وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی خصوصی گفتگو ہوئی جس کے مطابق ، ملتان کورونا ویکسین کی پانچ لاکھ ویکسین لینے جہاز چائنہ پہنچ گیا ہے۔ میں اسلام آباد ائیرپورٹ پر چائنیز سفیر کے ساتھ ویکسین وصول کرنے جاؤنگا ویکسین سب کے لئے فری ہوگی سب سے پہلے سٹاف نرسز ہیلتھ ورکرز اور ڈاکٹرز کو دیں گے.ڈینیل پرل کیس پر حکومت نے سپریم کورٹ ایک رٹ پیثٹیشن دائر کررہی ہے.ڈینیل پرل کی فیملی کو انصاف ملے گا اور قانون کے تقاضے پورے ہونگے.ہماری کوشش ہے افغانستان میں امن کے معاملات بہتر انداز میں چلیں . پاکستان نئی امریکی حکومت کے ساتھ ملکر افغانستان میں امن کے لئے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا
Category: صحت
-

راولپنڈی پولیس انسپکٹر عاصم رشید کورونا کے خلاف جنگ لڑتے ہوۓ شہید
راولپنڈی پولیس کے سب انسپکٹر عاصم رشید کورونا کے خلاف جنگ لڑتے ہوۓ شہید ہو گئے،
شہید سب انسپکٹر عاصم رشید سابقہ ایس ایچ او مورگاہ تھے، شہید سب انسپکٹر عاصم رشید کورونا کے مرض میں مبتلا ہونے کے بعد 14 جنوری سے NIH ہسپتال اسلام آباد میں زیر علاج تھے، شہید سب انسپکٹر عاصم دشید کی نماز جنازہ ایس او پیز کے مطابق انکے رہائشی علاقہ چک بہادر جاتلی میں دن 11 بجے ادا کی جاۓ گی۔
شہید سب انسپکٹر عاصم رشید انتہائی قابل ، ایماندار اور ملنسار افسر تھے، شہید سب انسپکٹر عاصم رشید نے سوگواران میں والدہ، بیوہ، ایک بیٹی اور ایک بیٹے کو چھوڑا ہےراولپنڈی پولیس نے آئی جی پنجاب انعام غنی کی پالیسی کے مطابق شہید کے اہل خانہ کو تجہیز و تکفین کے واجبات ادا کئے۔ شہید کے اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور دکھ کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں.شہید سب انسپکٹر عاصم رشید کی محکمہ پولیس کے لئے خدمات ناقابل فراموش ہیں.راولپنڈی پولیس کورونا کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کرتی رہے گی تاہم افسران و اہلکار فیس ماسک، گلوز، سینیٹائزر اور دیگر حفاظتی اقدامات پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں، سی پی او راولپنڈی. -

وزیراعلیٰ پنجاب, عثمان بزدار سے اراکین اسمبلی کی ملاقات ، پسماندہ علاقوں میں ایجوکیشن اور ہیلتھ فسلیٹز کوخوب تر بنانے کا وعدہ
لاہور30جنوری: وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے اراکین اسمبلی کی ملاقات جس میں صوبائی وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت، مشیر محمد حنیف پتافی، شہاب الدین خان، محمد شفیع، جاوید اختر لنڈ، علمدار قریشی، عبدالحئی دستی، سردار فاروق دریشک، سردار احمد علی خان دریشک، احمد شاہ کھگہ، ملک ندیم عباس بارا، سرفراز حسین اور محمد آصف شامل تھے. چیف وہپ پنجاب اسمبلی ایم پی اے سید عباس علی شاہ بھی اس موقع پر موجود تھےمنتخب نمائندوں نے وزیراعلیٰ کو اپنے علاقوں کے مسائل سے آگاہ کیا.وزیراعلیٰ عثما ن بزدار کی مسائل حل کرنے کی یقین دہانی, انہوں نے کہا کہ انکی پسماندہ علاقوں کی ترقی پر پوری توجہ ہے
عثمان بزدارکاکہنا یہ ہے کہ عوامی نمائندوں کے مسائل کو ذاتی سمجھ کر حل کرتاہوں ، اراکین صوبائی اسمبلی میرے ساتھی ہیں اور منتخب نمائندوں کی ترجیحات کے مطابق ان کے حلقوں میں ترقیاتی کام ہوں گے۔ منتخب نمائندوں کی مشاورت سے عوام کی ترقی و خوشحالی کے پروگرام پر عملدرآمد کیا جائے گا۔ ہم سب نے ٹیم ورک کے طورپر صوبے کے عوام کی خدمت کرنی ہے. وزارت اعلی صرف عہدہ نہیں بلکہ بہت بڑی ذمہ داری ہےاورعوام کی خدمت مشن اور اوڑھنا بچھونا ہے۔
