Baaghi TV

Category: صحت

  • چلڈرن ہسپتال میں ڈاکٹر کو تشدد کا نشانہ بنانیوالے ملزموں کا جسمانی ریمانڈ‌ منظور

    چلڈرن ہسپتال میں ڈاکٹر کو تشدد کا نشانہ بنانیوالے ملزموں کا جسمانی ریمانڈ‌ منظور

    چلڈرن ہسپتال میں ڈاکڑ سعد پر تشدد کا معاملہ ،پولیس نے تشدد کرنے والے پانج ملزموں کو انسداد دہشت گردی عدالت میں ہیش کیا

    عدالت نے ملزموں کو سات دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ،انسداد دہشت گردی عدالت کی ایڈمن جج عبہر گل نے پولیس کی درخواست پر سماعت کی ملزموں میں خلیل احمد عمران خلیل کامران ولید اور میاں حسن شامل ہیں ،تفشیش افسر نے ملزموں کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، عدالت نے ملزموں کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا،

    ڈاکٹر سعد سے اظہار یکجتی کیلئے چلڈرن ہسپتال کے ڈاکٹر ہسپتال میں پیش ہوئے اورکہا کہ ڈاکٹر سعد کی کوئی غلطی نییں تھی ملزموں نے بہمانہ تشدد کیا جس سے اسکی ناک ہڈی ٹوٹ گئی،

    دوسری جانب چلڈرن اسپتال میں ڈاکٹر پر تشدد کے بعد ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج چوتھے روز بھی جاری ہے، صوبہ بھر کے ٹیچنگ ہسپتالوں کے آؤٹ ڈور مکمل بند ہویں مریضوں کو علاج معالجے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لاہور جنرل ہسپتال میں بھی ینگ ڈاکٹر احتجاج کر رہے ہیں

    صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر جاوید اکرم کی زیر صدارت یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں اہم اجلاس منعقد ہوا، نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے بھی چلڈرن ہسپتال میں ملزمان کی جانب سے ڈاکٹر پر بہیمانہ تشدد کی بہت مذمت کی اور فوری طور پر ملزمان کے خلاف کارروائی کا حکم دیا۔ چلڈرن ہسپتال میں ڈاکٹر پر تشدد کرنے والے ملزمان کے خلاف ایف آئی آر میں دہشتگردی کی دفعات شامل کر دی گئی۔پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں سیکیورٹی کے انتظامات کا ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے۔ہیلتھ کیئر پروٹیکشن بل کی منظوری کیلئے وزیر اعلیٰ پنجاب سے درخواست کی گئی ہے۔

    چلڈرن اسپتال نرسری وارڈ عملے کی بڑی غفلت ،زیادہ ہیٹ دینے سے 2 بچے جھلس گئے 

    چوری کا الزام، دو افراد کو برہنہ کر کے تشدد کرنے والے ملزمان گرفتار

    جن نکالنے کے بہانے جعلی پیر نے خاتون کے ساتھ ایسا کیا کر دیا کہ والدہ تھانے پہنچ گئی

    چلتی گاڑی میں نرس کے ساتھ اجتماعی زیادتی، گاڑی سے پریس کارڈ برآمد

    راشن تو نہ ملا،20 سالہ لڑکی عزت گنوا بیٹھی،درندہ گرفتار

  • چلڈرن اسپتال؛ ڈاکٹر پر تشدد، تیسرے روز بھی ڈاکٹرز کی ہڑتال جاری

    چلڈرن اسپتال؛ ڈاکٹر پر تشدد، تیسرے روز بھی ڈاکٹرز کی ہڑتال جاری

    چلڈرن اسپتال؛ ڈاکٹر پر تشدد، تیسرے روز بھی ڈاکٹرز کی ہڑتال جاری

    چلڈرن اسپتال میں لواحقین کا ڈاکٹر پرتشدد کے واقعے کیخلاف لاہورکے اسپتالوں کے آوٹ ڈور وارڈزمیں ڈاکٹرز کی دوسرے روز بھی ہڑتال جاری ہے جس سے مریضوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ چلڈرن اسپتال کے آوٹ ڈور اورانڈور وارڈ میں ہڑتال کا تیسرا روز ہے۔میواسپتال ،سروسز، جناح جنرل اسپتال میں بھی ہڑتال جاری ہے علاوہ ازیں گنگارام، لیڈی ولنگڈن، لیڈی ایچی سن سمیت دیگر اسپتالوں میں بھی کام بند کررکھا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ ڈاکٹرز کی عدم موجودگی پر دور دراز سے آئے مریض شدید پریشان ہیں، ینگ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ عملے کے تحفظ بل کو فوری منظورکیا جائے تاکہ ملزمان کے خلاف دہشتگردی کی دفعات شامل کردی گئی ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی

    یاد رہے کہ چلڈرن ہسپتال میں ایک سال کی بچی کی وفات پر اہل خانہ نے ڈاکٹر کو قصوروار ٹھہراتے ہوئے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ ڈاکٹر کے سر پر شدید چوٹیں آئی تھیں اور ڈاکٹر کی حالت تشویشناک بتائی گئی تھی تاہم بعدازاں انہیں فوری طبعی امداد دی گئی تھی۔

