Baaghi TV

Category: صحت

  • منکی پاکس کی روک تھام کیلئے انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کو خصوصی ٹاسک

    منکی پاکس کی روک تھام کیلئے انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کو خصوصی ٹاسک

    کومت پنجاب نے منکی پاکس کی روک تھام اور ہیلتھ پروفیشنلز کی تربیت کیلئے انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کو خصوصی ٹاسک سونپ دیا۔ اس ضمن میں ڈین آئی پی ایچ پروفیسر ڈاکٹر زرفشاں طاہر نے صوبہ بھر کے ہسپتالوں کے ایم ایس صاحبان سے فوکل پرسنز کے نام طلب کر لئے ہیں۔ جنہیں 2مئی کو وائرس سے متاثرہ افراد کے علاج، تشخص و کیس مینجمنٹ بارے تربیت فراہم کی جائے گی۔

    اس امر کا انکشاف ڈین آئی پی ایچ پروفیسر ڈاکٹر زرفشاں طاہر نے محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کے کمیٹی روم میں اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا جس میں دونوں محکمہ صحت کے افسران، پی آئی ٹی بی، ریسکیو1122، نمائندہ عالمی ادارہ صحت کے علاوہ ڈائریکٹر سی ڈی سی نے بھی شرکت کی۔ پروفیسر ذرفشاں طاہر نے اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ صوبائی حکومت کے احکامات کی روشنی میں انسٹی ٹیوٹ منکی پاکس کی سرویلنس، ہیلتھ ایجوکیشن، مانیٹرنگ اور تشخیص بارے پر ٹریننگ ماڈیولز تیار کرے گا اور آئی پی ایچ میں ایک ہفتہ کے اندر ڈیزیز مانیٹرنگ سنٹر قائم کیا جائے گا جو روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لے کر الرٹ جاری کرے گا۔ انسٹی ٹیوٹ میں سول ایوی ایشن اتھارٹی، ریسکیو1122 اور دیگر متعلقہ محکموں کے اسٹاف کو بھی بیماری بارے ٹریننگ فراہم کی جائے گی۔

    ڈاکٹر زرفشاں طاہر کا کہنا تھا کہ منکی پاکس کی روک تھام اور متوقع مریضوں کے علاج معالجہ کیلئے تمام ہسپتالوں میں پیشگی انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں اور حکومت کی ہدایت کے مطابق آئیسولیشن وارڈز بھی فنکشنل ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ عوام کو گھبرانے کی ضرورت نہیں، احتیاط برتیں، ہجوم میں جانے سے گریز کریں اور فیسک ماسک کے استعمال اور صابن سے ہاتھ دھونے کو یقینی بنائیں تاکہ وائرس منتقل نہ ہو سکے۔ پروفیسر زرفشاں طاہر نے تمام ہسپتالوں کی انتظامیہ سے کہا کہ اگر منکی پاکس کا کوئی مشتبہ کیس رپورٹ ہو تو بلا تاخیر اعلیٰ حکام کے نوٹس میں لایا جائے تا کہ بروقت کیس مینجمنٹ یقینی بنائی جا سکے۔

     ممکنہ منکی پاکس کیسز اور بارڈر ہیلتھ سروسز ہدایات کی روشنی میں ایئرپورٹس پر حفاظتی انتظامات

     پاکستان میں منکی پاکس کا پہلا کیس سامنے آگیا،

     اسلام آباد میں منکی پاکس کے 20 مشتبہ کیسز رپورٹ 

    کانگو وائرس کے مریض کی موت

  • منکی پاکس کے بعد کانگو وائرس، پاکستان میں ایک موت

    منکی پاکس کے بعد کانگو وائرس، پاکستان میں ایک موت

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کانگو وائرس کے مریض کی موت ہو گئی ہے، مریض فاطمہ جناح اسپتال میں زیر علاج تھا

    ہسپتال انتظامیہ کے مطابق کانگو وائرس سے مرنے والے متاثرہ مریض کا تعلق بلوچستان کے ضلع چمن سے تھا اور مریض فاطمہ جناح اسپتال میں تشویشناک حالت میں زیر علاج تھا ،انتظامیہ کے مطابق فاطمہ جناح ہسپتال میں کانگو وائرس کا ایک متاثرہ مریض زیر علاج ہے

    دوسری جانب شہر قائد کراچی میں منکی پاکس کے تین مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں ،میڈیا رپورٹس کے مطابق کراچی میں منکی پاکس کے تین کیس سامنے آئے، دوران اسکریننگ مسافروں میں علامات پائی گئیں، مسافروں کی مزید جانچ پڑتال آئسولیشن سینٹرز میں جاری ہے اور تصدیق ہونے پر مسافروں کو ایک سے دو ہفتے تک آئسولیشن سینٹر میں رکھا جائےگا

    کانگو وائرس جس کا سائنسی نام کریمین ہیمریجک کانگو فیور یا کریمین ہیمریجک کانگو بخار ہے۔ یہ دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والی بیماری ہے یہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والا مرض ہے ،کانگو وائرس مختلف جانوروں مثلاً بھیڑ، بکری، گائے، بھینس اور اونٹ کی جلد میں پایا جاتا ہے کانگو وائرس سے متاثرہ جانور ذبح کرنے کے دوران کسی شخص کے ہاتھ میں کٹ لگ جائے تو یہ وائرس انسانی خون میں شامل ہو جاتا ہے۔

    عللامات:
    کانگووائرس کامریض تیزبخارمیں مبتلا ہو جاتا ہےاسےسردرد، متلی، قے، بھوک میں کمی، نقاہت، کمزوری اورغنودگی، منہ میں چھالے ،اورآنکھوں میں سوجن ہوجاتی ہےتیز بخار سے جسم میں وائٹ سیلز کی تعدادانتہائی کم ہوجاتی ہےجس سے خون جمنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ متاثرہ مریض کے جسم سے خون نکلنے لگتا ہے اورکچھ ہی عرصے میں اس کے پھیپھڑے تک متاثر ہوجاتے ہیں، جبکہ جگر اور گردے بھی کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور یوں مریض موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔

     ممکنہ منکی پاکس کیسز اور بارڈر ہیلتھ سروسز ہدایات کی روشنی میں ایئرپورٹس پر حفاظتی انتظامات

