Baaghi TV

Category: صحت

  • چین : کورونا جیسا وائرس ’ایچ ایم پی وی‘ پھیلنے کی اطلاعات

    چین : کورونا جیسا وائرس ’ایچ ایم پی وی‘ پھیلنے کی اطلاعات

    چین میں کورونا کے 5 سال بعد کووڈ 19 جیسا نیا وائرس تیزی سے پھیلنے کی اطلاعات ہیں.جس کا نام ہیومن میٹا پینو وائرس (ایچ ایم پی وی) ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارےکی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ نئے وائرس سے متاثرہ لوگوں میں نزلہ اور کورونا جیسی علامات کی شکایات پائی گئی ہیں. ایچ ایم پی وی سمیت سانس کی بیماریوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔غیر ملکی میڈیا، سوشل میڈیا کی رپورٹس اور پوسٹس سے پتا چلتا ہے کہ وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے. کچھ نے دعویٰ کیا کہ مریضوں سے اسپتال بھرے پڑے ہیں. کئی لوگ جانیں کھو چکے ہیں۔چین میں آن لائن ویڈیوز میں مریضوں سے بھرے ہوئے اسپتالوں کو دکھایا گیا ہے.سوشل میڈیا صارفین انفلوئنزا اے، ایچ ایم پی وی، مائیکوپلازما نمونیا اور کووڈ 19 سمیت متعدد وائرسوں کی موجودگی کو اجاگر کر رہے ہیں۔چین میں ہنگامی حالت کے غیر مصدقہ دعوے بھی موجود ہیں۔ایکس پر سارس کوو-2 (کووڈ-19) ہینڈل کی پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کو انفلوئنزا اے، ایچ ایم پی وی، مائیکوپلازما نمونیا، اور کوویڈ-19 سمیت متعدد وائرسز میں اضافے کا سامنا ہے. بچوں کے اسپتال خاص طور پر نمونیا اور ’پھیپھڑوں‘ کی بیماری کے بڑھتے ہوئے مسائل کی وجہ سے تناؤ کا شکار ہیں۔چائنا ڈزیز کنٹرول اتھارٹی نے نامعلوم نسل کے نمونیا کے لیے پائلٹ مانیٹرنگ سسٹم کا اعلان کیا ہے. برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے گزشتہ ہفتے خبر دی تھی کہ موسم سرما کے دوران سانس کی بیماریوں میں اضافے کا خدشہ ہے. جس کی وجہ سے حکام نے نامعلوم جراثیموں سے نمٹنے کے لیے ’پروٹو کول‘ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ہیومن میٹا پینو وائرس ایک سانس کا وائرس ہے، جو بنیادی طور پر بچوں ، بزرگوں اور کمزور مدافعتی نظام والے افراد کو متاثر کرتا ہے۔یہ اکثر عام زکام یا فلو کی علامات ظاہر کرتا ہے، جیسے بخار ، کھانسی ، اور ناک بند ہونا، اس سے صحت کو سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ابتدائی طور پر اس وائرس سے متعلق زیادہ آگاہی نہیں ہے. تاہم چین میں عوام کو کچھ ہدایات دی گئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ صابن اور پانی سے ہاتھوں کو اچھی طرح دھوئیں، اکثر چھوئی جانے والی سطحوں کو جراثیم سے پاک رکھیں. متاثرہ افراد کے ساتھ قریبی رابطے سے گریز کریں۔ہجوم والی جگہوں پر خاص طور پر ماسک پہننے سے کسی حد تک احتیاط کی جاسکتی ہے۔نئی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے دستیاب ویکسین کے بارے میں اپ ڈیٹ رہیں، صحت مند غذا، قوت مدافعت کو مضبوط بنانے کے لیے وٹامنز اور اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور غذائیں شامل کریں۔تمباکو نوشی سے گریز کریں، کیوں کہ تمباکو نوشی نظام تنفس کو نقصان پہنچاتی ہے.جس سے انفیکشن کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔مناسب ہائیڈریشن مجموعی صحت اور بحالی کے لیے اہم ہے. ان وائرسوں کو سمجھنا اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنا خطرے کو نمایاں طور پر کم کرسکتا ہے۔

