Baaghi TV

Category: صحت

  • فیصل آباد، ماحولیاتی تحفظ کے لئے زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں۔ ڈویژنل کمشنر محمود جاوید بھٹی

    فیصل آباد ( ) ڈویژنل کمشنر محمود جاوید بھٹی نے کہا ہے کہ ماحولیاتی تحفظ کے لئے ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا شدت سے احساس کرنا چاہئے۔ اس سلسلے میں زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں تاکہ موسمیاتی تغیر کے مسائل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکیں۔ انہوں نے یہ بات پی ایچ اے کے زیر اہتمام گورنمنٹ ٹیکنیکل ہائی سکول پیپلزکالونی کے بالمقابل گرین بیلٹ میں پلانٹ فار پاکستان مہم کے تحت پودا لگاتے ہوئے کہی۔ چیئرمین پی ایچ اے / ایم پی اے لطیف نذر نے بھی مہم کے سلسلے میں پودا لگایا جبکہ ڈی جی پی ایچ اے محمد آصف چوہدری‘ ایڈیشنل کمشنرز رائے واجد علی‘ محبوب احمد‘ اسسٹنٹ کمشنر (ریونیو) ڈاکٹر انعم ساجد ملک‘ ڈائریکٹر پبلک سکولز چوہدری محمد اشرف و دیگر افسران نے بھی شجرکاری مہم میں حصہ لیا۔ ڈویژنل کمشنر نے کہا کہ مہذب اور ترقی یافتہ قومیں ماحولیاتی تحفظ پر گہری توجہ دے رہی ہیں اس سلسلے میں پاکستانی قوم کو بھی پیچھے نہیں رہنا چاہئے اور اپنی دھرتی سے پیار کرتے ہوئے ماحول کو خوشگوار اور صاف ستھرا رکھیں اور سرسبز و شادابی کے لئے زیادہ سے زیادہ پودے لگا کر ان کی آبیاری کریں۔ انہوں نے کہا کہ شجرکاری مہم میں شامل ہونے کا مقصد عام شہریوں کو پودے لگانے کی ترغیب دینا ہے تاکہ وسیع پیمانے پر پودے لگا کر خوشگوار‘ صحت مند اور آلودگی سے پاک ماحول ممکن ہو سکے۔ ڈویژنل کمشنر نے بتایا کہ موسم برسات کی رواں شجرکاری مہم کے دوران 10 لاکھ پودے لگائے جارہے ہیں جبکہ مختلف محکموں کے زیر اہتمام بھر پور انداز میں شجرکاری مہم جاری ہے۔ چیئرمین پی ایچ اے / ایم پی اے لطیف نذر نے کہا کہ پودے معاشرتی زندگی کا اہم حصہ ہیں جن کی بقاء کو بھی یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایچ اے کے زیر اہتمام رواں سیزن میں کم ازکم 60 ہزار پودے لگانے کا ہدف مقرر ہے۔ انہوں نے شہریوں سے کہا کہ اپنے حصے کا پودا لگا کر وزیر اعظم عمران خان کی پلانٹ فار پاکستان مہم میں شریک ہوں۔ ڈی جی پی ایچ اے نے بتایا کہ ڈویژنل کمشنر کی ہدایت پر شہر کے چاروں ٹاؤنز میں گزشتہ روز اڑھائی ہزار پودے لگائے گئے ہیں۔

  • چکن کے گوشت میں سفید لکریں ، سائنسدانوں نے خطرے کی گھنٹی بجادی

    چکن کے گوشت میں سفید لکریں ، سائنسدانوں نے خطرے کی گھنٹی بجادی

    بولونگا: چکن کے گوشت میں سفید لکیروں سے متعلق نئی تحقیق نے کھلبلی مچادی ہے. ماہرین کا کہنا ہےکہ سفید لکیروں کا نظر آنا حقیقت میں گوشت میں چربی کی مقدار کے زیادہ ہونے کو ظاہر کرتی ہے.

