Baaghi TV

Category: صحت

  • پنجاب میں کوروناوائرس کے مریضوں کےعلاج کی صورتحال،  تفصیلات جاری-

    پنجاب میں کوروناوائرس کے مریضوں کےعلاج کی صورتحال، تفصیلات جاری-

    بیرسٹر نبیل اعوان نے پنجاب میں کرونا کیسس پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب بھرکے سرکاری ہسپتالوں سے کوروناوائرس کے 130817مریض صحت یاب ہوکرگھروں کو جاچکے ہیں- پنجاب کے سرکاری ہسپتالو ں میں کوروناوائرس کے مریضوں کیلئے مختص کئے گئے 7280بستروں میں سے 6377خالی ہیں- سرکاری ہسپتالوں میں کوروناوائرس کے مریضوں کیلئے مختص 515وینٹی لیٹرزمیں سے407جبکہ لاہورکے سرکاری ہسپتالوں میں 188وینٹی لیٹرزمیں سے119خالی ہیں-

    صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدکی ہدایت پر محکمہ صحت پنجاب نے سرکاری ہسپتالوں میں کوروناوائرس کے مریضوں کے علاج معالجہ کیلئے دستیاب سہولیات کی تفصیلات جاری کردیں۔ تازہ اعدادوشمارکے مطابق پنجاب بھرکے سرکاری ہسپتالوں سے کوروناوائرس کے متاثرہ 130817مریض صحت یاب ہوکراپنے گھروں کو واپس جاچکے ہیں۔ سیکرٹری محکمہ سپیشلائزڈہیلتھ کئیراینڈ میڈیکل ایجوکیشن برسٹرنبیل اعوان نے کہا ہے کہ پنجاب کے سرکاری ہسپتالو ں میں کوروناوائرس کے مریضوں کیلئے مختص کئے گئے 7280بستروں میں سے 6377خالی ہیں۔لاہورکے سرکاری ہسپتالوں میں کوروناوائرس کے مریضوں کیلئے مختص کئے گئے 2174بستروں میں سے 1887خالی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں کے آئسولیشن وارڈزمیں مختص کئے گئے4547بستروں میں سے 4173خالی ہیں۔لاہورکے سرکاری ہسپتالوں کے آئسولیشن وارڈز میں مختص کئے گئے 1443بستروں میں سے 1356خالی ہیں۔

    پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں کے HDUsمیں مختص کئے گئے2211بستروں میں سے1797خالی ہیں۔لاہورکے سرکاری ہسپتالوں کےHDUsمیں مختص کئے گئے543بستروں میں سے 412خالی ہیں۔بیرسٹر نبیل اعوان نے کہا کہ پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں کوروناوائرس کے مریضوں کیلئے مختص کئے گئے 515وینٹی لیٹرزمیں سے407خالی ہیں۔لاہورکے سرکاری ہسپتالوں میں مختص کئے گئے188وینٹی لیٹرزمیں سے119خالی ہیں۔پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں کوروناوائرس کے108مریض وینٹی لیٹرزپر ہیں۔لاہورکے سرکاری ہسپتالوں میں کوروناوائرس کے69مریض وینٹی لیٹرزپر ہیں۔

  • کیا پاکستان ًمیں غربت کا خاتمہ ممکن ہے ؟ حکام نے سر جوڑ لیے

    کیا پاکستان ًمیں غربت کا خاتمہ ممکن ہے ؟ حکام نے سر جوڑ لیے

    ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے غربت میں کمی اور سماجی تحفظ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمال دینی کی سربراہی میں پاکستان بیت المال ہیڈ کواٹر کے کانفرنس روم میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان بیت المال کے عوامی ریلیف، غربت میں کمی، شرح خواندگی میں اضافہ، علاج معالجہ، بچوں سے مزدوری کے خاتمے کے حوالے سے قائم ہونے والے اسکولوں کی تعداد اور طریقہ کار کے علاوہ پاکستان بیت المال کے مستقبل کے منصوبہ جات کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    قائمہ کمیٹی کو منیجنگ ڈائریکٹر بیت المال عون عباس بپی نے ویڈیو لنک جبکہ ڈی ایم ڈی مبشر حسن اور دیگر اعلیٰ حکام نے پاکستان بیت المال کے کام کے طریقہ کار، بجٹ، عوام کو فراہم کی جانے والی صحت، تعلیم، پناہ گاہ، ویمن ایمپاورمنٹ سینٹرز، ایس آر سی ایل، دارلااحسا س و دیگر سہولیات و ریلیف کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان بیت المال 1991ایکٹ کے تحت 1992میں قائم ہوا۔ اسکا ہیڈ آفس اسلام آباد اور سات صوبائی،ریجنل دفاتر ہیں۔ اس ادارے کے 154 ڈسٹرکٹ آفس پورے ملک بشمول سابق فاٹا، گلگت بلتستان اور اے جے کے میں قائم کئے ہیں۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اکتوبر 2018سے اب تک 54ہزار مریضو ں کی ادار ے نے زندگیاں بچائی ہیں جس پر 6.4ارب روپے خرچ کئے گئے۔ ملک کے مختلف حصوں میں تھیلیسیماں کے 4191مریضوں کے لئے 321ملین روپے خرچ کئے گئے – ایک سے پانچ سال کی عمر کے بچے جو سماعت سے محروم تھے اُن پر 128ملین روپے خرچ کئے گئے سماعت کے ایک مریض بچے پر 14سے 15لاکھ روپے خرچ آتا ہے۔ ایک سرکاری کے ساتھ چار پرائیویٹ ہسپتالوں کو علاج کیلئے منتخب کیا گیا ہے۔

