Baaghi TV

Category: صحت

  • انسانی جان سے بڑھ کر کوئی چیز مقدم نہیں:پرنسپل جنرل ہسپتال

    انسانی جان سے بڑھ کر کوئی چیز مقدم نہیں:پرنسپل جنرل ہسپتال

    انسانی جان سے بڑھ کر کوئی چیز مقدم نہیں:پرنسپل جنرل ہسپتال
    پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسرڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے کہا ہے کہ دکھی انسانیت کی خدمت دین اسلام کی اولین صفت ہے کیونکہ انسانی جان سے بڑھ کر کوئی بھی چیز مقدم نہیں۔انہوں نے کہا کہ اس میدان میں محنت اور لگن کے ساتھ خدمات سر انجام دینے والے لوگوں میں سر فہرست ہیلتھ پروفیشنلز ہیں جو اپنی خوشیوں کی پروا ہ نہ کرتے ہوئے عید جیسے پر مسرت موقع پر بھی ہسپتال میں اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں اور اپنے اہل خانہ کی بجائے وارڈ میں زیر علاج مریضوں کی دیکھ بھال کر کے اُن کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرتے ہیں۔

    ان خیالات کا اظہار پروفیسر الفرید ظفر نے عید کی سرکاری تعطیلات کے دوران لاہور جنرل ہسپتال میں ڈیوٹی پر مامور ڈاکٹرز،نرسز اور پیرا میڈیکس کے علاوہ مریضوں و لواحقین سے گفتگو میں کیا۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر خالد بن اسلم،ڈاکٹر ریاض حفیظ، ڈاکٹر عبدالعزیز سمیت دیگر انتظامی ڈاکٹرز بھی ان کے ہمراہ تھے جبکہ پرنسپل پروفیسر الفرید ظفر نے لاہور جنرل ہسپتال کے تمام شعبوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ یہ امر قابل ذکر ہے پرنسپل پی جی ایم آئی سمیت انتظامی ڈاکٹرز عید کی چھٹیوں میں بھی ہسپتال میں موجود رہے جس سے نوجوان طبی عملے کا حوصلہ بلند ہوا۔ پروفیسر الفرید ظفر نے فرداًفرداً مریضوں کے بستر پر جاکر اُن کی خیریت دریافت کی اور جلد صحت یابی کی دعا کرنے کے علاوہ اُن میں مٹھائی بھی تقسیم کی۔ انہوں نے ڈاکٹرز،نرسز کے دکھی انسانیت کے خدمت کے جذبے کو سراہا اور انہیں چھٹیوں میں فرائض کی ادائیگی پر شاباش دی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پرنسپل پی جی ایم آئی کا کہنا تھا کہ دوسروں کے لئے بے لوث قربانی کا جذبہ رکھنے والے اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ افراد ہوتے ہیں لہذا ہمیں ہر پل مصیبت میں گھرے لوگوں کے دکھ درد کوکم کرنے اور اُن کے زخموں پر مرحم رکھنے کیلئے خلوص نیت کے ساتھ کوششیں کرنی چاہئیں کیونکہ دکھ اور تکلیف میں مبتلامریضوں کے دلوں سے نکلی ہوئی دعائیں ڈاکٹرز،نرسز کا مقدر بدلنے کا وسیلہ بنتی ہیں۔

    میڈیکل سپرنٹنڈنٹ جنرل ہسپتال ڈاکٹر خالد بن اسلم نے پرنسپل پروفیسر الفرید ظفر کو بریفنگ میں بتایا کہ حکومت پنجاب کی پالیسی کے تحت دوران عید مریضوں کو سرنج سے لے کر آپریشن کا سامان،تشخیصی ٹیسٹ،سی ٹی سکین، الٹرا ساؤنڈ، ایکسرے اور ادویات مفت فراہم کی گئیں جبکہ ان دنوں میں ڈائلسز سینٹر بھی 24گھنٹے فنکشنل رہا تاکہ گردوں کے مرض میں مبتلا مریضوں کو کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے بتایا کہ تمام شعبوں میں ملازمین کی حاضری یقینی بنائی گئی،صفائی ستھرائی پر بھی خصوصی توجہ دی گئی جبکہ ہسپتال آنے والے شہریوں کو حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق ماحول میسر کیا گیا۔ پروفیسر الفرید ظفر نے کہا کہ ہسپتال کے تمام شعبوں کے سینئر ڈاکٹرز اور انتظامیہ کی باہمی کو آرڈینیشن سے مریضوں کا علاج معالجہ بلا تعطیل بہتر انداز میں کیا گیا لہذا ہمیں مستقبل میں بھی اسی پالیسی پر کاربند رہنا ہوگا اور اس ادارے کا نام مزید روشن کرنے کیلئے ہر شخص کو مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔

    پشاور میں پہلی بار خواجہ سراء کو منتخب کر لیا گیا، آخر کس عہدے کیلئے؟

    خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزمان گرفتار

    دوستی نہ کرنے کا جرم، خواجہ سراؤں پر گولیاں چلا دی گئیں

    مردان میں خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالے ملزما ن گرفتار

