Baaghi TV

Category: صحت

  • بیرون ملک سے کراچی آنیوالے 2 مسافروں میں منکی پاکس کی علامات

    بیرون ملک سے کراچی آنیوالے 2 مسافروں میں منکی پاکس کی علامات

    جدہ سے کراچی پہنچنے والی نجی ائیرلائن کے 2 مسافروں میں منکی پاکس کی علامات ظاہر ہوئی ہیں۔

    باغی ٹی وی : ذرائع وفاقی وزارت صحت کے مطابق اسکریننگ کے دوران جدہ سے کراچی پہنچنے والے ٹھٹھہ کی رہائشی خاتون مسافر اور اس کے والد کو منکی پاکس کی علامات تھیں، دونوں مشتبہ مسافروں کو قرنطینہ کر دیا گیا ہے جناح ائیرپورٹ پر ابتدائی کارروائی کے بعد دونوں مسافروں کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

    کراچی میں منکی پاکس کے پہلے کیس کی تصدیق

    قبل ازیں گزشتہ روز سعودی عرب سے ہی آنے والی ایک کمسن لڑکی اور ایک نوجوان کو منکی پاکس کا مشتبہ مریض قرار دیا گیا تھابیرون ملک سے پرواز نمبر ایس وی 700 کے ذریعےجدہ سے کراچی آنے والی 9 سالہ راحیلہ منصوب کو منکی پاکس کی مشتبہ مریض قرار دیا گیا ہے جبکہ اسی پرواز سے کراچی پہنچنے والے عفان محمد نامی 16 سالہ نوجوان کے بھی منکی پاکس سے متاثرہ ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔

    منکی پاکس کے بعد کانگو وائرس، پاکستان میں ایک موت

    دریں اثنا کراچی میں سعودی عرب سے آنے والے مسافر میں منکی پاکس وائرس کے پہلے کیس کی تصدیق ہوئی تھی ، جدہ سے کراچی آنے والے مسافر کو منکی پاکس کی علامات کے سبب قرنطینہ کرکے خون کے نمونے لیب ٹیسٹ کے لئے بھیج گئے مسافر کو 7 دن سے بخار ہے اور اس کے جسم پر سُرخ دھبے، دانے نمودار ہو ئے تھے-

    منڈی بہاوالدین میں منکی پاکس کیس رپورٹ

    ڈاؤ یونیورسٹی میں 4 افراد کے منکی پاکس سے متعلق ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے تین افراد میں منکی پاکس کے شواہد نہیں ملے البتہ سعودی عرب سے آنے والے مسافر میں منکی پاکس کی تصدیق ہوئی ہے جسے علاج کیلئے جناح اسپتال میں داخل کردیا گیا ہے۔

    پاکستان میں منکی پاکس کے دو مریض صحتیاب،دو مشتبہ کیس رپورٹ

  • کراچی میں منکی پاکس  کے پہلے کیس کی تصدیق

    کراچی میں منکی پاکس کے پہلے کیس کی تصدیق

    کراچی میں منکی پاکس وائرس کے پہلے کیس کی تصدیق ہوگئی۔

    باغی ٹی وی: محکمہ صحت سندھ نے کراچی میں منکی پاکس کے پہلے کیس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سعودی عرب سے آنے والے مسافر میں منکی پاکس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    منکی پاکس کے بعد کانگو وائرس، پاکستان میں ایک موت

    محکمہ صحت سندھ کے مطابق جدہ سے کراچی آنے والے مسافر کو منکی پاکس کی علامات کے سبب قرنطینہ کرکے خون کے نمونے لیب ٹیسٹ کے لئے بھیج گئے مسافر کو 7 دن سے بخار ہے اور اس کے جسم پر سُرخ دھبے، دانے نمودار ہو ئے تھے-

    منڈی بہاوالدین میں منکی پاکس کیس رپورٹ

    محکمہ صحت کے مطابق ڈاؤ یونیورسٹی میں 4 افراد کے منکی پاکس سے متعلق ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے تین افراد میں منکی پاکس کے شواہد نہیں ملے البتہ سعودی عرب سے آنے والے مسافر میں منکی پاکس کی تصدیق ہوئی ہے جسے علاج کیلئے جناح اسپتال میں داخل کردیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں کراچی میں منکی پاکس کے چار سے زائد مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے تھے جن کی لیب رپورٹس میں منکی پاکس کی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔

