Baaghi TV

Category: صحت

  • بینائی کے تحفظ کیلئے احتیاطی تدابیر اختیارکرنی چاہئیں:پروفیسرالفرید ظفر

    بینائی کے تحفظ کیلئے احتیاطی تدابیر اختیارکرنی چاہئیں:پروفیسرالفرید ظفر

    آنکھیں اللہ کی عظیم نعمت، بینائی کے تحفظ کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں:پروفیسرالفرید ظفر

    عالمی یوم بصارت کی مناسبت سے لاہور جنرل ہسپتال شعبہ امراض چشم کے زیر اہتمام آنکھوں کے تحفظ،بیماریوں اور حفاظتی اقدامات کے حوالے سے عوام الناس میں شعور بیدار کرنے کے لئے آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا۔

    تقریب میں علاج کروانے والے بچوں اور ان کے والدین نے بھی شرکت کی اور نونہالوں میں گفٹس بھی تقسیم کئے گئے۔ پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر کی قیادت میں ہونے والی اس واک میں پروفیسر محمد معین، پروفیسر آغا شبیر علی، پرفیسر ڈاکٹر محمد شاہد، ڈاکٹر لبنیٰ صدیق، ڈاکٹر ثنا ء جہانگیر، ڈاکٹر آمنہ راجپوت کے علاوہ ڈاکٹرز،نرسز، پیرا میڈیکل سٹاف اور مریضوں کے علاوہ شہریوں نے بھی شرکت کی۔ شرکاء نے عالمی یوم بصارت کی تھیم "Love Your Eyes” کی اہمیت کو اجاگرکرنے کے لئے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔

    پرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسر الفرید ظفر نے واک کے شرکا ء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ آنکھیں اللہ تعالیٰ کی وہ گراں قدر نعمت ہیں جن کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ آنکھوں کی بنائی کے بغیر دنیا اندھیری ہے، بینائی سے محروم شخص دوسروں پر انحصار کرنے پر مجبور ہوتا ہے جسے قدم قدم پر معاشی اور معاشرتی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنکھوں کی قدر اوران کی صحت کی حفاظت کریں تاکہ ایک فعال اور متحرک فرد کے طور پر سوسائٹی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر محمد معین کا کہنا تھا کہ ایل جی ایچ میں قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں میں آنکھ کے پردہ کی بیماری Retinopathy of Prematurity کا بہت کامیابی سیمفت علاج کیا جا رہا ہے۔ اس بیماری میں 9ماہ سے پہلے یا بہت کم وزن کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں کی آنکھوں کے پردہ کی بیماری اور نابینا پن کے امکانات ہونے ہیں۔ جنرل ہسپتال شعبہ امراض چشم میں ایسے بہت سے بچوں کی کامیاب سرجری اور علاج کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایسے بچوں کا علاج ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔جنہیں مسلسل چیک اپ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن خوشی کی بات ہے کہ ایل جی ایچ کے ڈاکٹرز محنت اور پیشہ وارانہ لگن کی بدولت ایسے بچوں کا علاج کامیابی سے ہو رہا ہے۔

    مالی نے خاتون کے ساتھ زیادتی کے بعد دوستوں کو بلا لیا،اجتماعی درندگی کا ایک اور واقعہ

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    لڑکی سے تعلقات کا شبہہ،نوجوان پر بہیمانہ تشدد ،ڈرل مشین سے جسم میں سوراخ بھی کر دیئے

    پروفیسر الفرید ظفر نے کہا کہ بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں آنکھوں جیسی قیمتی اور انمول شے کو بری طرح سے نظر انداز کیا جاتا ہے اورہم ان آنکھوں کو دھول مٹی و گرد سے لے کر شیمپو میں استعمال ہونے والے کیمیکلز تک کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ بینائی کے تحفظ کے لئے اُن تمام احتیاطی تدابیر کو اختیار کیا جائے جو اس ضمن میں ضروری ہیں۔انہوں نے کہا کہ میڈیکل سائنس ثابت کر چکی ہے کہ بلند فشار خون اور ذیابیطس جیسی بیماریاں کسی بھی شخص کی بینائی کو بلا واسطہ طور پر متاثر کرتی ہیں،ہمیں اپنی غذا میں اعتدال کے علاوہ آنکھوں کے سالانہ معائنے اور کسی بھی قسم کی پیچیدگی کی شکل میں فوری علاج کا راستہ اختیارکرنا ہوگا۔ اسی طرح سفید یا کالا موتیا یا بینائی کو متاثر کرنے والی کسی بھی اور بیماری کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ موبائل، لیپ ٹاپ اور کمپیوٹرز کا بے جا استعمال آنکھوں کے لئے کسی خطرے سے کم نہیں بالخصوص بچوں میں پایا جانے والا رحجان انتہائی خطرناک ہے لہذا ہمیں اس گیجٹس کا کم سے کم استعمال یقینی بنانا ہوگا۔پرنسپل پی جی ایم آئی نے اس واک کے انعقاد کو سراہتے ہوئے اس پہلو پر بھی زور دیا کہ بعض بچوں میں پیدائشی بھینگا پن بھی آنکھوں سے متعلق اہم مسئلہ ہے لیکن یہ امر خوش آئند ہے کہ جدید سائنسی تحقیق سے آنکھوں کے پردے اور کمزور بینائی کا بہتر علاج سامنے آ چکا ہے اور پاکستان میں امراض چشم کے شعبوں میں بہتر تکنیکی سہولیات موجود ہیں لہذا شہریوں کو کسی قسم کی ہچکچاہٹ کے بغیر آنکھوں سے متعلق فوری طور پر معالجین سے رجوع کرنا چاہیے اور بینائی کے کم ہونے اور آنکھوں سے متعلق اپنے مسائل کو ہر صورت میں سنجیدہ لینا چاہیے۔

