Baaghi TV

Category: صحت

  • آبادی میں اضافہ. پنجاب میں 23 بڑے سرکاری ہسپتال بنائے جا رہے ہیں

    آبادی میں اضافہ. پنجاب میں 23 بڑے سرکاری ہسپتال بنائے جا رہے ہیں

    وزیر صحت پنجاب ڈاکٹریاسمین راشد کی زیرصدارت محکمہ سپیشلائزڈہیلتھ کئیراینڈمیڈیکل ایجوکیشن میں اجلاس منعقدہوا۔

    اجلاس میں سپیشل سیکرٹری ڈاکٹر فرخ نوید،ایڈیشنل سیکرٹری ٹیکنیکل ڈاکٹرحافظ شاہد لطیف،میاں زاہد الرحمن، وائس چانسلر فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی پروفیسرڈاکٹرخالدمسعودگوندل،وائس چانسلرکنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمود ایاز،وائس چانسلر یونیورسٹی آف چائلڈ ہیلتھ سائنسز پروفیسر ڈاکٹر مسعود صادق،وائس چانسلر یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسزپر وفیسرڈاکٹراحسن وحید راٹھور،پرنسپل علامہ اقبال میڈیکل کالج پروفیسرندیم حفیظ،پرنسپل سروسزانسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسزپروفیسرفاروق افضل،پرنسپل امیرالدین میڈیکل کالج پروفیسرڈاکٹرسردارظفرالفرید،سی ای او پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پروفیسربلال محی الدین،ایگزیکٹو ڈائریکٹر پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیوروسائنسزپروفیسرخالدمحمود،ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ ڈاکٹرمحسن رانجھا،ڈائریکٹر چلڈرن ہسپتال پروفیسرمحمدسلیم،ایگزیکٹو ڈائریکٹر برن سنٹر جناح ہسپتال پروفیسرکامران خالد،ڈاکٹرجویریہ آصف،ایم ایس جناح ہسپتال ڈاکٹریحییٰ سلطان اور پنجاب کے تمام سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں کے سربراہان اور ایم ایس حضرات نے وڈیولنک کانفرنس کے ذریعے شرکت کی۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے اجلاس کے دوران سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں میں ایمرجنسی پروٹوکولز،ادویات کی فراہمی اور ریفرل سسٹم کے اقدامات کاتفصیلی جائزہ لیا۔وائس چانسلرز،پرنسپلز،ایگزیکٹو ڈائریکٹرزاور ایم ایس حضرات نے ایمرجنسی میں مریضوں کے بہترعلاج معالجہ کو یقینی بنانے کیلئے صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدکو قیمتی آراء و تجاویز پیش کیں۔

    صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشدنے کہا کہ آئندہ پنجاب کے کسی بھی سرکاری ٹیچنگ ہسپتال کی ایمرجنسی میں مریضوں کے علاج معالجہ میں غفلت کی صورت میں متعلقہ سربراہ یا ایم ایس کوذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ پنجاب کے کسی بھی سرکاری ٹیچنگ ہسپتال میں مریضوں کے علاج معالجہ میں ایک فیصدبھی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ڈاکٹریاسمین راشدنے کہاکہ پنجاب کے تمام سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں کے پیڈریٹک سرجری میں فوری طورپر 10بسترمختص کئے جائیں۔پنجاب کے سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں کی ایمرجنسیزمیں مریضوں کے بہترعلاج معالجہ کوبہتربنانے کیلئے خصوصی کمیٹی ایک ہفتہ بعد اپنی تجاویزپیش کرے گی۔عوام کے ٹیکسوں سے بنائے گئے ہسپتال صرف عوام کو بہترعلاج معالجہ فراہم کرنے کیلئے ہیں۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشدنے کہاکہ صوبہ بھر کے تمام سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں کی ایمرجنسیز کیلئے دوبارہ پروٹوکولز جاری کئے جارہے ہیں۔پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں 90 ہزار سے زائد ڈاکٹرز،نرسز اور پیرامیڈیکل سٹاف بھرتی کئے ہیں۔پنجاب کے ہر سرکاری ٹیچنگ ہسپتال میں آنے والے مریض کو علاج معالجہ کی بہتر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

    صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشد نے مزیدکہاکہ آبادی میں اضافہ کے باعث پنجاب میں 23نئے بڑے سرکاری ہسپتال بنائے جارہے ہیں۔ماضی کی کسی حکومت نے آبادی میں اضافہ ہونے پرنئے سرکاری ہسپتال بنانے کا نہیں سوچا تھا۔پنجاب کے تمام سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں کے سربراہان اور ایم ایس حضرات کو آخری وارننگ دی جارہی ہے۔ڈاکٹریاسمین راشدنے کہا کہ جناح ہسپتال لاہور میں برن سنٹرکی توسیع کرنے جارہے ہیں۔لاہور میں جنرل ہسپتال،جناح ہسپتال اور سروسزہسپتال کی نئی ایمرجنسیز بنائی جارہی ہیں

    سابق بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کا کرونا ٹیسٹ، کیا آئی رپورٹ؟

    ڈینگی ایس او پیز کی خلاف ورزی پر کارروائی جاری، 68 افراد گرفتار،639 مقدمات درج

    انیل مسرت منموہن سنگھ کے ہمراہ سیلفی بنانے لگے تو کیا ہوا؟

  • خیبرپختونخوا میں ایڈز کے مریضوں میں اضافہ،207 بچے بھی موذی مرض کا شکار

    خیبرپختونخوا میں ایڈز کے مریضوں میں اضافہ،207 بچے بھی موذی مرض کا شکار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں ایڈز کے مریضوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے

    ایڈز کنٹرول پروگرام کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں ایڈز مریضوں میں 2 ماہ 488 افراد کا اضافہ ہوا،اگست 2022 میں تعداد 5ہزار 202 تھی، ستمبر میٰں 5ہزار 690 ہوگئی، دو ماہ میں مزید 4ہزار 4 مرد اور 1301 خواتین موذی مرض میں مبتلا ہوئی ہیں، پشاور کے 50 خؤاجہ سراوں میں ایڈز وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 207 بچوں،128 بچیوں کے ٹیسٹ بھی مثبت آئے ہیں، پشاور میں3593،کوہاٹ، بنوں، ڈی آئی خان میں 1270مریض زیرعلاج ہیں بٹ خیلہ میں 251 مریضوں کا علاج جاری ہے

    ایڈز کنٹرول پروگرام کے مطابق صوبے کے 6 ہسپتالوں میں ایڈز علاج سنٹر قائم کئے گئے ہیں،مریضوں کو مفت ادویات ٹیسٹوں کی سہولت دی جارہی ہے،

    جیلوں میں 140 نوزائیدہ بچے بھی ماؤں کے ہمراہ قید، جیلوں میں ایڈز کے مریض کتنے؟

     پنجاب میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے رپورٹ پنجاب اسمبلی میں جمع 

    شیخ رشید کی جانب سے سندھ کو ایڈزستان کہنے پر بلاول نے کیا کام کیا؟

    بلاول کے شہر لاڑکانہ میں مزید 617 افراد میں ایڈز کی تشخیص

    نیب متحرک، ایڈزکنٹرول پروگرام کے مالی امور،فنڈنگ کی تفصیلات طلب

    لاڑکانہ میں 11 سو سے زائد بچے ایڈز کا شکار، نیو یارک ٹائمز نے بھٹو کے شہر پر تہلکہ خیز رپورٹ شائع کر دی

    پنجاب میں ایڈز کے مریض بڑھنے لگے،سیکس ورکرز کے کئے گئے ٹیسٹ

    دوسری جانب وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز نے سینیٹ میں جمع کروائے گئے تحریری جواب میں اعتراف کیا کہ پاکستان میں دیگر ایشیائی ممالک کی نسبت ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے استعمال شدہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال، ٹیسٹنگ اورعلاج نہ ہونا ایڈز کے پھیلاؤ کی بنیادی وجوہات ہیں ایڈز کے پھیلاؤ کی وجوہات میں بغیر معائنہ کیا ہوا یعنی اَن اسکرینڈ خون کی تھیلیوں کی دستیابی بھی شامل ہے جماعت اسلامی کے رکن سینیٹر مشتاق احمد نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایڈز کے پھیلاؤ میں 11 خطرناک ترین ممالک میں شامل ہے اور ملک میں 2 لاکھ 40 ہزار افراد ایڈز کا شکار ہیں

  • صحت کارڈ سے اب تک پنجاب میں  24 لاکھ 49 ہزار سے زائد افراد نے اٹھایا فائدہ

    صحت کارڈ سے اب تک پنجاب میں 24 لاکھ 49 ہزار سے زائد افراد نے اٹھایا فائدہ

    صحت کارڈ سے اب تک پنجاب میں 24 لاکھ 49 ہزار سے زائد افراد نے اٹھایا فائدہ

    صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی ہدایت پر محکمہ سپیشلائزڈہیلتھ کئیراینڈ میڈیکل ایجوکیشن نے صحت سہولت کارڈ سے متعلق اعدادوشمارجاری کردئیے

    اعدادوشمارکے مطابق ابھی تک پنجاب میں 24 لاکھ 49 ہزار سے زائدافراد نے صحت سہولت کارڈکے ذریعے مفت علاج معالجہ کی سہولت حاصل کرلی ہے۔ابھی تک پنجاب کی عوام تقریبا 54 ارب 63 کروڑ روپے سے زائد کے مفت علاج معالجہ کی سہولت حاصل کرچکے ہیں۔ صوبائی سیکرٹری صحت عمران سکندر بلوچ نے کہا کہ پنجاب کی عوام کو صحت سہولت کارڈکے ذریعے مفت علاج معالجہ کی سہولت فراہم کرنے کیلئے 794 سرکاری ونجی ہسپتالوں کو منتخب کیاگیا ہے۔ صوبہ بھر کی عوام صحت سہولت کارڈکے ذریعے187 سرکاری و 607 نجی ہسپتالوں سے علاج معالجہ کی مفت سہولت حاصل کررہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق پنجاب میں ابھی تک 5 لاکھ 26 ہزارسے زائد افراد نے صحت سہولت کارڈکے ذریعے مفت ڈائیلسز کروائے ہیں۔

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    لاہور میں زیادتی کیسز میں مسلسل اضافہ،نوکری کی بہانے خاتون کے ساتھ ہوٹل میں زیادتی

    ماں بیٹی سے زیادتی کیس میں اہم پیشرفت سامنے آ گئی

    پنجاب میں ابھی تک 54ہزار9سو سے زائدافراد نے صحت سہولت کارڈکے ذریعے مفت کورونری انجیوگرافی کی سہولت حاصل کی ہے۔عمران سکندربلوچ نے کہا کہ پنجاب میں ابھی تک صحت سہولت کارڈکے ذریعے 50 ہزار 400 سے زائد خواتین نے نارمل ڈلیوری جبکہ 2 لاکھ 9 ہزار سے زائد خواتین نے سیزیرین آپریشن کی مفت سہولت حاصل کی ہے۔ پنجاب میں ابھی تک 35 ہزار 800 سے زائد افرادنے صحت سہولت کارڈکے ذریعے ہرنیہ کے مفت آپریشن کروائے ہیں۔