    پاکستان میں منکی پاکس کے دو مریض صحتیاب،دو مشتبہ کیس رپورٹ

  • خیبر پختونخوا  کے دوشہروں میں سیوریج کے پانی میں پولیو وائرس کی تصدیق

    خیبر پختونخوا کے دوشہروں میں سیوریج کے پانی میں پولیو وائرس کی تصدیق

    خیبر پختونخوا : پشاور اور ہنگو میں سیوریج کے پانی میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے-

    باغی ٹی وی : یہ وائرس 10 اپریل کو پشاور کے نارے کھوار سائٹ اور ہنگو کے سول ہسپتال جانی چوک سے جمع کیے گئے ماحولیاتی نمونوں میں وائلڈ پولیو وائرس ون موجود ہے رواں سال ن نارے کھوار پشاور اور ہنگو کے سیوریج میں پہلی بار پولیو وائرس پایا گیا ہے، دونوں شہروں سے پولیو ٹیسٹ کیلئے سیمپلز 10 اپریل کو لئے گئے تھے-

    شاہد آفریدی کا کراچی میں لیجنڈز ارینا کے قیام کا اعلان

    یاد رہے کہ رواں سال اب تک پاکستان میں ایک شخص میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ دیگر 5 ماحولیاتی نمونے پولیو وائرس کے مثبت کیسز رپورٹ ہوئے ہیں-

    اسلام آباد میں قومی ادارہ صحت کی پاکستان پولیو لیبارٹری کے مطابق جو دو نئے وائرس سامنے آئے ہیں وہ جنیاتی طور پرجنوری 2023ء میں افغانستان کے صوبہِ ننگرہار کے ماحول میں پائے جانے والے پولیو وائرس سے منسلک ہےپاکستان اور افغانستان بچوں کی قوت مدافعت بڑھانے کے لیے مئی کے دوران ویکسینیشن مہم کا آغاز کریں گے۔

    صدر زیلنسکی نے روسی صدر پر حملے کی تردید کر دی

    واضح رہے کہ پشاور کے سیوریج میں آخری بار پولیو نومبر 2022 میں پایا گیا تھا ہنگو میں آخری بار پولیو کیس جولائی 2019 میں پایا گیا تھا،اس سے قبل گزشتہ سال جولائی کے مہینے میں پاکستان کے 7 شہروں کے سیوریج سیمپلز میں پولیو وائرس پایا گیا تھا، خیبرپختونخوا کے چار شہروں کے سیمپلز میں پولیو وائرس پایا گیا۔

    صوبےسرد علاقوں سے 6 لاکھ سے زائد مہمان پرندے ہجرت کر کے آئے،وائلڈ لائف سندھ

  • منکی پاکس بارے عوام کے ساتھ ہیلتھ پروفیشنلز کی آگاہی بھی ضروری

    منکی پاکس بارے عوام کے ساتھ ہیلتھ پروفیشنلز کی آگاہی بھی ضروری

    ڈین انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ پروفیسر ڈاکٹر زرفشاں طاہر نے کہا ہے کہ منکی پاکس ویکٹر بارن ڈیزیز نہیں بلکہ صرف متاثرہ شخص سے براہ راست کنٹیکٹ سے دوسرے شخص کو منتقل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام کے ساتھ ساتھ ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر ہیلتھ پروفیشنلز کی بھی بیماری سے آگاہی ضروری ہے تاکہ مرض کی تشخیص، علامات، علاج اور کیس مینجمنٹ درست طریقہ سے یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے یہ بات منکی پاکس کے بارے انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کے زیر اہتمام مختلف ہسپتالوں کے ٹریننگ حاصل کرنے والے ڈاکٹر ز، نرسز اور دیگر اسٹاف کے پہلے بیچ کو سرٹیفکیٹ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

