Baaghi TV

Category: صحت

  • سندھ میں کرونا کا زور: مزید 543 کیسزرپورٹ

    سندھ میں کرونا کا زور: مزید 543 کیسزرپورٹ

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کورونا وائرس کی صورتحال سے متعلق بیان

    وزیراعلیٰ سندھ نےکورونا وائرس کی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں9018 نمونوں کی جانچ کی گئی ہے- گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 543 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں- گزشتہ 24 گھنٹوں میں 29اموات ہوئیں- اموات کی مجموعی تعداد 4033 ہوچکی ہے- آج مزید 314 مریض صحتیاب ہوئے ہیں- صحتیاب افراد کی مجموعی تعداد 225297 ہوچکی ہے- اب تک 2745153 نمونوں کی جانچ کی جاچکی ہے- اب تک 248269 کیسزرپورٹ ہوچکے ہیں- اس وقت 18939 مریض زیر علاج ہیں- 18160 گھروں میں ،15آئسولیشن سینٹرز میں اور764 مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں- 699مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے-
    71 مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں- 543صوبے کے ۔نئے کیسز میں سے350 کا تعلق کراچی سے ہے-

    ضلع شرقی 161،ضلع جنوبی 132، ملیر 25، ضلع وسطی 22، کورنگی اور ضلع غربی میں سے 5۔ 5 نئے کیسز رپورٹ ہوئے-
    حیدرآباد 42،ٹنڈو محمد خان 39، خیرپور 20،عمر کوٹ 16، گھوٹکی 14، جیکب آباد 12،ٹنڈو الہیار 11، میرپور خاص 8، سکھر 2، جامشورواور سجاول میں سے 1۔1 نئے کیسز سامنے آئے-

  • ویکسین پر اعتماد نہیں تو ویکسین منگوائی کیوں؟

    ویکسین پر اعتماد نہیں تو ویکسین منگوائی کیوں؟

    کورونا ویکسین کے حوالے سے وزیر صحت پنجاب کے بیان پر حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے تشویش کا اظہار کر دیا

    حکومتی رکن سعید اکبر نوانی کی وزیر صحت کے بیان پر تنقید- کہتے ہیں کہ پنجاب میں کتے کے.کاٹنے کے واقعات بڑھ گئے ہیں، ویکسین نہ ہونا افسوسناک ہے – وزیر صحت ایوان کو کتے کے کاٹنے کی ویکسین سے متعلق آگاہ کرے- وزیر صحت کا.یہ بیان کہ.کرونا ویکسین اپنے رسک پر لگاوائیں ہر بندہ خود ذمہ دار ہوگا افسوسناک ہے-

    اگر ان کو ہی ویکسین پر اعتماد نہیں تھا تو ویکسین منگوائی کیوں ہیں- کل کوئی جوئی واقع ہوگیا تو اس کی ذمہ داری حکومت پر آئے گی۔

  • کرونا ویکسین کی پاکستان میں آمد: لائحہ عمل تیار

    کرونا ویکسین کی پاکستان میں آمد: لائحہ عمل تیار

     پاکستان میں کورونا ویکسین کا سلسلہ اگلے دودن میں شروع ہوجائیگا۔ ڈاکٹریاسمین راشد

    پوری دنیانے پاکستان میں کوروناوائرس پر قابوپانے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کوسراہاہے-  حکومت چین کی کمپنی سائنوفارمانے پاکستان کے ہیلتھ کئیرورکرزکیلئے کوروناوائرس کی5لاکھ کی تعدادمیں ویکسین کاتحفہ بھیجاہے- کوروناویکسین کسی وی آئی پی کونہیں ملے گی،ہماری پہلی ترجیح فرنٹ لائن ہیلتھ کئیرورکرزہیں:صوبائی وزیرصحت کی پریس کانفرنس-

    صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے کہاہے کہ پاکستان میں کورونا ویکسین کا سلسلہ اگلے دودن میں شروع ہوجائیگا۔کوروناوائرس کہیں گیانہیں بلکہ ہمیں اس وباء سے بچاؤ کیلئے ہرقسم کی احتیاطی تدابیرپر سختی سے عملدرآمدکرناچاہیے۔گذشتہ 24گھنٹوں کے دوران پنجاب میں 443افرادمیں کوروناوائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔11افراد کوروناوائرس کے باعث جان کی بازی ہارچکے ہیں۔لاہورمیں کوروناوائرس کے مثبت کیسز کی شرح 3.95،راوالپنڈی میں 1.9اور فیصل آبادمیں 3.39ہے۔گذشتہ24گھنٹوں کے دوران تقریباً15ہزارکوروناوائرس کے تشخیصی ٹیسٹ ہوئے ہیں۔پنجاب میں کنٹیکٹ ٹریسنگ الحمداللہ باقی صوبوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔پوری دنیانے پاکستان میں کوروناوائرس پر قابوپانے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کوسراہاہے۔لاہورمیں 18،گوجرانوالہ میں 1اورگجرات میں 1سمیت دیگرشہروں میں سمارٹ لاک ڈاؤنزکے ذریعے تقریباً5634افرادکو محدودکردیاگیاہے۔