    لاہور میں رواں برس جنسی زیادتی کے 369 کیسز، کسی ایک ملزم کو بھی سزا نہ مل سکی

    لاہور میں حوا کی دو اور بیٹیاں لٹ گئیں،اغوا کے بعد جنسی زیادتی

    شوہر نے بھائی اور بھانجے کے ساتھ ملکر بیوی کے ساتھ ایسا کام کیا کہ سب گرفتار ہو گئے

    پنجاب میں ابھی تک 35 ہزار 800 سے زائدافرادنے ابھی تک صحت سہولت کارڈکے ذریعے کیموتھراپی کی مفت سہولت حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب میں اب تک 27 ہزار سے زائدافراد صحت سہولت کارڈکے ذریعے انجیوپلاسٹی کی مفت سہولت حاصل کرچکے ہیں۔ پنجاب میں اب تک 1 لاکھ 64 ہزار سے زائد افراد آنکھوں کے مفت آپریشن کروا چکے ہیں۔صوبائی سیکرٹری صحت عمران سکندر بلوچ نے کہا کہ صحت سہولت کارڈکے ذریعے پنجاب کی عوام کو زیادہ سے زیادہ علاج معالجہ کی مفت سہولت فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ڈینگی کے مریض بھی اب صحت سہولت کارڈکے ذریعے پنجاب کے منتخب سرکاری ونجی ہسپتالوں سے مفت علاج معالجہ کی سہولت حاصل کررہے ہیں۔

  • پولیو ورکرز پاکستان کے اصل ہیرو ہیں،سی ای او گاوی

    پولیو ورکرز پاکستان کے اصل ہیرو ہیں،سی ای او گاوی

    برلن: گلوبل الائنس فار ویکسینز اینڈ امیونیزیشن (گاوی) کے سی ای او ڈاکٹر سیٹھ برکلے نے پاکستان کے پولیو ورکرز کی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے-

    باغی ٹی وی : گاوی کے سی ای او ( Dr Seth Berkley ) نے عالمی ادارہ صحت کے زیراہتمام برلن میں پولیو کے خاتمے سے متعلق منعقدہ کانفرنس کے دوران پاکستانی پولیو ورکرز کو زبردست خراج تحسین پیش کیا کہا کہ پولیو ورکرز ہی ملک کے اصل ہیرو ہیں۔

    محققین نے ذیابیطس، کینسر اور اموات کی وجہ بننے والی پروٹین دریافت کر لی

    عالمی ادارہ صحت کے زیراہتمام برلن میں پولیو کے خاتمے سے متعلق منعقدہ کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل کر رہے ہیں۔

    وفاقی وزیر عبدالقادر پٹیل نے کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ 27 سے زائد پولیو ورکرز پاکستان کو پولیو سے پاک کرنے کی مہم کی دوران اپنی جانوں کی قربانیاں دے چکے ہیں حالیہ بدترین سیلاب کے باوجود حکومت پاکستان نے پولیو کے خاتمے کے لیے کوشش جاری رکھی ہوئی ہے۔

    خواتین ڈاکٹروں کے پاس مشکل اور ایمرجنسی کیسز زیادہ ہوتے ہیں،تحقیق

    وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل نے شرکائے کانفرنس سے خطاب کے دوران دعویٰ کیا کہ ہم پولیو کے خاتمے کے بالکل قریب ہیں، دنیا پاکستان کے ساتھ کھڑی ہو۔

    عالمی ادارہ صحت کے زیر اہتمام منعقدہ کانفرنس کے دوران سعودی عرب نے گلوبل پولیو کے خاتمے کے لیے ایک کروڑ ڈالرز، آسٹریلیا نے 43.55 ملین ڈالرز، بل گیٹس نے 1.2 بلین ڈالرز، فرانس نے 50 ملین یوروز اور کوریا نے 3.2 ملین ڈالرز دینے کے اعلانات کیے ہیں۔

    دنیا بھر میں ہیضے کی وباء میں تشویشناک اضافہ،ڈبلیو ایچ او

  • جنرل ہسپتال سے ڈاکٹر کا روپ دھارنے والا نوسر باز گرفتار

    جنرل ہسپتال سے ڈاکٹر کا روپ دھارنے والا نوسر باز گرفتار

    جنرل ہسپتال سے ڈاکٹر کا روپ دھارنے والا نوسر باز پولیس کے حوالے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور کی میو ہسپتال کے بعد جنرل ہسپتال میں بھی جعلی ڈاکٹر پکڑا گیا،جنرل ہسپتال انتظامیہ ان ایکشن، ڈاکٹر کا روپ دھار نے والے نوسر باز کو رنگے ہاتھوں دھر لیا۔ سیکورٹی سپروائزر علی کے مطابق گزشتہ روز ڈی ایم ایس ایڈمن ڈاکٹر صارم کو آؤٹ ڈور میں ایک شخص پر شک گزرا جس نے سفید اوورکوٹ زیب تن کیا ہوا تھا اور مریضوں کو چیک کروانے میں مصروف تھا۔