  • انسداد تمباکو نوشی کا عالمی دن،عہد کریں،محنت کی کمائی کو آگ نہیں لگائینگے

    انسداد تمباکو نوشی کا عالمی دن،عہد کریں،محنت کی کمائی کو آگ نہیں لگائینگے

    تمباکو نوشی کسی بھی شکل میں ہو، صحت کے لئے مضر ہے، پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج سگریٹ نوشی کی روک تھام کا دن منایا جا رہا ہے جس کا مقصد لوگوں میں تمباکو نوشی کے مضر اثرات سے آگاہی فراہم کرنا ہے ، انسداد تمباکو نوشی کے عالمی دن کے موقع پر سگریٹ پیمے والے افراد سے درخواست ہے کہ تمباکو نوشی ترک کرنے کا مضبوط ارادہ کریں اورصحت مند طرز حیات اپنائیں

    تمباکو نوشی کے عالمی دن کے موقع پر ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسز میں آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا جس کی قیادت ڈی جی ہیلتھ پنجاب ڈاکٹر الیاس گوندل نے کی جبکہ آگہی واک میں ای پی آئی ڈائریکٹر ڈاکٹر مختار اعوان، ڈائریکٹر سی ڈی سی ڈاکٹر یداللہ سمیت محکمہ صحت کے افسران بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر الیاس گوندل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا کہ تمباکو نوشی واک کا انعقاد ایسویسی ایشن فار بیٹر پاکستان کے تعاون سے کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ہرسال پاکستان میں ہزاروں افراد تمباکونوشی کے باعث کینسر کی مہلک بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں اور تمباکو نوشی کی وجہ سے پھیپھڑوں اور منہ کا کینسر بھی بڑھ رہا ہے. ڈی جی ہیلتھ کا کہنا تھا کہ پھیپھڑوں اور منہ کے کینسر کی وجہ سے سیکڑوں افراد جاں بحق ہو جاتے ہیں.پاکستان میں نوجوان نسل بڑی تعداد میں تمباکو نوشی میں مبتلا ہو رہی ہے. ڈاکٹر الیاس گوندل نے کہا کہ تمباکونوشی کی روک تھام کیلئے حکومت کو سخت ایکشن لینا چاہیے.

    31 مئی انسداد تمباکو نوشی دن کی مناسبت سے ضلعی انتظامیہ گوجرانوالہ کے زیراہتمام سکولوں اور کالجوں کی سطح پر انسداد تمباکو نوشی پینٹنگ کمپیٹیشن( پوسٹر ) مقابلوں کاا نعقاد کیا جارہا ہے تاکہ تمباکو نوشی سے ہونے والے نقصانات سے نوجوان نسل کو آگاہ کیا جا سکے۔

    انسداد تمباکو نوشی کے حوالہ سے کام کرنیوالی تنظیم کرومیٹک کے سی ای او شارق خان کا کہنا ہے کہ تمباکو نوشی کا بہت تیزی سے نوجوانوں میں پھیلنا تباہ کن ہے، ہمیں اپنی نسلوں کے بہتر مستقبل اور ان کی اچھی صحت کے لئے تمباکو نوشی کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور اس حوالے سے حکومت پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ شارق خان نے تمباکو مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمباکو مصنوعات مہنگی ہونے کے دورس مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ کسی دبائو کو خاطر میں لائے بغیر صحت عامہ کے مفادات اور خاص طور پر نوجوانوں کو تمباکو کے ناسور سے بچانے کے لئے تمباکو مصنوعات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سمیت دیگر ٹیکسز کو برقرار رکھنا اور تمباکو مصنوعات کی قیتموں میں اضافہ انتہائی ضروری ہے۔

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس – ایک جائزہ ،تحریر: راجہ ارشد

    ہیلتھ لیوی ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    ویسے تو ہیلتھ لیوی کی منظوری 2019جون میں ہوچکی ہے

    پاکستان میں تمباکو کے استعمال سے پھیلنے والی بیماریوں کے نتیجے میں ہرسال ایک لاکھ ستر ہزار افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جبکہ ملکی معیشت کو ہر سال 615 بلین روپے خسارے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تمباکو مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف ملکی معیشت کو سہارا دے سکتا ہے بلکہ اس سے تمباکو نوشی کے ناسور کو کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ پاکستان میں روزانہ 6 سے 15 سال کے 12 سو بچے تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں اور یہ تشویشناک صورتحال تقاضا کرتی ہے کہ حکومت تمباکو نوشی کے خلاف قوانین کو مزید سخت بنائے۔

    فلاحی ادارے چھیپا کے سربراہ رمضان چھیپا نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسداد تمباکو نوشی کے عالمی دن پر میں جانتے بوجھتے اپنی زندگی کو سگریٹ کے دھوئیں میں اڑا دینے والے افراد کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں ، زندگی اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کیلئے سب سے قیمتی تحفہ ہے اس کی قدر کریں۔