    لڑکیوں سے بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات کی پنجاب اسمبلی میں بھی گونج

    شادی کا جھانسہ ، ویڈیو بناکر زیادتی اور پھر بلیک میل کرنے والا ملزم گرفتار

    لودھراں میں خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا واقعہ،پولیس کا کاروائی سے گریز

    دوران ڈکیتی ماں باپ کے سامنے حافظ قرآن بیٹی کے ساتھ درندوں کی زیادتی

    سکول سے گھر آنیوالی خاتون کے سامنے نوجوان نے کپڑے اتار دیئے، ویڈیو وائرل،مقدمہ درج

    تقریب کے بہانے بلا کر خاتون کے ساتھ ہوٹل میں اجتماعی زیادتی

    شوہر نے بھائی اور بھانجے کے ساتھ ملکر بیوی کے ساتھ ایسا کام کیا کہ سب گرفتار ہو گئے

    اس موقع پر ڈاکٹر لبنیٰ صدیق نے اس آگاہی واک کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ شعبہ ہر سال اس طرح کی سرگرمیاں منعقد کر کے عام آدمی کو آنکھوں کی بیماریوں سے متعلق آگاہی فراہم کرتا ہے۔انہوں نے واک کے شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ آنے والے دنوں میں آنکھوں کی بیماریوں سے متعلق مریضوں کو لاہور جنرل ہسپتال میں زیادہ بہتر سہولتیں میسر آئیں گی اور پرنسپل پروفیسر الفرید ظفر کی سربراہی میں ہم اس ہسپتال کی طرح شعبہ امراض چشم کو بھی سٹیٹ آف دی آرٹ بنانے کا سفر جاری رکھیں گے۔اس موقع پر صحت یاب ہونے والے بچوں کے والدین نے اللہ تعالی کا شکر ادا کیا اور معالجین کو جھولیاں اٹھا کر دعائیں دیں

  • علاج معالجہ کی معیاری سہولیات تک رسائی عوام کا حق ہے: ڈاکٹر زرفشاں طاہر

    علاج معالجہ کی معیاری سہولیات تک رسائی عوام کا حق ہے: ڈاکٹر زرفشاں طاہر

    علاج معالجہ کی معیاری سہولیات تک رسائی عوام کا حق ہے: ڈاکٹر زرفشاں طاہر
    ڈین انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ پروفیسر ڈاکٹر زرفشاں طاہر نے کہا ہے کہ نجی و سرکاری ہسپتالوں، کلینکس اور لیبارٹریز میں پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے وضع کردہ منیمم سروس ڈلیوری سٹینڈرڈز پر عمل کرائے بغیر مریضوں کا علاج اور ان کی شفا ء یابی مشکل کام ہے۔ علاج معالجہ کی معیاری سہولیات تک رسائی عوام کا حق ہے جس پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

    انہوں نے ان خیالات کا اظہارآئی پی ایچ میں پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے تعاون سے ایم ایس ڈی ایس بارے نجی و سرکاری ہسپتالوں کے ہیلتھ پروفیشنلز، ہیلتھ مینجرز کیلئے تربیتی کورس کے دوسرے بیج کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں پی ایچ سی کے ڈائریکٹر کلینکل گورننس ڈاکٹر مشتاق احمد سلہریا، افسران اور انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران نے شرکت کی۔ایک ماہ کے سرٹیفکیٹس ٹریننگ کورس میں نجی و سرکاری ہسپتالوں کے 19ہیلتھ مینجرز اور ہیلتھ پروفیشنلز شرکت کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر زرفشاں طاہر کا مزید کہنا تھا کہ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ صبح کی ہیلتھ فیسیلٹیز کو سکلڈاور ٹرینڈ افرادی قوت مہیا کرنے کیلئے پی ایچ سی کے منیمم سروس ڈلیوری بارے ٹریننگ پروگرام میں بھرپور تعاون جاری رکھے گا۔

    سیاسی لیڈر شپ کو سیاسی استحکام کیلئے مذاکرات کرنے ہونگے،

    تعمیراتی پراجیکٹس کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم،وزیراعظم کے معاون خصوصی کو طلب کر لیا

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر کلینکل گورننس پی ایچ سی ڈاکٹر مشتاق سلہریا کا کہنا تھا کہ ہیلتھ کیئر کمیشن تمام ہسپتالوں، لیبارٹریز اور ہر قسم کے کلینکس میں ایم ایس ڈی ایس پر عملدرامد یقینی بنانے کیلئے مانیٹرنگ اینڈ امپلیمنٹیشن کے موثر سسٹم پر بھی کام کر رہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہسپتالوں میں صحت کی معیاری سہولیات کے ساتھ صاف ستھرا ماحول، ہسپتال ویسٹ کی صحیح طریقے پر تلفی اور انفیکشن فری آپریشن تھیٹرز اور وارڈز کیلئے طے شدہ معیارات پر عملدرامد کرانا نا گزیر ہے۔ ڈاکٹر مشتاق احمد نے کہا کہ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کے تعاون سے پنجاب ہیلتھ کیئر کمشین صوبہ بھر کے سرکاری و نجی ہسپتالوں، لیبارٹریز کے معالجین اور انتظامی ڈاکٹرز کی معلومات اور آگاہی کیلئے تربیتی پروگرام جاری رکھے گا تاکہ صوبہ میں پبلک ہیلتھ بارے عوامی شعور میں اضافہ ہو اور ہسپتالوں کی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جا سکے