    ڈی ایم ایس نے مذکورہ شخص سے سوال جواب کئے تو وہ گھبرا گیا اور رفو چکر ہونے کی کوشش کی جسے سیکورٹی اہلکاروں نے دبوچ لیا۔ ابتدائی تفتیش کے دوران نوسر باز نے اپنا نام محمد شعیب ولد محمد اسحاق، للیانی کا رہائشی بتایا۔ انتظامیہ نے قانونی کاروائی کیلئے نوسرباز ڈاکٹر کو پولیس چوکی جنرل ہسپتال کے حوالے کر دیا ہے۔

    دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ جعلی ڈاکٹر کیسے پہنچا اور وہ ہسپتال میں کیا کر رہا تھا، اسکی تحقیقات ہونی چاہئے کیا جعلی ڈاکٹر کسی گھناؤنے مقصد کے لئے تو ڈاکٹر نہیں بن کر آیا، ہسپتال عملے کی لاپرواہی ظاہر ہوتی ہے تا ہم یہ بھی خوش آئند ہے کہ ملزم کو جلد پکڑ لیا گیا ہے، ہسپتال میں داخل مریضوں کے لواحقین کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایسے جرائم پیشہ عناصر سےکسی قسم کی کوئی رعایت نہیں کرنی چاہئے،

    قبل ازیں چند روز قبل میو ہسپتال سے جعلی ڈاکٹر کو گرفتار کر لیا گیا ہے.جعلی ڈاکٹر کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کروا دیا گیا ہے، ملزم سفید اوورآل اور سٹیتھو سکوپ لگا کر مریض چیک کر رہا تھا ملک کاشان کرامت ولد محمد صدیق شاہدرہ کا رہا ئشی ہے۔ تھانہ گوالمنڈی نے زیر دفعہ 170، 171 419 ت پ مقدمہ درج کر کے حوالات میں بند کر دیا۔ ملزم کو میو ہسپتال کے سیکورٹی عملہ نے پکڑا۔ ڈاکٹر منیر احمد ملک میڈیکل سپرنٹنڈنٹ میو ہسپتال نے عبدالروف سپروائزر اور عملہ کو شاباش دی

    ڈاکٹر منیر احمد ملک میڈیکل سپرنٹنڈنٹ میو ہسپتال لاہور کا کہنا ہے کہ میو ہسپتال کا اپنا سسٹم بہتر ہے جس سے اس قسم کے واقعات کی بروقت کاروائی اور روک تھام ہوئی ہے۔ چوریاں بھی کم ہوئی ہیں۔ اس سے قبل میو ہسپتال کے سیکورٹی عملہ نے ادویات کی چوری کو بھی پکڑا تھا۔ تمام جرائم سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

    سیاسی لیڈر شپ کو سیاسی استحکام کیلئے مذاکرات کرنے ہونگے،

    تعمیراتی پراجیکٹس کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم،وزیراعظم کے معاون خصوصی کو طلب کر لیا

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    راول ڈیم کے کنارے کمرشل تعمیرات سے متعلق کیس ،اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم

  • ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے 32 نئے کیسز رپورٹ

    ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے 32 نئے کیسز رپورٹ

    ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے 32 نئے کیسز رپورٹ

    ملک بھر میں 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 32 کیس رپورٹ ہوئے جبکہ اب تک کوئی مریض جاں بحق نہیں ہوا ہے. قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) کی جانب سے جاری ٹویٹ میں شیئر کئے گئے اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر میں 24گھنٹوں کے دوران 7 ہزار 597 کورونا ٹیسٹ کئے گئے جن میں سے 32 افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں. اسیطرح مثبت کیسز کی شرح 0.42 فیصد رہی ہے۔


    مزید برآں اس دوران کورونا وائرس سے کوئی مریض جاں بحق نہیں ہوا جبکہ 40 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔ یونیسف کے مطابق؛ کورونا وائرس متاثرہ شخص کی کھانسی یا چھینک سے خارج ہونے والے رطوبتوں کے چھوٹے قطروں اور ایسے چیزوں کی سطح کو چھونے سے پھیلتا ہے جو کورونا وائرس سے آلودہ ہوچکی ہوں۔ کورونا وائرس ان چیزوں کی سطح پر کئی گھنٹے تک زندہ رہ سکتا ہے لیکن اسے عام جراثیم کش محلول سے بھی ختم کیا جاسکتا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ فصلوں کی باقیات جلانے والے کسانوں کے خلاف مقدمات درج کرنے کا حکم
    آٹھ سالہ بچی کے ساتھ مبینہ زیادتی کا ڈراپ سین،والد لینا چاہتا تھا مخالفین سے دشمنی کا بدلہ
    محققین نے ذیابیطس، کینسر اور اموات کی وجہ بننے والی پروٹین دریافت کر لی
    کورونا وائرس کی علامات کون سی ہیں؟

