Baaghi TV

Category: صحت

  • گلقند اور پان کے پتے کے صحت پر حیرت انگیز فوائد

    گلقند اور پان کے پتے کے صحت پر حیرت انگیز فوائد

    گلاب کی پتیوں سے بننے والی میٹھی غذا گل قند سے بہتر نیند، قبض سے نجات، تیزابیت، اپھار جیسی بے شمار شکایات سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔

    جڑی بوٹیوں کے ماہرین کے مطابق گلاب کے پھول کی پتیوں سے بنی خوش ذائقہ گل قند مٹھائی کے استعمال کرنے کی متعدد وجوہات اور صحت پر بے شمار فوائد مرتب ہوتے ہیں، گل قند کو کھانے کے بعد بطور میٹھا کھایا جا سکتا ہے جس کے نتیجے میں انسان تیزابیت اور درد جیسی شکایات سے بچ جاتا ہے۔

    گل قند تاثیر میں ٹھنڈی ہونے کے نتیجے میں اس کے استعمال سے انسان گرمیوں میں لو سے بچ جاتا ہے گرمیوں میں گھر سے باہر نکلتے ہوئے کچھ مقدار میں گل قند کھالی جائے تو شوگر اور لو بلڈ پریشر سے کافی حد تک نجات مل سکتی ہے۔

    غذائی ماہرین کے مطابق گل قند کا پان کے پتے کے ساتھ استعمال کے بھی بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں جن میں سرفہر ست وٹامنز اور منرلز کا بہتر طریقے سے ہضم ہونا ہے، گل قند کا پان کے پتے کے ساتھ استعمال کے نتیجے میں آئرن کی مقدار بھی حا صل ہوتی ہے۔

    مصروف اور تھکاوٹ سے بھر پور دن گزارنے کے بعد جب پر سکون نیند کی ضرورت ہو تو گل قند کا ایک چمچ یا حسب ذائقہ ایک گلاس دودھ میں ملا کر پی لیں، گرمیوں میں پر سکون نیند کا یہ سستا ترین حل ہے۔

    گھر میں کا م کاج کے دوران یا باہر جاتے ہوئے ٹھنڈے پانی کی بوتل میں گل قند ملا لیں اور اس کا استعمال کریں، گل قند کے پانی سے لو لگنے یا پانی کی کمی سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔

    گل قند بنانے کا طریقہ :
    گلاب کے پھول کی پتیاں دھو کر سکھالیں، اب کانچ کے ایئر ٹائٹ جار میں ان پتیوں کی ایک تہہ بچھائیں اور پتیوں کے اوپر ایک تہہ چینی کی لگا دیں اور اس کے اوپر دوبارہ پتیاں بچھا دیں۔

    اس ایئر ٹائٹ کانچ کے جار کو روزانہ تیز دھوپ میں 6 گھنٹوں کے لیے رکھیں اور 6 گھنٹوں کے بعد چھاؤں میں محفوظ کر لیں، یہ عمل 25 سے 30 دن تک دہرائیں، روزانہ کی بنیاد پر گل قند کو اچھی طرح مکس بھی کریں۔

    جب پھول کی پتیوں میں موجود چینی اچھی طرح سے مکس ہو کر شیرے کی شکل اختیار کر لے تو سمجھ جائیں کہ اب گل قند استعمال کے لیے تیار ہے۔

    گرمی کی شدت کم کرنے کے لئے لسی کے مختلف مزیدار اور لذیذ فلیورز

    گردوں کو صحتمند رکھنے والی چند غذائیں

  • کرونا کی تیسری لہر شدید تر

    کرونا کی تیسری لہر شدید تر

    شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی)ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ محمد اصغر جوئیہ نےکہا ہے کہ کورونا وائرس کی نئی لہر سے نمٹنے کے لئے ضلع بھر میں احتیاطی اقدامات کو یقینی بنایا جا رہا ہے،ضلع میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں میں اضافہ ہوا ہے.