    چیئرمین کمیٹی کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ صوبہ کے پی کے اور بلوچستان میں اس مرض کے ای این ٹی اسپیشلسٹ نہ ہونے کی وجہ سے وہاں کے ہسپتال شامل نہیں کئے گئے۔ چیئرمین کمیٹی ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے کہا کہ گھروں میں چھوٹے بچوں کو گھر کے کاموں کیلئے رکھا جاتا ہے اور بچوں سے زیادتی کے واقعات بھی رپورٹ ہوتے ہیں۔ چائلڈ لیبر کے تحفظ کی خاطر ادارہ اقدامات اٹھائے جس پر کمیٹی کو بتایا گیا کہ یہ متعلقہ اداروں کا کام ہے بیت المال کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔ سینیٹر ثمینہ سعید نے کہا کہ ملک بھرمیں بھکاری بچوں کی تعداد میں روز بہ روز اضافہ ہو رہا ہے۔ دونوں ایوانوں کی مشترکہ کمیٹی بنا کر متعلقہ محکموں کے ساتھ اقدامات اٹھائیں جائیں۔ سینیٹر لیفٹینٹ جرنل (ر) عبدالقیوم (ہلال امتیاز ملٹری)نے کہا کہ سابق چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر عطا الرحمن کی رپورٹ کے مطابق 2.5کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں سکول جانے والے بچوں میں سے 32فیصد بھاگ جاتے ہیں دیہی علاقوں کے 40فیصد سکولوں میں بجلی اور پانی نہیں جبکہ 49فیصد میں لیٹرین نہیں۔ ایم ڈی پاکستان بیت المال عون عباس بپی نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کا فوکس احساس اور سوشل ویلفیئر کے کاموں پر زیادہ ہے وزیراعظم نے ریاست مدینہ کے وژن کے مطابق ملک میں کوئی بھوکہ نہ رہے کیلئے پناہ گاہوں کے منصوبے کا آغا ز کیا۔ علاج معالجے اور دیگر ویلفیئر کاموں کیلئے موجودہ حکومت بجٹ پانچ ارب سے بڑھا کر 6.1ارب کیا جس کو 8ارب تک لے جانے کا پروگرام ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بو ن میرو، کڈنی ٹرانسپلانٹ اور کینسر کے مریضوں کے علاج پر بھاری خرچہ آتا ہے اس کے لئے خصوصی بجٹ مختص ہونا چاہئے جس پر قائمہ کمیٹی نے بھاری اخراجات والی سرجری کے مریضوں کی کے علاج کیلئے اضافی بجٹ مختص کرنے کی سفارش کر دی۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایک پنا ہ گاہ کا سالانہ خرچ پانچ کروڑ ہے۔ پناہ گاہوں کو ڈونیشن بھی آ رہی ہے جس میں سے آئی سی ٹی کی پانچ میں سے چار پناہ گاہیں ڈونیشن پر چل رہی ہیں۔ کراچی میں بھی پانچ پناہ گاہیں ہیں ادارے کو پناہ گاہ کیلئے موثر ڈونیشن مل رہی ہے۔ سینیٹر ڈاکٹر رخسانہ زیبری نے کہا کہ آئے دن خبریں سامنے آتی ہیں کہ ایک گم شدہ بچہ ملا ہے۔ ایک ایسا سسٹم ہونا چاہئے جس کے تحت گم شدہ بچوں کا ڈیٹا ایک جگہ اکھٹا ہو سکے۔ جس پر ایم ڈی بیت المال نے کہا کہ متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر ایک لاسٹ چلڈرن اپلیکیشن بنائی جائے گی جس میں گم شدہ بچوں کا ڈیٹا موجود ہوگا۔ انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ یتیم خانوں کو بڑھانے کی بجائے بیواؤں کو زیادہ سپورٹ کیا جا رہا ہے تا کہ وہ اپنے بچوں کی بہتر پرورش کر سکیں۔ قائمہ کمیٹی نے جلد سے جلد میکنزم بنانے کی ہدایت کر دی۔
    سینیٹر فدا محمد نے کہا کہ معاشرے میں آئس کا نشہ تیز ی سے پھیل رہا ہے اور خاص طور پر حیات آباد اور کراچی بری طرح لپیٹ میں آ چکا ہے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر جمالدینی نے کہا کہ ملک میں کرونا وباء کی طرح ہپیٹا ئٹس بی اینڈ سی تیزی سے پھیل چکا ہے اسکو کنٹرول کرنے کیلئے اقدامات اٹھائیں جائیں۔ قائمہ کمیٹی سفارش کرتی ہے بیت المال کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے تاکہ ملک میں اس پھیلتی ہوئی بیماری کو جلد سے جلد کنٹرول کیا جا سکے۔