    کورونا وائرس کی علامات میں بخار، کھانسی اور سانس لینے میں مشکل پیش آنا شامل ہیں۔ بیماری کی شدت کی صورت میں نمونیہ اور سانس لینے میں بہت زیادہ مشکل کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔ یہ بیماری بہت کم صورتوں میں جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔
    اس بیماری کی عام علامات زکام (فلو) یا عام نزلے سے ملتی جلتی ہیں جو کہ کووِڈ- 19 کی نسبت بہت عام بیماریاں ہیں۔ اس لئے بیماری کی درست تشخیص کے لئے عام طور پر معائنے (ٹیسٹ) کی ضرورت پڑتی ہے تاکہ اس بات کی تصدیق ہوسکے کہ مریض واقعی کووِڈ- 19 میں مبتلا ہوچکا ہے۔ یہ بات ذہن نشین کر لینا ضروری ہے کہ نزلے زکام اور کووِڈ- 19 کی حفاظتی تدابیر ایک جیسی ہیں۔ مثال کے طور پر بار بار ہاتھ دھونا اور سانس لینے کے نظام کی صحت کا خیال رکھنا (کھانسی کرتے اور چھینکتے وقت اپنا منہ کہنی موڑ کر یا پھر ٹشو یا رومال سے ڈھانپ لینا اور استعمال شدہ رومال یا ٹشو کو ایسے کوڑا دان میں ضائع کرنا جو ڈھکن سے بند ہوسکتا ہو)۔ نزلہ زکام کی ویکسین دستیاب ہے ، اس لئے ضروری ہے کہ آپ خود کو اور اپنے بچوں کو ویکسین کی مدد سے محفوظ رکھیں۔

  • محققین نے ذیابیطس، کینسر اور اموات کی وجہ بننے والی پروٹین دریافت کر لی

    محققین نے ذیابیطس، کینسر اور اموات کی وجہ بننے والی پروٹین دریافت کر لی

    سویڈن: ایک تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جسم میں بعض اقسام کے پروٹین امراض اور جان لیوا کیفیات کی وجہ بھی بن سکتے ہیں-

    باغی ٹی وی : سویڈن کے سائنسدانوں نے 4000 افراد پر مسلسل 22 سال تک تحقیق کی ہے اور بتایا ہے کہ جن افراد میں پروسٹیسن پروٹین کی مقدار زائد ہوتی ہے ان میں ذیابیطس کی شرح 76 فیصد اور کینسر کی شرح یا اس سے مرنے کا رحجان 43 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

    پاکستانی خواتین میں چھاتی کے سرطان میں اضافہ و شرح اموات لمحہ فکریہ

    اس سے قبل ماہرین نے ایک تحقیق میں بتایا تھا کہ پروسٹیسن جسمانی جلد کے ایپی تھیلیئل خلیات میں پائے جاتے ہیں اور یوں ان میں ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اب اگر ذیابیطس اور پروسٹیسن بڑھ جائے تو اس کے بعد کینسر سےمرنے کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں تحقیق کے نتائج یورپی ایسوسی ایشن کے جریدے ای اے ایس ڈی میں شائع ہوئے۔

    تحقیقی نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ پروسٹاسن نامی پروٹین کی بلند سطح رکھنے والے افراد میں سرطان کے باعث مر جانے کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں۔ اس ضمن میں عمر، جنس، کمر کی چوڑائی، شراب نوشی اور تمباکو نوشی کے نمونوں، ایل ڈی ایل، سسٹولک بلڈ پریشر اور اینٹی ہائپر ٹینشن ادویات جیسے اہم عوامل کا بھی جائزہ لیا گیا اور اس کےبعد ہی کہا ہے کہ پروسٹیسن پروٹین کی زیادہ مقدار بہت نقصان دہ ہوسکتی ہے-

    رات دیر تک جاگنا ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

    محققین کا کہنا ہے کہ تمام تر عوامل کا جائزہ لینے کے بعد بھی حیرت انگیز طور پر پروسٹیسن نامی پروٹین کے باعث کینسر سے موت کے خدشات یکساں رہے سویڈن میں یہ تحقیق سال 1993 میں شروع ہوئی تھی جسے لیونڈ یونیورسٹی کےماہرین نے انجام دیا تھا جسے اپنی نوعیت کا آج تک کا سب سے جامع تجزیہ قرار دیا جارہا ہے-

    اس طرح ذیابیطس اور کینسر کی ایک نئی وجہ سامنے آئی ہے ذیابیطس اور کئی اقسام کے سرطان مثلاً آنتوں کے کینسر اور بریسٹ کینسر کے درمیان بھی تعلق دیکھا گیا ہے۔ پھر ذیابیطس سے لبلبے اور جگر کے سرطان کا خطرہ بھی دوگنا ہوسکتا ہے اور اس تعلق پر مزید غورکرنا باقی ہے۔

    تحقیق میں شامل پروفیسر گنار اینگسٹروئم کہتے ہیں کہ تحقیق سے ہمیں پروٹین پرغور کرنے سے ہم کینسر اور ذیابیطس کو مزید سمجھنے اور علاج کے قابل ہوسکیں گے۔

    خواتین ڈاکٹروں کے پاس مشکل اور ایمرجنسی کیسز زیادہ ہوتے ہیں،تحقیق

  • بینائی کے تحفظ کیلئے احتیاطی تدابیر اختیارکرنی چاہئیں:پروفیسرالفرید ظفر

    بینائی کے تحفظ کیلئے احتیاطی تدابیر اختیارکرنی چاہئیں:پروفیسرالفرید ظفر

    آنکھیں اللہ کی عظیم نعمت، بینائی کے تحفظ کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں:پروفیسرالفرید ظفر

    عالمی یوم بصارت کی مناسبت سے لاہور جنرل ہسپتال شعبہ امراض چشم کے زیر اہتمام آنکھوں کے تحفظ،بیماریوں اور حفاظتی اقدامات کے حوالے سے عوام الناس میں شعور بیدار کرنے کے لئے آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا۔

