Baaghi TV

Category: صحت

  • افطار میں بسیار خوری سے احتیاط کرنی چاہیے:پروفیسر الفرید ظفر

    افطار میں بسیار خوری سے احتیاط کرنی چاہیے:پروفیسر الفرید ظفر

    افطار میں بسیار خوری سے احتیاط کرنی چاہیے:پروفیسر الفرید ظفر

    پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ و امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے کہا ہے کہ روزہ انسانی صحت کیلئے بہترین عمل ہے جس سے جسم میں تطہیر کے ساتھ ساتھ جسمانی اعضاء کو تقویت ملتی ہے البتہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سارا دن خالی پیٹ رہنے کے بعد افطار میں بسیار خوری میں احتیاط برتیں اور بالخصوص تلی ہوئی اشیاء اور مصنوعی ڈرنکس سے اجتناب کریں تاکہ ہم روزے کی اصل روح اور حقیقی فوائد سے بہرہ مند ہو سکیں۔

    ان خیالات کا اظہار پروفیسر الفرید ظفر نے نرسنگ ہاسٹل جنرل ہسپتال میں افطار ڈنر کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جس کا اہتمام ینگ نرسز ایسوسی ایشن کی صدر خالدہ تبسم و دیگر عہدیداروں نے کیا۔افطار ڈنر میں ای ڈی پنز پروفیسر خالد محمود، ڈائریکٹر جنرل نرسنگ منزہ چیمہ ایم ایس ڈاکٹر خالد بن اسلم،ڈاکٹر عبدالعزیز،نرسنگ آفیسرز، وائی ڈی اے، وائی این اے، پاکستان ہیلتھ سپورٹ ایسوسی ایشن کے عہدیداران اور صوبائی دار الحکومت کے ہسپتالوں کی نرسز کی بڑی تعدادنے شرکت کی جبکہ خالد ہ تبسم نے مہمانوں کا استقبال کیا۔

    اس موقع پر پروفیسر الفرید ظفر نے کہا کہ رمضان المبارک نیکیاں سمیٹنے اور باہم میل جول میں اضافے کا مہینہ ہے اورخوش قسمتی سے روزہ افطار کروانے کی مثبت روائیت میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے جو انتہائی خوش آئند امر ہے۔انہوں نے کہا کہ دفاتر اور اداروں میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مل بیٹھنا اور کھانے پینے کا اہتمام کرنا خالصتاً اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے ہوتا ہے جس کا اجر انہیں ضرور ملے گا۔

    سفید کوٹ پہننا اپنی زندگی دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے وقف کرنے کا عزم: پروفیسر الفرید ظفر

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

    کالا موتیہ کو بصارت کا خاموش قاتل کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ 

    ای ڈی "پنز” پروفیسر خالد محمود نے کہا کہ دین اسلام رحمت، نظام فطرت ا ور مذہب انسانیت ہے اس کی تعلیمات بنی نوع آدم کی فلاح اور نجات کی حقیقی ضامن ہے۔انہوں نے کہا کہ رمضان کریم نیکوں کا موسم بہار ہے ہمیں چاہیے کہ محروم طبقے اور دکھی انسانیت کا خصوصی خیال رکھیں بالخصوص انہیں عید کی خوشیوں میں بھی شامل کریں۔ ڈی جی نرسنگ منزہ چیمہ کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب مریضوں کی فلاح و بہبود اور طبی عملے کے لئے انقلابی اقدامات اٹھا رہی ہے جبکہ صوبے بھر کے نرسنگ کالج و سکولوں میں طالبات کو بہترین تعلیم و تربیت کے مواقع میسر ہیں۔انسٹرکٹر ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں تاکہ وہ عملی زندگی میں دکھی انسانیت کی بہتر خد مت کر سکیں۔ ایم ایس ڈاکٹر خالد بن اسلم نے کہا کہ کورونا وبا کے دوران ڈاکٹرز،نرسز اور پیرا میڈیکس نے اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر دوسروں کی زندگیاں محفوظ کیں، انہیں اسی جذبے اور لگن کے ساتھ اپنے فرائض منصبی سر انجام دیتے رہنا چاہیے اور اُس مشن کی تکمیل میں سر گرم عمل رہنا چاہیے جس کا انہوں نے عہد کر رکھا ہے۔اس موقع پر پرنسپل نرسنگ کالج ایل جی ایچ رمضان بی بی، نرسنگ سپرنٹنڈنٹ مسز میمونہ ستار، اسسٹنٹ ڈائریکٹر بشریٰ مقبول، روبینہ کوثر، شمشاد نیازی، انور سلطانہ و دیگر موجود تھیں۔

  • کھانا پکانے کے دوران کی جانیوالی 7 معمولی غلطیاں جو صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ ہیں

    کھانا پکانے کے دوران کی جانیوالی 7 معمولی غلطیاں جو صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ ہیں

    کھانا پکانا ایک بہت بڑا رسک ہے کھانا پکانے کے دوران درست طریقے سے محفوظ نہ کی جانے والی خوارک، گلے سڑے کھانوں اور اس سے پیدا ہونے والے بیکٹریا ہماری صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں جو جان لیوا امراض کا سبب بنتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: "نیویارک پوسٹ” کے مطابق سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول پری وینشن نے اپنی ایک رپورٹمیں بتایا کہ ہر سال 6 میں سے ایک امریکی شہری فوڈ پوائزننگ کا شکار ہوتا ہے جس کے باعث 1 لاکھ 28 ہزار ہسپتال میں علاج کے لیے جاتے ہیں جبکہ 3 ہزار افراد ایسے ہی امراض کی وجہ سے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

    نیند کی کمی دوسروں کی مدد کرنے کے رجحان کو کم کرسکتی ہے،تحقیق

    اس قسم کی بیماریوں سے عام طور پر مناسب خوراک کی حفاظت اور ہینڈلنگ کے رہنما خطوط پر عمل کر کے بچا جا سکتا ہے۔باورچی خانے میں کھانا پکانے کے دوران ہم ایسی غلطیاں کرتے ہیں جسے ہم عام سمجھتے ہوئے نظر انداز کرلیتے ہیں اور یہی چھوٹی غلطیاں ہماری موت کا باعث بنتی ہیں لیکن ہم اپنی غلطیوں پر قابو پا کر ہم معدے سمیت دیگر امراض کے امکانات کو کم کر سکتے ہیں۔

