Baaghi TV

Category: صحت

  • ورزش سے ذیابیطس کے مریضوں میں نئی رگوں کی افزائش ممکن

    ورزش سے ذیابیطس کے مریضوں میں نئی رگوں کی افزائش ممکن

    جارجیا:ماہرین کا کہنا ہے کہ باقاعدگی سے ورزش کرنے سے ذیابیطس کی کیفیت میں خون کی نئی رگیں پیدا ہوسکتی ہیں یا پھر ان کا افزائشی عمل تیز تر ہوسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : ذیابیطس کا ہولناک مرض بالخصوص خون کی باریک رگوں کو شدید متاثر کرتا ہے اسی وجہ سے زخم مندمل نہیں ہوتے اور بینائی متاثر ہوتی ہے اب پہلی مرتبہ معلوم ہوا ہے کہ ورزش سے خون کی نئی نسیجوں کی تشکیل میں بھی مدد مل سکتی ہے یعنی ورزش ذیابیطس کے منفی اثرات کو ٹھیک کرسکتی ہے۔

    آواز کی لہروں سے کینسر ختم کرنے کا تجربہ کامیاب

    اس سے قبل ذیابیطس میں ورزش کے فوائد سامنے آتے رہے ہیں اب جارجیا میڈیکل کالج کے سائنسدانوں نے ورزش اور نئی رگوں کی افزائش یا اینجیو جنیسس کے درمیان تعلق دریافت کیا ہے اس پورے عمل میں ایکسوسومز اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    تحقیق کے مطابق ایکسوسومز چھوٹے اور باریک پیکٹ جیسے ہوتے ہی جو حیاتیاتی اجزا کو ایک سے دوسرے مقام تک پہنچاتے ہیں ان میں دو طرح کے ایکسوسومز کو دیکھا گیا اول اینٹی آکسیڈنٹس ایس او تھری جو ری ایکٹو آکسیجن کی مقدار کو معمول پر رکھتے ہیں اور پروٹین سگنلنگ میں نمایاں ہوتے ہیں دوم ایک خاص پروٹین ہے جس کا نام اے ٹی پی سیون اے ہےاور تانبےکے ایٹم خلیات تک پہچاتےہیں ذیابیطس ان دونوں ایکسوسومز کو شدید متاثر کرتی ہے۔

    ماہرین نے ورزش اور دونوں ایکسوسومز پر غور شروع کیا تو معلوم ہوا کہ شوگر کا مرض اینڈوتھیلیئل خلیات کے پورے نظام کو درہم برہم کرتا ہے یہ خلیات خون کی نالیوں کی تشکیل کرتے ہیں اور نئی رگوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    اس ضمن میں ذیابیطس کےشکارچوہوں کو دو ہفتے تک گھومنے والے پہیئے پر دوڑایا گیا جبکہ درمیانی عمر کے تندرست افراد کو درمیانی شدت کی کارڈیو ورزش 45 منٹ تک کرائی گئی اس دوران سائنسدانوں نے دیکھا کہ ورزش کے بعد اینڈوتھیلیئل خلیات پر اے ٹی پی سیون اے کی زیادہ مقدار پہنچنا شروع ہوگئی اور ایس او ڈی تھری کی بھی وسیع مقدار دیکھی گئی ہےاس کے علاوہ رگوں کے اندرونی استر بننے میں بھی تیزی دیکھی گئی ہے۔

    اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ ورزش سے ذیابیطس کے مریضوں میں بھی خون کی نئی رگیں بن سکتی ہیں جو بہت مفید ثابت ہوسکتی ہیں۔

    ایک طرف تو ورزش کرنے سے ذیابیطس کے مریضوں میں خون کی مقدار معمول پر رہتی ہے لیکن اس کا دوسرا پہلو بھی سامنے آیا ہے کہ خون میں گلوکوز کی بلند مقدار خود مریضوں کی ورزش کرنے کی صلاحیت متاثر کرتی ہے اگرکوئی قبل از ذیابیطس، ٹائپ ون یا ٹائپ ٹو ذیابیطس متاثر ہو تو باقاعدہ ورزش رگوں اور نسیجوں کی تباہی، ہائی بلڈ پریشر اور امراضِ قلب وغیرہ سے محفوظ رکھتی ہے اب معلوم ہوا ہے کہ ذیابیطس کی شدید کیفیت خود ورزش کو بھی مشکل بنادیتی ہے اور یوں اس کے مکمل فوائد نہیں مل پاتےاس کی وجہ یہ ہےکہ خون میں گلوکوز کی بلند مقدار کی وجہ سے مریض آکسیجن کو مکمل طور پر جلا نہیں باتے اور خود بدن ورزش کے خلاف مزاحمت بن جاتا ہے۔

    یہ تحقیق اسرائیل میں واقع جوزلنِ ذیابیطس سینٹر نے کی ہے انہوں نے غور شروع کیا کہ کس طرح خون میں شکر کی بڑھی ہوئی مقدار ورزش میں رکاوٹ ڈالتی ہے اور اسے کم کرکے کیسے فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں ڈائبیٹس نامی جرنل میں شائع ہونے والی رپورٹ کےمطابق اگر ورزش کرنے والے افراد پہلے خون میں شکر گھٹانے والی دوا کھائیں تو ورزش کے زیادہ فوائد حاصل ہوسکتےہیں کیونکہ بدن کا استحالہ (میٹابولزم) نظام قدرے بہتر انداز میں کام کرنے لگتا ہے۔

    تحقیق سے وابستہ سائنسداں ڈاکٹر سارہ جے لیسرڈ کہتی ہیں کہ وہ جاننا چاہتی تھیں کہ آخر کیوں ذبابیطس کے بعض مریض کوشش کے باوجود بھی ورزش نہیں کرپاتے اور اس کے فوائد ادھورے رہ جاتے ہیں۔ اس کیفیت کو سمجھ کر ذیابیطس قابو کرنے کی بہترحکمتِ عملی وضع کی جاسکتی ہے۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کیلئے بہترین ناشتہ جو خون میں شکر کی مقدار کم رکھتا ہے

    اس کے لیے چوہوں کے ماڈل کو آزمایا گیا اور انہیں کیناگلیفلوزن نامی دوا کھلائی گئی جو خون میں شکر کی مقدار کم کرتی ہے۔ یہ چوہے ہائی بلڈ شوگر کے مریض تھے اور انہیں چھ ماہ تک ورزش کے عمل سے گزارا گیا۔ دوسرے گروپ کے چوہے بھی ذیابیطس کے مریض ہی تھے لیکن انہیں کوئی دوا نہیں دی گئی تھی اب جن چوہوں کو گلوکوز کم کرنے والی دوا دی گئی انہوں نے ورزش میں بہتر کارکردگی دکھائی۔

    پھر ماہرین نے چوہوں کی بافتوں اور ہڈیوں کا معائنہ کیا اور کم ورزش کرنے کی صلاحیت کا جسمانی جواب تلاش کرنے کی کوشش کی معلوم ہوا کہ بلند شوگر کا مسلسل عارضہ ہمارے پٹھوں کو متاثر کرکے ورزش کی صلاحیت کو ماند کرسکتا ہے اور اچھی خبر یہ ہے کہ کسی بھی طرح خون میں شکر کی مقدار معمول پر رکھ کر دوبارہ ورزش کی بہتر صلاحیت حاصل کی جاسکتی ہے۔