    سینیٹر رخسانہ زبیری نے کہا کہ اگر کسی گھر میں ایک سے زائد مریض ہوں تو بیت المال اپنی پالیسی میں ترمیم لا کر گھر کے تمام مریضوں کے علاج کیلئے اقدام لے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق ملک میں غربت میں کمی شرح خواندگی میں اضافہ اور لوگوں کو علاج معالجے کی بہتر سہولیات فراہمی کیلئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ جلد ایک بیواؤں اور یتیموں کی ویلفیئر کاایک پروگرام 7 اضلاع میں شروع کیا جا رہا ہے جس میں ہر ضلع سے احساس پروگرام کے تحت 100بیواؤں کو منتخب کیا جائے گا ایک بچے کی تعلیم کیلئے آٹھ ہزار اور ایک سے زائد کیلئے 12ہزار فراہم کئے جائیں گے۔

    ایک پائلٹ پروگرام ہے جس کو بعد میں پورے ملک میں پھیلایا جائے گا۔ ڈیجیٹل پیمنٹ کی فائل ابھی وزارت خزانہ نے فائنل نہیں کی کہ کس طرح پیمنٹ کرنی ہے۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ایس آر سی ایل کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وہ علاقے جہاں ایک سے پانچ سال کے 120بچے موجود ہوں اور کام کرنے والے اگلے پانچ سال تک ایسے بچے دستیاب ہو سکیں۔ لیبر ادارے کی جانب سے ریکمنڈیشن اور وزارت غربت میں کمی اور سماجی تحفظ کی گائڈ لائن کے مطابق سکول قائم کیا جاتا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ مالا کنڈ ڈویژن کے حوالے سے لیبر کے ادارے کی طرف سے کوئی ہدایت نہیں آئی۔ سینیٹر فدا محمد نے کہا کہ مالا کنڈ ڈونژن میں سینکڑوں مائنز، صنعتیں قائم ہو چکی ہیں 80ہزار کے قریب لیبر موجود ہے مگر مالا کنڈ ضلع میں کوئی سکول قائم نہیں کیا گیا۔

    ایم ڈی بیت المال نے کہا کہ قائم کمیٹی سفارش کرے۔ فزبیلٹی کرا کے ہدایت پر عمل کیا جائے گا۔ قائمہ کمیٹی برائے غربت میں کمی و سماجی تحفظ نے ایم ڈی پاکستان بیت المال اور اس کی ٹیم کی غریب عوام کو ریلیف کے حوالے سے فراہم کردہ خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ اراکین کمیٹی نے کہا کہ ادارے نے غریب عوام کیلئے جو خدمات سرانجام دیں ہیں وہ قابل تعریف ہیں۔ ادارے کے مسائل کے حل کیلئے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا اور کمیٹی ہر وقت معاونت کیلئے تیار ہے۔ قائم کمیٹی نے غریب عوام کو مزید ریلیف کے حوالے سے مزید اقدامات اٹھانے کی سفارش کر دی۔ قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹر ز لیفٹینٹ جرنل (ر) عبدالقیوم (ہلال امتیاز ملٹری)، انجینئر رخسانہ زیبری،ثمینہ سعید، فدا محمد کے علاوہ ویڈیو لنک کے ذریعے ایم ڈی پاکستان بیت المال، ڈی ایم ڈی بیت المال، سنیئر جوائنٹ سیکرٹری وزارت غربت میں کمی و سماجی تحفظ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی

  • جنرل ہسپتال نے کینسر مریضوں کو نئی امید سے روشناس کروایا، پرنسپل پی-جی-ایم-آئی

    جنرل ہسپتال نے کینسر مریضوں کو نئی امید سے روشناس کروایا، پرنسپل پی-جی-ایم-آئی

    جنرل ہسپتال میں کینسر سے صحت یاب ہونے والے بچوں میں تحائف تقسیم، والدین خوشی سے نہال
    سرطان کے مرض میں مبتلا بچوں کو مفت طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں:پرنسپل پی جی ایم آئی

    پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ بچوں کو طویل عرصہ تک اپنا دودھ پلا کر خواتین بریسٹ کینسر میں بھی کمی لا سکتی ہیں-
    پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ و امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفرنے کہا ہے کہ لاہور جنرل ہسپتال بچوں میں کینسر کے علاج معالجے کا منفرد ادارہ ہے جہاں تمام متعلقہ سہولیات بلا معاوضہ فراہم کی جاتی ہیں۔ اسی طرح بچوں کی آنکھوں کے سرطان کا علاج بھی ملک بھر میں صرف اسی علاج گاہ میں ہوتا ہے جہاں تمام جدید سہولیات ایک ہی چھت تلے دستیاب ہیں اور کسی بھی مریض کی ایک پائی بھی خرچ نہیں ہوتی۔