    1. کھانا پکانے سے پہلے اپنے ہاتھ نہ دھونا

    ہاتھ دھونا کھانا پکانے کا بنیادی اصول ہے پھر بھی لوگ اس پر عمل کرنا بھول جاتے ہیں،کارنیل یونیورسٹی میں فوڈ سائنس کے پروفیسر ایمریٹس ڈاکٹر رابرٹ گراوانی نے بتایا کہ ہاتھ دھونے سے بیکٹیریا کے پھیلاؤ کو کم کیا جاسکتا ہے،خاص طور پر اگر لوگوں نے ابھی بیت الخلاء استعمال کیا ہے یا ڈائپر تبدیل کیا ہے۔

    سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول پری وینشن کے مطابق بغیر ہاتھ دھوئے کھانے سے، آپ کی انگلیوں اور ناخنوں پر لگے ہوئے جراثیم آپ کے کھانے میں پہنچ سکتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ کسی بھی کھانے کی چیز کو ہاتھ لگانے سے پہلے اینٹی بیکٹریل صابن سے ہاتھ دھوئیں۔

    روزہ اور سائنس

    اپنے ہاتھوں کو صاف کرنے کا ماہر کا تجویز کردہ طریقہ یہ ہے کہ صابن اور گرم پانی سے کم از کم 20 سیکنڈ تک دھوئیں اورکچے گوشت کو سنبھالنے کے بعد انہیں دوبارہ دھونا نہ بھولیں اور یہاں تک کہ آپ کے پسندیدہ مصالحے، گوشت سے بیکٹیریا پھیلا سکتے ہیں اور بیماری کا سبب بن سکتے ہیں۔

    جب آپ کچا کھانا یا گوشت تیار کر رہے ہوتے ہیں، تو مسالوں کے استعمال کیلئے ڈبوں کو کھولتے ہیں گروانی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، "وہ مسالے کے ڈبے کچے گوشت سے آلودہ ہو سکتے ہیں جسے آپ نے ابھی چھوا ہے۔

    2.گوشت کو نلکے کے نیچے دھونا:

    اکثر لوگ گوشت کو نلکے کے نیچے دھوتے ہیں تاہم کنزیومر رپورٹس ڈائریکٹر فوڈ سیفٹی ریسرچ اینڈ ٹیسٹنگ کے جیمز راجرز کا کہنا ہے کہ گوست کو سادے پانی سے دھونے سے بیکٹریا سے چھٹکارا حاصل نہیں کیا جاسکتااسے نلکے کے نیچے دھونے کے بجائے کسی برتن میں پانی لیں اور پھر گوشت کو دھونا شروع کریں، کوشش کریں کہ پانی کے چھینٹے آپ کے کپڑوں پر نہ لگیں کیونکہ گوشت میں پہلے کئی جراثیم موجود ہوتے ہیں –

    ڈپریشن ہمیشہ بُرا ہی نہیں مفید بھی ہوتا ہے،امریکی ماہر نفسیات

    گوشت کو سادے پانی سے دھونے کے بعد اسے مصالحہ لگانے سے قبل ابلے ہوئے گرم پانی میں رکھ لیں یا ابال لیں تاکہ جراثیم سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکے خوش قسمتی سے، کچے گوشت پر پائے جانے والے بیکٹیریا، جیسے کیمپیلو بیکٹر، کلوسٹریڈیم پرفرینجینز اور سالمونیلا مرجاتے ہیں جب مرغی کو 165 ڈگری فارن ہائیٹ پر پکایا جاتا ہے-

    3. کچے اور پکے ہوئے گوشت کو سنبھالتے وقت ایک ہی برتن کا استعمال کرنا

    گروانی نے بتایا کہ گوشت کو کچا ہونے پر اور جب اسے پکایا جائے تو اسے سنبھالنے کے لیے ایک ہی برتن کا استعمال آپ کی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے کچے اور پکے کھانوں کے لیے ایک ہی چمچ یا برتن استعمال کرنا بھی جراثیم کو دعوت دینے کے مترادف ہے-

    مثال کے طور پر گوشت کو کاٹنے والی چھری کو اگر دھوئے بغیر سلاد کے لیے استعمال کریں تو یہ مضر صحت ہے، گوشت کے بیکٹریا سلاد میں منتقل ہوجائیں گے اس لیے کچے اور پکے کھانوں کے لیے الگ الگ برتن، چمچ یا چھری کا استعمال کریں، یا پھر اسے اچھی طرح دھونے کے بعد استعمال کریں-

    پھل اور سبزیاں ذیابیطس کے مریضوں کو امراض سے بچا سکتے ہیں،تحقیق

    4.جمے ہوئے گوشت کو باورچی خانے میں پگھلنے رکھنا

    فریزر سے گوشت نکال کر باروچی کھانے میں نرم ہونے کے لیے رکھنا بہت بڑی غلطی ہے، اسے سے گوشت میں موجود مائیکرو آرگنزم ہر طرف پھیل سکتے ہیں اس لئے اس کو پہلے فریج میں رکھیں یا اگر آپ جلدی میں ہیں تو اسے مائکروویو میں رکھیں۔

    5.پھلوں اور سبزیوں کو دھو کر کھانے سے جراثیم کا خطرہ ختم ہوجاتا ہے لیکن سائنسدانوں کے مطابق یہ سچ نہیں ہے،بظاہر نظر نہ آنے والے جراثیم سادے پانی سے دھونے کے بعد بھی موجود رہتے ہیں اس لیےسبزیوں اور پھلوں کو سوڈیم ہائیپو کلورائیٹ والے پانی میں بھگوئے رکھیں اور پھر نلکے والے پانی سے دھو لیں، ایک اور طریقہ یہ ہے کہ ابلے ہوئے گرم پانی میں سبزیوں کو بگھو دیں اور پھر ٹھنڈے پانی سے دھوئیں۔

