Baaghi TV

Category: صحت

  • پاکستان میں پہلی بار شعبہ صحت میں اے آئی ٹیکنالوجی کا استعمال

    پاکستان میں پہلی بار شعبہ صحت میں اے آئی ٹیکنالوجی کا استعمال

    پاکستان میں شعبہ صحت کو ٹرانسفارم کرنے کیلئے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کردیا گیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پورے پاکستان میں پہلی بار کراچی کے آغا خان یونیورسٹی اسپتال نے شعبہ صحت کو ٹرانسفارم کرنے کیلئے اے آئی ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کردیا ہے۔آغا خان اسپتال نے ہیلتھ کیئر کی فراہمی کو تبدیل کرنے کیلئے مصنوعی ذہانت کے استعمال کو ایک اہم ذریعے کے طور پر قبول کر لیا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ٹول یریڈکٹیو اینالٹیکس کے استعمال سے مریضوں کی زندگیوں کی دیکھ بھال، ممکنہ پیچیدگیوں اور بروقت مداخلت کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔مصنوعی ذہانت ٹولز کے استعمال سے مریضوں کے ڈیٹا کے بڑے والیوم کا تجزیہ اور بیماریوں کی نشان دہی کر کے ذاتی نوعیت کے علاج کی منصوبہ بندی میں مدد اور رہنمائی بھی لی جا رہی ہے جبکہ اے آئی سے چلنے والے امییجنگ ٹولز ایکسرے ایم آر آئی اور سی ٹی اسیکینز میں بے ضابطگیوں کا پتہ لگانے میں بھی مدد دے رے ہیں۔

    آغا خان یونیورسٹی کے ڈائریکٹر، ٹیکنالوجی انوویشن سپورٹ سینٹر ڈاکٹر سلیم سیانی نے ایکسپریس ٹریبون کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ اے آئی انسانی ذہانت کی جگہ نہیں لے رہی بلکہ اس کی معاونت کررہی ہے اور یہ معاونت مصنوعی ذہانت شعبہ طب میں انقلاب برپا کرے گی۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے کینسر، امراض قلب سمیت دیگر پیچیدہ بیماریوں کی درست تشخیص ہوسکے گی جبکہ اس کے ذریعے ممکنہ وبا کا بھی پتہ لگایا جاسکے گا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس وقت آغا خان یونیورسٹی اسپتال نے شعبہ صحت کی بہتری کے لیے مصنوعی ذہانت کو ایک اہم ٹول کے طور پر استعمال کرنا شروع کردیا ہے، یہ ٹول مریضوں اور ان کی بیماریوں کا ڈیٹا جمع کرکے تجزیہ اور علاج کی منصوبہ بندی میں بھی مدد گار ثابت ہوگا اور اس کے علاوہ اہم انتظامی امور میں بھی مدد دے گا۔

    انہوں نے آغا خان اسپتال میں مریضوں اور علاج کے حوالے سے ایک اور سوال کے جواب میں بتایا کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے ریڈیولوجی ایکسرے، سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی کے ذریعے جسم میں کسی بھی قسم کے کینسر ٹیومر کی نشاندہی فوری کی جاسکے گی۔ اسی طرح اس ٹیکنالوجی کی مدد سے خون کے کیے جانے والے ٹیسٹوں کے ذریعے بیماریوں کی فوری نشاندہی میں مدد ملے گی۔

    واضح رہے کہ دنیا بھر میں اے آئی ٹیکنالوجی کے زریعے مختلف اداروں نے مختلف شعبوں میں کام شروع کردیا ہے لیکن پاکستان میں حکومتی سطح سمیت کسی بھی اداروں میں اس ٹیکنالوجی پر کوئئ کام یا اے آئی کے حوالے سے معلوماتی سلسلہ بھی شروع نہیں کیا جاسکا۔ڈاؤیونیورسٹی کے ترجمان کے مطابق یونیورسٹی میں اے آئی کے حوالے سے انسٹیٹیوٹ قائم کیا جارہا ہے۔ اس حوالے سے یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے نظام صحت تبدیل ہورہا ہے اور اس ٹیکنالوجی سے شعبہ طب میں مزید تبدیلی آئے گی۔