    سرکاری ہسپتالوں میں کوروناوائرس کے متاثرہ افرادسے زیادہ صحت یاب ہونے والوں کی تعداد ہے۔پنجاب میں الحمداللہ تمام ایس اوپیز پرعملدرآمدکرواتے ہوئے تعلیمی اداروں کوکھول دیاگیاہے۔محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیرمحکمہ تعلیم کے ساتھ مل کرتعلیمی اداروں میں آگاہی سیمینارزکے ذریعے ایس اوپیز پرعملدرآمدکے حوالے سے اہم کرداراداکرے گا۔8فروری کوتعلیمی اداروں کے کھولنے بارے دوبارہ کوروناوائرس کی صورتحال کاجائزہ لیاجائیگا۔ان خیالات کااظہارانہوں نے آج ڈی جی پی آرہیڈ کوارٹرزمیں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیرکیپٹن(ر)محمد عثمان یونس،سپیشل سیکرٹری محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ اینڈمیڈیکل ایجوکیشن سلوت سعیداور ڈائریکٹرالیکٹرانک میڈیا روبینہ افضل سمیت میڈیانمائندگان کی کثیرتعدادموجودتھی۔

        صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے اس موقع پر مزیدکہا کہ حکومت چین کی کمپنی سائنوفارمانے پاکستان کے ہیلتھ کئیرورکرزکیلئے کوروناوائرس کی5لاکھ کی تعدادمیں ویکسین کاتحفہ بھیجاہے۔جس پرحکومت پاکستان کی جانب سے حکومت چین کا شکریہ اداکرناچاہتی ہوں۔چین سے آئی کوروناوائرس ویکسین کی پہلی کھیپ اسلام آبادپہنچ چکی ہے۔این سی اوسی کے مطابق بروزبدھ تمام وزراء اعلی بیک وقت تمام ہیلتھ ورکرز کو کوروناوائرس کی ویکسین لگانے کا آغازکرینگے۔خوشخبری یہ ہے کہ کوویکس نے پاکستان کیلئے 70ملین کوروناوائرس ویکسین خریدلی ہے اور وہ انشاء اللہ اس مہینے کے رواں ہفتے سے پاکستان آناشروع ہوجائیگی۔این سی اوسی کی ٹیکنیکی ٹیم نے پنجاب میں کوروناویکسین کو محفوظ بنانے کے طریقہ کارکوسراہاہے۔

    کوروناویکسین کو محفوظ بنانے کیلئے سیکرٹری محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیرکیپٹن(ر)محمد عثمان یونس نے اس موقع پر کہاہے کہ پنجاب میں 189ویکسینیشن سنٹرزقائم کئے گئے ہیں جن میں کوروناویکسین لگوانے والوں کامکمل ڈیجیٹل ڈیٹامحفوظ بنائیاجائیگا۔ابھی تک تقریباً4لاکھ فرنٹ لائن ہیلتھ کئیرورکرزکی رجسٹریشن کردی گئی ہے۔جن میں رجسٹرڈ ہونے والوں میں بہت بڑی تعدادجنرل پریکٹیشنرزکی بھی موجود ہے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ویکسینیشن سنٹرزکی تعدادمیں اضافہ کردیاجائے گا۔پنجاب کے 36اضلاع میں اب تک 600سے زائدافرادکی ٹیکنیکی تربیت کرواچکے ہیں۔ماسٹرٹرینرزکوتیارکیاگیاہے۔فیز1میں ترجیحی بنیادوں پرکوروناوائرس کے مریضوں کا علاج کرنے والے فرنٹ لائن ہیلتھ کئیرورکرزکویہ ویکسین لگائی جائے گی۔اب70ہزارویکسین آرہی ہے جسکی دوسری کھیپ اگلے21دن میں مزیدمل جائیگی۔کوروناوائرس ویکسین کومحفوظ بنانے کیلئے پنجاب کے 36اضلاع میں 2500کے قریب آئس لائن ریفری جنریٹیرزموجودہیں اور ویکسین کی تمام اضلاع میں ترسیل کیلئے بھی پنجاب پولیس کی مددحاصل کی گئی ہے۔

        صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے اس موقع پر مزیدکہاہے کہ چائنہ کونسائنہ کے ساتھ کوروناویکسین کے ٹرائلز کئے گئے ہیں جس کے نتائج اگلے دوہفتوں میں ہمارے پاس آجائینگے۔کوویکس نے پاکستان کی 20فیصدآبادی کیلئے مفت کوروناویکسین دینے کا وعدہ کیاہے جورواں ماہ کے آخریامارچ کے آغازمیں پاکستان آناشروع ہوجائیگی۔حکومت پنجاب نے ضرورت پڑنے پرکوروناویکسین کی خریداری کیلئے 1ارب اور 80لاکھ روپے کی خطیر رقم مختص کی ہوئی ہے۔سرکاری ہسپتالوں کے ساتھ ساتھ نجی ہسپتالوں میں کوروناوائرس کے مریضوں کا علاج کرنے والے فرنٹ لائن ہیلتھ کئیرورکرزکومفت ویکسین لگائی جائیگی۔فرنٹ لائن ہیلتھ کئیرورکرزہماری پہلی ترجیح ہے۔اس کے بعد65سال سے زیادہ عمرکے افرادکوویکسین لگائی جائیگی۔اگلے چارسے پانچ ماہ کے دوران کوروناویکسین کی وافرمقدارپاکستان میں دستیاب ہوگی۔

        صوبائی وزیر صحت نے اس موقع پر مزیدکہاکہ حکومت نے آتے ہی صحت اور تعلیم کے شعبہ جات کی بہتری کیلئے بے پناہ تاریخی اقدامات اٹھائے ہیں۔ہماری حکومت نے32ہزارڈاکٹرز،نرسز،پیرامیڈیکل سٹاف،میل نرسز،فارماسٹس اورفزیوٹھراپسٹس بھرتی کئے ہیں۔سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کیلئے 42ارب روپے کی خطیررقم مختص کی گئی ہے۔ٹی بی،ہیپاٹائٹس اور ایڈزکے مریضوں کومفت ادویات کی فراہمی میں کسی قسم کا مسئلہ نہیں رہا۔اس سال سرکاری ہسپتالوں میں 10ارب روپے کا طبی سامان خریداگیاہے۔سرکاری ہسپتالوں کی بہتری کیلئے تمام تر وسائل بروئے کارلانے کے بعدمریضوں کوعلاج معالجہ میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنانہیں ہوناچاہئے۔پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کے علاج کو یقینی بنانے کیلئے دو سرویلنس ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن کی سربراہی ڈی جی ہیلتھ سرسزڈاکٹرہارون جہانگیر اور ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیراینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈاکٹرآصف طفیل کررہے ہیں۔سرکاری ہسپتالو ں میں صفائی،ڈاکٹرزکی حاضری،ادویات کی فراہمی ودیگرانتظامی امورکی روزانہ کی بنیادپرمانیٹرنگ جاری ہے۔غفلت پرایم ایس شاہدرہ ٹیچنگ ہسپتال،ایم ایس ڈی ایچ کیوہسپتال شیخوپورہ اورایم ایس اوکاڑہ ساؤتھ ہسپتال کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے معطل کیاگیاہے۔وزیراعلی پنجاب سردارعثمان بزدارنے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کے علاج میں مشکل آنے پر فورا سخت ایکشن لینے کا حکم دیاہے۔پنجاب کے تمام نرسنگ سکولوں کو نرسنگ کالجزمیں منتقل کردیاگیاہے اور نرسزکا وظیفہ21ہزارروپے سے بڑھاکر31ہزرروپے کردیاگیاہے۔ نرسوں کی سیٹوں میں 1600سے بڑھاکر2350تک اضافہ کردیاگیاہے۔

        صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے مزیدکہاکہ وزیر اعظم عمران خان اور وزیراعلی پنجاب سردارعثمان بزدارکا تمام افرادکوصحت اورتعلیم کی تمام بنیادی سہولیات دینا اولین ترجیحات میں شامل ہے۔خیبرپختونخواہ میں تمام خاندانوں کو یونیورسل ہیلتھ کوریج کی سہولت دی جاچکی ہے اور انشاء اللہ پنجاب میں دسمبر2021تک تمام 2کروڑ93لاکھ خاندانوں میں صحت سہولت کارڈزکی تقسیم کو یقینی بنادیاجائیگا۔اس مالی سال کے اندرڈی جی خان اور ساہیوال ڈویژنز کے تمام خاندانوں میں صحت سہولت کارڈزتقسیم کردئیے جائینگے۔میڈیکل کالجزمیں سیٹوں پر افواہیں بے بنیادہیں۔پنجاب نے ہمیشہ بڑے بھائی ہونے کا حق اداکیاہے۔پنجاب کے میڈیکل کالجز میں باقی صوبوں کی335نشستیں مختص ہیں جو تقریباً تین میڈیکل کالجز کی تعدادبن جاتی ہے۔کسی صوبے کی سیٹ میں کمی کی تمام ترخبریں بے بنیاداور من گھڑت ہیں۔شیخ زیدہسپتال کے وفاق میں واپس جانے کی وجہ سے 2سیٹیں کم ہوئی ہیں۔ہمارے پاس سندھ،آزادجموں کشمیر،بلوچستان،فاٹا اورخیبرپختونخواہ کی سیٹوں کا کوٹہ موجودہے۔گلگت بلتستان کی 55سیٹیں اسی طرح موجودہیں۔شیخ زیدکی 2نشتوں کے کوٹہ کوبھی اپنی سیٹیں بڑھاکرتعدادمکمل کرلی گئی ہے۔پرسوں وزیر اعلی پنجاب سردارعثمان بزدار کوروناویکسین کاباقاعدہ آغازکرینگے۔کوروناویکسین صرف صوبہ سندھ کونہیں بلکہ پاکستان کو بطور عطیہ مل رہی ہے۔

        صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوے کہاکہ لاہورمیں کوروناوائرس کے مثبت کیسزکی تعدادسب سے زیادہ ہے۔کوروناویکسین کسی وی آئی پی کونہیں ملے گی۔میرے سمیت میری کسی سیکرٹری کو نہیں ملے گی۔ہماری پہلی ترجیح فرنٹ لائن ہیلتھ کئیرورکرزہیں۔پوری دنیانے پنجاب حکومت کی جانب سے کوروناوائرس پرقابوپانے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کوسراہا۔گذشتہ سال کوروناوائرس کے مریضوں کے علاج کیلئے 14ارب روپے خرچ کئے گئے اور مزید2ارب روپے کی خطیررقم مختص کی گئی ہے۔20بی ایس ایل لیول تھری لیبز تیارہوچکے ہیں۔بیرون ملک جانے والے مزدوروں کوبھی کوروناویکسین لگائی جائیگی۔حکومت پنجاب نے اپنے بجٹ میں بھی کوروناویکسین کی خریداری کیلئے خطیررقم مختص کررکھی ہے۔ویکسین رجسٹرڈ ہونے کے بعد نجی سیکٹربھی بیرون ملک سے منگواسکتاہے۔پولیس اور صحافیوں سمیت تمام فرنٹ لائن ورکرزکوبھی کوروناویکسین لگائی جائیگی۔

    اخلاقی طورپرکسی کوبھی زبردستی ویکسین نہیں لگائی جاسکتی ہے۔1166پرمیسج کرکے اپنے آپ کورجسٹرڈکروایاجاسکتاہے۔پوارسال اس وائرس کو سمجھنے میں لگاہے اس لئے ویکسین لگانے کے بعداثرات کا صحیح جائزہ لیاجاسکتاہے۔اپوزیشن کبھی حکومت سے خوش نہیں ہوسکتی ہے۔ہم سندھ کووقت پرویکسین کی فراہمی کو یقینی بنارہے ہیں۔چین ہرلحاظ سے پاکستان کا ساتھ دے رہاہے۔کوروناوائرس ویکسین کے معمولی سائیدافیکٹس ہوسکتے ہیں۔ٹائیفائیڈ ویکسین کیلئے عملہ کی کسی قسم کی کمی نہیں ہے۔خصوصی ٹائیفائیڈ ویکسین مہم کیلئے محکمہ سپیشلائزہیلتھ کئیراینڈ میڈیکل ایجوکیشن کے عملہ کی مددلی گئی ہے۔صحت سہولت کارڈزکے حامل افراد270ہسپتالوں میں مفت علاج کی سہولت حاصل کرسکتے ہیں۔تمام انسٹی ٹیوٹس آف کارڈیالوجی کو ام پینل کیاگیاہے۔صحت سہولت کارڈ کے حامل افرادہرقسم کی ان ڈور سہولت مفت حاصل کرسکتے ہیں۔جس میں نیوروسرجری،سیزیرین،ڈائیلسزاور ٹراماسمیت دیگربیماریوں کاعلاج شامل ہے۔           

  • وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے گورنمنٹ میاں میرہسپتال سے کیا ٹائیفائیڈ ویکسین مہم کا آغاز

    وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے گورنمنٹ میاں میرہسپتال سے کیا ٹائیفائیڈ ویکسین مہم کا آغاز

    وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے گورنمنٹ میاں میرہسپتال سے انسدادٹائیفائیڈ ویکسین مہم کا آغاز کردیا
     انسدادٹائیفائیڈ ویکسین مہم کوکامیاب بنانے کیلئے تمام تر وسائل بروئے کارلائے جارہے ہیں. 9ماہ سے 15سال کے تقریباً2کروڑ بچوں کو ٹائیفائیڈ کے حفاظتی ٹیکے لگائے جائینگے۔
    لاہور یکم فروری
    -صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے گورنمنٹ میاں میرہسپتال سے انسدادٹائیفائیڈ ویکسین مہم کا آغاز کردیا ہے۔اس موقع پر سیکرٹر ی محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیرکیپٹن(ر)محمد عثمان یونس،ڈپٹی سیکرٹری رافعہ حیدر،ڈپٹی سیکرٹری حافظ قیصرعباس،سی ای اولاہورودیگرافسران سمیت ویکسینیٹرزاور والدین موجود تھے۔ویکسینیٹرنے صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدکی موجودگی میں معصوم بچی کو انسدادٹائیفائیڈ ویکسین کا ٹیکہ بھی لگایا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ انسدادٹائیفائیڈ ویکسین مہم کا آغازکیاگیاہے۔انسدادٹائیفائیڈ ویکسین مہم یکم سے 15فروری تک پنجاب کے 12اضلاع میں جاری رہے گی۔ انسدادٹائیفائیڈ ویکسین مہم پنجاب کے 12اضلاع لاہور،ڈی جی خان،میانوالی،گوجرانوالہ،لیہ،راجن پور،منڈی بہاؤالدین، ملتان، راولپنڈی، چکوال اور پاکپتن کے شہری علاقہ جات میں جاری رہے گی۔انہوں نے کہا کہ انسدادٹائیفائیڈ ویکسین مہم کوکامیاب بنانے کیلئے تمام تر وسائل بروئے کارلائے جارہے ہیں۔خصوصی مہم کے دوران9ماہ سے 15سال کے تقریباً2کروڑ بچوں کو ٹائیفائیڈ کے حفاظتی ٹیکے لگائے جائینگے۔والدین بچوں کو ٹائیفائیڈ کے حفاظتی ٹیکے قریبی مراکز صحت یاعلاقہ میں آنے والی محکمہ صحت کی ٹیموں سے مفت لگوسکتے ہیں۔ڈاکٹریاسمین راشد نے کہا کہ ٹی سی وی ایک محفوظ ویکسین ہے جو عالمی ادارہ صحت کی جانب سے تصدیق شدہ ہے۔عوام سے مہم کوکامیاب بنانے کیلئے محکمہ صحت کی ٹیموں سے مکمل تعاون کی اپیل کرتے ہیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلی پنجاب سردارعثمان بزدارپنجاب کے ہربچے کوصحت منددیکھناچاہتے ہیں.

  • ملتان کورونا کی پانچ لاکھ ویکسین لینے جہاز چائنہ پہنچ گیا

    ملتان کورونا کی پانچ لاکھ ویکسین لینے جہاز چائنہ پہنچ گیا

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی خصوصی گفتگو ہوئی جس کے مطابق ، ملتان کورونا ویکسین کی پانچ لاکھ ویکسین لینے جہاز چائنہ پہنچ گیا ہے۔ میں اسلام آباد ائیرپورٹ پر چائنیز سفیر کے ساتھ ویکسین وصول کرنے جاؤنگا ویکسین سب کے لئے فری ہوگی سب سے پہلے سٹاف نرسز ہیلتھ ورکرز اور ڈاکٹرز کو دیں گے.ڈینیل پرل کیس پر حکومت نے سپریم کورٹ ایک رٹ پیثٹیشن دائر کررہی ہے.ڈینیل پرل کی فیملی کو انصاف ملے گا اور قانون کے تقاضے پورے ہونگے.ہماری کوشش ہے افغانستان میں امن کے معاملات بہتر انداز میں چلیں . پاکستان نئی امریکی حکومت کے ساتھ ملکر افغانستان میں امن کے لئے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا

  • راولپنڈی پولیس انسپکٹر عاصم رشید کورونا کے خلاف جنگ لڑتے ہوۓ شہید

    راولپنڈی پولیس انسپکٹر عاصم رشید کورونا کے خلاف جنگ لڑتے ہوۓ شہید

    راولپنڈی پولیس کے سب انسپکٹر عاصم رشید کورونا کے خلاف جنگ لڑتے ہوۓ شہید ہو گئے،
    شہید سب انسپکٹر عاصم رشید سابقہ ایس ایچ او مورگاہ تھے، شہید سب انسپکٹر عاصم رشید کورونا کے مرض میں مبتلا ہونے کے بعد 14 جنوری سے NIH ہسپتال اسلام آباد میں زیر علاج تھے، شہید سب انسپکٹر عاصم دشید کی نماز جنازہ ایس او پیز کے مطابق انکے رہائشی علاقہ چک بہادر جاتلی میں دن 11 بجے ادا کی جاۓ گی۔
    شہید سب انسپکٹر عاصم رشید انتہائی قابل ، ایماندار اور ملنسار افسر تھے، شہید سب انسپکٹر عاصم رشید نے سوگواران میں والدہ، بیوہ، ایک بیٹی اور ایک بیٹے کو چھوڑا ہےراولپنڈی پولیس نے آئی جی پنجاب انعام غنی کی پالیسی کے مطابق شہید کے اہل خانہ کو تجہیز و تکفین کے واجبات ادا کئے۔ شہید کے اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور دکھ کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں.شہید سب انسپکٹر عاصم رشید کی محکمہ پولیس کے لئے خدمات ناقابل فراموش ہیں.راولپنڈی پولیس کورونا کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کرتی رہے گی تاہم افسران و اہلکار فیس ماسک، گلوز، سینیٹائزر اور دیگر حفاظتی اقدامات پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں، سی پی او راولپنڈی.

  • وزیراعلیٰ پنجاب, عثمان بزدار سے اراکین اسمبلی کی ملاقات ، پسماندہ علاقوں میں ایجوکیشن اور ہیلتھ فسلیٹز کوخوب تر بنانے کا وعدہ

    وزیراعلیٰ پنجاب, عثمان بزدار سے اراکین اسمبلی کی ملاقات ، پسماندہ علاقوں میں ایجوکیشن اور ہیلتھ فسلیٹز کوخوب تر بنانے کا وعدہ

    لاہور30جنوری: وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے اراکین اسمبلی کی ملاقات جس میں صوبائی وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت، مشیر محمد حنیف پتافی، شہاب الدین خان، محمد شفیع، جاوید اختر لنڈ، علمدار قریشی، عبدالحئی دستی، سردار فاروق دریشک، سردار احمد علی خان دریشک، احمد شاہ کھگہ، ملک ندیم عباس بارا، سرفراز حسین اور محمد آصف شامل تھے. چیف وہپ پنجاب اسمبلی ایم پی اے سید عباس علی شاہ بھی اس موقع پر موجود تھےمنتخب نمائندوں نے وزیراعلیٰ کو اپنے علاقوں کے مسائل سے آگاہ کیا.وزیراعلیٰ عثما ن بزدار کی مسائل حل کرنے کی یقین دہانی, انہوں نے کہا کہ انکی پسماندہ علاقوں کی ترقی پر پوری توجہ ہے
    عثمان بزدارکاکہنا یہ ہے کہ عوامی نمائندوں کے مسائل کو ذاتی سمجھ کر حل کرتاہوں ، اراکین صوبائی اسمبلی میرے ساتھی ہیں اور منتخب نمائندوں کی ترجیحات کے مطابق ان کے حلقوں میں ترقیاتی کام ہوں گے۔ منتخب نمائندوں کی مشاورت سے عوام کی ترقی و خوشحالی کے پروگرام پر عملدرآمد کیا جائے گا۔ ہم سب نے ٹیم ورک کے طورپر صوبے کے عوام کی خدمت کرنی ہے. وزارت اعلی صرف عہدہ نہیں بلکہ بہت بڑی ذمہ داری ہےاورعوام کی خدمت مشن اور اوڑھنا بچھونا ہے۔
    عثمان بزدارکا مزید کہنا یہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت سابق دور کی فاش غلطیوں اور خرابیوں کو دور کر رہی ہے۔ سابق حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کے باعث ملک اپنی اصل منزل سے ہٹ گیا۔ قومی وسائل کو نمائشی منصوبوں کی نذر کرکے ملک و قوم سے ظلم کیاگیا۔ سابق حکمرانوں نے عوام کے بنیادی مسائل کو یکسر نظر انداز کیا۔ عوام بنیادی ضرورتوں کو ترستے رہے اور حکمران اقتدار کے مزے لوٹتے رہے. ہماری حکومت نے عوام کے بنیادی مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت تمام علاقوں کی یکساں ترقی پر یقین رکھتی ہے۔ پسماندہ علاقوں کی ترقی کیلئے جاری منصوبوں کی خود نگرانی کررہا ہوں. زبانی جمع خرچ کا وقت گزر چکا،اب صرف کام ہوتا ہے اور ہم عمل کرکے دکھاتے ہیں .شہروں کے ساتھ دوردراز علاقوں میں بھی ایجوکیشن اور ہیلتھ فسلیٹز کو خوب سے خوب تر بنائیں گے۔