  • پاکستانی خواتین میں چھاتی کے سرطان میں اضافہ و شرح اموات لمحہ فکریہ

    پاکستانی خواتین میں چھاتی کے سرطان میں اضافہ و شرح اموات لمحہ فکریہ

    پاکستانی خواتین میں چھاتی کے سرطان میں اضافہ و شرح اموات لمحہ فکریہ

    خواتین میں چھاتی کا سرطان دنیا بھرکے صحت کے نظام کو درپیش چیلنجز میں سے ایک اہم ترین ہے، پاکستانی خواتین میں بریسٹ کینسر میں تیزی سے اضافہ اور بڑھتی ہوئی شرح اموات لمحہ فکریہ ہے جس کی بڑی وجہ شعور و آ گاہی میں کمی اور بیماری کی روک تھام کے حوالے سے خواتین کو مناسب رہنمائی کا فقدان اور معاشر ے میں اس کے بارے میں بات نہ کرنا شامل ہیں جن سے نمٹنے کے لئے ہم سب کو انفرادی و اجتماعی سطح پر کاوشیں کرنا ہوں گی۔

    ان خیالات کا اظہار پرنسپل کانٹی نینٹل میڈیکل کالج و حیات میموریل ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر عائشہ شوکت نے بریسٹ کینسر کے بارے میں آگاہی واک و سیمینار کے شرکاء سے خطاب میں کیا،اس موقع پر فیکلٹی ممبران، میڈیکل سٹوڈنٹس،مریض و لواحقین اور ایم ایس ڈاکٹر رانا محمد شفیق بھی موجود تھے۔ پروفیسر ڈاکٹر عائشہ شوکت نے کہا کہ اگرچہ بریسٹ کینسر ایک قابل علاج مرض ہے تاہم اس مرض کی بر وقت تشخیص وفوری علاج میں تاخیر ہونا خواتین کی زندگی کے لئے مہلک خطرات پیدا کر دیتی ہے،دنیا کے مختلف ممالک کے اعدادو شمار کے مشاہدے سے یہ بات عیاں ہے کہ اپنے نومولود کو بریسٹ فیڈ نہ کروانے والی خواتین میں چھاتی کے سرطان کا تناسب زیادہ ہے۔

    پروفیسر عائشہ شوکت نے آگاہی سیمینار و واک میں شریک خواتین اساتذہ اور میڈیکل طالبات سے کہا کہ وہ اپنے اپنے حلقہ اثر میں بریسٹ کینسر کے بارے میں خواتین کو زیادہ سے زیادہ آگاہی فراہم کریں تاکہ اس بیماری کی موثر طریقے سے روک تھام کی جا سکے۔ اُن کا کہنا تھا کہ چھاتی کے کینسر کے علاج پر کافی سرمایہ خرچ ہوتا ہے جس کا مالی بوجھ غریب فیملی کیلئے اٹھانا مشکل ہوتا ہے اور اخراجات نہ ہونے کی وجہ سے بہت سی خواتین علاج ادھورا چھوڑ دیتی ہیں جس سے یہ مرض جان لیوا بن جاتا ہے لہذا اس تمام صورتحال سے بچنے کے لئے لازمی ہے کہ مرض کی تشخیص و علاج کو ابتداء سے شروع کر دیا جائے اور خواتین اپنے بریسٹ میں کسی قسم کی درد یا” فزیکل چینج” محسوس ہونے پر فوری طور پر ڈاکٹر سے رہنمائی حاصل کریں۔ پروفیسرعائشہ شوکت و دیگر مقررین نے مزید کہا کہ پاکستان میں اس بیماری کے پھیلاؤ کی ایک وجہ یہ ہے کہ خواتین مشرقی روایات اور سوشل وجوہات کی بناء پر اپنی بیماری کو آخری حد تک پوشیدہ رکھتی ہیں اور معالجین سے اس وقت رجوع کرتی ہیں جب بیماری خطرنات صورتحال اختیار کر لیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی روک تھام کے لئے ضروری ہے کہ پڑھی لکھی خواتین کے ساتھ دیہی علاقوں میں بسنے والی عورتوں تک بھی ضروری معلومات و آگاہی پہنچائی جائے تاکہ اگر کسی خاتون کو بریسٹ میں کسی قسم کی گلٹی یا درد محسوس ہوتو وہ اسے معمولی سمجھتے ہوئے نظر انداز کرنے کی بجائے اپنے ڈاکٹر سے رجوع کرے اور متعلقہ خواتین کو میمو گرافی ٹیسٹ کروا کر حقائق کا پتہ لگایا جا سکے اور اگر خدانخواستہ سرطان کی کوئی علامات سامنے آئیں تو اس کا فوری علاج شروع کیا جائے۔ ڈاکٹرعائشہ شوکت نے کہا کہ اگر بیماری کی ابتداء سے ہپی تشخیص ہو جائے تو علاج بہت آسان اور سرجری کی نوبت نہیں آتی بلکہ ریڈی ایشن و ادویات سے بیماری کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین اپنے بچوں کو بریسٹ فیڈنگ لازمی کروائیں جو نہ صڑف اللہ کا حکم ہے۔بچوں کی بہتر نشوونما و جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ خواتین کو بھی چھاتی کے کینسر سے محفوظ رہنے میں اہم کردار ادا کرے ہیں۔

    اس موقع پر پروفیسر عندلیب خانم اور پروفیسر حوریت افضل نے بھی خصوصی گفتگو کی جبکہ سینئر پروفیسرز ،ڈاکٹرز ،نرسز اور پیرا میڈیکل سٹاف نے خواتین میں چھاتی سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیا اور اس واک کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کانٹی نینٹل میڈیکل کالج و حیات میموریل ہسپتال کی انتظامیہ کی کاشوں کو سراہا

