Baaghi TV

Category: صحت

  • بصارت متاثر کرنے والی بیماریوں پر قابو پانا ضروری ہے،پروفیسر الفرید ظفر

    بصارت متاثر کرنے والی بیماریوں پر قابو پانا ضروری ہے،پروفیسر الفرید ظفر

    پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے کہا کہ کالا موتیہ کو بصارت کا خاموش قاتل کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ انکھوں کی صحت اور بیماریوں کے علاج میں غفلت کسی بڑے حادثے سے دوچار کرنے کا سبب بننے کے علاوہ بالخصوص کالا موتیا ہمیشہ کیلئے انسان کو بینائی سے محروم کر سکتا ہے لہذا آنکھو ں کی کسی بھی تکلیف کی صورت میں اسے نظر انداز کرنے کی بجائے فوری طور پر مستند معالج سے رجوع کرنا چاہئے تاکہ علاج ہو اور مریض بینائی سے محروم ہو کر معاشرے اور خاندان کیلئے بوجھ نہ بنے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور جنرل ہسپتال شعبہ امراض چشم کے زیر اہتمام گلوکوما آگاہی واک کے شرکاء اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پروفیسر محمد معین، پروفیسر حسین احمد خاقان، پروفیسر طیبہ گل ملک، ایم ایس ڈاکٹر خالد بن اسلم،ڈاکٹر لبنیٰ صدیق، ڈاکٹر فاطمہ، ڈاکٹر عدیل رندھاوا، کنیز فاطمہ، زہرہ امبرین، مصباح طارق سمیت دیگر ڈاکٹر،نرسز پیرا میڈیکس شریک تھے۔

    مقررین نے کہا کہ بچّوں میں نظر کی کم زوری کی شرح بڑھ رہی ہے،کیوں کہ اکثر والدین دو، پانچ چھے سال کی عُمر کے بچّوں کے ہاتھوں میں موبائل فونز تھما دیتے ہیں۔ ایسے بچّوں میں عینک لگنے کے پندرہ فی صد امکانات بڑھ جاتے ہیں۔نامناسب طرزِ زندگی کے باعث بچّوں اور بڑوں کی کثیر تعداد امراضِ چشم کا شکار ہورہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عالمی ادارہ صحت نے انگریزی میں ایک معقولہ بھی متعارف کروایا ہے کہ ”Make the Kids play keep the glasses” awayیعنی بچوں کو کھیلنے کودنے دیں اور عینک سے بچائیں۔ پروفیسر محمد معین اور پروفیسر حسین احمد خاقان نے کہا کہ پاکستان میں 18لاکھ افراد کالا موتیا کے مرض میں مبتلا ہیں۔یہ مرض عمر کے کسی بھی حصے میں لاحق ہو سکتا ہے عمومی طور پر موروثی کالے موتیے کے اثرات پیدا ئش کے ساتھ ہی ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ایم ایس ڈاکٹر خالد بن اسلم نے کہا کہ لاہور جنرل ہسپتال میں سوموار تا ہفتہ آنکھوں کا طبی معائنہ اور آپریشن کی سہولت میسر ہے اور کالا موتیا کی بر وقت تشخیص و علاج کے لئے جدید طبی آلات بھی موجود ہیں۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر الفرید ظفر نے کہا کہ دنیا کی خوبصورتی کے مشاہدے اور زندگی کے حقیقی حسن سے لطف اندوز ہونے کے لئے آنکھوں کی بینائی کا ہونا نا گزیر امر ہے ان کی قدر کا اندازہ صرف انہی لوگوں سے لگایا جا سکتا ہے جو کسی نہ کسی وجہ سے اللہ کی اس عظیم نعمت سے محروم ہو چکے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کالا موتیا کی بر وقت تشخیص اور علاج کے لئے عوامی سطح پر شعور بیدار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ بڑی عمر کے افراد اپنا طرز زندگی تبدیل کریں،روزمرہ ورزش اور واک کو اپنا معمول بنائیں، شوگر و بلڈ پریشر سے بچنے کے ساتھ کمپیوٹر کے استعمال سے بھی احتیاطی تدابیر کو لازمی اختیار کریں۔ علاوہ ازیں بچوں کے موبائل کے غیر ضروری استعمال کو روکا جائے جو کم سنی میں ہی موٹے شیشے کی عینکیں لگانے کا باعث بن رہے ہیں۔پروفیسر الفرید ظفر نے کہا کہ فضائی آلودگی، سڑکوں پر دھواں چھوڑتی گاڑیاں بھی آنکھوں کی صحت کو متاثر کررہی ہیں لہذا متلعہ محکموں کو بھی صحت عامہ کی بہتری کے لئے اس مسئیلے پر توجہ دینی چاہیے تاکہ دھواں سے شہرویں کی آنکھیں متاثر نہ ہوں۔ شرکاء نے کالا موتیا کے بچاؤ کے سلوگن بھی اٹھا رکھے تھے۔

    سفید کوٹ پہننا اپنی زندگی دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے وقف کرنے کا عزم: پروفیسر الفرید ظفر

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

  • سفید کوٹ پہننا زندگی دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے وقف کرنے کا عزم:پروفیسر الفرید ظفر

    سفید کوٹ پہننا زندگی دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے وقف کرنے کا عزم:پروفیسر الفرید ظفر

    سفید کوٹ پہننا اپنی زندگی دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے وقف کرنے کا عزم: پروفیسر الفرید ظفر

    پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد الفرید ظفر نے لاہور جنرل ہسپتال سے منسلک امیر الدین میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کی نئی کلاسز کے سٹوڈنٹس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ جو سفید کوٹ زیب تن کر رہے ہیں وہ محض ر سمی کاروائی نہیں بلکہ ایک سنجیدہ اور کٹھن سفر کا آغاز ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ جذبہ انسانیت، قربانی، جرات اور احساس ذمہ داری کا سفر ہے کیونکہ سفید کوٹ پہننے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے اپنی زندگی دوسروں کی جانیں بچانے کے لئے وقف کرنے کا راستہ منتخب کیا ہے۔ انہوں نے طلبا سے کہا کہ وہ اپنی پوری توجہ تعلیم مکمل کرنے پر مرکوز کریں اور مریضوں کو حقیقی معنوں میں اہمیت دیں اوراپنی توانائیاں میڈیکل کی تعلیم اور تحقیق میں اس مقصد کے ساتھ صرف کریں کہ دکھی انسانیت کی مدد کی جاسکے۔اس موقع پر سینئر پروفیسر صاحبان، طلبہ و طالبات اور اُن کے والدین بھی موجود تھے۔

    پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ اقبال کے شاہینوں میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے اور آپ خوش قسمت ہیں جنہیں طب کا شعبہ جوائن کرنے کا موقع ملاہے کیونکہ ہر سال لاکھوں نوجوان دکھی انسانیت کی خدمت کی تڑپ لے کر ایم بی بی ایس میں داخلے کیلئے کوشش کر تے ہیں مگر انہیں کامیابی نصیب نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کے فارغ التحصیل ڈاکٹرز دیار غیر میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں اور آپ کو بھی ان کے نقش قد م پر چلتے ہوئے طبی دنیا میں اپنا اور امیر الدین میڈیکل کالج کا نام روشن کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ طلبا کو جدید ریسرچ کیلئے تمام مواقع فراہم کئے جائینگے جس سے وہ مستقبل میں بہتر انداز میں دکھی انسانیت کی خدمت کرسکیں گے۔ پروفیسر الفرید ظفر نے کہا کہ استقبالیہ تقریب میڈیکل طلبہ کے سفر کے آغاز کی علامت ہے اور اس نوبل پیشے میں شامل ہونے کی ذمہ داری اور استحقاق کا احساس پیدا کرتی ہے،پیشہ ورانہ مہارت، نگہداشت اور اعتماد کی بھی علامت ہے جو انہیں مریضوں سے حاصل کرنا ضروری ہے۔

    اس موقع پر سینئر پروفیسرصاحبان نے ایم بی بی ایس کے نئے سیشن کے طلبا کو تلقین کی کہ وہ مستقبل کے قابل با اخلاق صحت کے پیشہ ور افراد کے طور پر ابھرنے کے لئے اپنی تعلیمی اور ہم نصابی سرگرمیوں پر توجہ دیں جبکہ مطالعہ میں وقت کی پابندی کو یقینی بنانے کے لئے کالج اور ہاسٹل کے قواعد و ضوابط سے بھی طلبا کو آگاہ کیا گیا کیونکہ کالج میں حاضری اور بے قاعدگی پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جاتی ہے۔پرنسپل پی جی ایم آئی نے طلبا کے والدین سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت میں مزید دلچسپی لیں اور اساتذہ سے رابطے میں رہیں۔ تقریب کے اختتام پرپرنسپل نے تمام نئے آنے والوں سے اعلی اخلاقی معیار کی تعمیل کرنے کا حلف بھی لیاجبکہ میڈیکل سٹوڈنٹس نے بھی اپنے بھرپور جوش و خروش کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنی میڈیکل کی تعلیم مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ امیر الدین میڈیکل کالج جیسے شاندار ادارے کی نیک نامی کا باعث بنیں گے اور انشاء اللہ ملک و قوم کی خدمت کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔

  • شوگر اور خون میں کمی کے مریضوں کیلئے کتنی کھجوریں کھانا مفید

    شوگر اور خون میں کمی کے مریضوں کیلئے کتنی کھجوریں کھانا مفید

    کھجوریں صحت کیلئے بہت مفید ہیں،کھجوریں غذائیت سے بھر پور ہوتی ہیں،خاص طور پر خشک کھجوریں، خشک کھجوروں میں کیلوری خاص طور پر کاربوہائیڈریٹ (74 گرام) زیادہ ہوتی ہے۔ اس میں ریشوں کے ساتھ کئی ضروری وٹامنز اور معدنیات بھی شامل ہیں۔ کھجوریں انٹی آکسیڈینٹس کی بھرپور ارتکاز کے لئے مشہور ہیں جو آپ کے کارڈیک اور پلمونری صحت کے لئے فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہیں۔

    ہفتے میں پانچ انڈے کھانے سے بلڈ پریشر میں کمی اور دل کو فائدہ ہو سکتا ہے

    ’’ہیلدی فائی می‘‘ کے مطابق کھجور میں آئرن کی زیادہ مقدار خون کی کمی کے شکار لوگوں میں ہیموگلوبن کی سطح کو بڑھانے میں مدد کرتی ہے۔

    کھجور صحت مند حفاظتی اینٹی آکسیڈنٹس، کیلشیم، بی وٹامنز ، میگنیشیم اور وٹامن کے سے بھرپور ہوتی ہے تاہم کھجور میں کاربوہائیڈریٹ کی مقدار زیادہ ہو سکتی ہے 100 گرام کھجور میں تقریباً 75 گرام کاربوہائیڈریٹ ہوتے ہیں۔ کاربوہائیڈریٹس کی یہ زیادہ مقدار ذیابیطس کے مریضوں کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔

    ذیابیطس میلیٹس سب سے عام بیماریوں میں سے ایک ہے ذیابیطس کا زیادہ تر علاج متعدد زبانی ذیابیطس ادویات اور انسولین ضمیمہ استعمال کرکے کیا جاتا ہے۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ کھجوریں بلڈ شوگر اور چربی کی سطح کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

    یہ انسولین کی پیداوار کو بڑھا سکتا ہے اور آنتوں سے گلوکوز جذب کرنے کی شرح کو کم کرنے میں بھی مدد کرتا ہے۔ اس سے ذیابیطس ہونے کا خطرہ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے-