    ڈاکٹر زرفشاں طاہر کا مزید کہنا تھا کہ حکومت پنجاب نے آئی پی ایچ کو منکی پاکس کی بیماری کے حوالہ سے فوکل انسٹیٹیوٹ اور ڈین کو فوکل پرسن نامزد کیا ہے اور ادارہ میں ڈیزیز وارننگ /الرٹ سینٹر قائم کردیا گیا ہے جسکا گزشتہ روز وزیر صحت پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم نے افتتاح کیا۔ اس سینٹر میں پورے صوبے کے ہسپتالوں سے بیماری بارے اعداد و شمار جمع کئے جائینگے اور ڈیش بورڈ کام کریگا۔اور اگر صوبے کے کسی ہسپتال سے منکی پاکس کا کوئی کیس رپورٹ ہوگا تو مذکورہ مریض بارے متعلقہ ہسپتال آئی پی ایچ کو فوری طور پر اگاہ کریگا تاکہ بروقت مریض کا سمپل لیکر لیبارٹری ٹیسٹ کیا جاسکے اور SoPs کے مطابق کیس مینجمنٹ ہو سکے۔ ڈاکٹر زرفشاں نے بتایا کہ ایک ہفتہ تک جاری رہنے والی ٹریننگ میں تین سو ہیلتھ پروفیشنلز کو 50-50 کے گروپس میں تربیت دی جائیگی جنکا تعلق پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں کے علاوہ، مختلف محکموں، ریسکیو 1122، ائیرپورٹ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ، ائیرپورٹ ہیلتھ افسر، بارڈر ہیلتھ سروسز، پاکستان اور دیگر اداروں سے ہے۔مذکورہ افراد کی تربیت کا شیڈول تیار کر کے متعلقہ افراد کو مطلع کر دیا گیا۔ یہ افراد بطور ماسٹر ٹرینر تربیت حاصل کریں گے جو بعد ازاں اپنے ہسپتالوں اور اداروں کے دیگر افراد کو تربیت فراہم کریں گے۔ڈاکٹر زرفشاں طاہر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ بیماریوں کی روک تھام کیلئے اپنی ذمہ داریاں پوری مستعدی سے پوری کرتا رہے گا۔

     ممکنہ منکی پاکس کیسز اور بارڈر ہیلتھ سروسز ہدایات کی روشنی میں ایئرپورٹس پر حفاظتی انتظامات

     پاکستان میں منکی پاکس کا پہلا کیس سامنے آگیا،

     اسلام آباد میں منکی پاکس کے 20 مشتبہ کیسز رپورٹ 

    کانگو وائرس کے مریض کی موت

  • خبیر پختونخواہ کا سب سے بڑا ہسپتال مالی بحران کا شکار

    خبیر پختونخواہ کا سب سے بڑا ہسپتال مالی بحران کا شکار

    خیبر پختوںواہ میں دو بار تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے اثرات سامنے آنے شروع ہو گئے

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ کے لئے ٹیمیں رکھی گئیں اور انکو سرکاری خزانے سے پیسے دیئے گئے تا ہم ہسپتالوں کے لئے فنڈز نہیں رکھے گئے، خبیر پختونخواہ کا سب سے بڑا ہسپتال مالی بحران کا شکار ہو گیا ہے،

    ترجمان لیڈی ریڈنگ ہسپتال محمد عاصم کا کہنا ہے کہ ایل آر ایچ میں تمام سروسز بحال ہیں، موجودہ بجٹ سے فلحال کام چلا رہے ہیں۔ایل آر ایچ انتظامیہ نے منظور شدہ چار ارب روپے کے فنڈز ریلیز کرنے کی درخواست کی ہے۔ ڈھائی ارب کا آپریشنل جبکہ ڈیڑھ ارب کا ڈیولپمنٹل بجٹ منطور ہوا تھا جو ابھی تک نہیں ملا،بجٹ روکنے سے صوبے کے سب سے بڑے ہسپتال کو مسائل در پیش ہیں،بجٹ ریلیز سے مریضوں کو مسلسل علاج کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا تنخواہیں بھی وقت پر ملیں گی ، ترجمان کا کہنا تھا کہ ایل آر ایچ دیوالیہ نہیں ہوا، منطور شدہ بجٹ ملنے سے مسائل حل ہو جائیں گے

    اگر بجٹ نہ ملا تو رپورٹس کے مطابق نہ تو تنخواہوں کے لئے پیسے ہوں گے اور نہ ہی مریضوں کے علاج کے لئے کوئی رقم.خبیر پختونخواہ کا سب سے بڑا ہسپتال مالی بحران کا شکار ہو چکا ہے،

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک صارف نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے کے پی کے سرکاری ہسپتالوں کو بھی لوٹا! یہ صوبہ 10 سال پی ٹی آئی کے ماتحت تھا اور اس کا قرضہ بے تحاشہ بڑھتا گیا! ہم نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے باہر خیموں میں آؤٹ ڈور ڈیلیوری کی تصاویر دیکھیں۔ صحت کارڈ لوٹنے کی اسکیم نے یہی کیا۔

    ایک صارف کا کہنا تھا کہ دس سال کے پی میں عمران نے خوب ایمانداری سے کرپشن کی ہے،جس کا ثبوت یوتھیا خود شئیر کر رہا ہے کہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال دیوالیہ ہوگیا،تنخواہوں کے پیسے نہیں۔پختونخوا کا اتنا برا حشر کیا ہے کہ آخری تین ماہ میں اساتذہ کو دینے کے پیسے نہیں تھے پھر عمران بھاگ گیا۔