    انزائٹی کا حیرت انگیز علاج دریافت

    6.اپنے کھانے کو ٹھنڈا نہ ہونے دیں – کم از کم کچن کاؤنٹر پر نہیں جو کھانا دو گھنٹے سے زیادہ چھوڑ دیا گیا ہو اسے پھینک دینا چاہیے، ورنہ بیماری پیدا کرنے والے بیکٹیریا پنپنا شروع کر سکتے ہیں۔

    گروانی نے انکشاف کیا کہ "لوگ خاص طور پر تعطیلات کے دوران کھانے کو زیادہ دیر تک باہر چھوڑ دیتے ہیں۔” "ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ہمیں خراب ہونے والی خوراک اور بچا ہوا کھانا دو گھنٹے کے اندر فریج میں مل جائے لیکن خبردار رہے، فریج میں چار دن سے زیادہ بچا ہوا کھانا کھانے کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ ابھی پچھلے سال، یونیورسٹی کے ایک 19 سالہ طالب علم کو مبینہ طور پر سیپسس ہو گیا تھا، اور آلودہ بچا ہوا کھانے کے بعد اس کی ٹانگیں اور انگلیاں کاٹ دی گئی تھیں۔

    سی ڈی سی کا کہنا ہے کہ چکھنا اور سونگھنا اس بات کا تعین کرنے کے لیے کہ آیا کھانا اب بھی "اچھا” ہے آپ کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ بیماری سے بچنے کے لیے کھانے کے ذخیرہ کرنے کے تجویز کردہ اوقات پر عمل کرنا یقینی بنائیں۔

    خواتین کا تندرست وتوانا ہونا صحتمند معاشرے کا اہم جزو ،پرنسپل پی جی ایم آئی

    سی ڈی سی کا کہنا ہےکمزور مدافعتی نظام کے لوگ 5 سال سے کم عمر کے بچے؛ حاملہ افراد؛ اور 65 سال سے زیادہ عمر کے افراد کوخاص طور پر کھانے سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے زیادہ خطرہ رہتا ہے ۔

    گروانی انڈوں کو آسان یا درمیانے نایاب اسٹیک پر آرڈر کرنے سے پہلے دو بار سوچنے کا مشورہ دیتے ہیں۔یہ مصنوعات آلودہ ہوسکتی ہیں، حالانکہ ان میں سے زیادہ تر نہیں ہیں ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ وہ لوگ اس کے بارے میں سوچتے ہیں کہ وہ کیا کھا رہے ہیں ، لہذا وہ خود کو بیماری کے امکان کے بارے میں نہیں جانچتے-

  • نیند کی کمی دوسروں کی مدد کرنے کے رجحان کو کم کرسکتی ہے،تحقیق

    نیند کی کمی دوسروں کی مدد کرنے کے رجحان کو کم کرسکتی ہے،تحقیق

    کیلیفورنیا: ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہےکہ نیند کی کمی مشکل گھڑی میں کسی کے کام آنے کے جذبے کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔

    باغی ٹی وی: نیند کی کمی کا تعلق دل کی بیماری،خراب موڈ اور تنہائی پسندی سے ہوتا ہے لیکن پی ایل او ایس بیالوجی نامی جریدے میں شائع ہونے والے مطالعے میں محققین نے نیند کی کمی اور سخاوت کے جذبے کے درمیان تعلق کی جانچ کیلئے کئے گئے تجربے میں پایا کہ نیند کی کمی لوگوں میں دوسروں کی مدد کرنے کے رجحان کو کم کرتی ہے۔

    سورج کے حجم سے 30 بلین گنا بڑا بلیک ہول دریافت

    یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے کے نیورو سائنسدان ایٹی بین سائمن نے کہا کہ نیند کی کمی ہمارے سماجی تجربات اور جس معاشرے میں ہم رہ رہے ہیں اُس کے زاویوں کو نئے طریقے سے تشکیل دے دیتی ہے۔

    تحقیق میں شامل ترقی یافتہ ممالک میں رہنے والے نصف سے زیادہ لوگوں نے رپورٹ کیا کہ وہ کام کے ہفتے کے دوران شاذ و نادر ہی نیند پوری لے پاتے ہیں تاہم محققین کے مطابق نیند کی کمی کے اثرات صرف ایک ہفتے تک ہی محدود نہیں رہتے۔

    فلپائن میں کشتی میں آگ لگنے سے 3 بچوں سمیت31 افراد ہلاک

    تحقیق میں ماہرین نے پایا کہ کام کے ہفتے میں مقامی طور پر قائم ایک غیر منفعتی تنظیم کو جو عطیات کی فراہمی ہوتی تھی، اس میں تقریباً 10 فیصد کمی واقع ہوئی۔

  • انزائٹی کا حیرت انگیز علاج دریافت

    انزائٹی کا حیرت انگیز علاج دریافت

    موجودہ دور میں انزائٹی کا مرض بہت زیادہ عام ہوتا جا رہا ہے اور اس کا علاج عموماً سائیکو تھراپی یا ادویات سے کیا جاتا ہے ماہرین نے اس بیماری کا ایک حیران کن علاج دریافت کیا ہے-

    باغی ٹی وی:انزائٹی کو غیر یقینی کیفیت یا کچھ ناخوشگوار واقع ہونے کا ڈر کہا جا سکتا ہے۔ اردو میں انزائٹی کے لیے بے چینی، پریشانی یا گھبراہٹ جیسی اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں،انزائٹی جسم کا تناؤ کے لیے قدرتی ردعمل ہے، یہ خوف یا فکر کی ایسی کیفیت ہوتی ہے جو مختلف عناصر کا مجموعہ ہوتی ہے-

    روزہ اور سائنس

    دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھ جانا، سانس چڑھنا، تھکاوٹ اور توجہ مرکوز کرنے میں مشکلات اس کی کچھ عام علامات ہیں،ویسے ہر فرد میں اس کا اظہاریا علامات مختلف ہوسکتی ہیں، جیسے ایک فرد کو شدید گھبراہٹ کا سامنا ہوسکتا ہے تو دوسرے کو تکلیف دہ خیالات یا ڈر کے دورے پڑسکتے ہیں سردرد، سانس میں تکلیف، معدے کے مسائل، جلد پر دانے، اعصابی درد اور کھنچاؤ، انزائٹی یہ تمام اور بہت کچھ کروا سکتی ہے تاہم چیزیں اتنی سادہ بھی نہیں ہوتیں۔

