Baaghi TV

Category: صحت

  • پنجاب اسمبلی کے ملازمین کوکورونا ویکسین لگانے کی درخواست

    پنجاب اسمبلی کے ملازمین کوکورونا ویکسین لگانے کی درخواست

    ملک بھر میں کورونا ویکسین لگانے کا معاملہ

    مسلم لیگ(ن) نے پنجاب اسمبلی کے ملازمین کو بھی کورونا ویکسین لگانے کا مطالبہ کردیا ہے- مسلم لیگ(ن) کی ایم پی اے سمیرا کومل نے پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع کروا دی ہے- متن میں درج ہے کہ پنجاب اسمبلی کے ملازمین میں بھی کورونا کے مثبت کیسز رپورٹ ہوئے ہیں- پنجاب اسمبلی میں روزانہ ارکان اسمبلی ،دیگر سرکاری افسران اور سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کی آمد ہوتی ہے- جس طرح ملک بھر میں کورونا ویکسین کے لگانے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے- قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ پنجاب اسمبلی کے ملازمین کو بھی کورونا ویکسین لگائی جائے-

  • صحتمند عورت سے ہے صحتمند قوم، ثمینہ عارف علوی

    صحتمند عورت سے ہے صحتمند قوم، ثمینہ عارف علوی

    صدر مملکت کی اہلیہ بیگم ثمینہ عارف علوی کا ایوانِ صنعت و تجارت ، اسلام آباد میں چھاتی کے کینسر پر سیمینار سے خطاب .
    بریسٹ کینسرسے بچاؤ کے لیے آگاہی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، بزنس کمیونٹی کا بریسٹ کینسر سےبچاؤکے لیے آواز اٹھانا خوش آئند کاوش ہے ،
    عورت ہی گھر بناتی ہے اور معاشرے میں خواتین کا مقام اہم ہے ، آج کی خواتین آگے بڑھ کر ملکی ترقی میں کردار ادا کر رہی ہیں اور ان کا صحت مند ہونا بہت ضروری ہے ،ہمارے ملک میں بہت سے مسائل خواتین میں آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں ، بیگم ثمینہ عارف علوی

    • جلد تشخیص سے چھاتی کے کینسر کا علاج اور اس سے بچاؤ ممکن ہے ، بیگم ثمینہ عارف علوی

    • پاکستان کی دیہی علاقوں کی خواتین میں شعور پیدا کرنا بہت ضروری ہے ، بیگم ثمینہ عارف علوی

    • میڈیا آگاہی کا پیغام پاکستان کے دور دراز علاقوں میں پہنچا سکتا ہے، بیگم ثمینہ عارف علوی

    • ہم نے اس مرض کے بارے آگہی پیدا کرنے کیلئے اکتوبر میں بھرپور مہم چلائی ، بیگم ثمینہ عارف علوی

    • زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد ہمارا ساتھ دیں اس مرض سے بچاؤ کیلئےآواز اٹھائیں ، بیگم ثمینہ عارف علوی

  • ڈپٹی کمشنر نے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال شرقپور کا دورہ کیا

    ڈپٹی کمشنر نے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال شرقپور کا دورہ کیا

    شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی)ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ محمد اصغر جوئیہ کا اسسٹنٹ کمشنر ماہین فاطمہ کے ہمراہ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال شرقپور کا دورہ
    ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال میں انتظامات اور مریضوں کو دی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا ڈپٹی کمشنر محمد اصغر جوئیہ نے ہسپتال میں زیر علاج مریضوں کی عیادت کی اور ان سے علاج معالجے کی سہولیات کے متعلق دریافت کیا
    ڈپٹیوں نے سرکاری ہسپتال میں علاج معالجے کی سہولیات پر اطمینان کا اظہار کیا ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ محمد اصغر جوئیہ نے ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو ہدایت کی کہ وہ ہسپتال میں زیر علاج مریضوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کریں
    ڈپٹی کمشنر نے اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر کا بھی دورہ کیا اور دفتر کی متبادل جگہ کا معائنہ کیا ڈپٹی کمشنر محمد اصغر جوئیہ کا کہنا ہے کہ حکومت پنجاب کی ہدایت پر ہسپتال میں زیر علاج مریضوں کے لیے طبی سہولیات کی فراہمی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

  • ڈاکٹر فراز اور  ڈاکٹر سماویہ اکبر کو کورونا ویکسین لگائی، پنجاب  ویکسین مہم کا آغاز

    ڈاکٹر فراز اور ڈاکٹر سماویہ اکبر کو کورونا ویکسین لگائی، پنجاب ویکسین مہم کا آغاز