    خواجہ سرا کے ساتھ بازار میں گھناؤنا کام کرنیوالے ملزمان گرفتار

    خواجہ سرا بھی اب سکول جائیں گے، مراد راس

  • ڈبلیو ایچ او نے بھی سویٹنر کو کینسر کے خطرے کا باعث قرار دے دیا

    ڈبلیو ایچ او نے بھی سویٹنر کو کینسر کے خطرے کا باعث قرار دے دیا

    عالمی ادارہ صحت نے سویٹنر اسپارٹیم کو جولائی میں انسانوں میں کینسر کا ممکنہ باعث قرار دیے جانے کا امکان ظاہر کیا جبکہ خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ڈبلیو ایچ او کے زیرتحت کام کرنے والے انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر (آئی اے آر سی) کی جانب سے جولائی میں اس حوالے سے سفارشات جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

    اسپارٹیم کو اکثر شوگر فری مشروبات اور کھانے کی اشیا میں استعمال کیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ آئی اے آر سی کی جانب سے 14 جولائی کو اسپارٹیم کو کینسر کا خطرہ بڑھانے والا ممکنہ جز قرار دیا جا سکتا ہے۔ اسپارٹیم بغیر بو کا سفید اور کم کیلوریز والا ایک سویٹنر ہے جو عام چینی کے مقابلے میں لگ بھگ 200 گنا زیادہ میٹھا ہوتا ہے۔ آئی اے آر سی کی جانب سے اس حوالے سے سفارشات کو ماہرین کے اجلاس کے بعد طے کیا گیا تھا، مگر اس کا اعلان 14 جولائی کو کیا جائے گا۔ ڈبلیو ایچ او کی غذائی اجزا کے حوالے سے قائم ماہرین کی کمیٹی کا بھی اجلاس جون کے آخر میں شروع ہوگا جس کی سفارشات 14 جولائی کی جاری کی جائیں گی۔ اس اجلاس میں بتایا جائے گا کہ ایک پراڈکٹ جیسے اسپارٹیم کو ایک شخص کتنی مقدار میں استعمال کر سکتا ہے اور اس حوالے سے کن قوانین کی ضرورت ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    قرض پروگرام کےحصول کیلئے وزیر اعظم نےاہم کردارادا کیا. اسحاق ڈار
    نرس کے ساتھ زیادتی،ڈاکٹر نے نازیبا ویڈیو بھی بنا لی
    چین نے پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا،سری لنکن صدر نے بھی "مدد”کی وزیر اعظم
    بھارت میں جانوروں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے کے واقعات میں اضافہ
    وزیراعظم نے ایف سی اور رینجرز کی تنخواہیں پاک فوج کے برابر کردیں

    خیال رہے کہ مئی 2023 میں عالمی ادارہ صحت نے مصنوعی مٹھاس کو مضر صحت قرار دیا تھا۔ عالمی ادارے کی جانب سے مصنوعی مٹھاس کے حوالے سے نئی گائیڈ لائنز میں کہا گیا تھا کہ سویٹنرز سے وزن گھٹانے میں مدد نہیں ملتی بلکہ امراض قلب کا خطرہ بڑھتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کا کہنا تھا کہ مصنوعی مٹھاس کے استعمال سے ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ بھی بڑھتا ہے جبکہ اس کی کوئی غذائی افادیت بھی نہیں۔ اسپارٹیم کے حوالے سے کافی عرصے سے تحقیقی کام ہو رہا ہے اور مارچ 2022 میں فرنچ نیشنل انسٹیٹیوٹ فار ہیلتھ اینڈ میڈیکل ریسرچ کی تحقیق میں کہا گیا تھا کہ اس مصنوعی مٹھاس سے لوگوں میں کینسر کا خطرہ بڑھتا ہے۔ دسمبر 2022 میں ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ سویٹنر کے استعمال سے چوہوں میں انزائٹی بڑھتی ہے۔

  • قربانی کا گوشت کتنے عرصے تک فریز کر سکتے ہیں؟

    قربانی کا گوشت کتنے عرصے تک فریز کر سکتے ہیں؟

    ماہرین کا کہنا ہے کہ عید الاضحیٰ کے موقع پر قربانی کا گوشت 2 سے 3 ہفتوں تک فریز کر سکتے ہیں-

    باغی ٹی وی : کِنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے پروفیسر آف میڈیسن ڈاکٹر اسرارالحق طور نے خبردار کیا ہے کہ عید الاضحیٰ پر بے احتیاطی بیماری کا باعث بن سکتی ہے۔ دل کے امراض میں مبتلا افراد ، جِگر، ذیابطیس، کولیسٹرول، بلند فشار خون، گردوں اور یورک ایسڈ کے مریضوں کیلئے عید پر احتیاط لازم ہے۔

    ڈاکٹر اسرار الحق کا کہنا تھا کہ ہائی بلڈ پریشر کے مریض گائے کا گوشت کھانے سے پرہیز کریں جبکہ بازاری مصالحوں سے بنے کھانوں سے بھی پرہیز ضروری ہےشوگر اور دل کے مریض بھی گوشت اپنی عمر کے حساب سے کھائیں دو تین دن گوشت کھانے سے کچھ نہیں ہوتا لیکن جو بزرگ افراد ہیں انہیں چاہیے کہ وہ گوشت صرف اتنا کھائیں جتنا ہضم کرسکتے ہیں حد سے زیادہ گوشت کھانے کے نتیجے میں پیٹ کے مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں آپ ڈائریا کا شکار ہوسکتے ہیں، ساتھ ہی بدہضمی اور پیٹ میں مروڑ بھی اٹھ سکتے ہیں