    صائم ایوب جنوبی افریقا کے خلاف دوسرے ٹیسٹ سے باہر

    کراچی :پولیس موبائل میں شہری اغوا ، 9 کروڑ روپے لوٹ لیے

    پاراچنار میں امن معاہدے کے باوجود مظاہرین کا دھرنا جاری

    اسلام آباد: تھانہ آئی 9 کے باہر دھماکے کے بعد راکٹ برآمد

  • کراچی میں سرد موسم کی شدت بڑھتے ہی خسرہ پھیلنے لگا

    کراچی میں سرد موسم کی شدت بڑھتے ہی خسرہ پھیلنے لگا

    شہر کراچی میں سرد موسم کی شدت بڑھتے ہی خسرہ نے بچوں کو لپیٹ میں لینا شروع کردیا.

    طبی ماہرین کے مطابق خسرہ کی علامات میں نزلہ، بخار، کھانسی، آنکھوں میں سرخی، اور جلد پر دانے نمودار ہونا شامل ہیں، جبکہ ویکسینیشن نہ ہونے کی صورت میں یہ بیماری جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔ڈاکٹرز نے خبردار کیا ہے کہ خسرہ ایک تیزی سے پھیلنے والی بیماری ہے جو ایک بچے سے دوسرے بچوں تک جلدی منتقل ہوتی ہے۔والدین کو چاہیے کہ 9 ماہ اور ڈیڑھ سال کی عمر میں بچوں کو خسرہ سے بچا کی ویکسین لازمی لگوائیں تاکہ اس خطرناک مرض سے محفوظ رہ سکیں۔متاثرہ بچے کو الگ تھلگ رکھنا اور وٹامن اے دینا بیماری کی شدت کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ماہرین صحت نے والدین پر زور دیا ہے کہ کسی بھی غیر معمولی علامت کی صورت میں فوری طور پر معالج سے رجوع کریں۔ماہر امراض اطفال ڈاکٹر لیاقت علی نے اس ضمن میںبتایا کہ موسم کی تبدیلی کے ساتھ بچوں میں وائرل بیماریاں بڑھ رہی ہیں، جن میں خسرہ بھی شامل ہے۔ یہ ویکسین کے ذریعے خسرہ سے بچا ممکن ہے، لیکن اگر علاج میں دیر ہو جائے تو یہ خطرناک ثابت ہوسکتی ہے،خسرہ کی ابتدائی علامات میں نزلہ، زکام، کھانسی، بخار اور آنکھوں کی سرخی شامل ہیں۔تین سے سات دن کے بعد بچے کے چہرے پر دانے ظاہر ہوتے ہیں جو آہستہ آہستہ جسم کے دیگر حصوں تک پھیلتے ہیں۔یہ بیماری تیزی سے پھیلتی ہے اور ایک بچے سے دوسرے تک منتقل ہو سکتی ہے۔اگر بچہ پیدائشی ٹیکہ جاٹ میں خسرہ کی ویکسین لگوا چکا ہے اور اسے وٹامن اے دیا گیا ہے تو پیچیدگیوں اور اموات کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ وٹامن اے کی ایک خوراک موت کے 50 فیصد امکانات کو کم کردیتی ہے۔ لیکن اگر بچہ غذائی قلت یا کمزور جسمانی حالت کا شکار ہو تو خسرہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے ویکسینیشن شیڈول کا خاص خیال رکھیں۔ حکومت سندھ کی جانب سے 9 ماہ اور ڈیڑھ سال کی عمر میں خسرہ سے بچا کی ویکسین مفت فراہم کی جاتی ہے۔ خسرہ کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر ماہر ڈاکٹر سے رجوع کریں اور متاثرہ بچے کو دوسرے بچوں سے الگ رکھیں تاکہ بیماری مزید نہ پھیلے۔انہوں نے کہا کہ خسرہ اپنا دورانیہ مکمل کر کے ختم ہو جاتی ہے، لیکن ویکسینیشن اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ یہ بیماری پیچیدگیوں جیسے نمونیا میں تبدیل نہ ہو۔

