Baaghi TV

Category: صحت

  • انزائٹی کا حیرت انگیز علاج دریافت

    انزائٹی کا حیرت انگیز علاج دریافت

    موجودہ دور میں انزائٹی کا مرض بہت زیادہ عام ہوتا جا رہا ہے اور اس کا علاج عموماً سائیکو تھراپی یا ادویات سے کیا جاتا ہے ماہرین نے اس بیماری کا ایک حیران کن علاج دریافت کیا ہے-

    باغی ٹی وی:انزائٹی کو غیر یقینی کیفیت یا کچھ ناخوشگوار واقع ہونے کا ڈر کہا جا سکتا ہے۔ اردو میں انزائٹی کے لیے بے چینی، پریشانی یا گھبراہٹ جیسی اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں،انزائٹی جسم کا تناؤ کے لیے قدرتی ردعمل ہے، یہ خوف یا فکر کی ایسی کیفیت ہوتی ہے جو مختلف عناصر کا مجموعہ ہوتی ہے-

    روزہ اور سائنس

    دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھ جانا، سانس چڑھنا، تھکاوٹ اور توجہ مرکوز کرنے میں مشکلات اس کی کچھ عام علامات ہیں،ویسے ہر فرد میں اس کا اظہاریا علامات مختلف ہوسکتی ہیں، جیسے ایک فرد کو شدید گھبراہٹ کا سامنا ہوسکتا ہے تو دوسرے کو تکلیف دہ خیالات یا ڈر کے دورے پڑسکتے ہیں سردرد، سانس میں تکلیف، معدے کے مسائل، جلد پر دانے، اعصابی درد اور کھنچاؤ، انزائٹی یہ تمام اور بہت کچھ کروا سکتی ہے تاہم چیزیں اتنی سادہ بھی نہیں ہوتیں۔

    کیرولینسکا انسٹیٹیوٹ سوئیڈن میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ دیگر افراد کی جسمانی بو کو سونگھنا سماجی انزائٹی یا سماجی خوف جیسے مسئلے کا مؤثر علاج ثابت ہو سکتا ہے کسی کی جسمانی بو کو سونگھنے سے لوگوں کے وہ دماغی حصے متحرک ہوتے ہیں جو جذبات سے منسلک ہوتے ہیں اور سکون کا احساس دلاتے ہیں۔

    محققین کا کہنا تھاکہ ہماری ذہنی کیفیت سے جسم میں مرکبات بنتے ہیں اور پسینے سے ان کی بو دیگر افراد تک پہنچتی ہے اس ابتدائی تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ دیگر افراد کی جسمانی مہک کو سونگھنے سے سماجی انزائٹی کا علاج ممکن ہو سکتا ہےہمیں توقع ہے کہ اس طریقہ کار سے لوگوں کو سماجی انزائٹی کے مسئلے سے بچانے میں مدد مل سکے گی۔

    پھل اور سبزیاں ذیابیطس کے مریضوں کو امراض سے بچا سکتے ہیں،تحقیق

    تحقیق کے دوران لوگوں کے پسینے کے نمونوں کو اکٹھا کرکے جسمانی بو کو مریضوں کو سونگھایا گیا نتائج سے معلوم ہوا کہ انسانی جسمانی بو سونگھنے والے افراد کی انزائٹی میں 39 فیصد تک کمی آئی۔

    دوسری جانب ماہرین نےکچھ غذائوں کو تجویز کیاہے، جو انزائٹی دور کرنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہیں۔

    براؤن چاکلیٹ کی اہم خوبی یہ ہےکہ اس سے بلڈ پریشر نارمل رکھنے میں مدد ملتی ہےیہ جسم میں موجود ’ پولی فینول ‘ کو بڑھاتی ہے، جو خون میں موجود آکسیجن کی روانی کوبڑھا دیتا ہےچاکلیٹ کھانےسےذہنی سکون حاصل ہوتا ہےکیونکہ برائون چاکلیٹ دماغ میں ’ سیروٹونین ‘ پیدا کرتا ہے، جس سے انسان کے اندر تازگی کا ایک احساس پیدا ہوتا ہے اور انسان ذہنی دباؤسے آزاد ہوجاتا ہے۔

    ہسٹیریا ، ذہنی دبائو اور بلڈ پریشر جیسے امراض کا شکار لوگوںکو ایواکاڈو کااستعمال یقینی بنانا چاہئے ایوا کاڈو پوٹاشیم سے بھرپور ہوتاہے ، بلڈ پریشرکوکنٹرول کرتاہےاوردوران خون کو مسلسل اعتدال میں رکھتا ہےکسی بھی طرح کے دماغی امراض کے لیے سویا بین کا استعمال کافی مفید ہوتا ہے۔ یہ دماغی توازن کو بہتراور دماغ کو تیز کرنے کا کام کرتا ہے۔

    شوگر اور خون میں کمی کے مریضوں کیلئے کتنی کھجوریں کھانا مفید

    ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ کچی سبزیوں اور پھلوں کا باقاعدہ استعمال ڈپریشن اور ذہنی تناؤ کو دور کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اگرچہ روایتی ماہرین غذائیات روزانہ 5مرتبہ خاص انداز میں پھل اور سبزیاں کھانے پر زور دیتے ہیں لیکن جب بات ذہنی تناؤ اور ڈپریشن کی ہو تو اس کے شکار افراد اپنی خوراک میں ان کا مزید اضافہ کرسکتے ہیں۔ کچی سبزیاں اور پھل براہ راست انسانی موڈ پر اثرانداز ہوتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ سبزیوں کو پکانے، بھوننے اور گرم کرنے سے ان کے اندر کئی اہم غذائی اجزاء ضائع ہوسکتے ہیں۔

    ذہنی تناؤ، اداسی اور ڈپریشن جدید دور کا ایک بڑھتا ہوا عفریت ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ روزانہ500ملی گرام سرکومن ( جو دو چمچ ہلدی میں ہوتا ہے) کھانے سے عین وہی اثر ہوتا ہے، جو مشہور دواؤں پروزیک اور فلوکسیٹائن کھانے سے ہوتا ہے۔ اس طرح ہلدی ڈپریشن کا قدرتی اور فطری علاج ہے۔دماغ کی سوز ش اور الزائمر جیسی بیماریوںکیلئے ہلدی مفید ہے۔ ہلدی دماغ کی مجموعی صحت کا خیال رکھتی ہے اور دماغ میں آکسیجن کی فراہمی میںمعاون ثابت ہوتی ہے-