    کھجوریں مصنوعی مٹھاس کی طرح کیلوریز کے بغیر نہیں ہوتیں۔ لیکن کھجور میں حل پذیر اور ناقابل حل دونوں فائبر ہوتے ہیں جو خون میں شکر کی سطح کو مستحکم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ کھجور میں موجود مختلف ریشے ہاضمے کے عمل اور کاربوہائیڈریٹس کے جذب کی رفتار کو سست کرتے ہیں۔ اس طرح خون میں گلوکوز میں اضافے کو روکتے ہیں۔ اگر کوئی شخص کم بلڈ شوگر کی علامات کا سامنا کر رہا ہے تو کھجور توانائی کے فوری فروغ کے لیے ایک بہترین ناشتہ ہے۔

    اس بات کا تعین کرنے کے لیےکہ آیا کھجوریں بلڈ شوگر کی سطح کو بڑھاتی ہیں کوئی بھی گلیسیمک انڈیکس سے اندازہ لگا سکتا ہے۔ کھانے کا گلیسیمک انڈیکس (GI) بتاتا ہے کہ کھانے میں موجود شکر کتنی جلدی خون میں جذب ہو جاتی ہے۔ کم ’’جی آئی ‘‘ والے کھانے کی نسبت زیادہ ’’جی آئی ‘‘ والا کھانا خون کےدھارے میں زیادہ تیزی سےجذب ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے بلڈ شوگر میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔

    ہاتھ اور پیر اکثر کیوں سُن ہو جاتے ہیں؟

    کھجوروں میں متعدد غذائی اجزا ہوتے ہیں جو آپ کے جسم کو صحت سے متعلق ہڈیوں میں کولیسٹرول کم کرنے سے لے کر صحت کے مختلف فوائد فراہم کرتے ہیں یہ فوری طور پر کولیسٹرول کو کم کرسکتی ہیں اور آپ کے وزن کو سنبھالنے میں مدد کرتی ہیں۔

    کھجور مختلف بیماریوں کے علاج کے لئے طرح طرح کے اینٹی آکسیڈینٹ مہیا کرتی ہے۔ اینٹی آکسیڈینٹ آپ کے خلیوں کو آزاد ریڈیکلز سے بچاتے ہیں جو آپ کے جسم میں نقصان دہ رد عمل کا سبب بن سکتے ہیں اور بیماری کا سبب بن سکتے ہیں۔ کھجوریں اینٹی آکسیڈینٹ سے مالا مال ہیں جن میں شامل ہیں:

    کیروٹینائڈز – یہ آپ کے دل کی صحت کے لئے بہت فائدہ مند ہے۔ اس سے آنکھوں سے متعلقہ عارضے کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔

    فلاوونائڈز – یہ ایک طاقتور اینٹی آکسیڈینٹ ہے جس میں متعدد فوائد ہیں۔ یہ اپنی اینٹٰ سوزش کی خصوصیات کے لئے جانا جاتا ہے۔ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ذیابیطس ، الزائمر کی بیماری ، اور کینسر کی بعض اقسام کے خطرے کو کم کرنے کے لئے مفید ہے۔

    فینولک ایسڈ – یہ اینٹی سوزش کی خصوصیات رکھتا ہے اور کچھ کینسر اور دل کے امور کے خطرے کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔

    ذیا بیطس کے مریضوں میں کینسر کے واقعات اور اموات کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے،تحقیق

    ہر کھجور میں کولین ، وٹامن بی ہوتا ہے جو سیکھنے اور یاداشت کے عمل کے لئے ہت فائدہ مند ہے ، خاص طور پر الزھائیمر کے مرض کے بچوں میں۔ کھجوروں کی باقاعدگی سے کافی نیوریوڈیجنری بیماریوں جیسے الزائمر کی بیماری اور بوڑھے افراد میں بہتر ادراک کی کارکردگی سے منسلک ہوتی ہے ۔

    کھجوریں دماغ میں سوزش کو کم کرنے اور پلیک کی تشکیل کو روکنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں ، جو الزائمر کی بیماری کی روک تھام کے لئے اہم ہیں۔

    کھجوریں وٹامن سی اور ڈی کا ایک بہترین ذریعہ ہیں جن سے آپ کی جلد کو لچکدار بنانے میں مدد ملتی ہیں اور آپ کی جلد کو ہموار رکھتی ہیں۔ کھجوریں اینٹی ایجنگ پراپرٹیز کے ساتھ بھی آتی ہیں اور میلانین کو جمع ہونے سے روکتی ہیں۔

    انڈیوسڈ لیبر کی ضرورت کو کم کرتا ہے۔ کھجوریں آکسیٹوسن کی کارروائی کی نقالی کرتی ہیں اور لیبر کے دوران بچہ دانی کے پٹھوں کا قدرتی سنکچن لاتی ہیں کھجوروں میں ٹینن نامی ایک کمپاؤنڈ بھی ہوتا ہےجو پیدائش کے دوران بچہ دانی کے سنکچن کو آسان بنانے میں بھی مدد کرتا ہے۔

    روزانہ دودھ کا ایک گلاس پینا اوردہی کھانا ٹائپ 2 ذیا بیطس کیلئے مفید ہے،تحقیق

    فائبر کے ناقص استعمال کی وجہ سے حمل کے دوران بواسیر ایک عام پریشانی ہے کھجوریں فائبر کا ایک حیرت انگیز ذریعہ ہیں۔ یہ حمل کے دوران بواسیر کے خطرے کو کم کرنے میں مدد کرسکتی ہیں۔

    تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ پوٹشیم کی مقدار میں اضافہ کرکے پوسٹ مینوپاسال خواتین میں ہڈیوں کی کمی کو کم کیا جاسکتا ہے۔ ایک خشک کھجور پوٹاشیم اور دیگر غذائی اجزا کی ایک بڑی مقدار مہیا کرتی ہےسائنس دانوں کا خیال ہےکہ پوٹاشیم کی زیادہ مقدار گردوں کے ذریعے خارج ہونے والے کیلشیم کی مقدار کو کم کرکے ہڈیوں کے بڑے پیمانے پر حفاظت کرتی ہے-