    اگلے مرحلے پر اسی ضمن میں مزید تحقیق کی جائے گی۔

    دوسری جانب جنوبی ایشیا کے دو ممالک کے سروے سے ایک دلچسپ انکشاف ہوا ہے کہ اگر آپ کے گھر کے پاس فاسٹ فوڈ کی دکانیں ہیں تو وہاں سے بار بار کھانا منگواکر کھانے کا جی کرتا ہے اور اس سے ٹائپ ٹو ذیابیطس اور موٹاپے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

    امپیریئل کالج لندن کی پروفیسر میلیسا اور ان کے ساتھیوں کا اصرار ہے کہ ہماری رہائش اور اطراف کے ماحول کا ہماری غذائیت پر اثر پڑسکتا ہے اگرچہ اس پر ترقی یافتہ ممالک میں بہت تحقیق ہوئی ہے لیکن اب جنوبی ایشیا کے کچھ ممالک میں اس پر ایک سروے کیا گیا ہے جس کے دلچسپ نتائج سامنے آیا ہے۔

    حکومت غیر متعدی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے بھی این سی او سی کی طرز کے اقدامات اٹھائے…

    اس کا مقصد گھر کے پاس غیرصحت بخش کھانوں کی دکانوں اور اطراف کے گھروں پر اس کے اثرات نوٹ کئے گئے ہیں اس کے لیے سال 2018 سے 2020 کے دوران بنگلہ دیش اور سری لنکا کے 12167 افراد سے ڈیٹا اور معلومات لی گئی ہیں۔

    سب سے پہلے شہروں اور دیہاتوں میں رہنے والے افراد سے ذیابیطس کی کیفیت اور گلوکوز کی معلومات لی گئیں۔ اس کے بعد ان کے گھر کی اطراف کھانے کی دکانوں بالخصوص فاسٹ فوڈ ریستورانوں کا ایک نقشہ بنایا گیا۔ بالخصوص گھر سے 300 میٹر دور یعنی پیدل مسافت پر مرغن فاسٹ فوڈ کی دکانوں کو بطورِ خاص امل کیا گیا۔ اس کے علاوہ دوکانوں پر ملنے والے کھانوں کو صحت بخش اور مضرِ صحت کھانوں کی فہرست میں شامل کیا گیا۔

    معلوم ہوا کہ فاسٹ فوڈ کے قریب رہنے والے افراد وقت بے وقت معمولی بھوک پر بھی باہر نکل کر کھانا لے آتے ہیں اور اپنی بھوک مٹاتے ہیں۔ اس لحاظ سے فاسٹ فوڈ دکانوں کی آسان دسترس سے ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ 8 فیصد تک بڑھ جاتا ہے اگر گھر کی قربت میں ایک فاسٹ فوڈ دکان ہوتو اوسطاً خون میں شکر کی مقدار 2.14 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر تک بڑھ سکتی ہے۔

    دوسری جانب خواتین اور بلند آمدنی والے لوگوں میں اس کا رحجان زیادہ دیکھا گیا جو اشتہا کے ہاتھوں فاسٹ فوڈ سے ہاتھ نہیں روک سکتے ایسے لوگوں میں شوگر کا رحجان زیادہ دیکھا گیا تھاتاہم اس رپورٹ میں کچھ کمی رہ گئی ہے کیونکہ لوگوں سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے خون میں شکر کی تازہ مقدار اور ریڈنگ سے بھی آگاہ کریں اور کسی وجہ سے یہ ڈیٹا تسلسل سے خالی دکھائی دیتا ہے۔

    اپنے نتائج میں ماہرین نے بتایا کہ اگر آپ کے گھر کے پاس فاسٹ فوڈ اور سافٹ ڈرنکس کی دکانیں ہیں تو اپنا خیال رکھنا ہوگا اور اس چکر میں آنے سے خود کو بچانا ہوگا-

    ذیا بیطس اور موٹاپے میں مبتلا خواتین میں بریسٹ کینسرکا خطرہ بڑھ سکتا ہے تحقیق

  • موسم گرما میں ذیابطیس کے مریضوں کیلئے بہترین غذا

    موسم گرما میں ذیابطیس کے مریضوں کیلئے بہترین غذا

    طبی و غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابطیس کے مریضوں کے لیے احتیاط سے غذا لینے کی ضرورت ہوتی ہے، خاص طور پر گرمیوں میں جب دن لمبے ہوتے ہیں اور زیادہ درجہ حرارت اورنمی آپ کےخون میں شوگرکی سطح پر منفی اثر ڈال سکتی ہے اچھی طرح سےہائیڈریٹ ہونا، نشاستہ دار کھانوں سے پرہیز اور زیادہ فائبر والی غذا ذیابطیس کے شکار لوگوں کو گرم موسم میں صحت مند رہنے میں مدد دے سکتی ہے۔

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پسندیدہ پھل بھر پورغذائیت کا حامل

    پانی کی مناسب مقدار کے علاوہ ناریل کا پانی اور کھیرے کا جوس گرمیوں کی خوراک میں صحت بخش اضافہ ہیں ماہرینِ غذائیت نے ذیابطیس کے مریضوں کے لیے موسم سرما کی مفید مشروبات، پھل اور سبزیاں بتائی ہیں۔

    مشروبات: شوگر فری لیموں پانی ، ناریل پانی ، تازہ پھلوں کا جوس ، ہربل چائے ، سبز یا کالی شکر کے بغیر چائے ، کھیرے کا جوس

    پانی کی کمی خون میں شوگر کی سطح کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے۔ پانی ہاضمے میں بھی مدد کرتا ہے، جسم سے فضلہ کو صاف کرتا ہے اور بہت کچھ۔ پانی کی کمی کسی کی جسمانی صلاحیت اور دماغ کے کام کرنے کی صلاحیت کو نمایاں طور پر کم کر سکتی ہے۔

    روزہ اور صحت مند غذائی عادات

    ذیابطیس کے مریضوں کے لیے، غیر نشاستہ دار غذاؤں کا استعمال اس بات کو یقینی بنائے گا کہ خون میں شوگر کی سطح کو بہتر طریقے سے منظم کیا جائے سبزیاں اور نشاستہ دار سبزیاں صحیح خوراک پیش کرتی ہیں، جو ورزش کے ساتھ ساتھ صحت مند طرز زندگی بنانے میں مدد دیتی ہیں۔ فائبر کی مقدار زیادہ ہونے کی وجہ سے تازہ سبزیاں بلڈ شوگر کی سطح کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد کرتی ہیں۔

    سبزیاں: پالک ، بروکولی ، چقندر ، گوبھی ، پھلیاں

    پھل: اسٹرابیری ، بلیک بیریز ، بلیو بیریز ، نارنجی ، آڑو ، بیر ، ناشپاتی

    زیادہ تر تازہ پھل خون میں گلوکوز کی سطح میں تیزی سے اضافے کا سبب نہیں بنتے ہیں جیسا کہ کاربوہائیڈریٹ پر مشتمل کھانے کی اشیاء جیسے روٹی۔ آپ کی گرمیوں کی خوراک میں فائبر سے بھرپور پھل جیسے کیلے، سیب اور یہاں تک کہ بیر کو شامل کرنا صحت کے لئے مفید رہے گا تازہ سبزیوں کا سلاد مفید ہوتا ہے-

