کے لیے عملے کو تربیت بھی ڈاکٹر رُتھ فائو ہی نے دی۔ جذام کے مرض پر قابو پانے کے لیے ڈاکٹر رُتھ نے پاکستان کے دورافتادہ علاقوں کے دورے بھی کیے اور وہاں بھی طبی عملے کو تربیت دی۔ پاکستان میں جذام کے مرض پر قابو پانے کے لیے انہوں نے پاکستان کے علاوہ جرمنی سے بھی بیش بہا عطیات جمع کیے اور کراچی کے علاوہ راولپنڈی میں بھی کئی ہسپتالوں میں لیپرسی ٹریٹمنٹ سنٹر قائم کیے۔

    اس کے علاوہ انہوں نے نیشنل لیپرسی کنٹرول پروگرام ترتیب دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ڈاکٹر رُتھ فاو، ان کی ساتھی سسٹر بیرنس اور ڈاکٹر آئی کے گل کی بے لوث کاوشوں کے باعث پاکستان سے اس موذی مرض کا خاتمہ ممکن ہوا اور اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے1996 میں پاکستان کو ایشیا کے ان اولین ممالک میں شامل کیا جہاں جذام کے مرض پر کامیابی کے ساتھ قابو پایا گیا۔
    اعزازات

    حکومت نے 1988ء میں ان کو پاکستان کی شہریت دے دی۔ڈاکٹر رُتھ فائو کی گرانقدر خدمات پر حکومت پاکستان ، جرمنی اور متعدد عالمی اداروں نے انہیں اعزازات سے نوازا جن میں نشان قائد اعظم، ہلال پاکستان، ہلال امتیاز، جرمنی کا آرڈر آف میرٹ اور متعدد دیگر اعزازت شامل ہیں۔آغا خان یونیورسٹی نے انہیں ڈاکٹر آف سائنس کا ایوارڈ بھی دیا۔ ڈاکٹر رُتھ فائو جرمنی اور پاکستان دونوں کی شہریت رکھتی ہیں اور گزشتہ 56 برس سے پاکستانیوں کی خدمت میں مصروف عمل ہیں۔انہیں پاکستان کی”مدر ٹریسا” بھی کہا جاتا ہے۔

    1969: آرڈر آف میرٹ (جرمنی)
    1969: ستارہ قائد اعظم
    ہلال امتیاز
    ہلال پاکستان
    2002: رامن میگ سیسے انعام[
    اپریل 2003: Jinnah Award for 2002
    2004: ڈاکٹر آف سائنس (DSc)، honoris causa. آغا خان یونیورسٹی، کراچی
    2010 نشان قائد اعظم عوامی خدمات پر

  • بچے اب ہسپتا لوں کی بجائے گھروں میں جنیں گیں ، کون ؟ نئی تحقیق نے ہلچل مچادی

    بچے اب ہسپتا لوں کی بجائے گھروں میں جنیں گیں ، کون ؟ نئی تحقیق نے ہلچل مچادی

    نیویارک : ترقی یافتہ ممالک سے تعلق رکھنے والی خواتین اب ہسپتالوں کے بجائے گھروں میں بچے پیدا کرنے کو فوقیت دینے لگیں ،تحقیق میں بتایا گیا کہ بچے کی پیدائش چاہے گھر میں ہو یا ہسپتال میں، رسک دونوں صورتحال میں ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔

    مغرب میں جاری حالیہ ایک تحقیق میں زچگی کے وقت یا ابتدائی 4 ہفتوں کے دوران بچوں کی اموات کے خطرے کے حوالے سے زچگی کی جگہ کے محفوظ ہونے کا جائزہ لیا گیا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ گھر اور ہسپتالوں میں زچگی کو لاحق خطروں میں طبی لحاظ سے کوئی خاص فرق نہیں ہے۔

    محقیقین کا کہنا ہے کہ ہمارے ہاں آج کل حاملہ خواتین کو یہ جملہ کتنی مرتبہ سننے کو ملتا ہے کہ پہلے کی خواتین ہسپتالوں کے چکر لگانے کے بجائے گھروں میں رہا کرتی تھی اور ان کے بچے کی پیدائش باآسانی گھروں میں ہی ہوجاتی تھی۔

