Baaghi TV

Category: صحت

  • یونیورسل ہیلتھ انشورنس پروگرام کے تحت زیادہ سہولیات فراہم کرنے کا فیصلہ

    یونیورسل ہیلتھ انشورنس پروگرام کے تحت زیادہ سہولیات فراہم کرنے کا فیصلہ

    یونیورسل ہیلتھ انشورنس پروگرام کے تحت زیادہ سہولیات فراہم کرنے کا فیصلہ
    پنجاب ہیلتھ انیشیٹیو مینجمنٹ کمپنی میں یونیورسل ہیلتھ انشورنس پروگرام کی صورتحال کا جائزہ اجلاس ہوا

    صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق کی زیر صدارت اجلاس میں قومی صحت کارڈ کے تحت مریضوں کو فراہم کردہ طبی سہولیات کا جائزہ لیا گیا اجلاس میں سابق پرنسپل سمز پروفیسر محمود ایاز، سابق پروفیسر آف میڈیسن کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج ڈاکٹر نصرت اللہ چوہدری اور پروفیسر غیاث النبی نے شرکت کی ،سی ای او پی ایچ آئی ایم سی ڈاکٹر علی رزاق کی جانب سے شرکاء کو قومی صحت کارڈ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی،قومی صحت کارڈ کے تحت دستیاب تمام طبی سہولیات پر تبادلہ خیال کیا گیا

    صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق کا کہنا تھا کہ پنجاب کی عوام کو اس پروگرام کے تحت زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کریں گے یونیورسل ہیلتھ انشورنس پروگرام کے تحت سرکاری ہسپتالوں کے انفراسٹرکچر اپگریڈ کریں گے اس پروگرام کے تحت پرائیویٹ اور سرکاری ہسپتالوں میں زیادہ طبی سہولیات کے سلسلہ میں مقابلہ کی فضا قائم ہوگی۔ یونیورسل ہیلتھ انشورنس پروگرام کے تحت سرکاری ہسپتالوں کے وسائل میں اضافہ ہوگا۔

    قبل ازیں ڈائریا کے بڑھتے کیسز.لاہور میں بڑے پیمانے پر سروسز ہسپتال سے آگاہی مہم کا آغاز کر دیا گیا ،کمشنر لاہور آفس اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن پاکستان کا باہمی اشتراک ، ہیڈ ڈبلیو ایچ او پاکستان ڈاکٹر پلیتھامہیپالا نےکمشنر لاہور کیپٹن ر محمد عثمان کے حوالے پانچ لاکھ آگاہی پمفلٹس کیے کمشنر لاہور اور ہیڈ ڈبلیو ایچ او پاکستان نے سروسز ہسپتال ایمرجنسی میں آگاہی مواد بھی تقسیم کیا ،کمشنر لاہور کیپٹن ر محمد عثمان کا کہنا تھا کہ اسہال اور ہیضہ سے حفاظتی تدابیر پر عمل کر کے مکمل بچاو ممکن ہے۔۔شہری پانی ابال کر یا کلورین شدہ پانی پئییں ۔ کھانے سے پہلے ہاتھ اچھی طرح دھوئیں کھانا اچھی طرح پکائیں۔گوشت سبزی کو صاف پانی سے دھوکر استعمال کریں۔

    ڈاکٹر پلیتتھا مہیپالا کا کہنا تھا کہ مون سون میں اسہال و ہیضہ سے بچاو کیلئے حفاظتی تدابیر پر عمل کی ضرورت اور بڑھ جاتی ہے۔پانی سٹور کے تمام ذرائع کی مستقل کلورینیشن کو جاری رہنا ناگزیر ہے کلورینیشن اور بغیر کلورینیشن ایریاز کی باقاعدگی سے ٹیسٹنگ و نتائج پر گہری نظر رکھی جائے

    لاہور میں خواتین سے زیادتی کے بڑھتے واقعات،ملزمہ کیا کرتی؟ تہلکہ خیز انکشاف

    نو سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش کرنیوالا سگا پھوپھا گرفتار

    خواتین کو دست درازی سے بچانے کیلئے سی سی پی او لاہور میدان میں آ گئے

    خواتین کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے والے اوباش ملزمان گرفتار

    کمشنر لاہور نے کلورینیٹڈ ٹیسٹنگ و نتائج کو ٹاسک فورس کے ٹی او آر میں شامل کرنے کی ہدایت کردی کمشنر لاہور نے ڈائریا کیسز پر فوری اقدامات اور آگاہی مہم شروع کرنے کی ہدایت کی تھی ۔کمشنر لاہور کیپٹن ر محمد عثمان کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں اسہال و ہیضہ کی تشخیص اور علاج معالجے کی سہولت موجود ہے ۔انتہائی اقدامات کے تحت بیماری سے محفوظ رکھنے کیلئے گھروں میں گولیاں تقسیم کیجارہی ہیں۔شہر میں ایکیوٹ واٹری ڈائریا کیسز پر سنجیدہ اقدامات اٹھا رہے ہیں ۔۔تمام محکمے س ڈیٹا شیرنگ حکمت عملی اور سینٹرل ایڈوائزری پر عمل کریں ،سروسز ہسپتال آگاہی مہم میں کمشنر لاہور کیپٹن ر محمد عثمان ۔ہیڈ آف ڈبلیو ایچ او پاکستان ڈاکٹر پلیتھا مہیپالا ۔ہیڈ ڈبلیو ایچ او پنجاب ڈاکٹر جمشید۔ایم ایس سروسز ڈاکٹر عامر مفتی۔سی ای او ہیلتھ اتھارٹی لاہور۔و دیگر افسران کی شرکت۔