    ذیا بیطس کے مریضوں کیلئے بہترین ناشتہ جو خون میں شکر کی مقدار کم رکھتا ہے

  • آواز کی لہروں سے کینسر ختم کرنے کا تجربہ کامیاب

    آواز کی لہروں سے کینسر ختم کرنے کا تجربہ کامیاب

    امریکا میں کی گئی ایک تحقیق میں آواز کی لہروں سے کینسر کے علاج کا تجربہ ناصرف کامیاب رہا بلکہ کینسر زدہ پھوڑوں کے دوبارہ نمودار ہونے کی شرح بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔

    باغی ٹی وی : مشی گن یونیورسٹی میں چوہوں پر آواز سے کینسر کے علاج کا تجربہ کیا گیا ہے یہ غیرتکلیف دہ تھراپی ہے جس میں چوہوں کو پہلے جگر کے سرطان کا مریض بنایا گیا۔ پھر ان رسولیوں کا آواز کی لہروں سے علاج کیا گیا۔

    جب رسولیوں کی مناسب تعداد غائب ہوئیں توجگر فعال ہوگیا اور اس کا قوتِ مدافعی نظام جاگ اٹھا اوراس نےباقی بچ جانے والے رسولیوں کو ختم کردیا ، صرف اتنا ہی نہیں بلکہ بیماری نے ان چوہوں پر دوبارہ حملہ بھی نہیں کیا۔

    فیٹی لیور ایک اور موذی مرض کی وجہ بن سکتا ہے،تحقیق

    اس حوالے سے زین ژو جوکہ جامعہ مشی گن میں بایو میڈیکل انجنیئرنگ کے ماہر ہیں، ان کا کہنا کہ ہم آواز کی لہروں سے رسولیوں کا مکمل خاتمہ کرسکتے ہیں کیونکہ جیسے ہی جگر کے اوپر کے سرطانی پھوڑے 50 سے 75 فیصد تک کم کردیئے جائیں تو مدافعتی نظام باقی بچ جانے والی رسولیوں اور سرطانی خلیات کو خود بخود ہی ختم کردیتا ہے یہی وجہ ہے کہ 80 فیصد چوہوں کو دوبارہ کینسر نہیں آیا جو ایک بڑی کامیابی ہے۔

    اس ٹیکنالوجی کو ہسٹوٹرپسی کا نام دیا گیا ہے جس میں آواز کی لہروں سے ملی میٹر درستگی تک سرطانی پھوڑوں کو ختم کیا جاتا ہے۔ اگرچہ انسانوں پر بھی اسے آزمایا گیا ہے لیکن ان کے نتائج میں ابھی وقت لگے گا۔

    ملک میں بڑھتے بریسٹ کینسرکے کیسز،سپریم کورٹ نے نوٹس لے لیا

    اگرچہ علاج کے دوران رسولیوں کو مکمل طور پر ختم نہ کرنا بظاہر عقلمندی کی بات نہیں ہے لیکن رسولی جسم میں کس جگہ موجود ہے ان کا سائز یا وہ کس درجے پر پہنچ چکی ہے، یہ ساری پیچیدگیاں آواز کی لہروں سے رسولیوں کے مکمل خاتمے کو ناممکن بنا دیتی ہیں-

    اسی لیے محققین نے 70 سے 75 فیصد رسولیوں کے خاتمے کے بعد مدافعتی نظام کے باقی بچ جانے والی رسولیوں پر اثر کا بھی جائزہ لیا گیا ہے اس ٹیکنالوجی کو انسانوں پر بھی آزمایا گیا ہے لیکن انسانوں پر کیے گئے اس تجربے کے نتائج سامنے آنے میں ابھی وقت لگے گا۔

    ورزش سے کینسر جیسے خطرناک مرض کو بھی قابو پایا جا سکتا تحقیق

  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پسندیدہ پھل بھر پورغذائیت کا حامل

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پسندیدہ پھل بھر پورغذائیت کا حامل

    رمضان المبارک کے مہینے میں پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمان کھجوروں سے روززہ افطار کرنے کو ترجیح دیتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پسندیدہ پھل اپنے اندر بھر پور غذائیت رکھتا ہے-

    قرآن پاک میں اس کا ایک سے زیادہ مرتبہ ذکر آیا ہے، تاریخوں کے حوالے سے متعدد احادیث بھی ہیں حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزہ کھجور سے افطار کیا کرتے تھے۔

    روزہ اور صحت مند غذائی عادات

    کھجور کو سپر فوڈز کہا جاتا ہے کیونکہ یہ اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہیں اور اس کی غذائیت کی وجہ سے بہت سے لوگ افطار کے ساتھ ساتھ سحری میں بھی کھجور کھاتے ہیں۔

    ماہرینِ غذائیت کے مطابق کھجور میں کئی طرح کے غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں اس میں کیلوریز، فائبر، پروٹین ہوتے ہیں معدنیات میں پوٹاشیم، میگنیشیم شامل ہیں وٹامن بی اور آئرن پر مشتمل ہے-

    رمضان میں دیگرمہینوں کےمقابلے میں فالج کےامکانات کم ہو جاتے ہیں،ماہرین

    کھجور کا باقاعدگی سے استعمال کینسر کے امکانات کو بہت حد تک کم کرتا ہے ، دل کے مسائل پر قابو پانے میں کھجور کی اہمیت بہت زیادہ ہے، کھجور دماغی صحت کے لیے بہت اچھی ہے کھجور پوٹاشیم سے بھرپور ہوتی ہے یہ ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول کرتا ہے اور خون کی کمی کو دور کرتا ہے –

    دنیا بھر میں اس لذیذ پھل کی مانگ میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے کیونکہ یہ صحت کے لیے فائدہ مند اور غذائیت سے بھرپور ہے، مصر آج دنیا میں کھجور کا سب سے بڑا پروڈیوسر ہے۔

  • الٹراساؤنڈ سے ٹائپ 2 ذیابیطس کا علاج کیا جا سکتا ہے،تحقیق

    الٹراساؤنڈ سے ٹائپ 2 ذیابیطس کا علاج کیا جا سکتا ہے،تحقیق

    کیلیفورنیا: امریکی سائنسدانوں کی جانب سے حال ہی میں کی گئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ الٹراساؤنڈ سے ذیابیطس کا علاج بھی کیا جاسکتا ہے-