    لاہور3فروری: پنجاب میں کورونا ویکسین لگانے کی مہم کا باقاعدہ آغاز, وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار اور گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے صوبے میں کورونا ویکسین لگانے کی مہم کا افتتاح کیا.
    وزیر اعلی عثمان بزدار گورنر چوہدری محمد سرور کی موجودگی میں فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو کورونا ویکسین لگائی گئی.
    راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف یورالوجی کے ڈاکٹر فراز اور لیڈی ڈاکٹر سماویہ اکبر کو کورونا ویکسین لگا کر پنجاب میں ویکسین لگانے کی مہم کا آغاز کیا گیا. وزیر اعلی عثمان بزدار اور گورنر چوہدری محمد سرور نے ویکسین لگانے کے عمل کا مشاہدہ کیا.
    ڈاکٹرز کو کورونا ویکسین لگانے کی تقریب پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں ہوئی۔پہلے مرحلے میں صوبے کے فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو ویکسین لگانے کی مہم کا آج باقاعدہ آغاز کیا گیا ہے -دوسرے مرحلے میں ہیلتھ ورکرز کے ساتھ بزرگ شہریوں کوکورونا ویکسین لگائی جائے گی-
    حکومت شہریوں کو مفت ویکسین لگائے گی۔کوروناویکسین لگانے کے لئے پنجاب میں 189مراکز قائم کئے گئے ہیں -ویکسی نیشن مراکز میں کوروناویکسین لگوانے والوں کا مکمل ڈیٹامحفوظ رکھا جائے گا-
    4 لاکھ سے زائد فرنٹ لائن ہیلتھ کیئرورکرز کی رجسٹریشن مکمل ہو چکی ہے – پنجاب کے 36 اضلاع میں اب تک 600 سے زائد افرادکو تیکنیکی تربیت فراہم کی گئی ہے – ماسٹرٹرینرزکومزیدعملہ کی تربیت کیلئے تیارکیاگیاہے- 70 ہزار کورونا ویکسین کی ڈوززپنجاب کو ملی ہیں – مزید ویکسین بھی اگلے تین ہفتے میں ملے گی –
    کوروناویکسین کومحفوظ رکھنے کیلئے پنجاب کے 36 اضلاع میں 2500 آئس لائن ریفریجریٹرزکا انتظام کیا گیا ہے-پاکستان کو کورونا ویکسین مہیا کرنے پر دوست ملک چین کے شکر گزار ہیں – چین نے مشکل کی ہر گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے – چین کے اس تعاون کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا- کوروناسے بچاؤ کیلئے احتیاطی تدابیرپر سختی سے عملدرآمدضروری ہے – پنجاب میں کنٹیکٹ ٹریسنگ باقی صوبوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے-
    دنیانے پاکستان میں کوروناوائرس پر قابوپانے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کوسراہاہے-پنجاب میں ایس اوپیز پرعملدرآمدکرواتے ہوئے تعلیمی اداروں کوکھول دیاگیاہے-
    حکومت پنجاب نے ضرورت پڑنے پرکوروناویکسین کی خریداری کیلئے ایک ارب سے زائد روپے کی رقم مختص کی ہے-
    چودھری سرور کا کہنا ہے کہ کورونا ویکسین لگانے کی مہم کا آغاز خوش آئند ہے – پنجاب حکومت نے کورونا ویکسین لگانے کے لئے تمام انتظامات مکمل کئے ہیں – ہیلتھ کیئر ورکرز نے انتہائی محنت اور جانفشانی کے ساتھ کورونا وباء کے دوران خدمات سرانجام دی ہیں -ہیلتھ کیئرورکرز ہمارے ہیرو ہیں –
    سیکرٹری پرائمری و سیکنڈری ہیلتھ اور متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