  • نیل پالش خواتین میں بانجھ پن اور ذیابیطس کا باعث بن سکتی ہے، تحقیق

    نیل پالش خواتین میں بانجھ پن اور ذیابیطس کا باعث بن سکتی ہے، تحقیق

    ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ خواتین کی روزمرہ استعمال ہونے والی میک اپ کی مصنوعات میں مضرصحت کیمائی مادہ فتھالیٹس پایا جاتا ہے جو ذیابیطس ٹائپ ٹو سمیت سنگین بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : تحقیق کے مطابق فتھالیٹس زہریلے کیمیائی مواد کی ایک قسم ہے جو ہیئر اسپرے اور آفٹر شیو جیسی متعدد دیگر مصنوعات میں پائے جاتے ہیں،فتھالیٹس پلاسٹک کی پائیداری بڑھانے کے لیے استعمال ہونے والے کیمیکل ہیں جیسے ذاتی نگہداشت کی مصنوعات کے علاوہ اور خوراک اور مشروبات کی پیکیجنگ کھلونوں میں بھی بڑے پیمانے پر استعمال کیا جارہا ہے۔

    اسٹربیری پھل کی حقیقت جسے جان کر دنگ رہ جائیں

    یہ جلد میں داخل ہو کر جگر، گردوں، پھیپھڑوں اور دیگر اعضاء کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، اور اس کے استعمال سے خواتین میں ٹائپ 2 ذیابیطس لاحق ہونے کے واقعات میں 63 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہےفتھالیٹس کا لمبے عرصے تک استعمال سے بانجھ پن، ذیابیطس اور دیگر اینڈوکرائن عوارض کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

    غذا جو بڑھتی عمر کیساتھ دل و دماغ کی حفاظت کرتی ہے

    اینڈو کرائن سوسائٹی آف کلینیکل اینڈو کرائنولوجی اینڈ میٹابولزم جرنل میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں تجویز کیا گیا ہے کہ روز مرہ استعمال کی مصنوعات جیسے نیل پالش، شیمپو اور پرفیوم میں اس کیمیائی مواد کی موجودگی کی جانچ کے لیے معائنہ ہونا چاہیے۔

    یونیورسٹی آف مشی گن سکول آف پبلک ہیلتھ سے تعلق رکھنے والی ماہر صحت عامہ سنگ کیون پارک کا کہا کہ چھ سال تک مضر صحت کیمیکل کے استعمال سے خواتین ، خصوصا سفید فام خواتین میں ذیابیطس میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    ایک تحقیق کے مطابق سفید فام خواتین میں ایشیائی اور افریقی خواتین کی نسبت ذیابیطس سے متاثر ہونے کے امکانات 30-63 فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔

    دوسری جانب 7 فروری کو اینلس آف انٹرنل میڈیسن میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق اگر پری ڈائبیٹس میں مبتلا افراد وٹامن ڈی کھانے کی مقدار بڑھا دیں تو مکمل ذیابیطس کی کیفیت کا خطرہ 15 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

    رات دیر تک جاگنا ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس وقت کروڑوں افراد ایسے ہیں جو ذیابیطس کے کنارے پر موجود ہیں اور اس کا ایک اہم ٹیسٹ خون کے ذریعے کیا جاتا ہے جس میں ہیموگلوبن سے جڑے گلوکوز کی کیفیت کو ناپا جاتا ہے۔ وٹامن ڈی قدرتی طورپر کئی غذاؤں میں پایا جاتا ہے اور گولیوں کی صورت میں بھی موجود ہے۔ اس کے علاوہ دھوپ میں وقت گزارنے سے انسانی جلد اسے قدرتی طور پر تیار کرنے میں مدد دیتی ہے۔

    وٹامن ڈی اور بلڈ شوگر کے درمیان پہلے ہی تعلق دریافت ہوچکا ہے۔ یہ وٹامن انسولین کے انجذاب اور استحالے کو بھی بہتر بناتی ہے۔ اس کے علاوہ ماہرین جسم میں وٹامن ڈی کی کم مقدار اور ذیابیطس کے درمیان تعلق پر بھی غورکرچکے ہیں۔

    تین سال تک ماہرین نے کئی رضاکاروں پر تحقیق کی ہے اورمزید سال اس کا جائزہ لیا ہے۔ ان میں سے جن مریضوں کو وٹامن ڈی دیا گیا ان کی 22 فیصد تعداد کو ذیابیطس سے قبل کی کیفیت سے مکمل ذیابیطس لاحق ہوگئی جبکہ فرضی دوا (پلے سیبو) کھانے والے 25 فیصد افراد مکمل ذیابیطس کے مریض بن گئے۔ اب اگر ان اعدادوشمار کو 100 فیصد پر لایا جائے تو وٹامن ڈی کھانے سے پری ڈایبیٹس سے ڈائبیٹس میں جانے کا خطرہ 15 فیصد تک کم ہوسکتا ہے اب اگر اسے دنیا بھر پر لاگو کیا جائے تو وٹامن ڈی ہر سال لاکھوں کروڑوں افراد کو شوگر کا مریض بننے سے بچایا جاسکتا ہے۔

    کیا عقل داڑھ کا عقل سے کوئی تعلق ہے؟اور یہ اتنی تاخیر سےکیوں نکلتی ہیں

  • لاہور سمیت ملک کے 39 اضلاع میں انسداد پولیومہم کا انعقاد

    لاہور سمیت ملک کے 39 اضلاع میں انسداد پولیومہم کا انعقاد

    وزارت صحت نے لاہورمیں وائرس کی تصدیق کے بعد ملک کے 39اضلاع میں انسداد پولیومہم کا انعقاد کر دیا ہے-

    باغی ٹی وی: وفاقی وزیرصحت نے اس حوالے سے بتایا کہ 60لاکھ سے زائدبچوں کو پولیوسے بچاوکے قطرے پلانے کی مہم کاآغازہورہا ہے،خصوصی پولیو مہم 13 فروری سے 9 ا ضلاع میں مکمل طورپر چلائی جائے گی-