    بریسٹ کینسر کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ،تحریر: محمد مستنصر
    بریسٹ کینسر بھی قدرتی آفات سے کم نہیں — ڈاکٹر عزیر سرویا

    بریسٹ کینسر کا عالمی دن, پنک ربن بمقابلہ ٹیبو !!! — بلال شوکت آزاد

    ملک میں بڑھتے بریسٹ کینسرکے کیسز،سپریم کورٹ نے نوٹس لے لیا

  • خواتین ڈاکٹروں کے پاس مشکل اور ایمرجنسی کیسز زیادہ ہوتے ہیں،تحقیق

    خواتین ڈاکٹروں کے پاس مشکل اور ایمرجنسی کیسز زیادہ ہوتے ہیں،تحقیق

    جاپان میں ہونے والی حالیہ تحقیق کے مطابق خواتین ڈاکٹروں کے پاس مشکل اور ایمرجنسی کیسز زیادہ ہوتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : برطانوی جریدے ’دی بی ایم جے‘ کے محققین کے مطابق مرد اور خواتین سرجن کی جراحی کی پیچیدگیاں اور شرحِ اموات یکساں ہوتی ہیں جبکہ خواتین ڈاکٹروں کے پاس مشکل اور ایمرجنسی کیسز زیادہ ہوتے ہیں خواتین کی تعداد اس شعبے میں کم ہیں لیکن ان کی صلاحیتیں مختلف نہیں ہیں۔

    رات دیر تک جاگنا ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

    محققین کے مطابق گزشتہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کینیڈا اور امریکا میں خواتین ڈاکٹرز اور سرجن صلاحیت کے اعتبار سے اپنے ہم پیشہ مردوں کے برابر یا پھر ان سے بہتر ہوتی ہیں۔

    مذکورہ تحقیق کے لیے جاپان نیشنل کلینیکل ڈیٹا بیس ( NCD) کے ڈیٹا کے مطابق محققین نے 2013ء سے 2017ء تک مرد و خواتین ڈاکٹرز اور سرجنوں کے آپریشن کے نتائج کا موازنہ کیا اس موازنے میں 149193 ڈسٹل گیسٹریکٹومی سرجری، 63417 گیسٹریکٹومی سرجری اور 81593 کم آپریشنز شامل تھے۔

    اینٹی ڈپریسنٹ کا دیر پا استعمال قلبی امراض کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے،تحقیق

    ان آپریشنز میں سے صرف 5 فیصد آپریشنز خواتین سرجنز نے انجام دیئے اور آپریشن کے نتائج میں شرح مردوں کے مقابلے میں بہتر پائی گئی تحقیق کے مطابق اسپتال انتظامیہ مشکل اور پیچیدہ کیسز کے لیے خواتین ڈاکٹرز یا سرجنز کا ہی انتخاب کرتی ہے۔

    محققین کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران خواتین ڈاکٹرز کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے2019ء کے ایک سروے کے مطابق صرف کینیڈا میں 28 فیصد اور امریکہ میں 22 فیصد خواتین سرجن ہیں 2017ء کے ایک سروے میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں 33 فیصد خواتین ڈاکٹرز سرجن ہیں، تاہم جاپان میں صورتحال مزید ابتر ہے۔

    سروے کے مطابق صرف 22 فیصد خواتین جنرل فزیشن اور 5.9 فیصد خواتین سرجنز ہیں دونوں کی صلاحیتوں اور کارکردگی میں کوئی فرق نہ ہونے کے باوجود خواتین کو کم مواقع ملتے ہیں۔

    سبزی کھانے والے افراد میں ڈپریشن کا خطرہ دو گنا زیادہ ہوتا ہے،تحقیق

  • جنرل ہسپتال کاایک اوراہم اقدام "انفیکشن پریونشن اینڈ کنٹرول”کے نام سے آن لائن ایپ متعارف

    جنرل ہسپتال کاایک اوراہم اقدام "انفیکشن پریونشن اینڈ کنٹرول”کے نام سے آن لائن ایپ متعارف

    جنرل ہسپتال کاایک اور اہم اقدام، "انفیکشن پریونشن اینڈ کنٹرول” کے نام سے آن لائن ایپ متعارف

    پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد الفرید ظفرنے کہا ہے کہ ہسپتالوں میں انفیکشن کی روک تھام، عام لوگوں کو حفظان صحت کے اصولوں کے بارے آگاہی اور احتیاطی تدابیر کے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کرنے کیلئے لاہور جنرل ہسپتال میں با ضابطہ طور پر ” انفیکشن پریونشن اینڈ کنڑول "کے نام سے آن لائن ایپ اور ویب سائٹ کا اجراء کر د یا گیا ہے جس میں ہاتھ دھونے سے لے کر آپریشن تھیٹر تک سٹرلائزیشن کے بارے میں اردو اور انگریزی میں تمام ضروری معلومات اپ لوڈ کی گئیں ہیں تاکہ شہری گھر بیٹھے اس ایپ سے استفادہ کر سکیں۔اس حوالے سے منعقدہ خصوصی تقریب میں عالمی ادارہ صحت جنیوا کے سینئر کنسلٹنٹ پروفیسر نظام دمانی،پروفیسر ارشد تقی، پروفیسر فیصل سلطان اور سی ای او ہیلتھ کئیر کمیشن ڈاکٹر ثاقب عزیز نے خصوصی شرکت کی۔ پروفیسر جودت سلیم اور ڈاکٹر آمنہ آصف نے ایپ سے متعلق بتاتے ہوئے کہا کہ اس ایپ سے میڈیکل پروفیشن سے وابستہ افراد اور عوام انفیکشن کے بارے اہم معلومات، روک تھام اور بچاؤ کے حوالے سے گائیڈ لائن حاصل کر سکتے ہیں کیونکہ انفیکشن سے پاک ماحول ہسپتالوں کے بنیادی ایس او پیز کا حصہ ہے تاکہ ہسپتال آنے والے مریض جلد صحت یاب ہو کر ڈسچار ج ہو سکیں اور کوئی نئی بیماری اپنے ساتھ نہ لے کر جائیں۔