  • پختونخواہ کوابتدائی طور پر سولہ ہزارکورونہ ویکسین موصول ہوئیں

    پختونخواہ کوابتدائی طور پر سولہ ہزارکورونہ ویکسین موصول ہوئیں

    وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے کورونا ویکسینیشن کا افتتاح کیا۔
    وفاقی حکومت کی طرف سے خیبر پختونخواہ کوابتدائی طور پر سولہ ہزار ویکسین موصول ہوئی ہیں ۔ وفاقی حکومت کی گایڈلاینز کے مطابق یہ ویکسین صوبے کے 8 اضلاع میں ہیلتھ ورکرز کو لگائے جائیں گے ۔ہیلتھ ورکرز کا تحفظ ہماری پہلی ترجیح ہے۔ ویکسین کی فراہمی کے لئے وفاقی حکومت اور وزیراعظم کے مشکور ہیں،
    پاکستان کو کورونا ویکسین کی فراہمی پر ہم دوست ملک چین کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں، خیبر پختونخواہ میں اب تک 3194 ہیلتھ ورکرز کورونا سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ32 شہید ہوئے ہیں، کورونا صورتحال میں ہیلتھ ورکرز بشمول ڈاکٹرز ,نرسز ,پیرامیڈکس اور دیگر عملے کی خدمات قابل ستائش ہیں ۔ صوبائی حکومت ان کی بے لوث خدمات اور قربانیوں کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے. فرنٹ لائن ورکرز اس قوم کے اصل ہیرو ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر دوسروں کی جانیں بچانے کے لئے خدمات انجام دیں. موجودہ حکومت کی کامیاب حکمت عملی سے ہم کرونا کی پہلی لہر سے سے موثر انداز میں نمٹنے میں کامیاب ہوئے ہیں.
    کورونا کی دوسری لہر سے نمٹنے کے لیے مربوط انداز میں اقدامات جاری ہیں. کرونا ویکسین اس وباء سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے بہت زیادہ مددگار ثابت ہوگی. موجودہ حکومت اس وباء سے اپنے فرنٹ لائن ورکرز اور عوام کو تحفظ دینے کے لیے تمام تر ممکنہ اقدامات اٹھارہی ہے۔

  • پانی کے امراض کا بڑھتا پھیلاؤ:سندھ حکومت غفلت کی نیند میں مبتلا

    پانی کے امراض کا بڑھتا پھیلاؤ:سندھ حکومت غفلت کی نیند میں مبتلا

    پانی کے نام پر سندھ کے باسیوں کو زہر دینابند کیا جائے: پاسبان
    کینجھر جھیل کی آلودگی انسانی جانوں کے لئے شدید خطرہ ہے: عبدالحاکم قائد

    پانی صحت کی علامت اور زندگی کی بقا کا ضامن ہے،حفاظت کی جائے، واٹر ریسورس کنزرویشن کے لئے با اختیار ادارہ بنایا جائے-

    کراچی میں پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے وائس چیئرمین عبدالحاکم قائد نے کہا ہے کہ پانی کے نام پر سندھ کے باسیوں کو زہر دینا بند کیا جائے۔ کینجھر جھیل میں بڑھتی ہوئی آلودگی انسانی جانوں کے لئے شدید خطرہ ہے۔ نوری آباد اور کوٹری کی فیکٹریوں سے خارج ہونے والے صنعتی فضلہ کی پانی میں آمیزش اسے زہریلا بنا رہی ہے، فوری سد باب کیا جائے۔ چیف منسٹر، گورنر ہاؤس، سندھ اسمبلی اور سیکریٹریٹ میں منرل واٹر پر مکمل پابندی عائد کر کے کھینجر جھیل سے پانی سپلائی کیا جائے تاکہ حکمرانوں کو پینے کے پانی کی آلودگی کے مسئلہ کا احساس ہو سکے۔ پانی کی صفائی کا خیال رکھا جائے، پانی کی صفائی کے نام پر مختص بجٹ کو ہڑپ ہونے سے محفوظ بنایا جائے۔ پاکستان میں واٹر ریسورس کنزرویشن کے لئے با اختیار ادارہ بنایا جائے۔پانی کے ذخائر کو آلودگی سے بچایا جائے۔ترقی یافتہ ممالک کی طرح بارش کے پانی کو محفوظ رکھنے کا طریقہ کار وضع کیا جائے۔ پانی صحت کی علامت اور زندگی کی بقا کا ضامن ہے۔ قیمتی عطیہ خداوندی ہے، اس کی حفاظت کی جائے۔

    پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں ملک پانی کی کمی اور آلودگی پر گفتگو کرتے ہوئے عبدالحاکم قائد نے مزید کہا کہ پاکستان ان دس ممالک میں شامل ہے جسے اگلے بیس سال میں پانی کی بد ترین قلت کا سامنا ہوگا۔ پاکستان کی پچاس فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے۔ ستر فیصد آبادی کو گھر تک پانی نہیں پہنچتا۔ پانی کی قلت اور فراہمی ایک بہت اہم ایشو ہے۔ پاکستان میں اس وقت کم و بیش دو سو پچیس آب گاہیں موجود ہیں جہاں تیزی سے بڑھتی ہوئی آلودگی ایک انتہائی سنگین مسئلہ ہے۔ کراچی، ٹھٹھہ اور نوری آباد کے لاکھوں لوگوں کو پانی کی فراہمی اسی جھیل سے کی جاتی ہے۔ اس جھیل کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے اور اس میں آلودگی شامل ہونے کی وجہ سے اس کا پانی مضر صحت ہوتا جا رہا ہے۔ کینجھر جھیل میں فیکٹریوں کا صنعتی فضلہ پھینکا جاتا ہے اور یہی پانی کراچی اور ٹھٹھہ میں عوام کو سپلائی کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے صحت کے سنگین خطرات پیدا ہورہے ہیں جس میں جگر کی خرابی، آنکھوں کی بیماریاں، ہیپا ٹائٹس اور کینسر جیسی خطرناک بیماریاں شامل ہیں۔ سندھ حکومت بے حسی اور لاپرواہی ترک کر کے خواب غفلت سے جاگ جائے۔عوام کی صحت اور جان سے کھیلنا بند کرے۔