عثمان بزدارکا مزید کہنا یہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت سابق دور کی فاش غلطیوں اور خرابیوں کو دور کر رہی ہے۔ سابق حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کے باعث ملک اپنی اصل منزل سے ہٹ گیا۔ قومی وسائل کو نمائشی منصوبوں کی نذر کرکے ملک و قوم سے ظلم کیاگیا۔ سابق حکمرانوں نے عوام کے بنیادی مسائل کو یکسر نظر انداز کیا۔ عوام بنیادی ضرورتوں کو ترستے رہے اور حکمران اقتدار کے مزے لوٹتے رہے. ہماری حکومت نے عوام کے بنیادی مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت تمام علاقوں کی یکساں ترقی پر یقین رکھتی ہے۔ پسماندہ علاقوں کی ترقی کیلئے جاری منصوبوں کی خود نگرانی کررہا ہوں. زبانی جمع خرچ کا وقت گزر چکا،اب صرف کام ہوتا ہے اور ہم عمل کرکے دکھاتے ہیں .شہروں کے ساتھ دوردراز علاقوں میں بھی ایجوکیشن اور ہیلتھ فسلیٹز کو خوب سے خوب تر بنائیں گے۔۔اراکین پنجاب اسمبلی کا کہنا ہی کہمنتخب نمائندوں سے مشاورت کا سلسلہ خوش آئند ہے، مسائل کے حل کیلئے عثمان بزدارکی ذاتی دلچسپی پر شکرگزار ہیں وہ حقیقی معنوں میں عوامی وزیراعلیٰ ہیں.
-

کراچی میں عطائی ڈاکٹروں کی بھرمار، شہری پریشان
کراچی کے علاقے لانڈھی اور کورنگی میں واقع کلینکس میں عطائی ڈاکٹروں نے عام شہریوں کو شفا کے بجائے مہلک امراض میں مبتلا کرنا شروع کردیا ہے۔علاقے میں قائم کلینکس میں جعلی ڈگری والے ڈاکٹر متعدد کلینکس میں کام کرہے ہیں ۔ آپریشن ہوں یا سرجری، زکام ہویا کینسر، یہ عام شہریوں کو جانی اور مالی نقصان پہنچا رہے ہیں۔
علاقے کے عوام نے وہاں تعینات ٹی ایچ او اور صوبائی محکمہ صحت کے افسران کی ڈگریاں بھی چیک کروانے کا مطالبہ صوبائی وزیر صحت اور وزیراعلی سندھ سے کیا ہے۔ انکا کہنا ہے کم از کم اس مہنگائی کے دور میں ہمیں چین سے سہی علاج کروانے کی سہولت ہی مہیا کردیں۔ علاقے میں متعدد میٹرنیٹی ہوم بھی عطائی ڈاکٹروں کے اڈے بنے ہوئے ہیں۔ بیش بہا خواتین متاثر ہو چکی ہیں۔
عوام کا مطالبہ ہے کہ حکومت کو اس مسئلے کو ہنگامی بنیادوں پر درست کرنا ہوگا اس سے قبل مزید شہریوں کو نشانہ بنایا جائے۔ -

کرونا ویکسین کو ذخیرہ کرنے کے حوالے سے تمام تر انتظامات مکمل کر لیے گئے
ننکانہ صاحب: نمائندہ باغی ٹی وی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومت پنجاب کی ہدایت پر محکمہ صحت ضلع ننکانہ صاحب نے کرونا وائرس کی ویکسین کو ذخیرہ کرنے سمیت ای پی آئی سنٹر میں تمام تر انتظامات مکمل کر لیے ہیں ان خیالات کا اظہار سی او ہیلتھ اتھارٹی ننکانہ صاحب ڈاکٹر سہیل طارق نے ایم ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال ڈاکٹر اسفند یار کے ہمراہ COVID-19 کی آئندہ ویکسین کو ذخیرہ کے حوالے سے EPI سنٹر کا دورہ کرتے ہوئے کہا۔اس موقع سی او ہیلتھ نے کہا کہ کرونا وائرس کی ویکسین پاکستان میں آنا خوش آئند ہے اس ویکسین سے ہزاروں پاکستانیوں کی جانیں بچانے میں مدد ملے گی،کرونا ویکسین سب سے پہلے بزرگ شہریوں اور فرنٹ لائن پر کرونا وائرس کی روک کے لیے کام کرنے والوں کو لگائی جائیں گی۔سی او ہیلتھ اتھارٹی نے مذید کہا کہ حکومت پاکستان اور حکومت پنجاب نے بروقت کرونا ویکسین منگوا کر عوام الناس کے دلوں میں گھر کر لیا ہے۔