    ان خیالات کا اظہارپرنسپل پروفیسر الفرید ظفر نے بچہ وارڈ میں منعقدہ خصوصی تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے بتایا کہ اس سال کا تھیم” آئی ایم اینڈ آئی ول” ہے جس کا مقصد پر عزم،استقامت اور ثابت قدمی کی علامت ہے اور معالجین کے ساتھ ساتھ مریضوں کو بھی بیماری کے خلاف لڑنے اور کبھی ہار نہ ماننے کے مصمم ارادے کی تلقین دیتا ہے لہذا ہمیں مستقل مزاجی اور اللہ تعالیٰ پر یقین کے ساتھ علاج معالجہ جاری رکھنا چاہیے۔اس موقع پر پروفیسر محمد شاہد، پروفیسر آغاشبیر علی،پروفیسر محمد معین، ڈاکٹر آفتاب انور، ڈاکٹر ثناء ریاض، ڈاکٹر مزمل اعظم، نصرت طاہرہ،زنیرہ انور،شازیہ فاروقی اور ینگ ڈاکٹرز کے علاوہ بچوں کے والدین بھی شریک تھے۔ تقریب میں جنرل ہسپتال سے شفاء یاب ہو کر جانے والے کینسر کے مریض بچوں نے خصوصی طور پر شرکت کی اور اُن میں تحائف بھی تقسیم کیے گئے جبکہ بچوں کے والدین نے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کینسر کا مرض ایک مہلک بیماری ہے جس کے علاج معالجے پرلاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں جو غریب اور متوسط طبقے کیلئے نا ممکن ہے لیکن جنرل ہسپتال کے ڈاکٹروں، نرسز اور انتظامیہ نے انسانیت کی عظیم خدمت کرتے ہوئے ہمارے بچوں کو مفت طبی و تشخیصی سہولیات فراہم کر کے دل جیت لیے ہیں جن کیلئے ہمیشہ ہمارے دلوں سے دعائیں نکلیں گی۔

    پرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسر الفرید ظفر اور پروفیسر آغا شبیر علی کا مزید کہنا تھا کہ غیر متحرک زندگی گزارنا بھی کینسر کی وجوہات میں سے ایک ہے،30سال سے کم عمری میں بچوں کی پیدائش اور بچوں کو طویل عرصہ تک اپنا دودھ پلا کر خواتین بریسٹ کینسر میں بھی کمی لا سکتی ہیں۔ پاکستان کینسر کے شکار افراد کے حوالے سے ایشیا کا سر فہرست ملک ہے۔انہوں نے کہا کہ ابتدائی سطح پر تشخیص اور مناسب علاج کی سہولیات سے کینسر مکمل طور پر ختم کیا جا سکتا ہے اور عالمی ادارہ صحت کی طرف سے اس ضمن میں خبردار کیا جا چکا ہے کہ 2030تک دنیا بھر میں 3کروڑ سے زائد افراد کینسر کا شکار ہو جائیں گے لہذا کینسر کی وجہ بننے والے انفیکشنز سے بچاؤ کے ٹیکے لگائیں،ورزش کریں اور سادہ زندگی کو شعار بنائیں۔

    پروفیسر محمد شاہد و دیگر ڈاکٹرزنے تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ آج کے دور میں کینسر قابل علاج مرض بن چکا ہے تاہم اس مرض کی تشخیص کا سنتے ہی مریض و لواحقین کے ہوش اُڑ جاتے ہیں، مایوسی چھا جاتی ہے لیکن جنرل ہسپتال کے معالجین اور والدین کی مایوسی کو نئی امید سے روشناس کروایا ہے اور یہ بچے مکمل صحت کے ساتھ نارمل انسان کی طرح زندگی گزار سکیں گے۔تقریب کے اختتام پر صحافیوں کو کینسر کے مرض میں مبتلا بچوں کے لئے خصوصی تیار کردہ کچن بھی دکھایا گیا جس کا مقصد بچوں کو معیاری غذا کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ بچوں میں خون، گلٹی اور آنکھوں کے سرطان کیلئے سرگودھا، خوشاب،میانوالی، شیخوپورہ اور لاہور سمیت دیگر شہروں سے علاج کے لئے آتے ہیں۔تقریب کے اختتام پر کینسر کے مریض بچوں کی صحت کی بحالی کی خوشی میں کیک بھی کاٹا گیا