    نیل پالش خواتین میں بانجھ پن اور ذیابیطس کا باعث بن سکتی ہے، تحقیق

  • گردے قدرت کا انمول تحفہ ہیں،ان کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا

    گردے قدرت کا انمول تحفہ ہیں،ان کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا

    گردے قدرت کا انمول تحفہ ہیں جن کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا،اگر انسانی جسم میں گردے کام کرنا چھوڑ دیں تو خون میں یوریا سمیت فاسد مادوں کی بڑھتی ہوئی مقدار انسانی جسم کو تیزی سے ناکارہ بنا کر موت کی طرف دھکیل دیتی ہے۔اسی طرح بلڈ پریشر اور ذیابیطس کے امراض گردوں کی خرابی کا بڑا سبب بنتے ہیں لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ گردوں کی صحت کو برقرار رکھنے کیلئے احتیاطی تدابیر اور کھانے پینے میں مضر صحت اشیاء کے استعمال کے پرہیز کو یقینی بنایا جائے۔ان خیالات کا اظہار پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ و امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے "گردوں کی صحت اور ہماری ذمہ داری "کے موضوع پر منعقدہ لاہور جنرل ہسپتال میں آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پروفیسر آف یورالوجی ڈاکٹر خضر حیات گوندل،ایم ایس ڈاکٹر خالد بن اسلم، انچارج نیفرالوجی ڈاکٹر یاسر حسین نے گردوں کی بیماریوں، احتیاطی تدابیر اور بچاؤ سے متعلق مفید معلومات فراہم کیں۔اس موقع پر طب سے وابستہ افراد بڑی تعداد میں موجود تھے۔

    پروفیسر خضر حیات گوندل نے کہا کہ اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ، صاف پانی کی عدم دستیابی، کیمیکلز، اینٹی بائیٹک ادویات کابے جا استعمال، کشتہ جات، شراب نوشی وغیرہ گردوں کو ناکارہ بنانے کی اہم وجوہات ہیں جن سے اپنے آپ کو بچا کر گردوں کی صحت کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ گردے نہ صرف خون کی صفائی کرتے ہیں بلکہ ہماری صحت کا دارومدار اُن کی صحت سے وابستہ ہے جبکہ ان کی خرابی مرد اور عورت دونوں کی صحت کی خرابی کا باعث بن سکتی ہے۔ طبی ماہرین نے کہا کہ دنیا بھر میں 85کروڑ سے زائد افراد گردوں کے مختلف ا مراض میں مبتلا ہیں،ہر10میں سے ایک فرد کو” کرونک کڈنی ڈائزیز” لاحق ہے،عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2040تک دنیا بھر میں اموات کی یہ پانچویں بڑی بیماری ہوگی،اس مرض میں خرابی کی وجوہات میں ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، موٹاپا، دل اور خون کی شریانوں سے متعلق بیماریاں شامل ہیں۔پروفیسر خضر حیات گوندل نے کہا کہ پیدائشی طور پر گردہ ناکارہ یا خراب ہو تو فوری مستند معالج سے رجوع کرنا چاہیے اور ہر شخص کو سال میں 2مرتبہ گردوں کے مکمل ٹیسٹ کروانا چاہئیں نیز پتھری ہونے کی صورت میں فوری طور پر یورالوجسٹ سے رجوع کیا جائے۔ ایم ایس ڈاکٹر خالد بن اسلم کا کہنا تھا کہ جنرل ہسپتال میں گردوں کے امراض کے علاج کیلئے جدید طبی سہولیات کے علاوہ روزانہ کی بنیاد پر آؤٹ ڈور میں ڈاکٹرز موجود ہوتے ہیں لہذا شہریوں کو چاہیے کہ وہ عطائیوں کے پا س جانے کی بجائے مستند معالج سے رجوع کر کے اپنے گردوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔انہوں نے کہا کہ شعبہ یورالوجی میں خواتین اور مردوں کیلئے الگ الگ وارڈز مختص کیے گئے ہیں اور یہاں اُن کو معیاری طبی سہولیات بہم پہنچائی جا رہی ہیں۔ڈاکٹر یاسر حسین کا کہنا تھا کہ گردہ ناکارہ ہونے کی صورت میں مریض کو ڈائلسز کروانے پڑتے ہیں جو انتہائی مہنگا اور طویل پروسیجر ہوتا ہے اور کئی مریضوں کو ہفتے میں 2تا3 بار بھی ڈائلسز کی ضرورت درپیش ہوتی ہے، حکومت پنجاب کی پالیسی کے تحت ایل جی ایچ میں ڈائلسز مفت کیے جا رہے ہیں اور ہیپاٹائٹس کے مریضوں کیلئے الگ مشینیں مختص ہیں تاکہ دیگر افراد متاثر نہ ہوں۔

    پروفیسر الفرید ظفر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خواتین میں درد کی ادویات کے استعمال کا تناسب زیادہ ہوتا ہے جو ان دواؤں کے بے تحاشہ استعمال سے گردوں کے عمل کو متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حاملہ عورت کو گردے مثانے اور پیشاب کی نالی میں جراثیم (انفیکشن) کی موجودگی بچے کی قبل از وقت پیدائش کا سبب بن سکتی ہے ایسی خواتین جن کے سر میں مستقل درد یا گھبراہٹ محسوس کریں تو انہیں اپنے بلڈ پریشر پر خصوصی نگاہ رکھنا ہوگی،حمل کے دوران پیروں کی سوجن کو نظر انداز نہ کریں،انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ گردوں کی اچھی صحت کو برقرار رکھنے کیلئے نمک کا استعمال کم کیا جائے، ذیابیطس کی ادویات کو یقینی بنائیں،اور جنک فوڈ کھانے کی بجائے گھر کے کھانوں کو ترجیح دیں، تمباکو نوشی ترک کریں، پانی کا زیادہ استعمال کیا جائے،انہوں نے کہا کہ اگر بر وقت علاج شروع کیا جائے تو بہت سی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔

    سفید کوٹ پہننا اپنی زندگی دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے وقف کرنے کا عزم: پروفیسر الفرید ظفر

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

     کالا موتیہ کو بصارت کا خاموش قاتل کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ 

  • روزہ اور سائنس

    روزہ اور سائنس

    رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں دنیا بھر کے مسلمان روزے رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنا زیادہ تر وقت عبادت میں گزارتے ہیں سارا دن بھوکے پیاسے رہتے ہیں جہاں اس کی دینی اعتبار سے فضیلت ہے وہیں آج سائنس بھی اس طریقہ کار کی متعرف ہے، مختلف تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ سال بھر میں صرف 1 ماہ کے لئے انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کی جائے تو اس کے صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    افطاری میں تربوز کھانے کے فوائد

    انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کے دوران اس عادت کو اپنایا جاتا ہےکہ دن میں 16 گھنٹے تک بنا کچھ کھائے پیے گزارتے ہیں دنیا بھر کے مسلمان ماہ رمضان میں صبح صادق سے سورج ڈھلنے تک کم و بیش 11 سے 15 گھنٹے تک بھوکے اور پیاسے رہتے ہیں جبکہ بقیہ اوقات میں کھانا کھاتے ہیں۔

    رمضان میں دیگرمہینوں کےمقابلے میں فالج کےامکانات کم ہو جاتے ہیں،ماہرین

    برطانوی ماہر غذائیت ریچل کلارکسن کے مطابق کھانے میں وقفہ بڑھانے کا طریقہ وزن میں کمی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اس کے علاوہ کھانے میں وقفے کا عمل جسم کے ایک ایسے اندرونی عمل کی شروعات کرتا ہے جس کو ’آٹو فیگی‘ کہا جاتا ہے آٹو فیگی کے دوران انسانی جسم اندرونی خلیوں کی از سر نو تعمیر شروع کر دیتا ہے خصوصاً وہ جگہ جہاں ڈی این اے موجود ہوتا ہے یعنی نیوکلیئس، اس کے ساتھ مائیٹوکونڈریا جہاں انسانی خلیوں کو درکار توانائی مہیا کرنے والے کیمیائی مواد بنتا ہے اور لائسوسومز جو خلیوں سے فضلہ خارج کرتے ہیں، ان میں بھی یہ عمل اندرونی طور پر انھیں توانا کرتا ہے۔

    روزہ اور صحت مند غذائی عادات

    اس عمل کے دوران نئے سرے سے انسانی جسم کے خلیے جنم لیتے ہیں اور کچھ ایسا مواد بھی پیدا ہوتا ہے جس کے ذریعے انسانی جسم کے خلیوں کی زندگی بڑھ جاتی ہے اب تک ہونے والی سائنسی تحقیقات کے مطابق آٹو فیگی انسانی جسم کے مدافعتی نظام میں بہتری لاتی ہے –

  • کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے شہریوں میں فیس ماسک تقسیم

    کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے شہریوں میں فیس ماسک تقسیم

    کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے شہریوں میں فیس ماسک تقسیم

    پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ و امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر سردارمحمد الفرید ظفر نے کہا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی اور کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے فیس ماسک پہننا ناگزیر ہے اور ہیلتھ پروفیشنلز خود کو بیماریوں سے محفوظ رکھ کر ہی مریضوں کے علاج معالجے پر بھرپور توجہ دے سکتے ہیں لہذا ان پر لازم ہے کہ وہ اپنے اور مریضوں کے وسیع تر مفاد میں این سی او سی کی جاری کردہ گائیڈ لائنز پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں جس سے وہ نہ صرف خود بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں گے بلکہ ان کے اس عمل سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو محدود رکھنے میں بھی مدد ملے گی۔

    ان خیالات کا اظہارپروفیسر الفرید ظفر نے الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز ایسوسی ایشن لاہور جنرل ہسپتال کے زیر اہتمام کورونا وائرس سے متعلق آگاہی واک کے شرکاء اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ایم ایس ڈاکٹر خالد بن اسلم، صدر ایسوسی ایشن جنید میو، جنرل سیکرٹری مظہر شاہ، چیئرمین سلیم ساہی سمیت ڈاکٹرز،نرسز اور پیرا میڈیکس بڑی تعداد میں موجود تھے جبکہ شرکاء نے کورونا بیماری سے بچاؤ کے متعلق پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔

    پروفیسر الفرید ظفر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برسوں میں کورونا وباء کے دوران محکمہ صحت پنجاب کی پالیسی کے مطابق 35ہزار مریضوں کو مفت علاج معالجے اور تشخیصی سہولیات فراہم کی گئیں۔انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ کورونا کی بیماری کے علاوہ بھی نارمل حالات میں ڈاکٹرز کو مریضوں کے علاج کے دوران فیس ماسک کا استعمال کرنا چاہیے جو کہ ایس او پیز کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہیلتھ پروفیشنلز میڈیکل سسٹم کا اہم جزو ہیں جو ڈاکٹرز کے شانہ بشانہ مریضوں کے علاج معالجے میں اپنے فر ائض سر انجام دیتے ہیں اور ان کی خدمات کو کسی طور نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کے صدر جنید میو و دیگر عہدیداروں نے کورونا بیماری کے حوالے سے احتیاطی تدابیر بارے میڈیکل کمیونٹی میں شعور اجاگر کرنے کے لئے واک کا اہتمام کر کے اپنی احساس ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے جس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔

    اس موقع پر پرنسپل پروفیسر الفرید ظفر، ایم ایس ڈاکٹر خالد بن اسلم اور ایسوسی ایشن کے عہدیداوں نے لوگوں میں فیس ماسک تقسیم کیے تاکہ شہریوں میں اس حوالے سے زیادہ سے زیادہ شعور بیدارکیا جائے۔ایم ایس ڈاکٹر خالد بن اسلم نے ڈاکٹرز،نرسز اور پیرا میڈیکل سٹاف سے کہا کہ وہ اپنے فرائض منصبی مزید قومی ذمہ داری سے ادا کریں اور کورونا کے نئے ویرنٹ سے بچنے کے لئے ماضی کی طرح قومی یکجہتی اور جذبے کے ساتھ احتیاطی تدابیر پر عمل کریں اور عوام میں بھی شعور اجاگر کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ کورونا ویکسی نیشن بڑوں اور بچوں کیلئے ضروری ہے لہذا لوگوں کو چاہیے کہ وہ حکومت کی مفت ویکسی نیشن سہولیات سے بھرپور فائدہ اٹھائیں تاکہ اُن کی زندگیاں محفوظ رہ سکیں۔