-

ایم ایس ڈی ایچ کیو شیخوپورہ بلا جواز معطل
شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی)ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال میں ساڑھے 13 کروڑ روپے کی ادویات کی خریداری سے قبل ایم ایس ڈاکٹر محمد اظہر امین کو غیر حاضری کا جواز بنا کر معطل کر دیا گیا جبکہ ڈی جی ہیلتھ پنجاب ڈاکٹر ہارون جہانگیر کے صبح 8 بج کر 28 منٹ پر وزیر اعلیٰ روڈ میپ ٹیم کے ہمراہ اچانک ڈی ایچ کیو ہسپتال کا وزٹ کرنے کے دوران ہی ایم ایس ڈاکٹر محمد اظہر امین بھی ہسپتال میں ہی واقع ایم ایس ہاؤس سے اپنے دفتر آگئے اور ڈی جی ہیلتھ اور روڈ میپ ٹیم کو خود گائیڈ کر کے کئی وارڈوں کا وزٹ کروایا
ایم ایس ڈاکٹر محمد اظہر امین گریڈ 18 کے آفیسر تھے ان کی جگہ گریڈ 20 کے سینئر ترین اے پی ایم او ڈاکٹر سہیل خضر کو میڈیکل سپریٹنڈنٹ کا اضافی چارج دے دیا گیا ہے ذرائع کے مطابق ہسپتال میں چند روز قبل سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر محمد اشرف نے بھی اچانک وزٹ کیا تو چار ڈاکٹرز غیر حاضر پائے گئے اور ہسپتال میں صفائی کا نظام ناقابل ستائش پایا گیا تھا جس کے بارے میں رپورٹ بھی اعلیٰ حکام کو بھیجی گئی تھی
ذرائع کے مطابق صوبائی وزیر صحت محترمہ یاسمین راشد کی ہدایت پر ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ پنجاب ڈاکٹر ہارون جہانگیر اور سی ایم روڈ میپ کی ٹیم کے ارکان ڈاکٹر سہیل رانا ڈاکٹر محمد یونس ڈاکٹر داؤد عالمگیر ڈاکٹر عثمان غنی نے اچانک ڈی ایچ کیو ہسپتال کا دورہ کیا تو ڈاکٹروں کی حاضری چیک کرنے کے بعد مختلف وارڈوں کا معائنہ کیا تو اس دوران آؤٹ ڈور وارڈ میں تمام ڈاکٹرز موجود تھے جبکہ اس دوران ایم ایس ڈاکٹر محمد اظہر امین بھی ہسپتال آگئے اور وزٹ کرنے والی ٹیم کو جائن کر لیا بعداذاں اس ٹیم نے مدر اینڈ چلڈرن کمپلیکس کا معائنہ بھی کیا ٹیم نے ڈی ایچ کیو ہسپتال میں ماہ رواں کے دوران آنے والے مریضوں اور ان کے ہونے والے آپریشنز کی تعداد کا تقابلی جائزہ بھی لیا اور ایم ایل سی بورڈ کے بارے میں عوامی شکایات کا جائزہ بھی لیا
ذرائع کے مطابق اس ٹیم کی رپورٹ میں ڈی ایچ کیو ہسپتال میں پائی جانے والی خامیوں اور صفائی کی صورتحال کے بارے میں منفی رپورٹ صوبائی وزیر صحت کو دی گئی تھی جس پر صوبائی وزیر صحت نے ایم ایس ڈاکٹر محمد اظہر امین کو معطل کرنے اور ڈاکٹر سہیل خضر جو ساڑھے 3 ماہ کے بعد ریٹائرڈ ہو رہے ہیں کو ایم ایس کا اضافی چارج دینے کے فوری طور پر احکامات جاری کرتے ہوئے اس بارے میں ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ چوہدری محمد اصغر جوئیہ کو بھی آگاہ کر دیا اور واضح کیا ہے کہ ایم ایل سی میڈیکل بورڈ کے کام کی خصوصی طور پر نگرانی کی جائے اور ساڑھے 13 کروڑ روپے کی ادویات کی لوکل پرچیز کی کارروائی کو بھی شفاف بنایا جائے ادھر محکمہ صحت پنجاب کے ہینڈ آؤٹ میں کہا گیا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں اچانک دوروں کا سلسلہ اب مستقل طور پر جاری رکھا جائے گا اور ان ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی غیر حاضری ادویات کی عدم فراہمی اور مریضوں کے علاج معالجہ میں کمی بیشی کسی صورت میں برداشت نہ کی جائے گی