    حکومت سندھ کی ترجمان کا وزیر اعلیٰ کے خلاف ہرزہ سرائی پر ردعمل

    سندھ حکومت کا تین روزہ یوتھ کانفرنس کروانے کا اعلان

    سال 2025، قومی شناختی کارڈ اور بی-فارم کی قیمت برقرار

    منی لانڈرنگ کیس ، فریال تالپور سمیت 14ملزمان بے گناہ قرار

    بھارتی یوم جمہوریہ کیخلاف کشمیریوں کا یوم سیاہ اور احتجاج

  • اونٹنی کا دودھ صحت کیلئے کتنا مفید؟نئی تحقیق جاری

    اونٹنی کا دودھ صحت کیلئے کتنا مفید؟نئی تحقیق جاری

    آسٹریلیا: ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اونٹنی کے دودھ سے مدافعتی نظام کو بہت زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔

    باغی ٹی وی : آسٹریلیا کی ایڈتھ کوون یونیورسٹی کی محققین نے اس حوے سے ایک نئی تحقیق کی،تحقیق میں گائے اور اونٹنی کے دودھ کا گہرائی میں جاکر موازنہ کیا گیا،اس تحقیق کے نتائج جرنل فوڈ کیمسٹری میں شائع ہوئے۔

    تحقیق میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ونٹنی کے دودھ سے صحت کو چند متاثر کن فوائد حاصل ہوتے ہیں، خاص طور پر مدافعتی نظام کو بہت زیادہ فائدہ ہوتا ہے،تحقیق میں زیادہ توجہ ان پروٹینز پر مرکوز کی گئی جو مدافعتی افعال اور نظام ہاضمہ پر اثر انداز ہوتے ہیں اونٹنی کے دودھ میں ایسے مخصوص پروٹینز موجود ہوتے ہیں جو معدے کی صحت اور مدافعتی افعال کو مضبوط بنانے کے لیے بہت کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔

    نئی امریکی انتظامیہ کی طالبان رہنماؤں کے سروں کی قیمتیں مقرر کرنے کی دھمکی

    تحقیق میں بتایا گیا کہ گائے کے دودھ میں 851 جبکہ اونٹنی کے دودھ میں 1143 پروٹینز موجود ہوتے ہیں اونٹنی کے دودھ میں موجود پروٹینز مدافعتی صحت کو سپورٹ فراہم کرتے ہیں جبکہ یہ دودھ نقصان دہ بیکٹیریا سے لڑنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے جس سے مخصوص امراض سے تحفظ ملتا ہے لیکن نتائج کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

    پاکستان میں سائبر حملوں کے خدشے، نئی ایڈوائزری جاری

    تحقیق کے مطابق اونٹنی کے دودھ میں موجود اجزا معدے میں صحت کے لیے مفید ماحول کی تشکیل میں کردار ادا کرتے ہیں اور دل کی شریانوں کے امراض بشمول ہارٹ اٹیک کا خطرہ گھٹ جاتا ہے جن افراد کو گائے کے دودھ کے استعمال سے الرجی کا سامنا ہوتا ہے، اونٹنی کا دودھ ان کے لیے مفید ہے کیونکہ اس میں وہ پروٹین نہیں ہوتا جو الرجی ری ایکشن کو متحرک کرتا ہے اسی طرح اونٹنی کے دودھ میں لیکٹوز کی سطح گائے کے دودھ کے مقابلے میں کافی کم ہوتی ہے جس کے باعث بیشتر افراد کے لیے اسے ہضم کرنا زیادہ آسان ہوتا ہے۔