    ۔اراکین پنجاب اسمبلی کا کہنا ہی کہمنتخب نمائندوں سے مشاورت کا سلسلہ خوش آئند ہے، مسائل کے حل کیلئے عثمان بزدارکی ذاتی دلچسپی پر شکرگزار ہیں وہ حقیقی معنوں میں عوامی وزیراعلیٰ ہیں.

  • کراچی  میں  عطائی ڈاکٹروں کی بھرمار، شہری پریشان

    کراچی میں عطائی ڈاکٹروں کی بھرمار، شہری پریشان

    کراچی کے علاقے لانڈھی اور کورنگی میں واقع کلینکس میں عطائی ڈاکٹروں نے عام شہریوں کو شفا کے بجائے مہلک امراض میں مبتلا کرنا شروع کردیا ہے۔علاقے میں قائم کلینکس میں جعلی ڈگری والے ڈاکٹر متعدد کلینکس میں کام کرہے ہیں ۔ آپریشن ہوں یا سرجری، زکام ہویا کینسر، یہ عام شہریوں کو جانی اور مالی نقصان پہنچا رہے ہیں۔
    علاقے کے عوام نے وہاں تعینات ٹی ایچ او اور صوبائی محکمہ صحت کے افسران کی ڈگریاں بھی چیک کروانے کا مطالبہ صوبائی وزیر صحت اور وزیراعلی سندھ سے کیا ہے۔ انکا کہنا ہے کم از کم اس مہنگائی کے دور میں ہمیں چین سے سہی علاج کروانے کی سہولت ہی مہیا کردیں۔ علاقے میں متعدد میٹرنیٹی ہوم بھی عطائی ڈاکٹروں کے اڈے بنے ہوئے ہیں۔ بیش بہا خواتین متاثر ہو چکی ہیں۔
    عوام کا مطالبہ ہے کہ حکومت کو اس مسئلے کو ہنگامی بنیادوں پر درست کرنا ہوگا اس سے قبل مزید شہریوں کو نشانہ بنایا جائے۔

  • کرونا ویکسین کو ذخیرہ کرنے کے حوالے سے تمام تر انتظامات مکمل کر لیے گئے

    کرونا ویکسین کو ذخیرہ کرنے کے حوالے سے تمام تر انتظامات مکمل کر لیے گئے

    ننکانہ صاحب: نمائندہ باغی ٹی وی
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومت پنجاب کی ہدایت پر محکمہ صحت ضلع ننکانہ صاحب نے کرونا وائرس کی ویکسین کو ذخیرہ کرنے سمیت ای پی آئی سنٹر میں تمام تر انتظامات مکمل کر لیے ہیں ان خیالات کا اظہار سی او ہیلتھ اتھارٹی ننکانہ صاحب ڈاکٹر سہیل طارق نے ایم ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال ڈاکٹر اسفند یار کے ہمراہ COVID-19 کی آئندہ ویکسین کو ذخیرہ کے حوالے سے EPI سنٹر کا دورہ کرتے ہوئے کہا۔

    اس موقع سی او ہیلتھ نے کہا کہ کرونا وائرس کی ویکسین پاکستان میں آنا خوش آئند ہے اس ویکسین سے ہزاروں پاکستانیوں کی جانیں بچانے میں مدد ملے گی،کرونا ویکسین سب سے پہلے بزرگ شہریوں اور فرنٹ لائن پر کرونا وائرس کی روک کے لیے کام کرنے والوں کو لگائی جائیں گی۔سی او ہیلتھ اتھارٹی نے مذید کہا کہ حکومت پاکستان اور حکومت پنجاب نے بروقت کرونا ویکسین منگوا کر عوام الناس کے دلوں میں گھر کر لیا ہے۔