    تقریب میں علاج کروانے والے بچوں اور ان کے والدین نے بھی شرکت کی اور نونہالوں میں گفٹس بھی تقسیم کئے گئے۔ پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر کی قیادت میں ہونے والی اس واک میں پروفیسر محمد معین، پروفیسر آغا شبیر علی، پرفیسر ڈاکٹر محمد شاہد، ڈاکٹر لبنیٰ صدیق، ڈاکٹر ثنا ء جہانگیر، ڈاکٹر آمنہ راجپوت کے علاوہ ڈاکٹرز،نرسز، پیرا میڈیکل سٹاف اور مریضوں کے علاوہ شہریوں نے بھی شرکت کی۔ شرکاء نے عالمی یوم بصارت کی تھیم "Love Your Eyes” کی اہمیت کو اجاگرکرنے کے لئے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔

    پرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسر الفرید ظفر نے واک کے شرکا ء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ آنکھیں اللہ تعالیٰ کی وہ گراں قدر نعمت ہیں جن کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ آنکھوں کی بنائی کے بغیر دنیا اندھیری ہے، بینائی سے محروم شخص دوسروں پر انحصار کرنے پر مجبور ہوتا ہے جسے قدم قدم پر معاشی اور معاشرتی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنکھوں کی قدر اوران کی صحت کی حفاظت کریں تاکہ ایک فعال اور متحرک فرد کے طور پر سوسائٹی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر محمد معین کا کہنا تھا کہ ایل جی ایچ میں قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں میں آنکھ کے پردہ کی بیماری Retinopathy of Prematurity کا بہت کامیابی سیمفت علاج کیا جا رہا ہے۔ اس بیماری میں 9ماہ سے پہلے یا بہت کم وزن کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں کی آنکھوں کے پردہ کی بیماری اور نابینا پن کے امکانات ہونے ہیں۔ جنرل ہسپتال شعبہ امراض چشم میں ایسے بہت سے بچوں کی کامیاب سرجری اور علاج کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایسے بچوں کا علاج ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔جنہیں مسلسل چیک اپ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن خوشی کی بات ہے کہ ایل جی ایچ کے ڈاکٹرز محنت اور پیشہ وارانہ لگن کی بدولت ایسے بچوں کا علاج کامیابی سے ہو رہا ہے۔

    مالی نے خاتون کے ساتھ زیادتی کے بعد دوستوں کو بلا لیا،اجتماعی درندگی کا ایک اور واقعہ

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    لڑکی سے تعلقات کا شبہہ،نوجوان پر بہیمانہ تشدد ،ڈرل مشین سے جسم میں سوراخ بھی کر دیئے

    پروفیسر الفرید ظفر نے کہا کہ بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں آنکھوں جیسی قیمتی اور انمول شے کو بری طرح سے نظر انداز کیا جاتا ہے اورہم ان آنکھوں کو دھول مٹی و گرد سے لے کر شیمپو میں استعمال ہونے والے کیمیکلز تک کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ بینائی کے تحفظ کے لئے اُن تمام احتیاطی تدابیر کو اختیار کیا جائے جو اس ضمن میں ضروری ہیں۔انہوں نے کہا کہ میڈیکل سائنس ثابت کر چکی ہے کہ بلند فشار خون اور ذیابیطس جیسی بیماریاں کسی بھی شخص کی بینائی کو بلا واسطہ طور پر متاثر کرتی ہیں،ہمیں اپنی غذا میں اعتدال کے علاوہ آنکھوں کے سالانہ معائنے اور کسی بھی قسم کی پیچیدگی کی شکل میں فوری علاج کا راستہ اختیارکرنا ہوگا۔ اسی طرح سفید یا کالا موتیا یا بینائی کو متاثر کرنے والی کسی بھی اور بیماری کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ موبائل، لیپ ٹاپ اور کمپیوٹرز کا بے جا استعمال آنکھوں کے لئے کسی خطرے سے کم نہیں بالخصوص بچوں میں پایا جانے والا رحجان انتہائی خطرناک ہے لہذا ہمیں اس گیجٹس کا کم سے کم استعمال یقینی بنانا ہوگا۔پرنسپل پی جی ایم آئی نے اس واک کے انعقاد کو سراہتے ہوئے اس پہلو پر بھی زور دیا کہ بعض بچوں میں پیدائشی بھینگا پن بھی آنکھوں سے متعلق اہم مسئلہ ہے لیکن یہ امر خوش آئند ہے کہ جدید سائنسی تحقیق سے آنکھوں کے پردے اور کمزور بینائی کا بہتر علاج سامنے آ چکا ہے اور پاکستان میں امراض چشم کے شعبوں میں بہتر تکنیکی سہولیات موجود ہیں لہذا شہریوں کو کسی قسم کی ہچکچاہٹ کے بغیر آنکھوں سے متعلق فوری طور پر معالجین سے رجوع کرنا چاہیے اور بینائی کے کم ہونے اور آنکھوں سے متعلق اپنے مسائل کو ہر صورت میں سنجیدہ لینا چاہیے۔

    لڑکیوں سے بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات کی پنجاب اسمبلی میں بھی گونج

    شادی کا جھانسہ ، ویڈیو بناکر زیادتی اور پھر بلیک میل کرنے والا ملزم گرفتار

    لودھراں میں خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا واقعہ،پولیس کا کاروائی سے گریز

    دوران ڈکیتی ماں باپ کے سامنے حافظ قرآن بیٹی کے ساتھ درندوں کی زیادتی

    سکول سے گھر آنیوالی خاتون کے سامنے نوجوان نے کپڑے اتار دیئے، ویڈیو وائرل،مقدمہ درج