    خیال رہے کہ یہ اسپتال ایک خاتون جس کا نام لیڈی ریڈنگ تھا ان کے نام سے منسوب یہ ایک بڑا ہسپتال خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں قائم ہے۔ جبکہ یاد رہے کہ ایلس ایڈتھ آئزکس (لیڈی ریڈنگ) ہندوستان کے وائسرائے روفس آئزکس کی پہلی اہلیہ تھیں۔ وہ سنہ 1866 میں لندن میں پیدا ہوئیں تھیں اور وہ ریڈنگ کی پہلی ’مارشنیس‘ تھیں۔ برطانوی دور میں ان کے رفاہی کاموں کو مؤرخین نے انسان دوستی سے تعبیر قرار دیا ہے

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

  • 25 برس قبل بھرتی: جنرل ہسپتال کی 29 نرسز کو گریڈ 17 مل گیا

    25 برس قبل بھرتی: جنرل ہسپتال کی 29 نرسز کو گریڈ 17 مل گیا

    25 برس قبل بھرتی: جنرل ہسپتال کی29 نرسز کو گریڈ17 مل گیا
    محکمہ صحت پنجاب نے ینگ نرسز ایسوسی ایشن لاہور جنرل ہسپتال کی صدر خالدہ تبسم سمیت 29نرسز کو گریڈ17میں ترقی دینے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا،اب یہ ہیڈ نرسز کے عہدوں پر اپنے فرائض سر انجام دیں گی۔پرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسر الفرید ظفر سے خالدہ تبسم سمیت تمام نرسز نے ملاقات کی جنہوں نے ترقی ملنے پر نرسز کیلئے مبارکباد دیتے ہوئے کامیابی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔مبارکباد دینے والوں میں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر خالد بن اسلم کے علاوہ ڈپٹی چیف نرسنگ سپرنٹنڈنٹ رمضان بی بی اور پرنسپل نرسنگ کالج مسز میمونہ ستار شامل ہیں۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ یہ نرسز 1998سے چارج نرسز کے طور پر خدمات سر انجام دے رہیں تھیں جنہیں ایک مخصوص عرصہ ملازمت کے بعد گریڈ17میں ترقی دے دی گئی ہے۔

    پروفیسر الفرید ظفر نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ سرکاری ملازمت میں ترقی ملنے سے نئے عزم کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملتا ہے، نرسنگ کا شعبہ چیلنجز اور مشکل کے ماحول میں کام کرنے کا نام ہے جس میں ہماری خواتین نے ہمیشہ ہرآول دستے کا کردار ادا کرتے ہوئے ڈاکٹرز کے شانہ بشانہ کامیابیاں حاصل کی ہیں اور بالخصوص کورونا،ڈینگی اور دیگر وبائی امراض کے دوران شاندار خدمات سر انجام دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ29نرسز کی گریڈ17میں ترقی خوش آئند امر ہے جس کے بعد وہ ادارے کی بہتری اور مریضوں کی زیادہ خدمت کر سکیں گی۔ پروفیسر الفرید ظفر نے نرسز کو تلقین کی کہ وہ اپنی سروس کے ساتھ ساتھ مزید تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھیں تاکہ انہیں عملی زندگی میں آگے بڑھنے کے مواقع میسر آ سکیں۔ ایم ایس ڈاکٹر خالد بن اسلم نے بتایا کہ گریڈ17میں ترقی ملنے والی نرسز کو جنرل ہسپتال کے مختلف شعبوں میں بطور ہیڈ نرس تعینات کیا جائے گا جہاں یہ اپنی نئی ذمہ داریاں سر انجام دیں گی اور علاج معالجے کا معیار مزید بلند ہوگا۔

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

    مونس الہیٰ نے اسپین میں 40 کروڑ کی جائیدادیں، اثاثہ جات اور بارسلونا میں ٹیکسی سروس شروع کی۔