    علاوہ ازیں محکمہ سکول ایجوکیشن کی جانب سے سنٹرل ماڈل سکول ریٹی گن میں ڈینگی آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا، سیمینار میں ڈی سی لاہور عمر شیر، سی ای او ایجوکیشن پرویز اختر، ڈی ای او ملک احسان اور دیگر افسران نے شرکت کی،تقریب میں سکولوں کے سربراہان نے بھی شرکت کی، ڈی سی لاہور عمر شیر چٹھہ کا کہنا تھا کہ ڈینگی کی روک تھام کو یقینی بنانا ہو گا.ڈینگی کے تدارک کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائیں.سکولوں میں ڈینگی کے بارے زیادہ سے زیادہ آگاہی دی جائے. سکولوں کے گراؤنڈز میں بارشی پانی کو کھڑا نہ ہونے دیا جائے. بارشی پانی کھڑا ہونے کی صورت میں فوری نکالا جائے. کھڑا پانی چونکہ مچھر کی افزائش کا امکان ہوتا ہے.سکولوں اور گھروں کی چھتوں کی چیکنگ یقینی بنائی جائے.ٹب، صحن اور ائیر کولرز میں پانی جمع نہ ہونے دیں.ڈینگی سے بچاؤ کے لئے حفاظتی تدابیر کو اپنائیں.جہاں کہیں ڈینگی لاروا کی نشاندہی ہو، فوری تلف کریں.ڈینگی سپرے کا عمل بھی جاری رکھیں. تمام محکموں نے ملکر ڈینگی کا تدارک کرنا ہے.

  • پمز: 2018 کے وزارت صحت کے ماتحت منسک ادارہ کی حیثیت بحال کی جائے گی۔ وزیرصحت، عبدالقادر پٹیل

    پمز: 2018 کے وزارت صحت کے ماتحت منسک ادارہ کی حیثیت بحال کی جائے گی۔ وزیرصحت، عبدالقادر پٹیل

    وفاقی وزیرصحت عبدالقادر پٹیل نے ملازمین کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے انہیں خوشبری سنائی کہ: ملازمین کی سول سرونٹس برقرار رکھنے کے لیے پمز کے 2018 کے وزارت صحت کے ماتحت منسک ادارہ کی حیثیت بحال کروانے کیلئے ترمیمی بل سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔
    ان خیالات کا اظہار وزیر صحت نے پمز ملازمین کے احتجاج میں جاکر کیا جس پر ملازمین نے دس روز سے جاری اپنا احتجاج ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ان کے اس عمل کو سراہا۔
    واضح رہے کہ: پمز ملازمین نے متنازع قانون ایم ٹی آئی کیخلاف دس روز سے احتجاج کررہے تھے۔ تاہم اب وفاقی وزیر کی یقین دہانی کے بعد ملازمین نے اوپی ڈیز کی سروسز بحال کردی ہیں۔

    پمز کے ایک ملازم وسیم ارشاد کے مطابق: وزیر صحت عبدالقادر پٹیل پمز ہسپتال میں تشریف لائے اور ایم ٹی آئی جیسے کالے قانون کا خاتمہ کر نے کی یقین دہانی کرائی ۔
    انہوں نے مزید کہا: وزیر صحت نے کہا بہت جلد ترمیمی بل سینٹ سے منظور کروا کر پمز کے 2018 والے وفاقی سٹیٹس کو بحال کیا جاے گا لہذا نکی اس یقین دہانی پر احتجاج پیر تک موخر کرنے کرنے کا اعلان کیا ہے۔

  • رحیم یارخان میں کانگو وائرس کا ایک مشتبہ مریض جاں بحق

    رحیم یارخان میں کانگو وائرس کا ایک مشتبہ مریض جاں بحق

    رحیم یار خان میں کانگو وائرس کا ایک مشتبہ مریض دم توڑ گیا۔

    باغی ٹی وی : شیخ زید اسپتال رحیم یار خان میں کانگو وائرس کا ایک مشتبہ مریض دم توڑ گیا اسپتال ترجمان کا کہنا ہےکہ اسپتال میں کانگو وائرس کے3 مزید مشتبہ مریض زیر علاج ہیں دوسری جانب محکمہ صحت نے بتایا ہےکہ وائرس کی تصدیق کے لیے مریضوں کےنمونے قومی ادارہ صحت کوبھیج دیئےگئے ہیں۔

    کانگو وائرس جس کا سائنسی نام کریمین ہیمریجک کانگو فیور یا کریمین ہیمریجک کانگو بخار ہے۔ یہ دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والی بیماری ہے یہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والا مرض ہے ،کانگو وائرس مختلف جانوروں مثلاً بھیڑ، بکری، گائے، بھینس اور اونٹ کی جلد میں پایا جاتا ہے کانگو وائرس سے متاثرہ جانور ذبح کرنے کے دوران کسی شخص کے ہاتھ میں کٹ لگ جائے تو یہ وائرس انسانی خون میں شامل ہو جاتا ہے۔

