Baaghi TV

Category: صحت

  • خواتین ڈاکٹروں کے پاس مشکل اور ایمرجنسی کیسز زیادہ ہوتے ہیں،تحقیق

    خواتین ڈاکٹروں کے پاس مشکل اور ایمرجنسی کیسز زیادہ ہوتے ہیں،تحقیق

    جاپان میں ہونے والی حالیہ تحقیق کے مطابق خواتین ڈاکٹروں کے پاس مشکل اور ایمرجنسی کیسز زیادہ ہوتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : برطانوی جریدے ’دی بی ایم جے‘ کے محققین کے مطابق مرد اور خواتین سرجن کی جراحی کی پیچیدگیاں اور شرحِ اموات یکساں ہوتی ہیں جبکہ خواتین ڈاکٹروں کے پاس مشکل اور ایمرجنسی کیسز زیادہ ہوتے ہیں خواتین کی تعداد اس شعبے میں کم ہیں لیکن ان کی صلاحیتیں مختلف نہیں ہیں۔

    رات دیر تک جاگنا ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

    محققین کے مطابق گزشتہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کینیڈا اور امریکا میں خواتین ڈاکٹرز اور سرجن صلاحیت کے اعتبار سے اپنے ہم پیشہ مردوں کے برابر یا پھر ان سے بہتر ہوتی ہیں۔

    مذکورہ تحقیق کے لیے جاپان نیشنل کلینیکل ڈیٹا بیس ( NCD) کے ڈیٹا کے مطابق محققین نے 2013ء سے 2017ء تک مرد و خواتین ڈاکٹرز اور سرجنوں کے آپریشن کے نتائج کا موازنہ کیا اس موازنے میں 149193 ڈسٹل گیسٹریکٹومی سرجری، 63417 گیسٹریکٹومی سرجری اور 81593 کم آپریشنز شامل تھے۔

    اینٹی ڈپریسنٹ کا دیر پا استعمال قلبی امراض کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے،تحقیق

    ان آپریشنز میں سے صرف 5 فیصد آپریشنز خواتین سرجنز نے انجام دیئے اور آپریشن کے نتائج میں شرح مردوں کے مقابلے میں بہتر پائی گئی تحقیق کے مطابق اسپتال انتظامیہ مشکل اور پیچیدہ کیسز کے لیے خواتین ڈاکٹرز یا سرجنز کا ہی انتخاب کرتی ہے۔

    محققین کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران خواتین ڈاکٹرز کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے2019ء کے ایک سروے کے مطابق صرف کینیڈا میں 28 فیصد اور امریکہ میں 22 فیصد خواتین سرجن ہیں 2017ء کے ایک سروے میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں 33 فیصد خواتین ڈاکٹرز سرجن ہیں، تاہم جاپان میں صورتحال مزید ابتر ہے۔

    سروے کے مطابق صرف 22 فیصد خواتین جنرل فزیشن اور 5.9 فیصد خواتین سرجنز ہیں دونوں کی صلاحیتوں اور کارکردگی میں کوئی فرق نہ ہونے کے باوجود خواتین کو کم مواقع ملتے ہیں۔

    سبزی کھانے والے افراد میں ڈپریشن کا خطرہ دو گنا زیادہ ہوتا ہے،تحقیق

  • جنرل ہسپتال کاایک اوراہم اقدام "انفیکشن پریونشن اینڈ کنٹرول”کے نام سے آن لائن ایپ متعارف

    جنرل ہسپتال کاایک اوراہم اقدام "انفیکشن پریونشن اینڈ کنٹرول”کے نام سے آن لائن ایپ متعارف

    جنرل ہسپتال کاایک اور اہم اقدام، "انفیکشن پریونشن اینڈ کنٹرول” کے نام سے آن لائن ایپ متعارف

    پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد الفرید ظفرنے کہا ہے کہ ہسپتالوں میں انفیکشن کی روک تھام، عام لوگوں کو حفظان صحت کے اصولوں کے بارے آگاہی اور احتیاطی تدابیر کے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کرنے کیلئے لاہور جنرل ہسپتال میں با ضابطہ طور پر ” انفیکشن پریونشن اینڈ کنڑول "کے نام سے آن لائن ایپ اور ویب سائٹ کا اجراء کر د یا گیا ہے جس میں ہاتھ دھونے سے لے کر آپریشن تھیٹر تک سٹرلائزیشن کے بارے میں اردو اور انگریزی میں تمام ضروری معلومات اپ لوڈ کی گئیں ہیں تاکہ شہری گھر بیٹھے اس ایپ سے استفادہ کر سکیں۔اس حوالے سے منعقدہ خصوصی تقریب میں عالمی ادارہ صحت جنیوا کے سینئر کنسلٹنٹ پروفیسر نظام دمانی،پروفیسر ارشد تقی، پروفیسر فیصل سلطان اور سی ای او ہیلتھ کئیر کمیشن ڈاکٹر ثاقب عزیز نے خصوصی شرکت کی۔ پروفیسر جودت سلیم اور ڈاکٹر آمنہ آصف نے ایپ سے متعلق بتاتے ہوئے کہا کہ اس ایپ سے میڈیکل پروفیشن سے وابستہ افراد اور عوام انفیکشن کے بارے اہم معلومات، روک تھام اور بچاؤ کے حوالے سے گائیڈ لائن حاصل کر سکتے ہیں کیونکہ انفیکشن سے پاک ماحول ہسپتالوں کے بنیادی ایس او پیز کا حصہ ہے تاکہ ہسپتال آنے والے مریض جلد صحت یاب ہو کر ڈسچار ج ہو سکیں اور کوئی نئی بیماری اپنے ساتھ نہ لے کر جائیں۔