    افغانستان کا پولیو وائرس ویرینٹ لاہورپائے جانے کا انکشاف

    وزیر صحت عبدالقادر پٹیل کے مطابق 30اضلاع میں جزوی طور پر انسداد پولیو مہم چلائی جائے گی،پنجاب کے 2 اضلاع لاہور اور فیصل آباد میں مجموعی طورپر مہم شروع ہوگی جبکہ جنوبی خیبرپختونخوا کے 7 اضلاع میں مہم کاآغازہورہا ہے-

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ 24 جنوری کو وفاقی وزیرِ صحت عبدالقادر پٹیل نے لاہور کے ماحولیاتی نمونہ میں پولیو وائرس کی تصدیق کی تھی عبدالقادر پٹیل کا کہنا تھا کہ 2023ء میں پہلی بار لاہور کے ماحولیاتی نمونے میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    وزیر صحت نے بتایا تھا کہ گلشنِ راوی میں پائےجانے والے وائرس کا تعلق ننگرہار، افغانستان میں پائے جانے والے پولیو وائرس سے ہے افغانستان کے صوبے ننگرہار میں گذشتہ نومبر میں پایا گیا تھا-

    لاہور کے ماحولیاتی نمونے میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق

    عبدالقادر پٹیل کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان پولیو کے خلاف جنگ میں متحد ہیں،اگرچہ وائرس کی تصدیق ہونا تشویش کا باعث ہےتاہم وائرس کی فوری تصدیق ہونا بہتری کی علامت ہے۔ ماحول میں وائرس کی بروقت تصدیق بچوں کو پولیو وائرس سے معذور ہونے سے بچانے کے لیے بہت ضروری ہے۔

    اُنہوں نے بتایا تھا کہ لاہور سے پولیو کا آخری کیس جولائی 2020ء میں سامنے آیا تھا،تاہم ماحولیاتی نمونوں میں وقتاً فوقتاً اس وائرس کی تصدیق ہوتی رہی ہے اور گذشتہ برس ضلع لاہور کے چار ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔

    یاد رہے کہ جسمانی معذوری کا سبب بننے والا پولیو پانچ سال سے کم عمر کے بچوں پر حملہ آور ہوتا ہے اور پولیو وائرس سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے ہی اس وائرس سے نجات ممکن ہے۔

    پولیو پاکستانیوں کے لیے درد سر بن گیا ، مزید بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

  • ہفتے میں پانچ انڈے کھانے سے بلڈ پریشر میں کمی اور دل کو فائدہ ہو سکتا ہے

    ہفتے میں پانچ انڈے کھانے سے بلڈ پریشر میں کمی اور دل کو فائدہ ہو سکتا ہے

    بوسٹن: بوسٹن یونیورسٹی کے سائنسدانوں کے مطابق ہفتے میں پانچ انڈے کھانے سے بلڈ پریشر میں کمی، خون میں گلوکوز پر قابو پانے میں کچھ مدد ملتی ہے جس سے لامحالہ دل کو فائدہ ہوسکتا ہے۔

    غذائی ماہرین نے مزید تحقیق اور طویل اثرات کے مطالعے پر زور دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ انڈوں کو نہ ہی مضر، نہ ہی مفید قرار دے رہے ہیں ان کا اثر یہ ہے کہ اس سے انڈے کھانے کی شرح کم رکھی جائے تو ہی بہتر ہوگا۔

    انڈے پروٹین کا پاور ہاؤس، نہار منہ اُبلا انڈا کھانا صحت کے لئے کتنا ضروری؟

    انڈوں میں پروٹین ہوتا ہے، وٹامن ڈی جیسے فوائد ہوتے ہیں اور کولائن بھی پایا جاتا ہے۔ لیکن انڈے خون کی رگوں میں تنگی پیدا کرسکتے ہیں اب انڈے کےجو فوائد سامنےآئے ہیں وہ براہِ راست کی بجائے بالراست ہیں عین یہی مؤقف محتاط ماہرین کا بھی ہےیعنی ایک انڈہ روزانہ اور وہ بھی زردی کے بغیر۔

    اس تحقیق میں سائنسدانوں نے 1971 کے ایک سروے کو دیکھا ہے جس میں 5000 بالغ افراد کا جائزہ لیا گیا تھا۔ اس تحقیق کا فالواپ ہرچار سال بعد کیا جاتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ان میں سے جن افراد نے ہفتے میں پانچ یا اس سے زائد انڈے کھائے ان کا بلڈ پریشر قدرے معمول پر رہا اور فاسٹنگ بلڈ شوگر بھی اوسط سے کم تھی۔ اس طرح زیابیطس کا خطرہ کم ہوجاتا ہے اور بلڈ پریشر جیسی خاموش قابل بیماری بھی دور رہتی ہے۔

    غذا جو بڑھتی عمر کیساتھ دل و دماغ کی حفاظت کرتی ہے

    اس تحقیق میں 30 سے 64 سال کے افراد شامل تھے جنہوں نے بعد میں 1983 سے 1995 تک ہر تین دن بعد اپنے کھانے پینے کا ریکارڈ رکھا ہوا تھا۔ ان میں سے طویل عرصے تک جن افراد نے زیادہ انڈے کھائے ان میں بلڈ پریشر کی کیفیت نہ تھی اور نہ ہی خون میں گلوکوز کی مقدار بڑھی ہوئی دیکھی گئی۔

    تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق میں انڈے کھانے سے خون میں چکنائی اور کولیسٹرول کو بھی شامل کرنا تھا جو دل کے امراض کی ایک اہم علامت بھی ہے۔

    اسٹربیری پھل کی حقیقت جسے جان کر دنگ رہ جائیں

  • ہاتھ اور پیر اکثر کیوں سُن ہو جاتے ہیں؟

    ہاتھ اور پیر اکثر کیوں سُن ہو جاتے ہیں؟

    تقریباً فرد کو ہی ہاتھوں یا پیروں کے سن ہونے، سنسناہٹ یا سوئیاں چبھنے جیسے احساسات کا سامنا ہوتا ہے،اس کیفیت میں ہاتھوں اور پیروں میں تکلیف یا کمزوری بھی محسوس ہوسکتی ہے ماہرین کے مطابق اگر اکثر ہاتھ اور پیر سن ہوجاتے ہیں، سوئیاں چبھنے یا سنسناہٹ کا احساس ہوتا ہے، تو ایسا کسی بیماری کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے۔