    دہشتگردی صرف پاکستان کی جنگ نہیں ،سب کی مشتر کہ لڑائی ہے،محسن نقوی

  • کراچی میں ایک بار پھر کورونا کیسز رپورٹ ہونا شروع

    کراچی میں ایک بار پھر کورونا کیسز رپورٹ ہونا شروع

    کراچی میں مختلف سانس کی وائرل بیماریاں تیزی سے پھیلنے لگی، نزلہ اور کھانسی کے 30 فیصد مریض کورونا وائرس میں مبتلا ہو رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی کو ماہر متعدی امراض ڈا اسپتال پروفیسر سعید خان نے بتایا کہ کراچی میں بڑی تعداد میں لوگ نزلہ، کھانسی اور بخار میں مبتلا ہو رہے ہیں جبکہ ٹیسٹ کروانے پر 25 سے 30 فیصد مریضوں میں کورونا مثبت آ رہا ہے۔پروفیسر سعید خان نے بتایا کہ 10 سے 12 فیصد مریضوں میں انفلوئنزا ایچ 1 این 1 جبکہ 5 سے 10 فیصد بچوں میں سانس کی نالی کے انفیکشن کی تصدیق ہو رہی ہے۔ان کے مطابق کورونا، انفلوئنزا ایچ 1 این 1 اور سردیوں کے دیگر وائرل انفیکشن کی علامات ملتی جلتی ہیں، اکثر مریض ٹیسٹ نہیں کرواتے جس کے باعث بیماریوں کی تصدیق نہیں ہوتی۔ماہر متعدی امراض کہتے ہیں کہ ان تمام وائرسز کی علامات آپس میں ملتی ہیں، کورونا وبا کی علامات میں ذائقہ اور خوشبو کا ختم ہونا بھی شامل ہیں، سردیوں میں یہ بیماریاں تیزی سے پھیلتی ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ وینٹیلیشن کا ناقص نظام وائرسز کے پھیلا ئوکی بڑی وجہ بنتا ہے لہذا شہری احتیاطی تدابیر لازمی اپنائیں، ماسک پہنیں، خود کو ڈھانپ کر رکھیں اور ہر سال انفلوئنزا کی ویکسین لازمی لگوائیں۔

    پاک بحریہ اور اطالوی بحریہ کی خلیج عمان میں مشترکہ مشق

    فلسطینی طلبا کی فیسیں معاف ،وظیفے دینے کا اعلان

    نائیجیریا میں آئل ٹینکر دھماکا، 60 افراد ہلاک

    اسرائیلی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کرنا چاہئے، حافظ نعیم الرحمان

  • چار اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

    چار اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

    اسلام آباد: ملک بھر کے چار اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے-

    باغی ٹی وی : لکی مروت کے ماحولیاتی نمونے پولیو پازیٹیو نکلے ہیں، ماحولیاتی نمونوں میں وائلڈ پولیو وائرس ون کی تصدیق ہوئی ہے، متاثرہ اضلاع سے پولیو ٹیسٹ کے لیے سیمپلنگ دسمبر 2024 میں ہوئی تھی، جس کے بعد سال 2024ء کے پولیو کیسز کی تعداد 73 ہوگئی، اسی طرح ٹنڈو الہ یار، خیرپور، ٹنڈو محمد خان کے سیوریج نمونے پہلی بار پولیو پازیٹیو نکلے ہیں۔

    واضح رہے کہ سال 2024 کے دوران ملک میں 73 پولیو کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں،بلوچستان سے 27، خیبر پختونخواہ 22، سندھ 23، پنجاب اور اسلام آباد میں ایک، ایک پولیو کیس رپورٹ ہوا ہے۔

    اس ملک کے ساتھ صرف علمائے کرام نے وفاداری کی ہے،مولانا فضل الرحمان

    خیال رہے کہ پولیو مفلوج کرنے والی بیماری ہے، جس کا کوئی علاج نہیں، پولیو کے قطروں کی متعدد خوراکیں اور 5 سال سے کم عمر کے تمام بچوں کے لیے معمول کے قطرے پلانے کے شیڈول کی تکمیل بچوں کو اس خوفناک بیماری کے خلاف اعلیٰ قوت مدافعت فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے۔

    موٹاپا جسمانی بیماریوں کی بڑی وجہ، پروفیسر الفرید ظفر

  • ملک میں پولیو کا ایک اور کیس سامنے آگیا,کیسز کی تعداد 72 تک پہنچ گئی

    ملک میں پولیو کا ایک اور کیس سامنے آگیا,کیسز کی تعداد 72 تک پہنچ گئی

    خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے پولیو کا ایک اور کیس سامنے آگیا-