    پرنسپل پروفیسر الفرید ظفر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں عوامی سطح پر صحت عامہ کو مضبوط بنانے کیلئے پہلے ہی ایسے اقدامات کو فروغ دیا جا رہا ہے اور ہمیں بھی جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہسپتالوں میں مریضوں کی بڑی تعداد اور بیڈز ایکوپنسی ریٹ کنٹرول کرنے کی غرض سے یہ امر اور زیادہ ضروری ہے کہ وہاں صفائی ستھرائی کا خصوصی خیال رکھا جائے اور اس سے ہیلتھ انڈیکیٹرز کوبھی مزید بہتر بنایا جائے جس کے لئے مذکورہ ایپ انتہائی مدد گار ثابت ہوگی۔ اس موقع پر لاہور کے مختلف میڈیکل کالجز کے پرنسپلز ، پروفیسرز،طب سے وابستہ افراد کی کثیر تعداد، ایم ایس ڈاکٹر خالد بن اسلم،ڈاکٹر عرفان ملک اور ڈاکٹر عبدزالعزیز و دیگر بھی موجود تھے۔ مقررین نے کہا کہ ویب سائٹ لانچ کرنے کا مقصد انفیکشن کنٹرول اور اس سے بچاؤ کیلئے ہیلتھ پروفیشن کے ساتھ شہریوں کو اُن کی دہلیز پر ضروری معلومات و احتیاطی تدابیر سے آگاہ کرنا ہے تاکہ وہ اپنے ڈور سٹیپ پر ہی جس وقت چاہیں اس سے با آسانی استفادہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں کے آپریشن تھیٹرز،وارڈز،لانڈریز، بیڈ شیٹ،طبی آلات کو انفیکشن سے پاک رکھنا ہسپتال کے بنیادی ایس و پیز کا حصہ ہے جس کا ہمیں ہر حال میں خیال رکھنا ہوگا۔پروفیسر الفرید ظفر نے مزید کہا کہ گھریلو سطح پر بھی صفائی ستھرائی کو یقینی بنانے اور انفیکشن کی روک تھام کے لئے صابن سے ہاتھ دھونے کا طریقہ اور دیگر معلومات تک رسائی ہر شہری کا حق ہے تاکہ انفرادی سطح پر بھی لو گ اپنی صحت کا تحفظ کر سکیں اور ایک صحت مند معاشرہ وجود میں آئے۔

    بیٹے کی جانب سے اہلیہ کے قتل کے بعد ایاز امیر کا موقف بھی آ گیا

    پہلے مارا، گھسیٹ کر واش روم لے گیا،ایاز امیر کے بیٹے نے سفاکیت کی انتہا کر دی

    آج ہمیں انصاف مل گیا،نور مقدم کے والد کی فیصلے کے بعد گفتگو

    ویڈیو:ڈاکوؤں سے مقابلہ کے دوران شہید کانسٹیبل کی نماز جنازہ ادا

    ایم ایس ڈاکٹر خالد بن اسلم کا کہنا تھا کہ ایل جی ایچ نے مذکورہ ایپ کا اجراء کر کے عوامی سطح پر شعور و آگاہی پھیلانے کا اپنا فرض پورا کیا ہے اب یہ معالجین اور عوام کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایل جی ایچ کی انتظامیہ اور طبی ماہرین کی جانب سے شروع کی گئی آن لائن ایپ "انفیکشن پریونشن اینڈ کنٹرول(IPAC) "سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ ڈاکٹر عرفان ملک اور ڈاکٹر احمد نعیم نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ہسپتال آمدو رفت کے دوران سگریٹ نوشی سے اجتناب اور جگہ جگہ تھوکنے سے گریز کیا کریں،مریض سے مصافحہ کرتے وقت ہاتھ دھونا نہ بھولیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کی عادت کو اپنا لیں تو کئی بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ پرنسپل نے تقریب کے اختتام پر معزز مہمانوں کو شیلڈز پیش کیں اور ان کا شکریہ ادا کیا۔

  • سبزی کھانے والے افراد میں  ڈپریشن کا خطرہ دو گنا زیادہ ہوتا ہے،تحقیق

    سبزی کھانے والے افراد میں ڈپریشن کا خطرہ دو گنا زیادہ ہوتا ہے،تحقیق

    برازیل: ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ سبزی کھانے والے افراد میں گوشت خوروں کے مقابلے میں ڈپریشن کا خطرہ دو گنا زیادہ ہوتا ہے۔

    باغی ٹی وی :جرنل آف Affective Disorders میں شائع ایک نئی طبی تحقیق میں یہ دعویٰ کیا گیا ہےکہ سبزی کھانےوالے افراد کو گوشت خوروں سے زیادہ ڈپریشن کے خطرات لاحق ہوتے ہیں اور وہ تیزی سے ڈپریشن کا شکار ہوسکتے ہیں۔