     پاکستان میں منکی پاکس کا پہلا کیس سامنے آگیا،

     اسلام آباد میں منکی پاکس کے 20 مشتبہ کیسز رپورٹ 

  • پاکستان میں منکی پاکس کے 2 کیسز ،پنجاب میں علاج کے لئے 6 رکنی کمیٹی تشکیل

    پاکستان میں منکی پاکس کے 2 کیسز ،پنجاب میں علاج کے لئے 6 رکنی کمیٹی تشکیل

    حکومت پنجاب کی ہدایت پر پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ و امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسرڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے ملک میں منکی پاکس کیس رپورٹ ہونے پر لاہور جنرل ہسپتال کے سینئر پروفیسرز/کنسلٹنٹ پر مشتمل 6 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی جس کے فوکل پرسن پروفیسر آ ف میڈیسن ڈاکٹر طاہر صدیق ہوں گے۔ کمیٹی کے ارکان میں پروفیسر انیلہ اصغر، پروفیسرمحمد فہیم افضل، ڈاکٹر محمد عرفان ملک، ڈاکٹر غزالہ روبی، اور ڈاکٹر سید جعفر حسین شامل ہیں۔پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ مذکورہ کمیٹی صورتحال پر کڑی نگاہ رکھے گی اور کسی بھی ایمرجنسی صورتحال میں منکی پاکس کے کیسز کی تشخیص اور علاج معالجے کے بھرپور ا نتظامات کی ذمہ دار ہوگی۔

    پروفیسر الفرید ظفر نے اس حوالے سے امید ظاہر کی کہ محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کے بر وقت اقدامات کی وجہ سے انشا ء اللہ منکی پاکس کی بیماری کے پھیلاؤ کو ابتدا ہی میں کنٹرول کر لیا جائے گا تاہم کسی ایمرجنسی صورتحال سے عہدہ برآ ہونے کیلئے ایل جی ایچ کی انتظامیہ نے سینئر پروفیسرز ، کنسلٹنٹ اور پیتھیالوجسٹ پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو ایس او پیز کے مطابق مرض کی تشخیص، کیس مینجمنٹ اور مریض کے علاج معالجے کے انتظامات کو حتمی شکل دینے اور بہترین دیکھ بھال کے اقدامات کو ممکن بنائے گی۔ پرنسپل پی جی ایم آئی نے لوگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ بیرون ملک سفر کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر پر عملدآمد یقینی بنائیں، ماسک پہنیں، ایک دوسرے سے مصافحہ اور بغل گیر ہونے سے اجتناب برتیں اورصابن سے ہاتھ دھونا نہ بھولیں تاکہ بیماری ایک سے دوسرے میں منتقل نہ ہو سکے اور اپنے ساتھ ساتھ دوسرو ں کی زندگیاں بھی محفوظ بنائی جا سکیں۔

    دوسری جانب نگران صوبائی وزراء صحت ڈاکٹرجاوید اکرم اور ڈاکٹرجمال ناصرکی زیرصدارت ڈی جی ہیلتھ کے دفتر میں اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈی جی ہیلتھ سروسزڈاکٹرالیاس گوندل،عالمی ادارہ صحت کے ڈاکٹر جمشید ،یونیسف کے ڈاکٹر قرۃالعین،ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ پرائمری اینڈسیکنڈری ہیلتھ کئیرڈاکٹریونس،ڈاکٹرعاصم الطاف ،ڈین انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ ڈاکٹرزرفشاں طاہر،کنگ ایڈورڈمیڈیکل یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر اعجاز حسین،رجسٹراریونیورسٹی آف چائلڈہیلتھ سائنسزپروفیسرڈاکٹرجنیدرشید،ڈاکٹریداللہ،محکمہ سپیشلائزڈہیلتھ کئیراینڈمیڈیکل ایجوکیشن کے ڈپٹی سیکرٹریزڈاکٹربختیار اور ڈاکٹرعبدالرحمان،بریگیڈئیروحید، لاہورایئرپورٹ کے نمائندہ ڈاکٹرسکندرودیگرحکام نے وڈیولنک کانفرنس کے ذریعے شرکت کی۔نگران صوبائی وزراء صحت ڈاکٹر جاوید اکرم اور ڈاکٹرجمال ناصرنے صوبہ میں منکی پاکس پرقابوپانے کیلئے اقدامات کاتفصیلی جائزہ لیا جبکہ متعلقہ افسران نے نگران صوبائی وزراء کو اس حوالہ سے بریفنگ دی۔

    نگران صوبائی وزیرمحکمہ سپیشلائزڈہیلتھ کئیراینڈمیڈیکل ایجوکیشن ڈاکٹرجاویداکرم نے اجلاس سے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ بھرکے سرکاری ہسپتالوں کو منکی پاکس کے حوالہ سے الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔لاہور میں منکی پاکس کے حوالہ سے بچوں کیلئے چلڈرن ہسپتال اور بڑوں کیلئے جنرل ہسپتال کو مختص کردیا گیا ہے پاکستان میں ابھی تک منکی پاکس کے 2 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ڈین انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ ڈاکٹرزرفشاں طاہرکو منکی پاکس کے الرٹس ودیگرمعلومات کے حوالہ سے فوکل پرسن بنا دیا گیا ہے۔ڈاکٹرجاویداکر م نے کہا کہ ایئرپورٹ حکام کو منکی پاکس کے حوالہ سے الرٹ رہناہوگا۔ عوام کیلئے منکی پاکس کی معلومات حاصل کرنے کیلئے ہیلپ لائن بھی قائم کی جارہی ہے پنجاب میں منکی پاکس کی ٹیسٹنگ کی سہولت بھی موجودہے۔لاہورکے علاوہ تمام اضلاع میں منکی پاکس کے حوالہ سے ہسپتالوں میں بستروں کو مختص کردیا جائے گا۔منکی پاکس پرقابوپانے کیلئے احتیاطی تدابیراپنانے کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے تمام ایئرلائنزکو گائیڈلائنزبھی جاری کردی گئی ہیں۔