  • صحت کے اعتبار سے 2021، ملک بھر میں کتنے ارب روپے خرچ؟

    صحت کے اعتبار سے 2021، ملک بھر میں کتنے ارب روپے خرچ؟

    پنجاب میں سرکاری سطح پر کینسر بیماری کے مریضوں کو سہولت فراہم کررہے ہیں:ڈاکٹریاسمین راشد
    میاں میرہسپتال لاہورمیں بریسٹ کینرکلینک کے ذریعے مریضوں کی تشخیص سمیت تمام سہولیات فراہم کی جاتی ہیں
     اقتدارمیں آتے ہی سرکاری ہسپتالوں میں 50فیصدخالی اسامیوں کا تحفہ ملا، سوفیصدمیرٹ پر32ہزار ڈاکٹرز، نرسز، پیرامیڈکس اور فارماسٹس سمیت دیگرعملہ بھرتی کیا
    پنجاب کے 2کروڑ93لاکھ خاندانوں کو سالانہ80ارب روپے لاگت سے دسمبر2021تک صحت سہولت کارڈ فراہم کردئیے جائینگے
    صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدکاشیخ زید ہسپتال میں کینسرسرجری کانفرنس میں بطورمہان خصوصی اظہار خیال.
    لاہور04 فروری :صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے شیخ زید ہسپتال میں کینسرسرجری کانفرنس میں بطورمہان خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر چیئرمین شیخ زیدہسپتال پروفیسرڈاکٹرمتین اظہار، ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر اکبرحسین، پروفیسرڈاکٹر ہارون،پروفیسر ڈاکٹر جاوید مجید اور وڈیولنک کے ذریعے وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل ودیگرسٹیک ہولڈرزنے شرکت کی۔مقررین نے کینسربیماری کے تدارک کیلئے مختلف تجاویز پیش کیں۔
        صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ انتہائی اہم موضوع پر آگاہی کانفرنس منعقدکروانے پرانتظامیہ کی کاوش کو سراہتے ہیں۔گذشتہ حکومتوں کی جانب سے جان لیوابیماری کینسرکے تدارک اور علاج کی سہولتیں دینے کی طرف بالکل توجہ نہیں دی گئی۔پنجاب میں سرکاری سطح پر کینسر بیماری کے مریضوں کو سہولت فراہم کررہے ہیں۔ماضی کی حکومتوں نے کینسربیماری کے مریضوں کو سہولت دینے کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں کینسرکے مریضوں کے علاج معالجہ کیلئے خصوصی ہسپتال بنانے کا منصوبہ پائپ لائن میں ہے۔ میاں میرہسپتال لاہورمیں بریسٹ کینرکلینک کے ذریعے آنے والے مریضوں کی تشخیص سمیت تمام سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ اقتدارمیں آتے ہی سرکاری ہسپتالوں میں 50فیصدخالی اسامیوں کا تحفہ دیاگیا۔ہماری حکومت نے سوفیصدمیرٹ پر32ہزار ڈاکٹرز، نرسز، پیرامیڈکس اور فارماسٹس سمیت دیگرعملہ بھرتی کیا۔وزیر اعظم عمران خان اور وزیراعلی پنجاب سردارعثمان پنجاب کے ہرفردکوصحت کی بہترین سہولیات فراہم کرناچاہتے ہیں۔ ڈاکٹریاسمین راشد نے کہا کہ فلاحی ریاست بنانے کیلئے عوام کو صحت اور تعلیم کے شعبہ میں سہولت دینا پڑتی ہے۔پنجاب کے 2کروڑ93لاکھ خاندانوں کو سالانہ80ارب روپے کی لاگت سے دسمبر2021تک صحت سہولت کارڈ فراہم کردئیے جائینگے۔ انہوں نے کہا کہ ہم انفرادی نہیں اجتماعی بھلائی پر یقین رکھتے ہیں۔عوام کی خدمت کی سچی نیت پر اللہ تعالی انسان کی ضرور غیبی امداکرتاہے۔ ملتان میں 40سال بعدنشتر ٹوہسپتال بنے جارہاہے۔

  • پنجاب اسمبلی کے ملازمین کوکورونا ویکسین لگانے کی درخواست

    پنجاب اسمبلی کے ملازمین کوکورونا ویکسین لگانے کی درخواست

    ملک بھر میں کورونا ویکسین لگانے کا معاملہ

    مسلم لیگ(ن) نے پنجاب اسمبلی کے ملازمین کو بھی کورونا ویکسین لگانے کا مطالبہ کردیا ہے- مسلم لیگ(ن) کی ایم پی اے سمیرا کومل نے پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع کروا دی ہے- متن میں درج ہے کہ پنجاب اسمبلی کے ملازمین میں بھی کورونا کے مثبت کیسز رپورٹ ہوئے ہیں- پنجاب اسمبلی میں روزانہ ارکان اسمبلی ،دیگر سرکاری افسران اور سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کی آمد ہوتی ہے- جس طرح ملک بھر میں کورونا ویکسین کے لگانے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے- قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ پنجاب اسمبلی کے ملازمین کو بھی کورونا ویکسین لگائی جائے-