    پرنسپل پروفیسر الفرید ظفر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں عوامی سطح پر صحت عامہ کو مضبوط بنانے کیلئے پہلے ہی ایسے اقدامات کو فروغ دیا جا رہا ہے اور ہمیں بھی جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہسپتالوں میں مریضوں کی بڑی تعداد اور بیڈز ایکوپنسی ریٹ کنٹرول کرنے کی غرض سے یہ امر اور زیادہ ضروری ہے کہ وہاں صفائی ستھرائی کا خصوصی خیال رکھا جائے اور اس سے ہیلتھ انڈیکیٹرز کوبھی مزید بہتر بنایا جائے جس کے لئے مذکورہ ایپ انتہائی مدد گار ثابت ہوگی۔ اس موقع پر لاہور کے مختلف میڈیکل کالجز کے پرنسپلز ، پروفیسرز،طب سے وابستہ افراد کی کثیر تعداد، ایم ایس ڈاکٹر خالد بن اسلم،ڈاکٹر عرفان ملک اور ڈاکٹر عبدزالعزیز و دیگر بھی موجود تھے۔ مقررین نے کہا کہ ویب سائٹ لانچ کرنے کا مقصد انفیکشن کنٹرول اور اس سے بچاؤ کیلئے ہیلتھ پروفیشن کے ساتھ شہریوں کو اُن کی دہلیز پر ضروری معلومات و احتیاطی تدابیر سے آگاہ کرنا ہے تاکہ وہ اپنے ڈور سٹیپ پر ہی جس وقت چاہیں اس سے با آسانی استفادہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں کے آپریشن تھیٹرز،وارڈز،لانڈریز، بیڈ شیٹ،طبی آلات کو انفیکشن سے پاک رکھنا ہسپتال کے بنیادی ایس و پیز کا حصہ ہے جس کا ہمیں ہر حال میں خیال رکھنا ہوگا۔پروفیسر الفرید ظفر نے مزید کہا کہ گھریلو سطح پر بھی صفائی ستھرائی کو یقینی بنانے اور انفیکشن کی روک تھام کے لئے صابن سے ہاتھ دھونے کا طریقہ اور دیگر معلومات تک رسائی ہر شہری کا حق ہے تاکہ انفرادی سطح پر بھی لو گ اپنی صحت کا تحفظ کر سکیں اور ایک صحت مند معاشرہ وجود میں آئے۔

    بیٹے کی جانب سے اہلیہ کے قتل کے بعد ایاز امیر کا موقف بھی آ گیا

    پہلے مارا، گھسیٹ کر واش روم لے گیا،ایاز امیر کے بیٹے نے سفاکیت کی انتہا کر دی

    آج ہمیں انصاف مل گیا،نور مقدم کے والد کی فیصلے کے بعد گفتگو

    ویڈیو:ڈاکوؤں سے مقابلہ کے دوران شہید کانسٹیبل کی نماز جنازہ ادا

    ایم ایس ڈاکٹر خالد بن اسلم کا کہنا تھا کہ ایل جی ایچ نے مذکورہ ایپ کا اجراء کر کے عوامی سطح پر شعور و آگاہی پھیلانے کا اپنا فرض پورا کیا ہے اب یہ معالجین اور عوام کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایل جی ایچ کی انتظامیہ اور طبی ماہرین کی جانب سے شروع کی گئی آن لائن ایپ "انفیکشن پریونشن اینڈ کنٹرول(IPAC) "سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ ڈاکٹر عرفان ملک اور ڈاکٹر احمد نعیم نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ہسپتال آمدو رفت کے دوران سگریٹ نوشی سے اجتناب اور جگہ جگہ تھوکنے سے گریز کیا کریں،مریض سے مصافحہ کرتے وقت ہاتھ دھونا نہ بھولیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کی عادت کو اپنا لیں تو کئی بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ پرنسپل نے تقریب کے اختتام پر معزز مہمانوں کو شیلڈز پیش کیں اور ان کا شکریہ ادا کیا۔