    انار ایک سُپر فوڈ،ذیابیطس کو روکتا ہے اور دل کی حفاظت کرتا ہے،نظام ہاضمہ کو مضبوط…

    ماہرین صحت کے مطابق جسم میں بلڈ شوگر کی سطح بڑھ جانے سے اعصاب کو نقصان پہنچتا ہے جس کے باعث ہاتھوں اور پیروں کے سن ہونے یا سوئیاں چبھنے کا اکثر سامنا ہوتا ہے،اگر ایسا ہوتا ہو اور اس کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ پیشاب آنے یا ہر وقت پیاس لگنے جیسی علامات بھی موجود ہوں تو ڈاکٹر سے رجوع کرکے ذیابیطس کا ٹیسٹ کرانا چاہیے،تھائی رائیڈ کے امراض کا علاج نہ کرایا جائے تو ہاتھوں اور پیروں میں جلن، سنسناہٹ اور سن ہونے جیسی علامات سامنے آتی ہیں-

    اگر آپ دوپہر کو کچھ دیر کی نیند لے کر اٹھتے ہیں اور آپ کے ہاتھ یا پیر سن یا بے حس ہورہے ہو تو آسانی سے تصور کیا جاسکتا ہے کہ یہ اعصاب دب جانے کا نتیجہ ہے۔ تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ کا ہاتھ اچانک بے حس یا کمزور ہوجائے تو یہ کیفیت چند منٹوں میں دور نہ ہو تو فوری طبی امداد کے لیے رابطہ کیا جانا چاہئے۔شریانوں میں ریڑھ کی ہڈی سے دماغ تک خون کی روانی میں کمی کے نتیجے میں جسم کا ایک حس سن یا کمزور ہو جاتا ہے، اگر اس کے ساتھ بولنے میں مشکل ہو، ایک کی جگہ دو چیزیں نظر آئیں، سوچنا مشکل ہو اور آدھے سر کا درد وغیرہ بھی ہو تو فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

    غذا جو بڑھتی عمر کیساتھ دل و دماغ کی حفاظت کرتی ہے

    علاوہ ازیں جسم میں اعصاب کے قریب رسولی بننے سے ہاتھوں اور پیروں کے سن ہونے کا مسئلہ بڑھ جاتا ہے ایسا کینسر یا عام رسولی سے بھی ہو سکتا ہے مخصوص ادویات سے بھی اعصاب کو نقصان پہنچ سکتا ہے جس سے ہاتھ اور پیر سن ہو جاتے ہیں یا سوئیاں چبھنے کا احساس ہوتا ہے،عموماً کینسر کے علاج کے لیے کھائی جانے والی ادویات سے ایسا ہوتا ہے مگر امراض قلب یا ہائی بلڈ پریشر کی ادویات سے بھی ہوسکتا ہے۔

    جسم میں وٹامن بی 12، وٹامن بی 6، وٹامن بی 1، وٹامن ای یا وٹامن بی 9 کی کمی ہو تو اس کے نتیجے میں بھی ہاتھ پیر اکثر سن ہونے لگتے ہیں یا سوئیاں چبھنے کا احساس ہوتا ہے یہ وٹامنز اعصاب اور جسم کے دیگر حصوں کے لیے اہم ہوتے ہیں اور ان کی کمی سے اعصاب کو نقصان پہنچتا ہے۔

    اگر اعصاب پر اردگرد کے ٹشوز سے دباؤ بڑھ جائے جیسے چوٹ لگنے سے یہ مسئلہ پیدا ہوتا ہے ہاتھوں یا پیروں کے اعصاب میں ایسا ہونے سے وہ اکثر سن ہو جاتے ہیں یا سوئیاں چبھنے کا احساس ہوتا ہے ،متعدد وائرل اور بیکٹریل انفیکشنز سے بھی اعصاب کو نقصان پہنچتا ہے جس کے باعث ہاتھ پیر اکثر سن ہو جاتے ہیں یا ایسا لگتا ہے کہ کوئی ان میں سوئیاں چبھو رہا ہے۔ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس بی اور سی سمیت متعدد وائرسز کے شکار افراد کو اس کا تجربہ ہوتا ہے۔

    خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے ،تحقیق

    اگر گردوں کے افعال متاثر ہو جائیں تو جسم میں سیال اور کچرا جمع ہو جاتا ہے جس سے اعصاب کو نقصان پہنچتا ہے جس کے باعث عموماً ٹانگیں اور پیر اکثر سن ہو جاتے ہیں جبکہ سنسناہٹ کی شکایت بھی ہوتی ہے۔

    ایسے امراض جس میں ہمارا مدافعتی نظام ہی صحت مند خلیات پر حملہ آور ہو جائے، انہیں آٹو امیون امراض کہا جاتا ہے، اس کے نتیجے میں ہاتھوں اور پیروں کے سن ہونے کی شکایت بڑھ جاتی ہے علاوہ ازیں کارپل ٹنل مرض کے شکار افراد کو اکثر ہاتھوں کی انگلیوں میں سنسناہٹ، سوئیاں چبھنے یا سن ہونے جیسے احساسات کا سامنا ہوتا ہے،یہ ہاتھوں کا ایک عام مسئلہ ہے جس کے دوران ہتھیلی میں موجود اعصاب دب جاتے ہیں ، ابتدائی مرحلے میں اس عارضے کی تشخیص ہوجائے تو علاج آسان ہوتا ہے مگر تاخیر ہونے پر اکثر سرجری کی ضرورت ہوتی ہے۔

