Baaghi TV

Category: صحت

  • ڈپریشن  کا علاج اب مشروم کے ذریعے کیا جا سکے گا

    ڈپریشن کا علاج اب مشروم کے ذریعے کیا جا سکے گا

    ماہرین نے اپنی نئی تحقیق میں ڈپریشن کے مریضوں کے لیے مشروم کو کو علاج قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی : ڈپریشن کا علاج اب مشروم کے ذریعے کیا جا سکے گا،برطانوی ماہرین کے مطابق میجک مشرومز میں موجود سائلوسائبن ڈپریشن کو دور کرسکتا ہے اب تک کے سب سے بڑے کلینیکل ٹرائل کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ جادوئی کھمبیوں میں پایا جانے والا اہم نفسیاتی جزو ڈپریشن کی علامات کو نمایاں طور پر کم کر سکتا ہے جس کا علاج مشکل نہیں ہے-

    کینسرکی بروقت تشخیص اور بہتر علاج کا زیادہ مؤثر طریقہ دریافت

    لندن میں مقیم اور نیس ڈیک میں درج COMPASS پاتھ ویز کے ذریعے کیے گئے درمیانی مرحلے کے مطالعے میں ماہرین کی جانب سے ایک ایم جی، دس ایم جی اور پچیس ایم جی خوراکوں کو یورپ اور شمالی امریکہ کے 10 ممالک کے کل 233 افراد پر آزمایا گیا ، جس میں پچیس ایم جی کی دوا نے بہترین نتائج دیئے۔

    ان میں سے زیادہ تر گذ شتہ ایک سال سے زیادہ عرصے سے شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھے اور ان کی عمریں 40 سال کے لگ بھگ تھیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ مطالعات امید افزا ہیں لیکن ان کے دیرپا اثرات کا اندازہ لگانے کے لیے ابھی یہ تجربات ناکافی ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈپریشن ایک دیرپا مسئلہ ہے جس پر 12 ہفتوں سے کہیں زیادہ فالو اپ پیریڈ استعمال کرنا چاہیے، اس لیے مزید تحقیق کے لیے جلد ہی ایک بڑا تجربہ شروع کیا جائے گا کہ ڈپپریشن کو روکنے کے لیے کتنی خوراکوں کی ضرورت ہے۔

    محققین کا کہنا ہے کہ دوا کے منظور ہونے میں تین سال لگ سکتے ہیں مشروم کو اس کی خصوصیات کی بنا پر ’میجک مشرومز‘ بھی کہا جاتا ہے۔ قانونی منظوری کے بعد امید ظاہر کی جارہی ہے کہ آئندہ چند سالوں تک اس کی دوا مارکیٹ میں دستیاب ہو جائے گی۔

    اگر قانونی منظوری مل گئی تو امید ظاہر کی جارہی ہے کہ آئندہ چند سالوں تک اس کی دوا مارکیٹ میں دستیاب ہو جائے گی۔

    کنگز کالج لندن کے کنسلٹنٹ سائیکاٹرسٹ اور سینئر کلینیکل لیکچرر، جیمز روکر، جو اس تحقیق میں شامل تھے، نے کہا کہ COMPASS کا کمپاؤنڈ دماغ کے ان ٹکڑوں کو نشانہ بناتا ہے جو جذبات کی پروسیسنگ میں گہرا تعلق رکھتے ہیں۔

    ایک بار انتظام کرنے کے بعد، مریض "جاگتے ہوئے خواب جیسی” حالت میں داخل ہو جاتے ہیں جو چار سے چھ گھنٹے تک جاری رہتی ہے روکر نے کہا کہ لوگ صبح آئے، ان کا نفسیاتی تجربہ ہوا اور وہ دوپہر یا شام کو اپنی بنیادی حالت پر چلے گئے۔

    ایک طبی جریدے میں شائع ہونے والے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ جن مریضوں کو سائلو سائیبن کی 25 ملی گرام کی خوراک دی گئی تھی ان میں علاج کے تین ہفتے بعد افسردگی کی علامات میں شماریاتی طور پر نمایاں طور پر کم خوراک لینے والے افراد کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم تھی۔

    یونیورسٹی کالج لندن انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر روی داس نے خبردار کیا کہ ٹرائل کے نتائج مثبت ہیں لیکن شاندار نہیں ہیں۔

    حاملہ خواتین کو اینیستھیزیا دیئے جانے سے بچے کی نشو نما متاثر نہیں ہوتی،تحقیق

    "ہر گروپ میں شدید افسردہ مریضوں کی غیر مساوی تعداد تھی؛ ظاہری ‘مؤثر’ (25mg) خوراک والے گروپ میں نمایاں طور پر کم شدید افسردہ افراد کے ساتھ۔ کاغذ میں اس کا اعتراف نہیں ہوتا۔”

    اگرچہ مریضوں کو صرف اس صورت میں اندراج کیا گیا تھا جب وہ خودکشی کے طبی لحاظ سے اہم خطرے میں نہیں سمجھے جاتے تھے، لیکن 25 ملی گرام گروپ کے تین شرکاء نے علاج کے 12 ہفتوں کے اندر خودکشی کے رویے کا مظاہرہ کیا۔

    COMPASS پاتھ ویز کے چیف میڈیکل آفیسر گائے گڈون نے کہا کہ ڈپریشن کا مطالعہ کرنے سے، خود کشی بیماری کے کورس کی ایک خصوصیت بننے والی ہے۔