  • سبزی کھانے والے افراد میں  ڈپریشن کا خطرہ دو گنا زیادہ ہوتا ہے،تحقیق

    سبزی کھانے والے افراد میں ڈپریشن کا خطرہ دو گنا زیادہ ہوتا ہے،تحقیق

    برازیل: ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ سبزی کھانے والے افراد میں گوشت خوروں کے مقابلے میں ڈپریشن کا خطرہ دو گنا زیادہ ہوتا ہے۔

    باغی ٹی وی :جرنل آف Affective Disorders میں شائع ایک نئی طبی تحقیق میں یہ دعویٰ کیا گیا ہےکہ سبزی کھانےوالے افراد کو گوشت خوروں سے زیادہ ڈپریشن کے خطرات لاحق ہوتے ہیں اور وہ تیزی سے ڈپریشن کا شکار ہوسکتے ہیں۔

    رات دیر تک جاگنا ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

    مذکورہ تحقیق میں برازیل سےتعلق رکھنےوالے35 سے 74 سال کی عمرکے14 ہزارسے زائد افراد کی غذائی عادات کا جائزہ لیا گیا ان افراد سے سوالنامے بھروائے گئے تاکہ معلوم ہوسکے کہ وہ گوشت کھانا پسند کرتے ہیں یا صرف سبزیوں تک محدود رہتے ہیں۔

    اس کے بعد کلینیکل انٹرویو شیڈول ری وائزڈ (سی آئی ایس آر) نامی ٹول کو استعمال کرکےلوگوں میں ڈپریشن کا تعین کیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ جو افراد سبزی کھانا زیادہ پسند کرتے ہیں ان میں گوشت خوروں کے مقابلے ڈپریشن کا امکان دو گنا زیادہ ہے۔

    روزانہ دودھ کا ایک گلاس پینا اوردہی کھانا ٹائپ 2 ذیا بیطس کیلئے مفید ہے،تحقیق

    تحقیق کار اس کی کوئی مستند وجہ تو دریافت نہیں کر سکے مگر ان کا کہنا تھا کہ مختلف عناصر جیسے گوشت میں پائے جانے والے اجزا کی جسم میں کمی اس کی ممکنہ وجہ ہوسکتی ہے-

    محققین کا کہنا ہے کہ گوشت میں پروٹین، آئرن، وٹامن بی اور زنک جیسے اجزا موجود ہوتے ہیں جو دماغی افعال کے لیے اہم ہوتے ہیں اور ممکنہ طورپرڈپریشن سےتحفظ فراہم کرتے ہیں گوشت کا استعمال کم یا نہ کرنے کی وجہ سے اجزا کی جسم میں کمی ڈپریشن کی ممکنہ وجہ ہوسکتی ہے۔

    ماہرین کےمطابق جب کسی فرد کو مختلف غذائی اجزا کی کمی کا سامنا ہو تو اس سے مزاج پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں جبکہ انزائٹی اور تناؤ کا خطرہ بڑھتا ہے اگر غذائی اجزا کی کمی ڈپریشن کا باعث بنتی ہے تو اس ضمن میں تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

    انار ایک سُپر فوڈ،ذیابیطس کو روکتا ہے اور دل کی حفاظت کرتا ہے،نظام ہاضمہ کو مضبوط…

  • دنیا بھر میں ہیضے کی وباء میں تشویشناک اضافہ،ڈبلیو ایچ او

    دنیا بھر میں ہیضے کی وباء میں تشویشناک اضافہ،ڈبلیو ایچ او

    جنیوا: عالمی ادارہ صحت نےخبردار کیا کہ برسوں بعد، دنیا بھر میں ہیضے کی وباء میں پریشان کن اضافہ ہو رہا ہے-

    باغی ٹی وی: ہیضہ اور اسہال کی وبائی امراض پر ڈبلیو ایچ او کی ٹیم کے سربراہ فلپ باربوزا نے جنیوا میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صرف اس سال کے پہلے نو مہینوں میں، 26 ممالک میں ہیضے کے پھیلنے کی اطلاع ملی ہے، اس نے مزید کہا کہ 2017 اور 2021 کے درمیان، 20 سے کم ممالک میں ہر سال وبا پھیلنے کی اطلاع ملی۔

    اینٹی ڈپریسنٹ کا دیر پا استعمال قلبی امراض کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے،تحقیق