    نگران صوبائی وزیرمحکمہ پرائمری اینڈسیکنڈری ہیلتھ کئیرڈاکٹرجمال ناصر نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں منکی پاکس کے حوالہ سے عوام کوہراساں نہیں کرنا بلکہ معلومات فراہم کرنی ہیں۔جہازکے اندرہی اس حوالہ سے مسافروں کی سکریننگ کرنی چاہئے۔تمام اضلاع میں ہسپتالوں کو منکی پاکس کے حوالہ سے بستروں کو مختص کرنے اور ڈی ایچ کیوہسپتالوں میں پی سی آرکٹس اورضروری ٹیسٹنگ سہولیات فراہم کرنے کیلئے ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ڈاکٹر جمال ناصر نے کہا کہ دونوں محکمہ جات کے ہسپتالوں میں علیحدہ وارڈزمختص کئے جائیں گے۔منکی پاکس کی روک تھام کیلئے ادویات کی خریداری اور سپلائی چین کیلئے جامع لائحہ عمل تیارکیاجائے گا۔ اس حوالے سے ویکسین کی خریداری کی تجویزبھی زیرغورہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان میں منکی پاکس کا پہلا کیس سامنے آگیا، سعودی عرب سے بے دخل شخص میں منکی پاکس کی تصدیق ہوئی ہے وفاقی وزارت صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ سعودی عرب سے 17 اپریل کو پاکستان آنے والے شخص میں منکی پاکس کی علامات تھیں، متاثرہ شخص کے نمونے قومی ادارہ برائے صحت اسلام آباد بھیجےگئے، گزشتہ روز قومی ادارہ برائے صحت اسلام آباد نے متاثرہ شخص میں منکی پاکس کی تصدیق کی۔

     ممکنہ منکی پاکس کیسز اور بارڈر ہیلتھ سروسز ہدایات کی روشنی میں ایئرپورٹس پر حفاظتی انتظامات

    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج
    جماعت اسلامی سےمذاکرات،عمران خان کی ہدایات پر پی ٹی آئی کی تین رکنی کمیٹی قائم
    بھارتی مسلمان رکن اسمبلی کوبھائی سمیت پولیس حراست میں ٹی وی کیمروں کے سامنے گولیاں ماردی گئیں

  • دہی پر کی گئی نئی تحقیق میں دہی کے مزید حیران کن فوائد سامنے آ گئے

    دہی پر کی گئی نئی تحقیق میں دہی کے مزید حیران کن فوائد سامنے آ گئے

    ماہرین کی جانب سے دہی پر کی گئی حال میں نئی تحقیق میں حیرت انگیز نتائج سامنے آئے ہیں-

    باغی ٹی وی : ماہرین کی جانب سے کی گئی تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ صحت کیلئے مفید بیکٹیریا سے بھرپور غذائیں کھانے سے بلڈ پریشر, شوگر کی سطح کو کم کرنے، سوزش کم کرنے اور صحت مند وزن کو برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

    ماہرین نے ذیابیطس پھیلنے کی اہم وجہ دریافت کر لی

    تحقیق میں ماہرین نے پایا کہ خمیر شدہ کھانوں جیسے دہی اور دیگر غذاؤں میں موجود صحت بخش بیکٹیریا یا فنگس معدے کیلئے مفید ہے۔ مثال کے طور پر بیکٹیریا کی قسم جیسے Lactobacillus acidophilus انسولین کی حساسیت کو بہتر بنا سکتی ہیں اور Bifidobacterium bifidum ذہنی تناؤ سے پیدا ہونے والی معدے کی علامات کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

    زندہ جرثوموں کے صحت سے متعلق فوائد کی وجہ سے انٹرنیشنل سائنٹیفک ایسوسی ایشن فار پروبائیوٹکس اینڈ پری بائیوٹکس (ISAPP) کے محققین نے اس حوالے سے بحث بھی کی کہ فائبر سے بھرپور کھانوں کی طرح ہی صحت بخش بیکٹیریا سے بھرپور غذاؤں کا روزانہ استعمال ہونا چاہیے۔

    لاعلاج سمجھے جانیوالے مرض ذیابیطس ٹائپ 2 سے نجات ممکن

    دہی کیلشیم سے بھرپور ، پروٹین اور پروبائیوٹک سے لیس دودھ سے بننے والی ایک بہترین غذا ہے۔دہی وہ غذا ہے جس کا استعمال سردی، گرمی ہر موسم میں کیا جاتا ہے ۔دہی کا استعمال انسانی صحت پر نہایت مثبت اثرات مرتب کرتا ہے-

    دہی کا استعمال انسان میں قوت مدافعت کو بڑھانے میں بھی اپنا کردار اداکرتا ہے،جیسا کہ ہم جانتے ہیں انسان میں قوت مدافعت جتنی زیادہ ہوگی وہ اتنا ہی کم بیماریوں کا شکار ہوگا۔قوت مدافعت کی زیادتی انسان کو تمام قسم کی اندرونی اور بیرونی بیماریوں سے بچاکر رکھتی ہے۔

    انزائٹی کا حیرت انگیز علاج دریافت

    دہی کو جلد یا بالوں پر لگایا جائے تو اس سے نہایت حیرت انگیز نتائج اخذ کئے جاسکتے ہیں۔دہی کو چہرے پر لگانے سے جلد تروتازہ ہوجاتی ہے اور ڈیڈ سیلز کا بھی خاتمہ ہوجاتا ہے۔ چہرے پر دہی کا مساج کرنے سے یہ وائٹننگ بلیچ کا کام کرتا ہے اور جلد کو نرم و ملائم بناتا ہے جبکہ بالوں میں لگانے سے خشکی کاخاتمہ بھی کرتا ہے۔

    دہی ہڈیوں اور دانتوں کو مضبوط بنانے کے لئے ایک معاون غذا ہے اس میں وٹامن ڈی اور کیلشیم کی نمایاں مقدار پائی جاتی ہے جو ہمارے دانتوں اور ہڈیوں کو مضبوط بنانے میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔دہی کا مستقل استعمال انسان کو دیگر مضر امراض سے بھی بچاتا ہے۔

    نیند کی کمی دوسروں کی مدد کرنے کے رجحان کو کم کرسکتی ہے،تحقیق

  • ماہرین نے ذیابیطس پھیلنے کی اہم  وجہ دریافت کر لی

    ماہرین نے ذیابیطس پھیلنے کی اہم وجہ دریافت کر لی

    دنیا بھر میں ذیابیطس ٹائپ 2 کے مریضوں کی تعداد میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ماہرین نے اس بیماری کے پھیلنے کی وجہ دریافت کر لی ہے-