  • کافی اور چائے سر اور گردن کے کینسر سے بچاؤ میں مددگار

    کافی اور چائے سر اور گردن کے کینسر سے بچاؤ میں مددگار

    ایک نئی تحقیق کے مطابق کافی اور چائے کا استعمال سر اور گردن کے کینسر کے خطرات کو کم کر سکتا ہے، جس میں منہ اور گلے کے کینسر شامل ہیں۔

    سر اور گردن کا کینسر دنیا بھر میں ساتواں سب سے عام کینسر ہے، اور اس کی شرح کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں بڑھ رہی ہے۔یہ نتائج 14 مختلف تحقیقات کے ڈیٹا کے تجزیے پر مبنی ہیں، جن سے یہ ظاہر ہوا کہ غیر کافی پینے والوں کے مقابلے میں وہ افراد جو روزانہ چار یا اس سے زیادہ کپ کافی پیتے ہیں، ان میں سر اور گردن کے کینسر کا خطرہ 17 فیصد کم ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ منہ کے کینسر کا خطرہ 30 فیصد اور گلے کے کینسر کا خطرہ 22 فیصد کم کر دیتا ہے۔تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ اگر کوئی شخص روزانہ 3 سے 4 کپ کیفینیٹڈ کافی پیتا ہے تو اس سے ہائیپو فیرنجیل کینسر (گلے کے نیچے کا کینسر) کا خطرہ 41 فیصد کم ہوتا ہے۔ یہ تحقیق CANCER نامی تحقیقی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔

    تحقیق کی اہمیت اور نتائج:
    سینئر مصنف یوان چین ایملی لی، جو ہنٹس مین کینسر انسٹی ٹیوٹ اور یونیورسٹی آف یوٹاہ اسکول آف میڈیسن سے وابستہ ہیں، نے کہا کہ "اگرچہ اس سے قبل بھی کافی اور چائے کے استعمال اور کینسر کے خطرے میں کمی کے حوالے سے تحقیق کی جا چکی ہے، مگر اس نئی تحقیق میں یہ دکھایا گیا کہ مختلف قسم کے سر اور گردن کے کینسر کے لیے ان مشروبات کے اثرات مختلف ہو سکتے ہیں، اور یہ بھی کہ ڈی کیفینیٹڈ کافی نے بھی کچھ مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔”انہوں نے مزید کہا، "کافی اور چائے کی عادتیں کافی پیچیدہ ہیں، اور ان نتائج سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان مشروبات کے کینسر کے خطرات کو کم کرنے پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔”

    تحقیقی طریقہ کار:
    تحقیق میں 14 مختلف مطالعات کے ڈیٹا کو یکجا کیا گیا، جس میں 9,548 مریضوں کا ڈیٹا شامل تھا جنہیں سر اور گردن کا کینسر تھا۔ ان مریضوں کا موازنہ 15,783 افراد سے کیا گیا جو کینسر سے متاثر نہیں تھے۔ مطالعہ کے شرکاء نے اپنے کافی (کیفینیٹڈ اور ڈی کیفینیٹڈ)، اور چائے کے استعمال کے بارے میں سوالنامے بھرے۔