  • ڈپریشن ہمیشہ بُرا ہی نہیں مفید بھی ہوتا ہے،امریکی ماہر نفسیات

    ڈپریشن ہمیشہ بُرا ہی نہیں مفید بھی ہوتا ہے،امریکی ماہر نفسیات

    ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ پریشانی ہمیشہ بُری نہیں ہوتی جیسا کہ زیادہ تر لوگ سوچتے ہیں، بلکہ اس کے ایسے فائدے ہیں جو کم لوگ جانتے ہیں انسان اپنی عام زندگی میں اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: ڈاکٹراورماہر نفسیات اور امریکن ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیوڈ روزمارین کا ایک مضمون "بی سائیکولوجی ٹوڈے” پر شائع کیا گیا مصنف نے کہا کہ کسی شخص کو متاثر کرنے والی پریشانی اس کے جذباتی تعلقات کو مضبوط اور بہتر بنانے اور محبت کے رشتے کو بحال کرنے کا باعث بن سکتی ہے جسے وہ دوسروں کے ساتھ قائم کرتا ہے۔

    اسمارٹ فون بند کر کے سونا حاملہ خواتین میں ذیابیطس کے خطرات کو کم کر …

    ماہرنفسیات روزمارین نے بے چینی کا علاج تلاش کرنے کی طبی کوششوں کو خواہ وہ جدید طبی علاج ہو یا روایتی علاج جیسا کہ ورزش اور دیگر اس بات کی طرف اشارہ کرتےہوئےکہا کہ ایک شخص اضطراب کے احساسات سےمکمل طور پربچ نہیں سکتاکیونکہ یہ عالمگیر انسانی تجربے کا حصہ ہے۔

    ماہر نفسیات نے لکھا کہ ایک بار جب اس حقیقت کو تسلیم کر لیا جاتا ہے تو اضطراب کا حل واضح ہو جاتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ بے چینی ایک لعنت نہیں ہے بلکہ ایک طاقت ہے پریشانی کا سامنا کرنا جذباتی رجحانات اور حالتوں کے ساتھ اپنی ہم آہنگی کو بہتر بناتے ہوئے اپنے پیاروں سے تعلق بڑھا سکتا ہے اور تعلقات میں مدد کر سکتا ہے-

    انہوں نے مزید کہا کہ دوسرے لوگوں کے جذبات کو سمجھنا، ان کا مقابلہ کرنا اور ان کا نظم کرنا جو کہ تعلقات بنانے کے لیے ضروری مہارتیں ہیں، بے چینی کے ساتھ ہمارے اپنے تجربے سے بہت زیادہ اضافہ کیا جا سکتا ہے وہ لوگ جن کی مصیبت یا صدمے کی تاریخ ہے وہ عام طور پر دوسروں کے لیے زیادہ ہمدردی محسوس کرتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ہم اپنے لیے فکر مند ہوتے ہیں تو ہمیں اس بات کا زیادہ بدیہی احساس ہوتا ہے کہ دوسروں کو کس چیزکی ضرورت ہے-

    پھل اور سبزیاں ذیابیطس کے مریضوں کو امراض سے بچا سکتے ہیں،تحقیق

    مصنف نے لکھا کہ اضطراب کے بارے میں ایک اور عام حقیقت یہ ہے کہ جب ہم اپنی پریشانی کو دوسرے لوگوں کے احساسات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں تو یہ ہمیں اپنے اضطراب کے احساسات کو سنبھالنے اور اس پر ایکٹ کرنے میں مدد کرتا ہے۔”

    پروفیسر و ماہر نفسیات ڈاکٹر روز مارین نے نتیجہ اخذ کیا کہ آپ خود سے باہر نکل کر دوسروں کی ضروریات کو دیکھیں، پھر ان کا جواب دے کر اپنی پریشانی کو کم کر سکتے ہیں دُکھ دوسروں کے لیےہمدردی کو فروغ دیتا ہے، کیونکہ سب سے زیادہ ہمدرد لوگ وہ ہوتے ہیں جو اپنی زندگی میں بڑی مشکلات سے گذرے ہوں۔ میں یہاں تک کہوں گا کہ میرے بہت سے مریض ان سب سے زیادہ فکر مند اور ہمدرد لوگوں میں سے ہیں جنہیں میں جانتا ہوں۔

    ڈاکٹر روز مارین کے مطابق اضطراب، ڈپریشن، یا دماغی صحت کےدیگرچیلنجز کا سامنا کرنا ہمیں دوسروں کےاحساسات سے زیادہ باخبر رہنے کا باعث بن سکتا ہے۔ زیادہ اضطراب والے لوگ اکثر اپنی پریشانی کی وجہ سے قابل قدر باہمی مہارتیں سیکھتے ہیں زیادہ ہمدرد ہوتے ہیں اور زیادہ وسائل والے ہوتے ہیں۔ ہم زیادہ خیال رکھنے والوں اور دوسروں اور ان کے تجربات کے بارے میں زیادہ آگاہ ہیں۔ بے چینی ہمیں دوسرے لوگوں کے احساسات اور تجربات کا خیال رکھنے میں مدد کر سکتی ہے-

    کیا عقل داڑھ کا عقل سے کوئی تعلق ہے؟اور یہ اتنی تاخیر سےکیوں نکلتی ہیں

  • پھل اور سبزیاں ذیابیطس کے مریضوں کو امراض سے بچا سکتے ہیں،تحقیق

    پھل اور سبزیاں ذیابیطس کے مریضوں کو امراض سے بچا سکتے ہیں،تحقیق

    ایک نئی تحقیق میں ماہرین کا کہنا ہے کہ پھل اور سبزیاں ذیابیطس کے مریضوں کو امراض سے بچا سکتے ہیں-