  • چلڈرن ہسپتال میں ڈاکٹر کو تشدد کا نشانہ بنانے والے ملزم گرفتار

    چلڈرن ہسپتال میں ڈاکٹر کو تشدد کا نشانہ بنانے والے ملزم گرفتار

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے چلڈرن ہسپتال میں میں ڈاکٹر کو تشدد کا نشانہ بنانے والے پانچوں ملزم گرفتار کر لئے گئے،

    چلڈرن ہسپتال میں ڈاکٹر کی مبینہ غفلت سے بچے کی موت ہوئی تو لواحقین ہسپتال پہنچ گئے اور ڈاکٹر کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جس کے بعد آج بدھ کی صبح ڈاکٹروں نے فیروز پور روڈ پر احتجاج کیا، اس موقع پر فیروز پور روڈ ٹریفک کے لئے بند کر دیا گیا تھا، دفتر پہنچنے والوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ڈاکٹروں کا مطالبہ تھا کہ تشدد کرنے والے ملزمان کو گرفتار کیا جائے، پولیس موقع پر پہنچی اور مزاکرات کئے ، جس کے بعد مقدمہ بھی درج ہوا اور ملزم بھی گرفتار کر لئے گئے،

    چلڈرن ہسپتال لاہور میں ڈاکٹر کو تشدد کا نشانہ بنانے والے پانچوں ملزم گرفتارکر لئے، واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا گیا، مقدمہ درج ہونے اور ملزمان کی گرفتاری پر ڈاکٹرز نے فیروز پور روڈ پر جاری احتجاج ختم کر دیا، نصیر آباد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تشدد میں ملوث 5 ملزمان کوگرفتارکرلیا سی سی پی اولاہوربلال صدیق کمیانہ کا کہنا ہے کہ قانون شکن عناصر کے خلاف زیروٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہیں

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے ایک‌ صارف کا کہنا تھا کہ السلام و علیکم لاہور چلڈرن ھسپتال ڈیوٹی پر موجود انتہائی PGR ڈاکٹر کو انتہائ برے طریقے سے لوگوں نے کمرے میں گھس کر مارا صرف اسلئے مارا کہ انکے مطابق انکا بچہ incubator میں زیادہ گرمی لگنے سے فوت ھوگیا ھے حالانکہ اس معصوم کی وجہ موت Purpura Filminans نامی بیماری کی وجہ سے ھوا…

    واضح رہے کہ چلڈرن ہسپتال لاہور میں ایک سال کی بچی میڈیکل وارڈ میں داخل تھی جہاں اس کی صحت مسلسل خراب ہو رہی تھی ڈاکٹرز کی کوشش کے باوجود بچی کی جان نہ بچ سکی اور اسکی موت ہو گئی،جس پر لواحقین نے ہسپتال میں توڑ پھوڑ کی اورڈیوٹی ڈاکٹر وعملہ کو تشدد کا نشانہ بنایا

    چلڈرن اسپتال نرسری وارڈ عملے کی بڑی غفلت ،زیادہ ہیٹ دینے سے 2 بچے جھلس گئے 

    چوری کا الزام، دو افراد کو برہنہ کر کے تشدد کرنے والے ملزمان گرفتار

    جن نکالنے کے بہانے جعلی پیر نے خاتون کے ساتھ ایسا کیا کر دیا کہ والدہ تھانے پہنچ گئی

    چلتی گاڑی میں نرس کے ساتھ اجتماعی زیادتی، گاڑی سے پریس کارڈ برآمد

    راشن تو نہ ملا،20 سالہ لڑکی عزت گنوا بیٹھی،درندہ گرفتار

  • مون سون سیزن کے دوران ڈینگی پھیلنے کا خدشہ

    مون سون سیزن کے دوران ڈینگی پھیلنے کا خدشہ

    مون سون سیزن کے دوران ڈینگی پھیلنے کا خدشہ

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مون سون سیزن کے دوران ڈینگی پھیلنے کا خدشہ پیدا ہوگیا جبکہ ضلعی محکمہ صحت نےاسلام آباد میں ڈینگی پھیلنےکے خدشے کے پیش نظر ایڈوائزری جاری کردی، جس میں کہا گیا ہے کہ عوام مچھروں سےبچنےکیلئےاحتیاتی تدابیرپرعمل کریں۔

    ایڈوائزری کے مطابق شہری گھروں اورآس پاس مچھروں کی افزائش گاہوں کوختم کریں، اور مچھرسے بچنے کیلئے لوشن کا استعمال کریں۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی

    تاہم ًمحمکہ صحت نے لوگوں احتیاط کرنے کا کہا ہے اور پانی کو جمع کرنے یا کھلے برتن یا پھر کھلے آسمان میں کھلا رکھنے سے روکا ہے تاکہ ڈینگی پیدا نہ ہو.