    اسلام آباد سمیت پنجاب بھر میں مارکیٹوں سے متعلق دفعہ 144 کےتحت پابندیوں کا اطلاق

    اس وائرس کی چار اقسام ہیں –

    ڈینگی وائرس(Dengue)، ایبولا وائرس(Ebola)، لیسا وائرس(LASSA)، ریفٹی ویلی وائرسRiftVally)

    اگر کسی کو کانگو وائرس لگ جائے تو اس سے انفیکشن کے بعد جسم سے خون نکلنا شروع ہوجاتا ہے۔ خون بہنے کے سبب ہی مریض کی موت واقع ہو سکتی ہے۔ یہ وائرس زیادہ تر افریقی اور جنوبی امریکا ‘مشرقی یورپ‘ایشاء اورمشرقی وسطی میں پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سب سے پہلے کانگو سے متاثرہ مریض کا پتہ انہی علاقوں سے چلا اسی وجہ سے اس بیماری کو افریقی ممالک کی بیماری بھی کہا جاتا ہے۔ سب سے پہلے1944کو کریمیا میں سامنے آنے کی وجہ سے اس کا نام کریمین ہیمرج رکھا گیا۔

    ماہرین صحت اور معالجین کا کہنا ہے کہ کانگو وائرس کے ٹکسTick ( ایک قسم کا کیڑا)مختلف جانوروں مثلاًبھیڑ، بکریوں، بکرے، گائے، بھینسوں اور اونٹ کی جلد پر پائے جاتے ہیں۔ ٹکس جانور کی کھال سے چپک کر اس کا خون چوستا رہتا ہے۔ اور یہ کیڑا ہی اس بیماری کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ کیڑا اگر انسان کو کاٹ لے یا پسو سے متاثرہ جانور ذبح کرتے ہوئے بے احتیاطی کی وجہ سے قصائی کے ہاتھ پر کٹ لگ جائے تو یہ وائرس انسانی خون میں شامل ہو جاتا ہے۔ اور یوں کانگو وائرس جانور سے انسانوں اور ایک انسان سے دوسرے جانور میں منتقل ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے چھوت کا مرض بھی خیال کیا جاتا ہے اور یہ کینسر سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ کانگو میں مبتلا ہونے والا مریض ایک ہفتہ کے اندر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے-

    سابق صدر جنرل پرویز مشرف کو ڈاکٹروں نے سفر سے منع کردیا

    عللامات:
    کانگووائرس کامریض تیزبخارمیں مبتلا ہو جاتا ہےاسےسردرد، متلی، قے، بھوک میں کمی، نقاہت، کمزوری اورغنودگی، منہ میں چھالے ،اورآنکھوں میں سوجن ہوجاتی ہےتیز بخار سے جسم میں وائٹ سیلز کی تعدادانتہائی کم ہوجاتی ہےجس سے خون جمنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ متاثرہ مریض کے جسم سے خون نکلنے لگتا ہے اورکچھ ہی عرصے میں اس کے پھیپھڑے تک متاثر ہوجاتے ہیں، جبکہ جگر اور گردے بھی کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور یوں مریض موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔

    کانگو وائرس کا مریض تیز بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اسے سردرد، متلی، قے، بھوک میں کمی، نقاہت، کمزوری اور غنودگی، منہ میں چھالے، اورآنکھوں میں سوجن ہوجاتی ہے۔۔ تیز بخار سے جسم میں وائٹ سیلز کی تعداد انتہائی کم ہوجاتی ہے جس سے خون جمنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ متاثرہ مریض کے جسم سے خون نکلنے لگتا ہے اورکچھ ہی عرصے میں اس کے پھیپھڑے تک متاثر ہوجاتے ہیں، جبکہ جگر اور گردے بھی کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور یوں مریض موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔

    احتیاطی تدابیر:

    کانگو سے بچاؤ اور اس پر قابو پانا تھوڑ ا مشکل ہے کیوںکہ جانوروں میں اس کی علامات بظاہر نظر نہیں آتیں تاہم ان میں چیچڑیوں کو ختم کرنے کے لیے کیمیائی دوا کا اسپرے کیا جائے کانگو سے متاثرہ مریض سے ہاتھ نہ ملائیں مریض کی دیکھ بھال کرتے وقت دستانے پہنیں۔
    مریض کی عیادت کے بعد ہاتھ اچھی طرح دھوئیں لمبی آستینوں والی قمیض پہنیں جانورمنڈی میں بچوں کوتفریحی کرانے کی غرض سے بھی نہ لے جایا جائے مویشی منڈی میں جانوروں کے فضلے کے اٹھنے والا تعفن بھی اس مرض میں مبتلا کر سکتا ہے کپڑوں اور جلد پر چیچڑیوں سے بچاؤ کا لوشن لگائیں۔

    جانوروں کی خریداری کے لیے فل آستیں والے کپٹرے پہن کر جائیں کیونکہ بیمار جانوروں کی کھال اورمنہ سے مختلف اقسام کے *حشرت الارض چپکے ہوئے ہوتے ہیں جو انسان کوکاٹنے سے مختلف امراض میں مبتلا کرسکتے ہیں جانوروں کی نقل وحمل کرتے وقت دستانے اور دیگر حفاظتی لباس پہنیں، خصوصاً مذبح خانوں ،قصائی اور گھر میں ذبیحہ کرنے والے افراد لازمی احتیاطی تدابیراختیار کریں مذبح میں جانوروں کے طبی معائنہ کے لیے ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم کا ہونا بہت ضروری ہے جو ایسے جانوروں کی نشان دہی کر سکیں مذبح خانوں کی صفائی کاخاص خیال رکھیں۔