    ان کا کہنا تھا کہ کورونا کی تیسری لہر شدید نوعیت کی ہے جس سے محفوظ رہنے کیلئے شہری ذمہ داری کا ثبوت دیں اور گھروں سے باہر جاتے ہوئے فیس ماسک لازمی استعمال کریں،صابن سے ہاتھ کم ازکم بیس سیکنڈ تک دھوئیں،صفائی کا خصوصی اہتمام کریں اور دوسروں کو بھی احتیاطی تدابیر اپنانے کی تلقین کریں۔

    ڈپٹی کمشنر نےکہا کہ تمام ہیلتھ ورکرز کی ویکسی نیشن یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔ ڈپٹی کمشنر محمد اصغر جوئیہ نے تمام سرکاری و نجی اداروں میں بھی کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ سینی ٹائزرز کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کاروباری حضرات سے نوماسک نو سروس کی پالیسی اپنانے کی اپیل بھی کی ہے۔

  • عمر رسیدہ افراد کے لیے  فری کرونا ویکسین کا اجرا

    عمر رسیدہ افراد کے لیے فری کرونا ویکسین کا اجرا

    بورے والا میں ہیلتھ ورکرز کے بعد عمر رسیدہ افراد کو کورونا ویکسین لگانے کا سلسلہ جاری ہے محکمہ ہیلتھ کی جانب سےسپورٹس جمنیزیم میں کورونا ویکسین سنٹر قائم کردیا گیا ہے

    یہاں پر 60 سال سے زائد مرد و خواتین کو کورونا ویکسین لگائی جارہی ہے ۔سنٹر میں تعینات ڈاکٹر جنید کا کہنا تھا کے 1166 پر شناختی کارڈ نمبر بھیجیں
    اوراپنے ساٹھ سال سے زائد عمر کے بزرگوں کو ضرور ویکسین لگوائیں ویکسین سے اس موذی مرض سے بچا جاسکتا ہے۔ویکسین کے کوئی مضر

    اثرات نہیں ہیں ویکسین لگانے کے بعد ان افراد کو ڈاکٹرز کی نگرانی میں آدھاگھنٹہ سنٹر میں رکھا جاتا ہے ۔

  • پنجاب میں برطانیہ سے آنے والا  کینٹ نامی کورونا وائرس تیزی سے پھیلنے لگا

    پنجاب میں برطانیہ سے آنے والا کینٹ نامی کورونا وائرس تیزی سے پھیلنے لگا

    پنجاب میں برطانیہ سے آنے والا نیا کورونا وائرس تیزی سے پھیلنے لگا۔ کورونا وائرس کی دوسری مختلف اقسام کے مقابلے میں، یہ نئی قسم زیادہ تیزی اور آسانی سے منتقل ہورہی ہے۔

    باغی ٹی وی : پنجاب کے صحت کے حکام کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں لاہور، ملتان، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور سرگودھا میں 300 میں سے 200 مریضوں میں برطانیہ میں پائے جانے والے کینٹ نامی کورونا وائرس پایا گیا۔

    حکام کے مطابق کورونا وائرس کی نئی قسم تیزی سے پھیل رہی ہے اور لاہور سمیت 5 اضلاع کو ہائی رسک قرار دیا گیا ہے۔ لاہور میں کورونا کے مثبت کیسز کا تناسب 12 فیصد سے بھی بڑھ گیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے ماطبق برطانوی ماہرین نے اس نئی قسم پر تحقیقات کی ہیں۔، کورونا وائرس وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنی ساخت میں بھی تبدیلیاں لا رہا ہے۔

  • کورونا وائرس کی تیسری لہر سے شیخوپورہ متاثر

    کورونا وائرس کی تیسری لہر سے شیخوپورہ متاثر

    شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی ) شیخوپورہ سے ہمارے نمائندہ کے مطابق کورونا وائرس کی تیسری لہر شروع ہوتے ہی ضلع شیخوپورہ میں اس وائرس کے مریضوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوگیا ہے چیف ایگزیکٹیو ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی شیخوپورہ ڈاکٹر میاں محمد اشرف نے بتایا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا پازیٹیو کے 80 مریض پائے گئے ہیں سب سے زیادہ خطرناک صورتحال تحصیل صفدر آباد میں ہے جہاں 24 گھنٹوں کے دوران سکولوں اور رہائشی بستیوں میں کورونا پازیٹیو کے 50 مریض پائے گئے ہیں انہوں نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال شیخوپورہ میں اس وقت زیر علاج کورونا کے مریضوں کی تعداد 13 ہوگئی ہے ضلع بھر میں لاک ڈاؤن اور ایس او پیز پر سو فیصد عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے انتظامیہ کی مدد مانگ لی گئی ہے

  • بہتر قوت مدافعت اور پُرسکون نیند کے لئے گھریلو مصالحوں سے تیارکردہ جادوؤئی مشروب