    اہم نتائج:
    ڈی کیفینیٹڈ کافی: یہ منہ کے کینسر کے خطرے کو 25 فیصد تک کم کر دیتی ہے۔
    چائے کا استعمال: یہ ہائیپو فیرنجیل کینسر کے خطرے کو 29 فیصد کم کرتا ہے۔
    چائے کے ایک کپ یا کم استعمال کا اثر: روزانہ ایک کپ یا اس سے کم چائے پینے سے سر اور گردن کے کینسر کا خطرہ 9 فیصد کم ہوتا ہے، اور ہائیپو فیرنجیل کینسر کا خطرہ 27 فیصد کم ہوتا ہے۔
    چائے کے زیادہ استعمال کا اثر: تاہم، اگر روزانہ ایک کپ سے زیادہ چائے پی جائے تو اس کا تعلق لیرن جیئل کینسر (گلے کا کینسر) کے خطرے میں 38 فیصد اضافے سے تھا۔

    اس تحقیق سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کافی اور چائے دونوں ہی سر اور گردن کے کینسر کے خطرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، اور ڈی کیفینیٹڈ کافی بھی کینسر کے بعض اقسام کے خطرات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ تاہم، اس بات کی ضرورت ہے کہ ان نتائج پر مزید تحقیق کی جائے تاکہ ان مشروبات کے کینسر کے خطرے پر اثرات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔

    شادی شدہ جوڑے کی خود بنائی گئی جسمانی تعلقات کی ویڈیو موبائل چوری ہونے پر وائرل

    یہ پہلا سیاستدان ہے جو امریکا کی منتیں کر رہا ہے کہ مجھے بچائیں،خواجہ آصف

  • خراٹوں کے علاج کی پہلی میڈیسن کی منظوری

    خراٹوں کے علاج کی پہلی میڈیسن کی منظوری

    امریکا میں خراٹوں کے علاج کی پہلی میڈیسن کی منظوری دے دی گئی-

    باغی ٹی وی :نیند کے دوران خراٹے لینا ایسا عمل ہے جس سے نہ صرف آس پاس کے افراد متاثر ہوتے ہیں بلکہ خراٹے لینے والے شخص کی نیند پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں،خراٹے لینے والے صرف 2 فیصد افراد کو کوئی سنگین پیچیدگی لاحق ہوتی ہے ورنہ 98 فیصد افراد میں عام وجہ ناک سے لے کر گردن کے نیچے تک کی جگہ میں کوئی رکاوٹ ہونا ہوتی ہے۔

    بہت زیادہ وزن، زیادہ تھکاوٹ، کسی بیماری جیسے بلڈ پریشر یا شوگر کی دوائیں لینا، اینٹی ڈپریسنٹس لینا، ناک کے مسائل جیسے ناک کی ہڈی یا گوشت بڑھا ہوا ہونا، ہڈی ٹیڑھی ہونا یا غدود ہونا خراٹوں کی وجوہات ہوسکتے ہیں،ماہرین کے مطابق خراٹے لینے سے نہ صرف آس پاس موجود افراد کی نیند خراب ہوتی ہے، بلکہ خود اس شخص کی نیند بھی متاثر ہوتی ہے، خراٹے لینے والا شخص گہری نیند نہیں سو پاتا، اور نیند پوری نہ ہونے سے نتیجتاً اگلے دن اس کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔

    جی ایچ کیو حملہ کیس، دو ملزمان اشتہاری قرار

    اکثر خراٹوں کی وجہ obstructive sleep apnea (او ایس اے) نامی عارضہ ہوتا ہےاو ایس اے کے شکار افراد کی سانس نیند کے دوران بار بار رکتی ہے جس سے خراٹوں کے ساتھ ساتھ متعدد طبی پیچیدگیوں کا خطرہ بھی بڑھتا ہے، اب خراٹوں کا شکار بنانے والے اس عارضے کا علاج کرنے والی پہلی دوا کی امریکا میں منظوری دی گئی ہے۔

    او ایس اے کے علاج کے لیے زیپ باؤنڈ نامی دوا کی منظوری یو ایس فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کی جانب سے دی گئی اس دوا کے کلینیکل ٹرائل میں دریافت کیا گیا تھا کہ زیپ باؤنڈ کے استعمال سے او ایس اے سے متاثر موٹاپے کے شکار افراد میں سانس رکنے کی شرح میں 63 فیصد تک کمی آتی ہے۔