    حال ہی میں اٹلی کی بولونگا یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں اس حوالے سے عندیہ دیا گیا ہے کہ چکن کے گوشت میں ان لکیروں کی موجودگی ہمارے اندازوں سے زیادہ سنگین ہوسکتی ہے۔

    جریدے اٹالین جرنل آف انیمیل سائنس میں شائع تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جس چکن کے گوشت میں یہ لکیریں ہوتی ہیں، اس میں چربی عام معمول سے زیادہ ہوتی ہے بلکہ معمول کی چربی سے 224 فیصد زیادہ ہوسکتی ہے۔

    اٹلی کی بولونگا یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق 50 سال کے مقابلے میں اب چکن کا وزن لگ بھگ ڈھائی کلو زیادہ ہونے لگا ہے اور اس مقصد کے لیے پرندوں کو بہت زیادہ توانائی والی غذا کا استعمال کرایا جاتا ہے جس میں اکثر سپلیمنٹل پولٹری آئل کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔

    واضح رہے کہ ہمارے ہاں ویسے سفید لکیروں والا گوشت کھانے کے لیے محفوظ مانا جاتا ہے مگر اس کا ذائقہ بہت زیادہ اچھا نہیں ہوتا، کیونکہ وہ گوشت زیادہ سخت ہوتا ہے، ذائقہ کم اور زیادہ اچھی طرح میرنیڈ بھی نہیں ہوپاتا۔

  • ساہیوال:ناشتہ کرتے ہی متعدد افراد کی حالت غیر ہوگئی،کھانے میں ایسا کیا تھا؟

    ساہیوال:ناشتہ کرتے ہی متعدد افراد کی حالت غیر ہوگئی،کھانے میں ایسا کیا تھا؟

    ساہیوال:شہر کے معروف مقام باہر والا اڈہ پر ایک سٹال سے ناشتہ کرتے ہی متعدد افراد کی حالت غیر ہوگئی،متائثرہ افراد قے کرنے لگے اور ان پر بے ہوشی طاری ہونا شروع ہوگئی،ریسکیو 1122 نے بروقت کاروائی کرتے ہوئے متائثرین کو طبی امداد دی اور ہسپتال منتقل کیا،تفصیلات کے مطابق ساہیوال میں باہر والا اڈا کے مقام پر مسافروں نے ایک سٹال سے ناشتہ کیا لیکن جوں ہی وہ نوالے حلق سے اتارتے گئے ان کی حالت غیر ہونا شروع ہوگئی،سٹال پر موجود کھانے کو چیک کیا گیا تو اس میں سے چھپکلی برآمد ہوئی،تاہم ریسکیو1122نے فوری اور بروقت امدادی آپریشن کرتے ہوئے انہیں ابتدائی طبی امداد مہیا کی اور مریضوں کو ہسپتال منتقل کیا،ہسپتال منتقل کیے جانے والے گیارہ افراد میں سے 9 متائثرین کو ضروری علاج معالجے کے بعد ڈسچارج کردیا گیا جبکہ دو افراد کی حالت زیادہ خراب ہونے کی بنا پر ان کو روک لیا گیا تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے،
    یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی سمیت دیگر ادارے محض فوٹو سیشن تک محدود ہیں جبکہ شہر میں جابجا مضر صحت کھانا اور ناقص گوشت سرعام فروخت ہورہا ہے،دوسری طرف ڈپٹی کمشنر محمد زمان وٹو کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق پنجاب فوڈ اتھارٹی کو تمام فوڈ پوائنٹس اور کھانے کی ریڑھیوں کی سخت چیکنگ کرنے کی ہدایات کردی گئیں ہیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات سے بچا جاسکے