    کیرولینسکا انسٹیٹیوٹ سوئیڈن میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ دیگر افراد کی جسمانی بو کو سونگھنا سماجی انزائٹی یا سماجی خوف جیسے مسئلے کا مؤثر علاج ثابت ہو سکتا ہے کسی کی جسمانی بو کو سونگھنے سے لوگوں کے وہ دماغی حصے متحرک ہوتے ہیں جو جذبات سے منسلک ہوتے ہیں اور سکون کا احساس دلاتے ہیں۔

    محققین کا کہنا تھاکہ ہماری ذہنی کیفیت سے جسم میں مرکبات بنتے ہیں اور پسینے سے ان کی بو دیگر افراد تک پہنچتی ہے اس ابتدائی تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ دیگر افراد کی جسمانی مہک کو سونگھنے سے سماجی انزائٹی کا علاج ممکن ہو سکتا ہےہمیں توقع ہے کہ اس طریقہ کار سے لوگوں کو سماجی انزائٹی کے مسئلے سے بچانے میں مدد مل سکے گی۔

    پھل اور سبزیاں ذیابیطس کے مریضوں کو امراض سے بچا سکتے ہیں،تحقیق

    تحقیق کے دوران لوگوں کے پسینے کے نمونوں کو اکٹھا کرکے جسمانی بو کو مریضوں کو سونگھایا گیا نتائج سے معلوم ہوا کہ انسانی جسمانی بو سونگھنے والے افراد کی انزائٹی میں 39 فیصد تک کمی آئی۔

    دوسری جانب ماہرین نےکچھ غذائوں کو تجویز کیاہے، جو انزائٹی دور کرنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہیں۔

    براؤن چاکلیٹ کی اہم خوبی یہ ہےکہ اس سے بلڈ پریشر نارمل رکھنے میں مدد ملتی ہےیہ جسم میں موجود ’ پولی فینول ‘ کو بڑھاتی ہے، جو خون میں موجود آکسیجن کی روانی کوبڑھا دیتا ہےچاکلیٹ کھانےسےذہنی سکون حاصل ہوتا ہےکیونکہ برائون چاکلیٹ دماغ میں ’ سیروٹونین ‘ پیدا کرتا ہے، جس سے انسان کے اندر تازگی کا ایک احساس پیدا ہوتا ہے اور انسان ذہنی دباؤسے آزاد ہوجاتا ہے۔

    ہسٹیریا ، ذہنی دبائو اور بلڈ پریشر جیسے امراض کا شکار لوگوںکو ایواکاڈو کااستعمال یقینی بنانا چاہئے ایوا کاڈو پوٹاشیم سے بھرپور ہوتاہے ، بلڈ پریشرکوکنٹرول کرتاہےاوردوران خون کو مسلسل اعتدال میں رکھتا ہےکسی بھی طرح کے دماغی امراض کے لیے سویا بین کا استعمال کافی مفید ہوتا ہے۔ یہ دماغی توازن کو بہتراور دماغ کو تیز کرنے کا کام کرتا ہے۔

    شوگر اور خون میں کمی کے مریضوں کیلئے کتنی کھجوریں کھانا مفید

    ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ کچی سبزیوں اور پھلوں کا باقاعدہ استعمال ڈپریشن اور ذہنی تناؤ کو دور کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اگرچہ روایتی ماہرین غذائیات روزانہ 5مرتبہ خاص انداز میں پھل اور سبزیاں کھانے پر زور دیتے ہیں لیکن جب بات ذہنی تناؤ اور ڈپریشن کی ہو تو اس کے شکار افراد اپنی خوراک میں ان کا مزید اضافہ کرسکتے ہیں۔ کچی سبزیاں اور پھل براہ راست انسانی موڈ پر اثرانداز ہوتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ سبزیوں کو پکانے، بھوننے اور گرم کرنے سے ان کے اندر کئی اہم غذائی اجزاء ضائع ہوسکتے ہیں۔

    ذہنی تناؤ، اداسی اور ڈپریشن جدید دور کا ایک بڑھتا ہوا عفریت ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ روزانہ500ملی گرام سرکومن ( جو دو چمچ ہلدی میں ہوتا ہے) کھانے سے عین وہی اثر ہوتا ہے، جو مشہور دواؤں پروزیک اور فلوکسیٹائن کھانے سے ہوتا ہے۔ اس طرح ہلدی ڈپریشن کا قدرتی اور فطری علاج ہے۔دماغ کی سوز ش اور الزائمر جیسی بیماریوںکیلئے ہلدی مفید ہے۔ ہلدی دماغ کی مجموعی صحت کا خیال رکھتی ہے اور دماغ میں آکسیجن کی فراہمی میںمعاون ثابت ہوتی ہے-

    نیل پالش خواتین میں بانجھ پن اور ذیابیطس کا باعث بن سکتی ہے، تحقیق

  • گردے قدرت کا انمول تحفہ ہیں،ان کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا

    گردے قدرت کا انمول تحفہ ہیں،ان کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا

    گردے قدرت کا انمول تحفہ ہیں جن کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا،اگر انسانی جسم میں گردے کام کرنا چھوڑ دیں تو خون میں یوریا سمیت فاسد مادوں کی بڑھتی ہوئی مقدار انسانی جسم کو تیزی سے ناکارہ بنا کر موت کی طرف دھکیل دیتی ہے۔اسی طرح بلڈ پریشر اور ذیابیطس کے امراض گردوں کی خرابی کا بڑا سبب بنتے ہیں لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ گردوں کی صحت کو برقرار رکھنے کیلئے احتیاطی تدابیر اور کھانے پینے میں مضر صحت اشیاء کے استعمال کے پرہیز کو یقینی بنایا جائے۔ان خیالات کا اظہار پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ و امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے "گردوں کی صحت اور ہماری ذمہ داری "کے موضوع پر منعقدہ لاہور جنرل ہسپتال میں آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پروفیسر آف یورالوجی ڈاکٹر خضر حیات گوندل،ایم ایس ڈاکٹر خالد بن اسلم، انچارج نیفرالوجی ڈاکٹر یاسر حسین نے گردوں کی بیماریوں، احتیاطی تدابیر اور بچاؤ سے متعلق مفید معلومات فراہم کیں۔اس موقع پر طب سے وابستہ افراد بڑی تعداد میں موجود تھے۔