    "ہمارا مفروضہ یہ ہے کہ اختلافات اتفاقی طور پر ہوتے ہیں لیکن ہم اسے مزید تجربات کرکے ہی حل کر سکتے ہیں۔”

    انہوں نے کہا کہ کمپاؤنڈ کی جانچ کرنے والے دو آخری مرحلے کے مطالعے سے ڈیٹا، جسے پی ٹی ایس ڈی اور اینوریکسیا نرووسا کے علاج کے طور پر بھی آزمایا جا رہا ہے، جلد از جلد 2024 کے آخر تک منظر عام پر لایا جا سکتا ہے۔

    بلڈ پریشر کا کم ہونا ڈیمینشیا کے خطرات کو کم کرسکتا ہے،تحقیق

  • وزن کم کرنے میں شام کی ورش زیادہ مؤثر. تحقیق

    وزن کم کرنے میں شام کی ورش زیادہ مؤثر. تحقیق

    ایک تحقیق کے مطابق وزن کم کرنے میں شام کی ورش زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے.

    ورزش کے ہزارہا فوائد ہیں تاہم ایک تحقیق سے عیاں ہے کہ شام کے وقت کی ورزش وزن گھٹانے میں زیادہ مؤثر ہے اور اس سے خون میں شکر کم کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ یعنی دوپہر اور شام کی ورزش کرنے سے صبح کے مقابلے میں وزن کم کرنے اور خون میں گلوکوز کم کرنے میں ایک چوتھائی زائد فائدہ ہوتا ہے۔ اس طرح ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ بھی ٹل سکتا ہے اور لوگوں کو وزن قابو میں رکھنے میں بہت سہولت حاصل ہوتی ہے۔

    ہالینڈ کے لائڈن یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کےسائنسدانوں نے 45 سے 65 برس کے 7000 افراد کا جائزہ لیا ہے۔ اکثر افراد کا یم ایم آئی (باڈی ماس انڈیکس) 27 تھا جو موٹاپے کو ظاہر کرتا ہے جبکہ دیگر افراد تندرست بھی تھے۔ تمام شرکا کی ورزش، کھانے اور پینے کی عادات اور ناشتے سے پہلے اور بعد میں خون میں شکر کی سطح بھی نوٹ کی گئی تھی۔ ایم آر آئی اسکین سے جگر میں چربی کی مقدار بھی نوٹ کی گئی تھی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ کنٹینر پر فائرنگ، عمران خان کی جلد صحتیابی کیلئے دعاگو ہیں: ترجمان پاک فوج
    اللہ کی رحمت اورقوم کی دعاوں سےخیریت سے ہوں:جھکوں گانہیں ڈٹ کرمقابلہ ہوگا:عمران خان
    کنٹینر پر فائرنگ، نواز شریف اور مریم کی عمران خان پرحملے کی مذمت

    ان میں سے 955 افراد کو ایسیلرومیٹر اور دل کی دھڑکن ناپنے کے آلات لگائے گئے۔ مسلسل چار دن اور راتوں کو ان کی حرکات نوٹ کی گئیں۔ اس طرح کل 755 افراد کا قابلِ اعتبار ڈیٹا سامنے آیا۔ ڈیٹا کے مطابق سخت یا درمیانی شدت کی ورزش سے جگر کی چربی کم ہوئی تھی. سب سے اہم بات یہ سامنے آئی کہ دن کے کسی بھی حصے کے مقابلے میں دوپہر اور شام کی ورزش سے انسولین کی مزاحمت، بالترتیب 18 سے 25 فیصد تک کم دیکھی گئی جو ایک غیرمعمولی دریافت ہے۔ اسی بنا پر ماہرین کا خیال ہے کہ اگر صبح وقت نہ مل سکے تو شام اور دوپہر ورزش اور واک کے بہترین اوقات ہیں۔

  • کینسرکی بروقت تشخیص اور بہتر علاج کا زیادہ مؤثر طریقہ دریافت

    کینسرکی بروقت تشخیص اور بہتر علاج کا زیادہ مؤثر طریقہ دریافت

    لندن: طبی ماہرین نے کینسر جیسے موذی مرض کی بروقت تشخیص اور بہتر علاج کا زیادہ مؤثر طریقہ دریافت کر لیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سائنسی جریدے ’نیچر‘ میں شائع ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ کے تحت برطانوی ماہرین نے انسانی ڈی این اے میں موجود ایک جین کو کینسر کی بروقت قدرے بہتر تشخیص اور بہتر علاج کا سب سے مؤثر طریقہ قرار دیا ہے۔

    حاملہ خواتین کو اینیستھیزیا دیئے جانے سے بچے کی نشو نما متاثر نہیں ہوتی،تحقیق

    ماہرین کے مطابق انسان کو وراثت میں ملنے والے جین میں سے ایک ’اپیجینیٹک‘ (epigenetic) ایسا جین ہے جو مستقبل میں کینسر کی بروقت بہتر تشخیص اور اس کے بہتر علاج میں مدد فراہم کر سکتا ہے-

    طبی ماہرین نے اس کے لیے 1300 سے زائد کینسر مریضوں کے ٹیسٹس اور جینز کا جائزہ لیا ہے ماہرین نے ’اپیجینیٹک‘ (epigenetic) میں موجود ایک خاص کیمیکل کو اس حوالے سے گیم چینجر قرار دیا ہے۔