    نیو جرسی: امریکی پاکستانی نے ڈسٹرکٹ جج کا منصب سنبھال لیا

  • وزن کم کروانے کے لیے کی جانے والی  سرجری سے کینسر لاحق ہونے کے خطرات میں 50 فی صد تک کم ہونے کا امکان ۔

    وزن کم کروانے کے لیے کی جانے والی سرجری سے کینسر لاحق ہونے کے خطرات میں 50 فی صد تک کم ہونے کا امکان ۔

    وزن کم کروانے کے لیے کی جانے والی سرجری سے کینسر لاحق ہونے کے خطرات تقریباً 50 فی صد تک کم ہونے کا امکان ۔

    باغی ٹی وی: جیسا کے آپ سب جانتے ہیں کے موٹاپا ایک بیماری ہے اور اس بیماری سے آج کل ہر کوئی بچنے کی بھرپور کوشش میں لگا ہوا ہے ۔اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے بہت سے لوگ سرجری بھی کرواتے ہیں جس سے وہ اپنے موٹاپے سے با آسانی چھٹکارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔اسی سرجری کے حوالے سے امریکی ریاست وِسکونسِن میں قائم گُنڈرسن لوتھرن ہیلتھ کیئر سسٹم کے محققین نے تقریباً 3776 موٹاپے کا شکار بالغ العمر افراد کا مطالعہ کیا ہے ۔ان میں سے کچھ موٹاپے میں مبتلا افراد ایسے ہیں جنہوں نے اپنے موٹاپے کو ختم کرنے کے لیے سرجری کروائی ہیں ۔ان افراد کی تعداد لگ بھگ 1620 ہے ۔
    اس حوالے سے محققین کا کہنا تھا کہ سرجری کرانے والے ان تمام افراد کا مطالعہ دس سال سے زیادہ عرصے تک کیا تاکہ سرجری کرانے والے اور نہیں کرانے والوں کے درمیان کینسر کی شرح کا موازنہ کرنے میں آسانی ہو جاۓ۔کینسر بہت سنگین بیماری ہے ۔یہ بیماری بعض اوقات جان لیوا بھی ثابت ہوتی ہے ۔

    مزید یہ کہ تحقیق کرنے سے معلوم ہوا کہ جو لوگ موٹاپے کا شکار ہوتے ہیں ۔ان کو باقی افراد کی نسبت کینسر ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے ۔ لیکن ایک اور اہم بات یہ کہ اس بات کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں کہ ان کی موت اس بیماری سے واقع ہو ان لوگوں کی نسبت جنہوں نے وزن کم کرانے کے لئے سرجری کرائی ہوتی ہے ۔جو لوگ موٹاپے کو ختم کرنے کے لئے سرجری کرواتے ہیں تو ان کو اس قسم کے کینسر ۔گردوں کے سرطان ۔چھاتی کے سرطان ۔تھائرائیڈ کینسر ۔پھیپھڑوں کے کینسر کے امکانات میں کمی سے ہوتا ہے ۔تاہم ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ وزن کم کروانے کے لیے کی جانے سرجری کے نتیجے میں موٹاپے کا شکار افراد میں کینسر لاحق ہونے کے خطرات تقریباً 50 فی صد تک کم ہوجاتے ہیں ۔

  • سینے کی جلن اور تیزابیت کا سبب بننے والی غذائیں

    سینے کی جلن اور تیزابیت کا سبب بننے والی غذائیں

    تیزابیت کے سبب سینے میں پیدا ہونے والی کی جلن ایک ایسی پریشانی ہے جو کہ عموماً ہرشخص کے کبھی نا کبھی اور بعض کو عموماً درپیش رہتی ہے۔ سینے کی جلن کی بنیادی وجہ تیزابیت ہی ہے جب آپ کا پیٹ خوراک کو ہضم کرنے سے انکارکردیتا ہے تو خوراک کو ہضم کرنے والا تیزازب آپ کے کھانے کی نالی میں آجاتا ہے جس سے آپ کو سینے میں اور بعض اوقات حلق میں بھی جلن محسوس ہوتی رہتی ہے-

     

    دہی خواتین کی صحت کیلئے بے حد مفید قرار

    معدے کی تیزابیت کی علامات:

    گیسٹرو ایسو فیزل ریفلکس ڈیزیز (جی ای آر ڈی) ، ایسی حالت ہے جس میں جلن کا احساس ایک علامت ہوتی ہے۔ پیٹ میں موجود تیزاب غذائی نالی میں چلا جاتا ہے اور درد کا سبب بنتا ہے اس درد کو اسٹرنم یا چھاتی کی ہڈی کے پیچھے جلن کے احساس کے طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے ، ایسڈ ریفلیکس کا درد کئی بار غلط فہمی کے طور پر دل کے دورے کے درد کے لئے لے لیا جاتا ہے۔