    پروفیسر خضر حیات گوندل نے کہا کہ اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ، صاف پانی کی عدم دستیابی، کیمیکلز، اینٹی بائیٹک ادویات کابے جا استعمال، کشتہ جات، شراب نوشی وغیرہ گردوں کو ناکارہ بنانے کی اہم وجوہات ہیں جن سے اپنے آپ کو بچا کر گردوں کی صحت کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ گردے نہ صرف خون کی صفائی کرتے ہیں بلکہ ہماری صحت کا دارومدار اُن کی صحت سے وابستہ ہے جبکہ ان کی خرابی مرد اور عورت دونوں کی صحت کی خرابی کا باعث بن سکتی ہے۔ طبی ماہرین نے کہا کہ دنیا بھر میں 85کروڑ سے زائد افراد گردوں کے مختلف ا مراض میں مبتلا ہیں،ہر10میں سے ایک فرد کو” کرونک کڈنی ڈائزیز” لاحق ہے،عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2040تک دنیا بھر میں اموات کی یہ پانچویں بڑی بیماری ہوگی،اس مرض میں خرابی کی وجوہات میں ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، موٹاپا، دل اور خون کی شریانوں سے متعلق بیماریاں شامل ہیں۔پروفیسر خضر حیات گوندل نے کہا کہ پیدائشی طور پر گردہ ناکارہ یا خراب ہو تو فوری مستند معالج سے رجوع کرنا چاہیے اور ہر شخص کو سال میں 2مرتبہ گردوں کے مکمل ٹیسٹ کروانا چاہئیں نیز پتھری ہونے کی صورت میں فوری طور پر یورالوجسٹ سے رجوع کیا جائے۔ ایم ایس ڈاکٹر خالد بن اسلم کا کہنا تھا کہ جنرل ہسپتال میں گردوں کے امراض کے علاج کیلئے جدید طبی سہولیات کے علاوہ روزانہ کی بنیاد پر آؤٹ ڈور میں ڈاکٹرز موجود ہوتے ہیں لہذا شہریوں کو چاہیے کہ وہ عطائیوں کے پا س جانے کی بجائے مستند معالج سے رجوع کر کے اپنے گردوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔انہوں نے کہا کہ شعبہ یورالوجی میں خواتین اور مردوں کیلئے الگ الگ وارڈز مختص کیے گئے ہیں اور یہاں اُن کو معیاری طبی سہولیات بہم پہنچائی جا رہی ہیں۔ڈاکٹر یاسر حسین کا کہنا تھا کہ گردہ ناکارہ ہونے کی صورت میں مریض کو ڈائلسز کروانے پڑتے ہیں جو انتہائی مہنگا اور طویل پروسیجر ہوتا ہے اور کئی مریضوں کو ہفتے میں 2تا3 بار بھی ڈائلسز کی ضرورت درپیش ہوتی ہے، حکومت پنجاب کی پالیسی کے تحت ایل جی ایچ میں ڈائلسز مفت کیے جا رہے ہیں اور ہیپاٹائٹس کے مریضوں کیلئے الگ مشینیں مختص ہیں تاکہ دیگر افراد متاثر نہ ہوں۔

    پروفیسر الفرید ظفر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خواتین میں درد کی ادویات کے استعمال کا تناسب زیادہ ہوتا ہے جو ان دواؤں کے بے تحاشہ استعمال سے گردوں کے عمل کو متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حاملہ عورت کو گردے مثانے اور پیشاب کی نالی میں جراثیم (انفیکشن) کی موجودگی بچے کی قبل از وقت پیدائش کا سبب بن سکتی ہے ایسی خواتین جن کے سر میں مستقل درد یا گھبراہٹ محسوس کریں تو انہیں اپنے بلڈ پریشر پر خصوصی نگاہ رکھنا ہوگی،حمل کے دوران پیروں کی سوجن کو نظر انداز نہ کریں،انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ گردوں کی اچھی صحت کو برقرار رکھنے کیلئے نمک کا استعمال کم کیا جائے، ذیابیطس کی ادویات کو یقینی بنائیں،اور جنک فوڈ کھانے کی بجائے گھر کے کھانوں کو ترجیح دیں، تمباکو نوشی ترک کریں، پانی کا زیادہ استعمال کیا جائے،انہوں نے کہا کہ اگر بر وقت علاج شروع کیا جائے تو بہت سی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔

    سفید کوٹ پہننا اپنی زندگی دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے وقف کرنے کا عزم: پروفیسر الفرید ظفر

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

     کالا موتیہ کو بصارت کا خاموش قاتل کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ 

  • روزہ اور سائنس

    روزہ اور سائنس

    رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں دنیا بھر کے مسلمان روزے رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنا زیادہ تر وقت عبادت میں گزارتے ہیں سارا دن بھوکے پیاسے رہتے ہیں جہاں اس کی دینی اعتبار سے فضیلت ہے وہیں آج سائنس بھی اس طریقہ کار کی متعرف ہے، مختلف تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ سال بھر میں صرف 1 ماہ کے لئے انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کی جائے تو اس کے صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    افطاری میں تربوز کھانے کے فوائد

    انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کے دوران اس عادت کو اپنایا جاتا ہےکہ دن میں 16 گھنٹے تک بنا کچھ کھائے پیے گزارتے ہیں دنیا بھر کے مسلمان ماہ رمضان میں صبح صادق سے سورج ڈھلنے تک کم و بیش 11 سے 15 گھنٹے تک بھوکے اور پیاسے رہتے ہیں جبکہ بقیہ اوقات میں کھانا کھاتے ہیں۔