  • فیصل آباد میں "ویلج واش کمیٹی” کے قیام کی افتتاحی تقریب، اہم راہنماوں کی شرکت

    فیصل آباد( نمائندہ باغی ٹی وی )ڈویژنل کمشنر محمود جاوید بھٹی نے کہا ہے کہ حکومتی سطح پر دیہاتوں ودوردراز علاقوں میں صفائی ستھرائی،پینے کے صاف پانی کی فراہمی سمیت دیگر بنیادی سہولیات کو یقینی بنانے کے لئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں تاہم اپنی مدد آپ کے تحت دیہی علاقوں میں صاف ستھرے و خوشگوار ماحول کو پروان چڑھانے میں حصہ لینے والوں کے فلاحی اقدامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جن کی بھرپور سرپرستی اور حوصلہ افزائی جاری رکھی جائے گی۔انہوں نے یہ بات چک 4ج ب ارفع کریم آباد میں ”ویلج واش کمیٹی“کے قیام کی افتتاحی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔ڈپٹی کمشنر طارق خان نیازی،اسسٹنٹ کمشنر(جنرل) مصور خاں نیازی،چیف کوآرڈینیٹر کمیٹی خاور شفیق رندھاوا،محمد عظیم رندھاوا،سماجی کارکن نذیر احمد وٹو کے علاوہ اہل دیہہ بڑی تعداد میں شریک تھے۔ڈویژنل کمشنر نے ویلج واش کمیٹی کے قیام کو سراہا اور کہا کہ دیگر دیہاتوں کو بھی اس اقدام کی پیروی کرتے ہوئے صحت مند معاشرے کی بنیادیں مضبوط کرنی چاہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈویژن بھر میں کلین اینڈ گرین پنجاب پروگرام پر بھی بھرپور انداز میں عملدرآمد کے حوصلہ افزاء نتائج حاصل ہوئے ہیں جس کا تسلسل آئندہ بھی برقرار رہے گا۔ڈویژنل کمشنر نے اہل دیہہ پر زور دیا کہ وہ خواتین کو بھی ویلج واش کمیٹی میں مناسب نمائندگی دیں تاکہ کمیٹی کے قیام کے حقیقی مقاصد حاصل ہوسکیں۔انہوں نے مرحومہ ارفع کریم کی خدمات کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ ارفع نے آئی ٹی کے میدان میں جودیاجلایا وہ ہمیشہ روشن رہے گا۔ڈپٹی کمشنر نے اپنی مدد آپ کے تحت ارفع کریم آباد میں ویلج واش کمیٹی کے شاندار اقدام کی تعریف کی اور کہا کہ ضلعی انتظامیہ ایسے فلاحی اقدامات کی بھرپور سپورٹ کرے گی۔انہوں نے کہا کہ گاؤں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی یقینی بنائیں گے۔انہوں نے صفائی کی اہمیت وافادیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دین اسلام نے صفائی کو نصف ایمان قرار دیا ہے لہذا اس مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں جذبہ کے تحت آگے بڑھایا جائے۔چیف کو آرڈینیٹر نے ویلج واش کمیٹی کے قیام کی افتتاحی تقریب میں شرکت پر ڈویژنل کمشنر محمود جاوید بھٹی اور ڈپٹی کمشنر طارق خان نیازی کا شکریہ ادا کیا اور کمیٹی کے قیام کے اغراض ومقاصد پرروشنی ڈالی۔انہوں نے بتایا کہ اہل دیہہ کے تعاون سے صفائی کے نظام میں جدت لائی جارہی ہے۔اس سلسلے میں عارضی ویسٹ ورکرز کی خدمات حاصل اور اس اقدام میں اہل دیہہ بھر پور انداز میں شریک ہیں۔انہوں نے گاؤں کو درپیش دیگر مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ گاؤں کو آنے والی سڑک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے جبکہ سوئی گیس وپینے کے صاف پانی کی فراہمی کی اشد ضرورت ہے۔قبل ازیں ڈویژنل کمشنر محمود جاوید بھٹی اور ڈویژنل کمشنر طارق خان نیازی نے فیتہ کاٹ کر ویلج واش کمیٹی کے قیام کا افتتاح کیا۔