    فلپ باربوزا نے کہا کہ کئی سالوں کی گرتی ہوئی تعداد کےبعد، ہم گزشتہ چند سالوں کےدوران دنیا بھر میں ہیضےکی وباء میں تشویشناک اضافہ دیکھ رہےہیں نہ صرف ہمارے ہاں پھیلنے کی تعداد زیادہ ہے، بلکہ یہ وبا خود بھی بڑی اور زیادہ مہلک ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 2021 میں رپورٹ ہونے والی اوسط اموات کی شرح پچھلے پانچ سالوں کے مقابلے میں تقریبا تین گنا بڑھ گئی ہے باربوزا نے کہا کہ ہیضے کے روایتی محرکات جیسے کہ غربت اور تنازعات کے ساتھ ساتھ، موسمیاتی تبدیلی تیزی سے اس مرکب کا حصہ تھی۔

    اسپیلنگ میں معمولی غلطی پرٹیچرنےدلت طالبعلم کوقتل کردیا

    باربوزا نےکہا کہ سیلاب، طوفان اور خشک سالی جیسے انتہائی موسمیاتی واقعات صاف پانی تک رسائی کومزید کم کر دیتے ہیں اور ہیضے کے پھلنے پھولنے کے لیے ایک مثالی ماحول بناتے ہیں جیسا کہ موسمیاتی تبدیلی کےاثرات شدت اختیار کر رہےہیں، ہم صورتحال کے مزید خراب ہونے کی توقع کر سکتے ہیں جب تک کہ ہم ہیضے کی روک تھام کو فروغ دینے کے لیے ابھی سے کام نہ کریں۔

    فلپ باربوزا نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او کے پاس ہیضے سے ہونے والی اموات کی تعداد کا کوئی اعداد و شمار نہیں ہے، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ متاثرہ ممالک ڈیٹا تیار نہیں کرتے ہیں طلب سےزیادہ سپلائی کےساتھ ویکسین کی دستیابی انتہائی محدود ہےحالانکہ چند ملین خوراکیں باقی ہیں جو سال کے اختتام سے پہلے استعمال کی جا سکتی ہیں۔

    رات دیر تک جاگنا ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

  • اینٹی ڈپریسنٹ کا دیر پا استعمال قلبی امراض کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے،تحقیق

    اینٹی ڈپریسنٹ کا دیر پا استعمال قلبی امراض کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے،تحقیق

    ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ اینٹی ڈپریسنٹ کا دیر پا استعمال قلبی امراض کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے۔ لیکن ماہرین نے مریضوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ادویات کا استعمال ترک نہ کریں۔

    باغی ٹی وی : تقریباً ایک چوتھائی ملین برطانویوں کو ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک فالو کیا گیا اور دوائیوں اور دل کی بیماری پر لوگوں کے درمیان ایک ربط پایا گیا۔

    روزانہ دودھ کا ایک گلاس پینا اوردہی کھانا ٹائپ 2 ذیا بیطس کیلئے مفید ہے،تحقیق

    اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ SSRIs (سلیکٹیو سیروٹونن ری اپٹیک انہیبیٹرز) کے نام سے جانے والے عام اینٹی ڈپریسنٹس پر لوگوں کے لیے سِٹیلوپریم، سرٹرالائن، فلوشیٹائن اور پیروکسیٹائن ان لوگوں کے مقابلے میں دل کی بیماری کا خطرہ 34 فیصد زیادہ تھا جو گولیاں نہیں کھاتے تھے۔

    برطانیہ کی یونیورسٹی آف برسٹل کے محققین نے 10 سالوں تک انسداد ڈپریشن کی ادویات کھانے اور قلبی امرض میں اضافے، امراضِ قلب سے اموات اور کسی بھی سبب سے قبل از وقت موت کے درمیان تعلق پایا ہے۔

    ماہرین نے تحقیق میں 12 انسداد ڈپریشن ادویات کا مطالعہ کیا۔ان ادویات میں سلیکٹیِو سیروٹونِن ری اپٹیک اِنہیبیٹرز (SSRIs) سِٹیلوپریم، سرٹرالائن، فلوشیٹائن اور پیروکسیٹائن شامل تھیں ان ادویات میں عام طور پر(تقریباً 80 فی صد) لکھی جانے والی دوا SSRIs تھی۔انسداد ڈپریشن ادویات کھانے والے افراد کا 10 سال تک معائنہ کیا گیا۔

    اسقاط حمل اور پیدائشی نقائص کی وجہ بننے والے ایک اہم جین کا انکشاف اور علاج دریافت

    نتائج میں معلوم ہوا کہ وہ افراد جو SSRIs کھاتے تھے ان کے قلبی امراض میں مبتلا ہونے کے امکانات میں 34 فی صد اضافہ ہوا، امراضِ قلب سے موت واقع ہونے کے امکانات دُگنے ہوئےاور کسی بھی وجہ سے قبل از وقت موت واقع ہونے کے امکانات 73 فی صد تک بڑھ گئے تھے۔