    ہر سال لاکھوں، کروڑوں روہے پانی کی صفائی کے نام پر مختص کئے جاتے ہیں اس کے باوجود عوام کو غیر معیاری اور مضر صحت پانی کیوں فراہم کیا رہا ہے؟ کینجھر جھیل کی آلودگی پر عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے لیکن حکومت کے کانوں پر جوں بھی نہیں رینگتی۔ محض روایتی بیانات سے کام لیا جاتا رہا ہے۔ صحت مند شہری ہی اپنی صلاحیتوں سے ملک کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ کمزور مومن تو خدا کو بھی پسند نہیں ہے۔اس وقت صوبے میں کتنے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ اور فلٹریشن پلانٹ کام کر رہے ہیں، کتنے ناکارہ پڑے ہیں اور مزید کتنے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ اور فلٹریشن پلانٹ کی ضرورت ہے؟ کیا صوبے اور ملک میں کوئی ایسا ادارہ ہے جو اس اہم مسئلہ کا نوٹس لے، رپورٹ بنائے اور صوبائی حکومت کا احتساب کر سکے؟ گر اس اہم مسئلہ کا نوٹس نہیں لیا گیا تو حکمرانوں اور ارکان اسمبلی کو آلودہ پانی کے انجکشن لگانے کی عوامی مہم کا آغاز بھی کیا جا سکتا ہے#

  • سندھ میں کرونا کا زور: مزید 543 کیسزرپورٹ

    سندھ میں کرونا کا زور: مزید 543 کیسزرپورٹ

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کورونا وائرس کی صورتحال سے متعلق بیان

    وزیراعلیٰ سندھ نےکورونا وائرس کی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں9018 نمونوں کی جانچ کی گئی ہے- گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 543 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں- گزشتہ 24 گھنٹوں میں 29اموات ہوئیں- اموات کی مجموعی تعداد 4033 ہوچکی ہے- آج مزید 314 مریض صحتیاب ہوئے ہیں- صحتیاب افراد کی مجموعی تعداد 225297 ہوچکی ہے- اب تک 2745153 نمونوں کی جانچ کی جاچکی ہے- اب تک 248269 کیسزرپورٹ ہوچکے ہیں- اس وقت 18939 مریض زیر علاج ہیں- 18160 گھروں میں ،15آئسولیشن سینٹرز میں اور764 مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں- 699مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے-
    71 مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں- 543صوبے کے ۔نئے کیسز میں سے350 کا تعلق کراچی سے ہے-

    ضلع شرقی 161،ضلع جنوبی 132، ملیر 25، ضلع وسطی 22، کورنگی اور ضلع غربی میں سے 5۔ 5 نئے کیسز رپورٹ ہوئے-
    حیدرآباد 42،ٹنڈو محمد خان 39، خیرپور 20،عمر کوٹ 16، گھوٹکی 14، جیکب آباد 12،ٹنڈو الہیار 11، میرپور خاص 8، سکھر 2، جامشورواور سجاول میں سے 1۔1 نئے کیسز سامنے آئے-

  • ویکسین پر اعتماد نہیں تو ویکسین منگوائی کیوں؟

    ویکسین پر اعتماد نہیں تو ویکسین منگوائی کیوں؟

    کورونا ویکسین کے حوالے سے وزیر صحت پنجاب کے بیان پر حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے تشویش کا اظہار کر دیا

    حکومتی رکن سعید اکبر نوانی کی وزیر صحت کے بیان پر تنقید- کہتے ہیں کہ پنجاب میں کتے کے.کاٹنے کے واقعات بڑھ گئے ہیں، ویکسین نہ ہونا افسوسناک ہے – وزیر صحت ایوان کو کتے کے کاٹنے کی ویکسین سے متعلق آگاہ کرے- وزیر صحت کا.یہ بیان کہ.کرونا ویکسین اپنے رسک پر لگاوائیں ہر بندہ خود ذمہ دار ہوگا افسوسناک ہے-