  • فیصل آباد ضلع میں 4 لاکھ 11 ہزار مستحق خاندانوں میں صحت کارڈ کی تقسیم

    فیصل آباد( نمائندہ باغی ٹی وی )وزیراعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے ویژن کے مطابق ضلع میں 4لاکھ 11ہزار مستحق خاندانوں میں صحت انصاف کارڈ تقسیم کئے جارہے ہیں جس کی بدولت ایک خاندان کے افراد سالانہ 7لاکھ 20ہزارروپے تک پینل میں شامل سرکاری ونجی ہسپتالوں سے مختلف بیماریوں کا علاج معالجہ کراسکیں گے۔صحت انصاف کارڈز تقسیم کرنے کی تقریب میونسپل کارپوریشن کے ہال میں منعقد ہوئی جس کے مہمان خصوصی وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے ریلویز میاں فرخ حبیب تھے۔ڈویژنل کمشنر محمود جاوید بھٹی،ڈپٹی کمشنر طارق خان نیازی،چیئرمین پی ایچ اے/ایم پی اے لطیف نذر،وائس چیئرمین واسا شیخ شاہد جاوید،سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر مشتاق سپرا،میڈیکل سپرنٹنڈنٹس الائیڈ،ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال وچلڈرن ہسپتال ڈاکٹر خرم الطاف،ڈاکٹر خالد فخر،ڈاکٹر حبیب بٹر،میاں نبیل ارشداوردیگر پارٹی کارکن بھی موجود تھے۔وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے ریلویز نے کہا کہ صحت انصاف کارڈ پروگرام اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کی جانب اہم قدم اور وزیراعظم عمران خان کی طرف سے کئے گئے وعدے کی تکمیل ہے جس کی بدولت رواں مالی سال میں ضلع فیصل آباد کی 22فیصد آبادی مستفید ہوگی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے گزشتہ روز دورہ فیصل آباد سے صحت انصاف کارڈ کی تقسیم کا آغاز کیااور اس سلسلے کو آگے بڑھایا جارہا ہے جس کے تحت ضلع کا کوئی مستحق کارڈ کی سہولت سے محروم نہیں رہے گا۔وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے ریلویز نے کہا کہ صحت انصاف کارڈ کو ہر حقدار تک پہنچانے کے لئے دوبارہ سروے بھی کرایا جارہا ہے۔انہوں نے کارڈ حاصل کرنے والوں سے کہا کہ وہ دھوکہ بازوں سے ہوشیار رہیں کیونکہ صحت انصاف کارڈ کی کوئی فیس نہیں جبکہ انتظامی سطح پر مانیٹرنگ سسٹم بھی وضع کریں گے تاکہ ایسی کسی شکایت پر فوری کارروائی ہوسکے۔انہوں نے صحت انصاف کارڈ حاصل کرنے والوں کو مبارکباد دی اور کہا کہ شعبہ صحت کی ترقی موجودہ حکومت کی ترجیحات میں سر فہرست ہے اور جدید علاج معالجہ کی سہولیات کے ثمرات غریب ونادار مریضوں تک پہنچائے جارہے ہیں۔ڈویژنل کمشنر محمود جاوید بھٹی نے صحت انصاف کارڈ کو موجودہ حکومت کا انقلابی قدم قرار دیا اور کہا کہ اس کی بدولت غریب ومستحق مریضوں کو علاج معالجہ کی سہولیات میسر آئیں گی۔انہوں نے کہا کہ ڈویژن بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجہ کی سہولیات کا جائزہ لینے کے لئے دورے بھی کئے جارہے ہیں۔ڈپٹی کمشنر نے صحت انصاف کارڈ پروگرام کے تحت کارڈ حاصل کرنے والوں کومبارکباد دی اور کہا کہ آئندہ مرحلے میں شروع کئے جانے والے سروے میں ضلعی انتظامیہ کی طرف سے بھرپور معاونت فراہم کی جائے گی تاکہ حقیقی معنوں میں حقدار ہی فہرست میں شامل ہوسکیں۔چیئرمین پی ایچ اے/ایم پی اے لطیف نذراوروائس چیئرمین واسا شیخ شاہد جاوید نے کہا کہ شعبہ ہیلتھ میں صحت انصاف کارڈ انقلاب ہے جسے صوبہ کے کونے کونے تک پہنچایا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو راحت اوریلیف فراہم کرنا ہی پنجاب حکومت کامشن ہے۔قبل ازیں میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے ریلویزمیاں فرخ حبیب نے کہا کہ صحت انصاف کارڈ کی بدولت صوبہ بھر میں اب تک مختلف نوعیت کے 91ہزار آپریشنز اور ساڑھے تین لاکھ مریضوں نے او پی ڈی سے علاج کی سہولیات حاصل کی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے شعبہ صحت پر ذرا بھی توجہ نہ دی لیکن وزیر اعظم عمران خان نے حلف اٹھاتے ہی پسماندہ طبقات کی فلاح کے لئے قدم اٹھایا اور صحت انصاف کارڈ کا اجراء کیا جس کی بدولت غریب آدمی بھی صحت کی بہترین سہولیات حاصل کررہا ہے۔اس موقع پر صحت انصاف کارڈ حاصل کرنے والے مستحقین نے وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا شکریہ ادا کیا۔