    باغی ٹی وی : ریسرچ جرنل ’’نیچر بایومیڈیکل انجینئرنگ‘‘ کے شمارے میں شائع کی گئی تحقیق کے مطابق امریکی سائنسدانوں نے جگر میں موجود کچھ مخصوص اعصاب پر الٹراساؤنڈ لہریں وقفے وقفے سے مرکوز کرکے ٹائپ 2 ذیابیطس کے علاج میں کامیابی حاصل کی ہے تاہم یہ تجربات ابھی جانوروں پر کیے گئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق مختلف امریکی تحقیقی اداروں اور جامعات کے ماہرین کی اس مشترکہ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ جگر میں کچھ خاص اعصاب پر صرف تین منٹ تک الٹراساؤنڈ لہریں مرکوز کرنے پر جانوروں کے خون میں انسولین اور شکر کی مقدار نمایاں طور پر کم ہوگئی یہ تجربات چوہوں، چوہیاؤں اور سؤروں پر انجام دیئے گئے۔

    تحقیق کے مطابق جگر کے ایک حصے ’’پورٹا ہیپاٹس‘‘ میں اعصاب کا گچھا موجود ہوتا ہے جسے ’’ہیپاٹوپورٹل نرو پلیکسس‘‘ کہا جاتا ہے یہ اعصاب، جسم میں گلوکوز اور غذائی اجزاء کی تازہ ترین صورتِ حال کے بارے میں دماغ کو آگاہ رکھتے ہیں۔

    فیس بک کی "ایک ارب کھانے” کی مہم، دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کا پیغام

    اس سے قبل تحقیقات سے معلوم ہوا تھا کہ اعصاب کے اس گچھے میں سرگرمی کی کمی بیشی سے خون میں بھی گلوکوز اور انسولین، دونوں کی مقداروں میں اتار چڑھاؤ رونما ہوتے ہیں البتہ اعصاب کا یہ گچھا اتنا مختصر ہے کہ اس میں سرگرمیوں کو باہر سے کنٹرول کرنا بے حد مشکل ثابت ہوتا ہے۔

    سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ انہیں تحریک دینے اور خون میں گلوکوز/ انسولین کی مقدار کم کرنے کےلیے مرکوز الٹراساؤنڈ کی یہ تکنیک چند سال پہلے ایک نئے امکان کے طور پر ہمارے سامنے آئی تھی حالیہ تجربات میں اس تکنیک کو جانوروں پر آزما کر اس کے مؤثر ہونے کی ابتدائی تصدیق ہوئی ہے۔

    کامیاب ابتدائی تجربات کے بعد اب ماہرین اسی تکنیک کو انسانوں پر آزمانے کےلیے اجازت کے منتظر ہیں۔

    بازاروں میں فروخت ہونیوالی چاکلیٹ میں منشیات کی ملاوٹ کا انکشاف

  • زندہ انسانوں کے پھیپھڑوں میں ’پلاسٹک‘ کی موجودگی کا انکشاف

    زندہ انسانوں کے پھیپھڑوں میں ’پلاسٹک‘ کی موجودگی کا انکشاف

    حال ہی میں سائنسدانوں نے انسانی خون میں پلاسٹک کے ننھے ذرات کو پہلی بار دریافت کیا تھا اور اب مائیکرو پلاسٹک آلودگی پھیپھڑوں کی گہرائی میں پہلی بار دریافت ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : برطانوی اخبار دی گارجئین کے مطابق سائنسی جریدے ’سائنس آف ٹوٹل انوائرنمنٹ‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پہلی بار زندہ لوگوں کے پھیپھڑوں میں گہرائی میں مائیکرو پلاسٹک آلودگی پائی گئی ہے، اس سلسلے میں جتنے نمونے تجزیے کے لیے لیے گئے تھے، تقریباً تمام نمونوں میں یہ ذرات پائے گئے ہوا گزرنے کے راستے انتہائی تنگ ہونے کی وجہ سے پہلے اس کو ناممکن سمجھا جاتا تھا۔

    مائیکرو پلاسٹک اس سے پہلے انسانی کیڈور پوسٹ مارٹم کے نمونوں میں پائے گئے، لیکن یہ پہلی تحقیق ہے جس میں یہ زندہ لوگوں کے پھیپھڑوں میں دکھائی دیئے ہیں۔

    یونیورسٹی آف ہل اور ہل یارک میڈیکل سکول کے محققین نے جن 13 مریضوں کے نمونوں کی جانچ پڑتال کی، لگ بھگ ان سب میں پلاسٹک کے ننھے ذرات کو پھیپھڑوں کی گہرائی میں دریافت کیا گیا۔

    سائنسدانوں نے کہا کہ پلاسٹک کے ننھے ذرات کی آلودگی اب دنیا بھر میں اس حد تک پھیل چکی ہے کہ انسانوں کے لیے اس سے بچنا ممکن نہیں رہا اور صحت کے حوالے سے خدشات بڑٖھ رہے ہیں۔

    اس تحقیق کے دوران سرجری کے عمل سے گزرنے والے 13 مریضوں کے پھیپھڑوں کے ٹشوز کی جانچ پڑتال کی گئی اور 11 میں پلاسٹک ذرات کو دریافت کیا گیا۔

    سائنسدانوں نے کہا کہ ان اعداد و شمار سے فضائی آلودگی، مائیکرو پلاسٹک اور انسانی صحت کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے جو ہمیں معلوم ہوئی ہیں ان اقسام کی خصوصیات اور مائیکرو پلاسٹک کی سطح اب صحت پر اثرات کا تعین کرنے کے مقصد سے لیبارٹری میں تجربات کے لیے حقیقت پسندانہ حالات سے آگاہ کر سکتے ہیں۔‘

    مائیکرو پلاسٹک کی اقسام اور سطحوں کی کردار سازی اب صحت کے اثرات کا تعین کرنے کے مقصد سے لیبارٹری ایکسپوزر تجربات کے لئے حقیقت پسندانہ حالات سے آگاہ کر سکتی ہے۔

    ایسٹ یارکشائر کے کیسل ہل ہسپتال کے سرجنوں نے پھیپھڑوں کے زندہ ٹشو فراہم کیے۔ یہ ٹشو مریضوں پر کیے گئے سرجیکل طریقہ کار سے حاصل کیے گئے تھے جو ابھی تک زندہ تھے، یہ ان کی معمول کی طبی دیکھ بھال کا حصہ تھا۔ اس کے بعد یہ انہیں دیکھنے کے لیے فلٹر کیا گیا کہ ان میں کیا ہے۔.

