Baaghi TV

Category: صحت

  • لیڈی ریڈنگ ہسپتال ایم ٹی آئی میں  ایل آر ایچ کا دورہ !!

    لیڈی ریڈنگ ہسپتال ایم ٹی آئی میں ایل آر ایچ کا دورہ !!

    لیڈی ریڈنگ ہسپتال ایم ٹی آئی پشاور میں نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول کی ٹیم کا ایل آر ایچ کا دورہ جس کا مقصد کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسینیشن کا جائزہ لینا تھا۔ ویکسینیشن کے عمل کو آسان اور تیز تر بنانے کے لئے واک ان سسٹم کا قیام کرنا ہے۔ حکومت طبی عملے کے بچاؤ کے لئے اقدامات کر رہی ہے، تمام طبی عملے کو ویکسینیٹ کر رہے ہیں۔ ایل آر ایچ میں اب تک 60 سے زائد طبی عملے کو کورونا سے بچاؤ کی ویکسین لگائی گئی ہے۔

  • ڈینگی منائے خیر، انتظامیہ خاتمے کے لئے کمربستہ

    ڈینگی منائے خیر، انتظامیہ خاتمے کے لئے کمربستہ

    شیخوپورہ(نمائندہ باغی ٹی وی)ڈینگی مچھر اور لاروا کی تلفی کے لئے ضلع انتظامیہ تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ڈینگی ٹیمیں قبرستانوں ٹائر شاپس،جوہڑکا روزانہ کی بنیاد پر معائنہ کرکے رپورٹ پیش کریں اور عوام الناس کو آگاہی دیں تاکہ گھروں کی چھتوں پر کچرا اور دیگر سامان میں بارشی پانی کھڑا نہ ہو اور گھروں، دفاتر کی صفائی کا خاص خیال رکھا جائے۔ ان خیالات کا اظہار ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ محمد اصغر جوئیہ نے ڈینگی کے حوالے سے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پرایڈیشنل کمشنر جنرل احسان الحق، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر عادل شہزاد، ایس این اے عقیل عباس شاہ، ڈی او لوکل گورنمنٹ عارف طفیل، ڈپٹی ڈی ایچ اوز،اینٹامالوجسٹ امین حسنات، چیف آفیسر کارپوریشن احسن عنایت سندھو،و دیگر محکموں کے آفیسرز نے شرکت کی انہوں نے کہاکہ عوام کو چاہئے کہ وہ ڈینگی کی ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور ان کے بتائے ہوئے ایس او پیز پر عمل کیا جائے،انہوں ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ گھروں کی صفائی ستھرائی اور سرکاری دفاتر وں کا بھی ماحول صاف ستھرا رکھا جائے اور ماسک کا استعمال لازمی کیا جائے۔ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ محمد اصغر جوئیہ نے اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ڈینگی تدارک کے حوالہ سے ہفتہ وار رپورٹ پیش کی جائے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ کرونا وائرس کی احتیاطی تدابیر اپنا کر کرونا وائرس سے بچا جا سکتا ہے۔ ماسک کا لازمی استعمال کریں اور ہاتھوں کو بار بار دھوئیں۔

  • کوئٹہ میں اب تک کئی ہیلتھ ورکرز کی ویکسینیشن نہ ہو سکی  ،عمل سستی کا شکار

    کوئٹہ میں اب تک کئی ہیلتھ ورکرز کی ویکسینیشن نہ ہو سکی ،عمل سستی کا شکار

    کوویڈ ویکسین کا پاکستان میں آنے کے باوجود کوئٹہ میں ویکسینیشن کا عمل سست روی کا شکار ہے- بلوچستان میں 8روز کے دوران اب تک صرف 133 ہیلتھ ورکرز کو ویکسینیت کیا گیا ہے-

    پہلے مرحلے میں 5 ہزار کورونا ویکسن کوئٹہ پہنچے تھے- اس وقت بلوچستان بھر میں 44 ویکسینیشن سینٹر قائم ہیں- کوئٹہ میں ویکسینیشن لگانے کیلئے 9 مراکز قائم ہیں- کورونا ویکسینشن کیلئے 22 ہزار ہیلتھ کیئر پروائڈرز رجسٹرڈ ہیں- حکومت کی ہدایت کع مطابق ویکسین ابھی صرف ڈاکٹروں ، نرسوں اور دیگر ہیلتھ کئیر ورکرز کو لگائی جانی تھیں البتہ یہ عمل کوئٹہ میں صحیح طریقے سے انجام نہیں پارہا ہے اور ویکسینیشن کا یہ عمل سست روی کا شکار ہے-