    پی ایس ایل 10، مستفیض الرحمان نے رجسٹریشن کروا لی

    ایک سال تک جاری رہنے والا ٹرائل 2 مرحلوں میں ہوا تھاایک مرحلے میں ایسے افراد شامل تھے جن کو صرف زیپ باؤنڈ کا استعمال کرایا گیا اور دوا کے نتائج کا موازنہ placebo استعمال کرنے والے گروپ کے ساتھ کیا گیا،دوسرے مرحلے میں زیپ باؤنڈ کے ساتھ لوگوں کو پازیٹیو ائیرویز پریشر (پی اے پی) ڈیوائس کا استعمال کرایا گیا۔

    پی اے پی ڈیوائس کو ابھی او ایس اے کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اس گروپ کے نتائج کا موازنہ placebo استعمال کرنے والے افراد سے کیا گیا۔

    کرسمس کا تہوار محبت، اخوت اور امن کا پیغام دیتا ہے،سحر کامران

    ماہرین کے مطابق یہ او ایس اے کا علاج کرنے والی پہلی دوا ہے اس دوا کے استعمال سے جسمانی وزن میں کمی آتی ہے جس سے او ایس اے کے مسئلے پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے، ایف ڈی اے کے کی منظوری کے بعد ڈاکٹروں اور مریضوں کو موٹاپے اور او ایس اے جیسے دونوں مسائل کا علاج کرنے میں مدد ملے گی۔

    محققین کے مطابق اس دوا پر ہونے والی دیگر تحقیقی کام میں دریافت کیا گیا تھا کہ اس کے استعمال سے ہارٹ فیلیئر اور گردوں کے امراض کا پھیلاؤ بھی رک جاتا ہے او ایس اے اب بھی ایسا مرض ہے جس کی اکثر تشخیص نہیں ہوتی، حالانکہ اس کے نتیجے میں دل کی شریانوں کے امراض کا خطرہ بڑھتا ہے، ایسا ہی موٹاپے سے بھی ہوتا ہے تو دونوں کا علاج کرنا صحت کے لیے بہترین ثابت ہوگا۔

    وزیراعظم کی ہدایت،پاراچنار میں امدادی سرگرمیوں کیلئے ہیلی کاپٹر مختص

  • پولیو وائرس کے مزید 3 کیسز کی تصدیق

    پولیو وائرس کے مزید 3 کیسز کی تصدیق

    کراچی: پاکستان میں پولیو وائرس کے مزید 3 کیسز کی تصدیق ہوگئی۔

    باغی ٹی وی: نیشنل ای او سی کے مطابق پولیو کے نئے کیسز ڈیرہ اسماعیل خان، کراچی کے ضلع کیماڑی اور کشمور سے رپورٹ ہوئے، ڈیرہ اسماعیل خان سے اب تک 8 پولیو کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں، کراچی کے ضلع کیماڑی سے رواں سال اب تک 3 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ کشمور میں رواں سال پولیو کا یہ پہلا کیس سامنے آیا ہے۔

    نیشنل ای او سی کے مطابق رواں سال ملک میں پولیوکیسز کی تعداد 59ہوگئی ہےرواں سال بلوچستان سے 26 اورخیبرپختونخوا سے 16 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ رواں سال سندھ سے 15 اور پنجاب اور اسلام آباد سےایک ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔

  • بھارت میں منکی پاکس وائرس کی تشخیص ،علاج کی   نئی تکنیک دریافت

    بھارت میں منکی پاکس وائرس کی تشخیص ،علاج کی نئی تکنیک دریافت

    بھارتی سائنسدانوں نے منکی پاکس وائرس (MPV)، جو حال ہی میں ایمپاکس کے نام سے جانا جاتا ہے، کی تشخیص اور علاج کے لیے ایک نیا طریقہ دریافت کیا ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یہ تحقیق اس وائرس کی وائرولوجی کو سمجھنے اور اس کی تشخیص و علاج کے لیے مؤثر حکمت عملی تیار کرنے کے لیے کی گئی ہے۔گزشتہ تین سالوں میں ایمپاکس وائرس دو بار بین الاقوامی صحت ایمرجنسی قرار دیا جا چکا ہے۔ اس وائرس کے پھیلاؤ کی غیر متوقع نوعیت، منتقلی کے طریقوں اور علامات کی پیچیدگی کے باعث اس کے بارے میں مزید تحقیق ضروری ہے۔ایمپاکس ایک ڈبل اسٹرینڈ ڈی این اے (dsDNA) وائرس ہے، جس کی تشخیص کے لیے پولیمریز چین ری ایکشن (PCR) عام طور پر استعمال کی جاتی ہے۔ تاہم، روایتی طریقے بعض اوقات غیر مخصوص نتائج دیتے ہیں، جو تشخیصی عمل میں مشکلات پیدا کرتے ہیں۔

    نئی تکنیک: جی-کوآڈرپلکس (GQ)

    سائنسدانوں نے ایمپاکس وائرس کے جینوم میں ایک غیر روایتی ڈی این اے ساخت، جی-کوآڈرپلکس (GQ)، کی شناخت کی ہے۔ یہ ساخت گوانین سے بھرپور سیکوینسز پر مبنی ہوتی ہے، جو ہائیڈروجن بانڈنگ کے ذریعے منفرد جی-ٹیٹراڈز بناتی ہیں۔ جی-کوآڈرپلکس کو نشانہ بنا کر ایک مخصوص فلوروسینٹ پروب تیار کی گئی ہے جو وائرس کی درست تشخیص میں مدد دیتی ہے۔

    تحقیق کے نتائج

    سائنسدانوں نے ایمپاکس وائرس کے جینوم میں چار مخصوص جی-کوآڈرپلکس سیکوینسز کی نشاندہی کی ہے، جو دیگر وائرسز اور انسانی جینوم میں موجود نہیں ہیں۔پروب، جسے BBJL کہا جاتا ہے، ان جی-کوآڈرپلکس سیکوینسز کے ساتھ منسلک ہو کر فلوروسینٹ سگنل کو 250 گنا بڑھا دیتا ہے۔یہ تکنیک SARS-CoV-2 وائرس کی تشخیص کے لیے استعمال ہونے والے پلیٹ فارم کی توسیع ہے۔

    طبی اثرات

    یہ نئی تحقیق نہ صرف ایمپاکس وائرس کی بہتر تشخیص کے لیے مددگار ہے بلکہ اس کے ذریعے وائرس کے علاج کے لیے نئی راہیں بھی کھل سکتی ہیں۔ جی-کوآڈرپلکس جیسے غیر روایتی ڈی این اے اسٹرکچرز کے استعمال سے ایسی تکنیکیں تیار کی جا سکتی ہیں جو موجودہ تشخیصی مسائل جیسے کہ غیر مخصوص نتائج کو ختم کر سکیں۔بھارتی سائنسدانوں کی یہ کامیابی عالمی سطح پر وائرولوجی کے میدان میں ایک اہم پیش رفت ہے اور اس سے ایمپاکس وائرس کی روک تھام اور علاج کے لیے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔

    گنڈا پور کا قافلہ صوابی سے روانہ، بشری بی بی ہمراہ

    زمبابوے کی پاکستان کو 80 رنز سےشکست

    کراچی سےجانے والے پی ٹی آئی کارواں کا سکھرمیں دھرنا

  • جعفرآباد سے پولیو کیس کی تصدیق،مجموعی کیسز کی تعداد 49 ہوگئی

    جعفرآباد سے پولیو کیس کی تصدیق،مجموعی کیسز کی تعداد 49 ہوگئی

    جعفر آباد: بلوچستان کے ضلع جعفرآباد سے پولیو کیس کی تصدیق ہوئی ہے-

    باغی ٹی وی: اسلام آباد نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ میں پولیو کے خاتمے کے لیے ریجنل ریفرنس لیبارٹری کی جانب سے پاکستان سے ایک اور وائلڈ پولیووائرس (WPV1) کیس کی تصدیق کی گئی ہے،اس طرح رواں سال ملک میں مجموعی کیسز کی تعداد 49 ہوگئی ہے۔