    ماہرین نے ’اپیجینیٹک‘ (epigenetic) میں پائے جانے والے کیمیکل کو ڈارک میٹر (Dark matter) کا نام دیا ہے جو مستقبل میں کینسر کی بروقت تشخیص اور اس کے بہتر علاج میں مدد فراہم کر سکتا ہے کیونکہ یہی جین عام طور پر کینسر کا سبب بنتا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ کینسر کا مرض عام طور پر ڈی این اے کی تبدیلی یا جینز سے نہیں بلکہ ’اپیجینیٹک‘ (epigenetic) نامی جین کی وجہ سے ہوتا ہے۔

    ایک اور تحقیق میں سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ رسولی کے خلیوں کو جلانے والی پٹی جِلد کے سرطان کی سب سے مہلک قسم سے لڑنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

    کم کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل غذا کا استعمال ٹائپ 2 ذیابیطس سے بچاتا ہے

    اس پٹی کو مریض کو میلیگنینٹ میلانوما ختم کرنے کے لیے کی جانے والی سرجری کے بعد پہننے کے لیے بنایا گیا ہے۔ میلیگنینٹ میلانوما جِلد کے سرطان کی سب سے خطرناک قسم ہے جو برطانیہ میں 2000 سے زائد افراد کی موت کا سبب بنتی ہے 90 فی صد مریض الٹرا وائلٹ روشنی کی وجہ سے اس بیماری میں مبتلا ہوئے ہیں اور اس تعداد میں اضافہ جاری ہے۔

    جب سرجن کینسر زدہ جلد کے حصے کو، جو عموماً مردوں میں پِیٹھ پر اور خواتین میں ٹانگوں پر ہوتا ہے، کاٹ کر نکالتے ہیں وہ اطراف میں موجود صحت مند ٹشو بھی لیتے ہیں تاکہ کہیں رسولی کے خلیے پھیل نہ گئے ہوں ان اضافی ٹشو کی چوڑائی دو سینٹی میٹر تک ہوسکتی ہے، اس بات کا انحصار اس رسولی کے پھیلاؤ پر ہوتا ہے۔ جتنا بڑا ٹیومر ہوگا اتنے امکانات ہوں کہ خلیے رسولی کی جگہ سے آگے گئے ہوں۔

    بینائی کے تحفظ کیلئے احتیاطی تدابیر اختیارکرنی چاہئیں:پروفیسرالفرید ظفر

    لیکن صحت مند ٹشو کو نکالنے کے باوجود بھی اس بات کی ضمانت نہیں ہوتی کہ تمام متاثرہ خلیے ختم ہوگئے ہوں۔ کوئی بھی بچا ہوا خلیہ مہینوں یا سالوں بعد دوبارہ کینسر کا سبب بن سکتا ہے۔ کچھ مطالعوں میں یہ بات سامنے آئی کہ تقریباً 13 فی صد مریضوں میں کینسر زدہ ٹشو نکالے جانے کے دو سال بعد ہی میلانوما دوبارہ پنپ گیا۔

    یہ جدید پٹی سرجری کے بعد رہ جانے والے خلیوں کو ختم کر کے ممکنہ طور پردوبارہ کینسر لاحق ہونےکےامکانات کم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے یہ پٹی فوٹو تھرمل تھیراپی کا استعمال کرتے ہوئے کام کرتی ہے۔ اس طریقہ علاج میں ایک لیزر شعا کو استعمال کرتے ہوئے رسولی کے خلیوں کو اتنا گرم کیا جاتا ہے کہ وہ خود ختم ہوجاتا ہے۔

    کینسر زدہ خلیوں کو گرمی سے صحت مند خلیوں کی نسبت زیادہ نقصان پہنچتا ہے۔ لہٰذا 60 ڈگری سیلسیئس کا درجہ حرارت متاثرہ خلیوں کو صاف کر دیتے ہیں جبکہ صحت مند خلیے اپنی جگہ موجود رہتے ہیں تاہم، اس علاج کو کچھ دنوں یا ہفتوں میں دہرانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

    کینسر ریسرچ یو کے میں ریسرچ انفارمیشن منیجر ڈاکٹر رُپال مستری کا کہنا تھا کہ یہ پٹی کینسر کو ختم کرنے کے لیے استعمال کی جاسکے گی لیکن ابھی اس کو مطبی استعمال میں لانے کے لیے کچھ وقت درکار ہے۔

    پاکستانی خواتین میں چھاتی کے سرطان میں اضافہ و شرح اموات لمحہ فکریہ

  • میو ہسپتال میں کرپشن کا بڑا سکینڈل بے نقاب

    میو ہسپتال میں کرپشن کا بڑا سکینڈل بے نقاب

    میو ہسپتال میں کرپشن کا بڑا سکینڈل بے نقاب ہوا ہے۔ اینٹی کرپشن نے کروڑوں کی کرپشن کی کوشش ناکام بنا دی ہے۔

    محکمہ اینٹی کرپشن پنجاب نے میو ہسپتال کے پپرا رولز کی خلاف ورزی کرکے سرکاری خزانے کو 80کروڑ روپے کا نقصان پہنچنے کی کوشش کرنے والے12افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ کرپشن کے میگا سکینڈل میں ایک پروفیسر سمیت 12 ڈاکٹرز بشمول پروفیسر ڈاکٹر احمد عزیر قریشی،ڈپٹی ڈائریکٹر ڈرگ شیخ الطاف فارمسسٹ عتیق منور، خالد محمود سمیت دیگر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    سیاسی لیڈر شپ کو سیاسی استحکام کیلئے مذاکرات کرنے ہونگے،

    تعمیراتی پراجیکٹس کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم،وزیراعظم کے معاون خصوصی کو طلب کر لیا