  • ویکسین کو  ایک سسٹم کے تحت ڈسٹریبیوٹ کرنے کے انتظامات، ڈی سی لاہور کا ہیلتھ آفس کا دورہ

    ویکسین کو ایک سسٹم کے تحت ڈسٹریبیوٹ کرنے کے انتظامات، ڈی سی لاہور کا ہیلتھ آفس کا دورہ

    ڈی سی لاہور مدثر ریاض نے سی ای او ہیلتھ آفس کا دورہ کیا – ڈی سی لاہور مدثر ریاض نے سی ای او ہیلتھ آفس کے دورے میں اس کولڈ روم کا جائزہ لیا جہاں پر کوویڈ ویکسین کو رکھا گیا ہے-

    سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر صدیق اور ڈاکٹر فیصل موقع پر موجود، ڈی سی لاہور مدثر ریاض کو تفصیلی بریفنگ دی گئی.ڈی سی لاہور مدثر ریاض نے کولڈ روم کا جائزہ لیا، سٹاک کو چیک کیا گیا- 23400 کے قریب کوویڈ ویکسین ہے جو لاہور کے لئے آئی ہے-ڈی سی لاہور مدثر ریاض نے بیان دیا کہ یہ ویکسین ہیلتھ ورکرز جو فرنٹ لائن پر ہیں ان کو لگائی جائے گی، اس کے لئے انتظامات کئے جا رہے ہیں- ویکسین کو ہم ایک سسٹم کے تحت ڈسٹریبیوٹ کر رہے ہیں، فوکل پرسن ڈی ڈی ایچ او ہیں جو کہ باقاعدہ ایک گائیڈ لائن کے تحت بذریعہ نادرہ ویریفکیشن مختلف ہسپتالوں کو دے رہے ہیں-

    لوگ ویکسین لگوا رہے ہیں، وہ خود بھی چاہ رہے ہیں کہ ویکسین لگوائی جائے- لیکن فی الحال ویکسین چونکہ کم آئی ہیں تو جو فرنٹ لائن ہمارے ہیلتھ ورکرز ہیں ان کو لگائی جا رہی ہے- 12000 تقریباً اب تک لگ چکی ہیں- بہت جلد عام عوام کے لئے بھی ویکسین آ جائے گی، گورنمنٹ آف پاکستان بہت تیزی سے اس پر کام کر رہی ہے.- ڈیمانڈ بہت زیادہ ہے، سپلائی اس لحاظ سے نہیں ہے، لیکن گورنمنٹ آٰف پاکستان بہت تیزی سے چائنہ کے ذریعے کام کر رہی ہے- کورونا ویکسین جہاں پر رکھی ہوئی ہے، وہاں پر سیکیورٹی کے لئے کیمرہ بھی لگے ہوئے ہیں-

  • پتوکی اور چونیاں ہسپتال کو کارکردگی بہترکرنے کے لئے آخری  مہلت دے دی گئی-

    پتوکی اور چونیاں ہسپتال کو کارکردگی بہترکرنے کے لئے آخری مہلت دے دی گئی-

    ایم ایس تحصیل ہیڈ کوارٹرزہسپتال پتوکی اور ایم ایس تحصیل ہیڈ کوراٹرزہسپتال چونیاں کو آخری سات دن کی مہلت دے دی گئی- دونوں ایم ایس حضرات کو پیشہ وارانہ غفلت کے باعث شوکاز نوٹس جاری کردئیے گئے- ہسپتالوں میں ڈاکٹرزکی حاضری،فضلہ کی تلفی یقینی بنائی جائے، ناقص انتظامات پرمتعلقہ سی ای اوکے:ڈاکٹریاسمین راشد

    صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے ایم ایس تحصیل ہیڈ کوارٹرزہسپتال پتوکی ڈاکٹرفاروق حیدراور ایم ایس تحصیل ہیڈ کوراٹرزہسپتال چونیاں ڈاکٹراکرم ریحان کو کارکردگی بہترکرنے کے لئے آخری سات دن کی مہلت دی ہے۔دونوں ایم ایس حضرات کو پیشہ وارانہ غفلت کے باعث شوکاز نوٹس جاری کردئیے گئے ہیں۔وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدکی ہدایت پر ڈی جی ہیلتھ سروسزپنجاب ڈاکٹرہارون جہانگیرنے تحصیل ہیڈکواٹرزہسپتال پتوکی اور تحصیل ہیڈ کورٹرز ہسپتال چونیاں کا اچانک دورہ کیا۔ڈاکٹرہارون جہانگیرنے دونوں ہسپتالوں میں صفائی ستھرائی کے انتظامات،طبی سہولیات،ایمرجنسی سہولیات اور آپریشن تھیٹرزکا دورہ کرکے انتظامات کا جائزہ لیا۔

        صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے کہا ہے کہ ہسپتالوں میں ڈاکٹرزکی حاضری کو یقینی بنایاجائے۔فضلہ کی تلفی ایس اوپیز کے مطابق یقینی بنائی جائے۔بلڈبنکس کے لائسنسزکی تجدید فوری کروائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ ہسپتالوں میں ناقص انتظامات پرمتعلقہ سی ای اوکے خلاف بھی ایکشن لیاجالے گا۔دونوں تحصیل ہیڈ کوراٹرزہسپتالوں کے حالات سات دن میں بہتربنائے جائیں۔ سی ای اوقصورڈاکٹرجاویداکرم تحصیل ہیڈ کوراٹرزہسپتال پتوکی اور تحصیل ہیڈکوراٹرزہسپتال چونیاں میں خامیوں کودورکرکے رپورٹ پیش کریں۔ وزیر اعلی پنجاب سردارعثمان بزدارنے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کے علاج میں غفلت پرمتعلقہ ایم ایس کے خلاف فوری ایکشن لینے کا حکم دیاہے۔کسی بھی سرکاری ہسپتال میں مریضوں کے علاج میں غفلت پر ایم ایس سیدھاگھرجائیگا۔ڈاکٹریاسمین راشد نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں ہیلتھ کئیرورکرزکو کوروناویکسین لگانے کا سلسلہ جاری ہے۔پنجاب کے تمام ہسپتالوں کو اپ گریڈ کرنے کا مقصدمریضوں کو سہولت فراہم کرناہے۔سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کیلئے بہترعلاج کو یقینی بنانے کیلئے اچانک دوروں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

  • طلباء کی جسمانی و ذہنی صحت کو خطرہ، منشیات کا خاتمہ اولین ترجیح ، صدر عارف علوی

    طلباء کی جسمانی و ذہنی صحت کو خطرہ، منشیات کا خاتمہ اولین ترجیح ، صدر عارف علوی

    صدر عارف علوی کی زیرِ صدارت منشیات کے استعمال اور ذہنی صحت سے متعلق اجلاس منعقد کیا گیا- عارف علوی کی زیرِ صدارت اجلاس میں پارلیمانی سیکریٹری ، عندلیب عباس اور ممبر قومی اسمبلی ساجدہ ذوالفقار خان بھی شریک ہوئے- اجلاس میں فلاحی تنظیموں کے ممبران نے بھی شرکت کی- اس اجلاس میں صدر مملکت کو پاکستان میں منشیات کے پھیلاؤ کے بارے میں بریفنگ دی گئی- صدر عارف علوی نے کہا کہ نوجوان نسل کو منشیات کی لعنت سے بچانے کیلئے اسکا خاتمہ اولین ترجیح ہونی چاہئے-

    منشیات اور ذہنی صحت سے متعلق شعور پیدا کرنے کیلئے قومی رابطہ حکمت عملی کی ضرورت ہے- بریفنگ میں بتایا گیا کہ منشیات سے کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلباء کی جسمانی اور ذہنی صحت کو خطرہ لاحق ہے- صدر عارف علوی نے کہا کہ رضاکاروں ، اساتذہ ، والدین اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی مدد سے ایک بنیادی فریم ورک تیار کرنے کی ضرورت ہے- میڈیا اور تعلیمی ادارے منشیات کے استعمال اور ذہنی صحت سے متعلق شعور اجاگر کریں- منشیات کے استعمال کی حوصلہ شکنی کیلئے معاشرے خصوصا ً والدین اور اساتذہ کا کردار اہم ہے-

  • پنجاب میں کوروناوائرس کے مریضوں کےعلاج کی صورتحال،  تفصیلات جاری-

    پنجاب میں کوروناوائرس کے مریضوں کےعلاج کی صورتحال، تفصیلات جاری-

    بیرسٹر نبیل اعوان نے پنجاب میں کرونا کیسس پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب بھرکے سرکاری ہسپتالوں سے کوروناوائرس کے 130817مریض صحت یاب ہوکرگھروں کو جاچکے ہیں- پنجاب کے سرکاری ہسپتالو ں میں کوروناوائرس کے مریضوں کیلئے مختص کئے گئے 7280بستروں میں سے 6377خالی ہیں- سرکاری ہسپتالوں میں کوروناوائرس کے مریضوں کیلئے مختص 515وینٹی لیٹرزمیں سے407جبکہ لاہورکے سرکاری ہسپتالوں میں 188وینٹی لیٹرزمیں سے119خالی ہیں-

    صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدکی ہدایت پر محکمہ صحت پنجاب نے سرکاری ہسپتالوں میں کوروناوائرس کے مریضوں کے علاج معالجہ کیلئے دستیاب سہولیات کی تفصیلات جاری کردیں۔ تازہ اعدادوشمارکے مطابق پنجاب بھرکے سرکاری ہسپتالوں سے کوروناوائرس کے متاثرہ 130817مریض صحت یاب ہوکراپنے گھروں کو واپس جاچکے ہیں۔ سیکرٹری محکمہ سپیشلائزڈہیلتھ کئیراینڈ میڈیکل ایجوکیشن برسٹرنبیل اعوان نے کہا ہے کہ پنجاب کے سرکاری ہسپتالو ں میں کوروناوائرس کے مریضوں کیلئے مختص کئے گئے 7280بستروں میں سے 6377خالی ہیں۔لاہورکے سرکاری ہسپتالوں میں کوروناوائرس کے مریضوں کیلئے مختص کئے گئے 2174بستروں میں سے 1887خالی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں کے آئسولیشن وارڈزمیں مختص کئے گئے4547بستروں میں سے 4173خالی ہیں۔لاہورکے سرکاری ہسپتالوں کے آئسولیشن وارڈز میں مختص کئے گئے 1443بستروں میں سے 1356خالی ہیں۔

    پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں کے HDUsمیں مختص کئے گئے2211بستروں میں سے1797خالی ہیں۔لاہورکے سرکاری ہسپتالوں کےHDUsمیں مختص کئے گئے543بستروں میں سے 412خالی ہیں۔بیرسٹر نبیل اعوان نے کہا کہ پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں کوروناوائرس کے مریضوں کیلئے مختص کئے گئے 515وینٹی لیٹرزمیں سے407خالی ہیں۔لاہورکے سرکاری ہسپتالوں میں مختص کئے گئے188وینٹی لیٹرزمیں سے119خالی ہیں۔پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں کوروناوائرس کے108مریض وینٹی لیٹرزپر ہیں۔لاہورکے سرکاری ہسپتالوں میں کوروناوائرس کے69مریض وینٹی لیٹرزپر ہیں۔

  • کیا پاکستان ًمیں غربت کا خاتمہ ممکن ہے ؟ حکام نے سر جوڑ لیے

    کیا پاکستان ًمیں غربت کا خاتمہ ممکن ہے ؟ حکام نے سر جوڑ لیے

    ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے غربت میں کمی اور سماجی تحفظ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمال دینی کی سربراہی میں پاکستان بیت المال ہیڈ کواٹر کے کانفرنس روم میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان بیت المال کے عوامی ریلیف، غربت میں کمی، شرح خواندگی میں اضافہ، علاج معالجہ، بچوں سے مزدوری کے خاتمے کے حوالے سے قائم ہونے والے اسکولوں کی تعداد اور طریقہ کار کے علاوہ پاکستان بیت المال کے مستقبل کے منصوبہ جات کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    قائمہ کمیٹی کو منیجنگ ڈائریکٹر بیت المال عون عباس بپی نے ویڈیو لنک جبکہ ڈی ایم ڈی مبشر حسن اور دیگر اعلیٰ حکام نے پاکستان بیت المال کے کام کے طریقہ کار، بجٹ، عوام کو فراہم کی جانے والی صحت، تعلیم، پناہ گاہ، ویمن ایمپاورمنٹ سینٹرز، ایس آر سی ایل، دارلااحسا س و دیگر سہولیات و ریلیف کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان بیت المال 1991ایکٹ کے تحت 1992میں قائم ہوا۔ اسکا ہیڈ آفس اسلام آباد اور سات صوبائی،ریجنل دفاتر ہیں۔ اس ادارے کے 154 ڈسٹرکٹ آفس پورے ملک بشمول سابق فاٹا، گلگت بلتستان اور اے جے کے میں قائم کئے ہیں۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اکتوبر 2018سے اب تک 54ہزار مریضو ں کی ادار ے نے زندگیاں بچائی ہیں جس پر 6.4ارب روپے خرچ کئے گئے۔ ملک کے مختلف حصوں میں تھیلیسیماں کے 4191مریضوں کے لئے 321ملین روپے خرچ کئے گئے – ایک سے پانچ سال کی عمر کے بچے جو سماعت سے محروم تھے اُن پر 128ملین روپے خرچ کئے گئے سماعت کے ایک مریض بچے پر 14سے 15لاکھ روپے خرچ آتا ہے۔ ایک سرکاری کے ساتھ چار پرائیویٹ ہسپتالوں کو علاج کیلئے منتخب کیا گیا ہے۔