    باغی ٹی وی : Tufts یونیورسٹی امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں ماہرین نے بتایا کہ موجودہ دور میں بیشتر افراد کی غذا انہیں ذیابیطس ٹائپ 2 کا شکار بنا رہی ہےگندم اور چاول کی ریفائن اقسام کا بہت زیادہ استعمال دنیا بھر میں ذیابیطس ٹائپ 2 کے کیسز میں اضافے کی وجہ ثابت ہو رہا ہے۔

    لاعلاج سمجھے جانیوالے مرض ذیابیطس ٹائپ 2 سے نجات ممکن

    اس تحقیق میں 1990 سے 2018 میں دنیا بھر کے ذیابیطس ٹائپ 2 کے کیسز کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی تھی تحقیق میں تخمینہ لگایا گیا کہ 2018 میں ذیابیطس ٹائپ 2 کےہر 10 میں سے 7 کیسز ناقص غذائی عادات کا نتیجہ تھےدنیا بھرمیں صحت کےلیےمفید غذاؤں کی بجائے نقصان دہ خوراک کو زیادہ ترجیح دی جا رہی ہے، خاص طور پر مردوں میں یہ رجحان زیادہ عام ہے۔

    تحقیق کے مطابق غیر معیاری کاربوہائیڈریٹس پر مبنی غذا دنیا بھر میں ذیابیطس ٹائپ 2 کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ ہےتحقیق میں بنیادی طور پر ذیابیطس ٹائپ 2 کا شکار بنانے والے 3 عناصر کو دریافت کیا گیا ایک سالم اناج کا بہت کم استعمال، دوسرا پراسیس اناج (سفید ڈبل روٹی، سفید چاول وغیرہ) کا بہت زیادہ استعمال جبکہ تیسرا سرخ اور پراسیس گوشت کا زیادہ استعمال کرنا ہے۔

    نیند کی کمی دوسروں کی مدد کرنے کے رجحان کو کم کرسکتی ہے،تحقیق

    تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ دنیا بھر میں غذائی عادات کی وجہ سے ذیابیطس سے متاثر ہونے والے 60 فیصد کیسز میں 6 غذائی عادات پائی جاتی ہیں ایسے افراد بہت زیادہ مقدار میں ریفائن چاول، گندم اور آلو کھاتے ہیں، غذا میں پراسیس اور سرخ گوشت کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جبکہ میٹھے مشروبات اور فروٹ جوسز پسند کرتے ہیں پھلوں، سبزیوں، گریوں، پھلیوں، سالم اناج اور دہی کا ناکافی مقدار میں استعمال 39 فیصد نئے کیسز کا باعث بنتا ہے۔

    انزائٹی کا حیرت انگیز علاج دریافت

    واضح رہے کہ جب کوئی فرد ذیابیطس ٹائپ 2 کا شکار ہوتا ہے تو اس کا جسم غذا میں موجود کاربوہائیڈریٹس کو توانائی میں بدلنے میں ناکام ہوجاتا ہےاس کے نتیجے میں خون میں شکر کی مقدار بڑھتی ہے۔

  • لاعلاج سمجھے جانیوالے مرض ذیابیطس ٹائپ 2 سے نجات ممکن

    لاعلاج سمجھے جانیوالے مرض ذیابیطس ٹائپ 2 سے نجات ممکن

    برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ لاعلاج سمجھا جانے والے مرض ذیابیطس ٹائپ 2 سے نجات ممکن ہے۔

    باغی ٹی وی: Diabetes UK کے زیرتحت ہونے والے کلینیکل ٹرائل میں دریافت کیا گیا کہ جسمانی وزن میں کمی لاکرذیابیطس ٹائپ 2 سے کم از کم 5 سال تک نجات پانا ممکن ہے،کم کیلوریز والی غذا کا استعمال شروع کرنے کے بعد کلینیکل ٹرائل میں شامل ایک چوتھائی افراد ذیا بیطس سے نجات پانے میں کامیاب ہوئے اور 5 سال تک بیماری کی دوبارہ واپسی نہیں ہوئی۔

    کھانا پکانے کے دوران کی جانیوالی 7 معمولی غلطیاں جو صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ …

    اس ٹرائل میں 298 افراد کو شامل کیا گیا تھا جن میں سے 50 فیصد کو ذیابیطس کے حوالے سے روایتی نگہداشت فراہم کی گئی اور باقی سب کو مخصوص غذا کا استعمال کرایا گیا،مجموعی طور پر ان افراد کو روزانہ 800 کیلوریز پر مشتمل غذا کا استعمال 12 سے 20 ہفتوں تک کرایا گیا۔

    پہلے اس تحقیق کا دورانیہ 2 سال رکھا گیا تھا مگر پھر اس کا وقت بڑھایا گیا اور 95 افراد کاجائزہ مزید 3 سال تک لیا گیا تحقیق کے دوسرے مرحلے کے آغاز میں 95 میں سے 48 ذیابیطس ٹائپ 2 سے نجات پانے میں کامیاب ہو چکے تھے اور 3 سال بعد 23 فیصد میں تاحال بیماری کی دوبارہ تشخیص نہیں ہوئی تھی۔

    انزائٹی کا حیرت انگیز علاج دریافت

    ان افراد کو بلڈ شوگر کو مستحکم رکھنے کے لیے ادویات کے استعمال کی ضرورت بھی نہیں پڑی ان افراد نے 5 سال کے دوران اوسطاً 9 کلو گرام کمی کی جسمانی وزن میں کمی اور اس کمی کو برقرار رکھنے سے ذیابیطس کو ریورس کرنے میں مدد ملتی ہے ذیابیطیس کے شکار افراد میں امراض قلب، فالج، ہائی بلڈ پریشر اور دیگر پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھتا ہے۔

    موٹاپے کو ذیابیطس ٹائپ 2 کا شکار بنانے والا بڑا عنصر تصور کیا جاتا ہےدرحقیقت تحقیقی رپورٹس کے مطابق موٹے افراد میں اس دائمی مرض کا خطرہ 80 گنا زیادہ ہوتا ہےمحققین نے بتایا کہ جسمانی وزن میں کمی لانا اور پھر اس کمی کو برقرار رکھنے سے ہی ذیابیطس کو خود سے رکھنا ممکن ہو سکتا ہے، کیونکہ جسمانی وزن میں اضافے سے بیماری دوبارہ لوٹ آتی ہے۔