ناقص کارکردگی کے حامل ایم ایس صاحبان سیدھا گھر جائیں گے دریں اثناء محکمہ صحت کے باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال کا وزٹ کرنے والی ٹیم کی مفصل رپورٹ پر مزید کارروائیاں ہونے کی توقع ہے۔ -

ڈینگی لاروے کی تلفی کا عمل شروع
شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی ) شیخوپورہ کی پانچوں تحصیلوں میں ڈینگی کے لاروے کی تلفی کے سلسلہ میں محکمہ صحت،میونسپل کمیٹیوں کا عملہ فعال کردار ادا کرے۔ وہ قبرستانوں ٹائر شاپس،جوہڑکا روزانہ کی بنیاد پر معائنہ کریں اور اس سلسلہ میں عوام کو آگاہی دیں تاکہ گھروں کی چھتوں پر کچرا اور دیگر سامان میں بارشی پانی کھڑا نہ ہو ان خیالات کا اظہار ڈپٹی کمشنر محمد اصغر جوئیہ نے ڈینگی کے حوالے سے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پرایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل احسان الحق سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر محمد اشرف، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر عادل شہزاد، ڈپٹی ڈائریکٹر لیبر نوید سرور ڈپٹی ڈائریکٹر لو کل گورنمنٹ عارف طفیل ڈپٹی ڈی ایچ اوز کے علاوہ دیگر محکموں کے افسران نے شرکت کی انہوں نے کہاکہ عوام کو چاہئے کہ وہ ڈینگی کی ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور ان کے بتائے ہوئے ایس او پیز پر عمل کریں۔
-

بلوچستان میں کینسر کا ہسپتال بنایا جائے مطالبہ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ
کینسر تیزی سے پھیلتا ہوا ایسا مہلک مرض ہے، جس کے علاج کی استطاعت ہر خاص و عام کی نا بس کی بات ہے اور نا ہی بدقسمتی سے پورے بلوچستان میں کینسر کے علاج کے لیئے کوئی ایک ہسپتال قائم ہے۔ اس مہلک مرض کے شکار مریضوں کے لیے کراچی ایک واحد شہر ہے جہاں جانا پڑتا ہے۔ چوںکہ ہر کسی کا نہ وہاں پہ گھر ہے نہ ہر کوئی وہاں رشتہ دار رکھتا ہے کہ جن کے گھر ٹہرا جائے۔ اس لیے ہم بلوچستانیوں کو علاج کا خرچہ اٹھانے کے ساتھ رہائش کا الگ خرچہ کرنا پڑتا ہے۔
باغی ٹی وی :تاہم کینسر میں مبتلا چند لوگوں کے علاج کی خاطر مقامی سطح پر چندہ مہم سے کام چلایا گیا، جس کے وقتی طور پر بہتر نتائج تو نکلے مگر یہ مستقل حل نہیں ہے۔ کیوںکہ کسی مریض کے لیئے 70 یا 80 لاکھ چندہ اکھٹا کرنا ایک دو یا تین بار صحیح مگر بار بار ممکن نہیں ہے۔
او لیول کی 13 سالہ طالبہ ایمن نے2017 میں کینسر ہسپتال کے قیام کی خاطر سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے مہم شروع کی تھی۔
12 نومبر 2019 کو ایمن نے انڈیپینڈنٹ اردو کو ایک انٹر ویو میں بتایا تھا کہ کہ انہیں اُس وقت کینسر ہسپتال کی ضرورت زیادہ محسوس ہوئی جب انہیں سوشل میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ بلوچستان کے دو نوجوان شاہ مریداور ریحان رند کینسر کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔
11 year old Aiman Zia appeal from @ImranKhanPTI for #CancerHospitalQuetta and Balochistan pic.twitter.com/MpKWzovQKb
— Quetta Online Volunteers (@Groupquetta) January 5, 2017
ایمن کے بقول انہوں نے جب کینسر کے مریضوں کے علاج معالجے کے لیے’ کوئٹہ آن لائن‘ نامی تنظیم کے پلیٹ فارم سے جدوجہد شروع کی تو انہیں ایسے مریضوں کو قریب سے جاننے کا موقع ملا۔ایمن کے مطابق چونکہ کینسر کا علاج مہنگا ہوتا ہے لہذا وہ چاہتی ہیں کہ کوئٹہ میں ہی ہسپتال قائم کیا جائے تاکہ صوبے کے لوگوں کو دوسرے علاقوں میں نہ جانا پڑے۔