    جن مائیکرو پلاسٹک کا پتہ چلا ان میں سے 12 اقسام ایسی تھیں جو عام طور پر پیکیجنگ، بوتلوں، کپڑے، رسی اور بہت سے مینوفیکچرنگ کے عمل میں پائی جاتی ہیں خواتین کے مقابلے میں مرد مریضوں میں مائیکرو پلاسٹک کی تعداد کافی زیادہ تھی۔

    تحقیق میں شامل ایک محقق لورا ساڈوفسکی کا کہنا تھا کہ ہمیں پھیپھڑوں کے نچلے حصوں میں سب سے زیادہ ذرات یا اس سائز کے ذرات ملنے کی توقع نہیں تھی۔

    تحقیق سے پتہ چلا کہ پھیپھڑوں کے اوپری حصے میں 11 مائیکرو پلاسٹک، وسطی حصے میں 7 اور پھیپھڑوں کے نچلے حصے میں 21 مائیکرو پلاسٹک پائے گئے جو ایک غیر متوقع دریافت تھی۔

    انہوں نے کہا کہ یہ حیرت کی بات ہے کیونکہ پھیپھڑوں کے نچلے حصوں میں ہوا گزرنے راستے چھوٹے ہوتے ہیں اور ہمیں توقع تھی کہ پھیپھڑوں کے اندر اتنی گہرائی میں جانے سے پہلے اتنے بڑے ذرات فلٹر ہوجائیں گے یا پھپھڑوں پھنس جائیں گے۔

    مارچ میں محققین نے انسانی خون میں پہلی بار پلاسٹک کے ننھے ذرات کو دریافت کیا تھا ان نتائج سے ثابت ہوا تھا کہ یہ ذرات خون کے ذریعے جسم میں سفر کرسکتے ہیں اور اعضا میں اکٹھے ہوسکتے ہیں ان ذرات سے صحت پر مرتب ہونے والے اثرات کے بارے میں تو ابھی معلوم نہیں مگر لیبارٹری تجربات میں ان ذرات سے انسانی خلیات کو نقصان پہنچنا ثابت ہوچکا ہے اسی طرح فضائی آلودگی کے ذرات کے بارے میں پہلے ہی علم ہے کہ وہ جسم میں داخل ہوکر ہر سال لاکھوں اموات کا باعث بنتے ہیں۔

    اس سے قبل لاشوں کے پوسٹ مارٹم کے دوران اس طرح کے نتائج سامنے آئے تھے۔

    2021 میں برازیل میں ہونے والی ایسی ایک تحقیق میں 20 میں سے 13 لاشوں کے نمونوں میں پلاسک کے ننھے ذرات کو دریافت کیا گیا۔1998 میں امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں بھی 100 نمونوں میں پلاسٹک اور کاٹن ذرات کو دریافت کیا گیا تھا۔

    اس سے قبل اکتوبر 2020 میں آئرلینڈ کے ٹرینیٹی کالج کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ننھے بچے فیڈنگ بوتلوں کے ذریعے پلاسٹک کے لاکھوں کروڑوں ننھے ذرات نگل لیتے ہیں تحقیق میں زور دیا گیا کہ اس حوالے سے مزید جانچ پڑتال کرنے کی ضرورت ہے کہ پلاسٹک کے ان ننھے ذرات سے انسانوں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    ایک اور حالیہ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پلاسٹک کے ننھے ذرات خون کے سرخ خلیات کی اوپری جھلی سے منسلک ہوکر ممکنہ طور پر آکسیجن کی فراہمی کی صلاحیت کو محدود کرسکتے ہیں۔

  • رمضان میں دیگرمہینوں کےمقابلے میں فالج کےامکانات کم ہو جاتے ہیں،ماہرین

    رمضان میں دیگرمہینوں کےمقابلے میں فالج کےامکانات کم ہو جاتے ہیں،ماہرین

    ماہر ین کا کہنا ہے کہ رمضان میں دیگرمہینوں کےمقابلے میں فالج کےامکانات کم ہو جاتے ہیں-

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق نیورولوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد واسع نےحال ہی میں کراچی میں آٹھویں بین الاقوامی ڈائبیٹیز اینڈ رمضان کانفرنس 2022 کے دوسرے روز سائنٹیفک سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ رمضان میں دیگر مہینوں کے مقابلے میں فالج کے کیس کم ہو جاتے ہیں جس کی بنیادی وجہ اکثر لوگوں کا تمباکو نوشی سے گریز، بہتر بلڈ پریشر اور شوگر کنٹرول اور روزہ رکھنے کے نتیجے میں کولیسٹرول کا کم ہونا ہے۔

    رمضان کےروزے رکھنا ذیا بیطس میں مبتلا افراد کی صحت کیلئے مفید ،مفتی تقی عثمانی

    پروفیسر محمد واسع کا کہنا تھا کہ رمضان کے روزے رکھنے کے ذہنی اور اعصابی صحت کے لیے بے شمار فوائد ہیں اور تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ روزے رکھنے سے گھبراہٹ، ڈپریشن اور دیگر نفسیاتی بیماریوں میں کمی واقع ہوتی ہے، ادویات کے ساتھ ساتھ روزے رکھنے سے شیزوفرینیا کے مرض میں بھی افاقہ ہوتا ہے-

    دوسری جانب روزہ مختلف اعصابی بیماریوں بشمول پارکنسنز اور الزئمرز کی بیماریوں سے بچاؤ میں بھی کافی حد تک معاونت فراہم کرتا ہے، روزہ رکھنے سے نیند بہتر ہوتی ہے جبکہ حال ہی میں کی گئی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ کورونا کی وبا کے نتیجے میں جن لوگوں کی چکھنے کی حس متاثر ہوئی تھی انہیں روزے رکھنے سے فائدہ ہوا ہے۔

    گردوں کے امراض کے ماہر ڈاکٹر بلال جمیل کا کہنا تھا کہ گردوں کی بیماری کا شکار ایسے مریض جنہیں دل کی بیماری بھی لاحق ہو، انہیں روزے رکھنے سے گریز کرنا چاہیے، لیکن صرف گردوں کی بیماری میں مبتلا افراد اپنے ڈاکٹر کے مشورے سے روزے رکھ سکتے ہیں۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کیلئے بہترین ناشتہ جو خون میں شکر کی مقدار کم رکھتا ہے

    ماہر امراض ذیابطیس ڈاکٹر مسرت ریاض کا کہنا تھا کہ شریعت کے مطابق ایسی حاملہ خواتین جنہیں روزہ رکھنے کے نتیجے میں اپنی صحت یا اپنے ہونے والے بچے کو کسی طرح کا ضرر پہنچنے کا اندیشہ ہو، انہیں روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے لیکن چونکہ اکثر حاملہ خواتین روزہ رکھنے پر اصرار کرتی ہیں، اس لیے انہیں اپنی گائناکالوجسٹ اور ماہر امراض ذیابطیس سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔

    ماہر امراض ذیابطیس پروفیسر زمان شیخ کا کہنا تھا دل کی بیماریوں میں مبتلا ایسے مریض جو کہ باقاعدگی سے علاج کروا رہے ہو اور ان کی صحت بہتر ہو وہ روزہ رکھ سکتے ہیں، لیکن ایسے مریض جن کے معالجین یہ سمجھیں کہ ان کی صحت اس قابل نہیں ہے کہ وہ روزے رکھ سکیں انہیں روزے رکھنے سے اجتناب برتنا چاہیے-

    ہر نمازکے بعد اللہ تعالیٰ کے 3 ناموں کا ورد، داغ دھبے اور دانے ہمیشہ کے لئے ختم

    دارالعلوم کراچی سے وابستہ مفتی نجیب خان کا کہنا تھا کہ روزے کی حالت میں انگلی میں سوئی چبھو کر خون نکال کر چیک کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، اسی طریقے سے آنکھ اور کان میں دوائی کے قطرے ڈالنے اور انجکشن لگوانے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا اگر کسی مریض کی جان پر بن آئے تو اسے روزہ توڑ دینا چاہیے اور ایسی حالت میں اسے صرف قضا روزہ رکھنا پڑے گا تاہم مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد کو روزے رکھنے کے حوالے سے ڈاکٹروں سے مشورہ کرنا چاہیے کیونکہ علماء کرام کے مقابلے میں ڈاکٹر انہیں بہتر مشورہ دے سکتے ہیں-