    رات دیر تک جاگنا ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

    مذکورہ تحقیق میں برازیل سےتعلق رکھنےوالے35 سے 74 سال کی عمرکے14 ہزارسے زائد افراد کی غذائی عادات کا جائزہ لیا گیا ان افراد سے سوالنامے بھروائے گئے تاکہ معلوم ہوسکے کہ وہ گوشت کھانا پسند کرتے ہیں یا صرف سبزیوں تک محدود رہتے ہیں۔

    اس کے بعد کلینیکل انٹرویو شیڈول ری وائزڈ (سی آئی ایس آر) نامی ٹول کو استعمال کرکےلوگوں میں ڈپریشن کا تعین کیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ جو افراد سبزی کھانا زیادہ پسند کرتے ہیں ان میں گوشت خوروں کے مقابلے ڈپریشن کا امکان دو گنا زیادہ ہے۔

    روزانہ دودھ کا ایک گلاس پینا اوردہی کھانا ٹائپ 2 ذیا بیطس کیلئے مفید ہے،تحقیق

    تحقیق کار اس کی کوئی مستند وجہ تو دریافت نہیں کر سکے مگر ان کا کہنا تھا کہ مختلف عناصر جیسے گوشت میں پائے جانے والے اجزا کی جسم میں کمی اس کی ممکنہ وجہ ہوسکتی ہے-

    محققین کا کہنا ہے کہ گوشت میں پروٹین، آئرن، وٹامن بی اور زنک جیسے اجزا موجود ہوتے ہیں جو دماغی افعال کے لیے اہم ہوتے ہیں اور ممکنہ طورپرڈپریشن سےتحفظ فراہم کرتے ہیں گوشت کا استعمال کم یا نہ کرنے کی وجہ سے اجزا کی جسم میں کمی ڈپریشن کی ممکنہ وجہ ہوسکتی ہے۔

    ماہرین کےمطابق جب کسی فرد کو مختلف غذائی اجزا کی کمی کا سامنا ہو تو اس سے مزاج پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں جبکہ انزائٹی اور تناؤ کا خطرہ بڑھتا ہے اگر غذائی اجزا کی کمی ڈپریشن کا باعث بنتی ہے تو اس ضمن میں تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

    انار ایک سُپر فوڈ،ذیابیطس کو روکتا ہے اور دل کی حفاظت کرتا ہے،نظام ہاضمہ کو مضبوط…

  • دنیا بھر میں ہیضے کی وباء میں تشویشناک اضافہ،ڈبلیو ایچ او

    دنیا بھر میں ہیضے کی وباء میں تشویشناک اضافہ،ڈبلیو ایچ او

    جنیوا: عالمی ادارہ صحت نےخبردار کیا کہ برسوں بعد، دنیا بھر میں ہیضے کی وباء میں پریشان کن اضافہ ہو رہا ہے-

    باغی ٹی وی: ہیضہ اور اسہال کی وبائی امراض پر ڈبلیو ایچ او کی ٹیم کے سربراہ فلپ باربوزا نے جنیوا میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صرف اس سال کے پہلے نو مہینوں میں، 26 ممالک میں ہیضے کے پھیلنے کی اطلاع ملی ہے، اس نے مزید کہا کہ 2017 اور 2021 کے درمیان، 20 سے کم ممالک میں ہر سال وبا پھیلنے کی اطلاع ملی۔

    اینٹی ڈپریسنٹ کا دیر پا استعمال قلبی امراض کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے،تحقیق

    فلپ باربوزا نے کہا کہ کئی سالوں کی گرتی ہوئی تعداد کےبعد، ہم گزشتہ چند سالوں کےدوران دنیا بھر میں ہیضےکی وباء میں تشویشناک اضافہ دیکھ رہےہیں نہ صرف ہمارے ہاں پھیلنے کی تعداد زیادہ ہے، بلکہ یہ وبا خود بھی بڑی اور زیادہ مہلک ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 2021 میں رپورٹ ہونے والی اوسط اموات کی شرح پچھلے پانچ سالوں کے مقابلے میں تقریبا تین گنا بڑھ گئی ہے باربوزا نے کہا کہ ہیضے کے روایتی محرکات جیسے کہ غربت اور تنازعات کے ساتھ ساتھ، موسمیاتی تبدیلی تیزی سے اس مرکب کا حصہ تھی۔

    اسپیلنگ میں معمولی غلطی پرٹیچرنےدلت طالبعلم کوقتل کردیا

    باربوزا نےکہا کہ سیلاب، طوفان اور خشک سالی جیسے انتہائی موسمیاتی واقعات صاف پانی تک رسائی کومزید کم کر دیتے ہیں اور ہیضے کے پھلنے پھولنے کے لیے ایک مثالی ماحول بناتے ہیں جیسا کہ موسمیاتی تبدیلی کےاثرات شدت اختیار کر رہےہیں، ہم صورتحال کے مزید خراب ہونے کی توقع کر سکتے ہیں جب تک کہ ہم ہیضے کی روک تھام کو فروغ دینے کے لیے ابھی سے کام نہ کریں۔

    فلپ باربوزا نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او کے پاس ہیضے سے ہونے والی اموات کی تعداد کا کوئی اعداد و شمار نہیں ہے، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ متاثرہ ممالک ڈیٹا تیار نہیں کرتے ہیں طلب سےزیادہ سپلائی کےساتھ ویکسین کی دستیابی انتہائی محدود ہےحالانکہ چند ملین خوراکیں باقی ہیں جو سال کے اختتام سے پہلے استعمال کی جا سکتی ہیں۔

    رات دیر تک جاگنا ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

  • اینٹی ڈپریسنٹ کا دیر پا استعمال قلبی امراض کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے،تحقیق

