ڈپٹی کمشنر کیپٹن ریٹائرڈ انوار الحق کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہیڈکوارٹر عبداللہ محمود کا تحصیل ہیڈکواٹر ہسپتال مری کا دورہ کیا۔ سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر فائزہ کنول بھی ان کے ہمراہ تھی۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال میں مریضوں کو دی جانے والی سہولیات کے بارے میں دریافت کیا۔ ہسپتال میں موجود مختلف شعبوں کا معائنہ بھی کیا۔ مریضوں کے علاج و معالجے میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔ مریضوں کے علاج و معالجے کے لیے حکومت پنجاب تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے. ہسپتال کے دورے کا مقصد انتظامات کے ساتھ ساتھ مریضوں کو علاج ومعالجے کے سلسلے میں دی جانے والی سہولیات کا جائزہ لے کر مزید بہتر بنانا ہے۔
Category: صحت

وزیرصحت پنجاب ڈاکٹریاسمین راشدنے ضلع لیہ میں 88 نئے صحت گھربنانے کی منظوری دے دی
وزیرصحت پنجاب ڈاکٹریاسمین راشدنے ضلع لیہ میں 88 نئے صحت گھربنانے کی منظوری دے دی. ہر صحت گھر دس ہزارکی آبادی پرقائم کیاجارہاہے، صحت گھرمیں ڈاکٹرزاور ادویات کو یقینی بنایاجائے گا. صحت گھروں کے ذریعے غیر مستندافراداور عطائیت کے خلاف ایکشن میں مددحاصل ہوسکے گی.وزیر صحت پنجاب کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت جنوبی پنجاب کی عوام کوان کااصل حق دلوانے میں تاریخی کرداراداکررہی ہے۔ وزیرصحت پنجاب ڈاکٹریاسمین راشدنے ضلع لیہ میں 88 نئے صحت گھربنانے کی منظوری دے دی ہے۔وزیر صحت نے یہ منظوری محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیراینڈ میڈیکل ایجوکیشن میں جنوبی پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں کی مزیدبہتری کے حوالہ سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دی۔اجلاس میں سیکرٹری صحت برسٹر نبیل اعوان،سیکرٹری جنوبی پنجاب محمد اجمل بھٹی،ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیراینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈاکٹرآصف طفیل، میاں زاہدالرحمن باٹہ اور ایڈیشنل سیکرٹری جنوبی پنجاب ڈاکٹرشاہدلطیف نے شرکت کی۔سیکرٹری صحت جنوبی پنجاب محمد اجمل بھٹی نے وزیر صحت کوجنوبی پنجاب میں صحت انصاف کارڈزکی تقسیم اور ضلع لیہ میں نئے صحت گھرکے منصوبہ کی تفصیلا ت پیش کیں۔
صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے کہاکہ لیہ کی عوام کو 88 نئے صحت گھروں کی شکل میں ایک بہترین تحفہ دے رہے ہیں۔صحت گھروں کے منصوبہ کی نگرانی سیکرٹری صحت جنوبی پنجاب محمد اجمل بھٹی کریں گے۔ہر صحت گھر دس ہزارکی آبادی پرقائم کیاجارہاہے۔ڈاکٹریاسمین راشدنے کہاکہ ہر صحت گھرمیں ڈاکٹرزاور ادویات کو یقینی بنایاجائے گا۔صحت گھروں میں ڈاکٹرز،ڈسپنسززاور لیڈی ہیلتھ ورکرزفرائض سرانجام دیں گے۔صحت گھروں کے ذریعے غیر مستندافراداور عطائیت کے خلاف ایکشن میں مددحاصل ہوسکے گی۔وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدارکے ویژن کے مطابق جنوبی پنجاب کی عوام کو صحت کے شعبہ میں بہترسہولیات فراہم کریں گے۔صوبائی وزیر صحت نے مزیدکہاکہ جنوبی پنجاب کی عوام نے ماضی میں ہمیشہ خاندانی سیاستدانوں سے دھوکہ کھایاہے۔تحریک انصاف کی حکومت جنوبی پنجاب کی عوام کوان کااصل حق دلوانے میں تاریخی کرداراداکررہی ہے۔جنوبی پنجاب کی تین ڈویژنزملتان،ڈی جی خان اور بہاول پورمیں صحت کی بہترسہولیات کویقینی بنایاجارہاہے۔عمران خان کے سپاہی ہونے کے ناطے عوامی خدمت پرمکمل یقین رکھتے ہیں۔وزیراعظم عمران خان پنجاب کی عوام کیلئے صحت اور تعلیم کے شعبہ جات میں زیادہ سے زیادہ آسانیاں پیداکرناچاہتے ہیں۔جون 2021تک ڈی جی خان اور ساہیوال ڈویژنزکے تمام خاندانوں میں صحت سہولت کارڈزتقسیم کردئیے جائیں گے۔