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    راول ڈیم کے کنارے کمرشل تعمیرات سے متعلق کیس ،اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم

    اینٹی کرپشن ذرائع کے مطابق میو ہسپتال کے پروکیورمنٹ ٹینڈر برائے سرجیکل اینڈ ڈسپوزل اشیا ء کی خریداری کا ٹھیکہ سابق سٹور کیپر شکیل کے ایما پر چار کمپنیوں کو غیر قانونی طور پر دیا گیا ہے جبکہ 61 کمپنیوں کی درخواستوں میں سے 41 کو تکنیکی بنیادوں پر خارج کرکے چار کمپنیوں کو سپلائی کا آرڈر جاری کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق2022-23ء میں 1 ارب35 کروڑ سے سرجیکل،ڈسپوزبل اور میڈیکل کی 2000 آئٹمز خریدی جانی تھی،میو ہسپتال انتظامیہ نے 10 کروڑ کی خطیر رقم سے محض 21 آئٹمز خریدیں،خریدی گئی اشیا مارکیٹ ریٹ سے سو فیصد مہنگی خریدیں گئیں۔اینٹی کرپشن نے چھاپہ مار کر مزید 80 کروڑ کی پیمنٹ ہونے سے روک دی ہے

  • کراچی: کورونا ویکسین کی دوسری ڈوز لگانے کا سلسلہ شروع

    کراچی: کورونا ویکسین کی دوسری ڈوز لگانے کا سلسلہ شروع

    کراچی: کراچی اور حیدرآباد میں 5سے 11سال تک کے بچوں کو کورونا سے بچاؤ کی ویکسین کی دوسری ڈوز لگانے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

    باغی ٹی وی : کراچی کے 7 اضلاع اور حیدرآباد میں بچوں کو ویکسین لگائی گئی، حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام سندھ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ڈاکٹر ارشاد احمد میمن کے مطابق جن بچوں کو پہلی ویکسین لگ چکی ہے انھیں ہی دوسری ویکسین دی جارہی ہے۔

    24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے باعث 1 شہری جاں بحق جبکہ 52 نئے کیسز رپورٹ

    بچوں کی کورونا ویکسی نیشن مہم کے پہلا مرحلہ 19سے 24ستمبر تک جاری رہا تھا جس میں 25 لاکھ بچوں کو ویکسین لگائی گئی، انہی بچوں کو کراچی کے 7اضلاع اور حیدرآباد میں کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگائی جائے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ عوام اور والدین کو مہم سے آگاہ کرنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ تمام بچوں کو ویکسین لگ سکے۔

    کراچی: 5 سے 11 سال کی عمر کے بچوں کی کورونا ویکسینیشن کا فیصلہ

    انھوں نے مز ید کہا کہ ویکسی نیشن سے بچوں میں مدافعت پیدا ہوگی اور اسی صورت وہ اور دیگر افراد وائرس سے محفوظ رہ سکیں گے، ویکسین لگانے والی ٹیموں نے اسکولوں اور مدارس میں بھی بچوں کو دوسری ویکسین لگائی۔

    قبل ازیں پیر کو کووڈ-19 ویکسی نیشن مہم کے آغاز کے موقع پر اپنے خصوصی وڈیو پیغام میں وزیر صحت عبدالقادر پٹیل نے کہا تھا کہ بچے قوم کا مستقبل ہیں اور صحتمند بچے صحتمند پاکستان کی علامت ہیں پہلی کامیاب مہم کے مثبت نتائج سامنے آنے کے بعد اب فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہمیں اپنے بچوں کو کورونا وائرس سے محفوظ رکھنے کیلئے ویکسینیشن کے دوسرے مرحلے میں والدین سے اپیل ہے کہ وہ اپنے بچوں کی پولیو ویکسین ضرور کرائیں تاکہ بچوں کو محفوظ بنا کر خاندان کے دیگر افراد کو بھی کورونا سے بچایا جا سکے۔

    امریکی سائنسدانوں نے کرونا وائرس کا ایک نیا مہلک اور انتہائی خطرناک وائرس ایجاد…

    وزیر صحت نے کہا تھا کہ ملک بھر میں بچوں کو کووڈ۔19 سے بچائو کی ویکسینیشن کی یہ مہم 5 نومبرتک جاری رہے گی، یہ مہم پنجاب ،سندھ اور اسلام آباد کے منتخب اضلاع میں بیک وقت شروع کی جا رہی ہے۔

    انہوں نے کہا تھا کہ ہمارے بچے ہمارا مستقبل ہیں صحت مند بجے صحت مند پاکستان کی علامت ہیں، ویکسین بچوں کو کورونا سے محفوظ رکھنے اور ان سے دوسروں تک وائرس کی رسائی کو کم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے علما کرام، اساتذہ، میڈیا، سول سوسائٹی اور معاشرے کے دیگر تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اس مہم کی کامیابی کیلئے اپنا کلیدی کردار ادا کریں-

    عبدالقادر پٹیل نے کہا تھا کہ عوام کو بیماریوں سے تحفظ فراہم کرنے کیلئے تمام تر ضروری اقدامات کو یقینی بنارہے ہیں، حکومت صحت کے شعبے میں بہتری کیلئے عملی اقدامات کو یقینی بنانے کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لارہی ہے۔