    محکمہ صحت کے مطابق جمع کردہ نمونوں سے الگ تھلگ وائرس کی جینیاتی ترتیب بتاتی ہے کہ یہ اپریل 2024 میں پشین میں پائے جانے والے WPV1 سے جینیاتی طور پر منسلک ہے، پولیو وائرس کی وسیع گردش کی نشاندہی کرتا ہے،رواں سال جعفرآباد سے پولیو کا یہ پہلا کیس ہے، نئے پولیو کیس کی سرحد بلوچستان کے نصیر آباد اور جھل مگسی اضلاع اور سندھ کے جیکب آباد اور قمبر اضلاع سے ملتی ہے۔

    محکمہ صحت کے مطابق بلوچستان اس سال سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے جس میں 24 کیس رپورٹ ہوئے ہیں،حالیہ مہینوں میں سیوریج کے نمونوں یا انسانی کیسز میں ڈبلیو پی وی 1 رپورٹ ہوئے ہیں، رواں سال صوبہ سندھ سے 13، کے پی سے 10 اور پنجاب اور اسلام آباد سے ایک ایک کیس رپورٹ ہوئے ہیں، پولیو کا کوئی علاج نہیں ہے، زبانی پولیو ویکسین بہترین تحفظ فراہم کرتی ہے۔

  • کراچی میں ملیریا اور ڈینگی شدت اختیار کر گئے

    کراچی میں ملیریا اور ڈینگی شدت اختیار کر گئے

    کراچی میں وائرل انفیکشنز میں تیزی جبکہ ملیریا اور ڈینگی کے کیسز شدت اختیار کر گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق موسم کے بدلتے ہی کراچی میں ایک بار پھر وائرل انفیکشنز تیزی سے پھیلنے لگے ہیں۔طبی ماہرین نے شہر میں ملیریا اور ڈینگی کے کیسز میں شدت آنے کے بعد اسپتالوں سمیت دیگر مقامات پر اسپرے مہم کا مطالبہ بھی کیا ہے۔مختلف اسپتالوں میں بخار اور وائرل انفیکشنز کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔شہر میں چکن گونیا اور اس کی علامات والے بخار کے کیسز بھی کئی دنوں سے سامنے آرہے ہیں۔دوسری جانب شہر کے متعدد علاقوں میں کسی قسم کا کوئی اسپرے نہیں کیا گیا ہے۔علاوہ ازیں ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کے باعث اٹھنے والی گرد و غبار کی وجہ سے بھی شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے اور اس کی وجہ سے بھی کھانسی اور نزلے کی شکایات سامنے آرہی ہیں۔

    اسسٹنٹ کمشنر ہاضم بھنگوار کی تبدیلی کا نوٹیفیکشن معطل

    فیصلہ عدالتوں کے بجائے سیاسی میدان میں ہونا چاہیے، مرتضی وہاب

    کراچی میں دفاعی نمائش آئیڈیاز کی تیاریاں عروج پرپہنچ گئیں

  • برطانیہ میں نئے منکی پاکس وائرس کے مزید دو کیسز کی تصدیق

    برطانیہ میں نئے منکی پاکس وائرس کے مزید دو کیسز کی تصدیق

    لندن:برطانیہ میں نئے منکی پاکس وائرس کے دو اضافی کیسز سامنے آگئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق قومی صحت کے حکام نے کہا ہے کہ عوام کے سامنے پہلا کیس سامنے آنے کے ایک ہفتے سے بھی کم وقت کے بعد منکی پاکس کے دو کیسز مزید سامنے آئی ہیں،یہ دو نئے کیسز پہلے کیس کے گھریلو رابطوں میں سے ہیں، پہلا کیس ایک نامعلوم شخص کا تھا جس نے حال ہی میں افریقی ممالک کا سفر کیا تھا جہاں یہ وائرس وبا کی صورت اختیار کرچکا ہے۔