  • پھولوں کی قدر کیا کرو ، پھول اور کینسر کے تعلق نے سب کو حیران کردیا

    پھولوں کی قدر کیا کرو ، پھول اور کینسر کے تعلق نے سب کو حیران کردیا

    برمنگھم:قدرت نے اس کائنات میں کوئی چیز بے مقصد پیدا نہیں کی ، جن پھولوں کو ہم اپنے پاوں تلے مسل دیتے ہیں ان کو نہ مسلا کرو یہ انسانوں کی زندگی کا سبب بنتے ہیں ، ماہرین طب کی تحقیقات سامنے آئیں ہیں‌جن میں یہ کہا گیا ہے کہ سدا بہار کے پھول میں کینسر کے خلاف اجزا ایک عرصہ قبل دریافت ہوچکے ہیں جس کی بنا پر بعض دوائیں بھی بنائی گئی ہیں۔ اب ایک اور پھول میں ایسے ہی خواص ملے ہیں اور یہ پھول بھی عام پایا جاتا ہے۔

    وہ پھول جو انسانی جسم میں کینسر جیسی موذی مرض کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرتے ہیں ان میں عاقر قرحا یا فیورفیو پھول دیکھنے میں انتہائی خوشنما لگتا ہے۔یہ پھول حکمت اور روایتی ادویہ سازی میں اسے صدیوں سے استعمال کیا جارہا ہے۔اس سے پہلے یہ پھول کئی اقسام کے درد اور بالخصوص دردِ سر میں استعمال ہوتا رہا ہے۔ لیکن اب یونیورسٹی آف برمنگھم کے ماہرین نے خاص طور پر اس کے پودے کے پتوں سے کینسر کے خلاف اہم جزو یا مرکب (کمپاؤنڈ) دریافت کیا ہے۔

    جدید سائنسی اصطلاحات میں اس مرکب کا نام پارتھینولائڈ ہے جو دیگر پودوں میں تو ہوتا ہے لیکن اس کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔ دوسری جانب یہ فیورفیو کے پودے کے پھول دینے کے آخری مرحلے میں غیر معمولی طور پرزیادہ پیدا ہوتا ہے۔