    فزیشن پروفیسر ڈاکٹر طاہر حسین کا کہنا تھا کہ کانفرنس کے دوران مختلف سائنٹیفک سیشنز میں پیش کیے گئے مقالوں سے ثابت ہوا ہے کہ دل، گردوں، ذیابطیس، بلڈ پریشر کی بیماریوں میں مبتلا افراد اور کسی حد تک حاملہ خواتین بھی روزے رکھ سکتی ہیں، لیکن ایسےمریضوں کو رمضان کا مہینہ شروع ہونے سے پہلے اپنے معالجین سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔

    وظائف کے ضروری آداب اور شرائط

  • دہی خواتین  کی صحت کیلئے بے حد مفید قرار

    دہی خواتین کی صحت کیلئے بے حد مفید قرار

    غذائی ماہرین کے مطابق دہی وٹامن سے بھر پور غذا ہے، دہی میں صحت برقرار رکھنے کے لیے انتہائی ضروری وٹامنز اور منرلز کثیر مقدار میں پائے جاتے ہیں، طبی لحاظ سے بھی دہی نا صرف خاصا مفید اثرات کا حامل ہے بلکہ اس کا استعمال بہت سی بیماریوں سے بھی بچاتا ہے اس کا ایک کپ روزانہ کھانے سے جسم میں پوٹاشیم، فاسفورس، وٹامن بی 5، آیوڈین اور زنک کی کمی دور ہوتی ہے۔

    طبی ماہرین کے مطابق دہی کے استعمال سے مردوں کے مقابلے میں خواتین میں زیادہ پائی جانے والی بیماری ’اوسٹیو پروسس‘ سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے اور طویل عمری میں گھٹنوں کے درد سے نجات ملتی ہے۔

    ایک تحقیق کے مطابق دہی کا استعمال وزن کم کرنے میں بھی مدد گار ثابت ہوتا ہے، کیونکہ اس میں موجود کیلشیم جسم میں موجود چربی کو پگھلاتا اور وزن کو بڑھنے سے روکتا ہے دہی میں چکنائی اور کیلوریز انتہائی کم مقدار میں پائی جاتی ہیں، ایک کپ دہی میں صرف 120 کیلوریز ہوتی ہیں-

    دہی میں دیگر ضروری غذائی اجزاء جیسے کہ پروٹین بھی پایا جاتا ہے جسے انسانی پٹھوں کی نشونما کے لیے انتہائی مفید قرار دیا جاتا ہے۔دہی کے 100 گرام مقدار میں ہزاروں گُڈ بیکٹیریاز کے ساتھ 59 کیلوریز، 0.4 فیصد گرام فیٹ، 5 ملی گرام کولیسٹرول، 36 ملی گرام سو ڈیم ، 141 ملی گرام پوٹاشیم ، 3.2 گرام شوگر، 11 فیصد کیلشیم ، 13 فیصد کوبالمین، 5 فیصد وٹامن بی 6 او 2 فیصد میگنیشیم پایا جاتا ہے، اسلئے غذائیت سے بھرپور دہی خواتین خصوصاً حاملہ خواتین کے لیے بے حد مفید قرار دیا جاتا ہے ۔

    گُڑکے نیم گرم پانی کے حیرت انگیز طبی فوائد

    ماہرین کے مطابق دہی میں شامل کیلشیم اور وٹامن ڈی ہڈیوں کے لیے انتہائی اہم ہیں اور خصوصاً خواتین کو اِن ہی دو وٹامن اور منرل کی اشد ضرورت ہوتی ہے، اس کا روز مرہ استعمال ہڈیوں کی مضبوطی میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے جبکہ ہڈیوں کو بہت سی بیماریوں سے بھی بچاتا ہے۔

    دہی میں موجود خصوصی اینٹی آکسائیڈز جلد کو بہتر نشوونما فراہم کرتے ہیں اس کے علاوہ جلد میں موجود ڈیڈ سیلز کا بھی خاتمہ کرتے ہیں دہی میں موجود قدرتی صحت بخش اجزاء کی خصوصات جلد کو صحت مند اور بالوں کو مضبوطی فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں اس میں بڑی مقدار میں (لیکٹک ایسڈ) کی خوبی موجود ہوتی ہے جو جلد اور بالوں کی نگہداشت وحفاظت کے لیے بہت کارآمد ہے۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کیلئے بہترین ناشتہ جو خون میں شکر کی مقدار کم رکھتا ہے

    دہی میں حیرت انگیزطورپر فری ریڈیکلز کوکنٹرول کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے اور یہ عمر رسیدگی کے اثرات سے بچاؤ کی خصوصیات بھی رکھتا ہے جو جلد پر باریک لکیروں اور جھریوں کو نمودار ہونے سے روکتا ہے دہی میں موجود لیکٹک ایسڈ قبل ازوقت جلد کو بڑھتی عمر کے اثرات سے محفوظ رکھنے میں معاونت فراہم کرتا ہے۔

    جلد کو جھریوں سے دور، جوان، چمکدار کرنے کے لیے ایک چمچہ زیتون کا تیل اور تین چمچے دہی کو مکس کرکے 30منٹ تک چہرے پر لگا کر چھوڑ دیں اس فیس پیک کو ہفتے میں تین بار ضرور استعمال کرنے سے جلد ملائم، نکھری نکھری تروتازہ ہو جائے گی۔

    ڈبل روٹی کے انسانی صحت پر منفی اثرات طبی ماہرین

  • رمضان کےروزے رکھنا ذیا بیطس میں مبتلا افراد کی صحت کیلئے مفید ،مفتی تقی عثمانی

    رمضان کےروزے رکھنا ذیا بیطس میں مبتلا افراد کی صحت کیلئے مفید ،مفتی تقی عثمانی

    کراچی: معروف عالم دین مفتی تقی عثمانی نے کہا ہے کہ ذیابطیس میں مبتلا ہونا رمضان کے روزے نہ رکھنے کا جواز نہیں۔

    باغی ٹی وی : اینڈ حج اسٹڈی گروپ کی جانب سے منعقدہ آٹھویں انٹرنیشنل ڈائیبیٹیز اینڈ رمضان کانفرنس 2020 کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں ماہرین کا کہنا تھا ذیابطیس کے مرض میں مبتلا زیادہ تر افراد نہایت آسانی کے ساتھ رمضان کے روزے رکھ سکتے ہیں لیکن اس سلسلے میں انھیں ڈاکٹروں اور ماہرین صحت سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کیلئے بہترین ناشتہ جو خون میں شکر کی مقدار کم رکھتا ہے