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

  • نوعمربچوں کے حلق سے سکہ ،سیفٹی پن نکالنے کی کامیاب اینڈوسکوپی

    نوعمربچوں کے حلق سے سکہ ،سیفٹی پن نکالنے کی کامیاب اینڈوسکوپی

    جنرل ہسپتال کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر آفتاب انور نے پیڈیا ٹرک اینڈو سکوپی کے ذریعے تین معصوم بچوں کی حلق میں پھنسا ہوا دھات کا سکہ،سیفٹی ،ہئیر پن اور بٹن کی بیٹری (سیل) نکال کر انکی جانیں بچالیں جس سے انکے والدین کی خوشیاں ماند پڑنے سے بچ گئیں۔ پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ و امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے ڈاکٹرز کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے معالجین ہی صحیح معنوں میں مسیحا کہلوانے کے اصل حقدار ہیں جو اپنے” پروفیشنل سکلز”کو بروئے کار لاتے ہوئے دوسروں کی جانیں بچاتے ہیں اور انہیں اُن کی خوشیا ں لوٹاتے ہیں۔پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ جنرل ہسپتال کے تمام شعبوں میں مریض دوست ماحول کو دوام بخشنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کے جاتے ہیں اور مذکورہ واقعہ بھی اسی جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اینڈو سکوپی کے ذریے 2تا6سال کے بچوں کے حلق سے دھاتی سکے،سیل اور سیفٹی/ہئیرپن نکال کر تین خاندانوں کو اجڑنے سے بچالیا ہے جو انسانیت کی بہت بڑی خدمت ہے۔

    اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر آفتاب انور نے بتایا کہ پیڈیاٹرک اینڈوسکوپی ایک جدید طریقہ علاج ہے جس میں چھوٹے کیمرے کی مدد سے بچے کے جسم کے اندر پڑی اشیاء نظر آتی ہیں اور یہ طریقہ بچے کی جان کی حفاظت کے لئے بہترین ہے اور اس سے کوئی زخم بھی نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بچہ کھلونوں کے ساتھ کھیل رہا ہو یا کچھ کھاتے پیتے ہوئے غلطی سے کوئی چیز نگل جائے تو ا سے نکالنے کے لئے پیڈیاٹرک اینڈوسکوپی بہترین طریقہ ہے کیونکہ چھوٹے بچے عام طور پر کوئی بھی چیز منہ میں ڈال لیتے ہیں جو کبھی کبھار حادثاتی طور پر نگلی بھی جاتی ہے جس سے یہ چیزیں خوراک کی نالی میں اٹک کر بچے کی جان کیلئے خطرہ بن سکتی ہیں۔ ڈاکٹر آفتاب انور نے بتایا کہ پیڈیاٹرک اینڈوسکوپی ایک اہم ترین علاج ہے جو بچوں کی خوراک کی نالی میں پڑی ہوئی چیزوں جیسے کانٹے، سیفٹی پن اور بٹن بیٹری (سیل) کو نکالنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پچھلے ہفتے تین ایسے ہی بچے لائے گئے جن کا علاج کامیابی سے کیا۔

    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج

    ڈاکٹر آفتاب انور نے مزید بتایاکہ دھاتی سکوں، حفاظتی پنوں، انگوٹھی، بٹن کی بیٹریوں کے معاملے میں پیڈیاٹرک اینڈوسکوپی خاص طور پر کارآمد ہے۔ اسی طرح سکے اور حفاظتی پن عام طور پر چار سال سے کم عمر کے بچے کھاتے ہیں جبکہ بٹن کی بیٹریاں آٹھ سال تک کے بچوں کے لیے خطرہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ اشیاء انہضام کے راستے کو خاصا نقصان پہنچا سکتی ہیں، بشمول سوراخ اور خون بہنا اگر یہ طویل عرصے تک جسم میں رہیں۔انہوں نے بچوں کے والدین سے اپیل کی کہ وہ چھوٹی چیزوں کونو عمر بچوں کی پہنچ سے دور رکھنے کے لیے چوکس رہیں تاکہ حادثاتی طور پرکسی نا گہانی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اس موقع پر ان بچوں کے والدین نے دلی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے ہسپتال انتظامیہ،ڈاکٹرز اور نرسز کا شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ وہ انتہائی پریشانی کے عالم میں ہسپتال آئے جہاں اُن کے بچوں کی زندگیاں بچا کر والدین کو دوبارہ خوشی دی گئی ہے اور اس سلسلے میں ڈاکٹر آفتاب انور کی سربراہی میں ڈاکٹرز کی ٹیم ہم سب کی محسن ہے جن کیلئے ہم دلی طور پر دعا گو ہیں۔

  • ملک میں منکی پاکس کی روک تھام کیلئے تمام ائیر پورٹس پر”ہیلتھ ایمرجنسی” نافذ

    ملک میں منکی پاکس کی روک تھام کیلئے تمام ائیر پورٹس پر”ہیلتھ ایمرجنسی” نافذ

    ملک میں منکی پاکس کے پھلاؤ اور روک تھام کے لیے ائیرپورٹ سیکیورٹی فورس (اے ایس ایف) نے نئی ایس او پیز جاری کردی ہیں۔