  • ڈینگی کیسز پر کیسے قابو پائے جائے، صوبائی وزیر صحت نے واضح پلان مانگ لیا

    ڈینگی کیسز پر کیسے قابو پائے جائے، صوبائی وزیر صحت نے واضح پلان مانگ لیا

    ڈینگی کیسز پر کیسے قابو پائے جائے، صوبائی وزیر صحت نے واضح پلان مانگ لیا
    صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر اختر ملک نے انسداد ڈینگی کے سلسلہ میں محکمہ صحت کے سی ڈی سی ونگ سے واضح پلان طلب کرلیا۔ ڈینگی ورکرز اور سپروائزرز کی کارکردگی ہر یونین کونسل کی سطح پر چیک کی جائے اور تصدیق کی بعد انکی کارکردگی کی بناء پر تنخواہیں ریلیز کی جائیں۔ڈینگی کے ہائی رسک اضلاع میں کمیٹی تشکیل کر کے ڈیٹا کی موقع پر جاکر ویریفکیش کی جائے۔

    صوبائی وزیر صحت نے یہ ہدایات محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر میں ورٹیکل پروگرامز کے اہم اجلاس کی صدارت کر تے ہوئے جاری کیں۔اجلاس میں ڈینگی کی صورتحال، ای پی آئی، ایڈز کنٹرول اور IRMNCH پروگرامز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر اختر ملک کی جانب سے چند فیصلے کئے گئے۔ڈاکٹر اختر ملک نے کہا کہ لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد اور شیخوپورہ میں ڈینگی ورکرز، سپروائزرز کا مکمل ڈیٹا فراہم کیا جائے اور ورٹیکل پروگرامز میں سٹاف کی بھرتی، تعیناتی میرٹ پر کی جائے۔

    ڈاکٹر اختر ملک کا کہنا کہ بھرتی کا عمل تین ماہ میں مکمل کیا جائے گا۔صوبائی وزیر صحت نے ہدایت کی کہ پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کی کارکردگی پر گزشتہ تین ماہ کی رپورٹ پیش کی جائے۔انہوں نے کہا کی متعلقہ ڈائریکٹر پنجاب کی جیلوں کے دورے کرے اور قیدیوں کے HIV کے ٹیسٹوں کی رپورٹ اگلے اجلاس میں پیش کی جائے تاکہ قیدیوں کے علاج کے سلسلے میں کوئی واضح میکانزم تیار کیا جائے۔اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری ورٹیکل پروگرامز عاصم رضا، پی ڈی IRMNCH ڈاکٹر خلیل سخانی، پی ڈی ایڈز کنٹرول پروگرام ڈاکٹر اویس گوہر، ڈائریکٹر سی ڈی سی ڈاکٹر عامر مفتی، ڈائریکٹر ای پی آئی ڈاکٹر احتشام الحق اور ڈائریکٹر ہیپاٹائٹس کنٹرول ڈاکٹر شاہد مگسی بھی موجود تھے۔

    پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے الائزا ڈینگی ٹیسٹ کی قیمت 1,500روپے مقررکر دی

    ڈینگی کا ڈنگ تیز، ہسپتال بھر گئے

    لاہور میں ڈینگی کیسز کی شرح میں کمی

    انیل مسرت منموہن سنگھ کے ہمراہ سیلفی بنانے لگے تو کیا ہوا؟

    سابق بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کا کرونا ٹیسٹ، کیا آئی رپورٹ؟

    ڈینگی ایس او پیز کی خلاف ورزی پر کارروائی جاری، 68 افراد گرفتار،639 مقدمات درج

    علاوہ ازیں ڈائریکٹر جنرل بہبود آبادی محترمہ ثمن رائے کی زیر قیادت محکمہ کے افسران کے لیے نیشنل سکول آف پبلک پالیسی کے دورہ کا اہتمام کیا گیا۔پنجاب کے 36 اضلاع سے آئے افسران کو این ایس پی پی کی لائبریری، کلاس رومز، ٹریننگ ہال اور سپورٹس کمپلیکس کا دورہ کروایا گیا اور بریفنگ دی گئی۔ڈائریکٹر جنرل ثمن رائے نے ایک روزہ دورے کے لیے تعاون پر نیشنل سکول آف پبلک پالیسی کے ریکٹر اعجاز منیر، ڈائریکٹر جنرل (ایڈمن) ندیم محبوب کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر پنجاب کے تمام ڈسٹرکٹ پاپولیشن ویلفیئر افسران اور محکمہ بہبود آبادی کے سینئیر افسران بھی موجود تھے۔

  • حاملہ خواتین کو اینیستھیزیا  دیئے جانے سے بچے کی نشو نما متاثر نہیں ہوتی،تحقیق

    حاملہ خواتین کو اینیستھیزیا دیئے جانے سے بچے کی نشو نما متاثر نہیں ہوتی،تحقیق

    محققین نے نئی تحقیق میں معلوم کیا ہے کہ حاملہ خواتین کو ایمرجنسی سرجری کے لیے اینیستھیزیا کے دیئے جانے کا بچے کی نشو نما کے مسائل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    باغی ٹی وی: بیلجیئم کی یونیورسٹی ہاسپٹل لووین میں اینیستھیزیولوجی کے سربراہ اور تحقیق کے مصنف اسٹیفن ریکس اور ان کے ساتھی کے مطابق تحقیق کے نتائج سے یہ تجویز نہیں بدلے گی کہ حمل کے دوران صرف ضروری آپریشن ہی کیے جانے چاہیئں۔ تحقیق کے نتائج ان خواتین کو یقین دہانی کرائیں گے جن کو دورانِ حمل سرجری کی ضرورت ہوگی۔