    عیدالاضحیٰ پر کون کون مزیدار پکوان کیے جا سکتے ہے؟

    انہوں نے کہا کہ قربانی کے گوشت کو دو سے تین ہفتوں سے زائد فریز کرنا درست نہیں۔ اس عمل سے گوشت کی افادیت متاثر ہوتی ہے اور گوشت میں بیکٹیریا کی نشونما ہوسکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں آپ کو پیٹ کی بیماریاں لاحق ہوسکتی ہیں-

    وزیراعظم اور آرمی چیف پاک فوج کے جوانوں کے ساتھ عید کا دن گزارنے پہنچ …

  • جاپان میں نئے جان لیوا وائرس کا انکشاف

    جاپان میں نئے جان لیوا وائرس کا انکشاف

    ٹوکیو: جاپان میں نئے جان لیوا وائرس کا انکشاف ہوا ہے، وائرس نے خاتون کی جان لے لی۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کے مطابق نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف انفیکٹیو ڈیزیز(این آئی آئی ڈی) اور وزارت صحت، محنت اور بہبود کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق نئے جان لیوا وائرس کا نام اوز ہے ٹوکیو کی رہائشی 70 سالہ خاتون گزشتہ سال اس وائرس سے متاثر ہوئی تھی جس نے کبھی بیرون ملک سفر نہیں کیا بلکہ اسے ہائی بلڈ پریشر سمیت بنیادی بیماریاں لاحق تھیں۔

    اسپتال لائی گئی مریضہ کا تفصیلی معائنہ کیا گیا تو خاتون کی دائیں ٹانگ پر ایک خون چوسنے والا کیڑا “ٹک” خون چوستا ہوا پایا گیا تاہم اسپتال میں داخل ہونے کے 26 دن بعد دل کی سوزش مایو کارڈائٹس کی علامات کی وجہ سے اس کی موت واقع ہو گئی۔

    ٹائٹن کے زیر سمندر پھٹنے کی تحقیقات شروع

    وزارت نے کہا کہ اگرچہ جنگلی حیات اور انسانوں میں ٹک سے پیدا ہونے والے وائرس سے ممکنہ انفیکشن کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ یہ دنیا کا پہلا مہلک کیس ہے۔

    وزارت کے مطابق، خاتون، جس کی بیرون ملک سفر کی تاریخ نہیں تھی، گزشتہ موسم گرما میں بخار، تھکاوٹ اور جوڑوں کے درد سمیت علامات کے ساتھ اسپتال گئی اسے نمونیا ہونے کا شبہ تھا اور اس نے اینٹی بائیوٹکس تجویز کیں، لیکن اس کی علامات بگڑ گئیں اور اسے سوکوبا میڈیکل سینٹر میں اسپتال میں داخل کرایا گیا۔

    سلمان خان کو انتہائی درد ناک دھوکے ملے،اب انہیں گھریلو خاتون کی ضرورت ہے،ماہر علم …

    ماہرین کے مطابق اوز وائرس “ٹک” کے کاٹنے سے پھیلتا ہے جس کی نسل جاپان میں موجود ہے تاہم تاحال جاپان سے باہر اس وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ جہاں پر یہ خون چوسنے والا کیڑا “ٹک” پایا جاتا ہے وہاں لوگوں کو اپنا پورا جسم ڈھانک کر رکھنا ہو گا اور کیڑے کے چپکنے کی صورت میں فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

    دلہن کی تلاش میں ناکامی،نوجوان نے زہر پی لیا

  • بچوں کیلئےفارمولا ملک پربھاری ٹیکس لگایا جانا چاہیئے،ماہرین صحت

    بچوں کیلئےفارمولا ملک پربھاری ٹیکس لگایا جانا چاہیئے،ماہرین صحت

    ماہرین صحت نے بچوں کے لیے مصنوعی دودھ پربھاری ٹیکس لگانے کا مطالبہ کردیا۔

    باغی ٹی وی: وفاقی وزارت صحت کی جانب سے اراکین پارلیمنٹ کے لیے آگاہی سیشن رکھا گیا جس میں صرف ایک سینیٹر سحر کامران نے شرکت کی آگاہی سیشن کے دوران ماہر امراض اطفال اورپاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن کےرہنما پروفیسرجمال رضا نےکہا کہ پاکستان میں بچوں کے مصنوعی دودھ کی قیمت اور معیار کو جانچنے کا کوئی طریقہ کار نہیں ہے، پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن کا مطالبہ ہےکہ فارمولا دودھ کی درآمد پرپابندی لگائی جائے، پاکستان بچوں کے مصنوعی دودھ کی درآمد پر 40 کروڑ ڈالر خرچ کرتا ہے۔