    تقریب کے بہانے بلا کر خاتون کے ساتھ ہوٹل میں اجتماعی زیادتی

    شوہر نے بھائی اور بھانجے کے ساتھ ملکر بیوی کے ساتھ ایسا کام کیا کہ سب گرفتار ہو گئے

    اس موقع پر ڈاکٹر لبنیٰ صدیق نے اس آگاہی واک کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ شعبہ ہر سال اس طرح کی سرگرمیاں منعقد کر کے عام آدمی کو آنکھوں کی بیماریوں سے متعلق آگاہی فراہم کرتا ہے۔انہوں نے واک کے شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ آنے والے دنوں میں آنکھوں کی بیماریوں سے متعلق مریضوں کو لاہور جنرل ہسپتال میں زیادہ بہتر سہولتیں میسر آئیں گی اور پرنسپل پروفیسر الفرید ظفر کی سربراہی میں ہم اس ہسپتال کی طرح شعبہ امراض چشم کو بھی سٹیٹ آف دی آرٹ بنانے کا سفر جاری رکھیں گے۔اس موقع پر صحت یاب ہونے والے بچوں کے والدین نے اللہ تعالی کا شکر ادا کیا اور معالجین کو جھولیاں اٹھا کر دعائیں دیں

  • علاج معالجہ کی معیاری سہولیات تک رسائی عوام کا حق ہے: ڈاکٹر زرفشاں طاہر

    علاج معالجہ کی معیاری سہولیات تک رسائی عوام کا حق ہے: ڈاکٹر زرفشاں طاہر

    علاج معالجہ کی معیاری سہولیات تک رسائی عوام کا حق ہے: ڈاکٹر زرفشاں طاہر
    ڈین انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ پروفیسر ڈاکٹر زرفشاں طاہر نے کہا ہے کہ نجی و سرکاری ہسپتالوں، کلینکس اور لیبارٹریز میں پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے وضع کردہ منیمم سروس ڈلیوری سٹینڈرڈز پر عمل کرائے بغیر مریضوں کا علاج اور ان کی شفا ء یابی مشکل کام ہے۔ علاج معالجہ کی معیاری سہولیات تک رسائی عوام کا حق ہے جس پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

    انہوں نے ان خیالات کا اظہارآئی پی ایچ میں پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے تعاون سے ایم ایس ڈی ایس بارے نجی و سرکاری ہسپتالوں کے ہیلتھ پروفیشنلز، ہیلتھ مینجرز کیلئے تربیتی کورس کے دوسرے بیج کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں پی ایچ سی کے ڈائریکٹر کلینکل گورننس ڈاکٹر مشتاق احمد سلہریا، افسران اور انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران نے شرکت کی۔ایک ماہ کے سرٹیفکیٹس ٹریننگ کورس میں نجی و سرکاری ہسپتالوں کے 19ہیلتھ مینجرز اور ہیلتھ پروفیشنلز شرکت کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر زرفشاں طاہر کا مزید کہنا تھا کہ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ صبح کی ہیلتھ فیسیلٹیز کو سکلڈاور ٹرینڈ افرادی قوت مہیا کرنے کیلئے پی ایچ سی کے منیمم سروس ڈلیوری بارے ٹریننگ پروگرام میں بھرپور تعاون جاری رکھے گا۔

    سیاسی لیڈر شپ کو سیاسی استحکام کیلئے مذاکرات کرنے ہونگے،

    تعمیراتی پراجیکٹس کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم،وزیراعظم کے معاون خصوصی کو طلب کر لیا

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر کلینکل گورننس پی ایچ سی ڈاکٹر مشتاق سلہریا کا کہنا تھا کہ ہیلتھ کیئر کمیشن تمام ہسپتالوں، لیبارٹریز اور ہر قسم کے کلینکس میں ایم ایس ڈی ایس پر عملدرامد یقینی بنانے کیلئے مانیٹرنگ اینڈ امپلیمنٹیشن کے موثر سسٹم پر بھی کام کر رہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہسپتالوں میں صحت کی معیاری سہولیات کے ساتھ صاف ستھرا ماحول، ہسپتال ویسٹ کی صحیح طریقے پر تلفی اور انفیکشن فری آپریشن تھیٹرز اور وارڈز کیلئے طے شدہ معیارات پر عملدرامد کرانا نا گزیر ہے۔ ڈاکٹر مشتاق احمد نے کہا کہ انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کے تعاون سے پنجاب ہیلتھ کیئر کمشین صوبہ بھر کے سرکاری و نجی ہسپتالوں، لیبارٹریز کے معالجین اور انتظامی ڈاکٹرز کی معلومات اور آگاہی کیلئے تربیتی پروگرام جاری رکھے گا تاکہ صوبہ میں پبلک ہیلتھ بارے عوامی شعور میں اضافہ ہو اور ہسپتالوں کی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جا سکے

  • پاکستانی خواتین میں چھاتی کے سرطان میں اضافہ و شرح اموات لمحہ فکریہ

    پاکستانی خواتین میں چھاتی کے سرطان میں اضافہ و شرح اموات لمحہ فکریہ

    پاکستانی خواتین میں چھاتی کے سرطان میں اضافہ و شرح اموات لمحہ فکریہ

    خواتین میں چھاتی کا سرطان دنیا بھرکے صحت کے نظام کو درپیش چیلنجز میں سے ایک اہم ترین ہے، پاکستانی خواتین میں بریسٹ کینسر میں تیزی سے اضافہ اور بڑھتی ہوئی شرح اموات لمحہ فکریہ ہے جس کی بڑی وجہ شعور و آ گاہی میں کمی اور بیماری کی روک تھام کے حوالے سے خواتین کو مناسب رہنمائی کا فقدان اور معاشر ے میں اس کے بارے میں بات نہ کرنا شامل ہیں جن سے نمٹنے کے لئے ہم سب کو انفرادی و اجتماعی سطح پر کاوشیں کرنا ہوں گی۔