  • موٹاپے اور ذیابیطس ٹائپ 2 سے متاثر ہونے کی اہم ترین وجہ دریافت

    موٹاپے اور ذیابیطس ٹائپ 2 سے متاثر ہونے کی اہم ترین وجہ دریافت

    موٹاپا اور ذیابیطس ٹائپ 2 کو موجودہ عہد میں وبا کی طرح پھیلنے والے طبی مسائل قرار دیا جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی : جرنل بی ایم سی میڈیسن میں شائع برطانیہ کی ناٹنگھم ٹرینٹ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ معدے میں موجود بیکٹریا کے ذرات چربی کے خلیات کو نقصان پہنچا کر جسمانی وزن میں اضافے کا باعث بنتے ہیں تحقیق کے مطابق endotoxins نامی یہ زہریلے ذرات خون میں شامل ہوکر چربی کے خلیات پر براہ راست اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

    سعودی عرب سے پاکستان آنیوالی مسافر میں منکی پاکس کی تصدیق

    اس تحقیق میں 156 افراد کو شامل کیا گیا تھا جن میں سے 63 موٹاپے کے شکار تھے ان افراد کے خون اور چربی کے نمونے حاصل کیے گئے اور دریافت ہوا کہ موٹاپے کے شکار افراد کے چربی کے خلیات کا توانائی استعمال کرنے والے براؤن فیٹ خلیات میں تبدیل ہونے کا امکان گھٹ جاتا ہے۔

    محققین نے بتایا کہ اس کی ممکنہ وجہ موٹاپے کے شکار افراد کے خون میں endotoxins ذرات کی بہت زیادہ مقدار ہے endotoxins بیکٹریل خلیاتی دیواروں میں پائےجانےوالے زہریلےذرات ہوتے ہیں انہوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ جسمانی وزن میں کمی کے لیے کرائی جانے والی سرجری سے خون میں ان ذرات کی تعداد گھٹ جاتی ہے جس سے چربی کے خلیات کی صحت بہتر ہوتی ہے۔

    برطانیہ میں تین افراد کے ڈی این اے کے ساتھ بچے کی پیدائش

    محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے یہ جاننے میں مدد ملتی ہے کہ کس طرح بیکٹریا موٹاپے اور اس سے منسلک امراض جیسے ذیابیطس ٹائپ 2 کا باعث بن سکتے ہیں جو پھٹنے پر خارج ہوتے ہیں صحت مند معدے میں یہ ذرات ان جرثوموں کی زندگی کا حصہ ہوتے ہیں جو انسانی صحت کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتے ہیں موٹاپے کے شکار افراد کے معدے میں موجود رکاوٹ کمزور ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں یہ ذرات خون میں شامل ہوکر جسم کے دیگر حصوں تک پہنچ جاتے ہیں-

    درجہ حرارت میں تشویشناک اضافہ،اقوام متحدہ نے خبردار کر دیا

  • سعودی عرب سے پاکستان آنیوالی مسافر میں منکی پاکس کی تصدیق

    سعودی عرب سے پاکستان آنیوالی مسافر میں منکی پاکس کی تصدیق

    سعودی عرب سے پاکستان پہنچنے والے ایک اور مسافر میں منکی پاکس کی تصدیق ہوگئی۔

    باغی ٹی وی: پمز انتظامیہ کے مطابق مکہ سے آج اسلام آباد پہنچنے والی خاتون لیب ٹیکنیشن منکی پاکس کی مریضہ نکلی منکی پاکس سے متاثرہ خاتون کا پمز کے آئسولیشن وارڈ میں علاج کیا جا رہا ہے دوسری جانب قومی ادارہ برائے صحت اسلام آباد نے بھی 19 سالہ خاتون کے منکی پاکس میں مبتلا ہونے کی تصدیق کی ہے۔

    بھارت میں 2 ہزار کا نوٹ ختم کرنے کا فیصلہ

    قومی ادارہ برائے صحت کے مطابق اب تک سعودی عرب سے پاکستان آئے 4 افراد میں منکی پاکس کی تصدیق ہوچکی ہے، تاہم پاکستان میں منکی پاکس مقامی سطح پر پھیلنے کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔

    منکی پاکس (Mpox)) ایک متعدی بیماری ہے جو منکی پوکس وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے۔ 1958ء میں پہلی بار یہ وبا ڈنمارک میں تحقیق کے لیے رکھے گئے بندروں میں پھوٹی تھی، اسی لیے اس کا نام منکی پاکس رکھا گیا۔

    انسانوں میں اس کا پہلا کیس 1970ء میں جمہوریہ کانگو میں 9ماہ کے بچے میں ریکارڈ کیا گیا جب وہاں اسمال پاکس وبا پر قابو پانے کے لیے کوششیں کی جارہی تھیں۔ 1980ء میں چیچک کے خاتمے اور دنیا بھر میں چیچک کی ویکسینیشن ختم کیے جانے کے بعد منکی پاکس مسلسل وسطی، مشرقی اور مغربی افریقا میں ابھر رہا ہے جبکہ 2022ء -2023ء میں عالمی وبا کے طور پر سامنے آئی ہے۔