    جلن کا درد نچلے سینے میں رہ سکتا ہے یا یہ گلے کے پچھلے حصے تک جاسکتا ہے اور واٹر بریش کے ساتھ وابستہ ہوسکتا ہے ، جو گلے کےپچھلےحصےمیں ایک کھٹا ذائقہ ہےاگر گلے میں لیرنکس (آواز پیدا کرنے والا باکس) کے قریب جلن ہو تو ، اس سے کھانسی کےواقعات ہوسکتے ہیں ۔ طویل عرصے تک ریفلکس کافی شدید ہوسکتا ہے کہ تیزاب دانتوں پر تامچینی باندھ دیتا ہے اور اس کی خرابی کا سبب بنتا ہے بھاری کھانے ، آگے جھکاؤ ، یا سیدھا لیٹنے کے بعد علامات اکثر خراب ہوجاتی ہیں۔ متاثرہ افراد اکثر جلن کے ساتھ نیند سے بیدار ہو سکتے ہیں۔

    معدے کی تیزابیت سے پیدا ہونے والی پیچیدگیاں:

    سینے کی جلن پیچیدگیوں کے بغیر نہیں ہے اگر نظرانداز کیا جائے تو ، اکثر جلن اور غذائی نالی کی سوزش سے السر ہوسکتے ہیں ، ایسے چھوٹے چھوٹے حصے جہاں پر سے ٹشو خراب ہو جاتے ہیں۔ ان سے شدید خون بہہ سکتا ہے اس کے علاوہ ، زخم بننا جی ای آر ڈی کی دیگر اہم پیچیدگیاں ہیں غذائی نالی کے استر کے خلیوں کی قسم میں ہونے والی تبدیلیوں کا نتیجہ ایسڈ ریفلیکس کے نتیجے میں ہوسکتا ہے ، جس کو بیریٹ ایسوفیگس کے نام سے جانا جاتا ہے ، جو کہ غذائی نالی کے کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرہ سے وابستہ ہے۔

    فاسٹ فوڈ کے فوائد

    سینے میں جلن، تیزابیت، الٹی یا ابکائی جیسی کیفیت اگر ہفتے میں دو سے زائد بار محسوس ہو تو اس کا مطلب ہے کہ صحت پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے، کیوںکہ آپ ایسیڈیٹی یعنی تیزابیت کا شکار ہیں طبی ماہرین کے مطابق خوراک میں تھوڑی سی تبدیلی کھانے کی مقدار اور کھانے کے اوقات کار میں تبدیلی کر کے سینے کی جلن اور تیزابیت کی دیگر علامات کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے مسالوں، تیل اور چکنائی والی غذائیں مکمل طور پر چھوڑ کر زیادہ الکلائن والی غذائیں یعنی پھل، سبزیاں اور خشک میوہ جات کے استعمال سے تیزابیت کی شکایت کم کی جا سکتی ہے۔

    تیزابیت سے بچاؤ کے لیے مندرجہ ذیل غذاؤں سے پرہیز ضروری ہے-

    الٹرا پروسیسڈ کھانے کیا ہیں؟ان کے صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں ؟

    چاکلیٹ اور چکنائی والی غذائیں:
    چاکلیٹ بھی سینے میں جلن کا باعث بنتی ہے، اس میں موجود کیفین، کوکوا پاؤڈر اور دیگر کیمیائی اجزا نقصان دہ ہوسکتے ہیں۔جب کھانا پیٹ میں زیادہ دیر تک رہتا ہے تو جواباً جسم زیادہ تیزاب پیدا کرتا ہے وہ تمام کھانے جن میں چکنائی زیادہ ہو وہ مضرصحت ہیں، جیسے تلی ہوئی غذائیں،اس کے علاوہ دودھ اور دہی سے تیار کردہ مصنوعات جو نظام ہاضمہ کو سست کر دیتی ہیں، صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔

    مرچ مسالے اور لہسن :
    مرچ مسالوں سے بھر پور غذاؤں کا استعمال جسم میں ایسڈ ریفلکس کو مزید تیز اور کھانوں میں موجود ’کیپساسین‘ نظامِ ہاضمہ کو سست کر دیتا ہے، اسی لیے اِن کا استعمال بھی کم سے کم کرنا چاہیے اس کے علاوہ لہسن کا استعمال بھی تیزابیت کو بڑھا دیتا ہے، بالخصوص کچّا لہسن صحت مند لوگوں میں سینے کی جلن اور پیٹ کی خرابی کا باعث بنتا ہے۔یہ تیزاب کی پیداوار کو متحرک کرتا ہے جس سے سینے کی جلن کی شکایت بڑھ جاتی ہے۔

    کیفین اور سافٹ ڈرنکس :
    وہ تمام غذائیں جن میں کیفین کی مقدار زیادہ ہو ان سے پرہیز کرنا چاہیے تاکہ تیزابیت کی شکایت کو دور کیا جاسکے اس کے علاوہ سافٹ ڈرنکس، چائے اور کافی کے استعمال کو بھی کم سے کم کر دینا چاہیے تاکہ تیزابیت کے مسئلے پر قابو پایا جا سکے۔

    وٹامن سی کیوں ضروری ہے؟

    علاوہ ازیں تنگ کپڑوں کے استعمال سے گریز کیجئے اگر آپ کے پیٹ کے گرد بیلٹ کس کر بندھی یا آپ کی قمیض یا جینز بہت چست ہے تو تو آپ کو تیزابیت کی شکایت ہوگی لہذا تنگ کپڑوں کو ترک کرکے نارمل کپڑے استعمال کیجئے۔