    ہارورڈ ٹی ایچ چین اسکول آف پبلک ہیلتھ کے ماہرین نے ایک تحقیق سے معلوم کیا ہے کہ ذیابیطس کے شکار افراد پھل اور سبزیاں کھاکر خود کو ذیابیطس، بلڈ پریشر اور کینسر جیسے جان لیوا امراض سے بچاکر عرصہ حیات بڑھا سکتے ہیں۔

    شوگر اور خون میں کمی کے مریضوں کیلئے کتنی کھجوریں کھانا مفید

    ذیابیطس کے مریض گوشت ک یجائے کم کاربوہائیڈریٹس کی غذائیں، پھل اور سبزیاں کھا کر کئی امراض کا خطرہ کم کرسکتے ہیں اور اپنی عمر بڑھا سکتے ہیں۔ اس ضمن میں ذیابیطس کے لگ بھگ 10 ہزار مریضوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔

    اس دوران کل 900 افراد کو کینسر ہوا اور 1400 افراد امراضِ قلب کے شکار ہوئے۔ ان میں سے جن افراد نے کم کاربوہائیڈریٹس کو اپنایا ان میں موت کی کم وجہ سامنے آئی جو ایک اہم بات ہے۔

    ماہرین کے مطابق سروے میں شامل تمام افراد ذیابیطس کے مریض تھے اور کیلوریز کا 30 تا 40 فیصد حصہ کاربوہائڈریٹس سے حاصل کررہے تھے۔ جن میں سفید ڈبل روٹی اور سفید چاول اور آٹا وغیرہ شامل ہے۔

    اسٹربیری پھل کی حقیقت جسے جان کر دنگ رہ جائیں

    دوسری جانب ایک طویل عرصے سے ذیابیطس کے شکار مریضوں کی ایک بڑی تعداد ایسی بھی تھی جو مکمل اناج، پھل اور سبزیاں کثرت سے کھارہی تھیں اور ان میں امراضِ قلب اور سرطان کے آثار نہ تھے۔

    ماہرین کے مطابق تحقیق سے ثابت ہوا کہ ذیابیطس کے مریض پھل اور سبزیاں کھا کر اپنی صحت بہتر بناسکتے ہیں اور یوں زندگی بڑھا سکتے ہیں۔

    غذا جو بڑھتی عمر کیساتھ دل و دماغ کی حفاظت کرتی ہے

  • خواتین کا تندرست وتوانا ہونا صحتمند معاشرے کا اہم جزو ،پرنسپل پی جی ایم آئی

    خواتین کا تندرست وتوانا ہونا صحتمند معاشرے کا اہم جزو ،پرنسپل پی جی ایم آئی

    کسی بھی صحت مند معاشرے کی تشکیل اور توانا نسل کے لئے ضروری ہے کہ اُس سوسائٹی میں خواتین تندرست اور مکمل صحت مندہوں، بد قسمتی سے پاکستان میں لاکھوں خواتین خون کی کمی اور غذائی قلت کا شکار ہیں جس کی باعث اُن کی ساری عمر بیماری سے لڑتے گزر جاتی ہے۔اسی طرح ہمارے معاشرے کی پسماندہ روائیت یہ ہے کہ خاندان نورینہ اولاد کو بیٹیوں پر فوقیت دیتے ہیں اور لڑکیوں کو نظر انداز کر کے محض بیٹوں کو اچھی خوراک،لباس،غذااور اعلیٰ تعلیم کا حقدار سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے صنف نازک کے حقوق پامال ہوتے ہیں اور اُن کی صحت نظر انداز ہوجاتی ہے جس سے بہتر خاندان کی تشکیل نہیں ہو پاتی جبکہ دین اسلام میں مرد و خواتین انسانی حقوق کے اعتبار سے برابر ہیں۔

    ان خیالات کااظہار پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ و امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے لاہور جنرل ہسپتال میں "خواتین کے حقوق اور معاشرے کی ذمہ داریاں "کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔پروفیسرزہرہ خانم، پروفیسر نازلی حمید، ڈاکٹر مصباح جاوید، ڈاکٹر شبنم طارق، ڈاکٹر لیلیٰ شفیق اور نرسنگ سپرنٹنڈنٹ مسز میمونہ ستار نے بھی اس موقع پر اظہار خیال کیاجہاں خواتین ڈاکٹرز کی بڑی تعداد موجود تھی۔

    پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ ہمیں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اپنے گردوپیش کی سوچ کو بدلنے کے لئے آگاہی مہم اور عملی کوششیں کرنا ہوں گی تاکہ معاشرے میں خواتین کو اُن کا جائز مقام حاصل ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے اور بچوں کی تربیت میں ماں ہی کلیدی کردار ادا کرتی ہے،اس حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئے خواتین کو اُن کے حقوق دلوانا ہوں گے تاکہ وہ خاندان میں برابر کا فرد بن کر اپنا مثبت کردار ادا کر سکیں۔پروفیسر الفرید ظفر نے کہا کہ ادارے میں ڈے کئیر سینٹرز کو مزید سہولتیں فراہم کی جائیں گی اور بریسٹ فیڈنگ کے لئے کاؤنٹر بنائے جائیں گے تاکہ یہاں کام کرنے والی خواتین کو عملی سہولتیں حاصل ہو سکیں۔

    میڈیا سے گفتگو میں پرنسپل پی جی ایم آئی کا کہنا تھا کہ خواتین کے حقوق کا سب سے بڑاعلمبردار دین اسلام ہے جس نے زندہ دفن ہونے والی بچیوں کو ماں بہن اور بیٹی کا معزز ترین رتبہ دیا اور ماؤں کے قدموں تلے جنت رکھی۔انہوں نے کہا کہ قبل از اسلام خواتین کو جنسی تسکین کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا لیکن پیغمبر اسلام نے اپنی تعلیمات کے لئے خواتین کو عروج ثریا تک پہنچا دیا،اب یہ معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ خواتین کو اُن کے حقوق جو انہیں خالق حقیقی نے عطا کیے ہیں واپس دلوائیں اور اُن کا تحفظ یقینی بنائیں جس میں سر فہرست عزت نفس کی بحالی اور صحت کی سہولیات تک خواتین کی رسائی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں پروفیسر الفرید ظفرنے کہا کہ بد قسمتی سے موجودہ صورتحال اس کے برعکس ہے اور معاشرے میں خواتین کو صحت کی مکمل سہولیات تک رسائی حاصل نہیں جس کی وجہ سے ہر سال دنیا بھر میں لاکھوں خواتین محض حمل اور زچگی کے دوران اپنی قیمتی جانیں گنوا بیٹھتی ہیں اور ان بدقسمت خواتین کی بڑی تعداد کا تعلق ترقی پذیر ممالک جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ پروفیسرالفرید ظفر نے کہا کہ خواتین کی دوران حمل دیکھ بھال اور صحت پر زیادہ توجہ دی جائے بالخصوص رورل علاقوں میں بسنے والی خواتین کو علاج معالجہ کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کی غرض سے آگاہی مہم وقت کا تقاضا ہے تاکہ دوران زچگی ماں اور بچے کی صحت کو محفوظ بنایا جا سکے۔