    ذکا اشرف کا ہائرڈ ماڈٌل پر تبصرہ،اے سی سی کا ردعمل سامنے آگیا

    ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹربصیر اچکزئی کا کہنا تھا کہ قرآن میں ماؤں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو 2 سال تک دودھ پلائیں جبکہ سینیٹر سحرکامران کا کہنا تھا کہ سگریٹ کی طرح فارمولا ملک پر بھی بھاری ٹیکس لگایا جانا چاہیے، پاکستان میں عوامی مقامات پر دودھ پلانے والی ماؤں کا مذاق اڑایا جاتا ہے، بچوں کے مصنوعی دودھ سے متعلق سخت قوانین بنانےکی ضرورت ہے۔

    کیا ڈبے کا دودھ بچوں کے لیے صحت بخش ہے؟

    2018 میں کی گئی ایک تحقیق میں ماہرین کا کہنا تھا کہ ڈبے کا دودھ بچوں کوئی فائدہ نہیں پہنچاتا،نیویارک یونیورسٹی اورکنیکٹیکٹ یونیو ر سٹی کے محققین نے والدین کو انتباہ کیا تھا کہ فارمولا ملک یا ڈبے والا دودھ بچوں کو پلانے سے گریز کریں کیونکہ ان میں موجود مٹھاس صحت کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتی۔

    فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل، سپریم کورٹ کا بینچ ٹوٹ گیا ،جسٹس فائز عیسی …

    اس تحقیق کے دوران حکام کو مشورہ دیا گیا تھا کہ کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کے ڈبوں پر لگے لیبل میں واضح لکھنا چاہیے کہ یہ ایف ڈی اے (امریکی محکمہ صحت) کا تجویز کردہ نہیں اور اس میں غیر صحت بخش اجزاء ہو سکتے ہیں،بچوں کے اس طرح کے مشروبات غیر ضر وری اور صحت بخش کے اثرات کو زائل کرسکتے ہیں۔

    تحقیق میں کہا گیا کہ ایسی پالیسیاں بنائی جانی چاہیے جن سے واضح ہوسکے کہ بچوں کے ایسے مشروبات کیا ہوتے ہیں اور کیونکہ ان کا مشورہ نہیں دیا جاسکتا محققین نے دریافت کیا کہ بچوں کے لیے دو قسم کے مشروبات یا دودھ ہوتے ہیں ایک وہ فارمولا ملک، جو 9 ماہ سے 2 سال کے بچوں کو اس وقت دیئے جاتے ہیں، جب ماں کا دودھ چھڑایا جاتا ہے دوسرا ایک سال سے 3 سال کی عمر کے بچوں کے لیے تیار کیے جانے والا دودھ۔

    قطر سے ایل این جی کارگو پاکستان پہنچ گئے

    محققین کا کہنا تھا کہ ایسے بیشتر مشروبات بنیادی طور پر پاﺅڈر ملک ، کورن سرپ، ویجیٹیبل آئل اور ایڈڈ مٹھاس پر مشتمل ہوتے ہیں جبکہ ان میں نمک کی مقدار زیادہ اور پروٹین کی سطح گائے کے دودھ کے مقابلے میں کم ہوتی ہےتمام کمپنیاں ان مشروبات کو بچوں کی نشوونما اور غذائی ضروریات کے لیے فائدہ مند قرار دیتی ہیں۔

    مگر عالمی ادارہ صحت مشورہ دے چکا ہے کہ ایک سال کی عمر سے بچوں کو فارمولا ملک کی بجائے گائے کا دودھ صحت بخش غذاﺅں کے امتزاج کے ساتھ دیا جانا چاہیے بچوں کے مشروبات غیرضروری اور غیرموزوں ہوتے ہیں جبکہ گائے کے دودھ اور تازہ خوراک کے مقابلے میں فائدہ مند بھی نہیں ہوتے۔

    لیہ اراضی سکینڈل،عمران خان آج پیش نہ ہوئے تو ہو گی کاروائی

  • خیبرپختونخوا میں  22 بچے خسرے سے جاں بحق

    خیبرپختونخوا میں 22 بچے خسرے سے جاں بحق

    خیبرپختونخوا میں خسرہ کیسز میں اضافہ،رواں سال 22 بچے خسرے سے جاں بحق ہو گئے-

    باغی ٹی وی: محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق صوبے میں رواں سال ڈیرہ اسماعیل خان میں خسرہ سے سب سے زیادہ 462 کیسز رپورٹ ہوئے اور 13 بچے جاں بحق ہوئے۔چارسدہ میں 317، پشاور میں 226، باجوڑ میں 166 اور مردان میں خسرہ کے 161 کیسز سامنے آئے جبکہ صوابی 136، نوشہرہ، لکی مروت، اور کرک میں 171 بچے متاثر ہوئے ذرائع محکمہ صحت کے مطابق صوبے میں باقاعدہ ویکسینیشن نہ ہونے سے خسرہ وبائی شکل اختیار کرگیا ہے۔