    سگریٹ اور شراب کا استعمال آپ کے نظامِ انہضام کو کمزور کرتا ہے لہذا اسے ترک کردینا ہی بہترہے ان دونوں اشیا میں شامل الکحل اور نیکوٹین آپ کے جسم کے تمام امور کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے-

  • تجرباتی دوا سے کینسر کے تمام مریض شفایاب ،ماہرین نے تحقیق کو معجزہ قرار دیدیا

    تجرباتی دوا سے کینسر کے تمام مریض شفایاب ،ماہرین نے تحقیق کو معجزہ قرار دیدیا

    امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق کے دوران کینسر کے علاج کے لیے تجرباتی دوا استعمال کرنے والے تمام مریض شفایاب ہو گئے-

    باغی ٹی وی : ماہرین نے تحقیق کو معجزہ قرار دیا ہے میموریل سلوان کیٹرنگ کینسر سنٹر کی طرف سے کئے گئے ایک چھوٹے سے کلینیکل ٹرائل میں پتہ چلا کہ ریکٹل کینسر کے ہر ایک مریض کو جس نے تجرباتی امیونو تھراپی کا علاج حاصل کیا تھا کینسر سے شفا یاب ہو گئے ہیں-

    خلانوردوں کا طبّی معائنہ: ڈاکٹروں کا ہولوگرامز کے ذریعے عالمی خلائی اسٹیشن کا…

    ریکٹل کینسر کے 18 مریضوں کو صرف تجرباتی طور پر ڈوسٹر الیماب نامی دوا 6 ماہ تک دی گئی، جس کے نتیجے میں حیرت انگیز طور پر تمام مریض شفایاب ہو گئے ایک خاتون ساشا روتھ نے نیویارک ٹائم کو بتایا کہ اس کلینیکل ٹرائل کے بعد مجھے ڈاکٹرز نے کینسر سے شفا یاب ہونے کی خوشخبری سنائی میں نے جب اپنے خاندان کو بتایا توانہوں نے مجھ پر یقین نہیں کیا-

    یہی قابل ذکر نتائج آج تک 14 مریضوں میں دیکھے جائیں گے یہ مطالعہ اتوار کو نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہوا۔ تمام مریضوں کو ملاشی کا کینسر مقامی طور پر اعلی درجے کے مرحلے میں تھا، جس میں ایک نایاب اتپریورتن تھا جسے مماثل مرمت کی کمی (MMRd) کہا جاتا ہے۔

    محققین نے کہا کہ انہیں دوا ساز کمپنی GlaxoSmithKline کی طرف سے dostarlimab نامی امیونو تھراپی دوائی کے ساتھ چھ ماہ کا علاج دیا گیا، جس نے تحقیق کے لیے فنڈز فراہم کرنے میں مدد کی۔ ان میں سے ہر ایک میں کینسر غائب ہو گیا –

    الٹراساؤنڈ سے ٹائپ 2 ذیابیطس کا علاج کیا جا سکتا ہے،تحقیق

    میموریل سلون کیٹیرنگ سینٹر سے وابستہ ماہر نے بتایا کہ اس سے قبل ایسا کبھی نہیں ہوا کہ تجربے کے دوران کینسر کے تمام مریض شفایاب ہوئے ہوں میرا خیال ہے یہ کینسر کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے۔

    تجربے میں استعمال کی گئی دوا لینے سے قبل ریکٹل کینسر سے متاثرہ افراد کیموتھراپی، ریڈئیشن اور دیگر سرجریوں سے گزرے تھے، جن کے نتیجے میں انہیں کئی جسمانی تکالیف کا سامنا تھا، لیکن حالیہ تحقیق اور تجربے کے بعد انہیں اب مزید کسی قسم کے علاج کی ضرورت نہیں ہے۔

    کینسر کی ماہر ڈاکٹر ہانا سانوف نے بتایا کہ تجربے میں استعمال ہونے والی یہ ایمیونوتھراپی کی دوا ہے۔ اس قسم کی ادویہ کینسر کا خود شکار کرنے کے بجائے مریض کی قوت مدافعت سے یہ کام کرواتی ہیں۔

    مچھروں کو مفلوج کرنیوالی مچھردانی

  • عراق میں خون بہنے والے جان لیوا بخار کی وبا ٹوٹ پڑی

    عراق میں خون بہنے والے جان لیوا بخار کی وبا ٹوٹ پڑی

    بغداد: عراق کے بعض حصوں میں ایسے بخار کی وبا پھیل رہی ہے جس میں جس میں بدن سے خون رِستا ہے اور آخر کار تیزی سے بگڑتا ہوا مریض موت کے منہ میں چلا جاتا ہے-

    باغی ٹی وی : رپورٹس کے مطابق ماہرین نے اسے کریمیئن کانگو ہیمریجک فیور (سی سی ایچ ایف ) کا نام دیا ہے جو جانوروں کی جُوں (ٹِک) سے انسانوں تک منتقل ہوتا ہے یہ بیماری نیرو وائرس سے پھیلتی ہے اور مریض بخار، شدید دردِ سر، متلی، قے، بدن میں اینٹھن اور شدید کیفیت میں ٹیکے والے مقامات اور ناک سے بھی خون پھوٹنے لگتا ہے۔

    تین کلو وزنی رسولی کامیاب آپریشن کے بعد نکال لی گئی

    سال 2020 اور 2021 میں اس وبا نے عراق پر پنجے گاڑ دیئے تھے یہی وجہ ہے کہ عراقی محکمہ صحت نے جانوروں کے فارم اور کمیلوں میں بڑے پیمانے پر حفاظتی اسپرے کی مہم چلائی ہے۔