    نواز شریف کے نام پرلندن میں نامعلوم افراد نے ایک اور گاڑی رجسٹر کرالی

    افریقی خطے سے باہر یہ انفیکشن انسانوں کے سفر یا جانوروں کے ذریعے پھیلا اور مئی 2022ء کے بعد سے منکی پاکس ان ممالک میں بھی رپورٹ ہونا شروع ہوا جہاں اس سے پہلے کوئی ایک کیس بھی نہ تھا۔ اب تک یہ وائرس برطانیہ، امریکا، کینیڈا، سنگاپور اور پاکستان سمیت کئی ممالک میں رپورٹ ہوچکا ہے۔ اس بیماری میں تکلیف دہ ددوڑے، بڑے آبلے دار دانے اور بخار ہوسکتا ہے۔ زیادہ تر لوگ مکمل طور پر صحت یاب ہو جاتے ہیں، لیکن کچھ بہت بیمار ہو جاتے ہیں۔

    یہ بیماری انسانوں سے انسانوں اور کبھی کبھی جانورورں سے انسانوں میں رابطے کے ذریعے پھیلتی ہے، آمنے سامنے (بات کرنا یا سانس لینا) متاثرہ شخص کو چھونے، بوسہ لینے یا جنسی تعلق کے ذریعے، جانور کے کاٹنے، خراش لگنے، ان کا شکار کرتے، کھال اتارتے یا پکاتے وقت، منکی پاکس وائرس سے آلودہ چادروں، کپڑوں یا سوئیوں کا استعمال، حاملہ خواتین سے بچے کو وائرس کی منتقلی-

    باراک اوباما اورمتعدد صحافیوں سمیت 500 امریکیوں کی روس میں داخلے پرپابندی عائد

  • برطانیہ میں  تین افراد کے ڈی این اے کے ساتھ بچے کی پیدائش

    برطانیہ میں تین افراد کے ڈی این اے کے ساتھ بچے کی پیدائش

    برطانیہ میں پہلی بار تین افراد کا ڈی این اے استعمال کرتے ہوئے ایک بچے کی پیدائش کا واقعہ سامنے آیا ہے جس کا مقصد بچوں کو وراثت میں لاعلاج بیماریوں سے بچنا ہے۔

    باغی ٹی وی : "دی گارجئین” کے مطابق برطانیہ کے تولیدی صحت کے ادارے نے تصدیق کی ہے کہ بچے کی تولید کے لیے زیادہ تر ڈی این اے دونوں والدین سے لیا گیا جب کہ تقریباً 0.1 فیصد ڈی این اے اسے عطیہ کرنے والی خاتون کا ہےاس منفرد تکنیک سے بچوں کی ہیدائش ممکن بنانے کا مقصد نومولود کو تباہ کن مائٹوکونڈریل امراض سے محفوظ رکھنے کی کوشش ہے۔ برطانیہ میں اس قسم کا پہلابچہ پیدا ہوا ہے تاہم دنیا بھرمیں اب تک اس تکنیک کے ذریعے پانچ بچے پیدا ہوچکے ہیں۔

    ڈائٹنگ سے مرد و خواتین میں بانجھ پن کا امکان بڑھ سکتا ہے،تحقیق

    یہ تکنیک، جسے مائٹوکونڈریل ڈونیشن ٹریٹمنٹ (MDT) کے نام سے جانا جاتا ہے، صحت مند خواتین عطیہ دہندگان کے ایگس سے آئی وی ایف(IVF) ایمبریوز بنانے کے لیے ٹشو کا استعمال کرتی ہے جو نقصان دہ تغیرات سے پاک ہوتے ہیں اور ماؤں سے بچوں کو منتقل ہونے کا امکان ہوتا ہے اس عمل نے "تین والدین کے بچے” کے فقرے کو جنم دیا ہے، حالانکہ بچوں میں ڈی این اے کا 99.8 فیصد سے زیادہ ماں اور باپ سے آتا ہے۔

    بچے کی پیدائش کے حوالے سے برطانیہ کے تولیدی صحت کے ادارے نے مزید کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔

    ایم ڈی ٹی پر تحقیق، جسے مائٹوکونڈریل ریپلیسمنٹ تھراپی (ایم آر ٹی) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، برطانیہ میں نیو کیسل فرٹیلیٹی سنٹر کے ڈاکٹروں نے شروع کیا تھا۔ اس کام کا مقصد تبدیل شدہ مائٹوکونڈریا میں مبتلا خواتین کو جینیاتی عوارض سے گزرنے کے خطرے کے بغیر بچے پیدا کرنے میں مدد کرنا تھا۔ لوگ اپنے تمام مائٹوکونڈریا کو اپنی ماں سے وراثت میں لیتے ہیں، اس لیے نقصان دہ تغیرات عورت کے تمام بچوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔

    ہمیں ڈراؤنے خواب کیوں آتے ہیں اوران سے چھٹکارا کیسے پایا جائے؟

    متاثرہ خواتین کے لیے، قدرتی تصور اکثر ایک جوا ہوتا ہے۔ کچھ بچے صحت مند پیدا ہوسکتے ہیں کیونکہ وہ تبدیل شدہ مائٹوکونڈریا کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ وراثت میں حاصل کرتے ہیں۔ لیکن دوسروں کو کہیں زیادہ وراثت مل سکتی ہے اور شدید، ترقی پسند اور اکثر مہلک بیماریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ 6,000 میں سے ایک بچہ مائٹوکونڈریل عوارض سے متاثر ہوتا ہے۔