    باغی ٹی وی: انسداد پولیو پروگرام کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ڈی آئی خان کی رہائشی بچی کے نمونے 31 دسمبر کو لے گئے جن کے ٹیسٹ کی رپورٹ آنے پر اُسے پولیو کی تصدیق ہوئی جس کے بعد سال 2024 میں رپورٹ ہونے والے پولیو کیسز کی تعداد 72 تک پہنچ گئی۔

    اعلامیے کے مطابق پولیو وائرس ٹائپ ون ڈی آئی خان کی رہائشی بچی میں پایا گیا اس کے بعد ڈی آئی خان میں گزشتہ سال کے دورا ن پولیو کیسز کی مجموعی تعداد 11 ہو گئی،پاکستان میں اب تک رپورٹ ہونے والے پولیو کیسز میں سے 27 بلوچستان، 22 خیبر پختونخوا، 21 سندھ، اور ایک ایک پنجاب اور اسلام آباد سے سامنے آئے ہیں۔

    اسرائیل نے یحیٰی سنوار کی لاش حماس کے حوالے کرنے سے انکار کردیا

    دوسری جانب رواں برس کی پہلی انسداد پولیو مہم ملک بھر میں 3 فروری سے شروع ہوگی اور 9 فروری 2025 تک جاری رہے گی، والدین کے لیے یقینی بنانا بہت ضروری ہے کہ وہ اپنے 5 سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو ویکسین لگوائیں۔

    واضح رہے کہ پولیو مفلوج کرنے والی بیماری ہے، جس کا کوئی علاج نہیں، پولیو کے قطروں کی متعدد خوراکیں اور 5 سال سے کم عمر کے تمام بچوں کے لیے معمول کے قطرے پلانے کے شیڈول کی تکمیل بچوں کو اس خوفناک بیماری کے خلاف اعلیٰ قوت مدافعت فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے۔

    انگلش کرکٹرنے پی ایس ایل کی خاطر ریٹائرمنٹ لے لی

  • چین : کورونا جیسا وائرس ’ایچ ایم پی وی‘ پھیلنے کی اطلاعات

    چین : کورونا جیسا وائرس ’ایچ ایم پی وی‘ پھیلنے کی اطلاعات

    چین میں کورونا کے 5 سال بعد کووڈ 19 جیسا نیا وائرس تیزی سے پھیلنے کی اطلاعات ہیں.جس کا نام ہیومن میٹا پینو وائرس (ایچ ایم پی وی) ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارےکی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ نئے وائرس سے متاثرہ لوگوں میں نزلہ اور کورونا جیسی علامات کی شکایات پائی گئی ہیں. ایچ ایم پی وی سمیت سانس کی بیماریوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔غیر ملکی میڈیا، سوشل میڈیا کی رپورٹس اور پوسٹس سے پتا چلتا ہے کہ وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے. کچھ نے دعویٰ کیا کہ مریضوں سے اسپتال بھرے پڑے ہیں. کئی لوگ جانیں کھو چکے ہیں۔چین میں آن لائن ویڈیوز میں مریضوں سے بھرے ہوئے اسپتالوں کو دکھایا گیا ہے.سوشل میڈیا صارفین انفلوئنزا اے، ایچ ایم پی وی، مائیکوپلازما نمونیا اور کووڈ 19 سمیت متعدد وائرسوں کی موجودگی کو اجاگر کر رہے ہیں۔چین میں ہنگامی حالت کے غیر مصدقہ دعوے بھی موجود ہیں۔ایکس پر سارس کوو-2 (کووڈ-19) ہینڈل کی پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کو انفلوئنزا اے، ایچ ایم پی وی، مائیکوپلازما نمونیا، اور کوویڈ-19 سمیت متعدد وائرسز میں اضافے کا سامنا ہے. بچوں کے اسپتال خاص طور پر نمونیا اور ’پھیپھڑوں‘ کی بیماری کے بڑھتے ہوئے مسائل کی وجہ سے تناؤ کا شکار ہیں۔چائنا ڈزیز کنٹرول اتھارٹی نے نامعلوم نسل کے نمونیا کے لیے پائلٹ مانیٹرنگ سسٹم کا اعلان کیا ہے. برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے گزشتہ ہفتے خبر دی تھی کہ موسم سرما کے دوران سانس کی بیماریوں میں اضافے کا خدشہ ہے. جس کی وجہ سے حکام نے نامعلوم جراثیموں سے نمٹنے کے لیے ’پروٹو کول‘ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ہیومن میٹا پینو وائرس ایک سانس کا وائرس ہے، جو بنیادی طور پر بچوں ، بزرگوں اور کمزور مدافعتی نظام والے افراد کو متاثر کرتا ہے۔یہ اکثر عام زکام یا فلو کی علامات ظاہر کرتا ہے، جیسے بخار ، کھانسی ، اور ناک بند ہونا، اس سے صحت کو سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ابتدائی طور پر اس وائرس سے متعلق زیادہ آگاہی نہیں ہے. تاہم چین میں عوام کو کچھ ہدایات دی گئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ صابن اور پانی سے ہاتھوں کو اچھی طرح دھوئیں، اکثر چھوئی جانے والی سطحوں کو جراثیم سے پاک رکھیں. متاثرہ افراد کے ساتھ قریبی رابطے سے گریز کریں۔ہجوم والی جگہوں پر خاص طور پر ماسک پہننے سے کسی حد تک احتیاط کی جاسکتی ہے۔نئی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے دستیاب ویکسین کے بارے میں اپ ڈیٹ رہیں، صحت مند غذا، قوت مدافعت کو مضبوط بنانے کے لیے وٹامنز اور اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور غذائیں شامل کریں۔تمباکو نوشی سے گریز کریں، کیوں کہ تمباکو نوشی نظام تنفس کو نقصان پہنچاتی ہے.جس سے انفیکشن کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔مناسب ہائیڈریشن مجموعی صحت اور بحالی کے لیے اہم ہے. ان وائرسوں کو سمجھنا اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنا خطرے کو نمایاں طور پر کم کرسکتا ہے۔