این سی او سی کے غلط فیصلے نے کورونا کے بڑھنے کی گھنٹی بجا دی
این سی او سی کا تمام سکول، کالجز، پارکس اورہوٹلز وغیرہ کھولنے کا فیصلہ ایک غلط فیصلہ ہے جس نے کورونا کے بڑھنے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ پی ایم اے سمجھتی ہے کہ ہسپتالوں کے اعدادوشمار یہ واضح کر رہے ہیں کہ کورونا کے پھیلنے کی شرح بدستور بڑھ رہی ہے اور شرح اموات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ آج بھی لاہور کے ہسپتالوں کے آئی سی یو وارڈز میں کرونا کے مریضوں کی تعداد خطرناک حد تک موجود ہے۔ سو فیصد حاضری کے ساتھ سکول کھولنے سے جب یہ بچے بیماری لے کر گھروں میں جائیں گے تو اِن کی وجہ سے بزرگوں کے کورونا میں مبتلا ہونے کی شرح بڑھ جائے گی۔اور پاکستان کا موجود کھوکھلا صحت کا نظام اس قابل نہیں ہے کہ وباء کے بڑھنے کی صورت میں احسن طریقے سے اس کا مقابلہ کر سکے
ان خیالات کا اظہارپی ایم اے ہاؤس میں ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر اشرف نظامی صدر پی ایم اے لاہور نے کی۔ اجلاس میں ڈاکٹر ملک شاہد شوکت، ڈاکٹر اظہار احمد چوہدری،پروفیسر ڈاکٹر تنویر انور،پروفیسر خالد محمود خان، ڈاکٹرارم شہزادی، ڈاکٹر واجد علی، ڈاکٹر بشریٰ حق،ڈاکٹر احمد نعیم،پروفیسر ڈاکٹرثاقب سہیل،ڈاکٹر رانا سہیل، ڈاکٹر ریاض ذوالقرنین اسلم، ڈاکٹر طلحہ شیروانی، ڈاکٹرسلمان کاظمی نے شرکت کی۔
عہدیدان نے وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام سیکٹرز کو کھولنے کے اعلان پر نظر ثانی کی جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔
موٹاپا بلڈ پریشر سانس دل کے امراض ۔فالج کینسر کا باعث، سیکرٹری پناہ
راولپنڈی: پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن” پناہ” کے زیر اہتمام نجی ہوٹل میں سیمینار منعقد ہوا جس میں فاسٹ و ہائی جینک فوڈ شوگری ڈرنکس موٹاپے کے بنیادی اجزاء قرار دیے گئے۔
سیکرٹری پناہ ثناء اللہ گھمن کا کہنا ہے کہ موٹاپا خود بیماریوں کی جڑ اور دل کے امراض کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔ پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن پناہ نے حالیہ سروے رپورٹ جاری کردی ہے۔موٹاپا بلڈ پریشر سانس دل کے امراض ۔فالج کینسر کا باعث ہے۔ ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق 68 فیصد اموات کی وجہ شوگری ڈرنکس اور موٹاپے سے پیدا امراض ہے۔ اسلام آباد میں حالیہ سروے میں 80 فیصد لوگوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے، 72 فیصد لوگ موٹاپے کی وجہ سے پر یشان ہیں،
حکومت کو اس معاملہ پر سنجیدگی اختیار کرنی ہوگی،
کلوگوز کی اضافی مقدار کی وجہ سے بینائی اور دماغی امراض کا باعث ہے، شوگری ڈرنکس کے استعمال سے دل کی شریانیں سکڑنے سے ہارٹ اٹیک ہوتا ہے، شوگری ڈرنکس کے روزانہ استعمال سے بھی دل کے دورے کا امکان بڑھ جاتا ہے. اسکول کے 46 فیصد بچے روزانہ شوگری ڈرنکس استعمال کرتے ہیں ۔ڈبلیو ایچ او کی تجویز ہے کہ شوگری ڈرنکس سگریٹ اور دیگر اشیاء پر ٹیکس کی شرح بڑھا دی جائے۔ میکسیکو نے شوگری ڈرنکس ٹیکس میں دس فیصد اضافہ کرکے استعمال میں کمی کی.