    بلڈ پریشر کا کم ہونا ڈیمینشیا کے خطرات کو کم کرسکتا ہے،تحقیق

    اگرچہ حمل کے دوران عام طور پر سرجری اور اینستھیزیا سے گریز کیا جاتا ہے، لیکن 1فیصد تک حاملہ خواتین کو غیر متوقع صحت کی ہنگامی صورتحال، جیسے اپینڈیسائٹس کے لیے اس کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

    جریدے اینستھیزیا میں 25 اکتوبر کو شائع ہونے والی اس تحقیق میں 2 سے 18 سال کی عمر کے 500 سے زیادہ بچے شامل تھےمطالعہ کے لیے، محققین نے ان بچوں کی اعصابی نشو نما کا موازنہ جن کی پیدائش سےقبل ان کی ماؤں کو کسی طبی ایمرجنسی کی وجہ سے اینیستھیزیا دیا گیا تھا، ان بچوں سے کیا گیا جن کی ماؤں کو ایسی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

    محققین نے نفسیاتی تشخیص کے ساتھ رویوں کے قابو کرنے، نفسیاتی سماجی مسائل اور سیکھنے کے مسائل کا جائزہ لیا۔

    محققین کو بچوں کے دو گروہوں کے درمیان اعداد و شمار کے لحاظ سے کوئی اہم فرق نہیں ملا۔ نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ اینیستھیزیا کے اثرات بالکل اسی نوعیت کے تھے جو دیگر عوامل جیسے کہ والدین کی تعلیم اور بچے کی پیدائش کے وقت والدہ کی عمر کے اثرات کے تھے۔

    مطالعہ کے مصنفین نے ایک جرنل نیوز ریلیز میں کہا کہ ہنگامی سرجری کے دوران اینستھیزیا کی نمائش طبی لحاظ سے معنی خیز خرابیوں سے وابستہ نہیں تھی ماؤں نے جدید دوائیوں اور تکنیکوں کے ساتھ اینستھیزیا کروایا تھا، جس کی وجہ سے یہ نتائج آج متعلقہ ہیں۔

    جانوروں کے مطالعے کے ماضی کے تجزیے سے معلوم ہوا تھا کہ حمل کے دوران جنرل اینستھیزیا جنین کے دماغ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور سیکھنے اور یادداشت کو کمزور کر سکتا ہے۔

    یو ایس فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے 2016 میں ایک انتباہ شائع کیا تھا کہ حمل کے تیسرے سہ ماہی کے دوران جنرل اینستھیزیا کا بار بار یا طویل استعمال جنین میں نشوونما کی خرابی کا سبب بن سکتا ہے۔

    سرجری میں تاخیر بعض اوقات آپشن نہیں ہوتی۔ اپینڈیسائٹس کی صورت میں، مثال کے طور پر، علاج میں تاخیر ماں کے لیے اسقاط حمل یا سیپسس کا باعث بن سکتی ہے-

    محققین نے ذیابیطس، کینسر اور اموات کی وجہ بننے والی پروٹین دریافت کر لی

  • کم کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل غذا کا استعمال ٹائپ 2 ذیابیطس سے بچاتا ہے

    کم کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل غذا کا استعمال ٹائپ 2 ذیابیطس سے بچاتا ہے

    ماہرین نے ایک نئی تحقیق میں کہا ہے کہ کم کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل غذا کا استعمال ٹائپ 2 ذیابیطس سے بچنے اور ذیابیطس کے مریضوں میں بلڈ شوگر کی سطح کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : ٹیولین یونیورسٹی کی سربراہی میں ہونے والی نئی تحقیق میں محققین کا کہنا تھا کہ کم کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل غذائیں ٹائپ 2 ذیا بیطس کے مریضوں میں ہیموگلوبین اے 1 سی (جو بلڈ شوگر کی سطح کی نشان دہی کرتا ہے) کو کم کرتا ہے۔

    محققین نے ذیابیطس، کینسر اور اموات کی وجہ بننے والی پروٹین دریافت کر لی

    جاما نیٹورک اوپن میں شائع ہونے والی تحقیق میں 40 سے 70 برس کے درمیان 150 افراد شریک ہوئے جن کے بلڈ شوگر کی سطح ذیابیطس میں مبتلا ہونے سے قبل کیفیت سےذیابیطس میں مبتلا ہونے تک تھی اور ان میں ایسے افراد بھی تھےجو ذیابیطس کی ادویات نہیں لیتے تھے۔

    اس نئی تحقیق میں کم کاربوہائیڈریٹ کی غذا کھانے والے گروپ نے ابتدائی تین ماہ میں 40 گرام سے کم کاربوہائیڈریٹس کی کھپت کا ہدف رکھا اور تین سے چھ ماہ کے دوران یہ ہدف بڑھا کر 60 گرام تک کم کیا گیا۔

    سبزی کھانے والے افراد میں ڈپریشن کا خطرہ دو گنا زیادہ ہوتا ہے،تحقیق

    عمومی طور پر کم کاربوہائیڈریٹس والی غذاؤں میں پروٹینز اور بغیر نشاستہ والی سبزیوں پر توجہ دی جاتی ہے، جبکہ اناج، پھل، روٹی، میٹھا اور نشاستہ کی حامل سبزیاں اور پھل کا استعمال محدود کر دیا جاتا ہے۔