    قبل ازیں گزشتہ روز پنجاب کے محکمہ صحت نے بھی خسرہ کے کیسز کی تفصیلات بتائی تھیں، صوبائی محکمہ صحت نے کہا تھا کہ اپریل سے مئی کے دوران 2 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ لاہور میں 580 سے زائد بچے خسرہ میں مبتلا ہوئے جبکہ راولپنڈی سے 521، حافظ آباد 114، جھنگ 99، شیخوپورہ 72 کیسز رپورٹ ہوئےقصور56، سیالکوٹ 49، ٹوبہ ٹیک سنگھ 43، فیصل آباد سے 42 بچے خسرے سے متاثر ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ خسرے سے متاثرہ صوبے کی 265 یونین کونسلز میں کیس رسپانس کیا جارہا ہے 265 متاثرہ یونین کونسلز میں چھ ماہ سے پانچ سال بچوں کی ویکسینیشن ہورہی ہے، خسرے سے بچاؤ کی اضافی ویکسین متاثرہ اضلاع میں بجھوائی جارہی ہیں-

    امریکی وزیرخارجہ بلنکن کی چینی صدر سے ملاقات

    خسرہ ایک ایسی انفیکشن ھے جو وائرس سے پیدا ہوتی ہے۔ِ سردیوں کے آخر میں یا بہار کے موسم میں ہوتی ہے۔ خسرہ کی بیماری کے ساتھ جب کوئی مریض کھانستا یا چھینک مارتا ہےتو نہایت چھوٹےآلودہ قطرے پھیل کر ارد گرد کی اشیاء پر گر جاتے ہیں۔ آپکا بچہ یا تو ڈائیرکٹ سانس کے ساتھ اندر لے لیتا ہے یا پھر آلودہ اشیاء کو ہاتھ لگا کراپنا ہاتھ ناک، منہ، اور کانون لگاتا ہے۔

    چیئرمین سینیٹ کی مراعات میں غیرمعمولی اضافہ

    خسرہ کی علامات بخار کے ساتھ شروع ہوتی ھیں اور جو کہ دو دن تک رہتی ہیں۔ اس سے کھانسی ، ناک اور آنکھوں سے پانی بہتا ہے اور پھر بخار آ لیتا ہے۔ اس سے آنکھ مین انفیکشن ہوتی ہے جسے ‘ پنک آئی’ کہتے ہیں۔ سرخ دانے چہرے اور گردن کےاوپر نمودار ہوتے ہیں اور پھر جسم کے دوسرے حصوں میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ پھر یہ دانے بازوں، ہاتھوں، ٹانگوں،اور پیروں تک پھیل جاتے ہیں۔پانچ دن کے بعد جس طرح سرح دانے بڑھے تھے اسی طرح کم ہونا شروع ہو جاتے ہیں-

    خیبر پختونخوا کے مخصوص اضلاع میں پانچ روزہ خصوصی انسداد پولیو مہم آج سے شروع

  • ہفتے کا وہ دن جب دل کا دورہ پڑنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں،تحقیق

    ہفتے کا وہ دن جب دل کا دورہ پڑنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں،تحقیق

    ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ ایک دن ایسا ہے جس میں دیگر دنوں کے مقابلے دل کا دورہ پڑنے کے امکانات 13 فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔

    باغی ٹی وی:مانچسٹر میں برٹش کارڈیو ویسکولر سوسائٹی (بی سی ایس) کی کانفرنس میں پیش کی گئی آئرلینڈ کے ماہرین قلب کی جانب سے کی گئی نئی تحقیق کے مطابق ہفتے کے دوسرے دنوں کے مقابلے میں پیر کو شدید دل کے دورے پڑنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

    سنیل گواسکر ویرات کوہلی پر برس پڑے

    بیلفاسٹ ہیلتھ اینڈ سوشل کیئر ٹرسٹ اور آئرلینڈ کے رائل کالج آف سرجنز کے ڈاکٹروں کے ذریعہ کی گئی اس تحقیق میں، آئرلینڈ کے جزیرے (بشمول جمہوریہ آئرلینڈ اور شمالی آئرلینڈ) کے ہسپتالوں میں داخل 10,528 مریضوں کے ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا یہ 2013 سے 2018 کے درمیان دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے اسپتال میں داخل ہوئے تھے۔

    برطانیہ میں ہر سال، 30,000 سے زیادہ لوگ STEMI کے ساتھ ہسپتال میں داخل ہوتے ہیں ان کے دل کو پہنچنے والے نقصان کو کم سے کم کرنے کے لیے انہیں فوری تشخیص اور علاج کی ضرورت ہےاس میں عام طور پر ہنگامی انجیو پلاسٹی اور سٹینٹ (زبانیں) شامل ہوتے ہیں، جو کہ بلاک شدہ کورونری شریان کو دوبارہ کھولنے اور خون کو دوبارہ دل تک پہنچانے کا طریقہ ہے۔

    بھارتی محکمہ موسمیات نےکچ اورسوراشٹرا کیلئےاورنج الرٹ جاری کردیا

    ماہرین نے بتایا کہ ہر سال ہزاروں مریض پیر کے دن دل کا دورہ پڑنے کے سبب اسپتال میں داخل ہوتے ہیں ان مریضوں میں پیر کے دن دل کا دورہ پڑنے کے کیسز سب سے زیادہ (13 فیصد اضافہ) ریکارڈ کیے گئے ہیں اس کے علاوہ یہ شرح اتوار کے روز بھی متوقع شرح سے زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔

    محققین کے مطابق پیر کو اسپتال میں داخل ہونے والے مریضوں میں کورونری آرٹری بلاک ہونے کی شکایت بھی عام تھی ”بلیو منڈے“ کے نام سے مشہور اس رجحان نے سائنس دانوں کو حیران کر دیا ہے۔

    گزشتہ مطالعات میں بتایا گیا ہے کہ جسم کے سرکیڈین تال، یا قدرتی نیند کے چکر کی وجہ سے پیر کو دل کا دورہ پڑنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

    سعودی عرب:سیکورٹی اہلکار کو قتل کرنے کےمجرموں کو سزائے موت

    بیلفاسٹ ہیلتھ اینڈ سوشل کیئر ٹرسٹ میں تحقیق کی قیادت کرنے والے ماہر امراض قلب ڈاکٹر جیک لافن نے اس تحقیق کے بارے میں ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ہمیں ہفتے کے آغاز اور دل کے امراض کے واقعات کے درمیان ایک مضبوط شماریاتی تعلق ملا ہےیہ پہلے بھی بیان کیا گیا ہے، لیکن ایک تجسس بنا ہوا ہے۔ وجہ ممکنہ طور پر کثیر الجہتی ہےتاہم، پچھلے مطالعات سے جو کچھ ہم جانتے ہیں اس کی بنیاد پر، سرکیڈین عنصر کا اندازہ کرنا مناسب ہے۔“

    امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن (اے ایچ اے) نے پایا کہ سال کے کسی بھی دوسرے وقت کے مقابلے دسمبر کے آخری ہفتے میں دل کے دورے سے لوگ سب سے زیادہ مرتے ہیں روٹین، نیند اور ورزش کے نظام الاوقات میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ خوراک، سال کے اس وقت لوگوں کو دل سے متعلق مسائل کے خطرے سے دوچار کر سکتی ہے۔

    امریکا کی معروف ہائی وے کے پل کے نیچےآتشزدگی،پُل کا ایک حصہ منہدم ہوگیا

  • صرف 15فیصدفارمیسیز میں کوالیفائیڈ فارماسسٹ خدمات سرانجام د ے رہے

    صرف 15فیصدفارمیسیز میں کوالیفائیڈ فارماسسٹ خدمات سرانجام د ے رہے

    صرف 15فیصدفارمیسیز میں کوالیفائیڈ فارماسسٹ خدمات سرانجام د ے رہے

    فیصد سے زائد میڈیکل اسٹور، فارمیسیز بغیر مستند فارماسسٹس چلانے کا انکشاف انڈس ہسپتال اینڈ نیٹ ورک کے سی ای او ڈاکٹر سیّد ظفر زیدی نے کہا ہے کہ پاکستان میں 75فیصد سے زائد میڈیکل اسٹور اور فارمیسیز تربیت یافتہ کوالیفائیڈ فارماسسٹ کے بغیر چلائی جا رہی ہیں جبکہ صرف 15فیصدفارمیسیز میں کوالیفائیڈ فارماسسٹ خدمات سرانجام د ے رہیں ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتے کے روز انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک اور فارم ایوو کے درمیان مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

    حامد الرحمان کی رپورٹ کے مطابق تقریب میں صدر انڈس اسپتال اینڈ نیٹ ورک ڈاکٹر عبدالباری خان، سی ای او اور ڈین انڈس یونورسٹی اینڈ ہیلتھ سائنسز ڈاکٹر سیدظفر زیدی، چیئرمین پریمیئر گروپ ابراہم قاسم، فارمیو کے سی ای او ہارون قاسم، ڈپٹی سی ای او سید جمشید احمد، انڈس کے چئیرمین بورڈ آف ڈائریکٹر عبدالکریم پراچہ، چیئرمین ریسورس جنریشن اینڈ پارٹنرشپ کمیٹی، بورڈ آف ڈائریکٹر ، سلیم تابانی اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیّد مشہود رضوی شامل تھے۔

    ایم او یو کے مطابق مقامی فارماسیوٹیکل کمپنی فارمیوو، انڈس ہسپتال کورنگی کیمپس میں بننے والی نئی عمارت میں ابن سینا کالج آف فارمیسی، انڈس یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی تعمیر کے لیے مالی اور تکنیکی وسائل فراہم کرے گی۔ سماء کے مطابق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سید ظفر زیدی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 75فیصد سے زائد فارمیسیز تربیت یافتہ کوالیفائیڈ فارماسسٹ کے بغیر چلائی جا رہی ہیں جبکہ صرف 15فیصدفارمیسیز میں کوالیفائیڈ فارماسسٹ خدمات سرانجام د ے رہیں ہیں۔