    رمضان میں دیگرمہینوں کےمقابلے میں فالج کےامکانات کم ہو جاتے ہیں،ماہرین

    برطانوی ماہر غذائیت ریچل کلارکسن کے مطابق کھانے میں وقفہ بڑھانے کا طریقہ وزن میں کمی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اس کے علاوہ کھانے میں وقفے کا عمل جسم کے ایک ایسے اندرونی عمل کی شروعات کرتا ہے جس کو ’آٹو فیگی‘ کہا جاتا ہے آٹو فیگی کے دوران انسانی جسم اندرونی خلیوں کی از سر نو تعمیر شروع کر دیتا ہے خصوصاً وہ جگہ جہاں ڈی این اے موجود ہوتا ہے یعنی نیوکلیئس، اس کے ساتھ مائیٹوکونڈریا جہاں انسانی خلیوں کو درکار توانائی مہیا کرنے والے کیمیائی مواد بنتا ہے اور لائسوسومز جو خلیوں سے فضلہ خارج کرتے ہیں، ان میں بھی یہ عمل اندرونی طور پر انھیں توانا کرتا ہے۔

    روزہ اور صحت مند غذائی عادات

    اس عمل کے دوران نئے سرے سے انسانی جسم کے خلیے جنم لیتے ہیں اور کچھ ایسا مواد بھی پیدا ہوتا ہے جس کے ذریعے انسانی جسم کے خلیوں کی زندگی بڑھ جاتی ہے اب تک ہونے والی سائنسی تحقیقات کے مطابق آٹو فیگی انسانی جسم کے مدافعتی نظام میں بہتری لاتی ہے –

  • کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے شہریوں میں فیس ماسک تقسیم

    کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے شہریوں میں فیس ماسک تقسیم

    کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے شہریوں میں فیس ماسک تقسیم

    پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ و امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر سردارمحمد الفرید ظفر نے کہا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی اور کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے فیس ماسک پہننا ناگزیر ہے اور ہیلتھ پروفیشنلز خود کو بیماریوں سے محفوظ رکھ کر ہی مریضوں کے علاج معالجے پر بھرپور توجہ دے سکتے ہیں لہذا ان پر لازم ہے کہ وہ اپنے اور مریضوں کے وسیع تر مفاد میں این سی او سی کی جاری کردہ گائیڈ لائنز پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں جس سے وہ نہ صرف خود بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں گے بلکہ ان کے اس عمل سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو محدود رکھنے میں بھی مدد ملے گی۔

    ان خیالات کا اظہارپروفیسر الفرید ظفر نے الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز ایسوسی ایشن لاہور جنرل ہسپتال کے زیر اہتمام کورونا وائرس سے متعلق آگاہی واک کے شرکاء اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ایم ایس ڈاکٹر خالد بن اسلم، صدر ایسوسی ایشن جنید میو، جنرل سیکرٹری مظہر شاہ، چیئرمین سلیم ساہی سمیت ڈاکٹرز،نرسز اور پیرا میڈیکس بڑی تعداد میں موجود تھے جبکہ شرکاء نے کورونا بیماری سے بچاؤ کے متعلق پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔

    پروفیسر الفرید ظفر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برسوں میں کورونا وباء کے دوران محکمہ صحت پنجاب کی پالیسی کے مطابق 35ہزار مریضوں کو مفت علاج معالجے اور تشخیصی سہولیات فراہم کی گئیں۔انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ کورونا کی بیماری کے علاوہ بھی نارمل حالات میں ڈاکٹرز کو مریضوں کے علاج کے دوران فیس ماسک کا استعمال کرنا چاہیے جو کہ ایس او پیز کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہیلتھ پروفیشنلز میڈیکل سسٹم کا اہم جزو ہیں جو ڈاکٹرز کے شانہ بشانہ مریضوں کے علاج معالجے میں اپنے فر ائض سر انجام دیتے ہیں اور ان کی خدمات کو کسی طور نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کے صدر جنید میو و دیگر عہدیداروں نے کورونا بیماری کے حوالے سے احتیاطی تدابیر بارے میڈیکل کمیونٹی میں شعور اجاگر کرنے کے لئے واک کا اہتمام کر کے اپنی احساس ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے جس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔

    اس موقع پر پرنسپل پروفیسر الفرید ظفر، ایم ایس ڈاکٹر خالد بن اسلم اور ایسوسی ایشن کے عہدیداوں نے لوگوں میں فیس ماسک تقسیم کیے تاکہ شہریوں میں اس حوالے سے زیادہ سے زیادہ شعور بیدارکیا جائے۔ایم ایس ڈاکٹر خالد بن اسلم نے ڈاکٹرز،نرسز اور پیرا میڈیکل سٹاف سے کہا کہ وہ اپنے فرائض منصبی مزید قومی ذمہ داری سے ادا کریں اور کورونا کے نئے ویرنٹ سے بچنے کے لئے ماضی کی طرح قومی یکجہتی اور جذبے کے ساتھ احتیاطی تدابیر پر عمل کریں اور عوام میں بھی شعور اجاگر کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ کورونا ویکسی نیشن بڑوں اور بچوں کیلئے ضروری ہے لہذا لوگوں کو چاہیے کہ وہ حکومت کی مفت ویکسی نیشن سہولیات سے بھرپور فائدہ اٹھائیں تاکہ اُن کی زندگیاں محفوظ رہ سکیں۔

  • ڈپریشن ہمیشہ بُرا ہی نہیں مفید بھی ہوتا ہے،امریکی ماہر نفسیات

    ڈپریشن ہمیشہ بُرا ہی نہیں مفید بھی ہوتا ہے،امریکی ماہر نفسیات

    ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ پریشانی ہمیشہ بُری نہیں ہوتی جیسا کہ زیادہ تر لوگ سوچتے ہیں، بلکہ اس کے ایسے فائدے ہیں جو کم لوگ جانتے ہیں انسان اپنی عام زندگی میں اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: ڈاکٹراورماہر نفسیات اور امریکن ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیوڈ روزمارین کا ایک مضمون "بی سائیکولوجی ٹوڈے” پر شائع کیا گیا مصنف نے کہا کہ کسی شخص کو متاثر کرنے والی پریشانی اس کے جذباتی تعلقات کو مضبوط اور بہتر بنانے اور محبت کے رشتے کو بحال کرنے کا باعث بن سکتی ہے جسے وہ دوسروں کے ساتھ قائم کرتا ہے۔