    اگر ان کو ہی ویکسین پر اعتماد نہیں تھا تو ویکسین منگوائی کیوں ہیں- کل کوئی جوئی واقع ہوگیا تو اس کی ذمہ داری حکومت پر آئے گی۔

  • کرونا ویکسین کی پاکستان میں آمد: لائحہ عمل تیار

    کرونا ویکسین کی پاکستان میں آمد: لائحہ عمل تیار

     پاکستان میں کورونا ویکسین کا سلسلہ اگلے دودن میں شروع ہوجائیگا۔ ڈاکٹریاسمین راشد

    پوری دنیانے پاکستان میں کوروناوائرس پر قابوپانے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کوسراہاہے-  حکومت چین کی کمپنی سائنوفارمانے پاکستان کے ہیلتھ کئیرورکرزکیلئے کوروناوائرس کی5لاکھ کی تعدادمیں ویکسین کاتحفہ بھیجاہے- کوروناویکسین کسی وی آئی پی کونہیں ملے گی،ہماری پہلی ترجیح فرنٹ لائن ہیلتھ کئیرورکرزہیں:صوبائی وزیرصحت کی پریس کانفرنس-

    صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے کہاہے کہ پاکستان میں کورونا ویکسین کا سلسلہ اگلے دودن میں شروع ہوجائیگا۔کوروناوائرس کہیں گیانہیں بلکہ ہمیں اس وباء سے بچاؤ کیلئے ہرقسم کی احتیاطی تدابیرپر سختی سے عملدرآمدکرناچاہیے۔گذشتہ 24گھنٹوں کے دوران پنجاب میں 443افرادمیں کوروناوائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔11افراد کوروناوائرس کے باعث جان کی بازی ہارچکے ہیں۔لاہورمیں کوروناوائرس کے مثبت کیسز کی شرح 3.95،راوالپنڈی میں 1.9اور فیصل آبادمیں 3.39ہے۔گذشتہ24گھنٹوں کے دوران تقریباً15ہزارکوروناوائرس کے تشخیصی ٹیسٹ ہوئے ہیں۔پنجاب میں کنٹیکٹ ٹریسنگ الحمداللہ باقی صوبوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔پوری دنیانے پاکستان میں کوروناوائرس پر قابوپانے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کوسراہاہے۔لاہورمیں 18،گوجرانوالہ میں 1اورگجرات میں 1سمیت دیگرشہروں میں سمارٹ لاک ڈاؤنزکے ذریعے تقریباً5634افرادکو محدودکردیاگیاہے۔

    سرکاری ہسپتالوں میں کوروناوائرس کے متاثرہ افرادسے زیادہ صحت یاب ہونے والوں کی تعداد ہے۔پنجاب میں الحمداللہ تمام ایس اوپیز پرعملدرآمدکرواتے ہوئے تعلیمی اداروں کوکھول دیاگیاہے۔محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیرمحکمہ تعلیم کے ساتھ مل کرتعلیمی اداروں میں آگاہی سیمینارزکے ذریعے ایس اوپیز پرعملدرآمدکے حوالے سے اہم کرداراداکرے گا۔8فروری کوتعلیمی اداروں کے کھولنے بارے دوبارہ کوروناوائرس کی صورتحال کاجائزہ لیاجائیگا۔ان خیالات کااظہارانہوں نے آج ڈی جی پی آرہیڈ کوارٹرزمیں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیرکیپٹن(ر)محمد عثمان یونس،سپیشل سیکرٹری محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ اینڈمیڈیکل ایجوکیشن سلوت سعیداور ڈائریکٹرالیکٹرانک میڈیا روبینہ افضل سمیت میڈیانمائندگان کی کثیرتعدادموجودتھی۔

        صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے اس موقع پر مزیدکہا کہ حکومت چین کی کمپنی سائنوفارمانے پاکستان کے ہیلتھ کئیرورکرزکیلئے کوروناوائرس کی5لاکھ کی تعدادمیں ویکسین کاتحفہ بھیجاہے۔جس پرحکومت پاکستان کی جانب سے حکومت چین کا شکریہ اداکرناچاہتی ہوں۔چین سے آئی کوروناوائرس ویکسین کی پہلی کھیپ اسلام آبادپہنچ چکی ہے۔این سی اوسی کے مطابق بروزبدھ تمام وزراء اعلی بیک وقت تمام ہیلتھ ورکرز کو کوروناوائرس کی ویکسین لگانے کا آغازکرینگے۔خوشخبری یہ ہے کہ کوویکس نے پاکستان کیلئے 70ملین کوروناوائرس ویکسین خریدلی ہے اور وہ انشاء اللہ اس مہینے کے رواں ہفتے سے پاکستان آناشروع ہوجائیگی۔این سی اوسی کی ٹیکنیکی ٹیم نے پنجاب میں کوروناویکسین کو محفوظ بنانے کے طریقہ کارکوسراہاہے۔