    صدر انڈس ہیلتھ نیٹ ورک ڈاکٹر عبدالباری خان نے کہا کہ جب وہ اسپتال شروع کر رہے تھے تو سوچا تھا میڈیکل کالج نہیں بنائیں گے، ہمارے بہترین ڈاکٹر میڈیکل کالجز سے پڑھ کر باہر چلے جاتے ہیں، پھر ہم نے اپنے مشن کو ریوائز کیا کہ اچھی ہیومن ریسورس ملنا مشکل کام ہے۔ اس ادارے کو چلانے کے لیے ایسے لوگ درکار تھے جن کے دل میں درد ہو، پاکستانی پاکستان یا پاکستان کے باہر جتنا چیئرٹی کرتے ہیں اور کوئی نہیں کرتا، مجھ سے کسی نے پوچھا ڈالر مہنگا ہونے سے انڈس کتنا متاثر ہوا ، میں نے انہیں جواب دیا اللہ کے ہاں کرائسز نہیں ہے۔ فارمیوو کی سخاوت واضح طور پر اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ پاکستان میں ایک عالمی معیار کی یونیورسٹی کی بنیاد رکھنے میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔

    ڈاکٹر عبدالباری کا مزید کہنا تھا کہ انڈس اسپتال کو فارمیوو کے ساتھ شراکت داری پر فخر ہے اور ہمارا وژن ہے کہ ہم ایک ایسا معیار تعلیم فراہم کریں جو نہ صرف معیاری ڈاکٹرز بنائیں بلکہ ضرورت مند کیلیے خدمت کا جذبہ بھی رکھتے ہوں۔ جبکہ چیئرمین پریمیئر گروپ ابراہیم قاسم نے انڈس اسپتال اور انڈس یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کو پاکستان میں عالمی معیار کی صحت کی تعلیم کو فروغ دینے میں سراہا۔ وہ انڈس اسپتال جیسے اداروں کی حمایت کرتے ہوئے ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے کوشاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جو بزنس گروپ عطا کیا ہے ہماری کوشش ہے اس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کریں ،اللہ کی راہ میں بھی تعلیم پر خرچ کرنے کی بڑی اہمیت ہے، ہمارے پاس جو کچھ ہے وہ امانت ہے، ہم اُس کے چوکیدار ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    ان کا کہنا تھا کہ اس پروجیکٹ کا نام ابن سینا اس لیے ہے کہ اپنے مسلم ہیروز کو یاد کیا جائے، ڈاکٹر عبدالباری اور ان کی ٹیم نے انڈس کی صورت جو پودا لگایا وہ تناور درخت بن چکا ہے، انڈس بہت اچھا کام کر رہا ہے، مکمل کیش لیس اور پیپر لیس ہے جہاں بغیر سفارش مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ڈاکٹر دوا لکھ دے اور مریض کو درست دوا نہ ملے تو پھر فارمیسی کا مقصد پورا نہیں ہوتا، ہمارا مقصد سختی سے اخلاقی مارکیٹنگ کی جائے، فارمیو اسٹرکلی ایتھکلی مارکیٹنگ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ابن سینا کالج آف فارمیسی میں اعلیٰ کوالٹی کی تعلیم دی جائے گی، داخلے کے لیے سختی سے میرٹ پر عمل کریں گے، میری گزارش بھی ہے اگر کسی کو سفارش پر داخلہ نہ دیں، جو اسٹوڈنٹس اس کالج سے نکلیں وہ اچھے مسلمان اور اچھے خدمت گزار ہوں۔

  • نرسنگ کے شعبے کی محرومیت دورکر دی گئی،پروفیسر الفرید ظفر

    نرسنگ کے شعبے کی محرومیت دورکر دی گئی،پروفیسر الفرید ظفر

    پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ و امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفرنے کہا ہے کہ بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے ضروری ہے کہ عوامی شعور کو بھرپور طریقے سے اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں کے وارڈز،آپریشن تھیٹرز اور لیبارٹریز سمیت مختلف جگہوں کو انفکیشن سے پاک رکھا جائے تاکہ مریض جلد از جلد صحت یاب ہوں اور بیماریاں مریضوں اور ہسپتال سٹاف میں منتقل نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس امر سے نہ صرف علاج معالجے پر آنے والے اخراجات کو کافی حد تک کنٹرول کیا جا سکتا ہے بلکہ بیڈز پر موجود مریضوں کی شرح بھی کم کی جا سکتی ہے۔

    ان خیالات کا اظہار پروفیسر الفرید ظفر نے جنوبی پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع کے ڈی ایچ کیو (DHQ) اور ٹی ایچ کیو (THQ) ہسپتالوں کی نرسنگ سٹاف کیلئے انفکیشن کی روک تھام کیلئے محکمہ صحت اور عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے لاہور جنرل ہسپتال میں ایک ماہ سے جاری تربیتی کورس کے اختتام پر سرٹیفکیٹس تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر عالمی ادارہ صحت پاکستان کے سربر راہ ڈاکٹر پلیتھا ماہی پالا،ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر الیاس گوندل، پروفیسر آصف بشیر، پروفیسر جودت سلیم،ایم ایس ڈاکٹر خالد بن اسلم، ڈاکٹر آمنہ آصف،ڈاکٹر عرفان ملک، ڈاکٹر عبدالعزیز اورڈاکٹرز و نرسز بڑی تعداد میں موجود تھے جبکہ ڈیرہ غازی خان،روجھان،تونسہ شریف، کوٹ چٹھہ اور جام پور سمیت دیگر اضلاع سے نرسز کی کثیر تعداد نے اس کورس میں حصہ لیا۔