    بہتر قوت مدافعت اور پُرسکون نیند کے لئے گھریلو مصالحوں سے تیارکردہ جادوؤئی مشروب

    طبی ماہرین کے مطابق نیندکی کمی کے سبب وزن اور ذہنی دباؤ میں اضافہ ہونے لگتا ہے، پر سکون نیند نہ لینے کے سبب دماغی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے اور انسانی جسم میں موجود بیماریوں سے بچانے والا نظام ، قوت مدافعت کمزور پڑنے لگتا ہے جس کے سبب انسان کے متعدد بیماریوں میں گھرنے کے خدشات میں اضافہ ہوتا ہے۔

    طبی و غذائی ماہرین کی جانب سے رات سونے سے قبل اینٹی سیپٹک خصوصیات سے بھرپور مصالحے ہلدی سے بنا دودھ پینا تجویز کیا جاتا ہے اگراس ہلدی دودھ میں اگر چند اجزا مزید شامل کر لیے جائیں تو یہ نہ صرف ہلدی دودھ کا ذائقہ بڑھا دیتے ہیں بلکہ اس کے صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    قدرتی اجزا سے تیار کیے جانے والے اس مشروب کو ماہرین کی جانب سے ’مون شائن مِکس‘ کا نام دیا گیا ہے جس کے استعمال سے مجموعی صحت سمیت نیند میں بھی بہتری آ تی ہے۔

    ’ مون شائن مِکس ‘ بنانے کے لیے درکار اجزا مندرجہ ذیل ہیں:

    3 کھانے کے چمچ سونف کا پاؤڈر

    10 کھانے کے چمچ ہلدی

    2 کھانے کے چمچ لونگ پاؤڈر

    4 کھانے کے چمچ ادرک کا پاؤڈر

    3 کھانے کے چمچ لال گلاب کا ؤڈر

    2کھانے کے چمچ جائفل کا پاؤڈر

    2 کھانے کے چمچ دار چینی پاؤڈر

    5 کھانے کے چمچ ملٹھی پاؤڈر

    15 کھانے کے چمچ براؤن شکر یا پسا ہوا گُڑ لے لیں۔

    اب ان سب اجزا کو اچھی طرح ملا کر ایک ایئر ٹائٹ جار میں محفوظ کر لیں اور رات سونے سے قبل اس سفوف کا ایک چمچ ایک گلاس نیم گرم دودھ میں ملا کر پی لیں، اس دودھ یعنی کہ ’مون شائن مِکس‘ سے پر سکون نیند میں مدد ملے گی، قوت مدافعت میں بھی اضافہ ہوگا اور نظام ہاضمہ درست ہوگا۔
    <img class="alignnone size-full wp-image-319431" src="https://login.baaghitv.com/wp-content/uploads/2021/03/WhatsApp-Image-2021-03-07-at-7.14.18-PM.jpeg" alt="" width="720" height="894" /

  • کیوی کے حیرت انگیز طبی فوائد

    کیوی کے حیرت انگیز طبی فوائد

    چیکو سے ملتا جلتا باہر سے خاکی اور اندر سے تروتازہ سبز رنگ کے گودے پر مشتمل رسیلا اور لذیذ ’کیوی پھل ‘ جو نہ صرف فروٹ سیلڈز کو آنکھوں کے کے لیے خوشنما بناتا ہے بلکہ کئی فوائد کا حامل ہے۔

    ذائقے میں یہ اسٹابیری سے ملتا جلتا ہوتا ہے، اس پھل کی ابتداء نیوزی لینڈ سے ہوئی ہے اسی لیے اس کا نام نیوزی لینڈ کے ایک ’کیوی‘ نامی پرندے سے منسوب کر کے ’ کیوی پھل‘ رکھا گیا ہے۔

    اکثر لوگ اس پھل کے بارے میں نہیں جانتے لیکن ماہرین صحت نے اس پھل کے کئی ایسے فائدے بتائے ہیں جو اس کی مقبولیت میں دس گنا تیزی کے ساتھ اضافہ کریں گے۔

    یہ اپنے اندر موجود غذائیت کے اعتبار سے مفید مانا جاتا ہے جو مغربی ممالک میں تو میٹھے کھانوں میں طویل عرصے سے استعمال ہورہا ہے اب باآسانی پاکستان میں بھی دستیاب ہے۔

    وٹامنز اور منرلز کا خزانہ: کیوی پھل میں وٹامن اے، بی 6، بی 12 ،ای کے ساتھ پوٹاشیئم ، کیلشئم، آئرن اور میگنیشیم کی کثیر مقدار موجود ہوتی ہے، جو جسم کے افعال درست رکھتے ہیں جس میں خون کی روانی، آئرن جذب کرنے کی صلاحیت، مضبوط ہڈیاں اور دانت، بہترین بصارت، اور تناؤ سے نکلنے کی صلاحیت شامل ہے۔