    برمنگھم یونیورسٹی کے محققین نے اسی پودے سے پارتھینو لائڈ کشید کرنے کی کوشش ہے۔ ان تھک محنت سے ماہرین نے اس مرکب سے مزید ذیلی اجزا یا ڈرائیویٹوز کشید کئے ہیں ۔ نکالے گئے کیمیکل کی تعداد 71 تھی جنہیں باری باری آزمایا گیا۔ ان میں سے ایک مرکب بہت کارآمد ثابت ہوا۔ پھر یہ مرکب زندہ خلیات کے ساتھ بہت سرگرم بھی دیکھا گیا جس میں بہتر ادویاتی خواص بھی دیکھے گئے۔

    برمنگھم یونیورسٹی کے طبی ماہرین کی ٹیم کا کہنا ہے کہ جب اس مرکب کوکرونِک لمفوسائٹک لیوکیمیا کے خلیات اورآزمائشی ڈشوں پر آزمایا گیا تو یہ انہیں ختم کرنے میں بہت مؤثر ثابت ہوا۔ اس کی وجہ جاننے کے لیے غور کیا گیا تو معلوم ہوا کہ مرکب ری ایکٹوو آکسیجن اسپیشیز (آراوایس) کی تعداد گھٹاتا ہے جو صحتمند خلیات کے لیے زہریلے ثابت ہوتے ہیں۔ آراوایس کینسرزدہ خلیات میں پہلے ہی دریافت ہوچکے ہیں۔

  • جگر کے مریضوں کے لیے خوشخبری ، کیا ہے وہ ؟ ماہرین طب نے بتا دیا

    جگر کے مریضوں کے لیے خوشخبری ، کیا ہے وہ ؟ ماہرین طب نے بتا دیا

    لندن : علم میں‌وسعت ، نئی تحقیق اور سائنس نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ جگرکا دوبارہ بننا اب ممکن ہوگیاہے ،اس سے پہلے کئی بیماریوں سے جگر جیسا حساس عضو مکمل طور پر ناکارہ ہوجاتا ہے جس کے بعد صرف جگر کے عطیے اور پیوندکاری سے ہی مریض کو زندہ رکھا جاسکتا ہے۔ تاہم ماہرین طب کے مطابق اب جگر میں بھی خلیاتِ ساق (اسٹیم سیل) دریافت ہوئے ہیں جس کے بعد آج نہیں تو کل جگر کے مریضوں کو عطیے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

    جگر کی بیماریوں اور اس کی ساخت کے حوالے سے بڑے عرصے سے جاری تحقیقات میں کنگز کالج آف لندن کے ماہرین جگر کے مریضوں کے لیے نئی خوشخبری لے کر آئے ہیں ، تفصیلات کے مطابق کنگز کالج لندن کے محققین نے پیدائش کے بعد انسانی بچے کے جگر میں ایک نیا قسم کا خلیہ (سیل) دریافت کیا ہے۔ یہ اسٹیم سیل یا خلیاتِ ساق جیسا ہے اور ماہرین کا خیال ہے کہ وہ دن دور نہیں جب ان خلیات سے جگر کے حصوں کو دوبارہ فروغ دے کر اس سے جگر کی مرمت کرسکیں گے۔

    مسلمان ماہرطب تامر رشید کہتے ہیں کہ انسانی جگر میں حقیقی اسٹیم سیل کی طرح خلیات ملے ہیں۔ اس سے اعضا کو دوبارہ فروغ دینے والے کئی طریقے سامنے آئیں گے۔ ان سےجگر کا علاج آسان ہوگا اور شاید جگر کی منتقلی کی ضرورت بھی نہیں رہے گی۔

    کنگز کالج آف لندن میں سنگل سیل آراین اے طریقے کے ذریعے نومولود بچوں اور بالغوں میں جگر کے خلیات کا تفصیلی مطالعہ کیا گیا۔ ماہرین طب نے دعویٰ کیا ہےکہانہوں نے ایک خاص طرح کا خلیہ دیکھا جسے ہیپاٹوبائلیئری ہائبرڈ پروجینیٹر سیل یا ایچ ایچ وائی پی کا نام دیا گیا ہے۔ یہ عین اسٹیم سیل جیسا دکھائی دیتا ہے۔