زچگی کیلئے تربیت یافتہ گائناکالوجسٹ کی خدمات سے استفادہ کرنا چاہیے، ماہر گائناکالوجسٹ
جنرل ہسپتال میں 3 روزہ کلینکل کورس کا اختتام، صوبہ بھر سے سینئر گائنی ڈاکٹرز نے شرکت کی۔ پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا ہے کہ میڈیکل میں مہارت کیلئے تربیتی ورکشاپس کاانعقاد اور شرکت ضروری ہے ہیلتھ پروفیشنلز کی کامیابی غریب مریضوں کو صحت یابی سے ہمکنار کرنا ہے، ہرمریض وی آئی پی ہونا چاہیے
ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین کی صحت،خصوصاً حمل و زچگی کے معاملات کو سنجیدہ نہیں لیا جاتاجس سے پیچیدگیاں ہوتی ہیں
سربراہ ایل جی ایچ کا کہنا ہے کہ زچگی کیلئے تربیت یافتہ گائناکالوجسٹ کی خدمات سے استفادہ کرنا چاہیے۔
پاکستان کو ایک صحت مند قوم بنانے کیلئے زچہ و بچہ کی صحت پر خصوصی توجہ دینا ہو گی: ۔ پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج و معروف گائناکالوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے کہا ہے کہ طب کے شعبہ میں اعلی ترین مہارت کے درجے پر پہنچنے کیلئے باقاعدگی کے ساتھ تربیتی ورکشاپس کا انعقاد و تحقیقی کام میں وقت لگانا اور سینئر اساتذہ ڈاکٹرز کے تجربات کی روشنی میں اپنی پیشہ وارانہ قابلیت میں مسلسل اضافہ انتہائی ضروری ہے تاکہ ینگ ڈاکٹرز بھی اُن کے نقش قدم پر چل کر دکھی انسانیت کی بہتر سے بہتر انداز میں خدمت کر سکیں۔ ان خیالات کا اظہارپرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسر الفرید ظفر نے جنرل ہسپتال میں گائنی کے شعبے میں اعلی مہارت کیلئے منعقدہ 3 روزہ کلینکل ایگزیم کورس کے اختتامی سیشن کے شرکاء میں سرٹیفکیٹس تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ورکشاپ کا اہتمام جنرل ہسپتال کی گائنی یونٹ 2کی پروفیسر ڈاکٹر فائقہ سلیم بیگ نے کیا تھا جس میں صوبہ بھر سے ایم ایس، ایف سی پی ایس اور ایم سی پی ایس کرنے والے ڈاکٹرز کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ دوران ورکشاپ ملک کے مایہ ناز گائناکالوجسٹس نے نوجوان ڈاکٹروں کو لیکچرز بھی دیے اور ان کو جدید طریقہ علاج کے بارے میں روشناس کروایا۔پرنسپل علامہ اقبال میڈیکل کالج پروفیسر عارف تجمل،پروفیسر محمد طیب،پروفیسر ارشد چوہان، پروفیسر روبینہ سہیل، پروفیسر عالیہ بشیر، پروفیسر ڈاکٹر مہرالنساء، پروفیسر ڈاکٹر فرح، پروفیسر فرحت ناز، پروفیسر نائلہ طارق، پروفیسر عاصمہ گل، ڈاکٹر لیلیٰ شفیق اور ڈاکٹر عائشہ افتخار نے لانگ اور شارٹ سرجری کے متعلق نوجوان ڈاکٹرز کو مستقبل کیلئے مفید معلومات فراہم کرنے کے ساتھ رہنمائی بھی کی اور سوال و جواب کے سیشن بھی ہوئے۔