    سفید کوٹ پہننا اپنی زندگی دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے وقف کرنے کا عزم: پروفیسر الفرید ظفر

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

  • بصارت متاثر کرنے والی بیماریوں پر قابو پانا ضروری ہے،پروفیسر الفرید ظفر

    بصارت متاثر کرنے والی بیماریوں پر قابو پانا ضروری ہے،پروفیسر الفرید ظفر

    پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے کہا کہ کالا موتیہ کو بصارت کا خاموش قاتل کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ انکھوں کی صحت اور بیماریوں کے علاج میں غفلت کسی بڑے حادثے سے دوچار کرنے کا سبب بننے کے علاوہ بالخصوص کالا موتیا ہمیشہ کیلئے انسان کو بینائی سے محروم کر سکتا ہے لہذا آنکھو ں کی کسی بھی تکلیف کی صورت میں اسے نظر انداز کرنے کی بجائے فوری طور پر مستند معالج سے رجوع کرنا چاہئے تاکہ علاج ہو اور مریض بینائی سے محروم ہو کر معاشرے اور خاندان کیلئے بوجھ نہ بنے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور جنرل ہسپتال شعبہ امراض چشم کے زیر اہتمام گلوکوما آگاہی واک کے شرکاء اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پروفیسر محمد معین، پروفیسر حسین احمد خاقان، پروفیسر طیبہ گل ملک، ایم ایس ڈاکٹر خالد بن اسلم،ڈاکٹر لبنیٰ صدیق، ڈاکٹر فاطمہ، ڈاکٹر عدیل رندھاوا، کنیز فاطمہ، زہرہ امبرین، مصباح طارق سمیت دیگر ڈاکٹر،نرسز پیرا میڈیکس شریک تھے۔

    مقررین نے کہا کہ بچّوں میں نظر کی کم زوری کی شرح بڑھ رہی ہے،کیوں کہ اکثر والدین دو، پانچ چھے سال کی عُمر کے بچّوں کے ہاتھوں میں موبائل فونز تھما دیتے ہیں۔ ایسے بچّوں میں عینک لگنے کے پندرہ فی صد امکانات بڑھ جاتے ہیں۔نامناسب طرزِ زندگی کے باعث بچّوں اور بڑوں کی کثیر تعداد امراضِ چشم کا شکار ہورہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عالمی ادارہ صحت نے انگریزی میں ایک معقولہ بھی متعارف کروایا ہے کہ ”Make the Kids play keep the glasses” awayیعنی بچوں کو کھیلنے کودنے دیں اور عینک سے بچائیں۔ پروفیسر محمد معین اور پروفیسر حسین احمد خاقان نے کہا کہ پاکستان میں 18لاکھ افراد کالا موتیا کے مرض میں مبتلا ہیں۔یہ مرض عمر کے کسی بھی حصے میں لاحق ہو سکتا ہے عمومی طور پر موروثی کالے موتیے کے اثرات پیدا ئش کے ساتھ ہی ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ایم ایس ڈاکٹر خالد بن اسلم نے کہا کہ لاہور جنرل ہسپتال میں سوموار تا ہفتہ آنکھوں کا طبی معائنہ اور آپریشن کی سہولت میسر ہے اور کالا موتیا کی بر وقت تشخیص و علاج کے لئے جدید طبی آلات بھی موجود ہیں۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر الفرید ظفر نے کہا کہ دنیا کی خوبصورتی کے مشاہدے اور زندگی کے حقیقی حسن سے لطف اندوز ہونے کے لئے آنکھوں کی بینائی کا ہونا نا گزیر امر ہے ان کی قدر کا اندازہ صرف انہی لوگوں سے لگایا جا سکتا ہے جو کسی نہ کسی وجہ سے اللہ کی اس عظیم نعمت سے محروم ہو چکے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کالا موتیا کی بر وقت تشخیص اور علاج کے لئے عوامی سطح پر شعور بیدار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ بڑی عمر کے افراد اپنا طرز زندگی تبدیل کریں،روزمرہ ورزش اور واک کو اپنا معمول بنائیں، شوگر و بلڈ پریشر سے بچنے کے ساتھ کمپیوٹر کے استعمال سے بھی احتیاطی تدابیر کو لازمی اختیار کریں۔ علاوہ ازیں بچوں کے موبائل کے غیر ضروری استعمال کو روکا جائے جو کم سنی میں ہی موٹے شیشے کی عینکیں لگانے کا باعث بن رہے ہیں۔پروفیسر الفرید ظفر نے کہا کہ فضائی آلودگی، سڑکوں پر دھواں چھوڑتی گاڑیاں بھی آنکھوں کی صحت کو متاثر کررہی ہیں لہذا متلعہ محکموں کو بھی صحت عامہ کی بہتری کے لئے اس مسئیلے پر توجہ دینی چاہیے تاکہ دھواں سے شہرویں کی آنکھیں متاثر نہ ہوں۔ شرکاء نے کالا موتیا کے بچاؤ کے سلوگن بھی اٹھا رکھے تھے۔

    سفید کوٹ پہننا اپنی زندگی دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے وقف کرنے کا عزم: پروفیسر الفرید ظفر

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

  • سفید کوٹ پہننا زندگی دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے وقف کرنے کا عزم:پروفیسر الفرید ظفر

    سفید کوٹ پہننا زندگی دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے وقف کرنے کا عزم:پروفیسر الفرید ظفر

    سفید کوٹ پہننا اپنی زندگی دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے وقف کرنے کا عزم: پروفیسر الفرید ظفر

    پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد الفرید ظفر نے لاہور جنرل ہسپتال سے منسلک امیر الدین میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کی نئی کلاسز کے سٹوڈنٹس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ جو سفید کوٹ زیب تن کر رہے ہیں وہ محض ر سمی کاروائی نہیں بلکہ ایک سنجیدہ اور کٹھن سفر کا آغاز ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ جذبہ انسانیت، قربانی، جرات اور احساس ذمہ داری کا سفر ہے کیونکہ سفید کوٹ پہننے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے اپنی زندگی دوسروں کی جانیں بچانے کے لئے وقف کرنے کا راستہ منتخب کیا ہے۔ انہوں نے طلبا سے کہا کہ وہ اپنی پوری توجہ تعلیم مکمل کرنے پر مرکوز کریں اور مریضوں کو حقیقی معنوں میں اہمیت دیں اوراپنی توانائیاں میڈیکل کی تعلیم اور تحقیق میں اس مقصد کے ساتھ صرف کریں کہ دکھی انسانیت کی مدد کی جاسکے۔اس موقع پر سینئر پروفیسر صاحبان، طلبہ و طالبات اور اُن کے والدین بھی موجود تھے۔

    پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ اقبال کے شاہینوں میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے اور آپ خوش قسمت ہیں جنہیں طب کا شعبہ جوائن کرنے کا موقع ملاہے کیونکہ ہر سال لاکھوں نوجوان دکھی انسانیت کی خدمت کی تڑپ لے کر ایم بی بی ایس میں داخلے کیلئے کوشش کر تے ہیں مگر انہیں کامیابی نصیب نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کے فارغ التحصیل ڈاکٹرز دیار غیر میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں اور آپ کو بھی ان کے نقش قد م پر چلتے ہوئے طبی دنیا میں اپنا اور امیر الدین میڈیکل کالج کا نام روشن کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ طلبا کو جدید ریسرچ کیلئے تمام مواقع فراہم کئے جائینگے جس سے وہ مستقبل میں بہتر انداز میں دکھی انسانیت کی خدمت کرسکیں گے۔ پروفیسر الفرید ظفر نے کہا کہ استقبالیہ تقریب میڈیکل طلبہ کے سفر کے آغاز کی علامت ہے اور اس نوبل پیشے میں شامل ہونے کی ذمہ داری اور استحقاق کا احساس پیدا کرتی ہے،پیشہ ورانہ مہارت، نگہداشت اور اعتماد کی بھی علامت ہے جو انہیں مریضوں سے حاصل کرنا ضروری ہے۔

    اس موقع پر سینئر پروفیسرصاحبان نے ایم بی بی ایس کے نئے سیشن کے طلبا کو تلقین کی کہ وہ مستقبل کے قابل با اخلاق صحت کے پیشہ ور افراد کے طور پر ابھرنے کے لئے اپنی تعلیمی اور ہم نصابی سرگرمیوں پر توجہ دیں جبکہ مطالعہ میں وقت کی پابندی کو یقینی بنانے کے لئے کالج اور ہاسٹل کے قواعد و ضوابط سے بھی طلبا کو آگاہ کیا گیا کیونکہ کالج میں حاضری اور بے قاعدگی پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جاتی ہے۔پرنسپل پی جی ایم آئی نے طلبا کے والدین سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت میں مزید دلچسپی لیں اور اساتذہ سے رابطے میں رہیں۔ تقریب کے اختتام پرپرنسپل نے تمام نئے آنے والوں سے اعلی اخلاقی معیار کی تعمیل کرنے کا حلف بھی لیاجبکہ میڈیکل سٹوڈنٹس نے بھی اپنے بھرپور جوش و خروش کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنی میڈیکل کی تعلیم مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ امیر الدین میڈیکل کالج جیسے شاندار ادارے کی نیک نامی کا باعث بنیں گے اور انشاء اللہ ملک و قوم کی خدمت کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔

  • شوگر اور خون میں کمی کے مریضوں کیلئے کتنی کھجوریں کھانا مفید

    شوگر اور خون میں کمی کے مریضوں کیلئے کتنی کھجوریں کھانا مفید

    کھجوریں صحت کیلئے بہت مفید ہیں،کھجوریں غذائیت سے بھر پور ہوتی ہیں،خاص طور پر خشک کھجوریں، خشک کھجوروں میں کیلوری خاص طور پر کاربوہائیڈریٹ (74 گرام) زیادہ ہوتی ہے۔ اس میں ریشوں کے ساتھ کئی ضروری وٹامنز اور معدنیات بھی شامل ہیں۔ کھجوریں انٹی آکسیڈینٹس کی بھرپور ارتکاز کے لئے مشہور ہیں جو آپ کے کارڈیک اور پلمونری صحت کے لئے فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہیں۔

    ہفتے میں پانچ انڈے کھانے سے بلڈ پریشر میں کمی اور دل کو فائدہ ہو سکتا ہے

    ’’ہیلدی فائی می‘‘ کے مطابق کھجور میں آئرن کی زیادہ مقدار خون کی کمی کے شکار لوگوں میں ہیموگلوبن کی سطح کو بڑھانے میں مدد کرتی ہے۔

    کھجور صحت مند حفاظتی اینٹی آکسیڈنٹس، کیلشیم، بی وٹامنز ، میگنیشیم اور وٹامن کے سے بھرپور ہوتی ہے تاہم کھجور میں کاربوہائیڈریٹ کی مقدار زیادہ ہو سکتی ہے 100 گرام کھجور میں تقریباً 75 گرام کاربوہائیڈریٹ ہوتے ہیں۔ کاربوہائیڈریٹس کی یہ زیادہ مقدار ذیابیطس کے مریضوں کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔

    ذیابیطس میلیٹس سب سے عام بیماریوں میں سے ایک ہے ذیابیطس کا زیادہ تر علاج متعدد زبانی ذیابیطس ادویات اور انسولین ضمیمہ استعمال کرکے کیا جاتا ہے۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ کھجوریں بلڈ شوگر اور چربی کی سطح کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

    یہ انسولین کی پیداوار کو بڑھا سکتا ہے اور آنتوں سے گلوکوز جذب کرنے کی شرح کو کم کرنے میں بھی مدد کرتا ہے۔ اس سے ذیابیطس ہونے کا خطرہ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے-