    صائم ایوب جنوبی افریقا کے خلاف دوسرے ٹیسٹ سے باہر

    کراچی :پولیس موبائل میں شہری اغوا ، 9 کروڑ روپے لوٹ لیے

    پاراچنار میں امن معاہدے کے باوجود مظاہرین کا دھرنا جاری

    اسلام آباد: تھانہ آئی 9 کے باہر دھماکے کے بعد راکٹ برآمد

  • کراچی میں سرد موسم کی شدت بڑھتے ہی خسرہ پھیلنے لگا

    کراچی میں سرد موسم کی شدت بڑھتے ہی خسرہ پھیلنے لگا

    شہر کراچی میں سرد موسم کی شدت بڑھتے ہی خسرہ نے بچوں کو لپیٹ میں لینا شروع کردیا.

    طبی ماہرین کے مطابق خسرہ کی علامات میں نزلہ، بخار، کھانسی، آنکھوں میں سرخی، اور جلد پر دانے نمودار ہونا شامل ہیں، جبکہ ویکسینیشن نہ ہونے کی صورت میں یہ بیماری جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔ڈاکٹرز نے خبردار کیا ہے کہ خسرہ ایک تیزی سے پھیلنے والی بیماری ہے جو ایک بچے سے دوسرے بچوں تک جلدی منتقل ہوتی ہے۔والدین کو چاہیے کہ 9 ماہ اور ڈیڑھ سال کی عمر میں بچوں کو خسرہ سے بچا کی ویکسین لازمی لگوائیں تاکہ اس خطرناک مرض سے محفوظ رہ سکیں۔متاثرہ بچے کو الگ تھلگ رکھنا اور وٹامن اے دینا بیماری کی شدت کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ماہرین صحت نے والدین پر زور دیا ہے کہ کسی بھی غیر معمولی علامت کی صورت میں فوری طور پر معالج سے رجوع کریں۔ماہر امراض اطفال ڈاکٹر لیاقت علی نے اس ضمن میںبتایا کہ موسم کی تبدیلی کے ساتھ بچوں میں وائرل بیماریاں بڑھ رہی ہیں، جن میں خسرہ بھی شامل ہے۔ یہ ویکسین کے ذریعے خسرہ سے بچا ممکن ہے، لیکن اگر علاج میں دیر ہو جائے تو یہ خطرناک ثابت ہوسکتی ہے،خسرہ کی ابتدائی علامات میں نزلہ، زکام، کھانسی، بخار اور آنکھوں کی سرخی شامل ہیں۔تین سے سات دن کے بعد بچے کے چہرے پر دانے ظاہر ہوتے ہیں جو آہستہ آہستہ جسم کے دیگر حصوں تک پھیلتے ہیں۔یہ بیماری تیزی سے پھیلتی ہے اور ایک بچے سے دوسرے تک منتقل ہو سکتی ہے۔اگر بچہ پیدائشی ٹیکہ جاٹ میں خسرہ کی ویکسین لگوا چکا ہے اور اسے وٹامن اے دیا گیا ہے تو پیچیدگیوں اور اموات کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ وٹامن اے کی ایک خوراک موت کے 50 فیصد امکانات کو کم کردیتی ہے۔ لیکن اگر بچہ غذائی قلت یا کمزور جسمانی حالت کا شکار ہو تو خسرہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے ویکسینیشن شیڈول کا خاص خیال رکھیں۔ حکومت سندھ کی جانب سے 9 ماہ اور ڈیڑھ سال کی عمر میں خسرہ سے بچا کی ویکسین مفت فراہم کی جاتی ہے۔ خسرہ کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر ماہر ڈاکٹر سے رجوع کریں اور متاثرہ بچے کو دوسرے بچوں سے الگ رکھیں تاکہ بیماری مزید نہ پھیلے۔انہوں نے کہا کہ خسرہ اپنا دورانیہ مکمل کر کے ختم ہو جاتی ہے، لیکن ویکسینیشن اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ یہ بیماری پیچیدگیوں جیسے نمونیا میں تبدیل نہ ہو۔

  • کافی اور چائے سر اور گردن کے کینسر سے بچاؤ میں مددگار

    کافی اور چائے سر اور گردن کے کینسر سے بچاؤ میں مددگار

    ایک نئی تحقیق کے مطابق کافی اور چائے کا استعمال سر اور گردن کے کینسر کے خطرات کو کم کر سکتا ہے، جس میں منہ اور گلے کے کینسر شامل ہیں۔

    سر اور گردن کا کینسر دنیا بھر میں ساتواں سب سے عام کینسر ہے، اور اس کی شرح کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں بڑھ رہی ہے۔یہ نتائج 14 مختلف تحقیقات کے ڈیٹا کے تجزیے پر مبنی ہیں، جن سے یہ ظاہر ہوا کہ غیر کافی پینے والوں کے مقابلے میں وہ افراد جو روزانہ چار یا اس سے زیادہ کپ کافی پیتے ہیں، ان میں سر اور گردن کے کینسر کا خطرہ 17 فیصد کم ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ منہ کے کینسر کا خطرہ 30 فیصد اور گلے کے کینسر کا خطرہ 22 فیصد کم کر دیتا ہے۔تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ اگر کوئی شخص روزانہ 3 سے 4 کپ کیفینیٹڈ کافی پیتا ہے تو اس سے ہائیپو فیرنجیل کینسر (گلے کے نیچے کا کینسر) کا خطرہ 41 فیصد کم ہوتا ہے۔ یہ تحقیق CANCER نامی تحقیقی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔

    تحقیق کی اہمیت اور نتائج:
    سینئر مصنف یوان چین ایملی لی، جو ہنٹس مین کینسر انسٹی ٹیوٹ اور یونیورسٹی آف یوٹاہ اسکول آف میڈیسن سے وابستہ ہیں، نے کہا کہ "اگرچہ اس سے قبل بھی کافی اور چائے کے استعمال اور کینسر کے خطرے میں کمی کے حوالے سے تحقیق کی جا چکی ہے، مگر اس نئی تحقیق میں یہ دکھایا گیا کہ مختلف قسم کے سر اور گردن کے کینسر کے لیے ان مشروبات کے اثرات مختلف ہو سکتے ہیں، اور یہ بھی کہ ڈی کیفینیٹڈ کافی نے بھی کچھ مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔”انہوں نے مزید کہا، "کافی اور چائے کی عادتیں کافی پیچیدہ ہیں، اور ان نتائج سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان مشروبات کے کینسر کے خطرات کو کم کرنے پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔”