کوئٹہ کے شیخ زید ہسپتال میں کینسر کے مریضوں کے لیے دو سو بیڈ پر مشتمل تین فلوز مختص کرنے کی منظوری ہو چکی ہےصوبائی محکمہ صحت کی دستاویزات کے مطابق شیخ زید ہسپتال کوئٹہ کے تین فلورزپر مشتمل 62 ہزار 936 اسکوائر فٹ کے حصے کو کینسر ہسپتال میں تبدیل کیا جائے گا۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق فیز ون کے تحت ہسپتال میں ریڈیو تھراپی مشین، سی ٹی سیمولیشن اورپلاننگ رومز اور ریڈی ایشن مشینوں کے لیے بنکر بنائے جائیں گے جبکہ فیز ٹو میں تعمیراتی اور کمروں کی تزہین و آرائش کے ساتھ اوپی ڈی کا شعبہ قائم ہو گا۔
پہلےدونوں فیز مکمل ہونے کے بعد شیخ زید ہسپتال میں جامعہ کینسر کا شعبہ قائم کیاجائے گا جس میں اونکو لوجی سیٹ اپ بھی منتقل کیا جائے گا۔
محکمہ صحت کی دستاویزات کے مطابق ہسپتال کے لیے دو ریڈیو تھراپی مشینوں کی ضرورت ہوگی، جن کی مالیت 200سے 250 ملین روپےہے۔
تاہم 11 ستمبر 2020 کو خبریں شامنے آئیں کہ بلوچستان کے پہلے کینسر ہسپتال کی تعمیر کا آغاز کردیا گیا ہے ہسپتال دو سال میں مکمل ہو گا محکمہ صحت کے حکام کے مطابق کوئٹہ شیخ زید ہسپتال کی اضافی اراضی کینسر ہسپتال کیلئے مختص کی گئی ہےہسپتال کا سنگ بنیاد گزشتہ سال وزیر اعلیٰ جام کمال نے رکھا تھا لیکن کورونا وائرس کے باعث ہسپتال کی تعمیر کا آغاز نہیں ہوسکا تھا-
محکمہ مواصلات و تعمیرات کے حکام نے بتایا تھا کہ کینسر ہسپتال کی تعمیر پر مجموعی طو ایک ارب ستر کروڑ روپے کی لاگت آئے گی اورمنصوبہ دوسال میں مکمل ہوگاصوبائی حکومت نے ہسپتال کی تعمیر کیلئے ابتدائی طور پر چار کروڑ روپے کی رقم ریلیز کردی ہے ۔
تاہم اب پھر بولچستان میں کینسر کا ہسپتال قائم کرنے جکا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے یہاں تک کہ ٹوئٹر پر #CancerHosp4Balochistan ٹرینڈ کر رہا ہے-اور سینکڑوں کی تعداد میں صارفین اس ٹرینڈ کا حصہ بن کر بلوچستان میں کینسر کے ہسپتال کے لئے مطالبہ کر رہے ہیں اور غریبوں کی آواز بن رہے ہیں-

https://twitter.com/faujkashaheen/status/1352193558485340160?s=20
https://twitter.com/Sdf_113/status/1352211954992087052?s=20
صدف نامی صارف نے لکھا کہ بلوچستان میں نہ صرف بھوک ، غربت ، بلکہ بیماری نے بھی اپنی جڑیں گاڑھ رکھی ہیں ، کینسر کے مریضوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہےیہ قابل علاج ہے لیکن علاقے کے لحاظ سے یہ بیماری بلوچستان کے لئے غیر معمولی ثابت ہو رہی ہے۔
https://twitter.com/Sdf_113/status/1352213645309206528?s=20
اسی صارف نے مزید انکشافات کئے کہ بلوچستان میں 10 سے 12 ہزار افراد کینسر کے مرض میں مبتلا ہیں۔ 90٪ مرد فوڈ ٹریک کینسر میں مبتلا ہیں جنہیں سگریٹ ، براؤن ، پان اور گٹگا فوڈ لاحق ہے جبکہ خواتین کی اکثریت چھاتی کے کینسر میں مبتلا ہے۔
https://twitter.com/Sdf_113/status/1352212295099805696?s=20
https://twitter.com/AwaKashmir/status/1352211771277406211?s=20
https://twitter.com/M___AAziz/status/1352210682821947396?s=20All balochistan needs at this hour is the basic right… Every human is entitled to right of health facility. Balochistan needs cancer hospital in every division.#CancerHosp4Balochistan pic.twitter.com/5uhvhiEBNq