    مائٹوکونڈریل بیماریاں لاعلاج ہیں اورنومولود کیلئے پیدائش کے بعد گھنٹوں یا دنوں میں جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔ کئی خاندانوں نے اس بیماری کے باعث ایک سے زائد بچے کھو چکے ہیں اس لیے ان کیلئےاس تکنیک کو صحت مند بچہ پیدا کرنے کا واحد آپشن سمجھاجاتا ہے۔

    انسان کے 20,000 جینز میں سے زیادہ تر جسم کے تقریباً ہر خلیے کے نیوکلئس میں جڑے ہوتے ہیں۔ لیکن ہر نیوکلئس کے گردخلیےکا پاور ہاؤس کہلائے جانےوالے نقطے دار ہزاروں مائٹوکونڈریا ہیں جن کے اپنے جین ہیں مائٹوکونڈریا جسم کے ہرخلیےمیں موجود چھوٹے چھوٹے حصے ہوتے ہیں جو کھانے کو قابل استعمال توانائی میں تبدیل کرتے ہیں جو ہمارےاعضاء کوبناتے ہیں مائٹوکونڈریا کو نقصان پہنچانے والے تغیرات جسم کو توانائی فراہم کرنے میں ناکام رہتے ہوئے دماغ کو نقصان پہنچانے، پٹھوں کی کمزوری،دل کی خرابی اوراندھے پن کا باعث بنتے ہیں۔

    فرنچ فرائز کھانے سے نفسیاتی صحت پرمنفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں،تحقیق

    یہ بیماری بچے کو صرف ماں سے منتقل ہوتی ہے اس لیے اس قسم کے جدید آئی وی ایف سے کسی صحتمند شخص سے مائٹو کونڈریا حاصل کیاجاتا ہے، اس عطیہ کرنے کیلئے 2 طریقے اپنائے جاتے ہیں۔ ایک ماں کے انڈے کو باپ کے نطفہ سے فرٹیلائز کرنے کے بعد اوردوسرا فرٹیلائزیشن سے پہلے ہوتا ہے۔

    مائٹوکونڈریا میں اپنی جینیاتی معلومات یا ڈی این اے ہوتا ہے یعنی تکنیکی طور پراس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے والدین کے علاوہ اعطیہ دہندہ کا ڈی این اے بھی وراثت میں لیتے ہیں۔ یہ نسل در نسل منتقل ہونے والی ایک مستقل تبدیلی ہے۔

    واضح رہے کہ عطیہ دہندہ کا ڈی این اے صرف صحت مند مائٹوکونڈریا کیلئے ضروری ہے جو ،بچے کی دیگر خصلتوں جیسے کہ ظاہری شکل کو متاثر نہیں کرتا اور اس تکنیک کا مطلب ہرگزیہ نہیں ہے کہ پیدا ہونے والے بچے کا کوئی دوسرا والد یا والدہ بھی ہے۔

    وہ غذائی عوامل جو عالمی سطح پرٹائپ 2 ذیا بیطس کا سبب بنتے ہیں

    برطانیہ میں ایسے بچوں کی پیدائش کی اجازت دینے کیلئے 2015 میں قوانین متعارف کرائے گئے تھے تاہم اسے فوری طور پر فروغ نہیں دیا گیا اورپہلے بچے کی پیدائش اب سامنے آئی ہے۔

    ہیومن فرٹیلائزیشن اینڈ ایمبریالوجی اتھارٹی کے مطابق اس طریقہ کارسے 20 اپریل 2023 تک 5 سے کم بچے پیدا ہوئے جن کے خاندانوں کی شناخت چھپانے کیلئے صحیح تعداد نہیں بتائی جارہی ہے۔

  • کراچی میں کانگو وائرس سے پہلی  ہلاکت رپورٹ، الرٹ جاری

    کراچی میں کانگو وائرس سے پہلی ہلاکت رپورٹ، الرٹ جاری

    کراچی میں کانگو وائرس سے پہلی ہلاکت ،محکمہ صحت نے الرٹ جاری کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : محکمہ صحت کے مطابق کراچی میں رواں سال کانگو وائرس سے پہلی ہلاکت رپورٹ ہوئی ہے 28 سال کے محمد عادل کو 30اپریل کو بخار ہوا تھا، جس کے بعد4 مئی کو انہیں نجی اسپتال لایا گیا تھا۔

    سمندری طوفان ’موچا‘ بنگلادیش اورمیانمار کے ساحلوں سے ٹکرا گیا

    محکمہ صحت کے مطابق مریض کےنمونے تصدیق کے لیے آغا خان لیبارٹری بھیجے گئے تھے جس کے بعد ان میں کانگو وائرس کی تصدیق ہوئی تھی مریض میں کانگو کی رپورٹ مثبت آئی تھی جس کے بعد محمد عادل کا انتقال 5 مئی کو ہوا تھا۔