  • صحتمند عورت سے ہے صحتمند قوم، ثمینہ عارف علوی

    صحتمند عورت سے ہے صحتمند قوم، ثمینہ عارف علوی

    صدر مملکت کی اہلیہ بیگم ثمینہ عارف علوی کا ایوانِ صنعت و تجارت ، اسلام آباد میں چھاتی کے کینسر پر سیمینار سے خطاب .
    بریسٹ کینسرسے بچاؤ کے لیے آگاہی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، بزنس کمیونٹی کا بریسٹ کینسر سےبچاؤکے لیے آواز اٹھانا خوش آئند کاوش ہے ،
    عورت ہی گھر بناتی ہے اور معاشرے میں خواتین کا مقام اہم ہے ، آج کی خواتین آگے بڑھ کر ملکی ترقی میں کردار ادا کر رہی ہیں اور ان کا صحت مند ہونا بہت ضروری ہے ،ہمارے ملک میں بہت سے مسائل خواتین میں آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں ، بیگم ثمینہ عارف علوی

    • جلد تشخیص سے چھاتی کے کینسر کا علاج اور اس سے بچاؤ ممکن ہے ، بیگم ثمینہ عارف علوی

    • پاکستان کی دیہی علاقوں کی خواتین میں شعور پیدا کرنا بہت ضروری ہے ، بیگم ثمینہ عارف علوی

    • میڈیا آگاہی کا پیغام پاکستان کے دور دراز علاقوں میں پہنچا سکتا ہے، بیگم ثمینہ عارف علوی

    • ہم نے اس مرض کے بارے آگہی پیدا کرنے کیلئے اکتوبر میں بھرپور مہم چلائی ، بیگم ثمینہ عارف علوی

    • زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد ہمارا ساتھ دیں اس مرض سے بچاؤ کیلئےآواز اٹھائیں ، بیگم ثمینہ عارف علوی

  • ڈپٹی کمشنر نے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال شرقپور کا دورہ کیا

    ڈپٹی کمشنر نے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال شرقپور کا دورہ کیا

    شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی)ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ محمد اصغر جوئیہ کا اسسٹنٹ کمشنر ماہین فاطمہ کے ہمراہ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال شرقپور کا دورہ
    ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال میں انتظامات اور مریضوں کو دی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا ڈپٹی کمشنر محمد اصغر جوئیہ نے ہسپتال میں زیر علاج مریضوں کی عیادت کی اور ان سے علاج معالجے کی سہولیات کے متعلق دریافت کیا
    ڈپٹیوں نے سرکاری ہسپتال میں علاج معالجے کی سہولیات پر اطمینان کا اظہار کیا ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ محمد اصغر جوئیہ نے ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو ہدایت کی کہ وہ ہسپتال میں زیر علاج مریضوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کریں
    ڈپٹی کمشنر نے اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر کا بھی دورہ کیا اور دفتر کی متبادل جگہ کا معائنہ کیا ڈپٹی کمشنر محمد اصغر جوئیہ کا کہنا ہے کہ حکومت پنجاب کی ہدایت پر ہسپتال میں زیر علاج مریضوں کے لیے طبی سہولیات کی فراہمی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

  • ڈاکٹر فراز اور  ڈاکٹر سماویہ اکبر کو کورونا ویکسین لگائی، پنجاب  ویکسین مہم کا آغاز

    ڈاکٹر فراز اور ڈاکٹر سماویہ اکبر کو کورونا ویکسین لگائی، پنجاب ویکسین مہم کا آغاز