    ماہرین کےمطابق امریکیوں کو دی جانے والی غذائی ہدایات کے مطابق کسی بھی شخص کی جانب سے روزانہ لی جانے والی کیلوری کا 45 سے 65 فی صد حصہ کاربوہائیڈریٹس فراہم کرتے ہیں یعی روزانہ 2000 کیلوریز میں 900 سے 1300 تک کا حصہ کاربو ہائیڈریٹس کا ہوتا ہےاس کے برعکس کاربوہائیڈریٹس کو 20 گرام سے 57 گرام تک محدود کرنے سے 80 سے 240 کیلوریز حاصل ہوتی ہیں۔

    معالجین عموماً ذیابیطس کےمریضوں کو کم کاربوہائیڈریٹس والی خوراک کی تجویزدیتے ہیں لیکن آیاکم کاربوہائیڈریٹس کا کھایا جانا ذیابیطس کے مریضوں یا ایسے افراد جو اس مرض میں مبتلا ہونے والے ہوں میں بلڈ شوگر کو متاثر کرسکتا ہے کہ نہیں، اس متعلق بہت محدود شواہد موجود ہیں۔

    رات دیر تک جاگنا ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

  • بلڈ پریشر کا کم ہونا ڈیمینشیا کے خطرات کو کم کرسکتا ہے،تحقیق

    بلڈ پریشر کا کم ہونا ڈیمینشیا کے خطرات کو کم کرسکتا ہے،تحقیق

    سِڈنی: آسٹریلیا کے شہر سِڈنی میں قائم جارج انسٹی ٹیوٹ فار گلوبل ہیلتھ اور یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز (UNSW) کی طرف سے کی گئی ایک تحقیق میں ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑی عمر کے افراد میں بلڈ پریشر کا کم ہونا ان میں ڈیمینشیا کے خطرات کو کم کرسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : ڈیمنشیا ایک ایسا سنڈروم ہے جس میں علمی افعال میں اس سے کہیں زیادہ بگاڑ ہوتا ہے جس کی حیاتیاتی عمر بڑھنے کے معمول کے نتائج سے توقع کی جا سکتی ہے۔

    اینٹی ڈپریسنٹ کا دیر پا استعمال قلبی امراض کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے،تحقیق

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق، فی الحال، دنیا بھر میں 55 ملین سے زیادہ لوگ ڈیمنشیا کے ساتھ رہتے ہیں، اور ہر سال تقریباً 10 ملین نئے کیسز سامنے آتے ہیں۔

    بدھ کو سامنے آنے والی یہ تحقیق پانچ ڈبل بلائنڈ پلیسبو کنٹرول شدہ بے ترتیب آزمائشوں کے تجزیہ پر مبنی ہے جس میں بلڈ پریشر کو کم کرنے والے مختلف علاج استعمال کیے گئے اور ڈیمنشیا کی نشوونما تک مریضوں کو چیک کیا گیا-

    ٹرائلز میں 20 ممالک اور خطوں کے کل 28,008 افراد کو شامل کیا گیا جن کی اوسط عمر 69 سال اور ہائی بلڈ پریشر کی تاریخ تھی۔ فالو اپ کی درمیانی حد صرف چار سال سے زیادہ تھی۔

    سڈنی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر اور جارج انسٹی ٹیوٹ کے گلوبل برین ہیلتھ میں ڈیمنشیا کے پروگرام کی رہنما روتھ پیٹرزکا کہنا تھا کہ ڈیمینشیا کے علاج میں کوئی اہم کامیابی حاصل نہ ہونے کے باوجود اس بیماری کے لاحق ہونے کے خطرات میں کمی ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔

    ڈاکٹر روتھ کا کہنا تھا کہ یہ تحقیق اس بات کے شواہد پیش کرتی ہے کہ سالوں پر محیط بلڈ پریشر کم کرنے کا علاج ڈیمینشیا لاحق ہونے کے خطرات کو کم کرتا ہے۔ لیکن جس بات کا ابھی بھی علم نہیں وہ یہ کہ جن کا بلڈ پریشر قابو میں رہتا ہے ان میں بلڈ پریشر کے کم کیے جانے سے یا جو ابتدائی زندگی سے علاج شروع کر دیتے ہیں ان میں ڈیمینشیا کے دیر پا خطرات کم ہوں گے کہ نہیں۔

    انار ایک سُپر فوڈ،ذیابیطس کو روکتا ہے اور دل کی حفاظت کرتا ہے،نظام ہاضمہ کو مضبوط…

    روتھ پیٹرز کے مطابق بلڈ پریشر کم کرنے کے فوائد کے حوالے سے متعدد کلینکل ٹرائلز ہوئے ہیں۔ لیکن ان ٹرائلز کے اکثریت میں ڈیمینشیا سے متعلق نتائج کو شامل نہیں کیا گیا اور چند میں فرضی دوا کا استعمال کیا گیا۔

    انہوں نے بتایا کہ اکثر ٹرائلز کو بلڈ پریشر کم ہونے کی وجہ سے دل پر پڑنے والے اثرات کی وجہ سے شروع میں ہی روک دیا گیا، جو عموماً ڈیمینشیا کی نشانیوں سے پہلے نمودار ہوتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ یہ ابھی تک نامعلوم ہے کہ آیا ان لوگوں میں اضافی بلڈ پریشر کو کم کرنا جو پہلے سے ہی اسے اچھی طرح سے کنٹرول کر چکے ہیں یا زندگی میں ابتدائی علاج شروع کرنے سے ڈیمنشیا کے طویل مدتی خطرے کو کم کیا جائے گا۔