    اسمارٹ فون بند کر کے سونا حاملہ خواتین میں ذیابیطس کے خطرات کو کم کر …

    ماہرنفسیات روزمارین نے بے چینی کا علاج تلاش کرنے کی طبی کوششوں کو خواہ وہ جدید طبی علاج ہو یا روایتی علاج جیسا کہ ورزش اور دیگر اس بات کی طرف اشارہ کرتےہوئےکہا کہ ایک شخص اضطراب کے احساسات سےمکمل طور پربچ نہیں سکتاکیونکہ یہ عالمگیر انسانی تجربے کا حصہ ہے۔

    ماہر نفسیات نے لکھا کہ ایک بار جب اس حقیقت کو تسلیم کر لیا جاتا ہے تو اضطراب کا حل واضح ہو جاتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ بے چینی ایک لعنت نہیں ہے بلکہ ایک طاقت ہے پریشانی کا سامنا کرنا جذباتی رجحانات اور حالتوں کے ساتھ اپنی ہم آہنگی کو بہتر بناتے ہوئے اپنے پیاروں سے تعلق بڑھا سکتا ہے اور تعلقات میں مدد کر سکتا ہے-

    انہوں نے مزید کہا کہ دوسرے لوگوں کے جذبات کو سمجھنا، ان کا مقابلہ کرنا اور ان کا نظم کرنا جو کہ تعلقات بنانے کے لیے ضروری مہارتیں ہیں، بے چینی کے ساتھ ہمارے اپنے تجربے سے بہت زیادہ اضافہ کیا جا سکتا ہے وہ لوگ جن کی مصیبت یا صدمے کی تاریخ ہے وہ عام طور پر دوسروں کے لیے زیادہ ہمدردی محسوس کرتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ہم اپنے لیے فکر مند ہوتے ہیں تو ہمیں اس بات کا زیادہ بدیہی احساس ہوتا ہے کہ دوسروں کو کس چیزکی ضرورت ہے-

    پھل اور سبزیاں ذیابیطس کے مریضوں کو امراض سے بچا سکتے ہیں،تحقیق

    مصنف نے لکھا کہ اضطراب کے بارے میں ایک اور عام حقیقت یہ ہے کہ جب ہم اپنی پریشانی کو دوسرے لوگوں کے احساسات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں تو یہ ہمیں اپنے اضطراب کے احساسات کو سنبھالنے اور اس پر ایکٹ کرنے میں مدد کرتا ہے۔”

    پروفیسر و ماہر نفسیات ڈاکٹر روز مارین نے نتیجہ اخذ کیا کہ آپ خود سے باہر نکل کر دوسروں کی ضروریات کو دیکھیں، پھر ان کا جواب دے کر اپنی پریشانی کو کم کر سکتے ہیں دُکھ دوسروں کے لیےہمدردی کو فروغ دیتا ہے، کیونکہ سب سے زیادہ ہمدرد لوگ وہ ہوتے ہیں جو اپنی زندگی میں بڑی مشکلات سے گذرے ہوں۔ میں یہاں تک کہوں گا کہ میرے بہت سے مریض ان سب سے زیادہ فکر مند اور ہمدرد لوگوں میں سے ہیں جنہیں میں جانتا ہوں۔

    ڈاکٹر روز مارین کے مطابق اضطراب، ڈپریشن، یا دماغی صحت کےدیگرچیلنجز کا سامنا کرنا ہمیں دوسروں کےاحساسات سے زیادہ باخبر رہنے کا باعث بن سکتا ہے۔ زیادہ اضطراب والے لوگ اکثر اپنی پریشانی کی وجہ سے قابل قدر باہمی مہارتیں سیکھتے ہیں زیادہ ہمدرد ہوتے ہیں اور زیادہ وسائل والے ہوتے ہیں۔ ہم زیادہ خیال رکھنے والوں اور دوسروں اور ان کے تجربات کے بارے میں زیادہ آگاہ ہیں۔ بے چینی ہمیں دوسرے لوگوں کے احساسات اور تجربات کا خیال رکھنے میں مدد کر سکتی ہے-

    کیا عقل داڑھ کا عقل سے کوئی تعلق ہے؟اور یہ اتنی تاخیر سےکیوں نکلتی ہیں

  • پھل اور سبزیاں ذیابیطس کے مریضوں کو امراض سے بچا سکتے ہیں،تحقیق

    پھل اور سبزیاں ذیابیطس کے مریضوں کو امراض سے بچا سکتے ہیں،تحقیق

    ایک نئی تحقیق میں ماہرین کا کہنا ہے کہ پھل اور سبزیاں ذیابیطس کے مریضوں کو امراض سے بچا سکتے ہیں-

    ہارورڈ ٹی ایچ چین اسکول آف پبلک ہیلتھ کے ماہرین نے ایک تحقیق سے معلوم کیا ہے کہ ذیابیطس کے شکار افراد پھل اور سبزیاں کھاکر خود کو ذیابیطس، بلڈ پریشر اور کینسر جیسے جان لیوا امراض سے بچاکر عرصہ حیات بڑھا سکتے ہیں۔

    شوگر اور خون میں کمی کے مریضوں کیلئے کتنی کھجوریں کھانا مفید

    ذیابیطس کے مریض گوشت ک یجائے کم کاربوہائیڈریٹس کی غذائیں، پھل اور سبزیاں کھا کر کئی امراض کا خطرہ کم کرسکتے ہیں اور اپنی عمر بڑھا سکتے ہیں۔ اس ضمن میں ذیابیطس کے لگ بھگ 10 ہزار مریضوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔

    اس دوران کل 900 افراد کو کینسر ہوا اور 1400 افراد امراضِ قلب کے شکار ہوئے۔ ان میں سے جن افراد نے کم کاربوہائیڈریٹس کو اپنایا ان میں موت کی کم وجہ سامنے آئی جو ایک اہم بات ہے۔