    دوسری جانب عیدالاضحیٰ پر کانگو وائرس پھیلنے کا خدشہ ہے، محکمہ صحت نے احتیاطی تدابیر کے حوالے سے ایڈوائزری جاری کردی ایڈوائرزی کے مطابق کانگو وائرس کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں، عید الاضحیٰ پر جانوروں کے ساتھ رابطہ بڑھ جاتا ہے، کانگو وائرس متاثرہ جانور سے انسانوں میں منتقل ہونے کے خدشات ہیں۔

    ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ ذبح کے دوران ہاتھ میں کٹ لگ جانے سے وائرس انسانی خون میں شامل ہوجاتا ہے، یہ ایک مہلک وائرل بیماری ہے جو نائیرو وائرس کے ذریعے پھیلتی ہے، مویشی، بکری اور بھیڑ بنیادی طور پر وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں محکمہ صحت نے اسپتالوں میں آئسولیشن وارڈ قائم کرنے کے احکامات جاری کردیئے۔

    عمران خان اپنے پسندیدہ چیف جسٹس کی چھتری کے نیچے چھپ نہیں سکیں گے،احسن اقبال

    ایڈوائرزی میں ہدایت کی گئی ہے کہ آئسولیشن وارڈ میں تعینات ڈاکٹرز اور ہیلتھ ورکرز احتیاطی تدابیر اختیار کریں، مویشی منڈی میں کانگو وائرس سے بچاؤ کے متعلق آگاہی بینر آویزاں کیے جائیں۔

    کانگو وائرس کیا ہے؟

    کانگو وائرس مویشی گائے، بیل، بکری، بکرا، بھینس اور اونٹ، دنبوں اور بھیڑ کی کھال سے چپکی چیچڑوں میں پایا جاتا ہے، چیچڑی کے کاٹنے سے وائرس انسان میں منتقل ہو جاتا ہے، قومی ادارۂ صحت کے مطابق نیرو نامی وائرس انسانی خون، تھوک اور فضلات میں پایا جاتا ہے جو انسانوں میں گانگو بخار پھیلاتا ہے، متاثرہ شخص ایک ہفتے کے اندر زندگی کی بازی ہار سکتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق کانگو وائرس گزشتہ بیس سالوں سے پاکستان میں موجود ہے، یہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ عید الاضحیٰ میں لگنے والی منڈیوں اور شہریوں کی آمد و رفت کی وجہ سے ماہِ قرباں میں اس کے کیسز بڑھ جاتے ہیں۔

    اوچ شریف: پنجاب فوڈ اتھارٹی کی فرضی کاروائیاں جاری ،ملاوٹ مافیا کو چھوٹ

    ماہرین کے مطابق چیچڑ اگر کسی انسان کو کاٹ لے یا متاثرہ جانور ذبیحہ کے دوران کسی شخص کے ہاتھ میں کٹ لگ جائے تو یہ وائرس انسانی خون میں شامل ہوجاتا ہے اور پھر چھوت کے مرض کی طرح ایک سے دوسرے انسان میں منتقل ہوتا ہے، ماہرین اس وائرس کو کینسر سے بھی زیادہ خطرناک قرار دیتے ہیں۔

    متاثرہ شخص کو تیز بخار، کمر، پٹھوں، گردن میں درد، قے، متلی، گلے کی سوزش اور جسم پر سرخ دھبے کانگو کی علامات ہیں جانوروں کے پاس جانے سے گریز کیا جائے، مویشیوں کے پاس جانے کی ضرورت پیش آئے تو دستانوں کا استعمال ضرور کیا جائے۔

    یاد رہے کہ کانگو وائرس کے خاتمے کے لیے تا حال کوئی ویکسین ایجاد نہیں ہوئی ہے لہٰذا قبل از وقت احتیاط اور مرض ظاہر ہو جانے کی صورت میں فوری اور بر وقت علاج ضروری ہے-

    باجوڑ میں بھی پاک فوج کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ریلی کا انعقاد

  • انگلیوں کی پوریں کیسے وجود میں آتی ہیں، سائنسدانوں نے معمہ حل کر لیا

    انگلیوں کی پوریں کیسے وجود میں آتی ہیں، سائنسدانوں نے معمہ حل کر لیا

    ہماری انگلیوں کے سروں پر پرنٹس کس طرح بنتی ہیں یہ ایک دیرینہ سائنسی معمہ ہےتاہم اب سائنسدانوں نے اس معمہ کوحل کردیاہے، جس سےنہ صرف اس عمل کو ظاہر کیا گیا ہے جس سےانگلیوں کےنشان بنتے ہیں، بلکہ اس کے ذمہ دار جینز بھی ہیں اوریہ پتہ چلتا ہے، ہمارے مخصوص پرنٹس اسی رجحان سے نکلتے ہیں جس سے زیبرا کی دھاریاں اور چیتے کے دھبے بنتے ہیں-