پروفیسر الفرید ظفر نے کہا کہ ہیلتھ پروفیشنلز کے سامنے سب سے بڑی کامیابی غریب و نادار مریضوں کا علاج کر کے انہیں صحتیابی سے ہمکنار کرنا ہوتا ہے لہذا ڈاکٹر کیلئے ہر مریض کا درجہ وی آئی پی ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے خطیر بجٹ اور دیگر سہولیات کا ایک ہی بنیادی مقصد شہریوں کو بہتر علاج معالجہ کی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہے جس کیلئے موجودہ حکومت تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تربیتی ورکشاپ میں آگاہی و معلومات کی فراہمی سے ڈاکٹرز کو آئندہ اپنے سالانہ امتحانات میں آسانیاں پیدا ہونگی اور وہ مکمل اعتماد کے ساتھ پیشہ وارانہ تعلیم کے امتحانات دے سکیں گے جس سے ان کی کامیابی کے امکانات زیادہ روشن ہو سکیں گے اور وہ عملی زندگی میں بہتر سے بہتر خدمات سر انجام دے سکیں گے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر الفرید ظفر نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں بعض سماجی اور روایتی اقدار کی وجہ سے خواتین اور بچوں کی صحت نظر انداز ہو رہی ہے اور خاندان کے افراد خواتین کی صحت،خصوصاً حمل و زچگی کے معاملات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے جس کی وجہ سے اکثر خواتین کو پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ہر سال ہزاروں خواتین حمل و زچگی کے دوران اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسی طرح نومولود بچوں میں بھی شرح اموات بہت زیادہ ہے لہذا پاکستان کو ایک صحت مند قوم بنانے کیلئے خواتین اور ماؤں کی صحت پر خصوصی توجہ دینا ہو گی۔ بالخصوص دیہی خواتین اور ان کے خاندانوں میں شعور بیدار کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ وہ غیر تربیت یافتہ دائیوں سے اپنی جانوں کو خطرات میں ڈالنے کی بجائے دوران حمل کسی مستند لیڈی ڈاکٹر یا کوالیفائیڈ ایل ایچ وی سے معائنہ کروائیں تاکہ وقت آنے پر کسی منفی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا ڈاکٹروں کی پیشہ وارانہ تربیت اور ان کی میڈیکل ایجوکیشن کو اپ ڈیٹ کرنے کیلئے پی جی ایم آئی و ایل جی ایچ مختلف تربیتی کورسز، سیمینار و ورکشاپ کا انعقاد آئندہ بھی کرتا رہے گاتاکہ انہیں زیادہ سے زیادہ معاونت مل سکے۔
سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں, یاسمین راشد
ڈاکٹریاسمین راشد کا کہنا ہے کہ صوبہ بھرکے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرزکی حاضری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیاجائے گا۔
تمام وائس چانسلرزاورپرنسپل حضرات اپنے ماتحت ہسپتالوں میں ڈاکٹرزکی حاضری کو خود مانیٹرکریں
سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔وزیر صحت پنجاب
لاہور24 فروری: وزیر صحت پنجاب ڈاکٹریاسمین راشدکی زیرصدارت محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیراینڈ میڈیکل ایجوکیشن میں اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا،جس میں سیکرٹری صحت بیرسٹرنبیل اعوان،ایڈیشنل سیکرٹری ڈاکٹر آصف طفیل،وائس چانسلرکنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی پروفیسرڈاکٹرخالدمسعودگوندل،وائس چانسلرفاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی پروفیسرڈاکٹرعامرزمان خان،پرنسپل علامہ اقبال میڈیکل