— Abrish Tamia (@TamiaAkbar) January 21, 2021
https://twitter.com/AwaKashmir/status/1352211109441372164?s=20 -

ایم ایس ڈی ایچ کیو نے دیا اہم بیان
شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی )ایم ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال شیخوپورہ ڈاکٹر اظہر امین نے کہا ہے کہ ہسپتال کے نظام و انصرام کو موثر خطوط پر استوار کرنے کا ثمر ہے کہ ہزاروں مریض روزانہ ہسپتال سے علاج کروارہے ہیں جنہیں موثر چیک اپ اور مفت ادویات کی فراہمی سمیت تمام تر دستیاب جدید طبی سہولیات میسر کی جارہی ہیں
ٹراما سنٹر پر بھی خصوصی توجہ دی ہے تاکہ ایمرجنسی میں آنے والے مریضوں کے علاج معالجہ اور دیکھ بھال میں کسی طرح کی مشکل یا دشواری لاحق نہ ہو، ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، ڈاکٹر اظہر امین نے کہا کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال کے تمام شعبے فعال ہیں ادویات وافر مقدار میں موجود ہیں جبکہ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف بھی ہمہ وقت اپنی خدمات پیش کرنے میں مصروف ہے، ہسپتال میں موجود تمام تر مشینری کارگر اور فنگشنل ہے جس سے روزانہ ہزاروں مریض علاج معالجہ کے حوالے سے استفادہ کررہے ہیں،
انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت عوام کو علاج معالجہ کی تمام تر معیاری سہولیات فراہم کرنے کی خاطر جس بھرپور انداز میں سرگرم عمل ہے وہ کسی کارہائے نمایا ں سے کم نہیں ہسپتالوں کوفنڈز کی فراہمی میں کسی طرح کا کوئی تعطل واقع نہیں جبکہ دیگر امور کو بھی فعال کیا گیا ہے جس سے شعبہ صحت میں روز بروز انقلابی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔
-

ڈی ایچ کیو شیخوپورہ کے ڈاکٹر نے دیا اہم بیان
شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی )ڈسٹرکٹ ہسپتال شیخوپورہ کے ڈاکٹرمحمد وقاص ایم بی بی ایس،ایف سی پی ایس میڈیسن نے کہا ہے کہ حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق زندگیاں گزارنے سے امراض کا تدارک کیاجاسکتا ہے انسانی صحت کے لیے پانی کی مقدار کو پورا رکھنے سے گردوں کے فعل کا محفوظ بنایا جاسکتا ہے ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق ادویات کا استعمال کرنا چاہیے دن میں کم از کم8سے 10گلا س پانی پینے والوں کے گردوں میں پتھریاں بننے کا عمل روکا جاسکتا ہے،موسم سرما میں پسینہ کم آنے کی وجہ سے پیاس کی طرف لوگ توجہ کم کردیتے ہیں باڈی کے اندر پانی کی مقدار کم ہونے کی وجہ سے گردوں میں خرابی پیدا ہونے امکانات بڑھ جاتے ہیں،ان خیالات کااظہارنے اپنے جاری بیان میں کیا،انہوں نے کہاکہ اعضائے رئیسہ دل دماغ جگر جسم میں اہمیت اورمرکزی حثیت کے حامل اعضاء ہیں ان کی خوراک اور بہتر ماحول ان کو تندرست رکھ سکتا ہے فضائی آلودگی بیماریوں کی جڑ ہے،فضائی آلودگی اور صحت کا چولی دامن کا ساتھ ہے،سانس صاف ہوگا تو صحت اچھی ہوگی اور اگر فضائی آلودگی زیادہ ہوگی تو امراض ہی پیدا ہونگے،انہوں نے مزید کہاکہ جان ہے توجہان ہے کی مصداق کے مطابق اچھے سے اچھے ڈاکٹر کو چیک اپ کروانا چاہیے نیم حکیموں اورغیر مستند افراد سے علاج معالجہ سے گریز کرنا انتہائی ضروری ہے۔