    تحقیقی طریقہ کار:
    تحقیق میں 14 مختلف مطالعات کے ڈیٹا کو یکجا کیا گیا، جس میں 9,548 مریضوں کا ڈیٹا شامل تھا جنہیں سر اور گردن کا کینسر تھا۔ ان مریضوں کا موازنہ 15,783 افراد سے کیا گیا جو کینسر سے متاثر نہیں تھے۔ مطالعہ کے شرکاء نے اپنے کافی (کیفینیٹڈ اور ڈی کیفینیٹڈ)، اور چائے کے استعمال کے بارے میں سوالنامے بھرے۔

    اہم نتائج:
    ڈی کیفینیٹڈ کافی: یہ منہ کے کینسر کے خطرے کو 25 فیصد تک کم کر دیتی ہے۔
    چائے کا استعمال: یہ ہائیپو فیرنجیل کینسر کے خطرے کو 29 فیصد کم کرتا ہے۔
    چائے کے ایک کپ یا کم استعمال کا اثر: روزانہ ایک کپ یا اس سے کم چائے پینے سے سر اور گردن کے کینسر کا خطرہ 9 فیصد کم ہوتا ہے، اور ہائیپو فیرنجیل کینسر کا خطرہ 27 فیصد کم ہوتا ہے۔
    چائے کے زیادہ استعمال کا اثر: تاہم، اگر روزانہ ایک کپ سے زیادہ چائے پی جائے تو اس کا تعلق لیرن جیئل کینسر (گلے کا کینسر) کے خطرے میں 38 فیصد اضافے سے تھا۔

    اس تحقیق سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کافی اور چائے دونوں ہی سر اور گردن کے کینسر کے خطرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، اور ڈی کیفینیٹڈ کافی بھی کینسر کے بعض اقسام کے خطرات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ تاہم، اس بات کی ضرورت ہے کہ ان نتائج پر مزید تحقیق کی جائے تاکہ ان مشروبات کے کینسر کے خطرے پر اثرات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔

    شادی شدہ جوڑے کی خود بنائی گئی جسمانی تعلقات کی ویڈیو موبائل چوری ہونے پر وائرل

    یہ پہلا سیاستدان ہے جو امریکا کی منتیں کر رہا ہے کہ مجھے بچائیں،خواجہ آصف

  • خراٹوں کے علاج کی پہلی میڈیسن کی منظوری

    خراٹوں کے علاج کی پہلی میڈیسن کی منظوری

    امریکا میں خراٹوں کے علاج کی پہلی میڈیسن کی منظوری دے دی گئی-

    باغی ٹی وی :نیند کے دوران خراٹے لینا ایسا عمل ہے جس سے نہ صرف آس پاس کے افراد متاثر ہوتے ہیں بلکہ خراٹے لینے والے شخص کی نیند پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں،خراٹے لینے والے صرف 2 فیصد افراد کو کوئی سنگین پیچیدگی لاحق ہوتی ہے ورنہ 98 فیصد افراد میں عام وجہ ناک سے لے کر گردن کے نیچے تک کی جگہ میں کوئی رکاوٹ ہونا ہوتی ہے۔

    بہت زیادہ وزن، زیادہ تھکاوٹ، کسی بیماری جیسے بلڈ پریشر یا شوگر کی دوائیں لینا، اینٹی ڈپریسنٹس لینا، ناک کے مسائل جیسے ناک کی ہڈی یا گوشت بڑھا ہوا ہونا، ہڈی ٹیڑھی ہونا یا غدود ہونا خراٹوں کی وجوہات ہوسکتے ہیں،ماہرین کے مطابق خراٹے لینے سے نہ صرف آس پاس موجود افراد کی نیند خراب ہوتی ہے، بلکہ خود اس شخص کی نیند بھی متاثر ہوتی ہے، خراٹے لینے والا شخص گہری نیند نہیں سو پاتا، اور نیند پوری نہ ہونے سے نتیجتاً اگلے دن اس کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔

    جی ایچ کیو حملہ کیس، دو ملزمان اشتہاری قرار

    اکثر خراٹوں کی وجہ obstructive sleep apnea (او ایس اے) نامی عارضہ ہوتا ہےاو ایس اے کے شکار افراد کی سانس نیند کے دوران بار بار رکتی ہے جس سے خراٹوں کے ساتھ ساتھ متعدد طبی پیچیدگیوں کا خطرہ بھی بڑھتا ہے، اب خراٹوں کا شکار بنانے والے اس عارضے کا علاج کرنے والی پہلی دوا کی امریکا میں منظوری دی گئی ہے۔

    او ایس اے کے علاج کے لیے زیپ باؤنڈ نامی دوا کی منظوری یو ایس فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کی جانب سے دی گئی اس دوا کے کلینیکل ٹرائل میں دریافت کیا گیا تھا کہ زیپ باؤنڈ کے استعمال سے او ایس اے سے متاثر موٹاپے کے شکار افراد میں سانس رکنے کی شرح میں 63 فیصد تک کمی آتی ہے۔

    پی ایس ایل 10، مستفیض الرحمان نے رجسٹریشن کروا لی

    ایک سال تک جاری رہنے والا ٹرائل 2 مرحلوں میں ہوا تھاایک مرحلے میں ایسے افراد شامل تھے جن کو صرف زیپ باؤنڈ کا استعمال کرایا گیا اور دوا کے نتائج کا موازنہ placebo استعمال کرنے والے گروپ کے ساتھ کیا گیا،دوسرے مرحلے میں زیپ باؤنڈ کے ساتھ لوگوں کو پازیٹیو ائیرویز پریشر (پی اے پی) ڈیوائس کا استعمال کرایا گیا۔

    پی اے پی ڈیوائس کو ابھی او ایس اے کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اس گروپ کے نتائج کا موازنہ placebo استعمال کرنے والے افراد سے کیا گیا۔

    کرسمس کا تہوار محبت، اخوت اور امن کا پیغام دیتا ہے،سحر کامران

    ماہرین کے مطابق یہ او ایس اے کا علاج کرنے والی پہلی دوا ہے اس دوا کے استعمال سے جسمانی وزن میں کمی آتی ہے جس سے او ایس اے کے مسئلے پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے، ایف ڈی اے کے کی منظوری کے بعد ڈاکٹروں اور مریضوں کو موٹاپے اور او ایس اے جیسے دونوں مسائل کا علاج کرنے میں مدد ملے گی۔

    محققین کے مطابق اس دوا پر ہونے والی دیگر تحقیقی کام میں دریافت کیا گیا تھا کہ اس کے استعمال سے ہارٹ فیلیئر اور گردوں کے امراض کا پھیلاؤ بھی رک جاتا ہے او ایس اے اب بھی ایسا مرض ہے جس کی اکثر تشخیص نہیں ہوتی، حالانکہ اس کے نتیجے میں دل کی شریانوں کے امراض کا خطرہ بڑھتا ہے، ایسا ہی موٹاپے سے بھی ہوتا ہے تو دونوں کا علاج کرنا صحت کے لیے بہترین ثابت ہوگا۔

    وزیراعظم کی ہدایت،پاراچنار میں امدادی سرگرمیوں کیلئے ہیلی کاپٹر مختص

  • پولیو وائرس کے مزید 3 کیسز کی تصدیق

    پولیو وائرس کے مزید 3 کیسز کی تصدیق

    کراچی: پاکستان میں پولیو وائرس کے مزید 3 کیسز کی تصدیق ہوگئی۔

    باغی ٹی وی: نیشنل ای او سی کے مطابق پولیو کے نئے کیسز ڈیرہ اسماعیل خان، کراچی کے ضلع کیماڑی اور کشمور سے رپورٹ ہوئے، ڈیرہ اسماعیل خان سے اب تک 8 پولیو کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں، کراچی کے ضلع کیماڑی سے رواں سال اب تک 3 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ کشمور میں رواں سال پولیو کا یہ پہلا کیس سامنے آیا ہے۔

    نیشنل ای او سی کے مطابق رواں سال ملک میں پولیوکیسز کی تعداد 59ہوگئی ہےرواں سال بلوچستان سے 26 اورخیبرپختونخوا سے 16 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ رواں سال سندھ سے 15 اور پنجاب اور اسلام آباد سےایک ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