  • ایم ایس ڈی ایچ کیو شیخوپورہ بلا جواز معطل

    ایم ایس ڈی ایچ کیو شیخوپورہ بلا جواز معطل

    شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی)ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال میں ساڑھے 13 کروڑ روپے کی ادویات کی خریداری سے قبل ایم ایس ڈاکٹر محمد اظہر امین کو غیر حاضری کا جواز بنا کر معطل کر دیا گیا جبکہ ڈی جی ہیلتھ پنجاب ڈاکٹر ہارون جہانگیر کے صبح 8 بج کر 28 منٹ پر وزیر اعلیٰ روڈ میپ ٹیم کے ہمراہ اچانک ڈی ایچ کیو ہسپتال کا وزٹ کرنے کے دوران ہی ایم ایس ڈاکٹر محمد اظہر امین بھی ہسپتال میں ہی واقع ایم ایس ہاؤس سے اپنے دفتر آگئے اور ڈی جی ہیلتھ اور روڈ میپ ٹیم کو خود گائیڈ کر کے کئی وارڈوں کا وزٹ کروایا

    ایم ایس ڈاکٹر محمد اظہر امین گریڈ 18 کے آفیسر تھے ان کی جگہ گریڈ 20 کے سینئر ترین اے پی ایم او ڈاکٹر سہیل خضر کو میڈیکل سپریٹنڈنٹ کا اضافی چارج دے دیا گیا ہے ذرائع کے مطابق ہسپتال میں چند روز قبل سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر محمد اشرف نے بھی اچانک وزٹ کیا تو چار ڈاکٹرز غیر حاضر پائے گئے اور ہسپتال میں صفائی کا نظام ناقابل ستائش پایا گیا تھا جس کے بارے میں رپورٹ بھی اعلیٰ حکام کو بھیجی گئی تھی
    ذرائع کے مطابق صوبائی وزیر صحت محترمہ یاسمین راشد کی ہدایت پر ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ پنجاب ڈاکٹر ہارون جہانگیر اور سی ایم روڈ میپ کی ٹیم کے ارکان ڈاکٹر سہیل رانا ڈاکٹر محمد یونس ڈاکٹر داؤد عالمگیر ڈاکٹر عثمان غنی نے اچانک ڈی ایچ کیو ہسپتال کا دورہ کیا تو ڈاکٹروں کی حاضری چیک کرنے کے بعد مختلف وارڈوں کا معائنہ کیا تو اس دوران آؤٹ ڈور وارڈ میں تمام ڈاکٹرز موجود تھے جبکہ اس دوران ایم ایس ڈاکٹر محمد اظہر امین بھی ہسپتال آگئے اور وزٹ کرنے والی ٹیم کو جائن کر لیا بعداذاں اس ٹیم نے مدر اینڈ چلڈرن کمپلیکس کا معائنہ بھی کیا ٹیم نے ڈی ایچ کیو ہسپتال میں ماہ رواں کے دوران آنے والے مریضوں اور ان کے ہونے والے آپریشنز کی تعداد کا تقابلی جائزہ بھی لیا اور ایم ایل سی بورڈ کے بارے میں عوامی شکایات کا جائزہ بھی لیا
    ذرائع کے مطابق اس ٹیم کی رپورٹ میں ڈی ایچ کیو ہسپتال میں پائی جانے والی خامیوں اور صفائی کی صورتحال کے بارے میں منفی رپورٹ صوبائی وزیر صحت کو دی گئی تھی جس پر صوبائی وزیر صحت نے ایم ایس ڈاکٹر محمد اظہر امین کو معطل کرنے اور ڈاکٹر سہیل خضر جو ساڑھے 3 ماہ کے بعد ریٹائرڈ ہو رہے ہیں کو ایم ایس کا اضافی چارج دینے کے فوری طور پر احکامات جاری کرتے ہوئے اس بارے میں ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ چوہدری محمد اصغر جوئیہ کو بھی آگاہ کر دیا اور واضح کیا ہے کہ ایم ایل سی میڈیکل بورڈ کے کام کی خصوصی طور پر نگرانی کی جائے اور ساڑھے 13 کروڑ روپے کی ادویات کی لوکل پرچیز کی کارروائی کو بھی شفاف بنایا جائے ادھر محکمہ صحت پنجاب کے ہینڈ آؤٹ میں کہا گیا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں اچانک دوروں کا سلسلہ اب مستقل طور پر جاری رکھا جائے گا اور ان ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی غیر حاضری ادویات کی عدم فراہمی اور مریضوں کے علاج معالجہ میں کمی بیشی کسی صورت میں برداشت نہ کی جائے گی
    ناقص کارکردگی کے حامل ایم ایس صاحبان سیدھا گھر جائیں گے دریں اثناء محکمہ صحت کے باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال کا وزٹ کرنے والی ٹیم کی مفصل رپورٹ پر مزید کارروائیاں ہونے کی توقع ہے۔