    برطانیہ کی ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی نے کہا کہ دو نئے مریضوں کو لندن میں گائے اور سینٹ تھامس نیشنل ہیلتھ سروس فاؤنڈیشن ٹرسٹ میں خصوصی نگہداشت میں رکھا ہے عوام کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ابھی بھی عام آبادی کیلئے خطرہ کم ہے۔

    قوم اپنے شہداء کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی.وزیراعظم

    مزید برآں ہم شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں کہ کیسز کے تمام رابطوں کی نشاندہی کی جائے اور مزید پھیلنے کے خطرے کو کم کرنے کے لیے متعلقہ لوگوں سے رابطہ کیا جائے۔

    میڈیا لوگوں میں محتسب کے دفاتر بارے آگاہی پیدا کرے،قائمقام صدر

  • اسموگ کے باعث گرین لاک ڈاؤن:  خصوصی بچوں کی آن لائن اسکول کلاسز کی  ہدایت

    اسموگ کے باعث گرین لاک ڈاؤن: خصوصی بچوں کی آن لائن اسکول کلاسز کی ہدایت

    لاہور: ادارہ تحفظ ماحولیات نے اسموگ بڑھنے کے باعث الرٹ جاری کرتے ہوئے ،اسموگ کے باعث خصوصی بچوں کواسکول آنےسے روک دیاگیا ہے –

    باغی ٹی وی : ڈی جی ادارہ تحفظ ماحولیات عمران شیخ کے مطابق خصوصی تعلیم کے تمام اسکولوں کو آن لائن کلاسزکے انتظامات کی ہدایت کی گئی ہے،اسکول بندش کا اقدام سانس، الرجی اور دل کے مریض بچوں کی صحت کے لیےکیا گیا جب کہ گرین لاک ڈاؤن کے تحت اسٹیک ہولڈرزکے اشتراک سے ایس اوپیزپرعمل جاری ہے-

    انہوں نے کہا کہ گرین لاک ڈاؤن ایریا میں گزشتہ شب اسموگ ایس اوپیزکی خلاف ورزی پر 2 باربی کیو ریسٹورینٹ سیل کردیئے، پنجاب میں 9 بھٹے اور4 انڈسٹریل یونٹس گرادیئے گئے ہیں جب کہ گرین لاک ڈاؤن ایریا میں تعمیرات پر پابندی ہے اور دفاتر کے ڈیزل جنریٹرز کی انسپیکشن آج سے ہوگی۔

    سلمان خان کو قتل کی دھمکی اورتاوان مانگنے والا ایک اور ملزم گرفتار

    دوسری جانب وزیر علیٰ پنجاب مریم نواز میں لاہور میں تقریب سے خطاب میں کہا ہے آج ہمیں اسموگ کے چیلنج کا سامنا ہے، اسموگ کے باعث بہت سی بیماریاں پھیلتی ہیں، فصلوں کی باقیات کا جلانا اسموگ میں اضافے کا بہت بڑا سبب ہے، اسموگ کو ختم کرنے میں بہت عرصہ لگ جائے گا۔

    جبکہ وزیر ماحولیات پنجاب مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر اسموگ ایس اوپیزپر مکمل عملدرآمدکو یقینی بنایاجا رہا ہے، فصلوں کی باقیات جلانے والوں کی فوری گرفتاری بھی یقینی بنائی جارہی ہے اسموگ جان لیوا آفت ہے لہٰذا عوام اسموگ ایس اوپیز کی خلاف ورزی کی فوری رپورٹ کریں۔

    ہمیں دشمنوں کی ضرورت نہیں، ہم خود ہی بہت ہیں،وسیم اکرم نے ایسا کیوں کہا؟