    نیند کی کمی دوسروں کی مدد کرنے کے رجحان کو کم کرسکتی ہے،تحقیق

    یہ نتائج اگلے ہفتے ڈائریکٹ محققین پروفیسرز رائے ٹیلر اور مائیک لین (دونوں تصویر میں) پروفیشنل کانفرنس (DUKPC) میں پیش کئے جائیں گے-

  • ماہرین کی جانب سے لاہور،راولپنڈی میں تمام  بچوں کو خسرہ ویکسین لگانے کی تجویز

    ماہرین کی جانب سے لاہور،راولپنڈی میں تمام بچوں کو خسرہ ویکسین لگانے کی تجویز

    ماہرین کی جانب سے لاہور اور راولپنڈی میں تمام بچوں کو خسرہ ویکسین لگانے کی تجویز
    پاکستان کے معروف ماہرین اطفال اور حفاظتی ٹیکہ جات کے ماہرین نے لاہور اور راولپنڈی میں خسرہ کے بڑھتے ہوئے کیسز پر فوری طور پر قابو پانے کے لئے ان دو شہروں میں تمام بچوں کو فوری ویکسین لگانے کی تجویز دی ہے
    عالمی ہفتہ برائے حفاظتی ٹیکہ جات 2023 اور خسرہ کے بڑھتے ہوئے کیسز کے تناظر میں ڈائرکٹر جنرل ہیلتھ سروسز پنجاب ڈاکٹر الیاس گوندل کی سربراہی میں گزشتہ روز تکنیکی ماہرین کااعلی سطحی اجلاس ہوا۔

    صوبائی سٹئیرنگ کمیٹی کا یہ اجلاس ایمرجنسی آپریشن سینٹر میں منعقد کیا گیا جس میں عالمی ہفتہ برائے حفاظتی ٹیکہ جات 2023 کے لیے سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا یہ ہفتہ ہر سال 24 سے 30 اپریل تک دنیا بھر میں منایا جاتا ہے سال 2023 کا موضوع ‘بڑا کیچ اپ’ ہے۔اجلاس میں سابق چیئرمین نیشنل امیونائزیشن ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ پروفیسر طارق اقبال بھٹہ، یونیورسٹی آف چائلڈ ہیلتھ سائنسز کے شعبہ اطفال سے پروفیسر ڈاکٹر جنید رشید، معروف محقق پروفیسر ڈاکٹر شکیلہ زمان، سربراہ شعبہ زچہ و بچہ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ پروفیسر ڈاکٹر رخسانہ حمید، صدر پاکستان اکیڈمی آف فیملی فزیشنز ڈاکٹر طارق میاں، ڈائریکٹر صوبائی پروگرام برائے زچہ و بچہ ڈاکٹر خلیل احمد سکھانی، ڈائریکٹر پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات ڈاکٹر مختار احمد، ڈائریکٹر سی ڈی سی اور ای پی سی ڈاکٹر یاداللہ، ماہر اطفال علامہ اقبال میڈیکل کالج پروفیسر سلطان علی، عالمی ادارہ صحت سے ٹیکنیکل آفیسر ڈاکٹر عمران قریشی، عالمی ادارہ صحت کے پولیو سربراہ برائے پنجاب ڈاکٹر عامر احسان (او آئی سی)، یونیسیف امیونائزیشن آفیسر ڈاکٹر قرۃ العین، نمائندہ گیٹس فاؤنڈیشن ڈاکٹر نعیم مجید، وزیر اعلی روڈ میپ ٹیم کے علاوہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی لاہور کے نمائندگان نے شرکت کی۔

    ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ پنجاب، ڈاکٹر الیاس گوندل نے کہا صوبہ بھر میں مربوط آؤٹ ریچ سرگرمی جاری ہے جس میں خسرہ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ اس سال عالمی ہفتہ برائے حفاظتی ٹیکہ جات کے موضوع دی بگ کیچ اپ کو مد نظر رکھتے ہوئے صوبے کے ہر بچے کو ویکسین لگانے لئے اس سرگرمی کا انعقاد کیا گیا ہے۔ یہ سرگرمی عالمی ادارہ صحت کے تکنیکی اور مالی تعاون سے اپریل 2023 کے پورے مہینے میں جاری ہے۔ کم کوریج والی یونین کونسلز پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ کسی بھی قسم کی ویکسین نہ لینے والے بچوں / اور رہ جانے بچوں کے علاوہ کرونا ویکسینیشن کے لئے یہ ایک بہترین موقع ہے۔

    ڈائریکٹر پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات ڈاکٹر مختار احمد نے کہا دنیا بھر میں ہر سال 24 سے 30 اپریل تک عالمی ہفتہ برائے حفاظتی ٹیکہ جات منایا جاتا ہے تاکہ انسانی جانوں کو بچانے میں ویکسین کے کردار کے بارے میں آگاہی دی جا سکے۔ویکسین انسانی تاریخ میں اب تک متعارف کرائی جانے والی صحت عامہ کی سب سے اہم پیش رفت ہے۔۔ اس وقت صوبے کی 3407 یونین کونسلوں میں 4486 ویکسی نیٹرز سوشل موبلائزرز کے ساتھ اس خصوصی سرگرمی کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس سرگرمی میں 586 سپروائزر مصروف عمل ہیں جن میں ڈی ایچ او پی ایس، ای پی آئی فوکل پرسن، ڈی ایس وی اور اے ایس وی شامل ہیں۔ اس سرگرمی میں ویکسینیٹر ایک طے شدہ ٹور پلان کے تحت دیہاتوں اور کمیونٹیز کا دورہ کرتا ہے اور ویکسین لگاتا ہے، سوشل موبلائزرز لوگوں کے ساتھ خدمات کی دستیابی میں مدد کرتے ہیں اور ای پی آء سپروائزرز اور مینیجرز نگرانی کرتے ہیں۔ ایل ایچ وی فکسڈ مراکز پر ویکسی نیشن کی خدمات فراہم کرتی ہیں اور لیڈی ہیلتھ ورکرز زچہ و بچہ سے متعلق سہولیات کی فراہمی میں ان کی مدد کرتی ہیں۔ پولیو کا عملہ نشاندہی کرتا ہے۔ پری ونٹو آؤٹ ریچ ٹیم شہریوں تک پہنچ جانے کی پوری کوشش کرتی ہیں۔