    چیئرمین کمیٹی کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ صوبہ کے پی کے اور بلوچستان میں اس مرض کے ای این ٹی اسپیشلسٹ نہ ہونے کی وجہ سے وہاں کے ہسپتال شامل نہیں کئے گئے۔ چیئرمین کمیٹی ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے کہا کہ گھروں میں چھوٹے بچوں کو گھر کے کاموں کیلئے رکھا جاتا ہے اور بچوں سے زیادتی کے واقعات بھی رپورٹ ہوتے ہیں۔ چائلڈ لیبر کے تحفظ کی خاطر ادارہ اقدامات اٹھائے جس پر کمیٹی کو بتایا گیا کہ یہ متعلقہ اداروں کا کام ہے بیت المال کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔ سینیٹر ثمینہ سعید نے کہا کہ ملک بھرمیں بھکاری بچوں کی تعداد میں روز بہ روز اضافہ ہو رہا ہے۔ دونوں ایوانوں کی مشترکہ کمیٹی بنا کر متعلقہ محکموں کے ساتھ اقدامات اٹھائیں جائیں۔ سینیٹر لیفٹینٹ جرنل (ر) عبدالقیوم (ہلال امتیاز ملٹری)نے کہا کہ سابق چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر عطا الرحمن کی رپورٹ کے مطابق 2.5کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں سکول جانے والے بچوں میں سے 32فیصد بھاگ جاتے ہیں دیہی علاقوں کے 40فیصد سکولوں میں بجلی اور پانی نہیں جبکہ 49فیصد میں لیٹرین نہیں۔ ایم ڈی پاکستان بیت المال عون عباس بپی نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کا فوکس احساس اور سوشل ویلفیئر کے کاموں پر زیادہ ہے وزیراعظم نے ریاست مدینہ کے وژن کے مطابق ملک میں کوئی بھوکہ نہ رہے کیلئے پناہ گاہوں کے منصوبے کا آغا ز کیا۔ علاج معالجے اور دیگر ویلفیئر کاموں کیلئے موجودہ حکومت بجٹ پانچ ارب سے بڑھا کر 6.1ارب کیا جس کو 8ارب تک لے جانے کا پروگرام ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بو ن میرو، کڈنی ٹرانسپلانٹ اور کینسر کے مریضوں کے علاج پر بھاری خرچہ آتا ہے اس کے لئے خصوصی بجٹ مختص ہونا چاہئے جس پر قائمہ کمیٹی نے بھاری اخراجات والی سرجری کے مریضوں کی کے علاج کیلئے اضافی بجٹ مختص کرنے کی سفارش کر دی۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایک پنا ہ گاہ کا سالانہ خرچ پانچ کروڑ ہے۔ پناہ گاہوں کو ڈونیشن بھی آ رہی ہے جس میں سے آئی سی ٹی کی پانچ میں سے چار پناہ گاہیں ڈونیشن پر چل رہی ہیں۔ کراچی میں بھی پانچ پناہ گاہیں ہیں ادارے کو پناہ گاہ کیلئے موثر ڈونیشن مل رہی ہے۔ سینیٹر ڈاکٹر رخسانہ زیبری نے کہا کہ آئے دن خبریں سامنے آتی ہیں کہ ایک گم شدہ بچہ ملا ہے۔ ایک ایسا سسٹم ہونا چاہئے جس کے تحت گم شدہ بچوں کا ڈیٹا ایک جگہ اکھٹا ہو سکے۔ جس پر ایم ڈی بیت المال نے کہا کہ متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر ایک لاسٹ چلڈرن اپلیکیشن بنائی جائے گی جس میں گم شدہ بچوں کا ڈیٹا موجود ہوگا۔ انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ یتیم خانوں کو بڑھانے کی بجائے بیواؤں کو زیادہ سپورٹ کیا جا رہا ہے تا کہ وہ اپنے بچوں کی بہتر پرورش کر سکیں۔ قائمہ کمیٹی نے جلد سے جلد میکنزم بنانے کی ہدایت کر دی۔
    سینیٹر فدا محمد نے کہا کہ معاشرے میں آئس کا نشہ تیز ی سے پھیل رہا ہے اور خاص طور پر حیات آباد اور کراچی بری طرح لپیٹ میں آ چکا ہے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر جمالدینی نے کہا کہ ملک میں کرونا وباء کی طرح ہپیٹا ئٹس بی اینڈ سی تیزی سے پھیل چکا ہے اسکو کنٹرول کرنے کیلئے اقدامات اٹھائیں جائیں۔ قائمہ کمیٹی سفارش کرتی ہے بیت المال کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے تاکہ ملک میں اس پھیلتی ہوئی بیماری کو جلد سے جلد کنٹرول کیا جا سکے۔