    پروفیسر الفرید ظفر نے کہا کہ نرسز ہماری قوم کا انتہائی قیمتی سرمایہ ہیں ان کی عزت اور قدر بھی کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ زندگی اور موت اللہ رب العزت کے ہاتھ میں ہے لیکن انسانی جانیں بچانے کے لئے نرسیں اللہ پاک کا فراہم کردہ ایک مقدس وسیلہ ہیں اور پنجاب حکومت نے وقت کے ساتھ ساتھ نرسنگ کے شعبے کی محرومیت دور کر کے اسے با وقار اور با عزت پروفیشن میں بدل دیا ہے۔پروفیسر الفرید ظفر نے کہا کہ سیلابی علاقوں میں جلدی امراض اور آلودہ پانی پینے سے مہلک بیماریاں جنم لیتی ہیں جن کے تدارک کے لئے مقامی لوگوں کو آگاہی فراہم کرنا بھی ضروری ہے تاکہ وہ پانی ابال کر استعمال کریں اور صابن سے ہاتھ دھوئیں جبکہ سیلاب متاثرین کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور اُن کی غذائی ضروریات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے تاکہ ان کی زندگیوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پوسٹ گریجویٹ میڈیکل و لاہور جنرل ہسپتال عالمی ادارہ صحت کے مشکور ہیں جن کے تعاون سے ایسے تربیتی کورس منعقد ہوتے ہیں جو نرسز کی پیشہ وارانہ مہارت میں اضافہ کرتے ہیں۔ڈبلیو ایچ او کے نمائندہ، ڈی جی ڈاکٹر الیاس گوندل، ایم ایس ڈاکٹر خالد بن اسلم نے تربیت حاصل کرنے والی نرسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے اپنے ہسپتالوں میں جا کر دیگر نرسز کی بھی تربیت کریں تاکہ مریضوں کی بہترسے بہتر خدمت کو یقینی بنایا جا سکے جبکہ تقریب کے اختتام پر نرسز میں سرٹیفکیٹس بھی تقسیم کیے گئے۔

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    مونس الہیٰ نے اسپین میں 40 کروڑ کی جائیدادیں، اثاثہ جات اور بارسلونا میں ٹیکسی سروس شروع کی۔

    25 برس قبل بھرتی: جنرل ہسپتال کی29 نرسز کو گریڈ17 مل گیا

  • مضافاتی علاقوں میں زندگی گزارنےوالے لوگ ڈپریشن میں مبتلا ہو سکتے ہیں

    مضافاتی علاقوں میں زندگی گزارنےوالے لوگ ڈپریشن میں مبتلا ہو سکتے ہیں

    وہ لوگ جو پھیلتے مضافاتی علاقوں میں زندگی گزار رہے ہیں ان کو ڈپریشن میں مبتلا ہونے کے شدید خطرات لاحق ہیں-

    باغی ٹی وی: وہ لوگ جو شہر کی شور شرابے والی اور اعصاب شکن زندگی سے اکتا چکے ہیں، انہیں لگتا ہے مضافاتی علاقوں میں جا کر بس جانا اس مسئلے کا ایک مثالی حل ہے لیکن ایک تحقیق کے مطابق ایسا کرنا زندگی میں سکون کا ضامن نہیں ہو سکتا اس کی بنیادی وجہ اطراف میں تھوڑے لوگوں کے ہونےکےسبب معاشرتی سرگرمیوں میں حصہ لینے میں کمی اور اجتماعیت کا عدم احساس ہےجو ذہنی صحت کو بہتر کرنے کا سبب ہوتے ہیں۔

    ترکیہ کا شمالی کوسووو میں اپنی ایک کمانڈو بٹالین بھیجنے کا اعلان

    امریکا کی ییل یونیورسٹی اور ڈنمارک کی آرہس یونیورسٹی کے محققین نے ڈنمارک میں 30 برس کے عرصے میں بننے والے علاقوں کی سیٹلائیٹ تصاویر اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے نقشہ سازی کی محققین نے دیکھا کہ تقریباً 75 ہزار کی آبادی والے علاقے کے افراد میں ڈپریشن کی تشخیض ہوئی جبکہ اس دورانیے میں ساڑھے 7 لاکھ سے زائد آبادی والے علاقے میں لوگوں میں یہ کیفیت نہیں پائی گئی۔

    ترکیہ زلزے کی پیشگوئی کرنیوالےسیسمولوجسٹ کی جون میں خوفناک زلزلے کی پیشگوئی

    مطالعے سے نتیجہ اخذ کیا گیا کہ وہ شخص جو مضافاتی علاقے میں زندگی گزاررہا ہوتا ہے اس کے شہر میں رہنے والوں کی نسبت ڈپریشن میں مبتلا ہونے کے خطرات 10 سے 15 فی صد زیادہ ہوتےہیں تحقیق میں یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ بلند عمارتوں اورکم کثافت والے گھروں کے مجموعے کا تعلق شہر میں رہنے والوں کو لاحق کم خطرے سے تھا۔

    ایران کا پاکستان سمیت خلیجی ریاستوں کے ساتھ بحری اتحاد بنانے کا منصوبہ