    ڈاکٹر مختار نے اعدادوشمار کے تجزیہ کی بنیاد پر ویکسینیشن کے شیڈول میں نظر ثانی کی تجویز دی جسے ابتدائی طور پر منظور کیا گیا۔ تجویز کو اب باقاعدہ طور قومی تکنیکی گروپ میں پیش کیا جائیگا۔ٹیکنیکل آفیسر عالمی ادارہ صحت ڈاکٹر عمران قریشی نے بیماریوں کی نگرانی کا تفصیلی جائزہ پیش کیا اور بتایا کہ نگرانی کے مضبوط نظام کی وجہ سے پنجاب صوبے سے اب زیادہ کیسز رپورٹ کر رہا ہے۔

    صدر پاکستان اکیڈمی آف فیملی فزیشنز ڈاکٹر طارق میاں نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ممکنہ پرائیویٹ سیکٹر کے ہسپتالوں میں مزید فکسڈ ای پی آئی سینٹرز قائم کی تجویز دی۔ پروفیسر ڈاکٹر جنید رشید نے صوبے میں متعدی امراض کے ہسپتال کے قیام کی اہمیت پر روشنی ڈالی تاکہ بیماریاں پھیلانے والے جرثوموں کے پھیلاؤ کو کم کیا جا سکے۔ پروفیسر ڈاکٹر شکیلہ زمان نے ان نکات کی نشاندھی کی جن پرفوری تحقیق کی ضرورت ہے اجلاس کے اختتام پر ڈاکٹر مختار احمد نے سب کا شکریہ ادا کیا

    چیئرمین نیب کی ویڈیو لیک کرنیوالوں کے خلاف ریفرنس دائر

    چیئرمین نیب کے خلاف خبر پر پیمرا ان ایکشن، نیوز ون کو نوٹس جاری، جواب مانگ لیا

    چیئرمین نیب کے استعفیٰ کے مطالبے پر مسلم لیگ ن میں اختلافات

    عمران خان نے ویڈیو کے ذریعے چیئرمین نیب کو کیسے بلیک میل کیا؟ سلیم صافی کے ساتھ طیبہ کا بڑا انکشاف

  • افطار میں بسیار خوری سے احتیاط کرنی چاہیے:پروفیسر الفرید ظفر

    افطار میں بسیار خوری سے احتیاط کرنی چاہیے:پروفیسر الفرید ظفر

    افطار میں بسیار خوری سے احتیاط کرنی چاہیے:پروفیسر الفرید ظفر

    پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ و امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے کہا ہے کہ روزہ انسانی صحت کیلئے بہترین عمل ہے جس سے جسم میں تطہیر کے ساتھ ساتھ جسمانی اعضاء کو تقویت ملتی ہے البتہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سارا دن خالی پیٹ رہنے کے بعد افطار میں بسیار خوری میں احتیاط برتیں اور بالخصوص تلی ہوئی اشیاء اور مصنوعی ڈرنکس سے اجتناب کریں تاکہ ہم روزے کی اصل روح اور حقیقی فوائد سے بہرہ مند ہو سکیں۔

    ان خیالات کا اظہار پروفیسر الفرید ظفر نے نرسنگ ہاسٹل جنرل ہسپتال میں افطار ڈنر کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جس کا اہتمام ینگ نرسز ایسوسی ایشن کی صدر خالدہ تبسم و دیگر عہدیداروں نے کیا۔افطار ڈنر میں ای ڈی پنز پروفیسر خالد محمود، ڈائریکٹر جنرل نرسنگ منزہ چیمہ ایم ایس ڈاکٹر خالد بن اسلم،ڈاکٹر عبدالعزیز،نرسنگ آفیسرز، وائی ڈی اے، وائی این اے، پاکستان ہیلتھ سپورٹ ایسوسی ایشن کے عہدیداران اور صوبائی دار الحکومت کے ہسپتالوں کی نرسز کی بڑی تعدادنے شرکت کی جبکہ خالد ہ تبسم نے مہمانوں کا استقبال کیا۔

    اس موقع پر پروفیسر الفرید ظفر نے کہا کہ رمضان المبارک نیکیاں سمیٹنے اور باہم میل جول میں اضافے کا مہینہ ہے اورخوش قسمتی سے روزہ افطار کروانے کی مثبت روائیت میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے جو انتہائی خوش آئند امر ہے۔انہوں نے کہا کہ دفاتر اور اداروں میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مل بیٹھنا اور کھانے پینے کا اہتمام کرنا خالصتاً اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے ہوتا ہے جس کا اجر انہیں ضرور ملے گا۔

    سفید کوٹ پہننا اپنی زندگی دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے وقف کرنے کا عزم: پروفیسر الفرید ظفر

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

    کالا موتیہ کو بصارت کا خاموش قاتل کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ 

    ای ڈی "پنز” پروفیسر خالد محمود نے کہا کہ دین اسلام رحمت، نظام فطرت ا ور مذہب انسانیت ہے اس کی تعلیمات بنی نوع آدم کی فلاح اور نجات کی حقیقی ضامن ہے۔انہوں نے کہا کہ رمضان کریم نیکوں کا موسم بہار ہے ہمیں چاہیے کہ محروم طبقے اور دکھی انسانیت کا خصوصی خیال رکھیں بالخصوص انہیں عید کی خوشیوں میں بھی شامل کریں۔ ڈی جی نرسنگ منزہ چیمہ کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب مریضوں کی فلاح و بہبود اور طبی عملے کے لئے انقلابی اقدامات اٹھا رہی ہے جبکہ صوبے بھر کے نرسنگ کالج و سکولوں میں طالبات کو بہترین تعلیم و تربیت کے مواقع میسر ہیں۔انسٹرکٹر ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں تاکہ وہ عملی زندگی میں دکھی انسانیت کی بہتر خد مت کر سکیں۔ ایم ایس ڈاکٹر خالد بن اسلم نے کہا کہ کورونا وبا کے دوران ڈاکٹرز،نرسز اور پیرا میڈیکس نے اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر دوسروں کی زندگیاں محفوظ کیں، انہیں اسی جذبے اور لگن کے ساتھ اپنے فرائض منصبی سر انجام دیتے رہنا چاہیے اور اُس مشن کی تکمیل میں سر گرم عمل رہنا چاہیے جس کا انہوں نے عہد کر رکھا ہے۔اس موقع پر پرنسپل نرسنگ کالج ایل جی ایچ رمضان بی بی، نرسنگ سپرنٹنڈنٹ مسز میمونہ ستار، اسسٹنٹ ڈائریکٹر بشریٰ مقبول، روبینہ کوثر، شمشاد نیازی، انور سلطانہ و دیگر موجود تھیں۔