    لاہور3فروری: پنجاب میں کورونا ویکسین لگانے کی مہم کا باقاعدہ آغاز, وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار اور گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے صوبے میں کورونا ویکسین لگانے کی مہم کا افتتاح کیا.
    وزیر اعلی عثمان بزدار گورنر چوہدری محمد سرور کی موجودگی میں فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو کورونا ویکسین لگائی گئی.
    راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف یورالوجی کے ڈاکٹر فراز اور لیڈی ڈاکٹر سماویہ اکبر کو کورونا ویکسین لگا کر پنجاب میں ویکسین لگانے کی مہم کا آغاز کیا گیا. وزیر اعلی عثمان بزدار اور گورنر چوہدری محمد سرور نے ویکسین لگانے کے عمل کا مشاہدہ کیا.
    ڈاکٹرز کو کورونا ویکسین لگانے کی تقریب پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں ہوئی۔پہلے مرحلے میں صوبے کے فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو ویکسین لگانے کی مہم کا آج باقاعدہ آغاز کیا گیا ہے -دوسرے مرحلے میں ہیلتھ ورکرز کے ساتھ بزرگ شہریوں کوکورونا ویکسین لگائی جائے گی-
    حکومت شہریوں کو مفت ویکسین لگائے گی۔کوروناویکسین لگانے کے لئے پنجاب میں 189مراکز قائم کئے گئے ہیں -ویکسی نیشن مراکز میں کوروناویکسین لگوانے والوں کا مکمل ڈیٹامحفوظ رکھا جائے گا-
    4 لاکھ سے زائد فرنٹ لائن ہیلتھ کیئرورکرز کی رجسٹریشن مکمل ہو چکی ہے – پنجاب کے 36 اضلاع میں اب تک 600 سے زائد افرادکو تیکنیکی تربیت فراہم کی گئی ہے – ماسٹرٹرینرزکومزیدعملہ کی تربیت کیلئے تیارکیاگیاہے- 70 ہزار کورونا ویکسین کی ڈوززپنجاب کو ملی ہیں – مزید ویکسین بھی اگلے تین ہفتے میں ملے گی –
    کوروناویکسین کومحفوظ رکھنے کیلئے پنجاب کے 36 اضلاع میں 2500 آئس لائن ریفریجریٹرزکا انتظام کیا گیا ہے-پاکستان کو کورونا ویکسین مہیا کرنے پر دوست ملک چین کے شکر گزار ہیں – چین نے مشکل کی ہر گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے – چین کے اس تعاون کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا- کوروناسے بچاؤ کیلئے احتیاطی تدابیرپر سختی سے عملدرآمدضروری ہے – پنجاب میں کنٹیکٹ ٹریسنگ باقی صوبوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے-
    دنیانے پاکستان میں کوروناوائرس پر قابوپانے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کوسراہاہے-پنجاب میں ایس اوپیز پرعملدرآمدکرواتے ہوئے تعلیمی اداروں کوکھول دیاگیاہے-
    حکومت پنجاب نے ضرورت پڑنے پرکوروناویکسین کی خریداری کیلئے ایک ارب سے زائد روپے کی رقم مختص کی ہے-
    چودھری سرور کا کہنا ہے کہ کورونا ویکسین لگانے کی مہم کا آغاز خوش آئند ہے – پنجاب حکومت نے کورونا ویکسین لگانے کے لئے تمام انتظامات مکمل کئے ہیں – ہیلتھ کیئر ورکرز نے انتہائی محنت اور جانفشانی کے ساتھ کورونا وباء کے دوران خدمات سرانجام دی ہیں -ہیلتھ کیئرورکرز ہمارے ہیرو ہیں –
    سیکرٹری پرائمری و سیکنڈری ہیلتھ اور متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

  • پختونخواہ کوابتدائی طور پر سولہ ہزارکورونہ ویکسین موصول ہوئیں

    پختونخواہ کوابتدائی طور پر سولہ ہزارکورونہ ویکسین موصول ہوئیں

    وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے کورونا ویکسینیشن کا افتتاح کیا۔
    وفاقی حکومت کی طرف سے خیبر پختونخواہ کوابتدائی طور پر سولہ ہزار ویکسین موصول ہوئی ہیں ۔ وفاقی حکومت کی گایڈلاینز کے مطابق یہ ویکسین صوبے کے 8 اضلاع میں ہیلتھ ورکرز کو لگائے جائیں گے ۔ہیلتھ ورکرز کا تحفظ ہماری پہلی ترجیح ہے۔ ویکسین کی فراہمی کے لئے وفاقی حکومت اور وزیراعظم کے مشکور ہیں،
    پاکستان کو کورونا ویکسین کی فراہمی پر ہم دوست ملک چین کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں، خیبر پختونخواہ میں اب تک 3194 ہیلتھ ورکرز کورونا سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ32 شہید ہوئے ہیں، کورونا صورتحال میں ہیلتھ ورکرز بشمول ڈاکٹرز ,نرسز ,پیرامیڈکس اور دیگر عملے کی خدمات قابل ستائش ہیں ۔ صوبائی حکومت ان کی بے لوث خدمات اور قربانیوں کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے. فرنٹ لائن ورکرز اس قوم کے اصل ہیرو ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر دوسروں کی جانیں بچانے کے لئے خدمات انجام دیں. موجودہ حکومت کی کامیاب حکمت عملی سے ہم کرونا کی پہلی لہر سے سے موثر انداز میں نمٹنے میں کامیاب ہوئے ہیں.
    کورونا کی دوسری لہر سے نمٹنے کے لیے مربوط انداز میں اقدامات جاری ہیں. کرونا ویکسین اس وباء سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے بہت زیادہ مددگار ثابت ہوگی. موجودہ حکومت اس وباء سے اپنے فرنٹ لائن ورکرز اور عوام کو تحفظ دینے کے لیے تمام تر ممکنہ اقدامات اٹھارہی ہے۔

  • پانی کے امراض کا بڑھتا پھیلاؤ:سندھ حکومت غفلت کی نیند میں مبتلا

    پانی کے امراض کا بڑھتا پھیلاؤ:سندھ حکومت غفلت کی نیند میں مبتلا

    پانی کے نام پر سندھ کے باسیوں کو زہر دینابند کیا جائے: پاسبان
    کینجھر جھیل کی آلودگی انسانی جانوں کے لئے شدید خطرہ ہے: عبدالحاکم قائد