کالج پروفیسرڈاکٹرعارف تجمل،پرنسپل امیرالدین میڈیکل کالج پروفیسرڈاکٹر سردارالفرید، ایگزیکٹوڈائریکٹر پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیوروسائنسز پروفیسرڈاکٹرخالدمحمود،ایم ایس جناح ہسپتال ڈاکٹریحییٰ سلطان، ڈاکٹر علی رزاق،ایم ایس یکی گیٹ ہسپتال ڈاکٹرگلزاراحمد،میاں زاہدالرحمن باٹہ ودیگرافسران نے شرکت کی۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے اجلاس کے دوران سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرزکی حاضری،مریضوں کے علاج،صفائی ستھرائی،ادویات کی فراہمی ودیگرانتظامی امورکا تفصیلی جائزہ لیا۔ایڈیشنل سیکرٹری ڈاکٹرآصف طفیل نے اجلاس کے دوران مختلف سرکاری ہسپتالوں کے حالات بارے تفصیلات پیش کیں۔
صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے کہاکہ تمام سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرزکی حاضری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیاجائے گا۔سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرزکی کمی کوفوراًپورا کیا جائے۔ڈاکٹریاسمین راشدنے کہاکہ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات کا ذمہ دار ایم ایس ہوگا۔کسی بھی سرکاری ہسپتال میں ادویات کی کوئی کمی نہیں ہے۔صوبائی وزیر صحت نے مزیدکہاکہ سرکاری ہسپتالوں کے حالات مزیدبہتربنانے کیلئے سرپرائزوزٹس کا سلسلہ جاری رہے گا۔تمام وائس چانسلرزاورپرنسپل حضرات اپنے ماتحت ہسپتالوں میں ڈاکٹرزکی حاضری کو خود مانیٹرکریں۔ایک ماہ بعد سرکاری ہسپتالوں کے حالات بارے دوبارہ اجلاس طلب کیاجائے گا۔
ٹراما سنٹر کا آپریشن تھیٹر بند
شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی)ڈی ایچ کیو ہسپتال شیخوپورہ میں کورونا پازیٹیو مریض کا آپریشن ہو جانے کے بعدہسپتال کے آپریشن تھیٹر کو ایم ایس ڈاکٹر سہیل خضر کی ہدات پر غیر معینہ مدت تک کیلئے بند کر دیا گیا ہے محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق ہسپتال میں 3 روز سے ہرنیوں کا مریض دانش داخل تھا جس کی حالت بگڑ جانے پر اس کا ہرنیوں کا آپریشن سرجن ڈاکٹر محمد عارف نے کیا جس کے بعد اس کے کورونا ٹیسٹ کی رپورٹ موصول ہوئی جو پازیٹیو پائی گئی جس کے بعد مریض کا آپریشن مکمل کر کے اسے سرجیکل وارڈ سے کورونا وارڈ میں شفٹ کر دیا گیا ہے ایم ایس ڈاکٹر سہیل خضر نے بتایا ہے کہ کورونا ٹیسٹ کی رپورٹ کا انتظار کئے بغیر آپریشن کرنے اور آپریشن تھیٹر کی صفائی وغیرہ کے حوالے سے انکوائری کی خاطر دو انکوائری ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں انہوں نے بتایا کہ مریض دانش کو ہیپاٹائٹس سی کا مرض بھی لاحق ہے آپریشن تھیٹر کی کلیئرنس کے بعد اسے کھول دیا جائے گا۔

چودھری پرویزالٰہی نے ریسکیو ادارے کو سیٹ نہ دینے پر کیا دھمکی دی؟؟
چودھری پرویزالٰہی کا کہنا ہے کہ ریسکیو 1122 جیسے شاندار کارکردگی کے حامل ادارے کو خودمختار نہ بنا کر اس کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے.