    باغی ٹی وی : اے ایس ایف کی جاری کردہ نئی ایس اوپیز کے ملک کے تمام ایئر پورٹس پر’ہیلتھ ایمرجنسی’ نافذ کردیں گئی ہے ڈائریکٹر جنرل اے ایس ایف نے ہدایات پرسختی سےعملدرآمد کرنے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام ائرپورٹ سیکیورٹی فورس کا عملہ فیس ماسک پہنے گا۔

    مغرب سے کم ہواؤں کے بادلوں کا سلسلہ پاکستان میں داخل

    انہوں نے مزید کہا کہ جسمانی تلاشی، سامان کی چیکنگ کے دوران دستانے پہننا لازمی ہے ساتھ ہی ائیرپورٹ میں داخلے کے لئےعارضی پاسز کا اجراء بھی روک دیا گیا ہے۔

    منکی پاکس 1958 میں اس وقت دریافت ہوا جب تحقیق کے لیے استعمال کیے جانے والےبندروں کے گروپوں میں ایک چیچک جیسی بیماری پھیلنے لگی سائنسدانوں نے اس بیماری کی ابھی تک یقینی دہانی کی ہے، لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ یہ افریقہ کےبرساتی جنگلات میں چھوٹے چوہوں اور گلہریوں سے پھیلتا ہے۔

    منکی پاکس وائرس کی دو قسمیں ہیں، جو وسطی افریقی اور مغربی افریقی ناموں سے جانی جاتی ہیں۔ وسطی افریقی منکی پاکس وائرس زیادہ شدید انفیکشن کا سبب بنتا ہے اور مغربی افریقی منکی پاکس وائرس سے زیادہ موت کا سبب بنتا ہے۔

    گھوٹکی:ڈاکوؤں نے دو افراد کو اغوا کرلیا،دو افراد مزاحمت پر زخمی

    منکی پاکس عام طور پر فلو جیسی علامات سے شروع ہوتا ہے جیسے بخار، سر درد، پٹھوں میں درد اور تھکن، جو ایک یا دو دن جاری رہ سکتی ہے۔ بخار کے ایک سے تین دن بعد دانے نکل آتے ہیں جو کچھ دن بعد جسم پر مزید ظاہر ہونے لگتے ہیں، جو سرخ رنگ کی جلد سے چھوٹے دھبوں تک بڑھ جاتے ہیں۔ وہ پھر چھالوں میں بدل سکتے ہیں جو کچھ عرصے بعد سفیدی مائل سیال سے بھر بھی سکتے ہیں۔

    یہ بعض اوقات چکن پاکس، آتشک یا ہرپس سے ملتا جلتا نظر آتا ہے۔ عالمی ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او) کے حکام نے بتایا کہ یہ عام طور پر چہرے سے اعضاء، ہاتھوں، پیروں اور پھر باقی جسم تک پھیلتا ہے۔ لیکن بیماریوں کے ماہرین نے حالیہ معاملات میں ایک نمونہ کی نشاندہی کی ہے حکام ایسے مزید کیسز دیکھ رہے ہیں جہاں دانے رانوں سے شروع ہوتے ہیں۔

    کراچی:3 مزلہ رہائشی عمارت میں آگ لگنے سے بچوں سمیت 7 افراد زخمی

    وئارس کا انکیوبیشن کا دورانیہ بہت طویل ہوتا ہے اور ایک بار جب یہ جسم میں داخل ہوتا ہے، تو یہ سب سے پہلے اندرونی اعضاء کو متاثر کرتا ہے علامات کی وجہ سے ان میں بہت نمایاں بخار، جسم میں درد اور درد، سر درد، اور تھکاوٹ شامل ہیں جیسا کہ جسم ان علامات سے لڑتا ہے، لیمفاڈینوپیتھی، یا بڑھا ہوا لمف نوڈس، ابتدائی علامات کے بعد ظاہر ہوتا ہے۔

    اس کے بعد یہ علامات ہاتھ، پاؤں، چہرے، منہ یا یہاں تک کہ رانوں پر پائی جانے والی خارش کی طرف بڑھتے ہیں۔ یہ دانے ابھرے ہوئے ٹکڑوں یا دردناک پیپ سے بھرے سرخ پیپولس میں بدل جاتے ہیں۔