    اگر آپ کو پورے جسم یمں درد کے پھیلنے اور دیر تک تھکاوٹ کا احساس ہو تو یہ ریشہ دار عضلاتی درد یا Fibromyalgia کا عارضہ ہوسکتا ہے، اس کے شکار افراد کو ہاتھوں اور بازﺅں کے سن ہونے اور ان میں سوئیاں چبھنے کا احساس بھی ہوتا ہے، یہ ایسا مرض ہے جس کے بارے میں یہ معلوم نہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے اور اس کا کوئی مخصوص علاج بھی نہیں مگر مختلف طریقہ کار سے کافی حد تک ریلیف حاصل کیا جاسکتا ہے۔

    پھلوں اور سبزیوں کےاستعمال سے ذیابیطس اور موٹاپے پرقابوپایا جا سکتا ہے ،تحقیق

    Lupus یا چیرے کی جلد کی سوزش ایک آٹو امیون مرض ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب ہمارا مدافعتی نظام اعضا اور ٹشوز پر حملہ آور ہوجاتا ہے، اس مرض کی علامات میں ہاتھوں کا سن ہونا بھی شامل ہے مگر اس کا انحصار اس پر ہوتا ہے کہ جسم کا کونسا حصہ اس سے متاثر ہے، اگر یہ اہم اعضا جیسے دل، گردے، پھیپھڑوں یا دماغ تک پہنچ جائے تو یہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

  • سگریٹ نوشی کرنے والے اب ہوجائیں ہوشیار

    سگریٹ نوشی کرنے والے اب ہوجائیں ہوشیار

    سگریٹ نوشی کرنے والے اب ہوجائیں ہوشیار

    پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان مذاکرات کل دوبارہ ہوں گے۔ آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) ایک فیصد بڑھایا جائے، پیٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی دوبارہ لگایا جائے۔ جبکہ آئی ایم ایف کے مطالبات کے باعث آئندہ ہفتے سے تین سو ارب روپے کے ٹیکس لگنے کا خدشہ ہے اور بجلی، سگریٹ، مشروبات، ایئر ٹکٹ سمیت دیگر اشیاء مہنگی ہونے کا امکان ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے مزید ٹیکس لگانے پر زور دیا جارہا ہے۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) رواں مالی سال 74 کھرب روپے کا ہدف حاصل نہیں کرسکے گا، لہٰذا ٹیکس ہدف پورا کرنے کے لئے مزید ٹیکس عائد کئے جائیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    75 ہزار روپے جرمانہ ہوگااس کوجس نے چلتی گاڑی میں ممنوع کام کیا
    کراچی :اسنوکر کلب میں گھس کر نوجوان کو قتل کردیاگیا
    تباہی کا منصوبہ ناکام، پولیس مقابلے میں دو دہشت گرد ہلاک اور چار گرفتار
    بھارت روسی خام تیل کی ادائیگیاں ڈالر کے بجائے درہم میں کیوں کررہا؟
    اسلام آباد پولیس کا تحریری ٹیسٹ، 70 اقلیتی امیدوار کامیاب
    عمران خان بھول گئے کہ اللہ نے مکافات عمل بھی دنیا میں رکھا ہے،مریم
    پولیس لائنز دھماکہ؛ حملہ آور اکیلا نہیں تھا بلکہ اُسے ہدف تک سہولت کار نے پہنچایا. حقیقاتی ٹیم
    پی ٹی آئی کے دفتر میں ٹکٹوں کی تقسیم پر بدنظمی؛ رہنماؤں کے ایک دوسرے کو دھکے
    جبکہ ذرائع کے مطابق تین سو ارب روپے کے نئے ٹیکس کا اعلان آئندہ ہفتے متوقع ہے، ساتھ ہی بجلی کے ٹیرف میں تین روپے فی یونٹ اضافہ ہوگا۔ علاوہ ازیں نجی ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ ہے کہ حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان محصولات میں شارٹ فال پر اختلاف برقرار ہے۔ آئی ایم ایف سمجھتا ہے کہ محصولات کا شارٹ فال 840 ارب روپے ہے، تاہم حکام کے مطابق شارٹ فال 400 سے 450 ارب روپے ہوگا۔

  • اسٹربیری پھل کی حقیقت جسے جان کر دنگ رہ جائیں

    اسٹربیری پھل کی حقیقت جسے جان کر دنگ رہ جائیں

    اسٹرابیری پھل دیکھنے میں بہت خوبصورت ہوتا ہے اور ذائقے کے لحاظ سے بھی بہترین ہے اسٹرابیری، موسم بہار اور موسم گرما میں ایک پسندیدہ پھل اپنی مزیدار میٹھی خوشبو اور ذائقے کی بدولت سب کا پسندیدہ بھل ہے اور اسکے ساتھ ساتھ، وٹامن اے، پوٹاشیم، کیلشیم، میگنیشیم اور فولیٹ سمیت غذائی اجزاء کا ایک شاندار ذریعہ ہیں۔ مزید برآں ان کا شمار وٹامن سی اور مینگنیز سے بھرپور پھلوں میں بھی ہوتا ہے

    پھلوں اور سبزیوں کےاستعمال سے ذیابیطس اور موٹاپے پرقابوپایا جا سکتا ہے ،تحقیق

    اسٹرابیری اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہے، جو دل کی صحت اور بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے کے لیے فوائد رکھتی ہیں عام طور پر سٹرابیری کچی اور تازہ کھائی جاتی ہیں، مگر اس کی علاوہ ان کو مختلف قسم کے جیمز، جیلیوں اور میٹھوں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اسٹرابیری بنیادی طور پر %91 پانی اور %7.7 کاربوہائیڈریٹ پر مشتمل ہوتی ہے۔ ان میں معمولی مقدار میں چربی (0.3%) اور پروٹین (0.7%) بھی موجود ہوتی ہے۔

    اکثر خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے اوپر ‘بیج’ پھل کے اندر ہونے کی بجائے اوپر موجود ہیں آپ یہ جان کر حیران رہ جئیں گے کہ اسٹرابیری کے اوپر جو بیج نظر آتے ہیں وہ حقیقت میں بیج نہیں اور جو سرخ رنگ کا پھل ہم کھاتے ہیں وہ تکنیکی طور پر پھل ہی نہیں،اسٹرابیری کے اوپر جو بیج جیسی چیز نظر آتی ہے اسے ایچین کہا جاتا ہے۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کیلئے بہترین ناشتہ جو خون میں شکر کی مقدار کم رکھتا ہے