    سینیٹر رخسانہ زبیری نے کہا کہ اگر کسی گھر میں ایک سے زائد مریض ہوں تو بیت المال اپنی پالیسی میں ترمیم لا کر گھر کے تمام مریضوں کے علاج کیلئے اقدام لے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق ملک میں غربت میں کمی شرح خواندگی میں اضافہ اور لوگوں کو علاج معالجے کی بہتر سہولیات فراہمی کیلئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ جلد ایک بیواؤں اور یتیموں کی ویلفیئر کاایک پروگرام 7 اضلاع میں شروع کیا جا رہا ہے جس میں ہر ضلع سے احساس پروگرام کے تحت 100بیواؤں کو منتخب کیا جائے گا ایک بچے کی تعلیم کیلئے آٹھ ہزار اور ایک سے زائد کیلئے 12ہزار فراہم کئے جائیں گے۔

    ایک پائلٹ پروگرام ہے جس کو بعد میں پورے ملک میں پھیلایا جائے گا۔ ڈیجیٹل پیمنٹ کی فائل ابھی وزارت خزانہ نے فائنل نہیں کی کہ کس طرح پیمنٹ کرنی ہے۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ایس آر سی ایل کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وہ علاقے جہاں ایک سے پانچ سال کے 120بچے موجود ہوں اور کام کرنے والے اگلے پانچ سال تک ایسے بچے دستیاب ہو سکیں۔ لیبر ادارے کی جانب سے ریکمنڈیشن اور وزارت غربت میں کمی اور سماجی تحفظ کی گائڈ لائن کے مطابق سکول قائم کیا جاتا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ مالا کنڈ ڈویژن کے حوالے سے لیبر کے ادارے کی طرف سے کوئی ہدایت نہیں آئی۔ سینیٹر فدا محمد نے کہا کہ مالا کنڈ ڈونژن میں سینکڑوں مائنز، صنعتیں قائم ہو چکی ہیں 80ہزار کے قریب لیبر موجود ہے مگر مالا کنڈ ضلع میں کوئی سکول قائم نہیں کیا گیا۔

    ایم ڈی بیت المال نے کہا کہ قائم کمیٹی سفارش کرے۔ فزبیلٹی کرا کے ہدایت پر عمل کیا جائے گا۔ قائمہ کمیٹی برائے غربت میں کمی و سماجی تحفظ نے ایم ڈی پاکستان بیت المال اور اس کی ٹیم کی غریب عوام کو ریلیف کے حوالے سے فراہم کردہ خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ اراکین کمیٹی نے کہا کہ ادارے نے غریب عوام کیلئے جو خدمات سرانجام دیں ہیں وہ قابل تعریف ہیں۔ ادارے کے مسائل کے حل کیلئے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا اور کمیٹی ہر وقت معاونت کیلئے تیار ہے۔ قائم کمیٹی نے غریب عوام کو مزید ریلیف کے حوالے سے مزید اقدامات اٹھانے کی سفارش کر دی۔ قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹر ز لیفٹینٹ جرنل (ر) عبدالقیوم (ہلال امتیاز ملٹری)، انجینئر رخسانہ زیبری،ثمینہ سعید، فدا محمد کے علاوہ ویڈیو لنک کے ذریعے ایم ڈی پاکستان بیت المال، ڈی ایم ڈی بیت المال، سنیئر جوائنٹ سیکرٹری وزارت غربت میں کمی و سماجی تحفظ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی

  • جنرل ہسپتال نے کینسر مریضوں کو نئی امید سے روشناس کروایا، پرنسپل پی-جی-ایم-آئی

    جنرل ہسپتال نے کینسر مریضوں کو نئی امید سے روشناس کروایا، پرنسپل پی-جی-ایم-آئی

    جنرل ہسپتال میں کینسر سے صحت یاب ہونے والے بچوں میں تحائف تقسیم، والدین خوشی سے نہال
    سرطان کے مرض میں مبتلا بچوں کو مفت طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں:پرنسپل پی جی ایم آئی

    پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ بچوں کو طویل عرصہ تک اپنا دودھ پلا کر خواتین بریسٹ کینسر میں بھی کمی لا سکتی ہیں-
    پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ و امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفرنے کہا ہے کہ لاہور جنرل ہسپتال بچوں میں کینسر کے علاج معالجے کا منفرد ادارہ ہے جہاں تمام متعلقہ سہولیات بلا معاوضہ فراہم کی جاتی ہیں۔ اسی طرح بچوں کی آنکھوں کے سرطان کا علاج بھی ملک بھر میں صرف اسی علاج گاہ میں ہوتا ہے جہاں تمام جدید سہولیات ایک ہی چھت تلے دستیاب ہیں اور کسی بھی مریض کی ایک پائی بھی خرچ نہیں ہوتی۔

    ان خیالات کا اظہارپرنسپل پروفیسر الفرید ظفر نے بچہ وارڈ میں منعقدہ خصوصی تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے بتایا کہ اس سال کا تھیم” آئی ایم اینڈ آئی ول” ہے جس کا مقصد پر عزم،استقامت اور ثابت قدمی کی علامت ہے اور معالجین کے ساتھ ساتھ مریضوں کو بھی بیماری کے خلاف لڑنے اور کبھی ہار نہ ماننے کے مصمم ارادے کی تلقین دیتا ہے لہذا ہمیں مستقل مزاجی اور اللہ تعالیٰ پر یقین کے ساتھ علاج معالجہ جاری رکھنا چاہیے۔اس موقع پر پروفیسر محمد شاہد، پروفیسر آغاشبیر علی،پروفیسر محمد معین، ڈاکٹر آفتاب انور، ڈاکٹر ثناء ریاض، ڈاکٹر مزمل اعظم، نصرت طاہرہ،زنیرہ انور،شازیہ فاروقی اور ینگ ڈاکٹرز کے علاوہ بچوں کے والدین بھی شریک تھے۔ تقریب میں جنرل ہسپتال سے شفاء یاب ہو کر جانے والے کینسر کے مریض بچوں نے خصوصی طور پر شرکت کی اور اُن میں تحائف بھی تقسیم کیے گئے جبکہ بچوں کے والدین نے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کینسر کا مرض ایک مہلک بیماری ہے جس کے علاج معالجے پرلاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں جو غریب اور متوسط طبقے کیلئے نا ممکن ہے لیکن جنرل ہسپتال کے ڈاکٹروں، نرسز اور انتظامیہ نے انسانیت کی عظیم خدمت کرتے ہوئے ہمارے بچوں کو مفت طبی و تشخیصی سہولیات فراہم کر کے دل جیت لیے ہیں جن کیلئے ہمیشہ ہمارے دلوں سے دعائیں نکلیں گی۔

    پرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسر الفرید ظفر اور پروفیسر آغا شبیر علی کا مزید کہنا تھا کہ غیر متحرک زندگی گزارنا بھی کینسر کی وجوہات میں سے ایک ہے،30سال سے کم عمری میں بچوں کی پیدائش اور بچوں کو طویل عرصہ تک اپنا دودھ پلا کر خواتین بریسٹ کینسر میں بھی کمی لا سکتی ہیں۔ پاکستان کینسر کے شکار افراد کے حوالے سے ایشیا کا سر فہرست ملک ہے۔انہوں نے کہا کہ ابتدائی سطح پر تشخیص اور مناسب علاج کی سہولیات سے کینسر مکمل طور پر ختم کیا جا سکتا ہے اور عالمی ادارہ صحت کی طرف سے اس ضمن میں خبردار کیا جا چکا ہے کہ 2030تک دنیا بھر میں 3کروڑ سے زائد افراد کینسر کا شکار ہو جائیں گے لہذا کینسر کی وجہ بننے والے انفیکشنز سے بچاؤ کے ٹیکے لگائیں،ورزش کریں اور سادہ زندگی کو شعار بنائیں۔

    پروفیسر محمد شاہد و دیگر ڈاکٹرزنے تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ آج کے دور میں کینسر قابل علاج مرض بن چکا ہے تاہم اس مرض کی تشخیص کا سنتے ہی مریض و لواحقین کے ہوش اُڑ جاتے ہیں، مایوسی چھا جاتی ہے لیکن جنرل ہسپتال کے معالجین اور والدین کی مایوسی کو نئی امید سے روشناس کروایا ہے اور یہ بچے مکمل صحت کے ساتھ نارمل انسان کی طرح زندگی گزار سکیں گے۔تقریب کے اختتام پر صحافیوں کو کینسر کے مرض میں مبتلا بچوں کے لئے خصوصی تیار کردہ کچن بھی دکھایا گیا جس کا مقصد بچوں کو معیاری غذا کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ بچوں میں خون، گلٹی اور آنکھوں کے سرطان کیلئے سرگودھا، خوشاب،میانوالی، شیخوپورہ اور لاہور سمیت دیگر شہروں سے علاج کے لئے آتے ہیں۔تقریب کے اختتام پر کینسر کے مریض بچوں کی صحت کی بحالی کی خوشی میں کیک بھی کاٹا گیا