    دو روزہ بین الاقوامی ڈائبیٹیز اینڈ رمضان کانفرنس بقائی انسٹی ٹیوٹ آف ڈائیبیٹولوجی اینڈ اینڈوکرائنولوجی اور ڈائبٹیز اینڈ رمضان انٹرنیشنل لائسنس کے تعاون سے منعقد کی گئی اس کانفرنس سے ڈائبیٹک ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل پروفیسر عبد الباسط، پروفیسر یعقوب احمدانی، پروفیسر اعجاز وہرہ، متحدہ عرب امارات سے پروفیسر ڈاکٹر محمد حسنین، لاہور یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر جاوید اکرم، برطانیہ سے ڈاکٹر سلمہ مہر، ڈاکٹر سیف الحق، ڈاکٹر زاہد میاں سمیت دیگر ماہرین نے خطاب کیا۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مفتی تقی عثمانی کا کہنا تھا کہ ماہرین صحت کی رائے اور جدید تحقیق سے ثابت ہوا ہےکہ ذیابیطس سمیت بلڈ پریشر اور موٹاپے میں مبتلا افراد آسانی سے روزے رکھ سکتے ہیں، بلکہ جدید تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہےکہ ذیابیطس اور اس طرح کے امراض میں مبتلا افراد کے لیے رمضان کے روزے رکھنا ان کی صحت کے لیے نہایت مفید ہے۔

    ذیا بیطس اور موٹاپے میں مبتلا خواتین میں بریسٹ کینسرکا خطرہ بڑھ سکتا ہے تحقیق

    مفتی تقی عثمانی کا کہنا تھا کہ چند لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ شریعت میں ہر طرح کی بیماری میں مبتلا افراد اور ہر طرح کے سفرکرنے والوں کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے، ان کا کہنا تھا کہ صرف وہ لوگ جنھیں روزہ رکھنے سےکسی جسمانی ضرر کا اندیشہ ہو انہیں ماہرین صحت کے مشورے کے بعد روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے اور وہ اس کی قضا ادا کرسکتے ہیں۔

    کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ماہر صحت پروفیسر اعجاز وہرہ کا کہنا تھا کہ روزہ نہ صرف تزکیہ نفس کا ایک اہم ذریعہ اور جسمانی عبادت ہے بلکہ یہ انسانی صحت کیلیے انتہائی مفید عمل ہے، ذیابطیس کے مریضوں کو اپنے معالج کے مشورے سے روزے رکھنے چاہیے جس کے نتیجے میں ان کی شوگر کا کنٹرول بہت بہتر ہو سکتا ہے، روزے کی حالت میں شوگر چیک کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا اور اگر کسی شخص کی شوگر 70 سے کم ہو جائے، دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو جائے، گھبراہٹ ہو اور پسینے آنا شروع ہوجائیں تو ایسے مریض کیلئے روزہ توڑنا جائز ہے۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کے لئے مفید پھل

    معروف ماہر ذیابطیس اور ڈائبیٹک ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل پروفیسر عبدالباسط کا کہنا تھا کہ 2008 سے قبل 90 فیصد ماہرین صحت ذیابطیس میں مبتلا لوگوں کو روزہ نہ رکھنے کا مشورہ دیتے تھے جس کی وجہ سے اس مرض میں مبتلا اکثر لوگ اس اہم جسمانی روحانی عبادت سے محروم رہ جاتے تھے۔

    پروفیسر یعقوب احمدانی کا کہنا تھا وہ پچھلے 14سال سے رمضان اور حج کے حوالے سے ذیابطیس کے مریضوں میں آگاہی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اب تک آٹھ کانفرنسز منعقد کروا چکے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پچھلے کئی سالوں سے عوامی آگاہی کے پروگرامات سمیت ڈاکٹروں کی تربیت پر بھی توجہ دے رہے ہیں تاکہ ذیابیطس میں مبتلا مریضوں کو حج، عمرہ اور رمضان کی عبادات سے بھرپور استفادہ کرنے کے لیے لیے مدد فراہم کی جاسکے۔

    منہ کا خشک رہنا کس خطرناک بیماری کی علامت ہے؟

  • جین تھراپی،تھیلیسیمیا کے شکار بچوں کے علاج کی نئی امید

    جین تھراپی،تھیلیسیمیا کے شکار بچوں کے علاج کی نئی امید

    امریکا میں ماہرین نے جین تھراپی کے ذریعے تھیلیسیمیا میں مبتلا بچوں کے جسم میں قدرتی طریقے سے خون بنانے کا عمل کامیابی سے مکمل کر لیا۔

    باغی ٹی وی :نیوانگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع رپورٹ کے مطابق اس طریقہ علاج میں ماہرین نے خود مریض کے اسٹیم سیل لئے اور انہیں تجربہ گاہ لے جایا گیا اس کے بعد ایک تبدیل شدہ وائرس کے ذریعے تھیلیسیمیا کی وجہ بننے والے خراب جین کی بجائے اس کی درست کاپیاں شامل کی گئیں۔ اس کے بعد تمام مریضوں کو ایک طرح کی کیموتھراپی سے گزارا گیا اور انہیں چار سے پانچ ہفتے اس مرحلے سے گزرنا پڑا اس کے ایک ماہ بعد ہی مریضوں کے جسم میں خون بنانے کی صلاحیت بحال ہو گئی۔

    وزارت صحت کا پاکستان میں ایڈز کے مریضوں میں اضافے کا انکشاف

    کئی برس تک جاری عالمی تحقیق میں ڈاکٹروں نے 13 ماہ سے لے کر چار سال تک کئی مریضوں کا بار بار معائنہ کیا اور خون کے اندر تھیلیسیمیا کے خطرات دیکھتے رہے ان میں سے چار مریضوں پر تھراپی کے سب سے شدید اثرات دیکھے گئے ۔ جبکہ کچھ افراد نے خون کے سرخ اور سفید خلیات میں کمی سمیت، منہ میں چھالوں، بخار اور دیگر کیفیات کی شکایت کی۔

    شکاگو میں واقع این اینڈ رابرٹ ایچ لوری چلڈرن ہسپتال کی ماہر ڈاکٹر جینیفر شنائڈرمان کے مطابق دس برس تک یہ تحقیق کی گئی ہے جس میں انتقالِ خون والے تھیلیسیمیا مریضوں کا جین تھراپی سے علاج کیا گیا ہے۔

    فیزتھری کلینکل ٹرائل کے بعد 90 فیصد مریضوں میں جین تھراپی کے کئی برس بعد اب بھی تازہ خون کی ضرورت نہیں رہی اور وہ مکمل طور پر تندرست ہیں تمام مریضوں کی عمر 4 سے 34 برس تھی اور ان سب کو جین تھراپی سےگزارا گیا تھا ان میں سے 12 برس سے کم عمرکے 90 فیصد مریضوں کو تاحال ماہانہ بنیاد پر انتقالِ خون کی ضرورت نہیں پڑی ہے۔