    ماہرین کے مطابق سروے میں شامل تمام افراد ذیابیطس کے مریض تھے اور کیلوریز کا 30 تا 40 فیصد حصہ کاربوہائڈریٹس سے حاصل کررہے تھے۔ جن میں سفید ڈبل روٹی اور سفید چاول اور آٹا وغیرہ شامل ہے۔

    اسٹربیری پھل کی حقیقت جسے جان کر دنگ رہ جائیں

    دوسری جانب ایک طویل عرصے سے ذیابیطس کے شکار مریضوں کی ایک بڑی تعداد ایسی بھی تھی جو مکمل اناج، پھل اور سبزیاں کثرت سے کھارہی تھیں اور ان میں امراضِ قلب اور سرطان کے آثار نہ تھے۔

    ماہرین کے مطابق تحقیق سے ثابت ہوا کہ ذیابیطس کے مریض پھل اور سبزیاں کھا کر اپنی صحت بہتر بناسکتے ہیں اور یوں زندگی بڑھا سکتے ہیں۔

    غذا جو بڑھتی عمر کیساتھ دل و دماغ کی حفاظت کرتی ہے

  • خواتین کا تندرست وتوانا ہونا صحتمند معاشرے کا اہم جزو ،پرنسپل پی جی ایم آئی

    خواتین کا تندرست وتوانا ہونا صحتمند معاشرے کا اہم جزو ،پرنسپل پی جی ایم آئی

    کسی بھی صحت مند معاشرے کی تشکیل اور توانا نسل کے لئے ضروری ہے کہ اُس سوسائٹی میں خواتین تندرست اور مکمل صحت مندہوں، بد قسمتی سے پاکستان میں لاکھوں خواتین خون کی کمی اور غذائی قلت کا شکار ہیں جس کی باعث اُن کی ساری عمر بیماری سے لڑتے گزر جاتی ہے۔اسی طرح ہمارے معاشرے کی پسماندہ روائیت یہ ہے کہ خاندان نورینہ اولاد کو بیٹیوں پر فوقیت دیتے ہیں اور لڑکیوں کو نظر انداز کر کے محض بیٹوں کو اچھی خوراک،لباس،غذااور اعلیٰ تعلیم کا حقدار سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے صنف نازک کے حقوق پامال ہوتے ہیں اور اُن کی صحت نظر انداز ہوجاتی ہے جس سے بہتر خاندان کی تشکیل نہیں ہو پاتی جبکہ دین اسلام میں مرد و خواتین انسانی حقوق کے اعتبار سے برابر ہیں۔

    ان خیالات کااظہار پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ و امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے لاہور جنرل ہسپتال میں "خواتین کے حقوق اور معاشرے کی ذمہ داریاں "کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔پروفیسرزہرہ خانم، پروفیسر نازلی حمید، ڈاکٹر مصباح جاوید، ڈاکٹر شبنم طارق، ڈاکٹر لیلیٰ شفیق اور نرسنگ سپرنٹنڈنٹ مسز میمونہ ستار نے بھی اس موقع پر اظہار خیال کیاجہاں خواتین ڈاکٹرز کی بڑی تعداد موجود تھی۔

    پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ ہمیں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اپنے گردوپیش کی سوچ کو بدلنے کے لئے آگاہی مہم اور عملی کوششیں کرنا ہوں گی تاکہ معاشرے میں خواتین کو اُن کا جائز مقام حاصل ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے اور بچوں کی تربیت میں ماں ہی کلیدی کردار ادا کرتی ہے،اس حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئے خواتین کو اُن کے حقوق دلوانا ہوں گے تاکہ وہ خاندان میں برابر کا فرد بن کر اپنا مثبت کردار ادا کر سکیں۔پروفیسر الفرید ظفر نے کہا کہ ادارے میں ڈے کئیر سینٹرز کو مزید سہولتیں فراہم کی جائیں گی اور بریسٹ فیڈنگ کے لئے کاؤنٹر بنائے جائیں گے تاکہ یہاں کام کرنے والی خواتین کو عملی سہولتیں حاصل ہو سکیں۔

    میڈیا سے گفتگو میں پرنسپل پی جی ایم آئی کا کہنا تھا کہ خواتین کے حقوق کا سب سے بڑاعلمبردار دین اسلام ہے جس نے زندہ دفن ہونے والی بچیوں کو ماں بہن اور بیٹی کا معزز ترین رتبہ دیا اور ماؤں کے قدموں تلے جنت رکھی۔انہوں نے کہا کہ قبل از اسلام خواتین کو جنسی تسکین کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا لیکن پیغمبر اسلام نے اپنی تعلیمات کے لئے خواتین کو عروج ثریا تک پہنچا دیا،اب یہ معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ خواتین کو اُن کے حقوق جو انہیں خالق حقیقی نے عطا کیے ہیں واپس دلوائیں اور اُن کا تحفظ یقینی بنائیں جس میں سر فہرست عزت نفس کی بحالی اور صحت کی سہولیات تک خواتین کی رسائی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں پروفیسر الفرید ظفرنے کہا کہ بد قسمتی سے موجودہ صورتحال اس کے برعکس ہے اور معاشرے میں خواتین کو صحت کی مکمل سہولیات تک رسائی حاصل نہیں جس کی وجہ سے ہر سال دنیا بھر میں لاکھوں خواتین محض حمل اور زچگی کے دوران اپنی قیمتی جانیں گنوا بیٹھتی ہیں اور ان بدقسمت خواتین کی بڑی تعداد کا تعلق ترقی پذیر ممالک جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ پروفیسرالفرید ظفر نے کہا کہ خواتین کی دوران حمل دیکھ بھال اور صحت پر زیادہ توجہ دی جائے بالخصوص رورل علاقوں میں بسنے والی خواتین کو علاج معالجہ کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کی غرض سے آگاہی مہم وقت کا تقاضا ہے تاکہ دوران زچگی ماں اور بچے کی صحت کو محفوظ بنایا جا سکے۔

    سفید کوٹ پہننا اپنی زندگی دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے وقف کرنے کا عزم: پروفیسر الفرید ظفر

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