    اس تحقیق میں یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ ایسی تمام ماؤں جو گھروں میں بچوں کی پیدائش کی خواہش رکھتی ہیں اور اس بارے میں جاننا چاہتی ہیں کہ یہ محفوظ ہے یا نہیں، کے لیے کی گئی تحقیق کے مطابق ایسی خواتین جن کے حمل میں خطرات پہلے سے ہی کم ہوتے ہیں انہیں ہسپتال میں بچوں کو جنم دینے والی خواتین کے مقابلے میں پیدائش کے وقت بچے کی اموات یا نوزائیدہ بچوں کی اموات کے اضافی خطرات لاحق نہیں ہوتے۔

    امریکی محققین نے اس تحقیق کو مکمل کرنے کے لیے 1990 کے بعد سے اس موضوع پر سامنے آنے والی 21 ریسرچز کا ڈیٹا استعمال کیا، جس میں گھر اور ہسپتال میں بچے پیدا کرنے کے خطرات اور فرق پر بات کی گئی۔ان ریسرچز میں سوڈان، نیوزی لینڈ، برطانیہ، جاپان، آسٹریلیا، کینیڈا اور امریکا کی خواتین کا ڈیٹا شامل کیا گیا۔یہ تحقیق طبی جریدے دی لینسٹ ای کلینکل میڈیسن (The Lancet’s EClinicalMedicine) میں شائع ہوئی۔

  • پرائمری  ہیلتھ کا کارنامہ ، فزیوتھراپسٹ کی خوشیوں پر پانی پھیر دیا

    پرائمری ہیلتھ کا کارنامہ ، فزیوتھراپسٹ کی خوشیوں پر پانی پھیر دیا

    لاہور : یہ ہوتی ہے تبدیلی ، عید الاضحیٰ‌پر ملازمین کی خوشیوں پر پانی پھیر دیا گیا . محکمہ پرائمری ہیلتھ میں بدانتظامی عروج پر، کنٹریکٹ میں توسیع نہ ہونے پر 103 فزیو تھراپسٹ عید پر تنخواہ سے محروم رہ جائیں گے،

    ذرائع کے مطابق تحصیل ہسپتالوں میں کنٹریکٹ پر کام کرنے والے 55 فزیوتھراپسٹ اور ڈسٹرکٹ ہسپتالوں میں کنٹریکٹ پر کام کرنے والے 48 فزیوتھراپسٹس کے کنٹریکٹ کی مدت میں توسیع نہ ہونے سے عید الاضحٰی پر بھی تنخواہ نہیں مل سکے گی۔

    فزیوتھراپسٹس ملازمت کے کنٹریکٹ کی تجدید کیلئے محکمہ پرائمری ہیلتھ کے چکر لگانے پر مجبور ہیں لیکن کنٹریکٹ کو توسیع دینے کا عمل سرخ فیتے کی نذر ہوچکا ہے۔ اپریل 2019 میں تحصیل ہسپتالوں میں کام کرنے والے فزیوتھراپسٹس کا کنٹریکٹ ختم ہوگیا جس کی تاحال تجدید نہیں ہوسکی ہے اور تین ماہ سے زائد عرصہ سے تحصیل ہسپتالوں میں بغیر تنخواہ کام کرنے پر مجبور ہیں۔

  • شیخوپورہ میں شجر کاری مہم کا آغاز

    شیخوپورہ(نمائندہ باغی ٹی وی) کلین اینڈ گرین مہم کے سلسلہ میں شجر کاری مہم کا آغاز

    شجر کاری مہم میں صوبائی وزیر، ضلعی افسران سمیت صحافیوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی
    نجی گلاس ساز فیکٹری کے تعاون سے ایک ہزار پودے لگائیں جائیں گے اس موقع پر ڈی سی شیخوپورہ کا کہنا تھا کہ کلین اینڈ گرین مہم تب ہی کامیاب ہوگی جب تمام شہری اس پرعمل درآمد کریں گےاور فضائی آلودگی کے خاتمے کے لیے ہر فرد کو اپنے حصے کا درخت لگا کر اس کی نشوونما کرنا ہوگی

    اس موقع پر صوبائی وزیر ڈیزاسٹر مینجمنٹ میاں خالد محمود کا کہنا تھا محض پودےلگانا مقصد نہیں ان کی دیکھ بھال بھی ضروری ہیں۔

    زیادہ سے زیادہ سبزہ لگاکر ماحول کو خوشگوار بنانا مقصدہے۔