    منکی پاکس کا کوئی خاص علاج نہیں ہے۔ اس بیماری کے موجودہ علاج کو اصل میں حیاتیاتی حملے کی صورت میں دفاع کے طور پر منظور کیا گیا ہے۔ چیچک کا وائرس آرتھوپوکس وائرس خاندان سے تعلق رکھتا ہے اور انسانیت کے ایک پرانے دشمن چیچک کے ساتھ اہم مماثلت رکھتا ہے۔ چیچک کی 30 فیصد اموات کے مقابلے میں ایک فیصد اور 3 فیصد کے درمیان منکی پاکس کے مریض مر جاتے ہیں۔

    امریکا میں ہیلی کاپٹرز کاخوفناک حادثہ، تمام ایوی ایشن یونٹس گراؤنڈ کردیئے گئے

    منکی پاکس اور چیچک دونوں وائرس کافی ملتے جلتے ہیں، اسلئے چیچک کے خلاف تیار کردہ علاج کو منکی پاکس کے لئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ منکی پاکس کے لیے مخصوص علاج موجود نہیں ہیں۔

  • ڈرپ کی بجائے اینٹی بایوٹکس کھانا زیادہ مفید،تحقیق

    ڈرپ کی بجائے اینٹی بایوٹکس کھانا زیادہ مفید،تحقیق

    واشنگٹن: ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ڈرپ کی بجائے اینٹی بایوٹکس کھانا زیادہ مفید ثابت ہوسکتا ہے-

    باغی ٹی وی: ماہرین نےایک تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ اینٹی بایوٹکس ادویہ اگر ڈرپ یا انجیکشن سے دینے کی بجائے کھلائی جائیں تو اس سے مریضوں کو ہسپتال میں رکنے کا وقفہ کم کیا جاسکتا ہے، مریض تیزی سے تندرست ہوسکتا ہے اور ہسپتال کا خرچ کم کیا جاسکتا ہے۔

    ہر آدھے گھنٹے میں تین منٹ کی چہل قدمی خون میں شوگر کی سطح کو …

    نمونیا کے مریض اگر انجیکشن کی بجائے اینٹی بایوٹکس ادویہ کھائیں تو وہ نہ صرف تیزی سے ٹھیک ہوسکتے ہیں بلکہ اضافی اخراجات بھی کم کرسکتے ہیں اس ضمن میں انفیکشیئس ڈیزیزز سوسائٹی آف امریکا (آئی ڈی ایس اے) نے بڑے پیمانے پر مطالعہ کرکے یہ بات کہی ہے۔

    ماہرین نے ذیابیطس پھیلنے کی اہم وجہ دریافت کر لی

    ماہرین نے 2010 سے 2015 تک امریکا بھر کے 642 ہسپتالوں کا جائزہ لیا گیا ہے جن مریضوں نے مرض کی تشخیص سے تین دن کے اندر اندر منہ سے ادویہ کھانا شروع کیں انہیں جلد عمل کرنے والےمریضوں میں شامل کیا گیااس طرح دیر سے رجوع کرنے والے مریضوں کی صحت، ہسپتال میں رہنے کے دورانیے ، آئی سی یو میں پہنچنے کے واقعات اور اموات کا بھی بغور جائزہ لیا گیا۔

    دہی پر کی گئی نئی تحقیق میں دہی کے مزید حیران کن فوائد سامنے آ …

    تحقیق میں معلوم ہوا کہ منہ سے اینٹی بایوٹکس کھانے والے افراد جلدی تندرست ہوئے اور ہسپتال سے اپنے گھر بھی جلد ہی روانہ ہوئے ماہرین نے کہا ہےکہ دنیا بھرمیں بالخصوص نمونیا کےمریضوں کے لیےنیا ضابطہ متعارف کیا جائے کہ وہ اینٹی بایوٹکس لگوانےکی بجائے کھانے کی جانب راغب ہوں۔

    کھانا پکانے کے دوران کی جانیوالی 7 معمولی غلطیاں جو صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ …

  • ہر آدھے گھنٹے میں تین منٹ کی چہل قدمی خون میں شوگر کی سطح کو کم کرتی ہے

    ہر آدھے گھنٹے میں تین منٹ کی چہل قدمی خون میں شوگر کی سطح کو کم کرتی ہے

    ہر آدھے گھنٹے میں تین منٹ کی چہل قدمی خون میں شوگر کی سطح کو کم کرتی ہے۔

    باغی ٹی وی : برطانوی خبر رساں ادارے "بی بی سی” کے مطابق یہ بات برطانیہ میں ایک تحقیق میں سامنے آئی ہےیوکے ذیابطیس چیریٹی کی جانب سے یہ مشورہ دیا گیا ہےکہ سات گھنٹے کے اندر اندر ہر آدھے گھنٹے میں تین منٹ کی واک ذیابیطس ٹائپ ون کے مریضوں کے خون میں شوگر لیول کو بہتر بنا سکتی ہے یہ تحقیق کل 32 مریضوں پر کی گئی ہے۔