    چند دن قبل لندن کنگز کالج کے طب پر مشمتل ماہرین نے ایک تحقیقی رپورٹ جاری کی جس کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ تجربات کے دوران مزید غور سے دیکھنے پر معلوم ہوا کہ ایسے خلیات عین چوہے کے پروجینیٹر خلیات کی طرح کام کررہے ہیں۔ بعد میں ان خلیات کو چوہے کے متاثرہ جگر کی مرمت کرتے ہوئے دیکھا گیا اور وہ بھی حیرت انگیز طور پر بہت کم وقت میں ہوا۔ اب تک انسانوں میں یہ خواص سامنے نہیں آئے تھے۔

    کنگز کالج سے وابسہ مسلمان ماہرطب تامر رشید کہتے ہیں‌ اگر جگر کے خلیات اسی طرح کا برتاؤ کرسکیں تو ایک نہ ایک دن ہم اپنے متاثرہ جگر کی مرمت ازخود کرسکیں گے۔ تامر رشید کہتے ہیں‌کہ نودریافت شدہ ایچ ایچ وائے پی خلیات دو اہم اقسام کے جگری خلیات کی تشکیل کرسکتے ہیں جن میں ایک تو ہیپاٹوسائٹس ہیں اور دوسرے کولنگایوسائٹس یا بی ای سی ہیں۔ یہ دونوں اقسام کے خلیات بہت حد تک جگر کے کئی امراض کو ختم کرسکتے ہیں۔ اس طرح ایچ ایچ وائے پی جگر کے کئی امراض کا شافی علاج ثابت ہوسکتا ہے۔

  • کن افراد کو صحت کارڈ جاری کیے جائیں گے؟ محکمہ صحت نے اعلان کر دیا

    فیصل آباد (اے پی پی)محکمہ صحت کے حکام نے کہا ہے کہ صرف پاکستان و پنجاب بیت المال، زکوٰۃ و عشر ڈیپارٹمنٹ اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے امداد لینے والے مستحق افراد کو ہی صحت انصاف کارڈز جاری کئے جائیں گے۔ جمعہ کے روز فیصل آباد اور چنیوٹ میں صحت انصاف کارڈز کی تقسیم کی افتتاحی تقریب کے موقع پر محکمہ صحت کے حکام نے بتایاکہ صرف انہیں مستحق و غریب اور بے سہارا خاندانوں کو صحت انصاف کارڈ جاری کئے جائیں گے جو پہلے ہی مالی معاونت فراہم کرنے والے اداروں سے امداد حاصل کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایاکہ متعلقہ افراد موبائل فون کے ذریعے 8500 نمبرپر اپنا شناختی کارڈ نمبر میسج کرکے اپنی صحت انصاف کارڈ کی اہلیت کے بارے میں تصدیق حاصل کرسکتے ہیں۔انہوں نے بتایاکہ میسج کے جواب میں متعلقہ شخص کو بتایا جائے گا کہ اسے صحت انصاف کارڈ کس جگہ سے جاری ہوگا اس طرح مستحق افراد مقرر ہ جگہ پر جاکر بآسانی کارڈ جاری کرواسکتے ہیں۔

  • ملک میں مون سون بارشیں ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتی ہیں، ماہرین نے خبردار کردیا

    ملک میں مون سون بارشیں ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتی ہیں، ماہرین نے خبردار کردیا

    کراچی: پاکستان میں مون سون بارشوں کے بعد طبی ماہر نے خبردار کیا ہے کہ شہر قائد میں ہونے والی مون سون کی بارشیں ہیپاٹائٹس اے اور ای کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتی ہیں۔

    کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر وسیم جعفری کا کہنا تھا کہ مون سون کی ہونے والی بارشیں ’’ہیپاٹائٹس اے اور ای کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتی ہیں کیونکہ سندھ میں پہلے ہی یہ مرض خطرناک صورت اختیار کرچکا ہے۔