    اینٹی ڈپریسنٹ کا دیر پا استعمال قلبی امراض کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے،تحقیق

    ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ اینٹی ڈپریسنٹ کا دیر پا استعمال قلبی امراض کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے۔ لیکن ماہرین نے مریضوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ادویات کا استعمال ترک نہ کریں۔

    باغی ٹی وی : تقریباً ایک چوتھائی ملین برطانویوں کو ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک فالو کیا گیا اور دوائیوں اور دل کی بیماری پر لوگوں کے درمیان ایک ربط پایا گیا۔

    روزانہ دودھ کا ایک گلاس پینا اوردہی کھانا ٹائپ 2 ذیا بیطس کیلئے مفید ہے،تحقیق

    اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ SSRIs (سلیکٹیو سیروٹونن ری اپٹیک انہیبیٹرز) کے نام سے جانے والے عام اینٹی ڈپریسنٹس پر لوگوں کے لیے سِٹیلوپریم، سرٹرالائن، فلوشیٹائن اور پیروکسیٹائن ان لوگوں کے مقابلے میں دل کی بیماری کا خطرہ 34 فیصد زیادہ تھا جو گولیاں نہیں کھاتے تھے۔

    برطانیہ کی یونیورسٹی آف برسٹل کے محققین نے 10 سالوں تک انسداد ڈپریشن کی ادویات کھانے اور قلبی امرض میں اضافے، امراضِ قلب سے اموات اور کسی بھی سبب سے قبل از وقت موت کے درمیان تعلق پایا ہے۔

    ماہرین نے تحقیق میں 12 انسداد ڈپریشن ادویات کا مطالعہ کیا۔ان ادویات میں سلیکٹیِو سیروٹونِن ری اپٹیک اِنہیبیٹرز (SSRIs) سِٹیلوپریم، سرٹرالائن، فلوشیٹائن اور پیروکسیٹائن شامل تھیں ان ادویات میں عام طور پر(تقریباً 80 فی صد) لکھی جانے والی دوا SSRIs تھی۔انسداد ڈپریشن ادویات کھانے والے افراد کا 10 سال تک معائنہ کیا گیا۔

    اسقاط حمل اور پیدائشی نقائص کی وجہ بننے والے ایک اہم جین کا انکشاف اور علاج دریافت

    نتائج میں معلوم ہوا کہ وہ افراد جو SSRIs کھاتے تھے ان کے قلبی امراض میں مبتلا ہونے کے امکانات میں 34 فی صد اضافہ ہوا، امراضِ قلب سے موت واقع ہونے کے امکانات دُگنے ہوئےاور کسی بھی وجہ سے قبل از وقت موت واقع ہونے کے امکانات 73 فی صد تک بڑھ گئے تھے۔

    دیگر انسداد ڈپریسنٹ ادویات جیسے میرٹازاپائن، وینلا فیکسین، ڈولوکسیٹائن اور ٹرازوڈون کے استعمال سے تمام خطرات تقریباً دُگنے ہوگئے تھے۔

    محققین کا کہنا تھا کہ وہ یہ بات یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ قلبی مسائل کے خطرات میں اضافے کا سبب خود ڈپریشن نہیں ہے۔ دیگر ماہرین نے اس بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو تحقیق کے نتائج سے فکر مند ہوتے ہوئے دوا کااستعمال نہیں چھوڑنا چاہیئے۔

    تاہم، برسٹل یونیورسٹی کے سائنسدانوں کے جمع کردہ اعداد و شمار میں یہ بھی پایا گیا کہ اینٹی ڈپریسنٹس ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر کے خطرے کو بالترتیب 32 فیصد اور 23 فیصد تک کم کرتے ہیں۔

    برٹش جرنل آف سائیکیاٹری اوپن میں شائع ہونے والی تحقیق میں 2 لاکھ 20 ہزار 121 افراد کا ڈیٹا شامل تھا۔ 40 سے 69 برس کے درمیان لوگوں کا ڈیٹا یو کے بائیو بینک سے لیا گیا تھا۔

    انار ایک سُپر فوڈ،ذیابیطس کو روکتا ہے اور دل کی حفاظت کرتا ہے،نظام ہاضمہ کو مضبوط کرتا ہے

    مطالعہ کے سرکردہ مصنف ڈاکٹر نریندر بنسل نے کہا کہ لوگوں کو اپنی دوائیں اچانک لینا بند نہیں کرنی چاہیے اور کسی بھی پریشانی کے بارے میں اپنے ڈاکٹر سے بات کرنی چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی ان کے اینٹی ڈپریسنٹس کے طویل مدتی استعمال کے بارے میں کوئی تشویش ہے، ہم ان سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ دوائی لینا بند کرنے سے پہلے اپنے جی پی سے بات کریں۔ یہ بہت ضروری ہے کہ وہ انہیں اچانک لینا بند نہ کریں-

    "اس بات کا اندازہ لگانے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ آیا ہم نے جو نتائج دیکھے ہیں وہ حقیقی طور پر منشیات کی وجہ سے ہیں، اور اگر ایسا ہے تو ایسا کیوں ہو سکتا ہے۔

    "دریں اثنا، طبی ماہرین کے لیے ہمارا پیغام یہ ہے کہ طویل مدتی میں اینٹی ڈپریسنٹس تجویز کرنا نقصان سے خالی نہیں ہو سکتا۔