    کوروناویکسین کو محفوظ بنانے کیلئے سیکرٹری محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیرکیپٹن(ر)محمد عثمان یونس نے اس موقع پر کہاہے کہ پنجاب میں 189ویکسینیشن سنٹرزقائم کئے گئے ہیں جن میں کوروناویکسین لگوانے والوں کامکمل ڈیجیٹل ڈیٹامحفوظ بنائیاجائیگا۔ابھی تک تقریباً4لاکھ فرنٹ لائن ہیلتھ کئیرورکرزکی رجسٹریشن کردی گئی ہے۔جن میں رجسٹرڈ ہونے والوں میں بہت بڑی تعدادجنرل پریکٹیشنرزکی بھی موجود ہے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ویکسینیشن سنٹرزکی تعدادمیں اضافہ کردیاجائے گا۔پنجاب کے 36اضلاع میں اب تک 600سے زائدافرادکی ٹیکنیکی تربیت کرواچکے ہیں۔ماسٹرٹرینرزکوتیارکیاگیاہے۔فیز1میں ترجیحی بنیادوں پرکوروناوائرس کے مریضوں کا علاج کرنے والے فرنٹ لائن ہیلتھ کئیرورکرزکویہ ویکسین لگائی جائے گی۔اب70ہزارویکسین آرہی ہے جسکی دوسری کھیپ اگلے21دن میں مزیدمل جائیگی۔کوروناوائرس ویکسین کومحفوظ بنانے کیلئے پنجاب کے 36اضلاع میں 2500کے قریب آئس لائن ریفری جنریٹیرزموجودہیں اور ویکسین کی تمام اضلاع میں ترسیل کیلئے بھی پنجاب پولیس کی مددحاصل کی گئی ہے۔

        صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے اس موقع پر مزیدکہاہے کہ چائنہ کونسائنہ کے ساتھ کوروناویکسین کے ٹرائلز کئے گئے ہیں جس کے نتائج اگلے دوہفتوں میں ہمارے پاس آجائینگے۔کوویکس نے پاکستان کی 20فیصدآبادی کیلئے مفت کوروناویکسین دینے کا وعدہ کیاہے جورواں ماہ کے آخریامارچ کے آغازمیں پاکستان آناشروع ہوجائیگی۔حکومت پنجاب نے ضرورت پڑنے پرکوروناویکسین کی خریداری کیلئے 1ارب اور 80لاکھ روپے کی خطیر رقم مختص کی ہوئی ہے۔سرکاری ہسپتالوں کے ساتھ ساتھ نجی ہسپتالوں میں کوروناوائرس کے مریضوں کا علاج کرنے والے فرنٹ لائن ہیلتھ کئیرورکرزکومفت ویکسین لگائی جائیگی۔فرنٹ لائن ہیلتھ کئیرورکرزہماری پہلی ترجیح ہے۔اس کے بعد65سال سے زیادہ عمرکے افرادکوویکسین لگائی جائیگی۔اگلے چارسے پانچ ماہ کے دوران کوروناویکسین کی وافرمقدارپاکستان میں دستیاب ہوگی۔

        صوبائی وزیر صحت نے اس موقع پر مزیدکہاکہ حکومت نے آتے ہی صحت اور تعلیم کے شعبہ جات کی بہتری کیلئے بے پناہ تاریخی اقدامات اٹھائے ہیں۔ہماری حکومت نے32ہزارڈاکٹرز،نرسز،پیرامیڈیکل سٹاف،میل نرسز،فارماسٹس اورفزیوٹھراپسٹس بھرتی کئے ہیں۔سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کیلئے 42ارب روپے کی خطیررقم مختص کی گئی ہے۔ٹی بی،ہیپاٹائٹس اور ایڈزکے مریضوں کومفت ادویات کی فراہمی میں کسی قسم کا مسئلہ نہیں رہا۔اس سال سرکاری ہسپتالوں میں 10ارب روپے کا طبی سامان خریداگیاہے۔سرکاری ہسپتالوں کی بہتری کیلئے تمام تر وسائل بروئے کارلانے کے بعدمریضوں کوعلاج معالجہ میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنانہیں ہوناچاہئے۔پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کے علاج کو یقینی بنانے کیلئے دو سرویلنس ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن کی سربراہی ڈی جی ہیلتھ سرسزڈاکٹرہارون جہانگیر اور ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیراینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈاکٹرآصف طفیل کررہے ہیں۔سرکاری ہسپتالو ں میں صفائی،ڈاکٹرزکی حاضری،ادویات کی فراہمی ودیگرانتظامی امورکی روزانہ کی بنیادپرمانیٹرنگ جاری ہے۔غفلت پرایم ایس شاہدرہ ٹیچنگ ہسپتال،ایم ایس ڈی ایچ کیوہسپتال شیخوپورہ اورایم ایس اوکاڑہ ساؤتھ ہسپتال کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے معطل کیاگیاہے۔وزیراعلی پنجاب سردارعثمان بزدارنے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کے علاج میں مشکل آنے پر فورا سخت ایکشن لینے کا حکم دیاہے۔پنجاب کے تمام نرسنگ سکولوں کو نرسنگ کالجزمیں منتقل کردیاگیاہے اور نرسزکا وظیفہ21ہزارروپے سے بڑھاکر31ہزرروپے کردیاگیاہے۔ نرسوں کی سیٹوں میں 1600سے بڑھاکر2350تک اضافہ کردیاگیاہے۔

        صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے مزیدکہاکہ وزیر اعظم عمران خان اور وزیراعلی پنجاب سردارعثمان بزدارکا تمام افرادکوصحت اورتعلیم کی تمام بنیادی سہولیات دینا اولین ترجیحات میں شامل ہے۔خیبرپختونخواہ میں تمام خاندانوں کو یونیورسل ہیلتھ کوریج کی سہولت دی جاچکی ہے اور انشاء اللہ پنجاب میں دسمبر2021تک تمام 2کروڑ93لاکھ خاندانوں میں صحت سہولت کارڈزکی تقسیم کو یقینی بنادیاجائیگا۔اس مالی سال کے اندرڈی جی خان اور ساہیوال ڈویژنز کے تمام خاندانوں میں صحت سہولت کارڈزتقسیم کردئیے جائینگے۔میڈیکل کالجزمیں سیٹوں پر افواہیں بے بنیادہیں۔پنجاب نے ہمیشہ بڑے بھائی ہونے کا حق اداکیاہے۔پنجاب کے میڈیکل کالجز میں باقی صوبوں کی335نشستیں مختص ہیں جو تقریباً تین میڈیکل کالجز کی تعدادبن جاتی ہے۔کسی صوبے کی سیٹ میں کمی کی تمام ترخبریں بے بنیاداور من گھڑت ہیں۔شیخ زیدہسپتال کے وفاق میں واپس جانے کی وجہ سے 2سیٹیں کم ہوئی ہیں۔ہمارے پاس سندھ،آزادجموں کشمیر،بلوچستان،فاٹا اورخیبرپختونخواہ کی سیٹوں کا کوٹہ موجودہے۔گلگت بلتستان کی 55سیٹیں اسی طرح موجودہیں۔شیخ زیدکی 2نشتوں کے کوٹہ کوبھی اپنی سیٹیں بڑھاکرتعدادمکمل کرلی گئی ہے۔پرسوں وزیر اعلی پنجاب سردارعثمان بزدار کوروناویکسین کاباقاعدہ آغازکرینگے۔کوروناویکسین صرف صوبہ سندھ کونہیں بلکہ پاکستان کو بطور عطیہ مل رہی ہے۔

        صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوے کہاکہ لاہورمیں کوروناوائرس کے مثبت کیسزکی تعدادسب سے زیادہ ہے۔کوروناویکسین کسی وی آئی پی کونہیں ملے گی۔میرے سمیت میری کسی سیکرٹری کو نہیں ملے گی۔ہماری پہلی ترجیح فرنٹ لائن ہیلتھ کئیرورکرزہیں۔پوری دنیانے پنجاب حکومت کی جانب سے کوروناوائرس پرقابوپانے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کوسراہا۔گذشتہ سال کوروناوائرس کے مریضوں کے علاج کیلئے 14ارب روپے خرچ کئے گئے اور مزید2ارب روپے کی خطیررقم مختص کی گئی ہے۔20بی ایس ایل لیول تھری لیبز تیارہوچکے ہیں۔بیرون ملک جانے والے مزدوروں کوبھی کوروناویکسین لگائی جائیگی۔حکومت پنجاب نے اپنے بجٹ میں بھی کوروناویکسین کی خریداری کیلئے خطیررقم مختص کررکھی ہے۔ویکسین رجسٹرڈ ہونے کے بعد نجی سیکٹربھی بیرون ملک سے منگواسکتاہے۔پولیس اور صحافیوں سمیت تمام فرنٹ لائن ورکرزکوبھی کوروناویکسین لگائی جائیگی۔