    یہ وبا پالتو مویشیوں مثلاً گائے اور بکری سے انسانوں تک منتقل ہوئی ہے خواہ وہ فارم میں ہوں یا جنگلی ماحول سے وابستہ ہوں۔ عالمی ادارہ برائے صحت نے سی سی ایچ ایف کے کل 111 مریضوں اور ان میں سے 19 اموات کی تصدیق کردی ہے۔ سب سے زیادہ اموات ذی قار صوبے میں ہوئی ہیں۔

    پاکستان اور ایران کے درمیان صحت کے مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق

    عالمی ادارہ برائے صحت نے کہا ہے کہ سی سی ایچ ایف کیڑے کے کاٹنے یا پھر متاثرہ جانور کے ذبح ہونے کے فوراً بعد خون یا گوشت سے بھی انسانوں تک پہنچ سکتا ہے 2021 میں بھی ایک صوبے میں 16 کیس نمودار ہوئے جن میں سے سات افراد جاں بحق ہرئے تھے-

  • متحدہ عرب امارات میں منکی پاکس کےمزید 3 کیسز رپورٹ،21 دن کا قرنطینہ لازمی قرار

    متحدہ عرب امارات میں منکی پاکس کےمزید 3 کیسز رپورٹ،21 دن کا قرنطینہ لازمی قرار

    متحدہ عرب امارات میں منکی پاکس کےمزید 3 کیسز سامنے آگئے۔

    باغی ٹی وی : اماراتی وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سخت نگرانی سے منکی پاکس کے کیسز کی شناخت ممکن ہوئی، امارات میں کورونا وائرس کے مقابلے میں منکی پاکس کا پھیلاؤکم ہے۔

    آئندہ دنوں میں مختلف ممالک میں منکی پاکس کے مزید کیسز بھی سامنے آسکتے ہیں،ڈبلیو…

    وزارت صحت کا کہنا ہے کہ منکی پاکس سے متاثرہ افراد کو صحتیابی تک اسپتال میں رکھاجائےگا، مریض سے ملنے والے افراد کو 21 روز تک قرنطینہ میں رہنا ہوگا۔

    واضح رہے کہ منکی پاکس 11 سے زائد ممالک میں پھیل چکا ہے اس سے پہلے یہ وائرس صرف افریقی ممالک میں نظر آتا تھاپہلی بار یہ وائرس افریقی ممالک سے نکل کر دنیا میں بھی پھیل رہاہے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بات زیادہ تشویشناک ہےکہ منکی پاکس کی تشخیص ایسے افراد میں بھی ہوئی ہے جو کبھی افریقہ گئے ہی نہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ وائرس یورپ اور امریکہ کے اندر بھی پھیل چکا ہےتاہم ان کا کہنا ہے کہ اس وائرس سے کسی بڑی آبادی کو نقصان پہنچنے کا فی الحال امکان موجود نہیں۔

    موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ،لوگوں کی ننید کا دورانیہ کم ہو گیا

    ماہرین کے مطابق منکی پاکس جنگلی جانوروں خصوصاً چوہوں اور لنگوروں میں پایا جاتا ہے۔ اور جانوروں سے ہی انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ تاہم متاثر شخص کے قریب رہنے والے افراد میں بھی وائرس منتقل ہونےکا امکان ہےپہلی مرتبہ اس بیماری کی شناخت 1958 میں ہوئی تھی،ایک تحقیق کےدوران سائنسدانوں نے بندروں کے جسم پر کچھ پاکس یعنی دانے دیکھے تھے جنہیں منکی پاکس کا نام دیا گیا تھا انسانوں میں منکی وائرس کے پہلے کیس کی تشخیص افریقی ملک کانگومیں 1970 میں ایک نو سالہ بچے میں ہوئی تھی۔

    منکی پاکس کا شکار ہونےوالے افراد میں بخار، سردی لگنا، تھکن اور جسم دردر کی شکایات نمایاں ہوتی ہیں وائرس سے زیادہ متاثر ہونے والے افراد کو شدید خارش اور جسم کے مختلف حصوں پر دانے نکلنے کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    منکی پاکس یورپ کے بعد امریکا پہنچ گئی،پہلا کیس رپورٹ

    منکی پاکس کے اثرات پانچ سے تین ہفتوں میں ظاہر ہوتے ہیں اور عام طور پر اس سے متاثرہ افراد دو سے چار ہفتوں کے درمیان صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ جن میں سے اکثر کو اسپتال منتقل کرنے نوبت نہیں آتی۔یہ وائرس 10 میں سے ایک فرد کے لیے جان لیوا ثابت ہوتا ہے اوربچوں پر زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔

    یورپین سینٹر فار ڈیزیز پریوینشن اینڈ کنٹرول نے دنیا بھر کے ماہرین کو یہ مشورہ دیا کہ منکی پاکس سے متاثرہ افراد کو آئسولیشن میں رکھا جائے اور زیادہ متاثرہ افراد کو سمال پاکس کی ادویات دی جائیں۔