    یہ جان کر آپ دنگ رہ جائیں گے کہ ایچین درحقیقت اسٹرابیری پودے کا پھل ہوتا ہے اور ہر ایچین کے اندر ایک بیج ہوتا ہےجہاں تک سرخ گودے کی بات ہے جسے ہم اسٹرابیری پھل تصور کرتے ہیں وہ حقیقت میں ایسا ٹشو ہے جو پھول کو پودے سے جوڑنے کا کام کرتا ہے۔

    جب اسٹرابیری کے ایک پھول کی تخم کاری ہوتی ہے تو یہ ٹشو نشوونما پاکر بدل جاتا ہے تو اسٹرابیری کی سطح پر جو متعدد بیج نظر آتے ہیں وہ درحقیقت پھل ہوتے ہیں، مگر یہ معلوم نہیں کہ آخر وہ چھوٹے اور خشک پھل اس سرخ میٹھے حصے کے باہر کیوں ہوتے ہیں۔

    بس یہ معلوم ہے کہ دیگر پھلوں کے برعکس اسٹرابیری کے پھول میں پھل نہیں پھولتا بلکہ اس کا ٹشو پھول جاتا ہے جبکہ حقیقی پھل چھوٹی خشک شکل میں نظر آتا ہےدلچسپ بات یہ ہے کہ اسٹرابیری کے بیشتر پودوں کو اگنے کے لیے بیجوں کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ وہ اپنی نقول بناکر پھیلتے رہتے ہیں۔

    دہی خواتین کی صحت کیلئے بے حد مفید قرار

  • وزیر صحت نے کیا کلئیرپاتھ انسٹی ٹیوٹ کا افتتاح

    وزیر صحت نے کیا کلئیرپاتھ انسٹی ٹیوٹ کا افتتاح

    ۔نگران صوبائی وزیر صحت ڈاکٹرجاویداکرم نے جوہرٹاؤن میں کلئیرپاتھ انسٹی ٹیوٹ کا افتتاح کر دیا۔

    اس موقع پر سی ای او کلئیر پاتھ انسٹی ٹیوٹ ڈاکٹر وقاص وہاب،ڈاکٹر طاہر محمود ودیگر عہدیداران اورطلبا ء طالبات کی کثیر تعدادنے شرکت کی۔سی ای اوکلئیر پاتھ انسٹی ٹیوٹ ڈاکٹر وقاص وہاب نے نگران صوبائی وزیر صحت ڈاکٹرجاوید اکرم کی آمدپرگلدستہ پیش کیا۔نگران صوبائی وزیر صحت ڈاکٹرجاوید اکرم نے کلئیرپاتھ انسٹی ٹیوٹ کے افتتاح کے بعد تقریب کے شرکاء سے خطاب کیا اور ٹریننگ سنٹرکادورہ بھی کیا۔تقریب کے دوران سی ای او کلئیرپاتھ انسٹی ٹیوٹ ڈاکٹر وقاص وہاب نے حاضرین سے خطاب کیا اور نگران صوبائی وزیر صحت ڈاکٹرجاوید اکرم کو یادگاری شیلڈبھی پیش کی۔نگران صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر جاوید اکرم نے اس موقع پر کلئیرپاتھ انسٹی ٹیوٹ کی کامیابی کیلئے دعابھی کی۔

    نگران صوبائی وزیر صحت ڈاکٹرجاویداکرم نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ ڈاکٹروقاص وہاب کو نیک کام کے آغاز پر مبارکباد دیتے ہیں -پوری دنیامیں طب کے شعبہ سے دلچسپی رکھنے والے افرادخدمت انسانیت میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔کلئیرپاتھ انسٹی ٹیوٹ انشاء اللہ بہترین کامیابیاں حاصل کرے گا۔کلئیرپاتھ انسٹی ٹیوٹ میں یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسزکی تعاون سے طلبا ء وطالبات کو ڈینٹشری کے جدیدتربیتی کورسزکرو ائے جارہے ہیں۔حکومتی نمائندہ ہونے کے ناطے ڈاکٹروقاص وہاب کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرواتاہوں۔پاکستان میں ڈینٹشری کے شعبہ میں جدیدعلوم متعارف کروانے کی اشدضرورت ہے۔ڈاکٹرجاویداکرم نے کہاکہ کلئیرپاتھ انسٹی ٹیوٹ کی خدمات کو پاکستان میں خوش آمدید کہیں گے۔اللہ پاک ہمیں پاکستانی عوام کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔کلئیرپاتھ انسٹی ٹیوٹ سے معیاری ڈینٹل سروسزکی امیدکرتے ہیں۔

    میرا پیغام پہنچا دو….فواد چودھری کے کس سے رابطے؟ آڈیو لیک ہو گئی

     عمران خان کی نازیبا آڈیو لیک ہوئی ہے

    آڈیو لیکس، عمران خان گھبرا گئے،زمان پارک میں جاسوسی آلات نصب ہونے کا ڈر، خصوصی سرچ آپریشن

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

     فوادچودھری کے بھائی فراز چودھری کو بھی گرفتار کر لیا گیا

    سی ای او کلئیرپاتھ انسٹی ٹیوٹ ڈاکٹروقاص وہاب نے اظہارخیال کرتے ہوئے بتایاکہ نگران صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر جاوید اکرم ہمارے لئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔پروفیسرڈاکٹرجاویداکرم کی ذات سے بہت کچھ سیکھنے کو ملاہے۔کوروناکے دورمیں پروفیسرڈاکٹرجاویداکرم نے ریسرچ کی فیلڈمیں پوری دنیا میں اپنالوہامنوایاہے۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پروفیسر ڈاکٹرجاویداکرم نے کوروناکے دوران کئی انسانی جانوں کو محفوظ بنایاہے۔