    کھجوریں مصنوعی مٹھاس کی طرح کیلوریز کے بغیر نہیں ہوتیں۔ لیکن کھجور میں حل پذیر اور ناقابل حل دونوں فائبر ہوتے ہیں جو خون میں شکر کی سطح کو مستحکم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ کھجور میں موجود مختلف ریشے ہاضمے کے عمل اور کاربوہائیڈریٹس کے جذب کی رفتار کو سست کرتے ہیں۔ اس طرح خون میں گلوکوز میں اضافے کو روکتے ہیں۔ اگر کوئی شخص کم بلڈ شوگر کی علامات کا سامنا کر رہا ہے تو کھجور توانائی کے فوری فروغ کے لیے ایک بہترین ناشتہ ہے۔

    اس بات کا تعین کرنے کے لیےکہ آیا کھجوریں بلڈ شوگر کی سطح کو بڑھاتی ہیں کوئی بھی گلیسیمک انڈیکس سے اندازہ لگا سکتا ہے۔ کھانے کا گلیسیمک انڈیکس (GI) بتاتا ہے کہ کھانے میں موجود شکر کتنی جلدی خون میں جذب ہو جاتی ہے۔ کم ’’جی آئی ‘‘ والے کھانے کی نسبت زیادہ ’’جی آئی ‘‘ والا کھانا خون کےدھارے میں زیادہ تیزی سےجذب ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے بلڈ شوگر میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔

    ہاتھ اور پیر اکثر کیوں سُن ہو جاتے ہیں؟

    کھجوروں میں متعدد غذائی اجزا ہوتے ہیں جو آپ کے جسم کو صحت سے متعلق ہڈیوں میں کولیسٹرول کم کرنے سے لے کر صحت کے مختلف فوائد فراہم کرتے ہیں یہ فوری طور پر کولیسٹرول کو کم کرسکتی ہیں اور آپ کے وزن کو سنبھالنے میں مدد کرتی ہیں۔

    کھجور مختلف بیماریوں کے علاج کے لئے طرح طرح کے اینٹی آکسیڈینٹ مہیا کرتی ہے۔ اینٹی آکسیڈینٹ آپ کے خلیوں کو آزاد ریڈیکلز سے بچاتے ہیں جو آپ کے جسم میں نقصان دہ رد عمل کا سبب بن سکتے ہیں اور بیماری کا سبب بن سکتے ہیں۔ کھجوریں اینٹی آکسیڈینٹ سے مالا مال ہیں جن میں شامل ہیں:

    کیروٹینائڈز – یہ آپ کے دل کی صحت کے لئے بہت فائدہ مند ہے۔ اس سے آنکھوں سے متعلقہ عارضے کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔

    فلاوونائڈز – یہ ایک طاقتور اینٹی آکسیڈینٹ ہے جس میں متعدد فوائد ہیں۔ یہ اپنی اینٹٰ سوزش کی خصوصیات کے لئے جانا جاتا ہے۔ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ذیابیطس ، الزائمر کی بیماری ، اور کینسر کی بعض اقسام کے خطرے کو کم کرنے کے لئے مفید ہے۔

    فینولک ایسڈ – یہ اینٹی سوزش کی خصوصیات رکھتا ہے اور کچھ کینسر اور دل کے امور کے خطرے کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔

    ذیا بیطس کے مریضوں میں کینسر کے واقعات اور اموات کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے،تحقیق

    ہر کھجور میں کولین ، وٹامن بی ہوتا ہے جو سیکھنے اور یاداشت کے عمل کے لئے ہت فائدہ مند ہے ، خاص طور پر الزھائیمر کے مرض کے بچوں میں۔ کھجوروں کی باقاعدگی سے کافی نیوریوڈیجنری بیماریوں جیسے الزائمر کی بیماری اور بوڑھے افراد میں بہتر ادراک کی کارکردگی سے منسلک ہوتی ہے ۔

    کھجوریں دماغ میں سوزش کو کم کرنے اور پلیک کی تشکیل کو روکنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں ، جو الزائمر کی بیماری کی روک تھام کے لئے اہم ہیں۔

    کھجوریں وٹامن سی اور ڈی کا ایک بہترین ذریعہ ہیں جن سے آپ کی جلد کو لچکدار بنانے میں مدد ملتی ہیں اور آپ کی جلد کو ہموار رکھتی ہیں۔ کھجوریں اینٹی ایجنگ پراپرٹیز کے ساتھ بھی آتی ہیں اور میلانین کو جمع ہونے سے روکتی ہیں۔

    انڈیوسڈ لیبر کی ضرورت کو کم کرتا ہے۔ کھجوریں آکسیٹوسن کی کارروائی کی نقالی کرتی ہیں اور لیبر کے دوران بچہ دانی کے پٹھوں کا قدرتی سنکچن لاتی ہیں کھجوروں میں ٹینن نامی ایک کمپاؤنڈ بھی ہوتا ہےجو پیدائش کے دوران بچہ دانی کے سنکچن کو آسان بنانے میں بھی مدد کرتا ہے۔

    روزانہ دودھ کا ایک گلاس پینا اوردہی کھانا ٹائپ 2 ذیا بیطس کیلئے مفید ہے،تحقیق

    فائبر کے ناقص استعمال کی وجہ سے حمل کے دوران بواسیر ایک عام پریشانی ہے کھجوریں فائبر کا ایک حیرت انگیز ذریعہ ہیں۔ یہ حمل کے دوران بواسیر کے خطرے کو کم کرنے میں مدد کرسکتی ہیں۔

    تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ پوٹشیم کی مقدار میں اضافہ کرکے پوسٹ مینوپاسال خواتین میں ہڈیوں کی کمی کو کم کیا جاسکتا ہے۔ ایک خشک کھجور پوٹاشیم اور دیگر غذائی اجزا کی ایک بڑی مقدار مہیا کرتی ہےسائنس دانوں کا خیال ہےکہ پوٹاشیم کی زیادہ مقدار گردوں کے ذریعے خارج ہونے والے کیلشیم کی مقدار کو کم کرکے ہڈیوں کے بڑے پیمانے پر حفاظت کرتی ہے-