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق تقریباً ایک درجن افریقی ممالک میں اس وائرس کے ہزاروں کیسز ہر سال رپورٹ ہوتے ہیں اور ان میں سے تقریباً 6000 کا کانگو اور 3000 کا تعلق نائیجیریا سے ہوتا ہےحالیہ لہر میں جن ممالک میں منکی پاکس انفیکشن کے کیسز رپورٹ ہوئے ان میں فرانس، بیلجیم، جرمنی، آسٹریلیا، اسپین، برطانیہ، امریکہ اور کینیڈا سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔

    یورپ میں ایک اورخطرناک بیماری پھیلنا شروع

  • تین کلو وزنی رسولی کامیاب آپریشن کے بعد نکال لی گئی

    تین کلو وزنی رسولی کامیاب آپریشن کے بعد نکال لی گئی

    شہید نواب غوث بخش رئیسانی میموریل ہسپتال مستونگ میں سرجن نے تین کلو وزنی رسولی کامیاب آپریشن کے ذریعے نکال لی۔

    ہسپتال کے پبلک ریلیشن آفیسر کیطرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بروز جمعرات 26 مئی 2022 کوسرجن ڈاکٹر مریم سلیم اور انکی ٹیم نے ہسپتال کے آپریشن تھیٹر میں ایک انتہائی پیچیدہ اور مشکل آپریشن انتہائی مہارت سے سر انجام دیا۔ اس کامیاب آپریشن میں تین (03) کلو وزنی رسولی بریسٹ سے نکال لی گئی جو کہ سائز میں بھی بہت بڑی تھی۔ الحمد للہ مریضہ کی طبیعت اب بہت بہتر ہے۔

    دریں اثنا ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر سعید احمد میروانی اور ہسپتال کے پی آر آفیسر ارباب اویس کاسی نے سرجن ڈاکٹر مریم سلیم اور انکی ٹیم کی بہترین کارکردگی کو بہت سراہا اور کامیاب آپریشن پر انکو مبارکباد دی اور سی ای او نے مزید کہا کہ مستقبل میں بھی ہم ڈاکٹرز سے اسی طرح کی بہترین کارکردگی کی امید رکھتے ہیں۔

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    پی آر آفیسر نے مزید کہا کہ ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر سعید میروانی نے چارج سنبھالنے کے بعد مختصر مدت میں ہسپتال میں قابل تعریف کام کیے ہیں، انکی کوشش ہے کہ ہسپتال کے ڈاکٹرز، سرجنز اور دیگر اسٹاف کو کام کرنے کے لیے تمام تر ضروری مشینری، ہر قسم کی ادویات اور دیگر ساز وسامان کے ساتھ ساتھ تمام تر سہولیات میسر ہو تاکہ ڈاکٹرز و سرجنز ہر قسم کا علاج اور بڑے آپریشنز بخوبی کرسکے۔ سی ای او کی کاوشوں اور ڈاکٹروں کی محنت کا ہی ثمر ہے کہ آج ایک بہت بڑا آپریشن کامیابی سے ہسپتال میں سرانجام پایا ہے۔ عوام کا اعتماد اور تعاون رہا تو آئندہ بھی یہاں کی غریب عوام کواپنے علاج معالجے اور کسی بھی قسم کے آپریشن کیلئے مستونگ سے باہر جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی، انکو انکی دہلیز پر ہی طب کے حوالے سے ہسپتال ھذا میں ہر قسم کی سہولت میسر ہوگی۔

  • پاکستان اور ایران کے درمیان  صحت کے مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق

    پاکستان اور ایران کے درمیان صحت کے مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق

    پاکستان اور ایران کے درمیان صحت کے شعبوں میں کام کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سویٹزرلینڈ کے شہر میں جنیوا میں جاری ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل کی ایرانی وزیرصحت اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈاکٹر بہرام عین اللہی سے ملاقات ہوئی ہے۔

    پاکستانی جنگلات میں لگی آگ پر قابو پانے کیلئے ایران کا اسپیشل فائرفائٹنگ ٹینکر…

    ملاقات میں دونوں برادر ممالک میں دوطرفہ تعاون کو مزیز بڑھانے اور صحت کے مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا ہےاس ملاقات میں مشترکہ ورکنگ گروپ کےقیام کا فیصلہ ہوا ہےجس میں پاکستان کی جانب سےڈی جی ہیلتھ اور ایران کی جانب سےوزیر صحت کے خصوصی معاون فوکل پرسن ہوں گے اس کے علاوہ دونوں اطراف متعدی امراض پر قابو پانے کیلئے سرحد پار تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

    ایران کا پاسداران انقلاب کےسینئیر کرنل کے قتل میں اسرائیل کے ملوث ہونے کا الزام

    اس ملاقات کے دوران وفاقی وزیر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران دیرینہ برادرانہ تعلقات سےمستفید ہو رہے ہیں صحت عامہ کا عالمی تحفظ دونوں ممالک کا کلیدی مقصد اورمشن ہےدونوں ممالک صحت عامہ کے عالمی امور و مسائل پریکساں مؤقف رکھتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ قومی صحت کی نظام کی مضبوطی کیلئے بین الاقوامی تعاون اور معاونت میں اضافہ وقت کی ضرورت ہے جس کے لئے ہمیں عالمی ادارہ صحت کے عالمی ترقی کے ایجنڈا میں صحت کے فروغ کو اولین ترجیحات میں رکھتے ہوے اقدامات کو یقینی بنانا ہو گا۔

    ایران میں ایف 7 لڑاکا طیارہ گرکر تباہ،2 پائلٹ ہلاک