    دیگر انسداد ڈپریسنٹ ادویات جیسے میرٹازاپائن، وینلا فیکسین، ڈولوکسیٹائن اور ٹرازوڈون کے استعمال سے تمام خطرات تقریباً دُگنے ہوگئے تھے۔

    محققین کا کہنا تھا کہ وہ یہ بات یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ قلبی مسائل کے خطرات میں اضافے کا سبب خود ڈپریشن نہیں ہے۔ دیگر ماہرین نے اس بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو تحقیق کے نتائج سے فکر مند ہوتے ہوئے دوا کااستعمال نہیں چھوڑنا چاہیئے۔

    تاہم، برسٹل یونیورسٹی کے سائنسدانوں کے جمع کردہ اعداد و شمار میں یہ بھی پایا گیا کہ اینٹی ڈپریسنٹس ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر کے خطرے کو بالترتیب 32 فیصد اور 23 فیصد تک کم کرتے ہیں۔

    برٹش جرنل آف سائیکیاٹری اوپن میں شائع ہونے والی تحقیق میں 2 لاکھ 20 ہزار 121 افراد کا ڈیٹا شامل تھا۔ 40 سے 69 برس کے درمیان لوگوں کا ڈیٹا یو کے بائیو بینک سے لیا گیا تھا۔

    انار ایک سُپر فوڈ،ذیابیطس کو روکتا ہے اور دل کی حفاظت کرتا ہے،نظام ہاضمہ کو مضبوط کرتا ہے

    مطالعہ کے سرکردہ مصنف ڈاکٹر نریندر بنسل نے کہا کہ لوگوں کو اپنی دوائیں اچانک لینا بند نہیں کرنی چاہیے اور کسی بھی پریشانی کے بارے میں اپنے ڈاکٹر سے بات کرنی چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی ان کے اینٹی ڈپریسنٹس کے طویل مدتی استعمال کے بارے میں کوئی تشویش ہے، ہم ان سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ دوائی لینا بند کرنے سے پہلے اپنے جی پی سے بات کریں۔ یہ بہت ضروری ہے کہ وہ انہیں اچانک لینا بند نہ کریں-

    "اس بات کا اندازہ لگانے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ آیا ہم نے جو نتائج دیکھے ہیں وہ حقیقی طور پر منشیات کی وجہ سے ہیں، اور اگر ایسا ہے تو ایسا کیوں ہو سکتا ہے۔

    "دریں اثنا، طبی ماہرین کے لیے ہمارا پیغام یہ ہے کہ طویل مدتی میں اینٹی ڈپریسنٹس تجویز کرنا نقصان سے خالی نہیں ہو سکتا۔

    آئرن کی کمی کے شکار افراد کے لیے بکراعید اللہ کی نعمت ہے،ماہرین غذائیت

  • رات  دیر تک جاگنا ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

    رات دیر تک جاگنا ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

    ماہرین نے ایک نئی تحقیق میں معلوم کیا ہے کہ رات کو دیر تک جاگنا جسم میں چکنائی بننے کا سبب سکتا ہے جس کے نتیجے میں ٹائپ 2 ذیا بیطس لاحق ہونے کے خطرات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

    باغی ٹی وی: امریکی ریاست نیو جرسی کے شہر نیو برنس وِک میں قائم رُٹگرز یونیورسٹی کے محققین کو ایک تحقیق میں معلوم ہوا کہ رات کو دیر تک جاگنے والوں کو غیر معمولی نیند کی معمول کے سبب متاثر میٹابولزم کی وجہ سے ذیا بیطس کے خطرات ہوتے ہیں۔

    وہ لوگ جو صبح جلدی اٹھتے ہیں وہ چکنائی کو آرام یا ورزش کے دوران توانائی کے ذریعے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ نتیجتاً ان میں چکنائی کم جمع ہوتی ہے اور ان میں بیماری کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔

    اس سے قبل بھی رواں سال کے ابتداء میں شائع ہونے والی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ سوتے وقت روشنی کا موجود ہونا کسی بھی فرد میں ذیابیطس ہونے امکانات بڑھا دیتا ہے جس سے تقریباً 10 فی صد امریکی متاثر ہوتے ہیں۔

    یونیورسٹی میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر فرائض انجام دینے والے ڈاکٹر اسٹیون میلِن کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ جلدی اٹھنے والوں اور رات دیر سے سونے والوں کے درمیان چکنائی کے میٹابولزم میں فرق یہ بتاتا ہیں کہ جسم کی اندرونی گھڑی (سونےجاگنے کا سائیکل) ہمارے جسم کے انسولین کے استعمال کو متاثر کرسکتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ انسولین ہارمون کے جواب میں حساس یا کمزور صلاحیت ہماری صحت پر بڑے اثرات ڈال سکتی ہے۔ تحقیق کے نتائج نے ہمارے جسم کی اندرونی گھڑی کے ہماری صحت پر اثرات کے متعلق سمجھ میں اضافہ کیا ہے۔