    وٹامن سی کا خزانہ: اگر آپ سمجھتے ہیں کہ صرف لیموں اور مالٹے جیسے ترش پھل ہی وٹامن ’سی‘ کا خزانہ ہیں تو آپ غلط ہیں، کیوی پھل کی 100 گرام مقدار میں ایک سو 54 فیصد وٹامن سی پایا جاتا ہے جو ترش پھلوں کے مقابلے دگنا ہے وٹامن سی طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ ہے اور جسم سے زہریلے مادوں اور کینسر کا سبب بننے والے عناصر کے اخراج میں مدد دیتا ہے

    بے خوابی سے نجات: تائی پے میڈیکل یونیورسٹی کی مختلف تحقیقات کے مطابق کیوی پھل میں ایسے اجزا موجود ہیں جو بے خوابی کو ختم کرنے میں مدد دیتے ہیں اس کے لیے سونے سے ایک گھنٹہ قبل 2 کیوی پھل کھانا مفید ثابت ہوتا ہے۔

    تروتازہ اور چمکدار جلد: کیوی میں الکلی کی خاصیتیں موجود ہیں جو مرچ مسالے والے کھانوں کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے، اس سے نہ صرف آپ بھرپور متحرک اور توانا رہیں گے بلکہ آپ کی جلد بھی چمکتی دمکتی اور ترو تازہ رہے گی کیوی میں موجود اینٹی آکسیڈنٹ جلد کو خراب ہونے سے بچاتے ہیں، بہتر نتائج کے لیے اس کے گودے کو چہرے پر ملنا بھی فائدہ مند ہے۔

    دل سمیت متعدد بیماریوں میں مفید: دل کی لیڈز یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق غذائی ریشوں سے بھرپور خوراک کھانے سے امراضِ قلب شریانوں کے مسائل کا خطرہ کم ہوتا ہے جبکہ اس سے بلڈ پریشر، بلڈ شوگر اور کولیسٹرول بھی کم ہوتا ہے اس کے ساتھ یہ وزن کم کرنے کے لیے بھی مفید ہے۔

    نظام انہضام کے لئے مفید: کیوی پھل میں ایکٹینڈین نامی جز پایا جاتا ہے جس میں پروٹین ہضم کرنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے چناچہ یہ آنتوں کے مرض میں مبتلا افراد کو خاصہ آرام پہنچاتا ہے۔

    املی صحت کے لئے کیوں ضروری ہے؟

    وٹامن سی کیوں ضروری ہے؟

  • کافی کا زیادہ استعمال دل کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے

    کافی کا زیادہ استعمال دل کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے

    ایک نئی تحقیق کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کافی کا زیادہ استعمال دل کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

    کافی سے متعلق طبی و غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ لمبے عرصے تک اگر ایک دن میں 5 سے 6 کپ کافی کا استعمال کیا جائے تو اس کے سبب دل کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے، زیادہ کافی پینے کے نتیجے میں انسانی خون میں فیٹ کی مقدار بھی بڑھ جاتی ہے جس کے سبب ہارٹ اٹیک کے خدشات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

    آسٹریلین یونیورسٹی کی جانب سے کی گئی دنیا کی پہلی جینیٹک اسٹڈی کے نتیجے میں شائع ہونے والی ہیلتھ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے وزن میں کمی، بھوک مٹانے یا دماغی کارکردگی بڑھانے کے لیے استعمال کی جانے والی کافی کا لمبے عرصے تک زیادہ استعمال دل کے لیے مضر صحت ہے اور ہارٹ اٹیک میں بننے والے اسباب میں سے ایک سبب زیادہ کافی کا استعمال بھی ہے۔

    تحقیق کے دوران کافی کے استعمال اور خون میں موجود کولیسٹرول لیول اور لیپیڈز میں گہرا تعلق پایا گیا ہے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ جتنا کافی کا زیادہ استعمال کیا جائے گا اتنا ہے دل کے عارضے کے بڑھنے کے خدشات میں بھی اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔

    یونی ایس اے کی ریسرچر پروفیسر ایلینا ہائیپونن کہتی ہیں کہ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دل کی صحت کے لیے اسکے استعمال میں توازن رکھنا ہوگا۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ وہ لوگ جنھیں ہائی کولیسٹرول کی شکایت ہے وہ تو کافی کے انتخاب میں بھی محتاط رہیں۔ کافی اور کولیسٹرول میں مقدار کا آپس میں تعلق ہے، زیادہ غیر فلٹر شدہ کافی کے استعمال سے خون میں چکنائی (کولیسٹرول) بڑھ جاتی ہے۔