    پانی صحت کی علامت اور زندگی کی بقا کا ضامن ہے،حفاظت کی جائے، واٹر ریسورس کنزرویشن کے لئے با اختیار ادارہ بنایا جائے-

    کراچی میں پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے وائس چیئرمین عبدالحاکم قائد نے کہا ہے کہ پانی کے نام پر سندھ کے باسیوں کو زہر دینا بند کیا جائے۔ کینجھر جھیل میں بڑھتی ہوئی آلودگی انسانی جانوں کے لئے شدید خطرہ ہے۔ نوری آباد اور کوٹری کی فیکٹریوں سے خارج ہونے والے صنعتی فضلہ کی پانی میں آمیزش اسے زہریلا بنا رہی ہے، فوری سد باب کیا جائے۔ چیف منسٹر، گورنر ہاؤس، سندھ اسمبلی اور سیکریٹریٹ میں منرل واٹر پر مکمل پابندی عائد کر کے کھینجر جھیل سے پانی سپلائی کیا جائے تاکہ حکمرانوں کو پینے کے پانی کی آلودگی کے مسئلہ کا احساس ہو سکے۔ پانی کی صفائی کا خیال رکھا جائے، پانی کی صفائی کے نام پر مختص بجٹ کو ہڑپ ہونے سے محفوظ بنایا جائے۔ پاکستان میں واٹر ریسورس کنزرویشن کے لئے با اختیار ادارہ بنایا جائے۔پانی کے ذخائر کو آلودگی سے بچایا جائے۔ترقی یافتہ ممالک کی طرح بارش کے پانی کو محفوظ رکھنے کا طریقہ کار وضع کیا جائے۔ پانی صحت کی علامت اور زندگی کی بقا کا ضامن ہے۔ قیمتی عطیہ خداوندی ہے، اس کی حفاظت کی جائے۔

    پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں ملک پانی کی کمی اور آلودگی پر گفتگو کرتے ہوئے عبدالحاکم قائد نے مزید کہا کہ پاکستان ان دس ممالک میں شامل ہے جسے اگلے بیس سال میں پانی کی بد ترین قلت کا سامنا ہوگا۔ پاکستان کی پچاس فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے۔ ستر فیصد آبادی کو گھر تک پانی نہیں پہنچتا۔ پانی کی قلت اور فراہمی ایک بہت اہم ایشو ہے۔ پاکستان میں اس وقت کم و بیش دو سو پچیس آب گاہیں موجود ہیں جہاں تیزی سے بڑھتی ہوئی آلودگی ایک انتہائی سنگین مسئلہ ہے۔ کراچی، ٹھٹھہ اور نوری آباد کے لاکھوں لوگوں کو پانی کی فراہمی اسی جھیل سے کی جاتی ہے۔ اس جھیل کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے اور اس میں آلودگی شامل ہونے کی وجہ سے اس کا پانی مضر صحت ہوتا جا رہا ہے۔ کینجھر جھیل میں فیکٹریوں کا صنعتی فضلہ پھینکا جاتا ہے اور یہی پانی کراچی اور ٹھٹھہ میں عوام کو سپلائی کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے صحت کے سنگین خطرات پیدا ہورہے ہیں جس میں جگر کی خرابی، آنکھوں کی بیماریاں، ہیپا ٹائٹس اور کینسر جیسی خطرناک بیماریاں شامل ہیں۔ سندھ حکومت بے حسی اور لاپرواہی ترک کر کے خواب غفلت سے جاگ جائے۔عوام کی صحت اور جان سے کھیلنا بند کرے۔

    ہر سال لاکھوں، کروڑوں روہے پانی کی صفائی کے نام پر مختص کئے جاتے ہیں اس کے باوجود عوام کو غیر معیاری اور مضر صحت پانی کیوں فراہم کیا رہا ہے؟ کینجھر جھیل کی آلودگی پر عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے لیکن حکومت کے کانوں پر جوں بھی نہیں رینگتی۔ محض روایتی بیانات سے کام لیا جاتا رہا ہے۔ صحت مند شہری ہی اپنی صلاحیتوں سے ملک کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ کمزور مومن تو خدا کو بھی پسند نہیں ہے۔اس وقت صوبے میں کتنے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ اور فلٹریشن پلانٹ کام کر رہے ہیں، کتنے ناکارہ پڑے ہیں اور مزید کتنے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ اور فلٹریشن پلانٹ کی ضرورت ہے؟ کیا صوبے اور ملک میں کوئی ایسا ادارہ ہے جو اس اہم مسئلہ کا نوٹس لے، رپورٹ بنائے اور صوبائی حکومت کا احتساب کر سکے؟ گر اس اہم مسئلہ کا نوٹس نہیں لیا گیا تو حکمرانوں اور ارکان اسمبلی کو آلودہ پانی کے انجکشن لگانے کی عوامی مہم کا آغاز بھی کیا جا سکتا ہے#