    قبل ازیں ایک تحقیق میں ماہرین کا کہنا تھا کہ روزانہ دودھ کا ایک گلاس پینے اوردہی کھانے سے ٹائپ 2 ذیا بیطس سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے، بیف،مٹن، پروسیسڈ اور چکن کا گوشت کا زیادہ استعمال متضاد اثرات کا سبب بن سکتا ہے۔

    پھلوں اور سبزیوں کےاستعمال سے ذیابیطس اور موٹاپے پرقابوپایا جا سکتا ہے ،تحقیق

    اطالوی تحقیق میں حاصل ہونے والے نتائج کی بنا پر محققین نے زیادہ گوشت کھانے والوں کو مچھلی کا گوشت اور انڈے بطور متبادل غذا کے تجویز کئے ہیں،سائنسدانوں کی جانب سے یہ نتائج ڈیری اشیاء کے خلاف بڑھتےرجحان کے دوران آئے ہی-ں

    ماہرین کے مطابق دودھ، مکھن اور پنیر میں بڑی مقدار میں کیلوریزاورسوچوریٹڈ چکنائی(وہ چکنائی جو عام درجہ حرارت پر نہیں پِگھلتی) ہوتی ہے جو متعدد صحت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔

    ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرات کو کم کرنے کے لیے ماہرین پودوں پر اگنے والی غذا یعنی اجناس، سبزیاں، پھل، دالیں اور کم چکنائی والا دودھ اور دہی کھانے کی ہدایت کرتے ہیں۔

    موسم گرما میں ذیابطیس کے مریضوں کیلئے بہترین غذا

  • بہاولنگر: اقصیٰ پبلک سکول میں فری آئی کیمپ،200 مریضوں کا علاج ، 60 کو اپریشن کی تاریخ

    بہاولنگر: اقصیٰ پبلک سکول میں فری آئی کیمپ،200 مریضوں کا علاج ، 60 کو اپریشن کی تاریخ

    باغی ٹی وی : بہاولنگر(محمد عرفان کی رپورٹ) اقصیٰ پبلک سکول میں فری آئی کیمپ،200 مریضوں کا علاج ، 60 کو مفت اپریشن کی تاریخ کی دی گئی
    تفصیلات کے مطابق اقصٰی پبلک سکول جھنڈیر کالونی موضع کوٹلی مہتم میں 18 ستمبر 2022 بروز اتوار کو ایک فری آٸی کیمپ لگایا گیاجس میں لاہور کے مایہ ناز ڈاکٹرز آٸی سپیشلسٹ فیکو سرجن ڈاکٹر تیمور خاں . ڈاکٹر آف آپٹومیٹری آٸی فزیشن ڈاکٹر محمد اکمل . ایفتھلمک ٹیکنالوجسٹ رفریٸنشسٹ علی نواز مغل نے تمام مریضوں کافری چیک اپ کیا اور مفت ادویات بھی فراہم کیں اس کیمپ میں 200مریضوں کا چیک اپ اور 60 مریضوں کو آپریشن کے لیےٹائم دیا گیا اس کیمپ کو اقصی پبلک سکول جھنڈیر کالونی کے پرنسپل غلام عباس بھٹی وائس پرنسپل قاری محمد مراد جھنڈیر نے آرگنائز کرایا اس کیمپ میں میلسی، وہاڑی ، لڈن ، ہیڈاسلام ، دھلو، ہیڈ سیفن ،گڑھاموڑ اور ارد گرد کے تمام قصبات سے لوگ اپنی آنکھوں کا معائنہ کرا نے آئے.

  • محکمہ صحت پنجاب کی وفاق کو پیناڈول کی قیمتوں میں اضافے کی تجویز

    محکمہ صحت پنجاب کی وفاق کو پیناڈول کی قیمتوں میں اضافے کی تجویز

    محکمہ صحت پنجاب نے وفاقی حکومت کو پیناڈول کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کی تجویز دے دی۔

    باغی ٹی وی : پیناڈول کی قلت سےنمٹنے کے لیے محکمہ صحت پنجاب نے وفاق کو قیمتیں بڑھانے کی تجویز دی وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ پیناڈول کی فی گولی 90 پیسے قیمت بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے۔

    یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ پیناڈول تیار کرنے والی کمپنیوں کو ریٹ کم ہونے پر اعتراض ہے۔ڈالر کی اونچی اڑان کے باعث مینوفیکچررز متاثر ہو رہے ہیں مینوفیکچررز کا اعتراض ہے کہ ایک روپے 70پیسے میں فی گولی بیچنا سود مند نہیں۔امید ہے وفاقی حکومت کے جلد کمپنیز کے ساتھ معاملات طے پا جائیں گے۔