    آئرن کی کمی کے شکار افراد کے لیے بکراعید اللہ کی نعمت ہے،ماہرین غذائیت

  • رات  دیر تک جاگنا ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

    رات دیر تک جاگنا ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

    ماہرین نے ایک نئی تحقیق میں معلوم کیا ہے کہ رات کو دیر تک جاگنا جسم میں چکنائی بننے کا سبب سکتا ہے جس کے نتیجے میں ٹائپ 2 ذیا بیطس لاحق ہونے کے خطرات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

    باغی ٹی وی: امریکی ریاست نیو جرسی کے شہر نیو برنس وِک میں قائم رُٹگرز یونیورسٹی کے محققین کو ایک تحقیق میں معلوم ہوا کہ رات کو دیر تک جاگنے والوں کو غیر معمولی نیند کی معمول کے سبب متاثر میٹابولزم کی وجہ سے ذیا بیطس کے خطرات ہوتے ہیں۔

    وہ لوگ جو صبح جلدی اٹھتے ہیں وہ چکنائی کو آرام یا ورزش کے دوران توانائی کے ذریعے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ نتیجتاً ان میں چکنائی کم جمع ہوتی ہے اور ان میں بیماری کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔

    اس سے قبل بھی رواں سال کے ابتداء میں شائع ہونے والی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ سوتے وقت روشنی کا موجود ہونا کسی بھی فرد میں ذیابیطس ہونے امکانات بڑھا دیتا ہے جس سے تقریباً 10 فی صد امریکی متاثر ہوتے ہیں۔

    یونیورسٹی میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر فرائض انجام دینے والے ڈاکٹر اسٹیون میلِن کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ جلدی اٹھنے والوں اور رات دیر سے سونے والوں کے درمیان چکنائی کے میٹابولزم میں فرق یہ بتاتا ہیں کہ جسم کی اندرونی گھڑی (سونےجاگنے کا سائیکل) ہمارے جسم کے انسولین کے استعمال کو متاثر کرسکتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ انسولین ہارمون کے جواب میں حساس یا کمزور صلاحیت ہماری صحت پر بڑے اثرات ڈال سکتی ہے۔ تحقیق کے نتائج نے ہمارے جسم کی اندرونی گھڑی کے ہماری صحت پر اثرات کے متعلق سمجھ میں اضافہ کیا ہے۔

    قبل ازیں ایک تحقیق میں ماہرین کا کہنا تھا کہ روزانہ دودھ کا ایک گلاس پینے اوردہی کھانے سے ٹائپ 2 ذیا بیطس سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے، بیف،مٹن، پروسیسڈ اور چکن کا گوشت کا زیادہ استعمال متضاد اثرات کا سبب بن سکتا ہے۔

    پھلوں اور سبزیوں کےاستعمال سے ذیابیطس اور موٹاپے پرقابوپایا جا سکتا ہے ،تحقیق

    اطالوی تحقیق میں حاصل ہونے والے نتائج کی بنا پر محققین نے زیادہ گوشت کھانے والوں کو مچھلی کا گوشت اور انڈے بطور متبادل غذا کے تجویز کئے ہیں،سائنسدانوں کی جانب سے یہ نتائج ڈیری اشیاء کے خلاف بڑھتےرجحان کے دوران آئے ہی-ں

    ماہرین کے مطابق دودھ، مکھن اور پنیر میں بڑی مقدار میں کیلوریزاورسوچوریٹڈ چکنائی(وہ چکنائی جو عام درجہ حرارت پر نہیں پِگھلتی) ہوتی ہے جو متعدد صحت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔

    ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرات کو کم کرنے کے لیے ماہرین پودوں پر اگنے والی غذا یعنی اجناس، سبزیاں، پھل، دالیں اور کم چکنائی والا دودھ اور دہی کھانے کی ہدایت کرتے ہیں۔

    موسم گرما میں ذیابطیس کے مریضوں کیلئے بہترین غذا

  • بہاولنگر: اقصیٰ پبلک سکول میں فری آئی کیمپ،200 مریضوں کا علاج ، 60 کو اپریشن کی تاریخ

    بہاولنگر: اقصیٰ پبلک سکول میں فری آئی کیمپ،200 مریضوں کا علاج ، 60 کو اپریشن کی تاریخ

    باغی ٹی وی : بہاولنگر(محمد عرفان کی رپورٹ) اقصیٰ پبلک سکول میں فری آئی کیمپ،200 مریضوں کا علاج ، 60 کو مفت اپریشن کی تاریخ کی دی گئی
    تفصیلات کے مطابق اقصٰی پبلک سکول جھنڈیر کالونی موضع کوٹلی مہتم میں 18 ستمبر 2022 بروز اتوار کو ایک فری آٸی کیمپ لگایا گیاجس میں لاہور کے مایہ ناز ڈاکٹرز آٸی سپیشلسٹ فیکو سرجن ڈاکٹر تیمور خاں . ڈاکٹر آف آپٹومیٹری آٸی فزیشن ڈاکٹر محمد اکمل . ایفتھلمک ٹیکنالوجسٹ رفریٸنشسٹ علی نواز مغل نے تمام مریضوں کافری چیک اپ کیا اور مفت ادویات بھی فراہم کیں اس کیمپ میں 200مریضوں کا چیک اپ اور 60 مریضوں کو آپریشن کے لیےٹائم دیا گیا اس کیمپ کو اقصی پبلک سکول جھنڈیر کالونی کے پرنسپل غلام عباس بھٹی وائس پرنسپل قاری محمد مراد جھنڈیر نے آرگنائز کرایا اس کیمپ میں میلسی، وہاڑی ، لڈن ، ہیڈاسلام ، دھلو، ہیڈ سیفن ،گڑھاموڑ اور ارد گرد کے تمام قصبات سے لوگ اپنی آنکھوں کا معائنہ کرا نے آئے.