    کراچی میں‌ہونے والے اس اجلاس میں‌انہوں نے بتایا کہ جگر کی سوزش کو بھی ہیپاٹائٹس کہتے ہیں، زندگی کے لئے جگر کا صحت مند ہونا لازمی ہے، ہیپاٹائٹس ’اے‘ اور ’ای‘ ناقص غذا اور آلودہ پانی کے سبب ہوتے ہیں جو پاکستان میں بہت زیادہ عام ہیں اور بارش کے بعد آلودہ پانی گھروں میں فراہم کیا جاتا ہے۔

  • ماں کے دودھ کی افادیت کیا ہیں؟ گوجرانوالہ میں اس پر ہفتہ منایا جا رہا ہے

    گوجرانوالہ : سی ای او ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی گوجرانوالہ ڈاکٹر فرجاد احمد نے کہا ہے کہ ضلع بھر میں ایک تا7- اگست 2019 ماں کے دودھ کی افادیت کا ہفتہ منایا جا رہا ہے جس میں دودھ پلانے والی ماؤ ں پر خصوصی توجہ دی جائے گی جس میں یہ بتایا جائے گا کہ ماں کادودھ بچے کی بہترین ذہنی نشوو نما کر تاہے ماں کاددھ زود ہضم اور قبض کشا ہے – اسہال اور پیٹ کی خرابی سے حفاظت کرتاہے بچے میں قوت مدافعت پیدا کرتاہے اور بچے کو مختلف بیماریوں سے بچا تاہے- دو سال کی عمر تک اضافی خوراک کے ساتھ ماں کا دودھ بھی جاری رکھا جائے-
    انہو ں نے کہا کہ ماں کے دودھ کی افایت کے ہفتہ کے دوران ضلع بھر میں کم از کم 292359 ماؤں اور بالغ بچیوں کو بچے کے لئے ماں کادودھ نہ پینے کے نقصانات، ماں کے لئے بچے کو دودھ پلانے کے فوائد او رماں کو اپنی اور بچے کی صحت بہتر بنانے کے مشورے بھی دیئے جائیں گے اور تقریبًا2400000 آبادی کو کور کیاجائے گا جس میں رولر آبادی100 فی صد کور کی جائے گی- ماں کے دودھ کی افادیت کے ہفتہ کے دوران آئی آر ایم این سی ایچ پروگرام کے تحت1523 لیڈی ہیلتھ ورکرز 65+14 لیڈ ی ہیلتھ سپر وائزرز کے ذریعے گھر گھر جاکر ماں کے دودھ کی اہمیت اجاگر کریں گی- بچوں اور حاملہ خواتین کا چیک اپ اور ویکسینیشن بھی کروائی جائے گی اور دو سال سے کم عمر بچوں کو حفاظتی ٹیکے بھی لگائے جائیں گے- ماں کے دودھ کی افادیت کے ہفتہ کے دوران شادی شددہ جوڑوں کو فیملی پلاننگ کے مفید مشورے دیں گے اور فیملی پلاننگ کی اشیاء بھی مہیا کی جائیں گی اور تمام لیڈی ہیلتھ ورکرز اور لیڈی ہیلتھ سپر وائزرز مل کر کمیونٹی میں ہیلتھ آگاہی سیشن بھی کریں جس میں خاص طو ر پر بچے کی زندگی کے ابتداءي ایک ہزار دنوں کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے گی-
    سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر فرجاد احمد نے مزید کہا کہ 80 سکول ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن سپروائزر دیہی علاقوں میں پبلک سیکٹر کے تمام سکولوں کو کور کریں گے اور صحت اور صفاءي کو بہتر بنانے کیلئے لیکچر بھی دیں گے -خواتین سکول ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن سپروائزر ضلع بھر کے مختلف خواتین کالجز میں بھی ماں کے دودھ کی اہمیت پر لیکچر دیں گے-