  • کھانا پکانے کے دوران کی جانیوالی 7 معمولی غلطیاں جو صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ ہیں

    کھانا پکانے کے دوران کی جانیوالی 7 معمولی غلطیاں جو صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ ہیں

    کھانا پکانا ایک بہت بڑا رسک ہے کھانا پکانے کے دوران درست طریقے سے محفوظ نہ کی جانے والی خوارک، گلے سڑے کھانوں اور اس سے پیدا ہونے والے بیکٹریا ہماری صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں جو جان لیوا امراض کا سبب بنتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: "نیویارک پوسٹ” کے مطابق سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول پری وینشن نے اپنی ایک رپورٹمیں بتایا کہ ہر سال 6 میں سے ایک امریکی شہری فوڈ پوائزننگ کا شکار ہوتا ہے جس کے باعث 1 لاکھ 28 ہزار ہسپتال میں علاج کے لیے جاتے ہیں جبکہ 3 ہزار افراد ایسے ہی امراض کی وجہ سے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

    نیند کی کمی دوسروں کی مدد کرنے کے رجحان کو کم کرسکتی ہے،تحقیق

    اس قسم کی بیماریوں سے عام طور پر مناسب خوراک کی حفاظت اور ہینڈلنگ کے رہنما خطوط پر عمل کر کے بچا جا سکتا ہے۔باورچی خانے میں کھانا پکانے کے دوران ہم ایسی غلطیاں کرتے ہیں جسے ہم عام سمجھتے ہوئے نظر انداز کرلیتے ہیں اور یہی چھوٹی غلطیاں ہماری موت کا باعث بنتی ہیں لیکن ہم اپنی غلطیوں پر قابو پا کر ہم معدے سمیت دیگر امراض کے امکانات کو کم کر سکتے ہیں۔

    1. کھانا پکانے سے پہلے اپنے ہاتھ نہ دھونا

    ہاتھ دھونا کھانا پکانے کا بنیادی اصول ہے پھر بھی لوگ اس پر عمل کرنا بھول جاتے ہیں،کارنیل یونیورسٹی میں فوڈ سائنس کے پروفیسر ایمریٹس ڈاکٹر رابرٹ گراوانی نے بتایا کہ ہاتھ دھونے سے بیکٹیریا کے پھیلاؤ کو کم کیا جاسکتا ہے،خاص طور پر اگر لوگوں نے ابھی بیت الخلاء استعمال کیا ہے یا ڈائپر تبدیل کیا ہے۔

    سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول پری وینشن کے مطابق بغیر ہاتھ دھوئے کھانے سے، آپ کی انگلیوں اور ناخنوں پر لگے ہوئے جراثیم آپ کے کھانے میں پہنچ سکتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ کسی بھی کھانے کی چیز کو ہاتھ لگانے سے پہلے اینٹی بیکٹریل صابن سے ہاتھ دھوئیں۔

    روزہ اور سائنس

    اپنے ہاتھوں کو صاف کرنے کا ماہر کا تجویز کردہ طریقہ یہ ہے کہ صابن اور گرم پانی سے کم از کم 20 سیکنڈ تک دھوئیں اورکچے گوشت کو سنبھالنے کے بعد انہیں دوبارہ دھونا نہ بھولیں اور یہاں تک کہ آپ کے پسندیدہ مصالحے، گوشت سے بیکٹیریا پھیلا سکتے ہیں اور بیماری کا سبب بن سکتے ہیں۔

    جب آپ کچا کھانا یا گوشت تیار کر رہے ہوتے ہیں، تو مسالوں کے استعمال کیلئے ڈبوں کو کھولتے ہیں گروانی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، "وہ مسالے کے ڈبے کچے گوشت سے آلودہ ہو سکتے ہیں جسے آپ نے ابھی چھوا ہے۔

    2.گوشت کو نلکے کے نیچے دھونا:

    اکثر لوگ گوشت کو نلکے کے نیچے دھوتے ہیں تاہم کنزیومر رپورٹس ڈائریکٹر فوڈ سیفٹی ریسرچ اینڈ ٹیسٹنگ کے جیمز راجرز کا کہنا ہے کہ گوست کو سادے پانی سے دھونے سے بیکٹریا سے چھٹکارا حاصل نہیں کیا جاسکتااسے نلکے کے نیچے دھونے کے بجائے کسی برتن میں پانی لیں اور پھر گوشت کو دھونا شروع کریں، کوشش کریں کہ پانی کے چھینٹے آپ کے کپڑوں پر نہ لگیں کیونکہ گوشت میں پہلے کئی جراثیم موجود ہوتے ہیں –

    ڈپریشن ہمیشہ بُرا ہی نہیں مفید بھی ہوتا ہے،امریکی ماہر نفسیات

    گوشت کو سادے پانی سے دھونے کے بعد اسے مصالحہ لگانے سے قبل ابلے ہوئے گرم پانی میں رکھ لیں یا ابال لیں تاکہ جراثیم سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکے خوش قسمتی سے، کچے گوشت پر پائے جانے والے بیکٹیریا، جیسے کیمپیلو بیکٹر، کلوسٹریڈیم پرفرینجینز اور سالمونیلا مرجاتے ہیں جب مرغی کو 165 ڈگری فارن ہائیٹ پر پکایا جاتا ہے-

    3. کچے اور پکے ہوئے گوشت کو سنبھالتے وقت ایک ہی برتن کا استعمال کرنا

    گروانی نے بتایا کہ گوشت کو کچا ہونے پر اور جب اسے پکایا جائے تو اسے سنبھالنے کے لیے ایک ہی برتن کا استعمال آپ کی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے کچے اور پکے کھانوں کے لیے ایک ہی چمچ یا برتن استعمال کرنا بھی جراثیم کو دعوت دینے کے مترادف ہے-