    وہ غذائی عوامل جو عالمی سطح پرٹائپ 2 ذیا بیطس کا سبب بنتے ہیں

    ایک اندازے کے مطابق برطانیہ میں تقریباً چار لاکھ افراد ذیابیطس ٹائپ ون سے متاثر ہیں

    ذیابیطس یو کے میں ریسرچ کی سربراہ ڈاکٹر الزبتھ رابرٹسن کا کہنا ہےکہ ٹائپ 1 ذیابیطس کے شکار افراد کے لیے روزانہ کی بنیاد پر اپنے خون میں شوگر کی سطح پر نظر رکھنا ایک تھکا دینے والا کام ہو سکتا ہے تحقیق کے نتائج ظاہر کرتےہیں کہ طرز زندگی میں سادہ تبدیلیاں، جیسے کہ چلتے وقت فون پر بات نہ کرنا، ذیابطیس سےبچاؤ میں مدد فراہم کرتی ہیں ہم اس کے طویل مدتی اثرات کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کرنے کے لیے پرجوش ہیں-

    یونیورسٹی آف سنڈرلینڈ سے وابستہ اور اس تحقیق کے سرکردہ محقق ڈاکٹر میتھیو کیمبل کا کہنا ہے کہ وہ اس کم درجے کی سرگرمی کے ایسے نتیجے پر حیران ہیں ایکٹیویٹی اسنیکنگ‘ ٹائپ 1 ذیابیطس کے شکار لوگوں کے لیے ایک بڑی تبدیلی کا آغاز ہو سکتی ہے جو مزید باقاعدہ جسمانی ورزش کر سکتے ہیں۔ دوسرے لوگوں کے لیے، یہ خون میں شوگر کی سطح کو باقاعدہ رکھنے کا ایک آسان طریقہ ہو سکتا ہے۔

    فرنچ فرائز کھانے سے نفسیاتی صحت پرمنفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں،تحقیق

    اس ابتدائی مرحلے کے ٹرائل میں ٹائپ ون ذیابیطس میں مبتلا 32 افراد نے دو دن تک سات گھنٹے بیٹھنے اور آدھے گھنٹے کے وقفے سے چلنے کی ورزش کی ایک سیشن میں انھوں نے وقفے وقفے سے واکنگ بریک لیا اور دوسرے سیشن میں وہ بیٹھے رہے ہر سیشن کے آغاز سے 48 گھنٹے تک ان کے بلڈ شوگر کی سطح کو باقاعدگی سے مانیٹر کیا گیا۔ اس دوران سب نے ایک جیسا کھانا کھایا اور ان کی انسولین کی مقدار میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

    48 گھنٹے تک جاری رہنے والی اس تحقیق میں پتا چلا کہ باقاعدگی سے چہل قدمی کرنے سے خون میں شوگر کی سطح کم رہتی ہے (6.9 ملی میٹر فی لیٹر) جبکہ مسلسل بیٹھے رہنے کے دوران یہ 8.2 ملی میٹر فی لیٹر تک رہتی ہے۔

    ڈاکٹر کیمبل کہتے ہیں کہ حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کو ترغیب دینے کا یہ آسان طریقہ بہت بڑی آبادی کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔

    دہی پر کی گئی نئی تحقیق میں دہی کے مزید حیران کن فوائد سامنے آ گئے

    واضح رہے کہ جب جسم کا مدافعتی نظام لبلبہ کے انسولین پیدا کرنے والے خلیوں پر حملہ کرتا ہے تو اس حالت میں لبلبہ انسولین پیدا نہیں کر پاتا اور جسم ٹائپ 1 ذیابیطس کا شکار ہو جاتا ہےانسولین خون میں شوگر کی مقدار کو کنٹرول کرتی ہے۔ انسولین کی کمی کی وجہ سے خون میں شوگر کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ ذیابیطس کے مریضوں کو اس حالت سے بچنے کے لیےباقاعدہ وقفوں سےمصنوعی انسولین لینا پڑتی ہے اگر خون میں شوگر کی مقدار زیادہ دیر تک کم رہے تو مریض کو کئی خطرناک بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں۔ اس میں گردے کی خرابی، بینائی کی کمی اور ہارٹ اٹیک شامل ہیں-