    ان خیالات کا اظہار پرنسپل کانٹی نینٹل میڈیکل کالج و حیات میموریل ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر عائشہ شوکت نے بریسٹ کینسر کے بارے میں آگاہی واک و سیمینار کے شرکاء سے خطاب میں کیا،اس موقع پر فیکلٹی ممبران، میڈیکل سٹوڈنٹس،مریض و لواحقین اور ایم ایس ڈاکٹر رانا محمد شفیق بھی موجود تھے۔ پروفیسر ڈاکٹر عائشہ شوکت نے کہا کہ اگرچہ بریسٹ کینسر ایک قابل علاج مرض ہے تاہم اس مرض کی بر وقت تشخیص وفوری علاج میں تاخیر ہونا خواتین کی زندگی کے لئے مہلک خطرات پیدا کر دیتی ہے،دنیا کے مختلف ممالک کے اعدادو شمار کے مشاہدے سے یہ بات عیاں ہے کہ اپنے نومولود کو بریسٹ فیڈ نہ کروانے والی خواتین میں چھاتی کے سرطان کا تناسب زیادہ ہے۔

    پروفیسر عائشہ شوکت نے آگاہی سیمینار و واک میں شریک خواتین اساتذہ اور میڈیکل طالبات سے کہا کہ وہ اپنے اپنے حلقہ اثر میں بریسٹ کینسر کے بارے میں خواتین کو زیادہ سے زیادہ آگاہی فراہم کریں تاکہ اس بیماری کی موثر طریقے سے روک تھام کی جا سکے۔ اُن کا کہنا تھا کہ چھاتی کے کینسر کے علاج پر کافی سرمایہ خرچ ہوتا ہے جس کا مالی بوجھ غریب فیملی کیلئے اٹھانا مشکل ہوتا ہے اور اخراجات نہ ہونے کی وجہ سے بہت سی خواتین علاج ادھورا چھوڑ دیتی ہیں جس سے یہ مرض جان لیوا بن جاتا ہے لہذا اس تمام صورتحال سے بچنے کے لئے لازمی ہے کہ مرض کی تشخیص و علاج کو ابتداء سے شروع کر دیا جائے اور خواتین اپنے بریسٹ میں کسی قسم کی درد یا” فزیکل چینج” محسوس ہونے پر فوری طور پر ڈاکٹر سے رہنمائی حاصل کریں۔ پروفیسرعائشہ شوکت و دیگر مقررین نے مزید کہا کہ پاکستان میں اس بیماری کے پھیلاؤ کی ایک وجہ یہ ہے کہ خواتین مشرقی روایات اور سوشل وجوہات کی بناء پر اپنی بیماری کو آخری حد تک پوشیدہ رکھتی ہیں اور معالجین سے اس وقت رجوع کرتی ہیں جب بیماری خطرنات صورتحال اختیار کر لیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی روک تھام کے لئے ضروری ہے کہ پڑھی لکھی خواتین کے ساتھ دیہی علاقوں میں بسنے والی عورتوں تک بھی ضروری معلومات و آگاہی پہنچائی جائے تاکہ اگر کسی خاتون کو بریسٹ میں کسی قسم کی گلٹی یا درد محسوس ہوتو وہ اسے معمولی سمجھتے ہوئے نظر انداز کرنے کی بجائے اپنے ڈاکٹر سے رجوع کرے اور متعلقہ خواتین کو میمو گرافی ٹیسٹ کروا کر حقائق کا پتہ لگایا جا سکے اور اگر خدانخواستہ سرطان کی کوئی علامات سامنے آئیں تو اس کا فوری علاج شروع کیا جائے۔ ڈاکٹرعائشہ شوکت نے کہا کہ اگر بیماری کی ابتداء سے ہپی تشخیص ہو جائے تو علاج بہت آسان اور سرجری کی نوبت نہیں آتی بلکہ ریڈی ایشن و ادویات سے بیماری کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین اپنے بچوں کو بریسٹ فیڈنگ لازمی کروائیں جو نہ صڑف اللہ کا حکم ہے۔بچوں کی بہتر نشوونما و جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ خواتین کو بھی چھاتی کے کینسر سے محفوظ رہنے میں اہم کردار ادا کرے ہیں۔

    اس موقع پر پروفیسر عندلیب خانم اور پروفیسر حوریت افضل نے بھی خصوصی گفتگو کی جبکہ سینئر پروفیسرز ،ڈاکٹرز ،نرسز اور پیرا میڈیکل سٹاف نے خواتین میں چھاتی سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیا اور اس واک کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کانٹی نینٹل میڈیکل کالج و حیات میموریل ہسپتال کی انتظامیہ کی کاشوں کو سراہا

    بریسٹ کینسر کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ،تحریر: محمد مستنصر
    بریسٹ کینسر بھی قدرتی آفات سے کم نہیں — ڈاکٹر عزیر سرویا

    بریسٹ کینسر کا عالمی دن, پنک ربن بمقابلہ ٹیبو !!! — بلال شوکت آزاد

    ملک میں بڑھتے بریسٹ کینسرکے کیسز،سپریم کورٹ نے نوٹس لے لیا