    مثال کے طور پر گوشت کو کاٹنے والی چھری کو اگر دھوئے بغیر سلاد کے لیے استعمال کریں تو یہ مضر صحت ہے، گوشت کے بیکٹریا سلاد میں منتقل ہوجائیں گے اس لیے کچے اور پکے کھانوں کے لیے الگ الگ برتن، چمچ یا چھری کا استعمال کریں، یا پھر اسے اچھی طرح دھونے کے بعد استعمال کریں-

    پھل اور سبزیاں ذیابیطس کے مریضوں کو امراض سے بچا سکتے ہیں،تحقیق

    4.جمے ہوئے گوشت کو باورچی خانے میں پگھلنے رکھنا

    فریزر سے گوشت نکال کر باروچی کھانے میں نرم ہونے کے لیے رکھنا بہت بڑی غلطی ہے، اسے سے گوشت میں موجود مائیکرو آرگنزم ہر طرف پھیل سکتے ہیں اس لئے اس کو پہلے فریج میں رکھیں یا اگر آپ جلدی میں ہیں تو اسے مائکروویو میں رکھیں۔

    5.پھلوں اور سبزیوں کو دھو کر کھانے سے جراثیم کا خطرہ ختم ہوجاتا ہے لیکن سائنسدانوں کے مطابق یہ سچ نہیں ہے،بظاہر نظر نہ آنے والے جراثیم سادے پانی سے دھونے کے بعد بھی موجود رہتے ہیں اس لیےسبزیوں اور پھلوں کو سوڈیم ہائیپو کلورائیٹ والے پانی میں بھگوئے رکھیں اور پھر نلکے والے پانی سے دھو لیں، ایک اور طریقہ یہ ہے کہ ابلے ہوئے گرم پانی میں سبزیوں کو بگھو دیں اور پھر ٹھنڈے پانی سے دھوئیں۔

    انزائٹی کا حیرت انگیز علاج دریافت

    6.اپنے کھانے کو ٹھنڈا نہ ہونے دیں – کم از کم کچن کاؤنٹر پر نہیں جو کھانا دو گھنٹے سے زیادہ چھوڑ دیا گیا ہو اسے پھینک دینا چاہیے، ورنہ بیماری پیدا کرنے والے بیکٹیریا پنپنا شروع کر سکتے ہیں۔

    گروانی نے انکشاف کیا کہ "لوگ خاص طور پر تعطیلات کے دوران کھانے کو زیادہ دیر تک باہر چھوڑ دیتے ہیں۔” "ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ہمیں خراب ہونے والی خوراک اور بچا ہوا کھانا دو گھنٹے کے اندر فریج میں مل جائے لیکن خبردار رہے، فریج میں چار دن سے زیادہ بچا ہوا کھانا کھانے کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ ابھی پچھلے سال، یونیورسٹی کے ایک 19 سالہ طالب علم کو مبینہ طور پر سیپسس ہو گیا تھا، اور آلودہ بچا ہوا کھانے کے بعد اس کی ٹانگیں اور انگلیاں کاٹ دی گئی تھیں۔

    سی ڈی سی کا کہنا ہے کہ چکھنا اور سونگھنا اس بات کا تعین کرنے کے لیے کہ آیا کھانا اب بھی "اچھا” ہے آپ کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ بیماری سے بچنے کے لیے کھانے کے ذخیرہ کرنے کے تجویز کردہ اوقات پر عمل کرنا یقینی بنائیں۔

    خواتین کا تندرست وتوانا ہونا صحتمند معاشرے کا اہم جزو ،پرنسپل پی جی ایم آئی

    سی ڈی سی کا کہنا ہےکمزور مدافعتی نظام کے لوگ 5 سال سے کم عمر کے بچے؛ حاملہ افراد؛ اور 65 سال سے زیادہ عمر کے افراد کوخاص طور پر کھانے سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے زیادہ خطرہ رہتا ہے ۔

    گروانی انڈوں کو آسان یا درمیانے نایاب اسٹیک پر آرڈر کرنے سے پہلے دو بار سوچنے کا مشورہ دیتے ہیں۔یہ مصنوعات آلودہ ہوسکتی ہیں، حالانکہ ان میں سے زیادہ تر نہیں ہیں ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ وہ لوگ اس کے بارے میں سوچتے ہیں کہ وہ کیا کھا رہے ہیں ، لہذا وہ خود کو بیماری کے امکان کے بارے میں نہیں جانچتے-

  • نیند کی کمی دوسروں کی مدد کرنے کے رجحان کو کم کرسکتی ہے،تحقیق

    نیند کی کمی دوسروں کی مدد کرنے کے رجحان کو کم کرسکتی ہے،تحقیق

    کیلیفورنیا: ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہےکہ نیند کی کمی مشکل گھڑی میں کسی کے کام آنے کے جذبے کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔

    باغی ٹی وی: نیند کی کمی کا تعلق دل کی بیماری،خراب موڈ اور تنہائی پسندی سے ہوتا ہے لیکن پی ایل او ایس بیالوجی نامی جریدے میں شائع ہونے والے مطالعے میں محققین نے نیند کی کمی اور سخاوت کے جذبے کے درمیان تعلق کی جانچ کیلئے کئے گئے تجربے میں پایا کہ نیند کی کمی لوگوں میں دوسروں کی مدد کرنے کے رجحان کو کم کرتی ہے۔

    سورج کے حجم سے 30 بلین گنا بڑا بلیک ہول دریافت

    یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے کے نیورو سائنسدان ایٹی بین سائمن نے کہا کہ نیند کی کمی ہمارے سماجی تجربات اور جس معاشرے میں ہم رہ رہے ہیں اُس کے زاویوں کو نئے طریقے سے تشکیل دے دیتی ہے۔

    تحقیق میں شامل ترقی یافتہ ممالک میں رہنے والے نصف سے زیادہ لوگوں نے رپورٹ کیا کہ وہ کام کے ہفتے کے دوران شاذ و نادر ہی نیند پوری لے پاتے ہیں تاہم محققین کے مطابق نیند کی کمی کے اثرات صرف ایک ہفتے تک ہی محدود نہیں رہتے۔

    فلپائن میں کشتی میں آگ لگنے سے 3 بچوں سمیت31 افراد ہلاک

    تحقیق میں ماہرین نے پایا کہ کام کے ہفتے میں مقامی طور پر قائم ایک غیر منفعتی تنظیم کو جو عطیات کی فراہمی ہوتی تھی، اس میں تقریباً 10 فیصد کمی واقع ہوئی۔