    اخلاقی طورپرکسی کوبھی زبردستی ویکسین نہیں لگائی جاسکتی ہے۔1166پرمیسج کرکے اپنے آپ کورجسٹرڈکروایاجاسکتاہے۔پوارسال اس وائرس کو سمجھنے میں لگاہے اس لئے ویکسین لگانے کے بعداثرات کا صحیح جائزہ لیاجاسکتاہے۔اپوزیشن کبھی حکومت سے خوش نہیں ہوسکتی ہے۔ہم سندھ کووقت پرویکسین کی فراہمی کو یقینی بنارہے ہیں۔چین ہرلحاظ سے پاکستان کا ساتھ دے رہاہے۔کوروناوائرس ویکسین کے معمولی سائیدافیکٹس ہوسکتے ہیں۔ٹائیفائیڈ ویکسین کیلئے عملہ کی کسی قسم کی کمی نہیں ہے۔خصوصی ٹائیفائیڈ ویکسین مہم کیلئے محکمہ سپیشلائزہیلتھ کئیراینڈ میڈیکل ایجوکیشن کے عملہ کی مددلی گئی ہے۔صحت سہولت کارڈزکے حامل افراد270ہسپتالوں میں مفت علاج کی سہولت حاصل کرسکتے ہیں۔تمام انسٹی ٹیوٹس آف کارڈیالوجی کو ام پینل کیاگیاہے۔صحت سہولت کارڈ کے حامل افرادہرقسم کی ان ڈور سہولت مفت حاصل کرسکتے ہیں۔جس میں نیوروسرجری،سیزیرین،ڈائیلسزاور ٹراماسمیت دیگربیماریوں کاعلاج شامل ہے۔           

  • وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے گورنمنٹ میاں میرہسپتال سے کیا ٹائیفائیڈ ویکسین مہم کا آغاز

    وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے گورنمنٹ میاں میرہسپتال سے کیا ٹائیفائیڈ ویکسین مہم کا آغاز

    وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے گورنمنٹ میاں میرہسپتال سے انسدادٹائیفائیڈ ویکسین مہم کا آغاز کردیا
     انسدادٹائیفائیڈ ویکسین مہم کوکامیاب بنانے کیلئے تمام تر وسائل بروئے کارلائے جارہے ہیں. 9ماہ سے 15سال کے تقریباً2کروڑ بچوں کو ٹائیفائیڈ کے حفاظتی ٹیکے لگائے جائینگے۔
    لاہور یکم فروری
    -صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے گورنمنٹ میاں میرہسپتال سے انسدادٹائیفائیڈ ویکسین مہم کا آغاز کردیا ہے۔اس موقع پر سیکرٹر ی محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیرکیپٹن(ر)محمد عثمان یونس،ڈپٹی سیکرٹری رافعہ حیدر،ڈپٹی سیکرٹری حافظ قیصرعباس،سی ای اولاہورودیگرافسران سمیت ویکسینیٹرزاور والدین موجود تھے۔ویکسینیٹرنے صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدکی موجودگی میں معصوم بچی کو انسدادٹائیفائیڈ ویکسین کا ٹیکہ بھی لگایا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ انسدادٹائیفائیڈ ویکسین مہم کا آغازکیاگیاہے۔انسدادٹائیفائیڈ ویکسین مہم یکم سے 15فروری تک پنجاب کے 12اضلاع میں جاری رہے گی۔ انسدادٹائیفائیڈ ویکسین مہم پنجاب کے 12اضلاع لاہور،ڈی جی خان،میانوالی،گوجرانوالہ،لیہ،راجن پور،منڈی بہاؤالدین، ملتان، راولپنڈی، چکوال اور پاکپتن کے شہری علاقہ جات میں جاری رہے گی۔انہوں نے کہا کہ انسدادٹائیفائیڈ ویکسین مہم کوکامیاب بنانے کیلئے تمام تر وسائل بروئے کارلائے جارہے ہیں۔خصوصی مہم کے دوران9ماہ سے 15سال کے تقریباً2کروڑ بچوں کو ٹائیفائیڈ کے حفاظتی ٹیکے لگائے جائینگے۔والدین بچوں کو ٹائیفائیڈ کے حفاظتی ٹیکے قریبی مراکز صحت یاعلاقہ میں آنے والی محکمہ صحت کی ٹیموں سے مفت لگوسکتے ہیں۔ڈاکٹریاسمین راشد نے کہا کہ ٹی سی وی ایک محفوظ ویکسین ہے جو عالمی ادارہ صحت کی جانب سے تصدیق شدہ ہے۔عوام سے مہم کوکامیاب بنانے کیلئے محکمہ صحت کی ٹیموں سے مکمل تعاون کی اپیل کرتے ہیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلی پنجاب سردارعثمان بزدارپنجاب کے ہربچے کوصحت منددیکھناچاہتے ہیں.