    پروفیسر ایلینا ہائیپونن کا یہ بھی کہنا ہے کہ بہتر ہے کہ ہمشیہ فلٹر شدہ کافی کا استعمال کیا جائے اور وہ بھی بہت زیادہ نہیں بلکہ ایک توازن میں رہتے ہوئے کرنا چاہئے۔

  • بلوچستان میں ہیپاٹائٹس کی سنگین صورتحال کے تدارک کیلئےچھ روزہ انسداد ہیپاٹائٹس مہم کا آغاز

    بلوچستان میں ہیپاٹائٹس کی سنگین صورتحال کے تدارک کیلئےچھ روزہ انسداد ہیپاٹائٹس مہم کا آغاز

    بلوچستان میں ہیپاٹائٹس ایک سنگین صورتحال اختیار کر چکا ہے جس کے تدارک کیلئے وزیر اعلی پروگرام برائے انسداد ہیپاٹائٹس کے تحت ڈیرہ مراد جمالی میں چھ روزہ مہم کا افتتاح کردیا گیا-

    باغی ٹی وی : ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس ڈیرہ مراد جمالی میں ہیپاٹائٹس کی ویکسینیشن کی کے حوالے سے افتتاحی تقریب منعقد ہوئی جہاں کمشنر نصیرآباد ڈویژن عابد سلیم قریشی اور صوبائی کوآرڈینیٹر تدارک ہپاٹاٹٹس ڈاکٹر گل سبین اعظم نے چھ روزہ انسداد ہیپاٹائٹس مہم کا باقاعدہ افتتاح کیا –

    افتتاحی تقریب میں ڈی ایچ او نصیرآباد ڈاکٹر عبدالمنان لاکٹی۔ایم ایس ڈاکٹر ایاز جمالی ۔ نیشنل پروگرام کے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر ڈاکٹر منظور احمد ابڑو ۔پی پی ایچ ائی کے ڈی ایس ایم شاہ جہان مینگل ۔ڈاکٹر ارباب قادر بخش بابو محمد اعظم بہرانی سمیت دیگر موجود تھے-

    ڈی ایچ او ڈاکٹر عبدالمنان لاکٹی نے بتایاکہ چھ روزہ مہم میں ضلع کی آٹھ یونین کونسلوں اور سٹی ایریا کے لیے محکمہ صحت کی ٹیمیں تشکیل دے دی گئیں ہیں جوکہ گھر گھر جاکر سولہ سال سے زائد 53ہزار لوگوں کی ہیپاٹائٹس بی اور سی کی ویکسینیشن کی جائے گی 35ہزار لوگوں کے لیے پہلی بار مفت ہیپاٹائٹس بی اور سی کی تشخیص کے لئے جدید تشخیصی کٹ استعمال کی جاررہی ہے-

    کمشنر نصیرآباد ڈویژن عابد سلیم قریشی اور ڈاکٹر گل سبین اعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خوشحال و صحت مند بلوچستان صوبائی حکومت کا وژن ہے صحت مند انسان معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے بلوچستان میں ہیپاٹائٹس کے علاج معالجے کے ساتھ ساتھ صحت عامہ سے متعلق شعوری آ گاہی کی بھی اشد ضرورت ہے نصیر آباد اسوقت کالے یرقان کے مرض کے حوالے سے ہائی رسک ایریا ہے اس لئےہیپاٹائٹس پروگرام کے ذمہ داران کو اس ہائی رسک ایریا کو فوکس کرکے فوری طور پر اسکریننگ اور مرض میں مبتلا افراد کے علاج پر توجہ دینے کی ہدایت کی گئی ہے-

  • گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج 14دن کے لئے بند

    گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج 14دن کے لئے بند

    شیخوپورہ(نمائندہ باغی ٹی وی) گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج شیخوپورہ کو کرونا وبا کے پیش نظر 14روز کے لیے سمارٹ لاک ڈاؤن کرتے ہوئے بند کر دیا گیا ہے

    اس سلسلے میں پرائمری اور اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر ڈپارٹمنٹ نے ایک مراسلہ بھی جاری کیا ہے جس میں ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ کے حکم سے گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کو 14 روز کے لئے بند کرنے کا حکم۔دیا گیا ہے

    باغی ٹی وی کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق مذکورہ کالج میں کرونا کے تین مریضوں کی موجودگی پائی گئی تھی جس کے بعد ایکشن لیتے ہوئے سمارٹ لاک ڈاؤن کا نفاذ کیا گیا ہے