اس ادارے کی نہ صرف اندرون ملک بلکہ UNO نے بھی تعریف کی اور اس کی کارکردگی کو سراہا، لیکن پھر بھی اس کے اہلکاروں کو ریگولرائز نہیں کیا گیا تو یہ نہایت افسوسناک بات ہے
اگر اس محکمے کو وہ سٹیٹس نہ دیا گیا جو اس کو دینا چاہئے تھا تو میں ان تمام لوگوں کی فہرست سامنے لاؤں گا جو اس ادارے کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں:
سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی کی زیر صدارت اسمبلی اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ کی رکن خدیجہ عمر فاروقی نے پنجاب ایمرجنسی سروس کا ترمیمی بل ایوان میں پیش کیا تو تمام ارکان اسمبلی نے اس بل کی تائید کی۔ سپیکر چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ اس محکمے کے بل کو 2004ء میں ہماری حکومت نے ہی پاس کروایا تھا جس کی اب تک کی کارکردگی نہایت شاندار رہی ہے جس کی نہ صرف اندرون ملک بلکہ UNO نے بھی تعریف کی اور اس کی کارکردگی کو سراہا، لیکن پھر بھی اگر اس ادارے کو خودمختار اور اس کے اہلکاروں کو ریگولرائز نہیں کیا گیا تو یہ نہایت افسوسناک بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو 1122 نے اس ادارے نے بلاتفریق امیر و غریب کے آج تک 90 لاکھ سے زائد مریضوں کو ریسکیو کر کے ان کی جانیں بچائیں، آگ کے واقعات میں ایک لاکھ 55 ہزار جائیدادیں جن کی مالیت 400 ارب روپے ہے بروقت respond کر کے ان کا تحفظ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر چیف منسٹر انسپکشن ٹیم اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کو خودمختار بنایا جا سکتا ہے تو کیا امر مانع ہے کہ اس ادارے کو ابھی تک خودمختار نہیں بنایا گیا، اس ادارے کو کبھی شہری دفاع کے ساتھ منسلک کر دیا جاتا ہے تو کبھی کسی اور ادارے کے ساتھ جو اس محکمے اور اس کے اہلکاروں کے ساتھ زیادتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس محکمے کو وہ سٹیٹس نہ دیا گیا جو اس کو دینا چاہئے تھا تو میں ان تمام لوگوں کی فہرست سامنے لاؤں گا جو اس ادارے کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ وزیرقانون راجہ بشارت نے یقین دہانی کروائی کہ اس ادارے کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں، حکومت اس کے مسودہ قانون میں ترمیم کیلئے کام کر رہی ہے اور انشاء اللہ جمعرات تک وہ اس ہاؤس کے سامنے وہ تمام سفارشات پیش کریں گے جو آپ نے بیان کی ہیں اس میں کسی بھی قسم کا کوئی فرق نہیں ہو گا۔
میڈیکل سٹور بغیر لائسنس چلانے کے جرم میں سیل کردیاگیا