  • صحت کے اعتبار سے 2021، ملک بھر میں کتنے ارب روپے خرچ؟

    صحت کے اعتبار سے 2021، ملک بھر میں کتنے ارب روپے خرچ؟

    پنجاب میں سرکاری سطح پر کینسر بیماری کے مریضوں کو سہولت فراہم کررہے ہیں:ڈاکٹریاسمین راشد
    میاں میرہسپتال لاہورمیں بریسٹ کینرکلینک کے ذریعے مریضوں کی تشخیص سمیت تمام سہولیات فراہم کی جاتی ہیں
     اقتدارمیں آتے ہی سرکاری ہسپتالوں میں 50فیصدخالی اسامیوں کا تحفہ ملا، سوفیصدمیرٹ پر32ہزار ڈاکٹرز، نرسز، پیرامیڈکس اور فارماسٹس سمیت دیگرعملہ بھرتی کیا
    پنجاب کے 2کروڑ93لاکھ خاندانوں کو سالانہ80ارب روپے لاگت سے دسمبر2021تک صحت سہولت کارڈ فراہم کردئیے جائینگے
    صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدکاشیخ زید ہسپتال میں کینسرسرجری کانفرنس میں بطورمہان خصوصی اظہار خیال.
    لاہور04 فروری :صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے شیخ زید ہسپتال میں کینسرسرجری کانفرنس میں بطورمہان خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر چیئرمین شیخ زیدہسپتال پروفیسرڈاکٹرمتین اظہار، ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر اکبرحسین، پروفیسرڈاکٹر ہارون،پروفیسر ڈاکٹر جاوید مجید اور وڈیولنک کے ذریعے وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل ودیگرسٹیک ہولڈرزنے شرکت کی۔مقررین نے کینسربیماری کے تدارک کیلئے مختلف تجاویز پیش کیں۔
        صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ انتہائی اہم موضوع پر آگاہی کانفرنس منعقدکروانے پرانتظامیہ کی کاوش کو سراہتے ہیں۔گذشتہ حکومتوں کی جانب سے جان لیوابیماری کینسرکے تدارک اور علاج کی سہولتیں دینے کی طرف بالکل توجہ نہیں دی گئی۔پنجاب میں سرکاری سطح پر کینسر بیماری کے مریضوں کو سہولت فراہم کررہے ہیں۔ماضی کی حکومتوں نے کینسربیماری کے مریضوں کو سہولت دینے کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں کینسرکے مریضوں کے علاج معالجہ کیلئے خصوصی ہسپتال بنانے کا منصوبہ پائپ لائن میں ہے۔ میاں میرہسپتال لاہورمیں بریسٹ کینرکلینک کے ذریعے آنے والے مریضوں کی تشخیص سمیت تمام سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ اقتدارمیں آتے ہی سرکاری ہسپتالوں میں 50فیصدخالی اسامیوں کا تحفہ دیاگیا۔ہماری حکومت نے سوفیصدمیرٹ پر32ہزار ڈاکٹرز، نرسز، پیرامیڈکس اور فارماسٹس سمیت دیگرعملہ بھرتی کیا۔وزیر اعظم عمران خان اور وزیراعلی پنجاب سردارعثمان پنجاب کے ہرفردکوصحت کی بہترین سہولیات فراہم کرناچاہتے ہیں۔ ڈاکٹریاسمین راشد نے کہا کہ فلاحی ریاست بنانے کیلئے عوام کو صحت اور تعلیم کے شعبہ میں سہولت دینا پڑتی ہے۔پنجاب کے 2کروڑ93لاکھ خاندانوں کو سالانہ80ارب روپے کی لاگت سے دسمبر2021تک صحت سہولت کارڈ فراہم کردئیے جائینگے۔ انہوں نے کہا کہ ہم انفرادی نہیں اجتماعی بھلائی پر یقین رکھتے ہیں۔عوام کی خدمت کی سچی نیت پر اللہ تعالی انسان کی ضرور غیبی امداکرتاہے۔ ملتان میں 40سال بعدنشتر ٹوہسپتال بنے جارہاہے۔