    دنیا بھر میں ڈیمنشیا میں مبتلا لوگوں کی بڑی تعداد اور علاج میں اہم پیش رفت کی کمی کو دیکھتے ہوئے، محققین کے خیال میں اس بیماری کے بڑھنے کے خطرے کو کم کرنا ایک خوش آئند قدم ہوگا۔

    محققین نے ذیابیطس، کینسر اور اموات کی وجہ بننے والی پروٹین دریافت کر لی

    انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ مطالعہ کے نتائج صحت عامہ کے متعلقہ اقدامات کو ڈیزائن کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

    نئی تحقیق میں بلڈ پریشر اور ڈیمینشیا کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا۔ اس تجزیے کے لیے پانچ ڈبل بلائنڈ، پلیس بو کا استعمال کرتے ہوئے، ٹرائلز کیے گئے جس میں مختلف طریقوں کا استعمال کرتے ہوئے بلڈ پریشر کم کیا گیا۔ مریضوں کی نگرانی اس وقت تک کی گئی جب تک وہ ڈیمینشیا میں مبتلا نہیں ہوگئے۔

    ڈبل بلائنڈ ٹرائل وہ تجربے ہوتے ہیں جس میں محقق اور تجربے میں شامل شخص کو کسی قسم کی معلومات نہیں دی جاتی تاکہ ان کا رویہ متاثر نہ ہو۔

  • احتیاطی تدابیر بروقت تشخیص چھاتی کینسر کی مدت کو کم کرسکتی ہے

    احتیاطی تدابیر بروقت تشخیص چھاتی کینسر کی مدت کو کم کرسکتی ہے

    احتیاطی تدابیر بروقت تشخیص چھاتی کینسر کی مدت کو کم کرسکتی ہے

    چھاتی کا کینسر خواتین میں اس وقت پھیلتا ہے جب چھاتی میں غیر معمولی تبدیلیاں ہوتی ہیں جو خلیوں کی نشوونما کو منظم کرتی ہیں جو چھاتی کے خلیوں میں تیار ہوتا ہے۔

    ان خیالات کا اظہار پنک پاکستان ٹرسٹ کی صدر ڈاکٹر زبیدہ قاضی نے اقراء یونیورسٹی نارتھ کیمپس کے اشراک سے منعقدہ ”چھاتی کے کینسر سے آگاہی “ سیمینار میںکرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ کینسر کے بے قابو خلیات اکثر چھاتی کے صحت مند ٹشو زکو متاثر کرتے ہیں اور چھاتی کے دوسرے حصوں تک چلے جاتے ہیںجو بنیادی راستوںسے کینسر کے خلیوں کو چھاتی کے کئی حصوں میں منتقل کرنے میں مدد کرتے ہیں۔چھاتی کے کینسر کی علامات میں پوری چھاتی کا سرخ ہوجانا ، چھاتی میں گٹھلی کا بن جانا،چھاتی کے کچھ حصوں میں سوجن ہوجانا،چھاتی سے خون کا خارج ہونا،بازو کے نیچے ایک گانٹھ بن جانا،چھاتی کی جلد کا چھلکا ، شکل اور سائز میں اچانک تبدیلی ہوجانا اور دیگر شامل ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ڈکٹل کارسنوماجو دودھ کی نالی سے شروع ہوتا ہے اور لوبیولر کارسنوما لوبیولزہوتا ہے پھر بڑھتا چلا جاتا ہے جس سے بچنے کے لیے چھاتی کے کینسر کی تشخیص میمو گرام، الٹراساﺅنڈ، بایپسی ٹیسٹ کے علاوہ اپنے اندر ہونے والی غیر معمولی تبدیلی کا معائنہ گھرمیںخود بھی کیا جاسکتا ہے۔ڈاکٹر زبیدہ قاضی کا کہنا تھا کہ چھاتی کے کینسر کو روکنے کا کوئی طریقہ نہیں تاہم کچھ اقدامات سے چھاتی کے کینسر کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کرسکتے ہیںجس میںتازہ پھلوں ، سبزیوں اوردیگر صحت مند غذاﺅں کا استعمال ، ورزش کرنا،تابکاری سے بچنا ہے ۔

    ان کا مزید کہنا تھاکہ چھاتی کے کینسرکا علاج مجموعی صحت ، ریڈیشن تھراپی،سرجری اور کیموتھراپی سے بھی کیا جا سکتا ہے احتیاطی تدابیر بروقت تشخیص چھاتی کینسر کی مدت کو کم کرسکتی ہے ۔تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر تابندہ اشفاق نے ڈاکٹر زبیدہ قاضی کو شیلڈ اور گلدستہ پیش کیاگیا ۔اس موقع پرڈاکٹر سلیمہ تیجانی،ڈاکٹر حسن وسیم ، ڈاکٹر طوبیٰ محفوظ اور دیگر شامل تھے ۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر ثوبیہ نے سر انجام دیئے

    بریسٹ کینسر کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ،تحریر: محمد مستنصر
    بریسٹ کینسر بھی قدرتی آفات سے کم نہیں — ڈاکٹر عزیر سرویا

    بریسٹ کینسر کا عالمی دن, پنک ربن بمقابلہ ٹیبو !!! — بلال شوکت آزاد

    ملک میں بڑھتے بریسٹ کینسرکے کیسز،سپریم کورٹ نے نوٹس لے لیا

    پاکستانی خواتین میں چھاتی کے سرطان میں اضافہ و شرح اموات لمحہ فکریہ