    رات کی شفٹ میں بے وقت کھانے سے ذیابیطس اور موٹاپے کا خطرہ

    تھیلیسیمیا کی تاریخ سکندرِ اعظم سے شروع ہوتی ہے تھیلیسیمیا‮ ‬خون‮ ‬کی‮ ‬بیماریوں‮ ‬کا‮ ‬مجموعہ‮ ‬‬ہے‮ ‬جو‮ ‬کہ‮ ‬بے‮ ‬قاعدہ‮ ‬ہیموگلوبن‮ ‬کی‮ ‬پیداوارکی‮ ‬وجہ‮ ‬سے‮ ‬بنتا‮ ‬ہے۔ ‬ہیموگلوبن‮ ‬ایسی‮ ‬پرو‮ ‬ٹین‮ ‬ہے‮ ‬جو‮ ‬کہ‮ ‬سرخ‮ ‬جرثوموں‮ ‬میں‮ ‬پائِ‮ی ‬جاتی‮ ‬ہے‮ ‬جو‮ ‬جسم‮ ‬کے‮ ‬لئے‮ ‬آکسیجن‮ ‬لانے‮ ‬کا‮ ‬کام‮ ‬کرتے‮ ‬ہیں تھیلیسیمیا‎‮ ‬مورثی‮ ‬انیمیا‮ ‬بھی‮ ‬‬ہو‮ ‬تا‮ ‬‬ہے‮ ‬یہ‮ ‬بیماری‮ ‬مشرق‮ ‬وسطی،‮ ‬افریقہ‮ ‬یا‮ ‬ایشیا‮ ‬میں‮ ‬پائی‮ ‬جاتی‮ ‬ہے۔‮

    ‬تھیلیسمیا‮ ‬کی‮ ‬بہت‮ ‬سی‮ ‬اقسام‮ ‬‬ہیں ‬یہ‮ ‬علامات‮ ‬کے‮ ‬بغیر‮ ‬سے‮ ‬لیکر‮ ‬مہلک‮ ‬حد‮ ‬تک‮ ‬‬ہو‮ ‬سکتی‮ ‬‬ہے‮ ‬اگر‮ ‬آپ‮ ‬کو‮ ‬بہت‮ ‬معمولی‮ ‬تھیلیسیمیا‮ ‬‬ہے‮ ‬تو‮ ‬اس‮ ‬کا‮ ‬مطلب‮ ‬یہ‮ ‬آپ‮ ‬بیماری‮ ‬کو‮ ‬اٹھائے‮ ‬‬ہوئے‮ ‬‬ہیں‮ ‬اور‮ ‬آپ‮ ‬کے‮ ‬ریڈ‮ ‬خونی‮ ‬ذرات‮ ‬نارمل‮ ‬سے‮ ‬چھوٹے‮ ‬‬ہیں ‬لیکن‮ ‬آپ‮ ‬تندرست‮ ‬‬ہیں تھیلسیمیا‮ ‬میجر‮ ‬مہلک‮ ‬بھی‮ ‬‬ہو‮ ‬سکتا‮ ‬‬ہے‮ ‬آیسے‮ ‬لوگ‮ ‬جن‮ ‬کو‮ ‬ایلفا‮ ‬تھیلیسیمیا‮ ‬میجر‮ ‬‬ہوتا‮ ‬‬ہے‮ ‬وہ‮ ‬بچپن‮ ‬میں‮ ‬‬ہی‮ ‬وفات‮ ‬پا‮ ‬جا‮ ‬تے‮ ‬‬ہیں‮ ‬۔ ‬بیٹا‮ ‬تھیلسیمیا‮ ‬میں‮ ‬خون‮ ‬بدلواتے‮ ‬رہنے‮ ‬کی‮ ‬ضرورت‮ ‬ہوتی‮ ‬ہے۔‮ ‬تھیلسیمیا‮ ‬کی‮ ‬دوسری‮ ‬اقسام‮ ‬بھی‮ ‬ہیں‮ ‬جو‮ ‬کی‮ ‬زیادہ‮ ‬شدید‮ ‬نہیں‮ ‬ہوتیں۔

    تھیلیسیمیا‮ ‬میجر‮ ‬کی‮ ‬علامات‮ ‬نومولودی‮ ‬سے‮ ‬ہی‮ ‬شروع‮ ‬ہو‮ ‬جاتی‮ ‬ہیں‮ ‬یہ‮ ‬علامات‮ ‬انیمیا‮ ‬کے‮ ‬مریضوں‮ ‬جیسی‮ ‬ہی‮ ‬ہوتی‮ ‬ہیں‮ ‬جیسے‮ ‬کہ:جلد‮ ‬کا‮ ‬زرد‮ ‬ھونا ، تھکاوٹ، کمزوری، سانس‮ ‬لینے‮ ‬میں‮ ‬دشواری-

    ذیا بیطس اور موٹاپے میں مبتلا خواتین میں بریسٹ کینسرکا خطرہ بڑھ سکتا ہے تحقیق

    اس کے‮علاوہ‮ ‬دوسری‮ ‬علامات‮ ‬بھی‮ ‬ہو‮ ‬سکتی‮ ‬ہیں جیسے کہ چڑچڑا‮ ‬پن، یرقان، بڑھوتری‮ ‬میں‮ ‬کمی، پیٹ‮ ‬کا‮ ‬غیر‮ ‬معمولی‮ ‬بڑھنا، چہرے‮ ‬کی‮ ‬ھڈی‮ ‬کا‮ ‬ٹیرا‮ ‬پن، گہرے‮ ‬رنگ‮ ‬کا‮ ‬پیشاب-

    خون‮ ‬میں‮ ‬بے‮ ‬ترتیبی‮ ‬کی‮ ‬وجہ‮ ‬جین‮ ‬کی‮ ‬خرابی‮ ‬ہوتی‮ ‬ہے‮ ‬جو‮ ‬کہ‮ ‬ہیموگلوبن‮ ‬کی‮ ‬پیداوار‮ ‬کو‮ ‬کنٹرول‮ ‬کرتی‮ ‬ہے ‬بچے‮ ‬اس‮ ‬جین‮ ‬کو‮ ‬ایک‮ ‬یا‮ ‬دونوں‮ ‬والدین‮ ‬سے‮ ‬وراثت‮ ‬میں‮ ‬لیتے‮ ‬ہیں ‬اگر‮ ‬بچہ‮ ‬دونوں‮ ‬والدین‮ ‬سے‮ ‬خراب‮ ‬جین‮ ‬لیتا‮ ‬ہے‮ ‬تو‮ ‬اسے‮ ‬میجر‮ ‬تھیلیسیمیا‮ ‬ہوتا‮ ‬ہے۔ ‬اگر‮ ‬دو‮ ‬میں‮ ‬سے‮ ‬ایک‮ ‬والدین‮ ‬سے‮ ‬لیتا‮ ‬ہے‮ ‬تو‮ ‬اسے‮ ‬تھیلسمیا‮ ‬مائنرہوتا‮ ‬ہے۔تب‮ ‬یہ‮ ‬بچہ‮ ‬خراب‮ ‬جین‮ ‬کا‮ ‬کیرئیر‮ ‬ہوتا‮ ‬ہے۔

    تھیلیسیمیا کے مریضوں کے خون میں ہیموگلوبن بننے کی رفتار سست ہوجاتی ہے۔ مرض کی شدت میں مریض کو ہر ماہ خون کے سرخ خلیات کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن بار بار خون لگانے سے فولاد کی زیادتی، انفیکشن اور دیگر تکلیف دہ کیفیات پیدا ہوسکتی ہے۔

    حکومت غیر متعدی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے بھی این سی او سی کی طرز کے اقدامات اٹھائے…