    ڈیرہ غازی خان سیلاب سے متاثر، لوگوں کی گندم خراب ہوگئی ہے،شہریوں کو وافر مقدار میں…

    قبل ازیں پاکستان فارموسوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئرمین منصور دلاور نے بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ پیناڈول کی تیاری میں استعمال ہونے والے سالٹ کی درآمد کی قیمت میں بہت اضافہ ہوا۔ جو سالٹ 600 روپے فی کلو پر فراہم ہوتا تھا اب وہ 2400 روپے فی کلو پر فراہم ہوتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ملک میں سالانہ بنیادوں پر 45 کروڑ گولیوں کی پیداوار کی جاتی ہے جو کمپنی بنا رہی تھی اس کی جانب سے قیمت بڑھانے کی درخواست کے باوجود حکومت نے قیمت نہیں بڑھائی جس سے کمپنی کو نقصان ہوتا رہا ہے، اور انھوں نے اس کی پیداوار بہت کم کر دی ہے۔

    انھوں نے کہا اصل میں پیناڈول تو ایک برانڈ کا نام ہے یہ گولی پیرا سٹامول ہے تاہم پیناڈول کے نام سے زیادہ معروف ہے،پاکستان میں پیناڈول ایک غیر ملکی فارماسوٹیکل کمپنی تیار کرتی ہے،پاکستان میں مقامی کمپنیوں کے ساتھ غیر ملکی فارما سوٹیکل کمپنیاں بھی دوائیں تیار کر کے مارکیٹ میں فراہم کرتی ہیں۔

    دوسری جانب کراچی میں دو روز میں انتظامیہ کی دو مختلف کارروائیوں میں بخار میں استعمال کی جانے والی تقریباً چار کروڑ 85 لاکھ گولیاں برآمد کی جا چکی ہیں وفاقی محکمہ صحت کے عملے نے بدھ کے روز کراچی کی میڈیسن مارکیٹ میں چھاپہ مار کر تقریبا ڈھائی لاکھ گولیاں برآمد کیں۔

    کراچی سمیت ملک بھر میں مہنگا آٹا مزید مہنگا

    دوسری جانب سندھ کے صوبائی ڈرگ انسپیکٹر دلاور علی جسکانی نے ہاکس بے روڈ پر قائم ایک گودام پر چھاپہ مار کر پیناڈول کی کروڑوں گولیاں برآمد کیں انہوں نے بتایا کہ ہاکس بے روڈ پر ایک گودام پر چھاپہ مارا گیا جہاں ذخیرہ کی گئیں چار کروڑ 83 لاکھ 78 ہزار 600 پیناڈول کی گولیاں (4 ہزار 323 ڈبے) برآمد کی گئیں۔

    اردو نیوز کے مطابق ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ چار کروڑ 80 لاکھ پیناڈول کی گولیاں گزشتہ روز چھاپے کے دوران برآمد کی گئی ہیں۔ ’یہ ٹیبلٹس مارکیٹ میں نہ ہونے کے برابر ہیں اور ایک گودام میں اتنی بڑی تعداد میں موجود تھیں اس پر مزید تحقیقات کریں گے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی بھی ہوگی۔

    پاکستان فارما سیوٹیکل اینڈ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد منصور دلاور نے اردو نیوز کو بتایا کہ پیناڈول کے معاملے پر وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل اور محکمہ صحت کے حکام سے میٹنگ ہوئی جس میں مینوفیکچررز اور پاکستان میں خام مال بنانے والے بھی شامل تھے ہمیں گذشتہ سال ڈریپ نے پیناڈول کی فی گولی کے لیے دو روپے 67 پیسے نرخ دیے تھے جسے کیبنٹ نے منظور نہیں کیا تھا۔‘

    واضح رہے کہ ملک میں ڈینگی کے کیسز بڑھنے کے بعد مختلف شہروں میں بخار کی دوا پیناڈول کی عدم دستیابی کی شکایات سامنے آئی ہیں۔

    مہنگائی کا نیا طوفان،فی انڈہ 25 روپیہ

  • روزانہ دودھ کا ایک گلاس پینا اوردہی کھانا  ٹائپ 2 ذیا بیطس کیلئے مفید ہے،تحقیق

    روزانہ دودھ کا ایک گلاس پینا اوردہی کھانا ٹائپ 2 ذیا بیطس کیلئے مفید ہے،تحقیق

    ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ دودھ کا ایک گلاس پینے اوردہی کھانے سے ٹائپ 2 ذیا بیطس سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے، بیف،مٹن، پروسیسڈ اور چکن کا گوشت کا زیادہ استعمال متضاد اثرات کا سبب بن سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : اطالوی تحقیق میں حاصل ہونے والے نتائج کی بنا پر محققین نے زیادہ گوشت کھانے والوں کو مچھلی کا گوشت اور انڈے بطور متبادل غذا کے تجویز کئے ہیں،سائنسدانوں کی جانب سے یہ نتائج ڈیری اشیاء کے خلاف بڑھتےرجحان کے دوران آئے ہیں-