کوہاٹ، ڈرگ کنٹرول ٹیم کوہاٹ نے ایم عرفان وزیر کی قیادت میں پیر کے روز کچہری چوک، تیراہ بازار اور فرنٹیئر میڈیکل سنٹر کوہاٹ کا دورہ کر کے ڈرگ ایکٹ 1976 ء کی تعمیل میں مختلف میڈیکل سٹورز کا معائنہ کیا۔اس دوران کچہری چوک میں ایک میڈیکل سٹور کو لائسنس کے بغیر چلانے اور السید پلازہ تیراہ بازار میں ایک میڈیکل سٹور کو زائدالمیعاد لائسنس پر چلانے کے جرم میں سیل کردیاگیاجبکہ مالکان کے خلاف کیس مزید کارروائی کے لئے پشاور بھیجے جائیں گے۔ایک دوکان سے غیر ضروری ادویات برآمد ہوئیں جن کو فارم چھ پر درج کرکے شو کاز نوٹس جاری کئے گئے۔اسی طرح معائنے کے دوران پانچ مشکوک ادویات کے نمونے فارم پانچ پر درج کرکے ٹسٹ اور انالیسیز کے لئے بھیجے گئے جن پر رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔

مردان سپر لیگ کرکٹ ٹورنامنٹ کے لئے حفاظتی اقدامات، کورونہ ویکسینشن کاؤنٹرز۔
مردان۔ کمشنر مردان منتظر خان نے کہا ہے کہ کورونا ویکسنیشن کے عمل میں تیزی لائی جائے تاکہ اس وبائی مرض پر جلد از جلد قابو پایا جاسکیں۔ ان خیالات کا اظہار کمشنر مردان نے اپنے دفتر میں کورونا ویکسنیشن کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کے دوران کیا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر مردان حبیب اللہ عارف، ایم ڈی مردان میڈیکل کمپلیکس ڈاکٹر مختیار، ڈی ایچ او مردان ڈاکٹر کچکول، پلمونالوجسٹ ایم ایم سی مردان ڈاکٹر سجاد، ڈبلیو ایچ او کے ایریا کوآرڈینیٹر ڈاکٹر نذیر، فوکل پرسن برائے کووڈ 19-ڈاکٹر امتیاز، ڈاکٹر باسط اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ضلع مردان کو پہلے مرحلے میں کل 1533 ویکسینز فراہم کی گئی ہیں جن میں سے مردان میڈیکل کمپلیکس کے ہیلتھ سٹاف کو131جبکہ ڈی ایچ کیو ہسپتال مردان میں 225 خوراکیں دیئے جاچکی ہیں۔جبکہ دوسرے مرحلے کیلئے مزید 1733خوراکیں اور بھی ملی ہیں۔ مردان میں کل 11 ویکسینشن کاؤنٹرز قائم کی جاچکی ہیں۔ جن میں مریضوں کو کووڈ کے ویکسینز لگائی جائینگی۔ کمشنر مردان نے کہا کہ اس عمل میں جتنی بھی پیچیدگیا ں اور مشکلات ہیں ان کو دور کرنے کیلئے ایک مربوط لائحہ عمل طے کیا جائے تاکہ عوام کو پریشانیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔کمشنر مردان نے ڈی ایچ او مردان کو ہدایت کی کہ ویکسینیشن کے اگلے مرحلے کی تیاریوں کے حوالے سے رپورٹ ڈپٹی کمشنر مردان کیساتھ شیئر کریں۔ دریں اثناء کمشنر مردان کے دفتر میں مردان سپر لیگ کرکٹ ٹورنامنٹ کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں مردان سپر لیگ کے منیجنگ ڈائریکٹر عبد العز یز خان، ریجنل سپورٹس آفیسر امیر بشر، ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر مردان، اور مردان سپر لیگ کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کو 23مارچ سے شروع ہونے والے مردان سپر لیگ کرکٹ ٹورنامنٹ کے حوالے سے بریفنگ دی گئی، جن میں کل چھ ٹیمیں حصہ لیں گی۔ اور یہ ٹورنامنٹ 18دن تک جاری رہیگا۔ اس ٹورنامنٹ میں قومی کرکٹ ٹیم کی کھلاڑی بھی شرکت کریں گے۔ کمشنر مردان نے کہا کہ مردان میں سپورٹس کی ترقی کیلئے عملی کام کررہے ہیں اور انشاء اللہ مردان سپر لیگ ایک شاندار اور یادگار ایونٹ ہوگا۔