    باغی ٹی وی: کئی سالوں سے، یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے ترقیاتی ماہر حیاتیات ڈینس ہیڈن، جیمز گلووراور ان کے ساتھی انگلیوں کے نشانات میں خصوصی دلچسپی کے ساتھ، جلد کی نشوونما اور پختگی کےطریقےکی تحقیقات کر رہے تھے فنگرپرنٹس جو آپ کی انگلیوں کے سِروں پر گھومتی اور ابھری لکیریں ہیں، پیدائش سے پہلے ہی وجود میں آجاتی ہیں یہ پوریں ہر انگلی کےتین نقطوں سےپھیلناشروع ہوتی ہیں؛ ایک ناخن کے نیچے سے، انگلی کے بیچ سے اور انگلی کی نوک کی قریب ترین جگہ سے۔

    طاقت ور ترین سمندری طوفان ’موچا‘ بنگلادیش کے ساحل سے ٹکرانے کیلئے تیار

    سائنس دان جانتے تھے کہ فنگرپرنٹس جِلد کے نیچے چھوٹی چھوٹی گہرائیاں بننے سے پیدا پوتے ہیں اور یہ گہرائیاں نیچے تک چلی جاتی ہیں جن کے نچلے ترین حصے میں خلیے تیزی سے بڑھتے ہیں اور وہ بھی نیچے کی طرف بڑھتےچلےجاتے ہیں لیکن چند ہفتوں بعد خلیات نیچے کی طرف بڑھنا رُک جاتے ہیں۔ اس کے بجائےوہ اوپر کی طرف بڑھنا شروع کردیتے ہیں اور جلد کواوپرکی طرف دھکیلتے ہیں جس سے جلد پر ابھری لکیریں بن جاتی ہیں۔

    تاہم یہ کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ کون سی ایسی چیز ہے جوفنگرپرنٹس کے آخری ڈیزائن کا تعین کرتی ہے۔ یہ جاننے کے لیے کہ پوروں کی نمو میں کون سے مالیکیول شامل ہو سکتے ہیں، محققین نے جلد کے ایک اور جُز کا جائزہ لیا جو جلد کے اوپر ہی نہیں بلکہ اندر نیچے کی طرف بھی بڑھتا ہے اور وہ ہے بال۔

    ہمیں ڈراؤنے خواب کیوں آتے ہیں اوران سے چھٹکارا کیسے پایا جائے؟

    ٹیم نے بالوں کے خلیوں کی نشوونما کا موازنہ ابھرتے ہوئے فنگر پرنٹس سے کیا۔ سائنسدانوں نے اندازہ لگایا کہ ایک جیسے ہی مالیکیولز دونوں کے نیچے کی طرف بڑھنے کے لیے ذمہ دار ہیں۔ دونوں میں کچھ خاص قسم کے مالیکیولز ہوتے ہیں جو خلیوں کے درمیان سگنلز کو منتقل کرتے ہیں۔

    جیف راسموسن، واشنگٹن یونیورسٹی کے ایک ترقیاتی ماہر حیاتیات جو اس کام میں شامل نہیں تھے نے کہا کہ ایک چیز جو میرے سامنے کھڑی تھی وہ صرف مختلف طریقوں کی وسعت تھی جسے وہ کاغذ میں استعمال کرتے ہیں وہ تمام مختلف قسم کے طریقہ کار واقعی [ایک] مربوط کہانی بنانے میں ان کی مدد کرتے ہیں۔

    یہ کہانی جسم کے بافتوں کی بیرونی تہہ سے شروع ہوتی ہے، جسے اپیتھیلیم کہتے ہیں۔ ہیڈن کی ٹیم نے بالآخر پایا کہ انگلیوں کے نشان بالوں کے پٹکوں سے بہت ملتے جلتے نظر آنے لگتے ہیں: دونوں اپیتھیلیم پر خلیات کی چھوٹی ڈسکس کے طور پر شروع ہوتے ہیں، اور دونوں صورتوں میں، خلیے EDAR اور WNT سمیت پروٹین کے ایک سوٹ کے لیے جینز کو چالو کرتے ہیں۔

    تنہائی سگریٹ نوشی سےزیادہ خطرناک،جبکہ قبل از وقت موت کےخطرےکو30 فیصد تک بڑھا دیتی ہے

    بالوں اور فنگر پرنٹس دونوں میں WNT،EDAR اورBMP نامی مالیکیولز ہوتے ہیں ۔WNT خلیات کی پیداوار کو بڑھاتا ہے جس سے جلد کو ابھرنے میں مدد ملتی ہے۔ WNT خلیوں کو EDAR پیدا کرنے کی بھی ہدایت کرتا ہے جس کے نتیجے میں WNT کی سرگرمی مزید بڑھ جاتی ہے۔

    دوسری طرفBMP ان تمام کارروائیوں کو روکتا ہے۔ جہاںBMP بہت زیادہ ہوتا ہے وہاں جلد کے خلیوں کی تعمیر رُک جاتی ہے اور اس طرح زیادہ BMP والی جگہیں انگلی کے پوروں کے درمیان سطحی رہتی ہیں۔

    ڈائٹنگ سے مرد و خواتین میں بانجھ پن کا امکان بڑھ سکتا ہے،تحقیق