    پھلوں اور سبزیوں کےاستعمال سے ذیابیطس اور موٹاپے پرقابوپایا جا سکتا ہے ،تحقیق

    ماہرین کے مطابق دودھ، مکھن اور پنیر میں بڑی مقدار میں کیلوریزاورسوچوریٹڈ چکنائی(وہ چکنائی جو عام درجہ حرارت پر نہیں پِگھلتی) ہوتی ہے جو متعدد صحت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔

    ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرات کو کم کرنے کے لیے ماہرین پودوں پر اگنے والی غذا یعنی اجناس، سبزیاں، پھل، دالیں اور کم چکنائی والا دودھ اور دہی کھانے کی ہدایت کرتے ہیں۔

    موسم گرما میں ذیابطیس کے مریضوں کیلئے بہترین غذا

    یونیورسٹی آف نیپلز فیدڑریکو دوم کےماہرین کہتےہیں کہ جانوروں سے حاصل ہونے والی پروٹین کی تمام اقسام مساوی طور پر غذائیت سے بھرپور نہیں ہوتیں ٹائپ 2 ذیابیطس تب واقع ہوتی ہے جب خلیے انسولین کےمزاحم بن جاتے ہیں۔انسولین وہ ہارمون ہوتا ہے جو بلڈ شوگر کو مستحکم رکھتا ہے۔

    اگر اس کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ مہلک ثابت ہوسکتا ہے اور امرضِ قلب، ہاتھ پیروں کے کاٹے جانے اور بینائی کے چلے جانے سمیت دیگر سنجیدہ مسائل کا سبب بن سکتا ہے خاموش قاتل کے طور پر جانے جانی والی یہ بیماری ہر سال 45 برطانیوں اور 3 کروڑ امریکیوں کو متاثر کرتی ہے۔

  • ملک میں ایک اور پولیو کیس کی تصدیق  ، مجموعی تعداد 18 ہو گئی

    ملک میں ایک اور پولیو کیس کی تصدیق ، مجموعی تعداد 18 ہو گئی

    شمالی وزیرستان میں 3 ماہ کے بچے میں پولیو کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد ملک میں رواں برس پولیو کیسز کی تعداد 18 ہوگئی۔

    باغی ٹی وی : پاکستان پولیو پروگرام کے مطا بق پولیو کے 16کیسز شمالی وزیرستان سے رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ لکی مروت سے پولیو کے 2 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں ، اس طرح تمام کے تمام کیسز خیبرپختونخوا میں رپورٹ ہوئے ہیں۔

    پاکستان کے 7 شہروں کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق،کئی شہروں کے رزلٹ آنا باقی

    بنوں، پشاور ، سوات اور لاہور کے ماحولیاتی نمونوں میں بھی پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہےگزشتہ ہفتہ کراچی کے ماحولیاتی نمونہ میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، کراچی تاریخی لحاظ سے پولیو وائرس کا گڑھ رہ چکا ہے اور پولیو وائرس کے پھیلاؤ کے لئے حساس قرار دئے جانے والے اضلاع میں شامل ہے۔

    پاکستان پولیو پروگرام کا کہنا ہےکہ سیلاب متاثرین کی نقل مکانی کے باعث چیلنجز کا سامنا ہے جبکہ وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل کا کہنا ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں میں ممکنہ پولیو مہم کی تیاری کر رہے ہیں، موجودہ حالات میں پولیو کے پھیلاؤ کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

    نیویارک میں پولیو وائرس کی موجودگی ، ڈیزاسٹر ایمرجنسی نافذ

    اس سے قبل منظر عام پر آنے والے کیسز کے بعد وفاقی وزیر صحت نے اپیل کی تھی کہ وائرس کے خاتمے کو قومی فریضہ سمجھتے ہوئے تمام پاکستانی اپنا بھرپور کردار ادا کریں اور پولیو مہم کے دوران ورکرز کے لیے اپنے دروازے کھولیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہر مہم میں بچوں کی ویکسی نیشن کو یقینی بنائیں۔

    علاوہ ازیں وفاقی سیکرٹری صحت محمد فخر عالم نے بھی والدین سے اپنے بچوں کو ہر مہم میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔

    دس سال بعد امریکا میں پولیو کا پہلا کیس سامنے آ گیا